عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
نگاہ اوّلین
فقیر کا برطانیہ کا پہلا سفر ۱۹۸۵ء کی پہلی ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں شرکت کے لئے ہوا۔ کانفرنس سے فراغت کے بعد پوری قیادت کی حج اور پھر وہاں سے وطن واپسی ہوئی۔ فقیر کی دو ماہ مزید وہاں قیام کے لئے ڈیوٹی لگی۔ اس موقعہ پر باٹلی میں چند روز عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی عقائد ونظریات کے حوالہ سے دروس وبیانات ہوئے جو ریکارڈ کر لئے گئے۔ اللہ رب العزت اپنی شایان شان جزائے خیر دیں۔ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد یوسف ماما مدظلہ استاذ الحدیث باٹلی کو آپ نے ٹیپ ریکارڈ سے انہیں قلمبند کیا۔ پھر کمپوز کیا۔ یہ اتنا جانگسل مرحلہ ہوتا ہے جو حضرات اس وادی کے مسافر ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولانا موصوف نے کتنی عرق ریزی اور سعی مشکور سے اسے سرانجام دیا۔ ان کے کمپوز شدہ مسودہ پر خطیب اسلام حضرت مولانا منور حسین سورتی مدظلہ نے نظر ثا نی فرمائی۔ عنوانات قائم کئے اور اس مسودہ کو اشاعت کے قابل کر دیا۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صدر مدرس حضرت مولانا علامہ غلام رسول دین پوری مدظلہ نے آخری بار پروف پڑھا اور کتاب کا نوک پلک درست کیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو بہت ہی جزائے خیر نصیب فرمائیں کہ ان حضرات کی محبت بھری محنت سے یہ کتاب تیار ہوگئی۔ فقیر راقم بخدا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میرے دروس یا بیانات چھپیں گے۔ ان حضرات کی اس محنت کو خالصتاً انعام الٰہی اور عطیۂ قدرت خداوندی سمجھتا ہوں۔ حضرت مولانا محمد یوسف ماما مدظلہ اس کتاب کے مرتب ہیں۔ ان کا تعارف شامل ہے۔ وہ آگے آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ مولانا منور حسین سورتی صاحب مدظلہ بہت ہی زیادہ شکریہ کے مستحق ہیں کہ ان کے دم قدم سے یہ کتاب اشاعت پذیر ہوئی۔ حق تعالیٰ انہیں دارین میں اس کی جزائے خیر نصیب فرمائیں۔