عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں

کتاب

تعارفِ کتاب

نامِ کتاب
فراق یاراں
مصنف
مولانا اللہ وسایا صاحب
ناشر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
زبان
اردو
طباعت
01-02-2006
صفحات
306

عرض مؤلف

ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن مبارک سے آنحضرتﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔ بچپن میں ان کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپﷺ نے انہیں اپنی گود نبوت میں اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیمؓ کی روح نے قفس عنصری سے پرواز کی تو آپﷺ کے آنسو مبارک رواں ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا انابفراقک یاابراہیم لمحزونون! ابراہیمؓ آپ کی جدائی نے ہمیں غم زدہ کردیا۔ کسی عزیز کی جدائی پر دل صدمہ کرے اور آنکھ آنسو بہائے۔ جہاں یہ فطری تقاضہ ہے وہاں ترجمان فطرت حضور نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ اس دنیا سے جانے والے اکابر‘ معاصر‘ اساتذہ‘ مشائخ اور جماعتی دوستوں کے جدائی کے لمحوں پر اپنے دل کی تسلی کے لئے فقیر کچھ نہ کچھ لکھتا رہا۔ تقریباً ۳۵سال کے داستان غم کی یہ دستاویز ہے جو آپ کے سامنے پیش کرنے کی جرأت ہورہی ہے۔ آپ انہیں تعزیتی مضامین‘ سوانحی خاکے‘ یانثری مرثیے قراردیں آپ کو اس کا حق حاصل ہے۔ لیکن مجھ سے پوچھیں تو یہ مضامین میرے دل کے ٹکڑے ہیں جو ان جانے والے حضرات کی جدائی پر قلم سے کاغذ پر منتقل ہوتے رہے ہیں۔ یہ ایام رفتہ کے آنسو ہیں جو گرتے رہے اور میں انہیں کاغذ پر جمع کرتا رہا۔ ۱۹۷۱ء سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے نہ معلوم کہ کب خود کی باری آجائے کہ غم فراق سہنے کی بجائے دل ہارجائے اور بجائے رونے کے روٹھ جائے۔ نوحہ‘ مرثیہ‘ رونا‘ غم‘ سوگ‘ سب کچھ کا آپ اس میں پرتو دیکھیں گے۔ لیکن مجھ مسکین سے پوچھیں کہ جس پر ان حضرات کے غم جدائی کے پہاڑ ٹوٹے۔ان صدمات سے دل ٹوٹا‘ کمر جھکی‘ آنکھیں بھیگیں‘ جگر پارہ پارہ ہوا۔ لیکن کتنا ڈھیٹ ہوں کہ ابھی تک زندہ ہوں۔ بعض حضرات کی جدائی نے دل وجان پر گہرے نقوش چھوڑے۔ لیکن سوائے صبر کے انسان بے چارہ اور کرہی کیا سکتا ہے۔ ہر وہ شخص جس کی جدائی پر قلم اٹھایا یا کوشش کی کہ جوقلب کی واردات ہے اسے من وعن کاغذ پر منتقل کردوں اور ایسے ہی کیا۔ اس پر میرا ضمیر مطمئن ہے۔ اس پر رب کریم کو گواہ بناتا ہوں جو دل کے راز جاننے والی ذات ہے۔ برادران طریقت ویاران مجلس! کیسا قحط ہے کہ جو بزم سے اٹھا اس کی جگہ لینے والا کوئی نہ آیا۔ اس قحط وکساد بازاری میں جانے والوں کی جگہ پر نہ ہوسکی۔ چلو! ان کا تذکرہ ہی سہی۔ شاید کہ درد کا کچھ درماں ہوجائے۔ اس توقع پر دوستوں کا خیال ہوا کہ تعزیتی مضامین جمع ہوجائیں۔ لیکن جمع کرنے سے پہلے ہی جی میں فیصلہ کرلیا تھا کہ مختصر تعزیتی نوٹ یا شذرے شامل نہیں ہونے چاہئیں صرف منتخب مضامین ہوں۔ اس خیال سے ہفت روزہ لولاک اور ماہنامہ لولاک سے مضامین کی تلاش شروع ہوئی تو ان کی تعداد ستانوے تک جاپہنچی۔ لولاک میں ہی شائع شدہ شذرے یا بعض مختصر مضامین جان کر نظرانداز کردئیے۔ دیگر رسائل کے نمبروں میں اکابر پر جو مضامین شائع ہوتے رہے ان کو شامل کیا جاتا تو کئی اور جلدیں تیار ہوجاتیں۔ خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ‘ مفکراسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ‘ شہیداسلام حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانویؒاور دیگر اکابر پر مضامین یا مشاہدات وتاثرات دیگر رسائل کے نمبروں یا ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ میں آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ وہاں سے کوئی مواد لے کر اس میں شامل کرنے سے اجتناب برتا ہے۔ تکرارلاحاصل کے علاوہ ضخامت کا خوف مانع رہا۔ مجاہد ملت حضرت مولانامحمدعلی جالندھریؒ‘ مناظراسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ‘ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمودؒ پر فقیر کے کئی مضامین ملے۔ ایک ایک لے لیا اور باقی ترک دئیے۔ اس کے بغیر چارہ نہ تھا۔ تمام مضامین کا مجموعہ مرتب کرنا پیش نظر نہیں ہے۔ صرف مضامین کا انتخاب مقصود تھا جو اس سے حاصل ہورہا ہے۔ نمبرایک سے نمبر۹۷تک سن وفات کو سامنے رکھ کر ترتیب قائم کی ہے۔ اس کے بعد تین مضامین (حضرت مولاناعبدالرئوفؒ‘ حضرت مولاناحافظ محمدحنیف سہارنپوریؒ‘ حضرت مولاناسید محمدعلی شاہؒ) ہفت روزہ ختم نبوت کراچی سے لے کر بغیر سن وفات کا خیال کئے آخر میں لگاکر سو کی تعداد پوری کردی ہے۔ حضرت مولاناصاحبزادہ عزیز احمد‘ حضرت مولانامحمداسماعیل شجاع آبادی‘ حضرت مولانافقیراللہ اختر‘ حضرت مولاناعزیزالرحمن ثانی‘ حضرت مولاناسید محمداکبرشاہ بخاری جام پوری‘ حضرت مولاناعبدالستارحیدری اور جناب قاری عمرحیات ایسے بزرگوں ودوستوں نے اس کی اشاعت‘ جمع وترتیب کے لئے مہمیز لگائی۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر دیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولاناعزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کو کہ آپ نے اس کی اشاعت کی منظوری مرحمت فرمائی۔ ۸ذی الحجہ ۱۴۲۶ھ کو خانقاہ سید احمد شہید نزدپل سگیاں لاہور اپنے مرشد گرامی حضرت اقدس مولانا سیدنفیس الحسینی شاہ صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ سے تفصیل عرض کرکے کتاب کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے ’’فراق یاراں‘‘ اس کا نام تجویز فرمایا اور حضرت مولانا عراقی ملتانی ؒکا شعراس کے ٹائٹل کے لئے عنایت فرمایا (مولانا عراقی ملتانی ؒحضرت خواجہ شاہ رکن عالم ملتانی ؒیا خواجہ بہاء الدین نقشبندیؒ ملتانی کے متوسلین اور ہمعصر تھے) کتاب کے لئے موضوع کے اعتبار سے کتنا مناسب ہے۔ سبحان اللہ! از عراقی سلام برعشاق آں جگر خستگان تیر فراق یار! فارسی کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کا معنی مددگار‘ دوست‘محبت کرنے والااور پیارا آیا ہے۔ ہمارے مشن کے مددگار‘ ہمارے دوستوں‘ ہماری محبتوں کے مرکز‘ ہمارے پیاروں کے برجستہ تذکروں سے قارئین کے لئے تسکین قلب اور مشن تحفظ ختم نبوت سے دلی لگائو کا خداتعالیٰ کرے یہ کتاب باعث بن جائے۔ آمین!

فقیرراقم نے ہر دردمند بچے کی طرح اپنے والد مرحوم اور والدہ مرحومہ کی جدائی پر آنسو بہائے۔ لیکن ان آنسوئوں کو کبھی کاغذ پر جمع کرنے کی جرأت نہیں کرپایا۔ حالانکہ سب سے زیادہ مجھ پر والدین کا حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ لیکن لولاک اور ہفت روزہ ختم نبوت یا اس کتاب کے قارئین سے میرا جماعتی تعلق ہے۔ والدین پر مضامین اپنی ذات کی اس میں ملاوٹ کا واہمہ مجھ پر سواررہا۔ نہ لکھ پایا۔ حق تعالیٰ ان کی قبروں پر موسلا دھار بارش نازل فرمائیں اور مجھے معاف فرمادیں کہ میں احساس کمتری کا شکار رہا اور ان کے ذکر خیر پر کچھ نہ لکھا۔ حالانکہ اب بھی دل پسیج رہا ہے۔ چلو کچھ درد اگلے جہاں ساتھ لے جانے کے لئے سہی۔ بس اتنی بات بیان کرنے کی اجازت چاہتاہوں کہ میرے والد مرحوم اور والدہ مرحومہ کا بہت ہی مبارک اور حسن خاتمہ ہوا۔ والدمرحوم نے باوضو اور درود شریف پڑھتے اور والدہ مرحومہ نے آب زمزم نوش کرکے کلمہ کا ورد کرتے ہوئے انتقال فرمایا۔ فلحمدللہ! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حسن خاتمہ کی سعادت نصیب فرمائیں۔ آمین! فقیراللہوسایا! یکم محرم الحرام۱۴۲۷ھ ۳۱جنوری۲۰۰۰۶ء

اہم مضامین کتاب

حضرت مولانامحمدعلی جالندھریؒ
حضرت مولانالال حسین اختر ؒ
حضرت مولاناپیرجی عبداللطیفؒ
حضرت مولانا محمدیوسف بنوریؒ
حضرت مولانامفتی محمدشفیع ؒ ملتانی
فاتح قادیان حضرت مولانامحمدحیاتؒ
حضرت مولاناغلام غوث ہزارویؒ
حضرت مولاناعبدالعزیزرائے پوریؒ
حضرت مولانامحمدشریف جالندھریؒ
حضرت مولاناابوعبیدہ نظام الدینؒ
حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی ؒ
حضرت مولاناقاضی زاہد الحسینی ؒ
حضرت مولانامحمدعمرپالن پوریؒ
حضرت مولانامحمدمنظور نعمانی ؒلکھنؤ