نبی کریمa کی تنقیص پائی جاتی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے ’’جناب
رسول اﷲa کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)
’’اور اپنے معجزات کی دس لاکھ لکھی ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ج۵ ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)
اس ضمن میں ایک شعر بالفاظ ذیل ہے:
-
لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر
(کتاب اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)
’’نبی کریم کے لئے گہن لگا چاند کو اور میرے لئے گہن لگا سورج اور
چاندکو۔ کیا تجھے اے مخاطب اس سے کچھ انکار ہے۔‘‘ یہ بھی توہین لزومی
ہے۔
ادّعاء نبوت: صریح وجہ کفر ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
۱… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
۲… ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود
ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ:
ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
۳… ’’اور اگر کہو صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک
مفتری۔ تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت
کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوئے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا
چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امراور نہی بیان کئے اور
اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس
تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر
بھی ہیں اور نہی بھی۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)
۴… ’’ہاں! اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں
صرف یہی جواب دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خداتعالیٰ کے
فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے
اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے
اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)
۵… ’’اب یہ ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا
ہے کہ یہ خدا کافرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف
سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔
(دشمن سے مراد یہ ہے کہ جو اسے نہ مانے)‘‘
(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)
۶… ’’میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہوا ہوں بلکہ جہاں تک دنیا
کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔‘‘
(حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۹۲، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)
۷… ’’تم سمجھو کہ قادیان صرف اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول
اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘
(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)
۸… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی
تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے کا نام غلام احمد
رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)