Top banner image

مقدمہ بہاولپور جلد اوّل

آج سے تقریباً ایک صدی قبل دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا الٰہی بخش کی دختر محترمہ غلام عائشہ کا نکاح مسمّی عبدالرزاق ولد جان محمد سے ہوا۔ اس وقت منکوحہ نابالغ تھی۔ اس کے بلوغ ورخصتی سے قبل ناکح عبدالرزاق، قادیانی ہو گیا یہ خاندان اس وقت ضلع بہاول پور کا رہائشی تھا۔ بالغ ہونے پر ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پورکی عدالت میں محترمہ غلام عائشہ کی طرف سے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ بہت سارے مراحل طے کرنے کے بعد ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو جاکر جج محمد اکبر خان کی عدالت عالیہ سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ صادرہوا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ بہاولپور جلد اوّل

نام کتاب : روداد مقدمہ مرزائیہ بہاول پور ۱۹۳۵ء (جلد اوّل)
جج : محمد اکبرؒ
صفحات : ۴۱۶
قیمت : ۳۰۰ روپے
اشاعت اوّل : اکتوبر ۱۹۸۸ء / ربیع الاوّل ۱۴۰۹ھ
اشاعت دوم : اپریل ۲۰۰۶ء / ربیع الاوّل ۱۴۲۷ھ
اشاعت سوم : نومبر ۲۰۲۰ء / ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
2
  1. میری اماں جی (پروفیسر محمد یحییٰ ایم۔اے)

    ۴۳

  2. ہدیٔہ تبریک

    ۴۷

  3. حضرت مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی … اعتذار وتشکر

    ۴۸

  4. تقریب … از: حضرت مولانا ابوالعباس محمد صادق نعمانی

    ۴۹

  5. اشاعت ثانی ۱۹۷۳ء کے موقعہ پر علماء اور اکابرین ملت کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم

    ۵۱

  6. انتساب

    ۵۲

  7. رائے گرامی … مولانا محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

    ۵۳

  8. رائے گرامی … مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لاہور

    ۵۳

  9. رائے گرامی … حضرت مولانا شمس الحق افغانی

    ۵۳

  10. رائے گرامی … علامہ احسان الٰہی ظہیر لاہور

    ۵۴

  11. رائے گرامی … مولانا صاحبزادہ فیض الحسن آلو مہار شریف سیالکوٹ

    ۵۴

  12. رائے گرامی … بریگیڈئر نذیر علی شاہ

    ۵۵

  13. رائے گرامی … مولانا سید احمد سعید کاظمی ملتان

    ۵۵

  14. رائے گرامی … جناب آغا شورش کاشمیری لاہور

    ۵۵

  15. رائے گرامی … مولانا مفتی مختار احمد نعیمی سیالکوٹ

    ۵۵

  16. رائے گرامی … جناب محمد احمد کشمیر

    ۵۵

  17. رائے گرامی … پیر طریقت مولانا محبوب الرحمن راولپنڈی

    ۵۶

  18. رائے گرامی … جناب سردار عبدالقیوم صاحب صدر آزاد کشمیر

    ۵۶

  19. رائے گرامی … مولانا عبدالحکیم راولپنڈی

    ۵۶

  20. رائے گرامی … مولانا سید شمس الدین کوئٹہ

    ۵۷

  21. مکمل روداد … مقدمہ مرزائیہ بہاول پور

    ۵۸

  22. عرض مزید … حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی

    ۶۰

6
  1. رائے گرامی … مولانا سید عبدالقادر آزادلا ہور

    ۶۲

  2. رائے گرامی … مولانا سید محمود احمد رضوی لاہور

    ۶۲

  3. رائے گرامی … جناب ڈاکٹر اسرار حمد صاحب لاہور

    ۶۳

  4. رائے گرامی … مولانا محمد حسین نعیمی لاہور

    ۶۳

  5. رائے گرامی … جناب میاں محمد اجمل قادری لاہور

    ۶۴

  6. معرکۂ بہاول پور … پیرزادہ علامہ اقبال احمد فاروقی ایم۔اے

    ۶۴

  7. رائے گرامی … جناب محمد متین خالد لاہور

    ۶۷

  8. رائے گرامی … جناب ضیاء الدین اصلاحی (دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ انڈیا)

    ۶۷

  9. رائے گرامی … مولانا محمد سعید ڈابھیل انڈیا

    ۶۸

  10. عرضی دعویٰ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش … مؤرخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء

    ۶۹

  11. جواب دعویٰ مسمّی عبدالرزاق(قادیانی) … مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۲۶ء

    ۷۱

  12. مختصر بیانات فریقین وتنقیحات وضع کردہ عدالت … مؤرخہ ۴؍نومبر ۱۹۲۶ء

    ۷۳

  13. بیان عبدالرزاق (قادیانی) مدعاعلیہ … مؤرخہ ۵؍دسمبر۱۹۲۶ء

    ۷۴

  14. درمیانی حکم عدالت … مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۲۷ء

    ۷۵

  15. درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ … مؤرخہ ۱۹؍فروری ۱۹۲۷ء

    ۷۶

  16. حکم چیف کورٹ بہاول پور … مؤرخہ۷؍مئی ۱۹۲۷ء بابت منتقلی مقدمہ از عدالت منصفی احمد پور

    ۷۷

  17. درخواست انتقال

    ۷۷

  18. درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ … مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۲۷ء

    ۷۸

  19. احمد ی عقائد

    ۷۸

  20. بیان حضرت علامہ غلام محمد صاحب گھوٹوی … ۱۸؍ جنوری ۱۹۲۸ء

    ۸۰

  21. بیان مولوی غلام محمد شیخ الجامعہ العباسیہ بہا ول پور باقرارصالح … ۱۸؍جنوری ۱۹۲۸ء، ۲۴؍رجب ۱۳۴۶ھ

    ۸۱

  22. درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ بجواب بیان جناب حضرت شیخ الجامعہ صاحب بہاول پور … مؤرخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۲۸ء

    ۸۲

7
  1. فیصلہ جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور … مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۲۸ء

    ۸۹

  2. فیصلہ

    ۸۹

  3. فیصلہ مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش … مصدرہ ۷؍مارچ ۱۹۲۳ء … چیف کورٹ بہاول پور

    ۹۱

  4. فیصلہ

    ۹۱

  5. فیصلہ مؤرخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۱۷ء عدالت ابتدائی بعنوان مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش

    ۹۵

  6. فیصلہ

    ۹۵

  7. حکم جوڈیشنل کونسل ریاست بہاول پور … مؤرخہ ۲۵؍جنوری۱۹۳۲ء

    ۹۸

  8. بیان حضرت علامہ غلام محمدصاحب گھوٹوی شیخ الجامعہ العباسیہ … گواہ مدعیہ

    ۱۰۰

  9. عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصول میں سے ہے

    ۱۰۰

  10. انکار ختم نبوت، کفر وارتداد ہے

    ۱۰۰

  11. دلائل ختم نبوت

    ۱۰۱

  12. تمام مفسرین واہل لغت نے خاتم النّبیین کے معنی ’’آخری نبی‘‘ کئے ہیں

    ۱۰۳

  13. احادیث ختم نبوت

    ۱۰۴

  14. ختم نبوت اجماعی عقیدہ ہے

    ۱۰۴

  15. بیان حضرت غلام محمد حسین کولوتارڑوی صاحب … گواہ مدعیہ

    ۱۰۸

  16. مرزاغلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا جو بروئے قرآن وحدیث واجماع امت کفر ہے

    ۱۰۸

  17. دلائل قرآنیہ پر ختم نبوت

    ۱۰۸

  18. احادیث ختم نبوت

    ۱۱۱

  19. مرزاقادیانی کے عقائد… اسلامی عقائد کے خلاف ہیں

    ۱۱۲

  20. محمدی بیگم کی پیشین گوئی

    ۱۱۳

  21. مرزاقادیانی کے کفر کے وجوہ میں حضرت عیسیٰؑ کی توہین ہے

    ۱۱۳

  22. معجزات عیسویہ کی توہین

    ۱۱۴

  23. حضرت عیسیٰؑ کے معجزات کے منکرین پر قرآن کا فتویٰ کفر

    ۱۱۴

8
  1. ضروریات دین کا منکر کافر ہے

    ۱۱۴

  2. بیان حضرت علامہ مفتی محمد شفیع دیوبندی گواہ مدعیہ

    ۱۱۵

  3. تعارف

    ۱۱۵

  4. منکرختم نبوت با لا جماع کا فرومرتد ہے

    ۱۱۵

  5. رسولﷺکے انکار کے معنے

    ۱۱۵

  6. خدا اور رسولﷺ کے حکم کا انکار کفر ہے

    ۱۱۶

  7. ابلیس کا کفر، انکار حکم کی وجہ سے ہے

    ۱۱۶

  8. اہل قبلہ کا معنی

    ۱۱۶

  9. قطعی الثبوت اور ضرو ریات دین میں فرق

    ۱۱۷

  10. مرزا نے بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا ہے

    ۱۱۸

  11. تیرہ سو سال کا اسلامی اجماعی عقیدہ

    ۱۱۹

  12. مدعیان نبوت کے خلاف اسلامی درباروںکے فیصلے

    ۱۲۱

  13. توہین انبیاءؑ

    ۱۲۲

  14. توہین انبیاءؑ با لا جماع کفر ہے

    ۱۲۴

  15. مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد کے ساتھ جائز نہیں

    ۱۲۴

  16. بیان بجرح مولوی محمد شفیع صاحب گواہ مدعیہ

    ۱۲۵

  17. بیان حضرت مولانا مرتضی حسن چاند پوری گواہ مدعیہ

    ۱۳۱

  18. مرزا اور اس کے متبعین کافرہیں

    ۱۳۱

  19. کسی مسلمان مردیا عورت کانکاح کسی مرزائی عورت یا مرد کے ساتھ جائز نہیں

    ۱۳۱

  20. ’’انوارخلافت‘‘ کی عبارت کے نتائج

    ۱۳۲

  21. مرزائیوں اور مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفرہے

    ۱۳۲

  22. مرزا تشریعی نبوت کا مدعی ہے

    ۱۳۳

  23. نبوت حقیقیہ اور نبوت تشریعیہ میں تلازم

    ۱۳۴

9
  1. ملاعلی قاری وغیرہ بزرگوں کی عبارات کا مطلب

    ۱۳۴

  2. مرزا کے نئے احکام

    ۱۳۵

  3. نبی کا ایک اور معنی

    ۱۳۶

  4. وہ دین لعنتی ہے جس میں سلسلہ وحی منقطع ہے

    ۱۳۶

  5. قیامت کے دن حشر اجساد قبور سے نہیں ہوگا

    ۱۳۶

  6. نفخ صورسے مراد قیامت نہیں

    ۱۳۶

  7. پہلے اقرارکیاکہ دعویٰ نبوت تشریعی کفرہے پھر دعویٰ نبوت تشریعہ کیا

    ۱۳۷

  8. دلائل ختم نبوت

    ۱۳۷

  9. احادیث ختم نبوت

    ۱۴۰

  10. مرزائی استدلال کاجواب

    ۱۴۲

  11. ختم نبوت پر روایات فقہیہ

    ۱۴۲

  12. مرزا قادیانی کی تکفیر کی چوتھی وجہ:توہین انبیاءؑ

    ۱۴۳

  13. انبیاءؑ کی تحقیر وتوہین کفرہے

    ۱۴۴

  14. مرزا کی آنحضرتﷺ کی شان ارفع میں گستاخیاں

    ۱۴۷

  15. مرزا نے اپنے معجزات دس لاکھ اور آنحضرتﷺ کے تین ہزا معجزات قراردئیے ہیں

    ۱۵۰

  16. مرزا کا معجزہ شق القمر سے انکار

    ۱۵۱

  17. تمام انبیاءؑ کی توہین

    ۱۵۱

  18. ختم نبوت پر مرزا کی تصریحات

    ۱۵۲

  19. مرزا کی تصریح کہ کوئی نبی امتی نہیں ہوسکتا

    ۱۵۳

  20. مرزا کا دعویٰ کہ اس کی وحی بیس جز سے کم نہیں

    ۱۵۳

  21. مرزا دونوں معنوں پر کافرہے

    ۱۵۴

  22. تواتر مرزا کے نزدیک بھی حجت ہے

    ۱۵۷

  23. نزول مسیحؑ کو شرک عظیم کہنا اسلام پر بڑ احملہ ہے

    ۱۵۸

10
  1. مرزا اپنے اقرار سے بھی کافرہے

    ۱۵۹

  2. مرزا کے وجوہات کفر

    ۱۵۹

  3. جرح بربیان حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ … ۲۴،۲۵؍اگست۹۳۲اء

    ۱۶۱

  4. ۲۴؍اگست ۱۹۳۲ء … جرح برمرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ باقرار صالح

    ۱۶۱

  5. بیان امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری گواہ مدعیہ

    ۱۷۱

  6. بہاول پور کا معرکۃ الآراء تاریخی مقدمہ

    ۱۷۱

  7. سید محمد انور شاہ ولد معظم شاہ ذات سید سکنہ کشمیر عمر۵۵سال

    ۱۷۳

  8. ایمان اور کفر کی حقیقت

    ۱۷۳

  9. متواترات کو تاویل سے پلٹنا کفر ہے

    ۱۷۴

  10. مرزائیوں سے اصولی اختلاف

    ۱۷۴

  11. مرزاقادیانی نے اسلام کے اصول بدلے

    ۱۷۴

  12. امت محمدیہﷺمیں پہلا اجماع

    ۱۷۵

  13. اسلام میں عقیدہ ختم نبوت متواتر ہے

    ۱۷۵

  14. چند شبہات کے جوابات

    ۱۷۶

  15. کافر، منافق اور زندیق میں فرق

    ۱۷۷

  16. تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ … ۲۷؍اگست ۱۹۲۳ء

    ۱۷۷

  17. اسلام کفر اور ارتداد کے معنی

    ۱۷۷

  18. ضروریات دین

    ۱۷۸

  19. مرزائی تاویلات کا رد

    ۱۷۸

  20. کفر مرزا پر علماء کا فتویٰ

    ۱۸۱

  21. سب سے پہلا اجماع

    ۱۸۵

  22. حضرت عیسیٰؑ کی توہین

    ۱۸۶

  23. وحی کا دعویٰ اور اس کو قرآن کے برابر ٹھہرانا

    ۱۹۰

11
  1. تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بااقرار صالح … ۲۸؍اگست ۱۹۳۲ء

    ۱۹۱

  2. صدیق اکبرؓ کا حکم

    ۱۹۱

  3. بروزی، ظلی، مجازی نبوت کی اصلیت

    ۱۹۲

  4. غلام احمد قادیانی کا اقرار ختم نبوت

    ۱۹۳

  5. مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق

    ۱۹۴

  6. جرح بربیان امام العصر سید محمد انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ … مؤرخہ ۲۹؍اگست۱۹۳۲ء

    ۱۹۸

  7. تتمہ بیان جرح سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بااقرار صالح … ۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء

    ۲۰۰

  8. آیات قرآن متواتر ہیں

    ۲۰۱

  9. بیان حضرت مولانا نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ … مؤرخہ ۳۰؍اگست ۱۹۳۲ء

    ۲۰۵

  10. مرزا ادّعائے نبوت کی وجہ سے خارج از اسلام ہے

    ۲۰۵

  11. مرزاقادیانی کے وجوہ کفر

    ۲۰۶

  12. مرزانبوت تشریعیہ کا مدعی ہے

    ۲۰۶

  13. مرزاقادیانی اپنے لئے لوازم نبوت ثابت کرتا ہے

    ۲۰۸

  14. مرزاقادیانی کا اپنی نبوت کو ظلی اور بروزی کہنا محض پردہ پوشی ہے

    ۲۰۸

  15. ساری امت میں اپنے آپ کو نبوت کے لئے مختص سمجھتا ہے

    ۲۰۹

  16. مدعی نبوت کافر ہے

    ۲۰۹

  17. ختم نبوت پر تصریحات امت

    ۲۱۱

  18. دعویٰ نبوت سے پہلے مرزاختم نبوت کا قائل تھا

    ۲۱۳

  19. ’’خاتم‘‘ بمعنے ’’آخر‘‘ پر مرزاقادیانی کی تصریحات

    ۲۱۴

  20. توہین انبیاء

    ۲۱۴

  21. مرزا تمام انبیاءؑ کی ہمسری بلکہ ان سے افضلیت کا مدعی ہے

    ۲۱۵

  22. حضرت عیسیٰؑ کی توہین اور عذر گناہ بدتر از گناہ

    ۲۱۶

12
  1. انبیاءؑ کی شان میں گستاخی کرنے والا مستوجب لعنت ہے

    ۲۱۷

  2. چند شکوک کا ازالہ

    ۲۱۸

  3. بیان بجرح مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ باقرار صالح

    ۲۱۹

  4. بیان جلال الدین شمس (قادیانی) گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ … ۵لغایت ۱۲؍نومبر ۱۹۳۲ء

    ۲۲۳

  5. آئینہ حقیقت

    ۲۲۳

  6. ۵؍نومبر۱۹۳۲ء

    ۲۲۳

  7. گواہان فریق مخالف کی پیش کردہ وجوہ تکفیر اوران کا رد

    ۲۲۸

  8. بقیہ بیان جلا ل الدین شمس … ۷؍نومبر ۱۹۳۲ء

    ۲۴۵

  9. اجما ع کی بحث

    ۲۴۸

  10. ایک شبہ کا ازالہ

    ۲۵۷

  11. جرح بربیان جلال الدین صاحب شمس گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ … یکم لغایت ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۰۲

  12. یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء جرح گواہ مدعاعلیہ جلال الدین شمس باقرارصالح

    ۳۰۲

  13. یکم؍مارچ۱۹۳۳ء بمطابق۴؍ذیقعدہ۱۳۵۱ھ

    ۳۰۶

  14. ۷؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختار حاضر

    ۳۱۰

  15. جرح مدعی بر مولوی جلال الدین

    ۳۱۰

  16. ۸؍مارچ۱۹۳۳ء … فریقین اوران کے مختاران حاضر

    ۳۱۶

  17. تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ فریق ثانی

    ۳۱۶

  18. ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختاران حاضر

    ۳۲۰

  19. تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ فریق ثانی باقرار صالح

    ۳۲۰

  20. ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختار حاضر ہیں

    ۳۲۵

  21. تتمہ بیان جرح مولوی جلال الدین شمس باقرار صالح

    ۳۲۵

  22. ۱۲؍مارچ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختاران حاضر ہیں

    ۳۳۱

  23. جرح… تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ مدعاعلیہ

    ۳۳۱

13
  1. بیان غلام احمد صاحب گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ … ۱۳؍لغایت ۱۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۳۷

  2. گواہ فریق ثانی

    ۳۳۷

  3. حضرت مسیح موعود کی تصریحات

    ۳۳۹

  4. کیاحضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کو سید الانبیاء حضرت نبی کریمa کے خاتم النّبیین ہونے سے انکار ہے؟

    ۳۴۵

  5. کیا سید الانبیاء حضرت محمدمصطفیa کے خاتم النّبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت ہی نہیں مل سکتی؟

    ۳۴۷

  6. ۱۴؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۴۹

  7. تتمہ بیان مولوی غلام احمد گواہ فریق ثانی باقرارصالح

    ۳۴۹

  8. جواحادیث نبوت کے بالکل بند ہونے کے لئے پیش کی گئی ہیں ان کا جواب

    ۳۵۶

  9. ۱۵؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۶۳

  10. تتمہ بیان شہادت مولوی غلام احمد صاحب گواہ فریق ثانی… باقرار صالح

    ۳۶۳

  11. مفسرین اور بعض دیگر علماء کے ان اقوال کا جواب جو مخالف علماء اپنے اپنے غلط معنی کی تائید میں پیش کرتے ہیں

    ۳۶۵

  12. ۱۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۶۷

  13. تتمہ بیان شہادت مولوی غلام احمد مجاہد گواہ مدعاعلیہ باقرار صالح

    ۳۶۷

  14. جرح بر مولوی غلام احمد گواہ فریق ثانی باقرار صالح … ۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۸۰

  15. فریقین اور ان کے مختاران حاضر ہیں … ۲۱؍مارچ۱۹۳۳ء

    ۳۸۱

  16. تتمہ بیان جرح مولوی غلام احمد مجاہد گواہ فریق ثانی

    ۳۸۱

  17. تتمہ بیان جرح غلام احمد … ۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۸۶

  18. فریقین اور ان کے مختارحاضرہیں … ۲۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۹۳

  19. تتمہ بیان جرح مولوی غلام احمد مجاہد گواہ فریق باقرارصالح

    ۳۹۳

  20. فریقین اور اس کے مختار حاضر … ۲۷؍مارچ ۱۹۳۳ء

    ۳۹۹

  21. تتمہ بیان مولوی غلام احمدمجاہد گواہ باقرارصالح… فریق ثانی

    ۳۹۹

  22. فریقین اوران کے مختاران حاضر ہیں … ۲۹؍مارچ۱۹۳۳ء

    ۴۱۰

  23. تتمہ بیان غلام احمدمجاہد باقرارصالح

    ۴۱۰

14

عرض مرتب

(طبع ثالث)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی۔ امابعد!

آج سے تقریباً ایک صدی قبل دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا الٰہی بخش کی دختر محترمہ غلام عائشہ کا نکاح مسمّی عبدالرزاق ولد جان محمد سے ہوا۔ اس وقت منکوحہ نابالغ تھی۔ اس کے بلوغ ورخصتی سے قبل ناکح عبدالرزاق، قادیانی ہو گیا یہ خاندان اس وقت ضلع بہاول پور کا رہائشی تھا۔

بالغ ہونے پر ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پورکی عدالت میں محترمہ غلام عائشہ کی طرف سے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ بہت سارے مراحل طے کرنے کے بعد ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو جاکر جج محمد اکبر خان کی عدالت عالیہ سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ صادرہوا۔

یہ مقدمہ اس لئے اہمیت اختیار کرگیاتھا کہ انگریز کے عہد اقتدار میں ایک اسلامی ریاست بہاول پور کی عدالت عالیہ نے قادیانیت کے کفر یا اسلام کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس لئے متحدہ ہندوستان کی تمام دینی قیادت قادیانیت کے کفر کو الم نشرح کرنے کے لئے میدان عمل میں اتری۔ ادھر قادیانی عیار قیادت نے بھی قادیان سے لندن تک اپنے اثر ورسوخ کو متحرک کردیا۔ دس سال یہ کیس مختلف مراحل طے کرتا ہوافیصلہ پر پہنچا۔

کیس کی پیروی کرنے والے علماء اسلام میں سے حضرت مولانا محمد صادق صاحب بہاول پوری تھے۔(جو ابوالعباس نعمانی بھی کہلاتے تھے) دوسرے حضرت مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی تھے، جو جامعہ عباسیہ کے شیخ الجامعہ تھے۔ ان ہر دو حضرات نے فقط متن فیصلہ پہلی بار ۲۵؍جولائی ۱۹۳۵ء کو ’’فیصلہ مقدمہ بہاول پور ‘‘کے نام سے شائع کیا۔ فیصلہ فروری میں ہوا۔ اس کی پہلی اشاعت جولائی میں ہوئی۔ گویا فیصلہ صادر ہونے کے پانچ ماہ بعد شائع ہوگیا۔

اس مقدمہ میں علماء اہل اسلام کے جو بیانات عدالت میں ہوئے وہ ۱۹۳۶ء میں مذکورہ بالا حضرات نے ’’بیانات علماء ربانی‘‘ کے نام سے شائع کر دئیے تھے۔ جنہیں بعد میں لاہور سے مکتبہ تبصرہ نے جون ۱۹۶۵ء میںحجت شرعیہ کے نام سے شائع کیا۔

البتہ فیصلہ مقدمہ بہاول پور متعدد اداروں نے مختلف ادوار میں شائع کیا مثلاً محفل ارشادیہ سیالکوٹ نے اس فیصلے کو ۱۹۷۳ء میں اورمکتبہ سید احمد شہید لاہور نے ۱۹۸۶ء میں شائع کیا۔ علماء کے عدالتی بیانات دوبار اور فیصلہ مقدمہ بہاول پور متعدد بار شائع ہوا۔

ضرورت تھی کہ اس مقدمہ کی پوری روئیداد عرضی دعویٰ سے لے کر آخری فیصلہ (۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء تا ۷؍فروری ۱۹۳۵ء) پوری ’’مسل مقدمہ‘‘ کو شائع کیا جائے۔

قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز حضرت سید نفیس الحسینی کے توجہ دلانے پر شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامدمیاں صاحب بانی ومہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور نے اس مقدمہ کی پوری مسل مقدمہ کی مصدقہ کاپی بہاول پور عدالت کے ریکارڈ سے حاصل کرنے کا نظم کیا۔

15

حضرت سید نفیس الحسینی نے بہاول پور جا کر کئی دن قیام کیا اور اس کے حصول کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔ پھر آپ ہی کی تحریک پر سید عبدالماجد شاہ صاحب نے اسلامک فائونڈیشن ۷/۲۱ جیل روڈ لاہور قائم کی اور مقدمہ کی مکمل دس سالہ روئیداد کو شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ یہ مکمل روئیداد تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی۔ گویامکمل روئیداد کی یہ اشاعت اوّل تھی۔

بعد میں ان تینوں جلدوں کے سیٹ کو ۲۰۰۶ء میں مکتبہ سید احمد شہید نے دوبارہ شائع کیا۔ اس کے بعد یہ کتاب قریباً نایاب تھی۔ لوگوں کو اس کی طلب تھی لیکن مارکیٹ میں عنقاء تھی۔

فقیر راقم عرصہ سے توتحریک ختم نبوت۱۹۳۴ء تا ۲۰۱۹ء کی تدوین میں منہمک تھا۔

’’محاسبہ قادیانیت‘‘ کی آٹھ جلدوں کی اشاعت کے بعد اس پر بھی کام رکا ہوا تھا۔ دوستوں کا اصرار ہوا کہ مقدمہ بہاول پور کی روئیداد کو نئے حوالہ جات کی تخریج کے ساتھ ’’محاسبہ قادیانیت‘‘ کا حصہ بنا دیا جائے تویوں مقدمہ بہاول پور کی مکمل روئیداد بھی میسر آجائے گی اور ’’محاسبہ قادیانیت‘‘ کی اشاعت کا کام بھی رواں ہو جائے گا۔ اب اس کے حوالہ جات کے لئے غوروفکر ہوا تو معلوم ہوا۔ برادر محترم مجاہد ختم نبوت عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب مقیم لندن اس پر محنت کررہے تھے۔

پہلی جلد کے حوالہ جات کی تخریج کے لئے انہوں نے محترم مولانا حافظ عبیداﷲ صاحب اسلام آباد والوں سے درخواست کر رکھی ہے۔ چنانچہ حضرت حافظ صاحب سے اس کاریکارڈ منگوایا۔ ساڑھے انیس سو صفحات کی تین جلدوں میں سے صرف ایک سو صفحات پر حوالہ جات لگے تھے جو قابل استفادہ اور لائق تبریک تو تھے، لیکن اونٹ کے منہ میں زیرہ کا مصداق بھی تھے۔

چنانچہ اﷲ رب العزت کا نام لے کر اس کتاب کی تینوں جلدوں پر حوالہ جات کی تحقیق و تخریج کا کام شروع کرادیا۔

کتاب کے مطالعہ کے دوران معلوم ہوا کہ ’’روئیداد مقدمہ بہاول پور‘‘ کی پہلی جلد اشاعت۱۹۸۸ء کے ص۱۶۳پر’’اقتباسات تصانیف مرزا قادیان‘‘ کی سرخی قائم کرکے (ص۲۷۸) تک مرزا قادیانی کی کتابوں کے ٹائٹل اورپھر متعلقہ ٹائٹل والی کتاب کے متعلقہ صفحہ کا عکس شائع کیا ہے تاکہ قادیانی ان حوالہ جات پر اعتراض نہ کرسکیں۔ اس لئے عکس دئیے گئے تھے۔

یہ عکس ان قادیانی کتب کے حوالہ جات کے تھے جو علماء کے بیانات یا فیصلہ میں ذکر ہوئے۔ بلا شبہ ۱۹۸۸ء کے ایڈیشن شائع کنندگان اسلامک فائونڈیشن لاہور والے حضرات کی یہ محنت قابل ستائش ہے کہ انہوں نے اصل کتب حاصل کیں، ان کے عکس لئے اور یوں ایک سو پندرہ صفحات کے ان حوالہ جات کے لئے مختص کئے۔ ہمارے اس ایڈیشن میںیہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے۔

اس لئے کہ: (۱)اب مرزا قادیانی کی تمام کتب کے مجموعہ کو قادیانیوں نے ’’روحانی خزائن‘‘ کے نام پر تیئس جلدوں میں شائع کر دیا ہے۔ مرز ا کی قدیم کتب کو اب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لئے کہ ’’خزائن‘‘ کے ایڈیشن میں وہ سب موجود ہیں۔ ان سے کوئی قادیانی ماں کا لال حوالہ کے انکار کی جرأت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

(۲)یہ کہ مرزاکی تمام کتب ’’روحانی خزائن‘‘ میں موجود ہیں۔ ’’خزائن‘‘ کی پوری جلدیں کمپیوٹر پر خود قادیانیوں نے ڈال رکھی ہیں۔ اس لئے اب عکس ٹائٹل یاعکس حوالہ کے شائع کرنے کی ضرورت نہ ہے۔ (۳)اس کتاب کے ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں صرف بائیس کتب کے متعلقہ صفحات دئیے، جس سے کتاب ’’مقدمہ روئیداد‘‘ کے ۱۱۵ صفحات خرچ ہوئے۔ جب کہ اس ’’روئیداد مقدمہ‘‘ کی تینوں جلدوں میں اگر ایک ہزار حوالہ ہے تو ہم نے یہ تمام حوالہ جات ’’خزائن‘‘ سے لگا دیئے ہیں۔ اس لئے ان کتب کا ٹائٹل یا متعلقہ حوالہ کے صفحہ کا عکس شائع کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں چند حوالہ جات کا عکس دکھا کر قادیانی عوام پر اتمام حجت کیا گیا تھا۔

16

ہم نے مرزائی کتب کے تمام حوالہ جات قادیانیوں کی طرف سے شائع کردہ ’’خزائن، مجموعہ اشتہارات، ملفوظات، مرزا کے مکتوبات، قادیانی اخبارات ورسائل‘‘ کے اصل حوالہ جات لگا دئیے ہیں۔ اس لئے جہاں اس روئیداد مقدمہ کی مکمل تخرین و تحقیق سے کتاب کی ثقاہت میں اضافہ ہو گیا ہے، وہاں قادیانی عوام پراتمام حجت بھی ہوگیا ہے۔ قادیانی عیّار قیادت کی بولتی بند کر دی گئی۔ جہاں قادیانی مربیوں کے لئے حوالہ جات کا مستند ماخذ کا ذکر کیا ہے، وہاں ان کے لئے دیّار کے گلّہ پر پانی ڈال کر اب پکا کام کردیا ہے کہ کہیں حوالہ سے ان کا باپ بھی نہیں بھاگ سکتا۔

اس ایڈیشن کے شائع ہوجانے پر بلامبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ ۱۹۳۵ء سے ۲۰۱۸ء تک جتنے ایڈیشن اس روئیداد کے شائع ہوئے، ان میں سب سے کامل و مکمل مستند و جامع یہ ایڈیشن ہے۔ پروف کی غلطیوں کے لئے قارئین مطلع فرمائیں گے تو آئندہ کا ایڈیشن اس سے بھی زیادہ جامع و مفید بنانے کی گنجائش سے انکار نہیں۔

پہلے یہی ارادہ تھا کہ اسے محاسبہ قادیانیت کا حصہ بنایا جائے، مگر بعد میں رفقاء کا اصرار ہوا کہ اس کی تینوں جلدوں کو مکمل سیٹ کی شکل میں شائع کیا جائے۔ چونکہ ضخامت زیادہ بنتی تھی۔ اس لئے سائز بڑا کر دیا گیا اور اب سیٹ کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ اس دوران میں معلوم ہوا کہ محترم باوا صاحب نے یہ کتاب چھاپ دی ہے تو اس کی اشاعت میں ہم نے تاخیر کر دی کہ ان کا شائع کردہ ایڈیشن مل جائے تو اس میں کوئی جدت ہو تو اسے بھی اس میں سمو دیں تاکہ یہ ایڈیشن تمام خوبیوں کا جامع ہو جائے۔ مگر سوشل میڈیا پر اشتہار آ جانے کے باوجود کتاب مارکیٹ میں نہیں آئی۔ اس لئے مزید تاخیر کی زحمت سے بچنے کے لئے اس کو حوالہ پریس کر دیا۔ اس پر اتنی محنت ہو گئی ہے۔ حق تعالیٰ کی رحمت سے توقع ہے تو مزید امت کو اس پر محنت کی ضرورت نہ ہو گی۔ الحمدﷲ اوّلاً وآخرا!

مجھے شکریہ ادا کرنا ہے مولانا محمد وسیم اسلم (مبلغ ملتان)، مولانا محمد اجمل (خطیب میاں چنوں)، مولانا محمد خبیب (مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا عبدالحکیم (مبلغ ساہی وال)، مولانا محمد اقبال (مبلغ ڈیرہ غازی خان)، مولانا عبدالستار گورمانی (مبلغ خانیوال)، مولانا محمد ساجد (مبلغ بھکر)، جناب محمد عدنان سنپال، مولانا محمد امین، مولانا محمد عثمان کا جنہوں نے بھرپور محنت سے حوالہ جات وکمپوزنگ کے کام کو مکمل کیا۔ اﷲتعالیٰ ان سب کو جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ آمین!

ایمان پرور اضافہ

اس ایڈیشن میں ایک خوشنما، وجد آفرین اضافہ بھی ہے جو پہلے کسی ایڈیشن میں موجود نہ تھا۔ وہ یہ کہ:

مشہور زمانہ ’’مقدمہ بہاول پور‘‘ میں مدعا علیہ عبدالرزاق قادیانی کا مختار جلال الدین شمس قادیانی تھا اور مسلمان مدعیہ محترمہ غلام عائشہ بی بی کے مختار حضرت مولانا ابوالوفاء نعمانی شاہ جہانپوری تھے۔ آپ نے تسلسل کے ساتھ سالہا سال اس مقدمہ کی پیروی کے جو مراحل طے کئے۔ وہ صرف آپ کا حصہ ہے جو قدرت حق نے ازل سے آپ کے لئے مقدر فرمایا تھا۔ قادیانی مختار مدعا علیہ کی جواب جرح کا آپ نے جواب الجواب عدالت میں جمع کرایا۔ جس کے بعد پھر فیصلہ ہونا تھا۔ گویا اس مقدمہ میں آخری بنیادی مرحلہ صرف اور صرف حضرت مولانا ابوالوفاء نعمانی شاہ جہانپوری سے حق تعالیٰ نے سر کرایا۔ زہے مقدر!

اس مقدمہ کی روئیداد کی کمپوزنگ کے موقع پر ضرورت پیش آئی کہ مولانا ابوالوفاء مرحوم کے مختصر مگر جامع حالات زندگی مل جائیں تو وہ مولانا مرحوم کے جواب الجواب جرح کی ابتداء گویا تیسری جلد کے آغاز میں شامل کر دئیے جائیں۔ (جو وہاں تیسری جلد کے اوّل میں ملاحظہ فرمائیں گے)

17

مولانا مرحوم کے سوانح کی تلاش میں قدیم وجدید پاک وہند کی جو کتابیں اس موضوع کی تھیں۔ ان کو کھنگال مارا۔ مگر سوائے چند سطور کے کچھ میسر نہ آیا۔ اس مشکل کی حل کے لئے ہمیشہ کی طرح اب بھی فاضل اجل حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری سے استدعاء کی۔ کرونا وباء کی مشکلات کے باوجود آپ اس کام کے لئے ساعی ہوئے۔ انہیں بھی شائع شدہ یکجا مولانا ابوالوفاء مرحوم کی سوانح کے عنوان پر کچھ نہ ملا۔

فیصلہ مقدمہ بہاول پور کو سامنے رکھیں تو پچاس سال بعد۔

مولانا ابوالوفاء کی دارالعلوم دیوبند کی فراغت کی تاریخ کو سامنے رکھیں تو سو سال بعد۔

مولانا مرحوم کی وفات کے سال۱۹۸۰ء کو سامنے رکھیں تو چالیس سال بعد (۲۰۲۰ء میں) مولانا مرحوم کی سوانح کو تلاش کرنا کتنا دشوار امر تھا۔

مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی کامیاب جدوجہد، سعی مشکور، عمل مقبول اور ذوق جنون نے ہمالیہ کی چوٹی کو سر کیا اور ساحل مراد پر ان کی کشتی ایسی کامیابی سے اتری کہ واقفین وقدردان عش عش کر اٹھیں گے۔ آپ نے پہلے ۱۶پھر ۱۸ پھر ۲۰صفحات پر مشتمل مضمون بھیجا معلومات ملتی گئیں۔ آپ اضافے کرتے گئے۔ اب بڑے سائز کے بیس صفحات پر مضمون ’’تابدار موتیوں کا حامل گلدستۂ معلومات‘‘ مرتب کرنے پر آپ مبارک باد اور تحسین کے مستحق ہیں۔ امت پر حضرت مولانا ابوالوفاء شاہ جہانپوری کے احسانات کا تقاضہ تھا کہ اپنے محسن کے حالات سے آج کا امت کا طبقہ باخبر ہو۔ سو یہ فرض وقرض آپ نے اتار دیا۔ اس پر مولانا شاہ عالم گورکھپوری کا ممنون احسان ہوں۔ گرانقدر معلومات پر مشتمل یہ مضمون روئیداد مقدمہ بہاول پور کی قدرومنزلت میں شاندار اضافہ کا باعث ہو گا۔

اس کتاب کی تیاری کے لئے تین ایسے شاندار ’’حسن اتفاق‘‘ ہوئے کہ مسرت سے رواں رواں وجد میں آ گیا۔

۱… مولانا ابوالوفاء شاہ جہانپوری نے ۱۰؍مئی ۱۹۳۴ء کو بہاول پور میں اپنا جواب الجواب جمع کرایا۔ اس حصہ کی پروف ریڈنگ کے اتمام کی بھی اتفاق سے تاریخ ۱۰؍مئی ۲۰۲۰ء تھی اور یہ کام بھی بہاول پور میں ہوا۔ تاریخ ومقام کا توافق عجیب اتفاق ہے۔

۲… مقدمہ بہاول پور کا فیصلہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو صادر ہوا۔

اس مقدمہ کے سب سے بڑے وکیل مولانا شاہ جہانپوری بھی ۷؍فروری ۱۹۸۰ء کو رب کریم کے حضور عالم آخرت کو سدھارے۔ گویا مولانا مرحوم کی جدوجہد کے نتیجہ اور حصول انعام کی ایک ہی تاریخ یعنی ۷؍فروری ہے۔

۳… مولانا ابوالوفاء کی دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے آپ کے سوانح پر مضمون کو پورے سو سال بنتے ہیں۔

لیجئے! آپ تین باتوں کو ’’حسن اتفاق‘‘ قرار دیں یا’’قدرت کی دین‘‘ لیکن کامیابی اور قبولیت عمل کا نتیجہ سو فیصد واضح ہے۔

فقیر: اﷲ وسایا

۱۴؍جنوری ۲۰۲۰ء، چناب نگر

18

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللّٰم صل وسلم وبارک علٰی سیدنا محمد عدد مافی علم اﷲ صلوۃ دائمۃ بدوام ملک اﷲ

آئینہ حقیقت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین

روئیداد ۱۹۲۶ء لغایت ۱۹۳۵ء

تعارف مقدمہ مرزائیہ بہاول پور ۱۹۳۵ء

میر عبدالماجد سید

فرزند حضرت میر عبدالجمیل صاحب قدس اﷲ سرہ مہاجر مدنی سابق ڈسٹرکٹ وسیشن جج

ابن حضرت میر سراج الدین صاحب سابق چیف جج بہاول پور

عنوان مندرجہ بالا پر نظر پڑتے ہی ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ۶۰برس سے زائد پرانی اس روئیداد کو طبع کرانے کی کیا افادیت ہے۔ خصوصاً جب کہ نہ صرف وطن عزیز کے آئین کی رو سے بلکہ مملکت خداداد پاکستان کی فاضل عدالت عظمیٰ وعدالت ہائے عالیہ کے فیصلہ جات کے مطابق مرزائیوں کو غیر مسلم/خارج از اسلام قرار دیا چکا ہے۔

ناظرین گرامی کی بصیرت کے لئے عرض ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۶۰ شق(۳) ذیلی شق(ب) کی اہمیت فاضل جج صاحبان عدالت ہائے مذکورہ بالا کے عاقلانہ ، عادلانہ و دانش مندانہ فیصلہ جات کی جامعیت اور ان میں پیش کردہ دور حاضر کے علماء واکابرین کے دلائل کی افادیت اپنی جگہ مسلّمہ، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل کہ بعض شہرہ آفاق مؤرخین کی تصانیف تاریخ عالم میں ایسا مقام حاصل کر لیتی ہیں کہ سینکڑوں سال گزرنے کے بعد آج بھی ان کی افادیت سے فرار ممکن نہیں۔ باوجودیکہ ان موضوعات پر ہزاروں نئی تصانیف آچکی ہیں۔ جیسا کہ دینی تصانیف میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب قدس اﷲتعالیٰ اسرارہم محدث دہلوی کا قرآن پاک کا اردو ترجمہ مسمیٰ بہ ’’موضح القرآن‘‘ اور حیات طیبہ پر جناب ڈاکٹر محمد حسین ہیکل سابق وزیر معارف مصر کی ’’حیات محمد‘‘(a)، ’’سیرت النبیa‘‘ از مولانا شبلی نعمانی و مولانا سید سلیمان ندوی اور ’’رحمۃ للعالمین‘‘ از مولانا محمد سلیمان منصور پوری۔

بعینہٖ یہی صورت جناب جج محمد اکبر خان صاحب مرحوم ومغفور ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کے فیصلہ مصدرہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کی ہے، جو برصغیر کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ سلطنت برطانیہ کے عہد کا اوّل ترین عدالتی فیصلہ ہے، جس میں قادیانیوںکے ارتداد کا حکم صادر کیا گیا۔ مسلمانان ہند کی جانب سے تردید مرزائیت پر جو شہادت پیش ہوئی، وہ علم وعرفان کا ایسا بحرذخّار ہے، جس کی نظیر ملنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

یہاں یہ عرض کرنا خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ آج کے پر آشوب دور میں ماضی کے جن علما،فضلاء واکابرین کی تصانیف یا اقوال کو بطور سند پیش کیا جاتا ہے، ان میں استاذ الاساتذہ شیخ المحدثین امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کا شمیری، شیخ الاسلام و المسلمین حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، علامۃ الدہر فہامۃ العصر حضرت مولاناغلام محمد صاحب گھوٹوی اور شہرۂ آفاق مناظرحضرت مولانا ابوالوفا شاہجہان پوری صاحب جیسے مشاہیر شامل ہیں۔ جنہوں نے بہ نفس نفیس عدالت میں پیش ہو کر اپنی شہادتیں قلم بند کرائیں اور فریق ثانی کی

19

شہادت پر براہین ودلائل سے ایسی باطل شکن جرح فرمائی، جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل وفریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کر کے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد پورے عالم میں آشکارا کر دیا۔

فیصلہ زیر بحث کی اشاعت اگرچہ دوبار عمل میں آئی، لیکن دیگر روئیداد مقدمہ آج تک بوجوہ طبع نہ ہو سکی تھی۔ جس کے بارے میں فیصلہ مذکورہ کی اشاعت اوّل ۱۹۳۵ ء کے موقع پر شیخ الجامعہ العباسیہ حضرت غلام محمد صاحب گھوٹوی جیسے عالم نبیل و فاضل جلیل کی جانب سے تحریر فرمایا گیا تھا۔

’’حضرات علمائے کرام کے بیانات اور بحث اور جواب الجواب تردید مرزائیت کا بے نظیر ذخیرہ ہے۔ اگر خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ تینوں جلدیں شائع ہوگئیں تو تردید مرزائیت میں کسی دوسری تصنیف کی قطعاً حاجت نہ رہے گی۔‘‘

قارئین گرامی! فیصلہ ہذا کی ہر اشاعت کے موقع پر علماء کرام اور اکابرین ملت کے بصیرت افروز تبصرے اگرچہ اس عظیم دستاویز (روئیداد مقدمہ ۱۹۲۶ء لغایت ۱۹۳۵ء) کے ہمراہ شائع کئے جارہے ہیں، لیکن مناسب ہو گا کہ صرف علّامۃ الدّہر فہامۃ العصر حضرت غلام محمد صاحب گھوٹوی کا تبصرہ جو آپ نے جولائی ۱۹۳۵ء میں قلم بند فرمایاتھا یہاں تحریر کر دیا جائے۔

’’بہاول پور کے معرکۃ الآرا مقدمہ مرزائیہ کی اہمیت و شہرت اور اسلامیان ہند کے مضطربانہ انتظار کا اقتضاء یہ تھا کہ اس تاریخی مقدمہ کے بصیرت افروز فیصلہ کی اشاعت میں تاخیر نہ کی جائے۔ مگر باقاعدہ نقل، کتابت، طباعت اور ان کے مصارف ایسے امور تھے جنہوں نے اشاعت کو تعویق میں رکھا۔ حتیٰ کہ بعض اصحاب نے خطوط اور اخبارات کے ذریعہ مجھ کو اشاعت کی طرف توجہ دلائی۔ اگرچہ بمقتضاء کل امر مرہون باوقت اشاعت میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی ہے، تاہم مجھے اپنے فرض سے سبکدوشی حاصل ہو گئی۔ الحمد ﷲ علیٰ ذالک! جن اصحاب نے فیصلہ کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی یا اس کی اشاعت میں مالی امداد فرمائی ہے، میں ان تمام اصحاب کا عموماً اور ’’انجمن مؤید الاسلام‘‘ بہاول پور کا خصوصاً شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انجمن موصوف نے مقدمہ کے مصارف اور فیصلہ کی طباعت میں نمایاں حصہ لیا ہے اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ اس فیصلہ کو طالبین حق کے لئے مشعل ہدایت بنائے۔ آمین!‘‘

(مولانا) غلام محمد شیخ الجامعہ بہاول پور

۲۵؍جولائی ۱۹۳۵ء

مندرجہ بالا وضاحت کے بعد امید ہے۔ قارئین گرامی کی نظر میں روئیداد زیر بحث کی اشاعت کی افادیت بہتر طور پر اجاگر ہو جائے گی۔ رہا یہ سوال کہ اس عظیم دستاویز کی اشاعت میں اس قدر تاخیرتو اس کے جواب میں صرف یہ عرض کیاجا سکتا ہے کہ ؎

  1. ایں سعادت بزور بازو نیست

    تانہ بخشد خدائے بخشندہ

مذکورہ بالا تمہید کے بعد اصل مسئلے کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک قرآن پاک کے بعد سند اور اعتبار کے لحاظ سے احادیث کا درجہ ہے جو حضورﷺ کے اقوال (واعمال) کا مجموعہ ہے۔ قرآن پاک کی آیات، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ توحید باری تعالیٰ اور ختم نبوت آنحضرتﷺ ، اسلام کے دوبنیادی اصول ہیں۔ نیز یہ کہ نزول وحی کا سلسلہ حضورﷺ کے بعد منقطع ہو گیا۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ اگر کوئی شخص ظلی یا بروزی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کافر اور خارج از اسلام ہے۔

اسلام میں بہت سے گمراہ اسلامی فرقے پیدا ہوئے، مگر ختم نبوتﷺ اور جہاد من الکفار جیسے بنیادی مسائل پر سب متفق رہے۔ لیکن انیسویں صدی کے اواخر میں جب تاج برطانیہ کا ستارۂ اقبال پورے آب وتاب کے ساتھ کرۂ ارض پر چمک رہا تھا اور قلمرو انگریز میں

20

سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ سلطنت برطانیہ نے جہاں دین اسلام کے خلاف اور بے شمار سازشیں کیں، وہاں برصغیر پاک وہند میں اپنے ناپاک منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک نبی پیدا کر کے مندرجہ بالا متفق علیہ مسائل کو متنازعہ بنانے کی سعی لاحاصل کی۔ مگر اس بار اس نے یہ کام اپنے کسی ہم وطن ’’لارنس آف عریبیہ‘‘ جیسے رسوائے زمانہ سے نہ کرایا بلکہ مسلمانان ہند میں سے ہی ایک ایسے ایمان فروش کا انتخاب کیا، جس نے بے پناہ دولت ودیگر مالی منفعت کے عوض زندیق کا کردار ادا کیا۔

غلام احمد مرزائے قادیان کے دعویٰ مجددیت ومہدویت کے اعلان کے ساتھ ہی تمام اسلامی ممالک میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص اس کا شدید رد عمل ہوا۔ پورے عالم اسلام کے علماء کرام نے کامل تحقیق و تدقیق کے بعد مرزا قادیان اور اس کی ہم خیال جماعت کے خلاف ارتداد کے فتاوی جاری کئے۔ یہ فتنہ چونکہ ارض ہند کی پیداوار تھا۔ اس لئے مسلمانان ہند نے اپنی ذمہ داری کا بروقت احساس کرتے ہوئے اپنے تمام فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس فتنہ کا سد باب کیا، جس کی مثال اسلامی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء جن میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور اہل تشیع شامل تھے، نے فتاویٰ جاری کئے۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد اور اس کے پیروکاروں کو خارج از اسلام قرار دیا۔ مسلمانان ہند نے ان فتاویٰ پر ہی اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ انگریز دور کی عدالت مجاز ڈسٹرکٹ جج بہاول پور سے باوجود حکومت وقت کے شدید دبائو کے ڈگری بدیں مضمون حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ بروئے شرع محمدی مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار کا فر اور خارج از اسلام ہیں۔

حق وباطل کے مذکورہ بالا فیصلہ کاتاریخی پس منظر شرح صدر کے ساتھ جناب جج صاحب مرحوم نے اپنے فیصلہ کے ابتدائی اوراق میں فرمادیا ہے۔ یہاں اس کا اجمالی خاکہ کم وبیش جناب جج صاحب مرحوم ومغفور کے ہی الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔

’’مسمیان مولوی الٰہی بخش وعبدالرزاق باہمی رشتہ دار تھے۔ مولوی الٰہی بخش نے اپنی دختر مسماۃ غلام عائشہ کا نکاح اس کے ایام صغر سنی میں مسمی عبدالرزاق سے کردیا۔ جس نے بعد میں اپنے سابقہ اعتقادات سے انحراف کرتے ہوئے مرزائی مذہب اختیار کر لیا۔ جب مسماۃ غلام عائشہ سن بلوغت کو پہنچی تو عبدالرزاق نے مولوی الٰہی بخش سے مسماۃ مذکورہ کے رخصتانے کی استدعاکی۔ جس کے جواب میں مولوی الٰہی بخش نے کہا کہ وہ یعنی عبدالرزاق چونکہ مذہب اسلام ترک کر کے مرزائی ہو گیا ہے اور شرعاً کافر ہوگیا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ مرزائی مذہب ترک نہیں کرتا مسماۃ غلام عائشہ کو اس کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

رخصتانے کے سوال پر مولوی الٰہی بخش اور عبدالرزاق کے درمیان جب کشیدگی کافی بڑھ گئی اور ایک جانب سے اصراراور دوسری جانب سے انکار نے تکرار کی صورت اختیار کر لی تو مسماۃ غلام عائشہ نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور مولوی الٰہی بخش نے بحیثیت مختار غلام عائشہ ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو مسمی عبدالرزاق کے خلاف عدالت احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور میں دعویٰ تنسیخ نکاح بدین بیان دائر کیا کہ مسماۃ غلام عائشہ عرصہ دو سال سے بالغ ہو گئی ہے۔ مسمی عبدالرزاق ناکح مسماۃ غلام عائشہ نے مذہب اہل سنت والجماعت ترک کر کے قادیانی مرزائی مذہب اختیار کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ مرتد ہوگیا ہے، جس کے باعث مسماۃ غلام عائشہ اس کی منکوحہ نہیں رہی۔ اس لئے ڈگری بحق مسماۃ غلام عائشہ صادر کی جائے کہ بوجہ مرزائی ہوجانے عبدالرزاق کے مسماۃ مذکورہ اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی اور نکاح بوجہ ارتداد ہمراہ عبدالرزاق قائم نہیں رہا۔

عبدالرزاق نے جواب میں کہا کہ اس نے کوئی مذہب تبدیل نہیں کیااور نہ ہی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز یہ کہ احمدی کوئی علیحدہ مذہب نہیں عقائد احمدیہ سے جو صلاحیت مذہبی کی طرف رجوع دلاتے ہیں، وہ مرتد نہیں ہوتا۔

21

مقدمہ ہذاعدالت منصفی احمد پور شرقیہ میں زیر سماعت تھا کہ عبدالرزاق کی استدعا پر عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور نے نوعیت مقدمہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بروئے حکم مؤرخہ۷؍مئی ۱۹۲۷ء مقدمہ ہذاعدالت ڈسٹرکٹ جج بہاول پور میں منتقل کردیا۔ عدالت مذکورہ نے مؤرخہ۲۱؍نومبر ۱۹۲۸ء کو دعویٰ مسماۃ غلام عائشہ بدین وجہ خارج کردیا کہ عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور نے اس قسم کے ایک مقدمہ بعنوان مسماۃ جند وڈی بنام کریم بخش باتباع فیصلہ جات عدالت ہائے اعلیٰ مدراس، پٹنہ وپنجاب سے یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے نہ کہ اسلام سے باہر، اور کسی کے مرزائی مذہب اختیار کر لینے سے کسی سنی عورت کا نکاح اس شخص کے ساتھ جو احمدی ہو جائے فسخ نہیں ہوجاتا ہے۔ صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کا یہ فیصلہ برطبق اپیل عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور بحال رہا۔ لیکن اپیل ثانی عدالت جو ڈیشنل کونسل بہاول پور سے یہ قرار دیاگیا کہ عدالت ڈسٹرکٹ جج بہاول پور نے فریقین کے پیش کرد ہ اسناد پر بحث کئے بغیر دعویٰ خارج کردیا ہے۔ نیز یہ کہ فاضل ججز چیف کورٹ بہاول پور نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ پٹنہ و پنجاب ہائی کورٹوں کے فیصلہ جات مقدمہ ہذا میں حاوی نہیںہوسکتے کیونکہ ان میں غیر متعلق سوال زیر بحث رہے۔ لہٰذا یہ مقدمہ مزید تحقیقات کا محتاج ہے۔ مزید برآں ہندوستان کے جید علماء سے بھی اس بارے میں رائے لی جائے۔ نیز عبدالرزاق مرزائی کو بھی موقع دیا جائے کہ وہ ان کے بالمقابل اپنے اکابرین کو پیش کرے۔‘‘

ابتداً اگرچہ یہ مقدمہ دو فریق کے درمیان تھا، لیکن امر مابہ النزاع حل وحرمت سے تعلق رکھنے کے علاوہ ضمناً چونکہ عبدالرزاق مرزائی کی ہم خیال جماعت کی تکفیر پر بھی مشتمل تھا۔ لہٰذاعدالت عظمیٰ سے مسل کی واپسی پر اس کا دائرہ فریقین کی ہم خیال جماعتوں تک وسیع ہوگیا۔ نتیجتاً اہل ایمان اور مرزائی جماعت کے درمیان ایسے گھمسان کارن پڑا کہ پورے ہندوستان کی نظریں اس مقدمہ پر مرکوز ہوگئیں۔

مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کی جانب سے علامۃ العصر، اسوۃ البصروقدوۃ الخلف حضرت سید محمد انور شاہ صاحب کا شمیری قدس اﷲتعالیٰ اسرارہم، عالم نبیل و فاضل جلیل حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ، علامۃ الدہر فہامۃ العصر حضرت مولاناغلام محمد صاحب گھوٹوی، رئیس المناظرین ورأس المتکلمین حضرت سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب (چاند پوری)، فاضل اجل حضرت مولانا ابی القاسم محمد حسین صاحب کولوتارڑوی، جامع علوم وفنون حضرت مولانا نجم الدین صاحب اور شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفا صاحب شاہجہان پوری نے بہ نفس نفیس عدالت میں پیش ہو کر قرآن پاک، احادیث متواترہ اور اجماع امت کی روشنی میں براہین ودلائل سے مرزا قادیان اور اس کے متبعین کے کفر وارتداد کو روز روشن کی طرح آشکارا کیا۔ جب کہ عبدالرزاق مدعا علیہ کی جانب سے مرزائی جماعت کے صف اوّل کے مبلغین جلال الدین شمس وغلام احمد نے پیروی مقدمہ کی۔

ایک طرف علماء ربانی نے علم وعرفان کے دریائے بہا دئیے تو دوسری جانب مرزائی مبلغین نے کذب وکتمان کے انبار لگادئیے۔

مقدمہ زیر بحث کا فیصلہ چونکہ بڑے دوررس نتائج کا حامل تھا۔ لہٰذا عدالت مجاز نے فریقین کو پوری آزادی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جس کے نتیجہ میں مدعا علیہ کی جانب سے مدعیہ کے ایک ایک گواہ کے بیان اور جرح پر بعض اوقات مسلسل ایک ایک ماہ صرف ہوا اور اس نتیجہ میں فریقین کی جانب سے جو شہادت پیش ہوئی وہ کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ ۱۹۳۴ء کے اواخر میں جب کہ شہادت فریقین ختم ہوکر فیصلہ زیر غور تھا۔جلال الدین شمس مختار مدعا علیہ کی جانب سے ایک درخواست مؤرخہ ۴؍دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۲۸۰ بدین مضمون پیش کی گئی کہ عبدالرزاق مدعاعلیہ مؤرخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۳۴ء کو فوت ہوگیا ہے۔ لہٰذا مقدمہ زیر بحث میں کسی تجویز کی ضرورت نہ ہے۔ مسل۱؎ مقدمہ داخل دفتر کر دی جائے۔

۱؎ ایک روایت کے مطابق مرزائی جماعت جب ہر طرف سے مایوس ہوگئی تو اس نے از خود ایک سازش کے تحت عبدالرزاق مدعاعلیہ کو اس امید موہوم پر قتل کرادیا کہ اس کی موت کے بعد یہ نو سالہ پرانا قضیہ ختم ہو جائے گا۔

22

ایک طرف مرزائی جماعت کو اپنے دنیاوی اسباب پر بھروسہ تھا تو دوسری جانب اہل ایمان کو مسبب الاسباب پر کامل یقین تھا اور وہ چاہتے تھے کہ حق وباطل کے اس عظیم مقدمہ پر فیصلہ ہر صورت بحق یابر خلاف مدعاعلیہ ضرور صادر ہونا چاہئے۔

ابتداً مختار ان مدعیہ نے عبدالرزاق کی اچانک موت کو تسلیم نہ کیا۔ لیکن جب بعد تحقیق موت کی تصدیق ہو گئی تو مختاران مدعیہ نے مستند قانونی حوالہ جات و نظائر صفحہ ۲۸۳ پیش کر کے ثابت کیا کہ کسی ایک فریق کی موت واقع ہو جانے کی صورت میں بھی بروئے قانون مروجہ وشرع شریف عدالت کے لئے لازم ہے کہ اس مرحلے پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔

فاضل جج نے فریقین کے پیش کردہ قانونی حوالہ جات و نظائر کا پوری تحقیق سے جائزہ لینے کے بعد مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ کے مؤقف سے اتفاق فرماتے ہوئے۷؍فروری۱۹۳۵ء کو فیصلہ صادر فرما کر قراردیا کہ قرآن پاک، احادیث نبویa اور قانون حکومت کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین اپنے عقائد اور اعمال کی بناء پر مسلمان نہیں بلکہ کافر اور خارج از اسلام ہیں۔

حق وباطل کے اس فیصلہ سے ایک صدی قبل انگریز کے ترکش سے نکلنے والا تیر بفضل تعالیٰ امت مرحومہ کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا، البتہ لوٹ کر اس کے تراشیدہ نبی کی ذریت اور متبعین کو ایسا گھائل کیا کہ وطن عزیز کی پاک سر زمین ان پر اس قدر تنگ ہوئی کہ آج دیارغیر میں گوشۂ عافیت کی تلاش میں سرگرداں پھررہے ہیں۔

عدالت مجاز کے مذکورہ بالا فیصلہ صادر ہونے کے بعد جہاں خلیفہ قادیان اور ان کے متبعین کے صنم کدوں میں بھونچال آگیا وہاں اہل ایمان کا ہر فرد وبشر حق وباطل کے اس معرکۃ الآراء فیصلہ کو لفظ بہ لفظ پڑھنے کے لئے مضطرب تھا۔

جیسا کہ تمہید میں عرض کیاگیا ہے۔ فیصلہ ہذا کی اشاعت اوّل۱۹۳۵ء کے اواخر میں ہوئی۔ جب کہ اشاعت ثانی۱۹۷۳ء میں عمل میں آئی اور اس دوران اگرچہ حضرات علمائے ربانی کے بیانات بھی دوبار طبع ہوئے، لیکن وہ بھی اس لحاظ سے ادھورے رہے کہ فریق ثانی نے گواہان مدعیہ پر جو جرح کی تھی اورجو کہ قانوناً اصل بیانات کا حصہ ہوتے ہیں طبع نہ کرائی گئی۔ جب کہ بحث فریقین وجواب الجواب مدعیہ آج تک محافظ خانہ کی زینت بنے رہے۔

ناظرین گرامی کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مرزائی مبلغین کے بیانات جو انہوں نے عدالت میں دئیے مرزائی جماعت نے بک ڈپو تالیف اشاعت قادیان ہندوستان سے نومبر۱۹۳۲ء میں طبع کرائے جب ان بیانات کا تقابل عدالت میں دئیے گئے بیانات سے کیا گیا تویہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ان بیانات میں بڑے پیمانے پر قطع وبرید کی گئی ہے۔

۱۹۸۳ء کا واقعہ ہے کہ برادرمکرم جناب حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی مدظلہ العالیٰ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور نے ایک مجلس میں والد ماجد حضرت میر عبدالجلیل صاحب قدس اﷲ سرہ مہاجر مدنی(سابق سیشن جج بہاول پور)سے مدینہ منورہ میں اپنی ایک ملاقات کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضرت والدصاحب کی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ تردید مرزائیت کی یہ نایاب دستاویز جوگزشتہ نصف صدی سے عدالت کے محافظ خانہ میں مقیّد ہے ، کو نکال کر عالم اسلام کی بہرہ اندوزی کے لئے طبع کرادیا جائے تو یقینا یہ سعی مسلمان اور قادیانی سب کے لیے باعث رشد وہدایت ثابت ہوگی۔

یہ بزرگان دین کا فیض ہے کہ چند محبان رسولﷺ نے فوری طور پر ایک ادارہ موسوم بہ ’’اسلامک فائونڈیشن‘‘ (رجسٹرڈ) لاہور زیر سرپرستی برادرم حضرت کاندھلوی مدظلہ العالی قائم کر کے اس کار خیر کا آغاز کر دیا۔

ابتدائی مرحلہ میں عدالتی ریکارڈ کی حسب ضابطہ نقول درکار تھیں۔ جس کے حصول کے لئے کافی وقت اور سرمایہ درکار تھا۔ لیکن جیسا

23

کہ حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا: ’’اگر میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک بام بڑھتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔‘‘

حسن اتفاق سے انہی دنوں ادارہ ہذا کے چند ممبران کی ملاقات جناب جج محمد اکبرخان صاحب مرحوم ومغفور کے نواسہ جناب معین الدین صاحب ہاشمی سے ہوئی۔ ان کا جو تعلق ولگائو اس مقدمہ سے ہوسکتا ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ جناب ہاشمی صاحب کی زبانی یہ خوش کن خبر ملی کہ کچھ عرصہ قبل جناب حضرت سید انور حسین نفیس رقم صاحب بہاول پور تشریف لاکر ایک ہفتہ وہاں مقیم رہے اور ان کی وساطت سے جناب شاہ صاحب محترم نے مقدمہ زیر بحث کی پوری کارروائی کی مصدقہ نقول عدالت سے حاصل کیں۔ جس کے جملہ مصارف جناب حضرت مولانا حامد میاں صاحب بانی جامعہ مدنیہ لاہور نے برداشت فرمائے تھے اور اس وقت یہ ریکارڈ ان ہی کی تحویل میں ہے۔ لہٰذا اگر یہ ریکارڈ دستیاب ہوجائے تو بلا تاخیر کتابت کا آغاز کیاجاسکتا ہے۔

ادارہ ہذا نے اس سلسلہ میں جناب حضرت سید انور حسین نفیس رقم صاحب مدظلہ العالی سے رابطہ قائم کر کے مدّعا بیان کیا۔ جواباً حضرت شاہ صاحب نے کمال شفقت اورخلوص سے ہرقسم کے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے امداد کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ آپ کی درخواست پر حضرت حامد میاں صاحب نے مکمل دستاویز کی مصدقہ نقول جو تین ہزار صفحات سے زائد پر مشتمل تھیں عطا فرماکر ادارہ ہذا پر عظیم احسان فرمایا۔ اﷲتعالیٰ حضرت ممدوح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تاجدار مدینہa کے قدموں میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین!

ریکارڈکے حصول کے بعد جناب حضرت شاہ صاحب نے مؤرخہ ۴؍مارچ۱۹۸۳ء کو اپنی قیام گاہ پر ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں اپنے دست مبارک سے کتابت کا آغاز فرماکر منصوبہ کی تکمیل کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔

خیال تھا کہ یہ کام زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا جو ممکن نہ ہو سکا۔ بڑی رکاوٹ کاتب حضرات کی علمی استعداد اور شکستہ خط کے نہ پڑھے جانے کی وجہ سے پیش آئی۔ علاوہ ازیں بعض صفحات کی اگرنصف لائن بھی اتفاقاً فوٹوکاپی میں آنے سے رہ گئی تھی تو باربار مصدقہ ریکارڈ سے انہیں تلاش کرنا پڑا۔ نیز ایسے اہل کاروں کی تلاش بھی ایک مسئلہ بن گیا جو پرانی عدالتی اصطلاحات سے واقف ہونے کے علاوہ شکستہ خط پڑھنے کا بھی ملکہ رکھتے ہوں۔تلاش بسیار کے بعد بہاول پور میں چند ایسے چراغ سحری پنشنر سرشتہ دار مل گئے، جنہوں نے بغیر کسی مالی منفعت کے یہ کام انجام دیا۔ بعدازاں گوجرانوالہ جہاں کتابت کا ابتدائی کام شروع ہواتھا سے آٹھ افراد پر مشتمل کاتب حضرات کی ایک جماعت بہاول پور روانہ کی گئی، جنہوں نے مندرجہ بالاحضرات کی زیرنگرانی صفحات کی کتابت کی تکمیل کی۔ یہاں یہ عرض کرنا بے جانہ ہوگا کہ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ ایسے حضرات جو بیک وقت پرانی عدالتی اصطلاحات سے واقفیت رکھنے کے علاوہ شکستہ خط پڑھنے پر بھی قادر ہوں، رفتہ رفتہ ناپید ہوتے جارہے ہیں۔

کتابت کی تکمیل کے بعد جب تصحیح کا مرحلہ آیاتو ایک بار پھر وہی رکاوٹ آڑے آئی کہ بروقت مناسب پروف ریڈر حضرات نہ ملے۔ جو علم وعرفان کی اس عظیم دستاویز کی تصحیح کا بیڑا اٹھائیں۔

منجملہ اور تھکا دینے والی رکاوٹوں کے ایک رکاوٹ جو تاخیر کاسبب بنی، یہ بھی پیش آئی کہ مرزائی حضرات کی کتابوں سے جب ان تحریروں کی تلاش کی گئی، جن کے حوالہ جات جناب جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں دیئے ہیں تو جدید ایڈیشن آجانے کی بناء پر بعض صفحات پر مطلوبہ عبارتیں نہ ملیں۔ نتیجتاً کتاب کے پورے صفحات کی ورق گردانی کرنی پڑی۔

24

بفضل تعالیٰ رفتہ رفتہ تمام رکاوٹیں دور ہوئیں اور ادارہ ہذا کی پانچ برس کی شبانہ روز کاوش کے نتیجہ میں بحمداﷲ’’ مقدمہ مرزائیہ بہاول پور‘‘ کی ۱۹صد صفحات پر مشتمل روئیداد زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہو کر تین جلدوں میں طبع ہو چکی ہے۔

یہاں یہ عرض کرنا بھی خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ عالم اسلام میں بالعموم اور تاریخ پاکستان میں بالخصوص ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی تاریخ بھی آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ جس روز تقریباً ۹۰ دن (۲۹؍مئی تا ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء) کی شب روز مسلسل محنت اور کاوش کے بعد وطن عزیز کی قومی اسمبلی میں متفقہ آئینی ترمیم منظور کر کے فرقہ مرزائیہ ضالہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر حق وباطل کے درمیان حد فاصل کھینچ دی۔

فجزاہم اﷲ عنا وعن جمیع المسلین احسن الجزا وافضل الجزا والحمد ﷲ

ناظرین گرامی کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دوران سماعت مقدمہ نیز بعد اشاعت فیصلہ ۱۹۳۵ء مرزائی صاحبان کی جانب سے جہاں اور بہت سی لایعنی تاویلات کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ علماء ربانی نے عدالت میں مرزا قادیان یاان کے پیروکاروں کی جن تحریروں کے حوالہ جات دئیے اور جن کا تذکرہ جناب جج صاحب نے اپنے فیصلہ میں فرمایا، یاتو وہ بغیر سیاق وسباق کے بیان کئے گئے یا پھر سرے سے ان کا وجود نہیں۔

ادارہ ہذا نے قارئین گرامی کی بہرہ اندوزی کی خاطر مرزائی کتب کے مطلوبہ اقتباسات کی نقول معہ سرورق جلد اوّل کے ہمراہ شائع کردئیے ہیں، تاکہ ناظرین گرامی مرزا قادیان اور ان کے متبعین کی مکفرانہ ومکذبانہ تحریروں کا نمونہ بذات خود ملاحظہ فرمالیں۔ (اس ایڈیشن سے وہ حذف کر دی ہیں۔ عرض مرتب طبع ثالث میں وجہ بیان کر دی ہے۔ مرتب!)

جہاں تک ممکن ہوسکا، ادارہ ہذانے ایسی تمام دستاویزات جن کا حوالہ جناب جج صاحب نے اپنے فیصلہ مذکورہ بالا میں دیا ہے شائع کرنے کی سعی کی ہے تاکہ علم وعرفان کی یہ دستاویز ہر لحاظ سے مکمل اور مسلم صورت میں پیش کی جاسکے۔ ایسی تمام دستاویزات کے صفحات نمبر عالی جناب جج صاحب کے فیصلہ میں رقم کر دئیے گئے ہیں۔ ادارہ ہذا کی حتیٰ المقدور کوشش کے باوجود چند دستاویز کی نقول جن کا ذکر جناب جج صاحب کے فیصلہ میں مذکور ہے، دستیاب نہ ہوسکی ہیں۔ جس کے لئے ادارہ معذرت خواہ ہے۔

جیسا کہ تمہید میں عرض کیا گیا ہے مندرجہ بالا عظیم دستاویز مجموعہ ہے فریقین کے بیانات، جرح، بحث وجواب الجواب وغیرہ کا جوفاضل عدالت میں پیش کئے گئے۔ لہٰذا ادارہ ہذا نے بغیر عنوانات قائم کئے انہیں قارئین گرامی تک پہنچانے کی ایک ناقص در ناقص ناتمام سعی کی ہے۔ اگر آئندہ کوئی باہمت محقق تردید مرزائیت پر قلم اٹھائے گا تو اس کے لیے یہ مواد ان شاء اﷲتعالیٰ مشعل راہ ثابت ہوگا۔

اﷲتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس حقیر خدمت کو نافع بنا کر قبول فرمائے۔ آمین! وما ذالک علی اﷲ بعزیز!

ان ارید الّاالاصلاح مااستطعت وماتوفیقی الا باﷲ

سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد ﷲ رب العالمین۔ وصلّی اﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

میر عبدالماجد سید

رکن مجلس عاملہ، اسلامک فائونڈیشن(رجسٹرڈ)

۷؍۲۱جیل روڈ، لاہور

۳؍محرم الحرام۱۴۰۹ھ مطابق ۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء، یوم: چہار شنبہ

25

پیش لفظ

حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العالمین والعاقبۃ لمتقین والصلٰوۃ والسلام علٰی خیر خلقہ خاتم الانبیاء والمرسلین سیدنا ومولانا محمد والہ واصحابہ اجمعین۔

بات محتاج بیان نہیں ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے اصول اور بنیادی عقیدوں میں سے ایسا عقیدہ ہے۔ جس کے بغیر کوئی شخص نہ مسلمان کہلاسکتا ہے اور نہ ہی دائرہ اسلام میں اس کے رہنے کا کسی بھی تاویل وتوجیہہ سے امکان ہوسکتا ہے۔ ختم نبوت کاانکار اور آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد کسی بھی نبوت ورسالت یاوحی کا عقیدہ سراسر کفرہے۔ آنحضرتﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک ہر دور میں امت مسلمہ کا اس بات پراجماع رہا اور مسئلہ ختم نبوت قرآن کریم کی صریح آیات، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے جس کا منکر بلا کسی شبہ کے کافر ہے اور اس بارہ میں آج تک کسی تاویل وتخصیص کونہ قبول کیاگیا اور نہ ہی ایسی لغو اور باطل تاویلات کو قابل اعتناء سمجھا گیا۔

امت محمدیہ میں سب سے پہلے جو اجماع ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء کے بعد مدعی نبوت واجب القتل ہے اور اس پر یقین کرنے والے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہاجاتا ہے کہ دنیائے اسلام کی یہ ایک متفقہ قرار داد اور اجماعی فیصلہ ہے کہ خاتم الانبیاء جناب محمدرسول اﷲa کے بعدکسی بھی عنوان سے کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویٰ سراسر کفر اورارتداد ہے اور ایسے صریح اور واضح کفر میں کسی قسم کی تاویل کہ ظلی یا بروزی نبوت ہے اور امت محمدیہ کے فیصلہ کے خلاف اپنی طرف سے کسی طرح کا مفہوم متعین کرنا مزید جرم اور اسلام سے بغاوت ہے۔ قانون شریعت میں اسے معاند کا درجہ اصل کا فر اور منکر سے بھی بڑھ کر ہے اور اگر وہ مدعی نبوت اپنے دعوائے نبوت کے ساتھ یہ بھی کہتا ہو کہ میری نبوت آنحضرت محمدa کی خاتمیت نبوت کے خلا ف نہیں بلکہ آپ کی ختم نبوت کے باوجود میں بھی’’العیاذ باﷲ‘‘ نبی ہوں(جیسے مرزا غلام احمد مدعی نبوت نے کہا ہے) تو اصول اسلام کی روسے یہ زندقہ ہے اور ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے اور اس کا درجہ بھی مرتد و کافر سے بڑھ کر ہے اور بلا کسی تردید کے واجب القتل ہے۔ امت محمدیہ میں سب سے پہلا مدعی نبوت اسود عنسی ہوا جو بڑا ہی شعبدہ باز اور مکّار شخص تھا اس نے یہ دیکھ کر کہ لوگ اس کی طرف مائل ہورہے ہیں اور اس کی پیروی کررہے ہیں نجران اور یمن کے کچھ قبائل نے محض اپنے ذاتی مفاد اور اغراض کے باعث جب اس کے ساتھ زیادہ جھکائو اختیار کیا تواس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہ معلوم ہونے پر آنحضرتﷺ نے مسلمانان یمن کی جانب حکم جاری فرمایا کہ اس شخص کے ساتھ قتال وجہاد کرو اور جس طرح ممکن ہو اس کا خاتمہ کردو خواہ مقابلہ کی شکل میں ہو یا خفیہ طور پر یا کسی بھی تدبیرسے۔

(تاریخ طبری ج۳ ص ۳۱۵)

اور تاریخ ابن اثیر (ج ۲ص۱۲۸) میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبلq جو یمن کے گورنر مقرر کئے گئے تھے انہوں نے تقریب نکاح میں یمن کے مسلمان کو جمع کیا اورآنحضرتa کے اس فرمان کی ان کو اطلاع دی اس کو سن کر مسلمانوں کے دل خوش ہوئے اور ان کو قلبی سکون واطمینان نصیب ہوا۔ آنحضرتﷺ کے اس پیغام اور فرمان کے موصول ہونے پر اس مدعی نبوت خبیث کو قتل کر ڈالاگیا اور ایک قاصد کو یہ بشارت سنانے کے لئے فوراً حضور اکرمa کی طرف سے روانہ کیا گیاقاصد کے پہنچنے سے پہلے نبی اکرمa کو وحی الٰہی سے ان کی خبر دی گئی اورآپ نے اسی وقت حضرات صحابہ کو خوش خبری سنائی اور فرمایااے مسلمانو !

26
’’قتل العنسی البارحۃ قتلہ رجل مبارک من اہل بیت مباریکین۔ قیل ومن؟ (قال فیروز الدیلمی)‘‘

گزشتہ شب عنسی قتل کردیاگیا اس کو ایک مبارک شخص نے قتل کیا ہے جوبڑے ہی مبارک خاندان کا ایک فرد ہے سوال کیاگیا وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایاوہ فیروز دیلمی ہے۔

(تاریخ ابن اثیرج۲ ص ۱۳۳، تاریخ ابن خلدون ج۳ ص۲۴۸)

یہ وقت آپa کی حیات مبارکہ کا بالکل آخری وقت تھا حتیٰ کہ قاصد کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہی آپa رحلت فرماچکے تھے۔

کتاب حسن الصحابہ فی اشعار صحابہ میںعبدالرحمن ثمالی نے اس بارہ میں ایک قصیدہ فرمایا اور نہایت ہی فصیح وبلیغ اشعار میں یہ فرمایا کہ رسول اﷲa نے اسود عنسی کے دعوائے نبوت پر ہم کو جہاد کا حکم فرمایا اور اس کذاب ودجال کے قتل پر اﷲ کی عنایات اور عظیم رحمتوں کی بشارت دی اورہم نے یہ سمجھ لیا کہ مدعی نبوت کاقتل ایک بہت بڑی سعادت ہے چنانچہ ہم سے چند شہسوار اس کذاب ودجال کے قتل کے لئے دوڑ پڑے تاکہ آپ کے حکم کی تعمیل اور آپ کے پیغام کی تکمیل ہو سکے۔ الحمدﷲ کہ ہم نے آپa کے حکم کی تعمیل کردی۔

(حسن الصحابہ فی اشعار الصحابہ ص۳۱۳)

اسی طرح یمامہ کے ایک شخص مسیلمہ کذاب نے ۱۰ھ میں شہر یمامہ(جو اس کا علاقہ تھا) میں اپنی نبوت کا اعلان کیااور ایک خط بھی آنحضرتﷺ کے نام اس گستاخ نے روانہ کیا جب دوشخص اس مدعی نبوت کا خط آپa کے پاس لے کر پہنچے آپa نے فرمایا میں کسی قاصد کو قتل کرنا پسند نہیں کرتا۔ اگر قاصد کا قتل کیاجانا ممکن ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا۔

ابن کثیر (تاریخ ابن اثیرج۲ ص ۱۳۸ میں) اس واقعہ کو لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو حنیفہ(جو مسیلمہ کذاب کا قبیلہ تھا) یہ سب سے بڑا فتنہ تھا۔ اس خبیث نے قاصدوں کی واپسی پر یہ مشہور کیا کہ محمدرسول اﷲa نے مجھے اپنی رسالت میں شریک کر لیا ہے۔ انہوں نے اس افواہ پر اس کی نبوت کی تصدیق کرلی اور بنو حنیفہ کے سربرآوردہ لوگوں میں سے ایک شخص بہت کچھ لالچ دے کر مدینہ منورہ بھیجا۔ جس نے وہاں جاکر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور قرآن کریم کی کچھ آیات اور سورتیں یاد کرلیں اور اپنے وطن واپس کر ان آیات کو پڑھاکرتا اور بلاکسی ربط اور تعلق کے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو بہکانا شروع کردیا۔ جس طرح قادیان کے مدعی نبوت مرزا غلام احمد نے آیات قرآنیہ سے لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔

مسیلمہ کذاب کے اس خط کے بعد جلد ہی آنحضرتﷺ کا وصال ہوگیا اور ادھر یمامہ میں اس کی عیاری اور چالاکی سے بہت سے لوگ اس کے فریب میں مبتلا ہو گئے۔ آنحضرتﷺ کے وصال کے بعد صدیق اکبرؓ نے خلافت پر متمکن ہونے کے بعد سب سے پہلا یہی کام انجام دیا کہ اس مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کے مقابلہ کے لئے لشکر روانہ کیا اور اس جہاد کو یہودونصاریٰ سے جہاد پر مقدم اور اہم سمجھا اور فوراً جہاد وقتال کے لئے لشکر روانہ کیا۔ مقابلہ کے لئے مسیلمہ نے بھی عظیم لشکرتیار کیا لیکن جب مسیلمہ کذاب کو اس کی اطلاع ملی کہ اس کی جماعت مقابلہ میں شکست کھارہی ہے اور کئی ایک سپہ سالار مارے گئے ہیں تو ایک باغ میں جا کر چھپ گیا اور دروازے بند کر لئے۔ حضرت براء بن مالک نے فرمایاکہ مجھے کسی طرح باغ کے احاطہ کے اوپر سے پھینک دوتاکہ میں اس کاکام تمام کردوں۔

حضرت وحشیq جنہوں نے جاہلیت اور کفر کے دور میںحضرت حمزہq کو غزوہ احد میں شہید کیاتھا وہ اس معرکہ میں یہی جذبہ اور تمنا لے کر آئے تھے کہ میں اس مدعی نبوت کو کسی نہ کسی طرح قتل کر کے رہوں گا تاکہ دور جاہلیت کے برے اس عمل کا کفارہ ہوجائے۔ وہی نیزہ اپنے ہاتھ میں لے کر نکلے جو غزوہ احد میں تھا اور اسی نیزہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے بطور فخر اور شکرخداوندی سے فرمایا اگر میرے ہاتھ سے جاہلیت کے زمانہ میں ایک بہترین انسان شہید ہواتھا تو آج اس ہاتھ سے دنیا کا ایک بدترین انسان میں نے مارا۔

بہر کیف دور خلافت راشدہ میں صدیق اکبرؓ کا یہ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مدعی نبوت اور اس کی امت کا فرومرتد

27

ہے اور اس سے جہاد وقتال فرض ہے۔ اس پر صحابہ کا اجماع ہوا اور اسلام کی تاریخ میں یہ بات سورج کی طرح عیاں اور روشن ہے اور اسی عقیدہ پر دنیا بھر کے مسلمان قائم ہیں حتیٰ کہ فقہاء نے یہ تک فرمایا ہے عام کافروں سے مسلمان کسی وقت ضرورت اور مصلحت ہوتو کوئی معاہدہ یا صلح کر سکتے ہیں لیکن مدعی نبوت سے نہ کوئی صلح ہو سکتی ہے اور نہ جزیہ قبول کیاجاسکتا ہے۔

امام اعظم ابو حنیفہ کے زمانہ میں ایسا واقعہ پیش آیا کہ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا جب اس پر مسلمانوں میں شور مچا تو اس نے یہ اعلان کیا کہ مجھے مہلت دی جائے کہ میں اپنی نبوت کے دلائل پیش کروں۔ حضرت امام اعظم کو اس بات کا علم ہوا تو فتویٰ جاری فرمایا کہ کسی بھی ایسے شخض سے جو نبوت کا مدعی ہو اس سے نبوت ثابت کرنے کے لئے دلیل طلب کرنا بھی شرعاً حرام ہے۔ جو شخص دلیل طلب کرے گا وہ بھی کافر ہے۔ (کیونکہ دلیل طلب کرنااس بات کا ضمناً اعتراف اورآمادگی کا اظہار ہے کہ جس بات پر دلیل کا مطالبہ کیاجارہا ہے اگر دلیل پیش کر دی گئی اور برہان و حجت سے ثابت کر دی گئی تو اس کو تسلیم کر لیا جائے گا۔سبحان اﷲ کیا دقت نظر ہے) اور اسی پر تمام ائمہ اور فقہاء امت کا اجماع ہے کہ مدعی نبوت سے دلائل کا مطالبہ کرنا بھی جائز نہیں۔

مسلمانوں کایہ عقیدہ چونکہ اس کے ایمان کی روح اور اصل بنیاد ہے۔ اس بناء پر ہندوستان میں جب انگریز کے زیرسایہ اور اس کی سرپرستی میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس پر مرزائی امت کو جمع کیا تو دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء نے پورے ہندوستان میں مرزائیت کے مقابلہ میں بھی علمی اور تبلیغی جہاد شروع کردیا اور دلائل وبراہین سے مسلمانان ہند کے سامنے روز روشن کی طرح مرزاغلام احمد اور اس کی امت کے کفر کو ثابت کر دیا۔ اگرچہ انگریز نے اپنے لگائے ہوئے پودے کی حمایت واعانت میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی۔ لیکن علماء ربانی کے جہاد کے سامنے باطل ایک لمحہ کے لئے بھی نہ ٹھہر سکا۔ صدیق اکبرؓ نے اس فتنہ کا مقابلہ جہاد سے کیا تو علماء کے اس گروہ نے دلائل وبراہین کی تلواروں سے اس فتنہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور اہل حق کے اس جہاد نے اس فتنہ کو اپنی جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔

امام المحدثین حضرت علامہ مولانا سید انور شاہ کشمیری شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرمایاکرتے تھے کہ مرزا غلام احمد کا کفر فرعون کے کفر سے بڑھ کر ہے کیونکہ فرعون نے الوہیت کا دعویٰ کیاتھا اور ظاہر ہے کہ کسی انسان کا خدائی کا دعویٰ کرنا بدیہی طور پر باطل ہے اور کسی انسان کے ایسے دعویٰ پر کسی کو کوئی التباس نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس انبیاء کرامo جنس بشر سے ہوتے ہیں تو کسی انسان کا دعوائے نبوت کرنا اور پھر یہ کہتے پھرنا کہ میری نبوت ظلی وبروزی ہے اور حضرت محمدa کی ختم نبوت کے باوجود میری نبوت ممکن ہے، لوگوں کو دھوکا میں ڈالا جاسکتاہے۔ چنانچہ بہت اس دھوکا میں مبتلا ہوئے۔

اس بناء پر کہ علماء ربانی کے اس عظیم جہاد کی برکت سے مسلمان یہ سمجھ گئے تھے کہ مرزائیت سراسرکفر ہے اور مرزائیت وقادیانیت کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ ریاست بہاول پور میں ایک شخص جب مرزائی ہوگیا تو اس کی مسلمان منکوحہ جس کا نکاح قبل از بلوغ اس کے باپ نے اس وقت کردیاتھا، جب کہ مسمی عبدالرزاق مسلمان تھا اور مرزائی مذہب نہیں اختیار کیا تھا۔ لیکن جب وہ مرزائی ہوگیا اور اس کی منکوحہ بالغ ہوگئی تو اس نے جولائی۱۹۲۶ء میں فسخ نکاح کا دعویٰ دائر کردیا۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان عورت کافر کے نکاح میں نہیںرہ سکتی۔ یہ مقدمہ۱۹۳۲ء تک مختلف مراحل طے کر کے ڈسٹرکٹ بہاول پور جج کی عدالت میں سماعت اور شرعی اصول کی روشنی میں تحقیق کے لئے پیش ہوا۔ اس کے امر کے لئے کہ عدالتی سطح پر دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کا کفر ثابت کیا جائے۔ یہ مرحلہ انتہائی نازک تھا کہ عدالت شریعت کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے کو تیار ہوتی ہے یا نہیں اور اس بات کا اندیشہ مسلمانوں کے دلوں کو بے چین کررہاتھا کہ اگر عدالت نے مدعی نبوت اور اس کی نبوت پر یقین رکھنے والے کا کفر تسلیم نہ کیا تو یہ مسلمان منکوحہ کافر کی زوجیت سے نہیں نکالی جاسکے گی۔ یہ زمانہ والیٔ ریاست

28

بہاول پور تاجدار عباسی نواب حاجی سر محمد صادق مرحوم کا تھا۔ اس زمانہ کی ایک اسلامی انجمن مؤید الاسلام بہاول پور نے ایک کمیٹی حضرت شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب کی زیر صدارت تشکیل دی۔ علامہ محمد حسین صاحب کولوتارڑاور حضرت شیخ الجامعہ کی شہادت قلم بند کرنے کے بعد فریقین کو اپنے اپنے مسلک کے مستند علماء اور محققین کو بغرض شہادت پیش کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

مرزائی مدعا علیہ کی حمایت کے لئے قادیانیوں کا پورا سرمایہ ان کی حمایت اور انگریز سرکار کی سرپرستی بڑی وزنی چیز تھی اور عالم اسباب میں توقع نہیں کی جاسکتی کہ مدعیہ مسلمان خاتون اپنے دعویٰ میں کامیاب قرار دی جاسکے۔ لیکن حضرت شیخ الجامعہ نے مدعیہ کی طرف سے شہادت اور اس کے مؤقف کی حمایت وتثبیت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء کو دعوت دی کہ وہ بہاول پور تشریف لا کر مقدمہ کی پیروی کریں اسی صورت حال پر شیخ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری، حضرت مولانا نجم الدین، حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم جیسے اکابرین علماء بہاول پور پہنچ گئے۔

حضرت انور شاہ کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہات کو اپنی طرف مرکوز کرلیا اور حضرت موصوف کی تشریف آوری سے یہ مقدمہ ہندوستان اور بیرون ہند غیر فانی شہرت حاصل کرگیا۔

ان حضرات علماء نے اپنی شہادتوں میں دلائل اور حقائق کے دریا بہادئیے۔ علم وعرفان کی شعاعوں نے اہل قانون کی نگاہیں چکاچوند کردیں۔ فریق ثانی کی شہادت پر علماء حق کے دلائل نے ایسی باطل شکن جرح کی کہ مرزائیت کی بنیادیں ہل گئیں اور مدعی نبوت کے دجل وفریب کے تمام پردے چاک ہو گئے اور مرزائیت کا کفروارتداد سورج کی طرح آشکاراہوگیا۔ مرزائیت کی حمایت کرنے والوں نے علماء کی شہادت کے جواب میں تحریری بحث بلادلیل محض اپنے اوہام اور خیالات ،جواب کے انداز میں پیش کی۔ جس کے جواب کے لئے حضرت مولانا ابوالوفاء شاہجہان پوری نے دنیا کو حیرت میں ڈالنے والا جواب الجواب عدالت میں پیش کیا جو چھ سو صفحات پر مشتمل تھا۔ اس جواب الجواب نے مرزائیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دئیے۔بالآخر جناب منشی محمداکبرخان صاحب نے اس تاریخی مقدمہ کا نہایت ہی بصیرت افروز مکمل و مدلل فیصلہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو مدعیہ کے حق میں صادر فرمایا اور عدالت کی سطح سے فیصلہ جاری ہوگیا کہ قادیانی شخص کافر ہے اور کوئی مسلمان عورت اس کی منکوحہ نہیں رہ سکتی۔ یہ فیصلہ اپنی جامعیت اور قوت استدلال کے لحاظ سے عدالتی فیصلوں میں نہایت ہی عالی اور بلند مقام کا حامل ہوا اور علم و استدلال کی دنیا میں اس کو ایک بے مثال اور مستحکم فیصلہ تسلیم کیاگیا۔ جس کی تمام مکاتب فکر نے پر جوش تائید وحمایت کی اور مسلمانوں کے کسی طبقہ اور دنیائے اسلام کے کسی بھی خطہ سے ان دلائل و شواہدپر ایک حرف بھی کسی کی زبان سے تأمل یا اشکال واعتراض کا نہیں سنا گیا اور تمام دنیائے اہل علم نے اس فیصلہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ ہندوستان کے علاوہ علماء مصر وشام اور تمام بلاد عرب، برما، ایران، افغانستان، ترکی اور بالخصوص سعودی عربیہ کے تمام مشائخ وعلماء نے نہ صرف یہ کہ اس فیصلہ اور فتویٰ کی تائید کی بلکہ ہر ایک ملک کے مشائخ نے اپنے اپنے مراکز سے مرزاغلام احمد اور اس کی جماعت قادیانی کے کفر کے فتوے جاری کئے۔

انگریز نے اپنے خفیہ طریقوں سے بہت کچھ کوشش کی کہ اس کی قلم رو میں ہونے والی ایک ریاست کی عدالت سے ایسا فیصلہ جاری نہ ہو جس سے اس کی پیدا کردہ اور پروردہ جماعت کی تکفیر ہو اور دجل وفریب کا جو جال اس نے پھیلایا تھا وہ پارہ پارہ ہو جائے۔

حق وباطل کا یہ عدالتی فیصلہ تاریخ کا ایک عظیم شاہکار تھا اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ فیصلہ عالی جناب جسٹس منشی محمد اکبر خان صاحب کی ایمانی عظمتوں کا آفتاب کی طرح روشن ثبوت تھا، جو آج سے قبل دو مرتبہ طبع ہوا اور فیصلہ کے متن سے اہل علم مستفیض ہوئے۔

اس فیصلہ کے ساتھ ان حضرات علماء کی وہ ایمان افروز جرح، بحث اور جواب الجواب شائع نہیں ہو سکے تھے جو ان حضرات نے مدعیہ کے مؤقف کے ثابت کرنے کے لئے عدالت میں پیش کئے جو اپنی جگہ علم ومعرفت اور دلائل وبراہین کا ایک عظیم ذخیرہ تھے، جن میں

29

ایمان وکفر، نفاق وزندقہ، وحی توحید ورسالت اور نبوت کی ایسی بلند بحثیں تھیں کہ اہل علم اپنی عمروں کے طویل حصے بھی خرچ کر کے ان حقائق ومعارف کو نہیں معلوم کر سکتے تھے۔

میرے ایک عظیم کرم فرما ومحسن بزرگ یعنی میر سید عبدالجمیل مہاجر مدنی نے (جو ناچیز پر ۱۹۴۴ء سے لے کر اپنی وفات تک بے انتہاء شفقت فرماتے تھے) ۱۹۷۵ء میں جب ناچیز مدینہ منورہ حاضر ہوا تو اپنی ایک نہایت ہی عظیم اور بلند پایہ آرزو کا اظہار فرمایا۔ کاش! وہ تمام بیانات وشہادتیں اور مرزائی وکیلوں کی بحث کے جواب میں جو جواب الجواب کے طور بحثیں عدالت کے ریکارڈ میں دفن ہیں، ان کو بھی کسی طرح شائع کر دیا جائے تو کیسا اچھا ہو؟ ان کی اس آرزو کی تکمیل کوئی معمولی مسئلہ نہ تھا۔ عدالت کے گوداموں میں پچاس برس قبل دفن شدہ ریکارڈ کو حاصل کرنا پھر ان کی نقل اس کے بعد اس کی کتابت وطباعت بڑے بڑے توانا اور اولوالعزم اور باہمت لوگ بھی شاید اس کی ہمت نہ کر سکتے۔ مگر اﷲ رب العزت اپنی بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔ میرے محترم بھائی اور حضرت میر سید عبدالجمیل صاحب کے صاحبزادہ سید عبدالماجد صاحب کو کہ وہ اس مہم کو سر کرنے کے لئے کمربستہ ہوئے اور دن رات کی محنت وجانفشانی سے عدالتی ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان بیانات کو جو آج سے پچاس برس قبل عدالتی طرز تحریر میں لکھے ہوئے تھے۔ ان کو صاف کرایا اور ان تمام مراحل کی تکمیل ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن کے ذریعہ کی اور الحمدﷲ! یہ عظیم علمی ذخیرہ کتابی شکل میں تین حصوں پر مشتمل پیش کر کے حقیقت یہ ہے کہ اس تاریخ دفینہ اور خزانہ کو تمام دنیا کے اہل علم اور مسلمانوں کے استفادہ کے لئے پیش کر دیا۔

بلاشبہ کہاجاسکتا ہے کہ پیش نظر کتاب جو تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے کفر وباطل کے دجل وفریب کی تاریکیاں دور کر کے اہل اسلام کے قلوب کو ایمان ویقین کے نور سے منور کرنے کے لئے بہت کافی ہے اور ان کے واسطے ایک ایسا مضبوط دلائل کاپہاڑ ہے جوہر باطل کے فتنہ کو پاش پاش کرنے کے واسطے بہت بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ میرے بھائی سید عبدالماجد سلمہ اور تمام اراکین اسلامک فائونڈیشن کوجزائے خیر عطافرمائے کہ انہوں نے امت مسلمہ پر بڑا ہی عظیم احسان فرمایا۔ جزاہم اﷲ تعالٰی خیر الجزا! پیش نظر کتاب’’ مقدمہ بہاول پور‘‘ تین حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ حضرات علماء وفریق ثانی کے بیانات جو بطور شہادت عدالت میں پیش کئے گئے۔ دوسرا حصہ فریقین کی تحریری بحث، پھر تیسرا حصہ جواب الجواب جس میں فریق ثانی کی تحریری بحث میں پیش کی ہوئی باتوں کا رد کیاگیا اور دجل وفریب کے قائم کئے قلعہ کو مسمار وپارہ پارہ کر کے رکھ دیاگیا۔

فریق مخالف کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا ذخیرہ شائع کرنا علمی تاریخ میں ایک بڑا ہی حوصلہ مندانہ کام ہے اوریہ اس لئے کیاگیا کہ دنیا دیکھ لے کہ فریق مخالف اپنی طرف سے کیا تیر چلا سکتا تھا۔ پھر جواب الجواب میں دیکھ لے کہ اس کی کس طرح دھجیاں بکھیری گئیں۔ اس ضمن میں مرزائی جماعت کی تلبیس اور دھوکہ کا ایک کثیف اور غلیظ ڈالا ہوا پردہ بھی چاک ہوگیا۔ جو انہوں نے اپنے پریس سے جو تحریف کردہ بیانات شائع کر کے دنیا کو دھوکہ میں ڈالنا چاہا کہ ہم نے مسلمان علماء پر جرح کرتے ہوئے یہ یہ کہاتھا۔ حالانکہ اصل عدالتی ریکارڈ سے ان باتوں کا کوئی وجود ہی نہیں ملا۔ جس کی وضاحت اس حصہ میں متعدد موقعوں پر کر دی گئی۔ حضرات قارئین مکروفریب کے اس گھنائونے کردار کو دیکھ کر سمجھ جائیں گے کہ کفرونفاق کے علمبرداروں نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے کیا کیا حربے اختیار کئے۔ الحمدﷲ! تینوں حصوں پر مشتمل یہ تاریخی اور علمی خزانہ ادارہ اسلامک فائونڈیشن شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم

وصلیّ اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا خاتم الانبیاء والمرسلین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

بندہ ناچیز(حضرت مولانا) محمدمالک کاندھلوی

30

مقدمہ

حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی

امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت(پاکستان)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ رب العالمین اکمل الحمد علٰی کل حال والصلٰوۃ والسلام الاتمان الاکملان علٰی سید المرسلین وخاتم النّبیین رسولہ محمد خیر الوریٰ صاحب قاب قوسین اوادنٰی وعلٰی صحبہ البررۃ التقی والتقٰی کما کلما ذکرہ الذاکرین کما غفلہ عن ذکرہ الغافلون اللہم صل علیہ وآلہ وسائرین النّبیین وآل کل وسائر الصالحین نھایۃ ما ینبغی ان یسئلہ السائلون

اما بعد! متحدہ ہندوستان میں انگریز اپنے جوروستم اور استبدادی حربوں سے جب مسلمانوں کے قلوب کو مغلوب نہ کرسکا تو اس نے ایک کمیشن قائم کیا جس نے پورے ہندوستان کا سروے کیا اور واپس جا کر برطانوی پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کے دلوںسے جذبہ جہاد مٹانے کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر اولی الامر کی حیثیت سے فرض قرار دے۔

ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی۔سی آفس میں معمولی درجہ کا کلرک تھا۔ اردو،عربی، فارسی اپنے گھر پر پڑھی تھی۔ مختاری کا امتحان دیا مگرناکام ہوگیا۔ غرضیکہ اس کی تعلیم دینی ودنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انگریزڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی۔سی آفس میں ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویوتھا۔ مسیحی مشن کا یہ فرد انگلینڈ روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کا فکر کرو، جواب دیا کہ میں نوکر ہوگیا ہوں اور پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوادی۔ بحث ومباحثہ اشتہار بازی شروع کردی یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لئے برطانوی سامراج نے مرزاقادیا نی کا کیوں انتخاب کیا؟اس کا جواب بھی خود مرزائی لٹریچر میں موجودہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان جدی، پشتی، انگریز کا نمک خوار خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا۔ مرزا قادیانی کے والد نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کوپچاس گھوڑے بمعہ سازوسامان مہیا کئے اور یوں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی۔

غرضیکہ مرزا قادیانی کے گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری رچی بسی تھی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے انگریز کی نظر انتخاب مرزا قادیانی پرپڑی اور اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔

جن حضرات کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے لیکن حرمت جہاد اور فرضیت اطاعت انگریز ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دورائیں نہیں ہوئیں کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اور غرض وغایت تھی۔ یہی

31

وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا قراردیا۔ سر سید احمد خان مرحوم کی روایت جو ان کے مشہور مجلہ تہذیب الاخلاق میں چھپ چکی ہے کہ خود سرسیداحمد خان سے انگریز وائسرائے ہند نے مرزا قادیانی کی امداد واعانت کرنے کا کہا جو بقول ان کے انہوں نے اسے نہ صرف رد کر دیا بلکہ اس منصوبہ کا بھی افشاء کر دیا جس کے نتیجہ میں انگریز وائسرائے سرسید احمد خان سے ناراض ہوگئے۔

مرزاقادیانی کے دعاوی پر نظر ڈالئے اس نے بتدریج خادم اسلام، مبلغ اسلام،مجدد،مہدی، مثیل مسیح،مسیح، ظلی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدائی تک کا دعویٰ کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا۔

قطب عالم حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی نے اپنے نورایمانی اور بصیرت وجدانی سے مرزا قادیانی کے دعویٰ سے بہت پہلے پنجاب کے معروف روحانی بزرگ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے حجاز مقدس میں ارشاد فرمایا کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے اﷲتعالیٰ اس کے خلاف آپ سے کام لیں گے۔ بیعت وخلافت سے سرفراز فرمایا اور اس فتنہ کے خلاف کام کرنے کی تلقین فرمائی۔

رد قادیانیت کے سلسلہ میں امت محمدیہ کے جن خوش نصیب و خوش بخت حضرات نے بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام کیا۔ ان میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولاناپیر مہر علی شاہ ، حضرت مولانا محمد علی مونگیری، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا نذیرحسین دہلوی، حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسری، حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی،جناب مولانا قاضی محمد سلیمان منصوری پوری، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوری، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی، پروفیسر محمد الیاس برنی، علامہ محمد اقبال، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاری، حضرت مولانا محمد دائود غزنوی، حضرت مولانا ظفر علی خان، حضرت مولانا مظہر علی اظہر، حافظ کفایت حسین اور حضرت مولانا پیر جماعت علی شاہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

علمائے لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی گستاخ و بے باک طبیعت کو اس کی ابتدائی تحریروں میں دیکھ کر اس کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے دے دیا تھا۔ ان حضرات کا یہ خدشہ صحیح ثابت ہوا اور آگے چل کر پوری امت نے علماء لدھیانہ کے فتویٰ کی تصدیق وتوثیق کی۔

غرضیکہ پوری امت کی اجتماعی جدوجہد سے مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا نذیر حسین دہلوی، مولانا ثناء اﷲ امرتسری، مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی، مولاناسید علی الحائری سمیت امت کے تمام طبقات کو اپنے سب و شتم کا نشانہ بنایا۔ کیونکہ یہی وہ حضرات تھے جنہو ںنے تحریر و تقریرومناظرہ ومباہلہ کے میدان میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو چاروں شانے چت کیا اور یوں اپنے فرض کی تکمیل کر کے پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق قرار پائے۔

مقدمہ بہاول پور

تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاول پور میں ایک شخص مسمی عبدالرزاق مرزائی ہو کر مرتد ہوگیا۔ اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر ۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کردیا۔ جو ۱۹۳۱ء تک ابتدائی مراحل طے کر کے پھر ۱۹۳۲ء میں ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں بفرض شرعی تحقیق واپس ہوا۔ آخرکار۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا۔ بہاول پور ایک اسلامی ریاست تھی۔ اس کے والی نواب جناب صادق محمد خان خامس عباسی مرحوم ایک سچے

32

مسلمان اور عاشق رسولﷺ تھے۔ خواجہ غلام فرید بہاول پور کے معروف بزرگ کے عقیدت مند تھے۔ حضرت خواجہ غلام فرید کے تمام خلفاء کو اس مقدمہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اس وقت جامعہ عباسیہ بہاول پور کے شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی مرحوم تھے جو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے ارادت مندتھے۔ لیکن اس مقدمہ کی پیروی اورامت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب دیوبند کے فرزندشیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیری پرپڑی۔ مولانا غلام محمد صاحب کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کر کے مولانا محمد انورشاہ کشمیری بہاول پور تشریف لائے۔ ان کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمہ کی طرف مبذول ہوگئی۔ بہاول پور میں علم کی موسم بہار شروع ہوگئی۔ اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے بھی ان حضرات علماء کی آہنی گرفت اور احتسابی شکنجہ سے بچنے کے لئے ہزاروں جتن کئے، مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد حسین کولوتارڑوی،مولانا مفتی محمد شفیع، مولانامرتضیٰ حسن چاندپوری، مولانا نجم الدین، مولانا ابوالوفا شاہجہان پوری اور مولانا محمد انور شاہ کشمیری کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے۔ مرزائیت بوکھلا اٹھی۔ ان دنوں مولا نا سید محمد انور شاہ کشمیری پر اﷲ رب العزت کے جلال اور حضورسرورکائناتa کے جمال کا خاص پرتو تھا۔ وہ جلال وجمال کا حسین امتزاج تھے۔ جمال میں آکر قرآن وسنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو للکارتے تو کفر کے ایوانوں پر زلزلہ طاری ہوجاتا۔ مولانا ابوالوفا شاہجہان پوری نے اس مقدمہ میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا۔

ایک دن عدالت میں مولانا محمد انورشاہ کشمیری نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا: کہ اگرچاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ مرزائی کانپ اٹھے۔ مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھاگئی اور اہل دل نے گواہی دی کہ عدالت میں انورشاہ کشمیری نہیں حضور سرورکائناتa کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔

علماء کرام کے بیانات مکمل ہوئے نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دبائو بڑھا۔ اس سلسلہ میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے راقم الحروف (حضرت خواجہ خان محمد) سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سرعمر حیات ٹوانہ مرحوم لندن گئے ہوئے تھے۔ نواب آف بہاول پور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن گزارتے تھے۔ نواب مرحوم، سر عمرحیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دبائو ہے کہ ریاست بہاول پور سے اس مقدمہ کو ختم کرادیں۔ تو اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں۔ مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مابa کا توان سے سودا نہیں کیا۔ آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے میں حق وانصاف کے سلسلہ میں اس پر دبائو نہیں ڈالنا چاہتا۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے۔

جناب محمد اکبر خان جج مرحوم کو ترغیب وتحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے کوشش کی لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں۔ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری اس فیصلہ کے لئے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاول پور سے جانے لگے تو مولانا محمد صادق مرحوم سے فرمایا کہ اگر زندہ رہاتو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہوجائوں تو میری قبر پر آکر فیصلہ سنادیاجائے۔ چنانچہ مولانا محمد صادق نے آپ کی وصیت کو پوراکیا۔

یہ مقدمہ حق وباطل کا عظیم معرکہ تھا۔ جب ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ صادر ہواتو مرزائیت کے صحیح خط وخال آشکارا ہوگئے۔ بلا شبہ پوری امت جناب محمد اکبر خان جج مرحوم کی مرہون منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل وانصاف محنت وعرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل کی طرح پیوست ہوتا گیایہ فیصلہ قادیانیت پر برق آسمانی وبلائے ناگہانی ثابت ہوا۔ مرزائیوں

33

نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سرظفراﷲ مرتد سمیت جمع ہو کر اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجہ پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہواکہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی اوررب العزت کی قدرت کے قربان جائیں۔ کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ ایک دفعہ پھر ’’جاء الحق وزھق الباطل‘‘ کی عملی تفسیر اس فیصلہ کی شکل میں امت کے سامنے آگئی اور مرزائی ’’فبھت الذی کفر‘‘ کا مصداق ہوگئے۔ اس تاریخ ساز فیصلہ نے چاردانگ عالم میں تہلکہ مچاد یا۔ مرزائیوں کی ساکھ روز بروز گرنا شروع ہوگئی۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء

ہندوستان تقسیم ہوا۔خداداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی۔ بدنصیبی سے اسلامی مملکت پاکستان کا وزیر خارجہ چوہدری سرظفراﷲخان قادیانی کو بنایاگیا۔ اس نے مرزائیت کے جنازہ کو اپنی وزارت کے کندھوں پر لاد کر اندرون وبیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز کردی۔ ان حالات میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری، میر کاروان احرار کی رگ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا۔ پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی، آپ کا پیغام لے کر ملک عزیز کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادری کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کافریضہ انہوں نے ادا کیا۔ مولانا احمد علی لاہوری، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا خواجہ قمر الدین سیالوی، مولانا پیر غلام محی الدین گولڑوی، مولانا عبدالحامد بدایونی، علامہ احمد سعید کاظمی، مولانا پیر سرسینہ شریف، مولانا سید محمد دائود غزنوی، مولانا مظہر علی اظہر، سید مظفر علی شمسی،آغاشورش کاشمیری، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا صاحبزادہ سید فیض الحسن، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن اور مولانا اخترعلی خان غرضیکہ کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک کے تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔ بلا شبہ برصغیر کی یہ عظیم ترین تحریک تھی جس میں دس ہزا رمسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایک لاکھ مسلمانوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متأثر ہوئے۔ ہرچند کہ اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنے ایمانی جذبہ سے ختم نبوت کے اس معرکہ کواس طرح سرکیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کرپوری دنیا کے سامنے آگیا۔

تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی۔ عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء وکلاء کی تیاری مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف وہراس پھیلا رکھاتھاکہ تحریک کے رہنمائوں کو لاہورمیں کوئی آدمی رہائش تک دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ جناب حکیم عبدالمجید سیفی نقشبندی مجددی، خلیفہ مجاز بانی خانقاہ سراجیہ مولانا احمد خان نے اپنی عمارت ۷؍بیڈن روڈ لاہور کو تحریک کے رہنمائوں کے لئے وقف کردیا۔ تمام ترمصلحتوں سے بالائے طاق ہو کر ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لئے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیات، مولانا عبدالرحیم اشعراور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دوسرے رہنمائوں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیا م کیا اور مکمل تیاری کی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاری اور ان کے گرامی قدر رفقاء مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولاناتاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف بہاول پوری، سائیں محمد حیات اور مرزا غلام نبی جانباز کا یہ ایک عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے الیکشنی سیاست سے کنارہ کش ہو کر

34

خالصۃً دینی و مذہبی بنیاد پر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی نئے سرے سے تشکیل وبنیاد رکھی۔ اس سے قبل مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، چودھری افضل حق اور خود حضرت امیر شریعت اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے قادیانیت کو جو چرکے لگائے وہ تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ قادیان میں کانفرنس کر کے چورکا اس کے گھر تک تعاقب کیا۔ نیز مولانا ظفر علی خان اور علامہ محمد اقبال نے تحریرو تقریر کے ذریعہ رد مرزائیت میں غیر فانی کردار ادا کیا۔ مجلس احرار اسلام کی کامیاب گرفت سے مرزائیت بوکھلا اٹھے۔ مجلس احرار اسلام پر مسجد گنج شہیدکا ملبہ گراکر اسے دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، صدر مجلس احرار نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں پورے ملک سے دواکابر اولیاء اﷲ ایک حضرت اقدس مولانا ابو السعد احمد خان، اور دوسرے حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوری نے ہماری رہنمائی کی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کا حکم فرمایا۔ حضرت اقدس ابوالسعد احمدخان بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ مجلس احرار تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے۔ اسے جاری رکھا جائے۔ اس لئے کہ اگرا سلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی۔ اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو کون باقی رہنے دے گا۔

مسجد شہید گنج کے ملبے کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لئے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا۔ جب کہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے تشکیل پاکر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوارہی ہے۔ ان حضرات نے سیاست سے علیحدگی کا محض اس لئے اعلان کیا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ مرزائیت کی تردید اور ختم نبوت کی ترویج کے سلسلہ میں ان کے کوئی سیاسی اغراض ہیں۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے مرزائیت کے خلا ف ایسا احتسابی شکنجہ تیارکیا کہ مرزائیت مناظرہ، مباہلہ، تحریر وتقریر اور عوامی جلسوں میں شکست کھا گئی۔ جگہ جگہ ختم نبوت کے دفاتر قائم ہونے لگے۔ مولانا لال حسین اختر نے برطانیہ سے آسٹریلیا تک قادیانیت کا تعاقب کیا۔ مرزائیت نے عوامی محاذ ترک کر کے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش وکاوش کی اور وہ انقلاب کے ذریعہ اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔

تحریک ختم نبوت۱۹۷۴ء

۱۹۷۰ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پر مرزائی منتخب ہوگئے۔ اقتدار کے نشہ اور ایک سیاسی جماعت سے وابستگی نے انہیں دیوانہ کردیا۔ وہ حالات کو اپنے لئے ساز گار پاکر انقلاب کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کی سکیمیں بنانے لگے۔ قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اس نشہ میں دھت ہو کر انہوں نے۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء ربوہ ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعہ سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تحریک چلی۔ مولانا سید محمد یوسف بنوری مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر تھے۔ ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے۔ ’’آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ تشکیل پائی جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوری قرارپائے۔

امت محمدیہﷺکی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی۔ چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ہوگئی۔

رحمۃ للعالمینa کی ختم نبوت کا اعجازملاحظہ ہو کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحدہوکر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، مولاناغلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالحق،

35

پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا عبدالحکیم اوران کے رفقاء نے ختم نبوت کی وکالت کی۔ متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے مرزائیوں کے خلاف قرار داد پیش کی اور پیپلز پارٹی برسر اقتدار طبقہ یعنی حکومت کی طرف سے دوسری قرار داد جناب عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی، جوان دنوں وفاقی وزیر قانون تھے۔ قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی۔ پورے ملک میں مولانا سید محمد یوسف بنوری، نوابزادہ نصراﷲ خان، آغاشورش کاشمیری، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالقادر روپڑی، مفتی زین العابدین، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا صاحبزادہ فضل رسول حیدر، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن، سید مظفرعلی شمسی، مولانا علی غضنفر کراروی، مولانا عبدالکریم صاحب بیر شریف، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹی غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الائو کو ایندھن مہیا کیا۔ اخبارات ورسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھر پور کرادار ادا کیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دبائو بڑھتا گیا۔ ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی ولاہوری گروپوں کے سربراہ ہوں نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا۔ ان کا جواب اور امت مسلمہ کا مؤقف مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانا محمد حیات، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولاناتاج محمود، مولانا سمیع الحق اور مولانا سید انور حسین نفیس رقم نے مرتب کیا۔ اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے چوہدری ظہورالٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال مولانا مفتی محمود مرحوم کے نام نکلا۔ جس وقت انہوںنے یہ محضر نامہ پڑھاقادیانیت کی حقیقت کھل کر اسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی۔ مرزائیت پر اوس پڑگئی۔ نوے دن کی شب روز مسلسل محنت وکاوش کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر ۷؍ستمبر۱۹۷۴ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ متفقہ قرارداد کو منظورکیا اور مرزائی آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء

۱۷؍فروی ۱۹۸۳ء کو مولانا محمد اسلم قریشی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مرزائی سربراہ مرزاطاہر کے حکم پر مرزائیوں نے مبینہ طور پر اغوا کیا، جس کے ردعمل میں پھر تحریک منظم ہوئی۔ شیخ الاسلام مولاناسید محمدیوسف بنوری کی رحلت کے بعد اس وقت تک مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کا بوجھ میرے (مولانا خواجہ خان محمد) ناتواں کندھوں پر ہے۔ اس لئے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی حقیر کی حصہ میں آئی۔ اﷲ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے۔ جس نے جناب محمدمصطفی احمد مجتبیٰ رسول اﷲa کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں امت محمدیہﷺکے تمام طبقات کو اتفاق واتحاد نصیب کر کے ایک لڑی میں پرودیا اوریوں ۲۶؍اپریل۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس صدر مملکت جناب جنر ل محمدضیاء الحق صاحب کے ہاتھوں جاری ہوا۔ قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہوناچاہئے تھا۔ اتنا تو نہیں ہوا۔ لیکن جتنا ہوا اتنا آج تک کبھی نہیںہواتھا۔ آج اﷲ رب العزت کا فضل وکرم ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چار دانگ عالم میں رحمۃللعالمینa کی عزت وناموس کے پھریرے کو بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ورہورہی ہے۔ دنیا کے تمام برّاعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع ترہورہا ہے۔

ایک بدیہی حقیقت

لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تمام تر کامیابیوں و کامرانیوں میں’’مقدمہ بہاول پور‘‘ کا بہت بڑاحصہ ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر مضبوط بنیاد اور قانونی واخلاقی بالادستی قادیانیت کے خلاف اسی مقدمہ نے مہیا کی ہے۔ فیصلہ مقدمہ کئی بار شائع ہوا۔ علماء کرام کے عدالتی

36

بیانات بھی متعدد بارشائع ہوئے لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ اس مقدمہ کی تمام تر کارروائی حضرات علماء کرام کی شہادتیں، بیانات، دلائل اور حقائق مرزائی وکیلوں کے جواب میں بطور جواب الجواب بیانات جو عدالت کے ریکارڈ پر تھے اور جرح وبحث کی تمام ترتفصیلات سامنے آئیںتاکہ علوم وحقائق کے بے بہا سمندر سے دنیائے اسلام فیض یاب ہوتی۔ یہ سب کچھ عدالت کے ریکارڈ میں مخفی خزانہ کی طرح پوشیدہ تھا۔ حالانکہ فیصلہ مقدمہ بہاول پور کی ابتدائی اشاعت کے وقت ہی مولانا غلام محمد مرحوم نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تمام تر کارروائی کو شائع کیا جائے گا۔ لیکن ’’کل امر مرھون بالاقاتہ‘‘ یہ کام آج تک پورے طور پر نہ ہوسکا۔ اﷲ رب العزت نے غیب سے اہتمام فرمایا اسلامی درد اور جذبہ رکھنے والے حضرات کو اﷲ رب العزت نے اس کام کی طرف متوجہ کیا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کام خود شروع نہیں کیا بلکہ قدرت الٰہی نے ان سے یہ شروع کرایا ہے۔ انہوں نے اسلامک فائونڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ساٹھ برس کی طویل مدت گزرنے کے بعد روئیداد مقدمہ حاصل کرنا اور اہل علم حضرات کے لئے مرتب کر کے پیش کرناکوئی معمولی کام نہ تھا۔ قدرت الٰہی نے دست گیری فرمائی۔ ان حضرات نے محنت کی۔ کاررواں اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ منزل قریب ہوتی رہی۔ مقدمہ کی تمام کارروائی حاصل ہوگئی۔ اس کی ترتیب کا کام شروع ہوگیا۔ اسلامک فائونڈیشن کے نمائندوں نے بارہا طویل ترین تکالیف دہ سفر برداشت کر کے ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ میں اصل مرزائی کتب سے حوالہ جات کو باربار پڑھا۔ فوٹو سٹیٹ حاصل کئے۔ شب وروز محنت وعرق ریزی کے بعد اسے کتابت کے لئے دے دیا گیا۔ تاآنکہ اس وقت دوہزار صفحات کے قریب پر مشتمل یہ مجموعہ تیار ہوکر منصہ شہود پر آنے والا ہے۔ ان شاء اﷲ العزیز! اسلامک فائونڈیشن کے حضرات کی روشن دماغی اور اپنے مشن سے اخلاص کی بدولت ملک عزیز کے نامور عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی مدظلہ العالیٰ نے ان حضرات کی سرپرستی فرمائی۔ان جیسے متبحر عالم حق کی سر پرستی ہی اس تاریخی دستاویز کی صحت وتوثیق کے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے۔

اس تاریخی دفینہ اور علم ومعرفت کے عظیم خزینہ کو مرتب کر کے پیش کرنا، بلاشبہ اسلامک فائونڈیشن کا ایک تاریخی گرانقدر کارنامہ ہے، جس پرپوری امت کو ان کو شکرگزار ہوناچاہئے کہ انہوں نے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کردیا ہے۔ قادیانیت جس طرح آج پوری دنیا میں رسوائی کا شکار ہے، اس کی بنیاد بھی اسی مقدمہ نے مہیا کی تھی اور اب قادیانیت کا اختتام بھی اسی مقدمہ کی اشاعت سے ہی ہوگا۔ (ان شاء اﷲ العزیز)

آخری گزارش

ختم نبوت سے وحدت امت کارازبستہ ہے۔ فتنہ انکار ختم نبوت ملکی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک استعماری سازش تھی۔ آج امت کے تمام طبقات ومکاتب فکر مل کر ہی باہمی اتحاد واعتماد سے اس فتنہ کو ختم کرسکتے ہیں۔ اﷲ رب العزت کافضل وکرم ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کی اس سنت کو زندہ رکھنے کی حکمت عملی کو اپنایاہواہے کہ مسئلہ ختم نبوت کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوشش و کاوش اور اجتماعی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے اور رحمۃللعالمینa کی شفاعت کا باعث ہے۔

حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی،مولانا محمد علی مونگیری، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری،حضرت اقدس مولانا ابوالسعد احمد خان بانی خانقاہ سراجیہ، حضرت مولانا عبداﷲ خانقاہ سراجیہ، مولانا تاج

37

محمودامروٹی، مولانا غلام محمددین پوری، مولانا رسول خان صاحب، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، پیرصبغۃ اﷲ شاہ شہید، پیرآف پگاڑہ شریف، حضرت حافظ پیر جماعت علی شاہ، حضرت پیر جماعت علی شاہ لاثانی تکوینی طور پر اس محاذکے انچارج تھے۔

مولانا سید محمدا نور شاہ کشمیری نے اپنے شاگردوں کی ایک جماعت مرزائیت کے تعاقب کے لئے تشکیل دی تھی جس میں حضرت مولانا بدرعالم، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع، حضرت مولانا مرتضی حسن چاندپوری اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاوری جیسے حضرات شامل تھے، جوقادیانیت سے تحریری و تقریری مقابلہ کرتے تھے اور دلائل باقی حضرات کے ذمہ تھے اورمولانا غلام غوث ہزاروی نشتر چبھویا کرتے تھے۔ اﷲ رب العزت سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین! اﷲ رب العزت کافضل واحسان ہے کہ ۱۹۷۴ء میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشید مولاناسید محمد یوسف بنوری نے قیادت وسیادت کا فریضہ سرانجام دیا۔جب کہ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے صاحبزادے مولانا محمد تقی عثمانی آپ کے ساتھ تھے۔آج مولانا محمد انورشاہ کشمیری ہی کے شاگردمولانامحمد ادریس کاندھلوی کے صاحبزداے مولانا محمد مالک کاندھلوی کی سرپرستی میں یہ عظیم معرکہ سرکیا جارہا ہے۔

کروڑ رحمتیں ہوں ان تمام مقدس حضرات پرجن کی شب روز کی اخلاص بھری محنت رنگ لائی کہ آج قادیانی پوری دنیا میں رسوا ہورہے ہیں۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیری کا ایک کشف ہے کہ ایک وقت آئے گا پوری دنیا میں مرزائیت نام کی کوئی چیز تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گی۔ اسی طرح قطب دوراں حضرت مولانا محمد عبداﷲ نے اپنے ایک خاص ارادت مند حاجی محمد عبدالرشید کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے کہ قادیانیت حرف غلط کی طرح پوری دنیا سے مٹادی جائے گی۔ وہ وقت قریب آن پہنچا ہے کہ مرزائیت کا فتنہ دنیا سے نیست ونابود ہونے والا ہے۔

اسلامیان عالم ہمت کریں، آگے بڑھیں منزل قریب ہے۔ رحمت حق انتظار کررہی ہے اور حضورﷺ کی شفاعت کا مژدہ جانفزا ملنے والاہے۔ اﷲرب العزت ہماری ان حقیر محنتوں کو اخلاص کی بدولت سے مالامال فرماکر اپنی رضا کا سبب بنائے۔ آمین ثم آمین!

وآخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہٖ النبی الکریم وعلٰی آلہ وصحبہ واتباعہٖ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔ آمین۔آمین۔ آمین۔

فقیر ابوالخلیل خان محمد نقشبندی، مجددی،سجادہ نشین

خانقاہ شریف سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ ضلع میانوالی

وامیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۵؍شوال ۱۴۰۸ھ

38

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مدعیہ عائشہ مرحومہ کا خاندان

از:حضرت مولانا سلطان محمودصاحب مدظلہ العالی شیخ الحدیث، دارالحدیث محمدیہ جلال پور پیروالہ ضلع ملتان

مرحومہ کے والد مولانا الٰہی بخش صاحب قوم ملانہ سے تعلق رکھتے تھے جو ایک معروف کاشتکار قوم ہے۔ آپ کے اصل وطن کا نام ’’کوٹلہ مغلاں‘‘ ہے۔ یہ ڈیرہ غازی خان کی سابقہ تحصیل جام پور سے تقریباً چھ میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔

آپ جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے اورشادی ہوچکی تھی جب تحصیل علم کا شوق پیدا ہوا۔ اس راہ میں آپ کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اہل خاندان کے لئے حصول معاش اور حصول علم بیک وقت کرنا آسان نہ تھا۔ آپ فصل کی کٹائی کے موقع پر سخت محنت کر کے اہل خاندان کے لئے سال بھر کی ضرورت کی گند م کا انتظام کرتے اور پھر حصول علم میں منہمک ہوجاتے۔ اسی عالم میںآپ کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو آپ کی دختربہت چھوٹی عمر کی تھیں۔ اس کی پرورش کی ذمہ داریاں بھی پوری کیں اور کسی نہ کسی طرح آخری عرصہ تعلیم دیوبند میں گزار کر وہاں سے فراغت بھی حاصل کی۔ اس کے بعد سابقہ ریاست بہاول پور کے ایک گائوں مہند تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور کی ایک قدیم اسلامی درسگاہ میں استاذ کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور زندگی کے آخری لمحوں تک تشنگان علوم اسلامیہ کی پیاس بجھاتے رہے۔ اس دوران ایک خلق کثیرنے آپ سے علم حاصل کیا۔ ان میں چند بطور مثال یہ ہیں:

مولانا الشیخ ابو محمدعبدالحق المحدث نزیل مکہ۔آپ تمام علوم اسلامیہ خصوصاً علم حدیث کے بہت بڑے ماہرتھے، یہاں سے ہجرت فرماکر مکہ مکرمہ چلے گئے اور آخری دم تک دار حضرت ارقم میں قائم شدہ دارالحدیث کے شیخ الحدیث رہے۔ یہاں دنیا بھر کے تشنگان علوم نے ان سے کسب علم کیا۔ ان کے شاگردوں میں عالم اسلام کی بڑی بڑی شخصیتیں شامل ہیں۔ آپ ایک بہت بڑے مصنف بھی تھے۔ ان کی عظیم تصانیف اب زیور طبع سے آراستہ ہورہی ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی بخاری کی تین شروح میں سے شرح اوسط چھپ چکی ہے اور اہل علم سے خراج عقیدت وصول کررہی ہے۔

حضرت مولاناالٰہی بخش کے دوسرے شاگردوں میں مولانا الشیخ خیر محمد صاحب نزیل مکہ مکرمہ اور مولانا حبیب اﷲ بھی شامل ہیں۔ مولانا حبیب اﷲ بہاول پور کے علاقے کی ایک بہت معروف درس گاہ مدرسہ عربیہ انوریہ واقع گمانی کے بانی تھے۔ ان حضرات کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں اہل علم نے مولانا الٰہی بخش سے کسب علم کیا۔

مقدمہ اور اس کے اسباب

میری اہلیہ مرحومہ، مولانا الٰہی بخش صاحب کی پہلی بیوی سے تھیں جو ان کے قبیلے بلکہ رشتہ داروں میںسے تھیں۔ ان کی وفات کے بعد مولانا نے دوسری شادی لودھراں کے ایک علمی خانوادے میں کی اور اس سلسلہ میں اپنی چھوٹی سی بچی کا نکاح اپنی دوسری بیوی کے بھائی عبدالرزاق سے کر دیا جو اس وقت بحیثیت طالب علم آپ کے ہاں(بستی مہندمیں) پڑھا کرتے تھے۔

کچھ عرصہ کے بعد عبدالرزاق خفیہ طور پر مرزائی ہوگیا اور شادی کے بارے میں اصرار کرنے لگا۔ مولانا نے لڑکی کے عدم بلوغ کی وجہ سے فوری شادی سے معذرت کی اور یقین دلایا کہ جونہی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچے گی وہ فوراً شادی کر دیں گے۔ لیکن عبدالرزاق شادی کے لئے بضد رہا۔ اس کا اصرار آہستہ آہستہ اتنی شدت اختیار کرگیا کہ لڑائی جھگڑے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا۔ مولانا اس کے غیر معقول مؤقف پر

39

پریشان تھے۔ انہیں حیرت ہوتی تھی کہ یہ آدمی قبل از وقت شادی پر اصرار کیوں کررہاہے؟ اﷲ کا کرنا یہ ہوا کہ اسی اثناء اس کی تبدیلی مذہب کے راز سے پردہ اٹھ گیا۔ مولانا کو جب واضح طور پر پتا چل گیا تو مولانا نے شادی سے یکسر انکارکردیا اور کہا کہ توکافر ہوچکا ہے۔ اس لئے ایک مسلمان لڑکی کا تجھ سے نکاح باقی نہیں رہا۔ یہ وہ دورتھا جب میں (مولانا سلطان محمود) تقریباً سترہ برس کی عمر میں حضرت مولانا حبیب اﷲ صاحب کے مدرسہ انوریہ میں علم صرف پڑھ رہا تھا۔ یہ ۱۳۴۴ھ کے آخری ماہ تھے۔

دوسال کے بعد جب لڑکی جوان ہوگئی تو مولانا الٰہی بخش صاحب نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کردیا۔ یہ دعویٰ کئی مراحل پر خارج ہوا اور اپیلیں ہوئیں۔ بالآخر بڑی تگ ودو کے بعد اس مقدمہ کی اپیل نواب سر صادق خان صاحب کے پاس، جوجوڈیشنل کمیٹی کے صدرتھے دائر کی گئی۔ کمیٹی کے حکم سے اس مقدمے کی از سر نو سماعت ہوئی اور الحمدﷲ! تاریخ میں پہلی بار عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ صادر ہوگیا کہ مرزائی کافر ہیں اور مرزائی سے مسلمان لڑکی کا نکاح باقی نہیں رہتا۔

میرے ساتھ شادی

جب اس مقدمے کا فیصلہ مرحومہ کے حق میں ہوگیا تو مولانا نے بلاتاخیر اپنی دختر کی شادی کرنا چاہی۔ حضرت مولانا عبدالحق نے ابھی مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت نہ کی تھی اور وہ مولانا الٰہی بخش صاحب کے عظیم اور عزیز شاگردوں میں تھے۔ آپ نے انہی سے مشورہ طلب کیا۔ مولانا عبدالحق نے اپنے استاد کو میرے (مولانا سلطان محمود) بارے میں مشوردہ دیا اور مولانا الٰہی بخش نے یہ مشورہ قبول کرلیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مولانا الٰہی بخش صاحب کو اپنے شاگرد پر بہت اعتماد تھا اور مولانا عبدلحق مجھے اپنے بیٹوں میں سے ایک بیٹا سمجھتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مولانا الٰہی بخش سے مجھے براہ راست بھی تلمذ حاصل تھا۔ میں نے مولانا عبدالحق صاحب کے فرمان پر علم نحو کی مشہور کتاب شرح جامی اور حدیث کی مشہور کی کتاب ترمذی شریف کا نصف مولانا الٰہی بخش سے پڑھاتھا۔ وہ مجھ سے اچھی طرح متعارف تھے اور مجھ پر حد درجہ شفقت فرماتے تھے اور اصل وجہ یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کا فیصلہ یہی تھا۔ وﷲ الحمد!

میری شادی میں اﷲتعالیٰ کی قدرت کاایک کرشمہ

مولانا الٰہی بخش صاحب مرحوم کے خاندان کے ساتھ میرے کسی قسم کے خاندانی تعلقات نہیں تھے۔ نہ ہمسائیگی کے، نہ رشتہ داری کے اور نہ واقفیت کے، نہ پیشہ ورانہ۔ چونکہ میراخاندان کھیتی باڑی کا کام کرتا تھا اور مولانا کی رہائش گاہ سے بہت دورتھے۔ ان سے کوئی واقفیت نہ تھی اور مجھے اس قابل ہونے کے لئے کہ میں ان کی دامادی کا شرف حاصل کرسکوں سالہاسال چاہئے تھے اور اتنے سال مولانا مرحوم اپنی دخترکو اپنے گھر میں نہ بٹھا سکتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے اس مرحومہ کا نکاح اس کے بچپن ہی میں ایک جگہ کرادیا اورپھر اس ناکح کو منزل پر پہنچا یا کہ وہ شادی کے قابل نہ رہا۔ اس کا نکاح اس وقت تک سدّ رہ بنارہا جب تک کہ میں اس قابل نہ ہوا کہ مولانا مرحوم کی دامادی کا شرف حاصل کرسکوں اور اس وقت تک یہ رکاوٹ اﷲتعالیٰ نے باقی رکھی۔ جب میں اس قابل ہواتو اس وقت وہ رکاوٹ اس مقدمہ مرزائیت کے ذریعے دور ہوگئی مگر میری شادی کے لئے پھر بھی ایک رکاوٹ موجود تھی وہ یہ کہ ضلع ملتان کی عدالت سے عبدالرزاق اپنے حق میں فیصلہ یکطرفہ کراچکا تھا اور میری رہائش جلال پور پیروالہ میںتھی جو ضلع ملتان کا ایک حصہ تھا۔ اب اس حالت میں شادی کر کے آتا تو وہ میرے خلاف کیس کرسکتا تھا۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے اسے اس وقت تو زندہ رکھا، جب تک میں شادی کے قابل نہ ہوسکا۔ جب میں شادی کے قابل ہوا، تو دوسری رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اﷲتعالیٰ نے اس پر موت نازل کردی۔ جب مجھے مولاناالٰہی بخش کی دامادی کا شرف

40

حاصل ہوا اس وقت میری طالب علمی سے رسمی فراغت پر دوسال ہوچکے تھے۔ ان میں سے ایک سال میں نے بحیثیت استاذ اپنی پہلی مادر علمی یعنی مدرسہ انوریہ گمانی میں گزاراتھا اور دوسرے سال کے آغاز سے جلال پور پیروالہ میں آکر دارالحدیث محمدیہ میں تدریس کی ذمہ داریاں سنبھال چکا تھا۔ جہاں آج تک اپنی بساط بھر خدمت علوم اسلامیہ میں مصروف ہوں۔

شادی کی شرط اور مرحومہ کی وفاداری

میری شادی جمادی الثانیہ۱۳۵۴ھ بمطابق ستمبر ۱۹۳۵ء میں ہوئی۔ شادی کے موقع پر مولانا الٰہی بخش نے صرف ایک شرط لگائی تھی۔ وہ یہ تھی کہ ان کی دختر ان کے ہاں بستی مہند میں ہی رہائش پذیر رہیں گی۔ میں نے ان کی یہ شرط قبول کرلی اور یہ طریق اپنالیا کہ دویاتین ہفتے جلال پور گزارتا اور پھر چند دنوں کے لئے مہند آجاتا۔ تین چارماہ تک یہ دستور قائم رہا۔ اس کے بعد مرحومہ نے خودخواہش ظاہر کی کہ وہ جلال پور پیروالہ میرے ساتھ قیام کریں گی۔ میں نے ان سے کہا یہی میری عین خواہش ہے۔ بشرط یہ کہ آپ کے والد اس کی اجازت عطاء کردیں۔ میں ان کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھانا ناجائز سمجھتا ہوں۔ انہوں نے خود ہی اپنے والد کو راضی کیا اور ہمیشہ کے لئے جلال پور پیروالہ کو اپنا گھر بنالیا۔

ایک غیر رسمی لیکن بڑا مدرسہ

جلال پور میں پورے مدرسہ کا تعلیمی کام میرے ذمہ تھا۔ علم صرف، بلکہ فارسی سے لے کر فقہ وحدیث حتیٰ کہ صحیح بخاری تک کی تدریس تنہاء مجھ ہی کو سر انجام دینی ہوتی تھی اور میرے اوقات کا بیشتر حصہ اسی ذمہ دای کو نبھانے میں صرف ہوتاتھا۔ مرحومہ نے جلال پور آکرغیر رسمی طور پر ایک انتہائی مؤثر مدرسہ کی بنیاد ڈال دی۔ انہوں نے بھی گھر میں چھوٹی بچیوں سے لے کر نوجوان لڑکیوں تک کی تعلیم کے کام کا آغاز کردیا۔ ان کے مدرسہ کا نصاب ناظرہ قرآن مجید، ترجمہ قرآن اور مولانا رحیم بخش کے سلسلہ اسلامیات کی پہلی دس جلدوں پر مشتمل تھا۔

طالبات میں فرقہ یا مسلک کی قید نہ تھی۔ اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی حتیٰ کہ شیعہ خاندانوں کی بچیاں قرآن مجید اور ترجمہ ان کے پاس پڑھتی تھیں۔ پھر طالبات کی اکثریت نے سلسلہ اسلامیات کی کتابیں بھی ان سے پڑھیں۔ یہ مرحومہ کی نیک نفسی، فطری شفقت، رحمدلی اور حسن اخلاق کی کشش تھی جس کی وجہ سے ہر مکتب فکر کے خاندان اپنی بچیاں پڑھنے کے لئے ان کے پاس بھیجتے تھے۔ یہ مدرسہ صرف حسبۃﷲ جاری تھا۔ وہ اپنی گھریلوذمہ داری بھی پوری کرتیں لیکن زیادہ اوقات صرف اﷲ کی خوشنودی کے لئے اس کی کتاب اور اس کے دین کی تعلیم میں دیتیں۔ محتاط اس قدر تھیں کہ پوری زندگی کسی سے کوئی مطالبہ نہ کیا۔ کسی سے کوئی معاوضہ قبول نہ کیا اور ہر طالبہ پر اپنی شفقت ومحبت نچھاور کرتیں رہیں۔ لوگ ان کے اس انداز پرحیرت کا اظہار کرتے تھے۔ تعلیم دینے میں ان کی بے غرضی اور حد درجہ شفقت جو طالبات کو ان کی شخصیت کا اسیر کرلیتی تھیں۔ سب کے لئے حیرت ناک بات تھی۔ جلال پور میں حیات کے آخری دنوں تک انہوں نے اسی انداز میں زندگی گزاری۔

اولاد

ہمارا پہلا بچہ ۱۳؍شعبان ۱۳۵۹ھ میں پیدا ہوا۔ اس کانام ہم نے محمد یحییٰ رکھا۔ وہ ان کی اک جذباتی پیش گوئی کے مطابق میرے سامنے ایک بڑے کنبے کا مالک بن چکا ہے۔ اﷲتعالیٰ اس کو مزید برکتیں عطا فرمائے۔ہمارا دوسرا بچہ عبدالماجد شوال ۱۳۶۱ھ کے آخر میں پیدا ہوا۔

41

وفات اور پیش گوئی

عبدالماجدکی پیدائش سے تقریباً ایک ماہ بعد مرحومہ بیمار ہوئیں۔ ۹؍ذی الحجہ ۱۳۶۱ھ میں ہمیں سوگوار چھوڑ کر اﷲتعالیٰ کے ہاں پہنچ گئیں۔ میں نے چند سطور پہلے ایک جذباتی پیش گوئی کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ تھی کہ وہ بیمار تھیں اور ہم ان کی زندگی سے مایوس ہوچکے تھے تومیری ہمشیرہ نے بڑے بچے عزیزی محمد یحییٰ کو جس کی عمر اس وقت کم وبیش اڑھائی برس تھی ان کے قریب کیا اور کہا یہ آپ کا بیٹا رورہا ہے اسے تسلی دیں تو ہاتھ جھٹک دیا اور کہا میرا نہیں اپنے ابّاجی کا ہے انہیں کے پاس رہے گا۔ پھر چھوٹے عبدالماجد کو نظر بھر کے دیکھا اور کہا کہ یہ میرا ہے میرے پاس رہے گا۔ ان کی بات حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ عبدالماجد تقریباً تین ماہ بعد ہمیشہ ساتھ رہنے کے لئے اپنی والدہ کے پاس چلا گیا۔

سات سالہ رفاقت

میرے لئے مرحومہ کی سات سالہ رفاقت کا زمانہ صحیح معنوں میں سعادت اور برکت کا زمانہ تھا۔ وہ بہترین رفیق زندگی تھیں۔ میں جذباتیت سے الگ ہو کر محض حقیقت بیان کرتا ہوں کہ ان سات سالوں میں انہیں میں نے کسی وقت غصے کی حالت میں نہیں دیکھاتھا۔ ہمسائیوں کے ساتھ ان کے تعلقات مثالی تھے۔ کبھی کسی ہمسایہ عورت سے ان کا الجھائو نہیں ہوا۔ ان کے پاس بچیوں کی ایک بڑی تعداد پڑھتی تھی۔ ان میں سے جو زندہ ہیں وہ آج بھی انہیں یاد کرتی ہیں توان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں اور بے ساختہ ان کے منہ سے دعائیں نکلتی ہیں۔

میں نے نماز وروزے اور دیگر فرائض کے سلسلے میں انہیں حد درجہ مستعد پایا۔ ان کا اﷲ سے تعلق بہت مضبوط تھا۔ ان کے منہ سے کسی کے بارے میں کبھی غیبت کا کوئی لفظ نہ نکلا۔ پردے کی اتنی شدت سے پابند تھیں کہ انہیں منہ کھلے ہوئے یا تو میں نے دیکھا یا ان کے والد مرحوم نے۔ ان کے والد کے سواان کا کوئی محرم نہ تھا۔ تمام غیر محرموں سے خواہ وہ ان کے رشتہ دارہوں یا میرے، وہ مکمل پردہ کرتی تھیں۔ اﷲتعالیٰ اعلیٰ علّیین میں جگہ دے۔ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور تمام نیک اعمال کو قبول فرمائے۔آمین!

۱۹۸۸ء (مولانا سلطان محمود)

42

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

میری اماں جی

(پروفیسر محمد یحییٰ ایم۔اے)

میں اپنے گھر کے چھوٹے سے صحن میں کھیل رہاہوں کہ والد گرامی اور پھوپھی مجھے بلاتے ہیں اندر چلو، اپنی اماں جی سے کہو وہ دوائی پی لیں، دوائی پئیں گی تو ٹھیک ہوں گی۔

اندر کمرے کے ایک کونے میں بسترکے پاس کچھ عورتیں بھی ہیں میں جا کر آواز دیتاہوں امّاں جی ! امّاں جی آپ دوائی پی لیں تاکہ آپ ٹھیک ہوجائیں۔ ’’ میں یہ بات شاید کئی دفعہ دہراتاہوں وہاں بیٹھی ہوئی خواتین میں سے ایک کہتی ہیں۔ اٹھئے! محمد یحییٰ آپ سے کہہ رہا ہے آپ دوائی پی لیں۔‘‘ اور شاید وہ دوائی پی لیتی ہیں۔

میری عمر بمشکل ڈھائی سال تھی۔ میری ذات کوئی اہمیت رکھتی ہے ، میری بات کا ایک وز ن ہے، میرے شعور میں یہ احساس امّاںجی کے حوالے سے بیدار ہوا۔

یہ منظر شاید ایک سے زیادہ دفعہ دہرایا گیا۔ اس سے امّاںجی کی تکلیف اور بیماری کا احساس بھی جاگا۔ ان کے بارے میں ایک عجیب سی کیفیت دل میں پیدا ہوئی۔ جس میں اپنائیت، محبت، شفقت اور ایک بے نام سا حزن موجود تھا۔ مجھے یاد ہے سالوں بعد تک میرے بچپن میں جب ان کا ذکر آتا تھا تو ایسی ہی کیفیت دل میں جاگتی تھی اور ان کا ذکر بہت آتاتھا۔ گھر میں میری پھوپھی رہاکرتی تھیں۔ وہی میری پرورش میں ابّاجی کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ اگرچہ میرے کام زیادہ تر ابّاجی اپنے ہاتھ سے خود ہی کیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ میری وابستگی اتنی شدید تھی کہ نہانے، کپڑے بدلنے جیسے کام بھی انہیں خود ہی کرنے پڑتے تھے۔ میں کسی اور کے ہاتھوں ان کاموں کے لئے راضی نہیں ہوتا تھا۔ کھا نا بھی صرف انہی کے ساتھ کھاتاتھا۔وہ سفر میں جاتے تو مجھے ساتھ لے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں رات کو نیند سے جاگا، شایدپیاس لگی تھی، اور دیکھا کہ ابّاجی اپنے بستر پر موجود نہیں تھے۔ میں نے رونا شروع کردیا۔ سارے گھر کو سر پر اٹھا لیا۔ پھوپھی نے بہت بہلایا، ہزار کوشش کی، لیکن میری ایک ہی رٹ تھی۔ ’’ابّاجی کہاں ہیں؟ مجھے ابّاجی کے پاس لے چلو۔‘‘ وہ اس وقت تقریباً ڈیڑھ میل دور ایک قریبی گائوں میں تشریف لے گئے تھے۔ ہمارے ہمسائے میاں اﷲ بخش نے جنہیں میں چچا کہاکرتا تھا مجھے اٹھایا اور رات کے اندھیرے میں لے کر اس گائوں کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچے تو والد گرامی واپس ہورہے تھے۔ ساتھ روشنی کے لئے پیڑومیکس لیمپ تھے جنہیں میرے بچپن میں مقامی طور پر گیس کہاجاتاتھا۔ میں بھی ساتھ واپس ہوا۔ چچا اﷲ بخش نے واپسی کے راستے میں مجھے تھوڑا سا چڑیایابھی۔ کوئی بچہ ایسی ضد نہیں کرتا۔ صرف تم اتنے ضدی ہو۔ رزاق بخش ان کا اکلوتا بیٹا آرام سے اپنے گھر میں ہے۔ اس نے میرے ساتھ آنے کی کوئی ضدنہیں کی۔

ان کی بات درست تھی لیکن مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔اب سوچتا ہوں تو سمجھ آتاہے کہ والد گرامی سے یہ شدید وابستگی اور ہروقت ان کے ساتھ رہنے کی ضد اسی لئے تھی کہ میں ڈھائی سال کی عمر میں اپنی عزیز ترین ہستی کو گم کر چکا تھا۔ اس وقت شاید میں سورہاتھا نہیں میں غالباً اپنے کھیل میں گم تھا۔ میرے پاس میری پھوپھی آئیں مجھ سے کہا۔یحییٰ اٹھو، چچا اﷲ بخش کے ساتھ باہر جائو وہ تمہیں کیلے لے کر دیں گے۔ شاید میں چلا گیا۔ پھر اتنا یاد ہے میں اپنی امّاںجی کو ڈھونڈتاتھا اور مجھے یہ جواب ملتا تھا کہ وہ حج پر گئی ہوئی ہیں۔ کچھ عرصے

43

میں واپس آجائیںگی۔ وہ کبھی واپس نہ آئیں۔ ان کا حج مستقل ہوگیا۔ لیکن اب میں اپنی عزیز ترین ہستیوں کے بارے میں کوئی دھوکا کھانا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت عزیز ترین ہستی صرف ایک تھی۔ ’’ابّاجی،، ہر وقت ابّاجی ابّاجی‘‘ مجھے پھوپھی اور دوسرے اکثر چڑاتے تھے۔ میں کبھی پراوہ نہیں کرتا تھا۔ یہ لفظ اس طرح میری زبان پر جاری رہتا۔

میں نے اسی نوعمری میں اپنی پھوپھی کو اکثر اداس دیکھا تھا۔ انہیں اس طرح کے اور بھی صدمے دیکھنے پڑے تھے۔ وہ چھوٹی سی تھیں کہ میرے دادا، دادی فوت ہوگئے تھے۔ میرے چچا فوت ہوگئے تھے لیکن یہ آبائی وطن بیٹ احمد نزد گمانی تحصیل احمد پور شرقیہ کی بات تھی۔جہاں پھوپھی پہلے رہا کرتی تھیں۔ دادا، دادی کی وفات کے بعد ابّاجی جلال پور آگئے تھے۔ پھوپھی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ یہاں ان کی سہیلیاں ان کے پچھلے صدموں سے زیادہ واقف نہ تھیں۔ واقف تو ہوں گی لیکن ان میں شریک نہ تھیں۔ امّاںجی کی وفات کے صدمے میں وہ خود بھی شریک تھیں۔ یہ سب ان کی شاگرد تھیں۔ ان کے بچپن کا سہانا زمانہ امّاںجی کے ساتھ گذراتھا۔ دن کا اکثر وقت وہ ہمارے گھر پر ہوتیں۔ بڑی رونق ہوتی تھی۔

تذکرہ اکثرماں جی کا ہوتا تھا۔ گاہے بگاہے بڑی عمر کی خواتین بھی آتیں۔ آتے ہی مجھے بلا کر گلے لگاتیں میں ان سے جھینپتا بھی بہت تھا کیونکہ ان سب سے زیادہ مانوس نہ تھا۔ وہ میرا نام بھی پورا لیتیں محمد یحییٰ اور اکثر نام لینے کے بعد خاموش ہوجاتیں۔ گھروالے صرف یحییٰ کہتے۔ یہ پورانام مجھے عجیب سالگتا اور یہ ساری خواتین ٹھنڈی آہیں بھر بھر کر امّاںجی کا تذکرہ شروع کردیتیں۔

ان خواتین کی اکثریت بھی امّاںجی کی شاگردتھی میری پیدائش سے پہلے ان سے پڑھتی تھیں۔ یہ راز اب تک نہ کھلا کہ وہ میرا پورا نام کیوں لیتی ہیں۔ وہ اس لئے کہ وہ اپنی مرحوم استانی کے احترام میں ایسا کرتی تھیں یااس لئے کہ انہوں نے امّاںجی سے ہمیشہ میرا پورا نام ہی سنا تھا؟ امّاںجی کے بعد گھر میں پھوپھی تھیںوہ صرف یحییٰ کہا کرتی تھیں البتہ میری خالہ جوامّاںجی کی وفات سے پہلے ہمارے ہاں رہی تھیں اور بعد میں زیادہ آناجانا نہ تھا کیونکہ ان کا گھر دورتھا، ہمیشہ اہتمام سے پورا نام محمد ’’یحییٰ‘‘ لیتیں۔

خالہ سے کبھی کبھار ملنا ہوتا تھا۔ بڑی پھوپھی بھی جو اپنے آبائی گھر میں ہی مقیم تھیں کبھی کبھی آتیں۔ لیکن جب بھی ملاقات ہوتی باتوں کا سب سے اہم موضوع امّاںجی ہوتیں۔ ان کا پیار، ان کی شفقت، ان کی مہمان نوازی ان کے مزاج کی سادگی، ان کی نیکی، غرض کتنے پہلو تھے جن کی یاد تازہ کی جاتی۔

یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا، فسادات ہوئے، ساری آبادی الٹ پلٹ گئی اور گفتگو کے لئے ایک کے بعد دوسرا اہم موضوع سامنے آتا گیا۔ پہلے موضوع کی پہلی والی اہمیت باقی نہ رہی۔ پھوپھی کی شادی ہوگئی اور وہ اپنے آبائی وطن چلی گئیں۔میں اسکول جانے لگا گھر کے ماحول میں بہت تبدیلیاں آگئیں لیکن ایسا اب بھی ہوتا کہ کوئی خاتون گھرآتی مجھے بلایا جاتا، میرا پورا نام لے کر بلاتیں، محبت اورپیار کا اظہار کرتیں یہ بھی کہا جاتا، بی بی ہوتیں تو تمہیں دیکھ کر کتنی خوش ہوتیں اوراس کے بعد انگلیوں سے آنکھیں پونچھتی ہوئی واپس ہوجاتیں۔ یہ سلسلہ میرے کالج کے زمانے تک چلتارہا۔

دماغ پر زوردینے کے باجود بھی پیاری سی صورت ذہن میں پوری طرح نمایاں نہ ہوتی۔ لیکن ان کاوجود یقینی تھا۔ زندگی میں ان کی تربیت نے بہت سی شخصیتوں کو نکھارا سنواراتھا۔ موت کے بعد میرے تشخص میں ان کا کردار موجودرہا۔ دل کا گداز، خوبصورت اور سچے جذبے اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ یہ سب ان نمونوں کے مطابق پروان چڑھتے رہے۔ جن کا تذکرہ امّاںجی کے حوالے سے ہمارے گھر میں ہروقت ہوتا رہتا تھااور مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ خود صبر کرنا، اپنی تکالیف کومعمولی سمجھنا اور دوسروں کے کام آنا ان کی بنیادی

44

خصوصیات تھیں۔ انہی کی وجہ سے وہ ان سب لوگوں کو محبوب تھیں، جن سے ان کا واسطہ تھا۔

اب خالہ سے مل کر امّاںجی کی باتیں کردیں تو انہوں نے بتایا کہ ادّی کو اپنے والد کا بہت خیال رہتا تھا۔ ان پر جان دیتی تھیں۔ اکثرکہا کرتیں میرے لئے ابّا نے بہت مصیبتیں جھیلی ہیں ، اتنا ہر باپ نہیں کرسکتا، خالہ کے بقول وہ مصیبتیں تھیں بھی بہت، ملتان میں جب مقدمے کا یک طرفہ فیصلہ ہمارے خلاف ہوگیا تو فرنگی سرکاری کارندوں نے برآمدگی کے لئے چھاپے مارے۔ ہم سب لوگ کبھی ایک گھر میں چھپتے تھے، کبھی دوسرے میں۔ پھر بہاول پور میں پہلے دو فیصلے ہمارے خلاف گئے تھے۔ اس دوران میں بھی یہی حال تھا۔ بستی مہند میں کسی گھر میں کوئی ایسا کمرہ نہیں تھا ، جس میں مختلف اوقات میں ہم لوگ نہ چھپے ہوں ادّی تو خوف سے کانپ رہی ہوتیں اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے۔ اس حالت میں اﷲ میاں سے دعائیں کرتی جاتیں۔ ہمارے ابّا تاریخیں بگھتنے کے لئے اکثر پیدل میلوں سفر کرتے ہر طرح کی لالچ دی گئی، لاکھوں روپے انہیں مرزائی جماعت نے پیش کئے، ادّی کو ڈرانے دھمکانے کی بھی بہت کوشش کی لیکن باپ بیٹی پر کبھی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ جب مقدمے کا فیصلہ ہوا اور اطمینان کا دور آیا تو ادّی بے حد خوش تھی اور اپنے ابّا پر فدا تھی۔ شادی ہوگئی۔ جلال پور سے جب بھی آتی خاص طور پر ابّا کے لئے سفید کرتے اور نیلی تہبند پر مشتمل جوڑے ساتھ لے کر آتیں۔ ابّا کو یہی لباس پسندتھا۔ وہ بڑے اہتمام سے سفید کرتوں پر کڑھائی بھی کراکے لایاکرتیں۔

خالہ نے اپنی بعض خانگی مشکلات کے دوران ایک لمبا عرصہ ہمارے ہاں جلال پور میں قیام بھی کیا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میری امّی اور ابّاجی میں تعلق کیساتھا، تو وہ کہنے لگیں تمہارے ابّا جی جس وقت اسباق سے فارغ ہو کر گھر آتے تھے تو پھر ادّی ہمیں بھول جایاکرتی تھیں۔ میں نے پوچھا مجھ سے کتنا پیار تھا؟ کہنے لگیں ، تم شادی سے تقریباً پانچ سال بعد پیدا ہوئے۔ میرا بیٹا عبدالستار تم سے تقریباً دوسال بڑا تھا۔ ادّی جس طرح تم پر جان چھڑکتی تھیں میں بھی اس پر حیران ہوتی تھی۔ بچے کسی نہ کسی وجہ سے روتے ہیں لیکن تم جب بھی روتے تھے ادّی بس یہی سمجھتی تھیں کہ تمہیں کہیں نہ کہیں درد ہورہاہے، تمہارارونا عام رونا ہوتا تھا، لیکن ادّی کا دل بری طرح تڑپتاجاتا تھا۔ انہوں نے مجھے ماں بن کر پالا تھا۔ لیکن جب تمہارے پالنے کا وقت آیا تو وہ کوئی اور چیز بن گئی تھیں۔

میرا چھوٹا بھائی عبدالماجد جب پید ہواتو امّاںجی کی حیات مستعار میں صرف ڈیڑھ ماہ باقی تھا۔ اسی دوران ہی وہ بیمار ہو گئیں۔ عبدالماجد کو تو ٹھیک طرح ماںکا دودھ بھی نصیب نہ ہوسکا۔ ماں کی مامتا میں اس کا حصہ بہت زیادہ تھا ، مجھے انہوں نے میرے ابّاجی کے سپردکردیا اور اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔

انہوں نے سب کے حقوق ادا کئے۔ چھوٹی بہن کو ماں بن کر پالا اور ساری عمر اس پر شفقتیں نچھاور کیں، چھوٹی نند کوپالا پوسا اور ماں کی طرح اس کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا۔ خاوند سے محبت کی اوران کی خدمت اور دلجوئی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ محلے کے تمام گھرانوں کی خدمت کی، مصیبت میں ان کے کام آتیں اور ان کی نوجوان بچیوں کو پڑھایا اوران کی تربیت کی اپنے بیٹے کو اپنی محبت و شفقت کے بحرذخار میں غرق کردیا اور چھوٹے بیٹے پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ یہ سب حقوق انہوں نے اچھی طرح ادا کئے اورکسی سے کوئی بدلہ نہ چاہا۔ بیٹاجوان ہوتا تو شاید ان کی خدمت کرتا، انہوں نے خدمت تو کجا یہ بھی گوارا نہ کیا کہ ذرا ہوشیار ہو کر ان کا دل ہی بہلادے۔ خاوند کی گواہی یہ ہے کہ سات سالہ رفاقت میں کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہ کیا، کبھی شکایت کا موقع نہ دیا اور وہ سارے حقوق بھی معاف کردئیے۔ جو شادی کے وقت فریقین کی رضا سے طے ہوئے تھے۔ بہن کو اپنے گھر کا کیا اور خود شادی کے بعد دور چلی آئیں، اس سے رفاقت کا حق بھی نہ لیا۔ البتہ اپنی محبتیں نچھاور کرتی رہیں۔ نند کو پالا پوسا، ماں کا پیار دیا خدمت لینے کا وقت آیا تو اپنے رب کے حضور چلی گئیں۔ ان کی زندگی ان کے رب

45

کی تھی اس پر سب سے زیادہ حق بھی اسی کا اور اس کے رسول کا تھا۔ تنہائی میں دعائیں اور مناجاتیں ان کا اوران کے اﷲ کا معاملہ ہے، انہوں نے زندگی کے وہ سارے اوقات کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ کی تعلیم کے لئے وقف کر دئیے تھے۔جو انتہائی بنیادی ضرورتوں سے بچتے تھے۔ خالہ کہتی ہیں میں سلائی اور کڑھائی کی ماہر تھی، ادّی کو یہ کام کبھی کرنا نہ آیا۔ میں ان پر ہنستی تھی، ان کا مذاق بناتی تھی وہ صرف مسکرادیتی تھیں۔ ان کا دل کتابوں میں لگتا تھا یا تلاوت میں، انہیں پوری طرح پتا تھا کہ یہ زندگی ان کی اپنی نہیں اﷲ کی امانت ہے۔ وہ اس امانت میں خیانت برداشت نہیں کرسکتی تھی، جس زندگی کو اﷲ کے آخری رسولﷺ کی اتباع میں بسر ہونا تھا وہ جھوٹے نبی کی جھوٹی امت کی نذر نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس دور میں زندگی کی لذتوں کے عوض بہت سوں نے اپنے ایمان کا سودا کیا۔ مرزائیوں کے پیسے اور انگریزوں کی مراعات نے بہت لوگوں کوخرید کر لیا، لیکن سخت سے سخت آزمائش کے دوران انہوں نے ایک لمحہ کے لئے بھی کمزوری نہ دکھائی۔ سالہا سال فقر وتنگ دستی میں زندگی گذار لی، لیکن لاکھوں روپے، زیورات اور زمینوں کی پیش کش کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا۔ مسلسل خوف وہراس کے عالم میں ہر طرح کی تکلیف سہ لی لیکن زندگی بھر کلمہ شکایت زبان پر نہ آیا۔عین اس وقت جب وہ وقت کے قانون کے شکنجے میں کسی ہوئی تھیں اور فیصلے کے بعد فیصلے ان کے خلاف ہورہے تھے۔ فرنگی سرکار کے کارندے مرزائیوں کی حرام کی دولت کی لالچ میںکتّوں کی طرح ان کی تلاش میں سرگرداںتھے وہ پوری ثابت قدمی سے رسول اﷲa کی محبت اور جھوٹے نبی سے نفرت کے عظیم سرمایہ کی حفاظت کرتی رہیں۔ آزمائش کا یہ عرصہ تھوڑا بھی نہ تھا۔ بلکہ سفر طویل نوسالوں پر محیط تھا۔ اگران کے پائے استقلال میں لغزش آجاتی یا مال ومتاع کی کشش ان کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی تو مرزائی دنیا بھر میں اپنی ظفر مندی کا ڈنکا بجاتے پھرتے اور امت مسلمہ کا سرنگوںہوجاتا۔ علماء نے اپنا زورلگایا۔ ناموس رسالت کے پروانے مرزائیوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ لیکن یہ فیصلہ کن عدالتی اور قانون کی جنگ تھی۔ ایک غریب باپ اور ایک صابر و شاکر بیٹی نے پوری قوت سے لڑی اور پوری امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا سر فخر سے بلند کردیا۔ وہ اس شاندار فتح کو امت کے سپرد کر کے خاموشی سے اپنے روز مرہ کے فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہوگئے اور بعدمیں زندگی کے آخری لمحے تک اس سلسلے میں ایک حرف افتخار بھی زبان پر نہ لائے نہ کسی صلے کی تمنا کی نہ ہی کسی سے اعتراف و احسان مندی کا تقاضا کیا۔

میں نے ابّاجی سے پوچھا کیا کبھی اس مقدمے اور اس میں شاندار کامیابی کاتذکرہ گھر میں ہوا۔ انہوں نے فرمایا زندگی کے آخری لمحے تک تمہاری امّاں نے کبھی کوئی اشارہ بھی اس طرف نہیں کیا۔ انہیں اطمینان قلب کی دولت نصیب تھی۔ وہ اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے جو چاہا تھا انہیں مل گیا۔ یہ اطمینان ان کے ہر عمل سے ظاہر تھا۔ ان کی زندگی کے اسلوب سے جھلکتا تھا لیکن زبان پر کوئی کلمہ فخر ومباہات کبھی نہ آیا تھا اور آج بھی وہ روز اول کی طرح صلے اور ستائش سے بے پرواہ جلال پور پیروالہ کی خاک میں ایک کچی قبر میں آسودہ ہیں۔ ان کے پہلو میں ایک چھوٹی سے قبر اوربھی ہے ان کے بیٹے عبدالماجد کی گواہی دے رہی ہے کہ اپنے دونوں بچوں کے بارے میں ان کی زبان سے جو نکل گیاتھا۔ اﷲ نے اسے پورا کردیا۔

اللّٰھم اغفرلھا وارحمھا وعافھا واعف عنھا، اللّٰم نور مرقدھاہ اللّٰم اکرم نزلھا وجزاھا عنی وعن جمیع المسلمین خیر جزاء

46

ہدیٔہ تبریک

بزرگان کا قول ہے:من لم یشکر الناس لم یشکر اﷲ

لہٰذا ادارہ ہذا کا فرض ہے کہ وہ ان حضرات گرامی کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرے، جنہوں نے علم وعرفان کی دستاویز کی طباعت کے سلسلہ میں معاونت فرمائی۔

ناظرین گرامی جانتے ہیں کہ اجتماعی معرکہ سر ہونے کی صورت میں بعض اوقات انسان یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ کس مجاہد کے سر پر دستار فضیلت رکھی جائے، بعینہٖ یہی صورت ادارہ ہذا کو درپیش ہے ، کیونکہ ہر فرد جس نے حق وباطل کی اس دستاویز کی اشاعت میں حصہ لیا۔ ان کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ اپنی جگہ ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔

لہٰذا ادارہ ہذا ان تمام حضرات کا عموماً اور درج ذیل حضرات کا خصوصاً مشکور ہے، جنہوں نے اس سلسلہ میں تعاون فرمایا۔ جناب

۱… حافظ حاجی فرید الدین احمد صاحب الوجیہہ صدر سنٹرل حج پلگرمز لیگ آف پاکستان کراچی، ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ اﷲتعالیٰ جسے دنیوی دولت سے نوازے اسے اپنے دین اور اپنی مخلوق کی خدمت کے لئے بھی منتخب فرمالے۔ اس قحط الرجال دور میں حسن اتفاق سے اگر کسی کو یہ دونوں نعمتیں میسر آجائیں تو اس کا شمار قرون اولیٰ کے مسلمانوں میں ہوگا۔ بفضل تعالیٰ جناب حافظ صاحب محترم کا شمار ایسے ہی اصحاب میں ہوتا ہے۔ اپنے والد گرامی خان بہادر حضرت حاجی وجیہہ الدین صاحب قدس سرہ مہاجر مدنی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ پچاس برس سے حجاج حضرات کی خدمت، مساجد ودینی مدارس کی مالی معاونت اور اسلامی لٹریچر کی بلا معاوضہ اشاعت میں روزوشب مصروف ہیں۔ آپ نے اور آپ کے متوسلین نے گراں قدر عطیہ دے کر ادارہ ہذاکو مالی لحاظ سے اس درجہ مستحکم بنادیا کہ مزید کسی امداد کی حاجت نہ رہی۔

۲… جناب مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری مرکزی جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کی جیتی جاگتی تصویر اور ان کے اوصاف و محامد کے صحیح وارث ہیں۔ آپ نے اپنے والد مرحوم کی روایات کوبرقرار رکھتے ہوئے اپنی تمام زندگی تبلیغ واقامت دین خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔ آپ نے ادارہ ہذا پر جو احسان فرمایا۔ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ادارہ ہذا کے لئے مرزائی مبلغین کے عدالت میں دئیے گئے بیانات جو ۳۳-۱۹۳۲ء میں قادیان(ہندوستان) سے شائع ہوئے، نیز مرزا قادیان اور ان کے متبعین کی تصانیف کا حصول ایک مسئلہ بناہواتھا۔ بفضل تعالیٰ مولانا مدظلہ العالی کے توسط سے وہ مشکل آسان ہوئی۔ اس سلسلہ میں ادارہ ہذا کے نمائندگان کو بارہا مرکزی دفترتحفظ ختم نبوت ملتان جانا پڑا۔ حضرت ممدوح نے نہ صرف ہر بار ان کے قیام وطعام کا انتظام فرمایا بلکہ بسااوقات تمام دن بذات خود کتب خانہ میں بیٹھ کر مطلوبہ اقتباسات کی تلاش میں امداد فرما کر ان کی فوٹو کاپیاں مہیا فرمائیں۔

۳… جناب ملک رب نواز صاحب منیجر غلام علی اینڈ سنزپرنٹر اینڈ پبلشرز سرکلر روڈ لاہور نے خالصتاً اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول مقبولa کی خوشنودی کی خاطر ادارہ ہذا کے ساتھ جو تعاون فرمایا دور حاضر میں ان کی نظیر ملنا آسان نہیں۔ ملک صاحب محترم جو نشر واشاعت کا پچاس سالہ تجربہ رکھتے ہیں نے گزشتہ تین برسوں میں نہ صرف ادارہ ہذا کی مسلسل رہبری فرمائی بلکہ کتابت، تصحیح اور اشاعت کا تمام کام بغیر کسی مالی منفعت کے اپنی زیر نگرانی کرایا اوریہ کہنا کہ خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ ملک محترم کی بے لوث خدمت اور لگن کے بغیر ادارہ

47

ہذا کے لئے شاید یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس عظیم وضخیم دستاویز کو قارئین گرامی تک پہنچاتا۔

۴… قارئین گرامی پر علم وعرفان کی اس عظیم دستاویز کی اہمیت وافادیت بہتر طریق پر اجاگر کرنے اور اس کے متعلق شک وشبہ سے بالا ایک واضح پختہ رائے قائم کرنے میں معاونت کی غرض کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا کہ وطن عزیز کے مقتدر علماء مشائخ کے گراں قدر تبصرے حاصل کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ان حضرات کی طرف رجوع کیاگیا جن تک اندرین حالات رسائی ممکن ہو سکی۔

رب محمدa کا احسان ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے واجب الاحترام اکابرین نے اس مادہ پرستی کے دور میں اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود اس عظیم دستاویز کے مطالعہ میں اپنا قیمتی وقت صرف فرمایا اور گراں قدر تبصروں سے نوازا جو آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائے جاسکتے ہیں۔

اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ جملہ اہل خیر حضرات کو اپنے بہترین انعامات سے نوازے اور ان کی اس خدمت کو توشۂ آخرت کے طور پر قبول فرمائے۔ آمین!

وآخر دعوٰنا ان الحمدﷲ رب العالمین!

سیکرٹری جنرل سید افتخار احمد

اسلامک فائونڈیشن (رجسٹرڈ)لاہور

حضرت مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی

اعتذار وتشکر

بہاول پور کے معرکۃ الآرا مقدمہ مرزائیہ کی اہمیت وشہرت اوراسلامیان ہند کے مضطربانہ انتظار کا اقتضاء یہ تھا کہ اس تاریخی مقدمہ کے بصیرت افروز فیصلہ کی اشاعت میں تاخیر نہ کی جائے۔ مگر باقاعدہ نقل، کتابت،طباعت اوران کے مصارف ایسے امور تھے۔ جنہوں نے اشاعت کو تعویق میں رکھا۔حتی کہ بعض اصحاب نے خطوط اور اخبارات کے ذریعہ مجھ کو اشاعت کی طرف توجہ دلائی۔ اگرچہ بمتقضاء ’’کل امر مرہون باوقاتہا‘‘ اشاعت میں غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے، تاہم مجھے اپنے فرض سے سبکدوشی حاصل ہو گئی۔ الحمد ﷲ علٰی ذالک! جن اصحاب نے فیصلہ کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی یااس کی اشاعت میں مالی امداد فرمائی ہے۔ میں ان تمام اصحاب کا عموماً اور انجمن مؤید الاسلام بہاول پور کا خصوصاً شکریہ ادا کرتاہوں۔ انجمن موصوف نے مقدمہ کے مصارف اور فیصلہ کی طباعت میں نمایاں حصہ لیاہے اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ اس فیصلہ کو طالبین حق کے لئے مشعل ہدایت بنائے۔ آمین!

(مولانا )غلام محمد شیخ الجامعہ بہاول پور

۲۵؍جولائی ۱۹۳۵ء

48

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تقریب

از: حضرت مولانا ابوالعباس محمد صادق نعمانی

بہاول پور شمالی پنجاب کی ریاستوں میں سے سب سے بڑی اسلامی ریاست ہے، جس کو معدلت گسترتاجدار عباسی نواب حاجی سرمحمدصادق خان صاحب بالقابہ دام اﷲتعالیٰ اقبالہٗ وملکہٗ کی قلم رو ہونے کافخر حاصل ہے۔ یہ بصیرت افروز فیصلہ اس سرزمین معدلت آئین کے ایک روشن ضمیر ودقیق النظر فاضل جج کی کامل دوسال کی تحقیق شرعی کا صحیح نتیجہ ہے۔

اس معرکۃ الآرا مقدمہ کے تاریخی حالات اور عدالتی مراحل اور فریق ثانی کی درمیانی تعویقات کی پوری سرگزشت عالی جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر کے فیصلہ میں بطور تمہید نہایت جامعیت کے ساتھ مذکور ہے۔ جس کا اعادہ تحصیل حاصل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔ لہٰذا یہ فیصلہ بغیر کسی تمہید یا دیباچہ کے شائع کیا جاتاہے۔ مگر قارئین کی بصیرت کے لئے صرف اس قدر گزارش کی جاتی ہے کہ جب مقدمہ ہذاعدالت عالیہ دربار معلی سے بایں حکم عدالت ڈسٹرکٹ جج صاحب میں واپسی ہوئی کہ مستند مشاہیر علماء ہند کی شہادت لے کے بروئے احکام شرع شریف فیصلہ کیا جاوے تو ممدوح نے علامۃ العصر حضرت شیخ الجامعہ صاحب وحضرت مولانا محمد حسین صاحب کولوتارڑ مبلغ اسلام کی شہادت لینے کے بعد فریقین کو اپنے اپنے مسلک کے مستند اور مشاہیر علماء کو بغرض شہادت پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس جگہ یہ بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ اگرچہ یہ مقدمہ عرصہ سات سال سے چل رہا تھا اور مدعاعلیہ فخر ومباہات کے طور پر اعلانیہ کہا کرتا تھا کہ قادیان کا خزانہ اور منظم جماعت اس کی پشت پر ہے مگر مسلمانوں نے ہمیشہ اس کو شخصی مقدمہ سمجھے رکھا اور مدعیہ کی مالی امداد میں کبھی کوئی حصہ نہ لیا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد مسلمانان بہاول پور میں قدرتاً یہ احساس پیدا ہوا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ مدعیہ کا افلاس اور اس کی ناداری ا س کو شہادت شرعی پیش کرنے سے قاصر رکھے۔

انجمن مؤید الاسلام بہاول پور نے حضرات علماء کرام کے مصارف آمد ورفت قیام وطعام کے انتظام کے لئے ایک سب کمیٹی زیر صدارت حضرت شیخ الجامعہ صاحب مقرر فرمائی۔ سب کمیٹی نے کامل اخلاص اور دیانت سے کام کیا۔ مسلمانان بہاول پور نے ناموس شریعت کی حفاظت کے لئے نہایت ایثار اور فراخ دلی سے مالی امداد کی۔ جزاکھم اﷲ تعالٰی خیر الجزاء!

مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب، حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، حضرت مولانا نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹیل کالج لاہور، مولانا مفتی شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہ کے لئے جذب مقناطیسی کا کام کیا۔ اسلامی ہند میں اس مقدمہ کو غیر فانی شہرت حاصل ہوگئی۔ حضرات علماء کرام نے اپنی شہادتوں میں علم وعرفان کے دریا بہادئیے اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر وارتداد روزروشن کی طرح ظاہر کر دیا اور فریق مخالف کی جرح کے نہایت مسکت جواب دئیے۔ خصوصاً حضرت شاہ صاحب نے اپنی شہادت میں ایمان، کفر، نفاق، زندقہ ، ارتداد، ختم نبوت ،اجماع، تواتر، متواترات کی اقسام، وحی، کشف، الہام کی تعریفات اور ایسے اصول وقواعد بیان فرمائے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علی وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل ہوسکتا ہے۔

49

پھر فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی مقدمہ کی پیروی اور شہادت پر جرح کرنے اور قادیانی دجل وتزویر کو آشکاراکرنے کے لئے شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفا صاحب شاہجہان پوری تشریف لائے۔ مولانا موصوف مختار مدعیہ ہو کر تقریباً ڈیڑھ سال مقدمہ کی پیروی فرماتے رہے۔ فریق ثانی کی شہادت پر ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل وفریب کے تمام پردوں کوپارہ پارہ کر کے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد آشکار عالم کردیا۔ فریقین کی شہادت کے ختم ہونے کے بعد مولاناموصوف نے مقدمہ پر بحث پیش کی اور فریق ثانی کی تحریری بحث کا تحریری جواب الجواب نہایت مفصل اور جامع پیش کیا۔ کامل دوسال کی تحقیق و تنقیح کے بعد عالی جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر نے اس تاریخی مقدمہ کا بصیرت افروز فیصلہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو بحق مدعیہ سنایا۔ یہ فیصلہ اپنی جامعیت اور قوت استدلال کے لحاظ سے یقینا بے نظیر و بے بدیل ہے۔ مسلمانان ہند کی بہرہ اندوزی کی خاطر اس فیصلہ کو ایک کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ مواد مقدمہ کی تیسری جلد ہے۔ اس سے پہلے دوجلدیں اور ہوں گی۔ جلد اوّل میں حضرات علمائے کرام کی مکمل شہادتیں اور جلد ثانی میں مولانا ابوالوفاء صاحب نعمانی کی بحث اور جواب الجواب شائع کیاجائے گا۔

باقی رہایہ سوال کہ یہ دونوں جلدیں کب شائع ہوں گی۔ اس کا جواب مسلمانان ہند کی ہمت اور حوصلہ افزائی پر موقوف ہے۔ تیسری جلد جتنا جلدی فروخت ہوگی اسی انداز میں پہلی دوجلدوں کی اشاعت میں آسانی ہوگی۔

حضرات علماء کرام کے بیانات اور بحث اور جواب الجواب تردید مرزائیت کا بے نظیر ذخیرہ ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ تینوں جلدیں شائع ہوگئیں تو تردید مرزائیت میں کسی دوسری تصنیف کی قطعاً حاجت نہ رہے گی۔

مسلمانان ہند سے عموماً اور شعبہ تبلیغ مجلس احرار ہندومجلس علمیہ ڈابھیل وانجمن ہائے حزب اﷲ بہاول پور وانجمن مؤید الاسلام بہاول پورودیگر مجالس مذہبی سے خصوصاً گزارش ہے کہ جہاں تک ہوسکے اس کی فروخت واشاعت میں حصہ لے کر ثواب دارین حاصل کریں۔

(مولانا )ابوالعباس نعمانی موری دروازہ، بہاول پور

۲۵؍جولائی ۱۹۳۵ء

50

اشاعت ثانی ۱۹۷۳ء کے موقعہ پر

علماء اور اکابرین ملت

کی جانب سے

اس فیصلے کا خیر مقدم

51

انتساب

میں اس اشاعت کو حضرت امام ربّانی، قیوم دورانی، قطب زمانی، مجدد الف ثانی الشیخ احمد سرہندی الفاروقی قدس سرہ السبحانی کے نام نامی سے منسوب کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور اﷲ رب العزت کی بار گاہ اقدس میں نہایت عجز وانکسار کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ وہ مالک حقیقی اپنے حبیب کے صدقے اورحضرت مجدد کے فیض کی برکت سے جو کہ بزرگوارم حضرت حافظ سید ارشاد حسین سرہندی کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے ہمیں توفیق عطاء فرمائے کہ ہم جیسے نااہل حضرت مجدد کی اس سنت کو زندہ کرسکیں۔ جس کے لئے آپ اس دنیا میں تشریف لائے اور کفر والحاد، شرک وبدعت اور باطل قوتوں سے ٹکراکر انہیں ریزہ ریزہ کر کے حق و صداقت کی روشنی سے دنیا کے کونے کونے کو منور کردیا۔

خاکپائے سگان مجدد الف ثانی

سید اخترحسین سر ہندی سیالکوٹ، ۱۹۷۳ء

52

رائے گرامی … مولانا محمد ادریس کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور

چودھویں صدی کے آغاز میں جب مرزا ئے قادیان نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مشرق اور مغرب کے علماء نے اس کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ دیا۔ اس سلسلہ میں تیس پینتیس سال قبل یہ مسئلہ بہاو ل پور کی عدالت میں پیش ہوا۔ جس پر حضرت مولانا انور شاہ صاحب صدر مدرس دارالعلوم دیوبند اور دیگر اکابرین علماء ہند نے اس سلسلہ میں اپنے بیانات عدالت میں پیش کئے جس میں مرزائے قادیان کے وجوہ کفر کو یبان کیا گیا جن کا حاصل یہ تھا کہ مرزائے قادیان اگر بالفرض والتقدیر نبوت کا دعویٰ نہ بھی کرتا تب بھی قطعاً وہ دائرہ اسلام سے خارج تھا۔

فاضل محترم جسٹس محمد اکبر صاحب(بہاول پور) نوراﷲ مرقدہ نے نہایت عاقلانہ، عادلانہ اور دانش مندانہ فیصلہ صادر فرمایا کہ مدعی نبوت اور اس کے پیروکار قطعاً دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور یہ مسلمانوں میں شرعی طور پر کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ بحمدہٖ تعالیٰ فاضل جج کا یہ فیصلہ قانون شریعت کے بھی مطابق تھا اور قانون حکومت کے بھی مطابق تھا، جو شرعی اورقانونی حیثیت سے حد درجہ مستحکم اور مضبوط تھا کہ آئندہ کسی کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس محکم فیصلہ پر کوئی تنقید اور تبصرہ کر سکے یا کسی بالائی عدالت میں اس کی اپیل کر سکے۔ اس لئے کہ وہ فیصلہ اس درجہ محکم اور قول فیصل اور اٹل تھاکہ اس میں انگلی رکھنے کی گنجائش نہ تھی۔ (مولانا) محمد ادریس کاندھلوی، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لاہور

مجھے یہ معلوم کر کے بڑی مسرت ہوئی کہ جناب محمد اکبر خان صاحب بی۔اے، ایل۔ایل۔بی ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کا مشہورومعروف فیصلہ جس میں قادیانیوں کو کافر اور خارج از دائرہ اسلام قرار دیا گیا تھا دوبارہ اشاعت پذیر ہورہا ہے۔

یہ ایک واشگاف حقیقت ہے جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ جو شخص سیدنا محمدa کے بعد منصب نبوت پرفائز ہونے کا مدعی ہواور جو اس دعویٰ کو تسلیم کرے وہ دونوں بلا شک وشبہ ادّعائے اسلام کے باوجود کافر و مرتد ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کے دینی وعلمی پہلوؤں کو برابر واضح کیاجاتا رہے۔ عدالت بہاول پور کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت وافادیت کاحامل ہے۔یہ ارتداد زوج کی بنا پر فسخ نکاح کے ایک استغاثے کاتصفیہ تھا جو تقریباً تین سال (دس سال) زیر سماعت رہا۔ اس میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی جانب سے اپنے اپنے مؤقف کو پورے دلائل و شواہد کے ساتھ پیش کیاگیا۔ ان کے مشاہیر، علماء، فضلاء بطور گواہ پیش ہوئے اور فاضل جج نے پوری تحقیق وتدقیق کے بعد یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ قادیانی اپنے عقائد واعمال کی بنا پر مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں۔ یہ قیمتی دستاویز طبع ہونے کے بعد ایک عرصہ دراز سے نایاب تھی۔ میری دعا ہے کہ یہ سعی مسلمان اور قادیانی سب کے لئے باعث رشد وہدایت ثابت ہو۔ آمین!

ابوالاعلیٰ مودودی

۵؍ذیلدرار پارک اچھرہ ،لاہور۱۹۷۳ء

رائے گرامی … حضرت مولانا شمس الحق افغانی

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ

جج محمد اکبر نور اﷲ مرقدہ کی عدالت میں فسخ نکاح کا مقدمہ دائر ہواجس میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ قادیانی کا نکاح مسلمان عورت سے بوجہ ارتداد قادیانیوں کے واجب الفسخ ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں قادیانیوں کے مرتد ہونے کا مسئلہ زیربحث آیا۔ فریقین کے ماہرین مذہب جمع ہوئے۔ مفصل دلائل نقلیہ وعقلیہ کے قلم بند ہونے کے بعد قادیانیوں کے ارتداد کا حکم جناب جج صاحب موصوف نے صادر فرمایا اور فسخ

53

کا فیصلہ دیا۔ اس فیصلہ کا کچھ تعلق انکار ختم نبوت سے تھا۔ جس پر قرآن پاک کی متعدد آیات اور بے شمار احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے اس قدر دلائل موجود ہیں کہ توحید باری تعالیٰ کے علاوہ کسی مسئلے پر اس قدر دلائل نہیں۔ اسلام میں سینکڑوں گمراہ اسلامی فرقے پیدا ہوئے۔ لیکن مسئلہ ختم نبوت پر سب کا اتفاق رہا اور اس لئے دشمنان اسلام، اسلام کی اس بنیادی عمارت میں شگاف ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔حضورa کے وقت سے لے کر اب تک جو۱۳۹۳ھ ربیع الاوّل اور ۱۹۷۳ء ہے پوری امت مسلمہ تقریباً چودہ سوسال سے اس عقیدہ پر متفق ہے، جس کی وجہ سے اسلام کے عقائد زندہ ہیں کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا عہدہ دیاجانا بند ہے اور مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ چاہے وہ اسلام کا دعویٰ بھی کریں۔ جیسے صرف دعویٰ سے کوئی شخص، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، تحصیلدار، تھانیدار، حتیٰ کہ سرکاری چپڑاسی اگر ان عہدوں کا دعویٰ کرے اور حکومت کی لسٹ میں نام نہ ہو اور حکومت ان دعویٰ داروں کوجھوٹا قرار دیتی ہے توپھر اسلام کے دعویٰ سے ایک آدمی بغیر حقیقت اسلام کے محقق ہونے کے کیسے مسلم ہوسکتا ہے۔ جب کہ حقیقت اسلام کا بنیادی عقیدہ اس میں موجود نہ ہو اور ظاہری اسلام کی کچھ نشانیاں بھی اس میں موجود ہوں۔ جیسے گھوڑے کی تصویر یا فوٹو حقیقی گھوڑا نہیں ہوسکتا اور نہ بگھی کھینچ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقی گھوڑے کاکام ہے۔ ملت کے عملی اتحاد کے لئے فکری اتحا دضروری ہے اور مستحکم فکر کی بنیاد عقیدہ ہے۔ جب یہ بنیاد ہل جائے تو مسلم قوم وملت کی عمارت دھڑام سے گرجائے گی۔ اس لئے وحدت ملت ختم نبوت سے وابستہ ہے۔ اقبال مرحوم نے صحیح فرمایا:

  1. لا نبی بعدی زاحسان خداست

    پردۂ ناموس دین مصطفی است

  2. تانہ این وحدت زدست مارود

    ہستی مابا ابد ہمدم شود

اس سے واضح ہوا کہ استحکام پاکستان کی نظریاتی وحدت، اسلام اور ختم نبوت ہے، جو۹۵کروڑ مسلمانوں کے عقیدہ سے الگ دین قائم کریں، جس میں قرآن، حدیث، خدا اوررسول کی تکذیب اور توہین ہو، وہ اسلامی قلعے میں نقب لگانے والے ہیں اور خارج از اسلام ہیں۔ اس سلسلے میں مقدمہ بہاول پور تاریخی کارنامہ ہے۔

(علامہ) شمس الحق افغانی عفی عنہ

ربیع الاوّل۱۳۹۳ھ ،۱۹۷۳ء

رائے گرامی … علامہ احسان الٰہی ظہیر لاہور

یہ معرکۃ الآرا فیصلہ محمد اکبر خان کا تحریر کردہ ہے۔ اس فیصلہ میں جج صاحب مرحوم نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ مرزائیت کے خارج از اسلام ہونے کے دلائل دئیے ہیں اور مرزائی لٹریچر سے ان کے کفر وارتداد کا ثبوت بہم پہنچایا ہے میں سمجھتاہوں کہ یہ فیصلہ مرزائیت کے موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتب پر بھاری ہے۔

(مولانا)احسان الٰہی ظہیر، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … مولانا صاحبزادہ فیض الحسن آلو مہار شریف سیالکوٹ

تکمیل دین اور ختم نبوت مترادف حقائق ہیںاور اسلام کی ابدیت اور تکمیل کا مدار انہی دواصولوں پر ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اسلام کے اس بنیادی مسئلہ کے تحفظ کے لئے مختلف ذرائع سے حسب مقدور خدمات انجام دیں۔ اس سلسلہ میں جناب محمد اکبرصاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پورکا تاریخی فیصلہ اپنی نوعیت کا منفرد اقدام ہے۔ مرحوم ومغفور اپنی جرأت ایمانی سے اپنی نجات کا سامان کر گئے اورتاابد امت مسلمہ کے لئے ایسی شمع فروزاں چھوڑگئے۔ جو ان شاء اﷲالعزیز! رہتی دنیا تک حق وصداقت کی روشنی پھیلاتی رہے گی۔ ضرورت ہے کہ اس تاریخی فیصلہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔

(مولانا)سید فیض الحسن، ۱۹۷۳ء

54

رائے گرامی … بریگیڈئر نذیر علی شاہ

فیصلہ مقدمہ بہاول پور عہد صادق کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس مقدمہ کی پیروی سید انور شاہ صاحب، حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی صاحب جیسے نامور علماء نے کی۔ ان کی فقید المثال توجہ اور تاریخ ساز کوششوں نے قادیانیت کے سومنات کو ریزہ ریزہ کردیا۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد اکبر کے مثالی انہماک غیر معمولی استعداد اور قابل تحسین استقامت کا نتیجہ ہے۔ اس فیصلہ سے قادیانیت کی گمراہ کن حیثیت ہمیشہ کے لئے آشکار ہوگئی ہے۔

بریگیڈئر نذیر علی شاہ، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … مولانا سید احمد سعید کاظمی ملتان

ختم نبوت کا مسئلہ ضروریات دین سے ہے۔ افسوس ہے کہ ایسے مسئلہ کولوگوں نے اختلافی مسئلہ قرار دے کر اس میں بحث و تمحیص شروع کردی، جس سے گمراہی کا دروازہ کھل گیا اور فتنہ ارتداد زور پکڑ گیا۔ اس ماحول میں اہل علم کی خدمات یقینا قابل قدر ہیں۔ لیکن محترم جج اکبر صاحب کا کارنامہ اس سلسلہ میں بے حد قابل ستائش ہے اور اسلامی تاریخ میں آب زرسے لکھے جانے کے قابل ہے۔

سید احمد سعید کاظمی، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … جناب آغا شورش کاشمیری لاہور

اس فیصلہ نے مسلمانوں کو قادیانیت کے عزائم وعقائد سے نہ صرف آگاہ کیا ہے بلکہ مرزائیت اپنے حقیقی خط وخال سمیت آشکار ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ براعظم کے مسلمانوں کی ذہنی سرگزشت میں ہمیشہ یاد گاررہے گا اور جب کبھی پاکستان کے قوانین کی شکل اسلامی ہوگئی اس فیصلہ کا بہت زیادہ احترام کیاجائے گا۔ بلکہ یہ فیصلہ مشعل راہ ہوگا۔ ملت اسلامیہ جسٹس محمد اکبر خان مرحوم (بہاول پور) کے اس فیصلہ کی شکر گزار ہے۔ اﷲتعالیٰ ان کی بال بال مغفرت کرے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔

آغاشورش کاشمیری، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … مولانا مفتی مختار احمد نعیمی سیالکوٹ

حضورسرکار دوعالمa بلا شک وشبہ خاتم النّبیین ہیں اورتمام امت کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ حضورمحمد رسولﷺ کے بعد کوئی ظلی بروزی اور کسی بھی قسم کا بنی نہیں آسکتا اورتاقیامت دروازہ نبوت آپ پر بند کردیاگیا ہے۔ اس نازک دور میںجب طرح طرح کے فتنے اسلام کے خلاف سر اٹھا رہے ہیں۔فتنہ مرزائیت کے سد باب کے لئے اپنا وقت پیسہ اور ہمت کا صرف کرنا باعث اجر ہے۔

حقیر مفتی محمد مختار احمدخطیب سیالکوٹ، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … جناب محمد احمد کشمیر

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم!

اگرکوئی مسلمان ہے تو وہ فیصلہ مقدمہ بہاول پور کے متعلق دوسری رائے نہیں رکھ سکتا۔ حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کاشمیری اوردوسرے بزرگوں اور علماء نے اس مقدمہ کی پیروی کر کے دین اسلام کی ایک گرانقدر خدمت انجام دی تھی۔ اﷲتعالیٰ ان کے درجات بلندکرے اور ہم سب کوان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

محمدا حمد عفی عنہ، میر واعظ کشمیر۱۹۷۳ء

55

رائے گرامی … پیر طریقت مولانا محبوب الرحمن راولپنڈی

ان شاء اﷲ جب یہ فیصلہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں انشراح قلب اور باعث رشد وہدایت ثابت ہوگا۔

فقیر محبوب الرحمن عفی اﷲ عنہ

عید گاہ راولپنڈی، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … جناب سردار عبدالقیوم صاحب صدر آزاد کشمیر

ختم نبوت کے متعلق میرا عقیدہ یہ ہے: رسول اﷲa کا دین دو پہلوئوں پر مشتمل ہے۔ ایک ظاہری یعنی عقلی فکری ونظری پہلو ہے اور دوسرا روحانی یعنی عقلی عالم سے بالاتر۔

میرے خیال میں ظاہری پہلو کی حیثیت اسباب سفر کی سی ہے اور روحانی کی حیثیت ایک منزل کی۔ یعنی اسباب سفر کا تعین منزل یامقصد کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔ حضوراکرمa کے آخری نبی ہونے کے بارے میں عقلی استدلال میں شکوک واوہام کا اثر تو ملتاہے، لیکن دوسرے پہلو میں کوئی ایک بھی استثناء موجودنہیں ہے۔ میں نے اس میں جتنا غور کیا ہے میں بلا استثناء ہمیشہ اسی ایک نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو شخص جناب محمد رسول اﷲa کو خدا کا آخری نبی یعنی آپa کے اس ارشاد کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ کو دل وجان سے نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ عقلی فتویٰ کچھ ہو لیکن حقیقی بات یہی ہے۔ کتاب زیر نظر میں بھی ایک صاحب عقیدہ مسلمان نے ایمانی جرأت کا مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی عقل وفکر کی رائے بھی دریافت کر کے صحیح فیصلہ دیا۔ مرحوم کایہ فیصلہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اﷲتعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو عقیدے کی پختگی عطاء فرمائے۔ آمین!

محمد عبدالقیوم

صدر آزاد کشمیر ایوان صدر مظفرآباد، ۱۹۷۳ء

رائے گرامی … مولانا عبدالحکیم راولپنڈی

الحمد ﷲ وحدہ والصلٰوۃ علٰی من لا نبی بعدہ!

آج سے تقریباً ۴۰سال پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا دجل وفریب انگریز منحوس کے سایہ میں پروان چڑھ رہا تھا۔ فتنہ قادیانیت سے انگریزی پڑھا لکھا طبقہ نہ صرف یہ کہ ناواقف تھا بلکہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف وتائید بھی کرتا تھا۔اس کے علاوہ تاج برطانیہ اور وائسرائے ہند کے زیر اہتمام طاقتوں کی سر پرستی اس فتنہ ارتداد کو حاصل تھی۔ ایسے وقت میں جسٹس محمد اکبر صاحب مرحوم بہاول پور نے برصغیر کے چوٹی کے علماء خصوصاً محدث اعظم حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری کے دلائل سننے کے بعد جرأت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزا قادیانی کوکا ذب اور اس کے ماننے والوں کو خارج از اسلام قرار دے کر فیصلہ بہاول پور کے نام سے وہ تاریخی فیصلہ کیا ہے جو مسلمانوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا اور جس کی پیروی کرتے ہوئے جناب محمد رفیق گوریجہ سندھ نے بھی یہی فیصلے کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرحوم محمد اکبر صاحب بہاول پور والے اس تاریخی سنہرے باب کے حرف اوّل اور آخر سمجھے جائیں گے۔ اس فیصلے کی دوبارہ اشاعت نہایت مستحق اقدام ہے۔ قانون دان اور نئی نسل اس سے روشنی حاصل کریں گے۔ خدا مرحوم کو تاجدار مدینہ کے قدموں میں مجھ سمیت جگہ نصیب فرمائے۔ آمین!

خادم عبدالحکیم عفی اﷲ عنہ(ممبر قومی اسمبلی)

مدرسہ فرقانیہ مدینہ راولپنڈی، ۱۹۷۳ء

56

رائے گرامی … مولانا سید شمس الدین کوئٹہ

باسمہ تعالٰی

الحمد ﷲ وحدہ لا شرک لہ والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا محمدخاتم النّبیین الذی لانبی بعدہ وعلٰی اصحابہ وازواجہ و ذریتہ الذین نشر واھدٰہ واتبعوہ ھدیہ۔ اما بعد!

ختم نبوت کا عقیدہ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے۔ جس سے انکار کی جرأت فرق باطلہ کو بھی نہ ہو سکی اور چودہ سوبرس سے اب تک جتنے اسلامی فرقے وجود میں آئے سب نے اس عقیدہ کا اقرار کیا ہے اورتسلیم کیا ہے۔ اس کا شمار ضروریات دین میں ہے، یعنی اس کا اسلامی عقیدہ ہونا اس قدر روشن ہے کہ کسی مسلمانوں کو اس میں شک وشبہ نہیں ہوسکتا اور یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار یا اس میں اس شک اسلام سے بغاوت اور کفر خالص ہے۔ نیز یہ کہ اس میں تاویل بھی قائل کو کفر سے نہیں بچا سکتی جس طرح اس کا منکر کافرہے اسی طرح اس کا مؤدّل بھی کافرہے۔ سچ یہ ہے کہ ختم نبوت کا مفہوم سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی جو مسلمان ہونے کا مدعی ہے، اس کے انکار یااس کی تاویلی جرأت نہیں کرسکتا۔ بہت سیدھی سادی بات ہے کہ نبوت کی ابتدا حضرت آدمm سے ہوئی اور محمدمصطفیa پر نبوت ختم ہوئی اوراس دور میں اس فتنہ کا سد باب بھی مسلمانوں کے فرائض میں ایک اہم فریضہ بلکہ راہ نجات یہی ہے اور یہ کتاب جو مسلمانوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اﷲتعالیٰ جملہ مسلمانوں کو اس فتنہ کو روکنے کے لئے ہمت دے۔ آمین ثم آمین!

سید محمد شمس الدین

(ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی بلوچستان)، ۱۹۷۳ء

57

مکمل روداد

مقدمہ مرزائیہ بہاول پور

۱۹۲۶ء لغایت ۱۹۳۵ء کی اشاعت اوّل ۱۹۸۸ء کے موقع پر برصغیر پاک وہند کے اکابرین کے

ایمان افروز تبصرے

تعارف

حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کراچی

58

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد ﷲ وکفٰی والسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

برصغیر میں قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے نبوت کا دعویٰ اور بہت سے کفریہ عقائد الم نشرح ہو گئے تو علمائے اسلام نے تو متفقہ طورپر یہ فتویٰ دے دیاتھا کہ وہ اور اس کے متبعین دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن سرکاری اور عدالتی سطح پر اس حقیقت کو منوانے میں خاصا وقت لگا۔

اس جدوجہد میں بہاول پور کا مقدمہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں ایک نکاح کے مسئلے میں یہ سوال عدالت کے سامنے آگیا تھاکہ قادیانی مسلمان ہیں یا نہیں؟ قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے عدالت کے سامنے اپنے وقت کے مشہور مناظر بطور گواہ پیش کئے۔ اس موقع پر امام العصر حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری اور علماء دیوبند کی ایک جماعت مسلمانوں کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئی، جس میں حضرت شاہ صاحب کے علاوہ حضرت مولانامرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری اور احقر کے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب، حضرت مولانا نجم الدین صاحب وغیرہ شامل تھے۔ اس مقدمہ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا۔ جو فیصلہ مقدمہ بہاول پور کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ مقدمہ میں علماء کرام نے جو بیانات دئیے وہ بھی ’’بیانات علمائے ربانی‘‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ دونوں چیزیں اس وسیع علمی خزانے کا بہت مختصر حصہ ہیں جو اس مقدمہ کے دوران تیار ہواتھا۔ مقدمہ میں مسلمانوں کی طرف سے قادیانی گواہوں پر جوجرح کی گئی اور قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں پر جوجرح ہوئی۔ نیز دلائل کے مرحلے پر دونوں طرف سے جودلائل پیش ہوئے وہ اس طویل مدت میں شائع نہیں ہوسکے تھے۔ حالانکہ ان کے بھی شائع کرنے کا ارادہ شروع سے تھا۔ چونکہ یہ سب چیزیں سینکڑوں صفحات پر مشتمل تھیں۔ اس لئے ان کا حصول، ان کی ترتیب وتدوین اور پھر ان کی اشاعت وقت، محنت، مالی وسائل تینوں کی محتاج تھی۔ اس لئے اب تک یہ سب چیزیں زاویہ خمول میں پڑی رہیں اور اب یہ تصور بھی موہوم رہ گیا تھا کہ کوئی بندہ خدا اس ذخیرے کو منظر عام پر لانے کے لئے کوشش کرے گا۔ لیکن اﷲتعالیٰ کے نزدیک ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔ اﷲتعالیٰ نے برادر محترم جناب عبدالماجد صاحب کو اس اہم کام کا بیڑہ اٹھانے کی توفیق دی۔ انہوں نے بڑے جذبے اور عرق ریزی کے ساتھ سارا ذخیرہ بہاول پور کی عدالت سے نہ صرف نکلوایا بلکہ اس کی مصدقہ نقول حاصل کیں اور اب وہ انہیں مرتب ومدون کر کے شائع کررہے ہیں۔

یہ ذخیرہ کئی حیثیتوں سے عظیم الشان اہمیت کا حامل ہے۔ اوّل تو اس میں زیر بحث موضوع سے متعلق اساطین علماء کی کاوشوں کا نتیجہ ایک طالب علم کے لئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں، دوسرے مقدمہ بہاول پور اور اس کے بیانات اور کارروائی کے بارے میں یہ ایک مستند تاریخی دستاویز ہے اور اس سلسلے میں قادیانیوں کی طر ف سے جو لٹریچر شائع کیاگیا ہے اس مستند دستاویز کے تقابل سے اس کی حقیقت واضح ہو سکتی ہے کہ عدالت میں دئیے گئے بیان سے وہ کس قدر مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مہتمم بالشان ذخیرہ کی طباعت اشاعت جناب عبدالماجد صاحب کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس پر وہ تمام امت کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اﷲتعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اورامت کے لئے اسے نافع اور مفید بنائے۔امید ہے کہ مسلمان بالخصوص علماء، طلباء، اس پیش کش کی کماحقہ قدردانی کریں گے۔ وما توفیقی الا باﷲ!

(جسٹس مولانا) محمد تقی عثمانی

نائب صدر، دارالعلوم کراچی ورکن شریعت اپیلیٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان

۲۶؍ذوالحجہ ۱۴۰۸ھ، مطابق۱۰؍اگست ۱۹۸۸ء

59

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض مزید

حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی

مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اتباع واذناب پر کفر کا فتویٰ تو مرزا قادیانی کی زندگی ہی میں علماء اسلام نے لگادیا تھا۔ لیکن اس میدان میں اوّلیت کا شرف علماء لدھیانہ کو حاصل ہے علماء اسلام میں سب سے پہلے مرزا قادیانی کے ابتدائی دور میں ہی کفر کا فتویٰ حضرات علماء لدھیانہ میں سے مولانا عبدالعزیز اور مولانا محمد لدھیانوی نے لگایا۔ دوسرے علماء نے شدید احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے بعد میں مرزاقادیانی کا دعویٰ نبوت اور دیگر کفریات بالکل واضح اور الم نشرح ہوجانے کے بعد اس فتویٰ کی تائید وحمایت فرمائی۔ حتیٰ کہ مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے بالاتفاق مرزاقادیانی اور اس کے متبعین کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا۔ لیکن قانونی طور پر اس فتویٰ کی تائید وحمایت ابھی کسی عدالت سے حاصل نہ ہوئی تھی، اس وقت متحدہ ہندوستان پر انگریز حکمران تھا، جو اس جھوٹی نبوت کا موجد اوربانی تھا۔ اس دور میں علماء لدھیانہ کی طرح سب سے پہلے جس عدالت نے قانونی طور پر علماء اسلام کے بیانات کی روشنی میں کفر کا فتویٰ دینے کی سعادت حاصل کی وہ بہاول پور کی عدالت عالیہ ہے جس کا سہرا محترم فاضل جسٹس محمد اکبر مرحوم کے سر ہے۔ جنہوں نے مسلسل تین سال کی بحث و تمحیص اور تحقیق وتدقیق کے بعد فریقین کے ماہرین مذہب کے دلائل عقلیہ و نقلیہ کی روشنی میں قادیانیوں کے کفر وارتداد کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جس کی رو سے مسلمان عورت(مدعیہ) کا نکاح قادیانی مرتد (مدعا علیہ) سے فسخ ہوا۔ جسٹس محمدا کبر مرحوم کا یہ تاریخ ساز فیصلہ جسے اوّلیت کا شرف حاصل ہے، انتہائی اہم اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ اس وقت فریقین کے جو علماء عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔ ان سے بڑے مستند اور جید علماء فریقین کے ہاں نہ اس وقت تھے اورنہ ہی بعد میں ان کا کوئی نظیر ومثیل پیدا ہوا۔ قادیانیوں کے ہاں جلال الدین شمس جیسا عالم اور مناظر پوری جماعت میں پیدا نہیں ہوا اور اس پچھلی صدی میں علامہ سید انور شاہ کشمیری جیسی نابغہ روزگار ہستی علماء اسلام میں کوئی پیدا نہیں ہوئی۔ ہر دو فریق نے اپنی اپنی علمی بساط کے مطابق کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، اپنا پورا پورا زورلگا دیا اور ہم نے اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ حضرت شاہ صاحب کا بیان اور اس پر قادیانی وکلاء کی جرح جب ختم ہوئی۔ توحضرت شاہ صاحب نے جلال الدین شمس قادیانی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ ’’جلال الدین اگر اب بھی تمہیں قادیانی کے کفر میں شک ہوتو آئو میں تمہیں اسے جہنم میں جلتا ہوا دکھائوں‘‘جلال الدین قادیانی نے جلدی سے ہاتھ چھڑالیا اور کہا کہ اگر آپ اسے جہنم میں جلتا ہوا دکھا بھی دیں تو بھی میں کہوں گا یہ کوئی استدراج(شعبدہ) ہے۔ میں پھر بھی نہیں مانوںگا۔ ہمارے استادفرمایا کرتے کہ جلال الدین قادیانی بدنصیب تھا۔ اگر وہ ہاں کر دیتا تو حضرت شاہ صاحب پر اس وقت ایسی کیفیت طاری تھی کہ وہ اسے حالت کشف میں جہنم میں جلتا ہوا دکھا بھی دیتے۔ موضوع کے مناسب حضرت شاہ صاحب کی ایک اور بات جو حضرات اساتذہ کرام سے سنی ہے۔ وہ بھی اس موقعہ پر ذکرکردوں تو فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔

حضرت شاہ صاحب جب اپنی گواہی سے فارغ ہو کر واپس دیوبند جانے لگے تو علماء سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر اس مقدمہ کا فیصلہ میری زندگی میں ہوگیاتو میں خود سن لوں گا اور اگرمیرے مرنے کے بعد ہوا تو پھر میری قبرپر آکر سنایا جائے۔ حضرت کو یقین تھا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا۔ چنانچہ فیصلہ حضرت شاہ صاحب کی وفات کے بعد ہوا اور حضرت مولانا محمد صادق صاحب بہاول پوری

60

حضرت شاہ صاحب کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مستقل سفر کرکے دیوبند گئے اور شاہ صاحب کی قبر پر حاضر ہو کر یہ فیصلہ سنایا کہ حضرت مبارک ہو الحمدﷲ آپ کی خواہش کے مطابق یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگیاہے۔

مقدمہ بہاول پور کا یہ تاریخی فیصلہ تو عرصہ ہوا چھپ چکا ہے۔ اس کے بعد علماء ربانی کے بیانات بھی چھپ گئے تھے۔ لیکن مرزائی وکلاء کی جرح میں علماء اسلام نے علم وحقائق کے جو موتی بکھیرے ہیں اور دلائل کے جو انبار لگائے ہیں۔ وہ ایک مخفی خزانہ تھا۔ جو عدالت کے ریکارڈ میں مستور تھا۔ اس کی تھوڑی سی جھلک میں نے پچھلے سال ۱۹۸۷ء میں جب کہ ہم کیپ ٹائون جنوبی افریقہ میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین مشہور مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے ہوئے تھے۔ حضرت مولانا محمد انوری فیصل آبادی کی جمع کردہ شاہ صاحب کی یاد داشتیں’’نطق انور‘‘ کے نام سے دیکھی تھی۔ جس کی ایک ناتمام فوٹوکاپی میرے پاس بھی موجود ہے۔

انتہائی خوشی اور بڑی مسرت کی بات ہے کہ اسلامک فائونڈیشن والے بڑی جدوجہد اور مسلسل کئی برس کی محنت کے بعد تمام عدالتی ریکارڈ حاصل کر کے کتابی شکل میں تین جلدوں پر مشتمل یہ بیش بہا قیمتی ذخیرہ جو دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے ، پیش کررہے ہیں۔

اس تاریخی دفینہ اور علم ومعرفت کے عظیم خزانہ کو مرتب کر کے اہل علم کے لئے پیش کرنا بلا شبہ ’’ اسلامی فائونڈیشن‘‘ کا گرانقدر اور شاندار تاریخی کارنامہ ہے۔ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ امت مسلمہ پر یہ احسان عظیم ہے اور تاریخ کے صفحات میں اس یادگار فیصلہ کی طرح یہ’’ علمی کارنامہ‘‘ بھی ایک یادگار رہے گا۔

بندہ ناچیز’’اسلامک فائونڈیشن‘‘ کے کارپردازوں اوران کے سرپرست حضرت مولانا محمدمالک کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کو دل کی گہرائیوں سے اس عظیم تاریخی کارنامہ پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔ اﷲتعالیٰ ان کی اس سعی جمیلہ کو قبول فرمادیں اور دارین میں اس کا بہترین اجر نصیب فرمادیں اور بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں کے لئے اسے ذریعہ ہدایت و نجات بنائیں۔ آمین!

’’اسلامک فائونڈیشن‘‘ کے کار پردازوں کی خدمت میں اس کارنامہ پر ہدیہ تبریک پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عرض مزید پیش کرنے کی بھی جسارت کرتا ہوں کہ جس طرح آپ نے اس مخفی تاریخی دستاویز کو زیور طبع سے آراستہ کر کے ایک تاریخی یادگار قائم کردی ہے۔ بلا شبہ آپ کا یہ کارنامہ آپ کے فائونڈیشن کو زندہ جاوید بنا دے گا۔ اس طرح اور بھی کئی تاریخی اہمیت کے حامل عدالتی فیصلے موجود ہیں۔ اگر انہیں بھی حاصل کر کے اس طرح شائع کردیا جائے تو یہ اس موضوع پر ایک عظیم تاریخی کارنامہ ہوگا۔ جو رہتی دنیا تک یاد گار رہے گا اور ختم نبوت کے موضوع پر کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک عظیم علمی ذخیرہ اور قیمتی سرمایہ ہوگا۔ وماذالک علی اﷲ بعزیز!

فقط والسلام!

(مولانا) منظور احمد چنیوٹی

ادارہ مرکزیہ دعوۃ وارشاد رجسٹرڈ چنیوٹ پاکستان

۳؍رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ مطابق۲۰؍اپریل ۱۹۸۸ء

61

رائے گرامی … مولانا سید عبدالقادر آزادلا ہور

معرکۃ الآرا فیصلہ مقدمہ مرزائی بہاول پور ۱۹۳۵ء جس میں جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاو ل پور نے مرزائیت کو ارتداد قرار دے کر مسلمہ کا نکاح مرزائی سے فسخ فرمایا کی روئیداد ۱۹۲۶ء لغایت ۱۹۳۵ء

بلا شبہ علم وعرفان کی ایک عظیم دستاویز ہے جس کے مطالعہ سے ہر قاری علی وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کاکامل یقین حاصل کرسکتاہے اس کی اشاعت اسلامک فائونڈیشن لاہور کا نہایت مستحسن اقدام ہے۔

اﷲتعالیٰ تمام امت کو اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین! وما علینا الا البلاغ!

(حضرت مولانا) محمد عبدالقادر آزاد

خطیب بادشاہی مسجد لاہور ورئیس مجلس عمل علماء پاکستان

۱۳؍رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ مطابق ۳۰ ؍اپریل۱۹۸۸ء

رائے گرامی … مولانا سید محمود احمد رضوی لاہور

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم!

حضرت علامہ سید محمود احمدرضوی مدظلہ العالیٰ امیر مرکزیہ دارالعلوم حزب الاحناف، لاہور

حضورسرورعالم نور مجسم احمد مجتبیٰ محمدمصطفیa کا خاتم النّبیین بمعنی آخری نبی ہونا قطعی اجتماعی اذعانی مسئلہ ہے۔ اﷲتعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے جس قدر انبیا ورسلo مبعوث فرمائے وہ اﷲ کے رسول اور نبی توہیں مگر خاتم النّبیین یعنی آخری رسول نہیں ہوئے اورحضور اقدسa رسول اﷲ بھی ہیں اور خاتم النّبیین بھی۔

سورۃ احزاب کی آیت میں آپa کے ان دونوں وصفوں کا ذکر ہے۔ لہٰذا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہ بنیادی شرط ہے کہ حضورﷺ کو رسول اﷲ اور خاتم النّبیین(بمعنی آخری رسول) مانا جائے اور جوشخص حضورﷺ کو آخری رسول نہ تسلیم کرے یا آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا کسی مدعی نبوت کومسلمان جانے وہ قطعاً دائرہ اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہے۔

یوں تو جب انگریزی دور میں اس فتنہ کا ظہور ہوا تو علمائے اسلام نے ابتداء ہی سے اس شجر خبیثہ کی بیخ کنی کے لئے اور اس فتنہ عظیمہ سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے پر خلوص کوشش شروع کردی تھی۔ تحریر وتقریر اور مناظرہ کی صورت میں دلائل و براہین سے مزین کر کے اس مسئلہ کی وضاحت کی بیسیوں کتابیں لکھیں اور مناظرے کئے۔ مثلاً اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد مایۃً حاضرۃ امام احمد رضاخان صاحب بریلوی، شیخ المحدثین قطب وقت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریف، امام اہل سنت شیخ الحدیث مولانا سید دیدارعلی شاہ صاحب محدث الوری بانی دارالعلوم حزب الاحناف لاہور، امیر ملت حضرت حافظ پیر سید جماعت علی شاہ صاحب علی پوری قدس سرہ،شیخ الحدیث حضرت علامہ ابو البرکات سید احمد شاہ صاحب اور دیگر علماء اہل سنت نے مرزائیت کی تردید میں متعدد کتابیں تالیف کیں اوران کے سرغنوں سے مناظرے کئے۔

قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں مرزائیوں کو غیرمسلم قرار دینے کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل ایک مجلس قائم ہوئی جس کے سربراہ حضرت مولانا علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد صاحب خطیب مسجد وزیر خان، مرحوم ومغفور مقرر ہوئے۔ لاہورمیں اس تحریک کو

62

دبانے کے لئے مارشل لاء لگا اور علماء حق نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پھانسی تک کی سزائیں دی گئیں۔ راقم الحروف نے بھی ۱۹۵۳ء کی تحریک میں حصہ لیا۔ قلعہ لاہور اور سنٹرل جیل لاہور میں رکھا گیا اور پورے ملک کے علماء ومشائخ وعوام اہل سنت نے اس فتنہ کے استیصال کے لئے قربانیاں دیں۔ پھر پیپلز پارٹی کے دور میں۱۹۷۴ء میں از سرنو تمام مکاتب فکر کے علماء پر مشتمل مجلس عمل قائم ہوئی۔ اس مجلس عمل کا جنرل سیکرٹری راقم الحروف تھا۔ بہر حال پورے ملک کے عوام وخواص نے اس تحریک میں حصہ لیا اوربھٹو حکومت کو مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا اور مرزائیوں کی دونوں پارٹیوں احمدی (قادیانی) اور لاہوری کو قانونی طورپر غیرمسلم قرار دیاگیا۔ انگریزی دور میں حق وباطل کے اس عظیم معرکہ میں مقدمہ بہاول پور بھی ہے جو ایک ایسی دستاویز ہے جو انگریز کے دور میں انگریز ہی کی مقرر کردہ عدالت میں دائر ہوا۔ جناب محترم مجاہد اسلام محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج نے احمدیوں کو کافر و مرتد قرار دے کر (مسلم عورت کا نکاح مرزائی سے) باطل محض قراردیا۔ اب حال ہی میں نہایت ہی محنت اور سلیقہ کے ساتھ مقدمہ بہاول پور کی مکمل روئیداد کو شائع کرنے کی سعادت اسلامک فائونڈیشن لاہور کے حصہ میں آئی ہے۔ مقدمہ بہاول پور اس اعتبار سے بڑی اہمیت وافادیت رکھتا ہے کہ اس میں جو دلائل اور براہین پیش کئے گئے اور مرزائی لٹریچر سے جو حوالے دئیے گئے ہیں ، ایک فاضل جج نے ان کو صحیح ودرست قرار دے کر مرزائیوں کو کافر ومرتد قرار دیا۔ اسلامک فائونڈیشن قابل صد مبارک باد ہے کہ وہ اس اہم تاریخی دستاویز کو شائع کررہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دستاویز روشنی کا مینار ثابت ہوگی اور مخلوق خدا کی ہدایت ورہنمائی کا سبب۔

سید محمود احمد رضوی

امیر مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف، لاہور

۳۰؍محرم الحرام ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۲؍ستمبر ۱۹۸۸ء

رائے گرامی … جناب ڈاکٹر اسرار حمد صاحب لاہور

مکرمی و محترمی سید صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ

مزاج گرامی!

مراسلہ نمبر ۱۰۳ مرقومہ ۸؍مئی ۱۹۸۸ء محترم ڈاکٹر اسرار صاحب کے نام موصول ہوا۔ موصوف کی اس معاملہ میں بغیر کسی تکلف اور انکسار کے یہی رائے ہے کہ اشاعت ثانی فیصلہ مذکورہ پر جو تبصرے اکابرین ملت نے ۱۹۷۳ء میں فرمائے ہیں،ان کے بعد کچھ مزید کلام کرنا ڈاکٹر صاحب کا مقام نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب اور دیگر متعلقین دعا گو ہیں کہ اﷲتعالیٰ اس مبارک کام کے تمام مراحل آپ کے لئے آسان فرمائے اور یہ تصنیف امت مسلمہ کے لئے باعث رشد وہدایت ہواور آپ لوگوں کے لئے بلندی درجات۔

برائے قرآن اکیڈمی ۳۶-کے ماڈل ٹائون، لاہور

۲۹؍مئی ۱۹۸۸ء

رائے گرامی … مولانا محمد حسین نعیمی لاہور

گزشتہ نصف صدی کے دوران اندرون وبیرون ملک متعدد عدالتی فیصلہ جات منظر عام پر آچکے ہیں، جن میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کو خارج از اسلام قراردیاجاچکا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں مقدمہ بہاول پور ۱۹۳۵ء اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ ہے۔ فیصلہ مذکورہ اگرچہ دوبارکتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ مقدمہ مذکورہ کی مکمل روئیداد اہل علم ودانش کی بہرہ اندوزی کی خاطر اوّلین فرصت میں طبع کرا دی جاتی۔ مقام مسرت ہے کہ’’ اسلامک فاؤنڈیشن لاہور‘‘ نے یہ کارنامہ سر انجام دے کر دین

63

اسلام کی قابل ستائش خدمت انجام دی ہے۔

میں جہاں اراکین اسلامی فائونڈیشن کو مبارک باد پیش کرتاہوں وہاں یہ بھی تجویز کرتاہوں کہ تردید مرزائیت پر بہت سی دیگر مستند دستاویزات جیسے قومی اسمبلی پاکستانی کی روئیداد ۱۹۷۴ء مختلف مناظرے و مباہلے سے متعلق ضروری ریکارڈ جو عرصہ دراز سے غیر مطبوعہ چلا آرہا ہے اور گراں قدر موتیوں کی مانند بکھرا ہوا ہے ، کی وسیع اشاعت کا اہتمام کیا جائے۔ وما توفیقی الا باﷲ علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم!

(حضرت مولانا)مفتی محمد حسین نعیمی

ناظم اعلیٰ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ، لاہور

۱۱؍محرم الحرام ۱۴۰۹ء مطابق ۲۵؍اگست ۱۹۸۸ء

رائے گرامی … جناب میاں محمد اجمل قادری لاہور

سلام مسنون! آپ کا گرامی نامہ باعث مسرت ہوا۔اﷲ آپ کو خوش رکھے (آمین)’’ مقدمہ مرزائی بہاول پور‘‘ واقعتا ایک نہایت اہم اور بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ رد مرزائیت اور ختم نبوت کی افادیت و اہمیت سمجھنے کے لئے بہت ہی مفید اور دلائل سے بھر پور مواد ہے۔ہم سب آپ کے ممنون ہیں کہ آپ نے مقدمہ مذکورہ کو دوہزار صفحات پر مشتمل جلد بندی فرماکر عالم اسلام پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ اﷲتعالیٰ آپ کی اس کوشش وکاوش کو قبول فرمائے۔(آمین) ہمارا پورا تعاون اور ہمدردیاں آپ کے اور آپ کے ادارہ کے ساتھ ہیں۔ نبی محتشم آخر الزمانa کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے باوجود بھی ان کا حق ادا نہیں ہوتا۔ اﷲ ہمیں پکا کھرا مسلمان بنائے۔ (آمین) جلد شائع ہونے پر ضرور بھجوائیے گا۔ بندہ کو اضطراب ہوگا۔والسلام مع الاکرام!

(حضرت مولانا) اجمل قادری

مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ دروازہ، لاہور

۲۵؍ مئی ۱۹۸۸ء

معرکۂ بہاول پور

پیرزادہ علامہ اقبال احمد فاروقی ایم۔اے

جنگ آزادی میں شکست کے بعد مسلمانان برصغیر پاک وہند کو جہاں اپنے اقتدار سے محروم ہونا پڑا وہاں ان پر معاشی اور اقتصادی بدحالی کے طوفان ٹوٹ پڑے۔انگریز نے مسلمانوں کو من حیث القوم مفلوج بنادینے کا پروگرام بنایا جس پر اس کی ساری سیاسی قوت کارفرمارہی۔ ان معاشی اور اقتصادی ادبار کے ساتھ ساتھ عیسائی مبلغین نے برصغیر پہنچ کر مسلمانوں کی نظریاتی اور اعتقادی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ ان عیسائی مشنریوں کی یہ خواہش تھی کہ یہاں کے مسلمانوں کی دین اسلام سے وابستگی کو مشکوک بنادیاجائے۔ چنانچہ انہوں نے انگریزی اقتدار کے بل بوتے پر ایک طرف اسلام اور عیسائیت میں الجھائو پیدا کردیا۔ دوسری طرف بے پناہ دینی فتنوں کو ہوا دے کر مسلمانوں کے اعتقاد ونظریات کوہلا کر رکھ دیا۔ اسلام کے نام پرجو بھی نیا نظریہ لے کر اٹھتا اس کی پیٹھ ٹھونکی جاتی۔ چنانچہ برصغیر کی آج سے صد سالہ قبل نظریاتی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو برصغیر میں کئی ایسے فتنے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں ، جن کی پشت پناہی پر صرف اور صرف انگریزی اقتدار تھا۔

64

انہی دنوں ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی ابھرا جس نے دوسرے دینی فتنوں سے بڑھ چڑھ کر اسلام کا نام لے کر ایک زبردست فتنے کی بنیاد رکھی جو آگے جاکر مرزائیت یا قادیانیت کے بدنام ناموں سے مشہور ہوا۔ مرزا قادیانی پیدائشی طور پر صحیح العقیدہ سنی مسلمان تھا۔ وہ حضورﷺ کے خاتم النّبیین ہونے پرپختہ ایمان رکھتا تھا۔ اس نے ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کو اشتہار شائع کر کے حضورﷺ کی نبوت کا اقرار کیا پھر مشائخ ہندوستان کے نام’’انجام آتھم‘‘ میں بھی اپنے اس عقیدے کااظہار کیا۔ اس عقیدے کے باوجود اپنے آپ کو ’’مجدد اسلام اور مہدی وقت‘‘ قراردیتا تھا۔ اگرچہ اس کے یہ دعوئے اہل علم کو کھٹکتے تھے مگر مسلمانوں میں سے اکثر نیم خواندہ جذباتی لوگ مجدد یا مہدی ہونے کو گوارا جان کر اس کی اسلامی خدمات کا اعتراف کرتے رہے۔ انہی دنوں مرزا موصوف نے اپنے آپ کو مثیل مسیح اور مسیح موعود کے مقام پر لاکھڑا کیا۔ اس نے اپنی تصنیفات ’’ازالہ اوہام، فتح اسلام اور توضیح المرام ‘‘میں اس نظریہ کی وضاحت کی۔ اس کے یہ دعوے علمائے اسلام کو حیرت زدہ کرنے کوکافی تھے۔ انہوں نے اس کی مناظرانہ خدمات کے باوجود ان نظریات کا سختی سے نوٹس لیا۔

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب’’انجام آتھم‘‘ مطبوعہ ۱۸۹۷ء میں لکھا’’ میں خدا کا پیغمبر، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کا فرستادہ ہوں‘‘ مجھ پر ایمان لائو۔ ۱۹۰۱ء میں اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہ اعلان تمام اہل ایمان اوراہل اسلام کے لئے ایک زبردست چیلنج تھا۔ وہ چیخ کررہ گئے۔ انگریز حکومت’’ آزادی مذہب‘‘ کے نام پر مرزا قادیانی کی حفاظت پر موجود تھی۔

علماء کرام نے اس جھوٹی نبوت کے خلاف ثابت قدمی سے کام کیا۔ لدھیانہ کے مولانا محمد (لدھیانوی)، قصور کے مولانا دستگیر ہاشمی قصوری، گولڑہ سے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی، امرتسر سے مولوی ثناء اﷲ امرتسری، بریلی سے امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان بریلوی، میرٹھ سے صد ر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی ، الور سے حضرت مولانا دیدار علی شاہ الوری جیسے ہزاروں جید علماء کرام نے مرزا کی نبوت اور اس کے باطل نظریات کو للکارا۔ اس دور کے دینی لٹریچر کو سامنے رکھا جائے تو علمائے کرام نے جس پامردی سے مرزا کی نبوت کاذبہ کے خلاف جو جہاد کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں، الہام، فیصلے، آسمانی بددعائیں سب ایک ایک کر کے جھوٹی اور بے اثر ثابت ہوئیں۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے اپنی تصنیف سیف چشتیائی میں مرزا قادیانی کے تمام الہامات کا تجزیہ کر کے ایک ایک الہام کو جھوٹا ثابت کیا۔ اگرچہ ان دنوں مرزا کی نبوت کے جھوٹے دعوے ہندوستان کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں اتنے مشہور نہیں ہوئے۔ پھر بھی اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی، صدر الافاضل نعیم الدین مرادآبادی کے علاوہ علمائے دیوبند نے اس جھوٹی نبوت کے خلاف بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔

۲۰؍جولائی ۱۹۰۰ء کو مرزا غلا م احمد قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو تحریری مناظرہ کی دعوت دی اور لاہور میں مناظرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دعوت پر اس وقت کے بیس مشہور قادیانی عالموں نے اپنی اپنی شہادت نصب کی تھی۔ پھر اس دعوت مناظرہ میں مرزا غلام احمدقادیانی نے اس وقت کے چھیاسی علمائے اسلام کے نام لکھے تاکہ وہ بھی مجلس مناظرہ میں موجود رہیں۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے فوراً اس دعوت مناظرہ کو قبول کرلیا اور ۲۵؍جولائی ۱۹۰۰ء کو تحریراً اطلاع دی کہ وہ تاریخ مقرر کر کے لاہور آئیں ہم مناظرہ کے لئے تیار ہیں۱؎۔ پنجاب بھر کے مسلمانوں کے لئے یہ مناظرہ ایک تاریخی معرکہ تھا۔ بے پناہ سامعین لاہور پہنچے۔ ان میں سنی ، شیعہ،

۱؎ اس مناظرہ کی مکمل روداد معہ اسمائے شرکاء علمائے مجلس مناظرہ کتاب ’’مہر منیر‘‘ مرتبہ مولانا فیض احمد فیض گولڑہ شریف ص۲۱۰تا۲۸۸ تک دیکھی جاسکتی ہے۔

65

دیوبندی، اہل حدیث اور دوسرے فرقوں کے لوگ شامل تھے۔ پنجاب کے علاوہ دہلی، سہارن پور، دیوبند، لدھیانہ ، اور پشاور سے جوق درجوق لوگ لاہور پہنچے۔ شاہی مسجد لاہور میں ایک عظیم الشان اور فقید المثال اجتماع منعقد ہوا۔مگر مرزا غلام احمد قادیانی لاہور نہ پہنچ سکا۔ اسے خطرہ تھا کہ وہ اپنے کاذبانہ دعویٰ کی بنا پر اس عظیم معرکہ صداقت میں شکست زدہ ہوکر اپنے مستقبل کوتاابد تاریک کر بیٹھے گا۔ بنابرایں اس نے فساد کا بہانہ بنا کر میدان کو صرف اور صرف مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ تاہم شاہی مسجد کے اس عظیم اجتماع میں سر برآوردہ علماء کرام نے اپنی تقاریر میں مرزائیت عقائد کی تردید میں اپنے بلندپایہ خیالات کا اظہار کیا۔

مرزائیت ہمیشہ اپنی جھوٹی نبوت کی کاذبانہ آن برقرار رکھنے کے لئے مناظرہ، مباہلہ، مسالمہ اور مکالمہ کا اعلان تو کردیتی تھی مگر میدان میں آکر علماء اسلام کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی۔

علماء دین کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کے دلوں میں بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت نقش کا الحجر بن چکی تھی۔ چنانچہ ۱۹۲۶ء میں اﷲتعالیٰ نے مرزائیت کے ارتداد کا طلسم توڑنے کے لئے ایک پاک باز اور نیک سیرت بی بی کو ریاست بہاول پور کے ایک دور درازگائوں سے کھڑا کیا تاکہ وہ مرزائیت کے ارتداد کی حقیقت کو عدالتی فیصلوں سے واضح کرنے کا ذریعہ بن سکے۔ یہ عورت مسماۃ عائشہ بیگم بنت مولوی الٰہی بخش تھی جس کا خاوند مرزائی ہوگیا تھا۔ عائشہ بیگم نے خاوند کے ارتداد پر فسخ نکاح کے لئے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ مقامی عدالت نے اس بے سروسامان عورت کے دعویٰ کو چند سماعتوں کے بعد خارج کر دیا مگر جب اس دعویٰ کی اپیل بہاول پور کی عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی تو یہ مقدمہ مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان ایک معرکہ بن گیا۔

ان دنوں بہاول پور کے جامعہ عباسیہ کے شیخ الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی تھے۔ آپ عالم دین بھی تھے اور منطق کے امام بھی مانے جاتے تھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے مرید خاص تھے۔ آپ کو عدالت عظمیٰ نے دینی اور قانونی رہنمائی کے لئے طلب کیا۔ آپ نے فاضل جج کے سامنے مدعا علیہ کے مرتد ہونے اورمومنہ کے نکاح کے فسخ ہونے پر دس گھنٹے تک دلائل دئیے۔ دلائل سے متأثر ہو کر فاضل عدالت نے مقدمہ دوبارہ سماعت کے لئے واپس بھیجا۔ ڈسٹرکٹ جج نے مقدمہ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے شیخ الجامعہ کو اجازت دی کہ اپنی طرف سے دوسرے علمائے اسلام کو عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔ چنانچہ شیخ الجامعہ کی دعوت اور کوششوں سے برصغیر کے چوٹی کے علماء کرام عدالت میں شہادت اور ابحاث و جرح کے لئے پہنچنا شروع ہوئے۔ ان علماء کرام میں دارالعلوم دیوبند سے علامہ سید انور شاہ کشمیری، مفتی محمد شفیع، مولانا مرتضیٰ حسن دربھنگوی (چاند پوری) اور رئیس المناظرین مولانا ابوالوفا شاہجہان پوری، مولانا نجم الدین لاہوری اور خود شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مرزائیوں کی طرف سے بھی ان کے نامور مناظر جلال الدین شمس اور غلام احمد مناظر مرزائیت کے علاوہ بڑے بڑے وکلاء پیش ہوئے۔ یہ مقدمہ ۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۳۵ء تک زیر سماعت رہا۔ فاضل عدالت نے فریقین کے نامور علماء کے دلائل سننے کے بعد ایک مفصل فیصلہ قلم بند کیا، جوایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فیصلہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جناب محمد اکبرنور اﷲ مرقدہ نے برصغیر میں پہلی بار عدالتی قلم سے مرزائیوں کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دے کر مدعیہ کے فسخ نکاح کا اعلان کردیا۔

اراکین اسلامک فائونڈیشن کا جذبہ ایمانی اور حضورخاتم النّبیینa سے ان کی قلبی وابستگی کا ثمرہ ہے کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ان کو اس طویل مقدمہ کی روئیداد حاصل کر کے کتابی صورت میں شائع کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس تاریخی اور نہایت اہم قانونی دستاویز کو

66

زیورطبع سے آراستہ کر کے ملت اسلامیہ پر بڑا احسان کیاہے۔ اگرچہ آج مرزائیت قانونی طور پر پاکستان میں دم توڑچکی ہے، مگر ان کے عقائد باطلہ پر تحقیق سے واقفیت حاصل کرنے والوں کے لئے یہ مفصل اور مدلل کتاب مشعل راہ بنے گی۔

اﷲتعالیٰ سے دعا ہے کہ اراکین اسلامک فائونڈیشن کو اپنی نعمتوں سے نوازے اوران کے قلوب کو حضورخاتم النّبیینa کی محبت کے نور سے منور فرمائے اور ترقی درجات فی الدارین سے مالامال رکھے۔ انہوں نے مرزائیت کے رد میں ایک اہم دستاویز کو زیور طبع سے آراستہ فرما کر اہل تحقیق کے لئے روشن راہیں کھول دی ہیں۔

ہمیں امید واثق ہے کہ قارئین گرامی اس ضخیم کتاب کوا س موضوع پر چھپنے والی جملہ کتب میں سے اہم اور مفید پائیں گے۔

پیرزداہ علامہ اقبال احمد فاروقی ایم۔اے

۱۷؍ستمبر ۱۹۸۸ء

رائے گرامی … جناب محمد متین خالد لاہور

مقدمہ مرزائیی بہاول پور جس کا فیصلہ ۱۹۳۵ء میں جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کے قلم سے صادر ہوا۔

تاریخ محاسبہ قادیانیت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ اپنی اہمیت وافادیت کے اعتبار سے آئندہ بے شمار مقدمات میں جو مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان رہے ہیں ، معاون ثابت ہوا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ مقدمہ کی مکمل روئیداد جس میں فریقین کی جرح، تحریری بحث ، جواب اور جواب الجواب وغیرہ شامل ہوں، شائع ہوں، مقام شکر ہے کہ اس کی سعادت اسلامک فائونڈیشن لاہور کے حصہ میں آئی ہے۔ انہوں نے اسے تین ضخیم جلدوں میں شائع کر کے ختم نبوت کے لٹریچر میں ایک عظیم سنہری باب کا اضافہ کیا ہے۔ یہ روداد قادیانیت کے محلات پرا یک میزائل بن کر گرے گی اور اسے ہمیشہ کے لئے علمی اور عالمی سطح پر نیست و نابود کردے گی۔ ان شاء اﷲتعالیٰ!

پوری ملت اسلامیہ کو فائونڈیشن کی اس جانگسل کاوش پر مشکور ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں حکومت کو چاہئے کہ اگر وہ واقعی نفاذ اسلام میں مخلص ہے تو ایک سرکلر کے ذریعے اس روداد کو پاکستان کی ہر سرکاری و نیم سرکاری لائبریری میں رکھنے کی ہدایت کرے اور اسے ایم۔اے اسلامیات کے نصاب میں شامل کرے۔

علامہ متین خالدایم۔اے، صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

نسیم منزل ریلوے روڈ ننکانہ صاحب ضلع شیخو پورہ، ۲۲؍ مئی ۱۹۸۸ء

رائے گرامی … جناب ضیاء الدین اصلاحی (دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ انڈیا)

مکرمی ومخدومی السلام علیکم امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے

روئیداد مقدمہ مرزائی بہاول پور کی تین جلدیں دارالمصنّفین کے کتاب خانہ میں موصول ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہی آئینہ حقیقت کی ۵؍کاپیاں، چند اشتہارات اور آنجناب کا والانامہ بھی موصول ہوا۔ہم اس کے لئے آپ کے بے حد شکر گزار ہیں، امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کی توجہ دارالمصنّفین کو حاصل رہے گی۔ آپ کے اس مخلصانہ تعلق کا گہرا نقش دارالمصنّفین کے لوگوں کے ذہنوں پر مرتسم ہوگیا ہے۔ جس کے لئے ہم آپ کا پھر صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ والسلام!

خیر طلب: ضیا ء الدین اصلاحی، ۲۳؍جنوری۱۹۸۹ء

67

رائے گرامی … مولانا محمد سعید ڈابھیل انڈیا

باسمہ تعالیٰ محترم ومکرم جناب سید افتخار احمد صاحب، سلام مسنون! خدا کرے آپ بخیرو عافیت ہوں!

آپ نے جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے لئے ’’ روئیداد مقدمہ مرزائی بہا ول پور‘‘ کا مکمل سیٹ ارسال فرمایا۔ اس پر ممنون ہوں۔ جزاکم اﷲ احسن الجزاء!

آپ کا ادارہ’’ اسلامک فائونڈیشن‘‘ یقینا مستحق صد تبریک و تحسین بنا کہ بڑی محنت و کاوش اور چند سالوں کی صبر آزما کوششوں کے بعد اس عظیم وتاریخی دستاویز کے منصہ شہود پر آنے اور امت مسلمہ کے اس سے مستفید ہونے کا باعث بنا، خصوصاً طبقہ علماء پر آپ کا یہ احسان عظیم ہے۔ اﷲتعالیٰ آپ کی ان مساعی کو بار آور فرماکر حسن قبول عطا فرمائے۔

آپ نے بڑا کرم فرمایا کہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کو خصوصی طور پر یاد فرما کر اس قیمتی ہدیہ سے نوازا۔گویاآپ نے حضرت العلامہ رئیس المحدثین مولانا شاہ محمدانور صاحب مرحوم کی نسبت کو ملحوظ رکھا۔ فجزاکم اﷲ خیرا!

تعارف واشتہار کی کاپیاں یہاں کے مرکزی علمی اداروں پر ہم نے بھیج دی ہیں اطلاعاً تحریر ہے۔ دعائوں میں یاد فرمائیں۔ والسلام!

(مولانا)محمد سعید غفرلہ

مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل، سملک ضلع بلسارگجرات، انڈیا

مؤرخہ ۱۶؍رجب ۱۴۰۹ھ مطابق۲۳؍فروری ۱۹۸۹ء

68

عرضی دعویٰ مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش

مؤرخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء

بعدالت دیوانی منصفی احمد پور شرقیہ

مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش ذات ملانہ عمر۱۹؍۱۸سال سکنہ احمد پور شرقیہ

بہ مختاری الٰہی بخش ولد محمود ذات ملانہ سکنہ حال احمدپور شرقیہ، معلم مدرسہ عربیہ (ہند)

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ عمر ۲۳سال موضع مہند علاقہ تحصیل احمدپور شرقیہ

حال مقیم میلسی نہر گیج ریڈر سب ڈویژن انہار میلسی

دعویٰ دلا پانے ڈگری استقرار یہ مشعر تنسیخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد شوہرم مدعاعلیہ

جناب عالی! مدعیہ حسب ذیل عرض پرداز ہے:

۱… یہ کہ مدعیہ کی ایام صغر سنی نابالغی میں والد نے بمقام ڈیرہ غازی خان ہمراہ مدعاعلیہ نکاح بموجب احکام شریعت پڑھ دیا۔ جس کو ۱۴؍۱۵سال ہوئے ہوں گے۔ حق المہر شرعی تھا۔

۲… یہ کہ مدعیہ اب تک نابالغہ رہی۔ اب عرصہ دوسال سے بلوغ شرعی بہ نموداری ایام حیض ہوا ہے۔ الّا مدعاعلیہ ناکح مدعیہ مذہب اہل سنت والجماعت نے بمصاحبت مرزائی قادیانی رفقاء کی بہ تبدیلی مذہب قادیانی مرزائی ہوگیا ہے۔ اگرچہ فریقین بالغ اور محل زفاف ہیں۔ الّا بوجہ مرتد ہوجانے مدعاعلیہ کیے مدعیہ منکوحہ مدعاعلیہ نہیں رہی۔ مدعاعلیہ شرعاً کافر ہوگیا ہے اور بموجب احکام شرع شریف بابت ارتداد مدعاعلیہ مستحق انفراق زوجیت ہے۔

۳… یہ کہ مدعا علیہ اب تک مسکن مدعیہ پر متدارک سرمیل و شادی عمل زفاف مدعیہ رہا۔ الّا مدعیہ کوبباعث ارتداد مدعاعلیہ انکار ہے۔ ہر چند بطور خود مدعاعلیہ کو کہاگیا ہے کہ اس کے مرتد ہونے پر مدعیہ زوجہ جائز مدعاعلیہ نہیں رہی لیکن وہ اس بات پر التفات نہیں کرتا۔

۴… بنائے دعوی بمقام مہند جہاں مدعاعلیہ اور مدعیہ کی سکونت رہی ہے اورجہاں سرمیل کی تحریک مدعاعلیہ کرتا رہا پیدا ہوئی ہے۔ اختیار سماعت نالش عدالت ہذا کو حاصل ہے۔ بنائے دعویٰ پانچ ماہ سے آخری اصرار

69

مرتدی پر قائم ہوئی ہے۔

۵… مالیت نالش ہذا بغرض اختیار سماعت مبلغ ایک ہزار روپے اور بغرض ادائیگی کورٹ فیس مبلغ ۲۰۰روپے ہے۔ اس لئے بائیس روپے آٹھ آنے پانچ پائی کا اسٹام شامل کیاجاتا ہے۔

۶… لہٰذا من مدعی مستدعی ہے کہ ڈگری تنسیخ نکاح انفراق زوجیت برخلاف مدعاعلیہ بوجہ مرتد ہوجانے مدعاعلیہ کے اور مذہب مرزائی کا پیروکار ہونے سے بموجب احکام شرع شریف مدعیہ مسلمہ حنفی بنا بر ارتداد مدعا علیہ بحق مدعیہ علاوہ ہر جہ خرچہ بر خلاف مدعاعلیہ صادر فرمائی جا کر داد رسی من مدعیہ فرمائی جاوے اور قرار دیا جائے کہ مدعیہ بوجہ مرزائی ہوجانے مدعاعلیہ کے اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی اور نکاح بباعث ارتداد مدعاعلیہ نہیں رہا۔ اگر کسی دوسری یا متبادل داد رسی کا عدالت من مدعی کو مستحق قرار دیوے تو عطا ہووے۔

تحریر ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء، ۱۳؍محرم الحرام ۱۳۴۵ھ

عرضے

  1. واقعات مندرجہ بالا تاحد علم ویقین میرے فقرہ نمبر ۱تا ۴ صحیح درست ہیں۔

    مسماۃ غلام عائشہ بہ مختیاری الٰہی بخش مدعیہ مختیار خاص

  2. فقرہ نمبر ۵کی نسبت رسوم عدالت سے ہے تصدیق کرتاہوں۔ بمقام

    دستخط بحروف اردو

  3. احمد پور شرقیہ ۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء دستخط بحروف اردو الٰہی بخش مختار مدعیہ

    الٰہی بخش بقلم خود

70

جواب دعویٰ مسمّی عبدالرزاق (قادیانی)

مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۲۶ء

بعدالت منصفی احمد پور شرقیہ

مسمات عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش صاحب مدعیہ

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد مدعاعلیہ

دعویٰ استقراریہ تنسیخ نکاح فریقین بوجہ ارتداد مدعاعلیہ

جناب عالی! کمترین حسب ذیل جواب دعویٰ عرض کرتا ہے:

۱… یہ کہ فقرہ نمبر ا عرضی دعویٰ درست ہے۔

۲… یہ کہ مدعیہ مکمل بلوغ کو پہنچ چکی ہے اور اس کی عمر اس وقت ۱۸سال ہے۔ یہ غلط ہے کہ مدعاعلیہ نے مذہب تبدیل کرلیا ہے یادائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مدعاعلیہ بدستور مسلمان اور احکام شرعی کا پورا پابند ہے۔ احمدی کوئی علیحدہ مذہب نہیں۔ نہ میں مرزائی نہ قادیانی ہوں، یہ محض غلط ہے کہ اگر عقائد احمدیہ کی وجہ سے جو صلاحیت مذہب کی طرف رجوع دلاتے ہیں تو مدعاعلیہ مرتد ہوگیا ہے۔ یہ ایک ناجائز حملہ مدعیہ کی طرف سے ہے جو کہ والد مدعیہ نے کرایاہے۔

۳… یہ درست ہے کہ مدعاعلیہ سرمیل کا تقاضا کرتا رہا اور مدعیہ کا والد انکار کرتا رہا ہے ، اس کا انکار مطلقاً قانون اور شرع کے خلاف ہے۔ نکاح ہر صورت میں جائز اور قابل تکمیل ہے۔ شرعاً والد کی طرف سے دختر کانکاح کسی طریق سے قابل انفساخ نہیں اور نہ ہی وجہ مندرجہ مدعیہ انکار سرمیل کے لئے کوئی کافی وجہ ہے۔ محض بہانہ اور بدنیتی والدکا ثبوت ہے۔

۴… غلط ہے۔ بنائے دعویٰ بمقام مہندریاست بہا ول پور ہرگز قائم نہیں ہو سکتی نہ کبھی فریقین کی وہاں سکونت رہی نہ مدعا علیہ نے وہاں سرمیل کی تحریک کی۔ قانوناً سرمیل کی تحریک کسی جگہ کیا جانا بنائے دعویٰ کا مقام تصور نہیں ہوسکتا بلکہ حسب دفعہ نمبر۱۵ ضابطہ دیوانی جہاں مدعا علیہ کی مستقل سکونت ہو، بنائے دعویٰ پید ا ہوتی ہے۔ اس علاقہ عدالت حدود کے اندر دعویٰ سماعت ہوسکتا ہے۔ مدعاعلیہ کی سکونت موضع جنگل شیخواہ علاقہ ضلع ملتان میںاور نکاح بمقام براگی علاقہ ڈیرہ غازی خان میں ہواتھا۔ اس لئے دعویٰ ریاست عالی میں نہیں ہوسکتا۔ بلکہ

71

ضلع ملتان میں ہونا چاہئے۔

۵… غلط ہے۔

۶… مدعیہ کسی داد رسی کی مستحق نہیں دعویٰ مدعیہ قابل اخراج ہے۔

عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور سے باختیار کامل بمقدمہ کریم بخش بنام مسماۃ جند وڈی اور ہائی کورٹ مدراس اور دیگر ہائی کورٹوں سے یہ امر صریحاً فیصلہ پاچکا ہے کہ جماعت احمدیہ کے مسلمان اصلاح یافتہ فرقہ میں سے ہیں۔ مرتد یا کافرنہیں کہے جاسکتے۔ بنابراں دعویٰ مدعیہ خارج فرمایا جا کر ہر جہ دلایا جائے۔ والد مدعیہ نے محض سرمیل سے بچنے کی خاطر یہ ناجائز دعویٰ مدعیہ سے دائر کرایا ہے تاکہ مدعاعلیہ دباؤ میں آکر دستبردارہوجائے۔ ورنہ مدعا علیہ کی سخت تذلیل کی گئی ہے۔

۱۳؍ ربیع الثانی ۴۵ ۱۳ھ بمطابق ۲۱؍اکتوبر ۱۹۲۶ء

عرضے

دستخط بحروف اردو عبدالرزاق مدعاعلیہ

تاحد علم یہ میرا بیان صحیح درست ہے۔

دستخط بحروف اردو عبدالرزاق بقلم خود

72

مختصر بیانات فریقین وتنقیحات وضع کردہ عدالت

مؤرخہ ۴؍نومبر ۱۹۲۶ء

بیان مولوی الٰہی بخش ولد محمود ذات ملانہ ساکن احمد پور شرقیہ۔ مختار مدعیہ

با قرار صالح

مسمات غلام عائشہ میری دختر ہے،ایام نابالغی میں اس کا نکاح میں نے مدعاعلیہ سے بمقام ڈیرہ غازی خان کیا تھا۔ اب لڑکی عرصہ دوسال سے بالغ ہوچکی ہے۔ لیکن مدعاعلیہ مذہب قادیانی اختیار کرچکا ہے اور مرزائی ہوگیا ہے اور شرعاً مرتد اور کافر ہوچکا ہے۔ بموجب احکام شرع شریف بوجہ ارتداد مدعاعلیہ نکاح قابل فسخ ہے۔ لہٰذا ڈگری انفساخ نکاح صادر فرمائے جائے۔

دستخط منصف صاحب ۴؍نومبر ۱۹۲۶ء

بیان عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ عمر ۲۳ سال ساکن موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور مدعاعلیہ

باقرار صالح نکاح مسمات عائشہ مسلمہ ہے اس سے مختار مدعیہ کو انکارنہیں۔ میں نے مذہب قادیانی اختیار نہیں کیا۔ نہ ہی میں مرزائی ہوں۔ اگر مختارمدعیہ یہ ثابت بھی کردے کہ میں فرقہ قادیانی یعنی مرزائی سے تعلق رکھتاہوں تو بھی اس حالت میں نکاح قابل تنسیخ نہیں ہے۔ کوئی مرزائی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہے۔ عبدالرزاق سن کر تسلیم کیا۔

دستخط منصف صاحب

از عدالت:

۱… کیا مدعا علیہ مذہب قادیانی یا مرزائیت اختیار کر چکا ہے اور اس لئے ارتداد لازم آتا ہے۔ بذمہ مدعیہ

۲… اگر تنقیح بالا بحق مدعیہ ثابت ہو۔ تو کیا نکاح فی مابین فریقین قابل انفساخ ہے۔ بذمہ مدعیہ

مدعاعلیہ تردید پیش کرے گا۔ مسل ہذا مؤرخہ ۵؍دسمبر ۱۹۲۶ء کو پیش ہو۔ ۴؍نومبر ۱۹۲۶ء

دستخط منصف صاحب

73

بیان عبدالرزاق (قادیانی) مدعاعلیہ

مؤرخہ ۵؍دسمبر۱۹۲۶ء

باقرار صالح

مولوی عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ سکنہ ضلع ڈیرہ غاز خان عمر ۲۳سال

یہ درست ہے کہ میں مرزا غلام احمد کو مسیح موعود تسلیم کرتا ہوں اور ساتھ ہی نبی بھی مانتا ہوں۔ یعنی اس معنی میں کہ آپ نبی کریمa کے تابع دار ہیں اور آپ کی شریعت کے پیرو ہیں۔ آپ ظلی نبی کی وجہ سے نبوت کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور اس وقت تک میرا یہ اعتقاد ہے۔ گویا میں سلسلہ احمدیت میں منسلک ہوچکا ہوں ، میں مرزا صاحب کواس معنی میں نبی کہتا ہوں۔ جس معنی میں قرآن کریم ثبوت کو پیش فرماتاہے۔ جیسا دیگر انبیاءؑ ہیں کہ ان پر وحی اور الہام وارد ہوتے تھے کیوںکہ مرزا غلام احمد صاحب کونبی تسلیم کرتا ہوںا س لئے یہ بھی مانتا ہوں کہ ان پر بمثل دیگر انبیاء کرامo نزول ملائکہ وجبرئیلm ہوتا تھا۔

سن کر درست تسلیم کیا۔

دستخط صاحب جلیس

۵؍دسمبر ۱۹۲۶ء

74

درمیانی حکم عدالت

مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۲۷ء

از عدالت!

آج مسل روبرو فریقین پیش ہوئی، مولوی عبدالرزاق مدعاعلیہ کابیان بغور ملاحظہ ہوا، اس کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کو وہ نبی تسلیم کرتا ہے۔ اس معنی میں کہ بہ مثل دیگر انبیاء مرزا صاحب پروحی اور الہام وارد ہوتے تھے۔ پس یہ ایک سوال ہے کہ کیا اس اعتقاد کے ہوتے ہوئے کوئی شخص مذہب اسلام میں شامل رہ سکتا ہے، جس کا ثبوت مدعاعلیہ کو پیش کرنا چاہئے۔

مدعیہ تردید کرے گی۔ مدعاعلیہ نے آج فیصلہ جات کے نقول پیش کئے ہیں۔ وہ شامل مسل رہیں، مسل ہذا بقرار۲۰؍فروری ۱۹۲۷ء پیش ہوئے۔

دستخط منصف صاحب

۲۹؍جنوری ۱۹۲۷ء

75

درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ

مؤرخہ ۱۹؍فروری ۱۹۲۷ء

بعدالت دیوانی

مسماۃ عائشہ زوجہ عبدالرزاق مدعیہ بنام عبدالرزق مدعاعلیہ

دعوی تنسیخ نکاح

جناب عالی!

بمقدمہ صدر تاریخ پیشی گزشتہ مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۲۷ء کو مدعاعلیہ کے بیانات نسبت اعتقاد دینی کے لئے جاکر ایک تنقیح ذیل وضع فرمایاگیا اورجس کا ثبوت بذمہ مدعاعلیہ رکھا گیا۔

’’آج مسل روبرو فریقین پیش ہوئی ، مولوی عبدالرزاق مدعاعلیہ کا بیان بغور ملاحظہ ہوا۔ اس کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کو وہ نبی تسلیم کرتا ہے۔ اس معنی میں کہ بمثل دیگر انبیاء مرزاصاحب پروحی اور الہام وارد ہوتے تھے۔ پس یہ ایک سوال ہے کہ کیا اس اعتقاد کے ہوتے ہوئے کوئی شخص مذہب اسلام میں شامل رہ سکتا ہے۔ جس پر ثبوت مدعاعلیہ کو پیش کرنا چاہئے۔ مدعیہ تردید کرے گی۔‘‘

جوبیان کہ مدعا علیہ نے تاریخ پیشی مذکورہ بالا پر دیا، اس میں مدعاعلیہ نے اپنے اعتقاد مذہبی کو بخوبی واضح کردیاتھا مگر عدالت موصوف نے میرے اعتقاد مذہبی کا جوخلاصہ اخذ فرمایا ہے، وہ میرے اصلی اعتقاد مذہبی سے مغائر ہے۔ چونکہ یہ ایک اہم مذہبی مسئلہ ہے۔ اعتقاد مذہبی کی غلط تعبیر سے مقدمہ پر کافی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے اپنے اعتقاد مذہبی کو مدعا علیہ ذیل میں پیش کرتا ہے تاکہ غلط فہمی نہ رہے۔

’’ میں خدا تعالیٰ کو ’’وحدہٗ لا شریک لہٗ‘‘ مانتاہوں، حضرت محمدa کو ’’خاتم النّبیین‘‘ تسلیم کرتاہوں۔ قرآن کریم کو کامل الہامی کتاب مانتا ہوں۔ کلمہ طیبہ پر میرا ایمان ہے۔ حضرت محمدa کی برکت وآپ کے توسط سے اور آپ کی شریعت مقدسہ کی اطاعت سے حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتاہوں۔ حضرت مرزاصاحب کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ بلکہ شریعت محمدی کے تابع اور اشاعت کرنے والے ہیں۔ ان پر وحی اور الہام بابرکت حضرت نبی کریمa وارد ہوتے تھے۔‘‘

نیز مدعاعلیہ عرض کرتا ہے کہ تنقیح مذکورۃ الصدر غلط وضع فرمایاگیا ہے۔ دعویٰ مدعیہ کا ہے اور اسی بنا پر ہے کہ مدعا علیہ بوجہ ہونے احمدی کے مرتد ہوگیا ہے اور اس لئے اس کا نکاح ہمراہ مدعاعلیہ قابل تنسیخ ہے۔ اپنے دعویٰ کی تائید مدعیہ پرفرض ہے اور اس کی تردید مدعاعلیہ پر۔ اس لئے بجائے تنقیح مذکورۃ الصدر کے تنقیح ذیل وضع فرمایا جائے۔’’ آیا مدعا علیہ جس کا مذہبی اعتقاد یہ ہو جو کہ مدعاعلیہ نے اوپر بیان کیاہے۔ مرتد ہے اور مسلمان نہیں‘‘ ثبوت بذمہ مدعیہ اور تردید بذمہ مدعاعلیہ‘‘ براہ مہربانی تنقیح موضوعہ کو تبدیل فرمایا جائے۔

۱۶؍شعبان ۱۳۴۵ھ، ۱۹؍فروری ۱۹۲۷ء

فدوی عبدالرزاق مدعاعلیہ

76

حکم چیف کورٹ بہاول پور

مؤرخہ۷؍مئی ۱۹۲۷ء

بابت منتقلی مقدمہ از عدالت منصفی احمد پور

تجویز آخر بااجلاس عالی جناب مہتہ اودھو داس صاحب جج چیف کورٹ بہاول پور

مسماۃ غلام عائشہ بنت الٰہی بخش قوم ملانہ سکنہ تحصیل احمد پور شرقیہ

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد ذات باجہ سکنہ لودھراں ضلع ملتان

دعویٰ تنسیخ نکاح

درخواست انتقال

مسل کو دیکھا گیا ہے کہ منصف صاحب احمد پور شرقیہ نے شرعی سوالات کے لئے دو مولوی صاحبان کو کمیشن مقرر کیا ہوا ہے۔ ادھر مسل پر کئی فیصلہ جات اور سرٹیفکیٹ پیش کئے گئے ہیں۔ بلحاظ نوعیت مقدمہ میں مناسب سمجھتاہوں کہ یہ مقدمہ صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت سے تجویز جاوے۔ چنانچہ وہاں منتقل کرتاہوں۔ عبدالرزاق سائل حاضر ہے۔

۴؍ذیقعدہ۱۳۴۵ھ بمطابق ۷؍مئی ۱۹۲۷ء

دستخط: او دھوداس

77

درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ

مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۲۷ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

احمد ی عقائد

میں صدق دل سے شہادت دیتاہوں کہ خدا تعالیٰ وحد لاشریک لہٗ ہے اور حضرت سیدنا محمدابن عبداﷲ اﷲتعالیٰ کا سچا رسولﷺ اور سید الانبیاء صلوٰۃ اﷲ علیہم اجمعین ہے۔

میں خدا تعالیٰ کی توفیق سے حسب قانون شرع محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کو فرض جانتا ہوں۔ میں نماز کا پابند ہوں۔ ماہ رمضان مبارک کے روزے رکھتاہوں۔ میں صاحب نصاب نہیں۔ لہٰذا زکوٰۃ مجھ پر واجب نہیں۔ حج کی استطاعت نہیں رکھتا ورنہ ادا کرتا۔ ارشاد مصطفویa کہ’’ان تشھد ان لا الہ الا اﷲ وان محمدا رسول اﷲ وان تقیمو الصلوٰۃ وتوتی الزکوٰۃ وتحج البیت‘‘پر ایمان ویقین رکھنے والا مسلمان ہوں۔

میں خدا تعالیٰ پر اس کے تمام صفات سلبی ثبوتی کے ساتھ ایمان لایاہوں۔ اس کے فرشتوں اور اس کی تمام کتابوں اور اس کے سب کے سب پاک رسولوں پرا یمان لایاہوں۔ یوم الآخر کومانتاہوں۔ قدر خیر وشر اﷲتعالیٰ سے ہے۔ موت کے بعد زندگی اور حساب کتاب سزاوجزاء دوزخ وبہشت کاقائل ہوں۔

اٰمنت باﷲ وملٰئکۃٖ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اﷲتعالیٰ والبعث بعد الموت۔یہی اعتقاد تمام احمدی مسلمانوں کا ہے اور یہی اعتقاد ذیل میں حضرت مرزا صاحب غلام احمد مسیح موعود قادیانی نے سکھایا ہے: ’’وانا اشرح فی المقصود’’وھا انا اشھد بالرب العظیم۔ واحلف باﷲ الکریم علی اننی مؤمن مسلم موحد متبع لاحکام اﷲ وسنن رسولہٗ۔ وبریٔ مما تظنون ومن سم الکفر وحلولہ وانی لا ری یغیر الشرع عزۃً ولا لعالمہ درجۃ واٰمنت بکتاب اﷲ واشھد ان خلافہ زندقۃ۔ ومن تفوہ بکلمۃ لیس لہٗ اصل صحیح فی الشرع ملھماً کان اومجتھداً فیہ الشیاطین متلاعنہ۔ واٰمنت بان نبیا محمدa خاتم الانبیاء۔ وان کتابنا لقرآن کریم وسیلۃ الابتداء۔ لانبی لنا نقتدی بہٖ الا المصطفیٰ ولاکتاب لنا

78

نتبعۃ الا الفرقان۔ المہیمن علی الصحف الاولیٰ۔ واٰمنت بان رسولنا سید ولد اٰدم وسید المرسلین وبان اﷲتعالٰی ختم بہ النّبیین۔ وبان القرآن المجید بعد رسول اﷲ محفوظ من تحریف المحرفین وخطا المخطین۔ ولا ینسخ ولا یزید ولا ینقص بعد رسول اﷲ ولایخالفہٗ الملھمین الصادقین۔ وکل مافہمت من عویصات القرآن او الھمت من ا ﷲ الرحمن فقبلتہ علٰی شریطۃ الصحۃ والصحۃ والصواب والسمت۔ وقد کشف علیّ انہٗ صحیح خالص یوافق الشریعۃ لاریب فیہ۔ ولا لبس ولاشک ولا شبہۃ۔ وان کان الامر خلاف ذٰلک علی فرض المحال۔ فنبذنا مکۃ من اید ینا کالمتاع الردی ومادۃ السعال۔ واٰمنا بمعانی اراد ھا اﷲ ورسولہٖ الکریم۔ وان لم نعلھا ولم یکشف علینا حقیقتہا من اﷲ العلیم‘‘

(کتاب آئینہ کمالات اسلام ص ۲۱، خزائن ج۵ ص ۲۱، مؤلفہ مرزا قادیانی)

یہی میرے عقائد ہیں جن پر اب تک علی وجہ البصیرت بفضلہ تعالیٰ قائم ہوں۔ اکفٰی باﷲ شہیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب!

رقم: عبدالرزاق احمدی سکنہ لودھراں

۱۷؍دسمبر ۱۹۲۷ء، ۲۲؍جمادی الثانی ۱۳۴۶ھ

79

بیان حضرت علامہ غلام محمد صاحب گھوٹوی

۱۸؍ جنوری ۱۹۲۸ء

’’علامۃ العصر پیکر علم وفضل حضرت غلام محمد صاحب گھوٹوی شیخ الجامعہ العباسیہ بہاول پور اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم تھے۔ ان کا چشمہ فیض ہندوستان تک ہی محدود نہ تھا بلکہ ممالک غیر سے بھی اکثر تشنگان علم اس چشمہ سے سیراب ہونے کے لئے شمالی پنجاب کی اس عظیم درسگاہ جامعۃ العباسیہ بہاول پور حاضر ہوتے رہے۔

۱۹۲۶ء میں جب مسماۃ غلام عائشہ کی جانب سے تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر ہوا تو جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور نے شرعی امور پر عدالت کی رہبری کے لئے حضرت شیخ الجامعہ کو بطور عدالتی گواہ طلب فرمایا۔ حضرت ممدوح کا یہ بیان ۱۸؍جنوری ۱۹۲۸ء کو قلم بند ہوا۔

حضرت نے قرآن پاک، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت کیا کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس کا انکار کفر ہے۔ اگر کوئی شخص ظلی یا بروزی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، تو وہ اور اس کے متبعین کافر اور خارج از اسلام ہیں اور ایسے عقائد رکھنے والے شخص کا سنیہ عورت کے ساتھ نکاح قائم نہیں رہتا۔‘‘(ادارہ)

80

بیان مولوی غلام محمد شیخ الجامعہ العباسیہ بہا ول پور باقرارصالح

۱۸؍جنوری ۱۹۲۸ء، ۲۴؍رجب ۱۳۴۶ھ

میں نے عقائد احمدی مدخلہ مدعاعلیہ مشمولہ مسل ہذا کو دیکھا ہے۔ یہ عقائد عام مسلمانوں کے ہیں۔ احمدیہ جماعت کے یہ اعتقادات مخصوص نہیں ہیں۔ میں نے اس کا بیان مؤرخہ۵؍دسمبر ۱۹۲۶ء سنا ہے۔ ان بیانات میں جو یہ الفاظ ہیں کہ میں مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم کرتا ہوں اور اس لئے یہ بھی مانتا ہوں کہ ان پر بمثل دیگر انبیاء نزول ملائکہ وجبرئیل ہوتاتھا۔ یہ خاص اعتقاد جماعت احمدیہ کا ہے اور اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ غیر مسلم ہیں۔ اس واسطے کہ تمام فرق اسلامیہ کا اتفاق ہے کہ جو شخص آنحضرت محمد رسول اﷲa کے بعد کسی شخص پرنزول جبرئیل کا عقیدہ رکھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔

اس اعتقاد والے شخص کا میرے نزدیک سنیہ عورت کے ساتھ نکاح قائم نہیں رہتا۔چنانچہ اس کے متعلق کل علماء ہندوستان کا فتویٰ ہے۔ مسل کے ساتھ جو فتاویٰ مولوی عزیزالرحمن صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند اور مولوی خلیل احمد صاحب سہارنپوری کے شامل ہیں وہ مستند ہیں۔ مولوی ثناء اﷲ امر تسری ایک مستند اہل حدیث عالم ہے۔ مرد کے مرتد ہونے سے اس کانکاح شرعاً فسخ ہوجاتا ہے۔ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ تحریر کیا ہے کہ میں تشریعی نبی ہوں۔ یعنی نئی شریعت لایا ہوں۔ ان کی کتاب’’ اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵‘‘ میں یہ عقیدہ موجود ہے جو شخص ایسے شخص کو نبی اور رسول مانے وہ میرے عقیدہ میں مرتد ہے اور چونکہ مولوی عبدالرزاق مرزا صاحب کو نبی مانتا ہے اور ان پر نزول جبرئیل کا قائل ہے۔ لہٰذا بوجہ ارتداد اس کا نکاح مدعیہ کے ساتھ فسخ ہوچکا ہے اور یہی مذہب یعنی عقیدہ عام علماء ہندوستان کا ہے۔ چونکہ یہ مذہب قادیان ہندوستان میں ہی رائج ہے۔ اس لئے دیگر ممالک کے علماء کی آراء اور خیالات یہاں تک نہیں پہنچے مگر اب جہاں جہاں یہ مذہب ہندوستان سے باہر پھیل رہا ہے۔ وہاں کے علماء ان کے ارتداد کا فتویٰ دے رہے ہیں۔ چنانچہ کابل میں امیر صاحب نے علماء کابل کے حکم سے ایک احمدی کو سنگسار کیا۔ اسی طرح دمشق میں ایک احمدی حال ہی میں قتل کیا گیا ہے۔

سن کر تسلیم کیا۔ محمد اکبر

مرتد کے لفظ کے معنی شرع میں یہ ہیں کہ کسی بنیادی مسئلہ اسلام سے انکار کیا جائے۔ مثلاً توحید نبوت آنحضرتﷺ و ختم نبوت آنحضرتﷺ، مرزائی، رسول کریمa کی ختم نبوت کے قائل نہیں ، اس لئے وہ مرتد ہیں۔ ختم نبوت آنحضرتﷺ مذہب اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے۔

سن کر تسلیم کیا۔ محمد اکبر

81

درخواست عبدالرزاق مدعاعلیہ بجواب بیان

جناب حضرت شیخ الجامعہ صاحب بہاول پور

مؤرخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۲۸ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہٖ الکریم!

تردید بیان مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہا ول پور از عبدالرزاق احمدی ساکن لودھراں ضلع ملتان

غلام عائشہ بنت الٰہی بخش بنام عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد

مدعیہ مدعاعلیہ

دعویٰ استقرار حق

جناب عالی! مدعاعلیہ بجواب بیان مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ جو اس نے بر خلاف مدعاعلیہ دیا ہے کہ تردید ذیل عرض کرتاہے۔

۱… گواہ اپنے بیان میں تسلیم کرتا ہے کہ یہ عقائد جو مدعاعلیہ نے شامل مسل کئے ہیں عام مسلمانوں کے ہیں صرف احمدیوں کے مخصوص نہیں۔ جیسا کہ ان عقائد سے ایک مسلمان، مسلمان کہلاتا ہے اور کوئی مسلمان ہوسکتا ہے تو کسی خصوصیت کی طرف گواہ کا الجھنا بے سود ہے۔ اسلام کے اندر بہتر فرقے کے خصوصی عقائد الگ الگ ہیں۔ کسی کے مسلمان ہونے کے لئے صرف وہی عقائد زیر غور آتے ہیں جو اسلام کی تعریف کے اندرداخل ہوں گواہ نے میرے عقائد مشمولہ مسل پر جو میں نے اپنے رہنما کی شائع شدہ کتاب کے حوالے سے لکھے ہیں۔ جرح کرنے کی نہ جرأت کی اور نہ کرسکتا ہے ، بلکہ اس نے تسلیم کیا ہے کہ یہ عقائد عام مسلمانوں کے ہیں۔ کسی خصوصیت کی وجہ سے کوئی فرقہ جو اسلام کے اندر آچکا ہے ، ہرگز ہر گز خارج نہیںہوسکتا۔ گواہ نے کوئی دلیل کتاب اﷲ سنت رسول اﷲa سے نہیں دی اورنہ وہ دے سکتاتھا جو میرے مسلم ہونے کا بیّن ثبوت ہے۔

۲… یہ ثابت ہوچکا ہے کہ گواہ نے میرے عقائد پرجرح کرنے سے عاجز ہو کر ادھر ادھر نکلنے کی سعی کی ہے۔۵؍دسمبر۱۹۲۶ء کے بیان کا جو حوالہ گواہ نے دیا ہے۔ اس کی اصلیت یہ ہے کہ جو لفظ مجسٹریٹ کی قلم سے نکلے تھے وہ میرے منہ کے نہ تھے۔ اس لئے بیان پڑھنے کے بعد میں نے تحریری تشریح ۲۶۱۷ شامل مسل کردی۔ ملاحظہ فرمایا جائے۔ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ اپنے متعلق منسوبہ مشتبہ امر کو مشرح کرے۔ اسی اصول پر میں نے تشریح کر دی تھی۔ اب بھی میں ایک کتاب موسومہ’’ عقائد احمدیہ‘‘ پیش کرتا ہوں۔ جس میںتمام ’’عقائد احمدیہ‘‘ بحوالہ کتب حضرت مسیح موعود درج ہیں۔ یہی میرے عقائد ہیں اوران عقائد پر کوئی جرح دیانۃ نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی بات زیر بحث ہوتو وہ فروعی اختلاف ہوگا نہ اصولی، چہ جائیکہ موجب خروج از اسلام ہو۔

82

۳… گواہ نے بیان کیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص نزول جبرئیل کا عقیدہ رکھے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ خود گواہ کی تقریر سے ثابت ہے کہ کتاب اﷲ، سنت رسول اﷲa کی دلیل پر نہیں کہا گیا۔ تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ظاہرکرنا اور عدلین کی کوئی دلیل بیان نہ کرنا کافی ثبوت ہے کہ گواہ کا بیان غلط ہے۔ قرآن کریم پارہ ۲۴ سورہ حٰم السجدہ آیت۳۰ رکوع۴ میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’ان الذین قالوا ربنا اﷲ ثم استقامو ا تتنزل علیھم الملٰٓئکۃ الّا تخافوا ولا تحزنوا وابشرو ا بالجنۃ الّتی کنتم توعدون‘‘ {تحقیق ان لوگوں نے کہا کہ پروردگار ہمارا اﷲ ہے۔ پھر ثابت رہے کہ اوپر اسی کے اترتے ہیں فرشتے یہ کہ مت ڈرو اور مت غم کھائو اور خوشخبری پائو اس حیثیت کی جو تھے تم وعدہ دئیے جاتے۔}

(ترجمہ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی)

اسی طرح پارہ ۳۰سورۃ القدر آیت۴ میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’تنزل الملٰٓئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر سلام‘‘ اترتے ہیں فرشتے اور روح پاک بیچ اس کے ساتھ حکم پروردگار اپنے کے واسطے ہر کام کے سلامتی۔ الخ!

(ترجمہ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی)

ان ہر دو آیات بالا میں اﷲتعالیٰ نے نزول ملائکہ کو مذکور فرمایا ہے اور اسے بطور رحمت مسلم مومن کے لئے ضروری بصراحۃً قرار فرمایا ہے۔ صاف ثابت ہے کہ نزول ملائکہ میں اسلام کی عظمت ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی تفسیر فتح العزیز میں نزول جبرئیل تسلیم فرمایا ہے۔ جب قرآن کریم پکار پکارکر فرماتا ہے کہ ملائک اترتے ہیں اور مذکورہ بالا آیات میں نزول ملائکہ اور روح امین(جبرئیل) صاف صاف لفظوں میں بیان فرمایاگیا ہے تو کیا نعوذباﷲ! اﷲتعالیٰ نے بقول گواہ مسئلہ خروج از اسلام کو جزو اسلام قرار دیا ہے۔ قرآن کریم ایک رحمت ہے۔ اس کا ایک ایک حرف اور ایک ایک نقطہ اور ایک ایک شوشہ سراسر برکت ہے اور موجب عظمت الٰہی اور ہدایت عامۃ الناس ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے؟ کہ اس میں ایسے مسئلہ کا ذکر غیر معمولی زور داربلاغت اور پر معارف الفاظ میں بطور صداقت کیا جائے۔ جو اسلامی عظمت کومٹانے کے مترادف ہے اور برکات ذات مصطفویa پر حملہ۔ من مدعا علیہ کا ایمان ہے کہ آنحضرتﷺ کے طفیل نزول ملائکہ میں اسلام کی عظمت وزندگی ہے۔ پچھلے ماہ میں فضائل رمضان شریف پر صادق الاخبار نمبر۱۰جلد ۶۲ مؤرخہ ۱۵؍رمضان المبارک ۱۳۴۶ھ مطابق ۸؍مارچ۱۹۲۸ء ص۴ کالم۱ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ بغور ملاحظہ فرمایا جائے۔

’’اترتے ہیں زمین پر جبرئیل اور ان کے ساتھ فرشتے ہزار جو سدرۃ المنتہیٰ کے رہنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ نوری جھنڈے ہوتے ہیں، گاڑتے ہیں ، اپنے جھنڈوں کو چار مقام پر کعبہ شریف کے نزدیک، قبر شریف نبی اکرمa کے نزدیک، مسجد بیت المقدس کے نزدیک، طور سینا کی مسجد کے نزدیک تا پھر کوئی مکان اور حجرہ اور کوئی گھر اور کوئی کشتی ایسی باقی نہیں رہتی جس میں مومن مرد ہو یا عورت مومنہ ہو مگر فرشتے اس میں جاتے ہیں تاشب قدر میں جاگتا ہے، اس کے پاس آتے ہیں فرشتے اور مصافحہ کرتے ہیں اور وقت دعا کے آمین کہتے ہیں۔‘‘

پرچہ اخبار مذکور بالا شامل ہے ملاحظہ فرمایا جاوے۔ جس کی گواہ نے آج تک تردید نہیں کی اور نہ کرسکتا ہے۔ یہ ایک زبردست شہادت ہے۔ مسلمانوں کی ریاست کے مسلمان اخبار میں ایسے مضمون کا شائع ہونا اور بلا تردید قبول کیا جانا۔ اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ گواہ کا بیان غلط ہے۔ کیونکہ گواہ نے باوجود علم کے اس کی تردید کے لئے قلم نہ اٹھایا۔ گواہ کا بحیثیت شیخ الجامعہ ہونے کے فرض تھا کہ وہ جس مسئلہ کو موجب ارتداد عن الاسلام گمان کرتا ہے اور پھر وہی مسئلہ ایک مسلمان کے قلم سے نکل کر بذریعہ مسلم اخبار مسلم ریاست میں شائع ہوتا ہے۔ پھر بغیر تأمل کے مقبول مسلمانان ہوتا ہے اور بقول گواہ’’نزول جبرئیل بعد آنحضرتﷺ کا قائل دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے

83

اوران کا نکاح فسخ ہوتا ہے۔‘‘ تو ایسے مسئلہ کے برخلاف اسی اخبار بالا میں اعلان کرتا اور’’ارتدادی رو‘‘ کو روکتا۔ مگر شیخ الجامعہ نے ایسا نہیں کیا اورمضمون بلا تردید مسلم اخبار میں نکل کر اس امر کا بیّن ثبوت ہوا کہ یہ مسئلہ شیخ الجامعہ کے نزدیک درست اور صحیح ہے۔ نہ بموجب خروج ازاسلام ورنہ شیخ الجامعہ نے اپنافرض کیوں بھلادیا؟ باقی رہا اتفاق کا مسئلہ جو طویل البحث ہے۔ اگر عدالت موقعہ دے تو میں اس کا بطلان ثابت کرسکتا ہوں۔ اہل اسلام کے اکثر فرقوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ جو اﷲ کا سچا رسول اور نبی تھا اورازیں وجہ آپ کی نبوت کا منصب سلب نہیں ہوا۔ آخر زمانہ میں اصلاح امت کے واسطے نزول کریں گے اور یہی عقیدہ گواہ کا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ ایسے فرقوں کا اعتقاد ہے کہ بعد رسول اﷲa نہ نبوت بند ہے نہ نزول جبرئیل ورنہ ہزاروں برس کے بعد بغیر نبوت ووحی اور نزول جبرئیل کے حضرت عیسیٰ کا تشریف لے آنا عبث ہوگا۔ جو منافی شان نبوت ہے۔

۴… گواہ کا بیان کرنا کہ ایسے اعتقاد والے شخص کا میرے نزدیک سنیہ عورت کے ساتھ نکاح نہیں رہتا۔ بالکل غلط اور بیہودہ بات ہے۔ فتویٰ کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲa پر ہونا چاہئے نہ کسی کی شخصی وذاتی رائے پر اور وہ شخص بھی ایساجو فتویٰ دینے میں عدلین کے بجائے اپنی رائے اور خیال کو مستند و متمسک کرے۔ کوئی شخص جو حسب مفہوم میرے عقائد ماخوذہ از قرآن کریم و سنت رسول کریمa کے توحید اور نبوت آنحضرتﷺ کا اقرار کر کے مسلمان ہوچکا ہے۔ وہ بغیر انکاران ہر دو اصولوں کے غیر مسلم نہیں ہوسکتا۔ یہ گواہ کا بے دلیل تحکم ہے۔

۵… علمائے ہندوستان کے دامن میں گواہ کا ہاتھ ڈالنا اور عدلین کا مطلقاً نام نہ لینا ثابت کرتا ہے کہ گواہ کے پاس اﷲتعالیٰ کی کتاب اور سنت نبویa سے کوئی دلیل نہیں جو میرے برخلاف ہو۔ علماء کے ایک فرقہ کے دوسرے فرقہ پر فتاویٰ کفر شائع شدہ دائر وسائر ہیں۔ کتابیں چھپی ہوئی ہیں۔ اگران فتوئوں پر اعتماد کیا جائے یاان کی کوئی وقعت ہو تو ہندوستان میں کوئی نکاح نادر ہوگا جو بحال رہاہو۔ شیعوں کے سنیوں کے خلاف، سنیوں کے شیعوں کے برخلاف فتویٰ کفر شائع شدہ ہیں۔ مگر نکاح بدستور بحال ہیں اور باہم ہورہے ہیں۔ بریلویوں کے دیوبندیوں کے برخلاف، دیوبندیوں کے بریلویوں کے بر خلاف فتویٰ کفر صادر ہیں اور مطبوعہ موجود ہیں۔ مگر ان فتووں کی کوئی وقعت نہیں ہے اور نکاح بھی کسی کے فسخ نہیں ہوئے۔ علماء کاایک دوسرے کوکافر کہنا معمولی بات ہے۔ ایسی باتوں پر اعتماد کرنا بعید از دانشمندی ہے۔ مولوی عزیز الرحمن صاحب اور مولوی خلیل احمد صاحب کے بجائے اگر سارا دیوبند اور سہارنپور جو امکان کذب باری تعالیٰ جیسے اسلام دشمن مسئلہ کے قائلوں کے مرکز ہیں۔ اکٹھے ہو کرکسی مسلم پرفتویٰ ارتداد بغیر انکار توحید الٰہی اور رسالت عظمیٰ آنحضرتﷺ کے صادر کریں تو اس کی قدروقیمت وہی ہو گی۔ جو ان کے عقیدہ کتب باری تعالیٰ کی اور دیگر فتوئوں کی ہے۔

۶… یہ درست ہے کہ ارتداد سے شرعی نکاح نہیں رہتا۔ مگر مرتد و ہ ہوتا ہے جو اﷲتعالیٰ کی توحید اور آنحضرتﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کے کلام ہونے اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی فرضیت کے اقرار کے بعد منکر ہو جاوے۔ میرا عقیدہ اس کے بر خلاف شامل مسل ہے جس پر گواہ کوکلام کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کو اسلامی صحیح عقیدہ تسلیم کیا ہے۔ میرے صریح شائع شدہ وپیش کردہ عدالت، عقیدہ کے بر خلاف گواہ کا مجھے مرتد قرار دینا خلاف واقع اور غلط ہے۔ تعصب نے اس کو ایسے غلط بیان دینے پر مجبور کیا ہے۔ ورنہ ہم آنحضرتﷺ کو ایسا نبی مانتے ہیں کہ آپa کی امت مرحومہ کو آپa کے اتباع اور آپ کے طفیل ایسی شان مل سکتی ہے۔ جو مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کی وجہ سے نبیوں کی شان ہے۔ یہ آنحضرتﷺ کے نہ ختم ہونے والے کمالات نبوت کا اظہار ہے اورآپa کی عظمت کا اقرار۔

84

۷… گواہ کا بیان کرنا کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ درج کیا ہے کہ میں تشریعی نبی ہوں، بالکل غلط ہے۔ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔’’ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جوکتاب اﷲ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو ہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘

(بدرج۷نمبر۹ ص۲ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء)

علاوہ بریں کتاب (عقائد احمدیہ مطبوعہ باردوم ۲۰؍اکتوبر۱۹۲۷ء ص۵۷تا ۷۴) میں حضرت مسیح موعود نے گواہ کے بیان کے برخلاف صریح اور صاف الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ آپ تشریعی نبی نہیں بلکہ آپ کی مراد’’ختم نبوت سے یہ ہے کہ تمام کمالات نبوت آنحضرتﷺ پر ختم ہیں۔ جو کہ تمام رسولوں سے افضل ہیںاور تمام نبیوں سے اکمل اور ہمارا اعتقاد ہے کہ آپa کے بعد کوئی پیغمبر نہیں لیکن وہی شخص جو آپ کا امتی ہو اور آپ کی روحانیت سے فیض یافتہ کیونکہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔‘‘ (عقائد احمدیہ ص ۶۵،۶۶) میرا بھی وہی عقیدہ ہے جواس کتاب میں درج ہے۔ ملاحظہ فرمایا جاوے۔ کسی احمدی کا حضرت مسیح موعود کے متعلق تشریعی نبی ہونے کا عقیدہ ہر گز نہیں ہے۔ یہ گواہ کا غلط استنباط ہے۔ خود حضرت مسیح موعود اورآپ کے جانشین اور تمام احمدی جماعت اور من مدعاعلیہ آنحضرتﷺ کے بعد نئی شریعت لانے کا عقیدہ ہر گز نہیں رکھتے۔ بلکہ ایسا دعویٰ کرنے والے کو اور شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرنے والے کو کافر سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی نبوت سے ہماری مراد یہ ہے کہ حضرت رسول اکرمa کے طفیل شرع محمدیa کے اتباع کے ذریعہ اﷲتعالیٰ اپنے فضل سے آپ سے ہم کلام ہوا اور اظہار علی الغیب کا مرتبہ عطا فرمایا اوریہ سب کچھ باتباع شرع محمدی کے طفیل اور بتوسط ارتباط آنحضرتﷺ حاصل ہواتو ایسے عقیدہ سے آنحضرتﷺ کی نبوت کاملہ تامہ کی عظمت وبرتری ثابت ہوتی ہے نہ کہ منقصت شان مصطفویa۔

۸… گواہ کا علماء کی رائے کو بار بار ظاہر کرنا جن کے ایک دوسرے کے برخلاف فتویٰ کفر کے لگ چکے ہیں اورشائع شدہ ہیں سراسر تحکم ہے اور صداقت پر مبنی نہیں قرار دئیے جاسکتے۔

۹… گواہ کا کابل میں احمدی کی سنگساری کو اپنے بیان میں سند گرد اننا بھی ایسا ہی بے وقعت ہے جیسا بعض ہندوستان کے علماء کے فتویٰ کو سند بنانا۔ کابل کے علماء کے متعلق خود امیر صاحب کا بل کی تقریر بمقام کراچی ان کی قدروقیمت کو ظاہر کرنے کے واسطے کافی ہے۔ ملاحظہ ہو (اخبار الفضل نمبر۵۱ ج۷ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍دسمبر ۱۹۲۷ء) ’’اگر کوئی برا نہ مانے تو میں ایک خاص بات کہنا چاہتا ہوں جس کی نسبت میں نے کابل اور قندھار میں بھی لوگوں کو سمجھایا تھا اور وہ بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں نادان اور ناسمجھ ملائوں نے ایک نہایت افسوسناک حالت پیدا کردی ہے۔ ان ملائوں نے لوگوں کو کسی قسم کا فائدہ پہنچائے بغیر ان کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔ نیز فرمایا کہ میں اس قسم کی ملائیت سے بیزار ہوں۔ ان لوگوں کا یہ فرض ہے کہ اپنے ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں اور جو ملا صرف اپنی اغراض پوری کرنے کا آرزو مند ہو وہ کبھی اپنے ملک کی اصل خدمت انجام نہیں دے سکتا۔‘‘

۱۰… گواہ کا بیان کرنا کہ دمشق میں ایک احمدی حال میں قتل کیاگیا ہے۔ سراسر افتراء ہے۔ کوئی احمدی دمشق میں قتل نہیں کیا گیا۔ ہمارا احمدی مبلغ بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے۔ برٹش کونسل مقیم دمشق، عدالت کے دریافت کرنے پر گواہ کے بیان کے خلاف اطلاع دے سکتا ہے۔ گواہ نے ہماری دل آزاری کی غرض سے بغیر تحقیق ایک خلاف واقع امر کابیان کیا ہے۔

۱۱… گواہ کا بیان کرنا کہ من مدعاعلیہ ختم نبوت آنحضرتﷺ کا منکر ہے۔ سراسر غلط ہے۔ قرآن کریم میں سورۃ الاحزاب میں اﷲتعالیٰ نے آپ کو صریح الفاظ میں خاتم النّبیین کر کے پکارا ہے۔ احادیث نبویہa میں خود حضور انورa کی زبان مبارک سے آپ نے اپنے متعلق یہ لفظ اطلاق فرمایا ہے۔ صحابہ کرامi علمائے سلف آپ کو خاتم النّبیین کے لفظ مبارک سے یاد فرماتے تھے تو پھر اتنے دلائل

85

کے ہوتے ہوئے گواہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرتﷺ کو نعوذباﷲ! خاتم النّبیین تسلیم نہیں کرتا۔ حالانکہ گواہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ میرے عقائد عام مسلمانوں کے ہیں میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں آنحضرتﷺ کو سید الرسل، فخر الانبیاء، خاتم النّبیین یقین کرتا ہوں اور یہی میرا ایمان ہے… میرے آقاحضرت مسیح موعود نے ہمیں جو تعلیم دی ہے۔ یہ ہے کہ ’’ عقیدہ کے روسے جو خدا تعالیٰ تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمدa اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب اس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنے بیج سے جدا ہے۔‘‘ (کشتی نوح ص ۱۵، خزائن ج۱۹ ص ۱۴) پھر ہمارے امام موجودہ جانشین حضرت مسیح موعود حضرت بشیر الدین مرزا محمود احمد ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز! بایں الفاظ ہم سے بیعت لیتے ہیں: ’’آنحضرتa کو خاتم النّبیین یقین کروں گا۔‘‘

(عقائد احمدیہ ص۸۶-۸۷)

جب قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ نے صاف طور پر آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین پکارا اور آپ نے اپنے آپ کو خاتم النّبیین سے موسوم فرمایا اور صحابہ کرام آپ کو خاتم النّبیین کہتے تھے اور حضرت مسیح موعود ہم سے عہد لیتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء کہا جائے اورپھر آپ کے بعد آپ کے جانشین ہم سے بیعت لیتے ہیں اور اس امر پر سخت تاکید کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کیا جائے تو پھر من مدعاعلیہ کے لئے ضروری نہیں بلکہ قطعی طور پر فرض ہے کہ میں آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کروں۔ کیونکہ من مدعاعلیہ نے حضرت مسیح موعود اورآپ کے جانشینوں سے اس شرط پر بیعت کی ہے کہ میںآنحضرتa کو خاتم النّبیین یقین کروں گا اور میں تامرگ اس پر قائم رہوں گا اور اب بھی قائم ہوں۔ فالحمد ﷲ! کیونکہ صرف یہی خاتم النّبیین ہی ایک ایسا پاک اسم ہے جو مخصوص طور پر آنحضرتﷺ کو عطا فرمایا گیا ہے جو آپ کے کمالات مستمرہ کا آئینہ ہے۔ ہاں! معنوی طور پر نہ لفظی طور سے من مدعاعلیہ گواہ سے مختلف ہے نہ اصلی معنی کے لحاظ سے بلکہ گواہ کے مخترع معنی ہے اور وہ اس طرح پر کہ خاتم النّبیین کا لفظ نہ کلام تام ہے نہ پوراجملہ۔ بلکہ اپنے معطوف علیہ لفظ رسول اﷲ سے مرتبط ہو کر جملہ بنتا ہے اور لکن حرف استدراک کے بعد واقع ہے جو پہلی کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دورکرتا ہے۔ یعنی ’’ماکان محمد احد من رجالکم (احزاب:۴۰)‘‘ سے یہ وہم پیدا ہوتاتھا کہ امت مرحومہ کو آنحضرتﷺ کے ساتھ کسی قسم کی ابوت ونبوت کا تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس وہم کا تدارک کیا کہ ایسی ابوت کا تعلق باقی ہے جو امت کو رسول کے ساتھ ہے اور رسول بھی ایسا جس پر تمام کمالات نبوت ختم ہوچکے ہوں اور ظاہر ہے کہ لفظ خاتم النّبیین میں دو لفظ ملائے گئے ہیں: (۱)’’خاتم‘‘ (۲)’’النّبیین‘‘ جس کے معنی مہر کے ہیں نہ کچھ اور۔ یہ بات ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ پیکر انسان تھے نہ خود بہ شکل مہر تو مہر کا مطلق ہونے سے آپ کا مہریت ہونا از قبیل تشبیہ ہوگا۔ تشبیہ میں غیبت مقصود نہیں ہوتی۔ بلکہ اظہار صفت مخصوصہ ہوتا ہے۔ تشبیہ میں وہی تاویل درست ہوتی ہے، جوماحول سے مطابق ہو۔ پس آنحضرتﷺ کا مہرہونا بایں معنی ہوا کہ آپ مصدق ہیں نہ مانع۔ کیونکہ مہر کی غرض تصدیق ہوتی ہے نہ منع۔ علاوہ ازیںآپa نبیوں کی مہر ہیںیعنی آپa نے انبیاء کی تصدیق فرمائی۔ نہ منع، یعنی آپ نے نبیوں کو آنے سے منع نہیں فرمایا۔ بلکہ ان کی نبوت کی تصدیق فرمائی ہے ’’وصدق المرسلین (صافات:۳۷)‘‘ نہ منع۔ انبیاء کاکام تصدیق کرنا ہوتا ہے نہ منع۔ بموجب آیۃ ’’واذ اخذ اﷲ میثاق النّبیین… لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران:۸۱)‘‘ ختم نبوت کے متعلق قائلین منع نبوت غلطی خوردہ ہیں۔ ازیں وجہ گواہ نے غلط بیان دیا ہے۔ قرآن مجید میں لفظ خاتم النّبیین بفتح تاء آیا ہے جو بمعنی مہر ہے۔ یعنی آپ مصدق ہیں نبیوں کی تصدیق کی نہ منع اور النّبیین سے مراد کل یا بعض نبی دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ پس خاتم النّبیین کے معنی ہوئے کہ آپ نے تصدیق کی۔ کل یا بعض نبیوں کی یا مصدق ہیں۔ گزشتہ بعض نبیوں کے نہ سب کے، یامصدق ہیں۔ آنے والے معہود نبیوں کے یامصدق ہیں۔ سب کے

86

سب نبیوں کے اوّلین وآخرین کے اور یہی معنی مقصود بالذات ہیں اور سب سے ارجح ہیں۔ کیونکہ آپ کی صفت تصدیقیہ سے علی وجہ الاتم مطابقت کاملہ رکھتی ہیں۔ اگر وہ معنی لئے جاویں جو گواہ نے لئے ہیں تویہ معنی خاتم کے ہوں گے۔ (۱)منع کیا آپ نے سب کے سب نبیوں کو۔ یہ ’’صدق المرسلین (صافات:۳۷)‘‘ کے برخلاف ہے۔(۲)منع کیا آپa نے بعض نبیوں کو یہ ’’یٰبنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم (اعراف:۳۵)‘‘ ترجمہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی اگر آویں تمہارے پاس پیغمبرتم میں سے الخ کے مخالف ہے تو اگر ہم مصدق سے روگردانی کر کے مانع والے معنی مراد لے ویں تو آپ کی صفت تصدیقیہ سے انکار کرنا پڑتا ہے جو موجب ضلالت ہے۔ قرآن کریم پر ادنیٰ تامل سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ آپ مصدق ہیں۔ مانع نہیں ملاحظہ ہو: (۱)’’مصدق لمامعکم (آل عمران:۸۱)‘‘ (۲)’’مصدقا لما بین یدیہ (احقاف:۳۰)‘‘ اور یہ صفت قرآن کریم میں بکثرت وارد ہے۔ مگر صفت مانع یا صراحۃً یا دلالۃً یا درایۃً یا اشارۃً یا کنایۃً کہیں بھی مذکور نہیں۔ کیونکہ یہ آپ کی صفت تصدیقیہ کے برخلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ خاتم النّبیین کے معنی منع انبیاء لینا قرآن کریم اور خاتم النّبیین کی صفت تصدیقیہ کے برخلاف ہے اور آپ کی تکذیب کرنا ہے جو غلط ہے اورگواہ کا منع انبیاء کے معنی لینا جو غیرمذکورفی القرآن ہیں اور من مدعاعلیہ پرحملہ کرنا اور فتویٰ ارتداد لگانا نہ صرف غلط بلکہ قرآن کریم اور خاتم النّبیین کے سخت مخالف ہے اور اسلام سوز ہے۔ گواہ نے جومعنی خاتم النّبیین کے لے کر من مدعاعلیہ پر فتویٰ ارتداد لگانا چاہاہے اس کاثبوت قرآن کریم میں ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ اس لئے گواہ نے کوئی آیت پیش کرنے کی بجائے صرف اپنی رائے کو پیش کر کے ثابت کردیا ہے کہ اس کے اختراعی اور خلاف قرآن کریم معنی غلط اور بودے ہیں۔ کتاب اﷲ میں یہ معنی ہرگز نہیں ملتے۔ برخلاف معنی منع انبیاء کے وہ معنی جو صفت تصدیقیہ آنحضرتﷺ کے ماتحت ہیں اوراس کے مطابق قرآن کریم میں کئی مقام پر مذکور ہے۔ اﷲتعالیٰ کا اسم مرسل اور منذر قرآن کریم میں مذکورہے اور صفت ارسال رسل بھی موجود ہے۔ بلکہ آنحضرتﷺ کی نبوت صادقہ کی تصدیق واثبات کے لئے اﷲتعالیٰ نے اپنی انہیں اسماء وصفات کا ذکرفرمایا ہے جن سے ثبوت کوانعام الٰہی یقین کیاجاتا ہے جوکبھی بھی منقطع نہیں ہوتا۔ ملاحظہ ہوں آیات ذیل۔

۱… ’’ماکنت ثاویا فی اھل مدین… ولٰکنا کنا مرسلین (قصص:۴۵)‘‘

۲… ’’امرً من عندنا انا کنا مرسلین (دخان:۵)‘‘

۳… ’’اﷲ یصطفی من الملٰئکۃ رسلاً ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘

۴… ’’وماکان اﷲ لیطلعکم علی الغیب ولکن اﷲ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران:۱۷۹)‘‘

۵… ’’جاعل الملٰٓئکۃ رسلاً (فاطر:۱)‘‘

۶… ’’وعجبو ان جاء ھم منذرمنھم (ص:۴)‘‘

۷… ’’انّاانزلنٰہ فی لیلۃٍ مّبارکۃٍانّاکنّا منذرین (دخان:۳)‘‘

۸… ’’او عجبتم ان جآء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم لینذرکم (الاعراف:۶۳)‘‘

۹… ’’بل عجبوا ان جآء ھم منذرٌمنھم (ق:۲)‘‘

۱۰… ’’ینزل الملٰٓئکۃ بالرّوح من امرہ علٰی من یشاء من عبادہٖ (نحل:۲)‘‘

۱۱… ’’یختص برحمتہ من یشآء (آل عمران:۷۴)‘‘

۱۲… ’’فلن تجد لسنۃ اﷲ تبدیلاً ولن تجد لسنۃ اﷲ تحویلاً (فاطر:۴۳)‘‘

87

ان آیات سے بالوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خاتم النّبیین بمعنی نبوت انبیاء نہیں ہے۔ کیونکہ یہ آیات روکتی ہیں۔ اﷲتعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں مرسل و منذر ہے اور یہ صفاتی نام شامل ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان اسماء کو معطل قرار دے کر ’’لم یزل لایزال‘‘ کی ارفع شان پرحملہ کریں اور اپنا عقیدہ گھڑیں۔ ان آیات سے صرف اورصرف یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اﷲتعالیٰ مرسل اور منذر ہے اور یہ صفات مستمرہ ہیں۔ ان میں تعطیل و تعطل اور تحّول ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے توآیات بالا سے منہ پھیرنا خدا تعالیٰ کی صفت ارسال رسل کو غلط ٹھہرانے کے مرادف ہے جو کبھی بھی انقطاع پذیر نہیں ہوسکتی۔ خدا کی صفات ہمیشہ ہمیش چلی آئیں ہیں اور چلی جائیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر قسم کی نبوت کو بندکرنا۔ خدا تعالیٰ کا اور اس کی کلام کا اور اس کی صفات کا مقابلہ کرنا اور ان کو غلط ٹھہرانا ہے۔

احمدیوں کا اعتقاد ہے کہ شریعت والی نبوت جو کامل شریعت اور منسوخ ہونے سے پاک اور جس میں تغیر تبدل ناممکن ہو وہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیہ ہے اور جو قرآن کریم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ایسی شریعت کا دروازہ قطعاً مطلقاً بند ہے۔ اب نہ کوئی شریعت نئی آسکتی ہے نہ آئے گی۔ ناسخ شریعت کا دروازہ آنحضرتﷺ کے بعد قطعاًبند ہے۔ ہاں! آپ کے اطاعت میں اوراتباع میں بباعث کمال تعلق مودت وفنا فی الرسول کی وجہ سے سیرت صدیقیہ کادروازہ جس کے ذریعہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ واظہار علی الغیب امت محمدیہ کے کامل فرد ہمیشہ ہمیش کھلارہے گا۔ تاثابت ہوا کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے، قرآن کریم زندہ کتاب ہے۔ آنحضرتﷺ زندہ رسول ہے اورخاتم النّبیین ہے۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’آنحضرتa کویہ فخردیاگیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوۃ ان پر ختم ہیں اوردوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا نبی ہے کہ جو ان کی امت سے باہر ہو بلکہ وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ۹، خزائن ج۲۳ ص۳۸۰)

گواہ نے جو حوالہ اربعین نمبر کا حوالہ دیا ہے وہ غلط ہے۔ حضرت مسیح موعود کا اور کسی احمدی کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ بعدآنحضرتa کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے۔ بلکہ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ بعد آنحضرتﷺ نہ کوئی ایسانبی آسکتا ہے جو شریعت لائے۔ نہ ایسا نبی آسکتا ہے جو شریعت محمدیہ میں ایزاد کرے۔ نہ ایسا نبی آسکتا ہے جو اس میں کمی کرے۔ نہ ایسا نبی آسکتا ہے جو آنحضرتﷺ کا تابع اور امتی نہ ہو۔ نہ ایسا نبی آسکتا ہے جو آنحضرتﷺ کے وسیلے اور فیض کے سواوحی کا درجہ پایاہو۔پس بایں معنی سے آنحضرتﷺ کے بعد ایسی نبوت کا دروازہ جو ہمارے عقیدہ کے برخلاف ہو۔ بند ہے اور انہیں معنی سے آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہیں اور سید الانبیاء ہیںa۔

خاکسار : عبدالرزاق احمدی مدعاعلیہ سکنہ لودھراں ضلع ملتان

مؤرخہ ۲۹؍مارچ۱۹۲۸ء

88

فیصلہ جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور

مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۲۸ء

جس کی رو سے باتباع فیصلہ چیف کورٹ بہاول پور

مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۲۳ء بعنوان مقدمہ جند وڈی بنام کریم بخش

مقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت الٰہی بخش خارج کیاگیا

تجویز آخر باجلاس جناب منشی محمد اکبر خان صاحب بی۔اے، ایل۔ایل۔بی، ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

بمقدمہ مسمات غلام عائشہ بنام عبدالرزاق دعویٰ تنسیخ نکاح

فیصلہ

یہ مقدمہ من جانب مسماۃ غلام عائشہ اپنے خاوند عبدالرزاق کے خلاف برائے تنسیخ نکاح بدیں بیان دائر کیا ہے کہ مدعیہ کے ایام صغر سنی میں اس کے والد نے اس کا نکاح مدعاعلیہ کے ساتھ بموجب احکام شرع شریف کرایا۔ جس کوعرصہ چودہ ، پندرہ سال کا ہوگیاہوگا۔

مدعیہ اب تک نابالغ رہی۔ عرصہ دوسال سے بالغ ہوئی ہے۔ لیکن اس کے خاوند نے مذہب اہل سنت والجماعت ترک کر کے قادیانی مذہب اختیار کرلیا ہے۔ اس مذہب اختیار کرنے سے وہ مرتد ہوگیا ہے اور بوجہ ارتداد مدعاعلیہ مدعیہ کا نکاح فسخ ہوچکا ہے۔ اس لئے مستحق انفراق زوجیت ہے۔ اس لئے یہ قرار دیاجائے کہ مدعیہ بوجہ مدعاعلیہ کے مرزائی ہوجانے کے وہ اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی اور مدعاعلیہ کے ساتھ اس کا نکاح بوجہ ارتداد مدعاعلیہ نہیں رہا۔

مدعاعلیہ نے اوّل تو اپنے مرزائی ہونے سے انکارکیا۔ دوسرایہ کہا: اگر مدعیہ یہ ثابت کر بھی دے کہ وہ یعنی مدعاعلیہ فرقہ قادیانیہ سے تعلق رکھتا ہے تو بھی اس حالت میں نکاح قابل تنسیخ نہیں ہے۔

یہ مقدمہ پہلے عدالت منصفی احمد پور شرقیہ میں دائر تھا۔ بحکم ۷؍مئی ۱۹۲۷ء عدالت عالیہ چیف کورٹ عدالت ہذا میں منتقل ہوکر آیا۔ منصف صاحب احمد پور شرقیہ نے حسب ذیل امور تنقیح طلب قرار دئیے۔

۱… کیا مدعاعلیہ مذہب قادیانی یا مرزائی اختیار کرچکا ہے اورا س لئے ارتداد لازم آتاہے۔

۲… اگر تنقیح بالا مدعیہ ثابت ہوتوکیا نکاح فی مابین فریقین قابل انفساخ ہے۔

تنقیح اوّل کے ثبوت میں مدعیہ کی طرف سے مدعاعلیہ کی شہادت بطور گواہ قلم بند کی گئی۔ اس میں مدعاعلیہ نے تسلیم کیا کہ وہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود تسلیم کرتا ہے اور ساتھ ہی نبی بھی مانتا ہے اور بیان کیا کہ وہ سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہوچکا ہے اورمرزا صاحب کو نبی مانتا ہے۔ اسی معنی میں جیسا کہ دیگر انبیاء ہیں کہ ان پر وحی اورالہام وارد ہوتے تھے۔ گویا اس بیان سے اس نے یہ تسلیم کرلیا کہ وہ مذہب قادیانی یا مرزائیت اختیار کرچکا ہے۔ مدعاعلیہ کی اس تسلیم کے بعد باقی دوسوال قابل بحث رہ جاتے ہیں۔

89

ایک: یہ کہ کیامذہب مرزائیت اختیار کرنے سے ارتداد واقع ہوجاتا ہے۔ دوسرا: یہ کہ اگر یہ پایا جائے کہ اس مذہب کے قبول کرنے سے اس کا پیرومرتد ہوجاتا ہے تو کیا اس صورت میں اس کا نکاح اہل سنت والجماعت عورت کے ساتھ فسخ ہوجاتا ہے۔

یہ ہر دوسوالات پہلے ریاست ہذا میں بمقدمہ مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش زیر بحث آکر عدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور سے آخری طور پر طے ہوچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو فیصلہ۷؍مارچ ۱۹۲۳ء عدالت عالیہ چیف کورٹ بمقدمہ اپیل مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش نباراضی حکم ۲۲؍اگست ۱۹۱۷ء عدالت ہذا۔

اس فیصلہ میں ہر دوسوالات پرمکمل بحث کی جاکر یہ قرار دیاگیا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے نہ کہ اسلام سے باہر اور کہ مرزائی مذہب اختیار کرنے سے سنی عورت کا نکاح فسخ نہیں ہوجاتا۔ اس قرارداد کی تائید میں عدالت عالیہ نے مدراس، پٹنہ اور پنجاب ہائی کورٹوں کے فیصلہ جات کے حوالے دئیے ہیں۔

مدعیہ کی طرف سے ان فیصلہ جات کی کوئی تردید پیش نہیں کی گئی۔ اس کا زیادہ تر انحصار علماء ہند کے فتویٰ پرہے۔ جن میں مرزائی مذہب کے پیرومرتد اور کافر قرار دئیے گئے ہیں اور یہ قرار دیا گیا ہے کہ اس مذہب کے اختیار کرنے سے سنی عورت کا نکاح خاوند کے ساتھ نہیں رہتا۔ فسخ ہوجاتا ہے۔

ان فیصلہ جات کی موجودگی میں تو یہ مقدمہ روز اوّل ڈسمس کئے جانے کے قابل تھا۔ لیکن میں نے اس خیال سے کہ شاید ان فیصلہ جات کی تردید میں کوئی نیا فیصلہ صادر ہوا ہو، مدعیہ کوکافی عرصہ مہلت دی کہ وہ ان فیصلہ جات کے خلاف کوئی سند پیش کرے۔ لیکن اس نے بجز فتویٰ پر اصرار کرنے کے کوئی تردیدی فیصلہ پیش نہیں کیا۔ عدالت ہذا سے بھی ہندوستان کے مستند دارالعلوم سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس مذہب مرزائیت کے متعلق علماء بیرون ہند کی کیا رائے ہے اور کہ ان کے نزدیک اس مذہب کے اختیارکرنے والا مرتد ہوجاتا ہے اور اس ارتداد کی وجہ سے اس کا نکاح سنی عورت کے ساتھ فسخ ہوجاتا ہے۔ لیکن اس قسم کا فتویٰ کہیں سے دستیاب نہیں ہوا۔

ذاتی طور پر تومیری رائے یہ ہے کہ ریاست چونکہ ایک اسلامی ریاست ہے اور سوال زیربحث ایک حل اور حرمت کا سوال ہے۔ اس لئے اس کا تصفیہ بہ پابندی باحکام شرعی ہونا چاہئے نہ کہ اتباع انگلو اینڈین محمدن لاء کے جس پر کہ فیصلہ جات محّولہ بالا مبنی ہیں۔

لیکن میری یہ رائے بمقابلہ فیصلہ جات عدالت ہائے اعلیٰ کوئی وقعت نہیں رکھتی اور میں مجبور ہوں کہ اس بارے میں عدالت عالیہ چیف کورٹ پنجاب وعدالت عالیہ چیف کورٹ بہاول پور کی تقلید کروں اس لئے باتباع فیصلہ جات محولہ بالا مدعیہ کی حجت پر کوئی التفات نہیں کرسکتا اور اس سوال کو عدالت ہائے اعلیٰ کے لئے کھلا چھوڑتے ہوئے دعویٰ مدعیہ ڈسمس کرتا ہوں۔ نوعیت مقدمہ کے لحاظ سے میں مناسب سمجھتاہوں کہ فریقین اپنا اپنا خرچہ برداشت کریں۔ مختار مدعیہ حاضر ہے۔ اسے حکم سنایا گیا۔

مسل داخل دفتر ہو۔ ۲۱؍ نومبر ۱۹۲۸ء ۷؍جمادی الثانی ۱۳۲۷ھ دستخط: محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

90

فیصلہ مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش

مصدرہ ۷؍مارچ ۱۹۲۳ء … چیف کورٹ بہاول پور

تجویز اخیر بااجلاس عالی جناب مہتہ اود ہوداس صاحب بہادر جج چیف کورٹ بہاول پور

مثل نمبری:۷۴ تاریخ مرجوعہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۱۷ء تاریخ فیصلہ ۷؍مارچ ۱۹۲۳ء

مسماۃ جندوڈی زوجہ کریم بخش ودوست محمد ولد محمد بخش اقوام پونگر سکنہ ہائے اوچ متبرکہ مدعاعلیہم

بنام

اپیلانٹ کریم بخش ولدحیات ذات پونگر سکنہ اوچ متبرکہ مدعی، رسپانڈنٹ

(اپیل بنا راضی حکم ۲۲؍اگست ۱۹۱۷ء صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور)

(جس کی رو سے بہ منظوری اپیل دعویٰ بمعہ خرچہ ڈگری کیاگیا بمراد منسوخی اس کے)

فیصلہ

منشی محمد اکبر خان صاحب منصف درجہ اوّل بہاول پور نے بحکم ۱۰؍مارچ ۱۹۱۷ء دعویٰ خارج کیا۔ صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور نے بحکم ۲۲؍اگست ۱۹۱۷ء دعویٰ ڈگری کیا۔ عدالت ہذا میں اپیل ہوئی جو ستمبر ۱۹۱۷ء سے دائر ہے۔ مفصل واقعات عدالت ابتدائی کے فیصلہ میں درج ہیں۔ اہم سوال یہ تھا کہ مدعی احمدی ہوجانے سے مسلمان نہیں رہا اور اس لئے اس کا نکاح مسماۃ جندوڈی مدعاعلیہ سے جو بموجب شرع شریف ہوا، فسخ ہوگیاہے۔ عدالت ابتدائی نے قرار دیا کہ تقریباً تمام ہندوستان کے اکثر علماء متفق الرائے ہیں کہ مرزائیوں(مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرووں کو کہیں احمدی، کہیں مرزائی کہاجاتاہے) کہ بعض اعتقادات ایسے ہیں جو کفر اورالحاد کی حد تک پہنچتے ہیں۔ ان علماء میں سے اکثر مدرسہ عربیہ دیوبند کے تعلیم یافتہ ہیں اور آج کل ہندوستان میں دیوبند علم فقہ کا مستند دارالعلوم خیال کیا جاتا ہے۔ اس لئے احمدی کو مسلمان نہیں سمجھاجاسکتا۔ صاحب ڈسٹرکٹ جج نے قرار دیا کہ پٹنہ اور پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلہ جات کی رو سے احمدیوں کو مسلمان سمجھا گیا ہے۔ اپیل میں اصرار کیاگیا ہے کہ علمائے دین ملک ہند، عرب،عجم کی رو سے احمدی مسلمان سمجھے گئے ہیں۔

عدالت ہذا میں اپیل کی مسل باقاعدہ پیش نہیں ہوتی رہی۔ ۱۵؍اگست ۱۹۱۸ء کو پیش ہونی تھی۔ اس کے بجائے۲۵؍اکتوبر ۱۹۱۸ء کو پیش ہوئی۔ تاریخ مذکور پر جناب میر (جناب میر سراج الدین صاحب بہادر چیف جج سابق ریاست بہاول پور )صاحب بہادر کے اجلاس سے ایک حکم لکھاگیا کہ ہر دوفریق کے مستند علماء کو طلب کیا جاوے۔ ایک فریق سے پوچھا جاوے کہ مرزا صاحب کے کون سے ایسے اعتقاد ہیں جوان کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہیں، دوسرے فریق سے پوچھا جاوے کہ وہ ان اعتقاد وں کو مرزاصاحب سے منسوب کرتے ہیں یانہ۔ نیز ایک تنقیح اس بارہ میں قائم ہو کہ گومدعی مرزا صاحب کے ان معتقدات کا جو اصلی حنفی مذہب کے مغائر ہیں قائل ہیں۔

91

تاہم چونکہ وہ اپنے آپ کو مرزا صاحب کا لفظاً مرید کہتا ہے۔ آیا وہ داد رسی متدعویہ حاصل نہیں کرسکتا۔ یہ بھی نوٹ کیاگیا کہ پٹنہ اور پنجاب کے فیصلہ جات ہائی کورٹ کا جو حوالہ صاحب ڈسٹرکٹ جج نے دیا ہے وہ کافی نہیں۔ فریقین کو اس تاریخ پیشی کا علم نہ تھاوہ بلائے گئے۔

کریم بخش مدعی رسپانڈنٹ نے ۲۸؍فروری ۱۹۲۰ء کو عدالت ہذا میں یہ بیان دیا کہ میں مرزائی نہیں۔ مجھے توبہ کرائی جاوے۔ ۲۲؍جولائی ۱۹۲۰ء کویہ بیان کہ میں مرزا صاحب کی بیعت ہوں جو نہیں چھوڑوں گا۔ جس کو اس کے عقیدہ کی خبر نہیں انہوں نے کوئی بات خلاف شریعت مجھ کو نہیں سکھلائی۔ اس کے عقیدہ کو ایک کتاب پیش کرتا ہوں۔ وہ دیکھی جائے (کتاب قسم الوکیل مؤلفہ مولوی فضل الدین پلیڈر احمدی دسمبر ۱۹۱۹ء) تب مسل بلا تاریخ ملتوی ہوئی اور ۹ ؍ جنوری ۱۹۲۱ء کو پیش ہوئی۔ اس تاریخ فریقین کو طلب کیاگیا اور مسل وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہی۔ آخر ۹؍مئی ۱۹۲۱ء کو اجلاس جناب میر صاحب بہادر سے حکم ہوا کہ مولوی عبدالقیوم صاحب اور مولوی سلطان احمد صاحب سے دریافت کیا جاوے۔ اس کے بعد مسل ایک دفعہ ۱۸؍جون ۱۹۲۱ء کو پیش ہوئی جس پر لکھا گیا کہ مولوی سلطان احمدصاحب واپس نہیں آئے۔ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۱ء کو پیش ہو۔ اس کے بعد مسل عرصہ دراز تک پیش نہ ہوئی۔ نہ کوئی فتویٰ مولوی صاحبان کا شامل ہوا۔

۱۱؍فروری۱۹۲۳ء کو اہل مد نے اس مسل کو میرے پاس پیش کیا اور کہا کہ مسل جناب میر صاحب بہادر کے خاص غورمیں رہی ہے جواب رخصت پرتشریف لے گئے ہیں۔ اس لئے پیش کی جاتی ہے۔

میں دیکھتاہوں کہ مسل عرصہ دراز سے دائرہے اوربلاوجہ معرض تعویق میں آرہی ہے۔فریقین نے اس مقدمہ میں بہت مستند علماء کے فتاویٰ پیش کئے ہیں جو مطبوعہ کتب یا رسالہ کی صورت کی نہیں ہے۔ اگر اس کے ساتھ ان مفتی صاحبان کے فتویٰ جن کا ذکر حکم۹؍جولائی ۱۹۲۱ء میں زائد ہوجاوے۔ اس سے بھی کسی بڑی روشنی پڑنے کا احتمال نہیں۔بالخصوص حکم ۹؍مئی ۱۹۲۱ء کی اس وقت تک کوئی تعمیل نہیں ہوئی۔

برعکس اس کے مدراس ہائی کورٹ کا ایک تازہ فیصلہ نکلا ہے، جو معاملہ ہذا کے بالکل مطابق ہے اور اس مقدمہ کے فیصلہ کرنے میں بہت مدددیتا ہے۔اس میں ایک مسلمان شوہر احمدی ہواتھا۔ اس کی بیوی نے نکاح ثانی کر لیا۔ جس پر جرم دفعہ۴۹۴تعزیرات ہند چلاکر اس کو سزا دی گئی۔ سوال یہ اٹھایاگیاتھا کہ شوہر کے احمدی ہوجانے سے وہ کافر ہوگیا اور اس لئے اس کا نکاح اپنی بیوی سے ٹوٹ گیا۔

مقدمہ مذکور میں پہلا سوال یہ تھا کہ آیا کسی مذہب کے عقائد معلوم کرنے کے لئے اس مذہب کے کسی خاص پیرو کی رائے پر حصر نہ کرنا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ مجموعی طور پر اس مذہب کے لوگ بالعموم کیا مانتے ہیں۔ اس پر عدالت ہائی کورٹ کی رائے یہ تھی کہ مسئلہ اجماع (جس کے رو سے کثرت رائے سے کسی مسئلہ کو ثابت قرار دیاجاتاہے) مسلمانوں میںپورے طور پرنہیں ماناجاتا۔ لیکن اگر ہم مسئلہ اجماع کوتسلیم بھی کرلیں۔ تاہم ابھی تک مسلمانوں میں احمدیوں کی نسبت کوئی متحدہ رائے قائم نہیں ہوئی اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مسلمانوں میں عام طور پر یاہندوستان میں کوئی ایسا فیصلہ احمدیوں کے مسلمان یا غیر مسلمان ہونے کی نسبت ہوا ہے جن کو قطعی کہا جاسکے۔ ان حالات میں جہاں کوئی ایسا سوال پیدا ہو تو عدالتوں کو خود اپنی رائے سے اس کو طے کرنا چاہئے۔

اس اصول کو سامنے رکھ کر صاحبان جج ہائی کورٹ نے اپنے طور پر اس امر کو دیکھا کہ احمدیوں کے اعتقاد کیا ہیں اور کہ ان سے احمدیوں کو مسلمان کہنا چاہئے یا نہ، احمدیوں کے اعتقاد اس کی اپنی تصانیف سے معلوم کرنے چاہئیں۔ نہ کہ ان لوگوں کی تالیف اور تحریروں سے جو اس کو مسلمان نہیں مانتے۔ یہ امر تسلیم کیاجائے کہ احمدیوں کے عقائد صحیح طور ایک رسالہ مؤلفہ مسٹرشبیرعلی بی۔اے میں درج ہیں، جس

92

کوصدر انجمن احمدیہ قادیان پنجاب نے شائع کیا تھا۔ اس کتاب میں درج ہے۔ ’’ہم احمدی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔ حضرت مصطفیa پیغمبر اسلام ہمارا پیشوا اور رہنما ہے۔ ہمارے روحانی علم کا شراب خدا کی کتاب سے ہے جس کو قرآن شریف کہتے ہیں۔‘‘ اس رسالہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدی کلمہ کے قائل ہیں جس کے رو سے صرف ایک خدا وحد لا شریک ہے اور حضرت محمدصاحبa اس کے پیغمبر ہیں اور وہ ان کی پیغمبری اور قرآن شریف کی سند کو بالکل تسلیم کرتے ہیں۔ وہ متقدمین مسلمانوں سے صرف چند امور میں اختلاف کرتے ہیں جس کا ذکر اس رسالہ میں ہے۔ وہ چند امورذیل ہیں۔

۱… مسلمان کہتے ہیں کہ حضرت محمد صاحبa آخری پیغمبر تھے۔ جن سے خدا نے گفتگو کی اور کہ اس کے بعد وہ کسی سے گفتگو نہ کرے گا۔ احمدی کہتے ہیںکہ خدابموجب گزشتہ کے اب بھی اپنے پاک خادموں سے گفتگو کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔

۲… دونوں فریق مانتے ہیں کہ حضرت محمدa خاتم النّبیین تھے اور کہ اس کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں ہوسکتا۔ احمدی کہتے ہیں کہ نیا پیغمبر ہوسکتا ہے مگر وہ حضرت محمد صاحبa کا پیروہوگا اور اس کے پاس حضرت محمد کی مہر ہوگی۔

۳… احمدی کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد پیغمبر تھے۔ مگر اس کو پیغمبری حضرت محمدa سے ملی۔ جن کو خدا نے پیغمبر بنانے والا مقررکیاتھا۔ احمدی مانتے ہیں کہ زرتشت، بدھ، کرشن رام چند پیغمبران تھے اور یہ بات قرآن شریف کے مطابق ہے۔

۴… مسلمان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو بمعہ جسم کے صلیب پرچڑھنے سے پہلے خدا نے جنت میں بھیج دیا۔ احمدی کہتے ہیں کہ حضرت ممدوح صلیب پر چڑھائے گئے۔ لیکن وہ صلیب پر نہ چڑھے۔ وہ زندہ رہے کشمیر میں آکر مرے اوروہاںدفنائے گئے۔ احمدی کہتے ہیںکہ حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کی جو پیش گوئی ہے وہ اس طرح پوری ہوگئی کہ حضرت ممدوح بذاتہ نہ آویں گے بلکہ ان کی روح دوسرے میں داخل ہوگی اور ان کی روح مرزاصاحب میں داخل ہوگئی ہے۔ اس طرح پیش گوئی پوری ہوچکی ہے۔

۵… مسلمان کہتے ہیں کہ مہدی موعود جہاد کر کے اسلام کو تلوار سے پھیلائے گا۔ احمدی اس مسئلہ کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ مہدی اور مسیح ایک ہی ہیں اور کہ وہ اسلام کو بحث مباحثہ اور آسمانی علامات سے نہ کہ سختی سے پھیلائے گا۔

۶… احمدی، سلطان ترکی کو خلیفہ نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ ایک مسلمان اس گورنمنٹ کا وفادارہے ، جس کے تحت وہ رہتا ہے اور جو اس کی حفاظت کرتی ہے۔ ہائی کورٹ مدراس نے ان چند کا ذکرکرکے کہا ہے کہ یہ اختلاف ایسے نہیں جس کی بناپر احمدیوں کو مسلمان نہ کہا جاوے۔ بلکہ مرتد خیال کیا جاوے۔ وہ کلمہ کو مانتے ہیں۔ حضرت محمدصاحبa کی پیغمبری اور قرآن کے حکم کو مانتے ہیں۔ بلا شبہ مسلمان ہونے کے لئے یہی ضرورت شرائط ہیں۔جیسا کہ جسٹس امیر علی اورعبدالرحیم نے اپنی اپنی کتب میں لکھا ہے جو چند امور اختلاف کے ہیں وہ بنیادی امور نہیں اختلافی امور نمبر۵،۶ ایسی باتوںپر ہیں جس کو کسی صورت میں بنیادی نہیں کہا جاسکتا۔ حالات زمانہ کے مطابق اسلام کی اشاعت کے مختلف طریق یا مختلف حکومتوں کے ماتحت رہنے کی ضرورتیں پیداہوتی رہتی ہیں۔ اختلاف نمبر۴ سے بھی یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس سے اسلام کی کسی بنیادی بات سے انکار ہوجاتا ہے۔ اختلاف نمبر۳ کے متعلق جہاں یہ کہا گیا ہے کہ کرشن اوررام بھی خدا کے نیک خادم تھے اسی طرح جہاںیہ کہتا ہے کہ میںمسیح موعود ہوں۔وہاں دوسری جگہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کے الہام کو ماننے والا پورا پیغمبرنہیں کہاجاسکتا۔ کیونکہ یہ کہنا حضرت محمدصاحبa کی بے ادبی ہے اور کہ حضرت محمد صاحبa کے بعد کوئی ایسا پیغمبر نہیں ہوسکتا جو کہ شرع کے دینے والا ہو۔

93

اس کے واسطے دروازہ مکمل طور پربند ہوچکا ہے۔ صرف اس امر کا ماننا کہ مرزاصاحب مسیح موعود تھے۔ قرآن شریف کے کسی بنیادی مسئلہ سے انکار یا معتقدین کے اعتقاد کے برخلاف نہیں خیال کیا جاسکتا۔ تاوقتیکہ قرآن شریف کی کسی متذکرہ پیش گوئی کی بابت کسی قسم کا محاکمہ کرنا بھی ناجائز نہ خیال کیا جاوے۔ اختلاف نمبر۲ میں مرزا صاحب اسلام کے بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہیں اور خدا کی وحدانیت اور حضرت محمدصاحبa کی برتری کوقائم رکھتے ہیں۔اسی طرح ہائی کورٹ مدراس نے قراردیاہے کہ احمدی مسلمانوں کاایک فرقہ ہے کہ اسلام سے باہر ہے۔ پنجاب اور پٹنہ ہائی کورٹوں کے فیصلہ جات پہلے اس کے مطابق ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں اس مقدمہ کو اب معرض تعویق میں رکھنا غیر ضروری خیال کرکے میں صاحب ڈسرکٹ جج بہاول پور سے اتفاق کرتا ہوں اور جو ڈگری صاحب موصوف نے عطاکی ہے اس کو بحال رکھتا ہوں۔ اپیل نامنظور کی جاتی ہے نظر بحالات مقدمہ خرچہ فریقین بذمہ فریقین ہوگا۔

فریقین مدت سے غیر حاضرہورہے ہیں۔ حکم سراجلاس صادرکیاگیا۔ فریقین کو فیصلہ کی اطلاع بذریعہ ڈاک دی جاوے۔ اختیارباجلاس کامل۔۷؍مارچ ۱۹۲۳ء

دستخط: اوہوداس بحرف اردو

94

فیصلہ مؤرخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۱۷ء عدالت ابتدائی

بعنوان مسماۃ جندوڈی بنام کریم بخش

تجویزاخیر باجلاس منشی محمد اکبر صاحب منصف درجہ اوّل بہاول پور

۱… مقدمہ نمبر ۵۲۹

۲… نام مدعی کریم بخش ولدحیات ذات پونگر سکنہ اوچے متبرکہ

۳… نام مدعاعلیہ (۱)مسماۃ جند وڈی (۲)زوجہ کریم بخش ومسماۃ (۳)شرم خاتون بیوہ نبی بخش (۴)دوست محمد ولد محمد بخش سکنہ احمد پور شرقیہ

۴… دعویٰ دعویٰ حقوق زنا شوئی مدعاعلیہا

۵… نتیجہ مقدمہ دعوی مدعی خارج ہوا

۶… تاریخ فیصلہ ۱۰؍مارچ ۱۹۱۷ء

۷… نام حاکم فیصلہ کنندہ منشی محمد اکبر صاحب منصف درجہ اوّل

فیصلہ

دعویٰ یہ ہے کہ عرصہ ۲۵سال سے مدعاعلیہا مسماۃ جند وڈی مدعی کی منکوحہ ہے بعدنکاح مدعی باقرارخانہ دامادی اپنے خسر کے مقیم ہوا۔ مدعاعلیہ(۴) جو مدعی کا ہم زلف ہے۔ ۸؍اپریل ۱۹۱۴ء کو مدعی کے گھر آیا اور مدعاعلیہ (۱)زوجہ مدعی ومدعاعلیہا (۲)ساس مدعی کو ورغلاکر مدعی کو اس گھر سے نکال دیا۔ مدعاعلیہا (۱)اب مدعی کے پاس ہے۔ بغرض اعادہ حقوق زناشوئی رہنے سے انکاری ہے اور مدعاعلیہ (۲)ومدعاعلیہ (۳)اس کو مدعی کے ساتھ آبادہونے سے روکتے ہیں۔ برآں مدعی مستدعی ہے کہ ڈگری بازومسماۃ جندوڈی بحق مدعی دی جاوے۔‘‘

مدعاعلیہم کو جواب دعویٰ میں نکاح سے اقبال ہے مگر وہ اپنے ڈیفنس میںدوباتیں پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ مدعی مدعاعلیہ(۱) کو زبانی طلاق دے چکا ہے۔ دوسرا یہ کہ مدعی مرزائی مذہب رکھتا ہے اور مرزائیوں پر علماء نے کفرکا فتویٰ لگایا ہے۔ اس لحاظ سے بھی مدعاعلیہا(۱) کا نکاح اس کے ساتھ جائز نہ رہا۔ کیونکہ بروئے شرع شریف مسلمان عورت کا کافر مرد کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا۔

امراوّل چونکہ زیادہ تر تصفیہ طلب تھا۔ اس لئے ابتداء میں تنقیح وضع کی گئی کہ کیا مدعی نے مسماۃ جندوڈی کو زبانی طلاق دی۔ اس تنقیح کا ثبوت گزررہاتھا کہ اس دوران شہادت ایک دوسری تنقیح کہ آیا مرزائی مذہب کے اختیار کرنے سے نکاح فسخ ہوتاجاتاہے۔ وضع کی گئی ان ہر دوامور پر مختلف اوقات اور مختلف حکام کے روبرو بحث ہوتی رہی آخرکار ۶؍مارچ ۱۹۱۶ء کو مولوی فیض محمد صاحب کے نام کیش

95

جاری کیاگیا اور انہوں نے موقع پر جاکر تحقیقات کی۔ اپنی رپورٹ افتتاحی میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ ہر دو تنقیحات مدعاعلیہم کے برخلاف ثابت ہوتی ہیں۔ مذہب اسلام میں نکاح اور طلاق کے مسئلوں کو نہایت ہی نازک اور اہم مسائل خیال کرتاہوں اور میری یہ رائے ہے کہ ان امور کے تصفیہ کے واسطے پورے ثبوت کا بہم پہنچنا نہایت مشکل ہے۔ طلاق کی صورت میںچونکہ اس کا لگائو زیادہ تر دوشخصوں کے ساتھ ہے، اس لئے جب تک وہ خود نہ کہیں کہ ہم میںکوئی ایسی بات واقع ہوئی، جس سے طلاق عائد ہو سکتی ہو تو بیرونی شہادت کے ذریعہ سے فیصلہ کرنے میں دشواری لاحق ہوتی ہے۔ طلاق میں رجوع جائزرکھاگیا ہے اور رجوع کا علم سوائے فریقین کے اور کسی کو پوری طرح نہیں ہوسکتا۔ دوسرا اس امر کا ثبوت بھی پوری طور پر نہیں مل سکتا کہ آیا طلاق طہر کے دنوں میں دی گئی یا ایام حیض میں۔ موجودہ صورت میں یہ بیان کیاجاتاہے کہ مدعی نے اپنی عورت کے ساتھ عرصہ دوسال سے جھگڑا شروع کیا ہوا تھا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت اختیار کرورنہ میں تجھے طلاق دے دوںگا۔ وہ متواترانکار کرتی رہی۔ آخر مدعی نے ایک اس سے کہا کہ تومیرے نفس پر حرام ہے۔ کیونکہ تونے میری نافرمانی کی ہے۔ یہ کہہ کر مدعی وہاں سے چلاگیا اور عرصہ سال ڈیڑھ سال کا ہوا کہ پھر اپنی بیوی کے نزدیک نہیں گیا۔ اس پربیان کی تائیدمیںغلام حسین حجام، جمعہ حجام، محمود ملّاں، اﷲ یار بلوچ، شیر محمد اورغلام نبی۔ دونوں بھائی ہیں الٰہی بخش داماد مدعی اور عظیم خاتون دختر مدعی شہادت دیتے ہیں۔ شیر محمد اور غلام نبی دونوں بھائی ہیں اوروہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدعی کے مکان کے ساتھ دیوار بہ دیوار رہتے ہیں اور ہم نے ایک دن سنا تھا کہ مدعی اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑرہاتھا اور اس کو کہہ رہا تھا کہ تو میرے نفس پرحرام ہے۔ کیونکہ تو میرامذہب نہیں اختیار کرتی۔

علاوہ ان دوہمسایوں کے اور کوئی محلہ داریاہمسایہ بیان نہیں کرتا کہ اس نے سنا ہو کہ مدعی نے اپنی بیوی کوطلاق دی ہے۔ علاوہ ان دو شخصوں کے اور بھی آدمی مدعی کے ساتھ دیواربہ دیوار رہنے والے ہیں۔ مگر علاوہ ان دو کے اور کوئی ہمسایہ ان کے بیان کی تائید نہیں کرتا۔ رپورٹ کمیشن سے یہ بات واضح ہے۔ نمبردار محلہ بھی جس کو محلے کی نسبت تمام حالات کی واقفیت ہونی چاہئے بیان نہیں کرتا کہ اس نے سنا ہو کہ مدعی نے اپنی عورت کو طلاق دے دی ہے۔ اس لئے ان دونوں کی شہادت قابل اعتبار نہیں۔ دختر مدعی اور الہ یار کے بیان میں اختلاف ہے۔ الہ یار کہتا ہے کہ جس وقت مدعی نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، اس وقت میں دختر مدعی، زوجہ مدعی اور مسماۃ شرم خاتون موجود تھے۔ دختر مدعی کہتی ہے کہ اس وقت سوائے میرے اور کوئی مردیا عورت وہاں موجود نہیں تھا۔ اس لئے ان دونوں کا بیان قابل پذیرائی نہیں۔ الٰہی بخش داماد مدعی کی شہادت دودفعہ قلم بند کی گئی ہے۔ ایک دفعہ عدالت میں اور ایک دفعہ صاحب کمیشن کے روبرو، عدالت میں جو شہادت قلم بند کی گئی تھی اس میں اس نے پہلے طلاق کے متعلق کچھ نہیں کہاپوچھاگیا۔ اس لئے میں نے کچھ نہ بتلایا۔ مگر جب پہلی دفعہ اس کی شہادت قلم بند کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہر دوتنقیحات دوبارہ وضع کی گئیں تھیں اور فریقین کوثبوت اورتردید پیش کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا تھا۔ اس وقت اس گواہ نے طلاق کے متعلق کچھ نہیں کہا۔اس سے پایاجاتاہے کہ دوسری دفعہ جو اس نے شہادت دی ہے وہ بناوٹی ہے۔ علاوہ اس کے مدعی کے ساتھ اس کا تنازعہ بھی بیان کیاجاتا ہے۔ غلام حسین اورجمعہ معمولی حیثیت کے آدمی ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مدعی ایک دن بازار میں سے ہماری دکان کے آگے سے گزرا۔ ہم نے اس سے دریافت کیا کہ تم نے گھر میں کیسا جھگڑا برپا کیا ہواہے؟ اس نے جواب دیا کہ میری بیوی میرے مرشد کو نہیں مانتی، اس لئے میں نے اس کو اپنے نفس پر حرام کردیاہے۔ علاوہ کم حیثیت ہونے کے یہ دونوں شخص باپ بیٹا ہیں، اس

96

لئے ان کی شہادت میں تصنع خیال کرتا ہوں۔ باقی تنقیح اوّل میں صرف محمود ملّاں کی شہادت ہے۔ مگر وہ بیان کرتا ہے کہ میں دوست محمد مدعاعلیہ کی طرف سے مدعی کے پاس پیغام لایاتھا اور اس پیغام کے جواب میں مدعی نے کہا تھا کہ میں اپنی عورت کو ترک کرچکا ہوں۔ اس سے پایاجاتاہے کہ دوست محمد کے ساتھ اس کاکوئی تعلق ہے اور اس لئے میں اس کی شہادت کو بالواسطہ قرار دیتا ہوں۔ لہٰذاتنقیح اوّل کے ثبوت میں جوشہادت گزری ہے وہ بالواسطہ اورغیر معتبرمعلوم ہوتی ہے۔ اس لئے میں اس کا فیصلہ مدعاعلیہم کے برخلاف کرتا ہوں۔‘‘

تنقیح دوم کی نسبت مدعی کا خود اقبال ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کا مرید ہے اور اس امر کی شہادت ہی کافی طور بہم پہنچائی گئی ہے کہ مدعی مرزائی مذہب کا پابند ہے۔ مدعی کا اعتراض یہ ہے کہ وہ ان عقائد کاجو مرزائی مذہب والے رکھتے ہیں اور جن کی نسبت کہاجاتاہے کہ ان پر ایمان لانے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے پابند نہیں۔ چنانچہ ان اعتقادات کی نسبت تنقیحات وضع کی گئی اور فریقین سے اپنا اپنا ثبوت طلب کیاگیا۔ میری رائے میںان تنقیحات کے وضع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ جب ایک شخص جس نے مذہب اختیار کرلیا تو سمجھا جائے گا کہ وہ اس مذہب کے تمام اصولوں کا پابند ہے۔ چاہے وہ ان کو سمجھ سکتا ہے یانہیں سمجھ سکتا۔ اعتقادات کا کسی بیرونی شہادت سے ثابت ہونا میری رائے میںسخت مشکل ہے۔ علاوہ اس کے شرع ظاہر کو دیکھتی ہے نہ باطن کو اگر ایک شخص ظاہرہ ہندو ہو اور اس کے اعتقادات مسلمانوں جیسے ہوں تو نہیں کہا جائے گا کہ وہ مسلمان ہے۔ اسی طرح اگر ایک مسلمان عیسائی مذہب اختیار کرلے اور یہ کہے کہ میرے اعتقادات میں فرق نہیں۔ میں باطن میں مسلمان ہوں تو کوئی شخص اس پر یقین لانے کو تیار نہیں ہو گا جب تک وہ ظاہراً عیسائیت کو ترک نہ کرے۔

موجودہ صورت میں مشکل یہ ہے کہ مدعی نے ظاہرہ مسلمانی سے کوئی مختلف مذہب تو اختیار نہیں کیا۔ مگر اس نے اسی مذہب کے ایک ایسے فرقہ کی شمولیت حاصل کی ہے کہ وہ چند ایک ایسے خیالات کا پابند ہے جو کفر والحاد کی حد تک پہنچتے ہیں۔ مدعاعلیہم نے علماء کے فتوے بہم پہنچائے ہیں۔ جن سے پایاجاتا ہے کہ تقریباً تمام ہندوستان کے اکثر علماء متفق الرائے ہیں کہ مرزائیوں کے بعض اعتقادات ایسے ہیں کہ جو کفروالحاد کی حد تک پہنچتے ہیں اور انہوں نے اس بات کا فتویٰ دے دیا ہے کہ مرزائی مذہب والے کے ساتھ سُنیہ عورت کا نکاح جائز نہیں۔ ان علماء میں سے اکثر مدرسہ عربیہ دیوبند کے تعلیم یافتہ ہیں اور چونکہ آج کل ہندوستان میں دیوبند علم فقہ کا مستند دارالعلوم خیال کیا جاتا ہے، اس لئے میں ان کی رائے کو نہایت وقعت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ انہوںنے یہ بھی فتویٰ دے دیا ہے کہ اگر ایک سنی عورت کا خاوند مرزائی ہوجائے تو اس عورت کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔ موجودہ صورت میں بھی بیان کیاجاتا ہے کہ مدعی عرصہ چارسال سے مرزائی ہوگیا اور اس کی بیوی مذہب اہل سنت والجماعت کی پابند ہے۔ لہٰذا میں بروئے فتویٰ علماء مشمولہ مثل مدعی کی بیوی کا نکاح فسخ قرار دیتا ہوں۔

اوراگر مدعی کی طرف سے یہ کہا جائے کہ وہ ان اعتقادات کاپابند نہیں جن کی وجہ سے مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگایاگیا ہے اور اس کانکاح اس وقت فسخ سمجھنا چاہئے۔ جب وہ ان اعتقادات پر ایمان لاوے تو میں اس کے ماننے کے لئے ہر گز تیارنہیں۔ کیونکہ چاہے وہ درحقیقت ان پر ایمان لایاہواہے یا نہ۔ جب وہ دوسرے مذہب میں داخل ہوگیاتو سمجھاجائے گا کہ وہ ان تمام اصولوں کا پابند ہے۔ جو وہ مذہب سکھاتاہے اور اس امر کا ثبوت طلب کرنا کہ وہ ان اصولوں کاکب اور کس طرح پابندہوا۔ میں مناسب خیال نہیں کرتا۔ بوجوہات بالا میں دعویٰ مدعی خارج کرتاہوں۔ فریقین حاضر ہیں۔ ان کو حکم سنایاگیا۔ خرچہ بذمہ مدعی۱۰؍مارچ ۱۹۱۷ء۔ دستخط: محمد اکبر منصف درجہ اوّل

97

حکم جوڈیشنل کونسل ریاست بہاول پور

مؤرخہ ۲۵؍جنوری۱۹۳۲ء

جس کی رو سے مقدمہ مسماۃ غلام عائشہ بنت الٰہی بخش صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں

واپس بھیج کر از سر نو تحقیقات کا حکم ہوا۔

نقل حکم اخیر باجلاس حکام عالی مقام منسٹر صاحبان بہادر اجلاس خاص گورنمنٹ بہاول پور

مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش ذات ملانہ سکنہ احمد پور شرقیہ مدعیہ۔ اپیلانٹ

بنام

عبدالرزاق ولد مولوی جان محمد سکنہ موضع مہند تحصیل احمد پور شرقیہ۔ مدعاعلیہ رسپانڈنٹ

اپیل ثانی بنا راضی حکم فاضل ججان چیف کورٹ مؤرخہ۱۰؍جون۱۹۳۱ء جس کی رو

سے اپیل مدعیہ خارج کی گئی اور فیصلہ عدالت ڈسٹرکٹ جج بحال رکھاگیا

ازاجلاس خاص

مقدمہ کے واقعات حسب ذیل ہیں:

مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ نابالغہ کا نکاح اس کے باپ مولوی الٰہی بخش نے عبدالرزاق رسپانڈنٹ سے کیا تھا۔ مسماۃ مذکورہ نے نابالغ ہوکر نالش بایں بیان کی ہے کہ بوقت نکاح فریقین کا مذہب اہل سنت والجماعت تھا۔ لیکن بعد ازاں عبدالرزاق مدعاعلیہ نے مذہب قادیانی اختیارکیا۔ اس لئے وہ مرتد ہوچکاہے۔ نکاح فسخ فرمایاجائے۔ مدعاعلیہ کا بیان تھا کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں، اس لئے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا۔ مدعیہ کی طرف سے اپنے بیان کی تائید میں فتویٰ دارالعلوم دیوبند ومولوی خلیل احمد صاحب وعقائد مرزایاں و رسالہ فسخ نکاح پیش ہوئے ہیں اور مدعاعلیہ کی طرف سے رسالہ عقائد احمدیہ وفیصلہ جات کریم بخش بنام جند وڈی و فیصلہ جات ہائی کورٹ مدراس، پٹنہ وپنجاب پیش ہوئے۔ صاحب ڈسٹرکٹ جج نے فریقین کی اسناد پر بحث کے بغیردعویٰ مدعیہ خارج کیا۔ اس حکم کے خلاف مدعیہ نے چیف کورٹ میں اپیل کی۔ فاضل ججان چیف کورٹ اپنے فیصلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ پٹنہ وپنجاب ہائی کورٹ کے فیصلہ جات مقدمہ ہذا میں حاوی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان میں غیر متعلق سوالات زیر بحث رہے ہیں۔ البتہ چونکہ ہائی کورٹ مدراس کے فیصلہ ا۷ انڈین کیس۶۶ میں سوال زیر بحث بجنسہ یہی تھا۔ (آیااحمدی ہوجانے سے ارتداد واقع ہوتا ہے یانہیں) اس لئے زیادہ تر اسی فیصلہ پر انحصار کرتے ہوئے اپیل کو خارج فرمایا ہے۔ مدعیہ نے اب اپیل ثانی بنا راضی حکم چیف کورٹ عدالت ہذا میں دائر کی ہے۔ موجبات اپیل تقریباً وہی ہیں جو کہ اپیل اوّل میں تھے۔ ہم نے فیصلہ مدراس ہائی کورٹ کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ ہم فاضل ججان چیف کورٹ کی اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں کہ فیصلہ مذکورہ

98

بالا مکمل چھان بین سے طے پایا تھا۔ کیونکہ فاضل ججان مدراس ہائی کورٹ خود فیصلہ میں تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خاص سند اس بات کی پیش نہیں کی گئی کہ فلاں فلاں اسلام کے بنیادی اصول ہیںاور ان سے اس حد یااس درجہ تک اختلاف کرنے سے ارتداد واقع ہوتاہے یاکن اسلامی عقائد کی پیروی یا کن عقائد کے نہ ماننے سے ارتداد واقع ہوتا ہے۔ اسی فیصلہ میں پھر فاضل ججان تسلیم کرتے ہیں کہ اس سوال کو کہ آیا عقائد قادیانی سے ارتداد واقع ہوتاہے یانہیں۔علمائے اسلام بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہماری رائے میں فاضل ججان مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ سوال زیر بحث پر قطعی نہیں ہے اور ہمیں مقدمہ ہذا میں اس کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ کو بطور گواہ عدالت میں طلب کیاگیاتھاتاکہ وہ سوال زیربحث کی تشریح اور وضاحت کریں۔ ان کا بیان ہے کہ اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمدa کے بعد کوئی اور نبی آیاہے اور اس پر وحی نازل ہوئی ہے تو ایسا شخص چونکہ ختم نبوت حضرت رسول کریمa کا منکر ہے اورختم نبوت اسلام کی ضروریات میں سے ہے۔ لہٰذاوہ کافرہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولوی صاحب موصوف نے بطور دلائل کئی ایک آیات قرآن شریف پیش کیں۔ جن میں اچھی طرح واضح کردیاگیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر ہم اس مقدمہ کو فیصلہ کرنے کے لئے صرف شیخ الجامعہ صاحب کی رائے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جب تک کہ دیگر ہندوستان کے بڑے بڑے علمائے دین بھی اس رائے نہ رکھتے ہوں۔ اس لئے ہمارے خیال میں یہ مقدمہ مزید تحقیقات کا محتاج ہے اور مدعاعلیہ کو بھی موقع دینا چاہئے کہ شیخ الجامعہ صاحب کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے۔ اس لئے ہم مزید تحقیقات کے لئے یہ مقدمہ پھر عدالت صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور میں بھیجتے ہیں اور ہدایت کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ بروئے شرع شریف فیصلہ کیا جائے۔

تجویز بالا بمراد منظوری بحضور والا شان سرکارعالی دام اقبالہٗ وملکہٗ پیش ہو۔ ۳۱؍دسمبر ۱۹۳۱ء

دستخط: منسٹر صاحبان بہادر اجلاس خاص

از پیش گاہ سرکار عالی

تجویز منظورہے۔

۲۵؍جنوری ۱۹۳۲ء

دستخط مبارک حضور سرکار عالی دام اقبالہٗ وملکہ

بمراد عملدرآمد حوالہ اہلمد ہو اور فریقین کو ۱۳؍مارچ ۱۹۳۲ء طلب کیا جاوے۔

۱۸؍فروری۱۹۳۲ء، ۱۰؍شوال ۱۳۵۵ھ

محمد اکبر

99

بیان حضرت علامہ غلام محمدصاحب گھوٹوی

شیخ الجامعہ العباسیہ بہاول پور گواہ مدعیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’حامداً ومصلیاً‘‘

علامۃ الدہر، فہامۃ العصر، مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی شیخ الجامعہ العباسیہ بہاول پور علوم عقلیہ ونقلیہ میں بے بدل فاضل ہیں اور آپ کی جلالت علم وفضل علمی دنیا میں مسلم کل ہے۔ مدتوں تک آپ گھوٹہ شریف علاقہ ملتان میں کامیاب درس دیتے رہے ہیں۔ پنجاب کے اکثر علماء آپ کے فیض یافتہ ہیں۔ اس وقت ریاست بہاول پور کے دارالعلوم جامعہ عباسیہ کے پرنسپل ہیں۔

آپ کا یہ بیان ۲۱؍جون ۱۹۳۲ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور کی عدالت میں ہوا۔ یہ بیان مسلسل چار گھنٹے جاری رہا۔ عبدالرزاق مدعا علیہ اگرچہ اصالتہً موجود تھا۔ مگر حضرت ممدوح کے دلائل وبراہین سے ایسا مبہوت ہوا کہ اس نے جرح کرنے سے انکار کر دیا۔

حضرت ممدوح کا یہ بیان درحقیقت اس بیان کا خلاصہ ہے جو آپ نے ریاست ہذا کی عدالت اعلیٰ یعنی دربار معلّٰی میں عالی جناب پرائم منسٹر صاحب بہادر ودیگر وزراء ذی احترام کے روبرو دیا تھا اور کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت کیا تھا کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنحضرتﷺ کے بعد جو مدعی نبوت ہو وہ اور اس کے متبعین کافر اور مرتد ہیں اوران کے نکاح بلاقضا قاضی فسخ ہیں۔ جب دربار معلّٰی سے مزید تحقیق شرعی کے لئے مسل مقدمہ دوبارہ ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں واپس ہوئی تو ڈسٹرکٹ جج صاحب کی عدالت میں سب سے پہلے حضرت ممدوح کا یہ جامع اور بصیرت افروز بیان ہوا۔

ابوالعباس نعمانی، بہاول پور

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رب یسر ولا تعسر وتمم بالخیر حامداً ومصلیاً علیٰ رسولہ الکریم

عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصول میں سے ہے

اسلام کے بنیادی اصول بہت سے ہیں۔ لیکن ان میں اہم توحید باری عزاسمہ اور ایمان بالملائکہ، ایمان بالانبیاء، ایمان بالکتب المنزلہ اور ایمان بالبعث اور حضرت نبیk کو آخری نبی یقین کرنا وغیرہ وغیرہ۔

انکار ختم نبوت، کفر وارتداد ہے

جو شخص پہلے اہل سنت والجماعت ہو اور پھر وہ مرزائی بن جائے اور نبیk کے بعد مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ حضرت نبیm کو قرآن نے آخری نبی قرار دیا ہے اور جو شخص اس قرآنی حکم کو نہ مانے اور اس کا انکار کرے۔ وہ قرآن کے انکار کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔

100

دلائل ختم نبوت

۱… قرآن شریف میں سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا انزال دو قسموں پر ہے۔ (۱)جو آنحضرتﷺ پر ہوا۔ (۲)جو آپ(a) سے پہلے ہوا۔ ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک (البقرۃ:۴)‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

۲… دوسری جگہ قرآن شریف میں ہے کہ تمام انبیاءؑ کو اﷲتعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم لوگوں کو کتاب دوں اور حکمت اور تم نبوت کے منصب پر فائز ہو جاؤ تو اس کے بعد ایک نبی آئے گا جو تمام پہلی چیزوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ تم لوگ اس کو ماننا اور اس پر ایمان لانا۔ ’’واذ اخذ اﷲ میثاق النّبیین لما اٰتیتکم من کتابٍ وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران:۸۱)‘‘

اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں۔ ایک ’’میثاق النّبیین‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کو یہ خطاب ہے اور دوسرا لفظ ’’ثم جاء کم‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم سب کے بعد ایک نبی آئے گا اور وہ تمام پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا اور وہ بالاتفاق سیدنا محمدa ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ محمد مصطفیٰa سب نبیوں کے بعد آئے ہیں۔ پس اگر مرزاقادیانی بھی نبی ہوں تو پھر حضرت محمدa سب نبیوں کے بعد نہ آئے اور قرآن کی تکذیب لازم آئے گی۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے (ج۱ ص۲۴۵) میں اور مولوی محمد علی مرزائی لاہوری نے ترجمہ قرآن (ج۱ ص۳۵۲) میں یہی معنی بیان کئے ہیں۔

۳… تیسری آیت۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے حبیب اکرم فرمادیجئے کہ اے لوگو! میں تم تمام کا رسول ہوں۔ آج سے قیامت تک جس قدر لوگ ہوں گے، سب کا میں پیغمبر ہوں۔ ’’قل یا ایہا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعاً (اعراف:۱۵۸)‘‘ اس آیت میں حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ محمدa کی بعثت سے قیامت تک تمام لوگوں کا رسول من اﷲ وہ ہے۔ جس کا نام محمد مصطفیa ہے۔

پس جو شخص حضرت محمد مصطفیa کی بعثت اور قیامت کے درمیان کسی دوسرے کو نبی تسلیم کرے وہ اس آیت کو جھٹلاتا ہے۔ لہٰذا مرتد ہو جاتا ہے۔ اس آیت کے یہی معنی امام ابن کثیر نے (ج۴ ص۲۵۳) میں ذکر فرمائے ہیں اور اسی طرح دوسرے مفسرین نے بھی یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔

۴… حضرت حق پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم میں اپنی نعمتوں کو پورا کر دیا اور تمہارے اسلام کو میں نے پسند کیا۔ ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:۳)‘‘

اس آیت میں حق پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ دین کامل ہوگیا۔ پس نہ کسی دوسرے دین کی حاجت ہے۔ نہ کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے۔ اب اگر حضرت محمدa کے بعد کسی دوسرے کو نبی تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ دین کامل نہیں ہوا اور کسی دوسرے نبی کی ضرورت باقی رہ گئی تھی۔ پس قرآن کریم کی تکذیب لازم آئے گی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص حضرت محمدa کے بعد کسی دوسرے کو نبی مانتا ہے۔ وہ اس آیت کو جھٹلاتا ہے اور مرتد ہوجاتا ہے۔

۵… حضرت حق پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اے لوگو! کہ محمدa کی بعثت سے لے کر قیامت تک ہونے والے ہو۔ تم تین چیزوں کی اطاعت کرو، اﷲ کی، اس کے رسول کی اور اولی الامر کے متعلق یہ ارشاد ہے کہ اگر تمہارا ان سے جھگڑا ہو جائے۔ کبھی تم میں اور اولی الامر میں

101

اختلاف ہو جائے تو اس وقت فقط اﷲ اور رسول ہی قابل اطاعت ہیں۔ ’’یاایہا الذین امنوا اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اﷲ والرسول ان کنتم تؤمنون باﷲ والیوم الاٰخر ذلک خیرو احسن تأویلاً (نساء:۵۹)‘‘

اس آیت نے ظاہر کر دیا کہ محمدa کے بعد یہ ہی ایک جماعت قابل اطاعت ہوگی اور ان کی حیثیت یہ بتلائی گئی کہ وہ نبی نہیں ہوں گے۔ کیونکہ نبی کے ساتھ امتی اختلاف نہیں کر سکتا۔ اس واسطے کہ ارشاد ہے کہ نبی محض مخدوم اور مطاع ہے۔ اس کے ساتھ جھگڑا نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ حضرتa کے بعد اس آیت کی رو سے جو لوگ اولیٰ الامر ہوں گے۔ نبی نہیں ہوں گے اور ان سے اختلاف ہوسکے گا۔ چاہے وہ صدیق ہوں، شہید ہوں، صالح ہوں، امام ہوں، غوث ہوں، قطب ہوں، کچھ ہوں۔ اس موقع پر میں مولوی محمد علی لاہوری کی تفسیر کے چند جملے بیان کرتا ہوں۔ مولوی محمد علی اپنی (تفسیر ج۱ ص۵۲۶) پر لکھتے ہیں کہ چونکہ قرآن نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے اندر ہمیشہ کے لئے حقیقی مطاع ایک مطاع محمدa موجود ہوں گے۔ اس لئے آپ کے بعد اس امت کے اندر کوئی رسول نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی رسول ہوگا تو وہ مطاع ہوگا۔ پھر محمدa مطاع نہیں رہیں گے اور یہ خلاف قرآن ہے۔ پس ختم نبوت پر یہ آیت فیصلہ کن ہے۔ جب اس کو ’’فان تنازعتم‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اب تاقیامت کوئی رسول قطعاً نہیں ہوسکتا۔

۶… حضرت حق پاک فرماتے ہیں کہ فرمادیجئے کہ اگر تمام انسان اور جن اس کتاب (قرآن) کی مثل لانا چاہیں تو ہرگز نہیں لاسکیں گے۔ ’’قل لئن اجتمعت الانس والجن علٰی ان یأتوا بمثل ہذا القراٰن لا یأتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعضٍ ظہیراً (بنی اسرائیل:۸۸)‘‘

اس آیت میں سمجھایا گیا ہے کہ قرآن شریف تمام ہدایات سے بڑھ کر ہے اور اس کے بعد کسی ہدایت کی، کسی نبی کی، کسی کتاب کی کوئی ضرورت نہیں۔

۷… حضرت حق پاک نے رسول اﷲa کو سراجاً منیراً فرمایا ہے: ’’یاایہا النبی انا ارسلنا شاہداً ومبشراً ونذیراً وداعیاً الٰی اﷲ باذنہ وسراجاً منیراً (احزاب:۴۵،۴۶)‘‘

اور قرآن پاک نے سورج کو سراج کہا ہے۔ اس سے ظاہر کرنا یہ منظور ہے کہ جیسے سورج کی روشنی کے بعد کسی ستارہ یا کسی اور منیر کی روشنی کی ضرورت نہیں رہتی اور اس طرح حضرتa کی ذات مقدس ایسی ہے کہ اس کے بعد اور کسی نبی یا ہادی کی ضرورت نہیں رہتی اور رسالت ان پر ختم ہو جاتی ہے۔ جیسے سورج پر روشنی ختم ہو جاتی ہے۔

۸… اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محمدa! آپ سب قوموں کے منذر اور ہادی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرتa تمام قوموں کے لئے ہادی ہیں اور دوسرا اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ ’’انما انت منذر ولکل قوم ہادٍ (رعد:۱۷)‘‘

۹… حق پاک ارشاد فرماتے ہیں۔ کیا یہ کافی نہیں کہ ہم نے تمہارے پر کتاب نازل کردی۔ اس میں ظاہر فرمایا ہے کہ حضرت محمدa پر جو کتاب نازل فرمائی گئی یہ کافی اور بس ہے۔ ’’اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتاب یتلٰی علیہم ان فی ذلک لرحمۃ وذکریٰ لقوم یؤمنون (عنکبوت:۵۱)‘‘

۱۰… ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (حجر:۹)‘‘

اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن کریم ایک محفوظ اور غیرمتغیر کتاب ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوگی۔ پس اگر کوئی دوسرا نبی اور دوسری وحی آسکتی ہے تو ممکن ہو جائے گا کہ قرآن شریف کا کوئی حکم منسوخ ہو جائے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کے امتی قرآن کے بہت سے

102

حکموں کو منسوخ مانتے ہیں۔ مثلاً وہ مانتے ہیں کہ جہاد بالسیف منسوخ ہوگئی ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ جو محمدa کو آخری نبی مانے وہ کافر ہے۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ جو مجھے نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ جس کے صاف معنی یہی ہیں کہ محمدa کو آخری نبی ماننے والا کافر ہو جاتا ہے۔

(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۳۰۸، کتاب الصلوٰۃ وفتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۲۶۹)

اس آخری حوالہ میں مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ کسی شخص کو کوئی عمل، کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ جب تک کہ میرے دعویٰ کو نہ مانے تو یہ حکم مرزاقادیانی کا ماننا نہ کہیں قرآن میں ہے اور نہ کہیں حدیث میں۔ بلکہ قرآن اور حدیث میں پایا جاتا ہے کہ مرزاقادیانی کو نبی نہ مانا جاوے۔ مرزاقادیانی کو نبی ماننے سے قرآن کا یہ حکم منسوخ ہو جائے گا۔ حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ میں منسوخ نہیں ہوں۔

۱۱… قرآن مجید میں ہے: ’’ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘

اس آیت کی تفسیر میں مولوی محمد علی لاہوری نے (جلد سوم ص۵۱۵) میں لکھا ہے کہ خاتم النّبیین کے معنے لغت سے اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ انبیاءؑ ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا ’’خَاتِمْ‘‘ یا ’’خَاتَمْ‘‘ ہونا صرف ایک ہی معنے رکھتا ہے یعنی ان میں سے آخری ہونا۔ پس نبیوں کے خاتم ہونے کے معنی نبیوں کی مہر نہیں۔ جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں۔ بلکہ آخری نبی ہے۔

اسی طرح قرآن شریف کی اور بھی بہت سی آیات سے حضورk کا آخری نبی ہونا ثابت ہے۔

تمام مفسرین واہل لغت نے خاتم النّبیین کے معنی ’’آخری نبی‘‘ کئے ہیں

خاتم کے معنی آخری نبی کے تمام مفسرین اور اہل لغت نے کئے ہیں۔

(تفسیر ابن جریر ج۲۲ ص۱۳) میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے بیان کئے گئے ہیں۔

(تفسیر ابن کثیر ج۸ ص۸۸) میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے لئے ہیں۔

(تفسیر کبیر ج۶ ص۵۸۱) میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے بیان کئے گئے ہیں۔

(تفسیر بیضاوی ج۴ ص۱۶۴، تفسیر ابوسعود حاشیہ کبیر ج۷ ص۴۴۹) میں بھی خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے کئے گئے ہیں۔

(تفسیر روح المعانی ج۸ ص۳۲ پارہ۲۲ ص۳۲) میں خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی لکھے ہیں۔

لغت کی کتاب قاموس میں لکھا ہے: ’’خاتم الانبیاء آخرہم‘‘

لسان العرب میں ہے۔ ’’خاتمہم آخرہم‘‘

بحر المحیط میں لکھا ہے کہ خاتم کے معنی آخری۔

(مجمع البحار ج۱ ص۳۲۹) میں ہے کہ خاتم کے معنی ہیں کہ: ’’لانبی بعدہ‘‘

تاج العروس شرح قاموس میں ہے کہ حضرتa کا اسم مبارک خاتم اس واسطے ہے کہ آپa کے آنے سے نبوت ختم ہوگئی۔ کلیات ابوالبقاء میں ہے کہ ہمارے پیغمبر کا نام جو خاتم الانبیاء ہے۔ اس واسطے ہے کہ خاتم کے معنی ہیں آخری۔ (ص۳۱۹، کتاب مذکور) صحاح میں لکھا ہے کہ ’’خاتم الشی آخرہ‘‘

اور منتہی الارب میں ہے۔ خاتم چیز پایاں آن وآخر قوم ‘‘صراح میں ہے کہ ’’خاتم شے کا آخر شے ہوتا ہے اور محمدa خاتم الانبیاء ہیں۔ یعنی آخری نبی۔‘‘

103

احادیث ختم نبوت

اب میں کچھ حدیثیں بیان کرتا ہوں:

۱… ’’پہلی حدیث جس کے معنی یہ ہیںکہ اے علیq! تومجھے بمثل ہارون کے ہے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۲،۱۵۲،۱۵۳)

۲… ’’دوسری حدیث ہے کہ میں اﷲ کے نزدیک ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں خاتم النّبیین ہوں۔ ‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۲)

۳… ’’تیسری حدیث ہے کہ رسول اﷲa فرماتے ہیں کہ میں پیدائش میں سب نبیوں سے پہلے ہوں اور مبعوث ہونے میں سب سے آخر ہوں۔ ‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۳)

۴… ’’حضرتa فرماتے ہیں کہ میں سب پیغمبروں کا سردار ہوں اور یہ فخراً نہیں کہہ رہا اور سب نبیوں کا آخری ہوں اور یہ فخریہ نہیں۔ ‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۰۴، ۱۰۹)

۵… ’’حضرتa فرماتے ہیں کہ رسالت اور نبوت ختم ہوگئی ہے۔ میرے بعد نہ کوئی رسول اور نہ نبی ہوگا۔ ‘‘

(ترمذی شریف ج۲ ص۵۱)

۶… ’’حضرت محمدa فرماتے ہیں کہ مجھے نبیوں پر چھ وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجھ پر نبیوں کا خاتمہ کیاگیا ہے۔ ‘‘

(کنزالعمال ج۶ ص۱۰۶)

۷… ’’اور حدیث ہے کہ میں آیا اور میں نے نبیوں کو ختم کر دیا۔‘‘

(مسلم شریف ج۲ ص۱۹۹،۲۴۸)

۸… ’’حضرت محمدa فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک محل بنایا اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ بس میں نبیوں میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔ ‘‘

(ترمذی ج۲ ص۲۲۱)

۹… ’’حضرت محمدa فرماتے ہیں کہ میں عاقب ہوں۔ عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی شئے نہ آوے۔ ‘‘

(ترمذی ج ۲ص ۱۱۱،شمائل ترمذی ص۲۶)

اسی طرح اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، جنہیں بخوف طوالت بیان نہیں کیاجاتا۔

ختم نبوت اجماعی عقیدہ ہے

اب میں مذہب اسلام کے عقائد اور سلف صالحین کے اقوال نقل کرتا ہوں کہ نبیm آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔

شرح عقائد میں علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ: ’’پس ثابت ہوگیا کہ رسول اﷲa آخر الانبیاء ہیں۔ مواہب لدنیہ میں ہے کہ اختلاف ہے کہ نبی اور پیغمبر کتنے ہوئے ہیں۔ مگر اوّل سب نبیوں کا آدم ہے اور آخر سب کے حضرت محمدa ہیں۔ ‘‘

(مواہب لدنیہ ج۱)

(صبح الاعشی ج۱۳ ص۳۰۵) پر ہے کہ یہ دو کلام ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے فلاسفہ کو کافر کہاگیا ہے۔ ایک یہ کہ حضرت محمدa کے بعد کسی دوسرے نبی کا آنا ممکن سمجھتے ہیں اور جائز سمجھتے ہیں۔

104

(عقیدہ امام طحاوی ص۱۴) اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ ’’محمدa آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد نبوت کا دعویٰ گمراہی اور ضلالت ہے اور ہوائے نفسانی ہے۔‘‘

حضرت جناب شیخ عبدالقادر جیلانی (غنیۃ الطالبین ص۱۸۳) پر فرماتے ہیں کہ: ’’سب اہل اسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ابن عبداﷲ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم آخری بنی ہیں۔ ‘‘

مولانا مولوی عبدالحکیم صاحب سیالکوٹی غنیۃ الطالبین کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’اعتقاد کنند اہل اسلام ہمہ کہ محمدa پیغمبر خداست وسالار ہمہ پیغمبران است وتمام کردہ شدہ است باو پیغمبران را۔‘‘

پہلی صدی کے مجدد حضرت خلیفہ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پہلے خطبہ میں فرمایا کہ:’’ اے لوگو کہ قرآن کے بعد کوئی کتاب نہ آئے گی اور حضرت محمدa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ ‘‘

(تاریخ الخلفاء ص۱۵۷)

ملّا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ حضرت محمدa کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت کرنا اتفاق اہل اسلام سے کہ کفر ہے۔

(کتاب مذکور ص۲۰۲)

الاشباہ والنظائر میں ہے کہ: ’’جب کسی شخص کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ محمدa آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ ‘‘

(ص۲۶۷)

اسی کتاب کی شرح میں ہے کہ: ’’ضروریات دین میں جہل کوئی عذر نہیں ہے۔‘‘

(کتاب الفصل ج۳ ص۲۴۹) میں ہے کہ: ’’جو شخص محمدa کے بعد بغیر عیسیٰ ابن مریمm کسی اور شخص کو نبی کہے گا تو اس کے کافر ہونے میں دو مسلمان بھی مختلف نہیں ہوں گے۔‘‘

اسی کتاب کے (ج۴ ص۱۸۰) میں ہے کہ: ’’ کسی طرح کوئی مسلم جائز سمجھتا ہے کہ حضرتa کے بعد دنیا میں کوئی نبی آوے۔ بجز اس کے جس کو حضرتa نے خود مستثنیٰ فرمایا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریمm۔‘‘

اس کتاب کی (ج۳ ص۲۵۵،۲۵۶) پر ہے کہ: ’’جو شخص نبیm کے بعد کسی دوسرے شخص کو نبی کہے وہ کافر ہے۔‘‘

(نسیم الریاض ج۴ ص۵۰۶) میں ہے کہ: ’’جو شخص آنحضرتﷺ کے ساتھ دوسرے کو نبی مانے، چاہے حضرت کے زمانہ میں یا ان کے بعد کسی کو نبی مانے تو اس نے اﷲ ورسول کی تکذیب کی۔‘‘

(الصارم المسلول ص۶۸) میں ہے: ’’جس شخص نے حضرت محمدa کے بعد یہ کہا کہ وہ اﷲ کا رسول ہے۔ وہ کافر ہے اور اس کو قتل کرنا جائز ہے۔‘‘

حضرتa نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ: ’’حضرتa کے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔‘‘

طحاوی نے (مشکل الاثار ج۴ ص۱۰۴) حضرت حذیفہq سے روایت کی ہے کہ: ’’رسول اﷲa نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کے قریب ’’دجال اور کذاب‘‘ پیدا ہوں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ جن میں سے چار عورتیں ہوں گی اور میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اس کے علاوہ مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق اور بھی وجوہ کفر ہیں اور چونکہ عبدالرزاق ان کو نبی مانتا ہے۔ اس لئے وہ بھی ان کے عقائد کا پابند سمجھا جائے گا۔ مثلاً مرزاقادیانی اپنی کتاب (آئینہ کمالات ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴) میں فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو اﷲکا عین دیکھا اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اور خدائی والوہیت میرے رگ وریشہ اور پٹھوں میں گھس گئی اور میں نے اس

105

حالت میں دیکھا کہ کیا دیکھ رہا ہوں۔ ہم نیا نظام بنانا چاہتے ہیں۔ نئی زمین نیا آسمان۔ پس پہلے میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کچھ تفریق وترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان کو مرتب کیا اور میں اپنے دل سے جانتا تھا کہ میں ان کو پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہوں۔ پھر میں نے سب سے قریبی آسمان کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا کہ: ’’انا زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو کیچڑ سے پیدا کریں گے۔‘‘ اس سے مرزاقادیانی نے الوہیت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو خالق جانا اور کوئی شخص جب خدائی کا دعویٰ کرے یا اپنے آپ کو خالق جانے وہ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے۔

مرزاقادیانی نے (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹) پر کہا کہ: ’’اے مرزا تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ اس سے مرزاقادیانی نے خدا کے لئے بیٹا ثابت کیا ہے۔‘‘

مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶) پر کہتے ہیں کہ: ’’اﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ میں رسول کے ساتھ ہوکر جواب دوں گا۔ کبھی خطا کروں گا کبھی صواب کو پہنچوں گا۔‘‘ اس سے مرزاقادیانی نے خداتعالیٰ کو غلطی کرنے والا قرار دیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۷۵، خزائن ج۲۲ ص۷۸) پر فرماتے ہیں کہ: ’’زمین وآسمان جیسے ہمارے ساتھ ہے۔ ویسے ہی مرزاقادیانی کے ساتھ۔‘‘ اس سے مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو اﷲتعالیٰ کی طرح حاضر ناظر ظاہر کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۸) پر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ تو جس چیز کو بنانا چاہے بس کن کہہ دے۔ وہ ہو جائے گا۔‘‘

(البشریٰ ج۲ ص۷۹) پر مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ: ’’اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں۔ جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں اور جس طرح میں قدیم اور ازلی ہوں۔ تیرے لئے میں نے ازلیت کے انوار کر دئیے اور تو پس ازلی ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰) پر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے کہ جس کے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لاانتہاء عرض وطول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی خدا کو تیندوے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔

(کتاب ضمیمہ تریاق القلوب ج ص۳،خزائن ج۱۳ص۴۹۶) پر مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’نئی زندگی ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی۔ جب تک ایک نیا یقین پیدا نہ ہو اور نیا یقین پیدا نہیں ہوسکتا کہ جب تک موسیٰ اور مسیح اور یعقوب اور محمد مصطفیٰa کی طرح نئے معجزات نہ دکھائے جائیں۔ نئی زندگی انہیں کو ملتی ہے جن کا خدا نیا ہو۔‘‘

اس سے مرزاقادیانی نے خدا کو حادث بنایا ہے۔ یہ عقائد ہیں جو مرزاقادیانی نے اﷲتعالیٰ کے متعلق لکھے ہیں اور اس سے یقینا ایک مسلمان مرتد ہو جاتا ہے۔

قرآن شریف کے متعلق مرزاقادیانی کا عقیدہ حسب ذیل ہے:

مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷) پر فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص اوّل ٹائٹل پیج، خزائن ج۱۶ ص۱) پر فرماتے ہیں کہ: ’’بے شک یہ خدا کی آیت ہے اور کوئی انسان اس کی مثل نہیں بول سکتا۔ یعنی اس خطبہ کی مثل کوئی نہیں لاسکتا۔‘‘

106

(ازالہ اوہام ص۱۴، خزائن ج۳ ص۱۰۹) پر قرآن مجید کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ’’پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ مبادا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے۔‘‘

عیسیٰؑ کے متعلق مرزاقادیانی کا عقیدہ حسب ذیل ہے: ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جس کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کاکنجریوں سے میلان اور صحبت بھی اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور اپنی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا انسان ہے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

اس سے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کا صاف انکار ہے جو تعلیم قرآن کے خلاف ہے۔

حضرت موسیٰm کے متعلق مرزاقادیانی حسب ذیل عقیدہ رکھتے ہیں:

(حقیقت الوحی ص۱۷۸، خزائن ج۲۲ ص۱۸۳) حضرت موسیٰm کی توریت میں یہ پیشین گوئی کہ: ’’وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، پہنچائیں گے۔ مگر یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی۔‘‘

بی بی مریم کے متعلق مرزاقادیانی کا عقیدہ حسب ذیل ہے:

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸) ’’مریم کی وہ شان ہے۔ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میںکیوں نکاح کیاگیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے، ناقابل اعتراض۔‘‘

حضرت سیدۃ النساء فاطمتہ الزہراءt کے متعلق مرزاقادیانی کا یہ قول کہ میں نے دیکھا کہ: ’’حضرت فاطمہ نے میرا سر اپنی ران پر رکھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۱۱۸)

حضرت حسنین شریفین کے متعلق جو مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے وہ حسب ذیل ہے۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص۵،خزائن ج۱۸ص۲۱۳حاشیہ)

(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴) پر لکھتے ہیں کہ: ’’لوگ کہتے ہیں کہ حسنین پر تم اپنے آپ کو فضیلت دے رہے ہو۔ ہاں میں کہتا ہوں کہ میں افضل ہوں۔ ان سے اور عنقریب ظاہر ہوجائے گا۔‘‘

اور آخر میں کہتے ہیں کہ: ’’میں تو عشق الٰہی کا مقتول ہوں اور تمہارے حسین کو تمہارے دشمن نے قتل کیا۔ پس کس قدر ظاہر اور کھلا ہوا فرق ہے۔‘‘

ان عقائد کے ہوتے ہوئے ایک شخص صراحۃً مرتد ہو جاتا ہے۔

107

بیان حضرت غلام محمد حسین کولوتارڑوی صاحب

گواہ مدعیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’حامداً ومصلیاً‘‘

فاضل اجل حضرت مولانا ابی القاسم محمد حسین صاحب مولوی فاضل کولو تارڑوی ضلع گوجرانوالہ نے اپنی ساری زندگی فتنہ مرزائیہ کے استیصال کے لئے وقف فرمائی ہوئی ہے۔ مولانا موصوف اگرچہ پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل ہیں۔ مگر مولانا نے تبلیغ اسلام کی خدمت جلیلہ کو ہمیشہ سرکاری وغیرسرکاری ملازمت پر ترجیح دی ہے۔ مرزائیوں سے سینکڑوں کامیاب مناظرے کر چکے ہیں اور تقریباً مرزائی لٹریچر کے حافظ ہیں۔ آپ کا یہ بلند پایہ بیان ۱۴؍جولائی ۱۹۳۲ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور کی عدالت میں ہوا۔ عبدالرزاق مدعا علیہ نے اس بیان پر جرح کرنے سے انکار کر دیا۔ ممدوح نے اس بیان میں مسئلہ ختم نبوت کو قرآن حکیم کے اسلوب بیان سے نہایت خوبی سے ثابت کیا ہے اور مرزائیت کے کفر وارتداد پر بہت مستند دلائل پیش فرمائے ہیں۔ ابوالعباس نعمانی، بہاول پور

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزاغلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا جو بروئے قرآن وحدیث واجماع امت کفر ہے

مرزاغلام احمد کے عقائد اور اقوال شریعت اسلامیہ کے سراسر خلاف ہیں۔ منجملہ ان کے ایک دعویٰ نبوت ہے جو انہوں نے کیا۔ یہ دعویٰ قرآن شریف واحادیث نبویہ اور اجماع امت کے سراسر مخالف ہے۔ کیونکہ ان تمام دلائل شرعیہ سے آنحضرتﷺ خاتم النّبیین بمعنی آخر النّبیین ثابت ہوتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا قرآن شریف احادیث نبویہ اور اجماع امت کی رو سے کافر، خارج از اسلام ہے۔ قرآن شریف نے ختم النبوۃ کو قطعاً اور یقینا مختلف طریقوں سے ثابت کیا ہے۔ اس کے بعد ایک شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھنے والا ہو۔ دل میں اس بات کا شک وشبہ بھی نہیں لاسکتا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کا نبوت حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

دلائل قرآنیہ پر ختم نبوت

منجملہ ان دلائل قرآنیہ کے جو ختم نبوت پر قطعی ثبوت ہیں۔ پہلی دلیل یہ آیت کریمہ ہے۔ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین وکان اﷲ بکل شیٔ علیماً (احزاب:۴۰)‘‘

اس آیت کے متعلق ضروری گزارشات یہ ہیں کہ خاتم النّبیین کا معنی تمام مفسرین محدثین علمائے لغت نے آخر النّبیین لکھے ہیں اور کتب لغات میں سے کوئی حوالہ ایسا نہیں کہ جس سے قطعاً اور یقینا یہ ثابت ہو کہ اس کے معنی اور بھی ہوسکتے ہیں۔ پس لغت اور قواعد عربیہ کے لحاظ سے اس کے معنی آخرالنّبیین کے ہی ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی مختلف آیات میں اسی آیت کی تفسیر کو اس مضمون کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ حق سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے:’’یاایہا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعاً (اعراف:۱۵۸)‘‘

’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس (سباء:۲۸)‘‘

108

’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (انبیاء:۱۰۷)‘‘

’’تبارک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیراً (فرقان:۱)‘‘

ان تمام آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ جملہ بنی آدم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں اور یہ بات ختم النبوۃ کے لئے ایک صاف اور صریح دلالت کرنے والی ہے۔ دوسری دلیل جو ختم النبوۃ پر صاف دلالت کرتی ہے۔ یہ آیت ہے:’’واذ اخذ اﷲ میثاق النّبیین لما اٰتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال أقررتم واخذتم علٰی ذالکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشہدین (آل عمران:۸۱)‘‘

اس آیت کریمہ میں خداوند تعالیٰ نے تمام انبیاءؑ سے ایک ایسے رسول کے متعلق عہد لیا ہے جو سب کا مصدق ہے اور سب کے بعد ہی آنے والا ہے۔ کیونکہ لفظ ’’ثم‘‘ عربی نحو کے لحاظ سے بعدیت اور قبلیت پر دلالت کرتا ہے جس کے لئے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ رسول مصدق جس کی نسبت تمام انبیاء سے عہد لیاگیا ہے۔ وہ سب کے بعد آنے والا ہے۔

تیسری دلیل: ہر ایک نبی جو دنیا میں بھیجا گیا ہے خدا کی طرف سے اس کو وحی ہوتی رہی۔ گویا وحی نبوت کے لئے ایک لازمی چیز ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہوسکتا۔ نبی بغیر وحی الٰہی کے نہیں ہوسکتا۔ اب قرآن کریم کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انبیاءؑ جن کو خداتعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی۔ سب آنحضرتﷺ سے پہلے ہوچکے ہیں اور قرآن کریم نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر حکم وحی کے ساتھ لفظ قبل کو ملایا ہے تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ آنحضرتﷺ سے پہلے ہی وحی نبوت اور ابنیاءo آئے ہیں۔ آپa کے بعد نہ کسی کو وحی نبوت ہوگی اور نہ نبی ہوگا۔ نمونہ کے طور پر چند آیات پیش کرتا ہوں۔ ’’قل اٰمنا باﷲ وما انزل علینا وما انزل علٰی ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ وعیسیٰ والنبیون من ربہم لا نفرق بین احد منہم ونحن لہ مسلمون (آل عمران:۸۴)‘‘

اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ جو کچھ انبیاءؑ پر وحی نازل کی گئی ہے۔ وہ زمانہ ماضی میں ہوچکی ہے اور اﷲ سبحانہٗ نے ہمیں اپنے انبیاء پر ایمان لانے کی ترغیب دی ہے جو آنحضرتﷺ سے پہلے ہو چکے ہیں اور کسی نبی کے لئے ایمان کی تاکید نہیں کی جو آپa کے بعد ہو۔ حالانکہ یہ ضروری تھا کہ اگر کوئی نبی آنحضرتﷺ کے بعد آنے والا ہوتا اور سلسلہ نبوت جاری رہنے والا ہوتا تو ضرور اﷲتعالیٰ ہمیں اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتا۔ لیکن اس کے برخلاف قرآن مجید کے تمام مقامات پر وحی انبیاءؑ آنحضرتﷺ سے ماقبل مخصوص کیاگیا ہے اور یہ قطعی اور یقینی دلیل اس امر کی ہے کہ قرآن حکیم آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کو جائز نہیں رکھتا۔ دوسری آیت اس مضمون کی جو ابتداء قرآن کریم سورۃ بقرہ کے شروع میں ہے۔ ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاٰخرۃ ہم یؤقنون (بقرہ:۴)‘‘ اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے انہی کو ہدایت پر قائم رہنے والے اور مفلحون فرمایا ہے جو آنحضرتﷺ کی وحی پر اور آپ سے پہلے انبیاءm کی وحی پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ’’لکن الراسخون فی العلم منہم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک اما انزل من قبلک (نساء:۱۶۲)‘‘ اس آیت میں بھی خداوند تعالیٰ نے انہی لوگوں کو راسخ فی العلم قرار دیا ہے جو آنحضرتﷺ کی وحی پر اور آپ سے پہلے انبیاء کی وحی پر ایمان لاتے ہیں۔

’’یاایہا الذین اٰمنوا باﷲ ورسولہ والکتاب الذی نزل علٰی رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل (نساء:۱۳۶)‘‘ اس آیت کریمہ میں خداوند تعالیٰ نے مؤمنوں کو ایمان کی کیفیت کی تعلیم فرمائی ہے اور یہ تلقین کی ہے کہ تم ایمان لاؤ۔ اس کتاب پر جو نازل ہوئی۔ آنحضرتﷺ اور ان کتب پر جو آپa سے پہلے نازل کی گئیں۔ اگر کوئی نبی آپa کے بعد میں آنے والا ہوتا تو اس کے متعلق خداوند تعالیٰ ضرور تعلیم دیتا کہ اس پر بھی ایمان لاؤ۔

109

کتاب پر جو نازل ہوئی۔ آنحضرتﷺ اور ان کتب پر جو آپa سے پہلے نازل کی گئیں۔ اگر کوئی نبی آپa کے بعد میں آنے والا ہوتا تو اس کے متعلق خداوند تعالیٰ ضرور تعلیم دیتا کہ اس پر بھی ایمان لاؤ۔ ’’الم تر الی الذین یزعمون انہم اٰمنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (نساء:۶۰)‘‘

’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین الّٰا انہم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق (فرقان:۲۰)‘‘

’’ولقد اوحیی الیک والی الذین من قبلک (زمر:۶۵)‘‘

’’کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک (شوریٰ:۳)‘‘

ان تمام آیات میں اﷲ سبحانہ نے وحی نبوت کو آنحضرتﷺ سے ما قبل کے ساتھ مخصوص فرمایا اور آنحضرتﷺ کی وحی اور آپ سے ماقبل انبیاء کی وحی پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ جس سے قطعاً یہ ثابت ہوتا ہے کہ وحی نبوت آنحضرتﷺ پر ختم ہوچکی ہے اور باب نبوت بند ہوچکا ہے۔

قرآن شریف پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اﷲ جل شانہ نے آدمm سے وحی نبوت کے جاری ہونے کے سلسلہ کی خبر دی ہے۔ چنانچہ فرمایا جب کہ آدمm معہ اپنی ذریت کے اس دنیا پر لائے گئے تو خداوند تعالیٰ نے اطلاع دی۔ سلسلہ نبوت وہدایت جاری کیا جاوے گا۔ پس جو شخص ہماری ہدایت کی تابعداری کرے گا اس پر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ ’’فامّا یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (بقرہ:۳۸)‘‘

یہ ابتداء اور آغاز وحی ہے۔ اس کے بعد نوحm کے زمانہ تک پہنچتے ہیں اور قرآن شریف سے پوچھتے ہیں کہ سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہیں۔ جواب ملتا ہے کہ ہاں جاری ہے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ولقد ارسلنا نوحاً وابراہیم وجعلنا فی ذریتہم النبوۃ والکتاب (حدید:۲۶)‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوحm کی ذریت میں سلسلہ نبوت جاری ہے۔ انبیاء عظام میں سے حضرت ابراہیم خلیل اﷲk ہیں۔ ان کے زمانہ میں اگر قرآن سے پوچھا جائے کہ سلسلہ نبوت جاری ہے یا نہیں تو جواب ملتا ہے کہ: ’’وجعلنا فی ذریتہم النبوۃ والکتاب (حدید:۲۶)‘‘ یعنی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب کو یعنی وحی نبوت کو مقرر فرمادیا ہے۔ یہاں سے یہ پتہ چلا کہ ذریت ابراہیم میں ابھی سلسلہ نبوت جاری ہے۔

دوسری بات اس آیت سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ نبوت کا ظرف اور محل آل ابراہیم ہیں۔ جس کا عملی ثبوت یہ ہوا کہ اﷲتعالیٰ نے ابراہیم کی اولاد کے دو شعبے قرار دئیے۔ ایک بنی اسحاقm جن میں پہلے سلسلہ نبوت جاری ہوا اور بہت انبیاءؑ ان میں آئے۔ جن کا خاتمہ حضرت عیسیٰؑ پر ہوا۔

دوسرے بنی اسماعیل، جس میں آنحضرتﷺ تک کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے بعد موسیٰm کے زمانہ کی طرف نگاہ کی جائے تو قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰm کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ نے فرمایا۔ ’’ولقد اٰتینا موسٰی الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل (البقرۃ:۸۷)‘‘

تا اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ موسیٰm کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے اور کئی رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے۔ جیسا کہ لفظ رسل

110

سے ظاہر ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ کا وقت آتا ہے تو قرآن کریم سے سوال ہوتا ہے کہ آیا بکثرت انبیاء ابھی آئیں گے یا کیا ہوگا تو خداتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’واذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اﷲ الیکم مصدقاً لما بین یدیّ من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)‘‘

خداوند سبحانہٗ نے یہاں پر حضرت عیسیٰؑ کی زبان پر اسلوب جواب کو بالکل بدل دیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل، میں اﷲ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں اور مجھ سے پہلے موسیٰm کو کتاب توراۃ جو خدا کی طرف سے ان کو عطاء ہوئی ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور خوشخبری دیتا ہوں۔ ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا۔ نام اس کا احمد(a) ہو گا۔

قرآن کریم نے پہلے اس کے فقط عام طور پر رسولوں کے آنے کی خبر دی تھی اور یہاں ایک خاص رسول کی خبر دے کر اس کو نام سے مشخّص اور متعین فرمادیا۔

یہ اسلوب صاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خداوند تبارک وتعالیٰ احمدa پر نبوت کو ختم کر رہا ہے اور عام طور پر جو رسولوں کے آنے کا اسلوب تھا اس کو بدل کر ایک خاص معیّن شخص کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔

اس کے بعد آنحضرتﷺ کا زمانہ آتا ہے تو قرآن حکیم سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے آنے کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے یا بند ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین وکان اﷲ بکل شیٔ علیما (احزاب:۴۰)‘‘ کہ نہیں ہیں محمدa تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ لیکن وہ میرے رسول ہیں اور خاتم النّبیین ہیں (یعنی آخر النّبیین) آپa کے بعد جملہ بنی آدم جو آپa پر ایمان لائیں گے وہ آپa کی روحانی ذریت اور اولاد کہلائیں گے اور دنیا میں وہ آخری روحانی باپ ہوگا۔ جس کی اولاد بکثرت ہوگی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مختلف انبیاء ہونے کے زمانہ میں سلسلہ نبوت کے جاری رہنے اور رسل کے آنے کی اطلاع دی اور آنحضرتﷺ پر آکر اس اطلاع کے برخلاف جو بصورت اجراء نبوت بمثل سابق ایسی اطلاع دی جانی لازمی تھی۔ جیسا کہ پہلے دی گئی۔ اس کے بعد ختم نبوت کا اعلان کر دیا۔ جس سے قطعاً یہ بات معلوم ہوئی کہ قرآن کریم مجموعی طور پر ختم نبوت کا اعلان کر رہا ہے اور فرداً فرداً آیات بھی ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔

احادیث ختم نبوت

اب میں چند احادیث بیان کرتا ہوں۔ جو ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔

۱… رسول اﷲa نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’میرے اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے ایک گھر بنایا۔ جس کو بہت خوبصورت بنایا، مگر اس کے کنارہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کو پھر پھر کر دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کی جگہ کیوں خالی چھوڑی گئی۔ پس میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔ ‘‘

(بخاری ج ۱ص ۵۰۱کتاب الانبیاء)

ترمذی کے الفاظ میں ہے کہ میرے ساتھ ہی یہ عمارت ختم کر دی گئی ہے اور میرے ساتھ رسول ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس تمثیل سے جو آنحضرتﷺ نے اپنی نسبت اور انبیاء کی نسبت ارشاد فرمائی۔ قطعی دلالت اس بات پر ہے کہ انحضرتa قصر نبوت کے متمم اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔

۲… آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’بنی اسرائیل میں انبیاء آتے رہے۔ ایک نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی آجاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور خلیفہ ہوں گے۔ پس بہت ہوں گے۔ ‘‘

(بخاری کتاب ج۱ ص۴۹، مسلم کتاب الامارت)

111

اس حدیث سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کے مقابل پر یہاں سلسلہ خلافت قائم ہوگا۔ جس کی وجہ آنحضرتﷺ نے یہ فرمادی ہے کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں ہے۔

۳… آنحضرتﷺ نے جنگ تبوک کے موقعہ پر حضرت علیq کو اہل بیت میں نگران چھوڑا۔ حضرت علیq نے یہ عرض کی کہ:’’ کیا آپa مجھ کو بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جاتے ہیں تو آپa نے یہ فرمایا کہ تو مجھ سے وہی نسبت رکھتا ہے۔ جس طرح کہ ہارونm کو موسیٰm سے تھی۔ لیکن چونکہ ہارون اور موسیٰn کے درمیان ایک اور بھی مشترک وصف پایا جاتا تھا۔ (یعنی نبوت کا) اس لئے آنحضرتﷺ نے یہ فرما کر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس مماثلت کو حضرت علیq سے دور فرمادیا۔ اگر نبوت آنحضرتﷺ کے بعد تشریعی یا غیرتشریعی جاری ہوتی تو حضرت علیq کو رسول اﷲa ’’لا نبی بعدی‘‘ کہہ کر اس وصف سے محروم نہ کرتے۔ ‘‘

(بخاری، مسلم ج۲ص ۲۷۸ذکر غزوہ تبوک)

۴… حضرت علیq سے مروی ہے کہ ’’آنحضرتa نے فرمایا کہ میری امت میں ۳۰کذاب ودجال ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ: ’’انا خاتم النّبیین ولا نبی بعدی‘‘ کہ میں خاتم النّبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

(مجمع الزوائد ج۷ص۳۳۴)

آنحضرتﷺ کا جھوٹے نبیوں کے ذکر کے بعد جو اس امت میں ہونے والے تھے۔ ازروئے شفقت یہ فرمادینا کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ صاف اس بات کی دلیل ہے کہ محض دعویٰ نبوت حضورﷺ کے بعد امت محمدیہ میں قابل سماعت نہیں ہے۔

۵… آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر (ترمذی ج۲ص۲۰۹)‘‘ اگر کوئی میرے بعد نبی ہوتا تو حضرت عمرq ابن الخطاب ہوتے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ اگر کوئی نبی تشریعی یا غیرتشریعی آنحضرتﷺ کے بعد ہونے والا ہوتا تو حضرت عمرq ہوتے۔

۶… حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ: ’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجہ ص۳۰۷، باب فتنۃ الدجال)‘‘ میں آخری نبی ہوں، تم آخری امت ہو۔

ان احادیث سے قطعاً اور یقینا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور سلسلہ نبوت آپa کے بعد بند ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد مدعی نبوت کذاب ہے۔

مرزاقادیانی کے عقائد… اسلامی عقائد کے خلاف ہیں

مرزاقادیانی کے عقائد مخالف اسلام ہونے کے اور بھی اشباہ ونظائر ہیں۔ مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے کہ: ’’ملائکہ ستاروں کے ارواح ہیں اور ان کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۳۸، خزائن ج۳ ص۷۰)

’’جبرئیلm کا تعلق سورج سے ہے۔ وہ بذات خود حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا۔‘‘

(توضیح المرام ص۶۸، خزائن ج۳ ص۸۶ مفہوم)

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جبرئیلm کا نزول جو شرع میں وارد ہے۔ اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبرئیل کی انبیاء دیکھتے تھے۔ وہ جبرئیل کی عکسی تصویر ہوتی تھی جو انبیاء کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی۔ ملک الموت بھی بذات خود زمین پر اتر کر قبض ارواح نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی تاثیر سے قبض ارواح ہوتا ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۷۰، خزائن ج۳ ص۸۷ مفہوم)

دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے نجوم کی تاثیر سے ہورہا ہے۔ روح القدس اور روح الامین۔ شدید القوی، جو جبرئیل کے نام ہیں۔ ان کی

112

نسبت مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ: ’’یہ سب انسان کی صفتیں ہیں جو خداتعالیٰ کی محبت اور انسان کی محبت کے ملنے سے بطور نتیجہ کے پیدا ہوتی ہیں اور یہی پاک تثلیث ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص۲۲خزائن ج۳ص۶۲)

مرزاقادیانی کا خارج از اسلام ہونا ایک اور طریقہ سے بھی ثابت ہے۔ مرزاقادیانی نے جن الہاموں کو خداتعالیٰ کا کلام ظاہر کیا ہے اور ان میں سے اکثر وعدہ کے رنگ میں ہیں اور واقعات نے ان کو غلط ثابت کیا ہے۔ جن سے یقینا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ خداتعالیٰ کا وعدہ اور اس کا کلام نہ تھا۔ کیونکہ اگر وہ خداتعالیٰ کا کلام اور اس کا وعدہ ہوتا تو واقعات اس کی تکذیب نہ کر سکتے۔

محمدی بیگم کی پیشین گوئی

من جملہ ان کے محمدی بیگم کی پیش گوئی ہے۔ جس کو مرزاقادیانی نے اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا۔ چنانچہ (انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) پر جو مرزاقادیانی کی مصنفہ ہے۔ مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے یہ نہیں کہا کہ محمدی بیگم کی پیشین گوئی کا معاملہ طے ہوگیا ہے اور آخری نتیجہ ظاہر ہوگیا۔ بلکہ بات ویسی کی ویسی قائم ہے اور کوئی بھی اپنے حیلوں سے اس کو ٹال نہیں سکتا اور تقدیر مبرم ہے اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے اس کا وقت آوے گا۔ پس قسم ہے اس ذات کی۔ جس نے ہمارے لئے محمدa کو بھیجا۔ یہ بات حق ہے اور جلد ہی دیکھے گا تو، اور میں اس پیشین گوئی کو اپنے سچ اور جھوٹ کا معیار قرار دیتا ہوں اور میں اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ مگر جو کچھ میرے رب نے کہا ہے۔‘‘

اسی کتاب کے (ص۳۱ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) پر کہتے ہیں کہ: ’’میں تم سے باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی احمد بیگ کے داماد کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘

اب یہ ظاہر ہے کہ احمد بیگ کا داماد مرزاقادیانی کی زندگی میں نہیں مرا اور مرزاقادیانی کی موت۱؎ آگئی۔ جس سے صاف ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی اپنے قول کے مطابق دعویٰ الہام میںجھوٹے تھے۔

مرزاقادیانی کے کفر کے وجوہ میں حضرت عیسیٰؑ کی توہین ہے

مرزاقادیانی کے من وجملہ وجوہ کفر میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کی سخت توہین کی ہے اور ان کے معجزات کو مسمریزم قرار دیا ہے اور مسمریزم کو خود مرزاقادیانی نے قابل نفرت قرار دیا ہے۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ۳۰۵خزائن ج۳ ص۲۵۵،۲۵۶) میں لکھتے ہیں کہ: ’’ماسوائے اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزم طریق سے بطور لہوولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکتیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ظہور میں آتے رہتے ہیں۔‘‘

پھر (ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۸) میں لکھتے ہیں کہ: ’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

اب اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ حضرت عیسیٰؑ ایک مکروہ اور قابل نفرت عمل کے ذریعہ سے لہو ولعب کے طریقہ پر اعجوبہ نمایاں کیا کرتے تھے۔ اعجازان کو حاصل نہیں تھا۔

۱؎ مرزاقادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرگیا اور مرزا احمد بیگ کا داماد مسمی مرزاسلطان احمد بفضلہ تعالیٰ تا ہنوز زندہ ہے۔ (مقدمہ بہاول پور کے زمانہ میں زندہ تھے۔ بعد میں پاکستان بننے کے بعد فوت ہوئے)

113

معجزات عیسویہ کی توہین

اب دیکھئے کہ کس قدر معجزات عیسوی کی توہین ہے جس کو قرآن عظیم نے بڑے اہتمام سے بیان فرمایا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کے معجزات بڑی اہمیت سے قرآن شریف میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ ابھی حضرت عیسیٰؑ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے کہ ان کی والدہ مقدسہ کو بطور بشارت ان معجزات کی خبر دی گئی۔ ’’واذ قالت الملآئکۃ یٰمریم ان اﷲ اصطفٰک وطہرک واصطفٰک علٰی نساء العلمین یٰمریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین ذالک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیہم اذ یلقون اقلامہم ایہم یکفل مریم وما کنت لدیہم اذ یختصمون اذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اﷲ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسٰی ابن مریم وجیہاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین قالت رب انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذالک اﷲ یخلق ما یشآء اذا قضی امراً فانما یقول لہ کن فیکون ویعلمہ الکتاب والحکمۃ والتورۃ والانجیل ورسولاً الٰی بنی اسرائیل انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کہیۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اﷲ وانبئکم بماتأکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذالک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران:۴۱تا۴۹)‘‘

حضرت عیسیٰؑ کے معجزات کے منکرین پر قرآن کا فتویٰ کفر

پھر آخرت میں جہاں اوّلین اور آخرین جمع ہوں گے۔ اﷲتعالیٰ تحدیث نعمت کے طور پر معجزات کی بابت ذکر فرماتا ہے۔ جس کا مفصل ذکر سورۂ مائدہ میں ہے اور اس جگہ سورۂ مائدہ میں آپ کے معجزات کے منکرین پر جو فتویٰ ہے وہ یہ ہے۔ ’’اذ قال اﷲ یا عیسٰی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلٰی والدتک اذا یدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلاً واذ علمتک الکتاب والحکمۃ والتورٰۃ والانجیل واذ تخلق من الطین کہیئۃ الطیر باذنی فتنفح فیہا فتکون طیراً باذنی وتبریٔ الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتیٰ باذنی واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہٰذا الا سحر مبین (مائدہ:۱۱۰)‘‘

یعنی جب تو ان کے پاس معجزات لے کر گیا تو کافروں نے کہا کہ یہ کھلم کھلا جادو ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ کے معجزات کا انکار واستخفاف کرنا کافروں کا کام ہے۔ جو کفر کی حد تک پہنچتا ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی نے کیا ہے۔

اس کے علاوہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں سب وشتم کا استعمال بھی کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی عقائد اسلام کے برخلاف کفر کا ارتکاب کرنے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے تھے۔ یہ نمونہ ان عقائد کا ہے جو مرزاقادیانی کی کتابوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جس سے قطعاً اور یقینا یہ ثابت ہوا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

ضروریات دین کا منکر کافر ہے

جو شخص مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے مگر ضروریات دین کا انکار کرے تو اس کو مرتد قرار دیا جائے گا۔ میں مرزاقادیانی کو مرتد سمجھتا ہوں جو مرتد ہے وہ کافر ہوگا۔ اس لئے مرزاقادیانی کے اصولوں کو ماننے والے اور ان کو نبی ماننے والے بھی مرتد اور کافر ہیں۔

114

بیان حضرت علامہ مفتی محمد شفیع دیوبندی گواہ مدعیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف

حامد اًومصلیاً!

عالم نبیل فاضل جلیل مولانا مفتی محمد شفیع صاحب سابق مفتی دارالعلوم دیوبند بہت بلند پایہ فاضل تھے۔مدتوں تک دارالعلوم دیو بند میں مفتی کے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے ہیں۔فتنہ مرزائیہ کی تردید میں آپ کی بہت سی تصنیفات ہیں۔مگر ختم نبوت تین حصوں میں ایک لاجواب تصنیف ہے۔ آپ کا بیان ۲۱؍اگست ۱۹۳۲ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاول پور کی عدالت میں ہوا۔بیان ۷بجے صبح سے شروع ہوااور ۱۱بجے مختار مد عاعلیہ نے جرح کی جو ۲۱؍اگست کو ۱ بجے ختم ہوئی۔مفتی صاحب نے مختار مدعاعلیہ کی جرح کے مسکت جواب دیئے اور مرزائیت کے کفرو ارتداد کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا۔مفتی صاحب کا یہ بیان جن معارف و حقائق علمیہ کا خزینہ ہے۔اس کاصحیح اندازہ پڑھنے سے ہو سکتا ہے۔اسے اس مجموعہ میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ مرتب!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

منکرختم نبوت با لا جماع کا فرومرتد ہے

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میرے نزدیک بلکہ تمام علمائے امت کے نزدیک یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جو شخص نبی کریمa کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور اس کا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔اگر نکاح کے بعد یہ عقائد اختیار کرے تو اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور بغیر حکم قاضی اور بلا عدت اسے دوسرا نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔اس کے ثبوت کے لئے سب سے پہلے میںعدالت کی توجہ اس طرف مبذول کراتا ہوںکہ کس وقت ایک مسلمان کو کن افعال یا اقوال کی بناء پر کافر کہاجاسکتا ہے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ خدائے تعالیٰ یا اس کے رسول کا انکارکفر ہے۔لیکن یہ بات ذراتو ضیح طلب ہے کہ رسول کے انکار کے کیا معنی ہیں؟

رسولﷺکے انکار کے معنے

میں سب سے پہلے ایک آیت پیش کرتا ہوں۔قرآن شریف میں ارشادہے:’’فلا وربک لا یؤ منون حتٰی یحکّموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوافی انفسھم حرجا ممّا قضیت و یسلّموا تسلیما (نساء:۶۵)‘‘

اس آیت میں صراحۃً بیان کیاگیا ہے کہ وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہو سکتا جو آنحضرتﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حکم نہ بنائے اورآپa کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے قبول نہ کرے۔اس آیت کی تفصیل میں حضرت امام جعفرصادقq فرماتے ہیں کہ:’’لو ان قوما عبدواﷲ تعالٰی واقاموالصلٰوۃ واتوالزکوٰۃ وصامورمضان وحجوا البیت ثم قالوالشئی ضعہ رسول اﷲa الا ضع خلاف ماضع اوو جد وافی انفسہم حرجاً لکا نوا مشرکین‘‘

(روح المعانی ج۲جز۵ص۶۵)

115

جس کامطلب یہ ہے کہ اگرکوئی قوم یا جماعت خدا کی عبادت کرے، نماز پڑھے، زکوٰۃدے، روزے رکھے اور سارے اسلامی کام ادا کرے لیکن آنحضرتﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے وہ مشرک ہے۔

خدا اور رسولﷺ کے حکم کا انکار کفر ہے

اس بناء پر تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کاانکارکفر ہے۔ اسی طرح ان کے کسی ایک حکم کا نہ ماننا بھی کفر ہے۔

ابلیس کا کفر، انکار حکم کی وجہ سے ہے

سب سے پہلا کافر ابلیس مانا جاتا ہے۔وہ اسی قسم کا منکر ہے۔وہ خدا کا منکر نہیں صرف خدا کے ایک حکم نہ ماننے کی وجہ سے کافر مانا گیا ہے۔ اس لئے میں اس کے متعلق چند علماء کی عبارتیں پیش کرتا ہوں:

۱… ’’شرح مقاصد (بحث سابع فی حکم مخالف الحق طی من اھل القبلۃ) لیس بکافر مالم یخالف ماھومن ضروریات الدین‘‘ اس کے بعد اسی کتاب میں ہے: ’’فلا نزاع فی کون اھل القبلۃ المو اظب طول العمر علی الطاعات با عتقاد نفی الحشر ونفی العلم با لجزیات اونحوذالک کذالک بصدور شیئی من موجبات الکفر عنہ‘‘ اس عبارت کا مطلب ہے کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اہل قبلہ میں سے جو شخص ساری عمر اطاعت پرمداومت کرنے والا ہو۔ جب وہ قدم عالم کا قائل ہوجائے یا حشر کا انکار کرے یا اس کے امثال کا تو وہ کافر ہے یا ایسا ہی کوئی کلمہ اور حکم موجبات کفر ہے میں سے اس سے صادر ہو۔

اہل قبلہ کا معنی

حضرت ملّا علی قاری تحریر کرتے ہیں: ’’اعلم ان المراد باھل القبلۃ الذین اتفقوا علی ماھو من ضروریات الدین کحدوث العالم وحشر الا جسادو علم اﷲ با لکلیات والجزئیات وما اشبہ ذالک من المسائل فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی علمہ سبحانہ با لجزیات ولا یکون من اھل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر احد من اھل القبلۃ عند اھل السنۃ انہ لایکفر مالم یوجد شئی من امارات الکفر وعلاماتہ ولم یصدر عنہ شئی من موجباتہ‘‘

(شرح فقہ اکبر ص۱۸۹)

یعنی اہل قبلہ (جن کی تکفیر نہیں کی جاتی )سے وہ لوگ مرادہیں۔جو ضروریات دین پر متفق ہوںتو جو شخص ساری طاعات و عبادات پر مداومت کرے۔ مگر قدم عالم او ر نفی حشرکا قائل ہو۔ وہ اہل قبلہ نہیںہے اور اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی چیز علامات کفر میں سے اس میں نہ پائی جائے۔ اس وقت تک اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ علامہ شامی (درالمختار جلد اوّل ص۴۱۴،۴۱۵، باب الامامۃ) میں ہے: ’’لا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام من حدوث العالم وحشر الا جساد ونفی العلم با الجزئیات وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علٰی الطاعات کمافی شرح التحریر‘‘

یعنی امت میں کسی کو اس میں اختلاف نہیں کہ جو شخص ضروریات اسلام کا مخالف ہو، وہ کافر ہے۔اگرچہ اہل قبلہ سے ہو اور ساری عمر عبادات پر مداومت کرے۔ یہی مضمون بحرالرائق، شرح کنز الدقائق باب المرتدین اور غایۃ لتحقیق شرح حسامی اور کشف الاصول میں

116

ہے۔ شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس میں علمائے محققین کی تحقیق اس طرح نقل فرمائی ہے:’’اھل القبلۃ فی اصطلاح المتکلمین من یصد ق بضروریات الدین ای الامور اللتیی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر‘‘

(النبر اس شرح شرح العقائد ص۳۴۲)

’’یعنی متکلمین کی اصطلاح میں اہل قبلہ وہ شخص ہے جو تمام ضروریات دین کی تصدیق کرے۔یعنی وہ امور جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔‘‘ جو شخص ضروریات دین میں کسی چیز کا انکارکرے وہ اہل قبلہ میں سے نہیں۔اگرچہ اطاعات میں انتہائی کوشش کرنے والاہو۔ ایسے ہی وہ شخص جو کسی ایسے کام کا مرتکب ہو۔ تکذیب رسول کی علامت ہے۔ جیسے تو ہین کسی امر شرعی کی یا کسی امر شرعی کا استہزاء کرنا۔

یہاں تک کہ علمائے محققین کی چندشہادات اس بات پر پیش کی ہیں کہ جس طرح کہ آنحضرتﷺ کا سرے سے انکارکفر ہے۔ اسی طرح آپa کے احکام میں سے جو حکم قطعی الثبوت ہو، اس کا انکار بھی کفر ہے۔ قطعی الثبوت سے میرا مطلب وہ حکم ہے، جو اسلام میں اس طرح مشہور و معروف ہیںکہ امت، قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ایسا ہی سمجھتی چلی آئی ہے۔

قطعی الثبوت اور ضرو ریات دین میں فرق

قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں اتنا فرق ہے کہ ضروریات دین ان کو کہا جاتا ہے۔ جن کا ثبوت تو اتر کو پہنچ کر ایسا ہی واضح ہوگیا ہو کہ تمام امت اسے ہمیشہ ایسا ہی جانتی رہی ہو۔ قطعی الثبوت وہ چیز ہے جس کا ثبوت آنحضرتk سے علمی قواعد کی بنا پر قطعی ہو۔ خواہ امت کا کوئی فرد اسے نہ جانتا ہو۔ اس لئے قطعی الثبوت کے انکار کو اس وقت کفر کہا جائے گا جب کہ اس کی تبلیغ اس کو کر دی جائے۔ ضروریات دین کا منکر مطلق کافر ہے۔ اس میں تبلیغ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات جو میں نے علماء کی تحقیق سے پیش کی ہے۔ خودمرزاقادیانی او ر اس کے متبعین کی کتابوں میں موجود ہے۔

مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’کیونکہ کافرکا لفظ مومن کے مقابلے پر ہے اور کفر دو قسم ہے۔ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کار سول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔جس کے ماننے اورسچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دوقسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

اور اسی کتاب میں لکھتا ہے: ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔وہ خدا اوررسول کو نہیں مانتا۔ ‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

نیز مسٹر محمد علی ایم اے لاہوری اپنی تفسیر بیان القرآن ص۵۷۴میں آیت کریمہ: ’’ان الذین یکفرون باﷲ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسلہ‘‘ کے تحت میں لکھتا ہے کہ: ’’اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ کو مان لیا اور رسولوں کا انکارکردیا۔ جیسے برہمن ہیں بلکہ یہ بھی کہ بعض رسولوں کو مان لیا اور بعض کا انکار کردیا۔ جیسے تمام اہل کتاب کی حالت ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ کے کسی رسول کا انکار گویا اللہ ہی کا انکار ہے۔‘‘

نیز (مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ:) ’’واشھد انا نتمسک بکتاب اﷲ القران ونتبع اقوال رسول اﷲ منبع الحق والعرفان ونقبل ما انعقد علیہ الاجماع بذلک الزمان لا نزید علیہا ولا ننقص منھا وعلیہا نحی وعلیہا نموت

117

ومن زاد علٰی ھذہ الشریعۃ مثقال ذرۃ اونقص منہا اوکفر بعقیدۃ اجما عیۃ فعلیہ لعنتہ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین‘‘

(انجام اتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص۱۴۴)

’’گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن سے تمسک کرتے ہیں اور رسول کے اقوال کا اتباع کرتے ہیں جو حق اور معرفت کاچشمہ ہے اور ہم ان چیزوں کو قبول کرتے ہیں۔ جس پر اس زمانہ میں اجماع منعقدہوا۔ نہ اس پر زیادتی کرتے ہیں او ر نہ کمی۔ اسی پر زندہ رہیں گے او ر اسی پر مریں گے جو شخص مقدار ایک شوشہ کے زیادتی کرے یا کمی کرے یا کسی عقیدہ اجماعیہ کاانکار کرے۔ اس پر اللہ کی لعنت، ملائکہ کی لعنت، تمام آدمیوں کی لعنت، یہ میرا عقیدہ ہے۔‘‘

ان عبارتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ علمائے اسلام کے نزدیک متفقہ طورپر خودمرزا قادیانی کے نزدیک جس طرح رسول کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح اسلام کے کسی اجماعی عقیدہ یا ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار بھی کفر ہے۔

مرزا نے بہت سے ضروریات دین کا انکار کیا ہے

اس کے بعد میں یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ضروریات دین میں سے بہت سی چیزوں کا انکار کیااور اسی بناء پر وہ باجماع امت کا فرومرتد ہیں۔ اس وقت ان ضروریات دین سے پہلی چیز ختم نبوت کا انکار ہے اور نبوت کا دعویٰ اور وحی اور شریعت مستقلہ کا دعویٰ ہے۔ نبوت کے دعویٰ کا خود مد عا علیہ کو اپنے بیان میںاقرا ر ہے۔ اس لئے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں۔

وحی اور شریعت مستقلہ کے دعویٰ کے ثبوت میں مرزاقادیانی کے اقوال ذیل پیش کرتا ہوںکہ: ’’سچا خدا وہی ہے کہ جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلا ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

یہی مضمون اور دعویٰ: ’’اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر اور خدا پر افتراء کرکے آنحضرت کے زمانہ نبوت کے موافق یعنی ۲۳برس تک مہلت پاسکے۔ضرور ہلاک ہوگا۔‘‘

(اربعین جز۴ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۳۴)

ایک اور جگہ لکھا ہے کہ: ’’حق یہ ہے کہ خداوندتعالیٰ کی وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیںنہ ایک دفعہ بلکہ صدہادفعہ (اس کے اوپر الفاظ یہ ہیں) کہ چندروز ہوئے کہ ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)

’’اسی طرح اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی کی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طورپر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)

’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میر ی نسبت باربار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ اور خدا کا مامور، خداکا امین اور خدا کی طرف آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لائو اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘

(انجام اتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

اور مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسے تو راۃ اور انجیل اور قرآن مجید پر تو کیا مجھ سے توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقینات کو چھوڑ دوںگا۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴)

118

’’اسی طرح میں اس کی اس پاک وحی پر ایسی ہی ایمان لاتا ہوں۔جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

مرزا قادیانی کے اقوال اس بارہ میں اگر جمع کئے جاویں تو اور بھی بہت سے ہیں۔لیکن ان سے بقدر ضرورت یہ بات معلوم ہوگئی کہ مرزا قادیانی وحی اور رسالت کا مدعی ہے اور اپنی وحی کو بالکل قرآن کے برابر سمجھتا ہے اور اس کے منکر کو جہنمی کہتا ہے۔

تیرہ سو سال کا اسلامی اجماعی عقیدہ

اس کے بعد امت محمدیہ کا ساڑھے تیرہ سو برس کا عقیدہ اس بارے میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص وحی اور نبوت کا دعویٰ کرے یا آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا یا کسی کو نبوت دیا جانا تجویز کرے۔اس کے متعلق علمائے امت کی کیارائے ہے اورائمہ امت نے کیا فرمایا؟

علامہ خفاجی شرح شفا ء میں لکھتے ہیں: ’’قال ابن القاسم فیمن تنباء انہ کا المرتد سوا ء کان دعاذلک الٰی متابعۃ نبوتہ سرا کان اوجھر اکمسیلمۃ لعنۃ اﷲ تعالٰی وقال ابن الفرج ھوای من زعم انہ نبی یوحٰی الیہ کا المرتد فی احکامہ لا نہ قد کفر بکتاب اﷲ لانہ کذبہa فی قولہ انہ خاتم النّبیین ولا نبی بعدہ مع الفریۃ علی اﷲ‘‘

(نسیم الریاض ج۴ ص۳۹۳)

’’ایسے ہی ابن قاسم نے اس شخص کے متعلق کہا ہے کہ دعویٰ نبوت کرے اور کہے کہ مجھ پر وحی نبوت آتی ہے اور ابن قاسم، مدعی نبوت کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ مثل مرتد کے ہے۔خواہ لوگوں کو اپنے اتباع کی دعوت دے یا نہ دے اور پھر یہ دعویٰ خفیہ ہویا علانیہ جیسے مسیلمہ کذاب اور ابن الفرج فرماتے ہیں جو شخص یہ کہے کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر وحی آتی ہے۔ وہ مثل مرتد کے ہے۔اس لئے کہ اس نے قرآن سے کفر کیا۔ آنحضرتﷺ کو اس قول میں جھٹلا دیا کہ آپa خاتم النّبیین ہیں اور آپa کے بعد کوئی نبی نہیں اور اس نے اپنے اللہ پر افترا ء بھی باندھا کہ اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘

اسی طرح شرح شفا میں ہے: ’’کذلک نکفر من ادعٰی نبوۃ احد مع نبیناm ان فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسودالعنسی اوادعی النبوۃ احد بعدہ فانہ خاتم النّبیین بنص القرآن والحدیث فھذا تکذیب ﷲ ورسولہm‘‘

(نسیم الریاض ج۴ص۵۰۶)

یعنی ہم ایسے ہی اس شخص کو بھی کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبیa کے بعد کسی بھی نبوت کا دعویٰ کرے۔ یعنی آپa کے زمانے میں جیسے مسیلمہ کذاب اور اسودعنسی نے کیا یا آپa کے بعد کرے۔ اس لئے کہ آپa خاتم الانبیاء ہیں بنص قرآن وحدیث۔ پس دعویٰ، اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے۔

نیز ہے:’’اذالم یعرف ان محمداa آخر الانبیاء فلیس بمسلم لا نہ من ضروریات الدین‘‘

(الاشباہ والنظائر کتاب السیرص۱۰۲)

’’یعنی جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ آنحضرتﷺ تمام نبیوں کے آخری ہیں۔ کافر ہے، کیونکہ آپa کا آخری نبی ہونا ضروریات دین میں سے ہے۔‘‘

119

نیز فقہ حنفی کی مشہور کتاب (البحرالرائق ج۵ ص۱۲۱) میں ہے کہ: ’’اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ یہ کہے کہ اگر ’’انبیاء کا فرمان صحیح اورسچ ہو‘‘ تو وہ کافر ہو جاتاہے۔اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘

نیز (فتاویٰ عالمگیر یہ ج۲ ص ۲۶۳) میں ہے: ’’اذا لم یعرف ان محمداm آخرالآنبیاء‘‘ یعنی اگرکوئی آدمی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آنحضرتﷺ آخر ی نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول ہوں یا فارسی میں کہے کہ من پیغمبر م اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں۔ تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔ جس کا منشایہ ہے کہ ایسے الفاظ ہوںجو دعویٰ نبوت کے موہم ہوں۔ وہ بھی کفر ہے۔

علامہ ابن حجر مکی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں: ’’من اعتقدوحیا بعد محمدa فقد کفر با جماع المسلمین‘‘ یعنی جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد وحی کا اعتقادرکھے۔وہ با جماع مسلمین کافر ہے۔

حضرت ملّا علی قاری (شرح فقہ اکبر ص۲۰۲) میں تحریر فرماتے ہیں: ’’ودعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالا جماع‘‘ آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا باجماع کفر ہے۔

علامہ سید محمود آلوسی مفتی بغداد اپنی تفسیر (ج۷ ص۶۵) میں لکھتے ہیں: ’’وکونہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتم النّبیین من مانطقت …الخ‘‘ یعنی آنحضرتﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں ہے۔ جن پر تمام آسمانی کتابیں نا طق ہیں۔ جن کو حدیث نبویہ نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ جس پر امت نے اجماع کیا ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کا مدعی کافر سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی اصرار کرے گا تو قتل کیا جاوے گا۔‘‘

حافظ ابن حزم اپنی کتاب (الملل والنحل ج۲ ص۲۶۹، باب الکلام فیمن یکفر ولا یکفر) میں لکھتے ہیں: ’’وکذلک من قال… الخ!‘‘ اور ایسا ہی جو شخص یہ کہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد سوائے عیسیٰ ابن مریم کے اور کوئی نبی ہے تو کوئی شخص بھی اس کے کافر ہونے میں اختلاف نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ان امو ر پر صحیح اور قطعی حجت قائم ہو چکی ہے۔‘‘

حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی (غنیۃ الطالبین ص ۸۸، طبع سوم مصر) میں فرماتے ہیں کہ: ’’ادعت ایضاً …الخ!‘‘ روافض نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حضرت علی نبی ہیں۔ خدا ان کو لعنت کرے اور اس کے فرشتے بھی اور اس کی تمام مخلوق دن قیامت تک اور جلادے ان کے کھیتوں کو۔کیونکہ انہوںنے اس بارہ میں غلو سے کام لیا ہے اور اسلام کو چھوڑ دیا ہے۔ پس ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں۔اس شخص سے جس نے یہ قول کیا ہے۔ ‘‘

ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ امت محمدیہ قرن اوّل سے لے کر آج تک اس پر متفق ہے کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد وحی یا نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے۔ وہ کافر اور مرتد ہے۔اس کے بعد مرزا قادیانی کی عبارتیں اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں:

’’وماکان لی ان ادعی النبوۃ وا خرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘ (حمامتہ البشری ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

’’مجھ سے یہ نہیںہو سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جائوں اور کافر قوم کے ساتھ مل جائوں۔‘‘ اس قول سے معلوم ہو گیا کہ پہلے خود مرزا قادیانی کاعقیدہ بھی یہ رہا جو تمام امت کا عقیدہ تھا۔

120

مدعیان نبوت کے خلاف اسلامی درباروںکے فیصلے

اس کے بعد میں چندوہ فیصلے پیش کرنا چاہتا ہوں جو مدعیان نبوت کے بارہ میں اسلامی درباروں سے صادر ہوئے۔ اسلام میں سب سے پہلا مدعی مسیلمہ کذاب اور پھر اسودعنسی ہے۔ اسود عنسی کو وہاں حضورﷺ کے حکم سے قتل کر دیا گیا اور کسی نے نہ پوچھا کو تیری نبوت کے کیا دلائل ہیں اور تیرے صدق کا معیار کیا ہے۔

(ملاحظہ ہو فتح الباری ج۶ ص۴۵۵)

’’آنحضرتa کے بعد مسیلمہ کذاب پر با جماع صحابہi جہاد کیا گیا اور آخر اسے قتل کیا گیا۔ وہ سب سے پہلا اجماع جو اسلام میں منعقد ہوا۔ وہ مسیلمہ کے جہاد پر تھا۔جس میں کسی نے یہ بحث نہ ڈالی کہ مسیلمہ اپنی نبوت کے لئے کیادلائل اور کیا معجزات رکھتا ہے۔ بلکہ اس بناء پر آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوت سرے سے کذب وافتر اء مان لیا گیا۔ اس لئے باجماع صحابہi اس پر جہاد کیا گیا۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد میں طلیحہ نامی ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے قتل کے لئے حضرت خالدq کو بھیجا۔ ‘‘

(فتوح البلدان ص ۱۰۲)

اس کے بعد حارث نامی ایک شخص نے خلیفہ عبدالملک کے عہد میں دعویٰ نبوت کیا۔ خلیفہ نے علماء وقت سے جو کہ صحابہi اور تابعین تھے۔ فتویٰ لیا اور متفقہ فتویٰ سے اسے قتل کرکے سولی پر چڑھا دیا گیا۔کسی نے اس بحث کو روانہ رکھا کہ اس کی صداقت کا معیاردیکھیں اور معجزات اور دلائل طلب کریں۔قاضی عیاض نے اس واقعہ کو اپنی کتاب (شفاء ج۲ص۲۵۷، ۲۵۸،مطبوعہ مصر ۱۹۵۰ء) میں نقل کرکے فرمایاہے: ’’وفعل ذالک غیر واحدمن الخلفاء والملوک با شباھہم‘‘ یعنی بہت سے خلفاء بادشاہوں نے بہت سے ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے اور اس وقت کے علما ء نے اجماع کیا ہے کہ یہ ان کی کاروائی صحیح اور درست تھی اور جو شخص ان کے کفر کا منکر ہو۔وہ خود کافر ہے۔ہارون رشید کے زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا۔خلیفہ نے علماء کے متفقہ فیصلہ سے اسے قتل کیا۔کتاب (المحاسن ص۹۶جلد اوّل للبیہقی) میں مذکورہے۔

یہاں تک میری گزارش کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام امت اس پر متفق ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص دعویٰ نبوت یا وحی کا کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے۔ وہ کافر مرتد ہے اور اس فیصلے کو قرون اوّل سے لے کر تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں نے نافذ کیا ہے کہ مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے دونوں کافر مرتد ہیں۔

ائمہ کے ان اقوال سے یہ بات ثابت اور واضح ہوگئی کہ یہ جو کچھ ختم نبوت کا عقیدہ پیش کیا گیا ہے۔وہ قرآن مجید کی آیت: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ کا صریح حکم ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس آیت کا مطلب سوائے اس کے اور نہیں ہوسکتا جو صحابہi نے اور تابعین نے با جماع بیان کیا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ جائز نہیں۔

(تفسیر ابن کثیر ج۸ ص۷۹، آیت خاتم النّبیین) کی تفسیر میں ہے: ’’فھذہ الا یۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ… الخ‘‘ یعنی یہ آیت اس بات میںنص صریح ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا تو رسول بطریق اولیٰ نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہر رسول کا نبی ہو نا ضروری ہے اور عکس ضروری نہیں۔ اسی پر رسول اللہa سے احادیث متواترہ وار د ہوئی ہیں۔ جس کو صحابہ کرامi کی ایک بڑی جماعت نے آپa سے نقل کیا ہے۔

121

اسی کتاب کے (ج۸ ص۹۱) میںہے: ’’فمن رحمۃ اﷲ ارسال محمد… الخ!‘‘ یعنی پس بندوں پر خدا کی رحمت ہے۔ محمدa کو ان کی طرف بھیجنا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت کی تعظیم و تکریم میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپa پر تمام انبیاء اور رسل کو ختم کردیا ہے اور دین حنیف کو آپa پرکامل اعتماد ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبردی ہے کہ میرے بعدکوئی نیا نبی پیدا ہونے والا نہیں تاکہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپa کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا اور مفتری ہے۔ دجال اور ضال مضل ہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی بھی کرے اور قسم قسم کے جادو اورطلسم اور نیرنگیاں دکھلائے۔ اس لئے کہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے اور ایسے ہی خداوند تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر یہاں تک کہ وہ مسیح الدجال تک ختم کردیئے جاویں گے۔ اس بارہ میں جو احادیث متواترہ کا دعویٰ ابن کثیر نے کیا ہے۔ وہ سب تقریباً میرے رسالہ ختم النبوۃ (جو طبع شدہ ہے)میں محفوظ ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: ’’لا تقوم الساعۃ حتی تبعث دجالون کذالون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یعنی قیامت اس وقت تک نہیںہوگی۔جب تک بہت سے دجال اور جھوٹے لوگ نہ اٹھائے جائیں۔جن میں ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔

(ابوداؤدج۲ ص۱۲۷، کتاب الفتن ترمذی ج۲ ص۴۵، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)

دوسری حدیث میں ہے: ’’مثلی ومثل الا نبیاء من قبلی… الخ!‘‘ یعنی میرے اور پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے گھر بنایا ہو اور آراستہ و پیراستہ کیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی ہواور اس کے آس پاس لوگ چکر لگاتے ہوںاور خوش ہوتے ہوں اور یہ کہتے ہوں کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تاکہ تعمیر مکمل ہوجاتی۔ وہ آخری اینٹ میں ہوںاور میں ہی خاتم النّبیین ہوں۔

(بخاری ج۱ص۵۰۱، باب خاتم النّبیین)

تیسری حدیث: ’’فضلت علٰی الا نبیاء… الخ!‘‘ یعنی مجھے تمام انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ چھٹی یہ ہے کہ میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کر دیا گیا ہے۔

(مسلم ج۱ ص۱۹۹، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)

چوتھی حدیث: ’’انا اخرالانبیاء وانتم اخرالا مم… الخ!‘‘ میں انبیاء کا آخری ہوں اور تم تمام امتوں کے آخری ہو۔

(ابن ماجہ ص۲۹۷، باب فتنۃ الد جال وخروج عیسیٰ بن مریم)

یہاں تک میرے بیان کا ایک جزو ختم ہوا کہ ضروریات دین کا انکار با جماع امت کفر ہے اور ختم نبوت کا عقیدہ اور اسی طرح مدعی نبوۃ کا مرتد ہو نا بھی ضروریات دین میںسے ہے۔ مرزا قادیانی نے ان تمام ضروریات دین کا کھلے طور پر انکار کر دیا ہے۔ لہٰذا وہ باجماع امت کافرومرتد ہیں۔

توہین انبیاءؑ

اس کے بعد دوسری چیز تو ہین انبیاءؑ ہے۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی بلاتخصیص و استثناء توقیر کرنا اور تعظیم کرنا قرآن اور حدیث کا کھلا ہوا فیصلہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآن شریف کا ارشاد ہے: ’’ان الذین یکفرون باﷲ ورسلہ ویریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسلہ (نساء:۱۵۰)‘‘ اس آیت سے معلوم ہو اکہ تمام انبیاء پر بلا استثناء ایمان لانا ضروری ہے۔

122

مرزا قادیانی نے اپنی متعدد کتابوں میں متعدد مواقع پر انبیاء کی توہین کی ہے۔ خاص کر حضرت عیسیٰؑ کی اس قدر اہانت اس کی کتابوں میں صراحتاً موجود ہے کہ ایک بھلا آدمی بھی دوسرے آدمی کو نہیں کہہ سکتا۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ یحییٰm نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملاتھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھواتھایا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن میں یحییٰm کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰حاشیہ)

اس عبارت نے یہ بات بھی صاف کردی ہے کہ اس میں جو کچھ حضرت مسیح کے متعلق کہا گیا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کا اپنا عقیدہ ہے جس کو بحوالہ قرآن بیان کرتے ہیں۔ وہ کسی عیسائی وغیرہ کا قول نقل نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:’’پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸)

اس کتاب کے حاشیہ پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹حاشیہ )

اسی کتاب میں ہے کہ: ’’اور آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔تین دادایاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیںجن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘ اسی صفحہ پر ہے کہ: ’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہوکہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ‘‘ اسی صفحہ پر ہے کہ: ’’سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ ‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱حاشیہ)

مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں یہ گالیاں یسوع کا نام لے کر کہی ہیں اور خود لکھتا ہے کہ: ’’ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

اسی طرح مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ: ’’اور مفتری ہے۔وہ شخص جو مجھے کہتاہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتابلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاربھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)

اس کے حاشیہ پر لکھتا ہے کہ: ’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ‘‘

(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸ حاشیہ )

مرزا قادیانی کی ان عبارات سے یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ جس کو یسوع کہتے ہیں۔ وہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔لہٰذا یہ بات ناقابل التفات ہے کہ مرزا قادیانی نے گالیاں یسوع کو دی ہیں نہ کہ عیسیٰ کو۔ نیز کشتی نوح کے حاشیہ پر خود مرزا قادیانی بجائے یسوع کے لفظ عیسیٰ لکھ کر کہتے ہیں کہ : ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۵، خزائن ج۱۹ ص۷۱حاشیہ)

ان عبارات سے مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰؑ کی توہین کرنا اور مغلظات گالیاں دینا ثابت ہوگیا۔

123

توہین انبیاءؑ با لا جماع کفر ہے

اس کے بعد علمائے امت کا متفقہ فیصلہ اس بارہ میں پیش کرتا ہوں کہ جو شخص خدا کے کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرے۔ وہ باجماع امت کافر ہے۔ (درمختار شامی ج۱ ص ۳۵۶، باب المرتد) میںہے: ’’والکافر بسب نبی من الا نبیاء‘‘ یعنی وہ شخص جو کسی نبی کو گالیاں دینے کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قطعاً قبول نہ ہوگی اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘

یہی مضمون درمختار میں فصل جزیہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ فتاویٰ بزازیہ میں بھی ہے کہ اگر اپنے دل سے بھی کسی نبی کو مبغوض رکھے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اسی طرح (شامی ج۳ ص۳۱۷، باب المرتد) ہے: ’’قال ابن السخنون المالکی واجمع المسلمون… الخ!‘‘ یعنی ابن سخنون مالکی فرماتے ہیں کہ: ’’تمام مسلمانوں نے اجماع کیا ہے کہ رسول کو گالیاں دینے والا کافر ہے اور اس کا حکم قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘ یہی عبارت بعینہٖ شفاوغیرہ میں بھی موجودہے۔کتاب الخراج میں ہے: ’’ای مسلم سب… الخ!‘‘ یعنی جو مسلمان آنحضرتﷺ کو گالیاں دے یا آپa کی تکذیب کرے یا آپa پر عیب لگائے تو وہ کافر ہوگیا۔ اس کی عورت اس سے بائنہ ہوگئی۔

(تحفہ شرح منہاج، باب المرتدین) میں ہے: ’’اوکذب نبیاً او رسولاً‘‘ یعنی جو شخص نبی یا رسول کی تکذیب کرے یا کسی شخص کی نبوت کو ہما رے رسول کریمa کے بعد جائز رکھے۔وہ کافر ہے۔

امت کے اجماعی فیصلوں سے مرزا قادیانی کے کفر اور ارتداد کی دوسری وجہ مل گئی۔ان وجوہ سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے متبعین بالا جماع کافر ومرتد ہیں۔

مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد کے ساتھ جائز نہیں

اس کے بعد یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر کے ساتھ ہرگز کسی وقت جائز نہیں سمجھا گیا ا ور اگر بعد نکاح خاوند کفر اختیار کرے۔ اس کا نکاح ہمیشہ فسخ شمار کیا گیا ہے: ’’لا ھن حل لہم ولا ھم یحلون لھن (الممتحنۃ:۱۰)‘‘ یعنی مسلمان عورتیں کفار کے لئے حلال نہیں اور نہ کفار مرد مسلمان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ قرآن کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے اور خود مرزا قادیانی اوران کے متبعین بھی اس کے قائل ہیں۔

(فتاوی احمدیہ ج۲ ص۷) میں ’’تاکید کی جاتی ہے کہ کوئی احمد ی اپنی لڑکی غیر احمد ی کے نکاح میں نہ دے۔‘‘ اسی طرح مرزا محمود نے لکھا ہے کہ: ’’ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدی کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس احمد ی پر سخت ناراضگی کا اظہارکیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمد ی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں کو نہ دو۔آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود کہ وہ بار بار تو بہ کرتا رہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کرلی ہے۔ ‘‘

(انوار خلافت ص۹۳، ۹۴، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۱)

میں اپنے بیان کو اس پر ختم کرتا ہوں کہ باجماع امت بہ تصریح قرآن وحدیث کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی مذہب والے کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ بعد نکاح کے ایسا مذہب اختیار کرلے تو شرعاً وہ نکاح فسخ ہوجائے گا۔قضائے قاضی اور عدت کی ضرورت نہیں۔

124

بیان بجرح مولوی محمد شفیع صاحب گواہ مدعیہ

خاتم النّبیین کے معنی یہ کہ تمام انبیاءؑ کو ختم کرنے والا یا آخری نبی اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں ہیں جو حضورﷺ کو اس معنی میں خاتم النبیa نہ مانے وہ کافر اور مرتد ہوگا۔ ملاعلی قاری عالم مسلمان ہیں۔ ملّا علی قاری نے اپنی کتاب’’موضوعات کبیر‘‘ میں صفحہ۵۹ میں لکھا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں کہتا ہوں اور اس کے باوجود اگر ابراہیمm زندہ رہتے اور نبی ہوجاتے اوراس طرح پر اگر حضرت عمرq نبی ہوجاتے تو وہ آپa کے پیروئوں میں رہتے۔ یہ بات ابراہیمm اور عمرq اگر زندہ رہتے اور نبی ہوجاتے تو یہ قول خداتعالیٰ کے قول خاتم النّبیین کے منافی نہیں ہے۔

چونکہ معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیںآئے گا جو آپ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت سے نہ ہو اور اس بات کو مضبوط کرتی ہے۔ رسولﷺ کی حدیث کہ اگر موسیٰm زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ امام محمد طاہر کے متعلق بھی میرا عقیدہ ہے کہ وہ مسلمان ہے وہ اپنی کتاب تکملہ مجمع البحار میں لکھتے ہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت عائشہt فرماتی ہیں کہ لوگو یہ تو کہو کہ رسولﷺ خاتم الانبیاء ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ اس لئے کہ وہ نظر کرتی ہیں حضرت عیسیٰؑ کی طرف اور یہ قول اس بات کے منافی نہیں ہے۔’’لانبی بعدی‘‘ اس لئے کہ آپ نے یہ ارادہ کیاہے کہ کوئی نبی نہیں جو… منسوخ کرے آپ کی شریعت کو مگر ایک مصنف کے قول کے ’’ماقبل ومابعد‘‘ جب تک معلوم نہ ہو اور اس کی دوسری تصانیف سے اس کا صحیح عقیدہ معلوم نہ کیا جاوے۔ اس وقت تک کوئی ایک جملہ کسی کتاب کا پیش کردینا عقیدہ ثابت کردینے کے لئے کافی نہیں۔ ملاعلی قاری کے متعلق جو سوال دریافت کیاگیا، اس کے متعلق ملاعلی قاری نے ایک حدیث کے متعلق بحث کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ (ابراہیم صاحبزادہ نبی کریمa) زندہ رہتے تو البتہ نبی ہوتے۔ امام نووی اپنی کتاب تہذیب میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث باطل ہے اور جسارت ہے۔ غائب کی باتوں پر کلام کرنے میں اٹکل پچو ہے اور ایک بڑے جرم کا ارتکاب ہے۔ ملّا علی قاری کا جو قول اوپر بیان کیاگیاہے اس کی ماقبل اور مابعد کی عبارت کو پڑھنے سے یہ مفہوم پیدا ہوتاہے کہ وہ صرف حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسولﷺ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت خضرm کے متعلق یہ چیز بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اگر حضرت ابراہیم صاحبزادہ رہتے اور نبی ہوتے تو کس شان کے نبی ہوتے۔ ملاعلی قاری نے اس قول کے ماقبل ایسے اقوال نقل کئے ہیں۔ جن سے معلوم ہواکہ یہ حدیث کہ اگرابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔ اس حدیث کو گرایاہے اور امام نووی اور امام عبداﷲ کے اقوال نقل کئے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں اور اس کے بعد یہ فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض اس حدیث کو تسلیم کرلیاجاوے کہ اگرحضرت ابراہیم زندہ رہتے اور نبی تواس شان کے نبی ہوتے کہ نسخ شریعت نہ کرتے۔ اس بیان سے صاف معلوم ہواکہ ملّا علی قاری صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ ابراہیم نبی ہوتے تو اس شان کے ساتھ ہوتے کہ نسخ شریعت نہ کرتے۔ لیکن یہ چیز صرف ابراہیمm کے حال کو بیان کررہی ہے۔ عام قاعدہ نہیں۔ ملاعلی قاری نے چند اقوال حدیث مذکورہ بالا کو ضعیف ثابت کرنے کے بعد خود اس حدیث کو اس لئے صحیح تسلیم کیا ہے کہ باقی دوطریق سے یہ حدیث قوی ہوجاتی ہے۔ الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ تین طریقے ہیں۔ جن سے قوی ہوجاتے ہیں۔ بعض طریقے بعض سے باوجود اس کے میں کہتاہوں کہ اگرزندہ رہتے ابراہیم اور ہوجاتے نبی اور ایسے ہی اگر ہوجاتے عمر نبی البتہ ہوتے وہ دونوں نبی کریمa کے اتباع میں سے مثل عیسیٰؑ اور خضرm کے پس منافی ہے قول اﷲتعالیٰ کے خاتم النّبیین کے اس لئے کہ اس کے معنی ہیں کہ نہیں آئے گا کوئی نبی آپ کے بعد جو منسوخ کرے آپ کی ملت کو اورہو آپ کی امت

125

میں سے اورتقویت کرتی ہے اس کی یہ حدیث کہ اگر ہوتے موسیٰm زندہ رہتے نہ گنجائش ہوتی ان کو مگرمیرے اتباع کی۔ یہ ترجمہ صحیح ہے۔ بسوال عدالت کہا کہ امام ابوطاہر کا جو قول اوپر بیان کیاگیاہے۔ اس کی ماقبل کی عبارت میں وہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہیں۔ جس کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ عیسیٰؑ خنزیر کوقتل کریں گے اور صلیب کو توڑیںگے اورحلال میں زیادتی کریں گے۔ یعنی اپنے نفس کے لئے حلال میں اس طرح زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد ہوگی اورجیسے عیسیٰؑ نے نہیں نکاح کیا تھا آپ نے قبل آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے۔ پس بعد نازل ہونے کے حلال میں زیادتی کی اور اس وقت میں ایمان لے آئے گا ہر ایک اہل کتاب میں سے۔ بوجہ اس یقین کے کہ وہ بشر ہے اور حضرت عائشہt سے ہے کہ کہو تم خاتم الانبیاء اور نہ کہوکہ لانبی بعدی اور یہ اس لئے بنا بر نظر کرنے کے عیسیٰؑ کے نزول کی طرف اور یہ پس منافی نہیں ہے۔ حدیث ’’لانبی بعدی‘‘ کے اس لئے کہ ارادہ کیا ہے کہ نہیں کوئی نبی جو منسوخ کرے آپ کی شریعت کو اور یہ حدیث اس لئے نقل کی گئی کہ خاتم النّبیین کی آیت اور ’’لانبی بعدی‘‘ کی حدیث کی وجہ سے کوئی شخص عیسیٰؑ کے نزول کا انکار نہ کرسکے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آئندہ کوکسی نبوت کا دروازے کھول رہے ہیں۔ امام محمدطاہر نے ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی یہ لئے ہیں کہ ’’لانبی ینسخ شریعتہ‘‘ یعنی ایسے کوئی نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شرع کو منسوخ کرے۔

شیخ محی الدین ابن عربی مسلمان ہیں۔ ان کی کتاب فتوحات مکیہ میں جلددوئم صفحہ۳ پر جو عبارت مختار مدعاعلیہ نے پڑھی ہے۔ اس کا ترجمہ میری رائے میں حسب ذیل ہے۔ وہ نبوت جو ختم ہوئی ہے وہ نبوت تشریعی ہے نہ مقام نبوت۔ پس کوئی شریعت نہیں ہے جو ناسخ ہوآپ کی شریعت کی اور انہیں زیادہ کرسکتی ہے آپ کی شریعت میں کوئی دوسرا حکم، اور یہی معنی ہیں آنحضرتﷺ کے قول کے کہ رسالت اور نبوت ختم ہوگئی۔ پس نہ کوئی رسول میرے بعد اور نہ کوئی نبی، یعنی ایسا نبی جو اس شریعت پر ہو جو میری شریعت کے خلاف ہو بلکہ جب ہوگا۔ میری شریعت کے تحت ہوگا۔بہ سوال عدالت کہا کہ اس مصنف فتوحات مکیہ نے باب۳۵۳ میں بحوالہ کتاب الیواقیت والجواہر ص۲۳۲ میں لکھا ہے کہ نہیں آئی ہمارے لئے کوئی خبر ایسی کہ بعد رسول اﷲ کے وحی تشریعی ہے کبھی بلکہ اس کے سوا نہیں کہ ہمارے لئے وحی الہام ہے۔ جس سے انکار مقصودیہ ہے کہ وحی تشریعی نبی پر ہوتی ہے اور الہام اولیاء پر ہوتاہے۔ مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند مسلمان ہیں۔ ان کی کتاب (تحذیر الناس ص۳) پر یہ عبارت ہے۔ ’’اوّل معنی خاتم النّبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کوئی دقت نہ ہو۔ سوعوام کے خیال میں تو رسولﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اورآپ سب سے آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح ’’ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکہ صحیح ہوسکتاہے۔‘‘ اس کتاب کے ص۲۸ پر حسب ذیل عبارت ہے۔ بلکہ اگربالفرض بعد زمانہ نبیa بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اس زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جاوے۔

سوال عدالت: اس مصنف نے اس کتاب کے ص۱۰ پر تحریر فرمایاہے کہ: سواگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہرہے ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل: ’’انت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الّا انہٗ لا نبی بعدی اوکما قال‘‘ جو بظاہر بطرز مذکورہ اس لفظ خاتم النّبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیاہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض ووتر وغیرہ، خاتم النّبیین کے لغت میں سوائے ان معنوں کے جو میں نے کئے ہیں نہیں آتے۔ عربی زبان میں کوئی حقیقی معنی بھی اس کے سوا نہیں ہوتا۔

126

نوٹ: مختار مدعاعلیہ ایک شعر میں خاتم کے لفظ کے معنی پوچھنا چاہتا ہے۔لیکن چونکہ یہ بحث لغوی ہے۔ جس کا مقدمہ ہذا سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ سوال نہیں پوچھا جاتا۔ یہ ایک عربی شاعر کے قول میں خاتم الشعراء کے لفظ کا معنی پوچھے گئے لیکن اس کاکوئی تعلق مقدمہ ہذا سے نہیں سمجھا گیا۔

قرآن مجید میں سورہ اعراف میںجو یہ آیت:۳۵ ہے: ’’یا بنی آدم اما یاتینکم رسلٌمنکم یقصون علیکم آیاتی‘‘ اس کا ترجمہ یہ ہے: اے اولاد آدم کہ کبھی پہنچیں تمہارے پاس رسول تم میں سے سناویں تم کو آیتیں میری۔ سو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور سنوارپکڑی نہ ڈرہے ان پر اور نہ غم کھاویں۔ بنی آدم سے وہ بنی آدم مرادہیں۔ جب تک کہ سلسلہ نبوت منقطع نہیں ہوا۔ قرآن مجید میں بنی آدم سے مخاطب کل بنی آدم ہیں۔ لیکن اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جو سلسلہ نبوت کے منقطع ہونے سے قبل کے ہیں۔ اس سے قبل کی آیت میں جو بنی آدم کا لفظ ہے۔ اس سے مراد جملہ بنی آدم ہیں۔ چونکہ آگے دوسرا کوئی تعارض موجود نہیںہے۔ دوسری آیات ’’اﷲیصطفی من الملائکۃ رسل (حج:۷۵)‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اﷲ چھانٹ لیتا ہے۔ فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے اور آدمیوں میں۔ اﷲ سنتاہے۔ دیکھتاہے۔ لفظ ’’یصطفی‘‘ میں آئندہ زمانہ مراد نہیں ہے۔ اس لفظ کے معنی استقبال کے بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس آیت میں ہرگز استقبال کے معنی نہیں ہوسکتے۔ رسولﷺ کے بعد وحی تشریعی کا دروازہ بالکل منقطع ہے۔ وحی تشریعی کسی قسم کی نہیں ہوگی کوئی الہام کا نام وحی رکھ دے وہ دوسری چیز ہے۔ الہام سے مراد یہ ہے کہ کسی کے دل میں خدا کی طرف سے کوئی بات واقع ہوجائے اور امرونہی کے متعلق نہ ہو۔ وحی بواسطہ فرشتہ وحی نہیں ہوسکتی۔ یعنی جو فرشتہ وحی لانے والاہے۔ اس کے ذریعہ وحی نہیں ہوسکتی۔ قرآن مجید میں آیت ذیل ’’ماکان لبشر ان یکلمہ اﷲ (الشوریٰ:۵۱)‘‘ میں جو خدا وند تعالیٰ سے کلام کرنے کے طریق بیان کئے گئے ہیں۔ وہ امت محمدیہ پر بندہیں۔ یہ طریق وحی جو بواسطہ ملک آئے یاپس پردہ کوئی آواز آئے یا کوئی رسول پہنچے یا اور وحی کرے اﷲ کے اذن سے۔ آیت میں صاف ذکرہے کہ کون وحی کرے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی پیغام لانے والا وحی کرے۔ حضرت عیسیٰؑ پہلے نبی ہیں۔ ان کے احکام باقی امت کے احکام کے ساتھ متعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ اس وقت امت محمدیہ کے زمرہ میں ہو کر آئیں گے۔ جبرئیلm ان پر نازل ہوں یا نہ ہوں اس بحث سے تعلق نہیں ہے۔ ان پر اگر کوئی جبرئیلm کے نازل ہونے کاقائل ہو تو اس کو کافر نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ وہ پہلے انبیائوں سے ہیں۔ جن کی خبر سے قرآن بھرا ہواہے۔ مجھے کوئی حدیث یا دنہیں جس میں یہ کہو کہ رسولﷺ کے بعد کوئی وحی نہ آئے گی۔ میں نواب صدیق حسن صاحب کو مسلمان سمجھتاہوں۔ ان کی کتاب حجج الکرامہ’’ ظاہرآن است کہ آرندہ وحی بسوئے اوجبرئیلm باشد بلکہ ہمیں تفسیرداریم ودران تردونمے کنیم چہ جبرئیل سفیر خدااست دربیان انبیاء وفرشتہ دیگر برائے زمین کار مصروف ہست… وآنکہ برالسنہ عامہ مشہورشدہ کہ نزول جبرئیل بسوئے ارض بعد موت رسول خداa نشود بے اصل محض است‘‘

شیخ محی الدین ابن عربی کی کتاب (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۷) پرجو عبارت میں نے اب پڑھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وحی رسولﷺ پر نازل ہوتی تھی اور وحی کبھی نازل ہوتی ہے آپa کے قلب پرتوآپ پر ایک شدت حرارت پید ا ہوتی ہے۔ جس کوحال سے تعبیر کیاجاتاہے۔اس لئے طبیعت اس کے مناسب نہیں اس لئے اس پر سخت ہوتاہے اور اس کی وجہ سے مزاج شخص غرق ہوجاتاہے۔ یہاں تک کہ اس چیز کو اداکردیتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی۔ پھر آپ سے یہ حالت کھل جاتی ہے۔ پھرخبر دیتے ہیں اس چیز کی جو آپ سے کہی گئی اور یہ موجود ہے۔ اﷲ کے بندوں میں اولیاء میں سے اور جو وہ مختص ہے نبی کے ساتھ اس میں سے نہ ولی کے ساتھ وہ وحی بالتشریع

127

ہے۔ بس نہیں تشریع کر سکتاہے۔ مگر رسول خاص کر۔ پس حلال کرے، حرام کرے اورمباح کرے۔ جس وحی کا ذکر امام ابن عربی نے مذکورہ بالا عبارت میں کیاہے، وہ وحی ہے۔ اس کتاب کے باب ۳۱۰ میں ابن عربی صاحب کہتے ہیں جو وحی شرع لانے والاہے وہ کسی غیر نبی پر ہر گز نہ آئے گا۔ اس کے سوا نہیں کہ اولیاء کے واسطے مبشرات کی وحی ہے۔ یعنی نیک خوابیں یہ حوالہ کتاب (الیواقیت والجواہر ص۲۳۳)پر ہے منقول از فتوحات باب۳۱۰ شیخ محی الدین ابن عربی نے ملک وحی کے کسی غیر نبی پرآنے کو نہیں مانا بلکہ کتاب (الیواقیت والجواہر ص۹۵) پر عبارت جو الفاظ ذیل سے شروع ہوتی ہے۔ ’’والحق ان الکلام فی الفرق بینھما ان ماھو فی کیفیۃ مانزل اﷲ الملک فی نزول الملک‘‘ اس کا مطلب میں یہ سمجھتاہوں کہ امام یہ فرق بتلانا چاہتے ہیں کہ نبی اور ولی کے الہام میں فرق نزول الملک کے اعتبار سے نہیں بلکہ کیفیت کے اعتبار سے ہے۔ اس لئے جو ملک رسول اور نبی پر نازل ہوتاہے۔ خلاف اس کے ہے جو ولی تابع پر نازل ہوتاہے۔ اس لئے ولی تابع پر ملک نازل نہیںہوتا۔ بلکہ اس کے نبی کے اتباع کے لئے، نماز ضروریات دین سے ہے۔ نماز کے عمل کا اعتقاد رکھنا ضروریات دین سے نہیںہے لیکن نماز کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا ضروریات دین میں سے ہے۔ عمل کرنا عقیدہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ ضروریات دین کا تعلق عقائد سے ہے۔ اعمال سے نہیں ہے۔ اس قسم کی حدیث ہے کہ: ’’من ترک الصلٰوۃ متعمدا فقد کفر‘‘ اس حدیث کے معنی میں جمہور امت یہ سمجھتی ہے کہ اس شخص نے کفر کا سافعل کیا جس نے نماز کو عمدا چھوڑدیا۔ بعض ائمہ نے ایسے شخص کو بھی کافر کہاہے۔ جن لوگوں نے ایسے اشخاص کو کافر کہاہے۔ وہ امام حق ہیں اور مسلمان ہیں۔ جن ائمہ نے اس حدیث کی بناء پر کسی مسلمان کوکافر کہاہو۔ ان لوگوں کو کافر نہیں کہا جاسکتا اور جن لوگوں کو یہ ائمہ اس حدیث کی بناپر کافر کہتے ہیں۔ ان لوگوں کی رائے ان کے متعلق بھی یہی ہوگی کہ ان کے ساتھ نکاح جائز نہیںہے۔ جو شخص یہ کہے کہ کسی نبی کے دل میں زنا کا خیال آیا۔ وہ کافر نہیں۔ قصد سے اگر یہ مراد لے کر پختہ عزم کیا تو وہ شخص جو کسی نبی کے متعلق یہ کہے کہ اس نے زنا کاقصد کیا وہ بھی کافرہے۔ امام جلال الدین سیوطی مسلمان ہے مولانا جلال الدین نے اپنی تفسیر جلالین میں سورہ یوسف کی آیت:۲۴ ’’ولقد ھمت بہ وھم بھا‘‘ کے تحت میں یہ ترجمہ کیاہے کہ زلیخا نے یوسفm سے جماع کا قصد کیااور یوسف نے اس سے اس کا قصد کیا۔ اس قصدسے مراد عزم نہیں ہے بلکہ تیاری ہے۔ جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور فرضیت کا اعتقاد رکھتاہے وہ مسلمان ہے اور جو شخص فرضیت کا اعتقادنہیں رکھتا۔ اگرچہ ساری عمر اداکرے وہ کافر ہے۔ اگر کسی شخص کو کہا جائے کہ تم زکوٰۃ دو اور وہ نہ دے تو وہ میرے نزدیک کافرنہیں۔ میںنہیں جانتا کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام حنبل، شیخ محی الدین ابن عربی، امام مالک پر علماء نے کفر کے فتوے لگائے ہیں یا نہ۔ مجھے معلوم نہیں کہ امام ابن جوزی نے سید عبدالقادر جیلانی اور شیخ محی الدین ابن عربی پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے یا نہ۔ یہ سب ائمہ ضروریات دین کے قائل تھے۔ اگر کسی شخص کو مسلمان کے متعلق یہ خبر معلوم ہویا اس کی کسی عبارت سے یہ سمجھے کہ وہ بعض ضروریات دین کا انکارکررہاہے تو اس کوکافر کہنے والا معذور سمجھاجائے گا اور اگر وہ شخص فی الواقعی ضروریات دین کا منکر نہیں تو وہ اپنی جگہ پر مسلمان رہے گا۔ جن لوگوں نے اس خبر کی بناء پر کہ وہ ضرورت دین کا منکرہے۔ کسی کو کافر ٹھہرایا یہ لوگ مسلمان رہیں گے۔ گویہ خبر فی نفسہٖ غلط ہو۔ بغیر تحقیقات کے کسی کی ذات پر فتویٰ کفر لگانا جائز نہیں۔ لیکن تحقیقات میں غلطی ممکن ہے۔ بلکہ کثرت سے واقع ہے۔ سید عبدالقادر جیلانی نے فرقہ حنفیہ کوجوامام ابوحنفیہ کا متبع ہے۔ اسے گمراہ فرقہ میں شمار نہیں کیا۔ احمد رضا خان بریلوی نے دیوبندیوں پر فتویٰ کفرکا دیا ہے۔ اس پر بعض علمادین کی مہریں بھی ثبت ہیں۔ ہم احمد رضاخان بریلوی کے فرقہ کو کافرنہیں کہتے۔ احمد رضا خاں کو بھی ہم کافر نہیں کہتے۔ اس کے اقوال کی تاویل کرتے۔ ممکن ہے کہ احمد رضاخان نے دیوبندیوں کو کافر کہتے وقت کوئی تحقیقات کی ہو۔ ان کا فتویٰ اس خبر کی بناء پر یا

128

اس تحقیق کی بناء پر واقع ہوا کہ دیوبندیوں نے کسی ضرورت دین کا انکار کیاہے۔ ہمارے نزدیک ان کا فرض تھا۔ بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ایسے شخص کو کافر کہے جوکسی ضرورت دین کا منکرہو۔ اس لئے ان کا فتویٰ اپنی تحقیق کی بناء پر تھا۔ گووہ تحقیق درحقیقت غلط ہے اور دیوبندیوں کے سر ضروریات دین کا انکار لگانا۔ محض جھوٹ اور افترا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ دیوبندیوں نے بھی کسی کو احمدیوں کے سوا کافر کہا ہے یانہیں۔ شیعوں کے بعض فرقے جوضروریات دین کے منکر ہوں۔ وہ کافر سمجھے جائیں گے۔

نوٹ: جرح میں بہت طوالت کی جارہی ہے۸بجے سے شروع ہوئی ہے اور اب ساڑھے دس بج چکے ہیں۔ اس لئے مزید جرح کے لئے ۱۱ بجے تک وقت دیاجاتاہے۔

دستخط: جج صاحب بحروف انگریزی محمد اکبر

مسیلمہ کذاب کی نبوت کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ مدعی تھا کہ میں نبی کریمa کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں۔ نبوت مستقلہ کا مدعی نہیں تھا۔ اس نے اسلامی شریعت کے خلاف کوئی شریعت قائم نہیں کی۔ قرآن شریف کے مقابلہ میں کوئی آیات قائم کی تھیں یا نہ، مجھے علم نہیں۔ وہ شریعت قرآن شریف کا متبع تھا یا نہ، مجھے معلوم نہیں۔ اس نے مسلمانوں کے خلاف قتال کیاتھا۔ ادّعا نبوت کی بناء پر وہ قتال تھا۔ وہ رسولﷺ کی نبوت کا قائل تھا۔ لیکن اپنے کو بھی اس میں شریک سمجھتاتھا۔ اسود عنسی مدعی نبوت تھا۔آیا مسیلمہ کی قسم کا یادوسری قسم کا۔ اس کے متعلق کوئی تفصیل مذکور نہیںہے۔ مرزا صاحب نبوت اور رسالت دونوں کے مدعی ہیں۔ میں نے نبوت اور رسالت میں جوفرق بیان کیا ہے، وہ ایک امام مالک کے قول سے نقل کیاہے اور یہ فرق درست ہے۔ اس قول کو میں صحیح تسلیم کرتاہوں۔ بخاری کی حدیث سے جو مجھے دکھلائی گئی ہے۔ یہ مطلب نکلتاہے کہ مسیلمہ کذاب کہتا ہے کہ اگر رسولﷺ آپ کے بعد نبی قرار دیں۔ تو آپ کا اتباع کلی اختیار کرے۔ مرزا صاحب کی کتاب ایک غلطی کا ازالہ میں جہاں نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیاگیاہے۔ اس کے بعد اس دعویٰ کی تردید نہیں ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱،۲۱۰) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ ’’جس جس جگہ میں نے نبوت اور رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیاہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والانہیںہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایاہے۔ رسول اورنبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص ۱۵۴) سے میں نے جو حوالہ دیاہے اس کے آگے یہ الفاظ ہیں کہ: ’’میں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں۔‘‘

(تفسیر جلالین ص۳۵۲ پارہ ۲۲ آیات ماکان لمؤمن) کی تفسیر میں یہ عبارت ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ نبی کریمa کی ان پر (زینب) پر نظر پڑی اور آپ کے دل میں ان کی محبت پیدا ہوگئی اور زید کے نفس میں ان کی کراہت پیداہو گئی۔ ان الفاظ میں کوئی توہین نہیں ہے اور نہ آگے کے الفاظوں میں کوئی توہین ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۸، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲) پر آگے عیسائیوں کی بدگوئی کے تحت حضورﷺ کا ذکرہے۔ میں نے کتاب (ایام الصلح ص ٹائٹل، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸) کی عبارت بعض دوسری کتابوں میں دیکھی ہے۔ مولوی رحمت اﷲ صاحب مہاجر مکی اور مولوی آل حسن صاحب نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں اس طرز پر کوئی گفتگو نہیں کی۔ جس طرز پر کہ مرزا صاحب نے کی ہے۔اگر کہی ہوتو وہ کافر ہوگا۔ میں نے جو یہ کہاہے کہ اگر کوئی شخص نکاح کے بعد مرزائی ہوجائے تو اس کا نکاح بغیر حکم قاضی وعدت کے فسخ ہوجائے گا یہ شرعی مسئلہ ہے۔ اگر

129

یہ معاملہ قاضی کے سپرد نہ کیاجاوے تو شریعت کے خلاف نہیں ہوگا۔ اگر قاضی کے سپرد کرے تو اور اچھاہے۔

سوال مکرر: جو عبارت ملاعلی قاری کی کل پیش کی گئی تھی۔ اس سے ان کا پورا عقیدہ ظاہر نہیں ہوتا اور نہ صاحب مجمع البحار کا عقیدہ ظاہرہوتاہے۔ اس عبارت میں جو ملّا علی قاری کی کل بیان کی گئی ہے۔ کسی نئے آنے والے نبی کے متعلق عیسیٰؑ کے علاوہ کوئی پیش گوئی نہیں ہے۔ اگر ملاعلی قاری کا یہ قول قرآن، حدیث اور اجماع امت کے خلاف ہو توکوئی وقعت نہیں رکھ سکتا۔ میں نے جو کل یہ بات کہی تھی کہ ایک مصنف کے دوسرے اقوال بھی دیکھنے چاہیں۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ اگر ایک مصنف کے ایک ہی مسئلہ میں مختلف اقوال مذکورہوں۔ ان میں سے ایک قول مبہم ہوتو اس مبہم قول کو مفصل اقوال کی طرف راجع کیاجائے گا۔ فتوحات مکیہ کی جو عبارت فریق ثانی کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ وہ قرآن، حدیث اور اجماع امت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اگر بالفرض وہ ان کے خلاف ہوتو اس کا کوئی اعتبار نہ کیاجائے گا۔ قرآن شریف کی آیت ’’اما یاتینکم‘‘ اس میں زمان مستقبل بعد نزول قرآن داخل نہیں سورہ یوسف کی تفسیر میں جلالین میں جو لفظ جماع کا استعمال کیاگیاہے۔ جو محاورات میں جائز طور پر جائز فعل کے لئے استعمال کیاجاتاہے۔اس تفسیرمیں زنا کے قصد کرنے کا ذکر نہیںہے۔ تحقیقات کفر میں جو غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔ وہ انفرادی طور پر ہوئی ہیں اور اس قسم کی بھی غلطیاں کثرت سے ہیں۔ لیکن جو تمام امت مسلمہ کے فرقہ اور جماعتیں کسی شخص کے متعلق مکمل تحقیق کرکے کافر کہہ چکی ہوں اس کو اس پر قیاس نہیں کیاجاسکتا۔ دیوبندیوں کی تکفیر کا مسئلہ اس بنیاد پر ہے کہ تکفیر کرنے والوں کو ان کے متعلق بعض غلط خیالات ایسے پیدا ہو گئے۔ جن سے یہ سمجھاگیاکہ دیوبندی بعض ضروریات اسلام کے منکر ہیں۔ حالانکہ دیوبندی ان چیزوں سے اپنی برأت تحریروں میں تقریروں میں پوری طرح واضح کر چکے ہیں اور وہ چیزیں ایسی ہیں کہ خود ہم دیوبندیوں سے پوچھاجاوے کہ ان کا کہنے والا کافرہے یانہیں تو ہم خود اقرار کریں گے۔ بلا شبہ جو شخص ایسا خیال رکھے وہ قطعاً کافرہے۔ میں مرزا صاحب کو اس بنا پر کافر کہتا ہوں کہ انہوں نے ادّعا نبوت کیا اور مدعا علیہ بھی اس کا انکار نہیں کرتا۔ کسی مسلمان نے مسیلمہ کو مسلمان نہیں کہا۔ باجماع صحابہ اسے دعویٰ نبوت کی وجہ سے کافر کہاگیاہے۔ بخاری کی جو حدیث مسیلمہ کے متعلق پیش کی گئی ہے۔ اس میں مسیلمہ کے قول کا یہ مطلب ہے کہ اگر مجھے اپنے بعد نبی کریم نبی قرار دیں تو میں آپ کا اتباع کروں گا۔ میں نے جو یہ بیان کیا ہے کہ مرزا صاحب کے اتباع کرنے سے نکاح فسخ بغیر قضائے قاضی کے فسخ ہوجاتاہے اور حکم قاضی کی ضرورت نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ عنداﷲ نکاح فسخ ہوگیا۔ قاضی کی طرف مرافعہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر کسی گورنمنٹ کے قانون میںہمیں مرافعہ پرمجبور کیاجائے۔ تو وہ اس کے منافی بھی نہیں۔ ملّا علی قاری اور شیخ محمد طاہر کے اقوال جو کل پیش کئے گئے ان میں سے اجماع امت کے خلاف کوئی بات پیدا نہیں ہوتی۔

دستخط: جج صاحب بحروف اردو

130

بیان حضرت مولانا مرتضی حسن چاند پوری گواہ مدعیہ

رئیس المناظرین ورأس المتکلمین حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن صاحب سابق صدر المدرسین مدرسہ امدادیہ مرادآباد بہت بڑے مشہور فاضل ہیں۔ عرصہ تک دارالعلوم دیوبندمیں ناظم تعلیم رہے ہیں اور ہندوستان کے متعدد مدارس میں صدر المدرسین رہے ہیں۔ فن مناظرہ میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جامع علوم وفنون ہیں اور رد مرزائیت میں آپ کے بہت سے رسائل لاجواب ہیں۔ مشہور زمانہ مقدمہ بہاول پور میں آپ کا بیان ۲۱؍اگست ۱۹۳۲ء کو شروع ہوکر ۲۵؍اگست ۱۹۳۲ء کو ختم ہوا۔ بیان کیاہے۔ براہین و دلائل کا ایک بحر ذخّارہے۔ جو مرزائی نبوت کو ایک تنکے کی طرح بہائے لے جارہاہے اور ایک حقیقت نما آئینہ ہے۔ جس میں مرزائی دجل وفریب اور کذب وزور کے باریک سے باریک نقش بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ممدوح نے اپنے بیان میں مرزا قادیانی کے کفر کے لاکھوں وجوہ بیان کئے ہیں اور مختار مدعاعلیہ کی جرح کے ایسے دندان شکن جواب دئیے۔ جن سے مرزا اور اس کے متبعین کا کفر وارتداد پہلے سے زیادہ واضح ہوگیا۔

ابوالعباس نعمانی، بہاول پور

مرزا اور اس کے متبعین کافرہیں

اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کافر اور مرتد اور قطعی کافرہے اور ایسے کافر ہیں کہ مرزا قادیانی کے عقائد معلوم ہونے کے بعد جو شخص ان کے ارتداد اور کفر میں شک وشبہ کرے وہ بھی ویسے ہی کافرہے۔

کسی مسلمان مردیا عورت کانکاح کسی مرزائی عورت یا مرد کے ساتھ جائز نہیں

مرزا قادیانی اور اس کے متبعین اور دوسرے جتنے مرتد ہیں سب کا شرعی حکم یہ ہے کہ کسی مسلمان مرد یا عورت کا نکاح ان کے کسی مرد یا عورت سے جائز نہیں اور اگر ہو گیاہے یانکاح ہونے کے بعد کوئی شخص مرزائی ہوجائے تو اس کا نکاح فوراً بالفعل فسخ ہو جاتاہے۔ اس عورت کو اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی سے فسخ کرائے بلکہ اس کو اختیار ہے کہ وہ خود کسی شخص سے نکاح کر لے۔

یہ مسئلہ اس قسم کا ہے کہ دنیا میں جتنے لوگ کوئی معتد بہ مذہب رکھنے والے ہیں، ان سب کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک مذہب والے کا نکاح دوسرے مذہب والے سے جائز نہیں۔ حتیٰ کہ بعض قوموں میں یہ بات بھی ہے کہ باوجودیکہ وہ ایک مذہب کے ہیں مگر پھر بھی دوسری قوم میں نکاح جائز نہیں سمجھتے۔ شریعت مطہرہ نے کفو کا اعتبارکیاہے۔ اگر کوئی بالغ لڑکی اپنا نکاح غیر کفو میں کرے تو ولی کو شرعاً اجازت ہے کہ وہ قاضی کے ہاں جاکر اس نکاح کو فسخ کرالے۔ اگر کسی نیک بخت متقی کی لڑکی جوان ہو اور کسی بدمعاش فاسق سے نکاح کرلے تو اگرچہ اس کا ہم عقیدہ اورہم قوم ہے توپھر بھی ولی کو شرعاً اختیار ہے وہ اس نکاح کو فسخ کرالے۔ یہ چیز ایسی ہے کہ انسانوں سے بڑھ کر جانوروں کو بھی اس کا احساس ہے۔ وہ جانور جن کے جوڑے ہیں۔ خنزیر اور ریچھ کے سوا سب جانوروں کو احساس ہے کہ ان کے مادہ سے کوئی دوسرا جفتی نہ کرے۔بخاری کی حدیث میں بندر کاایک بندری کو رجم کرنے کا قصہ شرح میں موجود ہے جومیرے اس دعویٰ کی کھلی دلیل ہے۔

مرزا محمود قادیانی لکھتاہے کہ: ’’ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیاہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کودے۔ آپ سے ایک شخص نے باربار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا۔

131

لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو، لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیاا ور جماعت سے خارج کردیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ باربار توبہ کرتارہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کرلی ہے۔‘‘

(انوارخلافت ص۹۳،۹۴، انورالعلوم ج۳ ص۱۵۱)

’’انوارخلافت‘‘ کی عبارت کے نتائج

اس عبارت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ مرزا قادیانی کی شریعت کے مطابق چونکہ تمام غیر احمدی مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر اور مرتد ہیں۔ لہٰذا ان کے مذہب کی عورت کا کسی غیر مذہب والے سے نکاح جائز نہیں اور جب یہ بھی ملالیاجائے کہ جس کو یہ اپنی جماعت سے نکالتے ہیں وہ مسلمان نہیں رہتا اور اس کی نجات بھی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق نجات کا انحصار اسی میں ہے کہ ان کی جماعت میں داخل رہے۔ جب خلیفہ اوّل قادیان نے اس شخص کو جس نے اپنی لڑکی غیر احمدی کو دی تھی اپنی جماعت سے بھی خارج کردیا تو معلوم ہوا کہ مرزائی مذہب میں اگر کوئی مرزائی کسی مسلمان سے اپنی لڑکی بیاہ دے تو صرف یہی نہیں کہ اس کا نکاح نہیں رہا بلکہ وہ کافر بھی ہوگیا۔

میں عدالت کو اس طرف متوجہ کراتاہوں کہ جس جماعت کایہ عقیدہ ہو کہ اگر ان کی عورت ہم مسلمانوں سے نکاح کرے تو نہ صرف وہ کافر ہوجائے بلکہ اس کا باپ بھی کافر ہوجائے پھر وہ ہم سے یہ امید کریں کہ مسلمانوں کی عورتیں ان کے نکاح میں رہیں اور مقدمے بھی دائر ہوں۔ اگر کچھ بھی انصاف ہوتا تو جیسے وہ ہمارے مذہب سے علیحدہ ہیں وہ نکاح میں بھی علیحدہ ہوتے اور مقدمہ بھی دائر نہ ہوتا۔

مرزائیوں اور مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کفرہے

مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت اور ہم مسلمانوں میں اس وقت تک یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے کہ جو شخص دعویٰ نبوت تشریعی کرے وہ کافر ہے۔ چنانچہ شیخ محمد عمر وکیل چیف کورٹ پنجاب نے لکھاہے کہ: ’’ہمارا ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد میں اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں۔جو صاحب شریعت ہو یابلاواسطہ مطاوعت آنحضرت وحی پاسکتاہے۔‘‘

(قول فیصل ص۴۱)

مرزا نے اپنی کتاب میں لکھاہے: ’’ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کفرین یعنی میرے لئے جائز نہیں کہ نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہوکر کافروں سے مل جائوں۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

اسی کتاب میں ہے: ’’الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا علیہ السلام خاتم الانبیاء بغیر استثناء وقسرہ نبیناa بقولہ لانبی بعدی بیبان واضح للطالبین ولوجوزنا ظہور نبی بعدنبینالجوزنا انفتاح باب النبوۃ بعد تغلیقھا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین‘‘ یعنی کیا یہ تو نہیں جانتا کہ رب رحیم نے آنحضرتﷺ کا نام بغیر کسی استثناء خاتم الانبیاء رکھاہے اور ہمارے نبیa نے اپنے قول ’’لا نبی بعدی‘‘ میں ایک واضح بیان سے اس کی تفسیر کردی ہے کہ اگرآنحضرتa کے بعد ہم کسی نبی کے ظہور کو جائز رکھیں تو ہمیں جائز رکھنا ہوگا۔ باب نبوت کا کھلنا بعد بندہونے کے اور یہ خلاف ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

اورآنحضرتa کے بعد کیسے کوئی نبی آسکتاہے۔ حالانکہ وحی نبوت آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہوچکی ہے۔ مرزا قادیانی نے خود تحریر کیاہے: ’’مگرآنحضرتa کو یہ ایک خاص فخر دیاگیاہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم

132

ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا نبی ہے جوان کی امت سے باہر ہوبلکہ وہ امتی کہلاتاہے نہ کوئی مستقل نبی۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۹، خزائن ج۲۳ ص۳۸۰)

مرزا قادیانی نے کہا کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

مرزا نے کہا: ’’علماء کو نبوت کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی ہے خود قرآن میںجو خاتم النّبیین کا لفظ آیاہے جس پر الف لام پڑاہے۔ اس سے مرادیہی ہے کہ شریعت لانے والی نبوت سب بند ہوچکی ہے۔ پس اگر کوئی نئی شریعت کا مدعی ہوتووہ کافرہے۔‘‘

(ملفوظات ج ۵ص۵۳)

ان چند مختصر حوالہ جات کے بعد یہ عرض کرناہے کہ مرزا قادیانی اور مرزا محمود اوران کے تمام متبعین ان سب کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت تشریعی کا دروازہ بندہے۔ آپa کے بعد جو نبوت تشریعی کا مدعی ہووہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔ اس کے بعد عرض ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تحریر اور اپنے اقرار سے کافر بھی ہیں اور مرتد بھی ہیں اور اسلام سے خارج بھی ہیں۔ ان کی جماعت کے ساتھ کسی مسلمان مرد عورت کا نکاح جائز نہیں اور مرزا قادیانی اور خلیفہ اوّل وثانی قادیان کے فتویٰ کے مطابق اگر ایسا نکاح ہوگیاہوگا تو باطل اور فسخ ہوجائے گا۔

مرزا تشریعی نبوت کا مدعی ہے

مرزا قادیانی اپنی تشریعی نبوت کا دعویٰ ان کھلے الفاظ میں کرتے ہیں: ’’اگرکہو کہ صاحب الشریعۃ افتراء کر کے ہلاک ہوتاہے نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امرونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام: ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوافروجھم ذالک ازکٰی لھم‘‘ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر۲۳برس کی عمر بھی گزرگئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگرکہو کہ شریعت سے وہ شریعت مرادہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ان ھذا لفی الصحف الاولٰی صحف ابراہیم وموسٰی‘‘ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے کہ جس میں باستیفاء امرونہی کا ذکرہوتو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یاقرآن میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکرہوتا تو اجتھاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشانہ ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ص۶، خزائن ج۱۷ص۴۳۵،۴۳۶)

نیز اسی کتاب کے حاشیہ میں لکھتے ہیں: ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیاہے۔ جیسا کہ ایک الہام ایسے کی یہ عبارت ہے۔ ’’واصنع الفلک باعیننا ووحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ ید اﷲ فوق ایدیھم‘‘ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوںپرہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اورتمام انسانوں کے لئے اسے مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

133

میں نے کل جو دوعبارتیں اربعین سے نقل کی تھیں ان میں مرزا قادیانی نے چند باتوں کی تصریح خود فرمادی ہے۔ ایک یہ کہ شریعت کیاچیزہے؟ جس کی وحی میں امر یا نہی ہو۔ جس نے اپنی امت کے لئے کوئی قانون مقررکیاہووہی صاحب شریعت ہوگیا۔ یہ تعریف کرکے مرزا قادیانی اپناصاحب شریعت ہونا ثابت کرتے ہیں۔

پس مرزا قادیانی اپنے اقرار سے خود کافر اور مرتد ہوگئے۔ کیونکہ سرورعالمa کا بایں معنی خاتم النّبیین ہونا کہ آپa کے بعدکوئی صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا اور جو ایسا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے یہ صاف فرمادیا ہے کہ وحی وہ ہے جس میں امریانہی ہو۔ یعنی کرنے اور نہ کرنے کا حکم ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ نیاہو بلکہ اگر پہلی شریعت کا حکم بھی اس کے پاس بذریعہ وحی آئے تو یہ بھی صاحب شریعت ہونے کے لئے کافی ہے۔

مرزا قادیانی نے جو اپنی بہت سی وحییں بیان کی ہیں جو آیت قرآنی ہیں۔ وہ بھی مرزا قادیانی کی شریعت بن گئی۔ مرزا قادیانی نے اس شبہ کا جواب بھی دے دیاہے کہ صاحب شرح کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی شرح میں نئے احکام ہوں۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ قرآن کی نسبت فرماتے ہیں کہ یہ قرآن پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ ابراہیمm اور موسیٰm کے صحیفوں میں بھی ہے۔ اب اگر شرع جدید کے لئے یہ ضروری ہو کہ اس نبی کی شریعت اور وحی اور کتاب میں سب احکام نئے ہوں تو لازم آتاہے کہ آنحضرتﷺ بھی صاحب شریعت نہ ہوں۔ کیونکہ قرآن میں سارے احکام نئے نہیں۔ اس کلام کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء اور رسولﷺ صاحب شرع نبی ہیں ویسے ہی مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی صاف کہہ دیاہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام اوامر اور نواہی اس شریعت اورکتاب اور وحی میں پورے پورے بیان ہونے چاہئیں تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ تمام احکام قرآن اورتوریت میں بھی مذکور نہیں اور اگرتمام احکام قرآن مجید میں مذکورہوتے تو پھر اجتہاد کی گنجائش باقی نہ رہتی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اگرکوئی مدعی نبوت ایک امر اور ایک نہی کا بھی دعویٰ کرے۔ اگرچہ وہ امرونہی پرانی ہوتووہ نبی صاحب شریعت کہلائے گا اور اس میں اور رسولﷺمیں کوئی فرق نہیں کہ دونوں صاحب شریعت ہیں۔ اب میں اس مسئلہ کی تشریح کرتاہوں۔ کہاجاتاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی تشریعی نہیں آئے گا اور امتی اوربروزی آسکتے ہیں، بلکہ آناچاہئے اور جس دین اور مذہب میں ایسے نبی نہ آئیں حسب فرمان مرزاقادیانی وہ مذہب لعنتی مذہب ہے اور اگر اس کو شیطانی مذہب کہاجائے تو مناسب ہوگا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰، خزائن ج۲۱ ص۳۰۴)

نبوت حقیقیہ اور نبوت تشریعیہ میں تلازم

تو اب یہ ثابت ہوگیا کہ اگر کسی نبی کو خدا کا صرف یہی حکم آئے کہ تجھ کو ہم نے نبی کر کے بھیجا ہے تو اس حکم کی تبلیغ کر جو کوئی اس حکم کو نہ مانے گا وہ کافرہے۔ یہ بھی صاحب شریعت تشریعی نبی ہوگیا تو اس سے ثابت ہوگیاکہ جو نبی حقیقی اور شرعی ہے اس کے لئے نبی تشریعی ہونا ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کی تصریح کے مطابق یہ ناممکن ہوگیا کہ کوئی نبی سچا اور حقیقی نبی توہو۔ مگرصاحب شرع اور تشریعی نہ ہو۔ چنانچہ خودمرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ جو نبی ہے وہ امتی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ کل اس کا حوالہ پیش کروں گا۔

ملاعلی قاری وغیرہ بزرگوں کی عبارات کا مطلب

اب ملّا علی قاری یا دیگر کسی بزرگ نے جو یہ کہا ہے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد صاحب شریعت یعنی نبی تشریعی نہیں آئے گا۔ ان کا مطلب اورجن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جو نبی حقیقی

134

ہوگا وہ صاحب شریعت ضرورہوگا۔ اس عبارت میں مرزا قادیانی نے بھی فرمایاہے کہ میری کشتی کو کشتی نوح قراردیاگیاہے جو اس میں ہوگا نجات پائے گا اور جو نہیں ہوگا۔ وہ ہلاک ہوجائے گا۔

مرزا کے نئے احکام

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی کی شریعت نیا حکم ہے۔ جس نے شریعت محمدیہﷺکو منسوخ کیا۔ علاوہ اس کے مرزا قادیانی نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیاتھا اور اس کا بھی دعویٰ کیاتھا کہ اس کی شریعت قرآن مجید اور اسلامی احکام کی ناسخ بھی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کے ایک ایک حرف پر عمل کرے مگر مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے تو وہ ویسا ہی کافر ہے جیسے یہودونصاریٰ اور دیگر کفار۔

مرزا قادیانی صاحب شریعت بھی ہوئے۔ ان کی شریعت نے شریعت محمدیہ کو منسوخ بھی کیا۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتاکہ خاتم النّبیین کے کیا معنی ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایک نیا حکم بھی دیاہے، جس کی عبارت کل پیش کرچکاہوں کہ ان کی عورتوں کا نکاح غیر احمدی سے جائز نہیں۔ یہ حکم بھی شرع محمدیa کے خلاف ہے۔

مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ قیامت کے معنی جو مسلمانوں نے اب تک سمجھتے ہیں اس معنی پر قیامت نہیں آئے گی۔ قرآن مجید میں جو نفخ صورآیاہے اس سے یہ مراد نہیں کہ واقعی کوئی نفخ صور ہو اور نہ یہ مرادہے کہ قیامت قائم ہوگی بلکہ صرف اس سے مرزا قادیانی کا تشریف لانا منظورہے۔ قیامت کی جتنی آیات اور احادیث آئی ہیں۔ ان تمام امور کا انکار ہے ہاں لفظوں کا انکار نہیں۔ مگر جن معنوں سے قرآن وحدیث نے قیامت کو بیان کیاہے ان چیزوں سے انکارہے۔ مردوں کا قبروں سے اٹھنابہت سی آیات میں مذکورہے اس کا بھی انکارہے۔ مرزا قادیانی کی شریعت جدیدہ میں ایک اور نیاحکم جو تمام عالم اسلام کے خلاف ہے یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مریدوں سے چندہ کی تحریک فرماکر یہ حکم دیتے ہیں کہ جو شخص چندہ تین ماہ تک ادا نہ کرے گا وہ میری بیعت سے خارج ہے (یعنی اسلام سے خارج ہے، کافرہے، مرتدہے، ملعون جہنمی ہے) زکوٰۃ کے لئے بھی خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ اگر تین ماہ تک زکوٰۃ کوئی شخص نہ دے وہ اسلام سے خارج ہوجائے۔

عبارت یہ ہے: ’’حضرت مسیح موعود کا نہایت ضروری فرمان، یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں، آخری فیصلہ کرتاہوں۔ مجھے خدا نے بتلایاہے کہ میرا انہی سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ مگر بہت سے ایسے ہیں جو گویا خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، توہرشخص کو چاہئے کہ اس نئے نظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر کر کے اطلاع دے کر وہ فرض حتمی کے طور پر اس قدرچندہ ماہواری بھیج سکتاہے، مگر چاہئے کہ فضول گوئی اور دروغ کا برتائو نہ کرے۔ ہر ایک شخص جو مرید ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کردے خواہ ایک پیسہ ہو خواہ ایک دھیلا اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلے کے لئے مدد دے سکتاہے وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد وہ سلسلے میں نہیں رہ سکے گا۔ اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ کیا وہ کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتاہے۔ اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کردیا جائے گا کہ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ کے چندے بھیجنے سے لاپرواہی کی اس کانام بھی کاٹ دیا جائے گا۔ اس کے بعد کوئی مغرور، لاپرواہ جو انصار میں داخل نہیں اس سلسلے میں ہرگز نہیں رہے گا۔‘‘

(المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیان، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۸، ۴۶۹)

135

’’(تتمہ) یہ بات پھر دوبارہ یاد دلاتاہوں کہ ہر شخص اپنی حالت استطاعت کو دیکھ کر چندہ مقرر کرے۔ ایسانہ ہو کہ تھوڑی دیر کے بعد اسے فوق الطاقت بوجھ سمجھ کر ملول ہوجائے کہ اس طرح وہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک گناہ گار ٹھہرئے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ص۴۷۰)

نبی کا ایک اور معنی

مرزا قادیانی فرماتے ہیںکہ: ’’اس کا جواب یہ ہے کہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہورہی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

یہ قول پہلے قول کا مخالف ہے۔

وہ دین لعنتی ہے جس میں سلسلہ وحی منقطع ہے

تھوڑا آگے جاکر فرماتے ہیں: ’’بلکہ فساد اس حال میں لازم آتاہے کہ اس امت کو آنحضرتﷺ کے بعد قیامت تک مکالمہ الٰہیہ سے بے نصیب قراردیاجائے اور وہ دین ہی نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے۔ جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتاہے کہ چند منقولی باتوں پر ہر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی۔‘‘ اس کے چند سطور کے بعد لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی آواز ہی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے۔ وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی تو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتااور جو شخص کامل طور پر رسول اﷲ کہلاتاہے وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہوجانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷)

قیامت کے دن حشر اجساد قبور سے نہیں ہوگا

قیامت کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہے کہ: ’’بہشتی پہلے بہشت میں داخل ہوجائیں گے اور دوزخی دوزخ میں ہوںگے۔ قبروں سے نکل کر نہیں آئیں گے۔‘‘ (ص۳۵۲، خزائن ج۳ ص۲۸۰) میں نے ان کے عقیدہ کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پورے الفاظ ان کی تحریر کے کتاب ازالہ اوہام میں ہیں۔

نفخ صورسے مراد قیامت نہیں

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’نفخ صور کی خوشخبری دی گئی ہے اور نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے۔ کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گزرگیاہے، مگر قیامت برپا نہیں ہوئی۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’بلکہ روحانی احیااور اماتت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتاہے اور جیسا قرآن میں نفخ صور سے کسی مجدد کا بھیجنا مرادہے تاعیسائی مذہب کے غلبہ کو توڑے۔ ایسا ہی امواج فتن سے دجالیت مرادہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۶۰، خزائن ج۶ ص۳۶۰)

136

پہلے اقرارکیاکہ دعویٰ نبوت تشریعی کفرہے پھر دعویٰ نبوت تشریعہ کیا

مرزا قادیانی نے پہلے اقرارکیا جیسا کہ حوالہ دیاہے کہ دعویٰ نبوت تشریعی کفرہے اور پھر خوددعویٰ نبوت تشریعی کیا اوربہت سے احکام میں تغیر وتبدل بھی کیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کافرہیں، مرتد ہیں اور جوان کے متبع ہیں وہ بھی ایسے ہیں، ان کا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔ اگرنکاح ہوجائے اور پھر خاوند مرزائی ہوجائے تو نکاح فوراً فسخ ہوجائے گا۔ یہاں تک میرے بیان کا ایک جزو پورا ہوگیا۔

دلائل ختم نبوت

اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے: ’’ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘

(ابن کثیر ج۸ ص۱۷۹) اس کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فھذالایۃ نص… تا…رضی اﷲتعالیٰ عنھم‘‘ جس کا ترجمہ یہ ہے۔ یعنی یہ آیت تصریح ہے اس بارہ میں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں تو کوئی رسول بطریق اولیٰ نہیں۔ اس واسطے کہ مقام رسالت مقام نبوت کی نسبت خاص ہے۔ کیونکہ ہر نبی رسول ہوتاہے اور عکس ضروری نہیں۔ اسی کے ساتھ احادیث متواترہ ہیں۔ رسول اﷲa سے جن کو صحابہi کی جماعت نے روایت کیاہے۔ حدیث متواترہ وہ ہوتی ہے کہ اتنے لوگوں نے اس کو روایت کیا ہو۔ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو۔ اس کا حکم یہ ہے۔ ایسی حدیث کے مضمون کا منکر ایسے ہی کافر ہے جیسے قرآن کا منکر۔ ثابت ہواکہ جو شخص ختم نبوت کا منکرہے وہ قرآن کا منکر ہوکر کافر اور احادیث متواترہ کا منکرہو کر بھی اوراس نبوت میں کوئی بروزی اور ظلی وغیرہ کی قید نہیں بلکہ مطلق نبوت کا انکارہے۔

(ابن کثیرص۹۱) پرہے: ’’فمن رحمۃ اﷲ… تا مکذب‘‘ مطلب یہ ہے کہ اﷲ کی رحمت ہے بندوں پر ارسال رسول اﷲ ان کی طرف ہوپھرآنحضرتa کی تعظیم سے یہ بھی ہے کہ تمام نبیوں کو رسولوں کو آپa کے ساتھ ختم کردیا اور آپa کے لئے دین حنیف کوکامل کردیا۔ اﷲتعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی پیداہونے والا نہیں تاکہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، افتراء پرداز، دجال، گمراہ کرنے والاہے۔ اگرچہ شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کا جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھائے۔ اس لئے یہ سب کا سب عقل کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے۔ کتاب ’’ختم النبوۃ فی القرآن‘‘ مؤلفہ مولانا محمد شفیع صاحب (ص۷۳) پر مفصل ترجمہ درج کرتے ہیں: ’’جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے اسود عنسی کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب کے ہاتھ پر کلیسا میں احوال فاسدہ اور اقوال باردہ ظاہرکئے۔ جن کو دیکھ کر ہر عقل اور تمیز والا سمجھ گیا کہ یہ جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ خداوند تعالیٰ ان پر لعنت کرے اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر یہاں تک کہ وہ مسیح دجال تک ختم کردئیے جائیں گے۔ جس کے ساتھ اﷲتعالیٰ ایسے امور پیدا فرمائے گا کہ علماء اور صلحاء اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔‘‘ (انتہی)

(روح المعانی ج۲ ص۳۹) ’’وکونہa خاتم النّبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان اصر‘‘ یعنی آنحضرتﷺ کا خاتم النّبیین ہونا اس قبیل سے ہے۔ اس پر قرآن بول اٹھا اوراحادیث نے صاف صاف بیان کیااور جس پر امت نے اجماع کیا۔ اس لئے اس کے خلاف کرنے والوں کوکافر سمجھا جائے اور اگر اصرار کرے اورتوبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے۔

137

ملاعلی قاری (شرح شفاء ص۵۱۸جلددوم) میں لکھتے ہیں: ’’وکذالک من ادعی بنبوۃ احدامع نبینا علیہ السلام… تا… القائلین بطاعۃ الرسل‘‘ یعنی جیسے مذکورہ لوگ کافر ہیںا یسے ہی وہ لوگ جو آنحضرت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کریں یا آپa کے بعد جیسے عیسویہ یہودیہ سے جوقائل ہیں کہ آپa کی رسالت عرب کے ساتھ مخصوص تھی اور جیسے بعض لوگ قائل ہیں کہ رسل برابرآتے رہیں گے جب تک دنیا قائم ہے۔ یہ سب لوگ کافرہیں۔ اسی کتاب کے (ص۵۱۹، ۵۲۰) پر ہے: ’’کذالک… تا… بلامریۃ‘‘ یعنی جو شخص مدعی ہے کہ میں خود نبی ہوں یا دعویٰ کرے بوجہ ریاضت یا صفائی قلب کے اس مرتبہ نبوت کو آدمی حاصل کرسکتاہے۔ علیٰ ہذاالقیاس! اگر کوئی مدعی نبوت نہ ہو اورکہے کہ مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ یعنی وحی جلی نہ الہام یا یہ دعویٰ کرے کہ وہ جنت میں چلا جاتاہے حوروں سے ملتاہے، پھل کھاتاہے یہ تمام کافرہیں۔ اس واسطے کہ یہ تکذیب کرتے ہیںآنحضرتa کی۔ کیونکہ آپa نے فرمایاہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیںآئے گا۔ عیسیٰؑ آپa سے پہلے نبی ہیں اور خبر دی اﷲتعالیٰ نے کہ آپa خاتم النّبیین اور یہ بڑی قوی دلیل ہے اور خبردی کہ تمام آدمیوں کی طرف آپ مبعوث ہوئے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے۔ ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس (سبا:۲۹)‘‘ اورتمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام آنحضرتﷺ کا ظاہری معنوں پر محمول ہے اور اس کا لفظی ترجمہ آنحضرتﷺ کی مراد ہے۔ اس کے ظاہرمیں کوئی تاویل نہیں اور اس کے عموم میں کوئی تخصیص نہیں۔ پس جتنے طائفے ہم نے بیان کئے ہیں ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ سب کے سب کافر ہیں۔ کیونکہ تکذیب کرتے ہیں اﷲ کی اور اس کے رسول کی اور ان کا کافرہونا یقینی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں اور ان کا کفر اجماعی ہے اور ان کا کفر سماعی ہے۔ یعنی قرآن وحدیث سے ان کا کفر ثابت ہے۔ کسی نے اپنی عقل سے ثابت نہیں کیا اورکوئی بھی مخالف نہیں ہوا۔ یہ الفاظ ملاعلی قاری کی شرح شفاء میں ہیں جن کے متعلق جرح پیش کی گئی تھی کہ ان کے نزدیک خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبی نہیں آئے گا۔

نتیجہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ کہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہیں یقینی ہے اجماعی ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں۔ کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ قرآن میں جو یہ آیاہے: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ وہاں مراد یہ ہے کہ آپa کے بعدکوئی شخص کسی قسم کی نبوت سے نبی نہیں بنے گا۔ حضرت عیسیٰؑ کا آنا اس کے منافی نہیں کیونکہ وہ پہلے نبی بن چکے ہیں۔ لہٰذا مرزاقادیانی چونکہ مدعی نبوت ہیںاور نبوت بھی تشریعی اور حقیقی اور صاحب کتاب ہونے کے بھی مدعی ہیںاور اپنی وحی کومتلو بھی قراردیتے ہیں۔ لہٰذا وہ کافرومرتدہیں۔ ان کی جماعت کے ساتھ کسی مسلمان عورت کانکاح ناجائز ہے۔ اگرہوجائے تو زناہوگا اور اولادولدالزناء ولد الحرام ہوگی۔ وحی کومتلوقراردینا مرزا قادیانی کے اپنے اقوال سے سمجھا جا سکتاہے۔ کتاب (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص۵۶۴ پنجم) میں ہے: ’’فاطفی انہ لا یحدث… تا… لکان نبیا‘‘ یعنی حدیث کے اس ارشاد کہ اے علیq تیرا رتبہ میرے ساتھ ایسے ہی ہے جیسے ہارون کے ساتھ۔ مگر ہارونm نبی تھے اورتم نبی نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پر ملّا علی قاری فرماتے ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نیا نبی پیدانہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ جو نبی مجھ سے پہلے گزرے ہیں، میں ان سب کا ختم کرنے والا ہوں۔ ان سب کے بعد میں میں آیاہوں اور میرے بعدکوئی نبی پیدانہیں ہوگا۔ اس میں اشارہ ہے کہ آپ کے بعد اگرنبی ہوتا تو علیq ہوتے۔ مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں لہٰذا علیq بھی نہیں ہوں گے۔ یہ حدیث نہیں منافی اس کے جووارد رہاہے حق عمرq میں صریحاً اس واسطے کہ حکم فرضی اور تقدیری ہے

138

توگویاآنحضرتa نے فرمایاکہ اگر فرض کئے جاتے میرے بعد نبی تو میرے صحابہ کی ایک جماعت ہوتی۔ لیکن میرے بعد نبی نہیں ہیں اورآنحضرتa کے ارشاد: ’’لوعاش ابراہیم‘‘ کا یہی معنی ہے۔ حدیث میں آیاہے: ’’لوکان بعدی نبیا لکان عمر‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔ لیکن عمر نبی نہ ہوئے اس واسطے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

ملّا علی قاری کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ میں اشارہ ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتے تو علیq ہوتے تو بظاہر ملّا علی قاری کاکلام حدیث کے معارض ہوا۔ اس کا جواب دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ حدیث اس اشارہ کی منافی ہیں کیونکہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ حکم فرضی ہے کہ بطریق فرض محال میرے بعد نبی ہوتے تو عمرqہوتے اور علیq ہوتے۔ اسی طرح فرمایا کہ اگر ابراہیمq زندہ رہتے تو نبی ہوتے تو آنحضرتﷺ کا یہ کلام بطریق فرض ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ دنیا میں اگر میرے بعد نبوت نہیں اس واسطے میرے صحابہi کو نبوت نہ ملی۔

(تفسیر ابن کثیر ص۲۷۹ جلدتیسری) آیت: ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس‘‘ کے تحت میں ہے: ’’وھذہ اکبر نعم اﷲتعالٰی…تا… الانس والجن‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت پراﷲ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے لئے دین کامل کردیا۔ لہٰذا وہ نہ کسی دوسرے دین کے محتاج ہیں اور نہ کسی اور نبی کے۔ سوائے آنحضرتﷺ کے اور اسی واسطے اﷲ نے آپ کو خاتم الانبیاء بنایا اور آپ کو انس اورجن دونوں کی طرف بھیجا۔

الغرض اس آیت سے ثابت ہواکہ خاتم النّبیین کے یہی معنی ہیں کہ اپنے عموم سے کسی نبی کو نبوت آپa کے بعد نہیں مل سکتی جو اس کا منکر ہو وہ کافر اور مرتدہے۔

دوسری آیت پیش کرتاہوں: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:۳)‘‘ اس آیت میں خدائے قدوس نے دین کے کامل کرنے کا اور نعمت کے اتمام کا ذکرفرمایاہے اور سب نعمتوں میں سے بڑی نعمت نبوت اور دین ہے۔ جب دین کامل ہوچکا اور نعمت نبوت بھی کامل ہو چکی تو اب نہ کوئی نیا نبی آسکتاہے اور نہ کوئی نئی شریعت۔ کیونکہ کمال کے بعد اس چیز میں کوئی اور شے داخل نہیں ہو سکتی۔

( الانسان الکامل جلد اوّل ص۴۶) میں ہے: ’’فانہ ما ترک شیئا… لم یجیٔ احد بذالک‘‘ یعنی کوئی چیز آنحضرتﷺ نے نہیں چھوڑی جو ہم تک نہ پہنچائی ہو۔ اﷲتعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے کتاب میں کوئی کمی نہیں کی اور فرمایاہے کہ ہم نے ہر چیز کی کامل تفسیر وتفصیل کردی ہے۔ اسی واسطے آپ کا دین تمام ادیان سے بہتر ہے اورتمام ادیان کا ناسخ ہے۔ کیونکہ جو انبیاءؑ نے کہا وہ سب آپa نے فرمایادیااورزیادتی بھی کی۔ جس کو کوئی نہیں لاسکا۔ لہٰذا اوروں کے دین آپa کے دین کے سامنے منسوخ ہوگئے۔ کیونکہ وہ ناقص تھے اور یہ مکمل ہے اور اﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’الیوم اکملت لکم دینکم (مائدۃ:۳)‘‘ یہ آیت آنحضرتﷺ کے سوا کسی نبی پر نہیں اتری اور اگر آپa کے سوا کسی اور نبی پر اترتی تو وہ خاتم النّبیین ہوتا اور یہ کسی کے لائق نہ تھی۔ مگر آنحضرتﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لہٰذا آپa ہی خاتم النّبیین ہوئے کیونکہ آپa نے کوئی حکمت، کوئی بھید، کوئی ہدایت ایسی نہیں چھوڑی، جس کو آپa نے بیان نہ فرمایا ہو یا اشارہ نہ کیا ہو۔ جس قدر اس کا بیان کرنا مناسب تھا تصریحاً، اشارۃً، کنایۃً، استعارۃً، یا محکم یا مفسر، مامول یا متشابہ وغیرہ کمال

139

بیان کی جتنی صورتیں تھیں، سب آپa نے پوری کردیں۔ آپa کے غیر کے لئے اب کوئی راستہ نہیں رہا۔ آپa امر نبوت کے ساتھ مستقل ہو گئے اور نبوت ختم ہوگئی۔ کیونکہ آپa نے کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی طرف حاجت ہو اور آپa نے بیان نہ کی ہو۔ اگر آپa کے بعد کوئی کامل آئے توکون سے ایسی چیزیںپائے گا۔ جن پرلوگوں کو خبردارکرے۔ مگر پہلے اس کو آنحضرتﷺ نے بیان فرمادیاہوگا۔ پس یہ کامل تابع ہوگا۔ جیسے آنحضرتﷺ نے تنبیہ فرمادی۔ پس منقطع ہوگیاحکم نبوت تشریعی کا آپa کے بعد اور ہوئے آنحضرتﷺ خاتم النّبیین۔ کیونکہ لائے ہیں آپa کمال کو اورنہیں لایا کوئی اور۔ اس عبارت میں تشریع کا لفظ آیاہے۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں کہ کوئی نبی حقیقی تشریعی نہیں آسکتا اور تشریعی نبی وہ ہے جس کے وحی میں امرونہی ہوتو کوئی نبی حقیقی یا تشریعی ایسانہیں ہے کہ جس کی وحی کم سے کم اتنا حکم نہ ہوکہ وہ اپنی نبوت کی دوسروں کو تبلیغ کرے اور دوسروں کو اس کا ماننا ضروری نہ ہو۔پس تشریعی کے لفظ سے یہ مطلب نہیں نکل سکتاکہ نبی حقیقی تو ہوسکتاہے۔ مگر تشریعی نہیں ہوسکتا۔ اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی حقیقی خواہ اس کا نام شرعی رکھا جائے یا تشریعی یا بروزی یا ظلی، حقیقی معنی سے اس کی گنجائش باقی نہیں۔

اس کا نتیجہ بھی وہی نکلا کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو شخص مدعی نبوت ہوکر لوگوں کو اپنی طرف بلائے اور اپنی اطاعت فرض کہے وہ کافر مرتد ہے۔ اس کا حکم مرتد کا ساہے۔جوبیان ہوچکا۔

تیسری آیت: ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس (سبا:۲۹)‘‘ اس آیت میں اﷲتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کویہ حکم فرمایاہے کہ ہم نے تم کوتمام آدمیوں کی طرف بھیجا ہے۔ اب کوئی انسان ایسا نہیں جو کہ آپa کی بعثت سے خالی ہو اور دوسرانبی آسکے۔ شرح شفاء قاضی عیاض میں ملّا علی قاری جو ابھی عبارت ص۵۱۹ کی پیش کرچکاہوں۔ اس میں اس کا مطلب یہی لکھاہے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔ اس میں تصریح کردی گئی ہے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتااور اس کے اس معنی پرتمام امت کا اجماع اور اتفاق بیان کرکے یہ ظاہر کیاہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل تخصیص نہیں ہوسکتی۔ جولوگ ختم نبوت کا کسی طرح انکار کرتے ہیں، ان کا کفر اجماعی قطعی سماعی ہے۔ اس کی تائید میں حوالہ (ابن کثیر ص ۲۵۳ ج۴بحوالہ ختم النبوۃ فی القرآن ص۱۹)پیش ہے۔ ’’وھذا من شرفہ علیہ السلام… الٰی الناس کلھم‘‘ مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی فضیلت اور عظمت میں سے ہے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں اور تمام مخلوقات کی طرف مبعوث ہیں اور اس بارہ میں بہت سی آیات نازل ہوئی ہیں۔ جیسے احادیث اس بارہ میں احاطہ سے باہر ہیں اور یہ بات اسلام میں ہدایۃ اور ضرورتاً معلوم ہے کہ آپa تمام انسانوں کی طرف مرسل ہیں، جس میں کوئی بھی مستثنیٰ نہیں۔ اس کا حاصل بھی وہی نکلا کہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔

اس وقت تک جو عرض کیاگیا اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن میں یہ امر ثابت ہے کہ انکار ختم نبوت کفرہے۔ ایسے ہی ادّعائے نبوت اورادّعائے وحی نبوت بھی کفرہے، یہ تینوں مضامین جداگانہ ہیں اور مرزا قادیانی میں یہ تینوں باتیں جمع ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے کفر کے یہ تین انواع ہیں، جس کے ماتحت بہت سی جزئیات داخل ہیں اور مرزا قادیانی بہت سے وجوہ سے مرتد اورکافرہیں۔ آیات تو بہت سی تھیں مگر ان پر اکتفا کر کے کچھ مختصر طورپر احادیث بیان کرتاہوں۔

احادیث ختم نبوت

۱… (بخاری جلداوّل ص۴۹۱) ’’قال سمعت ابا حازم قال قاعدت اباھریرہ خمس سنین… تا … استوعاھم‘‘

140

یعنی میں ابوہریرہq کی خدمت میں پانچ برس تک بیٹھا۔ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو تلقین کرتے تھے۔ انبیاء یکے بعد دیگرے اور ہدایت کرتے تھے ان کو، یہ یقینی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیں گے۔ ہاں! خلفاء بہت ہوں گے۔ صحابہi نے عرض کی کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ فرمایا: جس کسی خلیفہ کی بیعت پہلے کر چکے ہواس کو پورا کرو۔ ان کاجو حق ہے اداکرو اور ان پر جو تمہاراحق ہے اگروہ اس سے کوتاہی کریں گے تو اﷲتعالیٰ ان سے پوچھے گا۔

یہ حدیث صاف بتارہی ہے کہ آپa کے بعدکوئی ظلی بروزی نبی نہیں آئے گا۔ یہ حدیث متواتر المعنی ہے۔ بعض احادیث جو باعتبارلفظ اور سند متواترنہیں ہیں۔ وہ باعتبار معنی کے متواتر ہوجاتی ہیں۔ اگر اس معنی کو اتنی سندوں اور اتنے راویوں نے بیان کیا ہو جو تواتر کو پہنچ جائیں۔ جیسا تعداد رکعت نماز، یہ حدیث ختم نبوت بھی اسی قبیل سے ہے۔ اسی بناء پر مفسرین محدثین نے بیان فرمایاہے کہ ختم نبوت کی حدیت متواتر المعنی ہے۔ جو ان کا انکار کرے کافرہے۔ اگر کسی حدیث کا راوی ایک ہو اور اس کا مضمون بالکل قرآن کا مضمون ہے۔ مثلاً حدیث میں آیاہے جمعہ فرض ہے یا زناحرام ہے۔ ایسی حدیث کا انکار بھی بوجہ اس کے کہ قرآن کا انکار ہے کفرہے۔ نہ اس وجہ سے کہ وہ خبرواحد کا انکار ہے۔ بلکہ اس وجہ سے کہ اس کے انکار سے قرآن کا انکار لازم آتاہے۔ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے صاف فرمادیا کہ آپa کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔

۲… (مسلم شریف جلد ثانی ص۲۴۸) ’’باب الذکر کونہ علیہ السلام خاتم النّبیین عن ابی ھریرۃq قال قال علیہ السلام مثلی ومثل الانبیاء… وانا خاتم النّبیین‘‘ یعنی میری مثال اور انبیاء سابقین کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک مکان بنایا اور بہت خوبصورت بنوایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ باقی رہ گئی۔ لوگ اس مکان کو دیکھ کر تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ یہ اینٹ کی جگہ جو خالی ہے پوری کیوں نہ کردی گئی۔ فرماتے ہیں کہ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النّبیین ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعمیر بیت نبوت جو ابتدائے آفرینش سے ہوئی تھی۔ وہ آنحضرتﷺ کے سواناقص تھی۔ آپa کے وجود مسعود سے وہ مکمل ہو گئی اور بیت نبوت میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی نئی اینٹ ہوگی تو وہ بیت نبوت سے نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمام نبیوں کو ختم کیا۔ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ اگرکوئی شخص مدعی نبوت ہو تو خدا نے جو گھر نبوت کا تیار کیا تھا وہ اس کی جزو نہیں ہوسکتا۔

۳… (ابودائود جلد دوم ص۲۴۷) ’’باب خبر ابن صیاد قال قال رسول اﷲa… انہ رسول اﷲتعالٰی‘‘ یعنی ابوہریرہq فرماتے ہیں۔ فرمایا آنحضرتﷺ نے کہ قیامت نہیں قائم ہوگی جب تک تیس دجال نہ آئیں۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا مدعی ہوگا۔ اس میں آنحضرتﷺ نے جو مدعی نبوت ہو، اس کو دجال فرمایا اور امت کے لئے ہدایت فرمائی کہ جس کسی سے سنو: ’’انا رسول اﷲ‘‘ تو آنکھ بند کر کے یہ کہہ دو کہ تو دجال اورکذاب ہے۔ اگر کسی قسم کی نبوت آپa کے بعد باقی رہتی تو ہدایت مجسم رہنمائے عالمa ایسا ارشاد نہ کرتے جس سے امت بے دھڑک ہر مدعی نبوت کو دجال کہہ دے۔ بلکہ فرض تھا کہ فرماتے کہ میرے بعد دجال بھی آئیں گے اور نبی بھی آئیں گے۔ دیکھو نبی کی اطاعت کرنا ورنہ کافر ہو جائو گے۔ آپa کا یہ ارشاد صریح دلیل ہے کہ اب کسی قسم کی نبوت شرعیہ باقی نہیں رہی۔ اگرمحال درمحال درمحال واقعی کوئی نبی ہو اور اس پروحی کی بارش ہوتی ہو اور سیلاب بھی آیاہو، تاہم اسے ضرور دجال کہیں گے۔ کیونکہ ہمارے آقاa کافرمان یہی ہے۔

(کنز العمال بروایۃ احمد والخطیب)

141

۴… عن عائشہ عن النبی علیہ السلام انہ قال لا یبقی بعدہ… لہ‘‘ (کنز العمال ج۱۵ ص۳۷۱، حدیث۴۱۴۲۳) یعنی آپa نے فرمایا میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات، لوگوں نے عرض کیا۔ مبشرات سے کیا مرادہیں۔ فرمایا: اچھے خواب جس کو خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا مسلمان دیکھے۔ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے حصر کے ساتھ فرمادیا کہ اب نبوت کے حصص میں سے کوئی حصہ بھی دنیا میں باقی نہیں رہا۔ فقط اچھے خواب، معلوم ہوا کہ اگر آپa کے بعد جو کوئی ادّعائے نبوت کرے تو وہ جھوٹا ہے۔

مرزائی استدلال کاجواب

’’عن عائشہ قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لانبی بعدہ‘‘ (درمنثورج۵ ص۲۰۴) اس قول کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ وہ خاتم النّبیین کی منکر تھیں یا آپa کے بعد کسی قسم کی نبوت کو جائز رکھتی تھیں۔ بلکہ لا نبی بعدی کا مفہوم چونکہ عام تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی استدال کرے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپa کے بعد نہ کسی کو نبوت ملے گی اور نہ کوئی پہلا نبی آئے گا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰؑ کا آنا حدیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا فرمایاکہ کوئی ایسا لفظ ہی نہ کہو کہ جس سے کوئی اہل باطل استدلال پکڑے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر حضرت عائشہq وہ حدیث خود نہ روایت کرتی جو ابھی بیان کی گئی ہے توکہا جاسکتاتھا کہ اس حدیث کی حضرت عائشہq کو خبر نہیں ہوئی ہوگی۔ مگر جب وہ خود راوی حدیث ہیں کہ نبوت میں سے کوئی حصہ سوائے مبشرات کے باقی نہیں۔ اس وقت ان کی طرف یہ منسوب کرنا کہ وہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت شرعیہ کو جائز رکھتی ہیں، مردود اور باطل ہے۔

نمونہ کے طور پر تین آیات اورچار احادیث بیان کی ہیں۔ صرف میں نہیں کہتابلکہ تمام سابقہ محدثین اور مفسرین کہہ چکے ہیں کہ احادیث اس بارہ میں حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔ اگر خدا نے چاہاتو اسی بات کو مرزا قادیانی کے کلام سے ثابت کروں گا کہ وہ بھی ادّعائے نبوت سے پہلے یہی معنی سمجھتے رہے، جو ساری دنیا نے سمجھاہے۔ اگرچہ بعد میں بدل دیا۔

ختم نبوت پر روایات فقہیہ

اب قرآن اور حدیث کے بعد تھوڑے سے اقوال فقہا کے بھی بیان کردیتاہوں۔

۱… (الاشباہ والنظائرص۲۶۷) میں ماتن کہتے ہیں: ’’اذا لم یعرف ان محمدا علیہ السلام اٰخر الانبیاء لانہ من الضروریات‘‘ شارح کہتے ہیں: ’’اذا لم یعرف …تا… لایکون عذرا‘‘ حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین یعنی آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان بھی نہیں۔ کیونکہ ان کا آخر الانبیاء ہونا ضروریات دین میں سے ہے اور ضروریات دین میں جہل عذر نہیں اور تکفیر کے بارے میں آخری نبی کا علم نہ ہونا عذرنہیں ہو سکتا۔ فقہ کی رو سے جو شخص آنحضرتﷺ کو آخر الانبیاء نہ جانے وہ ایسا کافر ہے جیسے جو آنحضرتﷺ کو نبی نہ جانے۔

۲… (شرح عقائد نسفی نمبر۱۰۱) میں ہے: ’’واذا ثبت نبوتہ وقد دل کلام… تا…آخر الانبیاء‘‘ یعنی جب آنحضرتﷺ کی نبوت ثابت ہوگئی اور آپa کی کلام نے اور قرآن نے اس پر دلالت کردی کہ آپa خاتم النّبیین ہیں اور تمام آدمیوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں بلکہ جنات اور انسانوں کی طرف یہ بھی ثابت ہوگیا کہ آپaآخر الانبیاء ہیں۔ اسی کتاب کے (ص۹۹) میں ہے: ’’واول الانبیاء آدم وآخرھم محمدa‘‘ کتاب شرح عقائد میں جو مسلمانوں کے عقائد کی کتاب ہے۔ مسلمانوں کویہ عقیدہ سکھایاگیا ہے کہ سب سے پہلے نبی آدمm ہیں اور سب سے آخری نبی محمدa ہیں۔

142

۳… شرح فقہ اکبر ملّا علی قاری (یہ ملّا علی قاری وہ ہیں جو موضوعات کبیر کے مصنف ہیں اور فقہ اکبر وہ کتاب ہے جو امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے) کے (ص۱۹۱) پر درج ہے: ’’ودعوی النبوۃ بعد نبینا علیہ السلام کفر بالاجماع‘‘ یعنی ہمارے نبی کریمa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفرہے۔

(نوٹ) ناممکن اور محال ہے کہ علم عقائد اور علم کلام میں ملّاعلی قاری جس بات کو کفر بالاجماع کہیں پھر موضوعات کبیر میں اس کے خلاف کہیں۔

۴… (البحر الرائق جلد۵) میں ہے: ’’ویکفر بقولہ ان کان… ادعی رجل‘‘ یعنی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ: ’’نبیوں نے جو کچھ کہا ہے اگرسچ ہو اورحق ہو۔‘‘تو وہ کافر ہوگیا یا کسی نے یوں کہا کہ اﷲ کا رسول ہوں یا کسی شخص نے رسالت کا دعویٰ کیا اور دوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا تو ان سب صورتوں میں کہنے والا کافرہوگیا۔

۵… (عالمگیر جلد۲ص۴۱۱) میں ہے: ’’اذا لم یعرف الرجل ان محمداa آخر الانبیاء فلیس بمسلم‘‘ یعنی جب کوئی شخص یہ اعتقاد نہ رکھے کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں تووہ مسلمان نہیں ہیں تو اس سے معلوم ہواکہ ختم نبوت میں عدم تسلیم کی گنجائش نہیں۔

۶… (الملل والنحل ج۴ص۱۸۰) ’’ھذامع سماعھم قول اﷲ … آخر الزمان‘‘ یعنی اﷲ کی کلام: ’’ولکن رسول ﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کو سن کر اور آپa کے قول: ’’لا نبی بعدی‘‘ کو سن کر کیونکر جائز ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہ ثابت کرے آپa کے بعد آنا کسی نبی کا زمین میں سوائے اس کے جس کوآنحضرتa نے استثناء کیا، اثارمسندہ ثابتہ نزول عیسیٰؑ کے بارے میں یعنی اﷲ کے کلام اور آنحضرتﷺ کے قول سننے کے بعد جائز نہیں یہ کہنا نہ مسلمان کے شایان شان ہے کہ آپa کے بعد کسی نبی کا آنا جائز سمجھے۔

۷… (الملل والنحل ج اوّل ص۷۷) میں ہے: ’’وقد صح… تا… ذالک ابداء‘‘ یعنی آنحضرتﷺ کے بعد یہ بات ان جماعتوں کی نقل کیسے صحیح ہو چکی ہے کہ جنہوں نے آپa کی نبوت کو نقل کیا۔آپa کی اعلام دین کو نقل کیا۔ آپa سے قرآن کو نقل کیا۔ ان کے نقلوں سے یہ بات صحت کو پہنچ گئی ہے کہ آنحضرتﷺ نے خبر دی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہ جو آیاہے۔ اخبار صحاح میں عیسیٰؑ کے نزول کے متعلق وہ عیسیٰؑ جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔ (نہ وہ جو ہندوستان میں پیداہوا)اور جس کے قتل وصلب کے متعلق یہود نے دعویٰ کیا۔ ان تمام باتوں کا اقرار واجب ہے اور صحیح ہے یہ بات کہ وجود نبوت کا آنحضرتﷺ کے بعد نہیں ہوسکتا۔ یقینی اور قطعی ہے اور اس سے اس کا یہ قول بھی باطل ہوگیاجو کہتا ساتھ تواتر رسل کے۔

حاصل یہ نکلا کہ جن لوگوں نے قرآن وحدیث اور معجزات کو نقل کیا، وہی نقل کرتے ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر وہ جو احادیث سے ثابت ہے۔یعنی نزول عیسیٰ ابن مریمn۔

۸… (شامی ج اوّل ص ۴۴۷) میں ہے: ’’وصرح… تا… منکرہ‘‘ یعنی تصریح کی ہے اس بات کی کہ جو چیز ضروریات دین میں سے ہو یعنی جس کو عوام وخاص جانتے ہوں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔ مثلاً اعتقاد توحید ورسالت اورصلوٰۃخمس وغیر ذالک ان کا منکرکافرہے۔

مرزا قادیانی کی تکفیر کی چوتھی وجہ:توہین انبیاءؑ

اس وقت تک یہ عرض کیاگیاہے کہ مرزا قادیانی کی تکفیر کے تین انواع ہیں۔

143

(۱)انکارختم نبوت۔ (۲)ادّعائے نبوت۔ (۳) ادّعائے وحی نبوت۔

اب میں چوتھی قسم بیان کرتاہوں کہ مرزا قادیانی اور اس کے اتباع توہین انبیاءؑ کی وجہ سے سب کے سب کافر اور مرتد ہیں۔

انبیاءؑ کی تحقیر وتوہین کفرہے

ضروریات دین میں سے یہ بات بھی ہے کہ تمام انبیاءؑ آدمm سے لے کر آنحضرتﷺ تک کی توقیر وتعظیم کی جائے۔ کسی نبی کی شان میں ادنیٰ توہین اور گستاخی بھی کفرہے۔ میں اس کے متعلق مرزا قادیانی کے اقوال پیش کرتاہوں۔ ’’شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آئے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نامناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ پس یاد رہے کہ وہ پرانی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات ان کی اس بد تہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں جو آنحضرتﷺ کوگالیاں نکالتے ہیں۔ مثلاً ظاہرہے کہ مسلمان لوگ کس قدرحضرت عیسیٰؑ کو عزت اور تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کو خدا کا پیارا رسول اور برگزیدہ یقین رکھتے ہیں۔ لیکن جب ایک متعصب پادری آنحضرتﷺ کی بے ادبی سے باز نہیں آتا اور زبان درازی میں حد سے بڑھ جاتاہے تو الزامی طور پر ایک مسلمان جس کو اس پادری کے کلمات سے کچھ درد پہنچاہے ایسا جواب دیتاہے کہ اس پادری کو برا معلوم ہو، مگر پھر بھی وہ طریق ادب سے باہر نہیں جاتا۔ کچھ نہ کچھ صحت نیت دل میں رکھ لیتاہے۔ کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف ان کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے تحقیر کرناسخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۸، خزائن ج۲۳ ص۳۸۹)

اس کے بعد میں کچھ وہ کلمات جو مرزا قادیانی نے توہین انبیاءؑ کے متعلق کہے ہیں لکھواتاہوں۔ ’’پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴حاشیہ، خزائن ج ۱۱ص۲۸۸)

پھر لکھتے ہیں: ’’ہاں آپ کو گالی دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میںغصہ آجاتاتھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہی سکتے تھے۔میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ، خزائن ج۱۱ص۲۸۹)

(اسی صفحہ پرہے): ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

اسی صفحہ پر ہے کہ: ’’جن جن پیش گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے فرمایاہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔‘‘

(حوالہ بالا)

پھر لکھا ہے: ’’اورنہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اورپھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

(آگے لکھتے ہیں کہ): ’’آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کویقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔‘‘

(حوالہ بالا)

144

اسی مضمون کی وضاحت مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں: ’’یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(ست بچن ص۱۷۱ حاشیہ، خزائن ج۱۰ ص۲۹۵)

مزید مرزا نے لکھا: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایاہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مگر اے مسلمانو! تمہارے نبیm توہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۶ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

مرزا نے لکھا ہے کہ: ’’یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث اپنے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلاء آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے۔ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے، بلکہ کسی چو ر کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔‘‘

(نزول المسیح ص۳۶ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۴۱۳)

مرزا نے مزید لکھا ہے: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگرحق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

اسی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کو روغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیمار کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔خیال ہوسکتاہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیاہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہواتو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکراور فریب کے کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین نانیاں اور دادیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگرشاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ورنہ کوئی پرہیز گارانسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سرپر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتاہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص ۲۹۱)

اسی کتاب پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ درج کیا ہے کہ: ’’اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰm کا نام ڈاکو اور بٹ ماررکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔‘‘

(ضمیمہ انجا م آتھم ص ۹حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳)

اب مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع، مسیح ایک ہیں دو نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اب ہم پہلے صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی روسے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیاگیاہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریمm جن کو عیسیٰ اوریسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(ست بچن ص۱۶۷، خزائن ج۱۰ ص۲۹۱)

145

غرض یہ ہے کہ مجھے ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں یہ غلط ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی نے توضیح مرام میں تسلیم کیا ہے کہ یسوع اور مسیح ایک ہے۔ پس یسوع کے نام سے گالیاں دینا بعینہٖ عیسیٰؑ کوگالی دیناہے۔

دوسرا جواب مرزائیوں کی طرف سے یہ دیاجاتاہے کہ ہم نے جو کچھ گالیاں ہیں وہ صرف الزامی طورپر کہاہے نہ کہ اپنی طرف سے، میں کہتاہوںیہ غلط ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا ہے: ’’اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘ یہ الزام نہیں بلکہ اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ نیز لکھتے ہیں: ’’ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘ پھر کہتے ہیں: ’’میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔‘‘ اس میں بات کو اپنی طرف منسوب کردیاہے پھر اپنی طرف سے کہتے ہیں کہ: ’’جن جن پیش گوئیوں کا توریت میں پایا جانافرمایاہے ان کتابوں میں ان کا نام ونشان بھی نہیں۔‘‘ پھر کہتے ہیں: ’’مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔‘‘ یہ الزامی جوب نہیں ہے۔(حوالے بیان ہوچکے ) میں کہتاہوں کہ بفرض محال تسلیم بھی کر لوں کہ یہ اقوال بطریق الزام کہے ہیں۔ مگر میں توہین عیسیٰؑ کے متعلق دو باتیں پیش کرتاہوں، جن کا یہ جواب ناممکن ہے۔ مرزا نے لکھاہے: ’’یاد رہے کہ یہ جو ہم نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے وقت میں خداتعالیٰ کی زمین پر بعض راست باز اپنی راست بازی اور تعلق باﷲ میں حضرت عیسیٰؑ سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ نے ان کی نسبت فرمایاہے۔ ’’وجیھاً فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانہ کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب مقربوں سے بڑھ کرتھے بلکہ اس بات کا امکان نکلتاہے کہ بعض مقرب ان کے زمانہ کے ان سے بہتر تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموں سے ان کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن ہے بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو ’’لم نقصص‘‘ میں داخل ہیں۔ وہ ان سے بہتر اور افضل ہوں اورجیسا کہ حضرت موسیٰm کے مقابل پر آخر ایک انسان نکل آیا۔ جس کی نسبت خدانے ’’علمناہ من لدنا علما‘‘ فرمایا تو پھر حضرت عیسیٰؑ کی نسبت جو موسیٰm سے کم تر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے اورختنہ اور مسائل فقہ اور وراثت اور حرمت خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰm کی شریعت کے تابع تھے۔کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بالا طلاق اپنے وقت کے تمام راست بازوں سے بڑھ کر تھے۔ جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان۔ وہ اگران کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پر پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیںتوان کو اختیار ہے۔ انسان جب حیا اورانصاف کو چھوڑ دے تو جوچاہے کہے اورجو چاہے کرے لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتاتھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سرپر عطر ملاتھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء ص۴،۳، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹،۲۲۰)

اس عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ جو الزام اور عیوب عیسیٰؑ پر لگائے گئے ہیں۔ وہ اس عالم الغیب اﷲ کے نزدیک متحقق تھے اور

146

معاذاﷲ! عیسیٰؑ میں اﷲتعالیٰ کے نزدیک یہ تمام عیوب موجود تھے۔ اسی واسطے ان کا نام قرآن میں حصور نہ فرمایا اور چونکہ حضرت یحییٰ میں اﷲ کے نزدیک ایسے عیوب متحقق نہیں تھے۔ لہٰذا ان کو حصور فرمایا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ گالیاں الزاماً نہیں دی گئیں۔ بلکہ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق معاذاﷲ! خدا کے نزدیک یہ عیوب متحقق تھے اور عیسیٰؑ میں موجود تھے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں اور مولویوں کو مخاطب کرتے ہیں: ’’اے انسانی مولویو اور خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کھلنا چاہتے ہو ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ بند رہیں اورتم پیرمغاں بنے رہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵، خزائن ج۲ ص۱۰۵)

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ’’اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶)

اس کے بعد ذیل کے نوٹ کو ملا دیا جائے۔ ’’اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵)

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کوان کے حواشی سے الگ کرکے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۶، خزائن ج۳ ص۱۰۵)

اسی صفحہ کے آگے کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔ جس سے عیسیٰؑ کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰؑ کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پرہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)

اب نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے کلام میں یہ بات ثابت ہوچکی کہ کسی نبی کی توہین کرنا کفر ہے اورقرآن شریف میں بھی اسی ادب واحترام کا حکم فرمایا گیا ہے کہ تم رسولﷺ سے اس طرح زورزور سے باتیں نہ کرو جیسے تم باہم ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کیونکہ تمہارے اعمال حبط اور باطل ہوجائیںگے اور تم کو خبر بھی نہ ہوگی۔

قرآن وحدیث اور فقہ اورمرزا قادیانی کے اقوال سے ثابت ہوگیا کہ توہین انبیاء کفرہے اور مرزا نے توہین انبیاء کی جس کا ایک بہت تھوڑا حصہ بیان کیاگیاہے اور دوسرے انبیاء بالخصوص سرورعالمa کی شان اقدس میں مرزا نے گستاخیاں کی ہیں اور توہین آمیز الفاظ لکھے ہیں۔ ان کو اس وقت بیان نہیں کرسکا تاہم نتیجہ نکالنے کے لئے اس قدر بیان کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے توہین انبیا کی اور جو توہین انبیاء کرے کافرہے، مرتدہے۔ پس مرزا قادیانی بھی کافر اور مرتد ہوئے۔ ان کے پیرئوں میں سے کسی سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔

مرزا کی آنحضرتﷺ کی شان ارفع میں گستاخیاں

کل جو بیان ہواتھا اس میں وہ امور بیان کئے گئے تھے جس میں مرزا قادیانی نے عیسیٰؑ کی توہین کی تھی۔ آج میں وہ باتیں بیان کرتاہوں جن میں آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے۔ مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلاچکاہوں کہ میں موجب آیت: ’’وآخرین منھم لما یلحقوابھم‘‘ بروزی طورپر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھاہے اورمجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قراردیاہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

147

’’پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘

(حوالہ بالا)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو باربار کہا ہے کہ میں بعینہٖ محمدa ہوں۔ ایسے کلمہ جو سرورعالم کی توہین ہے اور جس قدر اس میں کفریات ہیں وہ غور کرنے سے ظاہر ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے والد کا نام عبداﷲتھا؟ کیا ان کی والدہ کا نام آمنہ تھا؟ کیا وہ فاطمہt کے باپ تھے؟ مرزا قادیانی کا عین محمدa ہونا اور مرزا قادیانی اور سرورعالم ایک ہوں جو عقلاً ونقلاً باطل ہے۔ اگر آنحضرتﷺ معاذاﷲ! بطریق تناسخ مرزا قادیانی ہوئے تو تناسخ کفرہے۔ اگر یہ معنی ہیں کہ سایہ ذی سایہ کا عین ہوتاہے تو یہ ایسی ہی باطل بات ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ کسی شخص کا سایہ ذی سایہ نہیں ہو سکتا تواب مرزا قادیانی کا نبی ہونا آنحضرتﷺ کا نبی ہونا نہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مرزا قادیانی اورآنحضرتa دونوں ایک ہیں (نعوذباﷲ) توکیا کوئی مسلمان اس لفظ کو اپنی زبان سے ادا کرسکتاہے کہ ۱۹۰۱ء تک معاذاﷲ آنحضرتﷺ قادیان کی گلیوں میں پھرتے رہے اور مدت تک کچہری میںکام کیا اور مختاری کا امتحان دیا اور فیل ہوگئے اور پہلے آنحضرتﷺ جو نبوت کے ساتھ تشریف لے گئے تھے۔ پچاس سال کی عمر تک نبوت سے بالکل معطل رہے۔ اس کلمہ کی کوئی مسلمان جرأت نہیں کرسکتا؟ اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ سایہ اورذی سایہ ایک ہے تو آنحضرتﷺ اﷲتعالیٰ کا سایہ ہیں۔ پس ماننا پڑے گا کہ آنحضرتﷺ اﷲتعالیٰ کا عین ہیں اور مرزا قادیانی عین محمد ہیں تو نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی عین خدا… اور اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر ظل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ذی ظل کی کوئی صفت اس میں آجائے تو پھر ایسی ظلیت تمام دنیا کو حاصل ہے۔ بہرحال مرزاقادیانی کا ادّعائے نبوت اور آنحضرتﷺ کے ساتھ اتحاد دعویٰ آنحضرتﷺ کی کھلی توہین ہے۔ لہٰذا بہت سے وجوہ سے یہ کفر ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ خاتم النّبیین کے بالکل مخالف ہے۔

یہی مضمون مرزا قادیانی نے اور جگہ بیان کیاہے۔

’’ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ نہ صرف ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا اظہار کریں اور یہ بروز خدا کی طرف سے قرار یافتہ عہد تھا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵)

جب مرزاقادیانی کے نزدیک یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ دنیا میں ہزاردفعہ آئیں اور اپنی نبوت کااظہار کریں اور یہ بروز خداتعالیٰ کی طرف سے ایک عہد بھی تھا۔ جس کا خلاف نہیں ہوسکتا تو تیرہ سوسال کے اندرکوئی ایسا شخص پیدا نہ ہوا جو نبی کے نام پانے کا مستحق ہوتا تو اوّل آنحضرتﷺ کی توہین ہے۔ دوسرے تمام صحابہa اور اس وقت تک تیرہ سو برس میں جتنے بھی لوگ گزرے ہیں کوئی ایسا نہ ہوا جو نبی کا نام پانے کا مستحق ہو۔ خلفائے اربعہ عشرہ مبشرہ اہل بدر اور وہ صحابہ جو بیعت رضوان میں شامل تھے اور جن کی نسبت اﷲتعالیٰ نے صاف الفاظ میں فرمایا: ’’رضی اﷲ عنہم ورضوا عنہ‘‘ اﷲ ان سے راضی اور وہ اﷲ سے راضی تو سب کے سب مرزا کے برابر نہ ہوئے تو آنحضرتﷺ نے معاذاﷲ! دنیا میں کیا کام کیا۔ تیئس برس کی تعلیم کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس میں آنحضرتﷺ کی غایت درجہ توہین ہے اور لکھتے ہیں: ’’چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعودتھا، وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل اب تمام دنیا بے دست وپاہے۔ کیونکہ نبوت پر مہرہے۔‘‘ تواوّل یہ مضمون اس قدر لغو ہے کہ خود فرماتے ہیں کہ بروزی رنگ میں ہزار دفعہ آنحضرت کا بروز ہوگا اور پھر لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے مقابلہ پر تمام دنیا بے دست وپاہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ کیا مرزے کے نبی ہونے سے مہر نہیں ٹوٹتی؟ اگر دوسرا ہوجائے تو مہرٹوٹتی ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ آنحضرتﷺ کو جو مہر نبوت کہتے ہیں ہر ایک وجودی

148

شئے ہوئیکہ جس پر کوئی عبارت کندہ ہو اور کسی کاغذ پر ابتداء میں یااخیر میں بطور سند لگادی جائے یا کسی چیز میں کوئی چیز رکھ کر اس پر مہر لگادی جائے تاکہ اس سے نکل نہ سکے تواب آنحضرتﷺ کا مہر ہونا بالکل لغو باطل ہے اور آنحضرتﷺ کی توہین کرنا ہے۔ اگر مجازی معنی لئے جائیں کہ مہر کے یہ معنی ہیں کہ ایک شخص کامیاب ہوتاہے آنحضرتﷺ کی سند سے تو کیا آنحضرتﷺ سندلکھ دیتے تھے یا نبوت کو آنحضرتﷺ پر ختم کردیاگیا اور اب نبوت آپa سے نہیں نکل سکتی؟

پھر مرزا قادیانی کا فرمانا کہ مہر نبوت تو باقی ہے مگر نبوت نکل کر مرزا کے پاس آگئی تو پھر یہ چوری ہوئی اور پھر مہر بھی خدا کی لگائی ہوئی۔ گویا خداکی لگائی ہوئی مہر ایسی ہوئی جس پرآدمی کا ایسا اثر ہوسکتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کی بھی توہین ہے۔

قول فیصل ص۶ مرتبہ شیخ محمد عمر صاحب مرزا قادیانی کا ایک قول نقل کرتے ہیں۔ یہ کمالات متفرقہ جوتمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے۔ اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمa سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کے خاص خاص صفات میں اب ہم ان صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۳ص۲۷۰، جدیدج۲ ص۲۰۱)

اس عبارت نے بہت سی باتوں کا تصفیہ کردیا ہے۔ معلوم ہوا کہ بروزی اور ظلی نبوت کوئی کم اور گھٹیا درجہ کی نبوت نہیں۔ ظل بروز کے لفظ سے یہ دھوکا ہوسکتاتھا کہ مرزاقادیانی کی مرادیہ ہوگی۔ جیسے کہ آئینہ میں کسی صورت کا عکس پڑتاہے۔ اسی طرح کمالات محمدیہ کا عکس پڑا۔ مگر مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں: کیونکہ کسی کا عکس جو آئینہ میںہے اس میں ذی عکس کی کوئی حقیقی صفت نہیں آسکتی۔ اس عبارت نے اس شبہ کو ایسا صاف اور ظاہر کردیا کہ اب اس شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ مرزا قادیانی کا لفظ ظل اور بروز ہے۔ مگر مراد حقیقی کاملہ نبوت ہے۔ کیونکہ فرماتے ہیں کہ: ’’جتنے نبی گزرے ہیں وہ سب آنحضرتﷺ کی ایک ایک صفت میں ظل تھے۔‘‘ اور پھر باوجودیکہ ایک صفت میں ظل تھے۔ حقیقی نبی، صاحب شریعت نبی، مستقل نبی اور منسوخ کرنے والی شریعت کے نبی بنے۔ مگرپھر بھی وہ ظلی نبی تھے تو ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ اولوالعزم انبیاءؑ ایک ایک صفت میں ظل تھے اور مرزا قادیانی تمام صفات میں ظل ہیں۔ ثابت ہوا کہ سب نبیوں کی نبوت ایک طرف ہو اور مرزاقادیانی کی نبوت ایک طرف تو مرزا قادیانی سب سے بڑھ کر رہیں گے یا کم از کم مساوی ضرور ہوں گے تو مرزا قادیانی مستقل نبی ہوئے، صاحب کتاب نبی ہوئے اور ناسخ شرع والے ہوئے اور یہ کفر ہے۔ مرزا قادیانی جو باربار یہ کہتے ہیں کہ سابقہ انبیاء کی نبوت مستقلہ تھی اور میری نبوت فیض محمدیa کا اثر ہے، یہ بھی غلط ہوا۔ کیونکہ جیسے ان کی نبوت آنحضرتﷺ کا فیض تھا۔ مرزائی نبوت بھی ان کا فیض ہے۔ لہٰذا فرق باطل ہے۔

ایک قوی وجہ کفرکی اس میں اور ہے۔ کہتے ہیں کہ: ’’جب آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہوئے توخاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی آہی نہیں سکتا اور بنی اسرائیل میں سے دجال کے مقابلہ کے لئے کوئی نبی آئے اور مہر نبوت کا ٹوٹتا ہے۔‘‘ میں کہتا ہوں کہ جب عیسیٰؑ بھی ظل ہوئے اور موسیٰm بھی ہوئے۔ ان کے آنے سے تو مہر ٹوٹ جاتی ہے اوراگر تمام صفات کا ظل آئے تو مہر نہ ٹوٹے۔ اس کے کیا معنی ہیں؟ اب عیسیٰؑ کا آنا بطریق اولیٰ مہر نبوت کو نہ توڑے گا اور اس میں رسولﷺ کی عظمت دوبارہ ثابت ہوگی کہ وہ نبی جو بظاہر امتی نہ تھے۔ حقیقت میں وہ سب امتی ہیں۔ بایں معنی کہ آپa کے فیض یافتہ اور آپa کی کسی صفت میں ظل ہیں۔ میں اس مسئلہ کویہاں واضح کردینا چاہتاہوں کہ جیسے مرزا قادیانی کی عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ بروزی اور ظلی الفاظ صرف کہنے کے ہیں ان کے تحت میں کوئی معنی نہیں۔ یہ فقط میرا استدلال نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے صاحبزادے خلیفہ ثانی کا ارشادہے۔

149

کتاب (ہینڈ بل ص۲بحوالہ الفضل ۲۶؍نومبر۱۹۱۳ء) میں نقل کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم جیسے خدا کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت عیسیٰ، حضرت ادریس کو نبی پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی خدا کی آخری وحی میں مسیح کو بھی یا نبی اﷲ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اسی نبی کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا بروزی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت کرنے لگیں بلکہ جیسے اور نبیوں کی فضیلت کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔‘‘

دوسری عبارت بحوالہ (اخبار الحکم ۲۱؍ اپریل ۱۹۱۴ء ہینڈبل ص۳سطر۸) ’’خداتعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی رکھا اور کہیں ظلی اور بروزی نہ کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریںگے اور آپ کی تحریر میں جس میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے جو نبیوں کی شان ہے۔ ان کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔‘‘

اب یہ معلوم ہوگیا کہ خلیفہ ثانی قادیانی کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ لفظ انکسار اور تواضع میں بڑھا دئیے ہیں، ورنہ ان کا کوئی معنی نہیں۔ مرزا قادیانی جہاں اپنے آپ کو ظلی، بروزی یا مجازی نبی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب حقیقی نبی سمجھنا چاہئے۔ اب دوسرے شخص کا کہنا کہ نبی نہیںہوسکتا۔ کیونکہ وہ بروزی ظلی نہیں ہے اور چونکہ خود مرزا قادیانی بروز ی ظلی ہیں تو ان کا نبی ہونا خاتم النّبیین کے خلاف نہیں۔ یہ بات کیسی لغو اور باطل ہے۔ اس بناء پر خاتمیت محمدیہﷺکا صریح انکار ہے۔ مرزا قادیانی جہاں بروزی، ظلی کا لفظ بڑھاتے ہیں وہاں نبی امتی کا لفظ بھی بڑھاتے ہیں تو محض نبی نہ ہوئے بلکہ امتی بھی ہوئے۔ اس کو بھی خلیفہ دوم نے صاف کردیا۔

(اخبار الفضل قادیان ۲۹؍ جون ۱۹۱۵ء بحوالہ ہینڈبل ص۳) میں ہے: ’’مسیح موعود کو نبی اﷲ نہ تسلیم کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میںسمجھنا گویا آنحضرتﷺ کو جو سید المرسلین خاتم النّبیین ہیں۔ امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم ہے اور کفر بعد کفرہے۔‘‘ اس عبارت نے صاف کردیا کہ مرزا قادیانی کو صرف امتی کہنا یا نبی کے ساتھ امتی کہنا کفرہے۔ صرف کفر ہی نہیں بلکہ کفربعد کفر ہے اور کفر عظیم ہے۔ کیونکہ اس میں ایک توآنحضرتa کو امتی کہنا لازم آتاہے جو کفر ہے اور دوسرا مرزا قادیانی کو امتی کہنا لازم آتاہے جو دوسرا کفرہے۔ معلوم ہوا کہ مرزا کے ساتھ جتنے الفاظ بروزی، ظلی، لغوی، مجازی، جزوی، امتی بڑھائے جاتے ہیں۔ یہ سب ایسے الفاظ ہیں جن میں اب تک کوئی معنی نہیں ڈالے گئے۔ اگر کہاجائے کہ یہ الفاظ مرزا قادیانی کے ہیں اور واقعی نہیں بلکہ مرزا کے صاحبزادے خلیفہ ثانی قادیان کے ہیں۔ اگران کا عقیدہ مرزا قادیانی کے خلاف ہے تو ان کو کافر ہونا چاہئے۔ اگر موافق ہے تو مدعا ثابت ہے۔ اگر بفرض محال کوئی یہ ثابت کردے کہ مرزا قادیانی کے خلاف مراد ہے اور خلیفہ ثانی قادیانی کافربھی نہیں ہیں تو اتنا ضرورہی ثابت ہوگا کہ موجودہ خلیفہ اور موجودہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔ لہٰذا موجودہ مرزائیوں کے کفر کا ایک اور نمبر بھی زائدہوگیا۔

(الفضل ج۳ مؤرخہ ۲۹؍جون۱۹۱۵ء ص۷، زیر عنوان احمد نبی اﷲ عقائد محمودیہ نمبر۱ ص۵ سطر نمبر۱۶) میں ہے: ’’پس ان معنوں میں مسیح موعود جو آنحضرت کی بعث ثانی کے ظہورکا ذریعہ ہے۔ اس کے احمد اور نبی اﷲ ہونے کا انکار کرنا، گویا آنحضرت کی بعثت ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اﷲ ہونے سے انکار کرناہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اورپکا کافر بنانے والاہے۔‘‘

مرزا نے اپنے معجزات دس لاکھ اور آنحضرتﷺ کے تین ہزا معجزات قراردئیے ہیں

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبیa سے ظہور میں آئے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

150

پھربراہین احمدیہ میں ہے: ’’ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اورنشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پر خارق عادت ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

آنحضرتﷺ کے معجزات کو تین ہزا قرار دینا اور اپنے معجزات کو دس لاکھ تو ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ پر مرزا نے اپنی کیسی فضیلت بیان کی جو آنحضرتﷺ کی کھلی توہین ہے۔

مرزا کا معجزہ شق القمر سے انکار

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’لہ خسف القمر المنیر وان لی خسفا القمران المشرفان اتنکر یعنی اس کے لئے صرف چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اورمیرے لئے چاند اور سورج دونوں کاکیا اب تو انکار کرے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

اس شعر میں مرزا قادیانی نے قرآن کریم کی صریح آیت کا انکار کیاہے۔ قرآن میں ہے: ’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر‘‘ شق قمر کے معجزہ کو مرزا قادیانی چاند گرہن سے تعبیر کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے لئے چاند گرہن ہوا۔ اس میں آنحضرتﷺ کی صریح توہین اور معجزہ شق القمر کا کھلا انکار ہے۔ یہاں مرزا قادیانی دووجہ سے کافر ہوئے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں:’’ان اﷲ خلق آدم وجعلہ سیدا وحاکما وامیرا علی کل ذی روح من الانس والجان…تا… مکتوب فی القرآن‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۳۱۲ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)

’’یعنی اﷲتعالیٰ نے آدمm کو پید اکر کے ہر ذی روح کا سردار اور حاکم اور امیر بنایاجن ہو وہ یا انسان جیسا کہ یہ مضمون آیہ ’’اسجدوا لادم‘‘ سے سمجھا جاتاہے۔ پھر پھسلا دیا آدمm کو شیطان نے اور نکلوادیا جنت سے اور رد کی گئی حکومت سانپ کی طرف اور پہنچی آدمm کو ذلت اور رسوائی اس لڑائی میں اور متبعین کے لئے انجام کارہے اﷲ کے نزدیک۔ پس اﷲتعالیٰ مسیح موعود کو پیدا کیاہے تاکہ وہ شیطان کواخیر زمانہ میں شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہواتھا۔‘‘

تمام انبیاءؑ کی توہین

اس عبارت میں مرزا نے حضرت آدمm کی (معاذاﷲ) توہین اور ذلت اور رسوائی کو کھلے الفاظ میں صاف بیان کیاہی ہے۔ مگر آدمm بھی شامل ہیں سب کی توہین ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ آدمm سے شیطان کی جو لڑائی ہوئی اس میں آدمm کو شکست اور ذلت اور رسوائی ہوئی اور شیطان کو فتح اور اس کے مقابلوں کی شکست برابر باقی رہی۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کو اﷲ نے پیدا کیا اور شیطان کو شکست ہوئی۔ اس میںتمام انبیاءؑ کی توہین ہے اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے شیطان کو وہ کیا شکست دی۔ جو نہ آنحضرتﷺ سے شکست ہوئی اور نہ کسی اور نبی سے۔ دوسرے یہ جو کہاہے کہ یہ وعدہ قرآن میں تحریر ہے کہ مسیح موعود شیطان کو شکست دے گا یہ بالکل خلاف واقع اور کذب ہے۔ہم نے ایسی کوئی آیت قرآن میں نہیں دیکھی جس میں لکھا ہو کہ مسیح موعود یا مرزا غلام احمد آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے گا۔ ان تمام توہینوں میں جو مرزا قادیانی کی کتابوں میں مذکورہیں۔ قرآن کے مطابق اور عقائد اسلام کے مطابق اور مرزا کی ان تحریروں کے مطابق جو کل پیش کی گئی تھیں کہ کسی نبی کی توہین کفرہے۔ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے کافر بھی ہوئے مرتد بھی ہوئے اور اس کے سارے متبعین کا یہی حکم ہے۔ اس جماعت میں سے کسی سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔اگر نکاح ہوگیا ہے تو وہ فوراً

151

فسخ ہو گیا۔ بحوالہ (درمختار برحاشیہ شامی۱۹۹ جلد۳) ’’وفی شرح الوھبانیہ مایکون کفرا اتفاقاً یبطل العمل والنکاح واولادہ اولادنی‘‘

ختم نبوت پر مرزا کی تصریحات

اب یہ ثابت کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک بھی خاتم النّبیین کے بعد کوئی دوسرانبی ہو ہی نہیں سکتا۔ مرز ا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اس وجہ سے وہ مسیح ابن مریم کہلایا کیونکہ وہ روحانی طور مسیح کے رنگ میں ہوکر آیا۔ مسیح کیونکر آسکتاہے، وہ رسول تھا اورخاتم النّبیین کی دیوار اوٹیں ان کے آنے سے روکتی تھیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۲۲، خزائن ج۳ ص۳۸۰)

اس کتاب میں ہے: ’’اور کیونکر ممکن تھا کہ خاتم النّبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کے شرائط میں سے ہے آسکتاہے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اورنزول جبرئیل ہے۔ اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں۔ جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعے سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)

اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کریم سے صراحۃً یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ کیا مرزا قادیانی نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ حاصل کئے تھے؟ اگر نہیں تو دعویٰ نبوت جھوٹ ہوا اور جھوٹامدعی نبوت بالاتفاق کافرہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے کفر کی یہ ایک اور نئی وجہ نکل آئی اور اگر کہا جائے کہ پہلے احکام وعقائد جو مرزا قادیانی نے حاصل کئے تھے، انہی پر اکتفا ہوا تو اسی بناء پر وہ شخص جس کے صحیح عقائد ہوں اور جبرئیلm ایک دفعہ بھی نہ آئے ہوں تو مرزا قادیانی کے کہنے کے مطابق بھی وہ نبی ہوسکتاہے۔ پھر عیسیٰؑ کہ جنہوں نے احکام وعقائد بذریعہ جبرئیل حاصل کئے تھے وہ اگر دنیا میں تشریف لائے تو آپ کو وہ پہلا علم کافی نہیں۔ دوبارہ جبرئیل کا آنا ضرری ہے۔ پھر لکھتے ہیں: ’’اب ہم اس وصیت میں یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اپنے زبردست ثبوتوں کے ساتھ ہمارے دعویٰ کا مصداق اور ہمارے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کررہاہے اور گزشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بند کرتا ہے اور بنی اسرائیل کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۸، خزائن ج۳ ص۳۸۹)

اورپھر لکھا: ’’اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس لئے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہوجائے گا یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اورمحض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ۵۵۴، خزائن ج۳ ص۲۹۳)

مزید لکھتے ہیں: ’’ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہوکر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اورصرف اپنی اس وحی متبع ہوتا ہے جو کہ اس پر بذریعہ جبرئیلm نازل ہوتی ہے۔ اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور جبرئیل لگاتار آسمانوں سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم وصلوٰۃ اورزکوٰۃ حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اﷲ کہلائے گا اور اگر یہ کہو کہ مسیح وحی کے ذریعے سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہوجائے گی اور کبھی حضرت جبرئیل ان پر نازل نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ کلی

152

طور پرمسلوب النبوۃ ہو کر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ظاہر ہے اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے تو صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لائیں اور پھر چپ ہوجائیں یہ امربھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتاہے۔ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو خاتم النّبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں تصریح بیان کیاگیا ہے کہ اب جبرئیل کو بعد بعد وفات رسولﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے کے لئے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچی اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبیa کے بعد ہر گز نہیں آسکتا۔ لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہوکر پھر دنیا میں آئے گا اور جبرئیل کے نزول اور کلام الٰہی کے اترنے کا پھر سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ ایک رسول خلق اﷲ کی اصلاح کے لئے آئے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی بذریعہ جبرئیل نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۷۶تا۵۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۱،۴۱۲)

مرزا کی تصریح کہ کوئی نبی امتی نہیں ہوسکتا

اس عبارت کے متعلق اتنا عرض کرنا ہے کہ مرزا قادیانی نے تصریح کردی کہ کوئی نبی مطیع اور امتی نہیں ہوسکتابلکہ وہ مطاع اورصرف اس وحی کا متبع ہوتاہے جو اس پر بذریعہ جبرئیل نازل ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی نبی ہوئے تو انہوں نے اسی وحی کی اتباع کی جوان پر نازل ہوئی یا قرآن کی؟ اگر قرآن کی اتباع کی تب بھی کافر کیونکہ ان کو اپنی وحی کی اتباع ضروری تھی اور اگر اپنی وحی کی اتباع کی تب بھی کافر کیونکہ قرآن کوچھوڑا۔

مرزا کا دعویٰ کہ اس کی وحی بیس جز سے کم نہیں

مرزا قادیانی اسی عبارت میں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو احکام کے متعلق ہو گی اسی کا نام کتاب اﷲ ہوگا۔ مرزا قادیانی کی وحی جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر جمع کریں تو بیس جزو سے کم نہ ہوگی۔ وہ بھی کتاب اﷲ ہوئی اور قرآن کے بعد ہوئی۔ کیا اب بھی قرآن کو آخرالکتب کہا جائے گا؟ اور کیا اب بھی کہا جائے گا کہ قرآن کامل کتاب ہے؟ جب کہ بیس جزو کی اور کتاب ایک نبی پر نازل ہوگی۔ ملاحظہ ہو: ’’اور یاد رہے کہ ہم نے محض نمونہ کے طور پر چند پیش گوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں۔ مگر وہ دراصل کئی لاکھ پیش گوئیاں ہیں جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ اگر تمام لکھا جائے تو بیس جزو کم نہ ہوگا۔ پس ہم پر اسی قدر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہ ہوگا۔ پس ہم اس قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷)

مرزا قادیانی کی اپنی عبارتوں سے معلوم ہوا کہ اگر صرف اتنا لفظ آجائے کہ قرآن پر عمل کرو اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہوجائے تویہ خیال طفلانہ اور ہنسی کے لائق ہے بوجہ مخالفت خاتم النّبیین کے۔ مگر مرزا قادیانی پر بیس جزو کی کتاب نازل ہوجائے تو مرزا قادیانی ویسے کے ویسے ہی مسلمان… عجیب بات ہے کہ ایک پہلا نبی جس پر جبرئیل صرف ایک فقرہ لائے اور جو آنحضرتﷺ کا ایک صفت میں مثیل ہو۔ اس کا آنا تو ختم نبوت کے منافی ہو اور ختمیت کی مہر ٹوٹ جائے۔ مگر جو شخص دعویٰ کرتاہے کہ میں تمام صفت میں ظل ہوں۔ سارے انبیاء سابقین میں سے افضل واعلیٰ ہوں۔ اس کے آنے سے ختمیت کی مہر نہ ٹوٹے تعجب ہے کہ اگر سوئی نکل جائے تو ختمیت کی مہر ٹوٹ جائے۔ اگر ہاتھی نکل جائے تو ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ یہ وہی زمانہ ہے جس وقت وہ خاتم النّبیین کے وہی معنی سمجھتے تھے جو ساری دنیا سمجھتی تھی۔ ایک دفعہ جبرئیل کا آنا اورصرف ایک فقرہ کہنا کہ تم قرآن کی اتباع کرو۔ یہ سب مرزا قادیانی کے نزدیک ختم نبوت کے منافی تھا

153

اور اس سے مہر نبوت ٹوٹتی تھی۔ مرزا قادیانی سے پہلے مجدد جو ہر صدی پر آتے رہے ہیں۔ ان کا یہ فرض تھا کہ دین میں جوغلطی لوگوں سے ہوگئی ہے۔ اس پر لوگوں کو متنبہ کرتے بالخصوص ایسے امور وعقائد میں جن کی وجہ سے انسان کافر ہوجاتاہے۔ پھرامت میں بے شمار اولیاء، ابدال، اقطاب اورتمام صحابہ کرامi بھی گزرے ہیں مگر کسی نے یہ نہ کہا کہ خاتم النّبیین کے معنی وہی جو مرزا قادیانی نے بتلائے ہیں۔

مرزا دونوں معنوں پر کافرہے

سوال یہ ہوتاہے کہ اگر مرزا کے یہ معنی صحیح ہیں تو مرزا اور اس سے پہلے کے لوگ سب کافر ہیں اور اگر پہلے معنی صحیح ہوں تو مرزا قادیانی کافر ہوئے۔

مرزا قادیانی نے جواب معنی خاتم النّبیین کے تجویز فرمائے ہیں۔ جس کی بناء پر نبوت کا جاری رہنا بلکہ وحی نبوت کا جاری رہنا ضروری ہے اور جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہواور جو انقطاع وحی کا قائل ہو۔ وہ مذہب مرزا کے نزدیک لعنتی اور شیطانی کہلانے کے لائق ہے۔ اس کی بناء پر اگر یہ معنی صحیح ہیں تو جب تک مرزا کا یہ عقیدہ تھا تو مرزا قادیانی بھی کافر ہوئے اور جتنے مسلمان اس عقیدہ پر گزرے ہیں وہ سب کے سب کافرہوئے اور اگر مسلمانو ں کا عقیدہ اور مرزا قادیانی کا عقیدہ سابقہ صحیح تھا تو پہلے لوگ تو مسلمان مگر مرزا قادیانی اس عقیدہ کے بدلنے سے کافر ہوگئے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اب ہر ایک دانش مند اندازہ کرسکتاہے کہ جس حالت میں۲۳برس میں ۳۰جزو قرآن کے نازل ہوگئے تھے تو بہت ضروری ہے کہ اس چالیس برس میں کم سے کم پچاس جزو کی کتاب اﷲ حضرت مسیح پر نازل ہوجائے اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبرئیل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہوجائے اور ایک نئی کتاب اﷲ گومضمون میں قرآن سے توارد رکھتی ہو، پیدا ہوجائے اور جوامر مستلزم محال ہو، وہ محال ہوتاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۸۲، خزائن ج۳ ص۴۱۴)

اس عبارت میں گفتگو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے لفظ محال سے کیا مراد ہے۔ اگر محال سے مراد عقلی ہے تواس کااخفاء ناجائز ہے۔ بالخصوص تیرہ سو برس تک صحابہ، تابعین اور ائمہ، فقہاومتکلمین جنہوں نے عقلی امور میں بال کی کھال اتارکر رکھ دی ہے اور بالخصوص ہر صدی کے مجدد سے جو ہر صدی کے سر پر آتے تھے۔ مرزا کا یہ کہنا محال عقلی ہے، غلط ہے۔بلکہ یہ خود محال عقلی ہے اور اگر محال سے مراد محال شرعی ہے تو وہ بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ خاص کر اتنے زمانے تک اورمتبحرین علماء پر اور مجددین پر تو ثابت ہوا کہ مرزا کا اسی کلام کے کہنے تک یہی عقیدہ تھا کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی قدیم یا جدید آہی نہیں سکتا۔ علمائے امت نے جو مسئلہ ختم نبوت پر اجماع بیان کیا ہے اور اس آیت کے جو معنی مرزا کے بھی مسلّمات میں سے ہیں، وہ حق ہیں۔ اب جو اس معنی کا انکار کرے وہ کافر ہے اور بے شک کافرہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اس کے جواب میں کہتاہوں کہ اس قدر تو بالکل سچ ہے کہ اگر وہی مسیح، رسول اﷲ، صاحب کتاب، آجائیں جن پر جبرئیل نازل ہوا کرتا تھا۔ وہ شریعت محمدیہﷺکے تمام قوانین اور احکام نئے سرے اور نئے لباس اور نئے پیرایہ اور نئی زبان میں ان پر نازل ہوجائیں گے اور اسی تازہ کتاب کے مقابل پر جو آسمان سے نازل ہوئی ہے قرآن کریم منسوخ ہوجائے گا۔ لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس امت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول اور خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روانہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرئیل کا آناضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی الٹا دے۔ حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد حضرتa کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا اورحدیثوں کے پڑھنے والوں نے یقینا یہ بڑی بھاری غلطی کھائی ہے کہ صرف عیسیٰ یاابن مریم کے لفظ کو دیکھ کر اس بات کا یقین کر لیا ہے کہ سچ مچ وہی ابن مریم آسمان سے نازل ہوجائے گا، جو رسول اﷲ تھا اور اس طرح خیال نہیں کیا کہ اس کا آنا گویا دین اسلام کا رخصت ہونا

154

ہے۔ یہ تو اجماعی عقیدہ ہوچکاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۸۴،۵۸۵، خزائن ج۳ ص۴۱۵،۴۱۶)

اوّل تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر عیسیٰؑ دنیا میں تشریف لائیں گے تو جبرئیلm آیا کریں گے اور شریعت محمدیہﷺکے تمام احکام اور قواعد نئے سرے سے اور نئے لباس، نئے پیرایہ اور نئی زبان میں نازل ہوں گے تو اس سے لازم آتاہے کہ قرآن منسوخ ہوجائے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہہ چکے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ جبرئیل آئیں اور فقط یہ فقرہ کہہ جائیں کہ قرآن پر عمل کر اور پھر ساری مدت العمر تک تشریف نہ لائیں تو قوانین شرعیہ واحکام شرعیہ عقائد اسلام نئے لباس میں کیونکر آئیں گے اور قرآن کیسے منسوخ ہوگا؟ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’وقالوا انی لک ھذا قل ھو اﷲ عجیب جآء نی ایل واختار‘‘ اس کا ترجمہ انہوں نے خود بالفاظ ذیل کیاہے: ’’اورکہیں گے تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوا۔ کہہ دو خداوند ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

اس پر مرزا قادیانی حاشیہ لکھتے ہیں کہ: ’’اس جگہ آئیل خداوند تعالیٰ نے جبرئیل کانام رکھا اس لئے کہ وہ بار بار رجوع کرتاہے۔‘‘

(حوالہ بالا)

اب مرزا قادیانی پر جبرئیل کا نزول معلوم ہوگیا اور بیس جزء کا کلام بھی نازل ہوگیا اور آنحضرتﷺ کی ہتک اور کسر شان کرنا اور اسلام کا تختہ الٹنا سب ثابت ہوگیا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کا کافر اور مرتد اور خارج اسلام ہونا انہیں کے اقرار سے ثابت ہوگیا۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’لیکن اگر واقعی طور پر اور حقیقی طور پر مسیح ابن مریمa کا نازل ہونا خیال کیا جائے تو اس قدر خرابیاں پیش آتی ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا اور اس بات کے سمجھنے کے لئے صریح اور صاف قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ حقیقی طور پر نزول ہرگز مرادنہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۹۷، خزائن ج۳ ص۴۱۷)

اس عبارت سے معلوم ہوگیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے بے شمار خرابیاں ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’اکیسویں آیت یہ ہے: ’’ماکان محمد ابااحد… الخ!‘‘ یعنی محمدa تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اﷲ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔ اس میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ آیت بھی صاف دلالت کرتی کہ بعد ہمارے نبیa کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بکمال وضاحت ثابت ہوگیا کہ مسیح ابن مریم رسول اﷲ دنیا میں نہیں آسکتا کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے۔ رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہوچکاہے کہ اب وحی رسالت تا باقیامت منقطع۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا کہ مسیح ابن مریم ہر گز نہیں آئے گا اور یہ امر خود مستلزم اس بات کو ہے کہ وہ مرگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱،۴۳۲)

ان تمام حوالوں سے میری غرض یہ تھی کہ میں ثابت کروں کہ دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا قادیانی خاتم النّبیین کے معنی وہی سمجھتے تھے جو سیزدہ صد سالہ مسلمانوں نے سمجھے اور یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی تھا۔ اب مرزا قادیانی کا جو جدید عقیدہ ہواہے یہ آیت خاتم النّبیین کے معنی کے صریح مخالف ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی باقرار خود کافر ہوئے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے۔ اب مرزا قادیانی خود کافر ہوئے۔ ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کاآنا جائزنہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا ہو یا پرانا ہو کہ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتاہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

155

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ اب اگر مرزا قادیانی نئے نبی ہیں تب بھی نہیں آسکتے اگر پرانے نبی ہیں تو بھی نہیں آسکتے۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے: ’’واما ذکر نزول عیسٰی ابن مریم فماکان بمومن ان یحمل ھذا الاسم مذکور فی الاحادیث علی ظاہر معناہ لانہ یخالف قول اﷲ عزوجل ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیناa خاتم الانبیا بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظہور نبی بعد نبیناa لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا وھذا خلف کمالا یخفی علی المسلمین وکیف یجیٔ نبی بعد رسولناa وقد انقطع الوحی وفاتہ وختم اﷲ بہ النّبیین انعتقد بان عیسٰی الذین انزل علیہ الانجیل ھوخاتم الانبیا لارسولناa انعتقد ان ابن مریم یاتی وینسخ بعض احکام القرآن ویزید بعضا‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰،۲۰۱)

ترجمہ: یعنی عیسیٰ کے نزول کے بارہ میں کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ اس کلام کو جو احادیث میں آیا ہے۔ ظاہری معنی پر حمل کرے۔ کیونکہ آیت: ’’ماکان محمد ابا احد… الخ!‘‘ کے خلاف ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ اﷲتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کا نام خاتم الانبیا رکھا ہے اس میں کسی کا استثناء نہیں کیا اور پھر اسی خاتم النّبیین کی خود اپنے کلام میں تفسیر فرماتے ہوئے فرمایا لانبی بعدی جو سمجھنے والوں کے لئے واضح بیان ہے۔ اگر ہم جائز رکھیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی آسکتاہے تو لازم آتاہے کہ دروازہ وحی نبوت کا بندہونے کے بعد کھل جائے اور آپa کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتاہے حالانکہ وحی نبوت منقطع ہوچکی ہے۔ اﷲتعالیٰ نے آپa کے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کردیا کہ ہم اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰؑ آئیں اور وہی خاتم الانبیاء بنیں نہ ہمارے رسول۔‘‘

اس عبارت میں مجھے یہ کہنا ہے کہ خود مرزا قادیانی نے اقرار کیا ہے کہ آنحضرت نے خاتم النّبیین کی تفسیر اپنی اس کلام میں فرمائی ہے کہ: ’’لا نبی بعدی‘‘ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک خاتم النّبیین کی تفسیر ’’لا نبی بعدی‘‘ ہے اور خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں کسی نبی بروزی یا ظلی کی قید نہیں ہے تو اب ’’لا نبی بعدی‘‘ کے یہ معنی لینے کہ اس سے خاص وہ نبی مراد ہیں جو مستقل نبی ہوں اورآنحضرتa سے الگ ہو کرنبوت حاصل کی ہوتو یہ معنی مرزا قادیانی کے نزدیک بھی غلط ٹھہرے۔ اب یہ معنی بیان کرنا ہر گز قابل پذیرائی نہیں۔ ان عبارتوں میں بعض وہ بھی ہیں کہ مرزا قادیانی کے بقول مسیح کے نزول کو آنحضرتﷺ کے بعد جائز رکھنا یہ خاتم النّبیین کے ساتھ کفرہے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

مرزاقادیانی کہتاہے: ’’میں سچ مچ کہتاہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہوسکتاہے۔ اندھے کہتے ہیں کیا یہ چیز کفرہے؟ میں کہتا ہوں کہ تم ایمان سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندرہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۲۴، خزائن ج۲۰ ص۳۵۴)

انہی عبارتوں سے یہ امر بداہۃ ثابت ہواکہ مرزا قادیانی ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی یہ سمجھتے ہیں

156

آپa کے بعد کوئی نبی جدید یا قدیم نہیں آسکتا۔ جو شخص آپa کے بعد کسی نبی جدید یا قدیم کا آناجائز رکھے وہ کافر ہے۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی یہی ہیں۔ پھر اس کے بعد مرزا قادیانی نے خود رسالت کا دعویٰ کیا جیسے حقیقت الوحی کی عبارت سے ظاہر ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کا مدعی نبوت ہونا محتاج بیان نہیں۔ بکثرت عبارات موجود ہیں اور مدعا علیہ کو بھی اقرارہے۔ مگر عجب بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی پہلے یہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول اﷲa کے بعد نبی کا آنا اور کسی نبی کا نزول جائز رکھے وہ کافر ہے اور دعویٰ نبوت کے بعد وہ یہ کہتے ہیں۔ جو یوں کہے کہ رسول اﷲ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، یہ کفر ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے کلام کی رو سے خود کافرہوجائے۔ شرح شفاء ملّا علی قاری (ص۵۲۱ جلددوم) میں ہے: ’’وکذالک انقطع بتکفیر کل قائل الی قولہ ھذا الاجماع‘‘ مطلب یہ ہے کہ جو شخص ایسا کلام کرے کہ جس کی وجہ سے امت کی تذلیل و تکفیر ہو تمام صحابہi کی ہم ایسے شخص کو یقینی کافر سمجھتے ہیں۔ حاصل یہ نکلا کہ جو شخص ایسی بات کہے جس سے ساری امت کا گمراہ ہونا یا کافر ہونا لازم آئے ایسے شخص کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’حال کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت ’’قال اﷲ‘‘ اور ’’قال الرسول‘‘ کی باقی نہیں رہی۔ یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہی غلط ہیں۔ شاید ان کا ایسی باتوں سے یہ مطلب ہے کہ اس عاجز کے اس دعویٰ کی تحقیر کر کے کسی طرح ان کو باطل ٹھہرایا جائے۔ لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے۔ اگر غیر قوموں کی تاریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑے گا۔ جیسا کہ ہندوئوں کے بزرگوں رام چندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعے سے ہی ہم نے قبول کیا ہے۔ گو تحقیق تفتیش تاریخ واقعات میں ہندو لوگ بہت کچے ہیں۔ مگر باوجود اس قدر تواتر کے جوان کی مسلسل تحریروں سے پایا جاتاہے۔ ہرگز یہ گمان نہیںہوسکتا کہ رام چندر اور راجہ کرشن یہ سب فرضی نام ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۵۵، خزائن ج۳ ص۳۹۹)

تواتر مرزا کے نزدیک بھی حجت ہے

مطلب یہ ہے کہ خود مرزا تسلیم کرتے ہیں کہ تواتر کی بات رد نہیں کی جاسکتی اور تواتر اگر غیرقوم کا بھی ہو تو مقبول ہے۔ اب اس کے ساتھ مرزاقادیانی کی یہ عبارت: ’’پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یکلخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیش گوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلّمات میں سے سمجھی گئی تھیں۔ بمد موضوعات داخل کردیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اوّل درجہ کی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کوحاصل ہے۔ انجیل بھی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور بہ باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ’’قال اﷲ وقال الرسول‘‘ کی عظمت باقی نہیں۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاترہواس کو محالات وممتعنات میں داخل کرلیتے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۵۵، خزائن ج۳ ص ۴۰۰) ملالی جائے تو معلوم ہوگا کہ نزول عیسیٰ کی پیش گوئی ایسی متواتر پیش گوئیوں میں سے ہے جو خیر القرون میں تمام ممالک اسلامیہ میں پائی گئی تھی اور مسلّمات میں سے سمجھی گئی تھی اور یہ اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا تھا اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی اس کے ہم پہلو بھی نہیں اور تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے اور انجیل بھی اس کے مصدق ہے۔

157

مگر مرزا کو جب اس کا انکار مطلوب ہواتو کہنے لگے:’’فمن سوء الادب ان یقال ان عیسٰی مامات ان ھو الا شرک عظیم یاکل الحسنات…تا…غیر متعمدین‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰)

ترجمہ: ’’حاصل یہ ہے کہ یہ کہنا بہت بڑی بے ادبی ہے کہ عیسیٰ ابھی تک نہیں مرے اور یہ ایک بہت بڑا شرک ہے جو نیکیوں کو کھا لیتاہے۔ بلکہ وہ اپنے بھائیوں کی طرح فوت ہوگئے اور اپنے اہل خانہ کی طرح مر گئے۔ یہ عقیدہ مسلمانوں میں نصاریٰ کی طرف سے آیاہے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو خدا اسی وجہ سے بنایاہے۔‘‘

اور پھر اسی عقیدہ کو بہت سامال خرچ کر کے مسلمانوں میں شہروں اورگائوں میں شائع کیا۔ اس لئے ان میں کوئی عقل مند نہیں تھا۔ پہلے مسلمانوں سے یہ قول صادر نہیں ہوا۔ مگر لغزش کے طور پر وہ لوگ اﷲ کے نزدیک معذور اس لئے وہ گناہ گار تھے۔ مگر قصداً نہیں تھے اور اس خطاء کی وجہ یہ تھی کہ وہ سادہ لوح آدمی تھے۔ اگر کوئی مجتہد خطاء کرے تو خدا اس کی غلطی کو معاف کر دیتاہے۔ ہاں! جن کے پاس امام، حکم اور بینات کے ساتھ آیا اور رشد کو گمراہی سے ممتاز کردیا اور پھر بھی انہوں نے اعتراض کیا۔ وہ لوگ ماخوذ ہوں گے۔‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰)

پہلے مرزا نے اس پیش گوئی کو متواتر فرمایا اور تواتر کا یہی اعلیٰ درجہ فرمایا اور صحاح کی پیش گوئی اس کے ہم پہلو بھی نہ تھی۔ تمام مسلمانوں نے اسے قبول کر لیا تھا اور خیر القرون میں یہ پیش گوئی پھیلی بھی تھی اور مرزا قادیانی بھی اس پیش گوئی میں شامل تھے۔ چونکہ براہین احمدیہ میں کھلے الفاظ میں نزول عیسیٰ کا اقرار کرتے ہیں۔ باوجود یکہ مجدد، محدث، نبی، ملہم اورخدا کی وحی نازل ہونے کے مرزا قادیانی اس عقیدہ کے معتقد رہے۔

مرزا قادیانی سے پہلے کے مجدد بھی اس عقیدہ کے معتقد تھے۔ کسی نے اس عقیدہ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔ اس جگہ پر مسئلہ حیات ووفات عیسیٰؑ سے کوئی تعلق نہیں۔ا س سے یہ بحث نہیں کہ کون حق پر تھے اور کون باطل پر؟ بلکہ زیر بحث یہ بات ہے کہ آج مرزا اس عقیدہ کو شرک عظیم بتلاتے ہیں اور ایک وقت تک اس عقیدہ کے رکھنے کی وجہ سے شرک عظیم میں مبتلا رہے۔ یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ایک مجدد، ایک محدث، ایک ملہم، ایک نبی جس پر بارش کی طرح وحی ہو۔ وہ شرک عظیم میں مبتلا رہ سکتاہے اور خدا کے نزدیک اتنا مقرب ہو سکتاہے؟ آگے چل کر تمام نبیوں سے اور تمام مخلوقات سے وہ بڑھا دیا جائے۔ چونکہ خدتعالیٰ خود فرماتے ہیں: ’’ان اﷲ لا یغفر ان یشرک بہ… الخ!‘‘ اﷲتعالیٰ مشرک کو ہرگز نہیں بخشتا اور اس کے سوا جتنے گناہ چاہے بخش دے۔ مرزا قادیانی حیات عیسیٰؑ کو شرک عظیم سے تعبیر کرتے ہیں۔ وعدہ الٰہی کے موافق اس کا معاف ہونا قطعاً محال ہے۔ اس سے لازم آتاہے کہ مرزا قادیانی کے اس قول کی بناء پر ساری امت گمراہ تھی اور ساری امت کافر اور مشرک تھی اور بھی شرح شفا سے عرض کر چکا ہوں کہ جو شخص خود ایسی بات کہے جس سے ساری امت کی تذلیل وتکفیر ہوتی ہو، وہ شخص خود کافرہے۔ اس وجہ سے مرزا قادیانی بھی کافر اور مرتد ٹھہرے اور جو مرزا قادیانی کے کفر وارتداد میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔

نزول مسیحؑ کو شرک عظیم کہنا اسلام پر بڑ احملہ ہے

مرزاقادیانی کے اس قول سے اسلام پر اتنا بڑا حملہ ہوا ہے کہ اسلام کی ذرہ بھر بھی وقعت باقی نہیں رہ سکتی۔ جب مرزا قادیانی کے

158

قول سے یہ ثابت ہوگیا کہ اسلام میں ایسے عقائد شرکیہ اور کفریہ موجود ہیں کہ بطریق تواتر ثابت اور تمام ممالک اسلام میں پھیل کر مقبول ہو گئے اور سب نے قبول بھی کر لیا اور کسی چھوٹے بڑے کو اس کی برائی کی خبر نہ ہوئی۔ تیرہ سو برس کے بعد آکر۴۰یا۵۰ برس تک خود مرزا قادیانی اس میں مبتلا رہ کر اب یہ کہتا ہے یہ عقیدہ شرک عظیم ہے۔ قرآن کی ایک آیت سے نہیں، بلکہ تیس آیات سے ثابت ہے اور اسی عقیدہ کو ممتنع اور محال عقلاً ونقلاً کہتا ہے اور یہ عقیدہ ایساہے جو آنحضرتﷺ کے بعد پیداہوا۔ حالانکہ اس سے پہلے بہت سے مجدد آئے جن کا کام دین کی تجدید تھا۔ ان کو بھی شرک کی خبرنہ ہوئی۔ اگر مرزا تشریف نہ لاتے تو جیسے پہلے ساری امت معاذاﷲ شرک عظیم میں مبتلا تھی۔ آگے بھی شرک عظیم میں مبتلا رہتی۔ اب کیا معلوم کہ آئندہ کوئی مجدد اور رسول اﷲa کا بروز پیداہوکر بیس پچیس اور شک ثابت کر دے۔ جب قرآن اورحدیث اور مذہب اسلام ایسا مذہب ہے۔ اس میں تیرہ سو سال تک شرک عظیم کا پتہ نہیں لگ سکتاتو ایسے مذہب کا اعتبار ہی کیا ہے۔

الاستفتاء میں فرماتے ہیں:’’من قال متعمداً خلاف ذالک فھو من الذین ھم بالقرآن یکفرون الا الذین خلوا من قبلی فھم عند ربھم معذورون‘‘

(الا ستفتاء ص ۴۴، خزائن ج۲۲ ص۶۶۶)

یعنی جو شخص قصداً اس کا خلاف کرے گا اور یہ کہے کہ عیسیٰؑ زندہ ہیں تووہ ان لوگوں میں سے ہے جو قرآن سے کافر ہیں۔ ہاں! جو مجھ سے پہلے گزر گئے ہیں۔ وہ اپنے اﷲ کے نزدیک معذورہیں۔‘‘ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں ہے تاکہ کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں۔ بڑی جانکاہی سے کوشش کررہے ہیں۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۵، خزائن ج۱۸ ص۲۳۵)

ان عبارتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزا نے ایسی بات کہی کہ جس سے تمام امت کا کافر اورمشرک ہونا بلکہ خود ان کا ۴۰ سال کی عمر تک مشرک اور کافر ہونا بھی ثابت ہوتاہے اور جو شخص ایسی بات کہے وہ کافر۔ لہٰذا مرزا قادیانی اپنے قول سے ہی کافر ہو گئے۔

مرزا اپنے اقرار سے بھی کافرہے

میں نے اپنی تقریر میں مرزا کا کفر اور ارتداد ثابت کیاہے اور اس میں التزام کیا ہے کہ ہر بات مرزا کے اقرار سے ثابت کروں۔ بحمداﷲ! میں سمجھتاہوں کہ میں نے اپنے حق کو ادا کرتے ہوئے ثابت کردیاکہ مرزا قادیانی اپنے اقرار سے اور حسب تصریحات علماء کرام کافر ومرتد ہیں۔

مرزا کے وجوہات کفر

۱… ایک وجہ ان کے کفر کی یہ ہے کہ دعویٰ نبوت تشریعیہ وشرعیہ کیا جو باتفاق مرزا قادیانی کفرہے۔ مرزا نے اپنے صریح کلام میں دعویٰ نبوت تشریعی کیا اور اس میں شریعت کی تفسیر بھی فرمادی۔ اگر ہمارے پاس صرف یہی وجہ ہوتی تو مدعیہ کی کامیابی کافی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ اور بھی بہت وجوہ بیان کی گئیں۔

۲… مرزا نے اقرارکیا کہ خاتم لنّبیین کے بعد مطلق نبوت منقطع ہے اور جو دعویٰ کرے وہ کافرہے اور پھر مرزا نے دعویٰ نبوت کیا۔ لہٰذا باقرار خود کافر ہوئے۔

۳… مرزا نے یہ بھی کہا کہ خاتم النّبیین کے کوئی جدید یا قدیم نبی نہیں آسکتا اور اس کو قرآن کا انکار قرار دیا۔ حالانکہ خود دعویٰ نبوت کیا۔

159

۴… مرزا نے نزول عیسیٰؑ کو ختم نبوت کا انکار قرار دے کر اسے کفر ٹھہرایا اور پھر اپنا نبی ہونا (کہ جو اپنے آپ کو عیسیٰؑ سے معاذ اﷲ! ہر شان میں اعلیٰ اور افضل سمجھتے ہیں) جائز رکھا بلکہ ضروری، لہٰذا مرزا قادیانی کافرہوئے۔

۵… مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپa کا خاتم النّبیین ہونا آیت ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لانبی بعدی‘‘ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا ہے کہ جوا یسا کہے کہ آپa کے بعد نبوت نہیں آسکتی، وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے بھی مرزا قادیانی کافر ہوئے۔

۶… مرزا نے آنحضرتﷺ کے بعد جواز نبوت کو کفر قرار دیا تھا۔ اب مرزا اسی نبوت کو فرض وایمان قرار دیتا ہے۔ یہ اس سے بھی بڑھ کر کفرہوا۔

۷… مرزانے باب نبوت کھول کر اپنے تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ یہ دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا۔ اس وجہ سے بھی کافرہوئے۔

۸… مرزا نے صرف یہ نہیں کہا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی آئے گا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ہزار بار آنحضرتﷺ خود بروز فرمائیں۔ گویاآنحضرتa کے بعد ہزاروں نبی واقع ہو سکتے ہیں۔ امکان ذاتی نہیں۔ بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر مرزا نے یہ کہا کہ آنحضرتﷺ کی ایک بعثت پہلے تھی اور پھر بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حاصل تناسخ ہے اور تناسخ کا قائل کافر ہوتاہے۔

۹… مرزا کہتے ہیں کہ میں عین محمدa ہوں۔ اس میں آنحضرتﷺ کی صریح توہین ہے۔ اگر واقعی عین ہیں تو کھلا ہواکفرہے اور یہ ایک توہین صدہا توہین اور استہزاء اور تمسخر پر مشتمل ہے اور اگر عین محمد نہیں تو پھر آپa کے بعد دوسرانبی ہوا اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی اور یہ اور وجہ کفرکی ہے۔

۱۰… مرزا نے دعویٰ وحی کا کیا ہے۔ حالانکہ عبارات علماء سے ظاہر ہے کہ محض دعویٰ نبوت کفر ہے۔

۱۱… مرزا نے دعویٰ وحی نبوت کیا۔ یہ بھی وجہ کفرہے۔

۱۲… مرزا نے اپنی وحی کو قرآن، توریت، انجیل کے برابرکہا ہے۔ اس بناپر قرآن آخرالکتب باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی ایک وجہ کفرکی ہے۔

۱۳… مرزا نے اپنی وحی کو متلو بھی فرمایا اور کہا کہ اگر اس کو جمع کیا جائے تو کم از کم بیس جزو کی ہوگی۔ یہ اور وجہ کفرکی ہے۔

۱۴… مرزا نے اپنے اقرار سے اور تمام علماء نے اس کی تصریح کردی کہ جوشخص کسی نبی کو گالیاں دے یا توہین کرے۔ وہ کافرہے۔ مرزا نے عیسیٰؑ کی اتنی وجوہ سے توہین کی۔ غالباً سو سے کم نہ ہوگی اور ہر توہین موجب کفرہے۔

۱۵… اور کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جن کی تعداد کو خدا خوب جانتاہے۔ بعض روایات میں ایسا آیا ہے کہ دنیا میں تقریباً سوا لاکھ نبی بھیجے۔ ہر نبی کی مرزا قادیانی نے توہین کی تواس لحاظ سے ان کی تعداد دوگنابرابر مرزا قادیانی کی وجوہ تکفیرمیں ہی ہوں گی۔ اگر ہر ایک نبی کی دودو توہین سمجھ لی جائیں۔ لہٰذا جتنی توہین اتنی وجوہ سے کافر ہوا۔ مرزا قادیانی نے آنحضرتﷺ کی توہین کی یہ بھی بڑی وجہ کفرکی ہے۔

160

جرح بربیان حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب گواہ مدعیہ

۲۴،۲۵؍اگست۹۳۲اء

۲۴؍اگست ۱۹۳۲ء … جرح برمرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ باقرار صالح

سوال: جو شخص مرزا صاحب کو اہل سنت والجماعت کہے اور سمجھے اور یہ کہے کہ وہ ضروریات دین کے منکر نہیں وہ کافر ہے یا مسلمان؟

جواب: اگر وہ شخص مرزاصاحب کے حالات سے واقف ہے اور مرزا صاحب کے عقائد پر اس کی اطلاع ہے اور ضروریات دین سے انکار کی اس کو خبر ہے اور پھر بھی وہ مرزا صاحب کو مسلمان کہے تو وہ کافر ہے اور اگر مرزا صاحب کے حالات سے ناواقف ہے اور ان کے عقائد اور عبارات پر پوری طرح سے مطلع نہیں تو وہ معذور ہے۔ جوشخص مرزا صاحب کو دعویٰ مہدیت میں جھوٹا نہ سمجھے مرزا صاحب کے عقائد سے مطلع ہونے کے بعد کوئی شخص ان کو مہدی سمجھے وہ کافرہے اور اگران کے عقائد سے واقف ہے اور یہ بھی جانتاہے کہ علماء نے ان کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا ہواہے اور ان علماء کو غلطی پرجانتاہے اور مرزا صاحب کو دعویٰ مہدیت میں سچا سمجھتاہے تووہ کافرہے۔ جو شخص مرزا صاحب کی کتابوں کو ان عقائد کو جوحق پرہیں، پڑھ کرکہتا ہے کہ وہ درست ہیں تووہ کافرنہیں اور عقائد کفریہ کوکہتاہے کہ صحیح ہیں تووہ کافرہے۔ اگرکوئی شخص مرزا صاحب کی کتابوں کوبلا تخصیص پڑھ کر یہ کہے کہ وہ تمام حقائق ومعارف سے پرہیں۔ چونکہ وہ عقائد کفریہ کی بھی تصدیق کرتاہے، اس لئے کافرہے۔ اگر اس کے ارادہ میں کوئی تخصیص ہے تو وہ معذور ہے۔ ایسے شخص کے متعلق جب تک کہ اس کا کلام سامنے نہ ہو کوئی رائے اس کے خلاف قائم نہیں کی جاسکتی۔ فتویٰ کے لئے جب تک متکلم کے حالات معلوم نہ ہوں، فتویٰ صادر نہیں کیا جاسکتا۔ فتویٰ کلام کے معنی معلوم ہونے پر ہوسکتاہے۔ جب تک متکلم کے حال معلوم نہ ہوں توجواب یہ دیا جائے گا کہ اگر مراد یہ ہے تو کافر، ورنہ نہیں۔ متکلم کے کلام میں اگر کوئی وجہ گنجائش ہوکہ جس میں متکلم کے بیان کی حاجت ہو تب اس کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا اور اگر اس کا کلام صریح ہو اور اہل عرف اس کا مطلب سمجھنے میں قاصر نہ ہوں تو پھر اگر متکلم اپنی کوئی مراد خلاف اپنے کلام صریح کے بیان کرے گا تو وہ قابل قبول نہ ہوگا۔ جو شخص مرزا صاحب کے عقائد کے واقف ہونے کے بعد اوریہ معلوم کر کے کہ علماء نے انہیں کفر کا فتویٰ دیا ہوا ہے تووہ خود بھی کافر ہوجاتاہے اور اس کا نکاح فوری فسخ ہوجاتاہے۔ اس کی اولاد ولد الزنا ہوگی۔ جوکتاب موسومہ اشارات فریدی اب پیش کی گئی ہے۔ میں اس کے مصنف کو نہیں جانتا۔ نہ میں نے اس کتاب کو پہلے دیکھا ہے۔ پھر کہا کہ اس کتاب کے صفحہ پر جو عبارت ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ اشارات فریدی کا تیسرا حصہ ہے۔ مجھے پتہ نہیں کہ محمد بخش صاحب خواجہ غلام فرید صاحب کے صاحبزادہ ہیں یانہ۔ جو عبارت اس کتاب مذکورہ بالا کے صفحات۶۹،۷۰ پرالفاظ ذیل ’’بعد ازاں فرمودند کہ ہماں اوقات مرزا صاحب بعبادت خدا عزوجل… ایں چنیں نیک مرد کہ اہل سنت والجماعت است بصراط مستقیم است وراہ ہدایت مے نماید افتادہ اندوبروے حکم تکفیرمے سازند کلام عربی رابہ بینند کہ از طاقت بشریت خارج است وتمام کلام اواز معارف وحقائق وہدایت بشریت است…ہرگز منکر نیست۔‘‘ یہ عبارت میں نے سن لی ہے۔ اس کتاب کے ص۷۰ پر جو عبارت بالفاظ ذیل: ’’فرمودند کہ مرزاصاحب برمہدویت خود بسیار علامات بیان کردہ مگر ازاں بیان دوعلامات درکتاب خوددرج ساختہ بیان نمودہ است برتروبدرجہ غایت بر دعویٰ مہدویت وگواہاند۔‘‘ میں نے یہ عبارت بھی سن لی۔ اس کتاب میں

161

ص۱۳۳پر جو عبارت ہے۔ ’’عرض کرد کہ قبلہ چوں حالات صفات حضرت عیسیٰ ابن مریمn واوصاف مہدی موعود درمرزا صاحب یافتہ نمے شوند…حضور خواجہ فرمودند کہ اوصاف۔ مہدی پوشیدہ وبیاں ہستند شنید کہ دردل ہائے مردم نشستہ اند چہ عجب کہ ہمیں مرزا صاحب غلام احمد۔ مہدی باشندھم چنیں است حال مہدی۔ پس اگر مرزاصاحب مہدی باشند امر مانع است۔‘‘

یہ عبارت میں نے سن لی ہے۔اسی کتاب میں ہے۔ اس کتاب کے ص۷۷ کی اوپر عبارت ذیل کے ’’بعد ازاں… ہم جوابش کفر نبودند‘‘ کو سن لیاہے۔ اس کتاب میں ہے۔ میں اندازہ نہیں بتلا سکتا کہ میں نے مرزا صاحب کی کتنی کتابیں پڑھی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی کتنی کتابیں ہیں۔ مرزاصاحب کی ایک کتاب میں ہے کہ میں صاحب شرع جدیدہ نہیں ہوں۔ میں نے ان سب عبارتوں کو سن لیا ہے جو میں نے اپنے بیان میں پیش کی ہیں۔ مرز اصاحب نے جوبراہین میں شریعت کی تعریف کی ہے اور اپنے آپ کو صاحب شریعت ہونا فرمایاہے اور اس میں یہ ثابت کیاہے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی ہے۔ وحی سے جو احکامات ثابت ہوتے ہیں، وہی شریعت ہے۔ جتنی کتابوں میں مرزا اصاحب کی وحی درج ہے وہ سب وحی شریعت ہے۔ مرزاصاحب نے کسی کتاب میں تمام وحی کو جمع نہیں کیا۔ انہوں نے کسی خاص کتاب کو شریعت قرار نہیں دیا۔ لیکن ان کی جو جو وحی جس جس کتاب میںدرج ہے وہ شریعت جدیدہ ہے۔ مرزا صاحب نے شریعت کی یہ تعریف کی ہے کہ جس کی وحی میں امر بھی ہو اور نہی بھی ہو اور وہ کہتے ہیں کہ میرے دین میں امر بھی ہے اور نہی بھی ہے اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ شریعت میں یہ ضروری نہیں کہ نئی چیزیں ہوں۔ رسول اکرمa پر جو قرآن نازل ہوا اس میں بہت سے احکام ایسے ہیں جو توریت اورانجیل میں نازل ہوئے۔ رسول اکرمa کو مرزا صاحب شریعت جدیدہ سمجھتے ہیں۔ باوجودیکہ ان کی شریعت میں اور قرآن مجید میں بکثرت وہ احکام ہیں جو تورات اور انجیل میں آچکے ہیں تو مرزا صاحب کے نزدیک وحی جدید آنا اور شریعت جدیدآناایک چیز ہے۔ اگرچہ یہ وحی جدید الفاظ اور معنی میں بھی پہلی وحی کے بالکل مطابق ہو۔ لہٰذا جتنی وحی مرزا صاحب کی ہے۔ وہ مرزا صاحب کے فرمان کے مطابق سب شریعت جدیدہ ہیں۔

گومرزاصاحب نے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ میری وحی وحی شریعت ہے۔ لیکن اس تحریر میں کہ جو بالکل صراحت ہے۔ انہیں کی عبارت ہے۔ جس میں مرزا صاحب نے یہ فرمایاہے کہ اگر یہ کہو کہ صاحب شریعت دعویٰ کر کے ہلاک ہوتاہے تو یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیاہے؟ جس کی وحی میں امرونہی ہو۔ وہی صاحب شریعت ہے اور فرماتے ہیں کہ میری وحی میں امربھی ہے اور نہی بھی اور اس کی بہت شرح کر کے آخری نتیجہ نکالتے ہیں کہ میرے مخالف اب بھی ملزم ہیں۔ یعنی میرا صاحب شریعت جدیدہ ہونا ثابت ہوگیا۔ جب مرزا صاحب نے اپنی وحی کو وحی شریعت جدیدہ قراردیا اور یہ فرمادیا کہ مجھ پر ایمان لانا بھی باعث نجات ہے اور جو مجھ پرایمان نہ لائے گا۔ وہ سب کافرہیں اور یہ بھی فرمایاگیا۔ ان کی وحی پرکہ تم تمام آدمیوں کی طرف مبعوث کر کے بھیجے گئے ہو اور تمام دنیا کو اپنی نبوت کا اقرار کرنے کی دعوت دی توان کی سب کتابیں اشتہاری ہیں اور اگر مرزاصاحب نے اس مضمون کا کوئی اشتہار بھی دیا ہو کہ ان کے مرید ان کی وحی کو وحی شریعت جانیں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ دیا ہے یا نہیں دیا، یا مرزا صاحب نے جہاں لکھاہے کہ قرآن اورحدیث باعث نجات ہے۔ یہ الفاظ ان کے نزدیک بالکل بے معنی ہیں۔ مرزا صاحب کی کتابوں میں یہ ضرور درج ہے کہ قرآن اورحدیث کے ذریعہ نجات جانو۔ لیکن جب مرزا صاحب نے اپنے آپ کو صاحب شریعت نبی قراردیا تو اب قرآن اورحدیث کے معنی وہی ہوں گے۔ جومرزا صاحب بیان کریں گے تو معمول بہ مرزا صاحب کی وحی رہی نہ کہ قرآن اورحدیث۔ مرزاصاحب کی کتابوں میں یہ ہے کہ میںنبی اور رسول ہوں۔ سال ۱۹۰۱ء کے ایک سال بعد تقریباً کوئی ایک کتاب ایسی نہ ہوگی جس میں نبی اوررسول ہونے کا دعویٰ نہ ہو۔ سال ۱۹۰۱ء سے قبل بہت سی ایسی کتابیں ہیں۔ جس میں دعویٰ نبوت ورسول ہونے کا ہے۔ غالباً براہین احمدیہ میں بھی کوئی ایسی وحی مرزا صاحب نے نقل فرمائی ہے۔ مرزا صاحب کی کتابوں میں یہ الفاظ صاف طور پر نہیں کہ وہ رسولﷺ کو

162

خاتم النّبیین نہیں مانتے لیکن اس عبارت کا جو مفہوم ہے۔ اس سے مرزا صاحب کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ مرزاصاحب فرماتے ہیں کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی جدید یاقدیم نہیں آسکتا اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ نبی کا آنا ضروری ہے۔ جس مذہب میں وحی نبوت نہ ہو وہ لعنتی وشیطانی مذہب ہے۔ یہ کہنے کے بعد کہ جس مذہب میں وحی نبوۃ نہ آئے وہ مذہب لعنتی اور شیطانی ہے۔

یہی مرزا صاحب نے لکھا کہ رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں۔ میں نے احمدی جماعت کے بیعت فارم کو کبھی نہیں دیکھا۔ جو فارم پیش کیاگیا ہے، یہ بیعت فارم ہے، جومرزا بشیر الدین احمد صاحب کی بیعت کے متعلق ہے۔(اشتہار پیش عدالت کیاگیا) میں نے ازالہ اوہام کو اوّل سے آخر تک پڑھاہے۔ اس کتاب کے ص۱۲۷ تقطیع خورد کو دیکھاہے۔اس پر عنوان ہمارے مذہب کے تحت مرزا صاحب نے الفاظ تحریر کئے ہیں، وہ میں نے پڑھے ہیں جو ص۱۳۸کی تیسری سطر تک بالفاظ ملحد اور کافرہے، تک ختم ہوتے ہیں۔ یہ عبارت اس کتاب میںموجودہے۔ یہ سوال عدالت سے کہتا ہوں کہ جب تک مرزا صاحب نے یہ عبارت لکھی تھی۔ اس وقت تک مرزا صاحب مسلمان تھے اور جو عقائد اسی عبارت میں لکھے ہیں، وہ عقائد صحیح ہیں۔ مگرمرزاصاحب نے نہ بعد میں رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مانا۔ جس کو میں اپنے بیان میں واضح کرچکاہوں اور قرآن کو آخر الکتاب مانا۔ بلکہ مرزا صاحب کی وحی آخر الکتاب سمجھی جائے گی۔ کیونکہ مرزاصاحب کے نزدیک وہی آخر الوحی ہوگی۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ جو رسول اﷲa کو خاتم النّبیین اورقرآن کو آخر الکتاب نہ سمجھے یا قرآن شریف کے احکام میں ایک شوشہ کا تغیروتبدل کرے، وہ جماعت مومنین سے خارج ہو کر ملحدوں کی جماعت میں سے ہے۔ اس واسطے مرزا صاحب اس تحریر کے مطابق مومنین کی جماعت سے نکل کر ملحدوں میں داخل ہو گئے۔ مرزا صاحب نے جہاں شرعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے،اس کا حوالہ میں نے کتاب (درثمین ص۶) سے دیا تھا۔ اس صفحہ پر یہ الفاظ ہیں کہ (ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت خاتم الانبیاء ہیں اور قرآنی ربانی کتابوں کاخاتم ہے) لیکن بعد میں مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں یہ کہا ہے کہ مرزا صاحب حقیقی نبی ہیں۔ صاحب شریعت نبی ہیں اور ان کے بعد مرزا نبی رسول اﷲa کی مانند دنیا میں آسکتے ہیں اور مرزا صاحب کی کتابوں کو اگر ایک جگہ جمع کیا جاوے تواس کے کئی جز بنیں اور بعض احکام میںبھی تغیر وتبدل کیاہے۔ جس کو میں اپنے بیان میں عرض کرچکاہوں۔ لہٰذا مرزا صاحب صرف الفاظ کا اقرارکرتے ہیں۔ معنی کا اقرار نہیں کرتے۔ اس لئے کافر ہوئے۔

مرزاصاحب نے جس جس جگہ اپنے آپ کو نبی کہاہے، اور اپنے منکروں کو کافرقرار دیاہے اور جس جگہ نبی کی تعریف بیان کی ہے۔ وہی نبوت حقیقت کا دعویٰ ہے۔ جس کو مرزا محمود صاحب نے حقیقت نبوت میں اس طرح سے مفصل بیان کیاہے کہ انکار کی گنجائش نہیں۔ اس پر کتاب حقیقت النبوۃ لکھی گئی جس میں مرزا محمودصاحب نے مرزا صاحب کی عبارتوں سے ثابت کیاہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو نبی حقیقی سمجھتے ہیں۔ مرزا صاحب نے لکھاہے۔ ’’اگر حقیقی نبی کے یہ معنی ہیں کہ سچا نبی ہو۔ جھوٹا اور بناوٹی نہ ہو۔ تب توہم کہتے ہیں کہ مرزا صاحب حقیقی نبی نہیں ہیں۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص۳، انوار العلوم ج۲ ص۳۴۷)

مرزا صاحب نے کہا کہ جو شخص صاحب شریعت ہو اور رسول اﷲa سے الگ ہو کر براہ راست نبوۃ پاوے بایں معنی نبوۃ ختم ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ نبی اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳) پر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ’’یہ آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتاہوں۔‘‘

(کتاب چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱) پرمرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ’’خداکی یہ اصطلاح ہے کہ جو کثرت مکالمت ومخاطبت کا نام اس نے نبوت رکھاہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثرغیب کی خبریں دی گئی ہوں۔

163

(ص۱۲) میں کہتے ہیں کہ: ’’جب کہ وہ مکالمہ ومخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی روسے کمال درجہ تک پہنچ جاوے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طورپر امور غیبیہ پر مشتمل ہوتووہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتاہے۔ جس پرتمام نبیوں کا اتفاق ہے۔‘‘ یہ تعریف نبوت حقیقی کی بھی سمجھی جائے گی۔ مرزا صاحب کا منکر ویساہی کافرہے جیسا کہ اورانبیاء کا اور مرزا صاحب کی بعثت عام ہے اور ختم نبوت کا عقیدہ لعنتی اورشیطانی ہے۔ اس وقت سے مرزا صاحب نے نبوت کے یہ معنی کئے تھے۔ جس پر نبوت کا الہام ہو وہ نبی ہے۔ مرزا صاحب نے جب یہ فرمادیا کہ وہ نبی تشریعی نبی ہیں اورشریعت کی تعریف بھی کردی تو اب کوئی مرتبہ نبوت حقیقی کا باقی نہیں رہتا۔

رسول اﷲaکی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے آنے کا حدیثوں میں وعدہ ہے۔ جس کے متعلق میں کل اپنے بیان میں ذکر کرچکاہوں۔ حضرت مہدی کے آنے کا بھی وعدہ ہے جو رسول اﷲa کی اولاد میں سے ہوگا۔صدی کے شروع میںایک مجدد کے آنے کے متعلق حدیث میں آیا۔ مجدد کو نہ ماننے والے پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ کیونکہ نہ مجدد پر دعویٰ ضروری ہے نہ اس کے دعویٰ کو مانناضروری ہے اور نہ اس کے نہ ماننے سے کوئی کفرعائد ہوتاہے۔

مرزا صاحب نے حشر اجساد کا انکار کیاہے اوریہ موجب کفرہے۔ کتاب ازالہ اوہام میں یہ فقرہ اس کو ہم نے مانا کہ کامل درجہ دخول بہشت کا جو جسمانی، روحانی دونوں طور پر ہوگا کہ وہ حشر کے بعد ہوگا۔ ایک مستحق کو عطا کیاجائے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۴۹، خزائن ج۳ ص۲۷۸) پر موجود ہے۔لیکن مرزاصاحب نے اپنی کتاب ( ازالہ اوہام ص۳۴۹تا۳۵۱، خزائن ج۳ ص۲۷۸،۲۷۹) پر جو کچھ لکھاہے وہاں درج ہے کہ یوم الحساب ان کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا۔ اس سے قبل درج ہے کہ تمام مومنین یو م الحساب سے پہلے اس میں پورے طور پر داخل ہوجائیں گے اور یوم الحساب ان کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا۔ اس سے ثابت ہوتاہے حشر اجساد نہیں ہے۔مرزا صاحب کی کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر یہ الفاظ ’’والحقیقۃ حقیقۃ ان الجنت حق والنار حق وحشر الاجساد حق‘‘ لیکن یہ صرف الفاظ الفاظ ہی ہیں۔ صحیح معنی مراد نہیں ہیں جو کتاب مجھے ازالہ اوہام اب دکھلائی گئی ہے۔ اس پر سال ۱۸۹۱ء لکھا ہواہے۔ کتاب آئینہ کمالات پر سال۱۸۹۲ء لکھا ہواہے۔ یہ حدیث ہے کہ قرآن شریف کے کئی کئی مطلب ہیں۔ مگر کوئی مطلب ایک دوسرے سے معارض نہیں ہوسکتا اور جو مطالب ظاہر کے علاوہ ہیں وہ لطائف اور اشارات کے درجہ میں ہیں۔ احکام شرعیہ کے ثابت کرنے کاوہی طریقہ ہے جو اصول میں بیان کیاگیاہے۔ اس واسطے عقائدکی کتابوں میں لکھاہے کہ مخصوص کے ظاہری معنی میں کیا فرق ہے۔ اگر کوئی شخص ظاہری معنوں کو چھوڑ کرباطنی معنی بنائے گا۔ جیسا کہ فرقہ باطنیہ نے ایسا کیاہے۔ اس کی علماء نے تکفیر کی ہے۔ اس واسطے کہ اس بنا پر شریعت کا کوئی حکم باقی نہ رہے گا کہ اس بنا پر قرآن کی باریکیاں اگر مومنین اس قابل ہوں گے تو ان پرمعارف کھلیں گے اورقابل نہ ہوں گے تو نہ کھلیں گے۔ لیکن کوئی معنی کسی پر اگر منکشف ہوں اور وہ اصول شریعت کے مخالف ہوں۔ وہ مردود اور ناقابل اعتبار ہیں۔

قرآن شریف کے متعلق جو حدیث کتاب مشکوٰۃ باب فضائل قرآن میںسے بیان کی گئی ہے۔ اس کی سند مجہول ہے خود اس کتاب میں درج ہے۔ اختلاف معانی پر کی صورت میں یہ دیکھا جائے کہ دونوں اختلاف کرنے والے ایک ہی مرتبہ کے ہیں اور کسی ایک کے معنی قطعی اور یقینی طورپر ثابت نہیں ہیں تو اس میں تکفیر نہیں ہوگی۔ لیکن اگر ایک کی جانب دلائل قطعیہ ہیں یااجماع ہے اور پھر کوئی شخص اس کا خلاف کرے گاتو اس کا خلاف بالکل معتبر نہیں ہوگا۔ بلکہ ساقط ہے۔

(کتاب شہادت القرآن ص۲۵، خزائن ج۶ ص۳۲۰، ۳۲۱) پر نفخ صور ہونے کے متعلق یہ عبارت ہے: ’’اور نفخ صور دو قسم پر ہے۔ ایک نفخ اضلالی اور نفخ ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ نفخ فی الصور یہ آیتیں ذوالوجوہ ہیں۔ قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں

164

اور اس عالم سے بھی۔‘‘ لیکن اس عبارت سے قبل یہ الفاظ ہیں: ’’بارہوں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے۔ جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیا گیا ہے اور نفخ حقیقت میں دو قسم پرہے۔ ایک نفخ اضلالی اور ایک نفخ ہدایت۔‘‘ یہاں مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کا پیدا ہونا نفخ صور سے بطریق استعارہ بیان کیاگیاہے اور نفخ حقیقت میں دوقسم پرہے۔ ایک قسم اضلالی اور ایک نفخ ہدایت۔ مطلب یہ ہواکہ نفخ کی کل دوقسمیں مرزا صاحب کے نزدیک ہیں یا نفخ گمراہی یا نفخ ہدایت۔ وہ نفخ صور جس کے متعلق عام مسلمانوں کا اعتقاد ہے اس سے مرزاصاحب کا انکار معلوم ہوتاہے۔

دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں وہ مرزا صاحب کے فرمانے کے مطابق سب شریعی تھے۔ کیونکہ شریعت کے معنی مرزا صاحب نے یہ لئے ہیں کہ جس کی وحی میں امرونہی ہو اورہر نبی کے لئے کم سے کم اس قدر وحی ضروری ہے کہ لوگوں کو تبلیغ کرے کہ وہ اسے نبی مانے اور جو اسے نہ مانے وہ کافرہے۔ جو شخص یوں کہے کہ رسول اﷲa کے بعد نبی تشریعی نہیں آنے کا۔ اس کایہ مطلب ہے کہ نبی شرعی اور نبی حقیقی نہیں آنے کا۔ کسی مسلمان کا یہ مطلب نہیں کہ کسی قسم کی نبوت شرعیہ آپ کے بعدباقی ہے۔ یہ ہوسکتاہے کہ نبی ہو اور صاحب کتاب نہ ہو۔ لیکن مرزا صاحب کے قول کے مطابق یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی نبی اور تشریعی نہ ہو۔ مرزا صاحب کا یہ قول درثمین کی عبارت سے جو میں نے بیان کیاہے اس سے اخذ ہوتاہے کہ نبوت جو خدا کی طرف سے ہو وہ صرف شرعی نبوت ہے۔اس کے سوا جو دعویٰ نبوت ہے وہ جھوٹاہے انسان کامل کے وصف سے جو یہ فرمایاہے کہ رسول اﷲa کے بعد نبوت تشریعی بند ہے۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ رسو ل اﷲaکے بعد خدا کی طرف سے کوئی حقیقی نبی نہیں آسکتا۔ جس کو شریعت اور خدا نے نہیں کہاہے۔ وہ نہیں آسکتا اس کے بعد جو دعویٰ ہوگاوہ جھوٹاہوگا۔

قرآن مجید کے جو احکام قطعی اور درست ہیں ان کے اگر کوئی حدیث مخالف ہو اورکوئی معنی صحیح اس کے نہ بن سکتے ہوں اور یہ حدیث تواتر اور درجہ شہرت کو نہ پہنچی ہو تو اس حدیث کو چھوڑدیاجائے گا۔ ورنہ اگرکوئی حدیث ایسی نہ ہوکہ امت نے اس کو لے لیاہے اور قبول کر لیاہے اور وہ کسی قطعی چیز کے مخالف نہیں ہے۔اس حدیث کو لیا جائے گا اس تفصیل سے جو علم حدیث میں مفصل مذکورہے۔ لا نبی بعدی کے معنی مرزا صاحب نے خود یہ کیا کہ نہ کوئی اگلا نبی آسکتاہے اور نہ کوئی پچھلا نبی۔ مرزا صاحب نے بعد کے معنی کوئی اور لئے ہوں تو اگر وہ صحیح نہیں ہیں تو میں ان سے اتفاق نہیں کروں گا۔ بعد کے معنی لغوی، پیچھے کے ہیں اس معنی کے سوایہ لفظ قرآن اور حدیث میں اگر نہیں استعمال ہوئے تو میں نہیں سکتامیں نے ’’لانبی بعدی‘‘ کے وہ معنی لئے جو مرزا صاحب نے لئے ہیں اور مرزا صاحب نے اس کو خاتم النّبیین کی تفسیر قرار دے کر کہا رسول اﷲa نے یہ تفسیر کی ہے۔ میں نے بعدی کے وہی معنی لئے ہیں۔ جو علماء نے کئے اور خاتم النّبیین کے منکر کوکافر قراردیا۔ قرآن شریف میں بعدی کے معنی پیچھے ہی کے ہیں۔ چاہے مرنے کے بعدہویا اس وقت میں ہو یاکسی وقت کے بعد مراد ہے۔ احادیث کی بعض روایات ممکن ہے کہ بالمعنی ہی ہوں اور بعض بالا لفاظ ہی ہوں۔ اس کی تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو حدیث محل نبوت کی اینٹ کے متعلق میں نے کل بیان کی تھی اس میں ’’من قبلی‘‘ کے الفاظ ہیں۔ تیس جالوں والی حدیث میں نے کل پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ اور حدیثیں بھی ہیں، جن میں دجالوں کی تعداد ۷۰ تک بیان کی گئی ہے۔ جو شخص یہ کہے کہ ۳۰ دجال پورے ہوچکے تو یہ اس کاخیال ہے۔ ہم اس کے پابند نہیں۔ میں امام ابو عبداﷲ، محمد بن خلیفہ مالکی شارح صحیح مسلم کو نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ میں اس کے دوسرے شارح ابوعبداﷲ محمدبن یوسف شوی کو بھی نہیں جانتا۔ ان دونوں کی رائے ہے کہ تیس دجال پورے ہوچکے۔ اس کے ساتھ وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ فلاں فلاں شخص ہیں۔ کہتے ہیں کہ تاریخ دان اگر دیکھیں گے تو ان کو ظاہر ہوجائے گا۔ اس قسم کا مجہول قول اوّل تو حجت نہیں۔ جو شخص آٹھ جلدوں میں مسلم شریف کی شرح لکھے تین سطر میں لکھنا جن میں ۳۰ نام آجاویں مجہول کا مؤقف ہے۔

165

علاوہ ازیں تیس کے عدد سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ سرورعالمaنے تمام دجالوں کا عددبیان فرمایاہے یا بڑے بڑے دجالوں کا۔ اس کے سوا تیس دجال ہیں۔ نہیں کہا کہ ۳۰ میں ہوں گے۔ چنانچہ اس کی نظیریں دوسری حدیثوں میں ملتی ہیں۔ ۷۰ دجالوں والی حدیث مابعد کی ہر دوکتابوں میں ضعیف ہے۔

یعنی وہ طبرانی میں ہے۔ البتہ ابن ماجہ میں ملتی ہے۔ لیکن اگر ایک حدیث ضعیف ہو اور پھر اس کے اور طریقے بھی آئے ہوں تواس میں فی الجملہ قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس ستر(۷۰) والی حدیث میں صرف یہ لفظ ہے کہ وہ دجال ہوں گے۔ نبی نہیں ہوں گے۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص۵۶۴) پر ’’خاتم النّبیین‘‘ کے لفظ کے ساتھ سابقین کا لفظ بھی ہے۔ لیکن وہاں یہ لفظ ہمارے لئے مفید مطلب ہے اور ہونا چاہئے تھا۔ اگر نہ ہوتا تومراد ہی تھی۔ اس واسطے کہ خاتم النّبیین کے معنی سب سے پچھلا نبی۔ پچھلا باعتبار سابق کے ہوگا۔ یعنی پچھلا وہ ہے جوسابق کے بعد آوئے اور میں ہی نہیں کہتا مرزاصاحب بھی یہی فرماتے ہیں۔ کیونکہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ کا آنا جائز رکھا جاوے تو بجائے محمد رسول اﷲa کے عیسیٰؑ خاتم الانبیاء اور خاتم النّبیین ٹھہریں گے۔ معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے نزدیک بھی خاتم النّبیین کے معنی یہی ہوںہیں۔ جو نبیوں سے سب سے پچھلا ہو اور پچھلا باعتبار سابق کے ہوگا۔لہٰذا سابقین کا لفظ ضروری تھا۔

خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپa سب سے پچھلے نبی ہیں۔ آپa سب سے پچھلے نبی ہوئے تب کسی شخص کو نبوت نہ ملے گی۔ حقیقت رسول اﷲa کی جیسی ثابت ہوئی ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ آپa کے بعد اور کوئی نبی نہیں آنے کا، پچھلے نبیوں کا بند کرنا کوئی معنی نہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہt نے رسول اﷲa کے دہن مبارک سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا سوائے سچے خوابوں کے۔ اس حدیث کو سننے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہt کیسے ان کی قائل ہو سکتی ہیں کہ آپa کے بعد کوئی اور نبی ہوسکتاہے۔ ضرور ان کے کلام کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ ان کوئی بددین ’’لا نبی بعدی‘‘ کے عموم سے نفع نہ اٹھاوے اوریہ کہے کہ آپa کے بعد قدیم اور جدید کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس واسطے فرما دیا کہ ایسا لفظ ہی مت کہو۔ سیدھا لفظ کہو خاتم النّبیین یعنی سارے نبیوں کے پیچھے آنے والے۔ اب حضرت عیسیٰؑ کا تشریف لانا، خاتم النّبیین کے موافق رہا۔ مخالف نہ رہا۔ یہ اعتراض کہ عیسیٰؑ اگر دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نہیں۔ اگر نہ ہوں گے تو منصب نبوت سے معزول ہونا لازم آتاہے توکیا گناہ ہوا؟ کہ وہ معزول ہو گئے اور وہ (معزول) نہیں ہوں گے تو رسول اﷲaخاتم الانبیاء نہ ہوئے وہ خاتم الانبیاء ہوں گے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰؑ تشریف لائیں گے اور نبی ہوں گے نبوت سے معزول شدہ نہیں ہوں گے۔ جیسے اور انبیاء سابقین اس وقت نبی ہیں، اس طرح عیسیٰؑ بھی اس وقت نبی ہیں۔ مگر چونکہ عیسیٰؑ کو رسول الیٰ بنی اسرائیل فرمایاگیا تھا۔ اب بھی وہ رسول ’’الٰی بنی اسرائیل‘‘ ہی ہیں۔ نہ وہ پہلے ہماری طرف مبعوث تھے اورنہ اب، نہ پہلے ہم ان کی امت تھے نہ اب۔ ہاں! ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ کے حکم سے ان کی نبوت کا ماننا ہم پر فرض ہے۔ امرہے اور رہے گا۔ ہم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ مگروہ منصب نبوت پر نہیں ہوں گے۔ تاکہ سرور عالمa کی خاتم النّبیین میں فرق آوے۔

مرزا صاحب کا نبی ہونا بے شک آپa کے ختم نبوت کے مخالف ہے۔ خاتم النّبیین کے معنی بھی یہی ہیں کہ وحی آپa کے بعد منقطع ہے۔ مجھے وحی کے منقطع ہونے کی دیگر آیات بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ختم نبوت کی جس قدرآیات ہیں وہ سب وحی کے سلسلہ کو منقطع ہونا ظاہر کرتی ہیں۔’’لانبی بعدی‘‘ کی حدیث جو تواتر کے درجہ کو پہنچتی ہے، اس سے بھی ثابت ہوتاہے کہ وحی آپa کے بعد منقطع ہے۔ دوسراآپa نے فرمایاکہ میرے بعد دجال آئیں گے۔ اس سے بھی وحی منقطع ہونا ظاہر ہوتی ہے۔ تیسرایہ فرمایا کہ میرے

166

بعد نبوت میں کچھ باقی نہیں ہے اوریہی بکثرت احادیث ہیں۔ وہ وحی جو مختص بالنبوت ہے، جب نبوت بندہوگئی تووہ بھی بند ہوگئی۔ اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ نہ کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ مگر وحی وہی ہوجو وحی نبوت ہے تووہ بھی کافرہے۔ مطلق وحی کے دعویٰ کو کفر نہیں کہاگیا۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شہد کی مکھیوں کو بھی وحی ہوتی ہے۔ بعض جگہ پر مجازاً الہام کو بھی کہاجاتاہے۔ اس کے انقطاع کا بھی دعویٰ نہیں۔ دعویٰ صرف اس قدر کہ وحی نبوت منقطع ہے۔ اب اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اگر دعویٰ وحی کی تصریح نہ ہو جب بھی کافر، اوراگر وحی نبوت کا دعویٰ کرے، اگرچہ نبوت کا دعویٰ واقعتا نہ ہو۔ مگر چونکہ وحی نبوت نبی کو ہوگی۔ لہٰذا وہ بھی کافر ہوگا۔

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۳، خزائن ج۱۱ ص ۲۸۷،۲۸۹) کے شروع میں یہ فقرہ ہے۔ ایک مردہ پرست شخص مسیح نام نے فتح گڑھ تحصیل بٹالہ ضلع گورداس پور سے، پھر اپنی پہلی بے حیائی کو دکھلاکر ایک گندہ اور بدزبانی سے بھراہوا خط لکھاہے۔ اس سے… جاکر یہ عبارت شروع ہوتی ہے کہ: ’’اس نادان اسرائیلی نے… الفاظ ہاں ہاں آپ کو بدزبانی کی عبادت تھی۔ اس سے قبل یہ الفاظ ہیں کہ متی انجیل سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔‘‘ اس کے آگے کے الفاظ مرزاصاحب کے اپنے معلوم ہوتے ہیں۔(ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰) پر ایک فقرہ ہے کہ ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں۔ لیکن اس فقرہ کو گالی سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ گالی مرزا صاحب کی اپنی طرف سے ہے۔

کتاب خزائن الاسرار کو میں نے اب دیکھاہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) پر یہ عبارت ہے ۔ لیکن ’’ کہ ان چار میں تین گناہ گارہیں… میں نے داود سے زناکیاتھا۔‘‘ مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں یہی الفاظ نہیں لکھے۔

سوال عدالت:

مرزا صاحب نے کتاب (انجام آتھم ص۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳) پرکہا کہ یسوع کا قرآن میں کوئی ذکرنہیں اور کہ انہوں نے یسوع کوگالیاں دی ہیں، مسیح کونہیں دیں۔ میں نے توضیح المرام کی عبارت سے یہ ثابت کیا کہ مرزا صاحب کے نزدیک یسوع اور مسیح ایک ہیں اور اسی مضمون کو میں نے ست بچن سے ثابت کیاہے کہ یہاں یسوع مسیح ابن مریم مرزا صاحب کے نزدیک ایک ہے۔ یہ فوٹو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے تحت کی عبارت پڑھی ہے۔

(کشتی نوح ص۶۵حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۰) میںیہ عبارت ہے کہ: ’’عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔‘‘ اس کے بعد اس حاشیہ میں یہ الفاظ ہیں کہ: ’’قرآن انجیل کی طرح شراب کوحلال نہیں ٹھہراتا۔‘‘ مجھے معلوم نہیں کہ اس کتاب میں قرآن شریعت کی تعلیم اورانجیل کی تعلیم کا مقابلہ کیاگیاہے۔ اس کتاب کے جس حاشیہ سے میں نے حوالہ دیا ہے۔ میں نے اس حاشیہ کو پورادیکھا ہے اور اس سے جو کچھ میں نے نتیجہ نکالاوہ میں نے بیان کردیاہے۔

میرے لئے ضروری نہ تھا کہ میںتمام کتاب پڑھتا۔میں نے خزائن الاسرار کل دیکھی ہے۔ اس سے پہلے نہیں دیکھی کتاب (ازالہ اوہام ص۸، خزائن ج۳ ص۱۰۶، ۱۰۷) کا حوالہ میںنے دیا تھا، اس کے آگے کے الفاظ ہیں کہ: ’’اس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے… دیکھو کتاب (لوقا باب:۲۲، تقطیع خورد ص۸ وتقطیع کلاں ص۴) اس عبارت کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ اب خیال کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح میں اختیاری طور پر جیسا کہ عیسائیوں کو خیال ہے… کوئی معجزہ دکھاتے۔‘‘ اس کے آگے متی باب بارہ آیت۹تا۱۳کا حوالہ بھی ہے۔ میں نے جو حوالہ پیش کیاہے اس سے ان عبارتوں کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے پیش کیاہے کہ مرزا صاحب کی طرف سے جو اس توہین اور گالیوں کا یہ جواب دیاجاتاہے کہ یہ عیسائیوں کو الزامی جواب دیاہے، یہ غلط ہے۔ اس واسطے کہ ( ازالہ اوہام ص۵، خزائن ج۳ ص۱۰۵) پر مرزاصاحب نے مولویوں اور خشک زاہدوں کو یعنی مسلمانوں کو مخاطب کر کے پھر عیسیٰؑ پر اعتراض کئے ہیں۔ جہاں مولویوں اور زاہدوں کو مخاطب کیاہے

167

اور جوفقر ے میں نے اپنے بیان میں لکھوائے ہیں کہ وہ میری رائے میں ایک ہی سلسلہ ہیں۔ حضرت رسول اﷲa سے قبل بعض دفعہ ایسا ہوا کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ بنی ہوئے۔ موسیٰ شریعت کا علم سیکھنے کسی سے نہیں گئے تھے۔ دین سیکھنے کے لئے نہیں گئے۔ رشد سے مراد میں سچی باتیں لیتاہوں اور سچی باتیں وہ سیکھنے گئے تھے۔کتاب (دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹) کی عبارت جو میں نے لکھوائی ہے۔ اس سے ماقبل یہ الفاظ ہیں: ’’جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا، جیسے عیسائی۔‘‘ میرا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ عیسیٰؑ کے وقت میں کوئی راست باز آدمی موجود تھا یا نہ قرآن شریف میں جو یہ آیاہے کہ یحییٰm کو قرآن میں خدانے حصورر فرمایا اور عیسیٰؑ کو حصورنہیں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدانے ان قصوں کو صحیح سمجھا جو مرزا صاحب نے درج کئے ہیں۔ جو قصے اس کتاب میںد رج ہیں یہ قرآن یا انجیل میں ہیں یانہ۔ میں نے انجیل میں جو فوٹو درج ہیں،آج دیکھے ہیں۔یہ فوٹو پہلے انجیل میں نہ تھے۔ یہ بعد میںکسی نے بنائے ہیں۔ جس حاشیہ کا میں نے کتاب دافع البلاء سے حوالہ دیاہے۔ وہ عیسیٰؑ کے گالیاں دینے سے تعلق رکھتاہے۔

(درثمین۲ ص۲۳)پر یہ الفاظ ہیں۔ کتاب(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۴۸۹، خزائن ج۳ ص۳۶۲) پر یہ الفاظ ہیں اور اس زمانہ کے پادریوں کی دجالیت… سوحضرت مسیح ابن مریم نے خدائی کا دعویٰ ہر گز نہیں کیا۔ کتاب ( تریاق القلوب ص۷۷، خزائن ج۱۵ ص۳۰۵) پریہ عبارت ہے کہ: ’’حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا۔‘‘ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں۔ راست باز نہیں ٹھہرسکتا۔ اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کا فرضی نام رکھ کر گالیاں دے تو اسی کو گالیاں دینا ہے۔ جیسے عیسائی اپنے عیسیٰؑ کی نسبت یہ باتیں کہتے ہیں جو بھی پیغمبر اور رسول ہیں۔ اگر مرزاصاحب کے دل میں عیسیٰؑ کی کچھ عظمت ہوتی تو اس مضمون کو یوں ادا فرماتے کہ عیسائیوں کے کہنے پر یہ چیزیں لازم آتی ہیں۔ جس سے عیسیٰؑ قطعاً اور یقینا پاک تھے۔ جو عیسیٰؑ کے متعلق ایسی باتیں کہے، ہم اسے کافر سمجھتے ہیں۔ اگر ایک جگہ کوئی شخص کسی کو گالیاں دے دے اور دوسری جگہ تعریف کرے تو تعریف کردینے سے گالیاں مرتفع نہیں ہوسکتیں۔ مرزا صاحب نے جو عیسیٰؑ کو گالیاں دی ہیں۔ وہاں ایسا کوئی لفظ نہیںجس سے عیسیٰؑ کی برأت کی ہو اور یہ فرمایا ہو کہ یہ عیسائیوں کا خیال ہے۔ مگرہمارے نزدیک غلط اور کفرہے۔ بروزی، ظلی اور مجازی نبوت کی اصطلاحیں جو مرزا صاحب نے بیان کی ہیں یہ شریعت میں نہیں ہیں۔ اگرکسی نے اپنی کوئی اصطلاح مقرر کی ہو تو ہر شخص کو اختیارہے۔ مرزا صاحب نے ان الفاظ کوبول کر آخیر میں معنی وہی مراد لئے ہیں کہ جو نبوت شرعیہ اور تشریعی کے ہیں۔ لہٰذا نبوت کے ساتھ ایسے الفاظ کو ملانے سے کوئی نفع نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں یہ الفاظ مرزا صاحب کے ابتدائی ہیں اور انہیں میں دعویٰ نبوت حقیقتاًشرعیہ یا تشریعی ہے جو میں بیان کرچکاہوں۔

مرزا صاحب نے جوظلی نبوت کے معنی فرمائے ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ سارے انبیاء سابقین رسول اﷲa کے ایک ایک صفت میں ظلی ہیں اور مرزا صاحب تمام صفات میں ظل ہیں۔ اس کے سوا مجھے اور معنی معلوم نہیں کہ مرزا صاحب نے کیا کئے ہیں۔ کتاب (حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰) پر یہ درج ہے۔ مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدسے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گا۔ مگر مرزا صاحب کا یہ فرمانا ختم نبوت کے خلاف ہے۔ جس کو مرزا صاحب نے فرمایاہے کہ اس کا انکار کرنا کفرہے اور یہ بھی فرمایاہے کہ جتنی نبوت سابقہ ہیں۔ وہ بھی سب فیض محمدی ہیں۔ اس کا حاصل یہ نکلا کہ نوحm، ابراہیمm، عیسیٰؑ، موسیٰm وغیرہ ہزاروں کی تعداد میں پہلے بھی آئے پھر بھی ایسے ہی حقیقی نبیوں کا آنا قیامت تک باقی ہے۔جو مرزا صاحب کے اقرار سے اور تمام مسلمانوں کے نزدیک کفرہے۔ کتاب (توضیح المرام ص۲۳، خزائن ج۳ ص ۶۲) پریہ عبارت ہے کہ: ’’لیکن اگر اس جگہ یہ استفسار ہو… چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہوسکے۔‘‘ یہ قول مرزاصاحب نے کسی زمانہ میں کیا ہوگا۔

168

مگر مرزاصاحب کا جو آخری عقیدہ ہے وہ اس کے بالکل مخالف ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کتاب ’’توضیح المرام‘‘ کب لکھی گئی۔ مرزا صاحب یہ دعویٰ فرماتے ہیں کہ عین ہی محمد اور عین ہی احمد ہوں۔ میں وہی محمدہوں جو بروزی رنگ میں دوبارہ آیا۔ محمدa کی نبوت محمد کو ہی ملی کسی اور کو نہیں ملی اور پھر مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا:جیسے ان کے صاحبزادوں نے نقل کیاہے کہ مرزاصاحب نے رسول اﷲa کی پہلی بعثت کو ہلال سے تعبیر کیا اور بعثت ثانیہ کو بدر سے، اور ظاہر ہے کہ بدراعلیٰ اوراکمل ہے، ہلال سے تو مرزا صاحب نے رسول اﷲa سے نسبت کا بھی دعویٰ کیا اور افضلیت کا بھی دعویٰ کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ بیان پہلے کے متناقض اور مخالف ہے۔ کتاب ( توضیح المرام ص۲۳، خزائن ج۳ ص۶۲) پر جو اشعار پڑھے گئے، جوموجودہیں۔ لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ مرزا صاحب کے اپنے اشعار ہیں یا کسی اور کے۔ کتاب (آئینہ کمالات ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر یہ الفاظ ہیں کہ: ’’نعتقد ان رسولنا خیرالرسول وافضل المرسلین۔ وخاتم النّبیین و افضل من کل من یاتی وخلا‘‘

لیکن یہ لفظ لفظ ہیں۔ ان کا معنی مقصود نہیں۔ کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص۳،۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰،۲۱۱) پر یہ عبار ت ہے کہ: ’’بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے…‘‘ بعض حدیثوں میں کہ مجھ میں سے ہوگا۔ مرزاصاحب کے ہاں دونوں فقروں میں کہ میں ظلی طور پر محمد ہی ہوں اور میں محمدa ہوں کوئی فرق نہیں میرے نزدیک ظلی کوئی اصطلاح نہیں۔ میں عین محمد ہوں، یا میں محمدہوں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں محمد یا عین ہی محمد ہوں اور اگرکوئی اس کے قائل کا مسلمان ہونا معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی اس سے غرض واقعی نبیت یا نبوت ثابت کرنامقصود نہیں بلکہ کوئی معنی مجازہیںتووہ مسلمان ہے اور اگر اسے متکلم کا حال معلوم ہی نہیںیاحال معلوم ہے اور اس کے کلمات بھی کفریہ ہیں۔ وہ قطعاً ویقینا مرتد ہوچکاہے یا اس کی غرض اس کلام سے رسول اﷲa کے ساتھ دعویٰ مساوات یا اپنی نبوت کا ثابت کرنا ہے تو وہ شخص بے شک قطعاً کافر ہے۔ ایک ہی کلام دو شخصوں کا ہو اور ان دونوں شخصوں کا حال یکساں ہو تو بے شک حکم ایک ہی ہوگا۔ لیکن جب دونوں کے حالات مختلف ہیں تو جو متکلم کی مراد معلوم ہوگی۔ اس کے مطابق حکم دیا جائے گا۔ ان فقرہ جات کا کہ میں محمدہوں یا کہ میں عین ہی محمد ہوں۔ یقینی مطلب جب تک متعین نہ ہو اور متکلم کاحال معلوم نہ تب تک اس پر کوئی خاص متکلم کے لئے حکم نہ دیا جائے گا۔

کلمہ کفرہونا اور چیز ہے اور متکلم پر حکم کفرلگانا اور چیزہے۔ یہ کلمہ بے شک کفرکاہے۔ مگر خاص متکلم پرحکم لگانے کی وہ تفسیر ہے جو اوپر بیان کی گئی۔ بہت سے صوفیوں سے انا الحق اورسبحانی وما اعظم شانی اور اس قسم کے کلمات مذکورہیں جو اپنے معنی کے لحاظ سے کفرہیں۔ مگر چونکہ متکلم کا حال معلوم نہیں کہ اس نے حالت سکر یا مغلوب الحال ہوکر کہاہے۔ اس واسطے ایسی صورتوں میں تکفیر سے بڑی احتیاط کی گئی ہے۔ تاہم بعض وقت تحفظ شریعت کے لئے فتویٰ کفربھی دئیے گئے اور بعضوں کوقتل بھی کیاگیا۔ میںنہیں کہہ سکتا جو کلمات کتاب تذکرہ اولیاء سے بایزید بسطامی کے نام کے ساتھ منسوب کئے گئے ہیں یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ کسی ولی کامل کااور متقی پرہیز گار کی نسبت کسی کلمہ کفر کا نسبت کرنا جب تک باروایت صحیح ثابت نہ ہوجائے، جائز نہیں۔ اگر ثابت ہوجائے تب اس میں وہ تفصیل ہے جو اوپربیان کی جا چکی ہے۔

بادشاہ کو ظل اﷲ کہا جاتاہے ، مگر اس کے نزدیک معنی مجازی باتفاق مراد ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے اور یہ دعویٰ کرے کہ ظل اور ذی ظل ایک ہوتاہے اور چونکہ حدیث میں یا قول میں سلطان کو ظل اﷲ کہا گیاہے۔ لہٰذ میں عین ہی خداہوںیاتم میرے لئے نماز پڑھو اور عبادت کرو۔ ورنہ تم کافر ہو جائوگے۔ جیسا کہ خدا کے انکار کرنے سے کافر ہوتے ہو تو ایسا شخص ظل اﷲ کہنے والا قطعاً کافر ہے۔ جیسا کہ مرزاصاحب نے ظل محمدaاپنے کو کہہ کر یہی چیزیں ہم سے منوانے کا دعویٰ کیا کہ جو رسول اﷲ کے لئے تھیں۔ اگر کوئی مدعی نبوت دعویٰ نبوت کرکے کسی نبی کی توہین کرے تووہ کافر ہے۔ حدیث بخاری باب بنی اسرائیل میں ہے۔ رسول اﷲa نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمm نے تین جھوٹ بولے ہیں۔ لیکن ان کو جھوٹ کہنا باعتبار ظاہر کے ہے۔ ورنہ حقیقت میں ایک بھی جھوٹ نہ تھا۔ (قول فیصل ص۴)

169

پریہ الفاظ ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے مجموعی طور پر وہ ہادی کامل پرختم ہوچکے ہیں۔ اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے مجددین کے ذریعہ سے دنیا پر الہام پر توڈالتے رہیں گے۔ یہ قول مرزا صاحب کا یہ بتاتاہے کہ اب فقط مجددآئیں گے۔ جیسا کہ مرزاصاحب سے پہلے بہت سے مجدد گزرچکے۔ اب جو مرزا صاحب اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں اور دروازہ نبوت کا کھولتے ہیں اورہزاروں نبیوں کے آنے کو جائز فرماتے ہیں۔ اس قول سے مرزاصاحب کافرہوئے اور دونوں قول متعارض ہوئے تاہم رسول اﷲa کے تمام صحابہ صدیق تھے۔ حضرت ابوبکرqمیں چونکہ یہ صفت بہت بڑھی ہوئی تھی۔ اس واسطے ان کو یہ لقب دے دیاگیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اور صدیق نہ تھے۔ اگر ایک خاص صفت میں کوئی دوسروں سے بڑھ جائے تواس کا یہ مطلب نہیںکہ دوسروں میں یہ صفت نہیں آسکتی۔ حضرت عائشہ صدیقہt کو بھی صدیقہ کہا گیا۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو بھی بعض روایت میں رسول اﷲa نے صدیق کہا ہے۔

(نوٹ) حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے صدیق لقب دئیے جانے کے متعلق حوالہ طلب کیاگیا۔ چونکہ غیر متعلق ہے۔ اس لئے گواہ سے نہیں پوچھا گیا۔ ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کی حدیث بیان کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی سند میں گفتگوہے۔ (محمد اکبر)

حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد ہیں۔ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب مجددہوںگے۔

سوال مکرر: میں نے حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی نسبت جن کی کتابوں کے تحت کل مجھ سے دریافت کیا گیا تھا، تحقیق کی ہے۔ مرزا صاحب ( انجام آتھم ص۶۹، خزائن ج۱۱ ص۶۹) پرفرماتے ہیں کہ: ’’اب ہم ان مولویوں، حاجیوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں کہ جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی، اور بعض کافر کہنے سے سکوت اختیار کرتے ہیں۔ مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں۔ جو مکفر یا مکذب ہیں۔‘‘ ان کے ساتھ مرزا صاحب نے دوگروہوں کی فہرستیں دی ہیں۔ ان فہرستوں کا عنوان یہ ہے کہ وہ لوگ جو مباہلہ کے لئے مخاطب کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں۔ اس فہرست میں ہندوستان کا کوئی بڑامولوی ایسا نہیں۔ جس کا اس میں نام نہ ہو۔ ہندوستان کے علاوہ بنگلور، دیوپور، پالم تک کے علماء بھی اس میں شامل ہیں۔

علماء کے نام ختم کرنے کے بعد سجادہ نشینان کے نام لکھے ہیں۔ اس فہرست میں غلام فرید صاحب چشتی چاچٹران علاقہ بہاول پور کا نام نمبر۵ پرہے۔ ان کا نام (ص۷۱)پر ہے اورص۷۲ تک یہی سلسلہ چلا گیاہے۔ آخر میں مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ان تمام حضرات کی خدمت میں یہ رسالہ پیکٹ کر کے بھیجا جاتاہے۔ لیکن اگر اتفاقاً کسی صاحب کو نہ پہنچا تو وہ اطلاع دیںتاکہ یہ دوبارہ بذریعہ رجسٹری بھیجا جاوے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مکفر اور مکذب سمجھتے تھے۔

جو کلمات حالت سکر میں بعض اولیاء سے نکلتے ہیں۔ ایسی حالت سکر انبیاء پرطاری نہیں ہوتی۔ کوئی کلمہ خلاف شریعت اور خلاف احکام خداوندی، انبیاءؑ سے نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ مجسمہ ہدایت ہوتے ہیں اور ہدایت ہی کے لئے آتے ہیں اگرا ن کے کلام میںو ہ چیزیں بھی ہوں جو خلاف شرع ہیں تو انبیاءؑ علی الاطلاق متبع نہیں رہنے کے کہ ہر چیز میں جو ان سے مخصوص نہیں ہے۔ ان کی اتباع کی جاوے۔ عیسیٰؑ کے ساتھ مرزاصاحب نے جوناپاک قصے منسوب کئے ہیں۔ وہ قرآن میں نہیں ہیں۔

جرح مکرر( ص۶۹، خزائن ج۱۱ ص۶۹ ) باقی عبارت سے بھی یہ ظاہر ہوتاہے کہ خواجہ غلام فرید صاحب کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص۳۸،۳۹، خزائن ج۱۱ ص۳۲۳،۳۲۴) پر خواجہ غلام فرید صاحب کے ذکر کے ساتھ جو خط خواجہ صاحب کا نقل کیاگیاہے۔ یہ بدوں شہادت کے قبول نہیں کہا جاسکتا کہ یہ خط خواجہ صاحب کا اپنا تحریر شدہ ہے۔ سن کر درست تسلیم کیا۔

(دستخط صاحب جلیس محمد اکبر)

170

بیان امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری گواہ مدعیہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بہاول پور کا معرکۃ الآراء تاریخی مقدمہ

۱۹۳۲ء کی تیسری سہ ماہی میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب بوجہ علالت چند ہفتوں کے لئے ڈابھیل سے دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے۔ جب طبع مبارک قدرے روبصحت ہوئی تو ڈابھیل مراجعت فرمانے کا عزم فرمایا اور رخت سفر تیار کیا کہ اچانک حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی صاحب کا صحیفہ گرامی موصول ہوا۔ جس میں اہالیان بہاول پور کی اس آرزو کا اظہار تھا کہ حضرت بہاول پور تشریف لاکر حق وباطل کے اس مقدمہ میں شہادت قلم بند کرائیں۔

حضرت نے معاملہ کی نزاکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈابھیل کا سفر معرض التواء میں ڈال کر بہاول پور کا قصد فرمایا اور باوجود پیرانہ سالی وشدید ضعف وعلالت کے دیوبند سے بہاول پور تک کا صعوبت انگیز سفر اختیار فرمایا۔ ۱۹؍اگست ۱۹۳۲ء بروز جمعتہ المبارک سرزمین بہاول پور کو قدوم میمنت لزوم سے سرفراز فرمایا۔

حضرت کی بہاول پور آمد کے ساتھ ہی تمام ہندوستان کی نظریں اس مقدمہ پر مرکوز ہوگئیں اور اس نے لافانی شہرت اختیار کرلی۔ پنجاب اور سندھ کے اکثر علماء دین بہاول پور پہنچ گئے۔ آپ کی قیام گاہ پر ہمہ وقت زائرین کا اژدھام رہتا تھا۔ ۲۵؍اگست ۱۹۳۲ء کو جب یہ رأس المحدثین اپنی شہادت قلم بند کرانے عدالت میں پہنچا تو کمرہ عدالت ذی علم علماء دین ومشاہیر ووزراء واکابرین قوم سے مکمل طور پر معمور تھا۔ عدالت کے باہر میدان میں عوام کا ایک جم غفیر موجود تھا جس میں اہل ایمان کے علاوہ اہل ہنود بھی شامل تھے اور ہر شخص حضرت کے ارشادات گرامی سننے کے لئے مضطرب تھا۔ آپ کا یہ بیان ۲۸؍اگست ۱۹۳۲ء تک جاری رہا۔ جب کہ ۲۹؍اگست کو جلال الدین شمس قادیانی مختار فریق ثانی نے آپ پر جرح کی۔ حضرت نے مندرجہ ذیل پانچ وجوہ پیش کر کے مرزاقادیانی اوراس کے متبعین کی تکفیر کا ثبوت پیش فرمایا: (۱)دعویٰ نبوت۔ (۲)دعویٰ شریعت۔ (۳)توہین انبیاءؑ۔ (۴)انکار متواترات وضروریات دین۔ (۵)سب (گالی دینا) انبیاءؑ۔

حضرت نے اپنے دلائل قاطع وبراہین ساطع سے مرزاغلام احمد قادیانی کی باطل نبوت اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر وارتداد پورے عالم میں ابیض من الطمس کردیا (حضرت کا یہ بیان علم وعرفان کا ایسا بحر ذخّار ہے جس کی گہرائیوں میں گراں قدر اور بے بہا موتی بھرے ہوئے ہیں)

مقدمہ بہاول پور کے ساتھ ویسے تو بہت سے تاریخی واقعات وابستہ ہیں۔ قارئین گرامی کی بہرہ اندوزی کے لئے یہاں پر صرف تین کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱… مؤرخہ ۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء کو جب جلال الدین شمس قادیانی مختار مدعا علیہ حضرت شاہ صاحب پر لایعنی جرح کر رہا تھا تو حضرت

171

شاہ صاحب موصوف کی زبان مبارک سے ’’غلام احمد جہنمی‘‘ کا لفظ نکلا جس پر مختار مدعا علیہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے جرح بند کر دی اور عدالت سے درخواست کی کہ حضرت شاہ صاحب کو حکم فرمایا جائے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ عدالت کا کمرہ علماء فضلاء ومشاہیر سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ان حضرات نے مشاہدہ کیا کہ حضرت پر ایک خاص کیفیت وجد طاری ہوگئی۔ چہرہ مبارک نور سے منور ہوگیا۔ آپ نے اپنا دست مبارک جلال الدین شمس قادیانی کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا: ’’ہاں ہاں! مرزاغلام احمد قادیانی جہنمی ہے۔ دیکھنا چاہتے ہو کہ وہ جہنم میں کیسے جل رہا ہے؟‘‘

حضرت شاہ صاحب کے ان الہامی کلمات سے مرزائیوں پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ ان کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جلال الدین شمس قادیانی نے فوراً حضرت شاہ صاحب کا دست مبارک اپنے کندھے سے ہٹادیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ مرزاغلام احمد قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھابھی دیں تو میں اسے شعبدہ بازی کہوں گا۔

بفضل تعالیٰ آج بھی بہاول پور میں بالخصوص اور برصغیر میں بالعموم ہزاروں افراد موجود ہیں جو اس تاریخی واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

۲… ۲۶؍اگست ۱۹۳۲ء کو یوم جمعتہ المبارک تھا۔ جامعہ مسجد الصادق بہاول پور میں آپ نے جمعہ کی نماز ادا فرمانا تھی۔ مسجد کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ قرب وجوار کے گلی کوچے نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ نماز کے بعد آپ نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں بواسیر خونی کے مرض کے غلبہ سے نیم جاں تھا اور ساتھ ہی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں ڈابھیل کے لئے پابہ رکاب کہ اچانک شیخ الجامعہ صاحب کا مکتوب مجھے ملا جس میں بہاول پور آکر مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے لکھا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ میرے پاس کوئی زادراہ ہے نہیں۔ شاید یہی چیز ذریعہ نجات بن جائے کہ میں حضرت محمدa کے دین کا جانبدار بن کر یہاں آیا ہوں۔‘‘

یہ سن کر مجمع بے قرار ہوگیا۔ آپ کے ایک شاگرد مولانا عبدالحنان ہزاروی آہ وبکا کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور مجمع سے بولے کہ اگر حضرت کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں تو پھر اس دنیا میں کس کی مغفرت متوقع ہوگی؟ اس کے علاوہ کچھ اور بلند کلمات حضرت کی تعریف وتوصیف میں عرض کئے جب وہ بیٹھ گئے تو پھر مجمع کو خطاب کر کے فرمایا کہ: ’’ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا۔ حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی کہ گلی کا کتّا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کر سکیں۔‘‘

(کمالات انوری)

۳… جب بہاول پور سے بیان دے کر واپس دیوبند جانے لگے تو اپنے شاگرد حضرت مولانا محمد صادق بہاول پوری سے فرمایا کہ اگر فیصلہ میری زندگی میں ہوا تو خود سن لوں گا۔ اگر میرے مرنے کے بعد فیصلہ ہو تو میری قبر پر آکر سنادینا۔ اﷲتعالیٰ کی شان بے نیازی کہ فیصلہ سے پہلے آپ کا وصال ہوگیا۔ چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق مولانا محمد صادق بہاول پوری نے دیوبند جاکر آپ کی مزار انور پر اس فیصلہ میں اہل اسلام کی کامیابی کی نوید عرض کی۔

(فقیر: اﷲ وسایا)

172

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۲۵؍اگست۱۹۳۲ء

بیان گواہ مدعیہ باقرار صالح

سید محمد انور شاہ ولد معظم شاہ ذات سید سکنہ کشمیر عمر۵۵سال

ایمان اور کفر کی حقیقت

کسی کے قول کو اس کے اعتماد پر باور کرنے اور غیب کی خبروں کو انبیاءؑ کے اعتماد پر باور کرنے کو ایمان کہتے ہیں اور کفر کہتے ہیں حق ناشناسی اور منکر ہو جانے کو یا مکر جانے کو۔ ہمارے دین کا ثبوت دو طرح سے ہے یا تواتر سے یا خبر واحد سے۔

اقسام تواتر:

تواتر اسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی ثابت ہوئی ہو نبی کریمa سے اور ہم تک پہنچی ہو علی الاتصال کہ اس میں احتمال خطا کا نہ ہو۔ تواتر ہمارے دین میں چار قسم کا ہے۔ حدیث ہے کہ: ’’من کذب علی معتعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار(مسلم ج۱ص۷، ترمذی ج۲ ص۳۱۲)‘‘ {جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔}

پہلی قسم:

یہ حدیث متواتر ہے اور تیس صحابہi سے بسند صحیح مذکور ہے۔ اس کو تواتر اسنادی کہا جائے گا۔ نزول مسیح میں چالیس حدیثیں صحیح ہمارے پاس موجود ہیں۔ یہ متواتر ہیں۔ (اگر) اس کا کوئی انکار کرے (تو) وہ کافر ہے۔

دوسری قسم:

تواتر طبقہ (کہ جب) یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کس سے لیا۔ بلکہ یہی معلوم ہو کہ پچھلی نسل نے اگلی سے سیکھا۔ جیسا کہ قرآن مجید کا تواتر۔ اس تواتر کا منکر اور منحرف بھی کافر ہے۔ مسواک کا ثبوت بھی دونوں طرح سے متواتر ہے۔ اگر کوئی (مسواک) ترک کر دے تو چنداں وبال نہیں اور اگر اس کا کوئی انکار کردے علم دین سمجھ کر تو وہ کافر صریح ہے۔ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ ’’جو‘‘ حرام ہیں تو وہ کافر ہے۔ بحسب شریعت محمدیہ (جو کھانا) کوئی بڑی چیز نہ تھی لیکن پیغمبرa نے جو کھائے اورامت اب تک جو کھاتی آئی ہے۔ اس تواتر قطعی کا انکار کفر ہے۔

تیسری قسم:

تواتر قدر مشترک ہے۔ حدیثیں کئی ایک خبر واحد آئی ہوں اس میں قدر مشترک متفق علیہ وہ حصہ حاصل ہوا جو تواتر کو پہنچ گیا۔ مثال اس کی کہ معجزات نبی کریمa کچھ متواتر ہیں اور کوئی (کچھ) اخبار احاد ہیں۔ لیکن ان اخبار احاد میں ایک مضمون مشترک ملتا ہے کہ وہ قطعی ہو جاتا ہے۔ اس کا انکار بھی ویسا ہی کفر ہے جیسے پہلی دو قسم کا۔

چوتھی قسم:

تواتر توارث ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ نسل نے نسل سے لیا ہو۔ جیسا کہ ساری امت اس علم میں شریک رہی کہ خاتم الانبیاء محمدa کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یہ تواتر اس طرح سے ہے کہ بیٹے نے باپ سے لیا اور باپ نے (اپنے) باپ سے لیا۔ اس کا انکار بھی صریح کفر ہے۔

اگر متواترات کے انکار کو کفر نہ کہا جائے تو اسلام کی کوئی حقیقت قائم نہیں رہ سکتی اور نہ کسی اور یقینی چیز کی۔ ان متواترات میں تاویل کرنا مطلب بگاڑنا کفر صریح ہے۔ رد ہے اور مسموع نہیں ہے۔

173

متواترات کو تاویل سے پلٹنا کفر ہے

میں نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام کے صفحہ اوّل پر متواترات کے پلٹنے کی مثال دی ہے۔ اس کا نام باطنیت ہے۔ اسی کا نام زندیقیت اور الحاد ہے۔

کفر کے اقسام:

کفر کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی فعلی ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ساری عمر نمازیں پڑھتا رہے اور تیس چالیس سال کے بعد ایک دفعہ بت کے آگے سجدہ کرے تو وہ کافر ہے اور تارک نماز سے بدتر ہے۔ یہ کفر فعلی ہے۔ کفر قولی یہ ہے کہ مثلاً یہ کہہ دے کہ خدا کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ صفتوں میں، یا فعل میںیا یہ کہ رسول اﷲa کے بعد کوئی اور نیا پیغمبر آئے گا یہ کفر قولی ہے۔

اختلاف مراتب:

کوئی شخص اگر اپنے مساوی رتبہ سے کہہ دے کہ کلمہ بکا، تو وہ کوئی چیز نہیں۔ استاد اور باپ سے (یہی کلمہ) کہہ دے تو اسے عاق کہتے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو یہ کفر صریح ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ جب منافقین سے کہا جاتا ہے کہ پیغمبر سے آکر مغفرت کی دعا کراؤ تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں۔ اس کو بھی پیغمبر کے مقابلے میں قرآن نے کفر قرار دیا ہے۔ کوئی شخص اگر بغیر نیت کے بطور ہنسی کھیل کے کلمہ کفر کہتا ہے تو وہ بھی کافر ہے۔ اگر سبقت لسانی ہوئی تو یہ معاف ہے۔

اس کی تائید میں آیت: ’’ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلامہم وہمّوا بما لم ینالوا (توبہ:۷۴)‘‘ {بے شک کہا انہوں نے لفظ کفر اور منکر ہوگئے مسلمان ہو کر اور کہا تھا اس چیز کا جوان کو نہ ملی۔}

اور ’’لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم (توبہ:۶۶)‘‘ {بہانے مت بناؤ تم کفار ہوگئے۔ اظہار ایمان کے بعد۔}

ان دفعات (اسلامیہ) سے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں (جو) انکار کرے تو وہ خدا کا باغی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔

مرزائیوں سے اصولی اختلاف

(اہل اسلام) اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے۔ علمائے دیوبند اور علمائے بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے۔ قانون کا نہیں۔

مرزاقادیانی نے اسلام کے اصول بدلے

مرزائی مذہب والے (مرزاغلام احمد قادیانی) نے مہمات دین کے بہت سے اصولوں کی تبدیلی کر دی ہے اور بہت سے اسماء کا مسمّٰی بدل دیا ہے۔

نبوت کے ختم ہونے کے بارے میں ہمارے پاس کوئی دو سو حدیثیں ہیں اور قرآن مجید ہے اور اجماع بالفعل ہے اور ہر نسل اگلی نے پچھلی سے اس کو کیا ہے اور کوئی مسلمان جس کو تعلق ہو اسلام کے ساتھ وہ اس عقیدہ سے غافل نہ رہا۔ اس عقیدہ کی تحریف کرنا اور اس سے انحراف کرنا صریح کفر ہے۔ اگر کوئی آیت قرآنی ہو اور اس کی مراد پر اجماع ہو امت کا، اور صحابہ کرامi کا۔ اس سے انحراف کرنا اور تحریف کرنا کفر صریح ہے۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ امام احمد نے کہا ہے کہ: ’’من ادّعی الاجماع فہو کاذب‘‘ تو اس کی مراد یہ ہے کہ لوگ کہیں کہیں اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اجماعی ہوتے نہیں۔ نہ یہ کہ کوئی چیز دین محمدی میں اجماعی ہے ہی نہیں؟

ہم خود زبان امام احمد سے نقل اجماع کو ہم بہت (خوب) ثابت کر دیں گے۔

174

امت محمدیہﷺمیں پہلا اجماع

پہلا اجماع جو اس امت محمدیہﷺمیں ہوا ہے وہ اس پر ہوا ہے کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔ نبی کریمa کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا۔ صدیق اکبرؓ نے خلافت کے زمانہ میں مسیلمہ کے قتل کے واسطے صحابہi کو بھیجا۔ کسی نے اس میں تردد نہ کیا۔ یعنی جو خاتم النّبیین کے بعد دعویٰ نبوت کرے تو وہ مرتد اور زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی کریمa کے پاس مسیلمہ کے قاصد آئے کہ تم کہتے ہو کہ وہ نبی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کہاں؟ فرمایا کہ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن ماردیتا۔

(کتاب الجہاد فی باب الرسل، سنن ابوداؤد ص۳۸۰، مطبوعہ لکھنؤ)

اس کے بعد معجم طبرانی میں ہے کہ عبداﷲ بن مسعودq کو ان قاصدوں میں سے ایک (ابن نواحہ) کوفہ میں ملا۔ حضرت فاروقq یا عثمانq کے زمانہ میں۔ وہ مسیلمہ کا نام لیتا تھا۔ فرمانے لگے کہ اب تو یہ قاصد نہیں ہے۔ حکم دیا کہ اس کی گردن ماری جاوے۔

(جامع المسانید والسنن ج۲۷ ص۱۶۳، ۱۴۴،۱۴۳،۶۷،۶۸)

نیز یہ روایت بخاری کی کتاب کفالت میں بھی مختصراً موجود ہے۔ معجم طبرانی کتب خانہ مولوی شمس الدین بہاول پوری۔ ورق:۲۹ جو روایت معجم طبرانی سے نقل کی گئی ہے وہ بھی (سنن ابی داؤد ج۱ ص۲۷۴) میں موجود ہے۔

اسلام میں عقیدہ ختم نبوت متواتر ہے

ختم نبوت کا عقیدہ دین محمدیa میں متواتر ہے۔ قرآن، حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہے۔ ہر وقت (زمانہ) میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعویٰ نبوت کیا سزائے موت دی ہے۔ ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے بہ فتویٰ علماء دین ایک شعر کے کہنے پر قتل کرادیا تھا۔

  1. کان مبداء ہذا الدین من رجل

    سعی فاصبح یدعی سید الامم

(صبح لا عشیٰ فی ضاعۃ الانشاء احمد بن علی بن احمد الغزاری ج۱۳ ص۳۰۶)

{آغاز اس دین کی ایک شخص سے تھی کہ اس نے کوشش کی اور وہ سردار ہوگیا امتوں کا۔}

اس شعر سے قرار دیا گیا کہ یہ شخص نبوت کو کسبی کہتا ہے جو کہ ریاضتوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لئے اسے قتل کردیا گیا۔

ختم نبوت کی آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین۔ وکان اﷲ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘ {محمد رسول اﷲ(a) تم بالغوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن رسول ہیں اﷲ کے اور ختم کرنے والے ہیں پیغمبروں کے۔}

اس آیت میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ نبی کریمa کی ابوت (باپ ہونے) کا علاقہ دائماً دنیا سے منقطع ہے اور اس کے عوض رسالت اور نبوت کا علاقہ دائماً ثابت ہے۔ گویا ساری جگہ نبوت اور رسالت کی محمدa نے گھیر لی۔ کوئی جگہ خالی نہ رہی۔ احادیث تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ یہ عہدہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ نبی کریمa اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں اور آپa کے تشریف لانے سے نبوت کا عہدہ منقطع ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کا آنا علامت ہے اس بات کی کہ انبیاء کے عدد میں کوئی باقی نہیں۔ اس لئے پہلے نبی کو لانا پڑا۔

175

مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدa کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمدa ہی نبی ہے نہ اور کوئی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۶، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۶)

مطلب یہ کہ میں آئینہ بن گیا ہوں محمد رسول اﷲ کا اور مجھ میں تصویر اترآئی ہے رسول کریمa کی۔ اس سے مہر نبوت نہ ٹوٹی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تمسخر ہے۔ خدا اور خدا کے رسولﷺ کے ساتھ (یعنی مہر لگی رہی اور مال میں سے مال چرا لیا گیا)

مرزاغلام احمد قادیانی خاتم کے یہ معنی کرتے ہیں۔ رسول کریمa مہر ہیں اور آپa کے منظور کرنے سے نبی بنتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

چند شبہات کے جوابات

۱… علمائے اسلام حنفیہ نے یہ لکھا ہے کہ اگر کسی کے کلمہ کفر میں ۹۹احتمال کفر کے ہوں اور ایک (احتمال) اسلام کا ہو تو ننانوے احتمالات کو نظرانداز کر دیا جاوے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صرف ایک ہی کلمہ کفر کسی کا پایا گیا ہو۔ حالات اس کے معلوم نہیں تو اس وقت یہ صورت ہوگی، ورنہ اگر حالات معلوم ہوں اور وہ ۳۰سال اگر عبادت کرتا رہے اور ایک کلمہ کفر کا کہے وہ کافر ہے۔

۲… تکفیر اہل قبلہ: یہ مسئلہ مشہور ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ بس اس کی مراد میں علماء نے تصریح کی ہے کہ اہل قبلہ سے مراد یہ ہے کہ وہ کل متواترات اور ضروریات دینی پر ایمان لایا ہو۔

(فتاویٰ عالمگیری کتاب السیر ص۴۲۰، ردالمختار باب۴۴۷، شرح فقہ اکبر تحریر شیخ ابن ہمام ص۱۸۹)

۳… میں نے شروع بیان میں جو یہ کہا تھا کہ اجماع کا منکر کافر ہے اور اجماع صحابہi حجت قطعی ہے۔ حافظ ابن تیمیہ کی کتاب (اقامتہ الدلیل ج۳ ص۱۳۰) پر ہے۔ واجب ہے اس اجماع صحابہi کا اتباع بلکہ وہ قوی ترحجت ہے اور مقدم ہے اور حجتوں پر۔ اسلام شناخت ہے مسلمانوں کی اور مسلمانوں کے اشخاص شناخت ہیں اسلام کی۔ (اگر اجماع کو درمیان میں سے اٹھادیا جاوے تو دین ڈھے گیا)

(صحیح بخاری ج۲ ص۱۰۲۴) میں ایک حدیث ہے: ’’فان لہ اصحاب‘‘ اس کی ذریت سے کہ ایک نسل آئے گی کہ ان کے روزے اور نماز کے سامنے تمہارے (یعنی صحابہi کے) نماز اور روزے ہیچ ہوں گے۔ اس جھٹ (تیزی) سے نکل جائیں گے دین سے۔ جس طرح تیر نکل جاتا ہے شکار سے۔ ایک اور حدیث ہے کہ اگر میں نے پایا ان کو تو جیسے عاد اور ثمود قتل کئے گئے میںبھی ان کو قتل کردوں گا۔

۴… حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ گناہوں سے تکفیر نہ چاہئے۔ ان گناہوں سے مراد وہ ہیں جو کفر کی حد تک نہیں پہنچے اور جو کفر کے کلمے یا فعل ہیں اس سے ہر طرح سے تکفیر کی جائے۔ ایسے گناہ مثلاً زنا، شراب خوری، ڈاکہ زنی سے تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اگر نماز کوئی شخص ترک کرے دانستہ، وہ کافر نہیں فاسق ہے اور شدید عاصی ہے اور اگر تاویل کر جائے نماز میں کہ نماز سے کچھ اور مراد ہے تو وہ کافر ہے۔ قطعاً نماز کا اگر کوئی شخص اقرار کرے اور دانستہ نہ پڑھے وہ کافر نہیں بلکہ فاسق ہے اور اگر ایک دفعہ قبلہ سے روگردانی کر کے دوسری طرف دانستہ نماز پڑھ لے تو وہ کافر ہے۔ نماز کا تارک کافر نہیں ہے۔ فاسق ہے اور اگر بے وضو نماز پڑھے تو کافر ہے۔

اصل کافروں سے بدتر وہ کافر ہے۔ جن کارلاؤ (ملے جلے) ہو اسلام کے ساتھ جہنم کے کافروں سے۔ کیونکہ اصل کافروں سے نفع جاتا ہے اور دوسروں سے پونجی جاتی ہے۔

176

شیطان کا کفر: کبھی کفر ایسا ہوتا ہے کہ نہ خدا کی تکذیب کی نہ پیغمبر کی تکذیب کی۔ پھر بھی کافر جیسے ابلیس نے نہ خدا کی تکذیب کی نہ آدم کی۔

کافر، منافق اور زندیق میں فرق

جو اقرار نہ کرے دین محمدی کا اس کو کافر کہتے ہیں۔ جسے اندر سے اعتقاد نہ ہواسے منافق کہتے ہیں حکم اس کا بھی وہی ہے بلکہ کافر سے اشد۔ جو زبان سے اقرار کرتا ہو لیکن دین کی حقیقت بدلتا ہو۔ اسے زندیق کہتے ہیں وہ پہلی دو قسموں سے زیادہ شدید کافر ہے۔

امام ابوحنیفہ سے بالاسناد احکام القرآن ص۵۳ (منقول ہے) امام محمد فرماتے ہیں کہ: ’’ومن انکر شیئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل قول۔ لا الہ الا اﷲ (السیر الکبیر ج۱۴ ص۲۶۵)‘‘ کہ جس نے انکار کیا کسی چیز کا اسلامی امور میں سے اس نے باطل کردیا۔ قول: ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کا۔

تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ

۲۷؍اگست ۱۹۲۳ء

اسلام کفر اور ارتداد کے معنی

اس وقت تک جو اجمالی طور پر کفر وایمان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ارتداد کے معنی یہ ہیں کہ دین اسلام سے ایک مسلمان کلمہ کفر کہہ کر اور ضروریات ومتواترات دین میں سے کسی چیز کا انکار کر کے (اسلام سے) خارج ہو جائے اور ایمان یہ ہے کہ سرور عالمa جس چیز کو اﷲتعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت بدیہیات اسلام سے ہے اور ہر مسلمان عام وخاص اس کو جانتے ہیں اس کی تصدیق کرنا۔ عبارت ذیل سے یہ دونوں مسئلہ ثابت ہیں۔

’’ہو الراجع عن دین الاسلام ورکنہا اجراء کلمۃ الکفر علی للسان بعد الایمان وہو تصدیق محمدa فی جمیع ماجاء بہ عن اﷲ تعالٰی مما علم مجیئہ ضرورۃ‘‘

(درمختار برتحشیہ شامی ج۴ ص۲۲۱، باب المرتد)

مرتد وہ ہے جو پھر جائے دین اسلام سے اور حقیقت اس کی جاری کرنا کفر کا زبان پر ایمان کے بعد، اور ایمان کیا چیز ہے تصدیق کرنا نبی کریمa کی سب ان چیزوں میں جو خدا کی طرف سے لائے۔ ثبوت ان کا بدیہی ہوگیا۔

دوسری عبارت بالفاظ ذیل: ’’الایمان تصدیق سیدنا محمدa فی جمیع ماجاء بہ من الدین ضرورۃ۔ الکفر تکذیب محمدa مما جاء بہ من الدین ضرورۃ ولا یکفر احد من اہل القبلۃ بجہود‘‘

(شرح الاشباہ والنظائر نول کشور ص۲۶۳)

{ایمان تصدیق ہے نبی کریمa کی جملہ ان امور میں کہ جو لائے اور ثابت ہوئے تواتر سے۔ کفر تکذیب ہے نبی کریمa کی کسی ایک چیز میں بھی جو دین میں بداہتاً ثابت ہو۔ کافر نہیں ہوگا کوئی اہل ایمان (اہل قبلہ) میں سے مگر جب انکار کرے کسی اس چیز کے (سے) جو چیز کہ ضروریات دین سے ہو۔}

177

ضروریات دین

’’معنی التصدیق قبول القلب، واذعانہ لما علم الضرورۃ انہ من دین محمدa بحیث تعلمہ العامۃ من غیرافتقار الی نظر واستدلال کالوحدانیۃ والنبوۃ والبعث الجزاء ووجوب الصلوۃ‘‘

ضروریات دین وہ ہیں کہ پہچانیں ان کو خواص وعوام کہ یہ دین سے ہیں جیسے اعتقاد توحید کا رسالت کا اور پانچ نمازوں کا اور مثل ان کے اور چیزیں۔

(ردالمختار ج۱ ص۲۴۷، باب الامامت)

مرزائی تاویلات کا رد

جو لوگ ضروریات دین کا انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں وہ عموماً اپنے کفر کو چھپانے کے لئے مختلف تاویلیں اور تدبیریں اختیار کرتے ہیں:

۱… کبھی کہتے ہیں ہم اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔

۲… کبھی کہتے ہیں ہم تمام ارکان اسلام، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ تبلیغ اسلام میں سرگرم کوششیں کرتے ہیں۔ ہمیں کیسے اسلام سے خارج کیا جاسکتا ہے؟

۳… کبھی کہتے ہیں کہ بہ تصریح فقہائے (اسلام) اگر ایک شخص کے کلام میں ۹۹وجوہ کفر کی اور صرف ایک (وجہ) اسلام کی موجود ہو تو مفتی کا فرض ہے کہ اس ایک وجہ کو اختیار کر کے اس کو مسلمان کہے۔ کفر کا حکم نہ لگائے۔ پھر ہمیں کیسے خارج از اسلام کہا جاسکتا ہے؟

۴… اور کبھی کہتے ہیں کہ بتصریح فقہا جو لوگ کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کی بناء پر کہیں اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔ ان چاروں شبہات کے جواب ترتیب وار یہ ہیں۔

پہلا شبہ: اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں۔ یہ بے علمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔ چونکہ حسب تصریح واتفاق علماء، اہل قبلہ کے یہ معنی نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے چاہے سارے عقائد اسلام کا انکار کرے۔ قرآن مجید میں منافقین کو عام کفار سے زیادہ بدتر کافر ٹھہرایا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فقط قبلہ کی طرف منہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ تمام ظاہری احکام اسلام ادا کرتے تھے۔

قرآن مجید کا ارشاد ہے:’’لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولٰکن البر من اٰمن باﷲ والیوم الاٰخر والملئکۃ والکتٰب والنّبیین (البقرہ:۱۷۷)‘‘ {نیکی کچھ یہی نہیں ہے کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف۔ لیکن بڑی نیکی یہ ہے جو کوئی ایمان لائے اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر۔}

اس مضمون کی تصریح کتب ذیل میں ہے: ’’ثم اعلم ان المراد باہل القبلۃ الذین اتفقوا علی ماہو من ضرورات الدین حدوث العالم وحشر الاجساد وعلم اﷲ تعالٰی بالکلیات والجزئیات وما اشبہ من المسائل المہمات فمن وظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم اونفی الحشر نفی علمہ سبحانہ بالجزائیات لایکون من اہل القبلہ‘‘

(شرح فقہ اکبر بیان موجبات الکفر ص۱۲۳، مطبع احمدی)

جس کا مطلب یہ ہے کہ جان تو کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اتفاق کیا ضروریات دین پر جیسے حدوث عالم، حشراجساد، علم اﷲتعالیٰ کا کل خبروں کے ساتھ اور جو اس کی مثالیں ہوں مسائل مہمہ میں سے۔ پس جس شخص نے مداومت کی ساری عمر

178

اطاعت اور عبادت پر باوجود اعتقاد قدم عالم کے اور نفی حشر کے اور جزئیات مادیات کے ساتھ علم الٰہی کی نفی کی۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں اور یہ جو مسئلہ کہ اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اس کی مراد یہ ہے کہ کافر نہیں ہوگا جب تک کہ نشانی کفر کی اور علامتیں کفر کی اور کوئی چیزیں موجبات کفر میں سے نہ پائی گئی ہو۔

’’والمراد… قطعاً‘‘ مراد متبدع سے وہ ہے جو اپنی بدعت رسوم سے کافر نہیں اور ایسے ہی گنہگار اہل قبلہ میں سے وہ شخص مراد ہے جو موافق ہو ضروریات دین کے جیسے حدوث عالم۔ حشر اجساد۔ سوائے اس کے کہ صادر ہو، اس سے کوئی چیز موجبات کفر کی۔

(تقریر شرح تحریر الاصول ج۳ ص۳۱۸)

اس کتاب کے اسی صفحہ پر ہے: ’’ثم… الخ!‘‘ {کافر نہ کہنا کسی اہل قبلہ کو کسی گناہ سے تصریح کی ہے اس کی امام ابی حنیفہ نے فقہ اکبر میں فرمایا کہ ہم کافر نہیں کہتے کسی کو کسی گناہ سے اگرچہ وہ گناہ کبیر ہو۔ جب تک اس گناہ کو حلال نہ سمجھے جیسے کہ منتقی حاکم شہید کی کتاب میں ہے۔}

دوسرا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تمام ارکان اسلام کے پابند اور تبلیغ اسلام میں کوشش کرنے والے ہیں۔ پھر ان کو کیسے کافر کہا جائے؟ اس کا جواب صحیح بخاری کی حدیث میں ہے۔ کتاب: ’’استتابۃ المعاندین والمرتدین باب قتال الخوارج، ج۲ ص۱۰۲۴‘‘ جس کو میں پہلے اپنے بیان میں کہہ چکا ہوں۔

اس حدیث میں تصریح ہے کہ یہ قوم جس کے متعلق آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ دین اسلام سے صاف نکل جائے گی اور ان کے قتل کرنے میں بڑا ثواب ہے۔ یہ لوگ نماز روزے کے پابند ہوں گے۔ بلکہ ظاہری خشوع وخضوع کی کیفیات بھی ایسی ہوں گی کہ ان کے نماز، روزے کے مقابلے میں مسلمان اپنے نماز، روزے کو بھی ہیچ سمجھیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب کہ بعض ضروریات دین کا انکار ان سے ثابت ہوا تو ان کی نماز روزہ ان کو حکم کفر سے نہ بچا سکے۔

تیسرا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ فقہاء نے ایسے شخص کو مسلمان ہی کہا ہے جس کے کلام میں ۹۹ وجہ کفر کی موجود ہوں اور صرف ایک وجہ اسلام کی ہو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا منشاء بھی یہی ہے کہ فقہاء کے بعض الفاظ دیکھ لئے گئے اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی اور نہ ان کے وہ اقوال دیکھے جس میں صراحتاً بیان کیاگیا کہ یہ حکم اپنے عموم پر نہیں ہے بلکہ اس وقت ہے جب کہ قائل کا صرف ایک کلمہ مفتی کے سامنے آوے اور قائل کا کوئی دوسرا حال معلوم نہ ہو اور نہ اس کے کلام میں ایسی تصریح ہو جس کا معنی کفریہ متعین ہو جائے تو ایسی حالت میں مفتی کا فرض ہے کہ معاملہ تکفیر میں احتیاط برتے اور اگر کوئی خفیف سے خفیف احتمال نکل سکے، جس کی بناء پر یہ کلام کلمہ کفر سے بچ جائے تو اس احتمال کو اختیار کرے اور اس شخص کو کافر نہ کہے۔ لیکن ایک شخص کا یہی کلمہ کفر اس کی سینکڑوں تحریرات میں بعنوانات والفاظ مختلفہ موجود ہوں جس کو دیکھ کر یہ یقین ہوجائے کہ یہ شخص بھی یہی معنی کفریہ مراد لیتا ہے یا خود اپنے کلام میں اس معنی کفریہ کی تصریح کر دے تو باجماع فقہاء ہرگز ہرگز اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے بلکہ قطعی طور پر ایسے شخص کے لئے کفر کا حکم لگایا جائے گا۔

’’اذا کان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر ووجہ واحد یمنع فعلٰی المفتی ان یمیل الی ذلک الوجہ الا اذا صرح بارادۃ توجب الکفر۔ فلا ینفعہ التاویل حینئذ۔ کذافی البحر الرائق‘‘

(فتاویٰ عالمگیری الباب التاسع باحکام المرتدین قبیل باب البغاۃ ج۲ ص۴۲۰)

179

{جب مسئلہ میں کئی وجہیں ہوں کہ واجب کریں کفر کو اور ایک وجہ ہو کہ منع کرتی ہو کفر کو۔ لازم ہے مفتی کو کہ دیکھئے اس ایک وجہ کی طرف۔ مگر جب تصریح کی ایسی مراد کی جو کفر واجب کرے تو کوئی مانع نہ ہو دیگر تاویل اس وقت فائدہ نہ دے گی۔ ایسا ہی ہے البحرالرائق میں۔ ایسا ہی ہے خلاصہ بزازیہ میں۔}

چوتھا شبہ: یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی کلمہ کفر کسی تاویل کے ساتھ کہا جاوے تو کفر کا حکم نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں بھی وہی تصریحات فقہاء سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ حضرات فقہاء اور متکلمین کی تصریحات موجود ہیں کہ تاویل اس کلام اور اس چیز میں مانع تکفیر ہوتی ہے جو ضروریات دین میں سے نہ ہو۔ لیکن ضروریات دین میں اگر کوئی تاویل کرے اور اجماعی عقیدہ کے خلاف کوئی نیا معنی تراشے تو بلاشبہ اس کو کافر کہا جائے گا۔ اسے قرآن مجید الحاد کہتا ہے اور حدیث نے اس کا نام زندیق رکھا ہے۔ زندیق اسے کہتے ہیں جو مذہبی لٹریچر بدلے۔ الفاظ کی حقیقت بدل دے۔

محمد بن ابی بکرq حاکم مصر نے حضرت علیq کی خدمت میں لکھا کہ دو مسلمان زندیق ہو گئے ہیں۔ ادھر سے جواب دیاگیا اگر توبہ کر لیں تو قتل سے بچ گئے۔ نہیں تو گردن ماردو۔ روایت کیا اس کو امام شافعی اور بیہقی نے زندیق کا لفظ (کنزالعمال ج۳ ص۹۳) سے لیا ہے۔ زندیق فارسی لفظ ہے جس کو عربی میں لیاگیا ہے۔ علماء کی کتابوں میں اس کا نام باطنیت آتا ہے۔ یہ تینوں چیزیں ایک ہی معنی رکھتی ہیں۔ کفر صریح ہیں۔ معانی آلاثار کتاب الحدود، (باب حد الخمر ج۲ ص۸۹) میں ہے۔ امام طحاوی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت نقل کی ہے اہل شام کی ایک جماعت نے شراب پی اور آیت کریمہ: ’’لیس علی الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا (المائدہ:۹۳)‘‘ کی تحریف کر کے شراب کو حلال قرار دیا۔ اس وقت یزید ابن ابی سفیان شام کے حاکم تھے۔ انہوں نے حضرت فاروق اعظمq کو یہ واقعہ لکھا۔ فاروق اعظمq نے جواب میں لکھا کہ ان لوگوں کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیجئے۔ جب یہ لوگ حضرت فاروق اعظمq کی خدمت میں پہنچے تو صحابہi اور تابعینw سے ان کے معاملہ میں مشورہ ہوا۔ سب نے یہ رائے دی کہ یا امیرالمؤمنینq ’’تریٰ انہم قد کذبوا علی اﷲ وشرعوا فی دینہم مالم یاذن بہ اﷲ فاضرب اعناقہم‘‘ {یعنی انہوں نے اﷲتعالیٰ پر افتراء کی ہے اور دین میں ایک ایسی بات جاری کی جس کی اﷲتعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔ اس لئے ان کی گردنیں ماردیجئے۔ لوگوں نے یہ رائے دی۔}

مگر حضرت علیq ساکت رہے۔ حضرت فاروق اعظمq نے پوچھا کہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: ’’اریٰ ان تستیبہم فان تابوا ضربتہم ثمانین بشربہم الخمرو ان لم یتوبوا ضربت اعناقہم قدکذبوا علی اﷲ وشرعوا فی دینہم مالم یاذن بہ اﷲ فاستتابہم فتابوا فضربہم ثمانین ثمانین‘‘ {میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ ان سے کہیں کہ اس خیال سے توبہ کرو۔ اگر وہ توبہ کریں تو ہر ایک کو ۸۰،۸۰ کوڑے لگائیں اور اگر توبہ نہ کریں تو ان کی گردنیں ماردی جائیں۔ کیونکہ یہ لوگ اﷲتعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں اور دین میں ایسی بات جاری کرتے ہیں جس کی اﷲتعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔}

یہ واقعہ حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی نے شرح فتح الباری میں بحوالہ مسند عبدالرزاق مصنف ابن ابی شیبہ نقل فرمایا ہے۔

(فتح الباری الحدود باب ضرب بالجرید والنعال پارہ:۲۷، ج۱۲ ص۶۰)

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت کے کسی لفظ کو بحال رکھے اور اس کی حقیقت کو بدل دے اور مقابلہ ہو متواترات کا تو وہ کفر صریح ہے۔ (ان لوگوں نے قرآن کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ بے جا تاویل کی تھی جس پر قتل کا حکم دیاگیا)

180

وزیر حمد بن ابراہیم یمانی لکھتے ہیں:’’مثل کفرا الزنا دقۃ والملاحدۃ۔ الی ان قال وتلعبوا بجمیع آیات کتاب اﷲ عزوجل فی تاویلہا جمیعا بالبواطن التی لم یدل علی شیٔ منہا دلالۃ ولا امارۃ ولالہا فی عصر السلف الصالح اشارۃ۔ وکذلک من بلغ مبلغہم من غیرہم فی تصفیۃ آثار الشریعت ورد العلوم الضروریۃ التی نقلتہا الامۃ خلفہا عن سلفہا‘‘

(ایثار الحق علی الخلق ص۴۴۵)

{جیسے کفر زندیقوں اور ملحدوں کا کھیل اور تمسخر کیا انہوں نے قرآن مجید کی سب آیتوں کے ساتھ اور تاویل کی ان آیتوں کی ان باطنی چیزوں کے ساتھ جس پر نہ لفظوں کی دلالت ہے نہ نشان ہے۔ نہ سلف کے زمانہ میں کوئی اشارہ ہے اور اس طرح ان زندیقوں اور ملحدوں جیسے وہ لوگ بھی ہیں جو ان ہی کی صفت کے ہوں اور شریعت کے نشان مٹانے میں اور بدیہی علوم کو رد کرنے میں جس کو پچھلی نسلوں نے اگلی نسلوں سے لیا ہے۔}

یہاں تک میرے بیان سے اصولی طور پر کفر اور ایمان کی شرعی حقیقت اور یہ بات واضح ہوچکی کہ ایک مسلمان کس قسم کے افعال یا اقوال کی وجہ سے کبھی کافر اور خارج از اسلام ہوجاتا ہے۔

کفر مرزا پر علماء کا فتویٰ

اس کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانی مدعی نبوت نے کن ضروریات دین کا انکار کیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ باجماع امت کافر مرتد قرار دئیے گئے اور ہندوستان کے تمام اسلامی فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے۔ ان کے کفر اور ارتداد پر نیز ان کے متبعین کے کفر اور ارتداد پر متفق ہوگئے۔

رسالہ (القول الصحیح فی مکائد المسیح ص۱۵) مرتبہ مولوی سہول صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند، الحال پرنسپل کالج شمس الہدیٰ پٹنہ، عظیم آباد نے ایک فتویٰ مرتب کیا ہے جس پر بہت سے علماء کے دستخط ہیں اور مولانا محمود حسن صاحب شیخ الہند کے بھی اس پر دستخط ہیں۔ شیخ الہند صاحب نے ایک دو سطریں ہی لکھی ہیں جو بالفاظ ذیل ہیں: ’’مرزا علیہ مایستحقہ کے عقائد واقوال کا امور کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے جس کا انکار کوئی منصف صاحب فہم نہیں کر سکتا۔ جس کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔‘‘

مصر کا فتویٰ بھی اس کے متعلق چھپا ہوا موجود ہے۔ شام کا بھی موجود ہے۔ شام کا مشہور رسالہ ’’خلاصۃ الرد فی انتقاد مسیح الہند‘‘ از قلم محمد ہاشم الرشید الخطیب الحسینی القادری ۱۳۴۴ھ ہے۔ اس میں سے چند سطور کا مطلوب یہ ہے کہ تیسری کلام وہ جو کہ میں نے رسالہ کے ص۲،۳،۴ پر نقل کی ہے۔

’’وہ شہادت دیتی ہے اور حکم کرتی ہے تجھ پر کہ تو کافر ہے۔ نہیں داخل ہوا تو دین اسلام میں اور ایسا ہی تیرا مسیح ہندی اور جو اس کا پیرو ہے۔‘‘ آگے لکھتے ہیں: ’’اسکندرانی اور دیگر سب جرائد نے تمہارے رد کا اعلان کیا ہے۔ مضامین لکھے ہیں۔ سارے مسلمان اس یقین پر ہیں کہ تم ملحد اور کافر ہو۔‘‘

دوسرا فتویٰ علمائے ہندوستان کا ہے جو شائع شدہ ہے اور جس کا نام ’’استنکاف المسلمین‘‘ ہے جو سال ۱۳۳۸ھ میں شائع ہوا۔ مصر کے فتویٰ کا ترجمہ جو انجمن تائید الاسلام گوجرانوالہ نے اپنے رسالہ ’’کفر مرزا‘‘ میں شائع کیا ہے کہ:

181

غلام احمد ہندی کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا محمدa خاتم الانبیاء ہیں۔ مگر غلام احمد نے کہا کہ میرا مقصد ختم نبوت سے ختم کمالات نبوت ہے۔ جو سب سے افضل رسول اور انبیاء ہمارے نبی پر ختم ہوئے اور میرا عقیدہ ہے کہ بعد آنحضرتﷺ کے کوئی نبی نہیں۔ بجز اس کے جو آپ کی امت میں ہو اور پوری طرح سے آپ کا پیرو ہو۔ جس نے سارا فیض آپ کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کی روشنی سے روشنی پائی ہو تو وہاں پر مغائرت اور غیریت کا مقام نہیں اور نہ کوئی دوسری نبوت ہے اور یہ کوئی حیرت کا مقام نہیں۔ وہ تو خود احمد ہی ہیں جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوئے ہیں۔ کوئی شخص اپنی صورت کو جس کو اﷲتعالیٰ آئینہ میں دکھاتا اور ظاہر کرتا ہے۔ غیریت نہیں کرتا۔ پس جو شخص نبی سے ہو اور نبی کے اندر ہو تو وہ ہوبہووہی ہے۔

یہ کلام اس باب میں بالکل صاف ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی بھی آپa کے بعد نبوت کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہے۔ یعنی کہ نبی کریمa کے بعد وہ بھی نبی، آپa کے اتباع سے ہے اور وہ صورت نبیa سے ہے اور ہوبہو محمدa ہے۔ یہ صریح کفر ہے کہ اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘ کے صریح مخالف ہے۔ یہ ان بہت سے دعوؤں میں سے ایک قلیل ہے جو کذب غلام احمد ہندی پر دلالت کرتے ہیں اور جن کو اس نے اپنی کتاب (مواہب الرحمن ص۶۹،۷۰، خزائن ج۱۹ ص۲۸۷) میں تحریر کیا ہے۔

مغفور مصطفی کامل پاشارئیس حزب الوطن اور مالک اخبار اللواء نے بھی اس کا رد لکھا ہے۔ غلام احمد کو ضال اور مضل لکھا ہے اور اس کے اقوال کو دیوار پر پھٹکنے اور نجاست کی طرح الاؤ پر ڈال دینے کے لئے کہا ہے۔

کاتب فتویٰ مفتی ملک مصر محمد نجیب اور علامہ طنطاوی جوہری ہیں۔ اصل فتویٰ میں نے دیکھا ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ جو اوپر بیان کیاگیا ہے درست ہے۔ یہ فتویٰ مصر میں علیحدہ شائع ہوا تھا اور میں محمد نجیب اور علامہ طنطاوی دونوں کو جانتا ہوں۔

رسالہ ’’استنکاف المسلمین‘‘ میں مفتی بھوپال کے بھی دستخط اور مہر ہے۔ انہوں نے اس سوال نکاح کے متعلق بھی ایک فتویٰ دیا ہوا ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کا اگر استیعاب کیا جاوے تو بہت سے متواترات شرعیہ کا انکار اور خلاف صریح سے صریح طور پر اس کے کلام میں موجود ہے۔ جن میں سے اس وقت چند چیزیں پیش کی جاتی ہیں جو ہمارے نزدیک اور ساری امت کے نزدیک موجبات کفر سے ہیں:

۱… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف۔

۲… نبوت کا دعویٰ اوراس کی تصریح کہ ایسی ہی نبوت مراد ہے جیسے پہلے انبیاء کی ہوتی رہی ہے۔

۳… وحی کا دعویٰ اور اپنی وحی کو قرآن کی طرح واجب الایمان قرار دینا۔

۴… عیسیٰؑ کی توہین۔

۵… آنحضرتﷺ کی توہین۔

۶… عام امت محمدیہ کی تکفیر کرنا، بجز اپنے چند مریدوں کے سب کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا۔ پچاس کروڑ مسلمانوں کو اولاد زنا قرار دینا۔ ان سب چیزوں کا دعویٰ کرنا۔ میں اپنے آخر بیان میں خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کروں گا۔

182

اس سے پہلے ہر ایک نمبر کے متعلق یہ بتلادینا چاہتا ہوں کہ یہ (مرزاقادیانی کی) سب چیزیں متواترات اور ضروریات دین کے خلاف ہیں اور اجماعی کفر ہیں۔

ختم نبوت کا انکار: ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔ آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من … الخ‘‘ خداوندی مشیت میں یہ مقدر تھا کہ انبیاء کی عمارت کو نبی کریمa پر ختم کیا جاوے اور جتنے کمال ہیں وہ آپa پر ختم ہو جائیں۔ اس کے بعد سلسلہ پیغمبری کا باقی رکھنا مشیّت نہیں ہے۔ اسی مشیّت کے ماتحت آپa کی اولاد نرینہ باقی نہ رہی۔

اس مقصود سے فرمان ہے قرآن مجید کا کہ نبی کریمa کی ابوت کا علاقہ تاآخر کسی کے ساتھ نہیں۔ ابوت کا علاقہ کسی بالغ مرد کے ساتھ تاآخر نہیں ہے۔ اس کی جا (جگہ) میں خاتم الانبیاء کی رسالت ہے۔ آپa کی رسالت کا علاقہ مستقبل کے لئے اور خاتم النّبیین کا علاقہ ماضی کے لئے ہے۔ پہلی کتابوں میں بھی آپa پر سلسلہ پیغمبر ختم کیاگیا اور تورات میں بالفاظ عربی یہ آیت ہے: ’’فابی مقرنج کا موخ یا قیم یخ۔ الاوتسما یمون بنی من قربک نعما انیمک کمثلک لملک مقیم لک الہک الیہ تسمعون‘‘ پیغمبر ایک، نبی ایک، تیرے قرابت داروں میں سے، تیرے بھائیوں میں سے، تجھ میں قائم کرے گا۔ تیرے لئے خدا تیرا، اس کی اعانت کرنی ہوگی۔

انجیل میں بلفظ عبرانی یوں ہے: ’’یحوہ مینائی وزادم مساعیر ہو منع تودباران‘‘ خدا سینا سے آیا۔ طلوع اس کا ساعیر پر ہوا اور استوا اس کا فاران پر ہوا۔

نبوت موسوی اور عیسوی اور محمدیa کی طرف اشارہ ہے اور ان کو کمال پر پہنچا کر چھوڑ دیا ہے۔ یہ عبارتیں کتاب ’’الملل والنحل‘‘ میں موجود ہیں اور دونوں عبارتیں تورات کی ہیں۔

ختم نبوت کے متعلق یہ آیت ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ بایں معنی کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد کسی کو عہدہ نبوت نہ دیا جائے گا۔ بغیر کسی تاویل وتخصیص کے، ان اجماعی عقائد میں سے ہے۔ جو اسلام کے اصولی عقائد میں سے سمجھا گیا ہے اور آنحضرتﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلٍ ہر مسلمان جس کو اسلام سے کچھ بھی تعلق رہا ہے اس پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ قرآن مجید کی بہت سی آیات سے اور احادیث متواتر المعنی سے جس کا عدد دوسو سے بھی زیادہ ہے اور قطعی اجماع امت سے روزروشن کی طرح ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعاً کافر مانا گیا ہے اور کوئی تاویل وتخصیص اس میں قبول نہیں کی گئی۔ منجملہ آیات کے اس وقت صرف ایک آیت پر اکتفاء کرتاہوں: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (الاحزاب:۴۰)‘‘

اس آیت سے ختم کا ثبوت بایں معنی کہ آنحضرتﷺ کی نبوت کے بعد کسی شخص کو عہدہ نبوت ہرگز نہ دیا جائے گا باجماع صحابہi تابعینw اور باتفاق مفسرینw ثابت ہے اور اس پر اجماع ہے جو شخص اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نکالے۔ وہ ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے منکر ضروریات دین سمجھا جائے گا۔ اس کے ثبوت کے لئے میں ائمہ تفسیر وحدیث کے اقوال بطریق اختصار پیش کرتا ہوں۔

حافظ ابن کثیر اس آیت کے تحت میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فہذہ الایۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ واذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الاولٰی والاخریٰ لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ فان کل رسول نبی ولا ینعکس وبذلک وردت احادیث المتواترۃ عن رسول اﷲa من حدیث جماعۃ من الصحابۃ‘‘

(ج۸ ص۷۹، طبع قدیم)

183

{یہ آیت نص (صریح ہے) اس میں کہ کوئی نبی نہیں ہے بعد خاتم الانبیاء محمدa کے اور جب کوئی نبی نہیں ہے تو کوئی رسول بھی نہیں ہے بطریق اولیٰ، کیونکہ مقام رسالت کا خاص ہے مقام نبوت سے۔ ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں اور اس کے موافق وارد ہوئیں متواتر حدیثیں نبی کریمa سے ایک جماعت صحابہi کی روایت سے۔}

امام موصوف کے اس کلام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ختم نبوت کو ثابت کرنے کی حدیثیں متواتر ہیں جن کا ایک بہت بڑا حصہ امام موصوف نے اس کے بعد نقل فرما کر فرمایا ہے:’’فمن رحمۃ اﷲ تعالٰی بالعباد ارسال محمدa الیہم ثم من تشریفہ لہم ختم الانبیاء والمرسلین بہ واکمال الدین الحنیف لہ قد اخبر اﷲ فی کتابہ ورسولہa فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ہذا المقام بعدہ فہو کذاب۔ افاک۔ دجال۔ ضال۔ مضل ولو تحرق وشعبد واتی بانواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلما محال وضلال عند اولی الالباب (تفسیر ابن کثیر ج۸ ص۹۱){خدا کی رحمت ہے اپنے بندوں پر کہ اپنے رسول محمدa کو بھیجا۔ پھر خداتعالیٰ نے آپa کو ختم نبوت اور رسالت سے مشرف فرمایا اور آپa پر دین حنیف کامل کیا۔ خبر دی ہے اﷲتعالیٰ نے اپنی کتاب میں سے اور اس کے رسول نے اس کو اپنی سنت متواترہ میں کہ کوئی نبی نہیں ہے بعد محمد رسول اﷲa کے، تاکہ جانے کہ جس نے دعویٰ کیا ہے۔ اس عہدہ کا بعد خاتم الانبیاء کے وہ جھوٹا ہے، بہتان تراش ہے، دجال ہے، گمراہ ہے، گمراہ کن ہے۔ اگرچہ کتنے حیلے اور شعبدے ایجاد کرے اور کتنے ساحرانہ طلسمات اور نیرنگیاں پیدا (ظاہر) کرے یہ سب محال اور گمراہیاں ہے۔}

اس آیت کی تفسیر میں شیخ محمود آلوسی، مفتی بغداد تحریر فرماتے ہیں روح المعانی میں جو ان کی تفسیر ہے اس پر ہے:’’والمراد بکونہ علیہ الصلٰوۃ والسلام خاتمہم انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی احد من الثقلین بعد تحیۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام بہا فی ہذا النشاۃ ولا یقدح فی ذلک… الٰی قول النبوۃ‘‘

(ج۷ ص۶۰، طبع قدیم)

{مراد نبی کریمa کے خاتم ہونے کی یہ ہے کہ بعد نبی کریمa کے کوئی اور اس عہدہ سے سرفراز نہ ہوگا۔ یہ نہیں ہے قدح کرنے والا (معارض) اس اجماع میں۔ جس میں امت نے اجماع کیا ہے اور حدیثیں تواتر کو پہنچ چکی ہیں اور قرآن مجید میں بھی یہ ہے بعض تفسیروں کی رو سے اور ایمان اس پر واجب ہے اور منکر اس کا کافر مانا گیا ہے۔}

قاضی عیاض اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ: ’’باب ماہو من الکفر اجمعت الامۃ علی حمل ہذا الکلام علی ظاہرہ وان مفہومہ المراد بہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ہؤلاء الطوائف کلہا قطعاً اجماعیا وسمعا‘‘

(شفاء مطبوعہ بریلی ص۳۶۲)

{اجماع کیا امت نے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے اور یہی مفہوم اس کی مراد ہے اس کے سوا کسی تاویل اور تخصیص کے تو کوئی شک نہیں ان سب طائفوں کے کفر اور الحاد میں۔ (جو اوپر بیان ہوئے) ازروئے اجماع کے اور ازروئے نصوص کے۔}

حدیث کے ذخیرہ میں سے میں صرف ایک حدیث پر اکتفاء کرتا ہوں: ’’کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثروں قالوا فماتأمرنا فوابیعۃ الاول فالاوّل اعطوہم حقہم (بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء ص۲۹۱)‘‘نبی کریمa نے فرمایا: بنی اسرائیل کی نگرانی (نگہبانی) انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک پیغمبر فوت ہو جاتا تو دوسرا آجاتا تھا۔ میرے بعد میں کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ عرض کی گئی

184

کہ پھر کیا ہدایت (حکم) ہے اس وقت۔ فرمایا کہ وفاداری کرو۔ بیعت اوّل فی الاول کی (ہر ایک کے بعد کے دوسرے کی بیعت پوری کرو) عطا کرو ان کو حق ان کا، کیونکہ حقداروں سے پوچھ لے گا۔ جو رعیت ان کی حوالگی (سپردگی) میں دی گئی تھی۔

یہی حدیث امام مسلم نے کتاب الامارۃ میں دی ہے۔ اس کے بعد اجماع امت اور چند بزرگان ملت کے اقوال پیش کرکے اس بحث کو ختم کرتاہوں۔

سب سے پہلا اجماع

اسلام میں سب سے پہلا جو اجماع منعقد ہوا وہ اس پر تھا کہ مدعی نبوت کو بغیر اس تحقیق اور تفتیش کے کہ اس کی تاویل کیا ہے اور کیسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے؟ کفر اور ارتداد ہے اور سزا اس کی قتل ہے۔ صحابہ کرامi کے اجماع سے صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدعی نبوت پر جہاد کیاگیا اور اس کو قتل کیاگیا۔ عبارت اس حدیث کی بالفاظ ذیل ہے جو ایک صفحہ تک چلی جاتی ہے۔

ملّا علی قاری فرماتے ہیں: ’’مع نبیناa ای فی زمنہ کمسیلۃ الکذاب والاسود العنسی اوادعی نبوۃ احد بعدہ فانہ خاتم النّبیین بنص القرآن والحدیث فہذا تکذیب اﷲ ورسولہa کالعیسویۃ (شرح شفاء ج۴ ص۵۰۶تا۵۰۹)‘‘ {جس نے دعویٰ کیا نبی کریمa ہمارے کے بعد نبوت کا۔ جیسے مسیلمہ کذاب کے اور اسود عنسی کے یا بعد کے عیسوی فرقہ کے یا تجویز (جائز) کیا نبوت کا کسب ریاضت سے ان سب کا حکم کفر ہے۔ (بلاشبہ وہ کافر ہیں)}

خفّاجی نے شرح شفاء میں اسی قسم کا مضمون لکھا ہے جو کتاب مذکورہ بالا کے حاشیہ پر ہے۔ ابن حزم لکھتے ہیں: ’’فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہm نبیا فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اﷲa فی الآثار المسندۃ الثابۃ فی نزول عیسٰی بن مریمm فی آخرالزمان (کتاب الملل والنحل ج۴ ص۱۸۰، باب ذکر العزائم الموجبۃ الی الکفر)‘‘ {کیسے جائز ہے کہ کوئی مسلمان ہو ثابت کرے نبی کریمa کے کوئی پیغمبر زمین میں سوائے اس کے استثناء کیا خود نبی کریمa نے متواتر حدیثوں میں وہ کیا ہے، نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم۔}

وہی مصنف ابن حزم اس کتاب کے (ج۳ ص۲۴۹) پر لکھتے ہیں: ’’اوان بعد محمدa نبیاً غیر عیسٰی ابن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیر لصحۃ قیام الحجۃ بکل ہذا علی کل احد‘‘ {یا یہ کہ بعد محمدa کے کوئی نبی ہو۔ سوائے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے۔ کیونکہ دو آدمیوں کا بھی اختلاف ایسے شخص کے کفر میں نہیں ہے۔}

یہاں تک تحقیق کے ساتھ یہ بات ثابت ہوگئی کہ ختم نبوت اپنے مشہورومعروف معنی کے ساتھ قرآن وحدیث کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے اس کا منکر یا تاویل وتحریف کرنے والا کافر ہے۔

دعویٰ نبوت:

۲… امردوم (ب) کے متعلق کہ ادّعاء نبوت کفر ہے۔ میں دلائل بیان کرتا ہوں اس امر کے ثابت کرنے کے لئے وہ تمام آیات واحادیث اور اقوال سلف کافی دلائل ہیں۔ مزید برآں چند عبارات اور پیش کی جاتی ہیں۔ ملّا علی قاری کلمات کفر کی بحث میں فرماتے ہیں: ’’دعوی النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع (کتاب شرح فقہ اکبر مطبوعہ گلزار محمدی لاہور ص۱۹۱)‘‘ {دعویٰ نبوت کرنا ہمارے نبیa کے بعد اجماعی کفر ہے۔}

185
’’اذا لم یعرف الرجل ان محمداa آخر الانبیاء فلیس بمسلم کذافی یتیم الدہر (فتاویٰ عالمگیری باب۹ص۲۶۳، کتاب السیر ج۲)‘‘

{جب نہ پہچانے (کوئی) شخص کہ نبی کریمa آخرانبیاء ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسی طرح یتیم الدہر میں ہے۔}

دعویٰ وحی:

۳… ادّعاء وحی کفر ہے۔ اس کے تحت حسب ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ وحی لازم نبوت ہے جو شخص اس کا دعویٰ کرے اگرچہ (بظاہر) نبوت کا مدعی نہ ہو۔ وہ درحقیقت نبوت ہی کا مدعی ہے اور کافر ہے۔ جیسا کہ بحوالہ شرح شفاء پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بعض الفاظ یہ ہیں: ’’وکذالک فمن ادعٰی منہم انہ یوحی الیہ وان لم یدع ان النبوۃ الی ان قال فہولاء کلہم کفار مکذبون النبیa‘‘ جس نے دعویٰ کیا ان لوگوں میں سے کہ اس کی طرف وحی آتی ہے۔ کافر ہے۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کیا ہو۔

(نسیم الریاض شرح ملّا علی قاری ج۴ ص۵۰۸)

کشف: اسے کہتے ہیں کہ کوئی پیرایہ (واقعہ) آنکھوں سے دکھلایا۔ جس کی مراد کشف والاخود نکالے۔ دل میں کچھ مضمون ڈال دیا اور سمجھا دیا جاوے تو یہ الہام ہے۔

خدا نے پیغام بھیجا اپنے ضابطہ کا۔ وہ وحی ہے۔ وحی قطعی ہے اور کشف والہام ظنی ہیں۔ بنی نوع آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیروں کے لئے کشف یا الہام۔ یہ تصوری (معنوی) وحی ہوسکتی ہے شرعی نہیں۔

حضرت عیسیٰؑ کی توہین

موجبات کفر قادیانی میں امر چہارم! یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی توہین اور امرپنجم! آنحضرتﷺ کی توہین ہے۔ توہین دو قسم پر ہے۔ صریح یا تعریض۔ تعریض اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے حوالہ سے نقل کی اور مقصود اس سے یہ ہو کہ اس شخص کے عیوب اور نقائص لوگوں میں قبول ہو جائیں۔ گویا کہ کام اپنا کرتا ہے کندھے پر دوسرے کے رکھ کر۔ یہ کفر صریح ہے مگر میں توہین کی صریح مثالیں پیش کروں گا۔

بعض توہینوں کو مستند کرتا ہے قرآن سے یعنی قرآن اس کی سند میں پیش کیا کرتا ہے اور تفسیر قرآن کی اس سے کی جاتی ہے اور کسی چیز کو کہتا ہے کہ حق بات یہ ہے کہ یعنی اس پر اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ اب میں سندات پیش کرتا ہوں کہ توہین انبیاءؑ کفر ہے۔

یہ بات اوّل تو محتاج دلیل نہیں بلکہ ہرمذہب پرست انسان کے نزدیک مسلّمات میں ہے۔ تاہم چند مختصر دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ نص قرآن نبی کا کلام سن کر بطور اعراض سرپھیر دینا بھی کفر قرار دیا گیا ہے۔ قال اﷲتعالیٰ: ’’واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اﷲ لووّا رؤسہم ورایتہ یصدون وہم مستکبرون (المنافقون:۵)‘‘{جب کہا جاتا ہے انہیں کہ آؤ استغفار کریں تمہارے لئے رسول اﷲ۔ پھیرتے ہیں اپنے سروں کو اور دیکھے گا تو انہیں اعراض کرتے ہیں اور کبر کرتے ہیں۔}

اور بحکم آیت کریمہ: ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ یہ حکم تمام انبیاء پر شامل ہے۔ اس لئے فتاویٰ کی مشہور کتاب پر ہے: ’’الکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حداولا تقبل توبتہ مطلقاً‘‘ (درمختار اور شامی (طبع جدید) باب المرتدین ج۴ ص۲۳۱)

’’جو شخص سب کرے یعنی برابھلا کہے یا ناسزا کہے کسی نبی کو وہ قتل کیا جائے گا حد کے طور پر اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔‘‘

186

دنیا میں اور جو کوئی شک کرے اس کے کفر میں اور عذاب (سزا) میں وہ بھی کافر ہے۔ حافظ ابن تیمیہ حافظ حدیث کہتے ہیں: ’’فعلم ان سب الرسل والطعن فہم ینبوع جمیع انواع الکفر وجماع جمیع الضلالات وکل کفر فرع منہ‘‘

(الصارم المسلول ص۲۴۳)

’’جانا گیا سب (گالی) اور ناسزا کہنا پیغمبروں کو اور طعن کرنا سرچشمہ ہے۔ جمیع انوار کفر کا اور مجموعہ ہے جملہ گمراہیوں کا اور ہر کفر اس کی شاخ ہے۔‘‘

قاضی عیاض کی شفاء ص۳۲۰ میں اس بحث پر چند فصلیں لکھی گئی ہیں۔ جس میں ثابت کیا ہے کہ کسی نبی کی ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے۔ عبارت باب اوّل سے شروع ہوکر اخیر باب ثانی تک جاتی ہے۔ اسی کتاب پر توہین انبیاء کرنے والے کے قتل کے متعلق لکھا ہے:’’الدلیل السادس۔ اقاویل الصحابہ فانہا نصوص فی تعیین قتلہ مثل قول عمر من سب اﷲ تعالٰی اوسب احداً من الانبیاء فاقتلوا‘‘

(الصارم المسلول ص۲۸۲)

’’چھٹی دلیل اقوال ہیں صحابہi کے۔ وہ نص ہیں تعیین میں قتل کرنے اور ایسے شخص کے جیسے قول عمر فاروقq کا جس نے ناسزا (گالی دی) کہا خدایا کسی پیغمبر کو، اس کو قتل کردو۔‘‘

اس کتاب کے ص۵۲۷ پر ہے کہ: ’’قال اصحابنا التعریض بسب اﷲ وسب رسول اﷲa ردۃ وہو موجب للقتل کالتصریح‘‘{امام احمد فرماتے ہیں جس نے ناسزا کہا نبی کریم کو یا تنقیص کی، مسلمان ہو یہ شخص یا کافر ہو۔ سزا اس کی قتل ہے۔ کہا ہمارے علماء نے اشارہ کرنا یعنی تعریض کرنا خدا کی سب (گالی) کا اور رسول کی سب (گالی) کا۔ ارتداد ہے اور موجب قتل ہے جیسے صریح۔}

تکفیر امت: ساری امت حاضرہ کی تکفیر کرنے والا بھی خود کافر ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی، مدعی نبوت نے اپنے چند مریدوں کے سوا چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دیا ہے اور سب کو اولاد زنا کہا۔ یہ بھی منجملہ موجبات کفر کے ہے۔ مرتد کا حکم شرعی یہ ہے قرآن مجید میں ہر قسم کے کافروں کے متعلق یہ فیصلہ صاف مذکور ہے: ’’لاہن حل لہم ولاہم یحلون لہن (الممتحنہ:۱۰)‘‘

’’ویبطل منہ اتفاقا ما یعتمد الملۃ وہی خمس، النکاح۔ الذبیحۃ والصید والشہادۃ۔ والارث‘‘

(درمختار اور شامی (طبع ثانی) ج۴، باب المرتدین ص۲۴۹)

’’باطل ہے بسبب ارتداد کے ہر وہ شئے جس کی بناء ہو ملت پر۔ وہ پانچ چیزیں ہیں جو بناء ہیں ملت پر۔ نکاح، ذبیحہ، شکار، شہادت اور ارث یعنی ارتداد سے یہ چیزیں منقطع ہو جائیں گی۔‘‘

اسی کتاب کے جلد ثانی باب نکاح الکافر میں ہے: ’’وارتداد احدہما ای الزوجین (فسخ) فلا ینقض عددا (عاجل) بلا قضاء‘‘ ارتداد، احد الزوجین کا یعنی مرد عورت میں سے ایک فسخ (نکاح) ہے فوری، محتاج نہیں ہے حکم حاکم کا۔

توہین انبیاء: اب توہین انبیاء کے قول مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے نقل کئے جاتے ہیں:

  1. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرابتمام

  2. انیباء گرچہ بودہ اندبسے

    من بہ عرفان نہ کمترم زکسے

187
  1. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست و لعین

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

باہمی فضیلت کا باب انبیاء میں فرق مراتب کا ہے اور جو پیغمبر افضل ہے وہ کسی قرینہ سے ظاہر ہو جائے گا وہ دوسرے سے افضل ہے اور نبی کریمa نے اپنی امت تک یہ پہنچایا ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس سے فوق متصور نہیں ایسی فضیلت دینا ایک پیغمبر کو اگرچہ واقعی ہو کہ جس میں دوسرے کی توہین لازم آتی ہو کفر صریح ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسٰی کجا است تا بنہد پابہ منبرم

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

قرآن مجید نے یہود اور نصاریٰ کے عقائد کی بیخ کنی کی ہے اور ایک حرف بھی موسیٰ اور عیسیٰn کی ہتک کا اشارۃً یا کنایۃً ذکر نہیں فرمایا۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور یہ کہ:

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

پہلی عبارت کے ساتھ آگے یہ الفاظ ہیں کہ: ’’اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید سے مسیح ابن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(دافع البلاء ص۲۰،۲۱، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰،۲۴۱)

’’مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہود ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

اس سے تعریض اور تصریح دونوں قسم کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔ ’’عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

اس سے صریح عیسیٰؑ کی توہین ٹپکتی ہے۔ ’’حق بات‘‘ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرزاغلام احمد قادیانی کے اپنے فیصلہ کے الفاظ ہیں۔

لفظ یسوع دراصل عبرانی میں ہے۔ ایشوع جس کا ترجمہ ہے نجات دہندہ۔ اس سے یسوع بنا اور اس کی تعریب ہو کر یعنی زبان عربی میں آکر لفظ عیسیٰ بنا اور یہ تعریب قرآن پاک سے شروع نہیں ہوئی۔ نزول قرآن سے پہلے عرب کے نصاریٰ عیسیٰؑ کو عیسیٰ ہی بولتے تھے۔

مرزاقادیانی کے ہاں بھی یسوع اور عیسیٰ ایک ہی ذات ہیں۔ جیسے لکھتا ہے کہ: ’’مسیح ابن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(توضح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)

اس سے ثابت ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ نبی کی ہی توہین کی۔ توہین کی ایک تیسری قسم لزومی ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ عبارت اس لئے نہیں لائی کہ تنقیص کرے لیکن وہ عبارت صادق نہیں آتی۔ جب تک تنقیص موجود نہ ہو۔ اس قسم کے تحت

188

نبی کریمa کی تنقیص پائی جاتی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے ’’جناب رسول اﷲa کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھی ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)

’’اور اپنے معجزات کی دس لاکھ لکھی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ج۵ ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

اس ضمن میں ایک شعر بالفاظ ذیل ہے:

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان اتنکر

(کتاب اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

’’نبی کریم کے لئے گہن لگا چاند کو اور میرے لئے گہن لگا سورج اور چاندکو۔ کیا تجھے اے مخاطب اس سے کچھ انکار ہے۔‘‘ یہ بھی توہین لزومی ہے۔

ادّعاء نبوت: صریح وجہ کفر ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

۱… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۲… ’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

۳… ’’اور اگر کہو صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوئے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

۴… ’’ہاں! اگر یہی اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھلائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھلائے ہوں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)

۵… ’’اب یہ ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت باربار بیان کیاگیا ہے کہ یہ خدا کافرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (دشمن سے مراد یہ ہے کہ جو اسے نہ مانے)‘‘

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

۶… ’’میں صرف پنجاب کے لئے ہی مبعوث نہیں ہوا ہوں بلکہ جہاں تک دنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کے واسطے مامور ہوں۔‘‘

(حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۹۲، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰)

۷… ’’تم سمجھو کہ قادیان صرف اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶)

۸… ’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)

189

حضرت عیسیٰؑ کی توہین کے متعلق ایک اور صریح عبارت یہ ہے کہ: ’’اور جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ کہا جاوے کہ کیوں تم اپنے تئیں مسیح ابن مریم سے افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)

تکفیر امت: تکفیر امت حاضرہ کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کے حسب ذیل اقوال ہیں: ’’ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکر کو مومن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مواخذہ سے بری ہے اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مومن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل یہ کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرا یہ کہ مثلاً مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)

مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا ہے:’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المؤدۃ والمحبۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا الذین ختم اﷲ علٰی قلوبہم وہم لایقبلون‘‘

(آئینہ کمالات ص۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۸)

’’میری کتابیں پھیل چکی ہیں۔ دیکھتا ہے ان کی طرف ہمہ (تمام) مسلمان محبت اور مؤدت کی آنکھ سے۔ نفع پاتا ہے ان کے معارف سے اور مجھے قبول کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے میرے دعویٰ کی۔ مگر نسل زانیہ عورتوں کی جن کے دل پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ قبول نہیں کرتے۔‘‘

وحی کا دعویٰ اور اس کو قرآن کے برابر ٹھہرانا

۱… مرزاقادیانی کہتا ہے کہ: ’’میں خداتعالیٰ کی ۲۳برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جومجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۲… ’’مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خداکا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۲۱، خزائن ج۲۲ ص۲۱۱)

۳… ’’پھر اس کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اﷲ ہے: ’’محمد رسول اﷲ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

۴… ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اﷲ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھا سکتاہوں کہ وہ وحی پاک میرے پر نازل ہوتی ہے۔ وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ وحضرت محمدa پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اﷲ ہوں۔ مگر پیش گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۴، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۵)

190

تتمہ بیان سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بااقرار صالح

۲۸؍اگست ۱۹۳۲ء

میں آج حضرت صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمq کا قول سب (گالی) نبی کے متعلق پیش کرتا ہوں۔ حرب کی ایک روایت امام ابن تیمیہ حافظ حدیث سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص فاروق اعظمq کے سامنے لایا گیا جس نے سب (گالی) کی تھی نبی کریمa کی۔ فاروق اعظمq نے اسے سزائے موت دی۔

(الصارم المسلول حافظ ابن تیمیہ ص۱۹۵، ۴۱۸ پر یہ واقعہ کتاب مذکور میں درج ہے)

فاروق اعظمq کا ارشاد ہے:’’ثم قال عمر من سب اﷲ تعالٰی وسب احدا من الانبیاء فاقتلوہم‘‘جس نے ناسزا (برابھلا) کہا خدا کو یا کسی پیغمبر کو اسے سزائے موت دی جائے۔

صدیق اکبرؓ کا حکم

کسی عورت نے سب کی ہوئی تھی نبی کریمa کی نجران میں۔ وہاں کے حاکم مہاجر ابن امیہ نے اسے کوئی سزا دی ہوئی تھی۔ صدیق اکبرؓ کا حکم پہنچا کہ پہلے مجھے اطلاع ہوتی تو سب نبی کی یہ سزا نہیں بلکہ اس کی سزا قتل ہے۔ لفظ صدیق اکبرؓ کے یہ ہیں: ’’فلولا ما قد سبقتنی فیہا لا مرتک بقتلہا۔ لان حد الانبیاء لایشبہ الحدود فمن تعاطی ذلک من مسلم فہو مرتد ومعاہد فہو محارب غادر‘‘ اگر تو پہلے کچھ نہ کر چکا ہوتا میں امر کرتا اس عورت کے قتل کا کیونکہ انبیاء کے سب کے حد اور حدوں کے مشابہ نہیں جو کوئی مسلمان ایسا کرے وہ مرتد ہے اور جو کوئی ذمی ایسا کرے وہ جنگ کرنے والا ہے ہم سے اور غدر کرنے والا ہے۔

یہ تین خلیفوں کے احکام ہیں۔ اس مسئلہ پر کل امت محمدیہﷺکا اجماع بلافصل ہے۔ حافظ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ سب نبی پر ایک علیحدہ کتاب لکھی ہے جو ’’الصارم المسلول‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ دوسری کتاب السبت المسلول جو شیخ تقی الدین السبکی کی تصنیف شدہ ہے دونوں آٹھویں صدی کے حافظ حدیث ہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی یہ نہیں سنایا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھواء تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

ایک شعر مرزاغلام احمد قادیانی کا بالفاظ ذیل ہے:

  1. ہر نبی زندہ شد با آمدنم

    ہر رسول نہاں با پیراہنم

(کتاب نزول مسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

191

علماء نے جب تورات اور انجیل محرف سے کوئی چیز محرف نقل کی ہے۔ نتیجہ یہ نکالا ہے کہ یہ کتابیں تحریف شدہ ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عیسیٰؑ نالائق تھے۔ (معاذ اﷲ) علماء کے طریق میں اور مرزاغلام احمد قادیانی کے طریق میں کفر واسلام کا فرق ہے، جو عبارت (حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵) سے پڑھی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قادیانی اور مرزاغلام احمد قادیانی اپنے منکرین کو کافر کہتے ہیں۔ یہی مضمون ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ’’اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں شان اعلیٰ رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہی سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

(حاشیہ تریاق القلوب ص۳۲۵، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)

تریاق القلوب کی عبارت مذکورہ کو پہلی عبارتوں کے ساتھ جمع کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزاغلام احمد قادیانی فقط نبوت ہی کے مدعی نہیں ہیں بلکہ شریعت جدیدہ کے بھی مدعی ہیں۔ جیسا کہ (اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲) کی عبارت سے بھی یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے۔

اصول یہ باندھا کہ جو صاحب شریعت ہو اس کا انکار کفر ہے۔ پھر ساری امت حاضرہ کو جو منکر ہو اس کو کافر کہا۔ تو گویا دعویٰ شریعت جدیدہ کا کیا۔ پھر اس پر بس نہیں کی۔ تصریح کر دی کہ شریعت امرونہی کا نام ہے۔ امر جیسا میری وحی میں موجود ہے لیکن محض مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لئے چند الفاظ ظلی، بروزی وغیرہ گھڑے ہوئے ہیں۔ جس کی آڑ میں ذیل کی تحریف کرتے ہیں۔ اس لئے میں ان الفاظ کی حقیقت خود مرزاغلام احمد قادیانی کے کلام سے واضح کر دینا چاہتا ہوں۔

بروزی، ظلی، مجازی نبوت کی اصلیت

خود مرزاغلام احمد قادیانی کا کلام ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’غرض جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک مانا گیا ہے کہ مراتب وجود یہ دوریہ ہیں۔ اسی طرح ابراہیمm نے اپنی خو، طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے قریباً اڑھائی ہزار برس اپنی وفات کے بعد پھر عبداﷲ پسر عبدالمطلب کے گھر میں جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔‘‘

(تریاق القلوب حاشیہ ص۳۷۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷)

یہ ہے حقیقت مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک بروزی، ظلی اور مجازی کی۔ دوسرے جنم کا عقیدہ اسلام میں کفر ہے اور یہ ہندؤں کا عقیدہ ہے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کا قول اس طرح مذکور ہے: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے ہیں۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمa سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریمa کے خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمa کے ظل ہیں۔‘‘

(کتاب قول فیصل ص۶، بحوالہ اخبار الحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء، ملفوظات احمد ج۴ ص۱۴۲، مرتبہ منظور الٰہی)

192

ان عبارات سے نتائج ذیل برآمد ہوتے ہیں:

الف… ’’مرزاغلام احمد قادیانی نے جو اپنے کو ظلی اور بروزی نبی کہہ کر دنیا کو یہ دھوکا دینا چاہا ہے کہ اس کی نبوت، نبوت محمدیہ: ’’علی صاحبہا الصلٰوۃ والتحیۃ‘‘ سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ یہ بالکل لغو اور بیہودہ خیال ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو مرزاغلام احمد قادیانی کے اس قول مذکور سے یہ لازم آتا ہے کہ سرکاردوعالمa معاذ اﷲ کوئی چیز نہیں تھے بلکہ آپa کا تشریف لانا بعینہٖ حضرت ابراہیمm کا تشریف لانا ہے۔ گویا کہ ابراہیمm کے یہ دور ہیں۔ گویا اصل ابراہیمm ہوئے اور آئینہ رسولﷺ ہوئے اور چونکہ ظل اور صاحب ظل میں مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک عینیت ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے کو عین محمدa کہتے ہیں جب محمدa بروز ابراہیمm ہوئے تو عین ابراہیمm ہوئے۔ اس سے صاف لازم آتا ہے کہ معاذ اﷲ رسول اﷲa کا کوئی وجود بالاستقلال نہیں اور نہ آپa کی نبوت کوئی مستقل شئے ہے۔‘‘

ب… ’’رسول اﷲa، ابراہیمm کے بروز ہوئے اور خاتم النّبیین آپa ہوئے تو اس سے معلوم ہوا کہ خاتم بروز اور ظل ہوتا ہے۔ صاحب ظل اور اصل نہیں ہوتا۔ اس طرح مرزاغلام احمد قادیانی، آنحضرتﷺ کے بروز ہوا تو خاتم النّبیین مرزاغلام احمد قادیانی ہوا نہ کہ آنحضرتﷺ۔‘‘

ج… ’’الحکم کی عبارت مذکورہ سے یہ ثابت ہوا کہ جملہ انبیاء سابقین رسول اﷲa کے ایک ایک صفت میں ظل ہیں اور سارے کمالات رسالت رسول کریمa میں پائے جاتے ہیں۔ جب رسول اﷲa حضرت ابراہیمm کے بروز ہوئے تو جملہ کمالات نبوت اگر مجتمع ہوں گے تو حضرت ابراہیمm میں نہ کہ آنحضرتﷺ میں۔ یہ باطل اور بے معنی ہیں۔ یہ صریح توہین ہے سرور عالمa کی۔ اس کے علاوہ یہ مضمون بھی فی نفسہ کہ آنحضرتﷺ حضرت ابراہیمm کے بروز ہیں اور ابراہیمm آنحضرتﷺ کے بروز ہوں۔ بے معنی اور فضل ہے۔ (جو کھلا ہوا دور ہے)‘‘

ظل، بروز، تناسخ: اس کے بعد میں ظل اور بروز کی اصطلاح (تحقیق) فلسفہ سے ذکر کرتا ہوں۔ فلسفہ یونانی میں بروز اسے کہا ہے کہ ایک روح دوسرے ذی روح میں حلول کرے۔ یعنی ایک بدن میں دوروحیں ہو جائیں تناسخ اسے کہتے ہیں کہ روح ڈھانچے بدلتی رہے۔

نسخ: اسے کہتے ہیں کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو۔

رسخ: اسے کہتے ہیں کہ ایک حیوان نباتات میں تبدیل ہو۔

مسخ: اسے کہتے ہیں کہ حیوان جماد بن جائے۔

یہ پانچوں اصطلاحیں آسمانی دینوں میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔

غلام احمد قادیانی کا اقرار ختم نبوت

’’وماکان لی ان ادّعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم الکافرین‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)

کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور قوم کافرین سے مل جاؤں۔

(منقول از ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص۵۹)

193

’’مسیح کیونکر آسکتا ہے وہ رسول تھا اور خاتم النّبیین کی دیوار اس کو آنے سے روکتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ج۲ ص۲۱۶، خزائن ج۳ ص۳۸۰)

لکھتا ہے کہ: ’’یہ ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبریل کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے۔ ایک نئی کتاب اﷲ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو۔ پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو۔ وہ محال ہوتا ہے۔ فتدبر!‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۲۴۱، خزائن ج۳ ص۴۱۴)

لکھتا ہے: ’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا کیونکہ رسول کو علم وحی بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۳۱۰، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

یہ مضمون اختلاف بیان مرزاغلام احمد قادیانی میں پیش کیاگیا ہے جو انہوں نے ابتداء ہی سے زندقہ اور الحاد کا ارادہ کیا ہوا تھا۔

مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے متعلق

آیت کریمہ:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین۔ وکان اﷲ بکل شیٔ علیما (الاحزاب:۴۰)‘‘یہ آیت اس واسطے آئی ہے کہ نبی کریمa کی نسل نرینہ چھوڑنا ہماری مشیّت میں مقدر نہیں ہے کیونکہ آپa کے بعد میں تاآخر دنیا نبوت کی اسامی آپa کے وجود ذی جود سے پر ہے۔ آپa مستقبل کے لئے تاآخر دنیا رسول ہیں اور جملہ انبیاء سابقین کے خاتم ہیں۔ نسبی سلسلہ کے بدلہ میں اس نبوی سلسلہ کو عوض میں رکھ لو۔

اس عقیدہ کے موافق کوئی دو سو حدیث نبی کریمa سے وارد ہوئیں اور رسالہ (ختم نبوت کامل) مفتی حال دیوبند (مولانا) محمد شفیع کی طرف سے شائع ہوچکا ہے اور اس عقیدہ پر اجماع رہا ہے۔ امت محمدیہﷺکا۔ ابتداء سے لے کر آج تک بلافصل۔

اور جیسے قرآن امت کو پہنچا ہے اسی طرح یہ عقیدہ بھی پہنچا ہے اور جب سے لے کر اب تک اس کا بھی اجماع ہوا ہے کہ اس آیت میں کوئی تاویل نہیں ہے اور اس عقیدہ میں کوئی فرق نہیں۔ خلفاء اور سلاطین اسلام نے جب سے لے کر اب تک مدعیان نبوت کو سزائے موت دی اور انہیں کافرومرتد سمجھا اصلی کافر کے وجود کو برداشت کیا اور ایسے مرتد کے وجود کو برداشت نہیں کیا اور خود مرزاغلام احمد قادیانی کا جب تک مسلم تھے یہی عقیدہ رہا ہے۔

نبوت ایک صفت اصلی قائم ہے۔ نبی کی ذات کے ساتھ نہ وہ کسب سے حاصل ہو اور نہ وہ کبھی سلب ہو یہ عقیدہ یہود کا ہے کہ نبوت سلب بھی ہوسکتی ہے۔

اگر نبوت کسبی ہو تو سلب بھی ہوسکتی ہوگی۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں۔ ولایت ایسی چیز ہے کہ کسب سے حاصل ہو اور زائل بھی ہو جائے۔ یہ صفت نبوت جو نبی کی ذات کے ساتھ قائم ودائم باقی ہے۔ احکام شرعیہ کی تبلیغ اس کے وقتی ثمرات میں سے ہے اور توابع میں سے ہے۔

کسی محدود وقت میں اگر نبی نے ضروری احکام نہ پہنچائے تو وہ نبی بذات خود نبی برحق ہے۔ صفت نبوت جو اس کی ذات کے ساتھ قائم تھی کسی طرح زائل نہیں ہوتی۔ تبلیغ ایک کارگزاری تھی۔ پیغمبر کی کہ حاجت پر دائر ہوگی۔ عیسیٰؑ کا تشریف لانا بعینہٖ ایسا ہے کہ جیسا گزشتہ زمانہ میں یعقوبm مصر چلے گئے تھے اور وہاں بطور رعیت کچھ دن گزارے۔

194

نبوت وولایت: صوفیائے کرام نے نبوت کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا اور اس کی تفسیر خدا سے اطلاع پانا دوسرے کو اطلاع دینا کی اور اس کے نیچے انبیاء اور اولیاء کرام دونوں کو داخل کیا اور نبوت کو دو قسم کردیا۔ نبوت شرعی اور نبوت غیرشرعی۔

نبوت شرعی کے نیچے انبیاء اور رسل دونوں درج کر دئیے اور اب ان کے لئے نبوت غیرشرعی اولیاء کے کشف اور الہام کے لئے نکھر گئی اور مخصوص ہوگئی۔ صوفیائے کرام کی تصریح ہے کہ کشف کے ذریعے سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ صرف اسرار ومعارف۔ مکاشف اس کا دائرہ ہیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرے کہ مجھ پر مستحب کا حکم آیا ہے۔ پس یہ اگر پہلے سے شریعت محمدیہﷺمیں موجود ہے تو ثابت اور اگر موجود نہیں ہے اور پھر وہ دعویٰ کرتا ہے اضافہ کا تو گردن زدنی ہے اور یہ تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارا کشف دوسرے پر حجت نہیں۔ ہمارا کشف ہمارے لئے ہے۔

کتاب (الیواقیت والجواہر ص۱۷۹) پر حسب ذیل الفاظ ہیں: ’’فقد بان لک… الخ!‘‘

’’پس روشن ہوگیا تیرے لئے کہ دروازے اوامرالدین کے اور نواہی کے بند کر دئیے گئے۔ جس نے دعویٰ کیا امرونہی کا بعد محمدa کے پس وہ مدعی شریعت کا (ہے) جو اس کی طرف بھیجی گئی۔ برابر ہے کہ وہ موافق ہو امر شریعت کے یا مخالف ہو۔ پس اگر ہے عاقل بالغ یہ مدعی، اتاریں گے ہم اس کی گردن، اور اگر عاقل بالغ نہیں ہے اس سے اعراض کریں گے۔‘‘

شطحیّٰات: صوفیاء کے ہاں ایک باب ہے جس کو شطحیّٰات کہتے ہیں اور خود فتوحات میں اس کا باب ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ان پر حالات گزرتے ہیں اور ان حالات میں کوئی کلمات ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں جو ہمارے ظاہر قواعد پر چسپاں نہیں ہوتے اور بسا (اوقات) غلط راستہ لینے کا سبب ہو جاتے ہیں۔ صوفیاء کی تصریح ہے کہ ان پر عمل پیرانہ ہو اور تصریحیں کرتے ہیں کہ جن پر یہ احوال نہ گزرے ہوں۔ وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ نہ کرے۔ مجملاً ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص جو کسی حال کا مالک ہوتا ہے۔ دوسرا خالی آدمی ضرور اس سے الجھ جائے گا لیکن دین میں کسی زیادتی کمی کے صوفیاء میں سے کوئی بھی قائل نہیں اور ایسے مدعی کو کافر بالاتفاق کہتے ہیں۔ ہم نے اولیاء اﷲ قدس اﷲ اسرار ہم کو ان کی طہارت تقویٰ اور تقدس کی خبریں سن کر اور ان کے شواہد افعال، اعمال اور اخلاق سے تائیدپا کرولی مقبول تسلیم کر لیا ہے۔ ان قرائن اور نشانیوں سے جو خارج مبحوث عنہ سے ہوں۔ یعنی انہی شطحیّٰات سے ان کی ولایت ثابت نہیں کرتے ہیں بلکہ ولایت ان کی خارج سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے جو طریقہ ثبوت کا ہے۔ اس کے بعد ہم نے کسی کی ولایت تسلیم کی اور ہم اس تسلیم میں صواب پر تھے تو اس کے بعد اگر کوئی کلمہ مغائر یا موہم ہمارے سامنے پڑھتا ہے تو ہم اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی توجیہہ کریں اور محمل نکالیں کہ ٹھکانہ اس کا کیا ہے۔ شطحیّٰات کو ہی پہلے پیش کرنا اور اس پر ولایت کا جمگھٹا جمانا، نافہم اور جاہل کا کام ہے۔ کسی شخص کی راست بازی اگر جدا گانہ تجارب سے اور جو طریقہ راست بازی ثابت کرنے کا ہے۔ ثابت ہوئی تو پھر اگر کہیں، کوئی کلمہ موہم اور مغالطہ میں ڈالنے والا اس کا سامنے آگیا تو مصنف طبیعتوں کے ذہن اس کی توضیح کریں گے اور محمل نکالیں گے۔

یہ عاقل کا کام نہیں کہ راست بازی کسی کی ثابت ہونے سے پیشتر وہی کلمات مغالطہ پیش کر کے مسلم الثبوت مقبولوں پر قیاس کرے اور کہے کہ فلاں نے ایسا کیا۔ فلاں نے ایسا کیا۔ اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ فلاں کی راست بازی جداگانہ اگر ہمیں کسی طریقہ اور دلیل سے معلوم ہے تو ہم محتاج توجیہہ ہوں گے اور اگر زیربحث یہی کلمات ہیں اور اس سے پیشتر کچھ سامان خیر کا ہے ہی نہیں تو ہم یہ کھوٹی پونجی اس کے منہ پر ماریں گے۔

195

خلاصہ بیان: میرے کل بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی مدعی نبوت حسب تصریحات قرآن وحدیث اور باجماع امت کافر مرتد ہے اور جو شخص ان کے عقائد باطلہ اور دعویٰ نبوت ووحی پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو کافر نہ سمجھے۔ ان کی نبوت کو تسلیم کرے یا مسیح موعود کہے۔ وہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔

اور حکم یہ ہے کہ ان کانکاح کسی مسلمان مرد عورت کے ساتھ جائز نہیں اور اگر بعد نکاح کے کوئی شخص ایسا عقیدہ اختیار کرے تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ قضاء قاضی اور عدت کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور اس کے بعد اگر زن وشوہر کے تعلقات باقی رکھے گئے تو جو اولاد ہوگی وہ اولاد ثابت النسب نہ ہوگی۔ یعنی وہ حرام کی ہوگی۔ جیسا کہ شامی کے حوالہ سے اوپر بیان کیا جاچکا ہے اور موجبات کفر مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے لئے میرے بیان میں چھ وجوہ آئے ہیں۔

اوّل… ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں سلسلہ نبوت منقطع ہو اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔

دوم… دعویٰ نبوت مطلقہ اور تشریعہ۔

سوم… دعویٰ وحی اور ایسی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔

چہارم… حضرت عیسیٰؑ کی توہین۔

پنجم… آنحضرتﷺ کی توہین۔

ششم… ساری امت محمدیہﷺکو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا یہ اصول ہیں۔ جن کے تحت میں اور بھی ایسے فروع موجود ہیں جو نشاء موجبات کفر ہوسکتے ہیں۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کو دیکھنے والے پر یہ بات پوری طرح روشن ہوجاتی ہے کہ ان کی ساری تصانیف میں صرف چند ہی مسائل کا تکرار اور دور ہے۔ ایک مسئلہ اور ایک ہی مضمون کو بیسیوں کتابوں میں مختلف عنوانوں سے ذکر کیا ہے اور پھر سب اقوال میں اس قدر تہافت اور تعارض پایا جاتا ہے۔

خود مرزاغلام احمد قادیانی کو ایسی پریشان خیالی ہے اور بالقصد ایسی روش اختیار کی ہے جس سے نتیجہ گڑبڑ رہے اور ان کو بوقت ضرورت کے مخلص اور مفر، باقی رہے۔ یہی ذکر میں آیا ہے کہ زنادقوں نے ہمیشہ یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ کہیں ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے مشہور اور اجماعی معنی کے ساتھ قطعی اور اجماعی عقیدہ کہتے ہیں اور کہیں پر ایسا عقیدہ بتلانے والے مذہب کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دیتے ہیں۔ کہیں عیسیٰؑ کے نزول کو تمام امت محمدیہﷺکے عقیدہ کے موافق متواترات دین میں داخل کرتے ہیں اور اس پر اجماع ہونا نقل کرتے ہیں اور کہیں اس عقیدہ کو مشرکانہ عقیدہ بتلاتے ہیں۔ ان کا سب پورے غور کرنے سے دوچیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

اوّل یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی چونکہ مادرزاد کافر نہ تھے۔ ابتداء ان کی تمام اسلامی عقائد پر نشوونما ہوئی۔ (اس لئے) انہی کے پابند تھے اور وہی لکھے۔ پھر تدریجاً ان سے الگ ہونا شروع ہوا،۔ یہاں تک کہ آخری اقوال میں بہت سی ضروریات دین کے قطعاً مخالف ہوگئے۔

دوسرے یہ کہ انہوں نے باطل اور جھوٹے دعوؤں کے رواج دینے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسلامی عقائد کے الفاظ وہی قائم رکھے۔ جو قرآن اور حدیث میں مذکور ہیں۔ عام وخواص مسلمانوں کی زبانوں پر جاری ہیں۔ لیکن ان کے حقائق کو ایسا بدل دیا جس سے

196

بالکل ان عقائد کا انکار ہوگیا جس کے متعلق پہلے بیان میں آچکا ہے کہ ایسا کرنا کفر صریح ہے اور اس قسم کے کفر کا نام قرآن مجید نے الحاد رکھا ہے اور حدیث نے زندقہ اور عام محققین نے باطنیت کے نام سے اس کو پکارا ہے۔ اس لئے اب قادیانی صاحب کی کتابوں سے ایسے اقوال پیش کرنا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بعض عقائد میں عام اہل سنت والجماعت کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کے اقوال وافعال کفریہ کا کفارہ نہیں بن سکتے۔ جب تک اس کی تصریح نہ ہو کہ ان عقائد کی مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی اور پھر اس کی تصریح نہ ہو کہ جو عقائد کفریہ انہوں نے اختیار کئے تھے ان سے توبہ کر چکے ہیں اور جب تک توبہ کی تصریح نہ ہو۔ چند عقائد اسلام کے الفاظ کتابوں میں لکھ کر کفر سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ زندیق اس کو کہا جاتا ہے جو عقائد اسلام ظاہر کرے اور قرآن وحدیث کے اتباع کا دعویٰ کرے۔ لیکن ان کی ایسی تاویل وتحریف کرے جس سے ان کے حقائق بدل جائیں اس لئے جب تک اس کی تصریح نہ دکھائی جائے کہ قادیانی صاحب ختم نبوت اور انقطاع وحی کا اس معنی کے اعتبار سے قائل ہے جس معنی سے صحابہ وتابعین اور تمام امت محمدیہ قائل ہے۔ اس وقت تک ان کی کسی ایسی عبارت کا مقابلہ میں پیش کرنا مفید نہیں ہوسکتا۔ جس میں خاتم النّبیین کے الفاظ کا اقرار کیا ہو۔ اسی طرح حشر اجساد، نزول مسیح وغیرہ عقائد کے الفاظ کا اقرار کر لینا یا لکھ دینا بغیر تصریح مذکور کے ہر گز مفید نہیں ہوگا۔ خواہ وہ عبارت تصنیف میں مقدم ہویا مؤخر۔ اسی طرح مسئلہ توہین ہے کہ جب ایک جگہ توہین کے کلمات ثابت ہوگئے تو اگر ہزار جگہ کلمات مدحیہ لکھے ہوں اور ثناء خوانی بھی کی ہو تو وہ اس کو اس کے کفر سے نجات نہیں دلاسکتے۔ جیسا کہ تمام دنیا اور دین کے قواعد مسلم اس پر شاہد ہیں کہ اگر ایک شخص تمام عمر کسی کی اتباع اور اطاعت گزاری اور مدح وثناء کرتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کی سخت ترین توہین بھی کی، تو کوئی انسان اس کو مطیع اور معتقد واقعی نہیں کہہ سکتا۔ الغرض اوّل تو یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی آخر عمر تک دعویٰ نبوت پر وحی پر قائم رہا ہے اور اپنی کفریات سے کوئی توبہ نہیں کی۔ جیسا کہ ان کے آخری خط سے واضح ہوتا ہے جو موت سے تین دن پہلے اخبار عام لاہور کے ایڈیٹر کے نام لکھا ہے اور اگر یہ بھی ثابت نہ ہوتا تو کلمات کفریہ اور عقائد کفریہ لکھنے اور کہنے کے بعد اس وقت تک اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ جب تک وہ ان عقائد سے توبہ کا اعلان نہ کرے اور توبہ کا اعلان جہاں تک ہم نے کوشش کی ان کی کسی کتاب یا تحریر میں نہیں پایا گیا۔ اس لئے تکفیر کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ بھی فرض کرلیا جاوے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت وغیرہ سے توبہ کی تھی جب بھی ہمارا مدعا علیہ چونکہ ان کو عام انبیاء کی طرح نبی اور رسول ماننے کی تصریح اپنی کلام میں کرتا ہے۔ اس لئے اس کے کفر وارتداد میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا ازروئے عقائد اسلام ومسائل فقیہ اجماعیہ کا اس کانکاح جو مسلمان عورت کے ساتھ ہوا تھا قطعاً فسخ ہوچکا۔

’’وصلی اﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد وعلٰی الہ اجمعین‘‘

دستخط: جج محمد اکبر، ۲۸؍اگست۱۹۳۲ء

197

جرح بربیان امام العصر سید محمد انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ

مؤرخہ ۲۹؍اگست۱۹۳۲ء

صحیح مسلم میں ہے کہ جس کو پہنچے میرا کلمہ، اور تصدیق نہ کرے: ’’ماجئت بہ‘‘ کی وہ مسلم نہیں ہے۔ جبرئیلm کی دریافت پر حضورk نے ایمان کی یہ تشریح کی کہ ایمان لانا خدا پر، ملائکہ پر، کتب سماویہ پر، رسل پر، یوم آخرت پر، تقدیر خیروشر من اﷲ ہونے پر۔ یہ اجزاء ایمان کے فرمائے اور اسلام میں عبادت حق تعالیٰ کی (وحدہ لاشریک لہ) اقامت صلوٰۃ، ایتاء زکوٰۃ، صوم رمضان پر، جبرئیلm نے اس کی تصدیق کی۔ یہ بات حدیث کے متن میں موجود ہے جس جس چیز کو قرآن (پاک) ایمان کہے گا وہ ایمان ہے۔ اس کا منکر خارج از اسلام ہے۔

احادیث میں پانچ چیزوں پر بنائے اسلام رکھی گئی ہے۔ دو شہادتین، یعنی توحید اور رسالت کی شہادت، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کا دینا، رمضان کا روزہ رکھنا اور حج کرنا جو طاقت رکھے۔ یہ حدیثیں قدرے مشترک کے تواتر تک پہنچی ہیں۔

تواتر کی قسمیں علماء کی اپنی طرف سے ایجاد شدہ نہیں ہیں بلکہ انہوں نے قرآن اور حدیث کا ثبوت جس حال سے پایا اس کو ادا کردیا۔ علماء نے حال واقعی جیسا پایا اس کو یونہی ادا کیا۔ یہ تواتر کے اقسام علماء کی اصطلاحات ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی خود اپنی کتابوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تواتر معنوی میں جو حصہ قدر مشترک ہے۔ اس کا ثبوت اگر واضح ہے تو اس کا منکر کافر ہے اور اگر خفی ہے تو مجمل ایمان فرض ہے اور تفصیل کو خدا کے سپرد کریں۔

ایک خبر واحد کو اگر کوئی شخص حجت نہ مانے تو کافر نہیں۔ بدعتی ہے۔ کتاب (مسلم الثبوت ص۱۷۱) پر امام رازی کا جو قول بیان کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا درجہ تواتر معنوی پر نہیں پہنچا اور مسئلہ پر دلیل ہونا اس میں تردد ہے۔ یہ نہیں فرماتے کہ وہ تواتر معنوی کو پہنچا ہو اور پھر اس کا منکر کافر نہیں۔ حنفیہ کا اصول ہے کہ اجماع صحابہi کا قطعی ہے اور منکر اس کا کافر ہے اور مابعد کے اجماع کا منکر مبتدع اور فاسق ہے۔ اجماع صحابہi کے قطعی ہونے میں امام ابن تیمیہ کی کتاب سے حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

نزول مسیح علامات قیامت میں سے ہے جو خبریں اخبار مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان پر اجماع ہوسکتا ہے اور ہوا ہے۔ نزول مسیح کے سوال پر فقط اجماع ہی نہیں بلکہ نصوص احادیث کا تواتر ہے۔

’’امام فی المستقبلات… ہذا‘‘ (کتاب مسلم الثبوت ج۲ ص۱۹۵)

اس عبارت سے مراد یہ ہے کہ واقعہ پیش آگیا ہو اور اس کا حکم دینا ہو مجتہدین کو تو اتفاق واجماع کریں اور آئندہ چیزیں جو یقینی ہیں ان میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقیدہ کافی ہے۔ یعنی تواتر اگر ہو جائے تو اس عقیدہ کو ایمانی عقیدہ قرار دو اور ان کی تفصیل اور مصداق ڈھونڈنے میں نہ پڑو۔ جب وہ واقعات پیش آ جائیں گے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو خلیفہ کا خلیفہ ماننا اجزاء ایمان میں داخل نہیں ہے۔ واجبات میں سے ہے۔ مسئلہ کی جیسی حقیقت ہو گی ویسے ہی اس پر اجماع رہے گا۔ ثبوت اس کا قطعی ہو جائے گا۔ حکم اس کا ویسا ہی رہے گا۔ جیسی اس کی حقیقت ہے۔

198

صحابہi کا اجماع کسی مسئلہ پر ہو اس کا منکر کافر ہے لیکن مسئلہ تعدد خلیفہ کا اور وحدت کا صدر اوّل میں مختلف فیہ ہے۔ اجماع کسی مسئلہ پر ہوتا ہے یا کسی کارروائی پر کسی مسئلہ پر جو اجماع ہو،ا س کا وہی حکم رہا جو اجماع صحابہi کا ہے اور کسی عملی استصواب پر یا کارروائی پر ہوا تو وہ اجماع اس قسم کا نہیں جس پر بحث ہورہی ہے۔ ’’ولو انکر… یکفر‘‘

(کتاب شرح فقہ اکبر ص۱۴۷)

اس کی مراد یہ ہے کہ روافض جو منکر ہیں۔ خلفائے ثلاثہi سے اس بناء پر کہ وہ خلافت کے مستحق نہ تھے تو وہ کافر ہیں اور اگر صحابہi صدیق اکبرq کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرتے تو کوئی خلاف جزو ایمانی نہ تھا۔ حیات مسیح اجماعی مسئلہ ہے۔ صحابہi میں اور تواتر ہے حدیث کا اور سوائے ملحدوں کے کسی نے انکار نہیں کیا۔ روح المعانی کا حوالہ پیش کیا جاچکا ہے جو تفسیر سورۂ احزاب میں ہے۔

(ج۷ ص۶۰)

’’امارفع عیسٰی… فارفعت‘‘ (تلخیص الحبیر ص۳۱۹)

لیکن اٹھایا جانا عیسیٰؑ کا پس اتفاق کیا اصحاب اخبار اور تفسیر نے کہ عیسیٰؑ اٹھائے گئے بدن کے ساتھ، زندہ ہیں۔ اگر اختلاف ہے تو اس میں ہے کہ موت آئی تھی رفع سے پہلے، یا سو گئے اور اٹھالیا گیا۔

حیات کے متعلق چند سلف کا اختلاف ہے لیکن عام طور پر اتفاق ہے کہ عیسیٰؑ آسمان پر زندہ ہیں ہمارے نزدیک حیات اور نزول عیسیٰؑ کا مسئلہ ایک ہی شئے ہے۔ میری بحث اجماع اور تواتر پر ہے۔

سوال یہ تھا کہ حیات مسیح پر صحابہi کے اجماع کی سند دی جائے اس کا جواب گواہ ابھی دینا چاہتا ہے جواوپر بیان کیاگیا۔ حضرت امام مالک نے نہیں کہا کہ عیسیٰؑ وفات پاگئے۔ وہ حیات ونزول عیسیٰ کے قائل ہیں۔ ’’قال مالک… ثلاثین سنۃ‘‘

(کتاب اکمال الاکمال ج۲ ص۲۶۵ مصری)

امام مالک کا یہ قول بھی ان کی اکمال سے لکھا جو عطیہ کے نام سے موسوم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ موت آئی حضرت عیسیٰؑ کو وہ ۳۳سال کے تھے۔ اس کتاب میں دوسری جگہ ہے کہ امام مالک نے فرمایا دریں اثناء کہ لوگ کھڑے ہوں گے، سنتے ہوں گے، کان لگائے ہوں گے۔ اقامت صلوٰۃ کے لئے ڈھانک لے گا۔ ان کو ایک بادل اس میں حضرت عیسیٰؑ اترآئیں گے۔ ابن حزم کا جو قول تفسیر جلالین سے بیان کیاگیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہوگئے۔ یہ الفاظ غلط نقل ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ابن حزم کی کتاب میں اس کی نقیض ہے اور بیان میں لکھوائی گئی ہے۔ جو حدیث ’’الفرق بین العبد وبین الکفر‘‘ ترک الصلوٰۃ ہے۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔

تین اماموں کا اتفاق ہے کہ تارک الصلوٰۃ کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ فاسق کہا جائے گا اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ وہ کافر ہے۔ سنن ابی داؤد کی وجہ سے اس مسئلہ میں اختلاف پڑگیا۔ دوسری حدیث جو بیان کی گئی ہے وہ بھی اسی قسم کی ہے۔ الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ عقیدۃً نماز کی فرضیت کو چھوڑ دے تو باجماع امت کافر ہے: ’’وکذلک ترک صلوٰۃ موجب للقتل عند الشافعی‘‘

(شرح فقہ اکبر ص۱۶۳)

یہ تشریح کہ جو شخص نماز کو فرض جان کر ترک کرے وہ کافر ہے۔ سنن ابی داؤد کی احادیث سے پیدا ہوتی ہے جس حدیث میں بناء اسلام پانچ بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ پانچ نمازیں فرض کیں خدا نے جس نے اچھا کیا وضو ان کا اور پڑھیں اپنے وقت پر اور پورا کیا رکوع ان کا اور خشوع، تو خدا کی ضمانت میں ہے کہ مغفرت کرے اسے اور جس نے نہ کیا۔ خدا کی ضمانت میں نہیں ہے۔ چاہے مغفرت کرے چاہے عذاب کرے۔

(سنن ابوداؤد)

199

اس پر مجتہدین کی رائے ہوگئی جو مسائل: ’’کذالو قال عند شرب الخمر والزانی بسم اﷲ عمدا او باعتقاد انہما حلالان وکذا لو افتی لامراۃ لتبین من زوجہا‘‘

(شرح فقہ اکبر ص۱۵۶،۱۶۰،۱۶۲)

استخفاف علماء کفر ہے جو اشارہ سے مشابہت کرے کفر ہے۔ جو عالم کو مولوی طولوی کہہ دے کافر ہو جائے گا۔ جو شراب پیتے وقت بسم اﷲ کہہ دے وہ کافر ہو جائے گا جو بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب میں یہ مسئلہ ہے۔ میرے بیان میں آچکا ہے کہ کوئی چیز کسی حال میں کفر ہوتی ہے۔ کسی حالت میں کفر نہیں ہوتی۔ میں اس کی مثال دے چکا ہوں۔ کلمات مذکورہ بالا بعض حالات میں موجب کفر ہو جائیں گے۔ بعض حالات میں نہیں ہوں گے۔ لیکن ہم نے عقائد باطلہ پر حکم لگایا ہے۔ کسی ایک اختلافی چیز سے مدد نہیں لی اور نہ اپنے حکم کی بناء کسی مختلف حصہ پر رکھی ہے۔ اختلافی حصہ کو پہلے سے نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ہمارے حکم کی بناء اس دین پر ہے جو نبی کریمa کے زمانہ سے بلافصل اب تک چلا آرہا ہے۔ جو مسائل اوپر بیان کئے گئے ہیں یہ مسائل اختلافیہ ہیں۔

علماء بریلی نے جن واقعات پر علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے وہ عقائد علمائے دیوبند نے ظاہر نہیں کئے۔ غلط فہمی ہوئی جن عقائد کی بناء پر علمائے بریلی نے علماء دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ علمائے دیوبند ان عقائد کے قائل نہ تھے۔

تتمہ بیان جرح سید انور شاہ صاحب گواہ مدعیہ بااقرار صالح

۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء

ضروریات دین کاانکار کرنا یعنی عقیدہ چھوڑ دینا کفر ہے۔ لیکن عمل نہ کرنا کفر نہیں وہ فسق اور معصیت ہے کفر نہیں۔ جو عقیدہ ترک کرے وہ ایمان سے نکل جاتا ہے اور جو عمل ترک کرے وہ عاصی ہے۔ جو شخص دستور ملکی کی بناء پر باوجود طاقت رکھنے کے شرعی حکم کو چھوڑے، اس کی بابت بھی یہی حکم ہے۔

اگر عقیدہ حق ہونے کا ترک کیا اور کہتا ہے کہ یہ شریعت غلط ہے اور اگر کہتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح اور مسئلہ درست ہے۔ عمل ہم اپنی بدقسمتی سے نہیں کرتے۔ وہ داخل ایمان اور عاصی ہے۔ مدعی نبوت اور اس کی طرف بلانے والے کی سزا قتل ہے۔ صاحب شریعت (نبی) دستور ملکی کی رو سے اگر کوئی چیز بیان کرے وہ بھی شریعت ہے۔ وہ جو کچھ فرمائے، کرے۔ کل شریعت ہے اور جو کچھ صاحب شریعت کے روبرو ہوا وہ اس پر سکوت کرے تو وہ بھی شریعت ہے۔ ابن صیاد جس نے رسول اﷲa کے سامنے دعویٰ نبوت کیا۔ اسے اس لئے قتل نہ کیاگیا کہ وہ نابالغ تھا۔ نابالغ کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اس امر کی تصریح ہے کہ وہ نابالغ تھا۔ صحیح بخاری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا۔

صدیق اکبرؓ خلیفہ ہوئے۔ مسیلمہ نے دعویٰ نبوت کیا تھا اور کچھ نفری (جماعت) اس کے ساتھ شریک ہوگئی تھی۔ صدیق اکبرؓ نے مہم تیار کی۔ اس کے جہاد کے واسطے بعض صحابہi نے عرض کی کہ مدینہ میں اس وقت لوگ کم ہیں اور خطرہ ہے۔ مدینہ کی حفاظت کے لئے لوگوں کو موجود رہنے دیا جاوے۔

صدیق اکبرؓ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں بہادر تھے اور اسلام میں آکر بزدل ہو گئے۔ یہ مجھے برداشت نہیں صحابہi نے اس پر کوئی تخلف نہ کیا۔ اصول میں یہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کے معنی یہ ہیں کہ مسئلہ پیش کیا جاوے اور اس پر سب اتفاق کر گئے۔ کسی نے مخالفت نہ کی اسے اجماع کہا جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک کے سامنے وہ مسئلہ پیش ہو اور وہ کہے کہ مجھے اتفاق ہے۔

200

مسیلمہ نے نبی کریمa کے بعض احکام میں تغیروتبدل کیا تھا لیکن جو دو شخص نبی کریمa کے سامنے پیش ہوئے ان سے دریافت کیاگیا کہ وہ وہی کچھ کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے یعنی کہ وہ نبی ہے۔

کتاب (حجج الکرامہ ص۲۳۴،۲۳۵) میں ہے جو واقعات مسیلمہ کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں یہ وقوع میں ظاہر ہوئے ہیں۔ لیکن وقت اس کتاب میں ترتیب سے نہیں لکھا گیا۔ مسیلمہ کو قتل کرنے کی بڑی وجہ دعویٰ نبوت تھی اور جو چیزیں اس کے متعلق اس کتب میں بیان کی گئی ہیں وہ اس کے لگ بھگ تھیں اور یہ چیزیں نبوت کے تحت میں تھیں۔ اگر اخبار احاد کی تاویل کوئی شخص قواعد کے مطابق کرے تو اس کے قائل کو مبتدع یعنی بدعتی نہیں کہیں گے اور اگر قواعد کی رو سے صحیح نہیں ہے تو وہ خاطئی ہے۔

آیات قرآن متواتر ہیں

قرآن اور حدیث جو نبی کریمa سے ہم تک پہنچا اس کی دو جانبیں ہیں۔ ایک ثبوت اور ایک دلالت۔ ثبوت قرآن کا تواتر ہے اور اس تواتر کا اگر کوئی انکار کرے تو پھر قرآن کے ثبوت کی اس کے پاس کوئی صورت نہیں اور ایسا ہی جو شخص تواتر کے حجت ہونے کا انکار کرے اس نے دین ڈھا (گرا) دیا۔ دوسری جانب دلالت ہے۔ دلالت قرآن کی کبھی قطعی ہوئی ہے اور کبھی ظنی۔ ثبوت قطعی ہے۔

دلالت کا معنی ہے کہ مطلب پر رہنمائی کرنا۔ اگر اجماع ہو جائے صحابہi کا اس کی دلالت پر یا کوئی اور دلیل عقلی یا نقلی قائم ہو جائے کہ مدلول یہی ہے تو پھر دلالت بھی قطعی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن سارا ’’بسم اﷲ‘‘ سے ’’والناس‘‘ تک قطعی الثبوت ہے۔ دلالت میں کہیں ظنیت ہے اور کہیں قطعیت۔ لیکن قرائن کے ملنے سے دلالت بھی قطعی ہو جاتی ہے۔

حدیث ہے کہ: ’’لکل آیۃ ظاہر وباطن‘‘ لیکن قوی نہیں باوجود قوی نہ ہونے کے مراد اس کی میرے نزدیک صحیح ہے۔

محدثین نے لکھا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ کلام ہے۔ اس حدیث میں لفظ بطن سے تو جو کچھ رسول اﷲa کے دل میں تھا وہ سب منکشف نہیں ہے۔ مجملاً ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کی ایک مراد وہ ہے کہ قواعد لغت اور عربیت سے اور ادّلہ شریعت سے علماء شریعت سمجھ لیں اور اس کے تحت میں قسمیں ہیں۔

بطن سے یہ مراد ہے کہ حق تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو ان حقائق سے سرفراز کر دے اور بہتوں سے وہ خفی رہ جائیں لیکن ایسا کوئی بطن جو مخالف ظاہر کے ہو اور قواعد شریعت رد کرتے ہوں وہ مقبول نہ ہو گا اور رد کیا جائے گا اور بعض اوقات میں باطنیت اور الحاد کی حد تک پہنچا دے گا۔ حاصل یہ کہ ہم مکلف فرمانبردار اپنے مقدور کے موافق ظاہر کی خدمت کریں اور بطن کو سپرد کردیں خدا کے۔

اگر اخبار احاد متعدد جب باہم مل کر تواتر کے درجہ کو پہنچ جائیں تو وہ قطعیت میں قرآن مجید کے ہم مرتبہ ہیں اور کوئی متواتر چیز قرآن کے منافی دین میں ممکن نہیں کہ پائی جاوے اور اگر اخبار احاد تواتر کے درجہ کو نہ پہنچیں اور ظاہر ان کی مغائرت معلوم ہوتی ہو قرآن سے تو علماء کا فرض ہے کہ اس کی تطبیق اور توفیق ڈھونڈھیں یعنی (آپس میں) ملائیں۔ خبر واحد کے بھی دو پہلو ہیں: پہلا ثبوت کا۔ دوسرا دلالت کا۔ ثبوت وہ ظنی ہوتی ہے جب تک کئی مل کر تواتر کو نہ پہنچ جائیں اور دلالت میں کبھی قطعی اور کبھی ظنی۔

دین میں کوئی متواتر چیز نہیں پائی جاتی جو قرآن کی ناسخ ہو۔ کوئی حدیث متواتر یا خبر واحد ایسی نہیں ہے کہ جس کو علماء نے قرآن کے ساتھ جوڑا نہ ہو۔ نسخ کا باب اگر کوئی چھیڑے تو فرضی ہے۔ وقوع اس کا نہیں، خوارج کے قتل کی وجہ میں اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کفر کی وجہ سے قتل ہوئے اور کوئی کہتا ہے کہ بغاوت کی وجہ سے۔ (فتح الباری ج۱۲ ص۲۵۲) میں ہے کہ خوارج کو بعض کہتے ہیں کفر کی وجہ سے قتل کیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ بغاوت کی وجہ سے۔

201

حضرت علیq کا قول خوارج کے بارے میں جو کتاب (منہاج السنۃ ج۳ ص۶۱) سے بیان کیاگیا ہے وہ اسی کتاب میں ہے۔ ان خوارج میں سے جو منکر ہوں گے ضروریات دین کے ان کی تکفیر ہوگی اور جو ضروریات دین کے منکر نہ ہوں گے وہ باغی رہیں گے اور ان کے ساتھ قتال یعنی جنگ ہوگی۔

نزدیک است کہ علماء ظواہر

چوں مہدیm مقاتلہ پر… تفصیل سے کتاب میں یہ عبارتیں ہیں۔

(مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۱۷، حجج الکرامہ ص۳۶۳)

شیخ مجدد میرے نزدیک مسلّم صاحب کشف ہیں۔ کشف ظنی چیز ہے۔ مجھے احادیث سے اور روایات سے جو امام مہدی کے متعلق آئی ہیں کوئی شبہ معلوم نہیں ہوا۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ ایسی نوبت آئے گی یعنی ان کے ظہور کے وقت میں علماء کی طرف سے یہ نوبت آئے گی۔ باقی رہا کشف مجدد صاحب کا، وہ اﷲ کو معلوم ہے مجھے روایات پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ حدیث ہے کہ میری امت کے ۷۲فرقے ہوجائیں گے اور آگے ہے کہ سارے نار میں جائیں گے مگر ایک فرقہ۔ اس پر عرض کی گئی کہ وہ کون ہوگا۔ فرمایا کہ وہ ہوگا جو میرے راستہ پر اور میرے صحابہi کے راستہ پر ہوگا۔

الملل والنحل میں اس حدیث کے ساتھ یہ الفاظ ہیں کہ وہ جماعت ہوگی۔

اس جماعت سے مراد اس کے مصنف شہرستانی مراد اہل سنت والجماعت ہے۔ یہ الفاظ بعض روایات میں ہیں اور بعض میں نہیں ہیں۔ اس سے یہ اصلاً مراد نہیں کہ وہ چھوٹی جماعت ہوگی۔

محمد ہاشم خطیب سے جس نے شام میں مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق فتویٰ دیا ہے مجھے اس سے تعارف نہیں ہے۔ نبی کی اولاد کے لئے نبی ہونا ضروری نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں صحابیq کے متابعت میں آیت کی مراد میں یہ ذکر کیا ہے۔ ورنہ کوئی حاجت نہیں اور نہ میرا اس پر مطلب موقوف ہے۔ قول صحابیq کا حجت نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کا قول ہوتا ہے، لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ خاتم بفتح تا ہو کر مہر کے معنی میں ہی ہے اور آخر کے معنی میں بھی ہیں۔ جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ ابن مریم کے سوا جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ رسول اکرمa کے بعد کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے وہ کافر ہے۔

قرآن شریف میں تین طریقے انسان کے ساتھ خدا کے کلام کے بیان کئے گئے ہیں لیکن ان کو احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے اپنے بیان میں وحی کی تعریف نہیں کی۔ اقسام بیان کئے ہیں۔ پیغمبر کے ساتھ وحی کے متعدد طریقے ہیں جو پیغمبر کا معاملہ اور خدا کا معاملہ ہے۔ اس کی انتہاء میرے مقدور سے باہر ہے۔ وہ مخصوص معاملہ ہے۔ خدا کا اور پیغمبر خدا کا اور جب وہ صفت مجھے حاصل نہیں تو میں اس کی پوری حقیقت اور کنہ کو نہیں پاسکتا۔ لیکن حرف شناسی اور طالب العلمی کی مد میں آیت کی تفسیر کرتا ہوں:’’وما کان لبشرا ان یکلمہ اﷲ الا وحیاً اومن ورای حجاب اویرسل رسولاً فیوحی باذنہ مایشاء۔ انہ علی حکیم (الشوریٰ:۵۱)‘‘

مناسب نہیں ہے کسی بشر کو کہ کلام کرے اس کے ساتھ خدا مگر بطور وحی یا پردہ کے پیچھے سے یا بھیجے اس کی طرف قاصد اور قاصد کے ذریعہ سے پیغام دے۔ اپنی مشیّت اور ارادے سے جو پیغمبر ثابت ہوچکا ہے جداگانہ طریق پر۔ اس پر جو وحی ہوتی ہے وہ وحی قطعی ہے۔ دوسرے شخص پر جو وحی ہو وہ ظنی ہے جو شخص خاتم الانبیاءa کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور عیسیٰؑ کو پہلے نبی مانتے ہیں۔ اس کے سوا جو وحی ہے وہ وحی نبوت نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا۔ وحی قرآن کا لفظ ہے اور لغت میں جتنے معنی وحی کے لئے گئے ہیں ان پر وحی کا لفظ اطلاق ہوسکتا ہے۔ حضرت مریم اور ام موسیٰ (والدہ موسیٰ) کی طرف جس وحی کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ چونکہ پیغمبر نہیں ہیں اس لئے اس وحی سے وہ دوسری وحی مراد ہوگی۔ جو ظنی ہے۔

202

قرآن شریف میں جو تین طریقے وحی کے مذکور ہیں ام موسیٰ اور حضرت مریم کی طرف جو وحی آئی ہوگی وہ ان تینوں طرق میں سے ہوگی۔ مگر عام مفسرین نے اس آیت: ’’وما کان لبشر ان یکلمہ اﷲ الا وحیا اومن ورآی حجاب… الخ! (الشوریٰ:۵۱)‘‘ کو وحی نبوت پر ہی اتارا ہے۔

میں نے سنا ہے: ’’اس میں جو کچھ کہاگیا ہے وہ کشفی ہے یا الہامی ہے جو حجت قطعی نہیں ہے۔‘‘ شیخ مجدد کا کلام کشف والہام میں ہے۔

(مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۹۹، مکتوب ۵۱)

توہین انبیاء کے بارے میں میں نے تصریح کر دی ہے اپنے بیان میں کہ سب (گالی) کی قسم تعریض سے بھی ہوتی ہے اور لزوم سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن میں نے وجہ ارتداد مرزاغلام احمد قادیانی میں تعرض کو نہیں لیا بلکہ جس ہجو کو انہوں نے قرآن مجید سے مستند کیا اور اسے قرآن مجید کی تفسیر گردانا اور جس ہجو کو اپنی جانب سے حق کہا میں اسے ارتداد سمجھتا ہوں اور اسی کو ارتداد کی وجہ قرار دیا۔

مرثیہ شیخ رشید احمد صاحب گنگوہی ص۶،۸ کے اشعار ص۳۳ کے اشعار متعلق مسیح کا جواب۔

شیخ الہند صاحب کے جو شعر نقل کئے گئے اس کے متعلق یہ جواب ہے کہ جو مدحیہ اشعار ہوں وہ تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ بشر کی کلام اٹکل کے ہوتے ہیں اور شاعرانہ محاورہ، نئی نوع کلام کی تسلیم کیاگیا ہے۔ فرق اس میں یہ ہے کہ جو خدا کی کلام ہوگی وہ عقیدہ ہوگا اور وہ تحقیق ہوگی اور وہ کسی طرح سے اٹکل نہ ہوگی۔ حقیقت حال ہوگی۔ نہ کم نہ بیش۔ بشر انتہاء کو حقیقت کی نہیں پہنچتا تخمینی لفظ کہتا ہے اور دنیا نے اس کو تسلیم کیا کہ شاعرانہ، نوع، تعبیر، عام اطلاق الفاظ نہیں ہے اور وہ تخمینہ پر عبارت کہہ دیتے ہیں جو آس پاس (قریب قریب) ہوتی ہے۔ ٹھیک حقیقت نہیں ہوتی اور خود شاعر کی نیت میں اور ضمیر میں منوانا اس کا عالم کو منظور نہیں ہوتا۔

جھوٹ میں اور شاعر میں یہ فرق ہے کہ جھوٹا کوشش کرتا ہے کہ میرے کلام کو لوگ سچ مان لیں اور شاعر کی اصلاً یہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ وہ خود سمجھتا ہے کہ حاضرین بھی میرے اس کلام کو حقیقت پر نہیں سمجھیں گے بلکہ اگر کوئی حقیقت پر سمجھے تو اس کی اصلاح کے در پے ہوتا ہے۔ دوسرے وقت ایسے وقائع دنیا میں بہت پیش آچکے ہیں۔ مبالغہ شاعروں کے ہاں ہوتا ہے اور یہ ایک قسم ہے کلام کی جو فنون علمیہ میں درج ہے اور اس مبالغہ کی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑا ادا کرنا اور بڑی چیز کو چھوٹا ادا کرنا۔ بشرطیکہ نہ اعتقاد ہو، نہ مخلوق کو منوانا ہو۔ پس اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز کہتا ہے کہ جس سے مغالطہ پڑتا ہے نبوت کے باب میں اور وہ ساری کوشش اس میں خرچ کرتا ہے وہ اور جہاں کا ہے اور یہ حضرت شاعر اور جہاں میں ہیں۔

کتاب ازالۃ الاوہام مصنفہ مولانا رحمت اﷲ صاحب مہاجر مکی اور اشعار مولوی آل حسن صاحب سے جو مشکوٰۃ شریف میں جو قصہ حضرت عمرq کے تورات کا ورق پڑھنے اور رسول اﷲa کا جواب دینے کے متعلق مذکورہ ہے۔ اس سے رسول اﷲa کے جواب سے حضرت موسیٰ کی کوئی توہین ظاہر نہیں۔

جواب میں موجب ارتداد مرزاغلام احمد قادیانی میں اس قسم کی کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ جس میں کہ مجھے نیت سے بحث کرنی پڑے بلکہ میں نے اس چیز کو لیا ہے جسے انہوں نے قرآن کی تفسیر بنایا ہے اور اسے حق کہا ہے اور جن چیزوں میں مجھے نیت کی تلاش رہتی وہ میں نے اپنی بحث سے خارج کر دئیے ہیں اور انہیں موجب ارتداد قرار نہیں دیا۔ میں اپنے بیان میں تصریح کر چکا ہوں کہ میں مرزاغلام احمد قادیانی کی نیت پر گرفت نہیں کروں گا۔ زبان پر کروں گا۔ میں نے مرزاغلام احمد قادیانی کی تمام کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ جس قدر مجھے حکم دینے کی ضرورت ہوئی اسی قدر میں نے مطالعہ کیا ہے۔

203

مرزاغلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور بغیر توبہ کے مرے۔ اس لئے میرے نزدیک وہ کافر ہیں۔

بروز… نسخ… رسخ… فسخ… مسخ… کے جو الفاظ میں نے بیان کئے تھے اس سے میں نے یہ دکھلایا تھا کہ ان کی کوئی حقیقت دین سماوی میں نہیں ہے اور کہ یہ لفظ نہ آئے ہوں۔ یہ غلط ہے۔ نہ میرے بیان میں ہے علماء نے ان لفظوں کو لیا ہے اور رد کیا ہے۔

میرا عقیدہ نہیں ہے کہ مسیح کی شکل دوسرے کسی مردود میں ڈالی گئی ہو لیکن بعض مفسرین نے اہل کتاب سے نقل لی ہے۔ ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ کے متعلق میرا عقیدہ کہ وہ لوگ مسخ ہو گئے تھے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی نے جو کچھ مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق کہا ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہاں تک درست کہتا ہے۔

(دستخط جج) محمد اکبر!

سوال مکرر: میں نے کل اس سوال سے کہ اسلام کی بناء پر جو پانچ چیزوں پر بیان کی گئی ہے اس سے مراد میں نے یہ لی تھی کہ صاحب شریعت نے جو بناء اسلام کی پانچ چیز پر رکھی ہے مظہر نے بہت سے دفعات کا اضافہ کیا ہے۔ اس کا جواب میں نے اس وقت یہ دیا تھا کہ جو جو چیز قرآن شریف میں سے لے جائے گی وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور جو متواتر حدیث ہوگی وہ ایمان میں داخل ہو جائے گی اور یہ جو ہے کہ بناء اسلام کی پانچ چیز پر ہے۔ ایک شہادت توحید کی اور شہادت رسالت کی۔ اس شہادت رسالت کے تحت سارا دین پیغمبر کا داخل ہوگیا۔ رسول کا ماننا ان کی شریعت کی اطاعت کو حاوی ہے۔ انہی پانچ کے اندر بلکہ ایک ہی لفظ کے اندر رسول کی رسالت کو ماننا سارا دین آگیا۔

میں نے کوئی دفعہ جو اضافہ کی ہے مطلق اضافہ نہیں نیز مقنن اگر کئی ایک قانون کہے تو یہ اعتراض بے معنی ہے کہ ایک ہی دفعہ کے تحت ذیلی منشاء کو کیوں ادا نہ کر دیا؟ بلکہ سارے قوانین اس کے واجب الانقیاد یعنی واجب الاطاعت ہوں گے اور اس میں میں نے صحیح مسلم کی حدیث کا حوالہ کل دیا تھا کہ نبی کریمa فرماتے ہیں کہ جو کوئی ان سب پر جو میں لایا ہوں خدا کی طرف سے ایمان نہ لائے وہ مومن نہیں۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ فرمایا نبی کریمa نے کہ میں امر کیاگیا ہوں کہ میں مقابلہ کروں لوگوں کے ساتھ یہاں تک کہ شہادت دیں ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کی اور ایمان لائیں مجھ پر اور اس چیز پر جو میں لے کر آیا ہوں۔

بناء اسلام کے جو پانچ ارکان بیان کئے گئے ہیں، یہ مہم (اہم) ارکان ہیں۔ بڑے ستون تو یہ ہیں اور حدیث میں اور چیزیں بھی ہیں۔ یعنی ایمان کے دیگر بھی کئی شعبے ہیں۔ خلافت شیخینi کے اجماع کے متعلق میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ جو شخص ان کے مستحق خلافت ہونے کا انکار کرے کہ وہ خلافت کے لائق نہ تھے وہ شخص کافر ہے۔

’’لعل المراد انکار استحقاقہما الخلافۃ فہو مخالف لاجماع الصحابۃi لاانکار وجودہا‘‘

(شامی باب الامامت نقل عن البحر الرائق ج۱ ص۵۶۱)

شاید مراد انکار ہے استحقاق شیخینi کا ایسا شخص مخالف ہے اجماع صحابہi کے یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ وہ وقوع خلافت سے کوئی انکار کرے۔

حیات مسیح کے سوال پر امت کا اجماع ہے اور امت کہتے ہیں یہاں سے لے کر پیغمبر کے زمانے تک کے مسلمان اور صحابہi بھی اس میں داخل سمجھے جائیں گے۔

دیوبندیوں کے خلاف جو فتویٰ علماء بریلی کا پیش کیاگیا تھا۔ اس میں جو فقرے کتاب تحذیر الناس سے نقل کئے گئے ہیں وہ مختلف مقامات سے جوڑ کر ان کی مولانا محمد قاسم صاحب کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ مولانا کی تصریح یہ ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ بسبب تواتر کافر ہے۔ کتاب تحذیر الناس کے ص۱۰ پر سواگر سے… کافر ہوگا تک۔

204

مولانا نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جو ختم زمانی کا انکار کرے وہ قرآن سے، تواتر سے اور اجماع سے کافر ہے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور حدیث جس طریقہ پر ہمارے پاس پہنچا اس طریقہ کو علماء نے ادا کیا اور جو شخص تواتر کاانکار کرے وہ قرآن کوثابت نہیں کر سکتا اور دین ابتداء سے آخر تک منہدم ہو جائے گا۔ اس میں پس وپیش کرنا کہ متواتر خبر، حدیث قطعی ہے۔ مستلزم ہوگا کہ قرآن میں بھی پس وپیش کرے کہ اس واسطے کہ ثبوت قرآن کا اور حدیث متواتر کا تواتر ہی ہے۔ تواتر میں اگر جھگڑا ڈالا تو اس شخص کے پاس دین محمدیa کی کوئی جڑ نہیں۔

کل یہ سوال کیاگیا تھا کہ امور مستقبلہ پر اجماع ہوتا ہے یا نہیں۔ امور مستقبلہ میں اجماع نہ ہونا کی مراد یہ ہے کہ حکم عملی جو ہاتھ پیر سے کرنا ہو، اسے مستقبل پر چھوڑا جاوے۔ پہلے سے اجماع کا کوئی اثر نہیں۔ وقت پر دیکھا جائے گا اور جو عقیدہ قرآن وحدیث میں آچکا ہے۔ مستقبل کے متعلق اس پر اجماع منعقد ہونا معقول ہوگا اور حجت ہوگا۔ کہیں فرض ہوگا: ’’ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ علیہ وسلم کفر بالاجماع‘‘

(شرح مسلم الثبوت ص۵۱۹، کتاب اکمال الاکمال) کے حوالہ سے جو کل بیان کیا گیا تھا کہ امام مالک فرماتے ہیں کہ عیسیٰؑ ۳۳سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔ اس کتاب کے دوسرے صفحہ پر ہے کہ عیسیٰؑ اتریں گے امام مالک کی مراد یہی ہوگی کہ برائے چند ساعت موت دی گئی ہے اور بعد میں اٹھائے جائیں گے۔ ایک ہی صاحب کے مقولہ کے دو قطعہ ہیں۔ سن کر تسلیم کیاگیا۔

دستخط: جج صاحب، مؤرخہ ۲۹؍اگست۱۹۳۲ء

بیان حضرت مولانا نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ

مؤرخہ ۳۰؍اگست ۱۹۳۲ء

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’حامداً ومصلیاً‘‘

جامع علوم وفنون حضرت مولانا محمد نجم الدین صاحب سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور جو علوم عقلیہ ونقلیہ میں بہت بڑے فاضل ہیں۔ مدتوں تک بلاد اسلامیہ میں درس دیتے رہے ہیں۔ عرصہ کثیر تک اورینٹل کالج لاہور، میں مولوی فاضل کلاس کے پروفیسر رہے ہیں اور اسی زمانہ میں شہادت کے لئے بہاول پور آئے تھے۔ آپ کا یہ بیان ۳۰،۳۱؍اگست ۱۹۳۲ء کو ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر بہاول پور کی عدالت میں ہوا۔ پہلے دن حضرت مولانا کا بیان ہوا اور دوسرے دن مختار مدعا علیہ کی جرح ہوئی۔ مولانا ممدوح نے مرزائیت کے کفر وارتداد اور مدعا علیہ کے فسخ نکاح کو قرآن وحدیث اور اجماع امت اور اقوال فقہاء سے نہایت تفصیل اور توضیح سے بیان فرمایا اور مختار مدعا علیہ کی جرح کے نہایت ہی محققانہ جوابات دئیے۔ مولانا موصوف کے بیان میں حضرت سید انورشاہ صاحب بھی تشریف فرما تھے اور حضرت مرحوم نے مولانا کے بیان کو بہت ہی پسند فرمایا۔

ابوالعباس نعمانی، معلم ثانی جامعہ عباسیہ، بہاول پور

مرزا ادّعائے نبوت کی وجہ سے خارج از اسلام ہے

میں مرزاغلام احمد قادیانی کو ان کی کتابوں کی رو سے اور ان کی تحریرات کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے جو دعویٰ نبوت اور رسالت تشریعی یا غیرتشریعی کیا ہے جس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہیں اور ان کے متبعین بھی یہی حکم رکھتے ہیں۔ مرتد کے

205

ساتھ کسی سابقہ منکوحہ کا نکاح قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی آئندہ اس کو کسی مسلمہ یا ذمیہ حرہ یا امہ سے نکاح کرنے کا اختیار ہے۔ سابقہ نکاح بدون قضا قاضی فسخ ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید کی آیت ’’یاایہا الذین آٰمنوا اذا جاء کم (ممتحنہ:۱۰)‘‘ اس بات پر دلیل ہے اور ہمارے فقہائے حنفیہ بلکہ تمام علماء اسلام نے واضح طور پر اپنے کتب میں لکھ دیا ہے۔

(شامی ج۲ ص۴۲۵، فتاویٰ عالمگیری ص۴۰۶) میں بھی یہ مسئلہ مفصل اور واضح طور پر موجود ہے۔ ان کے کفر کے وجوہ اگرچہ بہت سے ہیں۔ مگر میں صرف تین امور پر اس وقت اکتفا کروں گا۔

مرزاقادیانی کے وجوہ کفر

۱… ادّعاء نبوت تشریعی اور غیرتشریعی۔

۲… توہین انبیاءؑ۔

۳… تمام مسلمانان عالم کو کافر بنانا، خواہ اس کو مرزاقادیانی کی دعوت پہنچی ہو یا نہ، مکفر ہوں یا نہ، ان وجوہ کی بناء پر وہ کافر اور خارج ازاسلام ہیں۔

مرزاقادیانی نے (دافع البلاء ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۲۵،۲۲۶) پر لکھا ہے کہ: ’’اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ تاتم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘

پھر (دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) پر ہے: ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

مرزانبوت تشریعیہ کا مدعی ہے

مرزانبوت تشریعی کا مدعی تھا اور اس ثبوت کے لئے انہوں نے دو وجہ بیان کیں ہیں:

۱… مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’اگر کہو کہ صاحب الشریعہ افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے۔ نہ ہر ایک مفتری، تو اوّل یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنے وحی کے ذریعہ سے چند اوامر اور نواہی بیان کئے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶،۸، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

مرزاقادیانی نے ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں ایسی مثالیں بھی بیان کی ہیں۔ جن میں امر اور نہی ہے۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۵۹) پر لکھتے ہیں: ’’قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی… یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ… یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘

۲… معیار نبوت تشریعی کا انہوں نے (تریاق القلوب ص۱۳۰ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲) پر یہ قرار دیا ہے کہ: ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے۔ جو خداتعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن ان کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں کہ وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

پھر مرزاقادیانی (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) پر لکھتے ہیں: ’’یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے

206

مفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ’’فمن اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذباً او کذب بایاتہ‘‘ یعنی بڑے کافر وہی ہیں ایک خدا پر افتراء کرنے والا۔ دوسرا خدا کی کلام کی تکذیبکرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر پر پڑے گا۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۱۲، خزائن ج۱۷ ص۴۴۱) پر لکھتے ہیں: ’’اس بات کو قریباً ۹برس کا عرصہ گزر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیرمقلد کو دعوت دین اسلام کی کی تھی۔ تب ان کی ہر ایک پہلو سے گریز دیکھ کر۔‘‘

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مخالف کو انہوں نے کافر قرار دیا۔ مرزاقادیانی (فتاویٰ احمدیہ ج اوّل ص۲۶۹) پر لکھتے ہیں: ’’واعلم ان عملاً من الاعمال لا یفید لاحد من دون ان یعرفنی ویعرف دعوای ودلائلی‘‘یعنی کسی کا کوئی عمل میرے دعویٰ اور میری دلیلوں اور میرے پہچاننے کے بغیر مفید نہیں ہوسکتا۔

(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۳۰۸) پر ہے۔ ’’بہرحال جس کو خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج۱ ص۳۰۵) پر لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود ایک شخص نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں کیا ہرج ہے۔ فرمایا: ’’لا یلدغ المؤمن من جحرٍ واحد مرتین‘‘ یعنی مؤمن ایک ہی سوراخ سے دوبارہ نہیں کاٹا جاتا۔ ہم خوب آزما چکے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل منافق ہوتے ہیں۔ ان کا حال ہے۔ ’’واذ القوا الذین آمنوا قالوا اٰمنا‘‘ یعنی ہمارے سامنے تو کہتے ہیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی مخالف نہیں۔ لیکن جب اپنے لوگوں سے مخلی بالطبع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ان سے استہزاء کر رہے تھے۔ پس یہ لوگ ایک اشتہار دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مؤمن سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان کے کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو میں آج ہی اپنی تمام جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں۔ ہم سچائی کے پابند ہیں۔‘‘ فتاویٰ کی ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص مرزا قادیانی کو نہیں مانتا، خواہ اس کو کافر کہے یا نہ۔ وہ مسلمان نہیں اور اس کا کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں۔

مرزاقادیانی نے اپنے پر نزول وحی کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کے حوالے کے لئے (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) پر تصریح موجود ہے۔

  1. آنچہ من بشنوم زوحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

  2. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

نیز مرزاقادیانی اپنے پر جبرئیل کے نزول کے مدعی ہیں۔ چنانچہ (حقیقت الوحی ص۱۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶) پر لکھتے ہیں: ’’جاء نی آئیل واختاروا واراصبعہ واشار‘‘ اس کے فٹ نوٹ میں لکھتے ہیں۔ اسی جگہ آئیل خداتعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ باربار لوٹتا ہے۔

اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے میں چند حوالوں پر اکتفا کرتا ہوں۔ مرزاقادیانی نے صرف دعویٰ پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اپنی شان نبوت اور رسالت کا سکہ جمانے کے لئے ان تمام خصوصیات نبوت اور لوازمات رسالت کو نہایت ہی جزم اور وثوق کے ساتھ اپنے ذات کے

207

لئے ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ جن خصوصیات کی وجہ سے انبیاءؑ کی جماعت مقربان بارگاہ الٰہی سے ممتاز ہوسکتی ہے۔

مرزاقادیانی اپنے لئے لوازم نبوت ثابت کرتا ہے

مرزاقادیانی کا اپنی وحی والہام کو قطعی اور یقینی سمجھنا اور اپنے وحی کو خدا کا کلام کہنا اور اپنے خوارق عادات کا نام معجزہ رکھنا اور اپنے منکر متردد وساکت کو کافر منافق ٹھہرانا اور اپنی جماعت سے خارج ہونے والے کو مرتد خطاب دینا۔ اس قسم کے دعاوی کے حوالہ جات مرزاقادیانی کے مصنفات سے بکثرت ملتے ہیں۔ مرزاقادیانی اپنے الہامات کو وحی الٰہی اور کلام خداوندی اور قرآن کی طرح قطعی کہتا ہے۔ چنانچہ (حقیقت الوحی ص۶۹ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۲) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ان الہامات کی ترتیب بوجہ باربار کی تکرار کے مختلف ہے۔ کیونکہ یہ فقرے وحی الٰہی کے کبھی کسی ترتیب سے کبھی کسی ترتیب سے مجھ پر نازل ہوئے ہیں اور بعض ایسے فقرے ہیں کہ شاید سو سو دفعہ یا اس سے بھی زیادہ نازل ہوئے ہیں۔ پس اس وجہ سے ان کی قرأت ایک ترتیب سے نہیں اور شاید آئندہ بھی یہ ترتیب محفوظ نہ رہے۔ کیونکہ عادت اﷲ اسی طرح سے واقع ہے کہ اس کی پاک وحی ٹکڑے ٹکڑے ہوکر زبان پر جاری ہوتی ہے۔‘‘

مرزائی جماعت سے جو شخص علیحدہ ہو جائے اس کو مرتد کا خطاب دیا جاتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۲۲ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۲) پر ہے: ’’پھر ایک اور خوشی کا موقعہ ہمارے مخالفوں کو پیش آیا کہ جب چراغ دین جموں والا میرا مرید تھا۔ مرتد ہوگیا اور بعد ارتداد میں نے رسالہ دافع البلاء ومعیار اہل الاصطفاء میں اس کی نسبت خداتعالیٰ سے یہ الہام پاکر شائع کیا کہ وہ غضب الٰہی میں مبتلا ہوکر ہلاک کیا جائے گا۔‘‘ جس شخص کو مرزاقادیانی کی معرفت نہ ہو اور ان کے دعویٰ اور دلائل سے واقفیت پیدا نہ ہو۔ اس کا کوئی عمل صالح، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ مقبول نہ ہوگا۔‘‘ جیسا کہ (فتاویٰ احمدیہ ص۲۶۹) پر حوالہ دیا جاچکا ہے۔

یہ خصوصیات مذکورہ ایسی ہیں جو سوائے انبیاء اصحاب شریعت کے اور کسی مقرب میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ ان سے ثابت ہوا کہ مرزا حقیقی نبوت کا مدعی تھا اور اپنے آپ کو اسی معنی میں نبی اور رسول ظاہر کرتا تھا۔ جس معنی میں دوسری انبیاءؑ کو نبی اور رسول کہاگیا ہے۔

مرزاقادیانی کا اپنی نبوت کو ظلی اور بروزی کہنا محض پردہ پوشی ہے

باوجود ان تصریحات کے مرزاقادیانی نے خواہ مخواہ پردہ پوشی اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے اپنے آپ کو بروزی اور ظلی نبی ظاہر کیا اور ختم نبوت کے نصوص قطعیہ کی مخالفت سے بظاہر بچنے کے لئے ایک جدید راہ نکالی۔ مگر جہاں تک حقائق شرعیہ کا تعلق ہے۔ یہ توجیہہ اور تدبیر اس کے لئے مفید معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ مجازی اور ظلی نبوت کی اصطلاح خود مرزاقادیانی کی پیدا کردہ ہے۔ قرآن حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ اگر فی الحقیقت ظلی وبروزی نبوت کا وجود ہوتا تو لامحالہ اقوال صحابہ اور ائمہ مجتہدین کی تحقیقات میں اس کا ذکر ہوتا۔ بلکہ سب سے پہلے یہ دروازہ ان بزرگ اور مقدس ہستیوں پر کھلتا۔ جن کے پاک کندھوں پر اسلام کی بنیاد کھڑی کی گئی ہے۔ اگر نبوت تشریعی وغیرتشریعی کا دروزہ ارشاد خداوندی (خاتم النّبیین) سے بند نہ ہوگیا ہوتا تو جناب رسول اﷲa نے باوجود استعداد اور قابلیت نبوت کے جو فاروق اعظمq اور علی المرتضیٰq کے وجود مسعود سے پوری پوری جھلک دکھا رہی تھی۔ یہ ارشاد نہ فرمایا ہوتا: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ اور اسی طرح صراحۃً مشابہت ہارون کے بعد جناب علی المرتضیٰq سے یہ ارشاد نہ فرماتے: ’’الّا انہ لا نبی بعدی‘‘ کیونکہ بوقت ارادۂ نبوت مجازی بخیال مرزاقادیانی نہ تو آیت خاتم النّبیین کی مخالفت ہے اور نہ فرمان مصطفوی ’’لا نبی بعدی‘‘ سے کوئی تصادم ہوتا ہے۔

208

پس آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت ملنے کا امکان نہیں۔ خواہ تشریعی ہو یا غیرتشریعی مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو ساری امت سے اس منصب کے لئے منتخب کیا ہے۔

ساری امت میں اپنے آپ کو نبوت کے لئے مختص سمجھتا ہے

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) میں لکھتے ہیں: ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اسی وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘

مرزاقادیانی نے حقیقی نبوت کے دعویٰ کو اس امت میں سے صرف اپنے ہی لئے مخصوص کیا۔

مدعی نبوت کافر ہے

جو شخص نبوت کا مدعی ہو خواہ صاحب الشریعت کہلائے یا نہ، ازروئے قانون اسلام خارج از اسلام ہے۔ زندیق اور مرتد کہلانے کا مستحق ہے۔ اس کے بہت سے دلائل ہیں اور اب میں قرآن حکیم سے چند آیات پیش کرتا ہوں۔

۱…’’قولہ تعالیٰ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘(تفسیر ابن کثیر ج۹ ص۸۹) میں ہے۔ ’’وہذہ الایۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ الیٰ قولہ ولا ینعکس‘‘ اسی تفسیر کے (ص۹۱،۹۲) پر اس آیت کے ذیل میں ہے۔ ’’ومن رحمہ اﷲ اے قولہ ما دامت السموات والارض (ہود:۱۰۷)‘‘یعنی اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بطریق اولیٰ نہیں ہوگا۔ کیونکہ رسول اور نبی میں عام خاص کی نسبت ہے۔ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ دوسری عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔ بندوں کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آنحضرتﷺ کو ان کی طرف بھیجا۔ پھر آپa کو یہ کمال عنایت فرمایا کہ آپa کے ساتھ تمام انبیاء ورسول کو ختم کر دیا اور دین حنیف کو آپa کے سبب سے مکمل کر دیا۔ اﷲتعالیٰ اپنی کتاب میں اور رسول اﷲ نے اپنی سنت متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تاکہ انہیں اس بات کا پتہ چل جائے کہ آپa کے بعد جو شخص دعویٰ نبوت کرے وہ کذاب، مرتد، دجال، ضال، مضل ہے۔ خواہ کسی قسم کے جادو اور شعبدے اور طلسم اور عجائبات دکھلائے۔ سب کے سب یہ عقلمندوں کے نزدیک گمراہی کا موجب ہیں۔ جیسا کہ اﷲتعالیٰ نے اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کے ہاتھوں پر اس قسم کے شعبدے اور عجائبات دکھلائے۔ جن کو دیکھ کر ہر عقلمند اور ذی فہم معلوم کرے گا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ ہیں۔ ان پر خدا کی لعنت۔ اس طرح جو شخص قیامت تک دعویٰ نبوت کرے گا۔ اس کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں تک کہ ان کذابوں کا سلسلہ مسیح دجال تک ختم ہوگا۔ اس کے ساتھ کسی قسم کے عجائبات اور خوارق ہوں گے۔ علماء اور مؤمنین ان تمام چیزوں کے جھوٹے ہونے کی گواہی دیں گے۔ یہ اﷲتعالیٰ کی اپنی مخلوقات کے ساتھ بڑی عنایت اور مہربانی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ (جو مدعی نبوت ہیں) بحسب ضرورت واقع بھلے کاموں کا حکم نہ دیں گے اور نہ ہی برے کاموں سے روکیں گے۔ ہاں بطور اتفاق کبھی کبھی امر ونہی کا سلسلہ جاری کریں گے جو ان کے مقاصد کے لئے مفید ہوگا۔ ان کے اقوال اور ان کا طرز عمل جھوٹ اور فجور سے ملوث ہوگا۔ اﷲتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ کیا تمہیں خبردوں کہ کس پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ ہر جھوٹے

209

گنہگار پر شیطانوں کا نزول ہوتا ہے۔ انبیاءؑ کے حالات بالکل ان کے برخلاف ہیں۔ ان میں نہایت نیکی اور سچائی اور ہدایت اور استقامت پائی جاتی ہے اور قول اور فعل میں وہ راست باز اور درست ثابت ہوتے ہیں۔ بھلائی کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لئے خوارق عادات اور واضح دلیلیں اور روشن برہان بھی مؤید ہوتے ہیں۔ اﷲتعالیٰ کی رحمتیں اور سلام ان پر ہمیشہ رہیں۔ جب تک آسمان وزمین قائم رہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت ملنے کی گنجائش نہیں۔ آپa خاتم النّبیین ہیں۔ اس آیت کی قرأت دو طریق پر ہے۔ خاتم (بفتح التأ) خاتم (بکسر التأ) حسن وعاصم کے سوا تمام قراء خاتم (بالکسر) پڑھتے ہیں۔ اس کی تفسیر خود آنحضرتﷺ نے فرمادی ہے۔ جس کے بعد کسی اور شخص کی تفسیر وتوضیح کی ضرورت نہیں۔ غزوہ تبوک میں جب آنحضرتﷺ تشریف لے جارہے تھے تو مدینہ میں حضرت علیq کو اپنی جگہ انتظام کے لئے چھوڑنے کا ارشاد فرمایا۔ اس وقت حضرت علیq نے عرض کیا کہ آپa مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر تشریف لے جاتے ہیں جو میری شجاعت کے منافی ہے۔ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اما ترضٰی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی الّا انہ لا نبی بعدی‘‘(مسلم شریف ج۲ص۲۷۸) جب آنحضرتﷺ نے حضرت علیq کو اپنی جانشینی کے لئے مدینہ میں چھوڑ کر حضرت ہارونm کے ساتھ ان کو تشبیہ دی تو سننے والے کو شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ شاید حضرت علیq آنحضرتﷺ کے بعد منصب نبوت سے اسی طرح متصف ہوں گے۔ جیسا کہ حضرت ہارونm تھے۔ اسی شبہ کے رفع کرنے کے لئے آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’الّا انہ لا نبی بعدی‘‘ اگرچہ تم ہارونm کی طرح اس وقت میرے جانشین ہو۔ مگر یہ بھی خیال نہ کرنا کہ تم منصب نبوت سے موصوف ہوسکتے ہو۔

(مشکوٰۃ ص۵۱۳) پر حضرت جابرq سے یہ روایت ہے:

(ابن کثیر ج۸ ص۵۰) ’’مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل (بنی بیتاً) الٰی قولہ ختم بی النبیون‘‘ یعنی میرے اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے ایک مکان بنایا اور مکمل کر دیا اور نہایت اچھا کر دیا۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ جو کوئی اس مکان کے دیکھنے کے لئے اس میں داخل ہوتا تھا اور اسے دیکھتا تھا تو یہ کہہ دیتا تھا کہ یہ مکان کیا ہی اچھا ہے۔ مگر اس ایک اینٹ کی جگہ اچھی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اینٹ میں ہوں۔ اﷲتعالیٰ نے میرے ساتھ تمام انبیاء کو ختم کر دیا۔

دوسری روایت (ابن کثیر ج۸ ص۹۱) میں ہے کہ: ’’انا العاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘ {یعنی میں پیچھے آنے والا ہوں۔ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔}

عبداﷲ بن عمرq کی روایت اسی صفحہ پر ہے۔ ’’خرج رسول اﷲa یوماً کالمودع‘‘ شمائل ترمذی ص۲۱میں بھی روایت موجود ہے۔ ’’انا العاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘

(ترمذی ج۲ ص۵۱) پر ہے: ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی‘‘ فرمایا کہ رسالت اور نبوت دونوں ختم ہوچکی ہیں۔ نہ میرے بعد کوئی رسول آسکتا ہے نہ کوئی نبی۔ صحابہ کرامi کو یہ بات دشوار گزری تو فرمایا کہ مبشرات باقی ہیں۔ عرض کیاگیا کہ مبشرات کیا ہیں، فرمایا کہ مسلمانوں کے خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہیں۔

(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۲) پر ہے کہ آپa نے فرمایا: ’’انی عند اﷲ فی ام الکتاب خاتم النّبیین‘‘ یعنی میں لوح محفوظ میں اﷲتعالیٰ کے ہاں خاتم النّبیین لکھا گیا ہوں۔ اس آیت سے ختم نبوت اور ختم رسالت کا مسئلہ ثابت ہوا۔ جس کے بعد کسی نئے نبی کے

210

آنے کی گنجائش نہیں رہی۔

دوسری آیت:’’الیوم اکملت لکم دینکم (مائدہ:۳)‘‘

ابن کثیر اپنی تفسیر (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۲۸۹) پر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ’’ہذا اکبر نعم اﷲ … تا … اشرف کتبہ‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ کی بڑی نعمت ہے کہ اﷲتعالیٰ نے ان کے دین کو مکمل کر دیا۔ اس کے بعد نہ وہ کسی دین کے محتاج ہیں نہ کسی دوسرے نبی کے محتاج ہیں۔

تیسری آیت: اس واسطے اﷲتعالیٰ نے آپa کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام جنوں اور انسانوں کی طرف آپa کو مبعوث فرمایا۔ ’’قل یا ایہا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعاً (اعراف:۵۸)‘‘ اس آیت میں آنحضرتﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ سب دنیا کی طرف مبعوث ہیں۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی یا رسول نہیں ہوسکتا۔ اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر اپنی (تفسیر ج۴ ص۲۵۳) پر لکھتے ہیں: ’’قل یا محمد یا ایہا الناس‘‘ اے قولہ کافتہ۔ یہ سب لوگوں کی طرف سے خطاب ہے۔ سرخ رنگ ہوں یا سیاہ رنگ ہوں۔ عربی ہوں یا عجمی ہوں۔ یعنی تم سب کی طرف رسول ہو اور یہ آپ کی شرف اور عظمت کی نشانی ہے کہ آپa خاتم النّبیین ہیں اور تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہیں۔

چوتھی آیت: ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیراً ونذیراً (سبا:۲۹)‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ہم نے نہیں بھیجا۔ آپa کو مگر تمام دنیا کے لئے خوشخبری دینے والا اور ڈارنے والا، تو آپa کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آئے گا تو آپa کافتہ للناس نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ آپa تمام احکام کو جو ساری دنیا کے لئے ضروری تھے۔ ان کو مکمل کر چکے ہیں اور بقدر ضرورت ان کی تشریح فرماچکے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص رسول یا نبی نہیں ہو سکتا۔

پانچویں آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاٰخرۃ ہم یوقنون (بقرہ:۴)‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متقی بننے کے لئے صرف ان چیزوں کی ضرورت ہے جو اسی آیت میں اور اسی سے پہلی آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو وہ وحی ہے جو آنحضرتﷺ پر نازل کی گئی ہے اور ایک وہ وحی ہے جو آپa سے پہلے نبیوں پرنازل کی گئی۔ مگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی کسی وحی پر انسانوں کی نجات اور اتقاء کی مدار ہوتی تو اﷲتعالیٰ اسے بھی یہاں ذکر فرمادیتا۔ مگر ایسا نہیں کیاگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسرے نبی کی یا نئی وحی کی متقی بننے کے لئے حاجت نہیں اور نہ ہی اس کے آنے پر یا اس کے ماننے پر لوگوں کی نجات کا مدار ہے۔

ختم نبوت پر تصریحات امت

ان آیات واحادیث کے بعد میں چند معتبر علماء کے اقوال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ساری امت کا اتفاق ہے کہ آنحضرتﷺ پر دروازہ نبوت کا بند ہوچکا ہے۔ کسی دوسرے پر جبرئیل وحی لے کر نہیں آئے گا۔ اس مسئلہ کو تمام علمائے امت نے قبول کیا اورہر ایک طبقہ کے لوگوں نے اپنی تصانیف میں اس کو درج کیا۔ (شرح عقائد مطبوعہ یوسفی ص۹۹) پر ہے۔ ’’اوّل الانبیاء آدم وآخرہم محمدa‘‘ (شرح عقائد ص۱۰۱) میں ہے کہ: ’’واذ اثبت نبوتہ وقد دل کلام وکلام اﷲ المنزل کما زعم النصاریٰ‘‘ یعنی جب آپa کی نبوت ثابت ہوچکی اور اﷲتعالیٰ کی کلام اور رسول اﷲa کے ارشادات سے معلوم ہوا کہ آپa خاتم النّبیین ہیں اور تمام جنوں اور انسانوں کی طرف آپa کی بعثت ہے تو ثابت ہوا کہ آپa آخرالانبیاء ہیں اور آپ کی نبوت کا عرب کے ساتھ اختصاص نہیں۔ جیسا کہ بعض عیسائیوں کا خیال ہے۔

211

غنیتہ الطالبین میں حضرت پیر صاحب (ص۱۸۳) میں لکھتے ہیں: ’’ویعتقد اہل السنۃ الیٰ ولہ علیٰ الناس کافۃ‘‘ یعنی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام رسولوں کے سردار ہیں اور خاتم النّبیین ہیں اور تمام دنیا کے جن وانس کی طرف آپa مبعوث ہیں۔ جیسا کہ آیت: ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ سے معلوم ہوتا ہے اور رسول اﷲa نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میں تمام انبیاء پر چار چیزوں سے فضیلت دیاگیا ہوں۔ ایک ان میں سے یہ کہ مجھے تمام دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا۔

(عقیدہ طحاوی ص۱۴) میں امام طحاوی لکھتے ہیں۔ اس کتاب کے اوّل میں لکھا ہے کہ یہ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف اور امام محمد کا عقیدہ ہے اور تمام اہل سنت والجماعت کا بھی عقیدہ ہے جو ان کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ عقیدہ طحاوی کی اصل عبارت یہ ہے۔

’’کل دعوۃ بعد نبوتہ بغی وہوی‘‘ یعنی آپ کے بعد مدعی نبوت ہونا ضلالت اور گمراہی کا پیش خیمہ ہے۔ (تاریخ الخلفاء کانپوری ص۱۶۱) میں امام سیوطی عمر بن عبدالعزیز کے خطبہ میں یہ لفظ نقل کرتے ہیں:’’یاایہا الناس لا کتاب بعد القرآن ولا نبی بعد محمد رسول اﷲa‘‘قرآن کے بعد نہ کوئی کتاب اترے گی اور نہ محمدa کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے۔

ملّا علی قاری (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲)میں لکھتے ہیں: ’’ودعویٰ النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع‘‘ ہمارے نبیa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔ جس پر تمام امت کا اجماع ہے۔

(اشباہ والنظائر ص۲۶۷) پر ہے: ’’اذا لم یعرف ان محمداًa آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات‘‘ یعنی جو شخص آنحضرتﷺ کو تمام انبیاء کا آخر نہیں تسلیم کرتا وہ مسلمان نہیں۔

(عالمگیر ج۲ ص۴۱۱) میں ہے: ’’اذا لم یعرف الرجل ان محمدa نبیاً غیر عیسیٰ بن مریم فانہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہ‘‘ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد عیسیٰ بن مریم کے سوا کسی دوسرے نبی کا اعتقاد رکھے۔ اس کی تکفیر میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں۔

(کتاب الفصل لا بن الحزم ج۳ ص۴۴۹)

اس کتاب کے جلد چہارم میں (ص۱۸۰) میں ہے۔ ’’ہذا مع سماعہم لی قولہ فی آخرالزمان‘‘ یعنی اﷲ کے اس قول کے سننے کے بعد ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘ اور نبیa کے قول (لا نبی بعدی) کے پہنچنے کے بعد کوئی مسلمان کیسے جائز رکھ سکتا ہے کہ زمین میں آپa کے بعد کوئی نبی ہوگا۔ سوائے اس نبی کے جس کا آنحضرتﷺ نے صحیح احادیث میں استثناء فرمایا کہ عیسیٰ بن مریمm آخر زمانہ میں اتریں گے۔

(کتاب الفصل ج۳ ص۲۵۶) میں ہے: ’’ومن قال نبی بعد النبی علیہ السلام الٰی قولہ فہو کافر‘‘ یعنی جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کو نبی مانتا ہے یا کسی چیز کا انکار کرے جو اس کے نزدیک صحیح طور پر ثابت ہوگئی ہو کہ آنحضرتﷺ نے اس کا ارشاد فرمایا ہے تو وہ کافر ہے۔

(نسیم الریاض ج۳ ص۵۰۶) میں ہے: ’’وکذلک نکفر من ادعی النبوۃ احد الٰی قولہ کالعیسویۃ‘‘ یعنی اسی طرح ہم اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو ہمارے نبیm کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرے، خواہ آپ کے زمانہ میں جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی خواہ آپa کے بعد یا کسی دوسرے شخص کی نبوت کا مدعی ہو تو وہ کافر ہے۔ کیونکہ آپa خاتم النّبیین ہیں۔ قرآن اور حدیث کے رو سے یہ اﷲتعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب ہوگی۔

212

(الصارم المسلول ص۱۶۸) میں ہے: ’’ومعلوم الٰی قولہ فہو کافر حلال الدم‘‘ جو شخص اﷲتعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ میں اﷲتعالیٰ کا رسول ہوں یا نبی یا کوئی ایسی جھوٹی خبر دے جس کو خدا کی طرف نسبت کرتا ہے۔ وہ کافر ہے اور اس کا قتل کرنا حلال ہے۔ ختم نبوت کا ایسا مسئلہ ہے جس کو خود مرزاقادیانی بھی تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی دوسرا نبی نہیں ہوسکتا۔

دعویٰ نبوت سے پہلے مرزاختم نبوت کا قائل تھا

چنانچہ مرزاقادیانی (حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷) میں لکھتا ہے کہ: ’’وما کان لی ان ادّعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین‘‘ یہ مجھ سے کیسے ہوسکتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کفار سے جا ملوں۔

(حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) میں آیت: ’’ماکان محمد ابا احد… الخ کی تشریح کرتے ہوئے مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔ ہمارے نبیm خاتم النّبیین ہیں۔ بغیر کسی استثناء کے اور ہمارے نبیa نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اگر آنحضرتﷺ کے بعد ہم کسی نبی کے ظہور کے مجوز بنیں گے تو نبوت کے دروازے بند ہونے کے بعد اس کے کھلنے کے قائل ہو جائیں گے اور یہ اﷲتعالیٰ کے وعدہ کے خلاف ہے۔ ہمارے نبیa کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ حالانکہ آپa کے بعد وحی کا انقطاع ہوچکا ہے اور نبی آپa کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں۔‘‘

اسی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۲۰،۲۱، خزائن ج۷ ص۲۰۱) میں آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کی تفسیر میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ ہزارہا سال کے بعد اگر ایسی حالت کے انتظار ہوتی۔ جس میں کہ دین کی تکمیل ہو تو دین کی تکمیل اور نزول قرآن کی وجہ سے دین کے اکمال سے فراغت کاسلسلہ فاسد ہو جائے اور اﷲتعالیٰ کا یہ قول… ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ جھوٹی خبر اور خلاف واقعہ ثابت ہو۔

مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۵۲۲، خزائن ج۳ ص۳۸۰) میں لکھتے ہیں کہ مسیح کیونکر آسکتا۔ وہ رسول تھا اور خاتم النّبیین کی دیواریں اس کو آنے سے روکتی ہے۔

اسی طور پر مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) میں لکھتا ہے کہ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔ مرزاقادیانی اس مسئلہ ختم نبوت کو سمجھ کر (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۵، خزائن ج۲۱ ص۱۱۱) میں اپنی پہلی براہین احمدیہ کے جلدوں کا حوالہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریمm کا آسمان سے نزول ہوگا اور باوجود اس بات کے کہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰؑ کی طرف منسوب تھیں۔ وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کر دیں اور یہ بھی فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کر دیا کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوں گے اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں۔ جب تک کہ خداتعالیٰ نے باربار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا۔ اس زمانہ اور اس امت کے لئے تو ہی عیسیٰ بن مریم ہے۔‘‘

اس حوالہ سے معلوم ہو گیا کہ مرزاقادیانی نے قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبوی سے اپنی نبوت کے لئے جو استدلال پیش کیا ہے وہ محض لاطائل اور بے معنی سعی ہے۔

213

مرزاقادیانی براہین احمدیہ کے لکھنے کے وقت اس سے پہلے مدتوں سے اپنی قرآن دانی اور حکم فہمی کے مدعی تھے۔ مگر اس سے پہلے قرآن کے رو سے کسی نئے نبی کے آنے کا انکار تھا تو بعد میں کون سی قرآن کی آیت نازل ہوئی یا آنحضرتﷺ کی کون سی نئی حدیث پیدا ہو گی۔ جس کی بناء پر مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہی قرآن اور حدیث پہلے موجود تھا۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’الیوم اکملت‘‘ والی آیتیں اس وقت بھی موجود تھیں۔ ہر دو آیتیں قسم اخبار میں سے ہیں اور امر نہی کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادّعاء نسخ سے پناہ لے کر کوئی تاویل کی جائے تو وہ تاویل امر ونواہی میں جاری ہوسکتی ہے۔ اخبار میں نہیں ہوسکتی۔ یہ مسئلہ علمائے اسلام کے نزدیک مسلمہ اور متفق علیہا ہے۔ پھر کیونکر ازروئے قرآن یا حدیث اپنے کو ادّعاء نبوت میں صادق کہہ سکتے ہیں۔ ختم نبوت کے معنی میں جو کچھ میں نے عرض کیا ہے مرزاقادیانی بھی اس معنے کو دوسری جگہ تسلیم کرتے ہیں اور اپنی کلام میں اس طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح تمام علماء امت نے سمجھا ہے۔ لیکن صرف خوش خیالی کو بحال رکھنے کے لئے بے محل اور خلاف محاورات عرب تاویل کر کے جان بچانے کی ناکام سعی کی ہے۔

’’خاتم‘‘ بمعنے ’’آخر‘‘ پر مرزاقادیانی کی تصریحات

خاتم کے معنی آخر کے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی کتاب (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹) میں لکھتے ہیں: ’’منجملہ ان کے یہ ہے۔ حضرت آدمm کی پیدائش زوج کے طور پر تھی یعنی ایک مرد اور ایک عورت کے ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور جس کا نام جنت تھاا ور پہلے وہ لڑکی پیٹ سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ خاتم الاولاد وخاتم النّبیین کے معنی ایک ہیں کہ جس کے بعد کوئی دوسرا نہ ہو۔

دوسری جگہ (تریاق القلوب ص۱۵۶، خزائن ج۱۵ ص۴۷۸) میں لکھتے ہیں: ’’یعنی وہ آدم صفی اﷲ کی طرح مذکر ومونث کی صورت پر پیدا ہو گا اور خاتم الاولاد ہوگا۔‘‘ مرزاقادیانی نے خاتم النّبیین کے بعد بروز کے طور پر اپنے آپ کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر خود انہیں کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص خاتم ہو۔ اس کا بروز بھی نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ (تریاق القلوب ص۱۵۶ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) میں لکھتے ہیں: ’’مگر مہدی معہود بروزات کے لحاظ سے پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ خاتم الاولاد ہے۔‘‘

اور (تریاق القلوب ص۱۵۶ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷،۴۷۸) میں ہے کہ: ’’یہ بعض اکابر اولیاء کے مکاشفات ہیں اور اگر احادیث نبویہ کو بنظر غور دیکھا جائے تو بہت کچھ ان سے ان مکاشفات کو مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ قول اسی حالت میں صحیح ہوتا ہے جب مہدی معہود اور مسیح موعود کو ایک ہی شخص مان لیا جائے۔‘‘ اسی حوالہ سے بروزی اور ظلی نبی ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوگیا۔

ان گزشتہ بیانوں سے ثابت ہوگیا کہ حضرت محمد رسول اﷲa خاتم النّبیین اور آخر المرسلین والنّبیین ہیں۔ آپa کے بعد جو شخص اپنے لئے دعویٰ نبوت کرے یا کسی دوسرے کو نبی مانے۔ وہ تمام اہل سنت کے نزدیک کافر مرتد خارج از اسلام ہے۔ کسی ایک کا بھی اس میں اختلاف نہیں۔

توہین انبیاء

دوسرا مسئلہ توہین انبیاءؑ کا ہے۔ کسی کی توہین کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ یا تو اس میں کوئی جسمانی عیب ثابت کیا جائے،

214

جو اس میں موجود نہ ہو یا کسی ایسی بداخلاقی کے ساتھ اس کو متہم کیاجائے جو اس میں نہ ہو یا کسی کے منصب کو جس کے ساتھ اﷲتعالیٰ نے اس کو سرفراز فرمایا ہے۔ اس کا اپنے لئے دعویٰ کیا جاوے یا کوئی ایسی چیز اس کے سامنے یا اس کی شان میں کہی جائے۔ جس سے اس کی دل آزاری ہو۔ اس کے علاوہ توہین کی ضمنی تقسیمیں اور بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر میں اس وقت صرف ان ہی وجوہ کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں۔ چند آیات قرآنی جس میں اﷲتعالیٰ نے ہمارے نبی پاک محمد مصطفیٰa کو چند مراتب اور مقامات عالیہ سے سرفراز فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص زید ہویا عمر اپنے اوپر ان کو چسپاں کرے تو لامحالہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی وبے ادبی سمجھی جائے گی۔

۱…’’سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الٰی المسجد الاقصٰی (اسراء:۱)‘‘ جس میں حضورﷺ کے شان معراج کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس کو مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ میرے پر نازل ہوئی۔

(حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱)

۲…’’ثم دنا فتدلیٰ فکان قاب قوسین اوادنیٰ (سورۃ نجم:۸،۹)‘‘جس میں باختلاف اقوال مفسرین حضورﷺ کے لئے جو قرب الٰہی جناب رب العزت سے حاصل ہوا تھا۔ یا بقول دیگر جبرئیلm سے حاصل ہوا تھا۔ ذکر کیاگیا ہے۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے پر نازل ہوئی۔

(حقیقت الوحی ص۷۶، خزائن ج۲۲ ص۷۷)

۳… حضورm پر صلح حدیبیہ کے موقع پر ’’انا فتحنا لک فتحاً مبینا (فتح:۱)‘‘ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کو بھی مرزاقادیانی نے اپنے پر چسپاں کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷)

۴…’’قل ان کنتم تحبون اﷲ (آل عمران:۳۱)‘‘ اس کو بھی مرزاقادیانی اپنے لئے منزل ثابت کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲)

۵…’’انا اعطینٰک الکوثر (کوثر:۱)‘‘ کو بھی (مرزا نے) اپنی شان کے لئے تجویز فرمایا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

مقام محمود جس کا ’’ان یبعثک مقاماً محموداً (بنی اسرائیل:۷۹)‘‘ میں ذکر ہے۔ اس کو بھی (مرزا نے) اپنے حق میں تجویز کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)

اس قسم کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن کو ترک کرتا ہوں۔

مرزا تمام انبیاءؑ کی ہمسری بلکہ ان سے افضلیت کا مدعی ہے

مرزاقادیانی اپنی کتاب (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) میں لکھتے ہیں:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  2. آنچہ دادہ است ہر نبی راجام

    دادآں جام را مرا بتمام

اس شعر اور ان حوالہ جات بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے آپ کو کسی نبی سے کم درجہ نہیں دیتے۔ اب دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو وہ دوسرے تمام انبیاءؑ کے مساوی ہیں یا افضل جس میں کسی نبی کا استثناء نہیں۔ ہمارے نبی محمد مجتبیٰa بھی انہیں انبیاء میں شامل ہیں۔ لفظ انبیاء کسی خاص نبی کے لئے مختص نہیں۔ بلکہ تمام پر حاوی اور مشتمل ہے۔ بلکہ دوسرے شعر کے مصرعہ ثانی سے اپنی فضیلت

215

کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔ اس فضیلت کے لئے چند قرائن بھی موجود ہیں۔ جن سے مرزاقادیانی اپنے آپ کو دوسرے انبیاء سے افضل اور اعلیٰ سمجھتے تھے۔

(ڈائری ۱۹۰۱ء ص۵۳) میں لکھتے ہیں کہ: ’’شیطان نے آدمm کے مارنے کا منصوبہ کیا تھا اور اس کا استیصال چاہتا تھا۔ پھر شیطان نے خدا سے مہلت چاہی۔ اس کو مہلت دی گئی۔ وقت المعلوم بسبب اسی مہلت کے کسی نبی نے اس کو قتل نہ کیا۔ اس کے قتل کا وقت ایک ہی مقرر تھا کہ وہ مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہو۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳) میں مرزاقادیانی بطور تقابل کے اپنی افضلیت ظاہر فرماتے ہیں۔ حضورﷺ کے ساتھ اپنا مقابلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’لہ خسف القمر المنیر وان لی خساقا القمر ان المشرقان اتنکر‘‘

(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) میں لکھتے ہیں کہ: ’’آسمان سے کئی تخت اترے، پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘ اپنے معجزات کو حضورﷺ کے معجزات سے زیادہ بیان کرتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص۱۶۴، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸) پر اپنے نشانوں کی تعداد تین لاکھ بتاتا ہے۔

(براہین احمدیہ ص۵۰، جلد پنجم، خزائن ج۲۱ ص۶۳) پر نشان معجزہ اور کرامت کو ایک قرار دیتا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ کی توہین اور عذر گناہ بدتر از گناہ

مرزاقادیانی نے خصوصاً حضرت عیسیٰؑ کی سخت توہین کی ہے۔ جس کا ذکر مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ (ست بچن حاشیہ ص۱۷۱ حاشیہ، ضمیمہ انجام آتھم ص۴تا۷) پر مرزاقادیانی نے جو عیسیٰؑ کی شان میں گستاخانہ الفاظ اور توہین آمیز لہجہ کو استعمال کیا۔ اس پر لوگ برافروختہ ہوئے۔ ان کی طرف سے یہ معذرت کی گئی کہ عیسائی ہمارے نبیm پر قسما قسم کے اتہام لگاتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مگر یہ درست نہیں اس کی وجہ خود مرزاقادیانی (تریاق القلوب ص۳۶۲،۳۶۳، خزائن ج۱۵ ص۴۹۰،۴۹۱) میں لکھتے ہیں کہ: ’’تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں۔ جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانشنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری بیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عماد الدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہو گئے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۳۶۳، خزائن ج۱۵ ص۴۹۱) اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ’’مجھ سے پادریوں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا۔ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیاگیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی نے جو کچھ کیا، مسلمانوں کے اس جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کیا جو عیسائیوں کی بدزبانیوں کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیداہو گیا تھا تو عیسائی جس شخص کو اپنا بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں۔ اس کو مرزاقادیانی نے برا بھلا کہا اور یہ قول عیسائیوں کی کلام کا نقل نہیں۔ کیونکہ (ضمیمہ انجام آتھم ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۳۹۰) میں مرزاقادیانی کے یہ الفاظ ہیں: ’’مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ یہ عیسائیوں کا قول نہیں کہ عیسیٰؑ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ کہیں۔

216

(دافع البلاء ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰) پر مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰؑ اور حضرت یحییٰm کا مقابلہ کرتے ہوئے اور قرآن شریف کے لفظ حصور کی تشریح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ مرزاقادیانی نے لکھا ہے وہ اپنی طرف سے لکھا ہے اور اپنی قرآن دانی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ وہ عیسائیوں کا قول نہیں۔ ان کی طرف سے یہ عذر بھی کیا جاتا ہے کہ ہم نے جو کچھ کہا، یسوع کے متعلق کہا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق کچھ نہیں کہا اور یسوع کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔

مگر مرزاقادیانی خود (توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲) میں لکھتے ہیں: ’’دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰؑ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) میں لکھتے ہیں: ’’اے عیسائی مشزیو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) میں لکھا ہے ؎

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(ازالہ اوہام ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۸ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ: ’’اگر یہ عاجز اس کام کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح بن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے۔‘‘ اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی حضرت مسیح ابن مریم کے معجزات کو قابل نفرت سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے سے گھٹیا خیال کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے صرف حضرت عیسیٰؑ پر افضلیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت یوسفm پر بھی اپنی فوقیت کے ثابت کرنے کی سعی کی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۶، خزائن ج۲۱ ص۹۹) ’’اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔‘‘

انبیاءؑ کی شان میں گستاخی کرنے والا مستوجب لعنت ہے

ان حوالہ جات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی نے تمام انبیاء پر اپنی فوقیت ثابت کرنے کے لئے جو کچھ بھی کسی کی شان میں گستاخی کر سکتے تھے کرنے میں دریغ نہیں کیا۔ لہٰذا بموجب آیات قرانی مستوجب لعنت ٹھہرے۔

۱… ’’ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنہم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدلہم عذاباً مہینا (احزاب:۵۷)‘‘

۲… ’’یایہا الذین اٰمنوا لا تکونوا کالذین اٰذوا موسیٰ فبراہ اﷲ مما قالوا وکان عند اﷲ وجیہاً (احزاب:۶۹)‘‘

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تین اقوال لکھے ہیں:

۱… قارون نے کسی فاحشہ عورت کو لالچ دے کر حضرت موسیٰm کو متہم کرایا۔

۲… موسیٰm کے جسم میں کسی بیماری کا اتہام لگایا۔

۳… ہارونm کے قتل کی تہمت لگائی گئی۔

217

یہ آیت اپنے مفہوم کے لحاظ سے ہر تین قسموں کے اتہام کو منع اور حرام قرار دیتی ہے۔رسول کی شان میں تو یوں وارد ہورہا ہے کہ اس کی تعظیم وتوقیر کرو۔ یہی لفظ جس کا حضرت موسیٰm کی شان میں استعمال کیا جارہا ہے۔ یعنی ’’وکان عند اﷲ وجیہاً (احزاب:۶۹)‘‘ حضرت عیسیٰؑ کی شان میں بطریق اولیٰ استعمال کیاگیا ہے تاکہ کوئی بدباطن یہودی وغیرہ ان پر گستاخی کرنے کی جرأت نہ کرے۔ فرمایا: ’’وجیہاً فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (مائدہ:۱۱۰)‘‘ حضرت عیسیٰؑ کی پاکبازی وراست گوئی کا ثبوت حدیث شفاعت سے ملتا بھی ہے۔ شفاعت کبریٰ کے لئے میدان حشر میں جب ساری دنیا حضرت آدمm کی طرف متوجہ ہوگی تو حضرت آدمm اپنے ایک زلہ کو بیان فرما کر معذرت پیش کریں گے۔ علیٰ ہذا ہر ایک نبی اپنے اپنے عذرات پیش کرتا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب حضرت عیسیٰؑ کے پاس جائیں گے تو وہ سوائے اس کے اور کوئی عذر بیان نہیں فرمائیں گے کہ لوگوں نے مجھے خدا کا بیٹا کہا تھا۔ مجھے شرم آتی ہے کہ میں خدا کے سامنے شفاعت کے لئے کھڑا ہو جاؤں۔ اگر بقول مرزاقادیانی عیسیٰؑ میں کسی قسم کا کوئی عیب ہوتا تو وہ ضرور اس موقعہ پر اس کا اعتراف فرماتے۔ پس ان کا یہ اتہام سراسر قرآن وحدیث کے خلاف ہے اور جس کے لئے اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وجعلنی مبٰرکاً این ما کنت (مریم:۳۱)‘‘ یہ اس کے منافی ہے۔ بھلا کسی بھلے آدمی میں کوئی بے ادبی یا گستاخی کرنے کی گنجائش رہتی ہے۔ رسولوں کو دنیا میں صرف اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کی اطاعت کریں۔ جیسا کہ فرمایا: ’’وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اﷲ (ن:۶۴)‘‘

اور فرمایا: ’’لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (حجرات:۲)‘‘ اس سے معلوم ہوگیا کہ نبی کے ساتھ نہایت ہی عزت واحترام سے پیش آنا ضروری ہے۔ جس طرح مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اسی طرح ان کے معجزات کو بھی مسمریزم کہا اور ان کی پیش گوئیوں کو بھی جھوٹا کہا ہے۔ مسمریزم چونکہ اقسام سحر سے ہے اور توجہ نفسانی کا ایک شعبہ ہے۔ اس کو کسی پاکباز یا نیک انسان کے ساتھ اختصاص نہیں۔ ہر بداخلاق بلکہ کافر تک اس کا عمل کر سکتا ہے۔ پھر ان معجزات کو جن کو قرآن حکیم نے نہایت عزت واحترام وعظمت سے حضرت عیسیٰؑ کے لئے ذکر کیا۔ ان کو مسمریزم یا عمل الترب کہنا نہایت ہی گستاخی اور بے ادبی ہے۔

(مائدہ:۱۱۰) میں ہے: ’’اذ قال اﷲ یعیسٰی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلٰے والدتک‘‘ یہ معجزات حضرت عیسیٰؑ کے لئے ثابت کئے گئے ہیں۔ ان کو آج تک تمام علماء امت اور عامتہ المسلمین قبول کرتے رہے ہیں۔ مرزاقادیانی نے آکر سب کو مسمریزم وغیرہ کی طرف منسوب کر کے خواہ مخواہ ایک رخنہ اندازی کی ہے۔ تیسری وجہ کفر مرزا کی یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے تمام مسلمانوں کو جو ان کی جماعت میں داخل نہیں۔ خواہ ان کو کافر کہیں یانہ، بقول خلیفہ ثانی ان کو دعوت پہنچے یا نہ، خارج از اسلام قرار دیا۔ جو شخص تمام امت محمدیہ کو اسلام سے خارج کہتا ہے وہ کس طرح خود کفر کی رو سے بچ سکتا ہے۔ ان کے تکفیر کے فتویٰ فتاویٰ احمدیہ سے نقل کئے جا چکے ہیں۔ جو پہلے درج ہیں۔ پس اس تکفیر کی وجہ سے ہم کسی طرح ان کو زمرہ اہل اسلام میں شامل نہیں کر سکتے۔

چند شکوک کا ازالہ

مرزاقادیانی کے شکوک کا ازالہ بحکم ’’الغریق یتشبت بکل حشیش‘‘ چند لوگوں کے اقوال سے اپنے ادّعائے نبوت میں سہارا لیا۔ ازاں جملہ حضرت مولانا محمد قاسم کی کتاب (تحذیر الناس ص۲۸) سے استدلال کیا۔ مگر یہ استدلال کسی حال میں بھی ان کے مفید اور مؤید نہیں۔ مولانا ممدوح نے اسی کتاب کے (ص۱۰) میں تصریح فرمادی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد اجماع امت سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا

218

اور بتواتر معنوی ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو ادّعاء نبوت کرے۔ وہ مسلمان نہیں۔ مولانا نے جو مفہوم خاتمیت کا بیان فرمایا ہے۔ اس کو کسی نئے نبی کے آنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں۔ ختم زمانی اس سے مراد نہیں۔ ہاں بطور التزام ختم زمانی ثابت ہے۔ ختم ذاتی کے لئے ختم زمانی کا ہونا ضروری ہے۔ پس اس قول سے مرزاقادیانی کی کوئی تائید نہیں ہوتی۔ جس طرح مولانا ممدوح کے قول سے استدلال کیا ہے۔ ایسے ہی ابن عربی کے قول سے بھی استدلال کیا ہے۔ حالانکہ جابجا ان کی کتابوں میں اس کی صاف طور پر تردید موجود ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ فتوحات اور فصوص وغیرہ کتابوں میں ان کے حوالے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پس ان بیانات کے بعد میں اس بات پر وثوق رکھتا ہوں کہ کسی مرزائی یا احمدی کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں کیا جاسکتا اور اگر کسی سے کسی مسلمہ عورت کا نکاح ہو جائے اور بعد میں وہ مرزائی ہو جائے تو اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور قضا قاضی کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ اس کے متعلق اس سے پہلے شامی اور عالمگیر کے حوالے ذکر ہوچکے ہیں۔

بیان بجرح مولوی نجم الدین صاحب گواہ مدعیہ باقرار صالح

میں نے مرزا صاحب کی سب کتابیں نہیں دیکھیں۔ جہاں تک میں نے دیکھی تھیں۔ ان میں سے جونتائج مجھے معلوم ہیں وہ میں نے پیش کردئیے ہیں۔ جن کتابوں سے میں نے حوالہ جات پیش کئے ہیں وہ میں نے اکثر دیکھی ہیں۔ جن وجوہات پر میں نے مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کی تکفیر بیان کی ہے۔ میں نے ان وجوہات پرجماعت احمدیہ کے علماء سے تبادلہ خیالات کیا ہواہے اورخودمرزا صاحب سے بھی۔ عیسیٰ ابن مریمn کے نزول کے وقت جو شخص ان کو نہ مانے گا، وہ مسلمان نہیں ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے وقت علماء یہود ان کے مخالف ہوں گے۔ احادیث کی کتابوںمیںیہودیوں کا ذکرہے کہ وہ مخالف ہوں گے حدیث میں یہ نہیں کہ آپ کی یعنی رسول اﷲa کی امت یہودی بن جائے گی۔ یہ احادیث ہیںکہ امت محمدی میں اس قسم کے بد اخلاق بد اطوار لوگ پیداہوں گے۔ جیسا کہ یہودیوں میں تھے۔

(مکتوبات امام ربانی ج۲ ص۱۰۷) میں عیسیٰؑ اور علماء ظواہر کے روّیہ کے متعلق جو مکاشفہ لکھا گیا ہے وہ کسی دوسرے شخص پر حجت نہیں ہوسکتا۔ حجت قرآن اور حدیث ہیں اور مکاشفات صوفیہ صرف صاحب کشف کے لئے موجب طمانیت و تسلی ہو سکتے ہیں۔ دوسرا شخص ان کے ماننے کے لئے نہ مکلف ہے اور نہ وہ اس کے پہچاننے کے مکلف ہیں۔ جو کچھ اس حوالہ میں درج ہے۔ وہ امام ربانی کی اپنی رائے ہے۔ میں اسے قرآن اور حدیث نہیںسمجھتا۔ جو رسول آتے رہے۔ اس وقت لوگوں میں سے انہیں بعض مانتے رہے اور بعض انکار کرتے رہے۔ علماء میںسے بھی بعض مانتے رہے اور بعض انکار کرتے رہے۔ آیت: ’’ فلما جآء تھم رسلھم بالبینات… الخ! (المومن:۸۳)‘‘ کا ترجمہ یہ ہے۔’’جب ان کے پاس رسول کھلی دلیلیں لے آئے تووہ اس علم کے ساتھ خوش رہے جو ان کے پاس تھا اور جس چیز کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے اس نے انہیں گھیرلیا۔‘‘ یہ آیت رسولوں کے لئے ہے۔ کسی جھوٹے مدعی نبوت پر اس کو چسپاں نہیں کرسکتے مبحث کے ساتھ اس آیت کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن شریف میں یہ آیت نہیں ہے کہ ’’وما یاتی من نبی الاکانوابہ یستہزؤن‘‘ یعنی جو کوئی نبی آیا ان کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔

کتاب حجج الکرامہ مصنفہ نواب صدیق حسن صاحب کے (ص۳۶۳) سے جو عبارت پڑھی گئی ہے۔ یہ کتاب میں موجود ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ ص۳۰۵) سے جو عبارت پڑھی گئی ہے۔ جو الفاظ ذیل میںہیں۔ یہ لوگ… ہم سچائی کے پابند ہیں۔ اس عبارت سے یہ معلوم

219

ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ان پر علماء نے کفرکا فتویٰ دیالیکن اس بارہ میں اقدام کس نے کیا۔ یہ اس عبارت سے نہیں معلوم ہوتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ محمدحسین بٹالوی نے مرزا صاحب کی تکفیر کا فتویٰ کس سن میں دیا۔ قرآن حکیم سے معلوم ہوتاہے کہ وحی نبوت آئندہ کبھی نہیں آئے گی۔ قیامت تک بندہے۔ وحی نبوت سے مراد میری یہ ہے کہ نہ نیا نبی بنانے والی وحی آئے گی اور نہ اگلے نبی پر وحی نبوت آئے گی۔ میں اس کے متعلق پانچ آیتیں کل پیش کر چکاہوںآیت خاتم النّبیین سے پایاجاتاہے کہ آئندہ ایسی وحی نہیں آئے گی۔ وحی نبوت سے یہ مراد ہے کہ اﷲتعالیٰ کسی کو نبی بنائے یا بذریعہ جبرئیلm ہو یا اس کے بغیر بذریعہ القائے علی القلب اور اسے تبلیغ کا حکم دے۔ حضرت عیسیٰؑ نبی تشریعی تھے۔ وہ موسیٰm کی شریعت کی تبلیغ کرنے آئے تھے اور چند احکام ان کی شریعت میں نئے بھی تھے۔ آیا یحییٰm اور زکریاm بھی نئے احکام لے کر آئے تھے یا نہ؟ اس سوال کو میرے مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔ قضیہ شرطیہ کئی قسم پرہوتا ہے کبھی مقدم اور شرط جزاء دونوں محال ہوتے ہیں اور کبھی ہر دو ممکن اور کبھی ایک محال اور ایک ممکن علیٰ ہذا القیاس اس کی بہت سے قسمیں ہیں۔ جب تک کسی خاص صورت کو بیان نہ کیا جاوے۔ مطلق شرطیہ کے ہونے پر الزام آنے یا نہ آنے کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اگر متکلم نے کسی مسئلہ کو صاف طور پر بیان کردیاہو اور آنے والے شبہ کو باالکل زائل کر دیاہو اوراس کے کلام میں کسی قسم کی تلبیس اور دجل شامل نہ ہوتو اس کے مبہم کلام کو اسی مصرح کلام پر حمل کیا جائے گا۔ مگر ان چیزوں کا پتہ سیاق وسباق اور اس کے گردوپیش کے مضامین سے چل سکتاہے۔ جن نبیوں پر وحی آتی رہی۔ انہیںاپنی وحی پر کامل یقین تھا۔ بزرگوں کو الہام ہوتاہے جوان کے اپنے لئے ہوتاہے۔ دوسروں کے لئے نہیں ہوتا۔ قرآن شریف کی آیت: ’’واوحینا الٰی ام موسٰی‘‘ میں وحی سے مراد الہام ہے۔ وہ الہام کسی نبی یا انسان سے مخصوص نہیں۔ بلکہ غیر انسانوں کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہوسکتاہے۔ جیسا سورہ نحل کی آیت: ’’واوحٰی ربک الی النحل‘‘ میں مکھی کی طرف وحی ہونے کا ذکرہے اور ان میں امربھی موجودہے۔ جیسا ام موسیٰ کی طرف امر کی وحی الہامی ہوئی اس وحی کو انسانوں کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں چہ جائیکہ انبیاء سے مختص ہو۔ جو وحی غیر انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ بعض کا تعلق امور غیبیہ سے ہوتاہے اور بعض اپنی طبعی ضروریات کے لئے موحیٰ الیہ گردانے جاتے ہیں۔ جس شخص کو رسولﷺ کی دعوت نہیں پہنچی اور وہ توحید کا قائل ہو۔ اسے ہم مومن کہیں گے۔ کافر نہیں کہیں گے۔ احمدیہ جماعت خاتم النّبیینa کے منکرہیں یعنی خاتم النّبیین کا جو مفہوم ہے۔ جیسے قرآن مجید نے اور احادیث صحیحہ نے اور اجماع امت نے محقق کیاہے۔ جماعت احمدیہ اس کی منکرہے۔ مسیلمہ کذاب، رسول اﷲa کو رسول اﷲ مانتا تھا۔ مگرکہتا تھا کہ میں بھی رسول ہوں۔ وہ اس لئے قتل کیاگیا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔

مسیلمہ کے دوقاصد رسول اﷲa کے پاس چٹھی (خط) لے کرآئے حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصد کو قتل کرنے کا امتناعی حکم نہ ہوتا تو میںانہیںقتل کردیتا۔ چونکہ قاصد نہیں قتل کئے جاتے اس لئے ان سے درگزرکی گئی۔ اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ جب مدعی نبوت کے قاصد مستوجب قتل ہیں۔ صرف ان کی فرستادگی مانع قتل تھی تو مسیلمہ کذاب کو کیوں مستوجب قتل قرار نہ دیا جاوے۔ رسول اﷲa کے زمانے میں بہت سے کفار سے جن کے ساتھ جنگ کرنی ضروری تھی یاان کا قتل کرنا ضروری تھا۔ عدم تیسیر اسباب کی وجہ سے اسے ملتوی کیاگیا۔ صحابہ کرامi نے انہیں چیزوں کو رسول اﷲa کی ہدایت کے مطابق اپنے وقت میں پوراکیا۔ مسیلمہ مستوجب قتل پہلے تھے بغاوت اس نے اس کے بعد کی، دونوں چیزیں اس کے قتل کے لئے اکھٹی ہوگئیں۔ مسیلمہ کے قاصدوں کو جب مستوجب قتل سمجھا گیاتو اس سے سمجھا جاسکتاہے کہ مسیلمہ قابل قتل تھا۔ جھوٹے نبی کو قتل کرنے کا حکم شرعی ہے۔ مسلمانوں کا قانون اور سیاست اور شریعت ایک چیز ہیں۔ دوسرے لوگوں کے قانون اور ہیں شریعت دوسری ہے۔ سزا کادینا حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔ علماء اور مفتیوں کا کام صرف حکم شرعی کو بیان

220

کرنا ہے۔ اس کو نافذ قاضی کیاکرتاہے۔ جھوٹا مدعی نبوت چونکہ خاتم النّبیین کا منکرہے۔ اس لئے واجب القتل ہے۔ جب کسی ملک میں کفارموجودہوں جو شریعت اسلامی کے منکرہوں تو وہ بحکم آیت: ’’وقاتلوا الذین… من الکفار (التوبۃ:۱۲۳)‘‘ بادشاہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس آیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے ملک میں فوج لے کر جائے اورپہلے ان کو اسلام کی دعوت دے۔ اگروہ مسلمان ہوجائیں تو ان کے خون اور مال ہماری طرح محفوظ اوروہ ہمارے بھائی ہیں۔ اگروہ اسلام کوقبول نہ کریںتو بادشاہ وقت ان سے ٹیکس لے کر امن قائم کرنے کی ہدایت کرے اور ان سے وعدہ لے لے کہ وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں گے۔ اگر اس پر بھی وہ راضی نہ ہوں تو خداکانام لے کر جہاد کا اعلان کر دے اوران سے جنگ وجدال کا سلسلہ جاری کرے۔ جو حکومت ایسا نہ کرے، اس کا قصور۔ اگر کوئی شخص نبوت کا یہ معنی لے کر اس کی طرف تبلیغ کے لئے وحی ہوئی ہے۔ خواہ وہ تشریعی کہلائے یا غیر تشریعی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اگر نبوت بمعنی اخبار یا الہام کے ہوتو ہم اسے کافر نہیں کہیں گے۔ مگر مدعی نبوت تبلیغی کو ہرحال میں کافرکہا جائے گا۔ خواہ اس کی وحی اور الہام قرآن کے موافق ہو یا مخالف جو شخص اس حدیث: ’’ان الرسالت والنبوۃ… قطعت‘‘ کا یعنی جو شخص یہ سمجھے کہ وحی نبوت اور خاص رسالت کا سلسلہ منقطع ہے۔ یعنی یہ سمجھے کہ وحی نبوت باقی ہے تووہ شخص کافر سمجھا جائے گا۔ وحی نبوت کے معنی تبلیغی وحی ہے۔ جبرئیل وحی لے کر رسول اﷲa کے بعد اب کسی شخص پر نازل نہیں ہو سکتے۔ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے وقت بھی ان پر جبرئیلm نہیں آئیں گے۔ کتاب (حجج الکرامہ ص۴۳۱) میں جو حدیث مع وحی کا ذکرآیاہے وہ مسلمہ ہے، مگر وحی تبلیغی مراد نہیں۔ عیسیٰؑ جو اس وقت حکم کریں گے وہ اس سے پیشتر رسول اﷲa فرما چکے ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے۔ یہ نہیں کہ عیسیٰؑ پر کوئی جدید وحی نازل ہوگی۔ بطور الہام ان کو یا بطور تصرف ان کو حدیث رسول اﷲa کی معلوم ہوجائے گی اور اس پر وہ عمل کریںگے۔ نواب صدیق حسن صاحب مصنف مذکورمیرے پر حجت نہیں ہوسکتے۔ نواب صاحب کو مغالطہ ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص اس بات کا قائل ہے کہ جبرئیلm رسول اﷲa کے بعد کسی پر وحی نبوت لے کر آئیں اور تبلیغ کے لئے ان پر وحی ہو۔ بشرطیکہ اس کی عبارت میں کسی تاویل یا خلاف ظاہر پر عمل کرنے کی کوشش نہ ہوتو وہ مسلمان نہیں۔ جب حضرت عیسیٰؑ نازل ہوںگے ،اس وقت وہ رسول ہوں گے، بنی اسرائیل کے لئے توراۃ شریعت کا مل تھی اور بعد میں انبیاء اس کی اشاعت کے لئے آتے رہے، کیونکہ دوسرے نبیوں کے آنے کی رکاوٹ نہ تھی اس لئے وہ آتے رہے۔ مگر ہماری شریعت میں دوسرے نبی کے آنے کے لئے ایک صد روایتیں رکاوٹ ہیں۔ اس لئے کوئی دوسرانبی نہیں آسکتا جو اس شریعت کو آکر بنی اسرائیل کے انبیائوں کی طرح جاری رکھے۔ رسول اﷲa کا یہ ارشاد کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا یہ مطلب ہے کہ بنی اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ ہر نبی کے بعد دوسرا نبی اس کا جانشین ہوکر اس کی شریعت کی ترویج کیاکرتا تھا۔ مگر میری امت میں وہ منصب جو انبیاءؑ بنی اسرائیل کو دیاگیا تھا کہ وہ شریعت کی حفاظت کریں۔ علماء کودیاگیاہے۔ چونکہ میرے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہ فریضہ علماء کا ہوگا۔ حضرت عیسیٰؑ نزول کے وقت شریعت محمد ی کی ترویج کریں گے۔

خاتم کا لفظ جب جمع کی طرف مضاف ہوتو اس کے معنی آخر کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ خاتم النّبیین کی تفصیل میںتمام علماء امت نے مفصل بحث لکھی ہے اور مرزا صاحب خاتم الاولاد کے معنی آخری اولاد لکھتے ہیں۔ جس کی تصریح ان کی کتاب تریاق القلوب میں موجود ہے۔ خاتم کا لفظ لغت کی حیثیت سے مہر کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے مجھے یاد نہیںکہ کسی عالم نے خاتم النّبیین کے معنی خاتم کے بہ معنی مہر کئے ہیں یانہیں۔ خاتم الاولاد کے لفظ کے معنی میں مرزا صاحب نے کوئی تشریح نہیں کی اس کو دونوں طرح پڑھاجاسکتاہے۔ یعنی خاتم اور خاتم مجھے پتہ نہیں کہ مرزا صاحب نے خاتم الاولیاء… ولی آخری کے الفاظ کہیں لکھے ہیں یانہیں۔

221

سوال چونکہ آپ نے خاتم کے معنی جو اوپر بیان کئے ہیں، اس کی کوئی مثال بتلائی جاوے۔ یہ سوال غیر متعلق ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کی تردید ہو سکتی ہے۔ جو آیات میں نے کل بیان کی تھیں کہ مرزا صاحب نے ان کو اپنے متعلق بیان کیاہے۔ ان کو انہوں نے اپنے اوپر بھی بیان کیاہے۔ مثلاً ’’سبحان الذی اسریٰ… الخ!‘‘ کی آیت جومرزا صاحب نے اپنی وحی اور الہام میں ذکر کی ہے۔ اس کے لئے دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲa کو ایک دفعہ معراج ہوامجھے بارہاہوا۔ لیکن تعداد مجھے اس وقت یاد نہیں تو اس سے صاف معلوم ہواکہ اس آیت کو وہ اپنے اوپر چسپاں کرتے ہیں۔ دوسرا قرینہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد‘‘ جس سے اپنی ذا کو رسول اﷲa کی ذات سے متحد ثابت کرتے ہیں اور اتحاد ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز ایک شئے سے ثابت کی جاوے وہ دوسرے اس کے متحد کے لئے ثابت کی جاوے۔ اس قاعدہ کی روسے مرزا صاحب ان تمام آیات کو اپنی ذات کے ساتھ چسپاں کررہے ہیں۔ ورنہ اتحاد نہیں رہے گا۔

مرزا صاحب کی کتاب (ازالۃ الاوہام ص۲۲حصہ اوّل حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۲۶) سے یہ نتیجہ بھی اخذ کرتاہوں کہ انہیں معراج کئی دفعہ ہوا۔ کیونکہ تجربہ اس وقت ہوتاہے جب کہ ایک کام باربار کیا جاوے۔ میں نے مولانا محمد قاسم صاحب کے قول سے مرزا صاحب کے استدلال کرنے کا جو بیان کل دیا ہے۔ وہ ان کی جماعت کی شائع کردہ پاکٹ بک… کے حوالہ پر نہیں تھا۔ اگر کوئی شخص اپنے پر آیات قرآنی کے نزول کا قائل ہو، میرے پر یہ آیات تبلیغ کے لئے اتری ہیں اور کوئی شخص کہے کہ میں نبی ہوں تو وہ مسلمان نہیں۔ اگرکسی آیات کا کسی کو کشف ہوجائے۔ کشف اورنزول صوفیہ کے نزدیک ایک ہی معنی رکھتے ہیں تو اس سے وہ کافرنہیں ہوتا۔ اگرکوئی نبی برحق ہو۔ کسی دوسرے نبی پر اپنی فضیلت کا اظہار کرے تویہ قرآن سے ثابت ہے۔ اس سے کوئی توہین نہیں۔ ہاں! اگر لہجہ توہین آمیز ہوتو ممنوع ہے۔ جیسا کہ یونس ابن متیn کے متعلق اور حضرت عیسیٰؑ کے متعلق احادیث صحیحہ میں مروی ہے۔ یونسm کے متعلق حدیث میں ’’لاتفضلونی‘‘ کا لفظ آیاہے اور موسیٰm کے متعلق ’’صعق الناس… الخ!‘‘ کا لفظ احادیث صحیحہ میں موجودہے۔ جس سے موسیٰ کا استثناء ہے۔ آ پ نے توہین آمیز لہجہ میں ایک نبی کو دوسرے نبی پر بلکہ اپنی ذات کو دوسرے نبی پر توہین آمیز لہجہ میں فضیلت دینے کے لئے امتناعی حکم صادر فرمایا۔ موسیٰm اور ہارونm کے جھگڑا کا قصہ قرآن شریف میں مذکورہے اس سے ہارونm کی موسیٰm نے کوئی توہین نہیں کی۔ بلکہ غصہ کی حالت میں ایک نبی اپنے دوسرے بھائی اور نبی سے لڑپڑا اور یہ حالت جو ان سے شدت غضب کی حالت میں ہوئی تھی۔ اس سے انہوں نے اﷲتعالیٰ کی بارگاہ سے معافی مانگی۔

آنحضرتﷺ نے موسیٰm کے متعلق حضرت عمرq کے توراۃ کے چند صفحات پڑھنے پر جو کچھ فرمایا اور جو احادیث میں وارد ہے، ان الفاظ سے موسیٰm کی کوئی توہین ظاہر نہیں ہوتی۔

سوال مکرر: جس شخص کو رسول اﷲa کی دعوت نہ پہنچی ہو وہ امت تبلیغی میں داخل نہیں جو احکام کو سن کر مسلمان ہو چکے ہیں۔ ہاں! امت دعوت میں ساری دنیا داخل ہے۔ وہ جہنمی نہیں ہے۔ اسے مسلمان اس لئے کہا جائے گاکہ اس نے خدا کی توحید کو قبول کرلیاہے۔

آیت: ’’وکم ارسلنا من نبی‘‘ کی آیت میں فی الاوّلین کا لفظ ہے ا ور اس کا تعلق پہلی امت کے ساتھ ہے۔ مسیلمہ کذاب کو مفسرین نے ’’من یرتد منکم عن دینہ‘‘ کی ذیل میں داخل کیاہے۔ سن کر تسلیم کیا۔

دستخط: محمد اکبر، ۳۱؍اگست۱۹۳۲ء

222

بیان جلال الدین شمس (قادیانی) گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ

۵لغایت ۱۲؍نومبر ۱۹۳۲ء

جلال الدین شمس کا شمار جماعت مرزا ئیہ کے صف اوّل کے مبلغین میں ہوتاتھا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے نمائندہ کی حیثیت سے بطور مختار مدعاعلیہ تین برس تک عدالت میں پیروی مقدمہ کی۔

ان کا بیان۵لغایت ۱۲؍نومبر۱۹۳۲ء جاری رہا۔ازاں بعد مولانا ابوالوفا صاحب مختار مدعیہ نے یکم؍لغایت ۱۲؍مارچ۱۹۳۳ء ان پر ایسی دلائل قاطع وبراہین ساطع کے ساتھ جرح فرمائی کہ شمس صاحب کے بیان کا کذب وفریب پارہ پارہ ہوگیا۔ (ادارہ)

آئینہ حقیقت

حضرات قارئین! پیش نظر مجموعہ کا یہ حصہ قادیانی جماعت کی طرف سے پیش ہونے والے گواہان جلال الدین شمس وغلام محمد کے بیانات اور جرح پرمشتمل ہے جو انہوں نے حضرات علماء ربانی کے بیانات اور ان کے پیش کردہ دلائل وبراہین کے مقابلے میں فاضل عدالت میں قلم بند کرائے تھے۔ ہم نے یہ بیان عدالت کے ریکارڈ سے حاصل کئے ہیں۔ مرزائی جماعت نے بھی اپنے پریس سے یہ بیانات شائع کرائے تو نہایت ہی گھنائونے انداز سے عدالت میں بیان کردہ بیانات کو مسخ اور تحریف کرکے شائع کیا تاکہ اپنی شکست پر ایک بار پھر دجل وفریب کا پردہ ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش کرے اور اس مغالطہ میں ڈال سکے کہ علماء ربانی کی طرف سے پیش کردہ دلائل کا ردکردیاگیا۔ ہم نے ایسے موقعوں پر نشاندہی کے لئے بھی اسی بات کو کافی سمجھا ہے کہ حضرات قارئین کو بتادیں کہ اصل عدالتی ریکارڈ سے حاصل شدہ مواد یہ ہے، جو ہم پیش کررہے ہیں اور اس کے خلاف جہاں جہاں جو مرزائی پریس سے شائع کردہ کتابچہ میں نظرآئے، اس کو تحریف سمجھیں اور جن صاحبان کو مطابقت کا ثبوت مطلوب ہو،وہ ادارہ سے بصد شوق رجوع فرماسکتے ہیں۔ (ادارہ)

۵؍نومبر۱۹۳۲ء

بیان گواہ مدعاعلیہ باقرار صالح جلال الدین شمس ولد امام دین مبلغ قادیان سکنہ قادیان عمر۳۰سال

آنحضرتﷺ کے دست مبارک پر جو لوگ ایمان لائے، ان کے ایمان کی دفعات قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں مذکورہ ہیں:

’’امن الرسول بمآ انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل اٰمن باﷲ وملآئکتہ وکتبہ ورسلہ لانفرق بین احد من رسلہ (بقرہ:۲۸۶)‘‘پیغمبر جو کچھ اس پر خدا کی طرف سے اترا، اس پر ایمان لایا اور تمام مومنین پر ایک خدا پر، ایمان لایا اس کے تمام فرشتوں پر، اس کی تمام کتابوں پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر۔ ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے۔

اس آیت میں جو یہ فرمایاکہ:

جب کوئی شخص قرآن شریف پر ایمان لایا تو اس کے اندر جوکچھ ہے۔ اجمالاً تفصیلاً اس سب پر ایمان لایاجیسے خدا تعالیٰ کی صفات اور قیامت حشرونشردوزخ و بہشت۔

223

اسی طرح اﷲتعالیٰ متقی کی صفت میں بیان کرتاہے۔ ’’الذین یؤمنون بالغیب… ہم لایؤمنون (بقرہ:۳تا۶)‘‘ کہ مومن اور متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھاہے۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اے رسول جو تجھ پر اتاراگیا اور جو تجھ سے پہلے اتاراگیا، اس سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں۔ پس یہی لوگ اپنے رب کے سیدھے راستے پر ہیں اوریہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ غیب میں تمام غیبات کا ذکرکردیاہے۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ کی مقدس ذات ہماری نظروں سے غیب ہے اور ملائکہ بھی ہم سے غیب ہیں۔ رسل میں رسالت کے لحاظ سے کہ اﷲتعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے۔ ہم سے مخفی اور پوشیدہ رہتاہے۔ اسی طرح قضاوقدر امور آخرت اور دوزخ وجنت بھی ایمان بالغیب میں داخل ہیں۔ حقوق اﷲ اور عبادات میں سے اﷲتعالیٰ نے سب سے بڑی عبادت یعنی نماز کا اور حقوق العباد میں سے زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اﷲ کا ذکرکیاہے اور پھر ارشاد فرمایاہے کہ جو آنحضرتﷺ کی طرف اتارا گیاہے۔ اس پر وہ ایمان رکھتے ہیں۔

حضرت جبرئیلm نے آنحضرتﷺ سے ایمان اور اسلام کے متعلق استفسار کیا تو حضورسید المرسلین نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اﷲتعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، بعث بعد الموت پر اور تقدیر پر یقین رکھے اور اسلام گواہی دیتا ہے اس بات کی کہ سوائے اﷲ کے کوئی معبود نہیں اور محمدa اس کے رسول ہیں اور نماز کا ادا کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اﷲ کا (بشرط استطاعت) حج کرناہے۔ اس پر جبرئیل نے آنحضرتﷺ کی تصدیق کی اور جبرئیل کے چلے جانے پر حضوررسالت مآبa نے صحابہi سے فرمایاکہ یہ حضرت جبرئیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے تھے۔

ایک دوسری حدیث میں حضور نے فرمایاہے: ’’بنی الاسلام علی خمس… الخ!‘‘ کہ اسلام کی بنا پانچ امور پر رکھی گئی ہے۔ یعنی کلمہ شہادت، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کا دینا، رمضان شریف کے روزے رکھنا اور طاقت ہے تو حج کرنا۔

ایک تیسری حدیث میں حضورﷺ نے فرمایا: ’’امرت ان اقاتل الناس‘‘ کہ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک یہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمدa اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ پس جب وہ یہ کام کریں تو انہوں نے اپنے خون اور اموال محفوظ کرلئے اور ان کا حساب اﷲتعالیٰ کے سپردہے۔

فقہ اکبر میں لکھاہے کہ اصل توحید اور وہ چیز جس کے ساتھ اعتقاد صحیح ہوتاہے ،یہ ہے کہ انسان کہے میںایمان لایا اﷲ پر اور اس کے فرشتوں اور کتابوں پراور اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر اور تقدیر خیر وشر کے اﷲ کی طر ف سے ہونے پر اور حساب اور میزان اور جنت ونار پر کہ یہ سب باتیں سراسر حق ہیں۔

(شرح فقہ اکبرص۳،۴، مطبوعہ حیدرآباد)

اسی کتاب شرح (فقہ اکبر ص۳۴) پرہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ وہ امت محمدیہﷺسے ہوتو وہ زبان سے لآالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہے اور دل سے اس کے مطالب کی تصدیق کرے تو ایسا شخص یقینی طور پر مومن ہے۔ اگرچہ وہ فرائض ومحرمات سے بے خبر ہو۔

پھر (ص۳۵) پر ہے کہ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے جو فرائض یا محرمات بیان کئے ہیں کہ بعض اشیاء حلال اور بعض حرام ہیں۔ ان پر بلا کسی اعتراض کے اپنی رضا مندی کا اظہارکرے۔

فقہ کی کتاب (البحر الرائق ج۵ ) میں لکھاہے کہ طحاوی کی شرح میں ہے کہ قاضی امام ابویوسف سے مرتد کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ کیونکر مسلمان ہوگا تو انہوں نے کہا کہ وہ کلمہ شہادتین پڑھے اور جو خدا کی طرف سے آیا ہے، اس کا اقرار کرے اور جس دین یہودیت یا عیسائیت کو اس نے اختیار کیاتھا، اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کرے اور بعث اور نشور کا اقرار کرنا مستحب ہے۔

224

پس قرآن مجید اور احادیث وفقہ کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا امور جس شخص میں پائے جاویں وہ مومن اور مسلمان ہے۔

اب میں حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب کا مذہب ان کی اپنی کتاب سے بیان کرتاہوں۔

آپ (نور الحق حصہ اوّل ص۵، خزائن ج۸ ص۷) پر فرماتے ہیں: ’’ہم مسلمان ہیں، خدا کے وحدہ لا شریک ہونے پر ایمان لاتے ہیں اور کلمہ ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کے قائل ہیں اور خدا کی کتاب قرآن اور اس کے رسول محمدa کو جو خاتم الانبیاء ہیں مانتے ہیں اور یوم البعث(قیامت) اور دوزخ اور جنت پرایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں اور اہل قبلہ ہیں اور جوکچھ خدا اور رسول نے حرام کیا، اس کو حرام سمجھتے اور جو کچھ حلال کیا، اس کو حلال قراردیتے ہیں اور ہم نہ شریعت میں کچھ بڑھاتے اور نہ کم کرتے ہیں اور ایک ذرہ کی کمی بیشی نہیں کرتے اور جو کچھ رسول اﷲ سے ہمیں پہنچا،اس کو قبول کرتے ہیں۔ چاہے ہم اس کو سمجھیں یا اس کے بھید کو نہ سمجھ سکیں اور اس کی حقیقت تک نہ پہنچ سکیں اور ہم اﷲتعالیٰ کے فضل سے مومن اور موحد ہیں۔‘‘

پھر اپنی جماعت کو اپنی کتاب (کشتی نوح ص۱۰تا ۱۴، خزائن ج۱۹ ص ایضاً) میں فرماتے ہیں: ’’پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کاایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خداہے۔ جو اپنی صفات میں ازلی ، ابدی اور غیر متغیر خداہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹانہ اس کا کوئی بیٹا۔ اس کی قضاء قدر پر ناراض نہ ہو۔ سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی آگے قدم رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے اور اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں۔ مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں۔ مگر محمدمصطفیa یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔ تم اس وقت میری جماعت میں شمار کئے جائو گے۔ جب سچ مچ تقویٰ کی راہ پر قدم ماروگے۔ سو اپنی پنج وقت نمازوں کو ایسے خوف اور حضور قلب سے ادا کروکہ گویاتم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ ہر ایک جو زکوٰۃ دینے کے لائق ہے۔ وہ زکوٰۃ دے اورجس پر حج فرض ہوچکاہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔‘‘

اسی طرح آپ نے اپنے ایک اشتہار۲؍اکتوبر۱۸۹۱ء میں مندرجہ کتاب (تبلیغ رسالت ص ۲۱۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱) پر فرمایاہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’ایمان لاتاہوں میں اﷲ پر اور اس کے ملائکہ پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور مرنے کے بعد قیامت کے دن جی اٹھنے پر اور ایمان لاتاہوں میں خدا کی کتاب عظیم پر جو قرآن کریم ہے اور تابعداری کرتاہوں تمام رسولوں سے افضل حضرت محمد مصطفیa کی اور میں مسلمانوں سے ہوں اور میں گواہی دیتاہوں علیٰ وجہ البصیرۃ کہ کوئی معبود مسجود خلائق نہیں سوائے اﷲتعالیٰ واحدکے جس کا کوئی شریک نہیں۔ محمدa خدا کا خاص بندہ اور اس کا رسول ہے۔ اے رب مجھ کو مسلمان ہی زندہ رکھ اور اسلام پر ہی وفات دے اور میرا حشر اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ کر اور تو جانتاہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور سوائے تیرے دوسرا کوئی نہیں جانتا۔ توہی میرا سب سے بہتر گواہ ہے۔‘‘

اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خدا وند علیم وسمیع اوّل الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتاہوں، جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتاہے۔ میں ان تمام امور پر ایمان رکھتاہوں، جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں۔

225

پھر اپنی ایک تصنیف (التبلیغ ص۳۸۷،۳۸۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ہمارے رسول محمدa تمام رسولوں سے بہتر اورافضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہیں اور تمام ان انسانوں سے جو گزر چکے ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گے افضل ہیں۔ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ قرآن شریف کی ہر آیت ایک بحر ذخار ہے جو ہدایت کی تمام قسم کی باریکیوں سے معمورہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ جنت اور دوزخ اورقیامت اور انبیاءؑ کے معجزات سراسرحق ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے جو حضرت محمدa کی فرمانبرداری سے حاصل ہو سکتی ہے اور جو امور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں ہم ان سے بالکل بیزار اور بری ہیں۔ ہمارے پاک رسول محمدa جو کچھ لائے ہیں، اس پر ہمارا پختہ ایمان ہے اور جو شخص ان مذکورہ عقائد کے خلاف ہماری طرف کوئی عقیدہ منسوب کرتاہے تو وہ ہم پر افتراء کرتاہے۔ اﷲتعالیٰ خوب جانتاہے کہ میں اسلام کا فدائی اور حضرت سید انام احمد مصطفیa کا جان نثار غلام ہوں۔‘‘

پھر (مواہب الرحمن ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۲۸۶،۲۸۷) پر تحریر فرماتے ہیں: ’’اور کوئی عمل اور عبادت قبول نہ ہوگی، جب تک کہ آنحضرتﷺ کی رسالت کا اقرار سچے دل سے نہ کیا جائے اور دین اسلام پر ثبات وقیام نہ ہو اور وہ شخص ہلاک ہوگیا جس نے آپ کو چھوڑدیا اور بقدر طاقت تمام امورمیں آپ کی پیروی نہ کی۔ کوئی نئی شریعت آپ کے بعد نہیں اور نہ کوئی کتاب آپ کی شریعت کو منسوخ کرسکتی ہے اور کوئی شخص آپ کے مبارک کلمہ کو بدل نہیں سکتا اور جس نے ذرہ بھر قرآن شریف سے رو گردانی کی وہ ایمان سے خارج ہوگیا۔ ہرگز کوئی شخص نجات نہیں پا سکتا جب تک ان تمام امور میں جو آنحضرتﷺ سے ثابت ہوچکے ہیں۔ آپa کی پیروی نہ کرے اور جس نے ایک ذرہ بھر آپ کی وصیت اور حکم کو چھوڑاوہ گمراہ ہوگیا۔‘‘

پھر اپنی ایک کتاب (ایام الصلح ص۸۶،۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳) پر فرماتے ہیںکہ: ’’جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کے کلام کو پنجہ مارنے کا حکم ہے ہم اس کو پنجہ ماررہے ہیں۔ فاروقq کی طرح ہماری زبان پر حسبنا کتاب اﷲ ہے اور حضرت عائشہt کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو، قرآن کریم کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمدمصطفیa اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اﷲتعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایاہے اور جوکچھ ہمارے نبیa نے فرمایاہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔ ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیادڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیںکہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ اور اسی پر مریں۔ تمام انبیاءؑ اور تمام کتابوں پر جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے، ایمان لاویں۔ صوم اور صلوٰۃ وزکوٰۃ اور حج اور اسی طرح خدا اور اس کے رسول کے مقررکردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کار بند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے۔ ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتاہے، وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتاہے۔ قیامت میں ہمارا اس پر یہ دعویٰ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود اپنے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔‘‘

226

پس مذکورہ بالا حوالوں سے واضح ہے کہ ہمارے عقائد اسلام کے عین مطابق ہیں۔ خدا تعالیٰ کی سب سے بزرگ اور آخری کتاب قرآن حکیم اور احادیث رسول کریمa میں جن باتوں کو ایک شخص کے مومن اور مسلمان ہونے کے لئے ضروری قرار دیاگیا ہے، ان سب پر خلوص دل اور صمیم قلب سے ہم یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں۔ جن اعمال صالحہ کے بجا لانے کا حکم دیاگیاہے، وہ ہم بفضلہ بجا لاتے ہیں۔ بقول حضرت مسیح موعود اعلانیہ کہتے ہیں: ؎

  1. ما مسلمانیم از فضل خدا

    مصطفی مارا امام وپیشوا

  2. اندریں دیں آمدہاز مادریم

    ہم بریں از دار دنیا بگزریم

(سراج منیر ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵)

جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکاہوں کہ ہمارا وہی دین ہے جو آنحضرتﷺ خدا کی طرف سے لائے۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دین اسلام کے سوااگر کوئی اور دین اختیار کرے تو وہ عنداﷲ ہرگز مقبول نہیں۔ لیکن باوجود ہمارے اس اقرار کے گواہان فریق ثانی نے ہمیں کافرومرتد اور ضال اور خارج از اسلام قراردیاہے اور ضروریات دین کا منکر ٹھہرایا ہے۔ جن امور کی بناء پر انہوں نے کافر اورمرتد کہاہے، ان کا ضروریات دین سے ہونا قرآن مجیداور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ تکفیر کی بنیاد بعض علماء کے اقوال پر رکھی ہے۔ اس لئے قبل اس کے کہ میں ان وجوہ وتکفیر کی تردید کروں، مناسب سمجھتاہوں کہ جن علماء کے اقوال کی سند پر گواہوں نے ہمیں کافر قراردیاہے، ان کے تحریر افتاء کے متعلق کچھ بیان کروں۔ سو واضح رہے کہ گواہان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کفرکا فتویٰ کسی مسلمان پر اسی وقت لگایا جاسکتاہے، جب وہ ضروریات دین کا انکار کرے۔

اس لئے اب میں ذیل میں چند ان امورکا ذکرکرتاہوں جن کی بناء پر علماء نے لوگوں کوکافر و مرتد ٹھہرایا ہے۔ ان امورکو ضروریات دین سے کہاہے اور ان کے منکر کو کافر ومرتد لکھاہے۔

اورکتاب (الاشباہ والنظائر ص۱۷۵تا ۱۷۹) اور اسی طرح (شرح فقہ اکبر ص۱۴۷تا ۱۶۴) پر درج ہیں۔ ان فتاویٰ کو اگر مد نظر رکھا جاوے تو یہ لازم آتاہے کہ جن مقدس اور افضل ترین بزرگوں نے اﷲتعالیٰ کو خواب میں دیکھاہے، وہ سب کافرہوں۔ نعوذباﷲ! جیسے کہ سید الانبیاء حضرت محمدمصطفیa اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی نے۔

(ملاحظہ ہو امام شعرانی کی کتاب الیواقیت والجواہر ص۱۶۳ جلد اوّل مطبوعہ مصر)

اسی طرح تمام شیعہ کافر اور واجب القتل ٹھہرتے ہیں۔ جن کی توبہ بھی قبول نہیں اور تمام وہ نئے تعلیم یافتہ نوجوان جو اکثر کہتے سنے جاتے ہیں کہ اگر جنت میںان موجودہ مولویوں نے ہی جاناہے تو ہمیں ایسی جنت نہیں چاہئے اور وہ تمام مسلمان جو سرکاری دفاتر میں ملازم ہیں اور اپنے ہندو اور عیسائی افسران کو تحائف دیتے ہیں، کافر ہیں۔ ان عورتوں کے لئے جو اپنے خاوندوں کی بدسلوکی کے باعث تنگ ہیں اوران کے عقد نکاح سے نکلنا چاہتی ہیں۔ یہ اچھی ترکیب بتائی گئی ہے کہ ان میں سے کوئی عورت یہ کہہ دے کہ میں کافر ہوتی ہوں تو معاً کافر ہوجائے گی اور نکاح فسخ ہوجائے گا۔ وہ تمام مسلمان جو گاندھی ٹوپی یا ہیٹ لگاتے ہیں کافر ہیں۔ اسی طرح وہ مسلمان بھی جو ہندو اور انگریز افسروں کو سلام کرتے ہیں۔ اسی طرح سکول اور کالجوں کے وہ مسلمان طلباء جو اپنے ہندو یا عیسائی استادوں کو تعظیماً سلام کرتے ہیں۔

اسی طرح ہزارہا وہ تعلیم یافتہ اشخاص جو مولویوں کی دقیانوسی باتوں پر جنہیں یہ مولوی لوگ علم اور دین خیال کرتے ہیں، ہنستے ہیں، کافر ہوئے۔ اسی طرح وہ مسلمان جو کسی غیر مسلم کو اس کے سوال کرنے پر کہ مجھ پر اسلام کی صداقت بیان کر کسی مولوی کے۔ اسی طرح تمام نوتعلیم یافتہ مسلمان جو مولویوں سے متنفر ہیں۔ اسی طرح وہ صدہا مسلمان بازاروں میں اور گلی کوچوں میںبھیک مانگنے والے فقیروں کو جو خدا

227

کاواسطہ دے کر مانگتے ہیں یا کہتے ہیں خدا کے واسطے یہ کام کردو یا فلاں چیز دے دو۔ لیکن وہ بالکل نہیں دیتے، کافر ہیں۔ اسی طرح سینکڑوں یار دوست عزیز وآشنا آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا واسطہ دے کر کام کرانا چاہتے ہیں، لیکن دوسرا نہیں کرتا۔ پس اگر ان علماء اور مولویوں کے کہنے پر کسی کوکافر بنایا جاسکتاہے تو مذکورہ بالا فتاویٰ کے ماتحت تمام ایسے مسلمان کافر ہیں اور ان کا نکاح فسخ اور اولاد ولد الحرام ہوئی۔

اصول مذکورہ بالا پر علما کا موجودہ زمانہ میں عمل نہیں ہے۔ کیونکہ گواہان فریق مخالف نے اپنے بیانوں میں مفسرین کے اقوال سے بھی یہی سند پکڑی ہے۔ اس لئے میں مفسرین کے یہی چند اقوال نقل کرنا چاہتاہوں۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ مفسرین کے اقوال کوبلا سوچے من وعن تسلیم کر لیا جائے۔ جو کچھ وہ اپنے خیال وعقیدہ کے مطابق لکھ گئے ہیں، اسے حرف بحرف مان لیا جائے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں علم تفسیر کے عنوان کے ماتحت نہایت عمدہ رائے لکھی ہے کہ:’’تفاسیر المتقدمین مملوۃ بالغث والسمین‘‘ یعنی متقدمین کی تفسیریں عمدہ اور ردی دونوں باتوں سے پرہیں۔ اس لئے ہمیں حسب تعلیم قرآن مجید ضروری ہوا کہ ہم خود بھی قرآن مجید کی آیات میں غور اور تدبر کریں اور تحقیق کے بعد جو ’’اقرب الی الصواب‘‘ ہو اس کو اختیار کریں۔

پس مفسرین کے اقوال پر عقائد کی بنیاد رکھنا کیوں کر صحیح ہو سکتاہے۔ جب کہ ان میں سے خود چند بلند پایہ اور مقتدر ائمہ نے اسی امر کی صراحت کردی ہے کہ ہماری اندھی تقلید نہ کی جائے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے ائمہ کے اقوال اپنی مشہور کتاب ’’حجۃ اﷲ البالغہ‘‘ میں درج کئے ہیں کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ جب فتویٰ دیتے تو فرماتے کہ یہ رائے نعمان بن ثابت کی ہے۔ جو کچھ ہم اپنی تحقیق سے اب تک معلوم کر سکے ہیں، اس کے لحاظ سے یہ سب سے احسن ہے۔ لیکن جو شخص اس سے زیادہ اچھی بات معلوم کرے تو وہ درست ہونے کی زیادہ مستحق ہے۔

(حجۃ اﷲ البالغہ ص۱۵۷،جزواوّل)

حضرت امام شافعی نے ایک دن مزنی سے کہا: اے ابراہیم تو میری ہر بات میں تقلید نہ کر۔ تو خود بھی غور کیاکر۔ کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے۔

(حجۃ اﷲ البالغہ ص۱۵۷، جز اوّل)

حضرت امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ’’لاتقلدنی‘‘ کہ تونہ میری تقلید کر نہ امام مالک اور نہ اوزاعی ونخعی کی۔ تو احکام کتاب وسنت سے لے، جہاں سے انہوں نے لئے ہیں۔

الغرض اپنے علماء اور ائمہ کی اندھی تقلید نہایت مذموم ہے جس کا ذکراﷲتعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں کفار اور اہل کتاب سے نقل کیاہے۔ پس یہ ضروری نہیں کہ پہلے علماء جو کچھ تفسیروں میں لکھ گئے ہیں، ہم آنکھیں بند کر کے اس پر ایمان لے آئیں۔ بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ان کے فتاویٰ او راقوال کو ہم کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲa اور عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھیں اور جو قرآن و سنت سے صحیح ثابت ہو اسے اختیارکریں اور مخالف کو چھوڑدیں۔ امت کے ان مقتدر علماء کے متعلق ہمارا مذہب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نیک نیتی سے جو باتیں موافق ومخالف پائیں یا جو وہ سمجھ سکے وہ ہم تک پہنچا دیں۔ جس کے لئے وہ تمام ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔

گواہان فریق مخالف کی پیش کردہ وجوہ تکفیر اوران کا رد

فریق ثانی نے اپنی شہادت میں لکھوایاہے کہ ادّعاء وحی کفرہے۔ اگر کوئی شخص مطلق وحی کا دعویٰ کرے اور خواہ نبوت کا مدعی بھی نہ ہو۔ تب بھی کافر ہے اور وحی یہ ہے کہ فرشتہ کو بھیجا جائے کہ فلاں سے جاکر یہ کہہ دو اور پھر کہا ہے کہ بنی آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے اور غیروں کے لئے کشف، الہام یا وحی معنوی ہو سکتی ہے۔

228

جب ہم قرآن مجید پر غور کرتے ہیں تو اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف پیغمبروں سے مخصوص نہیں چنانچہ یہ امر مندرجہ ذیل آیات سے ثابت ہے۔

۱… اﷲتعالیٰ قرآن پاک میں فرماتاہے: ’’وماکان لبشر ان یکلمہ اﷲ الا وحیا او من ورآء حجاب او یرسل رسولاً فیوحی با ذنہ ما یشآء (شوری:۵۱)‘‘کہ کسی بشر کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیجے کسی قاصد کو (یعنی فرشتہ کو) جو اسے دیا کرے خدا کے حکم سے جو خدا چاہے۔ اس آیت میں اﷲتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ صرف پیغمبروں کے ساتھ ہی ان تین طریق سے کلام کرتاہے اور غیر پیغمبر سے نہیں کرتا بلکہ آیت میں بشر کا لفظ رکھا ہے، جس میں نبی اور غیرنبی دونوں داخل ہیں۔

۲… اﷲتعالیٰ سورہ قصص اوّل رکوع میں فرماتاہے: ’’واوحینا الٰی ام موسٰی ان ارضعیہ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (القصص:۷)‘‘ کہ ہم نے موسیٰm کی والدہ کی طرف سے وحی کی کہ تو موسیٰ کو دودھ پلا۔ پھر جب تجھے اس کی نسبت خوف لاحق ہو تو اسے دریا میں پھینک دینا اور کچھ خوف اور غم نہ کرناکیونکہ ہم اسے پھر تیرے پاس لے آئیں گے اور ہم اسے پیغمبر بنانے والے ہیں۔

اس آیت میں حضرت موسیٰm کی والدہ محترمہ کی طرف وحی آنے کا خود اﷲتعالیٰ نے ذکرکیاہے جو پیغمبر یا نبیہ نہیں تھیں۔ پس اگر وحی صرف پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہوتی تو ام موسیٰ پر خدا کی طرف سے یہ وحی نازل نہ ہوتی۔

۴… (سورہ مریم:۱۷) میں اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’فارسلنا الیھا روحنا‘‘ کہ ہم نے حضرت مریم کی طرف جبرئیل کو بھیجا۔ اسی طرح فرمایا: ’’واذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اﷲ اصطفاک وطہرک واصطفاک علٰی نسآء العالمین۔ یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین (آل عمران:۴۲،۴۳)‘‘ کہ جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اﷲ نے تجھے برگزیدہ کیا ہے اور تیری تطہیر کی ہے اور دنیا جہان کی عورتوں پر تجھے مصطفائی عطا کی ہے۔ اے مریم! تو اپنے رب کی مطیع و فرمانبردار رہے۔

۵… پھرفرمایا: ’’اذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اﷲ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسٰی ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘ یعنی فرشتوں نے مریم سے کہا: اے مریم! اﷲ تجھے ایک کلمہ کی بشارت دیتاہے۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا اور وہ دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہوگا۔

اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’قلنا یا ذاالقرنین اما ان تعذب واما ان تتخذ فیھم حسنا (کہف:۸۶)‘‘ یعنی ہم نے کہا اے ذوالقرنین! اگرتو چاہے تو ان لوگوں کو عذاب دے یاان کے بارہ میں حسن سلوک کا طریق اختیارکر۔

ان مذکورہ بالا آیات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

۱… وحی انبیاء سے مخصوص نہیں۔ بلکہ غیر انبیاء پر بھی وحی ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے جیسا کہ مذکورہوا۔

۲… جن طریقوں سے اﷲتعالیٰ انبیاءؑ سے کلام کرتاہے۔ انہی طریقوں سے غیر انبیاء یعنی اولیاء وغیرہ کے ساتھ بھی ہم کلام ہوتاہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۱ سے ظاہر ہے۔

۳… فرشتوں کا نزول انبیاءؑ سے خاص نہیں۔ جیسا کہ آیت نمبر۴ ظاہرہے۔ بعض وقت غیر انبیاء پر بھی ایسی وحی نازل ہوجاتی ہے۔ جس میں امرونہی ہوتے ہیں، جیسا کہ آیت نمبر۴سے ظاہرہے۔

229

غیر انبیاء کی وحی بھی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۵ سے ظاہر ہے۔

فریق ثانی کے گواہان نے کہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی پر وحی نہیں ہوسکتی اور جو اس کا دعویٰ کرے وہ کافرہے۔ لیکن انہوں نے اس قرآن مجید یا حدیث سے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ ہاں! صرف ایک گواہ نے آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک‘‘ پیش کرکے کہاہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی کوئی وحی نازل ہونی ہوتی تواس آیت میں ضرور ذکرکیاجاتا۔ چونکہ ذکر نہیں کیاگیا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد وحی نہیں ہو سکتی۔

اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں تشریعی وحی کا ذکرنہیں ہے اور چونکہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی جو آپ کی ناسخ ہو منقطع ہے۔ اس لئے اس کا ذکر نہیں کیاگیاہے۔ جیسا کہ اسی قسم کی ایک دوسری آیت: ’’ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک (الزمر:۶۵)‘‘ کی تفسیر میں علماء متقدمین نے اس امر کی تصریح کی ہے۔

چنانچہ امام عبدالوہاب شعرانی بحوالہ فتوحات مکیہ اپنی کتاب (الیواقیت والجواہر ج۲ص۹۴) پر لکھتے ہیں کہ:’’انہ لم یجیٔ لنا خبرالھی بعد رسول اﷲa وحی تشریع ابدا۔ انما لنا وحی الالہام قال تعالٰی ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک‘‘ کہ ہمارے پاس کوئی ایسی خبرالٰہی نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی تشریعی ہوگی۔ بلکہ اب وحی الہام ہوگی۔ جیساکہ آیت: ’’ولقد اوحی‘‘ سے ظاہرہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اکابر علماء لکھ چکے ہیں کہ مسیح موعود پروحی ہوگی اور حدیث میں آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود پر خدا کی طرف سے وحی ہوگی۔ علامہ ابن حجر سے جب پوچھا گیا کہ کیا آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰؑ نازل ہوںگے۔ ان پر وحی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! ان پر وحی ہوگی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔

(روح المعانی ج۷ ص۶۵)

تیسرا جواب یہ ہے کہ جو قرآن مجید پر ایمان رکھتاہے اور یہ تسلیم کراتاہے کہ مسیح موعود آئے گا۔ ان پر جو وحی ہوگی اسے خدا کی طرف سے یقین کرے۔

پس اس لحاظ سے یہ آیت تشریعی وحی کے انقطاع دلالت کرتی ہے۔ غیرتشریعی وحی کے انقطاع پر دلالت نہیں کرتی ہے۔

اب میں قرآن مجید سے ثابت کرتاہوں کہ آنحضرت کے بعد غیر شریعت والی وحی ہو سکتی ہے اورآنحضرتa کے کامل متبعین پر اس کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس کی ایک عقلی دلیل جس کو خداوند تعالیٰ نے خودبیان فرمایاہے کہ ایسا خدا کہ جو اپنے بندوں سے کلام نہیں کرتا اور ان کی بات کا جواب نہیں دیتا۔ معبود کہلانے کے لائق نہیں ہے۔ چنانچہ اﷲ فرماتاہے۔

۱… ’’الم یرواانہ لایکلمھم ولا یھدیھم سبیلا (الاعراف:۱۴۸)‘‘

۲… ’’افلایرون الا یرجع الیھم قولا (طٰہٰ:۸۹)‘‘

یعنی یہ بچھڑے کو پوجنے والے اس بات کو نہیں دیکھتے کہ جس کو انہوں نے اپنا خدا اور معبود بنایا ہے۔ وہ نہ ان سے کوئی کلام کرتاہے اور نہ انہیں تاریکی میں ہدایت دیتاہے۔ یقینا اس کو خدا تعالیٰ بنانے والے بڑے ظالم اور بے انصاف ہیں۔

دوسری آیت میں فرمایا کہ بچھڑے کو معبود بنانے والے اتنا غور نہیں کرتے کہ وہ ان کا جواب نہیں دیتا۔

ان آیات سے ثابت ہوا کہ بندوں سے خدا کا کلام کرنا ضروری ہے۔ پس کیونکر مان لیا جائے کہ حرم کعبہ کا رب اورقرآن کا

230

اتارنے والا خدا جو بچھڑے کی معبودیت اور الوہیت کا ابطال، اس کے عدم تکلم کی وجہ سے کرتاہے۔ خود اپنے پیارے بندوں سے ویسے سلوک کرے۔

اﷲتعالیٰ فرماتاہے کہ جوپکارنے والے کی پکارکا جواب نہیں دے سکتا، وہ معبود ہونے کے لائق نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ’’ومن اضل ممن یدعوا من دون اﷲ من لا یستجیب لہ الٰی یوم القیامۃ وھم عن دعائہم غافلون (احقاف:۵)‘‘ کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا ایسے معبودوں کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہ دے سکے۔ جواب دیناتو درکناروہ تو اس کی پکارسے بھی بے خبر محض ہیں۔

اس آیت سے یہی ثابت ہے کہ خالق دوجہان خدا پنے بندوں سے ہم کلام ہوتاہے۔ ہاں! جھوٹے خدا اور معبود ان باطل اپنے بندوں کی پکار نہیں سنتے اور نہ جواب دیتے ہیں۔ اب اگر سچے خدا کی نسبت بھی یہی تسلیم کیا جائے کہ وہ بھی نہ کسی کو جواب دیتاہے نہ کسی کی پکار سنتاہے۔ مخالفین اسلام اسی دلیل کو قرآن کے خلاف پیش کرسکتے ہیں۔

اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی یحببکم اﷲ (آل عمران:۳۱)‘‘ کہ اے رسول تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم خدا سے واقعی محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ خدا تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ خدا اپنے بندوں سے پیارکرتاہے۔ اب یہ بدیہی بات ہے کہ محب اپنے محبوب سے ہم کلام ہو۔ اس کی باتیں سنے اور اپنی کہے۔ورنہ عدم کلام نقض محبت پر دلیل ہوگا۔ کیونکہ محبوب کاکلام نہ کرنا دلیل ناراضگی ہے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’اخسئو فیھا ولا تکلمون (المومنون:۱۰۸)‘‘ دوسری جگہ فرمایا: ’’ولا یکلمہم اﷲ یوم القیامۃ (البقرۃ:۱۷۴)‘‘ یعنی اﷲتعالیٰ جہنمی اور دوزخی لوگوں سے کلام نہیں کرے گا اور فرمائے گا۔ جائوذلیلو! مجھ سے کلام مت کرو۔

پس ثابت ہوا کہ کلام نہ کرنا غضب اور ناراضگی کی علامت ہے۔ لہٰذا خدا جو اپنے بندوں پر ماں باپ سے بڑھ کر مہربان ہے۔ ضرور اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتاہے اور کوئی وجہ نہیں کہ پہلے جب وہ اپنے پیاروں سے کلام کرتاتھا تو اب نہ کرے۔ پھر یہ بھی واضح رہے کہ اﷲتعالیٰ کی ایک صفت جو اس کی خدائی پر ایک اعلیٰ دلیل ہے ، وہ اس کا متکلم ہونا ہے۔ پس یہ کس طرح ہوسکتاہے کہ اب قیامت کے دن تک اس صفت کا تعطل مان لیا جائے اور کہا جائے کہ اس کی صفت تکلم زائل ہوچکی ہے۔ یعنی کہ اب وہ کسی سے کلام نہیں کرے گا۔ تو اس کا سمیع ہونا کیونکہ معلوم ہوگا۔ کہنے والے یہ بھی کہہ دیں گے کہ وہ پہلے سمیع تھا،اب نہیں۔

اگر کوئی عاشق اپنے کسی محبوب کے دروازہ پر آہ وبکاء اور گریہ وزاری کرتے ہوئے بے قراری کی حالت میں جائے۔ مگر محبوب نہ دروازہ کھولے اور نہ اندر سے کوئی آوازددے تو یقینا وہ عاشق نا امید ہوکر لوٹے گا اورخیال کرے گا کہ یا تو میرا محبوب مر چکاہے یا پھر مجھے دھوکا دیاگیا۔

پس اسی طرح اگر اﷲتعالیٰ جس کا دیدار بوجہ اس کے وراء الوراء اور لطیف ہونے کے ہم نہیں کرسکتے۔ اگروہ گفتار سے بھی اپنے عشاق کو تسلی نہیں دیتا۔ آخر ایک دن ناامید ہوکر اسے چھوڑ دیںگے۔

تعشق اور محبت کا مادہ انسان کی فطرت میں ودیعت کیاگیاہے اوروہ ایسے محبوب کو جس کے دیدار اور گفتار سے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے محروم سمجھے۔ کبھی اسے عشق کا محل نہیں ٹھہراتا۔ حقیقی عاشق اپنے محبوب سے ہم کلام ہونے کے لئے اپنے دل میں ازحد تڑپ رکھتا ہے اور اس کے کلام کو اپنے لئے تریاق اور آب حیات سمجھتاہے۔

231

پس وہ علیم خیبر ہستی جو انسان کے اندر احساسات و جذبات کا پیدا کرنے والاہے۔ کس طرح اپنے عشاق کو اپنی ہم کلامی سے محروم رکھ سکتاہے۔ اس لئے اس نے فرمایا: ’’اذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ:۱۸۶)‘‘ کہ اے رسول! جب اضطرار وبے قراری کی حالت میں تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو توانہیں کہہ دے۔ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتاہوں۔

اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’ان الذین قالوا ربنا اﷲ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکۃ (حم سجدہ:۳۰)‘‘ کہ وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اﷲ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی (یعنی مصائب اور ابتلاء کے وقت ایمان پر ثابت قدم رہے) ایسے لوگوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جوانہیں خوش خبری دیتے ہیں۔

۱… ’’رفیع الدرجٰت ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علیٰ من یشآء من عبادہ لینذر یوم التلاق (المؤمن:۱۵)‘‘

۲… ’’ینزل الملائکۃ بالروح علٰی من یشآء من عبادہ ان انذروا انہ لآالہ الا انا فاتقون (النحل:۲)‘‘

یعنی اﷲتعالیٰ درجوں کا بلند کرنے والا عرش کا مالک اپنا کلام اپنے بندوں میں سے جسے قابل سمجھتاہے اس پر نازل کرتاہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ اﷲتعالیٰ اپنا کلام دے کرفرشتوں کو اتارتا رہتاہے۔ جنہیں وہ اپنے بندوں میں قابل سمجھتا ہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ جو یہ خداوند تعالیٰ کا پیغام دیتے ہیں کہ تم لوگوں کو ڈرائو اور بات یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبودنہیں۔

روح کے معنی وحی کے ہیں۔ ان آیات سے ظاہرہے کہ جس طرح اﷲتعالیٰ اپنے بندوں کو ازمنہ سابقہ میں اپنی وحی سے مشرف کرتارہاہے۔ اسی طرح آئندہ بھی کرے گا۔ کیونکہ آیت میں نزول وحی کا موجب اﷲتعالیٰ کا رفیع الدرجات اور ذوالعرش ہونا، ضرورت انذار قرار دیاگیاہے۔ پس جب کہ اﷲتعالیٰ اب بھی رفیع الدرجات اور ذوالعرش ہے، اس میں تغیر نہیں آیا اور لوگ بھی بلحاظ روحانیت مردہ ہو گئے ہیں تو پھر وحی کاانقطاع کیوں کرمان لیا جائے۔

اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’کنتم خیرامۃ اخرجت للناس (اٰل عمران:۱۱۰)‘‘ کہ امت محمدیہ تمام امتوں سے بہترہے اور نعمت بھی اس پر پوری ہوچکی ہے۔جیسا کہ فرمایااور دعا بھی خدا نے ہمیں یہ سکھلائی کہ: ’’صراط الذین انعمت علیھم‘‘ کہ اے خدا تو ہمیں اپنے پیارے اور مقرب بارہ گاہ بندوں یعنی انبیاء وصدیقین اورشہدا وصالحین کے راستہ پرچلا۔ عقل سلیم کیوں کر تسلیم کرسکتی ہے کہ امت محمدیہ سب امتوں سے بہترہو۔ لیکن انعامات الٰہیہ سے محروم ہو۔ پہلی امتوں کے مردوں کے علاوہ اﷲتعالیٰ نے ان کی عورتوں کو بھی اپنے کلام سے مشرف کیا اور ان پر فرشتے نازل ہوئے۔ لیکن امت محمدیہ کے بڑے سے بڑے مرد کو بھی یہ انعام نہ ملا۔ پس یہ کہنا کہ امت مرحومہ پر وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے اور خدا اس سے کلام نہیں کرتا۔ پھر یہ خیر الامم کیسے ہوئی۔ لیکن یہ کہنا غلطی ہے کہ خداتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے بعد جو تمام عالم کے لئے رحمت ہوکر آئے تھے اس انعام کو لوگوں سے چھین لیا ہے اور امت میں سے کسی ایک فرد کو اپنے ہم کلام ہونے کے مبارک شرف سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیا۔ اﷲتعالیٰ اور اس کا پاک رسول اور اولیاء امت یہ کہہ رہے ہیں کہ فیضان الٰہی اس امت پر بند نہیں ہے۔

آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’لقد کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منھم احد فعمر‘‘ کہ تم سے پہلے قوم بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں کہ باوجود کہ وہ نبی نہیں تھے۔

232

لیکن اﷲتعالیٰ ان سے کلام کرتا تھا۔ میری امت میں ایسے لوگوں میں سے اگرکوئی ہے تو عمرq ہے۔ دوسری روایات میں محدث کا لفظ ہے اور طبرانی میںہے: ’’قالوا یا رسول اﷲ کیف محدث‘‘ صحابہi نے حضورﷺ سے دریافت کیا۔ یا رسول اﷲ محدث سے کیا مرادہے؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ فرشتے ان کی زبان پر کلام کرتے ہیں۔

حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قرآن مجید کی آیت: ’’وماکان لبشر… الخ!‘‘ میں وحی کے جو طریق مذکورہیںاور جن طریقوں سے آنحضرتﷺ کو وحی ہوتی تھی۔ ان کی تفصیل بیان کر کے لکھتے ہیں: ’’وھذ کلہ موجود فی رجال اﷲ من الاولیاء والذی اختص بہ النبی من ھذا دون الوھی بالتشریع‘‘ کہ تمام اقسام وحی کی جو قرآن میں مذکور ہیں اور جن کا ابھی ہم نے ذکر نہیں ہے۔ خدا کے بندوں اولیاء اﷲ میںسب میں پائی جاتی ہیں اور وہ وحی جو نبی سے خاص ہے اور ولی میں نہیں پائی جاتی، وہ شریعت والی وحی ہے۔

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی (مکتوبات ج۲ ص۹۹) میں فرماتے ہیں: ’’اعلم ایھا الاخ الصدیق ان کلامہ سبحانہ مع البشرقد یکون شفاھا… الخ!‘‘ کہ اے محترم بھائی! تو جان لے کہ اﷲتعالیٰ کا بشر سے کلام کرنا کبھی بالمشافہ ہوتاہے اوریہ انبیاء کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی ان کے بعض کامل متبعین سے بطور اتباع اور وراثت کے ہوجاتا ہے۔ جب اس قسم کا کلام کثرت سے کسی کے ساتھ ہو تو اس کا نام محدث ہوتاہے۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمرq تھے اور یہ القاء فی الروع اور الہام اس کلام کے علاوہ ہے۔ جو فرشتہ کے واسطے سے ہوتاہے۔ بلکہ اس قسم کے کلام سے انسان کامل کو مخاطب کیاجاتاہے۔‘‘

اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ جو وحی انبیاءؑ کوہوتی ہے اس امت کے بعض کامل افراد کو بھی ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ مجدد صاحب نے جوکچھ اس جگہ لکھا ہے وہ کشفی یا الہامی ہے۔ (حالانکہ وہ کشفی یا الہامی) نہیں ہے۔ کیونکہ مجدد صاحب نے یہ نہیں لکھا کہ یہ ان کا کشف یا الہام ہے۔

اسی طرح مولانا جلال الدین رومی مثنوی میں فرماتے ہیں:

  1. خلق نفس از وسوسہ خالی شود

    مہماں وحی اجلالی شود

یعنی جب انسان وساوس شیطانی سے پاک ہوجاتاہے توجناب الٰہی کی وحی پاتاہے۔

(دفترسوم ص۱۰، مطبوعہ کانپور)

پھرفرماتے ہیں:

  1. نے نجوم است ونہ رمل است و نہ خواب

    وحی حق واﷲ اعلم بالصواب

  2. ازپے روپوش عامہ دربیان

    وحی دل گویند آنرا صوفیاں

یعنی ہوتی تووحی حق ہے۔ لیکن صوفیہ عام لوگوں سے پردہ کرنے کی خاطر اے وحی دل بھی کہہ دیتے ہیں۔

(دفتر چہارم ص۱۵۱)

مولوی اسماعیل صاحب شہید اپنی کتاب (منصب امامت ص۳۱،۳۲) پر لکھتے ہیں: ’’باید دانست کہ ازانجملہ الہام است ہمیں الہام کہ بانبیاء اﷲ ثابت است آنرا وحی میگویند واگر بغیرایشان ثابت میشود اورا تحدیث میگویندو گاہے درکتاب اﷲ مطلق الہام را۔ خواہ بانبیاء اﷲ ثابت است خواہ باولیاء اﷲ وحی نامند واین مطلق الہام گاہے درصورت کلام ازپردہ غیب ممکن لاریب نازل میگردد۔‘‘

اس کے بعد چند آیات اپنی تائید میں لکھ کر فرماتے ہیں: ’’وگاہے ہمیں الہام بہ ہمیں طریق واقع میشود کو خود بخود ازدل صاحب الہام کلام جوش میزندو آنرا برزبان مے راندو فی الحقیقت آں کلام رحمانی است کہ برزبان اوجاری گشتہ نہ کلام نفسانی ایں قسم الہام کہ بانبیاء

233

اﷲ میشود اورانفث فی الروع گویند واگربہ نسبت اولیاء اﷲ میشود اور انطق سکینہ میگویند۔‘‘

ان حوالہ جات سے ظاہرہے کہ جس طریق سے انبیاءؑ کووحی یا الہام ہوتاہے۔ انہی طریق سے اولیاء اﷲ کوہوتاہے۔ اگرچہ اصطلاحاً ان کا نام رکھنے میں فرق کیاگیاہے اور یہ علماء کی اپنی اصطلاح ہے۔

چنانچہ مولانا شبلی نعمانی (سوانح مولانا روم ص۸۱) میں لکھتے ہیں: ’’فرق مراتب کے لحاظ سے اصطلاح یہ قرارپاگئی ہے کہ انبیاء کی وحی کووحی کہتے ہیں اور اولیاء کی وحی کوالہام۔‘‘

امام غزالی نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ نبی اور ولی پر وحی کے اترنے میں صرف اتنا فرق ہے کہ نبی پر وحی بواسطہ ملک ہوتی ہے اور ولی پر بغیر فرشتہ کے۔ اس کے جوا ب میں شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں: ’’ان الکلام فی الفرق بینھما انما ھو فی کیفیتہ ما ینزل بہ الملک لا فی نزول الملک‘‘ کہ امام غزالی کی یہ بات غلط ہے۔ دونوں وحیوں میں فرق بلحاظ کیفیت کے ہے۔ اس بات میں جس کو فرشتہ لے کرآتاہے۔ نہ کہ فرشتے کے نزول میں۔

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۵،۷۶)

(تفسیر روح المعانی ج۷ ص۶۵) میں لکھاہے کہ علامہ ابن حجر الہیتمی سے پوچھا گیا کہ کیا آنے والے حضرت عیسیٰؑ پر وحی کا نزول ہوگا؟ انہوں نے کہا: ہاں! ان کی طرف وحی کا نزول ہوگا۔ جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے جو نواس بن سمعان سے مروی ہے۔ پھر وحی کا ذکر کرکے لکھاہے: ’’وذالک الوحی علی لسان جبرئیل اذھوا لسفیر بین اﷲ تعالٰی وانبیا ء… الخ!‘‘ کہ وحی جو اس پر نازل ہوگی۔ حضرت جبرئیل کی زبان پرہوگی۔ کیونکہ وہ اﷲتعالیٰ اوراس کے انبیاء کے درمیان سفیرہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ جو مشہور ہے کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جبرئیل کا نزول زمین کی طرف نہ ہوگا۔ بالکل بے اصل اورباطل ہے اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جس نے آپ سے وحی کی نفی کی ہے۔ آپ کے نزول کے بعد تو اس سے مرادوحی تشریعی ہے۔

یہی بات نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب (حجج الکرامہ ص۱۴۳) میں لکھی ہے اور اس پر اتنا یقین ظاہرکیاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ظاہر است کہ آرندہ وحی بسوئے اوجبریلm باشد بلکہ بہ ہمیں یقین داریم ودرآں تردونمی کنیم۔‘‘

فریق مخالف نے اپنے بیان میں ازالہ اوہام اورحمامۃ البشریٰ کے بعض حوالے پیش کئے ہیں، جن میں لکھاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہے۔ لیکن اس وحی سے مراد حضرت مسیح موعود کی شریعت والی وحی ہے۔ ورنہ دوسری وحی کو آپ جاری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں ہی لکھتے ہیں کہ: ’’اے غافلو! اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگرحسب مراتب۔‘‘

(ازالہ اوہام ص…، خزائن ج۳ ص۳۲۱)

اور اس سے بھی پہلی کتاب (توضیح المرام ص۱۸، ۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰) پر فرماتے ہیں: ’’جزئی طورپر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔‘‘ آگے اسی صفحہ پر آپ نے لکھاہے: ’’میں محدث ہوں اور خداتعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوتاہے۔‘‘ آگے پھر محدث کی وحی کے متعلق لکھاہے: ’’رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی شیطانی سے منزہ کیاجاتاہے۔‘‘

اسی طرح ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یقینا سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خداتعالیٰ کا الہام ہی ہے جو خداتعالیٰ کے پاک نبیوں کوملا۔ پھر بعد اس کے اس خدانے جو دریائے فیض ہے ہرگز نہ چاہا آئندہ اس الہام کو مہر لگادے۔‘‘

اورالہام بھی حسب اصطلاح متقدمین آپ نے بمعنی وحی استعمال کیاہے۔ جیسا کہ الہام کی تعریف میں فرمایاہے: ’’الہام ایک القاء غیبی ہے جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔‘‘

234

پس حضرت مرزا صاحب نے جس جگہ پر لکھاہے کہ اب وحی منقطع ہوگئی۔ اس سے مراد حضور کی وہ تشریعی وحی ہے۔ جو ناسخ شریعت محمدیہﷺہو یاوہ وحی ہو جو کسی مستقل نبی کی طرف ہو۔ جس کی نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع کے نتیجہ میں نہ ہو۔ چاہے وہ ایک دو فقرے ہی ہوں اور علماء متقدمین نے بھی جہاں انقطاع وحی کا ذکرکیاہے تو اس سے مراد انہوں نے وحی تشریعی لی ہے۔ چنانچہ امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں: ’’فان الوحی المتضمن لتشریع قد اغلق بعد محمدa‘‘ (الکبیر الاحمر برحاشیہ الیواقیت والجواہر جلد اوّل ص۸) جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وحی جو شریعت پر مشتمل ہو آنحضرتﷺ کے بعد بندہے۔

اس طرح حضرت مسیح موعود نے جہاں یہ لکھاہے کہ اب وحی بندہے۔ وہاں علماء کے اس عقیدہ کا ردکیا ہے کہ آخر زمانہ میں وہی مسیح ناصری ابن مریم جن پرانجیل نازل ہوئی تھی، آئیں گے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اگر وہی مسیح رسول اﷲ صاحب کتاب آجائیں گے جن پر جبرئیل نازل ہواکرتاہے تو وہ شریعت محمدیہﷺکے تمام قوانین اور احکام نئے سرے اور نئے لباس اور نئے پرائے اور نئی زبان میں ان پر نازل ہوجائیں گے اور اس تازہ کتاب کے مقابل پر جو آسمان سے ان پر نازل ہوئی ہوگی، قرآن کریم منسوخ ہوجائے گا۔‘‘

اس حوالہ سے ظاہرہے کہ آپ شریعت جدیدہ والی وحی کا انقطاع مانتے ہیں اور اسی کا بند ہونا بیان کیاہے۔ لیکن عام وحی جس میں شریعت جدیدہ نہ ہو۔ اس کا آپ نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ اسے زندہ مذہب کی علامت ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ آپ اپنے اس لیکچر میںجو دسمبر۱۸۹۶ء کو بمقام لاہور جلسہ اعظم مذاہب میں سنایاگیا۔

فرماتے ہیں: ’’ ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہوکر اس سے باتیں کرتا… اور اس کووہ سب نعمتیں عطا فرماتاہے جو پہلوں کو دی گئیں۔ افسوس! اندھی دنیانہیں جانتی کہ انسان نزدیک ہوتے ہوتے کہاں تک پہنچ جاتاہے۔ وہ آپ تو قدم نہیںاٹھاتے اور جو قدم اٹھائے تو یاتو اسے کافر ٹھہرایاجاتاہے یااس کو معبود ٹھہرا کر خدا کی جگہ دی جاتی ہے۔ یہ دونوں ظلم ہیں۔ ایک افراط سے اور دوسرا تفریط سے پیدا ہواہے۔ میں بنی نوع پر ظلم کروں گا اگر میں اس وقت ظاہر نہ کروں کہ وہ مقام جس کی میں نے یہ تعریفیں کی ہیں اور وہ مرتبہ مکالمہ اور مخاطبہ کا جس کی میں نے اس وقت تفصیل بیان کی ہے۔ وہ خدا کی عنایت نے مجھے عنایت فرمایاہے تاکہ میں اندھوں کو بینائی بخشوں اور ڈھونڈنے والوں کو اس گم گشتہ کا پتہ دوں اور سچائی قبول کرنے والوں کو اس پاک سرچشمہ کی خو ش خبری سنائوں جس کا تذکرہ بہتوں میں ہے اور پانے والے تھوڑے ہیں۔ میں سامعین کو یقین دلاتاہوں کہ وہ خدا جس کے ملنے میں انسان کی نجات اور دائمی خوش حالی ہے۔ وہ بجز قرآن شریف کی پیروی کے ہرگز نہیں مل سکتا۔ کاش جو میں نے دیکھاہے لوگ دیکھیں اور جو میں نے سناہے وہ سنیں اورقصوں کو چھوڑیں اور حقیقت کی طرف دوڑیں۔ وہ کامل علم کا ذریعہ جس سے خدا نظرآتاہے۔ وہ میل اتارنے والا پانی جس سے تمام شکوک دور ہوجاتے ہیں، وہ آئینہ جس سے اس برترہستی کا درشن ہوجاتاہے۔ خداکا وہ مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کا میں ابھی ذکر کرچکاہوں۔ میں اس وقت طالبوں کو یقین دلاتاہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوش خبری دیتاہے اور دوسری قومیں توخدا کے الہام پرمدت سے مہر لگاچکی ہیں۔ سو یقینا سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے مہر نہیں بلکہ محرومی کی وجہ سے انسان ایک حیلہ پیدا کرلیتاہے۔ یقینا سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یابغیر زبان کے بول سکیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی ص۸۳،۸۴، خزائن ج۱۰ ص۴۴۱، ۴۴۲، ۴۴۳)

235

پس مذکورہ بالا تمام بیان سے ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی جس میں نئے اوامر ونواہی نہ ہوں جاری ہے اور جن علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ کے بعد وحی والہام کا سلسلہ بند ہے تو اس سے مراد ایسی وحی ہے جو شریعت محمدیہﷺکے مخالف نئے اوامرونواہی پر مشتمل ہو۔ نہ مطلق وحی جس کا امت محمدیہ میں باقی رہنا قرآن مجید وحدیث اور بزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے۔

فریق مخالف کے گواہوں نے حضرت مسیح موعود کوکافر کہنے کی ایک وجہ آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین نہ ماننا بیان کی ہے۔ سو اس کے متعلق میں خاتم النّبیین کے صحیح معنی بیان کرنے سے قبل یہ بتانا چاہتاہوں کہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت رسول مقبولa کو بصدق دل خاتم النّبیین یقین کرتی ہے۔ چنانچہ حضرت فرماتے ہیں:

۱… ’’نعتقد ان رسولنا خیر الرسل وافضل المرسلین و خاتم النّبیین‘‘ (التبلیغ ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص۳۸۷) کہ ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ ہمارے رسول محمدa تمام رسولوں سے افضل وبرترہیں اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام انسانوں سے جو گزرچکے ہیں یاآئندہ قیامت تک ہوں گے آپ افضل وبرتر ہیں۔

(ایام الصلح ص۸۶، ۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳)

’’ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمدمصطفیa اس کے رسول اورخاتم الانبیاء ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۷، خزائن ج۳ ص۱۶۹،۱۷۰) پر فرماتے ہیں کہ: ’’ہمارے مذہب کاخلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ ’’لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ اور ہمارا اعتقاد ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیa خاتم النّبیین اور خیر المرسلین ہیں۔‘‘

اور (حقیقت الوحی ص۲۷، خزائن ج۲۲ ص۲۹) پرفرماتے ہیں کہ: ’’جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا، اس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔ بلکہ کیا باعتبار زبان اور کیا باعتبار مکان اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔ اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اورکامل حصہ اسے ملا اور خاتم الانبیاء بنا۔‘‘

(الاستفتاء ص۶۴، خزائن ج۲۲ ص۶۸۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے پاک رسول خاتم النّبیین ہیں۔‘‘

اسی طرح (مواہب الرحمن ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۲۸۶) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ آپ خاتم الانبیا ہیں۔‘‘

اور (ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو (خدانے) فرمایا۔‘‘

اور(کرامت الصادقین ص۲۵، خزائن ج ص۶۷) پر فرماتے ہیںکہ: ’’ مجھے اﷲ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں ہوں۔ ’’لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ میرا عقیدہ ہے اور ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ پر آنحضرتﷺ کی نسبت میرا ایمان ہے۔ کوئی عقیدہ میرا اﷲ اور رسول کے فرمودہ کے خلاف نہیں اورجو کوئی ایسا خیال کرتاہے۔ خود اس کی غلط فہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتاہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا۔ وہ یقینا یاد رکھے کہ مرنے کے بعد اس سے پوچھا جائے گا۔ میں اﷲ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا خدا ورسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلے میں، تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری رہے گا۔‘‘

پھر واضح رہے کہ کوئی شخص جماعت احمدیہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ بیعت کے وقت آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا اقرار بصدق دل نہ کرے۔ بیعت کے وقت جماعت میں داخل ہونے والے ہر شخص سے اقرار لیا جاتاہے کہ وہ حضرت رسول مقبولa کو خاتم النّبیین یقین کرے گا۔ چنانچہ گواہان فریق ثانی پرجرح کے دوران میں بیعت فارم پیش کیاجاچکاہے جو ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔

236

پس ان شواہد سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کرتی ہے۔ خاتم کا لفظ عربی زبان میں آخر کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ اس لئے سب سے پہلے یہ امر قابل غور ہے کہ کیا واقعی خاتم النّبیین سے یہی مراد ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیںآسکتا۔ خاتم کا لفظ لغوی معنوں میں آخر کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اگر یہ مراد ہو کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ بھی باطل ہوگا۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ بھی نبی اور رسول ہونے کی حالت میں ہی نزول فرمائیں گے۔

(ملاحظہ ہو حجج الکرامہ ص۴۲۶) ’’وعیسیٰ نبی است پس دورنیست کہ نہ قرآن فہم کند مثل فہم آنحضرتﷺ۔‘‘

(ص۴۲۱) میں امام جلال الدین سیوطی کا قول ہے۔ ’’ومن قال بسلب نبوتہ‘‘ کہ جس نے حضرت عیسیٰؑ کے متعلق یہ کہا کہ وہ آخرزمانہ میں نبوت سے معزول ہوکر آئیں گے۔ وہ بلاریب کافرہے۔

اس طرح (ص۴۲۶) پر لکھاہے کہ وہ اپنی پہلی حالت کے مطابق نبی اور رسول ہوں گے۔ بعض لوگوں کو جو یہ خیال ہے کہ وہ محض امتی ہو کر بغیر نبوت ورسالت کے آئیں گے، صحیح نہیں۔ کیونکہ نبوت ورسالت ایسی نعمتیں ہیں جو موت کے بعد بھی زائل نہیں ہوتیں۔

پس اگر خاتم النّبیین میں لفظ ’’النّبیین‘‘ سے مراد ہر قسم کے نبی کا آنا ممتنع ہے تو حضرت عیسیٰؑ بھی نہیں آسکتے۔ پس اگر ’’النّبیین‘‘ سے مراد پورے نبیوں کو مستثنیٰ کیا جاسکتاہے تو اس طرح ایک امی غیر تشریعی نبی کو بھی مستثنیٰ کیا جاسکتاہے۔‘‘

پھر جب ہم احادیث پر نظرڈالتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ خود آنحضرتﷺ نے آیت خاتم النّبیین سے نبوت کو بکلّی مسدود نہیں سمجھا۔ کیونکہ آیت ’’خاتم النّبیین‘‘ ۵ہجری میں نازل ہوئی اورحضورکے فرزند ارجمند ابراہیم ۸ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۰؍ربیع الاوّل۱۰ہجری بروز منگل فوت ہوئے۔ ان کی وفات پر حضور نے فرمایا: ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقانبیا‘‘ (ابن ماجہ جلد اوّل ص۲۳۷) یعنی کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا توضرور صدیق نبی ہوتے۔ پس آیت خاتم النّبیین کے نزول کے پانچ سال بعد حضور کا یہ فرمانا ثابت کرتاہے کہ حضور نے اس آیت سے نبوت کو بکلی مسدود نہیں سمجھا۔

اگرکوئی یہ کہے کہ وہ زندہ اسی لئے نہیں رہے کہ نبوت ختم ہوچکی تھی اور آپ کے بعدکوئی نبی نہیں ہوسکتاتھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پھر اس صورت میں ابراہیم کی کوئی فضیلت ثابت نہیںہوتی۔ کیونکہ اگر حضور کے بعد فی الواقعہ کسی قسم کی نبوت کا حصول باقی نہیں تھا تو حضور نے یہ کیوں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔ وفات کے بعد اگر اس قول سے یہ مقصودہوتا کہ حضور کے بعد کسی قسم کا نبی آسکتا تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہوتاکہ اگر ابراہیم زندہ بھی رہتاتو وہ بھی نبی نہ ہوتا۔ مگر یہ نہیں فرمایا۔ جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ حضور کے بعد ایک قسم کی نبوت جاری ہے۔ جسے ابراہیم بھی شرط زندگی حاصل کر سکتے تھے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ایف۔اے پاس شدہ طالب علم کی وفات پر کہا جائے کہ یہ زندہ رہتا تو ضروربی۔اے پاس کرلیتا۔ اس فقرہ سے ہر عاقل فرزانہ یہی سمجھے گا کہ بی۔اے کوئی درجہ ہے جیسے وفا ت یافتہ طالب علم بوجہ موت حاصل نہیں کر سکا۔ اب ا سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بی۔اے کوئی وجہ نہیں یا اس کا حصول نا ممکن ہے، غلط ہے۔

پھر یہ کہاں کہاہے کہ نبی کہ اولاد بھی ضرور نبی ہوتی ہے۔ تاہم یہ تسلیم کریں کہ خداتعالیٰ نے اسی لئے حضرت ابراہیم کو وفات دے دی کہ کہیں وہ نبی نہ بن جاویں۔ اگر یہی وجہ وفات کی ہو تو ان کو پہلے سے ہی پیدا نہ کیاجاتا۔ جب کہ انہیں اس ڈر سے مارنا پڑا کہ کہیں نبی نہ ہوجائیں۔

237

بعض کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہی صحیح نہیں۔ مگر یہ حدیث صحیح ہے۔ جیسا کہ (شہاب علی البیضاوی ج۷ ص۱۷۵) میں مذکور ہے: ’’کہ اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔جیسا کہ ابن حجر نے ذکر کیاہے اور ابن ماجہ کے علاوہ اور محدثین نے بھی اسے روایت کیاہے۔ مشہور امام ملّا علی قاری نے بھی اپنی کتاب (موضوعات کبیرص۶۹) میںاس حدیث کو صحیح قراردیاہے اور ان لوگوںکے شبہات کا جنہوں نے اس کی صحت میں تؤقف کیاہے۔ جواب دیاہے اورکہا ہے۔ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے اور اسی طرح حضرت عمرq اگر نبی ہوجاتے تووہ دونوں آنحضرتﷺ کے متبع ہوتے۔ پس حضرت ابراہیم کا بشرط زندگی ایسی نبوت کا پانا کہ آنحضرت کے تابع رہیں جائز الوقوع تھا۔

آنحضرتﷺ کے بعد اب ہم صحابہ کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اس آیت سے کیا سمجھا۔ حضرت عائشہt کا مرتبہ اہل علم سے مخفی نہیں۔ آپ قرآن مجید اور احادیث کے سمجھنے میں ید طولیٰ رکھتی تھیں۔ آپ کا قول ہے: ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ کہ تم آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین تو کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

حضرت عائشہt کے اس قول سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو الفاظ ’’خاتم النّبیین‘‘ اور’’لا نبی بعدی‘‘ سے یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، غلطی پر ہیں۔

دوسری شہادت حضرت علیq کی ہے۔ ابن الانباری نے مصاحف میں ابو عبد الرحمن بن سلمی سے کہاہے کہ میں امام حسن اورحسینr کو پڑھایاکرتاتھا۔ ایک دفعہ حضرت علیq پڑھاتے وقت میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں کو لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘ (ت) کی زبر سے پڑھائو۔

دوسری قرأت میں خاتم (ت) کی زیر سے بھی آیاہے۔ پس اگر حضرت علیq کے نزدیک (ت) کی زیرسے بھی خاتم کے معنی آخری نبی کے بنتے تھے تو آپ نے زیر پڑھانے سے کیوں منع فرمایا۔ بلکہ زیر سے ختم کرنے کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے تھے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں میں آپ فرق سمجھتے تھے اور زیر پڑھانے سے آپ کو اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں بچوں کے ذہن میں نبوت کے متعلق خلاف قرآن عقیدہ نہ بیٹھ جائے۔ ورنہ اگر ’’خاتَم‘‘ اور’’خاتِم‘‘ دونوں کے ایک ہی معنی ہوتے تو پھر حضرت علیq کو تنبیہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ’’خاتَم‘‘ اور ’’خاتِم‘‘ کی معنوی بحث میں آگے بیان کروں گا جس سے معلوم ہوجائے گا کہ حضرت علیq کیوں خاتم کو تاء کی زبر سے پڑھانے کی تاکید کی۔

اب میں چند جید علماء اور ائمہ کے اقوال ذکر کرتاہوں جن سے واضح ہوگا کہ وہ خاتم النّبیین سے کیا سمجھتے تھے۔

ملّا علی قاری اپنی کتاب (موضوعات کبیرص۶۹) پر یہ لکھ کر کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہوجاتے اور اسی طرح حضرت عمرq اگر نبی ہوجاتے تو پھر بھی وہ دونوں آپ کے تابعین میں سے ہوتے۔ فرماتے ہیں: ’’فلا یناقض قولہ خاتم النّبیین اذالمعنی انہ لایاتی بعدہ نبی ینسخ ملۃ ولم یکن من امتہ‘‘ کہ ابراہیم اورحضرت عمرq کا نبی ہوجانا، اﷲتعالیٰ کے قول ’’خاتم النّبیین‘‘ کے خلاف نہ ہوتا۔ کیونکہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ آپa کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپa کی امت سے نہ ہو اور آپa کی شریعت کو منسوخ کرے۔

اس سے ظاہر ہے کہ ایسانبی جو آنحضرتﷺ کا متبع امتی ہو،آپa کے بعد اس کا آنا خاتم النّبیین کے متناقض اور منافی نہیں ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں: ’’وکان من جملتہ ما فیہا تنزیل الشرائع فختم اﷲ ہذا التنزیل محمدa

238

فکان خاتم النّبیین‘‘کہ آنحضرتﷺ کی شریعت پر چونکہ تمام شرائع کا اختتام ہو گیا۔ اس وجہ سے آپ خاتم النّبیین ٹھہرے یعنی آپ کے بعد کوئی شریعت نہیں ہوگی۔

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۶) سید عبدالکریم جیلی فرماتے ہیں: ’’فانقطع حکم نبوۃ التشریع بعدہ وکان محمدa خاتم النّبیین لانہ جاء بالکمال ولم یجیٔ احد بذالک‘‘

(الانسان الکامل ج۱ ص۹۸)

کہ تشریعی نبوت کا حکم آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہوگیا اور محمدa خاتم النّبیین ٹھہرے۔ کیونکہ آپ کامل شریعت لائے اور دوسراکوئی ایساکمال نہ لایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ پر ہی ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کی آیت اتری اور کسی نبی پر نہ اتری۔

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: ’’پس حصول کمالات نبوت مرتابعاں رابطریق تبعیت ووراثت بعدازبعثت خاتم الرسل علیہ وعلیٰ جمیع الانبیاء والرسل الصلوٰت والتحیات منافی خاتمیت اونیست۔‘‘

(مکتوبات امام ربانی، مکتوب ص۳۰۱)

جب شبہ زائل ہوگیا تو رسول اﷲ کے بعد خاتم النّبیین کیوں لایا گیا؟ جواب اس کا یعنی خاتم الرسل کی بعثت کے بعد کمالات نبوت کا حصول تابعین کے لئے بطریق وراثت آپ کے خاتم النّبیین ہونے کے منافی نہیں۔ لہٰذا تو اسے مخاطب شک کرنے والوں میںسے نہ بن۔

مولانا محمد قاسم صاحب بانی مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں کہ اوّل معنی خاتم النّبیین کے معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کوئی وقت نہ ہو۔ سو عوام کے خیال میں تو رسول اﷲa کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعدہے اورآپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر رروشن ہوگا کہ تقدم وتاخر زمانہ میں بذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح ہیں: ’’ولکن رسول اﷲ‘‘ فرمانا کیوں کر صحیح ہوسکتاہے۔ (تحذیر الناس ص۳) پھر (ص۲۸) پر لکھتے ہیں کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوت بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا۔ پھر مولانا روم مثنوی دفتر پنجم (ص۱۳) پر فرماتے ہیں۔

  1. مکرکن در راہ نکو خدمت

    تا نبوت یابی اندر امت

کہ تو راہ نیکی میں تدبیر کرتاکہ تو نبوت حاصل کر سکے۔

پھر فرماتے ہیں:

  1. پیش اش اندر ظہور و در کمون

    اھد قومی انھم لا یعلمون

  2. بازگشتہ از دم او ہر دو باب

    درد و عالم دعوت او مستجاب

  3. بہر ایں خاتم شدست او کہ بجود

    مثل او نے بود نے خواہند بود

  4. چونکہ در صنعت بر و استادوست

    نے تو گوئی ختم صنعت برتو است

(مثنوی مولانا رومی دفتر ششم ص۶ مجیدی پریس کانپور)

یعنی آنحضرتﷺ کا پیشہ مبارک خلوت وجلوت میں یہی تھا کہ آپ خدا سے اپنی قوم کے لئے ہدایت طلب کرتے تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے دین ودنیا کے دروازے کھل گئے اور آپ کی دعادونوں جہانوں میں قبول ہوئی۔ یعنی اس عالم میں بھی آپ لوگوں کے شفیع ٹھہرے اور آخرت میںبھی۔ پس اس روحانی فیضان کی سخاوت کی وجہ سے آپ خاتم ہوئے۔ نہ آپ کی مثل پہلے کوئی کامل انسان اور کامل سخی روحانیت کا فیضان پہنچانے میں ہو ا اور نہ آئندہ ہوگا۔

239

اسے دوست جب کوئی شخص کسی صفت میں دست رسی حاصل کر کے کمال کے درجہ کو پہنچ جاتاہے توکیا اس کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ اس پرکاری گری ختم ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ: ’’اﷲ جل شانہ نے آنحضرتﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو ایسی اکمل فضیلت دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کانام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اورآپ کی توجہ روحانی نبی تراشتی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

جاننا چاہئے کہ اس آیت سے قبل حضرت زینبt سے نکاح کرنے کا ذکر ہے۔ جو زیدq کی مطلقہ بیوی تھیں اور ابتداء میں آنحضرتﷺ نے زید کو اپنا متبنّیٰ بنایا ہواتھا۔

اور عرب متبنّیٰ کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ جس کی تردید اﷲتعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں کردی ہے کہ کسی کا کسی کو بیٹا کہہ دینے سے وہ اس کا حقیقی بیٹانہیں بن جاتا۔ لیکن جب آپa نے حضرت زینبt سے نکاح کیا تو عرب کے لوگوں نے اعتراض کیا کہ محمدa نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی ہے۔

(ترمذی کتاب التفسیر)

اس اعتراض کے جواب میں اﷲتعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فرمایا: ’’وماکان محمد ابا احد من رجالکم (احزاب:۴۰)‘‘ یعنی تمہارا اے مخالفو! یہ اعتراض بالکل لغو ہے۔ کیونکہ بیٹے کی بیوی سے شادی کرنے کا اعتراض اس حالت میں صحیح ہوسکتاتھا جب کہ آپ کا وہ حقیقی بیٹاہوتا۔ مگر آپa توظاہری طور پر تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور ۵ہجری میں آپa کا فی الواقعی کوئی بیٹا بھی موجود نہ تھا۔ کفار کے جواب کا اعتراض اس میں آچکاتھا۔ پھر ’’ولکن رسول اﷲ‘‘ کے لانے کی کیا ضرورت تھی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ’’لکن‘‘ زبان عرب میں استمرارت کے لئے آتاہے۔ یعنی پہلے کلام سے جو شبہ پیداہوتاہے۔ ’’لکن‘‘ اس کا ازالہ کرتاہے۔ اس سورۃ میں اﷲتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کی ازواج مطہرات کو مومنین کی مائیں قرار دیاہے۔ جیسا کہ (درمنثور ج۵ ص۱۸۳) میں حسن، عکرمہ، مجاہد اور ابن العباس سے روایت ہے کہ انہوں اس آیت میں ’’وھو اب لھم‘‘ پڑھاہے۔ یعنی آپa مومنوں کے باپ ہیں۔ گویا اس آیت میں آپa کا باپ ہونا، بلحاظ نبی ہونے کے بیان کیاگیاتھا۔ لیکن اس کے آگے آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ میں ابوت سے بالکل انکار کردیاگیا۔ چونکہ ابوت متعلقہ کی نفی سے ابوت روحانی وجسمانی دونوں کی نفی ہونے کا اندیشہ تھا اور شبہ پڑتاتھا کہ اب آپa نبی بھی نہیں۔ سو اس شبہ کو دور کرنے کے لئے اﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’ولکن رسول اﷲ‘‘ کہ آپa بلحاظ اﷲ کے رسول ہونے کے بدستور مومنوں کے روحانی باپ ہیں۔ جیسا کہ (شہاب علی البیضاوی ج۷ ص۱۷۵) میں لکھاہے۔

چونکہ ہر ایک نبی اپنی امت کا باپ ہوتاتھا۔ اس لئے آنحضرتﷺ بھی اپنی امت کے روحانی باپ ہوئے۔ آپa میں اور دوسرے رسولوں میں فرق کیاہوا۔ لہٰذا اتنا کہہ دینے سے کہ بحیثیت رسول آپa اپنی امت کے باپ ہیں۔ آپa کی دوسرے رسولوں پر کوئی فضیلت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے ’’خاتم النّبیین‘‘ فرماکر آپa کو دوسرے تمام رسولوں سے ممتاز کردیا کہ اور نبی تواپنی امت کے، یعنی صرف مومنوں کے ہی باپ تھے۔ مگر آپa ایسے عظیم الشان اورجلیل القدر نبی ہیں کہ انبیاء کے بھی باپ ہیں۔ یعنی آپa کی اتباع اورتوجہ روحانی کمالات نبوت بخشتی ہے۔ لیکن اگر اس کے معنی اخیر کے لئے جائیں تو اس میں آپa کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ جیسا کہ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے فرمایاہے کہ: ’’تقدم یا تاخرزمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں۔‘‘

کہ عربی زبان میں خاتم بفتح التاء کے معنی انگوٹھی کے ہیں۔ جیسا کہ منجد کتاب لغت میں مذکورہے اور خاتم بکسر التاء ان معنوں میں کبھی کبھی استعمال ہوتاہے۔

240

آیت میں خاتم ہے۔ لیکن دوسری قرأت خاتم تاء کی زیرسے بھی مروی ہے۔ خاتم بکسر التاء کے دومعنی ہو سکتے ہیں۔ ایک ختم کرنے والا۔ دوسرا مہر لگانے والا یاصرف مہر۔ لیکن خاتم زیر کے ساتھ عربی زبان میں انگوٹھی اور مہر کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ حدیث میں خاتم التاء کی زیر سے بکثرت مہر کے معنوں میں استعمال ہواہے۔ چنانچہ (بخاری ج۳ ص۱۶۱) میں ’’ولوخاتمامن حدیدا‘‘ واقعہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔

اب اس لحاظ سے ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی ہوئے نبیوں کی مہر یا انگوٹھی۔ لیکن آپa انگوٹھی اور مہر حقیقتاً نہیں ہیں۔اس لئے ضروری ہوا کہ وجہ شبہ تلاش کی جائے۔ سو ایک وجہ شبہ… مندرجہ ذیل ہوسکتی ہے کہ انگوٹھی زینت کے لئے پہنی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی ہوئے کہ آپa انبیاءؑ کی زینت کا باعث ہیں۔ چنانچہ تفسیر (فتح البیان ج۷ ص۲۸۶) میں لکھاہے کہ خاتم کے معنی ہیں: ’’وہ ان کے آخر میں آیا۔‘‘ اور خاتم کے معنی ہیں کہ: ’’آپa انبیاءؑ کے لئے بمنزلہ خاتم کے ہیں۔ یعنی آپa کانبی ہونا دوسرے انبیاءؑ کے لئے باعث زینت ہے۔‘‘

پس اس وجہ شبہ کے لحاظ سے آیت کے معنی ہوئے کہ آپa سب نبیوں کی زینت ہیں۔ یعنی انبیاءؑ کا مقدس گروہ آپa کے وجود مسعود کو اپنے لئے باعث فخر اور باعث زینت سمجھتاہے۔

دوسری وجہ شبہ جو انگوٹھی میں اور آپa کے ’’خاتم النّبیین‘‘ ہونے میں ہوسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ جس طرح انگوٹھی تمام انگلی کوگھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ اسی طرح آپa تمام نبیوں پر محیط ہیں۔ یعنی جس قدر خوبیاں اورکمالات دوسرے انبیاءؑ میںفرداً فرداً پائے جاتے ہیں۔ وہ سب کے سب آپa کی ذت والا صفات میں بدرجہ اتم موجودہیں۔ آپa جامع جمیع کمالات انبیاء ہیں اور علی الاطلاق سب انبیاءؑ سے افضل وبرتر ہیں۔ ان معنوں کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ’’خاتم‘‘ کالفظ کمال کے معنوں میں بکثرت استعمال ہوتاہے۔

چنانچہ (وفیات الاعیان ابن خلکان ج۱ ص۱۲۳) میں حبیب طائی کو خاتم الشعراء قرار دیاگیاہے۔ وہاں شاعر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب اس کے بعد کوئی شاعر پیدانہیں ہوگا۔ بلکہ اس کا مقصد اس سے صرف یہی ہے کہ وہ ایک ایسا باکمال شاعرتھا جس میں تمام کمالات شعر پائے جاتے تھے، جو ایک شاعر میں ہونے چاہئیں۔

انہی معنوں میں حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی نے ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’وربک تختم الاولایہ‘‘ (فتوح الغیب ص۲۳) کہ پھر تو اے بھائی! ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے گا جہاں تجھ پر ولایت ختم ہو جائے گی۔ یعنی تو خاتم الاولیاء ہو جائے گا۔

انہی معنوں میںشیخ محی الدین ابن عربی کو خاتم الاولیاء اور مولانا شاہ عبدالعزیز کو مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند نے ’’ختم المفسرین ومحدثین‘‘ اور رسالہ عجالہ نافعہ کے ٹائٹل پیج پر حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی کو ’’خاتم المحدثین‘‘ لکھا ہے۔ پس ’’خاتم‘‘ کا لفظ عربی زبان میں کثرت سے استعمال کیاجاتاہے۔ مگر اس سے یہ مراد نہیں لی جاتی ہے کہ وہ شخص اس گروہ کا آخری ہی فردہے۔ عربی زبان کے علاوہ۔

تیسری وجہ شبہ یہ ہے کہ مہر تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرتﷺ نے عجم کے بادشاہوں کو دعوت اسلام کے خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپa سے عرض کیاگیا کہ شاہان عجم ایسے خطوط کو جس پر صاحب خط کی مہر نہ ہو قبول نہیں

241

کرتے۔ راوی کہتاہے: ’’فاتخذ خاتما من فضۃ ونقش فیہ محمد رسول اﷲ‘‘ کہ تب آپ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی اور اس میں محمد رسول اﷲ کے الفاظ نقش کئے۔‘‘

پس مہر کی غرض تصدیق کی وجہ سے ہونے کے لئے ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی یہ ہوئے کہ آپ سب نبیوں کے مصدق ہیں۔ یعنی کسی نبی کی نبوت جو آپ سے پہلے بھی گزرے ہوں، اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتی جب تک کہ آپ کی اس پر مہر تصدیق نہ ہو۔ چنانچہ مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب استفسار میں فرماتے ہیں: ’’ازانجملہ اگلے سب انبیائے بنی اسرائیل پر ایمان لانے کی بسبب فقدان اسناد اور ثبوت تحریف کے کوئی سبیل نہیں۔ باقی رہی بجز تصدیق حضرت خاتم النّبیین کے۔‘‘

(استفسار برحاشیہ ازالۃ الاوہام ص۳۷۹)

آپa سے پہلے حضرت عیسیٰؑ آئے۔ اگرآنحضرتa تشریف نہ لاتے اور قرآن میں حضرت عیسیٰؑ کو نبی نہ کہاگیاہوتا تو آج کوئی بھی مسلمان عیسیٰؑ کو نبی نہ مانتا۔ کیونکہ یہودی تو انہیں کافروملحد اور جھوٹاکہتے تھے اور عیسائی ان کو خدابنارہے تھے۔ ایسی حالت میں آنحضرتﷺ نے آکر ان کی تصدیق کی اور فرمایا: ’’ماالمسیح ابن مریم الا رسول‘‘ کہ مسیح ابن مریم صرف ایک رسول تھے۔ پس آپ کا مرتبہ اتنا عظیم الشان ہے کہ کسی نبی کی نبوت بدوں آپ کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ پس آئندہ بھی اگر کوئی نبی آئے گا تو آپ کا متبع ہوگا۔‘‘

اگر کہا جائے کہ مہر خط کے آخر میں لگائی جاتی ہے۔ اس لئے ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی آخر کے ہیں اور یہ کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا بیان سے واضح ہے کہ ’’خاتم‘‘ کے اصل معنی آخر کے نہیں ہیں اور اگرآخر کے معنی بھی لئے جائیں تو وہ لازم معنی کہلائیں گے نہ کہ اصل معنی۔ جب اصل معنی لئے جاسکتے ہیں تو پھر لازم معنی ہی کیوں لئے جائیں اور اگر مہر کی اصل غرض جو تصدیق ہے، اسے لے کر آخر کے معنی لیں تو پھر خاتم النّبیین کے معنی ہوں گے کہ آپ نبیوں کے لئے آخری مصدق ہیں۔ آپa کے ذریعہ تمام انبیاء کی تصدیق ہوئی۔

مندرجہ بالا بیان سے واضح ہے کہ ’’خاتم‘‘ کے اصل معنی ہیںآخر کے نہیں۔ بلکہ لازمی معنی ہیں اور اگر خاتم کہیں آخر کے معنوں میں استعمال کیاجاتاہے تولازم المعنی لے کر کیاجاتاہے۔ جب کہ قرآن مجید کی آیت میں کوئی ایسا صریح قرینہ موجود نہیں ہے جو لازم معنی لینے پر دلالت کرے۔اس کے باقی سب معنی چھوڑ کر صرف آخر کے ہی معنی لینا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔

’’خاتم النّبیین‘‘ کے جو معنی اوپر بیان کئے ہیں وہ لغت عرب کی رو سے تاویلی نہیں بلکہ اصلی ہیں۔ آخر کے معنی لینا تاویلی اور لازمی معنی ہیں۔ چنانچہ (فتح البیان ج۷ ص۲۸۶) میں لکھاہے کہ جمہور نے خاتم زیر کے ساتھ پڑھاہے اورتاء کی زبر سے بھی پڑھا گیاہے۔ پہلے کے معنی ہیں کہ وہ ان کے آخر میں آئے اور دوسرے کے معنی ہیں کہ وہ ان کے لئے بمنزلہ انگشتری کے ہیں اور ان کی زینت کا باعث ہیں۔ ابوعبیدہ نے کہا کہ یہاں اصل وجہ زیرہے۔ کیونکہ تاویل یہ ہے کہ اس نے ان کو ختم کیا، پس وہ ان کا خاتم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ آیت کے معنی ختم کے سوا بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن تاویل اس کی یہ کی گئی کہ آپ انبیاء سابقین کے آخر میں تھے۔ اس لئے یہاں آخر کے معنی ہی لئے جائیں گے۔ ورنہ صاف ظاہر ہے کہ آیت میں آخر کے معنی لینے کے لئے کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔

اس طرح (شہاب علی البیضاوی ج۷ ص۱۷۵) میں خاتم کو ایک آلہ قرار دے کر جس کے ساتھ مہر لگائی جاتی ہے لکھاہے: ’’وان کان مآل معناہ الاخر ایضا‘‘ کہ اگرچہ نتیجتاً یہ معنی نکلتے ہیں اور یہ لازم معنی ہیں۔ پس ہمارے معنی تاویلی نہ ہوئے۔

242

بلکہ آخر کے معنی جو کئے جاتے ہیں وہ تاویلی ہوئے۔ پس خاتم لفظ خاتم کے معنوں میں حقیقی طرز پر استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن خاتم کا لفظ خاتم کے معنوں میں استعمال ہوجاتاہے۔ لہٰذا تاویل ہماری طرف سے نہ ہوئی بلکہ آخر کے معنوں کی طرف سے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو جو خاتم اولاد کہا ہے۔ یہاں الفاظ اب دو ہیں۔ اب دو کے لحاظ سے خاتم اخیر کے معنوں میں استعمال ہوسکتاہے اور ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے آبائو اجداد کا سلسلہ آپ پر ختم ہوگیا۔ اب ان کی نسل کا آئندہ خاتمہ ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے آبائو اجداد کی نسل دوسری شاخ سے منقطع ہوجائے گی اور آئندہ اولاد کا سلسلہ آپ کے وجود سے ہی جاری ہوگا۔ جیساکہ آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا۔ ’’ینقطع آبائوک ویبدء منک‘‘ کہ تیرے آبائو اجدا د کی نسل کا سلسلہ اب تجھ سے شروع ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی وقو ع میں آیا۔ پھر بھی واضح رہے کہ قرآن مجید میں الفاظ ’’خاتم النّبیین‘‘ ہے ’’آخر النّبیین‘‘ نہیں۔ آخر کچھ تو بھیدہے کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کے لئے ’’آخر النّبیین‘‘ نہیں کہا بلکہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کہا ہے۔ جس حدیث میں آخر الانبیاء آیاہے تووہ خبر واحد ہے۔ جو ظن کا مرتبہ رکھتی ہے اور عقائد میں ظنیات کام نہیں دیتے۔ جیسا کہ (شرح فقہ اکبرص۹۱) پرلکھاہے:’’ ان المعتقد فی العقائد ھو الادلۃ الیقینیہ واحادیث الاحاد لو ثبت انما تکون ظنیۃ‘‘ کہ عقائد میں ادلہ یقینیہ کا ہونا ضروری ہے اوراحادیثیں اگر صحیح بھی ہوں تب بھی وہ ظنی ہوتی ہیں۔

پھر علماء میں اس امر میں اختلاف ہواہے کہ تاویل کرنے والے کو کافر کہا جائے یانہیں۔

جو علماء تاویل کرنے والے کو کافر نہیں کہتے ان کی دلیل یہ ہے کہ تاویل کرنے والوں کے خون اور اموال کی حفاظت ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کہنے کی وجہ سے ایک ثابت شدہ امرہے۔ ’’ولم یثبت لنا ان الحظا فی التاویل کفر‘‘ اور یہ بات کہ تاویل میںخطاء کرنا کفرہے۔ ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہوئی۔ (الیواقیت والجواہرص۱۴۰) اور(ص۱۴۲) میں لکھا ہے کہ امام شافعی نے اپنے رسالہ میں تصریح کی ہے کہ اہل اہواء کافرنہیں۔ مخزومی نے کہا کہ امام شافعی سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جو محتمل تاویل کرتے ہیں۔ جیسے معتزلہ اور مرجیہ وغیرہ۔

(شرح فقہ اکبر مطبوعہ حیدر آبادص۹) میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف کا مصدق ہو اور تاویل میں خطاء کرتاہو تو کافر نہیں ہے۔

اس طرح حضرت علیq نے باوجود خوارج کی بغاوت کے ان کو کافرنہیں کہا۔ چنانچہ امام ابن قیم نے لکھاہے کہ خوارج نے حضرت علیq کے ساتھیوں کو قتل کیا اوران سے لڑے۔ حضرت علیq کے ساتھیوں کا قتل وہ جائز سمجھتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ تاویل کر کے اسی کو حق خیال کرتے تھے۔ اس لئے باوجود ان تمام باتوں کے حضرت علیq نے فرمایا۔

چنانچہ امام ابن تیمیہ نے (منہاج السنہ جلد۳ص۶۱،۶۲) پر اس کا ذکر کیاہے اور (البحر الرائق ج۵ ص۱۹۱) پر لکھاہے کہ ہم خوارج کی باوجودیکہ انہوں نے مسلمانوں کے خون اور اموال کو لوٹنا جائز سمجھا۔ صرف ان کی تاویل کرنے کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے۔

پس ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ تاویل کرنے کی وجہ سے کسی پر حکم لگانا علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ احمدی جماعت ’’خاتم النّبیین‘‘ کے تاویلی معنی نہیں کرتی۔ بلکہ اس کے اصلی معنی کرتی ہے جو عربی زبان اور اس کے محاورات کی روسے درست ہیں۔ خاتم کے آخری معنی حقیقی معنی نہیں بلکہ لازم اور تاویلی معنی ہیں۔

دوسری آیات جن سے انقطاع نبوت پر دلیل پکڑی جاتی ہے اور جو لوگ خود حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے قائل ہیں، وہ خود باوجودیکہ دین میں کوئی نقص نہیں مانتے۔ پھر وہ ان کانزول تسلیم کرتے ہیں۔ پس ہم بھی حضرت مرزا کو ایسا نبی نہیں مانتے جو نیا دین لاتے

243

ہیں۔ کامل مذہب اسلام ہی کے پیرو ہیں اور محض دین کی اشاعت اور ترویج کے لئے آسکتے ہیں۔ آیت: ’’اٰل یعقوب کما اتمھا علی ابویک من قبل ابراہیم واسحاق (یوسف)‘‘ سے ظاہر ہے اور امت محمدیہﷺپر اتمام نعمت کے معنی ہیں کہ اب اسلام سے باہر اور آنحضرتﷺ کی اتباع کے بغیر کوئی انعام نہیں مل سکتا۔ اگر پہلے انبیاء کی معیت اور اتباع سے صدیقیت اور شہادت کا مرتبہ مل سکتاتھا تو اب حضرت رسول مقبولa کی اتباع سے نبوت کا مرتبہ بھی مل سکتاہے۔ جیسا کہ آیت: ’’مع الذین انعم اﷲ علیھم من النّبیین والصدیقین والشھدآء والصالحین (نساء:۶۹)‘‘ سے ظاہر ہے اور اتمام نعمت کے ہم یہ معنی لیں کہ امت محمدی پر وحی اور نبوت کا دروازہ بند ہے۔ کوئی شخص اس انعام کو اب حاصل نہیں کرسکتا تو پھر امت محمدیہﷺکسی طرح خیر الامم نہیں ہوسکتی۔

پس روحانیت کے مراتب عالیہ سے یکسر محرومی کا نام اتمام نعمت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ ایک انسان اس کا پیرو ہوکر روحانیت کے اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج حاصل کر سکتاہے۔

اور آیت: ’’وما ارسلناک الا کافۃ للناس (سبا:۲۸)‘‘ اور ’’قل یٰآیھا الناس انی رسول اﷲ الیکم جمیعا (الاعراف:۱۵۸)‘‘ میں آنحضرتﷺ کی بعثت اور دعوت کی عمومیت کا ذکرہے۔ ان سے ہر گز یہ نہیں نکلتا کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی جو آپ کی شریعت کی اشاعت کرنے والا ہو،نہیں آسکتا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کے آنے کا عقیدہ بھی لوگوں میں موجود ہے۔

اب میں ان احادیث پر بحث کرتاہوں۔ جن سے انقطاع نبوت کا نتیجہ نکالاجاتاہے۔ ایک حدیث یہ ہے: ’’قال رسول اﷲa لعلی انت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی‘‘ یہ قول رسول مقبولa نے اس وقت فرمایا جب جنگ تبوک میں تشریف لے جانے لگے۔ یعنی یہ کہ تمہیں یہ پسند ہیں کہ تم میرے خلیفہ بنو۔ جیسا حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے خلیفہ تھے۔ لیکن بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

پس بعدی سے مراد محض یہی ہے کہ میرے پیچھے جنگ تبوک کے عرصہ میں کوئی نبی نہ ہوگا اور اگر بعدی کے معنی میری امت کے بعد کئے جائیں تو دونوں جملوں میں کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا اور نہ ہی تشبیہ درست ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وجہ شبہ ان دونوں مشبہ بہ یعنی حضرت علیq اور حضرت ہارونm کے مابین خلافت ہے اور حضرت ہارون حضرت موسیٰm کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہی نہیں ہوئے۔ کیونکہ آپ حضرت موسیٰm سے پہلے وفات پاگئے تھے۔ لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اثبات خلافت تو زندگی کی حالت کا کریں اور نبوت کا استثناء اپنی موت کے بعد کا۔ شیعہ صاحبان نے اسی معنوی غلطی کی وجہ سے آنحضرتﷺ کے بعد حضرت علیq کے حق خلافت پر استدلال کیا ہے۔ مگر شارحین حدیث نے یہی جواب دیا ہے کہ وفات کے بعد معاً یہاں خلافت کا ذکرہی نہیں، کیونکہ حضرت ہارونm حضرت موسیٰm سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔

اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ حضرت علیq کا خطاب بھی موجود ہے۔ حدیث میں یہ ہے:

’’قال علیہ السلام یا علی اما ترضی ان تکون کھارون من موسٰی غیر انک لست نبیا‘‘ (طبقات کبیر ج۳ ص۱۰)

کہ اے علیq کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے بعد خلیفہ بنو جیسے ہارونm موسیٰm کے خلیفہ بنے تھے۔ مگر ہاں تم نبی نہیں ہوگے۔ اس جملہ کے فرمانے کی ضرورت یہ تھی کہ آپ کو حضرت ہارون سے مشاہبت دی گئی تو شبہ پڑ سکتاتھا کہ آپ حضرت ہارون کی طرح نبی بھی ہوں گے۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے وضاحت فرمادی کہ تم میرے بعد خلیفہ ہوگے نبی نہیں ہوگے۔

244

بقیہ بیان جلا ل الدین شمس

۷؍نومبر ۱۹۳۲ء

اب دوسری حدیثوں میں جو الفاظ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے آئے ہیں، ان کی تشریح امام محمد طاہر نے (تکملہ مجمع البحارص۸۵) پر یہ کی ہے کہ اس سے مراد ایسا نبی ہے جو حضورﷺ کی شریعت کو فسخ کرنے والاہو۔ ایسا نبی نہیں آسکتا اور شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ صرف شریعت والی نبوت مرتفع ہوگئی ہے۔ پس یہی معنی ’’لا نبی بعدی‘‘ کے ہیں اور ہم نے اچھی طرح معلوم کر لیاہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ سے یہ مراد ہے کہ خاص شریعت لانے والا کوئی نبی نہ ہوگا۔ خاص اور وہ نبوت جو آنحضرتﷺ کے وجودسے منقطع ہوگئی ہے، تشریعی نبوت ہے، نہ کہ مقام نبوت۔ پس کوئی ایسی شریعت نہں ہوگی جو شریعت محمدیہ کی ناسخ ہو۔ نہ اب آپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد ہوگا۔ یہی معنی آنحضرتﷺ کے قول ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت الخ!‘‘ کے کئے ہیں کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جو میری شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ جب بھی ہوگا میری شریعت کے ماتحت ہوگا۔

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۳،۶۴)

یہ بھی واضح رہے کہ ’’لابنی بعدی‘‘ میں ’’لا‘‘ نفی نبی کا نہیں ہے جو ہر قسم کی نبوت کی نفی کرنے والا ہو۔ حدیث میں اس قسم کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میںہے کہ: ’’اذاھلک کسریٰ فلاکسریٰ بعدہ واذاھلک قیصر فلا قیصربعدہ‘‘ علامہ خطابی نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ پہلے جیسی وسیع سلطنت کا کوئی مالک نہیں ہوگا۔

(فتح الباری شرح بخاری ج۶ ص۴۰۱۱)

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ قیصر کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا قیصر ہوا۔ مگر وہ پہلے قیصر کی طرح نہیں تھا۔ اس قسم کی مثالیں اور بھی ملتی ہیں۔ پس ’’لا نبی بعدی‘‘ کے یہ معنی ہوئے کہ محمد مصطفیa جیسا عظیم المرتبت اور جامع جمیع کمالات کا کوئی نبی نہ ہوگا۔ دوسری حدیث یہ پیش کی جاتی ہے: ’’کانت بنو اسرائیل‘‘ یعنی جب ایک نبی فوت ہوتا تو معاً اس کا قائم مقام ایک نبی ہوتا تھا۔ یہاں بعد سے مراد بعدیت متصلہ ہے۔ جیسا کہ رسول اﷲa کے قول ’’جب کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کا قائم مقام ایک نبی ہوتا تھا۔‘‘ لیکن آپa کے بعد ایسا نہیں ہوگا اور امت محمدیہ میں فوراً نبی کی ضرورت نہ ہوگی۔ چنانچہ آنحضرتﷺ نے فرمایاہے کہ سب سے بہتر اس صدی کے لوگ ہیں جس میں میں ہوں۔ پھر جو ان سے ملیں گے۔ پھر جو ان تابعین سے ملیں گے۔ پھر فرمایا جھوٹ پھیل جائے گا اور اس کے زمانہ کے بعد کانام فج اعوج رکھا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ایک لمبا زمانہ گزرنے پر جب ضلالت اور گمراہی انتہاء کو پہنچ گئی تو خدا وند تعالیٰ نے آنحضرت مسیح موعود کو مبعوث کیا۔ تیسری حدیث یہ ہے کہ: ’’انا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘ یعنی رسول اﷲ نے اپنا نام عاقب بتلایا ہے اور عاقب کے یہ معنی بتلائے ہیں کہ آپ کے بعد نبی نہیں۔ عاقب کی یہ تفسیر کسی صحابی یا تابعی نے کی ہے۔ جیسا کہ امام ملّا علی قاری نے لکھا ہے: ’’الظاہر ان ہذ التفسیر…قبلہ‘‘ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص ۳۷۶) سے ظاہر ہے کہ یہ تفسیر کسی صحابی یا تابعی نے کی ہے اور شرح مسلم ابن العربی نے کی ہے کہ عاقب اسے کہتے ہیں جو شہر میں اپنے سے پہلے کا قائم مقام ہو۔ دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور کا دور نبوت قیامت تک ممتدہے۔ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کے مبارک دور کو ختم کرنے والاہو۔ یہی ہمارا مذہب ہے کہ آپ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے۔ آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اﷲa کی حدیث: ’’میرے اور عیسیٰؑ کے درمیان کوئی نبی ہیں ہوا۔‘‘ علامہ عینی نے شرح بخاری میں اس کے متعلق ایک قول لکھا ہے

245

ایک قوم نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد سوائے رسول اﷲa کے اورکوئی نبی نہیں آیا۔ لیکن ان کا یہ استدلال کبھی نہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد جرجیس اور خالد ابن سنان دو نبی پیدا ہوئے۔

پس اس طرح ’’لیس بعدہ نبی‘‘ کے معنی ہوئے کہ آپ کے بعد مستقل شریعت والا کوئی نبی نہ ہوگا۔

چوتھی حدیث: ’’لم یبق من النبوۃ الا لمبشرات‘‘ کہ نبوت ختم ہوگئی صرف رویائے صالحہ باقی ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا یہ فرمانا بلحاظ عام مسلمانوں کے ہے۔ علامہ سندھی نے (ابن ماجہ ج۲ ص۲۳۳حاشیہ) پر لکھاہے: ’’المراد انھا لم تبق علی العموم والا فالالھام والکشف للاولیاء موجود‘‘ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عوام کے لئے نبوت سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں اور اولیاء کے لئے الہام اور کشف کا دروازہ بھی کھلاہے۔ دوسرا میں پہلے بیان کرچکاہوں کہ حضرت عمرq کی زبان پر فرشتے کلام کرتے تھے۔ امام ربانی مجدد الف ثانی اور شیخ محی الدین ابن عربی وغیرہ ائمہ کے اقوال سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ اس امت کے خواص اور کامل افراد کو وحی بھی ہو تی ہے۔ اسی طرح امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ اور کبھی وحی البشائر بواسطہ فرشتہ بھی ہوتی ہے۔ (الیواقیت والجواہرج۲ ص۹۶) اورنبی اور رسول کے متعلق اﷲتعالیٰ فرماتاہے کہ وہ بشر اور منتظر ہو کرآتے ہیں۔ پس نبوت کی اقسام میں ایک قسم مبشرات باقی ہے۔

پانچویں حدیث: جس میں آخر الانبیاء کا لفظ آیاہے۔ ان میں سے ایک میں ’’مسجدی آخر المساجد‘‘ اور دوسری روایت میں ’’انتم الاخر الامم‘‘ آیاہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ اس سے وہ نبی مرادہیں جو اپنی مستقل امت بنایا کرتے تھے۔ حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ آپ آخری شارع نبی ہیں۔ لہٰذا آپ کی اتباع اور فیض روحانی سے کسی امتی کا نبی ہونا آپ کے آخری نبی ہونے کے منافی نہیں۔ کیونکہ وہ کوئی نئی امت نہیں بنائے گا بلکہ خود بھی امتی ہوگا۔ جیسا کہ حضرت مرزا صاحب ہیں۔ حدیث کے الفاظ صاف دلالت کرتے ہیں کہ آپ ان انبیاء کے فرد ہیں جو اپنی نئی امت بنایاکرتے اورپہلے نبی کی شریعت کو منسوخ کر کے اپنی شریعت قائم کرتے ہیں۔

یہ بھی یادرہے کہ آخر کا لفظ عربی زبان میں اس شخص پر بھی بولاجاتاہے جو اپنے فن میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہو اور کمال رکھتا ہو۔ چنانچہ امام جلا ل الدین سیوطی نے امام ابن تیمیہ کو ان کے تبحر علمی کی وجہ سے آخر المجتہدین لکھا ہے۔

(الاشباہ والنظائر ج۳ ص۳۱۹)

اسی طرح ایک شاعر کہتاہے:

  1. شریٰ ودّی وشکری من بعید

    لاٰخر غالب ابداً ربیع

مولوی ذوالفقار علی صاحب دیوبندی نے اس کا ترجمہ یہ کیاہے: ’’ربیع ابن زیاد نے میری دوستی اور شکر دوربیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی غالب میں آخری یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثل ہے خرید لیاہے۔‘‘

پس حضورﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضورﷺا نبیاءo کے پاک گروہ میں سب سے برتر اور عدیم المثال فرد ہیںa۔ چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں ؎

  1. بہر ایں خاتم شد است اوکہ بجود

    مثل او نے بود نے خواہند بود

چھٹی حدیث: جو بیان کی جاتی ہے۔’’مثلی ومثل الانبیاء من قبلی الخ‘‘ کہ اس حدیث میں خود من قبلی کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہ مثال ان انبیاء کی نسبت سے ہے جو حضورﷺ سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ آئندہ کسی نبی کے آنے یا نہ آنے کا یہاں ذکر

246

نہیں۔ دوسرے اگر آئندہ نبی آنے کی نفی نکل سکتی ہے تو صرف ایسے نبی کی جو آنحضرتﷺ سے پہلے انبیاء کی طرح مستقل اور بلا واسطہ کسی اتباع سے ہو۔ جیسا کہ ’’من قبلی‘‘ سے ظاہر ہے۔

گزشتہ انبیاء اور ان کے صحائف کو دیکھنے سے واضح ہوتاہے کہ ان کی شریعتیں بلحاظ دنیا کی اقوام کے ناقص اور غیرمکمل تھیں۔ اس لئے ایک کامل شریعت کی ضرورت تھی اور مکان نبوت میں جو نقص تھا وہ پورا ہوگیا۔ اس لئے آنحضرتﷺ کے وجود باجود سے پوری ہوگئی اور قرآن مجید جیسی مکمل کتاب آپ کو دی گئی کہ بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا جو نئی شریعت لائے اور قرآن مجید کو ناقص ٹھہرائے۔ ہاں! جو قرآن شریف کی اشاعت اور ترویج کے لئے آئے اور اس پر عامل ہو کر نبی ہو، اسے یہ مکان مانع نہیں آخری اینٹ میں داخل ہے اور اس سے باہر نہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے چار قسم کے لوگ ہوں گے۔ یعنی نبی، صدیق، شہید اورصالح۔ پس اس حدیث میںا ن انبیاء کا ذکر ہے جو مستقل اور بالاصالت نبی ہیں جن کا آنا آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہے۔

ہاں! اس حدیث سے صاف ثابت ہوتاہے کہ حضرت عیسیٰؑ اب ہر گز نہیں آسکتے۔ کیونکہ وہ اس مکان کی اینٹوں میں سے ایک اینٹ میں شمار کئے گئے۔ اگران کا دوبارہ لایاجانا تسلیم کیا جاوے تو مکان میں ایک اینٹ کی جگہ خالی مان کر پھر مکان کو بدستور سابق عیب دار ماننا پڑے گا، تو وہ کمال جو آنحضرتﷺ کی وجہ سے مکان میں پیدا ہواتھا زائل ہوجائے گا۔ کیونکہ ان کی نبوت مستقل اور بالاصالت ہے۔ آنحضرتﷺ کی اتباع کا نتیجہ نہیں ملی۔

ساتویں حدیث: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر… الخ!‘‘ کہ اگر میرے بعدکوئی نبی ہوتاتو وہ عمر ہوتے، پیش کی گئی ہے۔ ملّا علی قاری نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ اگر حضرت عمر زندہ رہتے اور نبی ہوجاتے تو باوجود نبی ہونے کے وہ آپ کے تابعین میں سے ہوتے۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعدایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔

دوسرا بعد کے معنی عربی زبان میں معیت کے بھی ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اقرب الموارد میں لکھاہے: ’’بعد نقیض قبل وقد یرد بمعنی مع‘‘ اس لحاظ سے حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ اگر میرے ساتھ کوئی دوسرا نبی ہونا ہوتا تو حضرت عمر ہوتے۔ اس کی ضد میں اس نے ایک شعر بھی درج کیا ہے۔

تیسرے بعد بمعنی درجہ اور مرتبہ بھی آتاہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’قال ثم انا اجود بنی آدم واجودھم من بعدی رجل علم علما فنشرہ‘‘

(مشکوٰۃ مطبوعہ ص۳۷)

کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: ’’اﷲتعالیٰ کے بعد بنی آدم میں سب سے زیادہ میںسخی ہوں اور پھر میرے بعد جس نے علم سیکھا اور اس کولوگوں میں پھیلایا۔‘‘

اور اس کے علاوہ بعد کا لفظ غیر اور سوا کے معنوں میں بھی آتاہے۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ’’وما یمسک فلامرسل لہ من بعدہ (فاطر)‘‘ جس خیر کو اﷲتعالیٰ روک لے تو اسے اس کے سوائے کوئی نہیں کھول سکتا۔ اسی طرح تفسیر (جلالین ج۲ ص۸۹) میں آیت: ’’لا ینبغی لاحد من بعدی‘‘ میں ’’بعدی‘‘ کے معنی سوائے (میرے سوا) کئے گئے ہیں۔ پس ان دونوں معنوں کے لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگرمیرے سوائے کسی اور کو نبی بنایاجاتا تو حضرت عمرq ہوتے۔ اس سے آنحضرتﷺ کا مقصد صرف حضرت عمرq کی تعریف اور ان کی فضیلت کا اظہار ہے کہ وہ بہت صائب الرائے اور عالی دماغ ہیں۔ چنانچہ ان معنوں کی تائید ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپa نے فرمایا: ’’لولم ابعث لبعثت یا عمر‘‘ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۵ ص۵۳۹) کہ اے عمر! اگر میں مبعوث نہ کیا

247

جاتا تو تو مبعوث ہوتا۔ دوسری روایت میں ہے: ’’لولم ابعث فیکم لبعث عمر فیکم‘‘ اور یہی حدیث اس طرح بھی مروی ہے: ’’لولم ابعث لبعث بعدی عمر‘‘ کہ اگر میں نہ بھیجاجاتا تو عمر نبی بنا کر مبعوث کیا جاتا۔ اس روایت نے ’’بعدی‘‘ کے معنی بھی حل کردئیے کہ بعد سے مراد آپ کی وفات کے بعد نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں، آپ کے مبعوث نہ ہونے کی صورت میں حضرت عمرq مبعوث ہوتے۔

(کنوز الحقائق ص۱۰۳)

آٹھویں حدیث یہ ہے کہ: ’’میری امت میں تیس کذاب دجال ہوں گے۔ ہر ایک ان میں سے یہ خیال کرے گاکہ وہ نبی ہے۔ اس حدیث سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ جو بھی اب آپ کے بعد قیامت تک نبوت کا دعویٰ کرے وہ ضرور جھوٹا ہے۔ کیونکہ آنے والے مسیح موعود کو خود حضورنے نبی اﷲ کہاہے اور تیس کی تعیین بھی بتلارہی ہے کہ کوئی سچا نبی بھی آسکتاہے۔‘‘

دوسرا واضح رہے کہ اس حدیث کا مضمون آج سے پہلے پانچ سوسال قبل پورا ہوچکا ہے۔ جیسا کہ شرح مسلم میں لکھاہے: ’’ہذا الحدیث قد ظاہر صدقہ‘‘ مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کا صدق ظاہر ہوچکاہے۔ کیونکہ تاریخ سے اگر جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا شمار کیاجاتاہے تو یہ تعداد(۳۰) کی پوری ہوچکی ہے۔

تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص اسے جانتاہے۔ اگر شرح کے لمبا ہوجانے کا خوف نہ ہوتا تو ہم ان کے نام بھی لکھ دیتے۔

(اکمال الاکمال ج۷ ص۲۹۸)

نواب صدیق حسن خا ن صاحب لکھتے ہیں: ’’درحدیث ابن عمر است سی۳۰کذاب… ودر روایتے از عبداﷲ ابن عمر نزد طبرانی است برپانمی شود ساعت تاآنکہ بیرون آید ہفتادکذاب ونحوہ عند ابی یعلی من حدیث انس۔ حافظ ابن حجر گفتہ سند ایں ہر دوحدیث ضعیف است۔ اگر ثابت شود محمول باشد برمبالغہ نہ بر تحدید واما تحدید۔ پس اخراج کرد احمد ازحذیفہ بسند جید کہ باشنددر امت من کذابان دجالان بست وہفت۔ آز آنہا چارزن باشند ومن خاتم النّبیین ام۔ نیست بعد از من نبی۔ وایں دلالت دارد برآنکہ روایت ثلاثین بجزم برطریق جبر کسراست ومویٔد اوست روایت بخاری کہ عنقریب گزشتہ۔‘‘

(حجج الکرامہ ص۲۲۳)

اس حوالہ سے مندرجہ ذیل امو ر ثابت ہوتے ہیں۔

۱… کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ وہ حدیثیں جن میں ۷۰کذابوں کی خبر آئی ہے وہ ضعیف ہیں۔

۲… اگر صحیح بھی ہوں تو یہ اصل تعداد نہیں سمجھی جائے گی بلکہ اسے مبالغہ پر محمول کیا جائے گا۔ (نیز اس میں نبوت کے دعویٰ کی شرط نہیں ہے)

۳… اصل تعداد کذابوں کی ۲۷ ہے جو مسند امام احمد میں عمدہ سند سے بیان ہوئی ہے۔

۴… بخاری کی حدیث کے الفاظ کہ ۳۰ کے قریب کذاب ہوں گے۔ اس کے مویٔد ہیں کہ اصل تعداد کذابوں کی ۲۷ہے۔

ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ ۳۰ کذابوں کی پیش گوئی پوری ہوچکی ہے اور اب سچے نبی کی آمد کا وقت ہے۔ کیونکہ صبح کاذب کے بعد صبح صادق کے طلوع کا وقت ہے۔

اجما ع کی بحث

یہ کہنا کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے۔وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔ اس پر صحابہi ، تابعین اور تمام امت کا اجماع ہے، صحیح نہیں ہے۔

248

جیسا کہ میں خاتم النّبیین کی تفسیر میں صحابہ کرام اورائمہ کے اقوال پیش کر چکاہوں۔ جن میں بصراحت ذکرہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد صاحب شریعت جدیدہ نبی کاآناکہا ہے اور علماء نے اس بات کو تسلیم کیاہے۔

اجماع کا انکار کرنے والا بلکہ اس اجماع صحابہ کا جس پر تمام صحابہ نے متفق ہو کر کہا ہوکہ ہم یہ بات مانتے ہیں یا قرار دیتے ہیں جیسا کہ (نورالانوار شرح المنارص۱۸۹) میں لکھاہے:’’اجماع الصحابۃ نصاً مثل ان یقولوا جمیعا اجمعنا علی کذا فانہ مثل الاٰیۃ والخبر المتواتر حتی یکفر جاحدہ ومنہ الاجماع علی خلافۃ ابی بکر الصدیق ثم الذی نص البعض وسکت الباقون من الصحابۃ وھو المسمٰی بالاجماع السکوتی ولایکفر جاحدہ‘‘ کہ سب سے زیادہ قوی اجماع صحابہ کا ہے وہ سب متفق ہو کر کہیں کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا۔ وہ آیت اور خبر متواتر کی طرح یقینی ہے اور اس کا منکر کافرہے۔ حضرت ابوبکر صدیقq کی خلافت میں اس قسم کا اجماع ہوا۔ دوسری قسم اجماع کی یہ ہے کہ بعض صحابہ نے اتفاق کا اظہار کیا لیکن دوسرے خاموش رہے۔ اس کا نام اجماع سکوتی ہے اور اس کا منکرکافرہے۔

صحابہi کے اجماع کی تعریف جس کا منکر کافرہے۔ قطعاً کسی قول سے ثابت نہیں کہ صحابہi نے کسی جگہ پر جمع ہوکر اس اتفاق کا اظہار کیا ہو۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کاکوئی نبی نہیں آسکتا۔ جو بھی نبوت کا دعویٰ کر ے وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔ بعض علماء کا یہ کہنا کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں، ہر گز حجت نہیں۔ جیسا کہ ارشادالفحول میں لکھا: ’’زعم قوم… قولا قال‘‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی عالم یہ کہہ دے کہ اس مسئلہ میں سب متفق ہیں اور اس میں کوئی خلاف ہیں تو وہ اجماع ہوگا۔ یہ ایک باطل قول ہے۔ مصنف ارشاد الفحول نے اپنے اس دعویٰ کی تائید میں چند مثالیں دی ہیں۔ چنانچہ لکھاہے کہ جس طرح اما م شافعی نے گائے کی زکوٰۃ میں یہ حکم لگاتے ہوئے کہ ۲۰ سے کم میں تبیع ( ایک برس کا بچھڑا) نہیں ہے۔ کہا ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ حالانکہ اس میں خلاف مشہورہے۔

اور اسی طرح امام مالک نے رد قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے کے متعلق لکھاہے: ’’وھذا مما لاخلاف فیہ بین احد من الناس ولا بلد من البلدان والخلاف فیہ شھیر‘‘ یہ مسئلہ ایسا ہے جس میںکسی شہر میں اختلاف نہیں ہے۔ حالانکہ اس میں اختلاف ہے۔ وہ بہت مشہورہے۔ حضرت عثمانq رد یمین کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور انکار پر فیصلہ کر دیتے تھے۔ اس طرح حضرت ابن عباسq اور حکم تابعی وغیرہ اور ابن ابی لیلیٰ اور حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب جو اپنے وقت کے قاضی تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جب اتنے اتنے بڑے مقتدر علماء پر لوگوں کا اختلاف مخفی رہ سکتاہے تودوسروں کا، جوان سے رتبہ سے کم ہیں۔ یہ کہہ دینا کہ اس میں کوئی خلاف نہیں، حجت نہیں ہو سکتا۔ حوالہ مذکورہ بالا (ارشادالفحول ص۸۵) پر ہے۔ اس کتاب کا مصنف نواب صدیق حسن خان صاحب ہے۔

اب تواتر معنوی کے متعلق کتاب (مسلم الثبوت ج۲ ص۱۷۱) میں لکھاہے: ’’واستبعد الامام الرازی التواتر المعنوی سیما علی حجیتہ‘‘ کہ امام رازی نے تواتر معنوی کو مستبعد سمجھاہے۔ خصوصاً اس کے حجت ہونے کو چہ جائیکہ اس کے منکر کو خارج از اسلام اور مرتد قرار دیاجائے۔

لہٰذا جب احادیث سے صحابہ کرامi کا اجماع ان معنوں پر جو ثابت نہیں تو پھر ان معنوں کے اجماع کا دعویٰ کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ (مسلم الثبوت ج۲ ص۱۷۱) پر لکھاہے: یہود نے اس بات پر اجماع کیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ پس یہ بھی اجماع باوجود ان امور کے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں ویسا ہی ہوگا کہ یہود نے اس بات پر اجماع کیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

249

ضروری تھا کیونکہ سید ولد آدم سرور انبیاءa فرما چکے ہیں کہ میری امت بھی یہود کے قدم بقدم چلے گی اور یہود سے پہلے بھی حضرت یوسفm کی وفا کے بعد اس قسم کا اجماع ہواتھا کہ کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔

(سورہ مومن:۳۴) ’’حتی اذاھلک قلتم لن یبعث اﷲ من بعدہ رسولا‘‘ اس واقعہ کو حقیقتاً قرآن مجید میں بیان فرمایاگیاہے۔ پس جس طرح پہلے بعض لوگوں نے اﷲتعالیٰ کی نعمتوں کا دروازہ بند کرنا چاہا اور وہ حق پر نہ تھے۔ اسی طرح پر جو کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد اﷲتعالیٰ نے روحانی نعمتوں کا دروازہ بند کرنا چاہاا ور وہ حق پر نہ تھے۔

علماء دیوبند نے ایک دعویٰ یہ کیاہے کہ مسیلمہ کذاب اور طلیحہ اسدی وغیرہ سے صحابہ نے جوقتال کیا، اس لئے کیا گیا۔ اس کی وجہ محض مسیلمہ کذاب اس کی بغاوت اور اسلامی حکومت کا مقابلہ اور خود بادشاہ بننا تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب وہ مدینہ میں آیا تو اس نے حضرت رسول مقبولa کے حضور مسلمان ہونے اور حضورﷺ کی اتباع کرنے کے لئے یہ شرط پیش کی کہ آپ اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کریں تو میں آپ کی اتباع کروں گا۔ حضورﷺ نے اسے منظورنہ کیا اور جلال آفرین لہجہ میں فرمایا کہ اگرتو کھجور کی ٹہنی بھی جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے طلب کرے تو نہیں دوں گا۔ اس کے بعد اس نے واپس جا کر آنحضرتﷺ کو ایک خط لکھا ملاحظہ ہو۔

( حجج الکرامہ ص۲۳۰تاریخ الخمیس ج۲ ص۱۷۵)

اس امیری میں آپ کے ساتھ شریک ہوگیاہوں۔ پس آدھا ملک ہمارا اور آدھا آپ کی قوم قریش کا ہوگا۔ حضور نے جواب دیا کہ ملک سارااﷲ کاہے۔ جسے چاہے دے اور انجام متقیوں کا اچھاہے۔

اس کے بعد مسیلمہ نے ایک باغیہ عورت (سجاح) اپنے ساتھ ملاکر مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کا ارادہ کیا۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے آویزش شروع کردی۔ چنانچہ دومدنی صحابیوں کو جو اتفاقاً اسے راستے میں مل گئے تھے، اپنی نبوت کے ماننے پر مجبور کیا۔ ایک تو ان میں سے مرتد ہوگیا۔ لیکن دوسرے صحابی نے اسے نہ مانا۔ اس پر اس نے ان کے تمام اعضاء کاٹ کر آگ میں جلادئیے۔ جس پر مسلمانوں سے اس کی لڑائی ہوئی۔

پس مسیلمہ کذا ب پر لشکر کشی محض دعویٰ نبوت کی وجہ سے نہیں کی گئی بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی بادشاہت قائم کرنا چاہتاتھا اور اپنے آپ کو بادشاہ قراردیا۔

اسی طرح طلیحہ کا واقعہ (طبری ج۴ ص۱۹۰۰ اور تاریخ الخمیس ص۲۴۱ ) میں درج ہے۔ پس طلیحہ کی وجہ قتل بھی اس کی سرکشی اور بغاوت تھی۔ اسی طرح اسود عنسی مدعی نبوت کاذبہ کے ساتھ بھی جنگ کی گئی۔ اس نے بھی مرتد ہوتے ہی علم بغاوت بلند کیا تھا۔ اس کا حوالہ حجج الکرامہ طبری اور تاریخ خمیس میں ہے۔ اس نے آنحضرتﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ لیکن اپنی غرض پوری ہوتے نہ دیکھ کر حضور کی زندگی میں ہی مرتد ہوگیا اور سیمرا مقام کو اپنی قیام گاہ بنایا اور اس جگہ اس نے ایک کافی لشکر اپنے گرد جمع کرلیا۔ حتیٰ کہ حضور کی وفات کے بعد تین قبیلے غطفان، ہوازن اورطے اس کے ساتھ مل گئے۔ جب شہر مدینہ پر چھا پا ماراگیا تو چھاپہ مارنے والوں کے دو حصے تھے۔ ایک ابرق میں مقیم تھا اور دوسرا ذی القصہ میں۔ اس دوسرے حصہ پر طلیحہ نے اپنے بھائی کو سالار لشکر بنا کر بھیجاتھا۔ عبس وذبیان کو جب حضرت ابوبکرq نے مدینہ کے پاس شکست دی تویہ بھی اس کے ساتھ مل گئے اور پھر ان تمام قبائل نے مسلمانوں کو سخت تکلیفیں دیں۔ بعض کو زندہ جلا دیا اور بعض کے کان ناک اور ہاتھ کاٹ دئیے۔

250

چنانچہ طبری ج۴ ص۱۹۰۰ میں لکھا ہے: ’’ولم یقبل (خالد بعدھزیمتھم) من احد من اسد وغطفان ولاھوازن ولا سلیم ولا طیٔ الا ان یاتوہ بالذین حرقوا ومثلوا وعدو اعلٰی اھل الاسلام فی حال ردتھم‘‘

پس طلیحہ بن خویلد الاسدی سے جنگ کی وجہ اس کی سرکشی اور بغاوت تھی۔

اسی طرح اسود عنسی مدعی نبوت کاذبہ سے جو جنگ کی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے مرتد ہوتے ہی علم بغاوت بلند کردیا۔ آنحضرتﷺ کی طرف سے جو عاملین صدقات مقررتھے انہیں تنگ کیا۔ ان سے ان صدقات کا جو وہ وصول کر چکے تھے، واپسی کا مطالبہ کیا۔ عمال ابھی تردد میں تھے کہ اس نے قبائل مذحج ونجران کو ساتھ لے کر مسلمانوں کے حاکم والی یمن شہر بن باذان پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا۔ اس کی بیوی کو جبراً اپنے عقد نکاح میں لے کر یمن کا حکم بن بیٹھا۔ آنحضرتﷺ نے اس بغاوت اور کشت وخون کی خبر سن کر حضرت معاذ بن جبل کوخط لکھا کہ اسود عنسی کا مقابلہ کرو چنانچہ شہر بن باذان کی بیوی کی مدد سے مسلمانوں نے اسے قتل کردیا۔

پس ان مدعیان نبوت سے صحابہi کا مقاتلہ کرنا بغاوت کی بناء پر تھا نہ کہ انہوں نے اجماع کیاتھا کہ جو بھی مدعی نبوت ہو، اسے قتل کردیاجائے۔ خواہ وہ سچا مسلمان، متقی، دیندار، اسلام کی اشاعت کرنے والا اورآنحضرتa کا فدائی ہو۔

اس بات کا ایک مزید ثبوت یہ بھی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ابن صیاد کو جونبوت کا مدعی تھا، قتل نہیں کیا۔ حالانکہ اس نے حضورﷺ کی رسالت کی عمومیت سے انکار کرتے ہوئے۔ آپ پر اپنی نبوت کو کیا پیش کیا اور کہا: ’’اتشہد انی رسول اﷲ‘‘پھر حضورﷺ نے فرمایا: میں تو خدا اور اس کے تمام رسولوں کو مانتاہوں۔ پھراس سے بہت سی باتیں کیں۔ پس اگر مدعی نبوت کو قتل کردینے کا حکم اسلام میں ہوتا تو آنحضرتﷺضرورابن صیاد کو قتل کرادیتے۔ ابن صیاد کے متعلق کتب احادیث میں ایک علیحدہ باب ہے۔ یہ کہنا کہ وہ اس وقت نابالغ اور غیرمکلف، تھا صحیح نہیں۔ کیونکہ اگر وہ غیر مکلف تھا تو حضورنے اپنی رسالت اس پر کیوں پیش کی اور کیوں حضرت عمر نے اس کے قتل کی اجازت چاہی۔

کتاب المساوی والمحاسن للبیہقی سے دد جھوٹے مدعیان نبوت کے واقعہ کو پڑھ کر یہ نتیجہ نکال لائے کہ گویا ہر مدعی نبوت کی سزا قتل ہے، صحیح نہیں ہے۔ ان دو مدعیان نبوت کا اصل واقعہ جو اس کتاب کے ص۱۲۴ ج اوّل میںدرج ہے، اس طرح یہ الفاظ مندرجہ ذیل سے شروع ہوتاہے: ’’وفیہم رجلا… مواقتھا ‘‘ دوسرا واقعہ الفاظ ذیل سے شروع ہوتاہے۔ ’’رجل زعم انہ نوحٌ… سنھہ‘‘

جس شخص نے دعویٰ نبوت کیا اس سے جب دلیل طلب کی گئی تو اس نے یہ دلیل پیش کی کہ تم اپنی ماں کو میرے پاس لائو میں اس سے جماع کروں گا۔ اس وقت وہ حاملہ ہوجائے گی اور تجھ جیسا ایک لڑکا دے گی۔ اس پر ثمامہ نے کہا تجھے نبی مان لینا میرے لئے زیادہ آسان ہے۔

دوسرے واقعہ میں مدعی نبوت نے نوح ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ پہلا نبی نوح ہے۔ جس نے ساڑھے نو سوسال پہلے پورے کئے اور اب باقی پچاس سال پورے کرنے آیا ہے۔ اس کتاب میں علماء کے متفقہ فیصلہ کا ذکر نہیں اور نہ یہ ذکر ہے کہ ہارون نے علماء کے متفقہ فیصلہ سے اسے قتل کیا۔

اس دعویٰ کی تائید میں قرآن مجید کی کوئی آیت پیش نہیں کی کہ جھوٹے نبی مدعی کو قتل کیا جائے اور یہ کہا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے مدعی کو آیت ’’خاتم النّبیین‘‘ کا منکر ماننا پڑتاہے۔ اس لئے اس کی سزا قتل ہے تو اس سے لازم ہے کہ جو سارے قرآن مجید کے منکرہیں۔ ان

251

کی سزا بذریعہ اولیٰ قتل ٹھہرے اورآیت خاتم النّبیین میں قتل کرنے کاکوئی ذکر نہیں مسیلمہ کذاب کی نبوت، اسلام کے بالکل مخالف تھی اور اس نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور شراب اور زنا کو حلال قراردیا اور فریضہ نماز کو ساقط کردیا۔ قرآن مجید کے مقابلہ میں سورتیں لکھیں۔ پس شریر اور مفسد لوگوں کا ایک گروہ اس کے تابع ہوگیا۔

اسی طرح جب خالد بن ولیدr طلیحہ کی طرف لشکر لے کر گئے توا نہوں نے اس سے کہا: ہمارے خلیفہ کی ہمیں یہ وصیت ہے کہ تمہیں کلمہ شہادت کی طرف بلائیں تو اس نے جواب میں کہا: اے خالد! ’’اشھدان لاالہ الااﷲ وانی رسول اﷲ ‘‘ کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ گویا اس نے اپنا نیا کلمہ جاری کیا تھا۔(المساوی والمحاسن ج۱ ص۲۳) پس جس قسم کی نبوت کا مسیلمہ کذاب نے دعویٰ کیا۔ ایسا مدعی نبوت بے شک آنحضرتﷺ کے بعد نہیں آسکتا اور نہ سچا نبی ہوسکتاہے۔ حضرت مرزاصاحب جس نبوت کے مدعی ہیں وہ ایسی نبوت کے مدعی نہیں بلکہ وہ توایسی نبوت کے مدعیوں پر لعنت بھیجتے ہیں جو آنحضرتﷺ کی غلامی اور اطاعت سے باہرہوں۔ آپ تو حضرت رسول مقبولa کے ایسے عاشق اور فدائی ہیں کہ فرماتے ہیں ؎

  1. بعد از خدا بعشق محمدa مخرم

    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

جب مسیلمہ کذاب وغیرہ کے ادّعائے نبوت کی حقیقت معلوم ہوگئی تو ہمیں ان علماء کے متعلق سمجھ لینا چاہئے جنہوں نے آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا انکار کیاہے۔ ان کی مراد اسی قسم کا نبی ہے جو ناسخ شریعت محمدیہ اور مسیلمہ کذاب کی طرح ہو۔ چنانچہ جو اقوال علماء کے پیش کئے جاتے ہیں، علماء خفا جی کا قول، تفسیر ابن کثیر، غنیہ الطالبین کے اقوال موجود ہیں کہ جس نبوت کا علماء نے بند ہوجانا بیان کیا ہے، حافظ ابن کثیر وغیرہ نے باربار مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی مثال دی ہے۔ جنہیں اسلام سے سخت عناد تھا۔

اور ملّا علی قاری نے اگر آنحضرتﷺ کے بعد نبی آنے کا انکار کیاہے تو دوسری جگہ اپنی کتاب موضوعات کبیر میں اس کی تشریح کردی ہے۔ ان کی مراد ا س سے وہ نبی ہے جو آنحضرت کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔ پس یہ واضح دلیل ہے اس بات کی کہ جہاں انہوں نے انکارکیاہے۔ وہاں ایسا نبی مراد لیاہے جو آنحضرتﷺ کی ملت کو منسوخ کرے اور مسیلمہ کذاب کی طرح باغی، سرکش، فاجر دشمن اسلام ہو اور ایسی نبوت کو ہم بھی آنحضرتﷺ کے بعد منقطع اور بند سمجھتے ہیں،جیسا کہ ہمارے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔

غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرتﷺ کے ذاتی فیض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اﷲ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بے دین ہے۔ غالباً ایسا شخص اپنا کوئی کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں تغیر وتبدل پیدا کرے گا۔ پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافرہونے میں کچھ شک نہیں۔

(انجام آتھم حاشیہ ص۲۷،۲۸، خزائن ج۱۱ ص۲۷،۲۸)

آنحضرتﷺ سے قبل جو انبیاء آئے، ان کے متعلق امام عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں: ’’فرشتہ کے سامنے شاگردوں کی مانند ہوا کرتے تھے اور روح الامین ان کے پاس شریعت لاتا تھا۔ جس کے مطابق وہ عبادت وغیرہ کرتے تھے۔‘‘(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۲۸) کہ وہ فرشتہ ان کے لئے جو چاہتا حلال کرتا اور جو چاہتا حرام کرتااور ان پر دوسرے رسولوں کی اتباع لازم نہیں تھی۔

اور (نبراس ص۸۹) میں رسول کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ رسول ایک انسان ہے۔جسے اﷲتعالیٰ احکام شرعیہ کی تبلیغ کے لئے بھیجتاہے۔ بخلاف نبی کے کہ وہ عام ہے ،کتاب لائے یانہ لائے۔ رسول کے لئے کتاب کا لانا شرط ہے۔

252

مولانا محمد اسماعیل شہید دہلوی (منصب امامت ص۸) پر لکھتے ہیں: ’’باید دانست کہ انبیاءؑ مامور میشوند بہ تبلیغ احکام بسوئے خواص وعام… کہ از جانب حق جل وعلا بطریق وحی یا الہام امر تبلیغ احکام بایشاں برسد۔‘‘

اسی طرح رسول کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے: ’’رسول وہ ہوتاہے جو صاحب کتاب ہویا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرے۔‘‘

چنانچہ اس تعریف کے ماتحت حضرت مسیح موعود نے اپنے اس قسم کے نبی ہونے سے انکار کیاہے۔ مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے۔ براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔ کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجز محمد مصطفیa کے نہیں ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص۱۲۵، انوار العلوم)

پس حمامۃ البشریٰ اورازالہ اوہام میں جہاں مسیح موعود نے لکھاہے کہ آنحضرت کے بعد وحی رسالت بندہے اور خاتم النّبیین کے بعد رسول نہیں آسکتا۔ اس قسم کے تمام حوالوں کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جس میں ان تین باتوں میں سے کوئی بات پائی جائے یا(۱)وہ جدید شریعت لائے۔ (۲)یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرے۔ (۳)یا بلاواسطہ نبوت پائے۔ کیونکہ آپ میں یہ تینوں باتیں پائی جاتیں۔ اس لئے آپ نے حمامۃ البشریٰ اور ازالہ وہام میں اپنے نبی ہونے سے انکار کیا اور فرمایاکہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں ہوگا۔ (حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰،۲۰۱) سے جو عبارت پیش کی گئی ہے کہ رسولﷺ کا نام آپ نے خاتم الانبیاء بغیر استثناء رکھاہے تو اس سے مراد ویسا ہی نبی ہے کہ جس کا ذکر اوپر کی تعریف میں آچکاہے۔ اس جگہ ان لوگوں کا جواب دے رہے ہیں جو مسیح ناصری کی آمد کے قائل ہیں۔

چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ’’کیا ہم اعتقاد رکھیں کہ عیسیٰؑ جن پر انجیل اتری وہ خاتم الانبیاء ہیں نہ کہ رسول اﷲa۔ کیاہم اعتقاد رکھیں کہ ابن مریم آئیں گے اور قرآن مجید کے بعض احکام منسوخ اور بعض زائد کردیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے اور نہ لڑائی چھوڑیں گے۔ حالانکہ اﷲتعالیٰ نے جزیہ لینے کا حکم اور جزیہ لے کر لڑائی چھوڑ دینے کا حکم آیت: ’’حتی یعطو الجزیۃ عن یدو ھم صاغرون‘‘ میں دیاہے۔ مجھے تعجب آتاہے کہ کیسے یہ مسیح کو بعض احکام کا ناسخ مانتے ہیں۔ آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ میں غور نہیں کرتے۔ اس سے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید ابھی کامل نہیں ہوا بلکہ مسیح موعودکے زمانہ میں کامل ہوگا۔ یہ قول کتاب (حمامۃ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰،۲۰۱) پر عربی میںہے۔ میں نے اس کا ترجمہ بتلایاہے۔

اور (ازالہ اوہام ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۷) میں لکھا ہے: ’’اگر واقعی اور حقیقی طور پر مسیح ابن مریم کا نزول ہونا خیال کیاجائے تو ان پر نئی کتاب کا نزول ماننا پڑے گا اور تمام اجزائے شریعت اور جزیہ وغیرہ کی منسوخ کا حکم بوجہ اس کے کہ وہ مستقل رسول تھے۔ ان پر بذریعہ جبرئیل نازل ہوں گے توظاہر طورپر اس نئی کتاب کے اترنے سے قرآن شریف، توریت وانجیل کی طرح منسوخ ہوجائے گا۔ پس جہاں کہیں آپ نے نبوت یا رسالت کے بند ہونے کا اقرار کیاہے تووہ مذکورہ بالا اصلاح کی رو سے ہے۔

چنانچہ آپ کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰،۲۱۱) میں لکھتے ہیں کہ: ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیاہے۔ صرف ان معنوں سے کیاہے کہ میں مستقل طورپر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پرنبی ہوں۔ مگر ان

253

معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول ومقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایاہے۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طورکا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدانے مجھے نبی اور رسول کر کے پکاراہے۔‘‘

پس آپ نے خاتم النّبیین کے معنی عام دوسرے علماء کی طرح یہ کئے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو وہاں اسی عام اصطلاح کے ماتحت کئے ہیں اور اس لحاظ سے صرف مسیح موعود اورآپ کی جماعت آنحضرتﷺ کو آخری نبی مانتی ہے۔ یعنی آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت جدیدہ نبی نہیں آئے گا۔ دوسرے معنی ’’خاتم النّبیین‘‘ کے جو یہ کئے ہیںکہ آپ کے بعد نبی آسکتا ہے تو وہ اس مضمون کے لحاظ سے جو کتاب ایک غلطی کا ازالہ کی عبارت میں درج ہے۔

پس آپ پریہ الزام عائد نہیں ہوسکتا کہ آپ پہلے ’’خاتم النّبیین‘‘ کے یہ معنی کرتے تھے کہ آپ کے بعد نبی نہیں آسکتا اور بعد میں دوسرے کئے۔ کیونکہ دوسرے معنوں کے لحاظ سے آپ نے نبوت کا کبھی انکار نہیں کیا۔ آپ نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ آپ کو بلاواسطہ نبوت نہیں ملی، بلکہ آپ کی غلامی میں یہ مرتبہ ملاہے۔ ظلی،بروزی کی اصطلاحیں قائم کیں۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدیa سے فیض پانا۔ وہ قیامت تک باقی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)

ًًً’’میری نبوت آنحضرتﷺ کی ظل ہے۔ یعنی ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرتﷺ کے اتباع اورآپ کے ذریعہ سے ملاہے۔‘‘

( حاشیہ حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

’’جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرتﷺ کی پیروی سے پایاہے، نہ براہ راست۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ حاشیہ ص۹، خزائن ج۲۰ ص۴۰۱)

میری مراد اس نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذباﷲ!آنحضرتa کے مقابل پر کھڑاہوکر نبوت کا دعویٰ کرتاہوں یاکوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمہ ومخاطب الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ جس مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں، پس یہ صرف لفظی نزاع کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتاہو اور ہر ایک شخص ایک اصطلاح قائم کرسکتاہے۔‘‘

پس اصطلاحوں کا قائم کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں ہے اور خود محدثین نے احادیث کے لئے اصطلاحیں قائم کی ہیں۔ جیسے غریب، مشہور، متواتروغیرہ۔ پس اگر بروز اورظل وغیرہ کا پہلی کتابوں میںبالکل ذکرنہ ہوتاتب بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ دوسری کتابوں میں اس کا ذکرکیاپایاجاتاہے۔ ’’خدانے مجھے نبی اور رسول کر کے پکاراہے۔‘‘

پس آپ نے خاتم النّبیین کے معنی عام دوسرے علماء کی طرح کئے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

’’اٹھارہواں مراقبہ مسئلہ بروز اور تمثل کے بیان میں بعض نایافتگی سے اس کو بھی تناسخ کہتے ہیں۔‘‘ عبارت ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔

واضح ہو کہ بروز ایک عبارت ہے اور یہ اعلیٰ قسم بروز کاہے اور کتاب (اشارات فریدی حصہ دوم ص۱۱۰تاص۱۱۲)پر بروز کے متعلق بحث ہے۔

254

کتاب (تریاق القلوب ص۱۵۵، خزائن ج۱۵ ص۴۷۷) کی عبارت کے مطابق جیسا کہ صوفیوں کے نزدیک ماناگیاہے۔ جنم لیا اور محمد کے نام سے پکاراگیا۔ اس پر یہ اعتراض کرنا کہ جنم کا لفظ ہندوئوں کا ہے، اس کا استعمال کفرہے۔ اس طرح تواردو میں سنسکرت کے بہت سے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ جیسا’’سوراج‘‘ اور ’’سیتہ گرہ‘‘ وغیرہ اور یہ کفر نہیں ہیں۔ اگر کہا جائے کہ اس سے بندوں کا عقیدہ تناسخ ثابت ہوتاہے تو یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اسی عبارت میں آپ نے جنم لینے سے مراد۔خو۔ طبیعت اور دلی مشابہت لی ہے۔ یہ مطلب نہیں لیا کہ آنحضرتﷺ کی پیدائش حضرت ابراہیمm ہی کی پیدائش تھی۔ چنانچہ آپ نے جس بات پر یہ حاشیہ لکھاہے۔ وہاں مراتب وجود دوریہ کی تفسیر یہ کی ہے۔

لکھتے ہیں: ’’یعنی بنی نوع انسان میں سے بعض بعض کی خواور طبیعت پر آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ پہلی کتابوں سے ثابت ہے کہ ایلیاء، یحییٰ نبی خوا ورطبیعت پر آگیا اور جیسا کہ ہمارے نبیa حضرت ابراہیم کی خو اور طبیعت پر آئے۔ اسی سر کے لحاظ سے یہ ملت محمدa ابراہیمی ملت کہلائی۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۵، خزائن ج۱۵ ص۴۷۵، ۴۷۶)

چنانچہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’اما ابراہیم فانظرو…الخ!‘‘ کہ ابراہیم کو دیکھنا ہو تو تم میری طرف دیکھ لو۔ (بخاری ج۲ ص۱۵۶) اس طرح فرمایا کہ مجھے اﷲتعالیٰ نے اس طرح خلیل بنایاہے۔ جیسا کہ ابراہیم کو بنایاہے اور حضرت مسیح موعود کے تناسخ کے مسئلہ کا رد اپنی متعدد کتب ’’سرمہ چشم آریہ‘‘و ’’چشمہ معرفت‘‘ وغیرہ میں زبردست دلائل سے کیاہے۔ (چشمہ معرفت ص۱۱، خزائن ج۲۳ ص۱۹) پر فرماتے ہیں کہ: ’’حیوانات کی طاقتوں اور قوتوں کے تفاوت کا سبب تناسخ اور آواگون کو قرار دینا خدا ئے حکیم کے علم اورست ودّیا کو ضائع کرنا ہے اور اس کی وحدت نظامی کو درہم برہم کرنا ہے۔‘‘

تریاق القلوب کا جوحوالہ کہ مہدی موعود ختم الاولاد ہے کہ آگے لکھا: ’’اس کے خاتمہ کے بعد نسل انسانی کوئی کامل فرزند پیدا نہیں کر ے گی۔ باستثناء ان فرزندوں کے جو اس کی حیات میں ہوں۔‘‘

اہل کشف کی یہ عبارت لکھ کر مرزا صاحب آگے لکھتے ہیں: ’’مسیح موعود کا زمانہ اسی حدتک ہے جس حد تک اس کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والے اوریا پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دنیامیں پائے جائیں اور اس کی تعلیم پر قائم ہوں گے۔ غرض قرون ثلاثہ کا ہونا برعایت منہاج نبوت ضروری ہے۔‘‘

(تریاق القلوب حاشیہ ص۱۵۶، خزائن ج۵ ص۴۷۷، ۴۷۸)

اورخطبہ الٰہامیہ میں آپ نے خاتم الاولیاء کے یہ معنی کئے ہیں کہ میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا۔ مگروہی جو مجھ سے اور میرے طریقہ پر ہوگا۔ پس ’’خاتم النّبیین‘‘ کے یہ معنی ہوئے کہ کوئی نبی بعد خاتم النّبیین امت محمدیہ سے اور آنحضرتﷺ کے اتباع سے باہر نہ ہوگا۔

(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰)

فریق مخالف نے حضرت مسیح موعود کو صاحب شریعت جدیدہ نبی ثابت کرنے کے لئے پہلا حوالہ دافع البلاء کا پیش کیاہے۔ جس میں انہوں نے اپنے لئے حضور کا لفظ لکھاہے۔ لفظ رسول سے صاحب شریعت جدیدہ ہوناثابت نہیں ہوتا بلکہ دافع البلاء میں ہے۔ براہین احمدیہ سے اپنی وحی کے الفاظ نقل کر کے لکھاہے: ’’تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ پاک دل لوگ اس کی حقیقت سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریںاور کیوں کر اس کو ناکامل سمجھیں۔آج آسمان کے نیچے بجز فرقان حمید کے اور کوئی کتاب نہیں۔‘‘

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۹،۲۴۰)

255

دوسراحوالہ: انہوں نے (ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰،۲۱۱) پیش کیاہے۔ اس میں بھی آپ نے بصراحت فرمایاہے کہ: ’’نبوت سے میری مراد یہ نہیں کہ مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا یامستقل نبی ہوں۔ بلکہ ان معنوں سے نبی ہوں کہ میں نے اپنے رسول ومقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف علم غیب پایاہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی تیسراحوالہ (حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴) سے پیش کیاگیا۔ ’’مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘

پھر اس کے متعلق حاشیہ میں فرماتے ہیں: یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کردھوکا کھاجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیاہے جو پہلے زمانہ میں براہ راست نبیوں کو ملی۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتﷺ کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشاہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

تیسرا حوالہ: جو مدعی شریعت ثابت کرنے کے لئے پیش کیا گیایعنی کہ آپ نے اپنی وحی پر ایمان لانے کا اظہار اسی طرح کیا ہے جس طرح وحیوں پر۔ اس سے بھی یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود نے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ بلکہ صرف اتنا ثابت ہوتاہے کہ آپ اپنی وحی کے منجانب اﷲ اور اس کے دخل شیطانی اور خطاء سے پاک ومنزہ ہونے پر یقین کامل کا اظہار کررہے ہیں اور یہ اس بات کو مستلزم نہیں کہ آپ صاحب شریعت جدیدہ کے مدعی ہیں۔ مولانا روم فرماتے ہیں ؎

  1. وحی دلگیرش کہ منظر کہ گاہ اوست

    چوں خطا باشد کہ دل آگاہ اوست

(مثنوی دفتر چہارم ص۱۵۱)

پس وہ وحی جسے اولیاء اﷲ وحی قلب کہتے ہیں اس میں بھی خطاء نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ انبیاءؑ کی وحی میں خطاء متصور نہیں۔ پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے مقابلہ میں پیش کیاہے۔

اس کی مثل قرار دیاہے۔ حالانکہ آپ نے یہ نہیں لکھا کہ میری وحی شرعی اور قرآن کی مثل ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:خدا کی لعنت ان پر جویہ دعویٰ کریں کہ وہ قرآن کی مثل لا سکتے ہیں۔ قرآن کریم سراپا معجزہ ہے۔ جس کی مثل کوئی انس وجن نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اورخوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم ہر گز جمع نہیں کرسکتا۔ بلکہ وہ ایسی پاک وحی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی وحی نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ رحمان کی طرف سے اس کے بعد اوربھی کوئی وحی ہو اور خداتعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی۔ ایسی کسی پر نہ پہلے ہوئی اور نہ کبھی آئندہ ہوگی۔

(الہدی ص۳۲، خزائن ج۱۸ ص۲۷۶)

چوتھا حوالہ: حضرت مسیح موعود کو مدعی شریعت جدیدہ ثابت کرنے کے لئے (اربعین۴ص۶ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) میں اپنی وحی تعلیم اور بیعت کومدار نجات ٹھہرایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے شریعت محمدیہﷺکو منسوخ قراردیا۔ جو شخص حضرت مسیح موعود کی اس عبارت پر غور کرے گا، اس پر صاف ظاہر ہوجائے گا کہ آپ کی جووحی اور تعلیم ہے، وہ وہی تعلیم ہے جو عین قرآن مجید اور اسلام کی ہے۔پھر اس کو کیوں مدارنجات نہ ٹھہرایاجاوے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے موجودہ والٔسرائے دعویٰ کریں۔ اگر تم حکومت برطانیہ کے وفادارہو تو میرا حکم مانو۔ کیونکہ اس وقت میں حکومت کی طرف سے تم پر مامورکیاگیا ہوں۔ اگر تم میرا حکم نہیں مانو گے اور سول نافرمانی کروگے تو جیل خانہ بھیج دئیے جائو گے اور سزا سے تم ہر گز نجات نہیں پاسکتے۔

256

اور یہی بات حضرت صاحب نے اس حاشیہ میں لکھی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اوروحی کو جو مجھ پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیاہے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میری وحی کوئی نئی شریعت ہے یا میری وحی ناسخ شریعت محمدیہﷺہے۔ بلکہ فرمایاہے کہ شریعت محمدیہ کے ہی بعض ضروری احکام کی تجدید ہے اورجس عبارت پر یہ حاشیہ دیاگیاہے۔ اس میں جس حکم کا ذکرکیاگیا ہے وہ یہ ہے: ’’قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکیٰ لھم (نور:۳۰)‘‘

یعنی تو اپنی جماعت کے مومنین سے کہہ دے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ قرآن مجید کی ایک مشہور آیت ہے جو آپ پر وحی ہے۔ اس میں کوئی نئی تعلیم اور نیا حکم نہیں ہے بلکہ وحی قرآن مجید کی تعلیم ہے۔ چونکہ آپ اس زمانہ میں مامور من اﷲ ہیں۔ اس لئے تجدید کے طورپر خدا نے آپ کو یہ الہام کیا۔ اس جدید شریعت کا ادّعا لازم نہیں آتا۔ قرآن مجید کی بیسیوں آیتیں دوبارہ امت محمدیہ کے اولیاء اﷲ پر نازل ہوتی ہیں اور اس طرح حضرت مسیح موعود پر بھی اورانہی کے متعلق حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میری وحی میں’’ امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘

اور ظاہر ہے کہ جب آپ کی تعلیم اور وحی قرآن مجید کی تعلیم پر مشتمل ہوئی تو اس پر ایمان لانا قرآن مجید اور آنحضرتﷺ کی تصدیق ہوئی اورآپ کا یہ فرمانا بالکل درست ٹھہرا کہ لوگوں کے لئے آپ کی تعلیم اور بیعت مدارنجات ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ

فریق مخالف نے (الیواقیت ج۲ ص۴۳) سے ایک حوالہ فتوحات مکیہ کا پیش کیاہے کہ: ’’اگر کوئی اوامر اور نواہی کے نزول کا دعویٰ کرے چاہے وہ ہماری شریعت کے موافق ہوں یا مخالف۔ اگر وہ مکلف ہوگا تو ہم اس کی گردن اڑادیںگے۔‘‘

لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیواقیت میں جو دوسری عبارات مکیہ کی درج ہیں۔ ان سے صاف ظاہرہے کہ شریعت جدید کہلانا منقطع ہے اوربس۔ اسی کتاب کے (ص۹۶) پر لکھاہے کہ: ’’اگر کسی صاحب کشف نے یہ کہا کہ وہ ایک ایسے امر سے مامور ہواہے جو شرع محمدی کے مخالف ہے تو اس پر امرملتبس ہوگیا۔‘‘ دیکھئے یہاں اس کی سزا باوجود شریعت کے مخالف ہونے کے قتل نہیں بیان کی۔

(الیواقیت ج۲ ص۱۰۰) میں صاف لکھاہے کہ مسیحؑ جب آئیں گے تو ’’یلھم بشرع محمد‘‘ کہ انہیں شریعت محمدیہ بذریعہ الہام سکھائی جائے گی۔ اسی طرح (ص۱۶۲) پر مہدی کے متعلق شیخ محی الدین ابن عربی کا یہ قول لکھاہے: ’’مہدی اس شریعت کے ساتھ حکم کرے گا جو اس کی طرف وحی کرنے والا فرشتہ شرع محمدی کا الہام کرے گا اور رسول اﷲa نے فرمایا کہ وہ میرے قدم بقدم چلے گا اور خطاء نہیں کرے گا۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کا متبع ہو گا نیا دین نہیں لائے گا۔ پس اگر بالفرض اس حوالہ کا وہی مطلب لیا جائے جو فریق مخالف نے لیاہے تو اس کے حکم سے کہ فتوحات مکیہ کے مصنف شیخ محی الدین ابن عربی کا بعد کی تصنیف کتاب فصوص الحکم میں اس سے رجوع ثابت ہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں:’’وفینا من یاخذہ عن اﷲ فیکون خلیفۃ عن اﷲ بعین ذالک الحکم فتکون المادۃ من حیث کانت المادۃ لرسولہa فھو فی الظاہر متبع لعدم مخالفتہ فی الحکم‘‘ (فصوص الحکم ص۱۹۳)کہ ہم اہل کشف

257

میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو براہ راست اﷲتعالیٰ سے وہی احکام حاصل کرتے ہیں جو شریعت محمدیہ میں پہلے سے موجود ہیں اور وہ ان احکام میں اﷲتعالیٰ کے نائب ہوتے ہیں اور بوجہ اس کے کہ ان پر نازل شدہ احکام شریعت محمدیہﷺکے مخالف نہیں ہوتے، وہ آنحضرتﷺ کےمتبع ہوتے ہیں۔

اور حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: ’’ہمچنانکہ نبیk آن علوم راز وحی حاصل می کرد۔ ایں بزرگواران بطریق الہام آن علوم رازاصل اخذ می کنند۔ علماء این علوم رااز شرائع اخذکردہ بطریق اجمال آوردہ اند۔ ہماں علوم چنانچہ انبیاءؑ حاصل بود تفصیلا وکشفاً ایشانرانیز بہمان نہج حاصل میشود اصالت وتبعیت درمیان است بایںقسم کمال ازاولیاء کمل بعضی ایشانرابعد از قرون متطاولہ وازمنہ متباعدہ انتخاب میفرمایند۔‘‘

(مکتوبات ج۱ ص۴۰)

کہ جس طرح علوم شریعت آنحضرتﷺ وحی الٰہی سے حاصل کرتے تھے۔ اس طرح اولیاء اﷲ ان علوم کو الہام الٰہی یعنی اصل سرچشمہ سے اخذ کرتے ہیں اور یہ علماء تو کتاب وسنت سے ان علوم کو بطریق اجمالاً لاتے ہیں اور جس طرح یہ علوم انبیاءؑ کو کشفاًحاصل تھے، اسی طریق پر اولیاء اﷲ کو حاصل ہوتے ہیں۔ فرق صرف اصالت اور اتباع و وراثت کا ہے۔

امرتسر کے غزنوی خاندان کے مورث اعلیٰ مولوی عبداﷲ صاحب غزنوی مرحوم ایک صاحب کشف بزرگ تھے۔ جن پر قرآن مجید کی آیات الہاماً نازل ہوتی تھیں۔ ان کی مخالفت میں مولوی غلام علی قصوری نے ایک رسالہ لکھا۔ جس میں مولوی عبداﷲ صاحب غزنوی مرحوم پر اسی قسم کے اعتراض کئے، جس طرح پر کہ فریق مخالف نے حضرت مسیح موعود پر کئے ہیں۔ اس کے جواب میںمولوی عبدالجبار نے ایک رسالہ’’ اثبات الالہام والبیعۃ‘‘ مولوی عبداﷲ غزنوی مرحوم کی حمایت میں لکھا اس کے (ص۱۴۰) پر معترض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ آیتیں بے شک پہلے ہی نازل ہو چکی ہیں اور ان کے الفاظ اور مورد بھی عام ہیں۔ مگر جب صاحب الہام پردہ غیب سے سنتے ہیں یا خود بخود ان کی زبان پر آیات جاری کی جاتی ہیں تو وہ اپنے حال سے مطابق کرتے ہیں اور بہ سبب فہم خداداد کے حظ وافر اٹھاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی کام کے نیک و بد ہونے میں مترد د ہوتے ہیںتو مثلاً آیت: ’’والرجزفاھجر‘‘ سن کر اس کے ترک کا عزم کرتے ہیں اور جب دینی معاملات کے سبب مصیبتوں میں مبتلاء کئے جاتے ہیں۔ ’’قومواﷲ قانتین‘‘ اور ’’ان اﷲ معنا‘‘ سن کر ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک مشہور صوفی حضرت خواجہ میردرد صاحب دہلوی کو قرآن مجید کی بہت سی آیات جو اوامر ونواہی پر مشتمل ہیں۔ الہاماً نازل ہوئیں جو (علم الکتاب مطبوعہ دہلی ص۶۱، ۶۴، ۶۵) میں درج ہیں اور جو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ ان میں خواجہ صاحب مرحوم کے مخالفین کو فاسق، مجرم، مفسد وغیرہ قراردیاگیا۔ پس یہ مقتدر بزرگ جب اس بات کے معتقد تھے اور اس وجہ سے کہ ان کے الہامات میں اوامرو نواہی پائے گئے تو صاحب شریعت جدید کافر اور مرتد نہ ٹھہرائے گئے تو حضرت مسیح موعود کو کیوں اس وجہ سے کافر اور مرتد ٹھہرایا جاسکتا۔

پانچواں حوالہ: (اربعین۴ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) سے فریق مخالف کی طرف سے پیش کیاگیاہے۔ اس سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ آپ نے صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اولیاء امت نے اس امر کو تسلیم کیاہے کہ شریعت محمدی کے اوامرو نواہی کا بطور تجدید کے کسی بزرگ پر نازل ہونا جائز ہے اور صرف ایسے اوامرونواہی کا جو شریعت محمدیہ کے مخالف ہوں اور آنحضرتﷺ کی پیروی کا نتیجہ نہ ہوں۔ ممنوع قرار دیاہے۔

اور پھر آپ نے اس جگہ صاحب شریعت کا لفظ صرف مخالفین کے مقابل پر بطور الزام استعمال کیاہے۔ جیسا کہ یہ فقرہ دلالت

258

کرتاہے۔ ’’پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔‘‘

اربعین میں جہاں آپ نے یہ لکھا ہے۔ وہاں قرآن مجید کی آیت: ’’لو تقول علینا بعض الا قاویل… الخ!‘‘ اپنی صداقت پر بطور دلیل پیش کی ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتاہے۔ جونبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ ہلاک کیا جاتاہے اور مفتری خائب وخاسر رہتاہے، کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ چونکہ میں خدا کے فضل سے ہلاک نہیں ہوا۔ آنحضرتﷺ کو وحی کے بعد جو مدت ملی وہ مجھے دی گئی تو آپ نے بعض مخالفوں کے اس اعتراض کو لے کر کہ ہر جھوٹا نبی ہلاک نہیں ہوتا بلکہ جو صاحب شریعت ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ ہلاک ہوتاہے۔ اس پر آپ فرماتے ہیں کہ یہ ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں یہ شرط نہیں پھر آپ فرضی طور پر فرماتے ہیں کہ اگر شریعت سے یہ مراد لی جاوے تو اس لحاظ سے بھی یہ عذر مخالفین کا باطل ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی ایک آیت جو آپ پر نازل ہوئی ہے اورجس میں امر ہے درج کی ہے اور پھر آخر میں اس عذر کا جواب دیا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ آپ کو صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا دعویٰ نہیں۔

’’ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹی گواہی نہ دو۔ زنا نہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ! اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔پھر وہ دلیل تمہاری کسی گائو خورد ہوگی کہ اگر کوئی شریعت لاوے اورمفتری ہو توتیئس۲۳ برس تک زندہ رہ نہیں سکتا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ تمام باتیں بیہودہ اور قابل شرم ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۶)

اور سید عبدالوہاب صاحب شعرانی فرماتے ہیں: اﷲتعالیٰ کا اپنے بندوں کوغیب کی خبریں دینا اس امت میں جاری ہے۔ لیکن ان خبروں میںتحلیل اور تحریم نہیں ہوتی۔ بلکہ کتاب اور سنت کے معانی بتائے جاتے ہیں یا ایسے حکم مشرو ع کا جوثابت ہو، خدا کی طرف سے ہونا بتایاجاتاہے یا کسی حکم کا جو نقل سے ثابت ہو۔ اس کے درست نہ ہونے کا علم دیاجاتاہے۔ وغیرہ! لیکن اس صاحب مقام کو یہ حق حاصل نہیں۔ ’’ان یکون علی شرع یخصہ یخالف شرع رسولہ الذی ارسل الیہ… الخ!‘‘ کہ اپنے رسول کی شرع کو چھوڑ کر اپنی ذات خاص کے لئے کوئی اورشریعت اختیار کرے۔

(الیواقیت ج۲ ص۲۸)

اس سے ظاہر ہے کہ ایسے حکام کاجو شریعت کے مخالف نہیں کسی ولی پر اترنا جائز ہے۔

پھر ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ اگر اس عبارت سے آپ کا منشاء صاحب شریعت ہونے کا ہوتاتو اس کے بعد کی تصنیفات میں تشریعی نبی ہونے کااس سے انکار نہ کرتے۔ ’’اربعین‘‘ آپ نے ۱۹۰۰ء میں لکھی اور ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ۱۹۰۱ء میں تصنیف فرمایا۔ جس میں بصراحت اپنے صاحب شریعت ہونے سے انکار کیاہے اور رسالہ (ریویو برمباحثہ چکڑالوی ص۶) پر جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہوا لکھاہے۔

ہمارا ایمان ہے کہ آخری کتاب اورآخری شریعت قرآن ہے اور ’’چشمہ معرفت‘‘ جو۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی اس کے (ضمیمہ ص۹، خزائن ج۲۳ ص۳۸۰) پر فرماتے ہیں: ’’آپ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ آپ کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں۔‘‘

پھر فرماتے ہیں: ’’پس ہم نبی ہیں۔ ہاں! یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اﷲ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب ائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۷۶، خزائن ج۲۲ ص…)

259

اب میں مرزا کے فوت ہونے سے دو دن پہلے کا ایک خط پیش کرتا ہوں جو حضور نے ایڈیٹر اخبار عام لاہور کے نام لکھا اور جو ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں شائع ہوا۔ اس میں لکھا ہے کہ: ’’میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتاہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کو منسوخ کر سکے۔ سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتاہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ: ’’خدا سے الہام پاکر کثرت پیش گوئی کرنے والا۔‘‘

پس اربعین کے ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ کی بیسیوں تحریریں حضور کی ایسی ہیں جو ان کے اس الزام کی تردید کررہی ہیں کہ آپ نے شریعت جدیدہ نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

چھٹا حوالہ: فریق مخالف نے (تریاق القلوب ص۱۳۰ حاشیہ، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲) سے پیش کیا، جس سے یہ استدلال کیاہے کہ چونکہ آپ نے ’’حقیقت الوحی‘‘ میں اپنے منکرین کو کافر کہا اور ’’تریاق القلوب‘‘ میں لکھا ہے کہ کافر کہنا ان نبیوں کا کام ہے جو شریعت جدیدہ لاتے ہیں۔ ’’تریاق القلوب‘‘ کے بعد آپ نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا۔

جواب: یہ استدلال اس لئے غلط ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے اس جگہ صرف صاحب شریعت نبی اور محدث وملہم کے انکار کا حکم بیان کیاہے اور دوسرے انبیاء جو شریعت یا احکام جدیدہ نہیں لاتے ان کے انکار کا حکم ذکرکیا۔ یہی تریاق القلوب کا حوالہ حضرت مسیح موعود کے سامنے پیش کیاگیا۔

اس کے جواب میں جو کچھ آپ نے لکھا وہی مطلب تریاق القلوب کے حوالہ کا صحیح سمجھا جائے گا آپ نے اس کے جواب میںیہ فرمایا ہو کہ: ’’پہلے مجھے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ نہ تھا لیکن اب مجھے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ہے۔ اس لئے اپنے منکروں کو کافر کہتاہوں۔‘‘ تب تو فریق مخالف کا نتیجہ صحیح ہوگا۔ ورنہ غلط محض ، سو جب ہم حقیقت الوحی کو دیکھتے ہیں تو اس میں کہیں یہ دعویٰ نہیں پاتے بلکہ اس کے برخلاف یہ پاتے ہیں کہ: ’’ میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باﷲ! آنحضرتﷺ کے مقابل پر کھڑاہو کرنبوت کا دعویٰ کرتاہوں یا کوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمہ و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

تریاق القلوب والے حوالہ کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے: جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتاہے۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتاہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیسا کہ فرماتاہے: ’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذبا اوکذب باٰیاتہ‘‘ یعنی بڑے کافر دو(۲) ہی ہیں۔ ایک خدا پر افتراء کرنے والا، دوسراخدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافرہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔

ساتواں حوالہ: جو فریق مخالف نے مرزا صاحب کو مدعی شریعت ثابت کرنے کے لئے پیش کیا ہے۔ جن میں امرو نہی پائے جاتے ہیں۔ اس کا جواب حوالہ۵ کی بحث میں مفصل دیا چکاہے کہ ایسے اوامرونہی نزول قرآن شریف کے مخالف نہ ہو بلکہ مؤید ہو۔ہر طرح سے جائز ہے اوران کا بطریق تجدید کسی کامل فرد پر نازل ہونا موجب کفر نہیں۔

260

آٹھواں حوالہ: یہ پیش کیاگیاہے کہ آپ نے اپنے مریدوں کو عام مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیاہے اور یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے بلکہ قرآن اور حدیث پرزیادہ شدت کے ساتھ عمل پیرا ہونے کاآپ نے حکم دیاہے۔ کیونکہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام وہ ہونا چاہئے جو زیادہ عالم اور متقی ہو۔چنانچہ اﷲتعالیٰ نے خود یہ دعا سکھائی ہے۔ ’’واجعلنا للمتقین اماما‘‘ اے خدا تو ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا اور امام مقتدیوں کے اور خدا کے درمیان سفیر کی طرح ہوتاہے۔ پس یہ ہر گز مناسب نہیں کہ ہم ایسے شخص کو امام بنائیں جو ہمیں کافر ومرتد گردانتاہے۔ لہٰذا قرآن مجید اوراحادیث کی رو سے یہی ضروری ہے کہ جو خدا کے فرستادہ کو راست باز نہیں مانتے۔ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ کیونکہ ایمان لانے والے اور نہ لانے والے برابر نہیں اور اگر کسی کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کرنا شریعت کا مدعی ہونا ہے تو علماء نے خود ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناجائز لکھاہے۔ حتیٰ کہ خود دیوبندیوں کے امام مولوی رشید احمد گنگوہی کا ایک فتویٰ (بھونچال برلشکر دجال ص۵۷،۵۸) میں درج ہے کہ جو مولوی نذیرحسین کا مداح ہے۔ بے شک وہ غیر مقلد ہے۔ اس کی امامت درست نہیں عندالحنفیہ، تو ایسے شخص کے امام بنانے میں اپنی نماز کا خراب کرنا ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے نہ نماز پڑھی جائے۔ لہٰذا جب کہ ہمارے مخالفوں کے نزدیک وہ علماء جنہوں نے ایسے فتویٰ دئیے ہیں۔ ان کو صاحب شریعت جدید قرار دے کر کافر ومرتد قرار نہیں دیا جاتا تو اس طرح مرزا صاحب کو اس بات کی وجہ سے کیوں صاحب شریعت جدیدہ قرار دے کر کافر ومرتد دیاجاتاہے۔

نواں حوالہ: احمدیوں کو غیر احمدیوں کی لڑکی دینے سے منع کیاہے۔ اس کا مفصل جواب آئندہ دیا جائے گا۔ سردست میں یہ کہتاہوں کہ دفع شر کے طور پربھی ایسا ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ دیکھا گیاہے کہ بعد میں بہت فساد واقع ہوتا ہے۔ غیر احمدی اپنی احمدی بیوی کو مارتے کوٹتے اور سخت تکلیفیں دیتے ہیں اورایسے مجبور کرتے ہیں کہ احمدیت سے تائب ہو۔اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ احمدی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی سے نہ کیا جائے۔ لہٰذا یہ کہنا نہیںہے بلکہ تکلیف سے بچانے کے لئے ایسا کیاگیاہے۔ اس سے صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا ادّعا لازم نہیں آتا۔

دسواں حوالہ: لوح ہدیٰ کا دیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو ماہوار چندہ دینے کا حکم دیا۔ کہا ہے کہ جو تین ماہ تک نہ دے وہ جماعت سے خارج ہے، کافرہے، مرتد ہے اور ملعون ہے۔ لہٰذا یہ نیا حکم ہے جو شریعت کے مخالف ہے۔ کیونکہ اسلام میں یہ حکم نہیں کہ جو تین ماہ تک زکوٰۃ نہ دے وہ اسلام سے خارج ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ارشاد میں کافر،مرتد اور ملعون کے الفاظ بالکل نہیں۔ اس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو احمدی ہوکر یہ عہد کر چکے ہیں کہ: ’’ہم دین کو دنیا پر بہر حال مقدم کریں گے اور اسلام کی اشاعت کے لئے مالی جانی قربانی سے کبھی دریغ نہ کریں گے۔ فرمایا ہے: اگران میں سے کوئی باوجود مقدرت اور طاقت کے ایک پیسہ بھی راہ خدا میں خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ منافق ہے۔ اس کے بعد وہ اس جماعت میں رہنے کے قابل نہیں اور یہ کوئی نیا حکم نہیں بلکہ قرآن مجید کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے ’’انفاق فی سبیل اﷲ‘‘ پر بہت زوردیاہے۔ چنانچہ متقی کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے۔ ’’ومما رزقنٰھم ینفقون (البقرۃ:۳)‘‘ اسی طرح سورہ توبہ:۳۴ میں ان لوگوں کے حق میں جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ ’’فبشرھم بعذاب الیم‘‘ کی وحی آئی ہے۔ اسی طرح منافقوں کی ایک علامت یہ بتائی۔ ’’ولا ینفقون الا وہم کارہون (توبہ:۵۵)‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کی را ہ میں جب نا خوشی سے مال خرچ کرنا بھی انفاق کی علامت ہے تو جو شخص باوجود استطاعت بالکل ہی خرچ نہیںکرتا وہ کیونکر نفاق سے بچ سکتا ہے اور اس کا جماعت سے تعلق قائم رہ سکتاہے۔ اسی طرح اﷲتعالیٰ فرماتاہے۔

261

سنو!تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں خدا کے رستے میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتاہے۔ اس پر بھی تم میں سے ایسے بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور اﷲ تو بے نیاز ہے اور تم اس کے محتاج ہو۔ (سورۃ محمد) اس میں آگے ہے کہ اگر تم خدا کے حکم سے روگرانی کروگے تو خدا تمہارے سوا دوسرے لوگوں کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔ جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ تم خدائی سلسلہ میں نہیں رہ سکتے۔

پس حضرت مسیح موعود نے اسی قرآنی تعلیم کے ماتحت فرمایا کہ ایساشخص جور اہ خدا میں خرچ نہیں کرتا اور باوجود مقدرت عہد کرنے کے ۳،۳ماہ تک اس ربانی حکم سے غافل رہتاہے اور کچھ پروانہیں کرتا تو اس کا سلسلہ سے کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔

اور گواہ کا یہ کہنا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کے متعلق ایسا حکم نہیں ہر گز درست نہیں۔ کیونکہ حضرت خلیفہ اوّل ابوبکر صدیقq نے ان لوگوں کے حق میں جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا۔ فرمایا: ’’واﷲ لو منعونی…الخ! (ابوداؤد ص۲۱۷)‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کی قسم اگر انہوں نے ایک معمولی رسی بھی جس سے اونٹ باندھا جاتاہے اورجسے وہ رسول اﷲa کے وقت میں ادا کرتے تھے روکی تو میں ان سے جنگ کروں گا۔ پس زکوٰۃ میں سے کچھ حصہ ادا نہ کرنے پر کتنی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔

گیارہواں حوالہ: فریق مخالف نے حضرت خلیفہ ثانی کا قول الفصل اور حقیقۃ النبوۃ وغیرہ میں حقیقی نبی لکھا ہے اور اس سے حضرت مسیح موعود کے صاحب شریعت نبی ہونے پر استدلال کیاہے۔ اس کا جواب انہی کی کتاب (حقیقۃ النبوۃ ص۳) میں سے دیا جاتاہے۔جہاں آپ (قول الفصل ص۱۲، انوار العلوم ج۲ ص۲۷۴) کی عبارت میں لکھتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی کے خود یہ معنی فرمائے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے، پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتے۔‘‘

پھر فرماتے ہیں کہ: ’’حقیقی نبی ایک اصطلاح ہے جو خود حضرت مسیح موعود نے قراردی ہے۔اس کے خود ہی معنی بھی کر دئیے ہیں۔ ان معنوں کی رو سے ہر گز آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں! چونکہ ہر ایک شخص کا حق ہے کہ اصطلاح بنائے، اس لئے میں نے لکھا تھا۔ اگر حقیقی نبی کے معنی ان معنوں کے سوا ہیں جو حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں تو میں ان کے معلوم ہونے پر رائے دے سکوں گا کہ وہ حضرت مسیح موعود پر چسپاں ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے معنی یہ کئے جائیں کہ وہ بناوٹی یا نقلی نبی نہ ہو تو ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعودکو میں حقیقی نبی مانتاہوں۔یعنی صادق اور منجانب اﷲ اور غیر تشریعی نبی مانتاہوں۔‘‘

پس آپ کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے حضرت مسیح موعود کو ان معنوں میں حقیقی نبی قرار دیاہو آپ نئی شریعت لائے ہیں۔

اب میں قرآن مجید سے چند آیات بیان کرتاہوں جن سے آنحضرتﷺ کے بعد امکان نبوت ثابت ہوتاہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’یٰبنی اٰدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی… الخ! (اعراف:۳۵)‘‘ اے اولاد آدم! ضرور تمہارے پاس میرے رسول آئیں گے جو تم پر میری آیات پڑھیں گے۔

اس آیت میں آئندہ رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیات سنائیں گے۔ آنحضرتﷺ پر اس آیت کا نازل ہونا اس امر پر دلالت کرتاہے کہ بنی آدم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن مجید کے نزول کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ جیسا کہ اس آیت: ’’یٰبنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجد…الخ! (اعراف:۳۱)‘‘ میں بنی آدم سے مراد صحابہi اور ان کے بعد کے تمام لوگ ہیں۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی نے (تفسیر اتقان ج۲ ص۳۴) پرلکھاہے: یا بنی آدم کا خطاب ان تمام لوگوں کو ہے جو اس وقت موجود تھے اور جو ان کے بعد آئندہ ہوں گے۔

262

دوسری آیت: ’’اﷲ یصطفی من الملآئکۃ رسلا ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘ کہ اﷲتعالیٰ فرشتوں سے اورلوگوں میں سے رسول چنتاہے اور چنتا رہے گا۔

اس آیت میں یصطفی کا لفظ ہے جو حال اور استقبال کے لئے آتاہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آئندہ حسب ضرورت اﷲتعالیٰ کی طرف سے رسول آتے رہیں گے اور فرشتے ان پر وحی لائیںگے۔

تیسری آیت: تمام مسلمان مانتے ہیں کہ نبوت ایک بہت بڑی خدا کی نعمت ہے اور قرآن میں بھی اسے نعمت کہا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰm اپنی قوم کو کہتے ہیں: ’’اذکروا نعمۃ اﷲ علیکم اذجعل فیکم انبیآء وجعلکم ملوکا واٰتاکم مالم یؤت احدا من العالمین (مائدہ:۲۰)‘‘ کہ تم اﷲ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی کہ اس نے تم میں سے نبی بھی بنائے اور تمہیں بادشاہ بھی بنایا۔ یعنی اﷲ نے روحانی اور جسمانی دونوں نعمتیں تمہیں عطاء فرمائیں۔ پس از روئے قرآن نبوت جب ایک انعام ہے تو امت محمدیہ جو خیر الامم ہے، اس اعلیٰ درجہ کی نعمت سے محروم نہیں رہ سکتی۔

اورآیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی (المائدۃ:۳)‘‘ صاف بتارہی ہے کہ اس امت پر سب سے بڑھ کر نعمت کا اتمام ہوگا۔ یعنی اب دیگر مذاہب والوں سے کوئی اس نعمت کونہیں پاسکتا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے اب اس نعمت کو آپ ہی کے کامل متبع حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر کو یہاں قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔

چوتھی دلیل: اگر واقعی طور پر آنحضرتﷺ کے بعد نبی کا آنا بند ہوتاتو اﷲتعالیٰ وہ حالات بھی دنیا میں پیدا نہ ہونے دیتاجو نبی کی بعثت کو موجب ہوتے ہیں۔ ان حالات میں سے ایک حالت دنیا میں فساد کا ظہور ہے۔ ’’ظہر الفساد فی البر والبحر (روم:۴۱)‘‘ کہ دنیا میں جب خشکی اور تری یعنی عوام اور خواص علماء اور جہلاء امیر اور غریب، اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں کی حالت خراب ہوگئی تو نبی کا ظہور ہوا۔

دوسری وجہ موجب بعثت نبی یہ ہے کہ پہلی کتاب میں لوگ شک کرنے لگتے ہیں اور خدا سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ جیسا کہ آیت: ’’ان الذین اوتو الکتاب من بعدھم لفی شک منہ مریب فلذا لک فادع واستقم کما امرت (شوریٰ:۱۴، ۱۵)‘‘ سے ظاہر ہے کہ جب لوگوں کو کتاب دی گئی وہ گہرے شک میں پڑگئے۔ اس لئے اے نبی! تو ان کو دعوت دے جس کا تجھے حکم دیاگیا ہے۔

تیسری بات جو کسی نبی کی بعثت کا موجب ہوتی ہے وہ اختلاف کا پیدا ہونا ہے۔ جیسا کہ آیت: ’’لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ (بقرۃ:۲۱۳)‘‘ اور ان کے درمیان سرور عالمa خود فساد کے ظہور کی خبر دے چکے ہیں کہ ایسا فتنہ ہوگا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا اور اس کو فتنہ دجال سے تعبیر کیا۔ امت کے متعلق فرمایا کہ وہ یہود ونصاریٰ کی طرح ہوجائے گا اور اختلاف اس قدر ہوگا کہ بنی اسرائیل اگر۷۲فرقوں میں تقسیم ہو گئے تومیری امت ۷۳ فرقوں میں منقسم ہوجائے گی۔ پس جب یہ تمام حالات جو بعثت نبی کا موجب ہوتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کے فرمان کے مطابق پیدا ہونے والے تھے اور ہوئے تو کیونکر عقل تسلیم کرسکتی ہے کہ فساد کی اصلاح کے لئے کوئی نبی مبعوث نہ ہو۔

لہٰذاآنحضرتa کو موجبات نبوت کی خبر دینا اور پھران کا پایا جانا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے بعد آپ کے اتباع میں نبی آسکتا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ آنے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے صاف یہ معنی ہوئے کہ نبی کی ضرورت

263

توہے۔ کیونکہ امت محمدیہ چونکہ نعمت وحی ونبوت سے محروم ہوچکی ہے۔ اس لئے اس کا کوئی فرد نبی نہیں بن سکتا۔ رسولﷺ کے روحانی فرزندوںمیں سے گویا کوئی اس رحمانی انعام کو حاصل کرنے کے لائق نہیں ہے۔

امت محمدیہ خیر الامم ہو کر اور سید الانبیاء امام المرسلین، قائد النّبیین کی امت کہلا کر پھر اپنی اصلاح کے لئے ایک ایسے نبی کی محتاج ہو جوبنی اسرائیل کی طرف آیاتھا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ وہ عظیم الشان نبی اور مملکت روحانیت کے وہ بے نظیر سلطان اور صاحب اقتدار شہنشاہ ہیں کہ حضور کی پیروی کمالات نبوت بخشی ہے۔ آپ صرف نبی نہیں بلکہ آپ کے اتباع سے ہی انسان خداوندتعالیٰ کا محبوب بن سکتاہے۔

جیسا کہ اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی یحببکم اﷲ (اٰل عمران:۳۱)‘‘ یعنی رسول اﷲ کی اتباع انسا ن کو خدا کا محبوب بنا دیتی ہے۔ دوسری جگہ آپ کو خدا نے سراج منیر فرمایا کہ جس سے دوسرے بھی روشن ہو سکتے ہیں۔

پانچویں دلیل: اﷲتعالیٰ نے ہمیں (سورہ فاتحہ:۶) میں ایک کامل دعا سکھائی ہے۔ یعنی ’’صراط الذین انعمت علیھم‘‘ اے ارحم الراحمین خداتو ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنا جن پر تیرا انعام ہوا۔ ایک دوسری سورۃ میںا س کی تشریح فرمائی کہ وہ لوگ جن پر خدا کا انعام ہوا، چار قسم کے ہیں۔ نبی، صدیق، شہید اور صالح۔ پس ان چاروں مراتب میں سے کسی کا حصول امت محمدیہ کے لئے ناممکن ہوتا تو کبھی اﷲتعالیٰ ہمیں اس جامع دعا کی تلقین نہ کرتا اور یہ نہیں ہوسکتا کہ امت محمدیہ تین مراتب کا تو انعام پائے۔ لیکن چوتھے مرتبہ کا حصول اس کے لئے ناممکن ہو اور اس انعام کی ضرورت کے وقت وہ امت بنی اسرائیل کے نبیوں کی محتاج بنے۔

آنحضرتﷺ نے احادیث میں آنے والے مسیح کو نبی اﷲ کہہ کر پکارا ہے۔ بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ مطابق حدیث صحیح بخاری ’’امامکم منکم‘‘ اور صحیح مسلم ’’وامامکم منکم‘‘ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا۔

فریق مخالف کا یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر زندہ رہنے کے متعلق امت کا اجماع ہوچکاہے، غلط ہے۔ کیونکہ حضرت امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ وہ وفات پاگئے اور قرآن مجید کی آیت: ’’فلما توفیتنی‘‘ اور بخاری کی حدیث جس میں اس آیت کی تفسیر بیان ہوئی ہے۔ حضرت مسیحؑ کی وفات پر ایک قاطع دلیل ہے۔ کیونکہ اس سے صاف واضح ہوتاہے کہ جس طرح آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد صحابہ میں ارتداد واقع ہو۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت مسیح کی وفات کے بعد ان کو خدا بنایا۔

دوسرے حضرت ابوبکر صدیقq نے آنحضرتﷺ کی وفات کے موقعہ پر صحابہi کے ایک مجمع میں آیت: ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:۱۴۴)‘‘ پڑھ کر سنائی اور لوگوں کو تسلی دی کہ اگر آنحضرتﷺ وفات پا گئے ہیں۔ یہ کہنا کہ آنے والا مسیح موعود حضرت عیسیٰؑ ہوں گے اور اس پر اجماع ہوچکاہے، درست نہیں۔ کیونکہ مسلم الثبوت میں لکھاہے: ’’واما فی المستقبلات کا شراط الساعۃ وامور الاٰخرۃ فلا عندالحنفیۃ لان الغیب لا مدخل فیہ لاجتہاد‘‘ کہ وہ باتیں جو آئندہ زمانہ میں ظہور پذیر ہونے والی ہیں۔ جیسے علامات قیامت جس میں مسیح کا نزول بھی ہے اورامورآخرت ان میں حنفیہ کے نزدیک اجماع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ باتیں غیب سے متعلق ہیں۔ غیب میں اجتہاد کو کوئی دخل نہیں۔ کتاب (کنوز الحقائق ص۴) پر ایک حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوبکر اس امت میں سب سے افضل ہیں مگر یہ کہ کوئی نبی ہو۔ یعنی اگر کوئی اس امت میں سے ہواتو وہ حضرت ابوبکر سے افضل ہوگا۔

264

ایک وجہ تکفیر جو فریق ثانی کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ وہ قیامت اور حشر اجساد نفخ صور وغیرہ کا انکار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب حشراجساد جنت اورجہنم وغیرہ کے حق میں ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم یوم البعث (قیامت) اور دوزخ اور جنت پر ایمان رکھتے ہیں۔

(نورالحق حصہ اوّل ص۵، خزائن ج۸ ص۷)

’’ہمارا عقیدہ ہے کہ جنت اور دوزخ اور قیامت اور معجزات انبیاء حق ہیں۔‘‘

(التبلیغ ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص۳۸۷)

تعلیم برائے جماعت کے عنوان کے ماتحت فرماتے ہیں: ’’درجماعت ماہیچکن داخل نتواند شد بجز کسے کہ در دین اسلام داخل گرد دو قرآن شریف و سنت نبوی راپیرگردد وبخداو رسول اوکہ کریم ورحیم است ایمان آرد ونیز بحشر ونشر وبہشت ودوزخ ایمان آرد۔‘‘

(مواہب الرحمن ص۹۶، خزائن ج۱۹ ص۳۱۵)

’’ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشراجساد حق اور حساب حق اور جنت حق اورجہنم حق ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳)

کتاب (ازالہ اوہام ص۳۵۴تا۳۶۰، خزائن ج۳ ص۲۸۱تا۲۸۵) کی عبارت سے یہ نتیجہ اخذکیاگیاہے کہ جب لوگ جنت ودوزخ میں قیامت سے پہلے ہی چلے جائیں گے۔ دوسری آیت: ’’فادخلی فی عبادی‘‘ اوراحادیث توا س سے حشر اجساد اور قیامت کا انکار لازم آتاہے۔ لیکن کتاب (ازالہ اوہام ص۳۵۴تا۳۶۰، خزائن ج۳ ص۲۸۱تا۲۸۵) کی عبارت کو پڑھا جاوے تو اس میں صریح طو پر یوم الحساب اور قیامت اور حشر اجساد کا اقرار موجودہے۔ جو کچھ وہاں لکھا گیا ہے وہ قرآن مجید اور احادیث کی بنا پر لکھا گیاہے۔ صداقت، قیامت اور حشر اجساد اور دخول جنت وجہنم کے متعلق جو آیات اور احادیث بظاہر متناقض اور متعارض معلوم ہوتی تھیں۔ ان پر غیر مذہب کی طرف سے اعتراض ہوسکتاہے، ان کا تحقیقی اور مکمل جواب دیاہے اور تناقض کو دور کر کے آیات قرآنیہ اور احادیث میں مطابقت دکھائی ہے۔ نفخ صور کا انکار کرنے کے لئے (شہادت القرآن ص۲۵، خزائن ج۶ ص۳۲۱) کا حوالہ پیش کیاگیاہے۔ لیکن خود اس عبارت سے جو اس صفحہ پر ہے۔ ظاہر ہوتاہے۔

یہ آیات قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔ آپ نفخ صور سے مراد مسیح موعود کا آنا استعارہ لیا ہے۔ جیسا کہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے اورصاف فرمادیاہے کہ ان آیتوں کا تعلق قیامت سے بھی ہے۔ ایسے معنی کرنا مؤجب تکفیر نہیں ہیں۔ اسی طرح نکات فریدی مصنفہ خواجہ محمد بخش صاحب (ص۳) میں برزخ کے معنی رابطہ اور واسطہ کے لکھے ہیں۔

اور مرزا صاحب نے (ص۲۶، خزائن ج۶ ص۳۲۱) پر لکھا ہے کہ ان معانی مبارکہ کے ماخذ دقیق ہیں۔ اس لئے ہر ایک سطحی خیال کا آدمی اس طرف توجہ نہیں کرسکتااور موٹی سمجھ اس کو نہیں پاسکتی۔ آنے والے مسیح کے متعلق امام ربانی لکھتے ہیں کہ جب وہ باریک باتیں اپنے اجتہاد کی بیان کریں گے۔ علماء ظواہر ان باتوں کو جو نہایت باریک دقیق المقاصد ہوں گے، انکار کریںگے اورمخالف سنت جائیں گے۔ (مکتوب ج۲ ص۵۵) پس مرزا صاحب نے نہ نفخ صور کا انکار کیا، نہ حشر اجساد اور نہ قیامت کا اور مرزا صاحب کی تعلیم کے مطابق تمام جماعت احمدیہ ان سب باتوں کااقرارکرتی ہے۔

چوتھی وجہ تکفیر مرزا صاحب جو بیان کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ: حضرت مسیح موعود نے انبیاء کی توہین کی ہے اورانبیاء کی توہین کرنا کفرہے۔ تو ہین کی جو تعریف کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کی جائے، جو اس میں نہیں پائی جاتی ہے یا کسی منصب کا جس کے ساتھ اﷲتعالیٰ نے اسے سرفراز فرمایاہے، اس کا اپنے لئے دعویٰ کیا جاوے۔

265

حضرت مسیح موعود کے عقائد کامیں پہلے ذکر کرچکاہوں جن میں آپ نے صاف تحریر فرمایاہے کہ میں خدا کے تمام رسولوں پر ایمان لاتاہوں اور فرماتے ہیں:

  1. ہر رسولے آفتاب صدق بود

    ہر رسولے بود مہر انورے

  2. ہر رسولے بعد ظل دین پناہ

    ہر رسولے بود باغ مثمرے

  3. گر بدنیا نامدے ایں خیل پاک

    کار دیں ماندے سراسر ابترے

  4. آں ہمہ ازیک صدف صد گوہر اند

    متحد در ذات و اصل گوہرے

(براہین احمدیہ حصہ اوّل ص۱۱،۱۲، خزائن ج۱ ص۲۰)

پہلا حوالہ: پھر فرماتے ہیں ؎

  1. سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر

    لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم ص۵۸، خزائن ج۲۰ ص۴۵۶)

پہلا شعر جو انبیاء کی توہین ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کا پیش کیاہے وہ یہ ہے۔

  1. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مر ابتمام

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

حالانکہ اس میںکوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جس سے انبیاء کی توہین لازم آتی ہو۔ کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو جام عرفان الٰہی اور ایقان کا ہر نبی کو دیا گیا، وہی خدا تعالیٰ نے وہ پورے کا پورا مجھے بھی دیاہے۔ جس طرح پر کہ خداتعالیٰ نے پہلے انبیاء کی طرف وحی کی اور ان سے کلام کیا، ایسے ہی خدا تعالیٰ نے مجھے مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف فرمایاہے جو میرے لئے باعث ازدیاد ایمان وعرفان وایقان ہوا۔ جیسا کہ اس سے اگلے شعر میں فرماتے ہیں ؎

  1. دل من بردو الفت خود داد!!

    خود مراشد بوحی خود استاد

  2. وحی اور اعجب اثر دیدم!!

    روئے آل مہر زاں قمر دیدم

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

دوسرا حوالہ: آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیاپیش کیاگیا ہے۔ اس الہام کے یہ معنی ہیں کہ جو اس امت میں اولیاء اقطاب وابدال گزرے اور انہیں آنحضرتﷺ کی اتباع سے جو مراتب روحانیہ ملے، ان سب سے بڑھ کر مجھے اﷲتعالیٰ نے آسمانی برکات سے حصہ دیا۔ چنانچہ اسی قسم کے دوسرے الہام: ’’لانی فضلتک علی العالمین‘‘ کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’اور جس قدر لوگ تیرے زمانہ میں ہیں سب پر میں نے تجھے فضیلت دی۔‘‘ اگر سب دنیا اگلی پچھلی مراد ہوتی تو ’’ تیرے زمانہ‘‘ کی قید لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ البتہ صوفیاء نے یہ تسلیم کیاہے کہ مہدی موعود معارف اورعلوم اور حقیقت کے لحاظ سے تمام انبیاء اور اولیاء سے بڑھ کر ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا باطن آنحضرتﷺ کا باطن ہے۔

اس طرح تو کوئی سید عبدالقادر جیلانی پر بھی اگر ان الفاظ کی عمومیت کو مدنظر رکھا جاوے تو ان پر بھی ان کی عمومیت کو دیکھ کر توہین انبیاء کا الزام لگایا جاسکتاہے۔ کیونکہ انہوں نے کہا ہے: ’’وانا من وراء عقولکم فلا تقیسونی علی احد اولاتقیسوا احد

266

اعلی (فتوح الغیب مع شرح فارسی ص۲۲)‘‘کہ مجھ تک تمہاری عقلیں نہیں پہنچ سکتیں۔ پس تم مجھے کسی پر اور کسی کو مجھ پر قیاس مت کرو۔ یعنی میرے کوئی برابر نہیں ہے۔

تیسرا حوالہ: فریق ثانی کی طرف سے پیش کیاگیا ہے۔ وہ شعر یہ ہے ؎

  1. انبیاء گرچہ بودہ اندبسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اس شعر میں بھی انبیاء کی قطعاً توہین نہیں پائی جاتی۔ اس میںتوصرف یہ بتایاگیاہے کہ میں اپنی معرفت اور عرفان الٰہی میں اور اپنے یقین میں کسی نبی اور رسول سے کم نہیں ہوں اور یہ کمال جو مجھے حاصل ہوا تو وہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے بطریق وراثت ملا ہے۔ جیسا کہ اگلے شعر میں فرماتے ہیں ؎

  1. وارث مصطفی شدم بہ یقین

    شدہ رنگین برنگ یار حسین

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اورحقیقی بات یہی ہے۔ بعض توابوجہل اور فرعون کے وارث ہوتے ہیں اور بعض آنحضرتﷺ کی روحانیت کے وارث۔

چوتھا حوالہ: فریق مخالف نے پیش کیا ہے۔ وہ یہ شعر ؎

  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

اس شعر میں بھی رسولوں کی کوئی توہین نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ایک نہایت ہی لطیف مضمون کو ادا کیاگیاہے اور وہ یہ ہے کہ اس الحاد اور دہریت اورگمراہی کے زمانہ میں جب کہ اکثر لوگوں نے انبیاء کو نبوتوں کا انکار کر دیا اور طرح طرح کے ان پر حملے کئے اور انہیں نعوذباﷲ! مکار اور فریبی وغیرہ کہا۔ انہیں دعویٰ وحی میں جھوٹا جانا اور جو نبیوں پر وحی کے نزول کے قائل تھے، ان سے استہزاء اور ہنسی کی۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے پھر آپ کے ذریعہ وحی کا ثبوت دیا اور بتادیا کہ جس طرح میں اس بندہ سے مکالمہ کرتاہوں اور یہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ اسی طرح میں اپنے پہلے بندوں سے بھی کلام کرتارہاہوں۔ پس آپ کا دعویٰ وحی میں صادق ہونا گویا تمام ان انبیاء صادق ہونا ہے جو آپ سے پہلے گزرچکے ہیں۔ جن کے دعویٰ نبوت ووحی کو از راہ ظلم مکر اور فریب قرار دیاگیا۔ چنانچہ اس شعر سے پہلے دو شعروں میں الہام کا ذکرکیاہے۔کہتے ہیں ؎

  1. دست غیم بپرورد ہر دم

    کرد وحیش بمن ظہور اتم

  2. نور الہام ہمچو بادصبا

    نزوم آرد زغیب خوشبوہا

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

اور اگر تھوڑی دیر کے لئے اس غلط نتیجہ کو صحیح بھی فرض کر لیا جائے کہ اس سے مرزا صاحب کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے اورجو موجب کفروارتداد ہے تو اس سے لازم آتاہے کہ شیعہ صاحبان پر بھی یہی فتویٰ عائد ہو اور ان کو مرتد قراردے کر شیعہ وسنی مردو عورت کا نکاح حرام۔ کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ بارہ امام سوائے آنحضرتﷺ کے تمام انبیاءؑ سے افضل وبرتر ہیں۔ جیسا کہ شیعوں کی معتبر کتاب (بحار الانوار ج۷ ص ۳۴۵) باب:’’ تفضیلھم علی الانبیاء وعلٰی جمیع الخلق‘‘ میں لکھا ہے: ’ ’اعلم ما ذکرہ رحمہ

267

اﷲ من فضل نبینا وائمنا صلٰوت اﷲ علیم علٰیٰ جمیع المخلوقات وکون ائمنا افضل من سائر الانبیاء ھو الذی لا یرتاب فیہ من تتبع اخبارھم‘‘یعنی جو کچھ تمام مخلوقات پر آنحضرتﷺ اور بارہ اماموں کے باقی تمام انبیاء سے افضل ہونے کی نسبت ذکرکیا۔ یہ ایسی پختہ بات ہے کہ اس میں ان کے حالات سے واقف شخص کبھی شبہ نہیں کر سکتا۔

فریق مخالف نے حضرت مسیح موعود پر ایک الزام یہ لگایا ہے کہ آپ نے آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے اور اپنے کو ان پر فضیلت دی ہے۔ اس لئے میں آپ کا عقیدہ آپ کی کتاب سے پیش کرتاہوں۔

مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’یہ عربی جس کانام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے۔ اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی، وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خداسے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہاء درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز سے واقف تھا، اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین وآخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جوسرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتاہے۔ وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے۔ کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطاء کیاگیاہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافر نعمت ہوں گے۔ اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اس نبیa کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبت کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ اسی بزرگ نبیa کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیاہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۱۵، ۱۱۶، خزائن ج۲۲ ص۱۱۸،۱۱۹)

پھر اپنی جماعت کے لئے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’تم اس نبی پر اس کے غیر کو کسی نوع کی بڑائی مت دو تا تم آسمان پر نجات یافتہ لکھے جائو۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتاہے جو خداسچ ہے اور محمدa اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اورآسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳،۱۴)

پھر فرماتے ہیں: ’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمدمصطفی و احمد مجتبیٰaہے۔‘‘

(سراج منیرص۷۲، خزائن ج۱۲ ص۸۲)

پھر فرماتے ہیں ؎

  1. وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نورسارا

    نام اس کا ہے محمد دلبرمرایہی ہے

  2. اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہواہوں

    وہ ہے میں چیز کیاہوں بس فیصلہ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم ص۵۷،۵۸، خزائن ج۲۰ ص۴۵۶)

پھر فرماتے ہیں ؎

  1. بعد ازخدا بعشق محمدa مخمرم

    گر کفر ایں بود بخداسخت کا فرم

  2. ہر تار پودمن بسرائد بعشق او

    از خود تہی وازغم آل ولستان پرم

268
  1. جانم فداشود برہ دین مصطفی

    ایں است کام دل اگر آید میسرم

(ازالہ اوہام ص۱۷۶، خزائن ج۳ ص۱۸۵)

پہلی وجہ: فریق مخالف نے جو توہین کی بیان کی ہے۔ یہ ہے کہ وہ آیات قرآنیہ جن میں اﷲتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو چند مراتب اور مقامات علویہ سے مشرف فرمایاتھا۔ انہیں مرزا صاحب نے اپنے اوپرچسپاں کر لیاہے اور کہا ہے کہ یہ آیتیں جو قرآن مجید میں آنحضرتﷺ پر وارد ہوئیں۔ مجھ پر نازل ہوئیں۔

جواب: سوا س کا جواب میں وہی دیتاہے جو مولوی محمد حسین بٹالوی رئیس طائفہ اہل حدیث پیشواء علماء مکفرین نے براہین احمدیہ پر ریویو کرتے ہوئے دیا تھا۔ وہی میں یہاں دیتاہوں وہ لکھتے ہیں: ’’مؤلف براہین احمدیہ نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ قرآن میں ان آیات کا مورد نزول و مخاطب میں ہوں اور جو کچھ قرآن یا پہلی کتابوں میں محمد رسول اﷲa وعیسیٰؑ وابراہیمm وآدمm کے خطاب میں خدا نے فرمایاہے۔ اس سے میرا خطاب مرادہے۔‘‘

پھر لکھتے ہیں: ’’ان کو کامل یقین اور صاف اقرار ہے کہ قرآن اور پہلی کتابوں میں ان آیات میں مخاطب ومراد وہی انبیاء ہیں، جن کی طرف ان میں خطاب ہے۔ اپنے اوپر ان آیات کے الہام یا نزول کے دعویٰ سے ان کی مراد(جس کو وہ صریح الفاظ میں خود ظاہر کرچکے ہیں۔ یہ ہم اپنی طرف سے اختراع نہیں کرتے) یہ ہے کہ جن الفاظ یا آیات سے خداتعالیٰ نے قرآن یا پہلی کتابوں میں انبیاءؑ کو مخاطب فرمایاہے۔ انہی الفاظ یا آیات سے دوبارہ مجھے بھی شرف خطاب بخشا ہے۔ پر میرے خطاب میں ان الفاظ سے اور معانی مراد رکھے ہیں، جو معانی مقصود قرآن اور پہلی کتابوں سے کچھ مغائرت اور کسی قدر مناسبت رکھتے ہیں اور وہ معانی ان معانی کے اظلال وآثار ہیں۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ ج۷ نمبر۴)

پھر مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں اس کے متعلق تحریر فرمایاہے کہ: ’’حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالات قدسیہ میں شریک اور مساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں۔ مگر چونکہ متبع سنن آں سرورکائنات اپنے غایت اتباع کی جہت سے اس شخص نورانی کے لئے جو وجود باجود نبویa ہے، مثل ظل کے ٹھہر جاتاہے۔ اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوارالٰہیہ پیدا اور ہویدا ہیں۔ اس کے اس ظل میں بھی نمایاں اورظاہر ہوتے ہیں اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کی اصل میں ہے، ایک ایسا امر ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ وہ اس شخص کے اصل کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔ پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالت نقصان نہ خیال کریں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے انوار باطنی ان کی امت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں۔ سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ امت محمدیہﷺپر ہوتاہے۔ دو بزرگ امر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے آنحضرتﷺ کی بدرجہ غایت کمالیت ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ جس چراغ سے دوسرا چراغ روشن

269

ہوسکتاہے، وہ ایسے چراغ سے بہتر ہے جس سے دوسرا چراغ روشن ہو سکے۔ دوسرے اس امت کی کمالیت اور دوسری امتوں پر اس کی فضیلت اس افاضہ دائمی سے ثابت ہوتی ہے اور حقیقت دین اسلام کا ثبوت تروتازہ ہوتا رہتاہے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ ج۷ نمبر۹)

علماء مقدمین نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ یہ مقامات امت محمدیہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا روم کے شعر ؎

  1. پس درآدر کار گہ یعنی عدم

    تابہ بینی صنع وصانع رابہم

کی شرح میں مولانا عبدالعلی صاحب بحر العلوم نے تحریر فرمایاہے کہ ایک مقام فنائی صفات کا ہے جو حدیث قرب نوافل میں بیان ہواہے کہ خدا بندے کا کان آنکھ ہوجاتاہے۔ دوسرا مقام فنائی ذات ہے۔ تیسرا مقام جمع الجمع وقاب وقوسین اور مقام کمال ہے۔ جیسا کہ آیت : ’’ان الذین یبایعونک انما یبایعون اﷲ‘‘ اس کی طرف اشارہ ہے۔ چوتھا مقام مقام احدیت جمع ہے۔ اس کو مقام ادنیٰ کہتے ہیں جو کہ آیت: ’’ما رمیت اذ رمیت ولکن اﷲ رمیٰ‘‘ میں یہ لکھ کر فرماتے ہیں: ’’وایں مقام باصالت خاص بخاتم النّبیین است وبوراثت کمال متابعت اوکمل اولیاء رازیں حظی است۔‘‘(مثنوی دفتر۲ حاشیہ ص۷۷) کہ اگرچہ یہ مقام اصل میں تو خاتم النّبیینa کے ساتھ خاص ہے۔ مگر بطور وراثت اور کمال پیروی آنحضرتﷺ کے اولیاء کو ان مقامات سے حصہ ملتاہے۔

۲… شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں: ’’وھو المقام المحمود الذی لا یشارکہ فیہ لہ من الانبیاء والرسل الانبیاء امتہ‘‘

(ہدیہ مجددیہ ص۷۷) اور مقام محمود میں آنحضرتﷺ کا انبیاء اور رسولوں سے کوئی شریک نہیں سوائے ان اولیاء کے جو آپ کی امت سے ہوں۔ پس جب کہ اولیاء کو بھی یہ مرتبہ مل سکتاہے تو مسیح موعود کو ملنے میں کیا مانع ہے۔

اسی طرح شرح ’’فصوص الحکم‘‘ میں شیخ عبدالرزاق قاشانی نے لکھاہے: ’’فلہ المقام المحمود‘‘ کہ مہدی کے لئے مقام محمود ہے۔‘‘

(شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصرص۵۳)

اور سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتاہے کہ وہ ہر رسول اور نبی اور صدیق کا وارث ہوجاتاہے۔

(فتوح الغیب مقالہ۴ ص۲۳)

اسی طرح حضرت خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں ؎

  1. ازیں حضیض وناء ت چوبگذری شاید

    کہ تادنا فتدلیٰ صعود خود بینی

(دیوان معین ص۷۴)

رہا یہ امر کہ آیا ایسی آیتیں جن میں رسولﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔ وہ کسی پر دوبارہ اترسکتی ہیں یانہیں تو اس کا جواب میں کتاب ’’اثبات الالہام والبیعۃ‘‘ سے دیتا ہوں۔ مولوی عبدالجبار صاحب لکھتے ہیںکہ: ’’اگر الہام میں اس آیت کا القاء ہو جس میں خاص آنحضرت کو خطاب ہو تو صاحب الہام اپنے حق میں خیال کر کے اس کے مضمون کو اپنے حال سے مطابق کر ے گا اور نصیحت پکڑے گا۔ اگر کوئی شخص ایک آیت کو جو پروردگار نے جناب رسول اﷲa کے حق میں نازل فرمائی ہے۔ اسے اپنے پروارد کرے اور اس کے امرونہی اور تاکید وترغیب کو بطور اعتبار اپنے لئے سمجھے تو بے شک وہ شخص صاحب بصیرت اور مستحق تحسین ہوگا۔ اگر کسی پر ان آیات کا القاء ہو، جن میں

270

خاص آنحضرت کو خطاب ہے۔ مثلاً:’’الم نشرح لک صدرک‘‘ کیا نہیں کھولا ہم نے واسطے تیرے سینہ تیرا۔ ’’ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۔ فسیکفیکھم اﷲ۔ فاصبر کما صبراو الوالعزم من الرسل۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغداۃ والعشی یریدون وجھہ۔فصل لربک وانحر۔ لا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ۔ ووجدک ضآلا فھدیٰ‘‘

تو بطریق اعتبار یہ مطلب نکالایا جائے گا۔ انشراح صدر اور رضا اور انعام ہدایت جس لائق یہ ہے۔ علیٰ حسب المنزلت اس شخص کو نصیب ہوگا اور اس امرونہی وغیرہ میں ا س کو آنحضرت کے حال میں شریک سمجھا جائے گا۔‘‘

(اثبات الالہام والبیعۃ ص۱۴۲،۱۴۳)

اسی طرح سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: ’’ثم ترفع الی الملک الاکبر فتخاطب بانک الیوم لدینا مکین امین‘‘

(فتوح الغیب مع شرح فارسی مقالہ۲۸ ص۱۷۱)

یعنی جب تو مرتبہ فناء میں کمال کو پہنچ جائے گا تو تیرا خدا کی طرف رفع کیا جائے گا اور خدا تجھے مخاطب کرے گا کہ: ’’انک الیوم لدینا مکین امین‘‘ اور یہ قرآن مجید کی آیت ہے سورۂ یوسف میں موجودہے۔

مقامات امام ربانی مجدد الف ثانی مطبوعہ الف ثانی مطبوعہ دہلی کے (ص۱۳۶) پر لکھا ہے کہ: ’’مجدد الف ثانی کے سب سے چھوٹے فرزند حضرت شاہ محمد یحییٰ کے تولد سے پہلے حضرت مجدد صاحب کو الہام ہوا تھا۔ ’’انا نبشرک بغلام اسمہ یحیٰی‘‘ اسی رعایت سے ان کا محمدیحییٰ ہوا۔‘‘

اب میں حضرت خواجہ میردرد صاحب دہلوی کی تالیف’’علم الکتاب‘‘ سے وہ آیات پیش کرتاہوں جو انہیں الہام ہوئیں۔‘‘

’’تحدیث نعمۃ الرب‘‘ کے عنوان کے ماتحت فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے میرے قلب میں الہام خاص سے یہ حکم دیا ہے کہ:’’ان احکم بینھم من احکام اﷲتعالیٰ وادعھم الی الطریقہ المحمدیۃ بماانزل اﷲ فی کتابہ من الاٰیات التی ھی الشاھدات البینات علی حقیتک ولا تتبع اھوائہم واستقھم کما امرت، فان تولوا عن طریقتک الحق فقل حسبی اﷲ انما یرید اﷲ ان یصیبھم بما وعد للفاسفقین وان کثیرا من الناس لفاسقون افحکم الجاھلیۃ یبغون فی زمان یحکم اﷲ بایاتہ ما یشاء حسب رضاء رسولہ محمدk علی لسان المحمدیین الخالصین ومن احسن من اﷲ حکما لقوم یؤمنون… ھذا ما امرنی اﷲ ببیانہ وحکمنی ان احکم بہٖ بینکم فحکمت بحکمۃ بینکم بالقسط ان اﷲ یحب المقسطین ورانی ربیٰ آیاتہ الکبریٰ واعطانی کلماتہ العلیا واٰتانی ھذا الکتاب ونادانی بالخطاب حیث قال لی یا خلیفۃاﷲ ویااٰیۃ اﷲ انی شھدت بعبودتیک فاشھدانت بالوھیتی انک عبدی ومقبولی ومقبول رسولی قلت یا رب اشھد ان لاالہ انت و اشھد انک علی شی شہید…قال یا عبداﷲ ویاعارف باﷲ انی جعلتک مظھرا جامعا لکل ظہوراتی فاذھب بایاتی الی کل مخلوقاتی ودعوتک من الجمع الالٰھی والجمع المحمدی فمن اطاعک فقد اطاع اﷲ والرسول قلت یارب قبلت جمیع احکامک… وقال یا مورد الواردات ویامصدر الایات انا جعلناک آیۃ للناس لعلھم یرشدون ولکن اکثر الناس لا یعلمون قلت یارب تعلم مافی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک ان تعذبہم فا نھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم وقال قل لو کانت الحقیقۃ زائدۃ مماکشف علی لاظھرھا اﷲ علی

271

لانہ تعالیٰ اکمل لی الدین واتم علی نعمتہ ورضی لی الاسلام دینا ولو کشف الغطاء ماازددت یقینا ان ربی لذو فضل عظیم‘‘

(علم الکتاب ص۶۱)

پھر (ص۶۴) میں فرماتے ہیں:’’وقال بالالھام الشافی اذھب بکتابی ھذا واکتب الاٰیات فی کتابک والقہ الی الناس ثم قال عنھم بالتجاھل العارف فانظرماذایرجعون ایرجعون الی الانکار اویاتوننی مسلمین وانذر عشیرتک الاقربین بانذار اﷲ ورسولہ واخفض جناحک بالمحبۃ والتواضع لم اتبعک من المومنین فیٰا یھا المحمدیون الخالصون ایدنی ربی بتائید الروح الامین لا کون بنصرتہ تعالیٰ وعنایۃ رسولہm من المنذرین والمبشرین بلسان عربی مبین وانہ لھدی ورحمۃ للمومنین۔ وانی توکلت علی اﷲ ربی وفوضت امری الیہ واﷲ یحب المتوکلین وھو یھدی من یشاء ویجعلہ المحمدیین الخالصین ویضل من یشاء بانکار الطریقۃ المحمدیۃ ویجعلہ من المنکرین والمجرمین فانظرواکیف کان عاقبۃ المجرمین۔ وقال لی بالرافۃ الربانیۃ لاتحزن علیھم ولاتکن فی ضیق مما یمکرون انما ھم مکروابالنفاق ومکراﷲ ان یمدھم فی طغیانھم واﷲ خیر الماکرین۔ وما انت بھاد العمی عن ضلالتھم ان تسمع الا من یومن بایاتنافھم مسلمون فالذین یصدقونک انما یؤمنون بایاتنا والذین یکذبونک بالجھالۃ فاعلم ان الناس کانوا باٰیاتنا لا یوقنون ھذا ما ایدنی ربی بایاتہ القرآنیۃ والمنکرون لا یؤمنون حتیٰ اذاجائوانی المحشر وقال اﷲ تبارک وتعالٰی اکذبتم بایاتی ولم تحیطوا بھا علما ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لا ینطقون واﷲ علیم بالمفسدین۔ وبشر الذین اٰمنوابایاتہ واختار والمحمدیۃ الخالصۃ ان لھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابداواﷲ لا یضیع اجرالمحسنین… وانی لا اقول الا ماامرنی بہ ربی وانہ خصصنی برحمتہ الخاصۃ وھو ارحم الراحمین ولقد القی اﷲ علی قلبی من اٰیات مبینات مع انی لست بحافظ القرآن ویضرب مثلاً من الذین خلوا من قبلکم ویغظ موعظۃ للمتقین فاتقو ﷲواطیعون وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجر الا علٰی رب العالمین۔ قال مکذبون سواء علینا او عظت ام تکن من الواعظین وقالو انک لست من الاولیاء المقربین ومااٰتاک اﷲ من العلم الا قلیلاوماانت الا بشرمثلنا ان نظنک لمن الکاذبین وتکون للاولیاء کرامات وتصرفات فاسقط علینا کسفا من السماء ان کنت من الصادقین ویل للمکذبین سیرون کیف تکون عاقبۃ للمفسدین فلا یعقلون انما ھی اٰیات القرآن تتلیٰ علیھم وماھذالاکتاب مبین وھذا من فضل ربی وھو یختص بفضلہ من یشآء من عبادہ المٔومنین‘‘

مذکورہ بالا اقتباس میں قرآن مجید کی پچیس آیات ہیںجو حضرت خواجہ میردرد نے بذریعہ الہام اپنے اوراپنے مخالفین اور مومنین پرچسپاں کی ہیں اور ان میں سے بعض آیات ایسی ہیں۔ جن میں آنحضرتﷺ کوخطاب ہے۔ جیسے کہ آیت۱،۱۲،۱۳،۱۵ وغیرہ میں ہے۔

پس جب کہ گزشتہ اکابر اولیاء قرآن مجید کی آیات کا نزول بطور الہام تسلیم کرتے ہیں اور بطریق وراثت ان مقامات کا حصول جو پہلے انبیاء کو دئیے گئے۔ صحیح مانتے ہیں تو پھر کیا یہ تمام اولیاء نعوذباﷲ کا فر ومرتد تھے۔

دوسری وجہ: توہین فریق مخالف نے پیش کی ہے یہ ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ میرا نام خدانے محمد اور احمد رکھا اور اس سے

272

انہوں نے یہ غلط نتیجہ نکالاہے کہ ظلی طور پر محمد کہنے سے نبوت کا دعویٰ صاف طور پر عیاں ہے۔ اس کلمہ میں حضرت سرور عالم کی توہین ہے اور اس قدر کفریات ہیں جو غور کرنے سے معلوم ہوتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ! فریق ثانی کے گواہان کے بیانات میں درج ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی کسی کتاب میں یہ نہیں کہا کہ میں جسمانی طور سے وہی محمدa ہوں۔ جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے آئے تھے۔ بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ میں ظلی اور بروزی طور پر وہی محمدa ہوں۔ میں ان کا خادم ہوں اور وہ میرے مخدوم ہیں اور میں آپ کا ظل ہوں اور آپ اصل ہیں۔ یعنی میں آپ کی خدمت اور آپ کی شاگردی اورآپ کی اتباع میں اس قدر فنا ہواہوں گویا کہ میرا وجود آپ کے وجود سے بلحاظ روحانیت علیحدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ رسالہ ایک غلطی کے ازالہ کی عبارت سے بھی ظاہرہے۔

پھر آپ خطبہ الہامیہ میں جہاں اسی امر کا ذکر کیاہے۔ فرماتے ہیں: ’’والنسبۃ بینی وبینہ کنسبۃ من علم وتعلم‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۰، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸)

میرے اورآنحضرت کے درمیان شاگرد اور استاد کی نسبت ہے۔ یعنی آپ استاد ہیں اور میں شاگرد اور جو شخص کسی کی محبت اور عشق میں محو ہوجاتاہے۔ تو اس کامقتضاء عاشق اور معشوق اور محب اور محبوب کا اتحاد ہوتاہے۔ جیسا کہ امام ربانی فرماتے ہیں: ’’متقضائے کمال محبت رفع اثنیلیت است واتحاد محب ومحبوب۔‘‘

(مکتوبات ج۳ ص۱۵۱، مکتوب ص۸۸)

وہر کہ برقلب کسے بود عینی آنکس است وابو الحسن خرقانی کہ از روح بایزید قدس سرہ تربیت یافتہ راکہ از روح کا ملی تربیت یافتہ ودرظاہر اوراندیدہ وبصحبت اونرسیدہ بود اویسی میگونید۔‘‘

(مثنوی دفتر چہارم ص۱۵۰)

اگر یہ کہا جاوے کہ اور کوئی اس مقام پر امت محمدیہ سے نہیں پہنچا تو اس سے تمام امت کی، صحابہ کی، عشرہ مبشرہ کی، اربعہ خلفاء کی توہین لازم آتی ہے۔ لیکن اس سے کوئی توہین نہیں۔ کیونکہ علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام مہدی ان سے افضل ہوں گے۔

کتاب (حجج الکرامہ ص۳۸۶) میں امام ابن سیرین کا قول مہدی کے بارہ میں نقل کیاہے: ’’قال یکون فی ھذہ الامۃ خلیفۃ خیر من ابی بکر وعمر قیل خیر منھا قال قد کاد یفضل علٰی بعض الانبیاء‘‘ محمد بن سیرین نے کہا۔ اس امت میں حضرت ابوبکر وعمر سے بہتر خلیفہ ہوگا توکسی نے کہا کہ دونوں سے بہتر ہوگا توانہوں نے جواب دیا۔ بلکہ وہ تو بعض انبیاء سے بھی افضل ہوگا۔

پھر اسی صفحہ پر لکھاہے کہ: ’’حضرت مہدی کی حضرت ابوبکروعمرr پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ ان کا نام تو آنحضرتﷺ نے نائب رسول رکھا اور مہدی کا نائب خدا۔‘‘

اور شرح فصوص الحکم میں تویہاں تک لکھا ہے کہ: ’’مہدی جو آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے وہ احکام شرعیہ میں آنحضرتﷺ کے تابع ہوں گے۔ معارف اور علوم اور حقیقت کے علم میں تمام انبیاء اور اولیاء اس کے تابع ہیں۔ کیونکہ اس کا باطن محمدa کا باطن ہے۔‘‘

بات یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کا روحانی فیض جاری ہے اور آپ کی اتباع سے پیچھے آنے والوں کو بھی وہی نعمتیں عطاء ہوتی ہیں۔ جوپہلوں کو ملیں بلکہ بعض وقت اس سے زیادہ۔

جیسا کہ امام عبدالوہاب شعرانی نے لکھا ہے: ’’وقد یعطی اﷲتعالٰی من جاء فی اٰخر الزمان ماحجبہ عن اھل العصر الاول‘‘ بعض دفعہ اﷲتعالیٰ پچھلے زمانہ میں آنے والوں کو وہ علوم اورمعارف عطاکرتاہے جو کہ پہلوں کو نہیں دئیے۔

(طبقات شعرانی ج۲ ص۸۰)

273

اور خواجہ شمس تبریز تو یہاں تک لکھتے ہیں ؎

  1. علیؓ و خالد و رستم بگرد من نرسد

    بدست نفس مخنث چرازبوں باشم

(دیوان شمس تبریز ص۲۲۴)

اور مرزا صاحب تو صاف فرماتے ہیں کہ میں نے جو کچھ پایا وہ آنحضرتﷺ کی پیروی کی برتک سے پایا اور مجھے کسی مرتبہ کی پروا نہیں۔ صرف اعانت اسلام مد نظرہے۔ جیسا کہ فرماتے ہیں: ’’پس اس مقام پر انسان اپنے محبوب کے رنگ میں رنگین ہوکر دوئی کو اٹھا دیتاہے۔ لیکن اس مقام کو موجودہ علمائے ظواہر نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ وہ اس سے بے خبر ہیں۔‘‘

چنانچہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مرحوم کو جو خط حضرت مرزا صاحب نے ان کے خط کے جواب میں لکھا۔ اس میں ایک مثنوی ہے۔ جو کتاب (اشارات فریدی جلد سوم ص۹۸) پردرج ہے۔ اس میں آپ رسول اﷲa کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؎

  1. بسکہ من در عشق اوہستم نہاں

    من ہما نم من ہمانم من ہماں

  2. جان من ازجان اویابدغذا

    ازگریبانم عیاں شدآںذکا

  3. احمد اندرجان احمدشد پدید

    اسم من گردیدآں اسم وحید

اورخواجہ غلام فرید صاحب ا س خط کے سننے سے بدرجہ غایت مسرورہے۔

امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: ’’کمل تابعان انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات بجہت کمال متابعت وفرط محبت بلکہ بمحض عنایت وموہبت جمیع کمالات انبیاء متبوعہ خود راجذب می نمانید وبکلیت برنگ ایشاں منصبغ میگردند حتی کہ فرق نمی ماند درمیان متبوعان وتابعان الا بالاصالت والتبعیۃ والاولیۃ والآخریۃ‘‘ کہ انبیاءؑ کے کام متبع بہ سبب کمال متابعت انہی میں جذب ہوجاتے ہیں اور ان کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع اور متبوع یعنی نبی اور امتی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ سوائے اوّل وآخر ہونے کے۔

(مکتوبات مکتوب ۲۴۸ج۱ ص۲۶۶)

بلکہ بروزی طور پرفرمایاہے اور (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳) میں لکھاہے: ’’آنحضرتa کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اورمجازی طور پر اپنانام احمد اور محمد اس کو عطاکیا۔ تایہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔‘‘

لیکن صوفیاء نے اسی مقام کو عینیت کے لفظ سے تعبیر کیاہے۔ چنانچہ بحرالعلوم مولوی عبدالعلی صاحب مثنوی مولانا روم کے شعر ؎

  1. گفت زیں سو بوئے یارے میرسد

    کاندریں وہ شہر یارے میرسد

کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’بایزید چوں قطب وقت بود عین رسول بود چراکہ قطب نمی باشد مگر برقلب محمدa ؎

  1. بروئے یارکہ ہر گز نہ رتبتے خواہم

    مگر اعانت اسلام مدعا باشد

(درثمین ص۲۵۲)

تیسری وجہ توہین جو بیان کی گئی ہے۔ وہ قول: ’’لہ خسف القمر المنیر وان لی‘‘ سے اخذ کی گئی ہے۔ حالانکہ مرزاصاحب کے لئے اگر چاند اور سورج کا گرہن نشان ہوا تو وہ اسی لئے کہ احادیث کی کتب میں یہ سچے مہدی کی علامات میں سے قراردیاگیاتھا۔ پس یہ

274

نشان بھی آنحضرتﷺ کی طرف منسوب ہوگا۔ چنانچہ آپ اسی شعر سے پہلے فرماتے ہیں ؎

  1. وانی ورثت المال مال محمد

    فما انا الا الہ المتخیر

اور میں محمدa کے مال کا وارث بنایاگیاہوں۔ پس ان کی آل برگزیدہ ہوں۔ جس کو ورثہ پہنچ گیا۔

پھر فرماتے ہیں: مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا۔ ایسانہیں کہ اس کی اولاد نہ ہو۔ بلکہ ہمارے نبیa کے لئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیں اورقیامت تک ہوں گے اور ہم نے اولاد کی طرح وراثت پائی۔ پس اس سے بڑھ کر اورکون سا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے۔

پھر اس شعر کے بعد کے شعروں میں یہ بتایا کہ وہ رسول اﷲa کا ظل ہیں اور سایہ کیوں کر اپنے اصل سے مخالف ہوسکتاہے۔ پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میںچمک رہی ہے۔ پس جو آپ کے لئے نشان ظاہرہوتے ہیں، وہ آنحضرتﷺ کی ہی برکت سے ہیں۔ پس اس میں بھی کوئی بات موجب توہین نہیں ہے۔

چوتھا اعتراض: حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو افضل قرار دے کر آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے۔ کیونکہ اپنے معجزات کو آنحضرتﷺ کے معجزات سے بڑھ کر بیان کیاہے۔ چنانچہ (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۲) میں آنحضرتﷺ کے معجزات کو ۳ہزار اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) میں اپنے معجزات کو دس لاکھ اور (حقیقت الوحی ص۶۷،۶۸، خزائن ج۲۲ ص۷۰،۷۱) میں تین لاکھ بتایاہے۔

جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ تحفہ گولڑویہ میں جہاں آپ نے آنحضرتﷺ کے تین ہزار معجزات بتائے ہیں۔ وہاں اپنی پیش گوئیاں سو کے قریب لکھی ہیں۔ اپنے دس لاکھ تو ایسے نشانات بتائے ہیں کہ اگر ویسے نشانات آنحضرتﷺ کے شمار کئے جائیں تو دس ارب سے بھی زیادہ ہوں۔

کیونکہ آپ نے (براہین احمدیہ حصہ پنجم) میں ہی ان نشانوں کی تفصیل بیان کردی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۸، خزائن ج۲۱ ص۷۵)

مرزا صاحب نے جہاں معجزہ کا لفظ لکھا ہے۔ وہاں اپنی پیش گوئیاں سو کے قریب قراردی ہیں۔ لیکن جہاں تعداد تین لاکھ یا دس لاکھ بتلائی ہے۔ وہاں معجزہ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بلکہ نشان کا لفظ لکھا ہے اور نشانوں کی تفصیل کتاب (حقیقت الوحی ص۶۷،۶۸، خزائن ج۲۲، ص۷۰،۷۱) پر ہے جو الفاظ ذیل سے شروع ہوتی ہے کہ بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ جن میں خداتعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدہ کے مواقف دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا… مسیح موعود ہوں اور آپ نے جوتین ہزار معجزات لکھے ہیں تووہ گزشتہ علماء کے اقوال کے مطابق ہیں کیونکہ بعض نے تو آپ کا ایک ہزار معجزہ قراردیاہے۔ جیسا کہ سید عبدالقادر (غنیۃ الطالبین ج۱ ص۶۶) میں فرماتے ہیں۔

آنحضرتﷺ کو وہ تمام معجزات دئیے گئے جو پہلے انبیاء کو عطا ہوئے اور ان سے زائد بھی ’’وقد عدھا بعض اھل العلم الف معجزۃ‘‘ اوربعض علماء نے ان معجزات کو ایک ہزار تک شمار کیاہے اور بعض نے دو ہزارلکھے ہیں۔ جیسا کہ مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب استفسار میں فرماتے ہیں۔ حضور سرورکائناتa کے معجزات اسی طرح یعنی باسناد صحیحہ متصلہ تخمیناً دوہزار ثابت ہیں۔

اور بعض نے بارہ سوا وربعض نے تین ہزار معجزات لکھے ہیں۔ جیسا کہ (فتح الباری ج۶ ص۴۲۵) میں لکھاہے۔ لیکن مرزاصاحب کا اپنا عقیدہ آنحضرتﷺ کے معجزات کے متعلق یہ ہے۔

275

’’اسلام توآسمانی نشانوں کا سمندر ہے۔ کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبیa سے کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات ان کے ساتھ ہی مر گئے۔ مگر ہمارے نبیa کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اورقیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے اور جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہواہے۔دراصل وہ سب آنحضرتﷺ کے معجزات ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۳۵، خزائن ج۲۲ ص۴۶۸،۴۶۹)

اسی طرح (تریاق القلوب ص۶،۷، خزائن ج۱۵ ص۱۴۰،۱۴۱) میں فرماتے ہیں: ’’میں اس خدا کی قسم کھا کرکہتاہوں۔ جس کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سیدنا محمدa کی روحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اورکمال کایہ ثبوت دیاہے کہ میں نے اس کی پیروی سے اور اس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اترتے ہوئے اوردل کایقین کے نور سے پر ہوتے پایا… اے تمام وہ انسانی روح جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو، میں پورے زورکے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتاہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خداہے جو قرآن نے بیان کیا اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والانبی اور جلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفیa ہے۔ جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اس کی پیروی اور محبت سے ہم روح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔‘‘

پس مذکورہ بالا عبارات سے ظاہر ہے۔ حضرت مرزا صاحب کو بھی جو نشانات ملے ہیں۔ وہ بھی رسول اﷲa کی پیروی کا نتیجہ ہیں اور درحقیقت وہ آپ کی طرف منسوب ہیں۔ پس یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو آنحضرتﷺ پر فضیلت دی ہے۔ محض افتراء ہے۔ فریق مخالف نے یہ بھی کہا کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو یوسفm پر فضیلت دی۔ جس سے ان کی توہین ہوئی۔ حالانکہ آپ نے صرف ایک وجہ فضیلت بیان کی ہے، وہ یہ ہے۔

یوسفm نے یہ دعاء کی تھی کہ اے میرے رب مجھے قیدبہتر ہے۔ اس چیز سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اور یہی کلمہ اﷲتعالیٰ نے مجھے بھی الہام کیا اور مجھے خداتعالیٰ نے قید ہونے سے بچالیا۔ کیونکہ (براہین احمدیہ ص۵۱۰) میں میری نسبت خداتعالیٰ نے یہ خبردی تھی کہ: ’’یعصمک اﷲ من عندہ وان لم یعصمک الناس‘‘ یعنی خدا تعالیٰ تجھے خود بچالے گا۔ اگرچہ تیرے پھنسانے پر آمادہ ہوں۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۶، خزائن ج۲۱ ص۹۹)

پھر (ص۸۹، ۹۰، خزائن ج۲۱ ص۱۱۷) پر آپ نے اصولی طورپرلکھاہے: ’’اورجو کچھ خداتعالیٰ نے گزشتہ نبیوں کے ساتھ رنگارنگ طریقوں میں نصرت اور تائید کے معاملات کئے ہیں ان معاملات کی نظیر بھی میرے ساتھ ظاہر کی گئی ہے۔‘‘

پس ایک نبی کا دوسرے نبی پر کسی وجہ سے فضیلت کا اظہار کرنا دوسرے نبی کی توہین نہیں ہے۔ بلکہ اکابرامت نے تویہاں تک تسلیم کیاہے کہ جزئی فضیلت تو ولی کوبھی نبی پرہو سکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰm اور خضرm کے واقعہ سے ظاہر ہے۔ موسیٰm کو وہ علم نہیں دیاگیا تھا جو خداتعالیٰ نے اس عبدصالح کو عطاء کیاتھا۔

پس یہ جزئی فضیلت حضرت موسیٰ کی توہین کا موجب نہیں تھی۔

چنانچہ (ہدیہ مجددیہ ص۶۵ بحوالہ بدائع) میں لکھا ہے:’’یجوزفضل الجزئی للولی علی النبی‘‘ کہ جزئی فضیلت ولی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘ پھر(ص۶۸) میں مجدد الف ثانی کا قول لکھا ہے: ’’وایں قسم فضل ولی برنبی جائز داشتہ اند کہ جزئی است کہ مجال معارضہ بکلی ندارد۔‘‘

اورآنے والے مہدی کے متعلق پہلے ابن سیرین کا قول درج کیاجاچکاہے۔’’وہ قریب ہے کہ بعض انبیاءؑ سے بھی افضل ہو۔‘‘

276

قلائد الجواہر فی مناقب الشیخ عبدالقادر میں لکھاہے: خضرm دوسرے اولیاء کی طرح میراامتحان لینے کے لئے آئے، تو کہتے ہیں کہ میں نے مقابلہ کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اے خضر! کہ اگر تونے موسیٰm سے یہ کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر کی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن میں تجھے کہتاہوں تو میرے ساتھ صبر کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ تو اسرائیلی اور میں محمدی ہوں۔ پس آپ نے بھی بوجہ اس فضل ورحمت جو آپ کو آنحضرتﷺ کا امتی ہونے کی وجہ سے حاصل تھی۔ ایسی بات کہی جو حضرت موسیٰm بھی نہیں کہہ سکے تھے۔ پس اگر کسی جزوی فضیلت کی وجہ سے کسی دوسرے کو کسی نبی پر فضیلت حاصل ہوتو اس میں سے اس کی توہین لازم نہیں آتی۔ پھر فریق مخالف نے توہین کے متعلق بھی کہاہے۔ حضرت مرزا صاحب نے کہا ہے کہ شیطان اس لڑائی میں جو حضرت آدم سے ہوئی، غالب آیا اور اس نے حضرت آدمm کو اپنی دشمنی کی وجہ سے جنت سے نکلوایا۔ جس کی وجہ سے آپ کو انواع واقسام کی تکالیف ومصائب برداشت کرنی پڑیں تو اس میں کوئی امر موجب توہین نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا ذکر تو خود اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید فرمایاہے کہ: ’’فازلھما الشیطان عنھا فاخرجھما مما کانا فیہ وقلنا اھبطوا بعضکم لبعض عدو (بقرہ:۳۶)‘‘ پس شیطان نے ان کو وہاں سے (یعنی جنت سے) اکھاڑدیا اور جس آرام میں وہ تھے۔ اس سے ان کو نکلوا چھوڑا اورہم نے حکم دیاہے کہ سب یہاں سے چلے جائوتم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔

اسی طرح فرمایا:’’ہم نے آدم سے کہا: ’’ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (طٰہٰ:۱۱۷)‘‘ کہ یہ ابلیس تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ایسا نہ ہو کہ تم کو بہشت سے نکلوائے۔ پس تو دکھی ہوجائے اور تمہاری شامت آجائے۔ پھر فرمایا کہ: شیطان نے آدمm کوپھسلایااورآخر ’’وعصٰی اٰدم ربہ فغویٰ (طٰہٰ:۱۲۱)‘‘ آدمm نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور تنگی میں پڑگئے۔‘‘

پس اسی مقابلہ کی طرف آپ نے خطبہ الہامیہ میں اشارہ فرمایاہے اور پھر لکھا ہے: ’’وان الحرب سجال وللاتقیاء مآل عند الرحمن‘‘ کہ لڑائی ڈول کی طرح ہے۔ کبھی ایک فتح پاتاہے تو کبھی دوسرا ۔ لیکن انجام کار غلبہ خدا کے نزدیک متقیوں کے لئے ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ: شیطان کو ہزیمت دینے کے لئے اﷲتعالیٰ نے مسیح موعود کو پیدا کیا۔ تاکہ شیطان کو شکست دینے کا وعدہ جو قرآن میں تھا، وہ پورا ہو۔ یعنی شیطان کی کامل شکست کا ظہور مسیح موعودکی بعثت کا زمانہ تھا چونکہ شیطان کا کوئی جسمانی وجود نہیں ہے۔ جس سے مقابلہ کیاجائے۔ بلکہ وہ اپنی قوت کااظہار ان انسانوں کے ذریعے سے کرتاہے جو اس کے رنگ میں رنگین ہوتے ہیں۔ چنانچہ شیطان کاکامل مظہر دجال ہے، جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہوچنانچہ آپ نے فرمایا ہے۔

’’اورجیسا کہ آدم نحاش کے ساتھ آزمایا گیا۔ جس کو عربی میں خناس کہتے ہیں۔ جس کا دوسرا نام دجال ہے۔ ایسا ہی اس آخری آدم کے مقابل پرنحاش پیدا کیاگیا۔ تاوہ زن مزاج لوگوں کو حیات ابدی کی طمع دے۔ جیسا کہ حوا کو اس سانپ نے دی تھی جس کا نام توریت میں نحاش اور قرآن میں خناس ہے۔ لیکن اب کی دفعہ مقدر کیاگیاہے کہ یہ آدم اس نحاش پر غالب آئے گا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۶ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۷۴،۲۷۵)

اور پھر (ص۱۰۷ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۲۷۵،۲۷۶) میں فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اس نے سورۂ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا اور قرآن شریف کو خناس پر تادانش مند انسان سمجھ سکے کہ حقیقت اور روحانیت میں یہ دونوں نام ایک ہی ہیں اور دجال کے متعلق آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اس کا فتنہ سب فتنوں سے بڑھ کرہوگا۔‘‘ پھر فرمایا کہ: ’’نوحm سے لے کر جتنے انبیاء آئے وہ

277

سب دجال کے فتنہ سے ڈراتے رہے اوریہ مسلّم ہے کہ دجال کا قاتل مسیح موعود ہے اور حضرت مسیح موعود نے شیطان کے قتل سے مراد دجال کا قتل ہی لیا ہے۔‘‘

قرآن مجید میں دین اسلام کے تمام ادیان پر غالب آنے کی جو پیش گوئی ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود اور مہدی کے وقت پوری ہوئی تھی۔ جیسا کہ مولانا اسماعیل شہید اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’وظاہر است کہ ابتدائے ظہوردین درزمان پیغمبرa بوقوع آمدہ واتمام آن از دست حضرت مہدی واقع خواہد گردید۔‘‘

(منصب امامت ص۵۶)

پس جب دلائل کے رو سے شیطانی حجتیں کٹ جائیں گی، اسلام چاروں طرف پھیل جائے گا، حسب فرمان نبوت کہ مسیح موعود کے زمانہ میں تمام ملل باطلہ ہلاک ہوجائیں گی اور ہر ہمت میں اسلام کا جھنڈا ہی لہرائے گا تووہ شیطان کا قتل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی آیت بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب ’’خطبہ الہامیہ‘‘ اور ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں اس بات پر مفصل بحث کی ہے۔

مرزا صاحب کے متعلق یہ بھی کہا کہ آپ نے حضرت مسیحؑ سے اپنے آپ کو افضل قرار دے کر توہین کی ہے اور ایسے طور پر اپنی فضیلت کا اظہار کرنا۔ جس سے فوق متصورہو۔ وہ دوسرے کا موجب توہین ہوتاہے۔حضرت مسیح موعود نے جو کچھ اپنی فضیلت کے متعلق تحریر فرمایاہے۔ وہ کوئی موجب توہین نہیں ہے اور اگر تحدیث نعمت کے طور پر اتنی فضیلت کا اظہار کرنا توہین ہے تو نعوذباﷲ! آنحضرتﷺ پر بھی یہ الزام آئے گا کہ آپa نے حضرت موسیٰm کی توہین کی ہے۔

ایک حدیث میں آتاہے کہ حضرت عمرq ایک دفعہ تورات کا ایک نسخہ آنحضرتﷺ کے پاس لائے اور کہا یہ تورات ہے، آپa سن کر خاموش ہوگئے۔ حضرت عمرq اسے پڑھنے لگے تو رسو ل اﷲa کا چہرہ انور متغیر ہونے لگا۔ اس پر ابوبکرq نے حضرت عمرq کو توجہ دلائی۔

حضرت عمرq نے کہا: ’’رضیت باﷲ رباً وبالاسلام دیناً وبمحمد نبیاً‘‘ اس پر رسول اﷲa نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ’’لوبدالکم موسٰی فاتبعوہ وترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیاوادرک نبوتی لا تبعنی (مشکوٰۃ ص۲۷۲)‘‘ یعنی موسیٰ اگراس وقت ظاہر ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرتے تو تم سیدھے راستے سے ضرور گمراہ ہوجاتے اوراگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔ دوسری روایت میں ہے: ’’لوکان موسٰی حیا لما وسعہ الّا اتباعی‘‘ کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سواچارہ نہ ہوتا۔ اب یہاں رسول اﷲa نے صریح طور پر اپنی فضیلت کا اظہار موسیٰm پر فرمایا اور ولا فخر ارشاد نہیں کیا۔

پس اس طرح مرزاصاحب کا اپنے مثیل حضرت عیسیٰؑ پر اپنی فضیلت کاجوان کو بوجہ آنحضرتﷺ کے خلیفہ ہونے کے حاصل ہے۔ اظہار کرنا ہر گز موجب توہین نہیں ہے۔

مرزا صاحب فرماتے ہیں: یادر ہے کہ اس بات کو اﷲتعالیٰ خوب جانتاہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے۔ نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلائوں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہترٹھہرائوں خدا نے میرے ضمیر کی اپنی پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتاہے: ’’قل اجر دنفسی من ضروب الخطاب‘‘ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا۔ یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برترہے اور کوئی خطاب دینا یہ خداکا فعل ہے۔ میرا اس میں دخل نہیں ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)

278

پھر (ص۱۵۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵۷) میں فرماتے ہیں: ’’خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کاتابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا۔اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی۔ اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیحؑ کووہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔ ’’وھذا تحدیث نعمۃ اﷲ ولافخر‘‘ اس کے آگے عبارت ذیل بھی جو تسلی دے رہی ہے، تک ختم ہوتی ہے قابل ملاحظہ ہے۔

پس مرزاصاحب کو عیسیٰؑ پر جو فضیلت حاصل ہوئی تو وہ آنحضرتﷺ کا متبع اور امتی ہونے کی وجہ سے ہے اور علماء خود مانتے چلے آئے ہیں کہ حضرت موسیٰm نے بھی یہ خواہش کی تھی کہ: ’’اللھم اجعلنی من امۃ محمدa‘‘ (بحر المعانی مصنفہ حضرت سید محمدبن نصیر الدین جعفری المکی الحسینی ص۱۶) کہ اے اﷲ مجھے امت محمدa سے کیجیئو۔ پس یہ تمنا کیوں تھی وہ اس لئے کہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے ایسے ایسے کمالات ملتے ہیں جو امم سابقہ میںنہیں پائے گئے۔ اسی لئے حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں ؎

  1. ہم ہوئے خیرامم تجھ سے ہی اے خیر رسل

    تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے

(دافع الوساوس ص۲۲۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)

  1. عیسیم لیکن ہر آن کو یافت جان

    ازدم من او بماند جاوداں

  2. شدز عیسیٰ زندہ لیکن بازمرد

    شاد آنکو جاں بدیں عیسیٰ سپرد

یعنی میں وہ عیسیٰ ہوں جس نے مجھ سے زندگی پائی وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور حضرت عیسیٰؑ کے ہاتھ پر جو مردے زندہ ہوئے وہ پھرمر گئے۔ مگر خوش ہووہ شخص جس نے اپنے آپ کو اس عیسیٰ کے سپرد کیا۔

(مثنوی دفتر چہارم ص۸۸)

اسی طرح حضرت شمس تبریز اپنے دیوان میں فرماتے ہیں ؎

  1. آنچہ از عیسیٰ و مریم فوت شد

    گرمرا باور کنی آن ہم شدم

یعنی جو مرتبہ عیسیٰ اورمریم نہیں پاسکے وہ مجھے حاصل ہوگیا۔

(دیوان شمس تبریز ص۲۱۲)

اگر مسئلہ فضیلت انبیاء موجب توہین انبیاء ہوتا پھر کسی رسول کو بھی دوسرے رسول پر فضیلت نہ ہوتی اور ماننا پڑتا کہ امت محمدیہ جو آنحضرتﷺ کو تمام انبیاء پر فضیلت دیتی ہے اور باتصریف فضیلت دیتی ہے۔وہ بھی دوسرے انبیاء کی توہین کرتی ہے۔ حالانکہ ایسا کوئی نہیں مانتا۔

شیخ محمود الحسن صاحب نے مولوی رشید احمد گنگوہی کا جومرثیہ لکھاہے۔اس میں ایسے اشعار بھی ہیں جن سے مسیحؑ کی توہین لازم آتی ہے اور وہ یہ ہیں۔

  1. زباں پر اہل اہواء کی ہے کیوں اعل ہبل شاید

    اٹھا عالم سے کوئی بانی اسلام کا ثانی

(مرثیہ ص۶)

279

اس شعر میں رشید احمد گنگوہی کو آنحضرتﷺ کا ثانی قراردیاگیاہے۔

  1. مسیحائے زمان پہنچافلک پر چھوڑ کر سب کو

    چھپا چاہ لمحد میں وائے وقعت ماہ کنعانی

(مرثیہ ص۶)

  1. قبولیت اسے کہتے ہیں مقبول ایسے ہوتے ہیں

    عبید سود کا ان کے لقب ہے ماہ کنعانی

(مرثیہ ص۱۱)

ان دونوں شعروں میں مولوی رشید احمد گنگوہی کی ایسے میں تعریف کی گئی ہے۔ جس سے حضرت یوسفm کا استخاف ہوتاہے۔

  1. پھریں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا راستہ

    جو رکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق وشوق عرفانی

گویا کعبہ شریف میںجو بیت اﷲ ہے۔ وہ عرفان الٰہی لوگوں کو حاصل نہ ہوسکتاتھا جو گنگوہ میں حاصل ہوسکتا تھا۔

  1. تمہاری تربت انور کو دے کر طور سے تشبیہ

    کہوں ہوں باربار آرنی مری ویکھی بھی نادانی

اس میں گنگوہی کی قبر کو طور سے تشبیہ دی ہے۔ جس پر اﷲتعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر تجلی فرمائی تھی۔ پھر آگے حضرت مسیحؑ پر گنگوہی کو اس طرح فضیلت دیتے ہیں۔

  1. مردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا

    اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم

لیکن ان اشعار کے قائل ان کے نزدیک مسلمان ہیں۔

دوسری بات جو فریق مخالف نے موجب توہین قراردی ہے۔ وہ حضرت مسیح موعودکامندرجہ ذیل شعر ہے۔

  1. اینک منم کہ حسب بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تابنہد پابمبنرم!!

(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

حالانکہ اس شعر کا توصرف یہ مطلب ہے کہ میں رسول اﷲa کی بشارات کے مطابق آیاہوںتو اب عیسیٰ کیوںکرامت محمدیہﷺمیں آسکتے ہیں اور اگلے شعر میںان کے نہ آنے کی یہ وجہ بیان کی ہے۔

  1. آنرا کہ حق بجنت خلدش مقام داد

    چوں برخلاف وعدہ بروں آرواز ارم

(ازالہ اوہام ص۱۵۹، خزائن ج۳ ص۱۸۱)

کہ انہیں تو اﷲتعالیٰ نے جنت میں جگہ دی ہے تو وہ اﷲتعالیٰ کے وعدہ ’’وما ھم منھا بمخرجین‘‘ کہ جنت سے کوئی نہیں نکالا جائے گا،کیونکر دنیا میں پھر آسکتے ہیں۔

پھر اس سے اگلے شعر میں اپنے مسیح ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہیں ؎

  1. چوں کافر ازستم بپرستد مسیح را

    غیوریٔ خدا بسرش کرد ہمسرم

  2. رویک نظر بجانب فرقان زغور کن

    تابرمنکشف شود ایں راز مضمرم

(ازالہ اوہام ص۱۵۹، خزائن ج۳ ص۱۸۱)

اسی طرح دوسراشعر جو اس ضمن میں گواہوں نے موجب توہین سمجھا ہے یہ ہے۔

280
  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

حالانکہ اس میں بھی وہی مضمون ادا کیاگیا ہے کہ تم امت محمدیہﷺکی اصلاح کے لئے مسیح اسرائیل کے انتظار میں آسمان کی طرف آنکھیں لگائے بیٹھے ہو، جس کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں ایک نبی کی ضرورت ہے۔ لیکن امت محمدیہﷺکو اس نعمت سے محروم خیال کر کے مسیح موسوی کی راہ تک رہے ہو۔

پس اس لئے ابن مریم کے ذکر کو کہ وہ آسمان سے آئیں گے چھوڑوکیونکہ آنحضرتﷺ کے ایک خادم نے اس مرتبہ کو پایاہے جو اس سے بہتر ہے۔ چنانچہ ان شعروں سے پہلے آپ نے فرمایاہے: ’’عیسائیوں نے شورمچا رکھاتھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کی رو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتاہے کہ دیکھو! میں اس کا ثانی پیداکروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے۔جو غلام احمد ہے یعنی احمدکا غلام۔‘‘

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

پس اس شعر سے نکلتاہے تو یہی کہ جیسے امت محمدیہﷺامت موسویہ سے افضل ہے اور اس میں امت موسویہ کی ہتک نہیں اور جیسے آنحضرتﷺ جو مثیل موسیٰ ہیں اور اس میں موسیٰ کی ہتک نہیں۔ اس طرح مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے اور اس میں مسیح موسوی کی ہتک نہیں۔ اگرحقیقی فضیلت کا اظہار کفرہوتاتوتمام امت محمدیہﷺکے افراد جو آنحضرت کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کا اظہار کرتے ہیں، کافرہوتے۔

تیسرا امر: جوفریق مخالف نے موجب توہین بیان کیاہے وہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں مسیح کے معجزات کو مسمریزم کی قسم سے ماناہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودان کے معجزات کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ؎

  1. معجزات انبیاء سابقین

    آنچہ در قرآن بیانش بالیقین

  2. پر ہمہ از جان و دل ایمان ماست

    ہر کہ انکار کند از اشقیا است

اگرکہا جائے کہ معجزات مان کر ظاہری معانی میں نہ لینا کفرہے تو پھر وہ تمام علماء بھی کافرہوں گے، جنہوں نے ان آیتوں کو ظاہر پر محمول نہیں کیا۔ جن میں مسیح کے معجزات کا ذکرہے۔ جیسا کہ مولوی آل حسن صاحب استفسار میں ’’ابریٔ الاکمہ والابرص‘‘ کے معنی لکھتے ہیں۔ آنکھیں کھولنے اور اچھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ جس مذہب کو میں حق جانتاہوں اسے بعض لوگوں نے اختیار کیا۔ یعنی بیماری کفر اور نابینائی ضلالت سے پاک ہوتے جاتے ہیں۔‘‘

(استفسار برحاشیہ ازالۃ الاوہام ص۱۳۵)

اس طرح مرزاصاحب فرماتے ہیں: ’’چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہواہے۔ اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں، جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا اور اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔

(ازالہ اوہام ص۳۰۴ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۵)

مرزاصاحب (شہادۃ القرآن ص۷۸ حاشیہ، خزائن ج۶ ص۳۷۲) پر لکھتے ہیں کہ: ’’ ایک صاحب ہدایت اﷲ نام جنہوں نے انکار معجزات عیسوی کا الزام اس عاجز کو دے کر ایک رسالہ بھی شائع کیاہے۔ وہ اپنے زعم میں ہماری کتاب ازالہ اوہام کی بعض عبارتوں سے یہ

281

نتیجہ نکالتے ہیں کہ گویا ہم نعوذباﷲ! سرے سے حضرت مسیحؑ کے معجزات سے منکرہیں۔ مگر واضح رہے کہ ایسے لوگوں کی اپنی نظر اور فہم کی غلطی ہے اور ہمیں حضرت مسیحؑ کے صاحب معجزات ہونے سے انکارنہیں۔‘‘

اسی طرح مخالفین کے اعتراضات کاجواب دیتے ہوئے ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’مخالف لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص حضرت مسیحؑ کے خالق طیور اور محی اموات ہونے کا منکر ہے اور اس کو نہیں مانتا۔ مگر میرا جواب یہ ہے کہ میں حضرت مسیح کے اعجازی احیاء اور اعجازی خلق کو مانتاہوں۔ ہاں! اس بات کو نہیں مانتاہوں کہ حضرت مسیح نے خداتعالیٰ کی طرح حقیقی طور پرکسی مردہ کو زندہ کرنے اور پرندہ پیدا کرنے کو تسلیم کیا جائے تو اس سے خداتعالیٰ کی خلق اور اس کا احیاء مشتبہ ہوجائے گا۔ مسیحؑ کے پرندوں کا حال عصائے موسیٰ کی طرح ہے جیسے وہ سانپ کی طرح دوڑتاتھا۔ مگر ہمیشہ کے لئے اس نے اپنی اصل حالت کو نہ چھوڑاتھا۔ ایسا ہی محققین نے لکھاہے کہ: مسیح کے پرندے لوگوں کے نظرآنے تک اڑتے تھے۔ لیکن جب نظر سے اوجھل ہوجاتے تو زمین پر گرپڑتے اور اپنی پہلی حالت پر آجاتے تھے اور خلق طیر کے معجزہ کی طرح مسیحائی کا احیاء بھی حقیقی رنگ کا نہ تھا کہ مردہ کی طرف اس کے تمام لوازم حیات لوٹ آتے ہوں۔ بلکہ حضرت مسیح کے اعجازی طور پرمردہ میں زندگی کی ایک جھلک نمودار ہوتی تھی جو آپ کے تشریف لے جانے کے بعد ختم ہوجاتی تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۱تا۳۱۲ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۳تا۲۵۹) میں حضرت مسیح موعود نے انبیاء کے معجزات کی دوقسمیں بیان کی ہیں: ’’ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کوکچھ دخل نہیں ہوتاجیسے شق القمر جو ہمارے سید ومولیٰ نبیa کا معجزہ تھا۔ دوسرے عقلی معجزات ہیں جواس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔جو الٰہی الہام سے ملتی ہے۔ جیسے حضرت سلمان کا محل والا معجزہ جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔ پھر آپ نے حضرت مسیح کے معجزہ خلق طیر کو ازقبیل معجزات قسم ثانی لکھاہے۔ پس جب کہ حضرت مسیح موعود نے یہ تسلیم کیاہے کہ جو کچھ حضرت مسیحؑ نے خدا کے حکم اور اذن سے کیا اور جس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکاوہ معجزہ تھا۔ چاہے وہ عمل الترب ہی کیوں نہ ہو بہر حال وہ جب بحکم الٰہی ہو اورحد اعجاز کو پہنچا ہوا ہو تو وہ معجزہ ہوگا۔ آپ نے تسلیم کیاہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسیع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے اور عمل الترب کے متعلق کہتے ہیں۔ اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الہام ہوا۔ ’’ھذاھوالترب الذی لایعلمون‘‘ یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔‘‘

رہا یہ سوال کہ آپ نے خود اسے پسند نہ کیاوہ اس لئے کہ اﷲتعالیٰ اپنے ماموروں کو زمانہ کے لحاظ سے نقصانات دیتاہے اور انہیں اس زمانہ کے مناسب قویٰ اور طاقتیں دی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس علمی زمانہ میں ایسے معجزات دکھانے کی ضرورت نہ تھی اس لئے لکھتے ہیں کہ: ’’مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پرہمارے نبیa نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جوان کی فطرت میں مرکوز تھے، باذن وحکم الٰہی اختیارکیاتھا۔ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۰ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

پس مرزاصاحب نے حضرت مسیح کے معجزات کو معجزات تسلیم کیاہے اور ان کے کسی معجزہ پر کوئی تحقیر وتوہین نہیں کی۔

(کشتی نوح ص۶۵ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۱) کی عبارت سے فریق مخالف نے یہ استدلال کیاہے کہ مسیح کو شراب پینے والا قرار دے کر ان کی توہین کی ہے۔ کشتی نوح میں حضرت مسیح موعودقرآن وانجیل کی تعلیم کا مقابلہ کررہے ہیں اور ظاہرہے کہ اس مقابلہ سے یہ مد نظر ہے کہ عیسائیوں کو بتایاجائے کہ قرآن مجید کی تعلیم تمہاری انجیل کی تعلیم سے نہایت اعلیٰ اور پاک ہے۔ اس وجہ سے اس حاشیہ میں عیسائیوں کے

282

مقابلہ مسلمانوں کو مخاطب کیاگیاہے۔ پس اس سے مراد یہ ہے کہ یورپ والے اگر شراب پیتے ہیں توان کی یہ دلیل ہے کہ عیسیٰؑ شراب پیا کرتے تھے۔ مگر اے مسلمانو! تم کس دلیل سے شراب پیتے ہو۔ ہاں! آپ نے مسیحؑ کے شراب پینے کی ایک توجیہ بیان کردی ہے کہ انہوں نے اگر شراب پی ہو تو وہ کسی بیماری کی وجہ سے پی ہوگی یا انہیں کوئی پرانی عادت چلی آتی ہوگی۔ خود علماء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ پہلے انبیاء کی شریعتوں میں شراب حرام نہ تھی یہ صرف امت محمدیہﷺپر حرام کی گئی۔

(شرح فقہ اکبرملاعلی قاری ص۱۷۰)

پس اگریہ تسلیم کر لیاجائے کہ مسیح نے بھی کسی نامعلوم وجہ سے (بیماری وغیرہ) شراب پی لی تواس سے ان کی توہین کیسے لازم آئی اور عیسائی اس بات کو خو د تسلیم کرتے ہیںکہ وہ شراب پیتے تھے۔

(ازالۃ الاوہام ص۳۷۰ اور اس کے حاشیہ پر استفسارص۳۵۲)

پانچواں حوالہ: فریق مخالف نے (دافع البلاء ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰ حاشیہ) سے پیش کیاہے،جو یہ ہے: ’’لیکن مسیح کی راست بازی سے لے کر…مانع تھے۔‘‘ اس حوالے سے فریق مخالف نے یہ سمجھاہے کہ یہاں قرآن کی جوآیت پیش کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان تمام قصوں کو جو بیان ہوئے مرزا صاحب صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن ایسا خیال کرنا صحیح نہیں ہے۔ ورنہ اس سے توصرف عیسیٰ ہی نہیں بلکہ دوسرے انبیاء ابراہیم واسماعیل ودائود وموسیٰo وغیرہ کے متعلق بھی یہی ماننا پڑے گا کہ ان کے ساتھ بھی ایسے واقعات ہوئے۔ تب ہی ان کا نام قرآن میں حصور نہیں رکھا گیا۔ بلکہ ساری غلطی اس بات سے لگتی ہے کہ وہ مخاطب کے حالات کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دیکھو یہ حاشیہ جس عبارت کے متعلق ہے اس میں عیسائی مخاطب ہیں۔

چنانچہ آپ مسیحؑ کے متعلق فرماتے ہیں: ’’وہ حقیقی منجی نہیں تھا۔ یہ اس پر تہمت ہے کہ وہ حقیقی منجی تھا۔ حقیقی منجی ہمیشہ اورقیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھااورتمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیاتھا۔‘‘

(دافع البلاء ص ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹،۲۲۰)

اور پھر اسی صفحہ کے حاشیہ میں ہی لکھتے ہیں: ’’جن لوگوں نے ان کو خدا بنایاہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدا کی صفات انہیں دی ہیں جیسا کہ ہمارے مخالف۔‘‘

چونکہ عیسائی اور ایسے نام کے مسلمان قرآن مجید کی آیتوں سے ان کی فضیلت ثابت کرتے ہیں، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مسیح کے حق میں ’’غلاماً زکیا‘‘ کا لفظ آیا اور کسی نبی کے حق میں نہیں آیا۔ اس لئے معلوم ہواکہ دوسرے انبیاء گناہوں سے پاک اور بے عیب نہیں تھے یا ’’بل رفعہ اﷲ‘‘ پیش کرتے ہیں کہ اورکسی کا ایسا رفع نہیں ہوا تو ایسے لوگوں کو یہ جواب دیاگیاہے کہ اگر اسی طرح عیسیٰ کی دوسرے انبیاء پر فضیلت ثابت ہوسکتی ہے تو حضرت یحییٰm کی مسیح پر فضیلت ثابت ہوگی۔ کیونکہ اس کے متعلق قرآن مجید میں حصور آیاہے اور مسیح کے متعلق نہیں۔ چنانچہ اگلی عبارت اس مفہوم کو بالکل واضح کردیتی ہے کہ یہ آپ کا اعتقاد نہیں اور وہ یہ ہے۔ اس کی وجہ بیان کردی جو عیسائیوں کے نزدیک مسلّم تھی۔ کیونکہ یہ باتیں اناجیل میں موجود ہیں۔

’’اورپھریہ کہ حضرت عیسیٰؑ نے یحییٰm کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیابنایاگیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو ببداہت ثابت کرتی ہے۔ کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیاگیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔ پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر تھا اور مسلمانوں میں یہ جو مشہورہے کہ عیسیٰ اور اس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں۔ اس کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذباﷲ! شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اس افتراکاردضروری تھا۔ اس

283

حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسیٰؑ اور ان کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ صحیح نہیں ہیں، بلکہ ان معنوں کرکے وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو کبھی پیش نہیں آیا۔‘‘

(دافع البلاء ص ٹائٹل حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

پس عبارت کے آخری فقرے حضرت مسیح موعود کا عقیدہ بتارے ہیں کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ تمام شیطانی کاموں سے پاک تھے اور اس سے پہلے جو کچھ آپ نے لکھا وہ الزامی اور عیسائیوں کے مسلمات پر ہے۔

چھٹا حوالہ: (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴تا۸، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸تا۲۹۲) سے کا پیش کیاگیا ہے۔ بعض عبارتیں جو یسوع کے متعلق ہیں، ان کے متعلق کہا ہے کہ ان میں حضرت عیسیٰ کی توہین کی گئی ہے۔ کیونکہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہی شخص کے دونام ہیں۔ پس پہلے میں اہل سنت والجماعت کے ان علماء کے اقوال پیش کرتاہوں جو فن مناظرہ میں غایت درجہ کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک مولوی سید آل حسن صاحب وہ اپنی کتاب استفسار میں جو ازالۃ الاوہام مولوی رحمت اﷲ صاحب مہاجر مکی کی کتاب کے حاشیہ پر چھپی ہے۔

تحریر فرماتے ہیں: ’’کیا وجہ کہ مریم کا بیٹا خدا ہو اور کو سلیا کا بیٹا یعنی رام چندر اور دیو کی کا بیٹا کنہیا خدا نہ ہو۔

حضرت عیسیٰ کا بن باپ ہونا تو عقلاً مشتبہ ہے۔ اس لئے کہ حضرت مریم یوسف کے نکاح میں تھیں۔ چنانچہ اس زمانے کے معاصرین لوگ یعنی یہود جو کچھ کہتے ہیں سو ظاہر ہے۔

(ص۲۲)

اور ذرا گریبان میں سرڈال کر دیکھو کہ معاذاﷲ! حضرت عیسیٰ کے نسب نامہ مادری میں دو جگر تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو۔(یعنی تا مارا اور ادریا)

(ص۷۳)

دوسرا یہ کہ حضرت عیسیٰ اپنے مخالفوں کو کتا کہتے تھے۔ اگر ہم بھی ان کے مخالفوں کو کتا کہیں تو دینی تہذیب اخلاق سے بعید نہیں، بلکہ عین تقلید عیسوی ہے۔

(ص۹۸)

شجاعت حضرت عیسیٰ کی صحبت سے حواریوں کو نہیں حاصل ہوئی تھی۔ پس تربیت حضرت عیسیٰ کی از روئے حکمت کے بہت ہی ناقص ٹھہری۔

(ص۱۰۷)

حضرت عیسیٰ سے جیسی عداوت یہودیوں کو تھی سو ظاہر ہے اور آنحضرت کا بے کس اور تنہاء ہونا بھی ظاہرہے۔

(ص۱۲۸)

ازاں جملہ کلیتاً یہ بات ہے کہ اکثر پیشین گوئیاں انبیاء بنی اسرائیل اور حواریوں کی ایسی ہیں، جیسے خواب اور مجذوبوں کی بڑ… پس اگر انہی باتوں کا نام پیش گوئی ہے تو ہر ایک آدمی کے خواب اور ہر دیوانہ کی بات کو ہم پیش گوئی ٹھہرا سکتے ہیں۔

(ص۱۳۳)

اشعیاء نبی کی پیش گوئیاں اکثر ایسی ہیں یعنی حضرت مجاذیب کا ساکلام۔

(ص۲۱۹)

عیسیٰ بن مریم کہ آخر درماندہ ہوکر دنیا سے انہوں نے وفات پائی۔

(ص۲۳۲)

اور سب عقلاء جانتے ہیں کہ بہت سے اقسام سحر کے مشابہ ہیں معجزات سے خصوصاً معجزات موسویہ اور عیسویہ سے۔

(ص۳۳۶)

اشعیاء اور ارمیاہ اور عیسیٰ کی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں، بلکہ اس سے بہتر۔

(ص۳۳۶)

حضرت عیسیٰ کا معجزہ احیاء میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سرکاٹ ڈالا۔ بعد اس کو سب کے سامنے دھڑسے ملا کر کہا اٹھ کھڑاہو، وہ اٹھ کھڑاہوا اور سانپ کو نیولے سے ٹکڑے ٹکڑے کروایادیا۔ بعد اس کے سب ٹکڑے اس کے برابر رکھ کر بین بجائی اور رینگنے لگا اور اچھا بھلا ہوگیا۔

(ص۲۲۶)

284

یسوع نے کہا: میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا کہ اقبح ترین ہے۔

(ص۳۴۹)

معجزات موسویہ اورعیسویہ کے بہ سبب مشاہدہ کا کارخانہ اورنجوم وغیرہ کے کسی کی نظر میں اعجاز ثابت نہیں ہوسکتا۔دوسرے یہ کہ معجزات موسویہ اور عیسویہ کی سی حرکات یہاں بتوں نے کر دکھائیں۔

(ص۳۴۷)

ان کا اصل دین و ایمان آکر یہ ٹھہرا ہے۔ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا اور علقہ سے مضغہ بنا اور مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کے مخزج معلوم سے نکالا اور بعد اس کے ہگتا موتتا رہا۔ یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے یحییٰ کا مرید ہوا اورآخر کارملعون ہوکرتین دن دوزخ میں رہا۔

(ص۳۵۰،۳۵۱)

انجیل اوّل کے باب یازدہم کے درس نوزدہم میں لکھا ہے کہ بڑے کھائو اور بڑے شرابی تھے۔

(ص۳۵۳)

جس طرح اشعیاء اور عیسیٰ کی بعضی بلکہ اکثر پیش گوئیاں ہیں جوصرف بطور معمے اور خواب کے ہیں۔ جس پر چاہو منطبق کر لو یاباعتبار ظاہری معنوں کے محض جھوٹ ہے یا مانند کلام یوحنا کے محض مجذوبوں کی سی بڑہے۔ ویسی پیش گوئیاں البتہ قرآن میں نہیں ہیں۔

(ص۳۶۶)

پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کا سب بیان معاذاﷲ! جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہوں تو ویسی ہی ہوں گی، جیسی مسیح دجال کی ہونے والی۔

(ص۳۶۹)

یہودی لوگ کہتے ہیں کہ ہم سے جو لوگ توریت کے عالم تھے۔ انہوں نے تو حضرت عیسیٰ سے کوئی معجزہ دیکھا نہیں اور چند مچھووں اور ملّاحوں احمقوں کاکیا اعتبار عوام الناس توذرے سے شعبدہ میں آجاتے ہیں۔

(ص۳۷۱)

تیسری انجیل کے آٹھویں باب کے دوسرے اور تیسرے درس سے ظاہر ہے کہ بہتیری رنڈیاں اپنے مال سے حضرت عیسیٰ کی خدمت کرتی تھیں۔ پس اگر کوئی یہودی ازراہ خباثت اور بدباطنی کے کہے کہ حضرت عیسیٰ خوشرونوجوان تھے۔ رنڈیاں ان کے ساتھ صرف حرام کاری کے لئے رہتی تھیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ نے بیاہ نہ کیا اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ مجھے عورت سے رغبت نہیں کیا جواب ہوگا اور پہلی انجیل کے باب یازدہم کے درس نوزدہم میں حضرت عیسیٰ نے مخالفوں کا خیال اپنے حق میں قبول کر کے کہا کہ میں تو بڑا کھائو اور شرابی ہوں، پس دونوں باتوں کے ملانے سے اور شراب کی بدمستیوں کے لحاظ سے جو کوئی کچھ بدگمانی نہ کرے سو تھوڑاہے اور دشمن کی نظر میں کیسی تن آسانی اور بے ریاضتی حضرت عیسیٰ کی بوجھی جاتی ہے۔

(ص۳۹۰،۳۹۱)

حضرت عیسیٰ نے یہودیوں کوحد سے زیادہ جو گالیاں دیں تو ظلم کیا۔

(ص۴۱۹)

کافروں نے معجزہ مانگا…حضرت عیسیٰ نے ان کافروں کو جھڑک دیا اور تہدید بوعیدا لٰہی کی یا کچھ نہیں بولے، چپکے بیٹھے رہے اور ان کے ہاتھوں سے ذلتیں اٹھایاکئے۔

(ص۵۴۰)

یہ بطور نمونہ ان کی کتاب سے بعض عبارات پیش کی گئی ہیں اور انہوں نے یسوع بھی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور وہ اپنے آپ کو بری ثابت کرنے کے لئے لکھتے ہیں: ’’خداوند تعالیٰ مجھے انبیاء کی توہین اورتکذیب سے محفوظ رکھے مگر صرف پادری صاحبوں کے الزام کے لئے نقل کرتاہوں۔‘‘

(استفسارص۴۱۹،۴۲۰)

استفسار کے بعد چند حوالے مولوی رحمت اﷲ صاحب مرحوم مہاجر مکی کی کتاب ازالۃ الاوہام سے پیش کرتاہوں۔ آپ فرماتے ہیں: معجزات موسویہ مثل عصا وغیرہ… معجزہ ندانند زیر ا کہ مثل آنہاساحراں ہم کردہ بودند اکثر معجزات عیسویہ معجزات ندا نند زیرا کہ مثل آنہا

285

ساحراں ہم میسا زندہ ویہود آنجناب راچوں نبی نمے دادند ہمچو معجزات ساحر میگویند۔

(ص۱۲۹)

جنا ب مسیح اقرار میفر مایند کہ یحییٰ نہ مان میخورایند ند نہ شراب مے آشامید ند وآنجناب شراب ہم مے نوشیدند ویحییٰ دربیابان مے ماندوہمراہ جناب مسیح بسیار زناں ہمراہ مے گشتند ومال خود رامے خورانیدند وزنان فاحشہ پائہا آنجناب رابوسیدند… وآنجناب مرتاومریم را دوست میداشتندوخود شراب برائے نوشیدند دیگر کساں عطا مے فرموندد۔

(ص۳۷۰)

ونیز وقتیکہ یہود افرزند سعادت مند شاں از زوجہ پسر خود زناکردوحاملہ گشت وفارض راکہ از آبائو اجداد سلیمان وعیسیٰ بودزائید ہیچ کسی راازنیہا سزائے نداد(یعنی یعقوبm)

(ص۴۰۵)

یہ کتاب ایسی باتوں سے بھری ہوئی ہے اور انہوں نے الزامی جواب دینے کی غرض یہ لکھی ہے۔

وادب تقاضا نمی کرد کہ بر پیشین گوئی جناب مسیح حرفے برزبان قلم آید مگرچونکہ علماء مسیح یہ پیشین گوئی ہا جناب سید الانس والجان چشم انصاف بستہ باعتراض پیش مے آیند ازیں جہت بطور الزامے ومحض برائے آگاہی ایں فرقہ بر پیشین گوئی مندرجہ عہد جدید چیز ے آشنائے زبان قلم مے گردوتاایں فرقہ رااطلاع شود کہ مخالف رابحسب رائے خود اگر از انصاف چشم بندودراہیست وسیع۔‘‘

(ص۳۴۸)

پس جب کہ علماء اہل سنت الزامی طور پر ایسے جوابات دینے سے کافر اور مرتد نہیں ہوئے اور ان پر توہین انبیاء کا الزام نہیں آتا تو مرزاصاحب پر یہ الزام کیسے آسکتاہے۔ جب کہ آپ نے توا تنی احتیاط فرمائی کہ جس کے بعد کوئی عقل مند شخص جو تعصب سے خالی ہو۔ یہ وہم بھی نہیں کرسکتاکہ آپ نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی ہے۔ چنانچہ ضمیمہ انجام آتھم کی پیش کردہ عبارت کے آخر میں فرماتے ہیں: ’’بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبیa کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے، آنحضرتﷺ کو زانی لکھاہے اور اس کے علاوہ اور بہت سی گالیاں دی ہیں۔ پس اسی طرح اس مردار اور خبیث فرقہ نے جومردہ پرست ہے، ہمیں اس بات کے لئے مجبور کردیاہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹ مار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکارکیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۸،۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲،۲۹۳)

پھر(انجام آتھم ص۱۳، خزائن ج۱۱ ص۱۳) میں تشریح بھی فرمادی ہے: ’’یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اورپہلے نبیوں کو چور اور بٹ مار کہا اور خاتم الانبیاءa کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔‘‘

پھر (تریاق القلوب حاشیہ ص۷۷، خزائن ج۱۵ ص۳۰۵) میں لکھاہے: ’’حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا۔ یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ ہاں! چونکہ درحقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اورآنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قراردیاہے۔ اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضروربیان کیاہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راست باز نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتاہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے، اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔‘‘

286

فریق مخالف نے تویہ کہا کہ یسوع اور مسیح ایک ہی شخص کے دونام ہیں۔ کیونکہ عیسائیوں کا یسوع مسلمانوں کے عیسیٰ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ اس لئے کوئی فرضی یسوع نہیں ہوسکتا۔ تمام بڑے بڑے علماء اس طریق پر کلام کرتے چلے آئے ہیں کہ مخاطب کے عقائد باطلہ کے مطابق اس کے بزرگ کو فرض کر کے بعض اوقات بات کی جاتی ہے۔ چنانچہ سب جانتے ہیں کہ حضرت علیq سنیوں اور شیعوں کے ایک ہی ہیں۔ لیکن مولانا جامی ایک حکایت لکھتے ہیں کہ: ایک شیعی نے ایک سنی فاضل سے دریافت کیا کہ علی کی تعریف کرو تو اس نے پوچھا کون ساعلی، وہ علی جس پر تواعتقاد رکھتاہے یا وہ علی جس پر میں اعتقاد رکھتاہوں۔ تو اس نے کہا ؎

  1. گفت من گرچہ اند کی دانم

    در دو عالم علی یکے دانم

  2. شرح ایں نکتہ را تمام بگوئے

    آں کدام است ایں کدام بگوئے

  3. گفت آں کو بود گزیدہ تو

    نیست جز نقش نوکشیدہ تو

  4. پہلوانے بروت مالیدہ

    بہر کیں درو غاسگا لیدہ

  5. گربزی پر تہور و بیباک

    کینہ جوئے و مفتن و سفاک

  6. بندہ نفس خویش چوں من و تو

    فارغ ازدین و کیش چوں من و تو

  7. بخلافت دلش بسے مائل

    شد ابوبکر درمیاں حائل

  8. درنگ و پوئے بہر ایں مطلوب

    ہمہ غالب شدنداد مغلوب

  9. یاچنیں وہم وطن زنا دانی

    اسداﷲ غالبش خوانی!!

  10. ایں علی در شمارہ کہ دمہ

    خود بنود است ورنہ باشدبہ

  11. واں علی کش منم بجاں بندہ

    سبلت نفس شوم راکندہ

الیٰ آخر الابیات

(سلسۃ الذہب برحاشیہ نفحات الانس مطبوعہ نولکشور کانپور ص۱۰۳تا۱۰۴)

اسی طرح مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ العلوم دیوبند اپنی کتاب ہدیۃ الشیعہ میں فریق مخالف کے مسلمات کی بناء پر حضرت علیq کی نسبت لکھتے ہیں: ’’اگر بالفرض یہ زور اور بل اور قدرت خداداد کسی میں ہوتی بھی تب غصب دخترطاہر مطہرہ تو ہر گز گوارا نہ ہوتا۔ اہل ہند جو تمام ولائتوں والے لوگوں میں نامردہ پن میں امام ہیں، ان میں کا بھنگی اور چمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا، جس طرح حضرت امیرنے اپنی دختر مطہرہ کو حضرت عمر کے حوالے کردیا۔ آپ بھی دیکھتے رہے اور صاحبزادے بھی۔ پھر صاحبزادوں میں بھی ایک وہ تھے کہ جنہوں نے تیس ہزار فوج جرار کا مقابلہ کیا حالانکہ وہ زمانہ ضعیفی اور تحمل کا تھا اور بہن کے نکاح کے وقت عین شباب تھا۔‘‘

(ہدیہ شیعہ ص۱۲۷)

پھرکیا ممکن ہے کہ خدا بہک جائے کچھ نعوذباﷲ! رسول اﷲa کے زمانہ میں یہ عقل وحواس میں اختلال آگیا۔ ابوبکر وعمر ہرچند صاحب رعب اور مردباہیبت تھے، مگر نہ اتنے کہ خداوند کریم کے بھی عقل وحواس میں فرق آجائے یا اس کے سوا کچھ اور سبب ہو۔‘‘

(ص۸۸)

پھر(ص۱۶۴) پر لکھتے ہیں کہ: حضرت امیر کو ایک دفعہ بھی ہمت نہ آئی کہ علیٰ الاعلان حق گوئی اختیار کریں۔

(ص۱۴۳)

287

’’اور ظاہر ہے کہ مرے ہوئے شیر سے گیدڑ بھی نہیں ڈرتا۔شیرخدا علی مرتضیٰ پھر دوبارہ مرے ہوئے سے دبے توقیامت آگئی۔‘‘

اس میں اور بہت سی باتیں ہیں جو شیعوں کے عقائد کے مطابق ایک علی فرض کر کے لکھی گئی ہیں اور ابتدائے کتاب میں انہوں نے اپنی بریت اس طرح ظاہر کی ہے۔

’’اگر بہ نسبت انبیاء ومرسلین یا بزرگان اہل بیت و اصحاب سید المرسلینa اس رسالہ میں کوئی حرف نامناسب دیکھ کر الجھیںتو مجھے اس سے بری الذمہ سمجھیں۔ ایسا مذکور کہیں کہیں ناچار بغرض الزام شیعہ آگیاہے۔ اس کا بار انہیں کی گردن پرہے۔ یہ سب انہوںنے ہی کرایاہے۔‘‘

(ہدیۃ الشیعہ ص۳)

اسی طرح مولوی احمد رضا خاں نے (فتاوی رضویہ جلد اوّل ص۷۳۸تا۷۴۹) میں لوگوں کے خدائوں کے متعلق بحث کی ہے۔ مثلاً لکھاہے: ’’وہابیوں کا خدابے اعتبار، جھوٹا، محدود، عیب ونقائص سے پر، بھولنے والا سوتاہے۔‘‘ اسی طرح انہوں نے آگے کے صفحات میںدیوبندیوں کا خدا غیر مقلدکا خدا اور دوسرے مذاہب والوں کے اعتقاد کے مطابق فرضی خدا ظاہر کیاہے۔ پس کیا فریق مخالف یہ لکھے گاکہ خدا کئی ہیں یا حضرت علیq دو ہیں۔ پس متکلمین کا یہ طریق ہے کہ وہ مدمقابل کے عقائد کو مدنظر رکھ کر الزامی جواب دیا کرتے ہیں اور یہی بات مرزا صاحب نے کی ہے۔ صاف لکھاہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر ہیں، ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ وہ ہمارے مقابل کرتے ہیں۔ عیسائی لوگ درحقیقت ہمارے عیسیٰ کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور آنحضرتﷺ کے بارہ میں پیش گوئی کی تھی۔ بلکہ ایک یسوع نام کو مانتے ہیں۔ جس کاقرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیاتھا۔ اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کا ذکر کرنے کے وقت اس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو سچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے۔ پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ کو نہ سمجھ لیں، بلکہ وہ کلمات یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں، جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔‘‘

(آریہ دھرم ٹائٹل پیچ آخر، خزائن ج۱۰ ص۱۰۸)

اور جو عبارتیں گواہوں نے تریاق القلوب اور چشمہ معرفت سے پیش کی ہیں۔ ان سے فریق مخالف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ کیونکہ تریاق القلوب میں تو الزامی جواب دینے کی ایک اور غرض بیان کر دی گئی ہے اور چشمہ معرفت میںیہ بتایاہے کہ ہر ایک مسلمان حضرت عیسیٰ کو خدا کا پیارا اوربرگزیدہ رسول مانتاہے اور جب تنگ آکر اسے پادریوں کو الزامی جواب دینا پڑتاہے تو پھر بھی وہ طریق ادب سے باہر نہیں جاتا۔کچھ نہ کچھ صحت نیت دل میں رکھ لیتاہے۔ اس سے ثابت ہے کہ آپ نے جہاں کہیں ایسی باتیں لکھی ہیںتو وہاں حضرت عیسیٰ مراد نہیں بلکہ یسوع کو مراد لیا ہے جو عیسائیوں کا فرضی خداہے اور حضرت عیسیٰؑ کے متعلق تو آپ فرماتے ہیں: ’’ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کو خداتعالیٰ کا سچا اور پاک اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سوہماری کسی کتاب میںکوئی ایسا لفظ بھی نہیںہے جو ان کی شان بزرگ کے خلاف ہو اور اگرکوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے۔‘‘

(ایام الصلح ٹائٹل پیج ص۲، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸)

’’حضرت عیسیٰؑ نبی اﷲ بے شک ہیں اور خداتعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘

(جنگ مقدس ص۵۰، خزائن ج۶ ص۱۳۷)

’’حضرت عیسیٰؑ بے شک خدا کاپیارا نبی تھا۔‘‘

(ص۵۰، خزائن ج۶ ص۱۳۷)

288

’’نہایت اعلیٰ درجہ کی صفات اپنے اند ررکھتاتھا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات مرتبہ مفتی محمد صادق صاحب ص۶۸۳)

’’ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰؑ کوخداتعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راست باز مانتے ہیں تو پھر کیونکر ہمارے قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص۹۳، خزائن ج۱۳ ص۱۱۹)

’’اگر یہ اعتراض ہوکہ کسی نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفر ہے تواس کاجواب یہی ہے۔ ’’لعنۃ اﷲ علی الکافرین‘‘ اور ہم سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور تعظیم سے دیکھتے ہیں۔ بعض عبارات جو اپنے محل پر چسپاں ہیں وہ بہ نیت توہین نہیں بلکہ بتائید توحید ہیں۔ ’’وانما الاعمال بالنیات‘‘ اور تمہارے جیسے عقل والوں نے صاحب تقویۃ الایمان کو بھی اس خیال سے کافر کہا تھا کہ بعض کلمات ان کو اس کتاب میں ایسے معلوم ہوئے کہ گویا وہ انبیاء کی توہین کرتاہے اور چوہڑوں اور چماروں کو ان کے برابر جانتاہے۔ ہماری طرح ان کا بھی یہی جواب تھا کہ: ’’انما الاعمال بالنیات‘‘

(انوارالاسلام ص۳۴)

اب میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی شہادت بیان کرتاہوں کہ وہ ان عبارات سے کیا سمجھتے تھے۔

کتاب (اشارات فریدی ج۳ ص۱۷۷،۱۷۸) پرہے: ’’مولوی غلام دستگیر قصوری کہ بمرزا غلام احمد قادیانی مخالف کمال میداشت وبروے فتاویٰ کفر نوشتہ بودبیامد وآداب بجا کردہ بہ نشست وچند کتب از مصنفات مرزا غلام احمد قادیانی کہ دربغل میداشت پیش نہاد از ہریک کتاب مقاماتے راکہ نشان کردہ بود پیش گاہ حضور خواجہ ابقاہ اﷲتعالیٰ ببقائی ونفعناوایاکم بلقائہ یک بہ یک بر میخواندند ومیگفت کہ بہ بینید ایں جا توہین حضرت مسیح واین جا اہانت دیگر انبیاء کردہ است وحقیقت حال آنست کہ مرزا صاحب جہت ردنصاریٰ ویہود از انجیل وتوراۃ کہ ہر دو محرف اندوازاںکتب ایں انواع مذمات مفہوم میشوند درکتب خویش نوشتہ بود مگر مولوی را اطلاع برایں معنی نشدہ است۔ ازیں جہت بہ پیش گاہ حضور نکوہش مرزا صاحب بیان کرد اماحضور خواجہ ابقاہ اﷲتعالیٰ ہمہ تقاریر اور اشنیدہ وہیچ جوابش نفرمودند۔

اس پر مولوی غلام احمد صاحب اختر نے بیان کیا کہ مرزا صاحب نے فرمایاہے کہ میں نے جو کچھ لکھاہے: وہ فرضی یسوع کے متعلق ہے۔ جس کے متعلق نصاریٰ کہتے ہیں کہ اس نے ابن اﷲ ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن حضرت عیسیٰؑ جن کا قرآن میں ذکرہے۔ وہ خداتعالیٰ کا نبی ہے۔ وہ عیسائیوں سے کہتے ہیں کہ اس یسوع کو ترک کرو اور آنحضرتﷺ کو گالیاں دینی چھوڑدو۔ ورنہ میں تمہارے اس فرضی یسوع کو اس سے بھی زیادہ سخت کہوں گا۔ حضور خواجہ صاحب نے اس پر فرمایاکہ: ہاں! ایسا ہی ہے۔ پس خواجہ غلام فرید صاحب نے بھی ان عبارات سے جو فریق مخالف نے پیش کی ہیں یہی سمجھا کہ یہ فرضی یسوع کی نسبت ہیں اور ان میں حضرت عیسیٰ کوگالیاں نہیں دی گئیں۔ پھر اہل سنت نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ خود اپنی طرف سے کسی کے قول کو ایسے معنوں میں لینا جس سے کفر لازم آوے۔ حالانکہ قائل اس کے اور معنی بیان کرتاہوں توایسا کرنا غلطی ہے۔

چنانچہ امام ابن حزم کتاب (الفصل فی الملل والنحل ج۳ ص۲۵۰) میں لکھتے ہیں: ’’واما من کفر الناس بما تو ئول الیہ اقوالھم فخطاء لانہ کذب علٰی الخصم وتقویل لہ مالم یقل بہ وان لزمہ فلم یحصل علی غیر التناقض فقط والتناقض لیس کفر ابل قد احسن اذ فر من الکفر‘‘ یعنی وہ لوگ جو دوسروں کے اقوال سے ایسا نتیجہ نکا ل کرجو باعث کفرہو، کافر کہتے ہیں تو وہ غلطی کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ فریق ثانی کی طرف ایک جھوٹ بات منسوب کرتے ہیں، جس کا وہ قائل نہیں ہے اور اگر اس پر یہ بات لازم بھی آوے تو اس سے یہی ثابت ہوگاکہ اس کے کلام میں تناقض ہے اور تناقض کفر نہیں ہے بلکہ یہ تو اچھی بات ہے کہ وہ کفر سے بھاگا۔

289

اسی طرح مؤلف کتاب (الاشتباہ والنظائر) نے لکھا ہے: ’’حکم انہ لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن‘‘

(الاشباہ والنظائر مع شرح الحموی ص۱۷۵)

کہ وہ کسی ایسے مسلمان کو کفر کا فتویٰ نہیں دے گا، جس کے کلام کا محمل اچھا نکل سکتا ہو۔

پس مرزا صاحب کے کلام کے آپ کے منشاء کے خلاف جس کی آپ تصریح کر چکے ہیں۔ ایسے معنی لینا، جس سے توہین لازم آوے، جائز نہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اس الزام کا جواب دیتے ہیں۔ ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ باجود ہزارہا نشانوں کے جو خدا نے میرے لئے دکھلائے، پھر بھی سخت تکذیب کانشانہ بنایاگیا ہوں اور میری کتابوں کے یہودیوں کی طرح معنی محرف مبدل کر کے اور بہت کچھ اپنی طرف سے ملا کر میرے پر صدہا اعتراض کئے گئے ہیں کہ گویا میں ایک مستقل نبوت کا دعویٰ کرتاہوں اور قرآن کو چھوڑتاہوں اور گویا میں خدا کے نبیوں کو گالیاں نکالتاہوں اور توہین کرتاہوں اور گویا میں معجزات کا منکر ہوں۔ سو میری یہ تمام شکایت خدا تعالیٰ کی جناب میں ہے اور میں یقینا جانتاہوں کہ وہ اپنے فضل سے میرے حق میں فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ میں مظلوم ہوں۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۹، خزائن ج۲۳ ص۳۳۴)

پھر فریق ثانی نے مرزا صاحب کے متعلق کہا ہے کہ آپ نے تمام امت محمدیہﷺکو مشرک قرار دیاہے، کیونکہ مسیحؑ کو آسمان پر زندہ ماننا شرک عظیم ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب نے کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ تمام امت محمدیہﷺمشرک ہے۔ بلکہ جس عبارت کا گواہ فریق مخالف نے حوالہ دیاہے۔ وہیں آپ نے ساتھ ہی لکھ دیاہے کہ پہلے مسلمانوں سے یہ قول غلطی سے صادر ہوا اور وہ لوگ خدا کے نزدیک معذور ہیں۔ کیونکہ انہوں نے عمداً یہ غلطی نہیں کی۔

پھر آپ کہتے ہیں: حیات مسیح کا مسئلہ اوائل میں صرف ایک غلطی تھا۔ مگر آج کل وہ ایک اژدھا ہے۔ جب عیسائیوں کا خروج زور سے ہوااور انہوںنے مسیح کی زندگی کو ایک قوی دلیل اس کی خدائی کے واسطے پکڑا اور کہا کہ اگر کوئی دوسرا انسان ایسا کرسکتاہے تو آدم سے لے کرآج تک اس کی کوئی نظیر پیش کرے۔

لکھتے ہیں: ’’اس بات سے دھوکا نہ کھا ئو جو لوگ کہ دیتے ہیں کہ کیا خداقادرنہیں۔ بے شک خداتعالیٰ قادرہے۔لیکن تمام جہاں میں سے کسی ایک شخص کو بعض وجوہ کی خصوصیت دینا جو دوسروں کے واسطے نہیں۔ ایک مبدء شرک ہے۔‘‘

(تقریر احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے ص…، خزائن ج۲۰ ص…)

پس آپ نے حیات مسیح کے عقیدے کو یہاں مبدء شرک قراردیاہے اور آپ اسلاف کے متعلق اسی تقریر میں لکھتے ہیں: ’’پھر سوچنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ کی حیات کے عقیدہ نے آج تک دنیا میں کیابنایاہے اورکیا فائدہ بنی آدم کو پہنچایاہے۔سوائے اس کے کہ چالیس کروڑانسان مردہ پرست بن گیا۔ پس پہلوں نے اگر وفات مسیح کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کھا ئی، تب بھی ان کو ثواب ہے۔ کیونکہ مجتہد کے متعلق لکھا ہے: ’’قد یخطی ویصیب‘‘ کبھی خطاء کرتاہے اور کبھی صواب۔ مشیت الٰہی نے ان سے جو کچھ کرایا، سوکرایا۔ اس میں بھی اسرار الٰہی تھے۔ خدا نے ایک معاملہ ان سے مخفی رکھا اور وہ غفلت میں رہے۔ خدا جب چاہتاہے ایک بھید کو مخفی کرتاہے۔ جب چاہتاہے ظاہر کردیتاہے۔ ہاں! اس زمانہ کے لوگوں پر خدا تعالیٰ نے اس مسئلہ کی حقیقت کھول دی۔‘‘

پھر (تحفہ گولڑویہ ص۸، خزائن ج۱۷ ص۹۸،۹۹) پر لکھتے ہیں: ’’حالانکہ نظیر کا پیش کرنا دووجہ سے ضروری تھا۔ ایک اس غرض سے تاکہ حضرت عیسیٰؑ کا زندہ رہنا اور آسمان کی طرف اٹھایاجانا ان کی خصوصیت ٹھہر کر منجرالی الشرک نہ ہوجائے گا۔‘‘

290

پھر (لیکچر سیالکوٹ ص۲۰، خزائن ج۲۰ ص۲۱۷،۲۱۸) پر لکھتے ہیں: ’’ہاں! جن لوگوں نے مجھ سے پہلے اس بارہ میں غلطی کی ہے، ان کو وہ غلطی معاف ہے۔ کیونکہ انہیں یاد نہیں دلایاگیا تھا۔ ان کو حقیقی معنی خدا کے کلام کے سمجھائے نہیں گئے تھے۔ پر میں نے تم کو یاد دلادیا اور صحیح صحیح معنی سمجھا دئیے۔ اگر میں نہ آیا تو غلطی کے لئے رسمی تقلید کا ایک عذرتھا۔ لیکن اب کوئی عذر باقی نہیں رہا۔‘‘

ان عبارات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

حیات مسیح کا عقیدہ مبدء شرک یا منجرالی الشرک ہے۔

پہلے مسلمانوں میں سے جو لوگ ایسا سمجھتے تھے، وہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک معذور ہیں اور وہ عقیدہ ان کا اجتہادی غلطی ہے اور وہ اﷲ کے نزدیک حسب اجتہاد ثواب کے مستحق ہیں۔

لیکن موجودہ مسلمان جن کو نصوص قرآنیہ اور ادّلہ احادیثیہ سے مسیح کی وفات بتلا دی گئی وہ معذور نہیں ہیں۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’وماکان اﷲ لیضل قوما بعد اذ ھداھم حتی یتبین لھم مایتقون ان اﷲ بکل شیٔ علیم (توبہ:۱۱۵)‘‘ کہ خداتعالیٰ کسی قوم کو گمراہ نہیں ٹھہراتا۔ بعد اس کے جب کہ انہیں ہدایت دی۔ یہاں تک کہ ان کے لئے وہ باتیں جن سے انہیں بچنا چاہئے کھول کھول بیان کر دے۔ بے شک اﷲتعالیٰ ہر ایک شئے کو جانتاہے۔

پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بعض وقت ایک لفظ کسی وجہ سے کسی کے لئے استعمال کیاجاتاہے۔ مگر اس کے فاعل کو وہ نام نہیں دیا جاتا۔جیسا کہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’التحدیث بنعمۃ ام…کفر‘‘ جیسے ’’تحدیث بہ نعمت اﷲ تارک‘‘ کا نام کوئی شخص کافر نہیں رکھتا۔

(ہدیہ مجددیہ ص۲۶)

اسی طرح فرمایا کہ نسب میں طعنہ کرنا اور مردہ پر رونا کفرہے۔ مگرنوحہ کرنے والے کوکوئی کافرنہیں کہتا۔ پس حضرت مسیح موعود کا اس مسئلہ کو جو منجرالی الشرک تھا شرک عظیم قراردینا باعتبار مایو ٔل الیہ کے ہے یعنی جس کا مستقبل میں سانچہ پید ا ہوگا۔ اس کو فن بلاغت میں مجاز مرسل سے شمار کیاگیاہے۔ چنانچہ بلاغت کی کتاب (مختصر معانی مطبوعہ مجتبائی ص۳۷۳) میں مجاز مرسل کی بحث میں لکھا ہے: ’’تسمیۃ الشیٔ باسم مایو ٔل ذلک الشی ٔ الیہ فی الزمان المستقبل نحو انی ارانی اعصر خمرا ای عصیرا یو ٔل الی الخمر‘‘ کہ مجاز مرسل سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ایک چیز کا نام باعتبار اس حالت کے رکھ دیا جاتاہے جو اس کی مستقبل میں ہونی ہوتی ہے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں آیاہے کہ ایک قیدی نے خواب میں دیکھا کہ میں شراب نچوڑ رہاہوں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کو نچوڑ رہاہوں۔ حاشیہ میں لکھاہے کہ شارح کے لئے یہ اولیٰ تھا کہ وہ رس کے بجائے انگور کہتاہے کہ میں انگور نچوڑ رہاہوں۔ چونکہ انگور سے شراب بنتی ہے۔ اس لئے اس نے آئندہ کی حالت کے مطابق انگوروں کا نام خمر یعنی شراب رکھ دیا۔

پس اس طرح حیات مسیح کا عقیدہ منجر الی الشرک تھا اور صدہا مسلمان اسی عقیدہ کی وجہ سے عیسائیت کی آغوش میں جاچکے تھے۔ چونکہ یہ مسئلہ منجر الی الشرک تھا اور اس سے کئی انسان مشرک ہوگئے۔ اس لئے اس کی آئندہ کی حالت کے مطابق اس کانام مرزا صاحب نے شرک عظیم رکھا اور یہ کہنا کہ تمام امت محمدیہﷺکو مشرک بنایاہے غلط ہے۔ جیسا کہ مرزاصاحب کی مذکورہ بالا عبارتوں سے واضح ہے۔

فریق مخالف نے (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) کی ایک عبارت سے ایک غلط نتیجہ نکالاہے کہ آپ نے تمام شریف عورتوں کو کنچنیاں اور مسلمانوں کو ولد الزنا قرار دیاہے۔ حالانکہ مرزاصاحب کے اس قول سے ’’وکل مسلم یقبلنی ویصدق

291

دعوتی الاذریۃ البغایا‘‘سے جو مراد فریق مخالف نے لی ہے، قطعاً غلط ہے۔ کیونکہ آئینہ کمالات اسلام کے وقت آپ کے ماننے والوں کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ لہٰذا اگر فریق مخالف کے معنی صحیح مانے جائیں تو ذریۃ البغایا کے ساتھ کا جملہ یہ ہے جو ذریۃ البغایا کی تفسیر واقع ہواہے۔ ’’الذین ختم اﷲ علٰی قلوبھم فھم لا یقبلون‘‘ تو اس سے لازم آتاہے کہ جنہوں نے آپ کو نہیں مانا، وہ سب ذریۃ البغایا ہیں۔ جن کے دلوں پر اﷲتعالیٰ نے مہر کردی ہے۔ پس وہ قبول نہیں کریں گے۔ حالانکہ یہ معنی سراسر باطل۔ پس اس سے لازم آتاہے کہ جنہوں نے آپ کو اس وقت نہیں مانا تھا، ان میں سے کوئی آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتا۔ حالانکہ یہ معنی سراسر باطل ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ہزارہا لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے اور روزانہ ہوتے ہیں۔

پس معلوم ہوا کہ ذریۃ البغایا کہ معنی وہ نہیں جو فریق مخالف نے لئے ہیں۔ کیونکہ ان معنوں کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ظاہر میں ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہدایت سے دور آدمی کوجن کے دلوں پر مہریں ہیں، وہ قبول نہیں کریں گے اور البغایا کے معنی رشد یعنی ہدایت کی نقیض لکھے ہیں اور ابن البغیۃایسے لڑکے کو کہا جاتاہے جس میں رشدو ہدایت نہ ہو۔

(تاج العروس ج۱۰ ص۴۰)

اس لحاظ سے ذریۃا لبغایا وہ لوگ ہوئے جن میں ہدایت ورشد کا مادہ نہیں ہے۔البغایا کے معنی ہر اوّل کے بھی ہوتے ہیں جو لشکروں کے ورود سے پہلے آتے ہیں۔ یعنی مقدمہ الجیش۔

(تاج العروس ج۱۰ ص۴۰)

تو ذریۃ البغایا کے معنی ہوئے وہ لوگ جو اپنے آپ کو لوگوں کے پیشواء اور امام سمجھتے ہیں۔ یعنی مولوی لوگ جو کفر کے فتوے لے کر شہر بہ شہر پھرتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

نیز بغایا مطلق عوررتوں کو بھی کہتے ہیں۔ چاہے وہ فاجرہ ہوں یا نہ ہوں۔ جیسا کہ (تاج العروس ج۱۰ ص۳۹) میں لکھاہے: ’’البغی الامۃ الفاجرۃ کانت اوغیر فاجرۃ‘‘ اور کبھی عورت کو بغی کہا جاتاہے ا ور اس سے اس کی مذمت مقصود نہیں ہوتی۔ جیسا کہ (نہایہ لابن الاثیر) اور مفردات راغب میں لکھاہے: ’’یقال للامۃ بغی وان لم یروبہ الذم ذریۃ البغایا‘‘سے مراد یہ ہوئی کہ میری ہر ایک مسلّم تصدیق کرتاہے۔ سوائے عورتوں کی اس ذریت کے، جن کے دلوں پر مہر ہے۔ پس وہ لوگ قبول نہیں کریں گے۔ عورتوں کی طرف منسوب کرنے سے یہ مراد ہے کہ جن میں انوثت کا مادہ پایا جاتاہے اور ان میں حق کو قبول کرنے کی قوت مردانہ نہیں پائی جاتی۔

پھر ذریت کالفظ جب بولاجاتاہے تو اس وقت ضروری نہیں ہوتاکہ مضاف الیہ بھی مقصود ہو بلکہ مضاف ہی مقصود ہوتاہے۔ جیسے ذریۃ الشیطان کے معنی یہ ہیں کہ جو شیطان جیسے کام کرتے ہیں اور اسی طرح مسیح نے یہود کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’اور سانپو کے بچو۔‘‘ جس سے مراد یہ ہے کہ تم سانپو ں کی طرح حق کے مقابلہ میں دشمنی کا اظہار کررہے ہو۔ اس لحاظ سے ذریۃ سے مراد بڑے کام کرنے والے لئے جائیں گے۔

چنانچہ امام ابوحنیفہ نے فرمایاہے کہ عائشہ ام المومنین زنا سے پاک ہیں اور جو روافض نے ان کے بارے میں کہاہے، اس سے بری ہیں۔ جوان پرزنا کی تہمت دے تو وہ ولد الزناہے۔ (شرح کتاب الوصیۃ ص۳۱) اس سے امام ابوحنیفہ کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوسکتاکہ قائل کی والدہ کو زانیہ قراردیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص از راہ ظلم حضرت عائشہt پر اتہام لگاتاہے تو یہ اس کا قصور ہے نہ کہ اس کی والدہ کا۔ پس ولدالزنا سے مراد صرف یہی لی جائے گی کہ وہ خود بدکار ہے۔

اسی طرح مرزاصاحب کے قول کے یہ معنی ہوں گے کہ ہر ایک مسلم مجھے قبول کرتااور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن وہ

292

لوگ جو اپنی شرارت وخباثت اور برے کاموں میں حد سے بڑھے ہوئے اور یہاں تک کہ ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں وہ مجھے قبول نہیں کریں گے اور اس صورت میں استثناء منقطع لیا جائے گا کہ تما م صالح اور نیک شخص تو میری تصدیق کرتے چلے جائیں گے اور وہ آہستہ آہستہ اس سلسلہ میں داخل ہوتے چلے جائیں گے۔ مگر وہ لوگ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ چاہے ساری دنیا بھی مان لے وہ نہیں مانیں گے۔ اس لحاظ سے بعض خاص اشخاص بھی مراد ہوں گے۔ عداوت حق میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے قلب بالکل مر گئے ہیں۔ لیکن دوسرے مخالف جو نیک اور شریف ہیں اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ہر ایک جو سعید ہوگا۔ وہ مجھ سے حجت کرے گا اور میری طرف کھینچا جائے گا۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۷، خزائن ج۲۱ ص۱۳۷) مرزاصاحب کا ایک شعر ؎

  1. ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج

    جس کی فطرت نیک ہے آئے گا اور انجام کار

اس سے پتہ چلتاہے کہ جنہوں نے ابھی تک نہیں مانا ان میں نیک فطرت لوگ بھی موجود ہیں۔ پس مرزا صاحب کے قول سے مراد وہ چند وہ شریر دشمن ہی مراد ہوں گے، جن پر یہ الفاظ صادق آتے ہیں۔ لاغیر جیسا کہ آیت: ’’ان الذین کفروا… الخ!‘‘ کے مضمون سے بھی ان دونوں کی تصدیق ہوتی ہے۔

چنانچہ آپ (ایام الصلح ٹائٹل پیج ص۲، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸) میں شرافت ذاتی رکھنے والے اور نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی اور شریف مسلمانوں کے متعلق ذکر کرتے ہیں: ’’سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے بزرگوں کی طرف نہیں ہے، جو بدزبانی اور کمینگی کے طریق اختیار نہیں کرتے۔‘‘

اور (لجۃ النورص۶۷، خزائن ج۱۶ ص۴۰۹) میں لکھتے ہیں کہ: ’’ہم نے اپنی کتاب کو نیک لوگوں کی تحقیر کرنے سے منزہ رکھا ہے۔ خواہ کسی دین کے ہوں۔ ہم نیک علماء کی ہتک اور شریف مہذب لوگوں کو عیب لگانے سے خداتعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ برابر ہے کہ وہ مسلمانوں سے ہو یا عیسائیوں سے یاآریوں سے اور بے وقوفوں میں سے بھی۔ ہم صرف ان کا ذکر کرتے ہیں جو بکواس اور بدگوئی میں مشہور ہیں اور جو عیب سفاہت اور بدزبانی سے بری ہے۔ ہم اس کا خیر کے ساتھ ذکرکرتے اور اس کی عزت اور اس سے بھائیوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔‘‘

پانچویں وجہ تکفیر جو فریق ثانی نے بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے مکذبین ومنکرین کو کافر کہاہے۔ لہٰذاوہ کافر ہیں۔ اگر واقعی ان کی یہ دلیل درست ہے اور وہ اس پر قائم ہیں تو پھر انہیں ہماری طرف سے یہی جواب سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلے خود مولویوں نے مرزا صاحب اور آپ کی جماعت پر کفر کا فتویٰ دیا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے اسی بات کا ذکر متعدد بار اپنی کتب میں کیاہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں: ’’لیکن میں کسی کلمہ گو کانام کافر نہیں رکھتا۔ جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کافرنہ بنالیوے۔ سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا، میرے لئے فتویٰ تیارکیا۔ میں نے سبقت کر کے ان کے لئے کوئی فتویٰ تیار نہیں کیا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۳)

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) میںلکھتے ہیں: ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قراردیتاہے۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتاہے کہ خداپر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافرہے۔ جیسا کہ فرماتاہے: ’’ومن اظلم ممن افتریٰ علی اﷲ کذبا اوکذب بایاتہ‘‘ یعنی بڑے کافر وہی ہیں۔ ایک خدا پر افتراء کرنے والا، دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پرافتراء کیا ہے۔ اس صورت میں نہ صرف کافر بلکہ بڑاکافرہے اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔‘‘

293

اورحاشیہ میں لکھتے ہیں: ’’سوجو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار در کر مجھے کافر ٹھہراتاہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتاہے۔‘‘

(حوالہ مذکورہ)

پس ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ مولویوں نے پہلے کفر کا فتویٰ دیا۔ پس وہ اپنے فتوے کی رو سے کافر ہوئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے سال۱۸۹۰ء میں کفر کا فتویٰ شائع کیا،جس میں علماء پنجاب اور ہندوستان کے دستخط ہیں۔ ملاحظہ ہو رسالہ اشاعت السنۃ جلد۱۳ نمبر۷ سے لے کر۱۴تک۔ اب یہ بتلانا چاہتاہوںکہ تکفیروجہ ارتداد نہ فسخ نکاح ہوسکتی ہے۔

علمائے اہل سنت نے اس امر کی بابت لکھا ہے کہ ایسا شخص جو اسلام کا مدعی ہے اور اہل قبلہ ہے اس سے تکفیر کی وجہ سے نکاح وغیرہ معاملات حرام نہیں ہوجاتے۔ جیسا کہ منہاج السنۃ مصنفہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے (ج۳ ص۶۱) میں لکھاہے کہ خوارج حضرت علی کو بالاتفاق کافر کہتے تھے۔ مگر یہ ثابت نہیںکہ حضرت علیq نے ان کی تکفیر کی وجہ سے ان کو مرتد اور دین سے خارج خیال کر کے ان کے نکاح وغیرہ فسخ کئے ہوں۔ پس فریق مخالف کا تکفیر کو وجہ فسخ نکاح قرار دینا خود ان کے علماء اورائمہ کے اقوال کے صریح منافی ہے۔ کتاب (العلم الشامخ ص۷۰۶) پر لکھا ہے کہ اس قسم کی حالتوں میں اس قسم کے احکام جاری ہونے چاہئیں جو عام اسلامی احکام ہیں۔ مصنف امامت مصنفہ مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید دہلوی کے (ص۹۴) میں لکھا ہے کہ نکاح اور دوسرے تمام معاملات میں ہر ایک اس شخص سے جو اسلام کا دعویٰ کرتاہے۔ ویسا ہی معاملہ ہوگا جو دوسرے تمام مسلمانوں سے ہوتاہے۔ اسی کے موافق ملّا علی قاری حنفی اپنی کتاب (شرح شفا ج۶ ص۵۳۳) پر لکھتے ہیں کہ جو لوگ مدعیان اسلام ہیں اور اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔ ان سے نکاح اور شادی اور دوسرے دنیوی معاملات میں وہی برتائو ہوگا جو باقی مسلمانوں سے ہوتاہے۔

پس جب کہ جماعت احمدیہ کے مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے اور احادیث صحیحہ اور نصوص قرآنی میں جوباتیں ایک شخص کے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہیں، وہ بتمامہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت میںپائی جاتی ہیں تو پھر کسی شخص کا حق نہیں کہ وہ مذکورہ بالا حوالہ جات کے ہوتے ہوئے حکام وقت سے یہ استدعا کرے کہ حکام وقت اس کے متعلق فیصلہ دیں کہ معاملات شادی وغیرہ میں کوئی ایسی تمیز پائی جاوے، جس کے بعد غیر احمدی لڑکیوں کے نکاح احمدی مردوں سے ناجائز قرار پائیں۔

فریق مخالف نے نکاح کا عدم جواز ثابت کرنے کے لئے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں ہر قسم کے کافروں کے متعلق یہ فیصلہ صاف مذکور ہے: ’’لاھن لھم ولاھم یحلون لھن… الخ! (الممتحنہ:۱۰)‘‘ نہ مومن عورتیں کافروں کے لئے اور نہ کافر عورتیں مومنوں کے لئے حلال ہیں۔ اس واسطے کسی احمدی مرد و عورت کا غیر احمدی مرد وعورت سے نکاح جائز نہیں۔ یہی ایک دلیل ہے جو گواہوں نے احمدی مرد وعورت کا غیراحمدی اور عورت سے نکاح ناجائز ثابت کرنے کے قرآن سے پیش کی ہے۔ جس کی رو سے یہ لازم آتاہے کہ تمام وہ غیراحمدی عورتیں جو احمدیوں کے نکاح میں ہیں۔ وہ نعوذباﷲ! زانیہ ہیں اور ان کی اولاد حرام کی ہے۔ اب اس فتویٰ کی رو سے ماننا پڑتا کہ مسلمانوں کی ان تمام عورتوں کو چاہے کہ وہ کسی کی بہن ہو یا پھوپھی یا لڑکی، جنہوں نے احمدی مردوں سے شادی کی یا شادی کے وقت وہ غیر احمدی تھے۔ مگر شادی کے بعد احمدی ہو گئے۔ زانیہ اور ان کی اولاد کو حرام سمجھا جائے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس آیت کو ہر قسم کے کافروں کے لئے عام کرتاہے، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب یہود وغیرہ بالاتفاق کافر ہیں۔ مگر اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’والمحصنات من الذین اوتوالکتاب من قبلکم اذا اٰتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسافحین (المائدۃ:۵)‘‘ کہ اہل کتاب یہود وغیرہ

294

عورتوں سے مسلمانوں کے لئے نکاح کرنا جائز ہے۔ پھر کسی قدر جہالت ہوگی کہ اس آیت کا حکم تمام قسم کے کافروں پر مشتمل سمجھا جائے۔ اس آیت سے پہلے ان کفار کا ذکر ہے جو مشرک تھے اور اہل کتاب نہ تھے۔ پس ان کے متعلق اس آیت میں حکم بیان کیا گیاہے۔ نہ کہ ہر اس مسلمان کے متعلق تھی جسے علماء کافر کہہ دیں۔ اگر نکاح کے فسخ ہونے کا مدار علماء کی تکفیر پر رکھا جائے تو سب مسلمانوں کے نکاح فسخ ماننے پڑیں گے۔ کیونکہ کوئی فرقہ ایسا نہیں، جس نے دوسرے فرقہ والوں کو کافرومرتد نہ قرار دیاہو۔

رہا یہ سوال کہ احمدی غیراحمدی مرد سے احمدی عورت کا نکاح نہیں کرتے اور کوئی ایسا کرے تو جماعت سے خارج کردیاجاتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جماعت سے نکالنے کے یہ معنی نہیں کہ وہ احمدیت سے ہی نکل جاتاہے بلکہ نظام جماعت سے نکالاجاتاہے۔ جیسے ایک قوم مثلاً سید یاراجپوت دوسری قوم کے مسلمانوں سے اپنی رشتہ داری نہیں کرتے توکیا اس سے لازم آتاہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو مرتد اور کافر سمجھتے ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں۔ پس جب وہ دنیاوی لحاظ سے ایسا کرتے ہیں اور ان کے لئے جائزہے تو احمدی لوگ جو دینی فوائد کو مدنظر رکھ کر اپنی لڑکی کو ایسے مؤثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے جو اس کے عقائد پر برا اثر ڈالیں۔ غیر احمدیوں سے شادی نہ کرنے کی وجہ سے کیوں کافر اور مرتد ہوئے؟ ہم اگر روکتے ہیں تو بے شک وہ بھی روکیں۔ لیکن نکاح ہوجانے کے بعد حکام کے پاس فسخ نکاح کی درخواست کرنے کی احمدیوں میں سے کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی احمدیہ جماعت کے مفتی کا یہ فتویٰ ہے کہ غیر احمدی سے اگر کوئی احمدی رشتہ کردے تو وہ نکاح فسخ شمار ہوگا اور اس کے اولاد، اولاد زناہوگی۔

فریق مخالف نے اپنی شہادت سے یہ دکھلایا کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے علماء نے باجود ذاتی اختلافات کے احمدیوں پر کفر کا فتویٰ دیا ہے، اس لئے وہ کافرہیں۔‘‘

سو اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوکر کوئی جماعت قائم کرتاہے تو شیطان اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس رسول اور اس کی جماعت کا مقابلہ کرتاہے اور اس کی سب سے پہلے نظر علماء سؤ پر پڑتی ہے۔ جن کو وہ اپنے ساتھ ملا کر خداتعالیٰ کے رسل کے مخالف آواز اٹھا کردنیا میں شور بپاکرتاہے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ فرماتاہے: ’’فلما جآئتھم رسلھم بالبینات فرحوا بما عندھم من العلم وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزؤن (المومن:۸۳)‘‘ کہ جب ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل لے کر آئے تو یہ لوگ اپنی لیاقت علمی پر نازاں ہوئے اور جن بات کی وہ ہنسی اڑاتے تھے، وہ انہی پر الٹ پڑا۔ پس یہ آیت صاف بتارہی ہے کہ علماء ہمیشہ خداتعالیٰ کے فرستادوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اوران کے لئے ان کا علم حجاب اکبر بن گیا۔

اسی طرح آنحضرتﷺ کے بعد کی حالت کو دیکھا جائے تو تمام بڑے بڑے بزرگوں کو علماء ظواہر نے کفروبدعت کی طرف منسوب کیا۔ حضرت علیq کو خوارج نے علامیہ کافر کہا۔ حضرت بایزید بسطامی کو سات مرتبہ جلا وطن کیاگیا اور ذی النون مصری کو مصر سے زنجیروں میں جکڑ کر بغداد لے گئے۔ لیکن جب باد شاہ نے باتیں سنیں تو اس نے کہا کہ اگر یہ زندیق ہے تو پھر روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں۔ ابو سعید خرازپر علماء نے کفر کا فتویٰ دیا۔ اسی طرح سہل بن عبداﷲ تستری کو۔ اسی طرح منصور کو کافر کہا اور قتل کرایا۔ تاج الدین سبکی پر بار رہا کفر کا فتویٰ دیا۔ امام ابوبکر نابلسی کو مغرب سے مصر لا کر قتل کیاگیا اور چمڑا اتاراگیا۔ ابوالحسن الخضری کوکافر کہا۔امام غزالی پر کفر کا فتویٰ دیا اور اس کی کتاب احیاء العلوم کو آگ میں جلوایا۔ ابوالحسن شاذلی کو زندیق کہا اور احمد بن رفاعی کو زندیق اور ملحد کہا۔

(طبقات الشعرانی جلد اوّل ص۱۷تا۱۹)

295

سید عبدا لقادر جیلانی کی ولایت کا انکار کیاگیا اور ابوبکر شبلی اور امام غزالی کو کافر کہا گیا۔

(انوار احمدیہ ص۷)

امام ربانی مجدد الف ثانی کو بھی کافر کہا گیا اور ان کی توہین کی گئی۔

(انواراحمدیہ ص۳)

شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں: ’’لقد وقع لنا… الخ!‘‘ ہمیں اور ہماری طرح اور بہت سے عارفوں کو مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ جب ہم نے معارف و اسرارکا اظہارکیا تو ان مولویوں نے ہمیں زندیق کہا اور سخت ایذائیں پہنچائیں اور ہم اس رسول کی طرح ہوگئے۔ جس کی قوم نے تکذیب کی اور بہت تھوڑے لوگ اس پر ایمان لائے اور سب سے سخت دشمن ہمارے وہ لوگ ہیں جو اپنے مشائخ کے مقلد ہیں۔

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۳۲)

اور امام ابوحنیفہ کو بدعت کی طرف منسوب کیاگیا اور انہیں قید کیاگیا اور کوڑے لگائے گئے اور امام شافعی کو اہل عراق واہل مصر سے سخت تکالیف کا سامنا ہوا اور امام مالک پر تو اس حد تک ظلم کیاگیا کہ پچیس سال تک جمعہ اور جماعت میں شامل نہ ہوسکے اور امام احمد بن حنبل کو قید کیاگیا اور کوڑے لگائے گئے اور امام بخاری کو بخارا سے جلا وطن کیاگیا۔

(ہدیہ مجددیہ ص۷۳)

غرضیکہ کوئی بزرگ ایسا نہیں گزرا جس کا علماء ظواہر نے مقابلہ نہ کیا ہو۔ لیکن آخری زمانے کے علماء کے متعلق تو خود رسول اﷲa فرماچکے ہیں کہ وہ بدترین مخلوق ہوں گے۔

چنانچہ نواب صدیق حسن خان ان کے متعلق لکھتے ہیں: ’’سو یہ بڑے بڑے فقہیہ یہ بڑے بڑے مدرس یہ بڑے بڑے درویش جو ڈنکا دینداری خدا پرستی کا بجا رہے ہیں۔ ردحق تائید باطل تقلید مذہب تقلید مذہب تقلید مشرب میں مخدوم عوام کالانعام ہیں۔ سچ پوچھو تو دراصل پیٹ کے بندے نفس کے مرید ابلیس کے شاگرد ہیں۔ چندیں شکل از برائے اکل ان کی دوستی دشمنی، ان کے باہم کا رد وکد فقط! اسی حسد وکینہ کے لئے ہے، نہ خدا کے لئے نہ امام کے لئے نہ رسول کے لئے۔‘‘

(اقتراب الساعۃ ص۸)

پھر لکھتے ہیں: ’’اب تو اس کا پل ٹوٹ گیا ہے۔ نفی شرک و بدعت منع تقلید کے پیچھے مولویوں میں رات دن قصہ بکھیڑارہتاہے۔ ایک دوسرے کو کافر بتاتاہے۔ حق کو باطل، باطل کو حق ٹھہراتاہے۔ یہی فتنہ سبب اعظم ہے۔ غربت اسلام وقرب قیامت کا۔‘‘

(اقتراب الساعۃ ص۱۰)

چنانچہ آج کل کے علماء کی کتب زیادہ تر تکفیر بازی سے ہی پرہوتی ہیں۔ مولوی احمد رضا خان سرکردہ علماء بریلی نے اپنی کتاب (حسام الحرمین ص۲۴) میں مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی وغیرہ کے عقائد کو ذکر کر کے لکھاہے: ’’کلھم مرتدون باجماع الاسلام‘‘ کہ یہ تمام علماء اور ان کے متبع باجماع اسلام مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ اس فتویٰ پر علماء حرمین شریفین اور مفتیوں اور قاضیوں کے دستخط اورمہر ثبت ہیں۔ پھر ان کی کتابوں کے حوالے دے کر تین وجوہ تکفیر بیان کی ہیں۔ ختم نبوۃ کا انکار۔ آنحضرتﷺ کی توہین۔ تیسرے امکان کذب باری کہ خدا جھوٹ بول سکتاہے۔

اور (بھونچال بر لشکر دجال ص۱۰۲، ۱۰۳) میں مولانا اسماعیل شہید کے متعلق لکھاہے: ’’فلا شک ولا شبھۃ فی کفرہ وردتہ وکفر معاونیہ ومن شک فی کفرہ وردتہ کفر‘‘ کہ اس کے اور اس کے مددگاروں کے کفروارتداد میں شک و شبہ نہیں ہے اور جو اس کے کفر وارتداد میں شک کرے وہ کافر ہے۔

اور (ص۱۲۰) میں اس فتویٰ کو باجماع علماء ومفتیان مکہ ومدینہ وہندوستان لکھاہے۔ چابک لیث براہل حدیث مصنفہ مولانا محمد ظہیر

296

حسن صاحب اعظم گڈھی اعلی مدرس مدرسہ جامع العلوم معسکر بنگلور (ص۳۴،۳۵) میں لکھاہے: ’’(۱)اسماعیل دہلوی کافر تھا۔ (۲)گنگوہی، دیوبندی، نانوتوی، انبیٹھی، تھانوی وغیرہم وہابی کھلے مرتد ہیں۔‘‘ جو کذب الٰہی ممکن کہے ملحد ہے۔ تقویۃ الایمان وغیرہ… معیار الحق تصنیف نذیر حسین دہلوی، تحذیر الناس تصنیف نانوتوی، براہین قاطعہ تصنیف گنگوہی وغیرہا جملہ نباحات انبوہی سب کفری بول نجس تراز بول ہیں جو ایسا نہ جانے زندیق ہے جو باوصف اطلاع اقوال ان میں سے کسی کا معتقد ہو ابلیس کا بندہ جہنم کا کندہ ہے اور ان سفہاء اور ان کے نظراء تمام خبثاء۔ جو شخص…ان ملحدوں کی حمایت اور مروت ورعایت کرے ان کی باتوں کی تصدیق تحسین توجیہ تاویل کرے وہ عدو خداودشمن مصطفی ہے۔ غیر مقلدین سب بے دین پکے شیاطین پورے ملا عین ہیں۔‘‘

چاروں اماموں کے پیرو اور چاروں طریقوں کے متبع یعنی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اور چشتیہ قادریہ ونقشبندیہ ومجددیہ سب لوگ کافرہیں۔

(جامع الشواہد ص۲ بحوالہ کتاب اعتصام السنۃ مطبوعہ کانپور ص۷،۸)

نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں: ’’مقلدین پر اطلاق لفظ مشرکین کا۔ تقلید پر اطلاق لفظ شرک کاکیا جاتاہے۔ دنیا میں آج کل اکثر لوگ یہی مقلد پیشہ ہیں۔ ’’وما یؤمن اکثرھم الاوھم مشرکون‘‘ یہ آیت ان پر بخوبی صادق ہے۔‘‘

(اقتراب الساعۃ ص۱۶)

’’غیر مقلدوںسے مخالطت اور مجالست کرنا اور ان کو اپنی خوشی سے مسجد میں آنے دینا ممنوع ہے۔ ان کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔‘‘ اس فتویٰ پر۵۳ علماء کے دستخط ہیں۔

(جامع الشواہد ص۶ )

’’پس تقلید کو حرام اور مقلدین کو مشرک کہنے والا شرعاً کا فر بلکہ مرتدہوا۔‘‘

(انتظام المساجد ص۷)

علماء اور مفتیان وقت پر لازم ہے کہ بمجرد مسموع ہونے ایسے امر کے اس کے کفر اور ارتداد کے فتویٰ دینے میں تردد نہ کریں۔ ورنہ نہ زمرہ مرتدین میں یہ بھی داخل ہوں گے۔‘‘

(انتظام المساجد ص۷)

پس کوئی فرقہ ایسا نہیں ہے۔ جس پر کفر وارتداد کا فتویٰ نہ لگایاگیاہو۔ اہل حدیث جو غیر مقلد ہیں انہیں مقلدوں نے کافر اور مرتد کہا ہے اور خود اہل حدیث نے ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے۔ اسی طرح غیرمقلدوں نے مقلدوں کو مشرک اور کافر اور مرتد کہا ہے اور پھر غیرمقلدوں نے ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے اور علماء دیوبند پر تو علماء حرمین کا فتویٰ لگاہواہے اور یہ سب فتاویٰ شائع شدہ ہیں۔

ان کے علاوہ سر سید احمد خان صاحب علی گڑھی اور ان کے ہم خیال لوگوں پر بھی کافر اور مرتد ہونے کے فتویٰ علماء کی طرف سے لگ چکے ہیں اور فتویٰ دینے والے یہی علماء دیوبند اور انبالہ، سہارنپور، دہلی اور لکھنؤ اور تمام پنجاب اور ہندوستان کے ہیں اور انہی تک محدود نہیں۔ بلکہ مفتیان عرب شریف بھی اس ثواب میں شریک ہیں۔ مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے چاروں مذہبوں کے مفتیوں نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے کہ ان کا گروہ کافر اور بے دین اور ملحد اور خارج از دائرہ اسلام ہے۔

اس واقعہ کوخواجہ حالی نے سر سید احمد خان کی لائف میں خوب بسط سے لکھاہے۔

چنانچہ چند فقرات ان کے’’حیات جاوید‘‘ سے یہاں نقل کرتاہوں۔ چنانچہ وہ پنجاب وہندوستان کے رسائل اورجرائد کا ذکر کر کے جن میں فتاویٰ شائع ہوئے لکھتے ہیں: ’’ان میں سر سید کو ملحد،لامذہب، کرسٹان، نیچری، دہریہ، کافر، دجال اور کیاکیا خطاب دئیے گئے۔ ان کے کفر کے فتوئوں پر شہر شہر اور قصبہ قصبہ کے مولویوں سے مہریں اور دستخط کرائے گئے۔ یہاں تک کہ جو لوگ سرسید کی تکفیر پر سکوت اختیار کرتے تھے۔ ان کی بھی تکفیر ہونے لگی۔‘‘

(حیات جاوید حصہ دوم ص۲۵۰)

297

پھر کہتے ہیںکہ: ’’مسلمانوں کے جتنے فرقے ہندوستان میں ہیں۔ کیاسنی، کیا شیعی، کیا مقلد، کیاغیر مقلد، کیاوہابی ، کیا بدعتی۔ سب فرقوں کے مشہور اور غیر مشہور عالموں کی مہریں یا دستخط ہیں۔‘‘

اور(ص۲۸۷) پر مکہ معظمہ کے اربعہ مذاہب کے مفتیوں کے فتویٰ کا خلاصہ لکھاہے کہ: ’’یہ شخص ضال اور مضل ہے بلکہ ابلیس لعین کا خلیفہ ہے کہ مسلمانوں کے اغواکا ارادہ رکھتاہے اور اس کا فتنہ یہودو نصاریٰ کے فتنے سے بھی بڑھ کرہے۔ خدا اس کو سمجھ دے۔ ضرب اور حبس سے اس کی تادیب کرنی چاہئے۔ اگر ولاۃ اسلام میں کوئی صاحب غیرت ہو۔

اور پھر مدینہ منورہ کے فتوے کا خلاصہ یہ ہے جو کچھ درمختار اور اس کے حواشی سے معلوم ہوتاہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ یہ شخص یا تو ملحد ہے یا شرع سے کفر کی جانب مائل ہوگیاہے یا زندیق ہے کہ کوئی دین نہیں رکھتا۔ اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو قتل نہ کیا جائے، ورنہ اس کا قتل واجب ہے۔

اور (ص۲۸۸) میں حرمین شریفین کا علی گڑھ کا لج کے متعلق فتویٰ درج کیاہے کہ: ’’یہ مدرسہ جس کو خدابرباد اور اس کے بانی کو ہلاک کرے۔ اس کی اعانت جائز نہیں۔ اگر یہ مدرسہ بن کرتیار ہوجائے تو اس کو منہدم کرنا اور اس کے مددگاروں سے سخت انتقام لینا واجب ہے۔‘‘

ان مولویوں کی حالت یہاں تک تکفیر میں بڑھ گئی ہے کہ نہایت ادنیٰ اور معمولی بات پر کفر وارتداد کا فتویٰ دے دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ مجتہد صالح بن المہدی المقبلی المتوفی ۱۱۰۸ھ نے اپنی کتاب (العلم الشامخ مطبوعہ مصر ص۳۴۰) میں مکہ مکرمہ کے دوواقعات لکھے ہیں: ’’ایک شخص نے ایک مولوی کے پاس جوتا رکھ دیا تو اس نے کہا تو کافرہوگیا۔ کیونکہ تو نے علماء کی عزت کا پاس نہیں کیا اور ایسا کرنا شریعت کی اہانت ہے۔ پھر رسول کی اور پھر خدا کی جس نے اسے بھیجا۔

دوسرا واقعہ یہ لکھا ہے کہ ایک حکومت کے ملازم نے کسی پر ظلم کیا تو مظلوم نے کہا یہ ظلم ہے۔ سلطان کے امر ورضا سے یہ نہیں ہوسکتاتو اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ میں اس حکومت کا ملازم ہوں جو سلطان کی طرف منسوب ہے۔ پس تو نے سلطان کو ظالم قراردیا اور اس کی توہین کی۔ حالانکہ از روئے شریعت اس کی تعظیم کرنا ضروری تھی۔ اس لئے تو کافر ہو گیا تو اس کو گرفتار کر کے قاضی کے پاس لائے تو قاضی نے اس پر ارتداد کا حکم لگایا اور اس سے دوبارہ اسلام کی تجدید کرائی۔

کیونکہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت کے فقہاء اور علماء یہود کی پیروی کریں گے۔ پس جس طرح فقیہوں اور فریسیوں نے مسیحؑ کو کافر اور مرتد قراردیا۔ اسی طرح ضروری تھا کہ اس امت کے فقہاء اور مولوی بھی مسیح محمدی کو کافر قرار دیتے اور آثار سے ثابت ہے کہ مہدی اور مسیح کو کافر کہا جائے اور یہ بھی ضروری تھا کہ سب مل کر کفر کا فتویٰ دیتے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ فرماچکے تھے کہ بنی اسرائیل کی طرح میری امت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے جن میں سے ایک ناجی ہوگا۔ جن کی تعریف رسول اﷲa نے فرمائی: ’’ہی الجماعۃ (مشکوٰۃ ص۱۹)‘‘ کہ خبردار رہو، وہ ایک خاص جماعت ہوگی۔ یعنی مسلمانوں کے تفریق وتشتت کے وقت وہ ایک امام اور نظام کے ماتحت ہوں گے اور ناجی فرقہ بہتر فرقوں کے مقابلہ میں رکھ کر بتادیا ہے کہ بہتر فرقے اس کے مخالف ہوں گے اور یہ کہنا کہ ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد اہل سنت والجماعۃ ہیں۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ ان بہتر فرقوں میں سے نہیں ہیں، غلط ہے۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں: ’’اس وقت میں نہ کوئی جماعت مسلمین ہے، نہ امام۔ کنارہ کشی کا زمانہ ہے۔‘‘

(اقتراب الساعۃ ص۵۶)

اور بہتر فرقوں کے متعلق لکھتے ہیں: ’’پس حقیقت دریں وقت منحصر درایشان است ومقلدین ائمہ اربعہ وظاہریہ واہل حدیث ہمہ ازایشان اند۔‘‘

(حجج الکرامہ ص۳۶۳)

298

آثار سے بھی ثابت ہے کہ مہدی و مسیح کو کافر کہا جائے گا۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن خان (حجج الکرامہ ص۳۶۳) میں لکھتے ہیں کہ مہدی علیہ الرضوان جب سنت کو رائج کریںگے اور بدعت کا ازالہ فرمائیں گے تو اس کے زمانہ کے مولوی جو تقلید کے عادی اور اپنے بزرگوں کی اقتداء کے خوگرہوں گے، اس کے متعلق کہیں گے کہ یہ تو ہمارے دین کو خراب کرتاہے۔ سب اس کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اورکفر کے فتویٰ دینے کے عادی ہونے کی وجہ سے اسے کافر اور گمراہ قراردیں گے۔

اسی طرح امام ربانی مجددالف ثانی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کی باتوں کا علماء ظواہر انکار کریں گے اور مخالف کتاب وسنت جانیں گے۔

چونکہ بانی جماعت احمدیہ کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا ہے۔ اس لئے علماء اور فقہاء کاآپ کو دین کاخراب اور تباہ کرنے والا قرار دینا اور کافر ومرتد کہنا بھی کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ قرآن مجید میں بھی اﷲتعالیٰ نے فرمایاہے کہ علماء اپنے علم پر نازاں ہوکر خداتعالیٰ کے فرستادوں کی تکذیب کیا کرتے ہیں۔

پس مرزا صاحب کے متعلق چودھویں صدی کے علماء کی شہادت نہ قرآن مجید کی رو سے نہ حدیث اور مستند آثار کی رو سے قابل قبول ہے۔ کیونکہ ایسے ہی علماء کے متعلق امام مالک کامذہب یہ ہے کہ ان کی شہادت قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ لکھاہے کہ مولویوں کی شہادت قبول کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ وہ بڑے درجہ کے حاسد اور بغض رکھنے والے ہوتے ہیں۔

نیز اس لئے بھی ان علماء کی شہادت کوئی وقعت نہیں رکھتی کہ فریق مخالف نے جرح کے جواب میں صاف اقرارکیاہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی کتابیں مطالعہ نہیں کیں۔ بلکہ صرف وہی عبارات دیکھی ہیں،جس پر اعتراض کیاہے۔ اس اصل کو بھی تسلیم کیاہے کہ کسی کا عقیدہ معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تمام کتابوں کو دیکھاجائے گا اور پھر اس پرحکم لگایاجائے گا۔ لیکن فریق مخالف کے گواہان نے اقرارکیاہے کہ انہوں نے مرزا صاحب کی کتابیں سوائے ان عبارات کے جن پر اعتراض کئے ہیں، مطالعہ نہیں کیں۔ اس لئے ان کی شہادت قابل قبول نہیں ہو سکتی تھیں۔علماء ظواہر نے جن کی تکفیر بازی کا کچھ نمونہ بیان کرچکاہوں ان کی شہادتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا صاحب ضروریات دین کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ومرتدہیں۔ جو ان کے کفروارتداد میں شک کرے وہ بھی کافرہے۔ ایسے شخص کا جومذکورہ بالا وجہ کفر پیدا کرکے کافر ہوجائے، اس کا فوراً نکاح بغیر قضاء قاضی کے فسخ ہوجاتاہے۔ اگر بدستور اس حالت میں زن وشوئی کے تعلقات قائم رکھیں توجو اولاد ہوگی وہ صحیح النسب نہ ہوگی، بلکہ اولاد زنا کہلائے گی۔

ان کی شہادتوں کے مقابلے میں مسلمان لیڈروں اور اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اشخاص اور ایڈیٹران اخبار اور دیگر سینکڑوں معزز لوگوں کی شہادتوں کو جن میں انہوں نے مرزاصاحب اور آپ کی جماعت کی تعریف کی ہے اور ہمیں باوجود ہمارے عقائد پر اطلاع رکھنے کے مسلمان کہاہے۔ اس کی اسلامی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ چھوڑتا ہواصرف حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مرحوم رئیس چاچڑاں کی شہادت جنہیں سندھ بلوچستان اور پنجاب اور ریاست بہاول پور کا حصہ کثیر اوراعلی حضرت نواب صاحب ریاست ہذا اپنا پیرو مرشد مانتے ہیں، پیش کرتاہوں۔ جو اشارات فریدی کے جزو سوم میں درج ہے۔، جس کے مو ٔلف مولانا رکن الدین ہیں، جن کے متعلق سوانح عمری حضرت فرید ثانی مطبوعہ رنگین پریس دہلی (ص۲۸) میں لکھاہے: ’’مولانا رکن الدین صاحب جامع مقابیس المجالس المسمی بہ اشارات فریدی قوم سے پرہار۱۱؍رجب۱۲۷۹ھ کو پیداہوئے۔ ۱۳۰۱ھ حضرت

299

صاحب قبلہ کے مرید ہوئے۔۱۳۰۴ھ میں حج کو گئے۔ ۱۳۰۱ھ میں دستاویز فضیلت حاصل کر کے حضرت صاحب قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوکر داخل سلوک ہوئے۔ رات کو مشغول بحق رہتے تھے، دن کو ملفوظ نویسی کرتے۔ انعام الٰہی سے آٹھ برس کی محنت میں دونوکار کا انجام ہوا۔ ۱۳۱۸ھ میںخرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔ اشارات فریدی جلد۳ جناب خواجہ محمد بخش صاحب کی(جو حضرت خواجہ غریب نواز کے فرزند ارجمند ہیں) اجازت سے طبع ہوئی ہے۔ اس اشارات مقبوس۲۷ میں بانی سلسلہ احمدیہ مرزا صاحب کے متعلق حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کا یہ فرمان لکھاہے: ’’فرمودند کہ ہمہ اوقات مرزا صاحب بعبادت خدا عزوجل میگذارند یا نماز میخواند یا تلاوت قرآن میکند یا دیگر شغل مے نماید۔ وبرحمایت دین اسلام چناں کمر ہمت بستہ کہ ملکہ زمان لندن رانیز دعوت دین محمدی کردہ است وبادشاہ روس وفرانس وغیرہم راہم دعوت اسلام نمودہ است و ہمہ سعی وکوشش او دراین است کہ عقیدہ تثلیث وصلیب راکہ سراسر کفر است بگذارند۔ وبہ توحید خداوندتعالیٰ بگردندو علمائے وقت رابہ بینید کہ دیگر گروہ مذاہب باطلہ راگزاشتہ صرف در پئے ایں چنیں نیک مرد کہ اہل سنت وجماعت است وبرصراط مستقیم است وراہ ہدایت مے نماید افتادہ اندوبروے حکم تکفیر مے سازند۔ کلام عربی اوبہ بینید کہ از طاقت بشریہ خارج است وتمام کلام او از معارف وحقائق وہدایت است وازعقائد اہل سنت وجماعت وضروریات دین ہرگزمنکر نیست۔‘‘

(اشارات فریدی جزو ثالث ص۶۹،۷۰)

فریق مخالف نے جو وجہ تکفیر پیش کی ہے۔ وہ ضروریات دین کے منکر ہیں۔

حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نے اس امر کی تردید کی کہ وہ ضروریات دین کے ہرگز منکر نہیں ہیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’مہدی کوکافر ٹھہرایاجائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کوکافرکہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے ، مگر خدا کی شان ہے کہ ان ہزاروں میںسے یہ میاں غلام فرید نے پرہیز گاری کا نوردیکھایا۔’’وذالک فضل اﷲ یو ٔتیہ من یشاء‘‘ خداان کو اجر بخشے اور عاقبت بالخیر کرے۔ آمین! اب جب تک یہ تحریریں دنیا میں رہیں گی۔ میاں صاحب موصوف کا ذکر باخیر بھی اس کے ساتھ دنیا میں کیا جائے گا۔یہ زمانہ گزرجائے گا اور دوسرازمانہ آئے گا۔ خدا اس زمانے کے لوگوں کو آنکھیں دے گا اور وہ ان لوگوں کے حق میں دعاء خیرکریں گے، جنہوں نے مجھے پاکر میرا ساتھ دیاہے۔ سچ سچ کہتاہوں کہ یہ وقت گزر جائے گا اور ہر ایک غافل اور منکر اور مکذب وہ حسرتیں ساتھ لے جائے گا۔ جس کا تدارک اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۸، خزائن ج۱۱ ص۳۲۲)

پس یہ دو شہادتیں ہیں۔ ایک مولویوں کی شہادت کہ مرزا صاحب کافر مرتد ہیں اور ضروریات دین کے منکر ہیں جو ہمارے نزدیک غلط اورخلاف واقعہ ہے۔ دوسری شہادت خواجہ غلام فرید صاحب کی ہے، جس کے مطابق ہمارا مذہب اسلام ہے اور ہم ضروریات دین کے ہرگز منکر نہیں ہیں۔ بقول مرزا صاحب یہاں تک وہی اقرار کرتے ہیں۔‘‘

  1. کہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دین

    دل سے ہیں خدام ختم المرسلیں

  2. شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں

    خاک راہ احمد مختار ہیں!

  3. سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے

    جان ودل اس راہ پر قربان ہے

  4. دے چکے دل اب تن خاکی رہا

    ہے یہی خواہش کہ ہو دوہ بھی فدا

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۶، خزائن ج۳ ص۵۱۴)

300

خلاصہ بیان یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور تمام ان امور کا جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول محمدa سے یقینی طور پر ثابت ہے۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ ہماری طرف خلاف اسلام عقائد منسوب کرتے ہیں۔ ان سے ہم بیزار ہیں اور جو وجوہ تکفیر فریق مخالف نے پیش کی ہیں۔ ان کا جواب خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔ قرآن مجید اور حدیث بزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے کہ وحی امت محمدیہ میں جاری ہے اور صرف انبیاء سے ہی مخصوص نہیں۔ بلکہ غیر انبیاء پر بھی وحی ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ انہی طریقوں سے اولیاء سے بھی کلام کرتاہے، جن طریقوں سے انبیاء کے ساتھ اور فرشتوں کا نزول انبیاءؑ سے مخصوص نہیں۔ اسی طرح غیر انبیاء پر بھی ایسی وحی ہوجاتی ہے۔ جس میں امرونہی ہوتے ہیں۔

غیر انبیاء کی وحی بھی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ البتہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسی وحی جس میں نئے اوامر ونواہی ہوں جو شریعت محمدیہ کے مخالف ہوں بندہے۔ احمدی جماعت آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کی منکر نہیں۔ بلکہ اسے ایمانیات سے جانتی ہے۔ حضرت رسول مقبولa اور صحابہ مثل حضرت علی وحضرت عائشہ نے خاتم النّبیین کا یہ مطلب نہیں لیاکہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں آئے گا۔ اسی طرح پر سلف صالحین مثل شیخ محی الدین ابن عربی اور رومی اور ملّا علی قاری نے خاتم النّبیین کے یہ معنی سمجھے ہیں کہ شریعت محمدیہ کو منسوخ کرنے والا نبی نہیں آسکتا اور اگرکوئی مؤل تاویل کرے تو کافر نہیں ہوگا۔ خاتم النّبیین کے معنی کہ آپ کے بعد مطلقاً کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ اس پر صحابہ کا کوئی اجماع نہیں ہوا اور خاتم النّبیین کی آیت اور اس کے سوا جس قدرآیات اور احادیث فریق مخالف نے اپنے مدّعا کے ثبوت میں پیش کی ہیں۔ ان سے ان کا مدّعاثابت نہیں ہوتا۔ علماء نے لانبی بعدی کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو حضورکی شریعت کا ناسخ ہو اور آپ کی امت میں سے ہو۔ مرزاصاحب نے اپنی جن کتابوں میں وحی اور نبوۃ کا انقطاع مانا ہے۔ اس سے مراد شریعت والی وحی اور نبوۃ ہے۔

ظلی اور بروزی اصطلاحات کا مقررکرنا شریعت کے خلاف نہیں۔ ان کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ نے سب فیض آنحضرتﷺ کی پیروی سے حاصل کیاہے۔ مرزا صاحب نے شریعت جدیدہ لانے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اس دعویٰ کو آپ کفر سمجھتے ہیں۔ تجدید کے طور پر قرآن شریف کے بعد امراورنہی کا کسی بزرگ پر نازل ہونا،حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے حضرت مسیح موعود کو کبھی حقیقی نبی بمعنی صاحب شریعت نبی نہیںکہا۔ حضرت مسیح موعود کا اپنی جماعت کو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنا اور ماہوار چندہ دینے وغیرہ کا حکم دینا وغیرہ شریعت کے خلاف نہیں۔ قرآن مجید اور احادیث سے واضح ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد امتی نبی آسکتاہے اور حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت قیامت اور نفخ صور پر اعتقاد رکھتی ہے۔ آپ نے کسی نبی کی توہین نہیں کی، بلکہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنی جماعت کو اپنی متعدد کتب میں تمام رسولوں کو ماننے کی تاکید کی ہے۔ جو باتیں فریق مخالف نے انبیاء کی توہین ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں، وہ ایسی نہیں کہ جن سے توہین ثابت ہوتی ہو، بلکہ اس سے بڑھ کر علماء اہل سنت حضرت عیسیٰ وغیرہ کے حق میں الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔ خود مولویوں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کو سب سے پہلے کافرکہا۔ اخیر میں پھر کہتاہوں ہم خدا کے فضل سے مسلمان ہیں اور ضروریات دین کے ہرگز منکرنہیں۔

سن کر درست تسلیم کیا۔

دستخط محمد اکبر جج

۱۲؍نومبر۱۹۳۲ء مطابق ۱۴؍رجب۱۳۵۱ھ

301

جرح بربیان جلال الدین صاحب شمس گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ

یکم لغایت ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۳ء

یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء جرح گواہ مدعاعلیہ جلال الدین شمس باقرارصالح

ہماری جماعت کو لوگ قادیانی یا مرزائی کہتے ہیں۔ احمدی اور غیر احمدیوں میں یعنی فروعات میں ہی فرق ہے۔ ایک لحاظ سے اصولی رنگ میں یہی فرق ہے۔ حکیم نوردین صاحب ہماری جماعت میں خلیفہ اوّل ہے۔ کتاب ’’نہج المعلی‘‘ کو میں نے دیکھاہے۔ وہ ایک شخص محمدفضل احمد، احمدی کی تصنیف شدہ ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل پیج پر مصنف نے اس کے نام لکھنے کی جو وجہ درج کی ہے، اس نے حضرت مسیح موعود کے کشف کے مطابق یہ نام رکھا ہے۔ جس کشف کا حوالہ دیاگیاہے،وہ حضرت مسیح موعود کاہے۔

اس کتاب کے (ص۲۷۴) پر یہ درج ہے کہ: ’’احمدیوں اورغیر احمدیوں کے درمیان اصولی اختلاف ہے۔‘‘ اور اس میں عبارت کے آگے یہ الفاظ ہیں: حضرت خلیفۃ المسیح… ایمان لائے ہیں۔ میں پیدائشی احمدی ہوں۔ سلسلہ احمدیہ کی طرف سے اس وقت تک جس قدر لٹریچر شائع ہوچکاہے۔ وہ سب کا سب میری نظر سے نہیں گزرا۔ فقہ حنفی سے اگر یہ مراد ہے کہ جو کچھ حنفی فقہ کی کتابوں میں لکھاہو، ان سب باتوں کے ہم پابند ہیں، تو نہیں۔ لیکن جوباتیں اس فقہ میں قرآن اورحدیث کے زیادہ قریب ہوں تو ہم اس کو لیں گے۔

کتاب ’’نہج المعلی‘‘ جس کا حوالہ اوپر دیاگیاہے کہ (ص۱۳) میں یہ عبارت درج ہے۔ اگرحدیث میں کوئی مسئلہ نہ ہو اور وہ نہ قرآن میں اور لغت میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں…دلالت کرتی ہے۔ مرتد سے وہ شخص مرادہے جو مسلمان ہو اورپھر وہ اسلام سے انکارکردے۔ اس میں اختلاف ہے کہ کس کس عقیدہ کا انکار باعث ارتداد ہوسکتاہے۔ اگر کوئی شخص ایک ایسے عقیدہ کا انکار کر لیتاہے جو اس کے لئے باعث خروج اسلام ہوتاہے، وہ مرتد ہوگا۔ مثلاً رسول اﷲa کا انکار کرنا باعث ارتداد ہے یا فرشتوں کا انکار کرناہے۔ جو شخص جان بوجھ کر انبیاء کی توہین کرتا ہے۔ وہ حقیقت میں مسلمان نہیں رہتا۔ مرتد سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال کرے جوتوہین انبیاء کے موہم ہوں۔ ان کا قائل تصریح کرے کہ اس کی مراد ان الفاظ سے توہین انبیاء نہیں ہے تو وہ مرتد نہیں ہوگا۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک توہین انبیاء کے الفاظ کی تاویل ہو سکتی ہے۔ میرے نزدیک اس شخص کو کفر سے بچانے کے لئے وہ تاویل قبول کی جائے گی۔ مجھے اس وقت اہل سنت والجماعت کی کتابوں کا کوئی حوالہ مستحضر نہیں ہے کہ جس کو میںاس وقت اپنی تائید میں پیش کر سکوں۔ مرتد کی جو تعریف میںنے اوپر بیان کی ہے، وہ جو کچھ میں قرآن مجید اور احادیث سے سمجھتاہوں، وہی بیان کی ہے۔ چنانچہ مرتد کی یہ تعریف قرآن شریف کی حسب ذیل آیت سے اخذہوتی ہے: ’’ومن یرتد منکم عن دینہ… الخ!‘‘ مرتد چونکہ اسلام سے نکل جائے گا۔ اس لئے اس کے ساتھ اسلامی معاملات ترک کردئیے جائیں گے۔ نکاح اسلامی معاملہ ہے۔ نماز اسلامی معاملہ ہے جس کی بیعت کرنا اسلام میں داخل ہے۔ اس کی بیعت بھی اسلامی معاملہ ہوگی۔ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے تواس کے متعلق عام فتویٰ یہی ہے کہ اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔

مرزاصاحب کی بیعت سے علیحدہ ہوجانا ارتداد میں داخل ہے۔ میں احمدی جماعت کا مبلغ ہوں۔ قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے

302

جائز نہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر کے لئے ضروری ہے کہ عربی زبان کا علم ہو،احادیث سے واقفیت ہو اور دیگر بھی کوئی علوم اس کے معاون ہوسکتے ہیں۔ مثلاً صرف، نحو وغیرہ احادیث کے علم کے علاوہ فقہ، علم العقائد، اصول فقہ، اصول حدیث، علم المعانی وغیرہ تفسیر کے معاون ہوسکتے ہیں۔ کتاب ’’مقدمہ بہاول پور‘‘ میں نے لکھی ہے اور قادیان کے بک ڈپو تالیف واشاعت سے شائع ہوئی ہے۔ اس پر جو نوٹ الفاظ ذیل: ’’جو نا انصاف حکام اورخدا ترس اہلیان ریاست بہاول پور کے غوروفکر کے لئے‘‘ شائع کیاگیا، یہ بھی بک ڈپو والوں نے لکھوائے ہیں۔

اس کتاب کے آخرمیں جو نوٹ ہے وہ درست ہے۔ کتاب (چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱) پر یہ الفاظ ہیں کہ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجاوے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔ یہ کتاب مرزاصاحب کی ہے کسی سچے نبی کی دعوت تبلیغ کے بعد اس پر ایمان نہ لانے والا کافرہے۔ مرزا صاحب سچے نبی ہیں۔ احمدی غیر احمدی سے اپنی لڑکی کا نکاح کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ صاحبزادہ محمد بشیر الدین محمود احمد سے میری بیعت ہے اور وہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی ہیں۔

برکات خلافت میں ان کا لیکچر درج ہے۔ اس کتاب کے (ص۷۳، انوار العلوم ج۲ ص۲۱۰) پر یہ عبارت ہے۔ ’’کیونکہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچاتاہے۔ علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ عقائد ہیں۔ قطعیات کا اعتبار ہوتاہے ظنیات کا نہیں۔ میرے نزدیک قرآن مجید قطعی ہے۔ وہ جو بات قرآن کے مطابق ہے وہ بھی قطعی ہے۔ جو حدیث قرآن مجید کے موافق ہے وہ بھی قطعی ہے یااگر ایک شخص خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرتاہے اور قرآن مجید میں جو معیار صداقت کے بیان کئے گئے ہیں، ان کے مطابق وہ پوراا ترتاہے توا س کی جو وحی ہوگی وہ بھی قطعی ہوگی۔ اس میں اختلاف ہے کہ سلف اورخلف کا اجماع قطعی ہے یانہیں لیکن اجماع صحابہ کا قطعی ہے۔ صحابہ کے علاوہ سلف صالح کا اجماع اعتقادی اور عملی اگر ہے تو وہ قطعی ہوگا۔ کوئی غیر قطعی چیز ایمانیات میں داخل نہیں ہے۔

مرزا غلام احمد صاحب کو ماننے والوں کے دو فرقے ہیں۔ ظہیر الدین اروپی کی کوئی پارٹی نہیں ہے۔ دوپارٹیاں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں، ایک مبایعتی اور دوسرے غیر مبایعتی ہیں۔ مبایعتی کے خلیفہ حضرت بشیر الدین صاحب ہیں اور غیرمبایعتی کے امیر مولوی محمد علی صاحب ہیں۔ غیر مبایعتی مرزا صاحب کو ہی مانتے ہیں۔ مگر بمعنی مجدد، محمدعلی صاحب بھی مجدد اور محدث کے معنی میں مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں۔ مرزامحمود احمد صاحب کی کتاب حقیقت النبوت میرے نزدیک معتبر کتاب ہے۔ اگر کوئی شخص مرزاصاحب کی نبی غیر تشریعی نہ مانے تو وہ جماعت احمدیہ سے خارج ہوگا۔یعنی اگر وہ بالکل کسی معنی میں بھی ان کو نبی نہیں مانتا اور ان کی نبوت سے انکار کرتاہے تو وہ جماعت احمدیہ سے خارج ہوگا۔ جو شخص شرائط بیعت میں سے کسی اعتقادی شرط سے انکار کرتاہے تو وہ بیعت سے خارج ہوگا۔ نظام جماعت سے خارج ہوگا۔ جو شخص تمام ضروریات ہی کو مانتا اور ان پر عمل کرتاہے، مگر مرزا صاحب کی نبوت کا منکر اور ان کی خصوصی تعلیم سے منحرف ہے، وہ کافر ہوگا۔ کیونکہ کفر کے معنی انکار کے ہیں۔

جو شخص مرزا صاحب کو ان کے دعویٰ میں جھٹلاتاہے وہ انہیں منکر قراردے کر ان پر کفر کا فتویٰ دیتاہے۔ اس لئے وہ ان کی تکفیر کر کے خود کافرہوتاہے۔ کیونکہ اس شخص کے مرزا صاحب کے منکر ہونے سے یہی سمجھا جائے گا کہ وہ انہیں مفتری سمجھتاہے۔ یہ حدیث رویا الانبیاء وحی درست ہے۔ مرزا صاحب کے بعد اگر کسی نبی کی ضرورت پڑی تو وہ آجائے گا۔ احمد نور کابلی، عبداللطیف جونپوری… دین احمد چیچہ وطنی کے متعلق میں نہیں کہہ سکتاکہ وہ مسلمان ہے یاکافر۔ البتہ میں یہ کہتا ہوں کہ وہ نبی نہیں تھے۔ مرزا صاحب کو کافر،کاذب، دجال

303

کہنے والا کافر ہوگا۔ مدعیہ اگر مرزا صاحب کے متعلق یہی اعتقاد رکھتی ہے تو وہ کافرہ ہوگی۔ لیکن اس کا پہلے کا نکاح فسخ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ اہل کتاب ہے۔ جب کہ مدعیہ مرزا صاحب کے متعلق کسی رائے کے ظاہر کرنے سے قبل عام مسلمانوں کے عقیدہ پر تھی جو پہلے سے مسلمان ہیں۔ اس وقت وہ کافرہ ہی سمجھی جائے گی۔ کیونکہ اس وقت تک اس کی طرف سے انکار کے سوا اور کوئی اقرار ثابت نہیں ہوا۔ دوسرے مسلمانوں کا یہی اگر انکار ثابت ہوگا تو وہ بھی اس طرح سمجھے جائیں گے۔ دومیاں بیوی میں سے جو پہلے احمدی تھے۔ ایک فریق اگر غیر احمدی ہو جائے، یعنی احمدی اعتقاد چھوڑدے تو اس کا نکاح باقی رہے گا۔

کتاب انوارخلافت میں مرزا محمود صاحب کی تقریریں درج ہیں۔ اس کتاب کے (ص۹۰، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۸) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔‘‘ کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ مرزا بشیر الدین صاحب کی کتاب ہے۔ میں اس مقدمہ میں پہلے بحیثیت مختار مدعاعلیہ پیروی کرتارہاہوں۔ مرزا صاحب کو جو کوئی شخص ایسا تشریعی نبی مانے جو اسلامی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہو۔ چاہے سالم یا کسی حصہ کو اور اس کی جگہ نئی شریعت بتلائے، وہ کافرہے۔ اگرکلمہ طیبہ کے ساتھ لفظ ’’کلمہ‘‘ ہے۔ کوئی شخص یہ کلمہ بھی پڑھ دے کہ احمد نبی اﷲ پڑھے تو اس کے متعلق قائل کی حیثیت سے فتویٰ دیا جاسکتاہے۔ اگر قائل پہلے حکم کو منسوخ کر کے اس حکم کو اس کی جگہ دیتاہے تو وہ مسلمان نہیں۔ اگر اس لحاظ سے پڑھتاہے کہ وہ احمد کو نبی اﷲ سمجھتاہے اور اسے مستقبل حکم قرار نہیں دیتا تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ چاہے احمد سے مراد مرزا غلام احمد صاحب بھی ہو۔ اگر اسے وہ مستقل حکم قرار دیتاہے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ احادیث متعارفہ میں اگر کسی طرح بھی منطبق ہو سکے یا ایک کو دوسری پر ترجیح نہ دی جاسکے تو وہ دونوں ساقط ہوتی ہیں۔

ان دونوں میں سے اگر کوئی حدیث قرآن مجید کے موافق ہے تو اسے لے لیا جائے گا اورمخالف کو چھوڑدیا جائے گا۔ اس کی دلیل میںایک حدیث ہے۔ وہ یہ کہ رسول اﷲa نے فرمایاہے کہ تمہارے پاس میرے بعد بہت سی احادیث ہوجائیں گی۔ جب تمہارے پاس کوئی حدیث بیان کی جاوے تو اسے قرآن مجید پر عرض کرو اور جو اس کے موافق ہو، اسے لے لو اور جو اس کے مخالف ہو اسے رد کردو۔ یہ حدیث کتاب ’’توضیح تلویح‘‘ اور ’’اصول الشاشی‘‘ میں ہے۔ یہ دونوں کتابیں اصول فقہ کی ہیں۔ صحاح ستہ کی بعض احادیث معتبر ہوسکتی ہیں۔ ایسی احادیث کو ائمہ نے لیاہے۔ اصول احادیث میں یہ بات مذکورہے۔ کتاب ’’شرح نخبۃ الفکر‘‘میں ہے۔ ص۹ فللمشہور…اجلاً کتاب اعجاز احمدی مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ اس کے (ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰) پرحسب ذیل عبارت ہے۔ ’’ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں۔ وہ میری وحی کے معارض نہیں۔ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘ قرآن کی رو سے جو تعریف رسول کی ہے اور وہی نبی کی ہے۔ رسول اسے کہا گیاکہ جس پر خدا کی طرف سے کثرت سے اظہار غیب ہو۔ کتاب (حقیقت النبوۃ ص۱۲۶، انوار العلوم ج۲ ص۴۴۹) پر حسب ذیل الفاظ ہیں: خدا کی اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں؟ خدا کی یہ اصطلاح ہے کہ جو کثرت مکالمات ومخاطبات کا نام اس نے نبوۃ رکھا ہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی چیزیں دی گئی ہیں۔ اس میں مرزا صاحب کی کتاب (چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱) کا حوالہ دیاگیا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں نبی کا لفظ استعمال ہواہے وہ انہی مضمون میں ہواہے۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے الفاظ میں جو ’’النّبیین‘‘ کا لفظ نبی کی جمع کے طور پر استعمال ہواہے اس میں وہ معنی بھی پائے جاتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے۔ مرزا صاحب قرآن کے معنوں کے لحاظ سے جو نبی کی تعریف میں اوپر بیان ہوئے ہیں حقیقی نبی ہیں۔لیکن ان معنوں کے لحاظ سے کہ آپ نے رسول اﷲa کے اتباع سے اس مرتبہ کو پایاہے اور بغیر شریعت کے تشریف لائے ہیں۔ اس لئے مجازی نبی ہیں۔

304

کتاب (حقیقت النبوۃص۱۷۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۹۳) پردرج ہے کہ: ’’پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے، اس کے معنی سے حضرت صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘ نبی، ظلی، تشریعی، غیر تشریعی کی اصطلاحات میں سے تشریعی اور غیر تشریعی تینوں قرآن مجید سے ثابت ہوئی ہیں۔ لیکن ظلی اور بروزی کے الفاظ قرآن مجید میں نہیں ہیں۔ احمدی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں اصولاً بھی اور عملاً بھی۔ مسلمانوں کی مسجدوں میں احمدی اعلانیہ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ فتویٰ بھی اس طرح ہے اور واقعہ بھی۔ غیر احمدی مسلمان کی نماز جنازہ احمدی نہیںپڑھتے۔ احمدی سے مراد وہی لوگ ہیں جو مرزا غلام احمد صاحب کے پیروہیں۔

کتاب (انوار خلافت ص۹۳، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰) پر ہے کہ: ’’اب ایک اور سوال رہ جاتاہے… پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیراحمدی ہے، اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ غیر احمدی مسلمان، احمدیوں کے قبرستان میں میرے خیال میں دفن نہیں ہوسکتاہے۔ وحی نبوۃ سے اگر مراد تشریعی نبوۃ ہے اور بلا واسطہ آنحضرتﷺ مرادہے تو ایسی وحی بند ہے۔ اس کے سوا اگر وحی نبوۃ آنحضرتﷺ کے اتباع سے وحی نبوۃ غیر تشریعی ہوتو وہ جاری ہے۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لانبی بعدی‘‘ میں جو الفاظ ’’النّبیین‘‘ اور’’نبی‘‘ استعمال ہوئے ہیں اس میں سے ’’لا نبی بعدی‘‘ میں، نبی کا لفظ اس تخصیص سے استعمال ہواہے کہ ایسا نبی کہ جو رسول اﷲa کے مخالف ہو یا جو کہ آپ کی اتباع سے فیض یافتہ نہیں اور جو شرعی ہو اور ’’خاتم النّبیین‘‘ میں لفظ ’’نبی‘‘ ایک معنی کے لحاظ سے تعمیم ہے اور ایک معنی کے لحاظ سے تخصیصی۔ قرآن کے الفاظ دونوں معنی میں لئے جاسکتے ہیں اور اس جگہ بھی قرآن کے الفاظ دونوں معنی کے متحمل ہیں۔

کتاب ’’ایام الصلح‘‘ مرزاصاحب کی کتاب ہے۔ اس کے (ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲،۳۹۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’اس میں اصل کلام کی طرف غور کرکے کہتا ہوں۔ لیکن ختم النّبوۃ کا بکمال تصریح ذکرہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے۔ حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ میں یہی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے۔ خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جاوے… نبوۃ کی وحی ہوگی۔‘‘ محی الدین ابن عربی مجدد الف ثانی، امام عبدالوہاب شعرانی، شیخ عبدالقادر جیلانی مسلمہ بزرگ ہیں۔ مکتوبات مجدد الف ثانی دفتر اوّل کا حصہ دوئم جو پیش کیاگیا، اس کے (ص۱۰۰) پر یہ عبارت ہے: ’’کلام محمد عربیa درکار است۔ نہ کلام محی الدین ابن عربی… ساختہ است ۔‘‘

مجدد صاحب کے مکتوبات دفترسوم (ص۷۸)پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’سادبہ کشوف وظہورسود مثالی…‘‘

کتاب (شافی ج۳ ص۲۹۴)پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’فقد نقل ان ھو…ذالک‘‘ یعنی کہ حضرت محی الدین ابن عربی سے نقل ہے کہ اس نے کہا کہ ہماری کتابوں میں نظر کرنا حرام ہے۔ کتاب فتوحات مکیہ میں نے بالاستیعاب مطالعہ نہیںکی۔ اس کی چار جلدیں ہیں۔ کتاب ’’الیواقیت والجواہر‘‘ میں نے ایک دفعہ سالم پڑھی ہے۔ میں نے اپنے بیان میںاس کتاب کے جو حوالہ جات دئیے ہیں۔ وہ کتاب دیکھ کر دئیے ہیں۔ ایمان لانے کے لئے جو امور ضروری تھے وہ میں نے اپنے بیان میں بتادئیے ہیں۔ دوسری باتیں ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ حیات عیسیٰؑ کا عقیدہ منجر الی الشرک ہے اور مرزا صاحب کی تعلیم کے بعد اب اس عقیدہ پر مشرکانہ کا لفظ ایک معنی کی رو سے اطلاق پاسکتاہے۔ اس وجہ سے کہ یہ عقیدہ منجر الی الشرک ہے اور اگر ایک شخص مسلمان ہوتے ہوئے یہ عقیدہ رکھے تو اس پر مشرک کا لفظ ان معنوں میںاستعمال نہیں ہوگا۔ جن معنوں میں مشرک کا لفظ شریعت میں استعمال ہواہے، بغیرعقیدہ رکھنے کے زبان سے یہ کہہ دینا کہ عیسیٰؑ زندہ ہیں یا نہیں مرے۔ ان معنوں میں جو اوپربیان کئے گئے ہیں،شرک نہیں۔ لیکن اگر سمجھانے کے بعد اور یہ بتادینے کے بعد کہ

305

ان الفاظ کے استعمال سے یہ نتیجہ نکلتاہے اور وہ شرک کی طرف لے جانے والاہے۔ اس لحاظ سے اس پر مشرک کا لفظ اطلاق پاسکتاہے۔ لیکن اس پر وہ احکام جو شریعت میںمشرک پر جاری ہوئے، حاوی نہیں ہوں گے۔ کسی عبارت پر فتویٰ مختلف توجہیات کے اعتبار سے بدل سکتاہے۔

(الاستفتاء ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’حتی سوء الادب……عظیم‘‘ یعنی یہ کہ یہ سوء ادب سے ہے کہ کہا جاوے کہ عیسیٰ نہیں مرے یا وفات نہیں پائی اور یہ تو شرک عظیم ہے۔ حضرت مرزا صاحب بھی حیات عیسیٰؑ کے مسئلہ کو ایک مدت تک مانتے رہے۔ اس عقیدہ کے مطابق جیسا کہ پہلے مسلمانوں کا چلا آیا۔ اس وقت تک مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا۔ کتاب (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) پر یہ عبارت ہے کہ: ’’پھر میں قریباً۱۲ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے…… توہی مسیح موعود ہے۔‘‘ اس کے پیچھے (ص۶، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’جب تک مجھے خدانے اس طرف توجہ نہ دی…… جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ مسیح موعود نبی ہیں۔ لیکن اس وقت تک خدا نے ان پر یہ حقیقت نہیں کھولی تھی۔‘‘ سن کر درست تسلیم کیا۔

عدالت بقیہ کارروائی کے لئے مسل کل پیش ہو

یکم؍مارچ۱۹۳۳ء بمطابق۴؍ذیقعدہ۱۳۵۱ھ

شرعاً کفر کا لفظ ایمان کے مقابلہ میں استعمال ہواہے۔ کفر کے معنی عربی زبان کی رو سے انکار کے ہیں۔ یہ معنی لغوی ہے اور اصطلاحی معنوں میں یہی مد نظر رکھے گئے ہیں۔ ایمان کی جو تعریف میں نے اپنے بیان میں دی ہے۔ اس کی جو ضد ہے وہ کفر ہے۔ یہ اصطلاحی معنوں میں ہے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں کفر کا لفظ مومنوں پر بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔ اس کی نیت کے لحاظ سے معلوم ہوگی۔ جس چیز کی طرف اس کی نیت ہوگی اس کے مطابق حکم دیاجائے گا۔ کفر شرعی کا لفظ کسی مومن کے خلاف نیت کے لحاظ سے بولا جاسکتاہے۔

کتاب (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) پر سوال۶ با لفاظ ذیل ہے۔

حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایاہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے… خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ لیکن اس کے آگے کی عبارت کے پڑھنے سے یہ معاملہ صاف ہوجاتاہے۔ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے۔ ایمان باﷲمیں ایمان بذات اور صفات دونوں شامل ہیں۔ اﷲکی تمام صفات پر جو قرآن اور حدیث میں بیان کی گئی ہیں، ایمان لانا ضروری ہے۔ کتاب ’’فتویٰ عالمگیری‘‘ میں میری رائے میں بعض فتویٰ صحیح ہیں اور بعض صحیح نہیں۔ (فتویٰ عالمگیری جلد ثانی ص۴۰۸ مطبوعہ مطبع نولکشور) پر یہ کہاہے کہ وہ شخص کافر ہوگا جو خداتعالیٰ کو ایک ایسی چیز کے ساتھ موصوف کرے کہ وہ اس کی شان کے لائق نہیں یا خداتعالیٰ کے کسی نام کے ساتھ نہیں کرے یا اس کے کسی حکم سے اس کی وعدہ وعید کا انکار کرے یا اس کا شریک بنائے یا بیوی بنائے یا اسے جہل کی طرف نسبت دے اور تعلق کی طرف سورۃ ’’قل ہواﷲ‘‘ میں جو صفاۃ خداوند تعالیٰ کی بیان کی گئی ہیں، توحید کے لئے ان کا مانناضروری ہے۔ کلمہ ’’لااﷲ الا اﷲ‘‘ میں بھی اس قسم کی توحید مراد ہے۔ ’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ خداوند تعالیٰ کی مثال کوئی چیز نہیں ہے۔ (قرآنی آیت ہے) ’’انماامرہ اذا اراد شیأً ان یقول لہ کن فیکون‘‘ میں جو بات بیان کی گئی ہے، وہ خداوند تعالیٰ کی شان سے تعلق رکھتی ہے۔ پارہ۱۶سورہ مریم کی آیات ذیل: ’’تکاد السموات… الخ!‘‘ یعنی قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اورپہاڑ گرپڑیں۔ اس سے (یعنی اس قول سے) اس وجہ سے کہ انہوں نے خدارحمان کے لئے بیٹاپکارا۔ حالانکہ رحمن کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ بیٹا بنائے۔ اس آیت میں

306

بیٹا لفظ ’’ولد‘‘ کا ترجمہ ہے۔ سورہ ’’قل ہواﷲ‘‘ مذکورہ بالا میں جس قسم کی ولد کی نفی کی گئی ہے وہ جائز نہیں ہے۔ یہود اور نصاریٰ نے اگر انہی معنوں میں جو ان آیات میں مذکورہیں، خداکی طرف بیٹے کی نسبت دی ہے تو وہ جائز نہیں۔ یہود اور نصاریٰ کا مسیح اور عزیر کو خداکابیٹاقراردینا مذکورہ بالاآیات کے تحت میں آجاتاہے۔

کتاب (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹) پر حسب ذیل الفاظ ہیں: ’’انت منی بمنزلہ توحیدی وتفریدی… لا یعلمون من خلقی‘‘ یعنی اس کا ترجمہ بھی اس کی ذیل میں دیاگیاہے۔ اس کے ساتھ ہی حاشیہ پر اس کی تشریح کر دی گئی ہے کہ ’’ولد‘‘ سے کیا مرادہے۔

کتاب (اربعین نمبر۳ ص۲۵ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳) پر حسب ذیل عبارت حاشیہ پر ہے۔ ’’اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھاہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خداکی مانند۔‘‘ اس کے ساتھ حاشیہ کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔

(البشری ص۴۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’کان عند اﷲ وجیھاً‘‘ اس کے نیچے اس کا ترجمہ بھی دیاگیاہے۔ لیکن اس عبارت میں لفظ ’’ولدی‘‘ غلط ہے۔ اصل لفظ ’’رایت‘‘ یعنی میں دیکھتاہوں۔ یہ قول (مکتوبات احمدیہ ج اوّل ص۲۳) سے نقل کیاگیاہے۔ اصل کتاب میں ’’ولدی‘‘ کا لفظ نہیں۔ مصنف ’’البشریٰ‘‘ نے اسی غلطی کا اعلان کیا ہواہے۔

کتاب (الاستفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ان یبشرک غلاما… کاسماء‘‘ یعنی ہم تجھے بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیںجو حق اور بلندی کے ظہور کا باعث ہوگا۔ گویا کہ خداآسمان سے اترا۔

کتاب (الاستفتاء ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۷۱۴) پرہے: ’’انما امرہ اذااراد شیأً‘‘ یعنی تیسرا امر یہ ہے کہ جب تو ارادہ کرے کسی چیز کا اور یہ کہ تو اس کو کہہ، ہوتو وہ ہو جاتی ہے۔’’رب انی مغلوب فانتصر‘‘ کے الفاظ سے خداوند تعالیٰ کو مخاطب کیاگیاہے۔ یہ الفاظ بھی جو اوپر بیان کئے گئے ہیں خداوند تعالیٰ کے متعلق ہیں۔ ان میں بھی خدا کو ہی خطاب کیاگیاہے۔

کتاب (حقیقت الوحی ص۳۵۶، خزائن ج۲۲ ص۳۶۹،۳۷۰) میں الفاظ ہیں: ’’اسی خط میں تصریح کی ہے… پکارانہیں جاتا۔‘‘ یہ حوالہ ایک دوسرے شخص کے خط کے الفاظ کو نقل کیا جو کہ اس کے جواب میں ہے۔ مرزا صاحب نے اپنا عقیدہ اس میں ظاہر نہیں کیا۔ جیسا کہ آگے کہ عبارت سے ظاہرہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴) پرحسب ذیل عبارت ہے۔ افسوس کہ بعض نادانوں نے… کفرہے، اس الہام میں مرزا صاحب کو خطاب ہے۔ عبارت میں الفاظ: ’’انما امرت اذااراد شیأً ان تقول لہ کن فیکون‘‘ میں خطاب مرزا صاحب کو ہے۔ جیسا کہ سید عبد القادر جیلانی کو کہاگیاہے۔ (اربعین ج۳ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳) پر یہ الفاظ ہیں: ’’وانت اسمی الاعلٰی‘‘ یعنی تو میرا سب سے بڑا نا م ہے… یہاں ’’تو‘‘ سے مرزا صاحب مراد ہیں۔

(البشری ج۲ ص ۷۹) پر حسب ذیل عبارات ہے: ’’واصلی وصوم اسھر وانام‘‘ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتاہوں اور سوتاہوں… کرتے تک… یہ ترجمہ اصل عبارت کے نیچے دیاہواہے۔ اس کے متعلق میں نہیں کہہ سکتاکہ یہ ترجمہ مرزا صاحب کا ہے یا کہ خود مؤلف کا ہے۔ ا س میں مرزا صاحب کی جو عربی عبارت نقل کی ہے۔ وہ مرزا صاحب کی مسلمہ ہے۔ اس عبارت کا ترجمہ جو اس کے نیچے دیا ہواہے وہ عربی کی رو سے درست ہے۔

307

کتاب (حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’انا بالرسول اجیب… اجیباً‘‘ میں رسول کے ساتھ ہوکر جواب دوں گا اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ ہی دوں گا اور کبھی ارادہ پورا کروں گا۔ یہاں میں سے مراد اﷲتعالیٰ ہے۔ اس کے نیچے حاشیہ قابل ملاحظہ ہے۔(تریاق القلوب ص۳۹۷) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’نئی زندگی ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی…خدا کا نام ہے۔‘‘ یہ عبارت مرزاصاحب کی مسلمہ ہے۔ انبیاء کا کشف اگر وہ اسے خود قطعی کہیں تو قطعی ہوتاہے، دوسرے کے متعلق جیسے وہ تشریح کریں۔

اس طرح سمجھا جائے گا۔ اولیاء کا کشف اگر تعبیر کے مطابق پوراہوگیا توواقعی سچاہے اور زیادہ تراس ولی کی تشریح کے مطابق اس کشف کو لیاجائے گا۔ اولیاء کے کشف کو میں نے قطعیات اعتقادیات میں نہیں لکھوایا۔ کتاب (البشری ص۷۸،۷۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا… احسن تقویم‘‘ یہ الفاظ جو ’’کتاب البریہ‘‘ میںہیں، وہ مرزا صاحب کے کلام کا ترجمہ ہے۔ اصل کتاب ’’آئینہ کمالات‘‘ میں ہے اور اس کی تشریح خود مرزا صاحب نے اس کتاب کے (ص۵۶۵،۵۶۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)پر کی ہے۔ (نور القرآن۲ص۶، خزائن ج۹ ص۳۸۴) پر حسب ذیل عبارت ہے: ہاں! اگر یہ سوال پیش ہوکر اگر کوئی ایساشخص… جمع ہیں۔ (خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’واعطیت صفت…‘‘ ترجمہ یہ ہے کہ مجھے فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔ اس کے آگے فنا کرنے کی صفت کی تشریح دی گئی ہے۔ قاضی یار محمدa صاحب پی۔او۔ایل کی کتاب اسلامی قربانی ، ہمارے مسلمات میں سے نہیں ہے اور نہ وہ حوالہ مسلمات میں سے ہے جو اس کتاب میں سے پڑھاگیا۔ ہر ایک مرید کا قول اپنے پیر کی نسبت قابل اعتبار نہیں۔ اس مرید کی حیثیت دیکھی جاتی ہے۔ ملائکہ کے معنی قرآن مجید میں ملائکہ کے لفظ میں آیاہے۔ مجھے کوئی تعریف ملائکہ کی قرآن مجید میں اس طرح کی معلوم نہیں۔ جیسا کہ مختار مدعیہ چاہتا ہے قرآن شریف میں ملائکہ کے کام بیان کئے گئے ہیں یا ان کی بعض حالتوں کا ذکر کیاگیاہے۔ مرتد کے متعلق جو کچھ مجھ سے دریافت کیاگیاتھا، اس کے متعلق جو ضروری تھا، وہ میں نے بیان کردیاتھا۔ ملائکہ کے متعلق مرزا صاحب نے کیا کہاہے۔ میں اس کے متعلق مرزا صاحب کے الفاظ دیکھ کر جواب دے سکتاہوں۔ مرزاصاحب کی کتاب (توضیح المرام ص۱۸،۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰) دیکھ کر بیان کرتاہوں کہ مرزا صاحب نے ملائکہ سے نفوس کواکب اور سیارات مراد نہیں لئے۔ ملائکہ کے متعلق بحث کرتے ہوئے مرزا صاحب نے کتاب ’’آئینہ کمالات‘‘ میں قرآن شریف کی رو سے بحث کی ہے۔ مثلاً ’’واوحٰی فی کل سمآئٍ امرھا… زینا السماء الدنیا بمصابیح‘‘ آیت قرآنیہ سے کتاب ’’آئینہ کمالات‘‘ میں استدلال کیاگیاہے۔

ایمان کا تیسرا رکن جو آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا ہے وہ ان کتابوں پر اجمالی طور پر ایمان لانے کے متعلق ہے۔ چاہے ان کے نام معلوم ہوں یا نہ ہوں، لیکن قرآن مجید پر تفصیلی طور پر ایمان لانا ضروری ہے۔ توراۃ اور انجیل پر اجمالی ایمان کی ضرورت ہے اور قرآن شریف پر تفصیلی۔ یہی جو کچھ قرآن شریف میں لکھاہے، اس سب پر ایمان لانا ہے۔ میں پہلے بیان کرچکاہوں کہ جس شخص کی صداقت قرآن مجید کے معیار کی رو سے جو سچے انبیاء کے لئے جاننے ضروری ہیں، ثابت ہوجائے تو اس کی وحی پر ایمان لاناویسا ضروری ہے، جیسا قرآن پر کتاب (درثمین ص۱۷۲، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)سے جو یہ اشعار پڑھے گئے ہیں۔

  1. آن چہ من بشنوم زوحی خدا، بخداپاک دانمش زخطا

    ہمچوں قرآن منزہ اش دانم، از خطاھا ہمین است ایمانم

یہ اشعار مرزا صاحب کے ہیں۔ (اربعین نمبر۴ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴) میں یہ الفاظ ہیں: جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے، جیسا کہ توراۃ، انجیل اور قرآن کریم پر… چھوڑ دوں۔ مرزا صاحب کے الفاظ ہیں۔

308

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷) پرہے کہ اس نشان کا مدعایہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ یہ الہام کی عبارت ہے۔ الفاظ اس نشان کا یہ ہے۔ یہی الہام کے الفاظ ہیں۔ (ص۸۳،۸۴، خزائن ج۲۲ ص۴۷۶،۴۷۷) پر عبارت بالفاظ ذیل بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید… توجہ کرے گا۔ یہی الفاظ مرزا صاحب کے الہام کے ہیں۔ کتاب (تجلیات الٰہیہ ص۲۵،۲۶، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲) پر ہے کہ ایسا میں بھی اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا۔جیسا کہ خداکی کتاب پر یہ الفاظ بھی مرزاصاحب کے ہیں۔ ایمان بالرسل سے مراد ہے کہ تمام رسول جو خدا وند تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔ چہ جائے کہ ان کے نام ہمیں معلوم ہوں یا نہ ہوں ہم ایمان لاتے ہیں۔ ایمان بالرسول میں بھی ایک رنگ میں ایمان بالاجمالی اور بالتفصیلی نہیں ہوسکتا۔ لیکن ان باتوں پر ایمان لانے میں اجمالی اور تفصیلی ہے۔ جیسا کہ میں بیان کرچکاہوں۔ جن انبیاء کو اﷲتعالیٰ نے جن خصوصی ناموں اور صفات کے ساتھ قرآن مجید میں ذکرکیاہے۔ اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص موسیٰm کے خداتعالیٰ سے کلام کرنے کا منکر ہے یا حضرت عیسیٰؑ کے متعلق کہ ان کی روح کے پاک ہونے اور خدا کے پیدا شدہ ماننے سے انکار کرتاہے، وہ بھی کافرہے۔ کیونکہ وہ قرآن مجید کی صریحی نصوص کا انکار کرتاہے۔ اگر کوئی شخص کسی شخص کے متعلق یہ کہتاہے کہ خداتعالیٰ نے اس سے کلام کی ہو تو اس سے اس کو کلیم اﷲ کہنے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ بخاری شریف کی احادیث معتبرہ ہیں۔ لیکن اگر ان میں کوئی ایسی حدیث ہے جو قرآن شریف کے مخالف پڑتی ہوتو وہ مسلّم نہیں۔ چنانچہ کتاب (توضیح تلویح ص۳۱۱ مطبوعہ نولکشور) میں اس کی سند میں ایک حدیث موجود ہے۔

مسلم شریف کی کتاب میرے نزدیک معتبر ہے۔اس اصول کے تحت جو میں نے بخاری کے متعلق بیان کیاہے۔ امام مسلم کو بھی بزرگ مانتاہوں۔ امام عبداﷲ ابن مبارک امام بخاری کے استاد تھے۔ (صحیح مسلم ص۱۲) پر ہے کہ میں نے عبداﷲ بن مبارک سے سناکہ وہ کہتے تھے کہ اسناد دین سے ہے اور اگر اسناد نہ ہوتی تو کہتا جس کا جو جی چاہتا…الخ! قرآن میں جو انبیاءؑ کے القاب آئے ہیں وہ ہم سب مانتے ہیں۔ رسول اﷲa کا علم دین کے متعلق سب سے بڑھ کرہے۔ قیامت کا وجود دین سے ہے۔ لیکن بعض باتیں پیش گوئیوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اپنے وقت پر آکرظاہر ہوتی ہیں اوران کی حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب کہ وہ پوری ہوتی ہیں۔ رسول اﷲa اپنی پیش گوئیوں کو تمام مخلوق سے بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن بعض پیش گوئیاں ایسی ہوتی ہیں جو آئندہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن کی حقیقت ان کے ظہور کے وقت نمایاں ہوتی ہے اور اجتہادی غلطی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں یعنی کیفیت تحقیق وقوع کے لحاظ سے ہر نبی سے ممکن ہے۔ حتیٰ کہ رسول اﷲa سے بھی۔ چنانچہ بخاری کی حدیث میں یہ آیا ہے کہ رسول اﷲa نے ایک رؤیا کی بناء پر یہ سمجھا کہ میں ہجر یا یمامہ کی طرف ہجرت کروں گا۔ لیکن جب آپ مدینہ کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو اس وقت آپ پر اس پیش گوئی کی حقیقت کھلی کہ اس سے مراد مدینہ تھی۔ جب نبی سے اجتہادی غلطی ممکن ہوئی تو پیش گوئی کے پورا ہونے کے وقت اصل حقیقت پیش گوئی منکشف ہوجائے گی۔ کیفیت تحقیق وقوع کے ظاہر ہونے کے وقت نبی کے بعد امتی کو پیش گوئی کا علم ہوسکتاہے۔ اسی کو پیش گوئی کے تحقیق وقوع کے وقت وقوع کا علم ہوجاتاہے۔ اس سے اس کے اور نبی کے علم کی کمی زیادتی کا کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ کسی واقعہ کے وقوع سے قبل نبی کو اﷲتعالیٰ اس واقعہ کی اطلاع بطور غیب کے نہیں، الہام سے تفصیلی دے سکتاہے۔ کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۹۱،۶۹۲، خزائن ج۳ ص۴۷۳) پر ہے کہ اس بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں… نام پائے گا۔ ابن مریم، دجال پہلے یاجوج ماجوج کا وقوع۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے کہا ہے۔ ان کے زمانہ میں ہوا۔ جتنی مرزا صاحب نے ان کی حقیقت لکھی ہے اتنی ان پر منکشف ہوئی۔ وہ ان کی کتابیں ازالہ اوہام اور دوسری کتابوں میں جمع ہے درج ہے۔ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۲۶) پر ہے کہ اگر اس جگہ کوئی اعتراض کرے…… مفصل طور پر بیان کیا جائے گا۔

309

(دافع البلاء ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)پرہے: ’’عیسٰی ان یبعثک ربک مقاماً محمودا‘‘ ایسے اور یہ مرزا صاحب کا الہام ہے۔ اس میں خطاب مرزا صاحب کو ہے۔ یہ الفاظ قرآن مجید میں بھی آئے ہیں اور وہاں خطاب رسول اﷲa سے ہے۔ (الاستفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲،۷۱۳) پرہے: ’’لولاک… الافلاک‘‘ اس میں یہی خطاب مرزا صاحب سے ہے۔ یہ بھی مرزا صاحب کا الہام ہے۔ (الاستفتاء ص۸۶)پر بھی ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ میں بھی ہے اور یہ خطاب بھی مرزا صاحب سے ہے۔ (اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳) پرہے کہ: اور مجھے بتلایاگیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میںموجود ہے اورتوہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق …تا… المشرکون‘‘ جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا۔ خدا کی حکمت عملی نے مجھ سے پوشیدہ رکھا۔ (حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵) ’’وما ارسلناک الا رحمت للعالمین‘‘ کے الہام میں یہی خطاب مرزا صاحب سے ہے۔ (اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶) پر الفاظ ’’وما ینطق عن الھوی… یوحٰی‘‘ کے الہام میں بھی مرزا صاحب سے خطاب ہے۔ (دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶) پر جو یہ الفاظ ہیں: ’’ماکان اﷲ…انت فیھم‘‘ بھی مرزاصاحب کا الہام ہے اور اس میں خطاب مرزا صاحب سے ہے۔ یہ الہامات جو اوپر بیان ہوئے ہیں، قرآن مجید میں رسول اﷲa کے حق میں ہیں۔ (تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴) پرہے کہ ؎

  1. منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد منم

مرزا صاحب کا قول ہے۔ (درثمین ص۷۶) پر مرزا صاحب کا یہ قول ہے ؎

منم مشیر احمد مختار دربرم جائے ہمہ ابرار

سن کر درست تسلیم کیا۔ ۲؍مارچ ۱۹۳۳ء

۷؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختار حاضر

جرح مدعی بر مولوی جلال الدین

متقی صوفی ہوتاہے۔ یعنی جو متقی ہوگا وہ صوفی ہوگا۔ متقی کے معنی ہیں جو پرہیز گارہو اور معاصی سے بچنے والاہو۔ آیت: ’’الذین یؤ منون بالغیب‘‘ میں متقی کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ ’’یؤ منون بالغیب‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے جو ایمانیات تھیں، میں ان کی تشریح کرچکاہوں اور یہ بھی بتلا چکاہوں کہ جو شخص کسی کتاب پر ایمان لاتاہے تو جو کچھ اس کتاب میں ذکر کیاگیاہے، اس پر بھی ایمان لاتاہے۔ روزے اور حج کو فرض ماننا ضروری ہے۔ چونکہ قرآن میں حج اور روزہ کا ذکر ہے۔ اس لئے ان دونوں کو فرض ماننا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص جس کی صداقت قرآن کی رو سے ثابت ہوجاتی ہے تو جو اس کی وحی ہوگی، اس کو بھی ماننا ضروری ہے۔ اس آیت میںتصریحاً یہ ذکر نہیں کہ ایسی کتاب کہ جس قسم کی رسول اﷲa پر اتری ہے۔ کوئی بعد میں بھی ایسی کتاب نہ آئے گی۔ ’’ما انزل الیک‘‘ سے میں نے مراد وحی تشریعی لی ہے۔ جیسا کہ میں بیان میں لکھاجاچکاہوں۔ وحی تشریعی کتاب ہوتی ہے۔ ہم جہاد کو حرام نہیں کہتے۔ دینی لڑائی کو اس وقت ہم جائز نہیں سمجھتے۔ دینی لڑائی کو ایسی حکومت سے جو خود دینی لڑائی نہیں لڑتی، ہم جائز نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی حکومت ایسی ہو کہ جس سے دینی لڑائی لڑنے کے شرائط پائے گئے ہیں۔ ان سے دینی لڑائی جائز ہے۔ ’’بعث بعد الموت‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ موت کے بعد جو حیات ہوگی۔ چاہے قبروں سے اٹھیں یا کسی جگہ سے خداتعالیٰ کے سوا کسی میں الوہیت نہیں پائی جاتی۔ اگر کسی کو یہ

310

کشف ہوکہ اﷲکی الوہیت مجھ میںموجزن ہے تو وہ شخص متقی ہے ، صوفی ہے، راست بازہے اورموحدباﷲ ہے۔ وہ کشف اس کی تعبیر کے مطابق لیا جائے گا جو وہ خود ان کی کرتاہے۔ ’’انا ربکم الاعلی‘‘ جو قرآن میں فرعون کا قول ہے، اس میں کوئی توجیہ بیان نہیں کی گئی اور وہ نہ کشف ہے اور نہ رؤیاہے۔ بلکہ اس عقیدہ کا اظہارہے۔ ان الفاظ کی جب توجیہ پائی جائے گی تو اس کے مطابق فتویٰ دیاجائے گا۔ رسول اﷲa کو خاتم النّبیین مانناضروری ہے اور چونکہ یہ صفت قرآن مجید میں مذکورہوئی ہے۔ اس لئے اس کا مانناضروری ہے اور اس پرایمان لانا اس لئے ضروری ہے کہ یہ صفت قرآن مجید میں موجودہے۔

(مسلم شریف ص۳۷) پر یہ حدیث ہے: ’’امرت ان اقاتل الناس… فعرفت انہ ہو الحق‘‘ یہ حدیث ہمیں مسلمہ ہے۔ اس کے آگے دوسری حدیث ابوہریرہ کی اس موضوع پر ہے اور وہ بھی ہماری مسلمہ ہے اور جو شخص حدیث اوّل الذکر کی رو سے ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ کہہ دے تو پھر اس سے قتال جائز نہیں۔ اگر اس میں قتال کی شرطیں پائی جاتی ہیں تو ان سے لڑنا چاہئے اور یہ حکم ہے کہ ان سے لڑو، جن جن سے جنگ شروع تھی۔ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اطاعت جو ہے وہ پوری کی پوری خدا کے لئے ہویا دین پوراکا پوراخدا کے لئے ہو۔ دین کے معنی اطاعت کے بھی ہیں اور دین کے بھی ہیں۔ فتنہ سے مراد جیسا کہ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام لائے تو اسے محض اسلام لانے کی وجہ سے قتل کردیں یا اسے ہمیشہ عذاب میں رکھیں۔ اگر شروط جہاد اس زمانہ میں پائی جاتی ہیں اور پھر کوئی قتال کرتاہے تو وہ شہید ہوگا۔ اگر شروط پائی جاویں توپھر جہاد منسوخ نہیں ہوگا۔

کتاب (گورنمنٹ انگریزی اور جہادص۱۴، خزائن ج۱۷ ص۱۵) دیکھ کربیان کرتاہوں کہ اس میں حسب ذیل عبارت ہے: دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیاہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔ دین پھیلے گا۔ (اربعین نمبر۴ ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳) پرہے۔ جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خداتعالیٰ کی طرف سے آہستہ آہستہ کم کیاگیاہے… موقوف کردیاگیا۔ (اعجاز احمدی ص۳۴، خزائن ج۱۹ ص۱۴۴) پر ہے کہ یہ بات توبہت اچھی ہے کہ جہاد کے خراب مسئلہ کو دلوں سے مٹا دیا جاوے…توکیا کریں۔ (کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۸) پرہے: اس قدردوردراز مدت تک… کسی انعام کی توقع نہیں۔کتاب (حقیقت المہدی ص۲۴، خزائن ج۱۴ ص۴۶۱) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’فلا نحتاج…بدلت‘‘ مطلب یہ ہے کہ ہم اس زمانہ میں لڑائی اور انتقام کے محتاج نہیںہیں اور نہ ہی نیزوں کے سیدھا کرنے اور تلواروں کے کھینچنے کے بلکہ یہ امور اس امر کی طرح ہو گئے ہیں کہ جو منسوخ کیاگیاہو۔ ان طرق کی طرح کی جو تبدیل کئے گئے ہوں۔ یعنی اس وقت اگرکوئی شخص شریعت کے کسی حکم کو باوجود یکہ اس کا اس وقت میں پایا جانا ضروری ہے۔ بدل دے یا منسوخ کردے تو اس کا بدل دینا یا منسوخ کردینا جائز نہیں ہے۔ کتاب (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۳۷،۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰) پرہے کہ اور اب کوئی ایسی وحی یا کوئی ایسا الہام… کافر ہے۔ کتاب (ایام الصلح ص۱۶۸، خزائن ج۱۴ ص۴۱۶)پرہے کہ لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتنہ دجالہ ہے… تحریرہے۔ مسیح موعود کے نشانات میں سے حج کرنے کی علامت متنازعہ فیہ ہے۔ لیکن جیسا کہ واقعات سے ثابت ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ مسیح موعود خود جاکر حج کریں گے اور اگر کوئی ایسی روایت ہوتو وہ خبر واحد ہونے کی وجہ سے اعتقادی بناء قرار نہیں دی جاسکتی۔ بلکہ ایسا شخص جس کی صداقت قرآن مجید سے ثابت ہوچکی ہے۔ ایک روایت کی بناء پر اسے جھوٹا قرارنہیں دیاجاسکتا۔

مرزا صاحب کی جن کتابوں سے میں نے اپنے بیان میں حوالے دیئے ہیں، ان میں سے کوئی کتاب بحیثیت پوری کتاب کے منسوخ نہیں ہے۔ ہاں! جس بات کو مسیح موعود نے خود منسوخ قراردیاہو، وہ منسوخ سمجھی جائے گی۔ ۱۹۰۱ء سے پہلے مرزا صاحب اپنے آپ پر نبی کا لفظ بمعنی محدث استعمال کرتے رہے۔ لیکن بعد میں آپ نے محدث کا لفظ ترک کردیااور نبی کا لفظ استعمال فرمایا۔ مرزا صاحب مبلغ

311

اسلام بھی تھے۔ مصلح تھے، مجددبھی تھے اورمحدث بھی تھے اور امام زمان بھی تھے۔ خلیفہ الٰہی اور خداکے جانشین بھی تھے۔ جیسے آدمm تھے۔ (درثمین ص۷۴، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳) پر مرزا صاحب کا یہ شعر ہے۔

  1. میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ ، کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابرہیم ہوں ،نسلیں ہیںمیری بے شمار

مرزا صاحب مہدی ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ نبی امتی، بروزی اور ظلی کے بھی۔ مرزا صاحب نے اپنے متعلق الفاظ استعمال کئے ہیں۔ کتاب (حقیقت الوحی ص۷۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۷۶) پر یہ الفاظ ہیں کہ: ’’میں آدم ہوں… مظہر اتم ہوں۔‘‘ کتاب (کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰) پر ہے کہ مریم کی طرح عیسیٰؑ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی… بیان کیاگیاہے۔ (اربعین نمبر۴ص۱۴ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵) پرہے کہ خدانے اپنے الہامات میں مرزا صاحب کا نام بیت اﷲ بھی رکھاہے… الخ! (تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۲) پرہے کہ یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والاتھا وہ تو ہے ہی۔ (لیکچراسلام سیالکوٹ ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹) پرہے۔ مجھے منجملہ الہاموں کے… تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔ کتاب البریہ میں مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ نورالحق سال۱۳۱۱ھ میں لکھی گئی ہے۔ نور الحق میں یہ عبارت ہے کہ ہم اہل قبلہ ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ہم مکہ مکرمہ میں جو قبلہ ہے اس کی طرف منہ کرتے ہیں اور مسلمان ہیں۔ مرزا صاحب کی کتابوں پر سن تصنیف (تصنیف) جو تحریر شدہ ہیں، ہم مانتے ہیں کہ وہ کتابیں ان سالوں میں شائع ہوئیں۔

کتاب (حقیقت النبوۃ ص۷۹، انوار العلوم) ۱۹۰۱ء سے پہلے… ختم ہوگئی۔ یہ عبارت کتاب عین الحق سے نقل کی گئی ہے۔ قرآن مجید آخری کتاب ہے جو آنحضرتﷺ پر اتری ہے۔ بلحاظ شریعت کے آخری کتاب ہے۔ یعنی اس کے بعد اور شریعت نازل نہیں ہوگی۔ آنحضرتﷺ ان معنی میںآخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شرعی نبی نہیں۔

(سراج منیر ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵) میں جو یہ شعر ہے کہ ؎

  1. اندریں دین آمدہ ازما دریم

    ہم بریں از دار دنیا بگذریم

مرزا صاحب اخیر تک اس عقیدہ پر قائم رہے تھے۔

مرزاصاحب نے (ایام صلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳) میں یہ لکھاہے کہ: ’’اور وہ امورجو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننافرض ہے۔‘‘ عام طور پر اہل سنت سے مراد حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی لئے جاتے ہیں۔ لیکن ہر ایک وہ شخص کہ جو کہے کہ میں سنت کا تابع ہوں، اسے اہل سنت لغوی طور پر مراد لیاجاسکتاہے۔ مرزا صاحب نے اہل سنت سے وہی لوگ مرادلئے ہیں جو اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں۔ اہل حدیث بھی اہل سنت سمجھے جائیں گے۔ نیز اس کے (ص۵۷۱،۵۷۲) پر اہل قبلہ کی تعریف دی ہوئی ہے۔ یہ تعریف جیسا کہ میں اپنے بیان میں لکھوا چکاہوں، اس کے مطابق لی جاوے تو پھر درست ہے۔ یعنی ضروریات دین جو میں نے بیان کی ہیں، اگر اس تعریف میںبھی وہی مراد لی جاوے تو پھر درست ہے۔ نیز اس میں باتیں ایسی ہیں جو میں صحیح نہیں مانتا۔ اس کتاب میں سے جب کوئی بات ہمارے سامنے آئے گی، اس وقت یہ فیصلہ کیا جاسکے گا کہ وہ معتبر ہے یا غیر معتبر۔ کتاب (اربعین نمبر۳ص۱۷، خزائن ج۱۷ ص۴۰۴) پرہے کہ: ’’لیکن ضرور تھا…… کیا جائے گا۔‘‘ یہ عبارت قرآن مجید اور احادیث سے مشتبہ ہے۔ میں نے ملّا علی قاری کی شرح فقہ اکبر کا حوالہ دیاتھا۔ ایک اور کتاب اس نام کی حیدر آباد کی مطبوع ہے۔ وہ ملّا علی قاری کی نہیں۔ اب یاد نہیں کہ وہ کس کی ہے۔ میں نے بعض جگہ اپنے بیان میںملّا علی قاری کی کتاب کا حوالہ دیاہے اور بعض جگہ دوسری کتاب کا۔ بحرالرائق میں سے بعض حوالے میں نے ایسے پیش کئے ہیں کہ

312

جن کے مطابق اس وقت کے علماء فتویٰ نہیں دیتے۔ میرے نزدیک قرآن مجید اور احادیث کی رو سے محض مرتد کی سزا قتل نہیں ہے۔جیسا کہ اگر کوئی مسلمان شخص ، ہندویاعیسائی ہوجائے تو محض ہندویا عیسائی ہونے سے وہ واجب القتل نہیں ہوجاتا۔ میں نے جو آیتیں اور حدیثیں اور فقہ کی کتابوں سے عبارتیں پیش کی ہیں، ان میں جو باتیں مذکور ہوئی ہیں، ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔ دینی معاملات میں رسول اﷲa کا ہر فیصلہ ماننا ضروری ہے۔ رسو ل اﷲa کے فیصلہ کے خلاف جو فیصلہ ہوگا، وہ نہیں مانا جائے گا۔ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو خدا کی طرف سے کوئی کتاب دی گئی تھی۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کا لفظ یہود اور نصاریٰ پر ہی استعمال ہواہے اور مسلمانوں کے لئے یہ لفظ اہل کتاب استعمال نہیں ہو، اور نہ وہ اہل کتاب ہیں۔ صوفیائے کرام اور دیگر بزرگان کے اقوال اگر قرآن مجید اورحدیث کے مخالف نہیں ہیں تو وہ معتبر ہیں۔ تاویل کے متعلق جوکچھ میں نے اپنے بیان میں لکھوایاہے۔ اس کے مطابق تاویل ہوسکتی ہے جو اقوال میں نے اپنے بیان میں استدلال کے طور پر بیان کئے ہیں اور ان کو میں نے صحیح قراردے کر کہاہے تو وہ میرے نزدیک صحیح ہے۔ فتویٰ دیتے وقت جس خاص شخص کے متعلق فتویٰ دیاجارہاہو، اس شخص کے حالات اور اقوال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور اس کی نیت کوبھی جس کی اس نے خود تصریح کی ہو۔ اگر مفتی کسی شخص کے متعلق فتویٰ دیتاہے اور اس کی طاقت میں ہے کہ وہ اس شخص کے حالات اور اقوال کو خود مطالعہ کرسکے تو اس کو مطالعہ کرنا چاہئے۔ اگر اس نے وہ اقول کئے ہوں جو مفتی کے سامنے پیش کئے گئے ہیں اور اس کی کوئی تاویل نہیں ہوسکتی تووہ فتویٰ دے سکتاہے۔ اگر کفر کا سوال ہوتوکفر کا فتویٰ دے سکتاہے۔گواہان فریق اوّل نے جو وجوہات تکفیر عدالت میں بیان کی تھیں۔ میں نے ان کا رد اپنے بیان میں کردیاہے۔ ان کے علاوہ دیگر علماء نے جو وجوہ بیان کی ہیں، ان کا یہاں کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ وہ میرے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ بحر الرائق میں کفر کے فتویٰ کے متعلق کوئی اصول درج ہے یا نہ۔ لیکن بحر الرائق میںیہ لکھاہے کہ میں ان باتوں میں سے اکثر کے متعلق فتویٰ نہیں دیتا اور اگر کسی کی کلام کا محمل حسن نکل سکے تو اس کے مطابق فتویٰ دیاجائے گا۔ یہ بھی فقہ کی کتابوں میں آیاہے کہ اگر کسی کلام کے ۹۹احتمال کفر کے نکل سکیں اور ایک احتمال ایمان کا تو اس پر کفرکا فتویٰ نہیں دینا چاہئے۔ لیکن باوجود اس کے کہ مولویوں نے اس اصول کے خلاف فتوے دئیے ہیں۔ بعض علماء نے مرزاصاحب کے کفر کا فتویٰ نہیں بھی دیا۔ بلکہ بعض علماء اور بعض پیروں نے آپ کے دعویٰ کو تسلیم بھی کیا۔ میں تمام فرقوں کے علماء کا احاطہ نہیں کرسکتا کہ میں کہوں کہ ان میں سے کس کس نے مرزا صاحب کے کفر کا فتویٰ دیا ہے اور کس کس نے نہیں دیا۔

تفسیروں میں جو رطب دیا بس واقعات درج ہیں۔ اگر ان کے متعلق کوئی مفسر کسی بات کی تردید کرتاہے اور تردید کر کے صحیح بات لکھ دیتاہے تو اس کی کتاب پر ایسی چیزوں کا ذکرکرنا اثر انداز نہیں ہوگا۔ علامہ ابن خلدون نے تفسیر میں کوئی کتاب نہیں لکھی اور اگر مفسرین سے مراد یہی ہے کہ انہوں نے تفسیر کی کوئی کتاب لکھی ہے یا نہ تو اس معنی میں وہ مفسر نہیں ہیں۔ لیکن وہ مؤرخ ہیں اور نہایت قابل مؤرخ ہیں۔ مذہب کے متعلق ابن خلدون کی جو بات قرآن اور حدیث کے مطابق ہوگی وہ درست ہوگی، جو شخص کسی حدیث کو یاقول کو قرآن مجید کے واقعی طور پر خلاف ثابت کردے تو اس کا وہ قول معتبر ہوگا۔ ابن خلدون کے قول ’’تفاسیر المتقدمین‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ متقدمین نے قرآن مجید کی تفسیر میں جو اقوال اور جو باتیں لکھی ہیں، ان میں رطب ویابس ہے۔

حضرت ابن عباس نے تفسیر کی کوئی کتاب تصنیف نہیں کی۔ ان کی طرف بہت روایات ایسی منسوب کی گئی ہیں، جن کے راوی مجہول ہیں۔ میرا اصول تفسیروں کے متعلق یہی ہے کہ جو باتیں ان میں اچھی ہیں وہ لے لی جائیں گی اور جو اچھی نہیں وہ چھوڑ دی جائیں گی۔ قرآن پاک کی جو تفاسیر رسول اﷲa سے یقینی طور پر ثابت ہوجائیں گی وہ لے لی جائیں گی۔ میرے خیال میں مرزا صاحب نے جو تفاسیر

313

قرآن مجید کی بیان کی ہیں، سوائے ان باتوں کے جن کی تردید خود مرزا صاحب نے کردی ہے، صحیح ہیں۔ محمد علی کی تفسیر میں اگر کوئی غیر صحیح بات ہے تو ہم اس کو بھی نہیں مانیں گے۔

تقلید کے معنی پیروی کے ہیں۔ اس لئے محض تقلید ممنوع نہیں۔ کورا نہ تقلید سے یہ مرادہے کہ ایک شخص کو ایک بات کے متعلق سمجھایاجاتاہے کہ بات یوں ہے اور وہ جس بات کو تسلیم کررہاہے۔ وہ خلاف عقل بھی ہے۔ لیکن محض اس لئے کہ فلاں مولوی نے یہ کہاہے۔ وہ ویسے مانتاہے اور دوسرے کی بات کو چاہے وہ صحیح بھی تسلیم نہیں کرتا۔ اس کو کورا نہ تقلید کہا جائے گا۔ علماء سلف نے جو اقوال نقل کئے ہیں۔ ہمیں ان کے متعلق نیک نیتی سے یہ کہنا چاہئے کہ انہوں نے وہ اقوال نیک نیتی سے جمع کر دئیے جو ان کو ملے۔ فیصلے میں وہ غلطی کر سکتے ہیں۔

تفسیر (اتقان ص۱۷۸) ’’وان الصحابہ… رسولہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین وائمہ کی ایک تفسیر ہے اور ایک قول ہے۔ ان کے مخالف تفسیر کرے۔ کسی اعتقاد کی وجہ سے تو وہ تفسیر درست نہیں ہوگی۔ (ص۱۸۴) پر ہے کہ صوفیا نے جو کلام کی ہے، وہ تفسیر نہیں ہے۔ یہ قول ابن (خلدون)سے نقل کیاگیا۔

کتاب برکات الدعاء مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ اس کے (ص۱۵ تا۱۸، خزائن ج۶ ص۱۷تا۲۲) پر جو اصول تفسیر لکھے ہیں وہ صحیح ہیں۔ جن میں ایک اصل تفسیر کا وحی دلالت اور مکاشفات محدثین بھی درج ہے۔ یہ حدیث کہ: ’’خیر القرون قرنی… کذب‘‘ یہ حدیث صحیح ہے۔

وحی کے لغوی معنی القا کرنا، الہام، اشارہ کرنا، لکھنا، یعنی لکھی ہوئی بات مراد ہیں۔ وحی کی اصطلاحی تعریف وحی کلام الٰہی کو کہتے ہیں۔ وحی کی اقسام میں اپنے بیان میںبتا چکاہوں۔ تفصیلی لحاظ سے ان کے ماتحت اور اقسام بھی ہو سکتی ہے۔الہام کا لفظ وحی پر بھی اطلاق پاتاہے اور غیر وحی پر اطلاق پاتاہے۔ کشف وحی سے علیحدہ ہے۔ کشف میں اگر کوئی وحی کی جاتی ہے تو اس پر وحی کا اطلاق ہوسکتاہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ مجازی وحی سے کیا مراد ہے۔ ’’اوحٰی ربک الی النحل‘‘ سے مراد وہی ہوسکتی ہے کہ جو نحل قویٰ اور استعدادوں کی مناسبت کے لحاظ سے ہو۔ وحی کا لفظ قرآن مجید میں ان معنوں میں استعمال ہواہے اور دوسرے معنوں میں بھی۔ بعض جگہ اگر لغوی معنوں کو مد نظر رکھا جاوے تو اس سے مراد حقیقی معنی ہوں گے۔

میرے نزدیک جو وحی انبیاء کو ہوتی ہے، وہی وحی اولیاء کو بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن فرق کیفیت اور کمیت میں ہے۔ جبرئیل کے ذریعہ سے نئے احکام اور نئی شرعی وحی لانی بندہے۔ اگر ایسا نبی جو رسول اﷲa کے اتباع سے ہو۔ اس پر اگر کوئی شریعت محمدیہ کا حکم بذریعہ جبرئیل بھی نازل ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ قرآن مجید میں وحی تشریعی اور غیرتشریعی دونوں پائی جاسکتی ہیں۔ وحی تشریعی سے یہ مرادہے کہ جس میں نئی شریعت اور نیا حکم ہو۔ ہر نبی کو جب اپنی نبوت کے اعلان کرنے کا حکم ہوتاہے، وہ اس کا اعلان کردیتاہے۔ اگر کسی نبی کو تصریحاً کسی وقت تک یہ حکم نہیں دیاگیا تو وہ اعلان نہیں کرے گا۔ لوگ اسے نبی اس وقت مانیں گے، جب وہ لوگوں کے سامنے اپنا دعویٰ نبوت پیش کرے گا۔

مرز ا صاحب نے جو دعویٰ اﷲتعالیٰ کی وحی کے مطابق کیاہے، وہ واقعی خداوندتعالیٰ کی وحی کے مطابق ہے۔ کتاب (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) پرہے کہ جس میں شان نبوت باقی ہے، اس کی وحی بلا شبہ وحی نبوت ہوگی۔ اگر کوئی شخص نئی شریعت بیان کر ے یا نئے احکام بیان کرے جو قرآن مجید کے خلاف ہوں تو یہ کفر ہے۔ جو آیات میں نے وحی کے ثابت کرنے کے لئے اپنے بیان میں لکھوائی ہیں، وہاں وحی سے مراد کلام الٰہی ہے۔

314

خداوند تعالیٰ نے آیت: ’’وما کان لبشر‘‘ میں بندہ سے کلام کے طریق بیان کئے ہیں۔ اﷲتعالیٰ ہر زمانہ میں اپنے بندوں کے ساتھ ان طریق میں سے کسی ایک طریق سے کلام کرسکتاہے۔ موسیٰm کی والدہ نبی نہ تھیں۔ مریمp بھی نبی نہ تھیں اور ان پر بھی وحی نبوت نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ نبیہ نہ تھی۔ ’’قلنا یا ذالقرنین‘‘ میں خطاب بلا واسطہ ہے یا بے واسطہ۔قرآن مجید میں اس کے متعلق ذکر نہیں۔ لیکن چونکہ واسطہ کا کوئی ذکر نہیں، اس لئے بلا واسطہ ہی سمجھا جاسکتاہے۔ اگر کوئی حدیث اس بارہ میں ثابت ہوگی اور قرآن شریف کی آیت اس کو مجمل ہے تو وہ لے لی جائے گی۔ ذوالقرنین کو قرآن مجید نے نبی نہیں کہا۔ مجھے معلوم نہیں کہ احادیث میں اسے نبی کہا گیاہے یا نہ۔ اولیاء پر جو وحی ہوتی ہے، اس پر وحی کا اطلاق بھی ہوتاہے اور صوفیاء کے کلام میں اسے وحی الہام بھی کہتے ہیں۔ نبیوں کی وحی کو بھی صوفیاء نے وحی کہا ہے اور انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اﷲa کے بعد وحی تشریع منقطع ہے۔

کتاب (کبریت احمرص۱۰ حاشیہ مواقیت) پر جو عبارت بالفاظ ’’فان وحی… لسان مالکن‘‘ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وحی جو تشریعی کو اپنے اندر لئے ہو، وہ رسول اﷲa کے بعد بند ہوگئی ہے۔ اس لئے عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تو وہ وحی الہام ہوگی۔ فرشتہ کے درمیان پر ہوگی۔ اس سے یہ ثابت ہواکہ وحی تشریعی کے مقابلہ میں لفظ وحی الہام ہوگی۔ مرزا صاحب چونکہ صادق ہیں۔ اس لئے ان کی وحی کو ماننا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی صداقت قرآن شریف اور حدیث سے ثابت ہے۔ جو اس وحی پر ایمان نہ لائے۔ علماء متقدمین کے قول میں سے جو باتیں صحیح ہیں، ان کو ہم صحیح مانتے ہیں اور جن باتوں کا حوالہ میں نے بلحاظ صحیح معنوں کے کتاب (فتوحات مکیہ ج۳ ص۲۳۸) پر حسب ذیل عبارت سے۔ ’’واعلم… ملک‘‘ دیا ہے وہ صحیح ہیں۔

آیت: ’’الم یروا…… سبیلا‘‘ سورۃ اعراف کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ اس بات کو بھی نہیں دیکھتے کہ جس چیز کو انہوں نے معبود بنا رکھاہے، وہ ان سے کلام بھی نہیں کرتا۔

آیت: ’’اجیب دعوۃ الداع اذادعان فلیستجیبوا لی (البقرۃ:۱۸۶)‘‘ میں جواب دینا اور دعا قبول کرنا دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ آیت: ’’اخسئوفیھا ولا تکلمون (المؤمنون:۱۰۸)‘‘ آخر ت سے متعلق ہے۔ چونکہ قانون الٰہی یعنی شریعت مکمل ہوچکی ہے اوروہ قیامت کے دن تک باقی ہے۔ اس لئے کسی اور نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔ کتاب (بخاری ج اوّل باب الشہداء) میں یہ حدیث موجود ہے: ’’ان افانت و… الخ!‘‘ کتاب (مشکوٰۃ شریف ص۵۴۸ الفصل ثالث) میں یہ حدیث موجود ہے: ’’فقلت… رزینا‘‘ محدث ایک قسم کا نبی ہوتاہے۔ اگر محدث یہ کہتاہے کہ میں خداوندتعالیٰ کی طرف سے بندوں کی اصلاح کے لئے مامور کیاگیاہوں تو پھر اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ میں جس وحی کے انقطاع کا ذکرہے، اس سے مراد وحی تشریعی اور وہ وحی ہے، جو بغیر اتباع رسول اﷲa کے کسی مستقل نبی کو حاصل ہو۔ ’’توضیح المرام‘‘ میں بھی جزوی وحی سے ایسی وحی مراد ہے جو تشریعی ہو اور رسول اﷲa کے اتباع سے حاصل ہو۔

گواہان مدعیہ نے جو وجہ تکفیر مرزا صاحب کی رسول اﷲa کے خاتم النّبیین نہ ماننا قراردیاہے۔ اس سے میں نے جو کچھ سمجھاہے، اس کے مطابق اپنے بیان میں جو اب دے دیاہے۔ ہم رسول اﷲa کو آخری نبی ان معنوں میں مانتے ہیں کہ آپa کے بعد کوئی نئی شریعت کے لانے والا نبی یا بغیر اتباع رسول اﷲa کے نبوت کے مقام کو حاصل کرنے والا نبی نہیں آئے گا۔

عدالت بقیہ کاروائی کے لئے مسل کل پیش ہو

۷؍مارچ۱۹۳۳ء

315

۸؍مارچ۱۹۳۳ء … فریقین اوران کے مختاران حاضر

تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ فریق ثانی

کتاب (ایام الصلح ص۸۶،۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۲،۳۲۳) نیزدوسری کتب میں مرزا صاحب نے ’’خاتم النّبیین‘‘ کا لفظ ان معنوں میں استعمال کیاہے۔ رسول اﷲa کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتاہے جو آپ کے بعد مستقل نبوۃ کا مدعی ہو اور یہ کہ اس کے نبوت کے حاصل کرنے میں آنحضرتﷺ کے اتباع کی شرط نہ ہو۔ چنانچہ آپ (ایک غلطی کے ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰) میں تحریر فرماتے ہیں کہ جہاں میں نے نبوت سے انکار کیاہے، وہاں میری ایسی نبوت ہے کہ جو نبوت مستقلہ ہو اور جس کے حصول کے لئے آنحضرتﷺ کے اتباع کی شرط نہ ہو۔ کتاب (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲) پر ہے کہ وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاءa کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا… ذکر نہیں (منن الرحمن ص۲۰، خزائن ج۹ ص۱۶۴) پر ہے کہ: ’’فکما ان ربنا احد‘‘ خاتم النّبیین کا ترجمہ بھی اس عبارت کے نیچے دیا ہواہے۔ یہ کتاب بھی مرزا صاحب کی ہے۔

کتاب (ازالہ اوہام ص۵۷۷،۵۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۱،۴۱۲) پرہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول… پڑھ سکیں گے۔ اس تحریر میں مستقل نبی کے آنے پر بحث ہے۔ اس کتاب کے (ص۵۸۲،۵۸۳، خزائن ج۳ ص۴۱۴) پرہے کہ اس تمام تقریر سے معلوم ہوا…محال ہوتاہے۔ اس میں بھی مستقل نبی کے آنے پر بحث ہے۔ (راز حقیقت ص۱۶، خزائن ج۱۴ ص۱۶۸) پر ہے کہ جب کہ اسلام میں کوئی نبی…لازمی ہے۔ یہ کتاب بھی مرزا صاحب کی ہے۔ کتاب (ازالہ اوہام ص۹۴۲) میں ہے کہ ایک رسول کو بھیج کر… نہیں بھیجا جائے گا۔ کتاب (ازالہ اوہام ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۱) پر سوال۱۱ وجواب۱۱ درج ہیں۔ ’’محدث‘‘ لفظ پر نبی کا اطلاق مجازی طور پر کیاگیاہے۔ مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں محدث پر نبی کا اطلاق کیاہے۔ (حقیقت النبوۃ ص۹۱، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۴) پرہے کہ: ’’اما بعد…فاعمرہ‘‘ یہ مرزا محمود صاحب کی کتاب ہے۔ مرزا صاحب اﷲتعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ حضرت عمر مامورنہ تھے۔ اس کتاب مذکورہ بالا کے (ص۹۳، انوار العلوم ج۱۴ ص۴۲۵) پر ہے۔ نہ مجھے دعویٰ نبوت وخروج ازامت… ایک میںہوں۔(از نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰،۳۹۱، ایام الصلح ص۷۴، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸،۳۰۹) پرہے۔ اﷲتعالیٰ فرماتاہے۔ …نہیں ہے عربی زبان میں مفرد خاتم کے معنی آخر کے نہیں ہیں۔ یعنی یہ لفظ آخر کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ اگرکوئی شخص خاتم کے معنی انتہائی کے لیتاہے، یعنی بالکل آخری تو یہ اس لفظ کے لازم معنی ہو سکتے ہیں۔ اصل معنی نہیں ہیں۔ لفظ خاتم آخر کے معنی میں اصلی معنوں کی رو سے استعمال نہیں ہوا۔

کتاب (منتہی الارب ص۴۹۵) میں یہ لکھا ہے کہ خاتم…a۔ یہاں خاتم کا لفظ مفرد استعمال ہواہے اور اس میں جو لفظ آخر قوم کا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کے بعد اس قوم کا کوئی فرد نہیں، بلکہ عربی زبان میں جب آخر کا لفظ کسی قبیلہ کے ساتھ مضاف ہو کر استعمال ہوتو اس کے معنی اشرف اور افضل کے ہوا کرتے ہیں۔ میں نے اپنے بیان میں لفظ خاتم کے معنوں کی تشریح بیان کی ہے۔ وہ عربی زبان کے محاورات کے مطابق درست ہے۔

(مجمع البحارج۱ ص۳۲۹)پرہے: ’’فن طرت الیہ خاتم…… بعدہ‘‘ کے ساتھ استعمال ہواہے۔ اس کتاب کے (ص۳۳۰) پر ہے: ’’خاتم…… فاعل‘‘ اس کتاب میں احادیث کے مشکل الفاظ کے معنی بیان کئے گئے ہیں۔ (قاموس ص۱۰۴) ’’وانی تامہ… اخر تہ‘‘ تفسیر موجود ہے۔ یہ ڈکشنری کی کتاب ہے اور اس میں کسی لفظ کی تفسیر بیان کی گئی ہو اور اس پر عربی زبان سے کوئی سند پیش نہیں کی

316

گئی اور اس کے برخلاف کسی اور معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں اس کی سند پائی جاتی ہو تو یہ دوسرے معنی معتبر سمجھے جائیں گے۔ حدیث: ’’لوعاش ابراہیم‘‘ میں لفظ ’’لو‘‘ کے معنی اگر کے ہیں۔ آیت: ’’لوکان فیھما… الخ!‘‘ میں لفظ ’’لو‘‘ کا استعمال واقعہ کے لحاظ سے نہیں ہے کہ خدا کے سوائے کوئی معبود حقیقی ہیں بھی۔ اس آیت میں امکان ’’الھۃ‘‘ کا کوئی سوال نہیں ہے۔ جس چیز میں لفظ ’’لو‘‘داخل ہوتاہے اس میں اکثر وقوع نہیں ہوتا۔

ابن ماجہ صحاح ستہ میں سے ہے۔ کتاب ’’میزان الاعتدال‘‘ علامہ ذہبی کی کتاب ہے۔ جس میں حدیثوں کے راویوں پر جرح کی گئی ہے۔ ابن ماجہ کے راوی کے متعلق درج ہے کہ عثمان سے روایت کی ہے کہ وہ ثقہ نہیں ہے اور امام احمد نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے اور امام بخاری نے کہا ہے کہ اس سے خاموش رہے ہیں اور مسلم نے کہا ہے کہ وہ متروک الحدیث ہے۔

یحییٰ ابن معین ایک بہت بڑے محدث ہیں۔ کتاب (تقریب التہذیب ص۱۴) اس راوی ابن ماجہ کے متعلق ہے کہ وہ متروک الحدیث ہیں۔ عبارت متروک الحدیث… الجامعیت تک ہے۔

( مدراج نبوت ص۲۶۷جلد دوم) پر ہے: ’’گفتے… پیغمبرم‘‘ (ابن ماجہ ص۳۰۷) پر یہ حدیث ہے کہ: ’’انا اٰخر الانبیاء وانتم آخرالامم… لیس بھا‘‘ میرے اصول کے مطابق اس حدیث میں بعض الفاظ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ظاہری الفاظ پر محمول کیا جاوے تو وہ معتبر نہیں ہے۔ (ابن ماجہ ص۱۰۹) پر یہ حدیث بھی ہے: ’’قال قلت…… لا نبی بعدی‘‘ یہ قول ’’لوعاش ابراہیم‘‘ کی حدیث سے پہلے ہے۔ یہ قول عبداﷲ ابن ابی اوفی کا ہے جو رسول اﷲa کے صحابی تھے۔ (بخاری ج۲ ص۹۱۴) پر یہی قول درج ہے۔ کتاب (ازالہ اوہام دوم ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) بشرطیکہ جرح سے خالی ہو، قبول کرنے کے لائق ہے… داخل کردیں۔

اس سے پہلے کی عبارت بالفاظ ذیل اب سمجھنا چاہئے سے لے کر مردود سمجھنا چاہئے تک۔ یہی قابل ملاحظہ ہے۔ شہاب مفسر ہیں اور ان کو اما م حدیث نہیں کہا جاسکتا۔ (برکات الدعا ص۱۲حاشیہ، خزائن ج۶ ص۱۵) پر ہے۔ قطب ربانی…جانتے ہیں کہ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حدیث کی تصحیح بغیر دلیل کے کرے گا تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی اور اگردلیل کے ساتھ کرے گا تو قبول کی جائے گی۔

ملّا علی قاری نے چونکہ دلیل سے بحث کی ہے۔ اس لئے اس کی روایت صحیح مانی جائے گی۔ امام ملاعلی قاری کو حدیثیں یاد تھیں۔ لیکن حافظ حدیث کی جو اصطلاح ہے اس اصطلاح میں وہ حافظ حدیث نہ تھے۔ لیکن انہوں نے جو بات کی ہے وہ دلیل کے ساتھ کی ہے۔ اس لئے مان لی جائے گی اور اصطلاحاً وہ امام جرح وتعدیل نہیں ہے۔ کوئی شخص امام جرح وتعدیل ہو یا نہ ہو، اگر کوئی بات کسی دلیل کے ساتھ ثابت کرے تو وہ مان لی جائے گی، ورنہ نہیں۔ ملّا علی قاری نے ابراہیم ابن عثمان واسطی کا کوئی ذکر اس حدیث کے متعلق نہیں کیاہے اور اس راوی پر جواعتراضات کئے گئے ہیں۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیاہے کہ یہ حدیث چونکہ تین طریقوں پر بیان ہوئی ہے، اس لئے صحیح ہے۔ اس راوی کے ضعف کے رفع کرنے کے متعلق ملّا علی قاری نے کوئی بحث نہیں کی۔ جو تین طریقے ملّا علی قاری نے اس حدیث کی روایت کے بیان کئے ہیں۔ ان میں اس راوی کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ میں نے ملّا علی قاری کا قول نقل کیاہے۔ ملّا علی قاری نے اس میں ان طرق کی تشریح نہیں کی۔ کتاب موضوعات کبیر میں ایسی حدیثوں پر بحث کی گئی ہے کہ جن کو بعض لوگوں نے غلط یا موضوع قرار دیا ہے۔ لیکن ان میں سے بعض ایسی حدیثیں ہیں کہ جو صحیح نہیں تو وہ ان کو دلائل کے ساتھ صحیح ثابت کرتے ہیں۔ یہ کتاب ملّا علی قاری کی ہے۔

در منثور تفسیر کی کتاب ہے۔ اس میں رطب ویابس کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس میں بعض باتیں ایسی ہیں جو ماننے کے قابل نہیں۔ کتاب ’’مجمع البحار‘‘ حدیث کے مشکل الفاظ کی شرح ہے۔ یہ کتاب مجمع البحار مذکورہ بالا اصول کے تحت معتبر ہے۔

317

صاحب مجمع البحار نے ’’لا نبی بعدی‘‘ کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ کوئی ناسخ شریعت نبی نہیں آئے گا۔ الفاظ حسب ذیل ہیں۔ ’’قولوانہ…سرحہو‘‘ (ترمذی شریف ج۲ ص۴۹) ’’وانہ ھو… لا نبی بعدی‘‘ رسول اﷲa کے قول ’’لا نبی بعدی‘‘ اور حضرت عائشہ صدیقہ کا قول ’’قولوا خاتم الانبیاء‘‘، ’’ولا تقولوا لا نبی بعدہ‘‘ یہ دونوں قول صحیح ہیں اور ان میں تضاد نہیں ہے۔ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح کے معنوں میں فرق ہے اور وہ فرق میں نے اپنے بیان میں ذکر کردیاہے۔

قرآن مجید کی جو سات قرأتیں ہیں، ان میں کوئی ایسا فرق نہیں ہے کہ جس سے ایک دوسرے کے متضاد معنی بن جائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص غلطی سے دونوں قرأتوں کے درمیان تطبیق نہ دے سکے تو اس کے غلطی میں پڑنے کا اندیشہ ہوسکتاہے۔ (مشکوٰۃ ص۵۵) پر یہ حدیث ہے کہ: ’’قال لعلی… بعدی‘‘ اور یہ بخاری ومسلم کی حدیث ہے۔ اس حدیث میں ’’انہ‘‘ کی ضمیر اگر شان کی لے لی جاوے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ملّا علی قاری محی الدین ابن عربی سے پہلے ہوئے ہیں اور انہوں نے بھی ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی یہی کئے ہیں کہ کوئی تشریعی نبی بعد میں نہیں آئے گا اور ملّا علی قاری نے ’’خاتم النبی‘‘ کے یہ معنی کئے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گاجو آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہے۔ ’’لوعاش ابراہیم‘‘ کے متعلق ابن ابی اوفی کا قول اور ملّا علی قاری کا قول ان معنوں سے متضاد نہیں ہیں کہ ابن ابی اوفی کے قول کے معنی مستقل نبوت کے لئے جاویں اور ملّا علی قاری کے قول کے یہ معنی لئے جاویں کہ ایسا نبی جو آنحضرتﷺ کے اتباع سے ہو اور ناسخ شریعت محمدیہ نہ ہو۔ صحابہ تفسیر میں غلطی کرتے تھے۔ حضرت عائشہ بھی صحابہ میں شمار ہیں لیکن وہ فن تفسیر اور فن فقہ میں مشہور تھیں اور بڑے بڑے صحابہ مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ (موضوعات کبیرص۶۹) پر جو حدیث: ’’لوکان موسیٰ حیاً… اتباعی‘‘ ذکر کی گئی ہے۔ اس سے آنحضرتﷺ کے بعد تشریعی نبی ہونے کا امکان نہیں نکلتا۔

کتاب (یواقیت والجواہرص۱۱ج اوّل) پرحسب ذیل عبارت اعلم… کا مطلب ہے کہ کسی قوم پر انکار جائز نہیں ہے۔ مگر ان کی اصطلاح کے جاننے کے بعد۔ کتاب (الالہام ص۲۸ حاشیہ) پر ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے۔ ’’بعدی نبیاً‘‘ محی الدین ابن عربی کے جو حوالے میں نے پیش کئے ہیں، ان میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا اور نہ کوئی ایسا حکم لا سکتاہے جورسول اﷲa کے حکم اور شریعت کا ناسخ ہو۔ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۸) پر ہے۔ ’’قالت عائشہ… منہ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت بالکل ہی مرتفع نہیں ہوتی۔ ہاں! نبوت تشریعی جو ہے وہ مرتفع ہو گئی ہے۔ صوفیاء نے بھی رسول اور نبی کوتشریعی اور غیر تشریعی میں منقسم کیاہے۔ (یواقیت ج۲ ص۷۲) پرہے۔ ’’واعلم… واﷲتعالیٰ‘‘ اور اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ صرف وحی مبشرات باقی ہے۔

(فتوحات مکیہ ج اوّل ص۱۵۸) پر ہے۔ ’’اتباعک… مذموم‘‘ مراد یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا دعویٰ بعض وقت شیطانی لحاظ سے یہی ہوتاہے۔ یعنی اگر شیطان کا وسوسہ ہو اور اس لحاظ سے کوئی شخص دعویٰ کرے تو وہ صحیح نہیں۔ اگر کوئی حکم شریعت کے خلاف ہے تو وہ خداوندتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتاہے۔ بلکہ شیطان کی طرف سے ہوگا۔ (فتوحات مکیہ حصہ سوم ص۳۹) پر ہے: ’’وما بقیہ…‘‘ متفق علیہ عبارت ہے۔ (فتوحات مکیہ ج اوّل ص۲۲۹) پر ہے: ’’تہمست…… الا یوم القیامت‘‘ کی عبارت ہے۔ (فتوحات مکیہ ج دوم ص۲۳۸) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’واعلم…موت رسول اﷲa‘‘ کتاب (مکتوبات مجدد الف ثانی مکتوب نمبر۳۰۱) کو میں نے دیکھا ہے۔ اگر کسی شخص میں کمالات نبوت حاصل ہوجائیں اور خداتعالیٰ اس کو نبی قرار دے تو وہ نبی ہوگا۔ اس مکتوب میں یہ الفاظ ہیں کہ خداتعالیٰ اس کو نبی قرار دے تو وہ نبی ہوگا۔ کمالات نبوت قرآن مجید کا علم جو خاص طور پر دیاگیاہو پیشین گوئیاں اور اصلاح کی قوت وغیرہ سے مراد ہے۔

318

مثنوی مولانا روم سے میں نے جو اس شعر ؎

تا نبوت یابی اندر امت

کا حوالہ دیاہے۔ یہاں نبوت سے مراد مطلق نبوت ہے۔ (مکتوبات ج سوم، مکتوب نمبر۲۳۴) کو میں نے دیکھا ہے۔ اس میں حسب ذیل عبارت ہے: ’’در شان… برخلق‘‘ جب تک کوئی شخص خداتعالیٰ کی طرف سے مامور نہیں ہوگا۔ اس میں چاہے کمالات نبوت ہوں۔ لیکن وہ نبی نہیں سمجھا جائے گا۔ میں نے کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کا اکثر حصہ مطالعہ کیاہے۔ (ص۱۰) بھی پڑھاہے۔ (ص۳)پر حسب ذیل عبارت ہے۔ بنائے ختم… دوبالا ہوجاتی ہے۔(ص۱۰) پرہے: سو اگر… ہوجاتی ہے۔ کسی مصنف کے قول کی تفسیر خود اس مصنف کی بہ نسبت اس کے مخالف کی تفسیر کے معتبر ہے۔ مخالف کا قول اگر صحیح ہو تو تائید میں پیش کی جاسکتی ہے۔ مولانا محمد قاسم صاحب احمدی نہ تھے۔ کتاب آخری نبی مولانا محمدعلی کی ہے۔

کتاب (حقیقت الوحی ص۹۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰) پر جویہ الفاظ ہیں کہ ایک توجہ روحانی نبی تراشی ہے۔ اس کی تائید قرآن مجید کی آیت: ’’من یطع اﷲ والرسول‘‘ سے ہوتی ہے۔ خاتم المرسلین اور خاتم النّبیین کے معنی میرے نزدیک ایک ہی ہیں۔ میرے نزدیک رسول اور نبی میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ کوئی ایسا نبی نہیں جو رسول نہ ہو۔

کتاب (روح المعانی ج۲۲ ص۳۲) پرہے: ’’وانی تم… اخیر النبیٌ‘‘ (کتاب ابن جریر ج۲۲ ص۱۱) پر ہے: ’’ماکان محمد… رجالکم‘‘ میں ہے۔ (تفسیر خازن ج۵ ص۲۱۸) ’’خاتم النّبیین… کثیرۃ‘‘ میں بھی آیت: ’’ماکان محمد…‘‘ کی تفسیر میں ہے۔ (تفسیر کشاف جلد ثانی ص۴۳۳) ’’ماکان محمد…‘‘ اور ’’کیف کان… امت‘‘ ہی تک میں بھی ’’امت‘‘ مذکورہ بالا کی تفسیر ہے۔ (بیضاوی جلد۴ ص۱۶۴) پر بھی اس آیت کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ جو الفاظ ذیل ہے: ’’واجزھم… من نبی‘‘ نہیں۔ ’’مدارک التنزیل‘‘ میں بھی اس آیت کی تفسیر درج ہے۔ ’’منجد‘‘ میں لفظ ’’خاتم‘‘ کے معنی (ص۱۶۴) پر دئیے گئے ہیں۔ وہ لغت کے لحاظ سے درست ہیں۔ یہ کتاب ایک شخص کی لکھی ہوئی نہیں، بلکہ ایک جماعت نے لکھی ہے۔ اس جماعت میں عیسائی بھی شامل تھے۔ میں نے ’’خاتم النبی‘‘ کے معنی زینت کے جو لئے ہیں، اس کے متعلق کسی صحابی کا قول میری نظر سے نہیں گزرا۔ ’’الّٰا‘‘ مفسرین کے جو قول میری نظر سے گزرے ہیں، وہ میں نے نقل کئے ہیں۔ ’’خاتم‘‘ کے معنی مہر لینے میں، میں نے حدیث پیش کی ہے۔ ’’خاتم النبی‘‘ کے معنی مہر کے معنوں میں تمام صحابہ کی تفسیر میرے تک نہیں پہنچی۔ مفسرین کے قول میں نے دیکھے ہیں۔ صحابہ کے اقوال سے یہ محتمل ہے کہ انہوں نے ’’خاتم النبی‘‘ کے معنی میں ’’خاتم‘‘ کے معنی مہر کے لئے ہوں۔

رسول اﷲa کے ناموں میں سے ایک نام عاقب ہے۔ میں نے حدیث پیش کی ہے کہ رسول اﷲa نے جب عجمی بادشاہوں کو خطوط لکھے تو آپ سے یہ عرض کیا گیا کہ وہ خطوط کو قبول نہیں کرتے، جب تک کہ ان پر مہر نہ ہو۔ رسول اﷲa نے ایک انگوٹھی بنوائی، جس پر محمد رسول اﷲa کے الفاظ نقش کئے گئے۔ اس لئے خطوط پر مہر لگانے کا دستور تھا تاکہ اس سے ثابت ہو کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تفسیر کرنے کے لئے عربی زبان کے استعمالات کو شواہد کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے۔ علمائے دیوبند وغیرہ کی تصانیف میں جو الفاظ ’’خاتم المحدثین‘‘، ’’خاتم المفسرین‘‘ وغیرہ استعمال ہوئے ہیں اور ’’خاتم الشعراء‘‘ وغیرہ الفاظ بھی جو عربی میں مستعمل ہوئے ہیں، ان میں بھی یہی ’’خاتم‘‘ کا لفظ اسی تحت میں استعمال کیاگیاہے۔ مرزا صاحب نے ’’خاتم

319

الاولاد‘‘ میں لفظ ’’خاتم‘‘ زینت یا مہر کے معنوں میں استعمال نہیں کیا۔ (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹) چنانچہ وہ واقعتا… خاتم الاولاد تھا۔

سن کر تسلیم کیا۔

عدالت

بقیہ کاروائی کے لئے مسل کل پیش ہو۔

۸؍مارچ ۱۹۳۳ھ،مطابق ۱۱؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ

۹؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختاران حاضر

تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ فریق ثانی باقرار صالح

(تفسیر کشاف ص۴۳۳) پرہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود کی قرأت میں: ’’ولکن نبی ختم النّبیین‘‘ ہے۔ عبداﷲ بن مسعود جلیل القدر صحابی تھے۔ اخبارالفضل قادیان سے شائع ہوتاہے اورجماعت احمدیہ اس کی اشاعت میں امداد کرتی ہے۔ اخبار الفضل کے پرچہ۲۷؍دسمبر۱۹۳۲ء میں ایک اعلان کا عنوان سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مشہور ومعروف آرگن درج ہے۔ قرآن مجید کو خاتم الکتب کہا جاتاہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر پاک تعلیمات جوکمالات اور مراتب روحانیہ حاصل کرنے کے لئے ضروری تھیں، وہ اس میں آگئی ہیں اور اس کے بعد کوئی کتاب جس میں خدا وند تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی شریعت ہو، نہیں آئے گی۔ وحی غیر شرعی قرآن شریف کے بعد آسکتی ہے اور اس کو اگر کتابی صورت میں شائع کیاجاوے تو اسے کتاب کہہ سکتے ہیں۔ لغوی طور پر ایسی وحی کو کتاب اﷲ کہہ سکتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کتاب اﷲ کے معنی وہ کتاب ہے کہ جس میں شریعت ہو۔ اس لحاظ سے اسے کتاب اﷲ نہیں کہا جائے گا۔ میں نے زبان عربی کے محاورات کے لحاظ سے یہ بتلایاہے کہ ’’خاتم‘‘ کا لفظ ’’آخر‘‘ کے معنوں میں حقیقی طور پر استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ لازم معنی لے کر استعمال ہوتاہے۔ میں نے اپنے بیان میں مفسرین کے حوالے دئیے ہیں، جن سے میرے اس دعویٰ کی تائید ہوتی ہے۔ خاتم کتاب کے یہ معنی ہیں کہ یہ کتاب کو ختم کرنے والاہے۔ میں نے ’’لا نبی بعدی‘‘ اور ’’آخر الانبیاء‘‘ کو جن معنی میں لیا ہے ان معنوں میں یہ حدیثیں صحیح ہیں۔

(روح المعانی ج۸ ص۳۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’صلی اللّٰہ علیہ وسلم… اسرھا‘‘

(شفا قاضی عیاض ص۲۴۶،۲۴۷) پرہے: ’’کذالک…سمع‘‘ عیسیٰؑ کے نزول کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں، ان میں لکھاہے کہ وہ خدا کے نبی ہوں گے اور دعویٰ نبوت کریں گے۔ میں انہیں حدیثوں سے جن میں آیاہے کہ وہ نبی اﷲ ہوں گے، یہ سمجھتاہوں کہ وہ دعویٰ نبوت کریں گے اور جو نبی ہوگا اورخداتعالیٰ اسے مبعوث کرے گا تو جو فرائض اس کے سپرد کئے جائیں گے، وہ انہیں سرانجام بھی دے گا۔

رسول اﷲa کے کامل اتباع سے نبوت کا درجہ ضرورت کے وقت بطور انعام مل سکتاہے اور اس سے رسولﷺ کا کمال ظاہرہوتاہے۔ میرے بیان کردہ اصول کے مطابق جو میں نے روایات کے متعلق بیان کیاہے۔ شان نزول سے مدد لی جاسکتی ہے۔ لیکن اعتبار الفاظ کی عمومیت کا لیا جائے گا۔ خاص سبب نزول میں منحصر نہیں کیا جائے گا۔

آیت: ’’اولئک مع الذین… من النّبیین (النساء:۶۹)‘‘ میں معیت سے مراد ایسی معیت بھی ہے کہ وہ ان گروہوں میں سے شخص ہوجائیں۔ یعنی امت محمدیہ میں سے چار قسم کے لوگ پیدا ہوں گے۔ نبی، صدیق، شہید، صالح۔ اگر معیت سے یہ مراد لی جاوے کہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے ان میں سے نہیں ہوں گے۔ معیت چونکہ ’’منعم علیہم‘‘ کے ساتھ آئی ہے۔ اس لئے اس کے یہ معنی

320

ہوں گے کہ وہ ’’منعم علیھم‘‘ کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن ’’معنم علیھم‘‘ نہیں ہوں گے اور یہ معنی فریقین کو مسلمہ نہیں ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جو خدااور رسول کی اطاعت کریں گے، یہ ان لوگوں میں سے ہوںگے،جن پر خداوندتعالیٰ کا انعام ہوا۔ یعنی نبی، صدیق، شہید، صالح۔ شہدا کا جو لفظ یہاں پر آیاہے، یہ ایک روحانی مرتبہ ہے اور اگر اس کے معنی عام طور پر شہید کے بھی لئے جاویں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ انبیاء سابقین کی بعثت خاص خاص اقوام کے لئے تھی۔ رسول اﷲa کی بعثت عام ہے۔ تمام دنیا کے لئے ’’اوحی الی ھذا القرآن… من بلغ‘‘ کا ترجمہ یہ ہے کہ اور میری طرف یہ قرآن مجید وحی کیاگیاہے تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرائوں اور جس کو پہنچے۔ حدیث: ’’انہ لا نبی بعدی‘‘ جو حضرت علیq کے متعلق ہے… کے معنی ہیں جو میں نے بیان کیاہے کہ تبوک پر جانے کے بعد حضرت علیq آپa کے خلیفہ ہوں گے اور کہ وہ نبی نہ ہوں گے۔ علامہ سندھی اور عینی کے اقوال میرے اس بیان کی تائید میں ہیں۔

علامہ سندھی ایک بہت بڑے مسلمہ عالم ہیں اور شارحین احادیث میں انہیں ماناگیاہے۔ علامہ سندھی کے حالات منجملہ دیگر شارحین حدیث کے ایک کتاب میں مذکورہیں، جس کا نام اس وقت مجھے پوری طرح یاد نہیں شاید ’’ابجد العلوم‘‘ ہے۔ میں نے علامہ سندھی اور عینی کے اقوال کے حوالہ جات اپنے بیان میں دئیے ہوئے ہیں۔ حضرت علیq کے متعلق اوپر کی حدیث میں لفظ بعد میں ایک معنی میں نے یہ لئے ہیں کہ ایک تو رسول اﷲa کے غزوہ تبوک پر جانے کے بعد نبی نہیں ہوں گے اور اگر بعدی کے معنی متصلہ رسول اﷲa کے بعد لئے جاویں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حالات اور قرائن کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ بعدیت متصلہ مرادہے یا منفصلہ آیت: ’’ومبشراً رسول… اسم احمد‘‘ میں اگر احمد سے مراد صرف رسول اﷲa لئے جاویں اور درمیانی نبی جن کا ذکر بعض شارحین نے کیاہے چھوڑدئیے جاویں تو ایک رنگ میں ہم اسے بعدیت متصلہ کہہ سکتے ہیں اور اگر اس سے مراد جیسا کہ ہم احمدی لیتے ہیں کہ اس میں مسیح موعود کی بھی پیش گوئی ہے تو اس صورت میں بعدیت منفصلہ بھی لی جاسکتی ہے۔ (انوارخلافت ص۱۸، ۱۹، انوار العلوم ج۳ ص۸۳،۸۴) پر ہے کہ میرا یہ عقیدہ ہے… تیار ہوں۔ حدیث: ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسٰی‘‘ میں، رسول اﷲa نے حضرت ہارونm کی تشبیہ سے خلافت مراد لی ہے۔ مشبہ اور مشبہ بہ میں ’’من کل الوجوہ‘‘ تشبیہ کا پایا جانا ضروری نہیں۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے مختلف معنی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے میں نے ’’انہ لا نبی بعدی‘‘ کا جو مفہوم بیان کیاہے، اس کی تائید ’’لست نبیا‘‘ والی روایت سے ہوتی ہے۔ اس کاخاص واقعہ میں یہ دونوں روایتیں ایک معنی میں بن جاتی ہیں۔ ویسے لفظی الفاظ سے ان دونوں جملوں میں کچھ فرق ہے۔ ایک خاص واقعہ پر دونوں کا مفہوم ایک ہوسکتاہے۔

علامہ عینی وغیرہ نے لکھاہے کہ حضرت عیسیٰؑ اور رسول اﷲa کے درمیان نبی ہوئے جن کی تعداد تین تک بتلائی جاتی ہے۔ اس بات کو بعض مسلمانوں نے تسلیم کیاہے۔ علامہ عینی نے یہ لکھاہے کہ اگر اس بات کو تسلیم کیاجاوے تو اس کے معنی صحیح و درست ہوسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اور رسول اﷲa کے درمیان کوئی مستقل شریعت والا نبی نہیں آیا۔

’’لیس بینی وبینہ نبی‘‘ کایہ ترجمہ ہے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (فوائد المجموعہ، علامہ زرقانی ص۱۰۳) پرہے۔ حدیث: ’’اذا ارد یا نمی حدیث… موضوعا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث کہ قرآن شریف پر پیش کرنا کسی حدیث کو ایک موضوع حدیث ہے۔ علامہ عینی اور ذہبی کی روایت سے انہوں نے یہ نقل کیاہے ظلی اور بروزی کی اصطلاحات مرزا صاحب نے انہیں معنوں میں لی ہیں جو میں نے اپنے بیان میں مفصل ذکرکئے ہیں۔ عام اصطلاح میں ظل سائے کو کہتے ہیں۔ اگر ذاتی طور پر ہیں تو ظل اصل کا غیر نہیں ہوتا۔جس ضمن میں میں نے فصوص الحکم سے ظل اور بروز کے حوالہ جات پیش کئے ہیں۔ ان میں ظل اور بروز کا ذکرہے، نبوت کا

321

نہیں۔ لیکن نبیوں کے لئے وہاں بروز کا استعمال کیاگیاہے۔ کتاب (حقیقت النبوۃ ص۱۴۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۶۵)سالم قابل ملاحظہ ہے۔ یہ کتاب خلیفہ ثانی حضرت بشیر الدین محمود صاحب کی ہے۔ اس کتاب کے (ص۱۲۸، انوار العلوم ج۲ ص۴۵۱،۴۵۲) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’اور یہ تعریفوں … ڈانٹ دیا۔‘‘

میں نے اس حدیث: ’’لم یبق… الا المبشرات‘‘ کے جو معنی بیان کئے ہیں، اس کی تائید میں حوالہ دیاہے اور عام مسلمانوں کے لئے رؤیاصالحہ بتلائی گئی ہے اور خاص کے لئے کشف وغیرہ موجود ہیں۔ اس حدیث کا مطلب امام شعرانی وعلامہ سندھی نے وہی بیان کیاہے جو میں نے بتلایاہے۔ حدیث: ’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم‘‘ میں ’’آخر‘‘ کے معنی کامل کے بھی لئے ہیں اور ’’آخر‘‘ کے بھی۔ آخرمیں ’’آخر‘‘کے معنی کامل کے بھی لئے ہیں۔ ’’آخر‘‘ اس لحاظ سے کہ آپ کے بعد کوئی مستقل نبی نہیں آئے گا۔ عربی زبان میں استعمال کے لحاظ سے دونوں معنی حقیقی ہوسکتے ہیں۔ دونوں معنی ہر ایک آدمی قرائن اور حالات کو مد نظر رکھ کر کرے گا۔ اس حدیث میں بھی آخر کے معنوں میں قرائن اور حالات کو مد نظر رکھا جائے گا۔ اگر لغت کسی معنی کی تائید کرتی ہوگی وہ لئے جائیں گے۔ دوسرے نہیں لئے جائیں گے۔ لغت سے میری مراد اہل زبان کے محاورات سے ہے۔

یوم الاخیر میں آخر کے معنی سب سے پیچھے آنے والا دن ہے۔ قرآن شریف کوآخر الکتب انہیں معنوں میں کہاگیاہے۔ جو خاتمالکتب کے تحت میں میں بیان کر چکاہوں۔ حدیث: ’’انا آخرالانبیاء وانتم آخر الامم‘‘ کے ذکر سے پہلے دجال کا ذکرہے۔ ایسے انبیاء بھی گزرے ہیں کہ جن کی طرف کوئی امت منسوب نہیں کی گئی۔ اس لحاظ سے ان کے ماننے والے ہوئے ہیں یانہیں۔ میں کہتاہوں کہ ان نبیوں کے ماننے والے تھے۔ اگر ماننے والوں کے لحاظ سے امت کا لفظ کا اطلاق کیاجاوے تو ان نبیوں پر بھی اطلاق پا سکتا ہے۔ حدیثوں میں بھی جو لفظ امت کا استعمال ہواہے، وہ بھی اصطلاح کے مطابق ہوسکتاہے۔ میں اس اصطلاح کے مطابق جو میں نے اوپر بیان کی ہے، لیاجاسکتاہے۔قصر نبوت کے معنی میںجو حدیث ہے اس میں رسول اﷲa نے اپنے آپ کو ایک آخری اینٹ سے تشبیہ دی ہے۔ چونکہ اس حدیث میں انبیاء سابقہ سے یہ تشبیہ دی گئی ہے۔ اس لئے انبیاء سابقہ میں سے کسی اینٹ کی گنجائش نہیں ہے اور بعد کے انبیاء کا اس میں ذکر نہیں۔ یہ مطلب خود حدیث سے واضح ہے۔ کیونکہ اس میں ’’من قبلی‘‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’’من قبلی‘‘ میں میرے نزدیک اگر صرف صاحب شریعت نبی لئے جاویں تو یہی درست ہے اور اگر دونوں شرعی وغیر شرعی مستقل نبی کے لئے جاویں تو دونوں مراد ہو سکتے ہیں۔ حضرت عمرq کے متعلق جو یہ حدیث ہے: ’’لو لم ابعث بعث عمر‘‘ اس سے یہ مراد ہے کہ اگر رسول اﷲa مبعوث نہ ہوتے تو حضرت عمرq مبعوث ہوتے۔ پس اس صورت میں وہ مستقل نبی ہوتے۔یہاں ’’لو‘‘ کالفظ امکان نبوت پر نہیں استعمال ہوا۔ بلکہ اس معنی میں استعمال ہواکہ اگر رسول اﷲa مبعوث نہ ہوتے تو حضرت عمر مبعوث ہوتے۔ کنوز الحقائق امام عبدالروف مناوی کی ہے اور وہ اس قاعدہ کے تحت معتبر سمجھی جائے گی جو میں نے حدیثوں کے متعلق بیان کیاہے۔ حدیثوں میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ دجال یہ گمان کریں گے وہ خداکے رسول ہیں۔ بعض حدیثوں میں دجالوں کی تعدادستائیس بھی مذکور ہے اور بعض میں تیس ہے کہ دجال یہ گمان کریں گے کہ وہ خدا کے رسول ہیں۔ بعض حدیثوں میں دجالوں کی تعداد ستائیس ہے۔ لیکن ان میں رسالت اور نبوت کے دعویٰ کا ذکرنہیں۔ (فتح الباری ج۶ ص۴۵۵) میں ہے: ’’لیس المراد… دجال اکبر‘‘ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بعض ان میں سے حاکم ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اور پھر قتل ہوئے۔ کتاب (المختارفی کشف الاسرار ص۴،۵) دیکھ لئے جاویں۔اگر کسی خصوصی مسئلہ پر تمام کی تمام امت بغیر استثناء کے اجماع کرے تو اس کا مانناضروری ہے۔ اجماع کا مسئلہ خود مختلف فیہ ہے۔ ہمارے نزدیک اجماع امت سے مراد یہ ہے کہ امت کے تمام

322

بزرگ اور مسلمہ اکابر ایک مسئلہ کو مانتے چلے آئے ہوں۔ فرائض نماز کی رکعتوں پر اس قسم کا اجماع ہے جو میں نے اوپر بیان کیا۔قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے پر بھی اس قسم کا اجماع ہے۔ قرآن مجید میں جو باتیں منصوص ہیں یا سنت میں ایسی بات پر کہ جو قرآن مجید اور سنت میں صراحتاًذکر نہیں کی گئی۔

ان کے علاوہ کسی مسئلہ پر تمام امت کے اجماع کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں ہے اور یہی امام احمد کا قول ہے۔ یعنی ان کے اس قول سے جس کا میں نے اپنے بیان میں حوالہ دیاہے مطلب ہے۔ ائمہ نقل میں سے کسی کا کسی مسئلہ کے متعلق یہ کہہ دینا کہ امت نے اس پر اجماع کیاہے، صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انہوں نے تمام امت کے علماء کا نہ ذکر کیاہے اور نہ ہی اس کی دلیل دی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب کہ اس کے خلاف قرآن مجید یا سنت میں سے یا علماء امت کے اقوال بھی پیش کئے جاویں۔ اگر پہلے ائمہ میں سے کسی نہ کسی مسئلہ پر اجماع امت رکھا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ کتاب یا وہ قول دوسرے ائمہ کو نہ پہنچا ہو، اس لئے وہ تردید نہ کر سکے ہوں۔ اس لئے اس کے قول کو اس وقت قبول کیا جائے گا۔ اگر اس کے خلاف قرآن مجید اور احادیث اور دوسرے علماء کے اقوال میں سے پیش نہ کیا جاسکے۔ قاضی عیاض ائمہ نقل میں سے نہیں ہیں۔ امام آلوسی مفسرہیں ائمہ نقل میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ حال کے زمانہ کے ہیں۔ انہوں نے تفسیر روح المعانی لکھی ہے۔ صحابہ کا اجماع جس پر انہوں نے نصاً یہ کہاہو اور جس پروہ جمع ہوئے ہوں کہ یہ بات ایسی ہے۔ اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر وہ بات ایسی ہے جو قرآن مجیدا ور حدیث سے تعلق رکھتی ہے تو وہ کفر کی طرف لے جانے والی ہوگی۔ اگرایسا اجماع صحابہ کا جس کا میں ذکر کرچکاہوں۔ جو ایمانیات کے ساتھ تعلق رکھتاہو، اس کا انکار کفر ہوگا۔ جو باتیں عمل سے ثابت ہیں ان میں سے کسی ایک مسئلہ کے متعلق جو عملیات سے ہے اور اس پر اجماع نقل کیاگیاہے۔ تمام امت اس پر عامل بھی ہے تو اس کا ماننا بھی ضروری ہوگا۔ منافق کی تعریف میں جو خداوند تعالیٰ نے فرمایاہے کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ محمدa خدا کے رسول ہیں۔ خداتعالیٰ جانتاہے کہ آپ خداتعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اﷲتعالیٰ اس بات کی شہادت دیتاہے کہ وہ لوگ اس شہادت میں کاذب ہیں۔ رسول اﷲa کے بعد جس قدر اشخاص نے دعویٰ نبوت کیا، وہ یا تو حکومت کے خلاف تھے اور انہوں نے مستقل نبوت کا دعویٰ کیا۔ رسول اﷲa کی شریعت کے احکام کو منسوخ کیا۔ اس وجہ سے ان کے کفر کا فتویٰ دیاگیاہے۔

(شرح فقہ اکبر ملّا علی قاری ص۱۹۱)پر ہے: ’’ودعوۃ النبوۃ بعد……بالاجماع‘‘ کہ رسول اﷲa کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر بالاجماع ہے۔ اس کی تشریح میں نے اپنے بیان میں کی ہے جس اجماع کا ذکرکیاگیاہے۔ وہاں اجماع امت واجماع صحابہ رسول اﷲa سے مرادہے۔

(نورالانوار ص۲۲۲) سے جو حوالہ میں نے اپنے بیان میں پیش کیا ہے، اس کے اوپر یہ عبارت موجود ہے۔ ’’واذا … وغیرہ‘‘ اور اس حوالہ کے آگے یہ الفاظ ہیں۔ ’’وان کان… قطعتاً‘‘ اگر کوئی شخص کسی مسئلہ پر الفاظ: ’’اجتمعت الامت‘‘ کہتا ہے تو اس سے اجماع نہیں سمجھا جائے گا۔ اگر اس کے خلاف قرآن مجید اور سنت اور دوسرے علماء کے اقوال موجود ہوں۔ الفاظ: ’’اجتمعت الامت‘‘ کے استعمال کو اجماع کے لئے خاص نہ سمجھنے کے لئے میں اس وقت کسی کتاب کا حوالہ نہیں پیش کرسکتا۔ تعدادرکعت اور نقل قرآن مجید عملاً تواتر سے ثابت ہیں۔ تواتر محدثین کی اصطلاح ہے اور تواتر لفظی ومعنوی کی اصطلاحیں بھی ہیں۔ کتاب (شہادت القرآن ص۲،۳، خزائن ج۶ ص۲۹۸،۲۹۹) پر ہے۔ لیکن یہ خبر… نہیں ہوتی اور اس صورت سے … کی جائیں۔ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے۔

(شرح مسلم الثبوت ص۴۹۷) پرہے: ’’واستھزہ… تواتر الجماعۃ‘‘ اس کتاب کے (ص۴۹۵)پرہے: ’’لانا تواتر… جاھل مرکب‘‘ طلیحہ اور مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تھا۔ (طبری جلد سوم حصہ چہارم ص۲۳۰) پر ہے کہ طلیحہ رسول اﷲa کی زندگی

323

میں مرتد ہوگیا اور دعویٰ نبوت کیا۔ میں نے ابن جریر کی اس کتاب کا حوالہ پیش کیاہے جو فریق اوّل کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔

(حجج الکرامہ ص۲۳۴) ’’وایں مسیلمہ… گشتہ‘‘ (بخاری شریف ص۱۰۴۲) پر ہے: ’’انا نائمون…‘‘ یہاںصاحب صنعاء سے اسود عنسی مراد ہے اور صاحب الیمامہ سے مسیلمہ کذاب۔ اسود عنسی نے بھی دعویٰ نبوت کیاتھا۔

(تاریخ خمیس ص۱۷۵جلد ثانی) ’’وفی مسیلمہ… وبعد‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص۵۰ کتاب الصلوٰۃ) پر ہے: ’’رواہ الحاکم… عشرہ ثنتین‘‘ یہ حدیث ہے۔

(اشارات فریدی ص۱۰۸،۱۰۹)پر ہے: ’’ایں جاذکر کردند… است۔ وفرمودند… بودہ است۔ مسیلمہ نے شریعت کے احکام منسوخ کئے اور اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلندکیا اور نماز کی فرضیت کو ساقط کیا۔ فسق وفجور کو حلال قراردیاہے۔ مجھے اس کی اذان کا پتہ نہیں جو باتیں میں نے اوپر بیان کی ہیں۔ مسیلمہ کے متعلق وہ تاریخ سے ثابت ہیں۔ یہ تاریخیں مسلمان مو ٔرخین کی لکھی ہوئی ہیں۔ ہم ان واقعات کو جو تاریخ کی رو سے صحیح ثابت ہوئے ہیں، معتبر سمجھتے ہیں۔ یہ شعر ؎

  1. بعدبعد از خدا بعشق محمدa مخمرم

    گر کفر ایں بود بخدا سخت کا فرم

کتاب (ازالہ اوہام ص۱۷۶، خزائن ج۳ ص۱۸۵) میں ہے اور منسوخ نہیں ہوا۔

کتاب المحاسن والماد میں جن دو شخصوں کا ذکر ہے۔ وہ میں اپنے بیان میںلکھواچکاہوں۔ ان میں سے ایک نے تو نوح ہونے کا دعویٰ کیاتھا اور دوسرے نے نبوت کا دعویٰ اس طریق پر کیا جو میں اپنے بیان میں لکھاچکاہوں۔ ابو طیب متنبی نے دعویٰ نبوت کیاتھا اور اس کو کسی نے قتل کردیاتھا۔ میں نے جو علماء کے متعلق عنوان دیاہے، وہ ان کی تحریروں کو مد نظر رکھ کردیاہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی تحریروں میں جو مثالیں پیش کی ہیں، وہ انہی قسم کے انبیاء کی ہیں۔ جنہوں نے رسول اﷲa کی نبوت کے خلاف دعویٰ نبوت کیا کہ شریعت اسلام کے احکام کو منسوخ کیا۔ اس لئے ان کی تحریر سے میں نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ انہوں نے اس قسم کی نبوت کو جو اوپر بیان کی گئی ہے،بندسمجھا۔ دوسری قسم کی نبوت جس کے باقی رہنے کا میں نے ذکرکیاہے۔ اس کے بند ہوجانے کا ان تحریروں میں ذکر نہیں ہے۔

منصب امامت سے جو نبوت کی تعریف پیش کی گئی ہے، اس میں اگر لفظ احکام سے نئی شریعت کے احکام مراد ہیں تو یہ تعریف مرزا صاحب پر صادق نہیں آتی۔ آئینہ کمالات اسلام مرزاصاحب کی کتاب ہے۔ اس میں ہے: ’’نادانی… مامورین‘‘ اس کے ترجمہ فارسی میں اس کے نیچے دیاہواہے۔ ہم مکہ مکرمہ کے خانہ کعبہ کے حج کو حسب ہدایات قرآن شریف واحادیث فرض سمجھتے ہیں۔ ہم قادیان کے جلسہ کو شرعی حج نہیں سمجھتے۔

(برکات خلافت ص۳) پر ہے: ’’آج جلسہ کا پہلا دن ہے… الخ!‘‘ مرزا صاحب کا یہ شعر ؎

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے راض حرم ہے

ہماری جماعت مرزا صاحب کی ازواج کو ام المومنین کہتی ہے۔ (کتاب الیواقیت ص۱۸) پرہے: ’’اور چونکہ … ہوگا۔‘‘ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے ہر مرید کا قول اپنے پیر کے حق میں معتبر نہیں ہے۔ بلکہ مرید کا رتبہ اور اس کی حیثیت دیکھی جائے گی۔

’’ اشارات فریدی‘‘ خواجہ غلام فرید صاحب کے اقوال کا مجموعہ ہے۔ جمع مولوی رکن الدین صاحب نے کیاہے۔ خواجہ صاحب کی اپنی تحریر شدہ نہیں۔ اس میں خواجہ صاحب کے اقوال ان کے بعد مرتب کر کے شائع کئے گئے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص۲۰۷، خزائن ج۲۲ ص۲۱۶) پر ہے کہ خواجہ صاحب نے اپنی کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ میں… جواب دیاہے۔ کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ شائع خواجہ صاحب

324

کی وفات کے بعدہوئی۔ لیکن اقوال کا مرتب ہونا، دوسری بات ہے۔ شائع ہونے سے پہلے بھی ہوسکتاہے۔ یہ کتاب چونکہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد شائع ہوئی اس لئے اس میں جو اقوال درج کئے گئے ہیں، وہ خواجہ محمد بخش صاحب کی تصدیق کے بعد درج کئے گئے ہیں۔ خواجہ محمد بخش ان کے صاحبزادے اور ان کے خلیفہ تھے۔ انہوں نے سارے مضامین دیکھے تھے۔ کیونکہ اس پر ان کی تصدیق موجودہے۔

جلد سوم کے متعلق مو ٔلف نے (ص۱۸۷) پر درج کیاہے کہ اس تمام جلد کو اوّل سے لے کرآخر تک خواجہ محمد بخش صاحب کے سامنے پیش کر کے پڑھا اور انہوں نے بکمال عنایت وتوجہ سے سنا اور تصحیح اصلاح تحقیق کے بعد بھی کی۔ اس کے نیچے فقیر محمد بخش صاحب کی ’’اشارات فریدی‘‘ کے متعلق ارشاد موجود ہے کہ یہ میرے والد ماجد غلام فرید صاحب کے ملفوظات ہیں جو مولوی رکن الدین صاحب نے ۹سال کی مدت میں نہایت محنت کر کے جمع کئے ہیں۔ مولوی رکن الدین کے متعلق یہ پایا جاتاہے کہ وہ خواجہ غلام فرید صاحب کے پاس ملفوظ نویسی کیاکرتے تھے۔ مولوی رکن الدین کے متعلق خواجہ غلام فرید صاحب نے مرزا صاحب کو کچھ نہیں لکھا خواجہ غلام فرید صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا مولوی رکن الدین کی توثیق کے متعلق مجھے کوئی حوالہ یاد نہیں ہے۔ مولوی غلام احمد اختر اس وقت احمدی ہیں اور ان کا جو ذکر اشارات فریدی میں آیاہے، اس وقت وہ احمدی نہ تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ مولوی رکن الدین کے دوست تھے یانہ۔

(اشارات فریدی حصہ سوم ص ۴۱) پر ہے: ’’اندریں اثناء رضوی صاحب مولوی غلام احمد اختر… الخ!‘‘ کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ کے حصہ اوّل ودوم بھی ہیں اور وہ میں نے دیکھے ہیں۔ جس وقت حصہ سوم شائع ہوا، اس وقت خواجہ صاحب کے خلفاء میں سے کسی نے اس کی تردیدشائع نہیں کی۔ میں سمجھتاہوں کہ خواجہ غلام فرید صاحب احمدیت کے مخالف نہ تھے اور وہ حضرت مسیح موعود کے مصدق تھے۔ ان کی مصدق ہونے کی حالت پر وفات ہوئی۔ خواجہ صاحب کے سامنے اس وقت تک جس قدر دعویٰ مرزا صاحب کی طرف سے پیش ہوئے تھے، ان سب کی خواجہ صاحب نے تصدیق کی تردید نہیں کی۔ مرزا صاحب نے نبوت غیر تشریعی کا ذکر اپنی پہلی کتاب (توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۵۹،۶۰) میں بھی کیاہے۔ لیکن جیسا میں بیان کرچکاہوں کہ پہلے آپ محدث کا لفظ لکھتے رہے۔ لیکن بعد میں اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کرنے لگے اور آپ کے الہامات میں نبی اور رسول کے الفاظ موجود تھے، وہ الہامات خواجہ صاحب کے پیش ہوئے اور انہوں نے اس کے متعلق شہادت دی کہ یہ الہامات خود مرزا صاحب کے کمالات پر دلالت کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے مرزا صاحب کی جو جو کتابیں پڑھی ہیں، ان کا ذکر ’’اشارات فریدی‘‘ میں ہے۔ سن کر درست تسلیم کیا۔

عدالت … بقیہ کاررائی کے لئے مسل پرسوں بتاریخ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ ء کو پیش ہو۔

۹؍مارچ۱۹۳۳ء

۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختار حاضر ہیں

تتمہ بیان جرح مولوی جلال الدین شمس باقرار صالح

میرے علم میں خواجہ غلام فرید صاحب اور مرزا صاحب کے درمیان کوئی ملاقات نہیںہوئی۔ خط وکتابت ہوتی رہی ہے۔ حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اوّل کے ساتھ میرا خیال ہے کہ خواجہ صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور حکیم صاحب کی جو گفتگو خواجہ صاحب سے ہوئی، مرزا صاحب کے متعلق ہوئی تھی۔ مجھے تفصیلی طور پر یاد نہیں کہ ان کے درمیان کس قسم کا تذکرہ ہواتھا۔ (اشارات فریدی حصہ سوم ص۸۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’میقوس۳۸ بوقت… ششم اند۔‘‘مرزا صاحب کی کتاب ایک غلطی کاازالہ سال۱۹۰۱ء میں چھپی ہے۔

325

مجھے خواجہ کی وفات کا سن اچھی طرح یاد نہیں۔ غالباً سال ۱۸۹۹ء ہے۔ قرآن مجید چونکہ خدا کا کلام ہے، اس لئے طاقت بشری سے باہرہے اور قرآن مجید میں یہ چیلنج ہے کہ اس جیسا اورکوئی نہیں بنا سکتا۔ اگر خداوندتعالیٰ کی کوئی کتاب ایسی ہوگی کہ اس میں بھی یہ چیلنج موجود ہو کہ ایسی کوئی کتاب نہیں لاسکتا تو اس کے مقابلہ میں بھی کوئی نہیں لا سکے گا۔ کسی کتاب کے متعلق یہاں ذکر نہیں۔ اگر خداتعالیٰ کسی انسان کے کلام کو جو خداتعالیٰ کی تائید سے لکھاگیاہے، اسے بطور اعجاز کے پیش کرے۔ خداتعالیٰ لوگوں کی ہمتوں کو اس کے مقابلہ میں لانے سے پشت کر دے اور وہ نہ لا سکیں تو وہ بھی اعجاز سمجھا جائے گا۔ ایسا عقیدہ رکھنا کہ جو خداتعالیٰ کی وحی کے ماتحت ہے، قرآن شریف کی توہین نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید میںکوئی یقینی مدت وغیرہ بیان نہیں کی گئی۔ بلکہ وہ ہر زمانہ اور رنگ میں اپنے اندر کامل اعجاز کو لئے ہوئے ہے۔ صوفیائے کرام کفر وغیرہ کو حق نہیں سمجھتے۔ بلکہ وہ کافر کو کافر سمجھیں گے۔ چنانچہ خواجہ غلام فرید صاحب نے ’’اشارات فریدی‘‘ میں مسیلمہ کذاب کو کذاب اور کافر کہا ہے۔ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ خواجہ صاحب نے ان مولویوں کو کہ جنہوں نے مرزا صاحب کی تکفیر کا فتویٰ دیا، انہیں غلطی پر سمجھتے ہوئے مسلمان کہاہے۔

(اشارات فریدی حصہ سوم ص۱۷۹) ’’حضورخواجہ ابقاہ اﷲ… برحق است۔‘‘ مولوی عبدالجبار، عبدالحق اور غلام دستگیر نے مرزا صاحب کے خلاف فتویٰ کفردیاہے۔ انبیاء کے کشف خطاء سے پاک ہوتے ہیں۔ آگے ان کے تعبیر کے لحاظ سے نبی اجتہادی طور پر غلطی کھا سکتاہے۔ (اشارات فریدی جلد سوم ص۴۲) پر ہے: ’’غائت مافی الباب… کشف است۔‘‘ اس سے پہلے کی عبارت قابل ملاحظہ ہے، جس کا میں اپنے بیان میں بھی حوالہ دے چکاہوں۔ ظلی نبوت کی جو حضرت مرزا صاحب نے تعریف بیان کی ہے۔ اس کے مطابق اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کا حکم میں پہلے بیان کرچکاہوں۔ ظلی نبی جو مستقل نبی کی اتباع سے نبوت کا درجہ پاتاہے اور اس کی صداقت قرآن مجید کی رو سے ثابت ہوتی ہے تو نجات پانے کے لئے اس کا ماننا بھی ضروری ہے۔ کوئی شخص مستقل نبی کی تعلیم کا پابند نہ سمجھا جائے گا، جب تک وہ اس مدعی کو بھی جس کی صداقت اس مستقل نبی کی تعلیم کے مطابق ثابت ہوئی ہے، نہ مانے۔ مرزا صاحب نے کتاب (توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۵۹،۶۰) میں نبوت غیر تشریعی کو اپنے لئے تسلیم کیاہے اور آپ کے الہامات میں نبی اور رسول کے لفظ بھی موجود ہیں۔ ایمانیات کے متعلق میں اپنے بیان میں تفصیل سے بیان کرچکاہوں۔ جس میں دوباتیں نہیں پائی جائیں گی وہ صوفی نہیں ہوگا۔ جو حضرت مرزا صاحب کو آپ کے دعویٰ میں سچا سمجھتے ہیں،وہ کافر نہیں ہیں۔ جو جھوٹا سمجھتے ہیں وہ منکر ہیں اور اس لئے کافر ہیں۔

اور جن لوگوں نے مرزا صاحب کے حق میں کوئی فتویٰ نہیںدیا۔ ہم ان سے دریافت کریںگے کہ وہ مرزا صاحب کو ان کے دعویٰ میں صادق سمجھتے ہیں یا کاذب، تو جو صورت وہ اختیار کریں گے، اس کے مطابق ہم ان پر فتویٰ لگائیں گے۔ آیت: ’’یٰآیھا الذین اٰمنو لا تقولوا راعنا… الخ!‘‘ مطلب یہ ہے کہ اے مومنو! تم ’’راعنا‘‘ نہ کہو۔ بلکہ ’’انظرنا‘‘ کہو۔ مراد یہ ہے کہ ایسے ذومعنی الفاظ جو یہودی آکر استعمال کیا کرتے تھے، ان کا استعمال کرنے سے خداوندتعالیٰ نے یہاں منع فرمایاہے۔ مرزا صاحب کے نبی اور رسول کا لفظ ہم انہیں معنوں میں استعمال کرتے ہیں، جس کا ذکر پہلے آچکاہے کہ آپ نے بغیر شریعت کے اور آنحضرتﷺ کے اتباع کر کے نبوت کے درجہ کو پایاہے اور اس کے سوا، ان الفاظ سے اور کوئی معنی نہیں لئے جاتے۔ ’’لآالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ میں ہم محمد عربی رسول اﷲaکو جو آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تشریف لائے مراد لیتے ہیں۔ تناسخ کی تعریف جسے آواگون بھی کہتے ہیں، یہ ہے کہ ایک روح کسی جسم سے نکل کر پھر پیدائش کے طریق سے دوسرے جسم میں جائے۔ یعنی پہلی روح ہی دوسرے جسم میں پیدائش کے طریق سے آتی ہے۔ اسلام میں تناسخ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یعنی ایسا عقیدہ نہیں ہے کہ کوئی گزشتہ شخص اس طریق سے جس کی تعریف میں نے اوپر بیان کی ہے

326

دوبارہ پیدا ہوجائے۔ یہ کہنا کہ فلاں شخص، فلاں کی خوبو پرہے اور اس کے اخلاق اور صفات رکھتاہے تو اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس کا آنا ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ وہ دوبارہ پیدا ہوا،جائز ہے۔

آنحضرتﷺ کے متعلق خداوند تعالیٰ نے خاتم النّبیین فرمایاہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ تمام انبیاء کے کمالات کو آپ کے اندر جمع کیا۔ آپ موسیٰm سے بھی بڑھ کر تھے۔ حضرت ابراہیمm سے بھی لیکن ظاہری طور پر رسول اﷲa نے اس طورپر نہیں فرمایاکہ میں آدم ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں ابراہیم ہوں وغیرہ وغیرہ۔ مرزا صاحب نے کتاب سرمہ چشم آریہ جب تصنیف کی ہے۔ آپ اس وقت مدعی مجددیت اور مدعی الہامات تھے۔ (ابن کثیر ج۸ ص۸۹) پر ہے: ’’حدثنا… اجرائے نبوت‘‘ اس حدیث میں نبوت اور رسالت اور نبی اور رسول کے الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں اس کی تشریح میںا مام محی الدین ابن عربی کا قول نقل کرچکاہوں اور اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی مشرع نبی اور رسول نہیں ہے۔ امام محی الدین ابن عربی نے جو قول لکھاہے: اس سے سمجھا جاتاہے کہ انہوں نے رسالت اور نبوت کو ایک ہی معنی میں لیاہے۔

کتاب اعجاز احمدی میں مرزا صاحب نے ایک قصیدہ اعجازیہ لکھاہے۔ اس کتاب میں بھی اس قصیدہ کے اعجاز ہونے کی تشریح موجودہے۔ کرشن ہونے کا دعویٰ مرزا صاحب نے وحی الٰہی کی بناء پر کیاہے اور آپ کی وحی قرآن مجید کے معیار کی رو سے جو وحی من اﷲ ہونے کے لئے قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں، سچی ہے۔ لہٰذا آپ کے کرشن ہونے کا دعویٰ کرنا قرآن مخالف نہیں۔ قرآن مجید میں خداوندتعالیٰ نے فرمایاہے: ’’ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا…‘‘ کہ ہم نے ہر ایک امت میں رسول بھیجا اور اسی طرح فرمایا: ’’وان من امۃ… نذیر‘‘ کہ ہر امت میں خداوندتعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والے آئے۔ اس لئے ہندوقوم کی طرف اگر کرشن کو خداتعالیٰ کا نبی سمجھ لیا جاوے تو قرآن کی تعلیم کے مخالف نہیں۔ چنانچہ علمانے اس بات کو تسلیم کیاہے اور خواجہ غلام فرید صاحب نے بھی ’’اشارات فریدی‘‘ میں کرشن کو نبی ماناہے۔شریعت کے تجدیدی احکام کی مثال خود حضرت مرزا صاحب نے اربعین میں دی ہے۔

مثلاً: ’’قل للمومنین…الخ!‘‘ جو میں اپنے بیان میں دے چکاہوں۔ اقتباس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کے قول کو اپنے کلام میں لیا جائے۔ اقتباس الہام کے ذریعہ بھی ہوسکتاہے۔ دوسرا یہ کہ کسی دوسرے کا قول یا قرآن کی آیت کوئی شخص اپنے قول میں بیان کرے علم الکتاب میر درد کے (ص۳) اظہار اقتباس… باید دانست… نہ فہمد۔ اس کتاب سے میں نے جو آیات پیش کی ہیں۔ وہی میر درد نے لکھاہے کہ یہ خداتعالیٰ نے مجھے الہام کی ہیں۔ (علم الکتاب ص۶۱) الحمدﷲ! فضل عظیم اس عبارت میں فقرہ ’’واسمعوا کیف اقتبس بالآیات‘‘ ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سنو کہ میں کس طرح آیات سے اقتباس کرتاہوں۔ اس کتاب کے (ص۲۴) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’وکتب… یرجعون‘‘ یعنی اور آیات کو لکھ اپنی کتاب میں اور اسے لوگوں کو پہنچا۔ اس کے ص۶۵ پر حسب ذیل عبارت ہے۔ اناکنا وارثین…… انسان اسی کتاب کے ص۱۱ پر ہے۔ اقسام وحی نیز شاہ ولی نعمت اﷲ نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ نہ انہیں اس کثرت سے اظہار امور غیبیہ کی نعمت کا خداوندتعالیٰ سے حصہ ملا کہ خداانہیں نبی قرار دیتا اور وہ نبی کا دعویٰ کرتے۔ شرعی فتوی یہ ہے کہ نماز متقی کے پیچھے پڑھنی چاہئے۔ غیر متقی کے پیچھے نہیں۔ شرعاً غیر متقی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ اگر متقی موجود ہو۔ متقی کی عدم موجودگی میں جو نماز پڑھنے والوں سے اعلی ہوگا۔ اسے امام کیا جائے گا۔ اگر کوئی غیر احمدی مسجد میں نماز پڑھا رہاہو تو ہم یعنی احمدی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔

(نہج المصلیٰ ص۳۰۸) پر ہے: ’’بہر حال… مواخذہ ہے۔‘‘ یہ قول مرزا صاحب کا ہے۔ اس بارہ میں اور جوکچھ اور مرزا صاحب

327

نے لکھاہے، وہ صحیح ہے اور میں اسے تسلیم کرتاہوں۔ مسلمانوں نے ایسے فتوے دیئے ہوئے ہیں کہ کبھی وہ اپنے مخالف مذہب والے کے پیچھے نماز پڑھنے والے کو حرام سمجھتے ہیں۔

کتاب’’بھونچال برلشکر دجال‘‘ کا جو حوالہ میں نے دیاہے۔ اس میں فاسق کے متعلق مولانا رشید احمد صاحب کے فتویٰ کی عبارت کا قبل مابعد دیکھ لی جاوے مجھے اس وقت یاد نہیں۔

(کتاب تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۶۴) پر ہے: ’’پس یاد رکھو… پڑھو۔‘‘ اس قول میں الفاظ ذیل سے کہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دو۔ اس سے مراد دوسرے فرقہ کے مسلمان ہیں۔ کیونکہ ہندو اور عیسائیوں کو رشتہ دینا ہم پہلے سے جائز نہ سمجھتے تھے۔ غیر احمدی کو نکاح میں لڑکی نہ دینے کی وجہ میں نے اپنے بیان میں بتلائی ہے۔ وہ بھی منجملہ دیگر وجوہ کے ایک وجہ ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسرے فرقہ کے لوگ حضرت مرزا صاحب کو مفتری علی اﷲ سمجھ کر کافر ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں نہیں دی جاتی۔ مرزا صاحب کے متعلق جو متردد ہوگا، اس سے دریافت کیا جائے گا۔ اگر وہ تصدیق کرے تو مصدق سمجھا جائے گا۔ اگر تکذیب کرے تو مکذب۔ کتاب ملائکتہ اﷲ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی کی تصنیف ہے۔ اس کے (ص۴۶، انوارالعلوم ج۵ ص۴۴۰ مضمون اصلاح نفس) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ پانچویں بات… دیتے ہو، جو احمدی ہوکر غیر احمدی ہوجائے، اس پر مرتد کا اطلاق ہوسکتاہے۔ جو شخص جماعت سے خارج کیاجائے، اگر وہ احمدی نہ رہے تو اسے نظام جماعت سے خارج سمجھا جائے گا۔ یعنی ہماری جماعت کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ جو شخص تین مہینے تک چندہ نہ دے، وہ نظام جماعت سے خارج سمجھاجاتاہے۔ اگر وہ احمدیت سے انکار نہیںکرتا تو احمدی کہلائے گا لیکن نظام جماعت سے خارج سمجھا جائے گا۔

کشتی نوح میں حضرت مسیح موعود نے تمام اسلامی احکام کو بجا لانے کی جن میں نماز، زکوٰۃ وغیرہ بھی شامل ہیں، تاکید کی ہے اور نہ بجا لانے کی نسبت کہاہے کہ وہ میری جماعت سے نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص زکوٰۃ کے فرض ہونے کاانکار کرے تو وہ کافر ہوگا۔ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اﷲa کے وقت میں کوئی ایسی صورت پیش آئی کہ کسی شخص نے زکوٰۃ نہ دی ہو اور اس کے متعلق کوئی حکم صادر ہوا ہو۔ مرزا صاحب کے اس حکم کے متعلق کہ جو شخص تین ماہ تک چندہ نہ دے، باوجود طاقت رکھنے کے تو وہ جماعت سے علیحدہ سمجھا جائے گا۔ میں نے اپنے بیان میں اس کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی ہے: ’’ھآانتم ھٰؤلاء… الخ!‘‘ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے حضرت ابوبکرq سے قتال کیا، وہ ادائے زکوٰۃ سے منکر تھے۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ ’’واﷲ… رسول اﷲa‘‘ کہ قتال زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے پر کیا گیا۔ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ وہ لوگ زکوٰۃ کی فرضیت کے منکر تھے یا نہ تھے۔ اس میں صرف زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے کا سوال ہے۔ تارک زکوٰۃ پر اگر وہ صرف زکوٰۃ ادانہیں کرتا۔ مرتد کا لفظ اس پر بشرطیکہ وہ دوسرے امور دینیہ کا انکار نہ کرے اطلاق نہیں پائے گا۔

(مشکوٰۃ ص۱۴۹) ’’مماتوفی… بعدہ وکفر من کفر‘‘ پر یہ حدیث ہے۔ (ابن جریر ج۸ ص۱۲۴) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ابی بعد…بھہ یظنون‘‘ یہ حوالہ طبع امیریہ، مطبوعہ مصر سے ہے۔ اس کے ٹائٹل پیچ پر ابن جریر کی تعریف لکھی گئی ہے۔ آیت: ’’یا بنی آدم… الخ!‘‘ کی جو صحیح تفسیر میرے نزدیک تھی، وہ میں نے بیان کردی ہے۔

( خازن ج۵ ص۲۳) پر ’’اﷲیصطفی… برسالۃ‘‘ آیت مذکورہ بالا کی تفسیر ہے۔ مضارع میں حال اور استقبال دونوں کے معنی ہوتے ہیں۔ حال اور استقبال کے بھی دونوں معنی حقیقی طور پر ہوتے ہیں۔ جب تک کہ کوئی تحریر اس کو کسی زمانہ کے ساتھ مختص نہ کردے، آیت: ’’اﷲیصطفی‘‘ میں حال اور استقبال کے دونوں معنی مرادہیں۔

328

(کتاب نورالانوارص۸۴) ’’ولا عودلہ… واتممت علیکم نعمتی‘‘ میں نعمتی سے مراد مطلق نعمت ہے اور نبوت بھی ایک نعمت ہے۔

’’الیوم اکملت لکم دینکم… الخ!‘‘ میں تو یہ بتلایاگیاہے کہ تمہارا دین تمہارے لئے آج خداتعالیٰ نے کامل کردیا ہے اور تم پر نعمت کو پورا کردیا۔ یعنی اس دین کے اتباع میں جو مراتب نعمت الٰہی کے انسان کو حاصل ہوسکتے تھے، وہ اس دین کے ذریعہ سے حاصل نہ ہوسکے۔ اس سے یہ مراد قطعاً نہیں ہے کہ اب نعمت الٰہی کا جو دروازہ ہے، وہ بندہوگیاہے۔ چونکہ دین کامل ہوگیاہے۔ اس لئے اس دین کے اتباع سے تمام اقسام کی نعمتیں ملیں گی۔ دوسرادین نہیں ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیقq نے اس آیت سے یہ استنباط کیا کہ رسول اﷲa کی وفات قریب آگئی ہے۔ یہود نے حضرت عمرqسے کہاہے کہ وہ اس آیت کے نزول کے دن عید مانتے۔ میں نے جو اعتراض یا اسباب بعثت نبی کے اپنے بیان میں بیان کئے ہیں۔ وہ اگر کسی وقت پائے جاویں تو خداتعالیٰ ان کی اصلاح کے لئے نبی بھیج سکتاہے۔ اختلافات کا پیدا ہونا بھی بعثت نبی کا باعث ہے۔ جب ان کا فیصلہ کرنا لوگوں پر سخت مشکل ہوجائے اور بغیر اﷲتعالیٰ کی رہنمائی کے ان اختلافات کا حل نہ ہوسکے تووہ بھی منجملہ اسباب کے ایک سبب ہے۔ مرزا صاحب نے اگر ان اختلافات کا فیصلہ کیاہے، ان کا ماننا یا نہ ماننا دوسرا سوال ہے۔ مرزا صاحب نے اختلافات اصولاً آکر طے کردئیے۔ مجدد تجدید دین کے لئے آیا کرتاہے۔ مجدد کے لئے نبی ہونا ضروری نہیں۔ نبی مجددہوتاہے۔

(بخاری ج اوّل ص۴۹۱) پر ہے: ’’کانت بنو اسرائیل… الخ!‘‘ رسول اﷲa کے بعد مجدد آتے رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نبی محبوب الٰہی ہوتاہے اور محبوبیت میں درجہ کے لحاظ سے مرتبہ بڑھ جاتاہے۔ میں نے جو یہ کہاہے کہ رسول اﷲa صرف نبی ہی نہیں بلکہ آپ کی شان اس قدر بلند ہے کہ آپ کی شان سے انسان خداوندتعالیٰ کا محبوب بن جاتاہے۔

(معالم تنزیل ص۴۳۹) پر آیت: ’’فائولٰئک الذین… الخ!‘‘ پر اس آیت کا شان نزول بالفاظ ذیل ثوبانq… لکھاہے۔ جن احادیث میں حضرت عیسیٰؑ کو نبی اﷲ کہاگیاہے۔ وہ ابن ماجہ، ترمذی، مسلم وغیرہ کتب کی احادیث میں آئی ہیں۔ یہ روایت تو اس نواس بن سمعان سے بھی آئی ہے۔ مرزا صاحب کے اس حدیث کی تشریح ازالہ اوہام میں دی ہے۔

کتاب (ازالہ اوہام ص۲۳۷، خزائن ج۳ ص۲۲۰) پر ہے: اور حاصل کلام یہ ہے… کیا چاہئے عیسیٰؑ کے نزول کے متعلق جو احادیث ہیں۔ ان سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ نبوت کریں گے۔ (مشکوٰۃ شریف ص۴۷۲) پر یہ حدیث ہے: ’’لاتزل… ہذالامت‘‘ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ جس حدیث کا میں نے حوالہ دیاہے وہ مسلمہ ہے۔ آیت: ’’وان من اھل الکتاب… الخ!‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی نہیں، مگر وہ اس قول پر جوپہلے بیان ہواہے، ایمان رکھیں گے۔ اپنے مرنے سے پہلے پہلے (اپنے سے مراد اہل کتاب سے ہے) ابن جریر پر ابن عباس کی روایت اس بارہ میںہے۔ (ص۱۴) اس آیت کے تحت (ابن کثیر ج۲ ص۳۳۰) پر حدیث: ’’ان عیسٰی لم یمت، انہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ ہے۔ مرزا صاحب کا یہ شعر ہے ؎

ہر نبوت را بروشد اختتام

مسلم الثبوت کا جوحوالہ میں نے دیاہے، اس میں الفاظ جن میں نزول مسیح بھی ہے یہ میں نے لکھوائے ہیں۔ کیونکہ نزول مسیح بھی علامات قیامت سے ہے۔ اصل عبارت میں نے اپنے حوالہ میں دے دی ہے۔ بعض آیات قرآنی سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بعض محض مرنے

329

کے بعد جنت میں داخل ہوگئے اور اس طرح شہداء کے متعلق احادیث میں آتاہے کہ وہ جنت میں ہیں۔ اس طرح بعض آیات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نوح کی قوم غرق ہونے کے بعد آگ میں داخل کردی گئی۔ ان مختلف آیات اور احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے جو نتیجہ میں نے اپنے بیان میں لکھوایاہے، وہ صحیح ہے۔ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف تعلقات ہوں گے جو جنت میں داخل ہوجائے گا۔ وہاں سے کبھی بھی نہیں نکالا جائے گا۔ لیکن دوزخی، دوزخ میں عذاب بھگت کر جتنی دیر خداتعالیٰ کے حکم میں ان کو عذاب دینا ہوگا، اس میں سے نکالے جائیں گے۔ ہم بعث بعد الموت کے قائل ہیں کہ اس موت کے بعد زندگی ہوگی اور یہ بات کہ کس رنگ میں لوگ اٹھیں گے یا ان دنیاوی قبروں سے اٹھیں گے یا برزخی قبروں سے اٹھیں گے۔ جو کچھ قرآن مجید اور حدیث کی رو سے ثابت ہوتاہے ہم اسے تفصیلاً مانتے ہیں۔

’’ونفخ فی الصور…ینسلون‘‘ کاترجمہ یہ ہے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف جائیں گے۔ توہین انبیاء کفر ہے۔ توہین انبیاء اور رسول اﷲa کی توہین کرنے والا اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور یہی ہماری جماعت کا عمل ہے۔ ضمیمہ انجام آتھم میں جو یسوع کے متعلق الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ اس موقعہ کے لحاظ سے توہین آمیز نہیں ہیں۔ اگر کسی شریف آدمی کو جو چور اور ڈاکو نہیں، اسے چور اور ڈاکو کہا جاوے یا اور کوئی اس قسم کے الفاظ استعمال کئے جاویں تو اس کی توہین ہوگی۔

ہم مرزا صاحب کے نام کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لگاتے ہیں۔ عزت کے لئے ہم یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنی کئی تحریروں میں لکھ دیاہے کہ ہم نے جہاں جہاں یسوع وغیرہ کے متعلق جو الفاظ لکھے ہیں، وہ الزامی طور پر ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو ہم خداتعالیٰ کا پاک اور مقدس نبی سمجھتے ہیں۔ جب حضرت محمدa کافقرہ بولا جائے گا، جب مطلقاً آئے گا تو اس سے مراد رسول اﷲa لی جائے گی۔ الزامی جواب میں جب الفاظ ہماری رائے یہ ہے اور سچ تو یہ ہے استعمال کئے جاویں تو وہ الزامی جواب میں ہی شامل ہوں گے۔ اس سے متکلم کی رائے نہ سمجھی جائے گی۔ جب کہ وہ خود تصریح کررہاہو کہ میری مراد اس شخص سے ہے جس کے متعلق میں نے یہ باتیں کہی ہیں۔ فلاں نہیں بلکہ فلاں ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۸حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹) مگر ہم اس جگہ… ہواتھا۔

(تحفہ قیصریہ ص۱، خزائن ج۱۲ ص۲۵۳) پرہے: یہ عریضہ مبارک بادی … مبارک یسوع مسیح جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے عیسائیوں کے عقائد نقل کئے ہیں، وہ ان کے متفقہ عقیدہ کے حالات کے مطابق کئے ہیں اور جہاں پر یسوع ، مسیح اور عیسیٰ کو ایک قرار دیاہے، وہ ان کی اصل حیثیت کو مد نظر رکھ کر کیاہے کہ وہ راست باز تھے اور خدا کے نبی تھے۔ یہ کتاب مرزا صاحب کی ہے۔ (راز حقیقت ص۱۵ حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۲۷) پر حسب ذیل عبارت ہے: وہ نبی… ظاہرہے۔اسی کتاب کے (ص۱۹، خزائن ج۱۴ ص۱۷۱) پر حسب ذیل عنوان ہے: حضرت عیسیٰؑ اور… یہ ان کامزارہے۔ یہ بھی مرزا صاحب کی کتاب ہے۔

(تبلیغ الحق مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴،۵۴۵) واضح ہو… سلب ایمان ہے۔ یہ مرزا صاحب کا اشتہارہے۔

(تریاق القلوب ص ب،ج، خزائن ج۵ ص۴۹۰،۴۹۱) پرہے: میں اس بات کا بھی اقراری ہوں… گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ یہ بھی مرزاصاحب کی کتاب ہے۔ سن کر تسلیم کیا۔

بقیہ کارروائی کے لئے کل پیش ہو۔

محمد اکبر… ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء

330

۱۲؍مارچ۱۹۳۳ء … فریقین اور ان کے مختاران حاضر ہیں

جرح… تتمہ بیان مولوی جلال الدین شمس گواہ مدعاعلیہ

جو مسلمان کی تکفیر کرتاہے، اگر وہ مسلمان کافر نہیں توکفر اس پر لوٹ کر پڑتاہے۔ مسئلہ تکفیر کے متعلق جو کچھ مرزا صاحب نے لکھا ہے وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے۔ مرزا صاحب نے لکھاہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ اس وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قراردیتاہے۔ چنانچہ حقیقت الوحی میں اس کی تشریح موجودہے۔ مفتری قرار دینے کی وجہ سے شخص کافر ہوجاتاہے۔ کیونکہ جو مفتری قرار دیتا ہے وہ ان کو کافر قراردیتاہے اور وہ کفر اس پر لوٹ کر پڑتاہے۔

مرزا صاحب کی تحریر کے مطابق جو (نہج المعلی ص۳۰۸) پر ہے: جس شخص کے پاس مرزا صاحب کی دعوت پہنچی اور اس نے قبول نہ کیا۔ خواہ وہ کروڑوں کیا سینکڑوں ہوں۔ وہ چونکہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان کو مفتری اور ان کو کافر قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا کفر ان پر لوٹ کر پڑتاہے۔

مجھے خلیفہ صاحب ثانی کی تحریرات سے بھی اتفاق ہے۔ میں ان کو صحیح سمجھتاہوں۔ غیر احمدیوں کے متعلق بھی میں جواب پہلے دے چکاہوں۔ میں نے حضرت خلیفہ ثانی کی کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ نہیں پڑھی۔ لیکن اس کتاب میں جو کچھ درج ہے میں اسے صحیح تسلیم کرتاہوں۔

(اخبار الفضل مؤرخہ۲۵؍اپریل۱۹۳۰ء) میں خطبہ جمعہ خلیفۃالمسیح ثانی فرمودہ۱۸؍اپریل۱۹۳۰ء درج ہے۔ اس میں ایک عنوان ’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے‘‘ ایڈیٹر کاقائم کردہ ہے۔ جب تک ہم تمام دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کریں… اخیرکالم تک یہ عبارات ص۶ پر تھیں۔ اب ص۷ پر بعنوان الٰہی سلسلہ… تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ تمام دنیا تمہاری دشمن ہے۔ سرخی کے عنوان خطبہ کے الفاظ جلی قلم میں لکھے گئے ہیں اور یہ الفاظ مرزا محمود صاحب خلیفہ ثانی کے خطبہ کے ہیں۔ صرف تکفیر کی وجہ سے ارتداد لازم نہیں آتا۔

(الفضل مو ٔرخہ۱۰؍نومبر ۱۹۳۲ء) میں لعل حسین کو اس لئے مرتد کہاگیاہے کہ وہ پہلے لاہوری احمدی تھا، پھر اس سے وہ مرتد ہوا۔ کیونکہ مرتد کے معنی یہ ہیں کہ کسی ایک بات کو مان کر اسے پھر چھوڑ دے۔ خلیفہ ثانی کی ایک کتاب تقدیر الٰہی ہے۔ جس میں ان کا لیکچر درج ہے۔ میں نے یہ لیکچر پڑھاہے اور سنا بھی ہے۔

کتاب (نجم الہدیٰ ص۱۰) پر یہ عبارت ہے: ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کیتوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘ اس عبارت کے ساتھ اگلا شعر بھی قابل ملاحظہ ہے۔ یہ الفاظ ان لوگوں کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔ جن کی تشریح ان اشعار میں ہے۔ یہ کتاب بھی مرزا صاحب کی ہے۔ اگر کوئی احمدی اس وقت غیر احمدی سے اپنی لڑکی کا نکاح کرے تو ہم اس نکاح کو باطل نہیں قرار دیتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی اولاد، اولاد زنا شمار کی جائے گی۔ ہمارے نزدیک نکاح جائز نہیں۔ لیکن اگر کوئی نکاح کردے تو ہم اس کو باطل قرار نہیں دیتے۔اگر وہ احمدی توبہ نہیں کرتا تو وہ نظام جماعت سے خارج کیاجائے گا اور یہ اختیار خلیفہ کے ہاتھ میں ہے۔یعنی جماعت سے خارج کرنا۔

میں نے امام ابن تیمیہ کو بحیثیت مسلمانوں کے ایک امام ہونے کے پیش کیاہے۔ وہ حنفی نہیں ہیں۔ میرے خیال میں حنبلی ہیں۔ ابن تیمیہ نے حضرت علیq کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ صحابہ نے جو اس وقت سمجھا، وہ درست سمجھا اور اس کی بحث اس کتاب میں ہے۔ صحابہ نے باوجود اختلاف کے حضرت علیq کے خوارج کو کافر کہاہے کہ ان کے ساتھ معاملات شرعی جاری رکھے اور واقعات کے لحاظ سے انہوں نے اسے درست سمجھا۔ وہ حالات چونکہ سب ہمارے سامنے نہیں، اس واسطے ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔

331

کتاب (انواراسلام ص۲۹، خزائن ج۹ ص۳۱) اور اگرعبداﷲآتھم… جھوٹے ہوجائیں۔ اس کتاب کے (ص۳۷، خزائن ج۹ ص۳۹) پر ہے:دل کی آہ سے… اٹھ کھڑے ہیں۔ اس میں پہلے مولوی عبدالحق کا اس بحث میں ذکر ہے۔ اس کتاب (انوار اسلام ص۳۰) پر ہے : اب جو شخص… رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے۔ یہ فقرہ مشروط ہے۔ مجھے پتہ نہیں کہ مدعیہ حنفی مذہب رکھتی ہے یا کوئی اور۔ کتاب منصب امامت میں نے پوری نہیں پڑھی۔ میں نے اپنے بیان میں جتنی کتابوں کے حوالہ پیش کئے ہیں وہ اس لحاظ سے پیش کئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے مسلمہ امام ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ مدعیہ کے فرقہ کے بھی وہ مسلمہ امام ہیں یا نہیں۔ بہر حال مسلمان فرقوں کے وہ امام ہیں۔

کتاب احیاء العلوم تصوف کی کتاب ہے اوراس میں ہر قسم کے معاملات کاذکرہے۔

شرح شفاء ملّا علی قاری کی کتاب میں نے بالاستیعاب نہیں پڑھی۔ (شرح شفاء ملّاعلی قاری ج۴ ص۵۰۸،۵۰۹ حاشیہ) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’قل کفارٌ…‘‘ شرح فقہ اکبر سے جو حوالہ نبوت کے متعلق پیش کیاگیاہے، اس کے قائل اور اس شرح شفاء والے حوالے کے قائل ایک ہی ملّا علی قاری ہیں۔

’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ اس موضوع پر کتاب ہے کہ رسول کی اگر کوئی شخص توہین کرے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ میں نے امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کا مدعی نبوت کے متعلق کوئی حوالہ پیش نہیں کیا۔

فسخ نکاح کے مسئلہ کے متعلق تکفیر وجہ ارتداد جو میں نے اپنے بیان میں لکھوائی ہے۔ اس سے مراد وہ ارتدادہے جس کی وجہ سے علماء کے نزدیک نکاح وغیرہ فسخ ہوجاتاہے۔ میرے نزدیک جب کوئی حکومت اسلامی شرعیہ قائم ہوتو اس میں چونکہ قاضی اور مفتی اور حد لگانے والے سب محکمے موجود ہوں گے، اس لئے مرتد کے فسخ نکاح کے لئے بھی قضاء قاضی کی ضرورت ہوگی۔ جہاں حکومت اسلامی قائم نہ ہو تو وہاں اس قانون کے مطابق جو رائج ہو فیصلہ ہوگا۔ شریعت ان فیصلوں کے متعلق یہ حکم نہیں لگائے گی کہ یہ نکاح باطل ہیں اور اس کی اولاد،اولاد حرام ہے۔

اسلامی ریاست میں بھی جو اس ریاست کا قانون ہوگا وہی جاری ہوگا۔ آیت: ’’لاھن حل لھم…ولھن (الممتحنۃ:۱۰)‘‘ سے عام کفار مردوں، عورتوں کے متعلق سلسلہ مناکحت کی تحریم مقصود نہیں ہے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ یہود جو بالاتفاق کافر ہیں، ان کی عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ حالانکہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ مسلمان ہوکر اگر کوئی شخص یہودی یا نصرانی ہوجائے تو وہ مرتد ہوگا۔

جن علماء پر کفر کے فتوے لگائے گئے ہیں وہ من حیث الجماعت بھی ہیں اور انفرادی لحاظ سے بھی ہیں۔ سید عبدالقادر جیلانی، امام غزالی، امام بخاری اورامام احمدبن حنبل اور امام مالک کے متعلق جو حوالے مجھے معلوم تھے وہ میں نے بیان کردئیے ہیں۔

مجھے اس وقت کے تمام مولویوں کے اقوال نہیں پہنچے کہ میں کہہ سکوں کہ تمام مولویوں نے ان کے متعلق کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ اگر ایک مفتی کا فیصلہ انفرادی حیثیت سے صحیح ہے تو وہ درست تسلیم کیاجائے گا اور اسے جماعت کے فتویٰ کی طرح تسلیم کر لیاجائے گا۔ اگر جماعت نے فتویٰ صحیح دیاہے، مجھے اس وقت ان مفتیوں کے نام یادنہیںہیںجنہوں نے بزرگان مذکورہ بالا کے متعلق فتوئے دئیے۔ جو مجھے معلوم تھے ، وہ میں نے درج کرادئیے ہیں۔

332

جن لوگوں نے فتوے دئیے ہیں۔ ان کے حالات میں اس وقت بیان نہیں کرسکتا۔ کتابوں میں اس قسم کا ذکر نہیں آیا کہ جن لوگوں نے ان کے خلاف فتویٰ دیا، وہ حکومت کے مقرر کردہ تھے یانہ۔ بزرگان مذکورہ بالا باوجودیکہ وہ آخری حد تک ان چیزوں سے جو ان کی طرف غلط منسوب کی گئی تھیں، برأت ظاہر کرتے ہیں۔ نیز ان باتوں کے باوجود جن کو وہ صحیح تسلیم کرتے تھے، مولویوں نے اسے کفر سمجھ کر ان کو کافر قراردیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ بزرگان مذکورہ بالا میں سے کسی نے اپنے کافر کہنے والے کو کافر کہا یانہ۔

نواب صدیق حسن خان چار اماموں کے صحیح اقوال کومانتے تھے اور اگر مقلد کے یہی معنی لئے جاویں تووہ مقلد تھے اور یہ معنی نہیں، کوئی خاص معنی تھے تو وہ غیر مقلد تھے۔ کتاب ’’حسام الحرمین‘‘ میں علماء حرمین کے فتاویٰ ہیں۔ علمائے حرمین میں سے جن کے فتویٰ اس کتاب میں ہیں،ان کے اس پر مہریں اور دستخط موجود ہیں۔ ’’حسام الحرمین‘‘ میں جس قدر فتویٰ درج ہے وہ میں نے پڑھا ہے۔ اس فتویٰ کے شروع میں مرزا صاحب اور ان کی جماعت کا بھی ذکرہے۔ الفاظ یہ ہیں: ان میں ایک فرقہ مرزائیہ ہے اور ہم نے ان کا نام غلامیہ رکھاہے… بھیجا۔ ص۹۷ص۱۰۰ ومنہم وہابیہ… قاسم نانوتوی اس کتاب کا قابل ملاحظہ ہے۔

مولانا محمدقاسم نانوتوی اور رشید احمد صاحب کی وجوہ تکفیر جو اس فتویٰ میںدرج ہیں، ان میں ان کے متعلق ختم النبوت اور توہین انبیاء کا بھی ذکرہے۔ اس فتویٰ حسام الحرمین میں جو حوالہ جات کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کے درج ہیں، وہ اس کتاب کے مختلف صفحات سے درج ہیں۔ ایک جگہ سے نہیں۔ میرے پاس علمائے حرمین کی کوئی سند نہیں پہنچی کہ انہوں نے علماء دیوبند کے متعلق اپنے فتاویٰ واپس لے لئے۔

کتاب غائت المامول پر لکھا ہواہے کہ یہ علامہ برزنجی کی کتاب ہے۔ اس کے اخیر میں علماء حرمین کی مہریں چھپی ہوئی ہیں۔اس کا ص۳ نوٹ کیا جاوے۔ کتاب ’’حسام الحرمین‘‘ کے اخیرمیں بھی علماء کی مہریں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں ہندوستان کی چھپی ہوئی ہیں۔ میں نے احمد رضاخان کی کتاب ’’فتویٰ حسام الحرمین‘‘ کے خلاف کوئی نہیں پڑھی جو کتاب ’’تمہیدایمان بآیات قرآن‘‘ کے ٹائٹل پیج پر احمدرضاخان کا نام نہیں لکھاہوا۔اس کتاب کے (ص۴۲) پرہے: ’’بدلائل قاھرہ…‘‘ دیکھئے (ص۴۳) ’’خامسا… لا یولٰی جامع الشواہد‘‘ اوربھونچال بر لشکر دجال کے مصنّفین کے متعلق ان کی کتابوں سے معلوم ہو سکے گا کہ وہ مقلدین تھے یا غیر مقلدین۔ بحث کے وقت اصل کتاب جو پیش ہوگی، خواہ اس بیان میں اس کا ذکر نہ ہو، وہ کتاب پیش کی جاسکتی ہے۔

جن جن علماء نے دوسروں کو مرتد اور خارج از اسلام قراردیاہے تو انہوں نے ان کے ساتھ نکاح وغیرہ کے معاملات کو بھی انہی کے حکم میں سمجھا ہے۔ ان کے فتویٰ سے یہی استنباط ہوتاہے اور بعض فتاویٰ میں اس کی تصریح بھی کی گئی ہے۔ سرسید احمد خان اور ان کے ہم خیال ہمارے نزدیک احمدی نہیں ہیں۔ میں نے جو یہ حوالہ کہ ’’مولویوں کی شہادت قبول نہیں‘‘ وغیرہ پیش کی ہے، وہ ہدیہ مجددیہ کا ہے اور وہ مبسوط سے منقول ہے۔ میں نے یہ حوالہ مبسوط میں خودنہیں دیکھا۔ ہدیہ مجددیہ کے مصنف کانام اس وقت مجھے یاد نہیں، میں نے اصل کتاب دکھلادی تھی۔ میںنے وہ کتاب نقل کے طور پر پیش کی تھی۔ اگر کسی کتاب سے کوئی نقل پیش کی جائے اور وہ صحیح ہے، اس اصول کی روسے جو میں پہلے بیان کرچکاہوں تو وہ ہمارے نزدیک صحیح ہوگی۔ میں نے جو اپنے بیان میں یہ لکھوایاہے کہ قرآن مجید میں ہے کہ علماء اپنے علم پر نازاں ہوکر خداکے فرستادوں کی تکذیب کردیتے ہیں۔ یہ بامحاورہ ترجمہ ہے اس آیت کاکہ ’’فلما جآء تھم رسلھم… تستہزئون (المؤمن:۸۳)‘‘ ہم سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس رسول آئے۔ اس آیت کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ مولوی لوگ علم پر نازاںہوکر رسولوں کے مقابلہ میں اکڑتے رہے اور ان کی تکذیب کی۔

بہاء اﷲ نے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا نہیں کیا۔ باب نے بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ بہاء اﷲ نے مہدی ہونے کا دعویٰ

333

نہیں کیا تھا۔ باب نے شیعوں میں ان کی ایک روایت کے مطابق امام قائم ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ اہل تشیع امام قائم سے مہدی مراد لیتے ہیں۔ دعویٰ کرنے سے مراد یہی ہے کہ مرزاصاحب ہمارے نزدیک سچے مسیح اور مہدی ہیں اور ہم اس کو دلائل سے ثابت کر سکتے ہیں۔

بہاء اﷲ نے مہدی ہونے کا دعویٰ نہیںکیا کہ میں مہدی ہوں۔ اپنے بیان میں جن مولویوں کا مقابلہ لیڈروں اور معزز تعلیم یافتہ وغیرہ اشخاص سے کیاہے، وہ ایسے مولویوں کے مقابلہ میں ہے، جن کی وصف میں اپنے بیان میں لکھواچکاہوں۔

کتاب (چشمہ معرفت ص۲۷۵،۲۷۶، خزائن ج۲۳ ص۲۸۸،۲۸۹) پرہے: علاوہ اس کے… کہا کیاجائے۔ مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ میں نے مولوی محمود حسن صاحب کے جو اشعار اپنے بیان میں لکھوائے ہیں، وہ مولوی محمود حسن صاحب کے ہیں۔ مجھے ان کے دیوان کا کوئی علم نہیں۔ انسان خطاء سے معصوم نہیں ہوسکتا۔ انبیاء کے متعلق یہاں کوئی بحث نہیں۔

مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ میں یہ شعرہے: ’’تکدر… لاتکدر‘‘ (ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰) پرہے: اس کا ترجمہ اس شعر کے پیچھے لکھا ہواہے: ’’اٰتانی مالم یوتہ… من العالمین‘‘

مرزا صاحب کا الہام ہے کتاب (المصلٰی ص۸۷) پرہے: اس کا ترجمہ یہ ہے کہ مجھے وہ دیا جو اس وقت دوسرے جہانوں میں کسی کو نہیں دیاگیا۔ العالمین سے مراداس وقت ہے۔

مرزا صاحب کا یہ بھی شعر ہے: ’’کربلائے ایست سیر ہرانم… صد حسین درگریبان آنم‘‘ (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷) عرض… ضرورتھا۔

(انجام آتھم ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۲۱ حاشیہ) پر مرزا صاحب کا یہ فقرہ ہے: ’’اوبد ذات فرقہ مولویان۔‘‘

(حقیقت النبوت ص۲۶۶ حاشیہ، انوار العلوم ج۲ ص۶۱۳) پر ہے: ’’یہ بات… موجودہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۹۶، خزائن ج۳ ص۴۲۲) پر ہے: حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔ نبی اور رسول نہ تھا۔

(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷) پرہے: جیسا کہ… عطاء کیاتھا۔

(انوار الحق ص۳۰،۲۹،۲؍۸۶، ۸۸،۸۹، ۹۰، ۹۶، ۱۱۸، ۹۷) پر بغایا کے معنی مرزا صاحب نے کیا لئے وہ کتاب دیکھنے سے معلوم ہوسکتے ہیں۔

اور (انوار اسلام ص۲۹، ۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱،۳۲) پر حرامزادہ کا لفظ مشروط طور پر لایاگیاہے۔ بغایاکے معنی کتب ذیل (فائق ج۱ ص۶، منتہی الارب ج۱ ص۱۳۹) میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

سوال مکرر۔ توہین انبیاء وغیرہ کے مسئلہ میں تاویل کرنے کے متعلق میں اپنے بیان میں بھی حوالے لکھوا چکاہوں۔

کتاب (الفضل ج۳) الاشباہ والنظائر اور البحر الرائق وغیرہ میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ کسی شخص کے کلام کا اگر محمل حسن نکل سکے تو اس کے مطابق اسے لیا جاوے۔

خصوصاً اس زمانہ میں جب عیسائیوں نے اسلام اور آنحضرتﷺ پر اعتراضات کئے۔ ان کو الزامی جواب دینا جیسا کہ دوسرے علماء نے دیاہے۔ پھر اس الزامی جواب کو توہین قرار دینا صرف انہیں لوگوں کا کام ہوسکتاہے، جن کے متعلق احادیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اسلام پر قسم وقسم کے اعتراضات کئے جائیں گے۔ جس سے امت میں گھبراہٹ پیدا ہوگی تو وہ اپنے مولویوں کی طرف جائیں گے تو وہ انہیں بندر اور سور پائیں گے۔

334

مرتد کی تعریف کے متعلق جو میں نے یہ کہا ہے کہ میں سمجھتاہوں تو اس سے مراد یہی ہے کہ جو میں قرآن اور حدیث سے سمجھتاہوں۔

احمدیہ جماعت قادیان حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ ثانی اور اپنا امام سمجھتی ہے اور غیر مبایعین یعنی لاہوری پارٹی، مولوی محمد علی صاحب کو اپنی جماعت کا پریذیڈنٹ یا امیر سمجھتی ہے۔

مرزا صاحب نے جن حدیثوں کے متعلق یہ لکھاہے کہ ہم انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہیں۔ وہ وہی حدیثیں ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی وحی قرآن مجید کے معارض نہیں ہے۔ جہاں مسیح کے عقیدہ کا نام شرک رکھنے کے بارہ میں میں نے جوجواب دیاہے، اس کی تائید ان حدیثوں سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں رسول اﷲa نے فرمایا ہے: ’’من حلف بغیراﷲ فقد اشرک‘‘ یعنی جس نے غیراﷲ کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا۔ اس طرح پر نماز کے چھوڑنے کو کفر قراردیاگیاہے۔

اولیاء نے لکھا ہے یاکہاہے کہ وہ خداتعالیٰ کے اطفال ہوتے ہیں۔ مثلاً مولانا روم نے لکھاہے: اولیاء اطفال حق اندائے عزیز خیر اس طرح پر شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے تفسیر فوز الکبیر میں کہاہے کہ اگر ابن کا لفظ بمعنی محبوب خداوند تعالیٰ کی طرف سے استعمال کیا جاوے تو اس میں کوئی تعجب نہیں۔

اور حضرت مسیح موعود نے اپنے الہامات کے متعلق اپنی کتاب (دافع البلاء ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷) میں صاف طور پر لکھا ہے کہ خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ کسی کی شان کے لائق ہے کہ وہ کہے کہ میں خدا یا خدا کا بیٹاہوں۔ مگر یہ الہام ازقبیل مشابہات ہے۔ میری طرف خداوندتعالیٰ کی جو وحی ہوئی، اس میں صاف تصریح ہے۔ ’’قل انما انا بشر مثلکم…‘‘ قرآن میکائیکل سے مراد حضرت مرزا صاحب نے یہ لی ہے کہ وہ آدم کی طرح ہیں اور خداکی مانند جو ترجمہ عبرانی زبان کے لحاظ سے کیاگیاہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ آپ خدا کے شریک بنتے ہیں۔ بلکہ آپ نے صاف تصریح کی ہے کہ جس طرح حدیث میں آتاہے کہ خداوندتعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا تو اس پیش گوئی سے جو دانیال نبی کی کتاب میں ہے۔ یہی مراد ہے کہ میں آدم کی طرح ہوں اور میکائیل جو فرشتہ ہے، اس کے متعلق بھی یہی ہے کہ خدا کی مانند۔ جیسا کہ ’’اقرب الموارد‘‘ میں لکھاہے: میکائیل اسم ملک ’’عبرانیۃ مقتم من مثل اﷲ کان اﷲ نزل من السماء‘‘ کے الہام سے مراد توجہ رحمت الٰہی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی آتاہے کہ خدا تعالیٰ رات کے تیسرے پہر آسمان سے اترتاہے۔

سید عبدالقادر جیلانی نے فتوح الغیب میں لکھاہے کہ خداتعالیٰ نے اپنی بعض کتب میں کہا کہ: ’’انا ﷲ… اقول کن فیکون‘‘ میں خداہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں ہوتووہ ہوجاتی ہے۔ تو میری اطاعت کر میں تجھے ایسا بنادوں گا۔ توکسی چیز کو کہے گا تو وہ ہوجائے گی اور خداتعالیٰ نے یہ معاملہ اپنے بہت سے انبیاء، اولیاء اور خواص عباد سے کیاہے۔ مرزا صاحب نے لکھاہے کہ انسان کو جب لقاالٰہی کا مرتبہ حاصل ہوجاتاہے تو اس وقت تموج کی حالت میں ایسی باتیں صادر ہوتی ہیں جو خارق عادت ہوتی ہیں۔

مرزا صاحب نے (اربعین نمبر۳ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳تا۴۲۵) پر ’’انت اسمی لاعلٰی‘‘ کی یہ تشریح لکھی ہے تو میرے اسم اعلیٰ کا مظہرہے اور تجھے غلبہ ملے گا۔ ’’اصلی واصوم اسھروا نوم‘‘ میں خدا کی طرف نسبت نہیں بلکہ مسیح موعود کی طرف ہے اور مرزاصاحب نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ خداتعالیٰ اونگھ اور نیند سے منزہ ہے۔ مرزا صاحب نے جو کشف میں لکھاہے کہ میں خداہوگیا۔ اس کی تعبیر خود آئینہ کمالات اسلام میں بتادی ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہم حلول کا اعتقاد رکھنے والوں کی طرح اعتقاد رکھتے ہیں یاوحدت

335

وجودیوں کا مذہب رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ واقعہ بخاری کی اس حدیث کے مطابق ہے جو قرب نوافل بخاری میں آئی ہے۔ …الخ! نیز کتاب ’’تعطیرالانام‘‘ میں یہ لکھاہے کہ: اگر کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ میں خداہوگیاہوں تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہوگا۔

مرزا صاحب کے قول کہ مجھے زندہ کرنے اور فنا کرنے کی صفت دی گئی ہے… کایہ مطلب ہے۔ جیسا کہ خود انہوں نے خطبہ الہامیہ میں بیان کیاہے کہ ’’بدیہی… حیات القلوب… لاحیاء‘‘ کہ میرے ہاتھ ایک ایسا حربہ ہے کہ جس کے ساتھ میں ظلم اور گناہوں کی عادتوں کو ہلاک کرتاہوں اور دوسرے ہاتھ میں ایسا پانی ہے جس کے ساتھ میں دلوں کی طرف زندگی لوٹاتاہوں۔

(ازالہ اوہام ص۴۸ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۲۶) پر رسول اﷲa کے جسم مبارک کو جو جسم کثیف بتلایاگیاہے، اس سے مراد جسم خاکی ہے۔ ’’یوم الآخر‘‘ کا معنی ہے پیچھے آنے والے دن کامطلب قیامت کا دن ہے۔ یعنی جو اس عالم کے بعد دوسرے عالم کا دور شروع ہوتاہے۔

مرزا صاحب نے (حقیقت الوحی ص۲۰۷، خزائن ج۲۲ ص۲۱۶) میں اس عبارت سے پہلے کہ خواجہ صاحب نے اپنی کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ میں مخالفوں کے حملہ کا جابجا جواب دیاہے۔ تصریح فرمادی ہے کہ اس کتاب میں خواجہ غلام فرید صاحب کے ملفوظات لکھے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی ان کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ میں نے جو پہلے یہ لکھوایا ہے کہ خواجہ محمد بخش صاحب نے ’’اشارات فریدی جلد سوم‘‘ کو سبقاً سبقاً سنا اور اس میں تصحیح فرمائی ہے۔ یہ مجھ سے سہواً بیان ہوا۔ حالانکہ یہ کتاب خود خواجہ غلام فرید صاحب نے سبقاً سبقاً سنی ہے۔ جس سے حضرت مرزاصاحب کے مسلمان ہونے پر شہادت پیش کی گئی ہے۔خواجہ غلام فرید صاحب نے مولوی رکن الدین صاحب کو اپنے خلفاء میں سے شمار کیاہے۔ جیسا کہ خود ’’اشارات فریدی‘‘ سے بھی ظاہر ہے اور ’’نکات فریدی‘‘ سے بھی، جو خواجہ محمد بخش صاحب کی تالیف ہے۔ جس کا حوالہ میں اپنے بیان میں دے چکاہوں۔

غیر مسلمان چونکہ ایک صوفی لفظ ہے۔ اس لئے معنی کے لحاظ سے ہم غیر احمدیوں کو مسلمان کہیں گے۔ مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ جو خواجہ غلام فرید صاحب کی گفتگو ہوئی، اس میں حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئیوںاور آپ کی صداقت پر بحث ہوئی ہے۔ مولویوں کے متعلق جو مرزاصاحب کے حوالے پیش کئے گئے ہیں کہ انہیں سور وغیرہ کہا۔ یہ ہر ایک مولوی کے متعلق نہیں بلکہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں تصریح کی ہے کہ شریف لوگ ہمارے ان الفاظ کے مخاطب نہیں ہیں۔ چنانچہ رسول اﷲa نے خود بھی ایسے مولویوں کے متعلق حدیث میں بندر اور سور کا لقب دیا ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایاہے کہ وہ آسمان کے نیچے سب سے بدتر مخلوق ہوںگے۔

(قصیدہ اعجازیہ ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰) میں جو یہ شعرہے کہ دوسروں کے پانی خشک ہوگئے۔ یہ ایساہی شعرہے جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی نے فرمایا: ’’افلت شموس……تغرب‘‘ مقامات امام ربانی ص۱۰۴ کہ پہلوں کے سورج جو تھے وہ غروب ہوگئے۔ لیکن ہمارا سورج ایسی بلندی کے افق پرہے جو کبھی غروب نہ ہوگا۔

مرزا صاحب کا یہ کشف کہ حضرت فاطمہt کی ران پر آپ نے سر رکھا ایسا ہی کشف ہے، جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی کے متعلق آپ کے مناقب میں آیاہے کہ آپ نے حضرت عائشہt کا دودھ چوسا۔ سن کر تسلیم کیا۔

۱۲؍مارچ۱۹۳۳ء، مطابق ۱۵؍ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ

دستخط جج صاحب

336

بیان غلام احمد صاحب گواہ عبدالرزاق مدعاعلیہ

۱۳؍لغایت ۱۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

غلام احمد جو جماعت مرزائیہ کے اعلیٰ مبلغ اور خاص کارکن تھے، مرزا قادیان کے معتمد خاص عبدالحق راجپوت کے فرزند تھے۔ اس نسبت سے بھی انہیں جماعت مذکورہ میں خاص مقام حاصل تھا۔ بطور گواہ مدعاعلیہ ان کا بیان۱۳؍لغایت ۱۶؍مارچ۱۹۳۳ء عدالت میں قلمبند ہوا۔ ازاں بعد شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفا صاحب نے دس یوم تک ایسی بصیرت افروز جرح فرمائی کہ غلام احمد کے بیان کے کاذب دلائل کو اظہر من الشمس کردیا۔ ادارہ!

۱۳؍مارچ۱۹۳۳ء

گواہ فریق ثانی

غلام احمد مجاہد ولد مولوی عبدالحق ذات کھچی راجپوت سکنہ حال قادیان عمر۳۴ سال۔

مدعاعلیہ عقائد اہل سنت والجماعت رکھتاہے اور پکا مسلمان ہے۔ یہ خود بھی اور اس کے متاع ومرشد حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تمام عقائدحقہ اہل سنت والجماعت کے قائل اور پابند ہیں اور ضروریات دین میں سے کسی ضرورت حقہ کے قطعاً منکر نہیں۔ نہ مدعاعلیہ اور نہ اس کے بزرگ امام ومقتدامرزا غلام احمد صاحب قادیان علیہ الصلوٰۃ والسلام شرع شریف کی رو سے جن باتوں کے ماننے اور کرنے سے ایک انسان یا مؤمن یا متقی کہلاتاہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ یہ سب باتیں مدعاعلیہ میں پائی جاتی ہیں۔

ازروئے قرآن شریف آیت:۱… ’’الذین یؤمنون بالغیب… مفلحون… الخ! (البقرۃ:۳تا۵)‘‘ یعنی وہ لوگ جو امور غیبیہ پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو چیزیں ہم نے ان کو دی ہیں ان میں سے وہ خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تیری طرف نازل کیاگیا اور اس پر جو اتاراگیا تم سے پہلے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی ہدایت پر ہیں۔ اپنے رب کی طرف سے اور ایسے لوگ ہی ہیں فلاح پانے والے۔

آیت:۲… ’’لیس البر… الخ! (البقرۃ:۱۸۹)‘‘ یعنی صرف یہی نیکی نہیں کہ تم منہ پھیرا کرو مشرق یا مغرب کو۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ جو ایمان لائے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر اور دے اپنا مال خدا کی محبت پرقریبیوں کو اور یتیموں کو اورمساکین کو اور مسافروں کو اور سائلین کو اور غلاموں کو چھڑانے میں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے اور پورا کرنے والے اپنے عہد پیمان کو جب وہ عہد کریں اور صبر کریں تکالیف اور شدائد میں اور لڑائی کے وقت ، ایسے ہی لوگ ہیں، جنہوں نے سچ کردکھایا اور ایسے ہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔ اس دوسری آیت نے پہلی آیت کی بعض باتوں کی تفصیل کردی۔ پہلی آیت میں ’’یؤمنون بالغیب‘‘ کہہ کر امور غیبیہ پر ایمان لانے کا ذکر تھا تو اس دوسری آیت میں وہ باتیں ظاہر کردیں۔ یعنی خداتعالیٰ، قیامت، فرشتے، وحی، کتابیںوغیرہ جو عام طور پر نظروں سے مخفی ہیں اور صرف دلائل سے ان کا علم ہوتاہے۔اسی طرح ’’مما رزقناھم‘‘ کی تفصیل بھی اس دوسری آیت نے کردی ہے کہ کن کن لوگوں کو اپنا مال دینا چاہئے۔

337

آیت:۳… ’’قل اٰمنا باﷲ… مسلمون (اٰل عمران:۸۴)‘‘ یعنی کہہ دو ہم ایمان لائے اﷲتعالیٰ پر اور اس چیز پر جو اتاری گئی ہم پر اور اس پر جواتاری گئی ہے ابراہیم واسماعیل واسحاق ویعقوبo اور ان کی اولاد پر اور جو دیاگیاہے موسیٰ وعیسیٰ ودیگر انبیاء کرامo کو اپنے رب کی طرف سے۔ اب ہم نہیں فرق کرتے ان میں سے کسی میں۔ بلحاظ ماننے کے اور ہم اس خداتعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ اس تیسری آیت میں اس ’’ماانزل من قبلک‘‘ کی تفصیل فرمادی تھی۔ یعنی ابراہیم اور اسماعیل واسحاق ویعقوب وموسیٰ وعیسیٰ ودیگر انبیاء کرامo کی طرف بھی جن کے نام بیان نہیںکئے گئے تھے۔ جواتاراگیا ایمان لانا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں کہ کوئی ایک بھی چھوڑا نہ جائے۔ ان تینوں آیات میں اسلام اورایمان کی دو قسم کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ بعض عقائد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور بعض اعمال کے ساتھ۔ خداتعالیٰ کو ماننا،فرشتوں کو ماننا، کتابوں کا ماننا، نبیوں کا ماننا، قیامت پر اعتقاد رکھنا، یہ تو عقائد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ مگر نماز ادا کرنا، زکوٰۃ دینا، عام طورپر ذی القربیٰ، یتامیٰ، مساکین ، ابن سبیل، سائلین وغیرہ کو حسب استطاعت دینا۔ مواثیق کی پابندی کرنا۔ تکالیف وشدائد میں صبرکرنا وغیرہ باتیں اعمال سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان چند باتوں کے علاوہ عمومی طور پر دیگر نیک باتوں اور نیک کاموں میں اطاعت کرنے کا ذکر’’ونحن لہ مسلمون‘‘ کا جملہ کہہ کر ظاہر کردیاگیاہے۔

آیت:۴… ’’انما المومنون…رزق ٌ کریم (انفال:۳،۴)‘‘ یعنی صرف مؤمن تو وہ ہیں کہ جب خداتعالیٰ کاذکر ہو، ان کے دل اس کے جلال سے کانپ اٹھیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاویں تو ان کا ایمان زیادہ ہو اور جو لوگ اپنے رب پر توکل کریں، وہ لوگ۔ جو نماز قائم کریں اور جو ہم نے ان کو دیا خرچ کریں۔ ایسے ہی لوگ مومن ہیں پکے۔ ان کو درجات ملیں گے ان کے رب کی طرف سے اور ان کی مغفرت ہوگی اورایسے لوگوںکو ہی رزق کریم عطاء ہوگا۔

آیت:۵… ’’التائبون العابدون… بشرالمومنین (توبہ:۱۱۲)‘‘ یعنی خدا کی طرف جھکنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کی ہدایت کرنے والے، بری باتوں سے روکنے والے، خداتعالیٰ کی حدود کی نگہداشت کرنے والے اور بشارت دو ایسے مومنوں کو۔ ان دونوں آیات میں امورذیل ایمان کی علامات قرار دئیے گئے ہیں۔ خداکے جلال سے ڈرنا۔ اس کی پاک آیات سے ایمان کا زیادہ ہونا۔ اس پر توکل کرنا، نماز قائم کرنا، خداتعالیٰ کا دیاہوا اس کی راہ میں خرچ کرنا، خدا کی طرف جھکنا، عبادت کرنا، حمد کرنا، روزہ رکھنا، عام اطاعت وخاص اطاعت کرنا،امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا، دیگر حدود شرعیہ کی نگہداشت کرنا۔ ان پانچوں آیات میں بیان شدہ تمام باتیں اپنی تمام شروط کے ساتھ حسب استطاعت وطاقت مدعاعلیہ اور اس کے بزرگ مقتداء میں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مدعاعلیہ ودیگر جماعت احمدیہ بلحاظ علامات مذکورہ خدا کے فضل وکرم سے ’’اولٰئک ھم المومنون حقاً‘‘ کے مصداق ہیں، یعنی پکے مسلمان اور مومن ہیں۔

از روئے حدیث:۱… صحیح بخاری شریف ج۲ ص۱۲، صحیح مسلم شریف ایک لمبی حدیث حضرت عمرq سے مروی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ حضرت جبرئیلm آنحضرت سرورکائناتa کی مجلس میں آئے اور حضرت نبی کریمa سے چند سوالات کئے، تاکہ صحابہ کرامi اور امت محمدیہ کو ان باتوں کا علم ہوجائے۔ ان میں سے اسلام اور ایمان کی تعریف بھی تھی۔ انہوں نے کہا: ’’ما الاسلام۔ قال الاسلام ان تشھد لاالہ الا اﷲ وان محمد رسول اﷲ…الخ! (مشکوٰۃ کتاب الایمان فصل اوّل ص۱۱)‘‘ یعنی اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ کوئی معبود نہیں سوائے خداتعالیٰ کے اور محمدa اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں اور تو نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے اور روزے رکھے رمضان کے اور حج کرے بیت اﷲ کا، اگر تجھے اس کے راستہ کی طاقت ہو۔ گویا آنحضرت سرور کائناتa کی فرمودہ تعریف کی

338

روسے مسلمان وہ ہے جو یہ باتیں بجالائے۔

حدیث:۲… حضرت جبرئیل نے دوسرا سوال ایمان کے متعلق کیاکہ ایمان کیاچیز ہے تو حضرت نبی کریمa نے فرمایا کہ: ’’ان تؤمن باﷲ… شرہ‘‘ یعنی کہ تو ایمان لائے اﷲتعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت پر اور توایمان لائے قدر پر اس کی خیروشرپر۔ گویا حضور سرورکائناتa کے فرمودہ کے مطابق مؤمن کی یہ تعریف ہے جو مذکورہ بالا باتوں پر ایمان لائے اور ان کا اقرارکرلے۔

حدیث:۳… ’’بنی الاسلام… صوم رمضان (مشکوٰۃ ص۱۲)‘‘ یعنی حضرت ابن عمرq سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خداa نے کہ اسلام کی بنیاد ان پانچ باتوں پر ہے۔ کلمہ شہادت کہنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔ یعنی جس کے اندر یہ پانچ باتیں پائی جاویں وہ مسلمان ہوگا۔ خدا کے فضل وکرم سے حضرت اقدس مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے وابستگان دین میں یہ تمام باتیں انہی شروط کے ساتھ پائی جاتیں ہیں۔ پس مدعاعلیہ اور اس کے ہم خیال احمدی لوگ مسلمان ہیں۔

حدیث:۴… ’’من صلی صلوتنا… فی وقتہ (مشکوٰۃ بحوالہ بخاری)‘‘ یعنی حضرت انسq سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اﷲa نے کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی۔ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا۔ ہمارا ذبیحہ کھایا۔ وہ شخص ضرور مسلمان ہے جس کو خداتعالیٰ اور اس کے رسول کی ذمہ داری حاصل ہے۔ پس خداوندتعالیٰ کی ذمہ داری کو نہ توڑو۔ یہ سب باتیں ہی بفضل تعالیٰ احمدی جماعت میں پائی جاتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کا کوئی دوست احمدی ہے، وہ جانتاہے کہ احمدی لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں، جس طرح حکم ہوا اور قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور مسلمان کا ذبیحہ کھاتے ہیں۔ پس جو شخص احمدیوں کو مسلمان نہیں کہتا، وہ خداتعالیٰ کے اس ذمہ داری کو توڑتاہے، جس کے توڑنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ فقہ حنفیہ کی رو سے، شرح فقہ اکبر میں حضرت امام اعظم فرماتے ہیں: ’’اصل التوحید… کلمہ (شرح فقہ اکبر مصری ص۱۰تا۱۲)‘‘ یعنی توحید کی جڑ اور وہ چیز جس کی وجہ سے ایک مسلمان کا اعتقاد صحیح ہوگا۔ یہ ہے ایک مکلف۔ بالغ یہ کہے: ’’آمنت باﷲ… الخ!‘‘ یعنی میں ایمان لایا اﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر اور موت کے بعد اٹھنے پر اور قضاوقدر پر۔ یعنی اس کے خیروشرپر جو اﷲتعالیٰ سے ہے اور وہ اقرار کرے کہ حساب کتاب اور میزان اعمال اور جنت وجہنم سب حق ہے۔ اس کتاب کی دوسری شرح مطبوعہ دائرۃ المعارف جوامام ابو منصور محمد ابن محمد صفی سمر قندی کی تصنیف ہے… کے (ص۳۴) پر لکھاہے: ’’فمن اراد ان یکون… محرمات‘‘ کہ جو شخص یہ چاہے کہ حضرت محمدمصطفیa کی امت میں سے ہو تو وہ زبان سے ’’لآالٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کہے اور دل سے اس کے مطالب کی تصدیق کرے۔ پس وہ شخص یقینی طور پر مؤمن ہے۔ اگرچہ فرائض اور محرمات سے بے خبرہو۔

حضرت مسیح موعود کی تصریحات

قرآن شریف کی بیان کردہ علامات ایمان واسلام اور احادیث نبویہ کی رو سے علامات ایمان واسلام اور فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب فقہ اکبر کی روسے، موجبات ایمان واسلام یہ سب جو بیان ہوچکی ہیں۔ بفضل تعالیٰ جماعت احمدیہ میں موجود ہیں اور احمدی لوگ ان پر عامل ہیں۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب قادیان مسیح موعود فرماتے ہیں:

۱… ’’اٰمنت باﷲ… شاہدین‘‘ اس میری تحریر پر ایک شخص گواہ ہے۔ … درج ہیں۔

(ملاحظہ ہوتبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج اوّل ص۲۳۱ مؤرخہ ۲؍اکتوبر۱۸۹۱ء)

339

۲… اے بزرگو! اے مولویو! ’’… ترجعون‘‘

(ازالہ اوہام شروع ص۲، خزائن ج۳ ص۱۰۲، مطبوعہ سال۱۸۹۱ء)

۳… اور خداتعالیٰ جانتاہے… نماز پڑھتاہوں۔

(آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳، مطبوعہ۸؍دسمبر ۱۸۹۱ء)

۴… ’’تومن باﷲ… مسلمین‘‘ (نورالحق ص۵، خزائن ج۸ ص۷) اس کا ترجمہ اس کے نیچے دیا ہواہے۔

۵… ہم وہ لوگ ہیں جن کا مقولہ ہے۔ ’’لاالٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ۔ اٰمنا باﷲ… رب العالمین‘‘ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم ایمان لاتے ہیں اﷲتعالیٰ پراور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور جنت ونار پراور حشرونشر پر اور ہم قرآن کو ترجیح دیتے ہیں شرع کی کتاب کے لحاظ سے اور محمد مصطفیa کو نبی ہونے کے لحاظ سے اور نہیں ہم دعویٰ کرتے شرعی نبوت کا اور ہم نہیں دعویٰ کرتے قرآن کے منسوخ ہونے کا محمد مصطفیa کے بعد۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہیں اور تمام رسولوں سے بہتر اور افضل ہیں اور گناہ گاروں کے شفیع ہیں۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ ہر ایک قسم کی سچائی قرآن پاک میں ہے اور نبی کریمa کی حدیث میں بھی اور ہر ایک قسم کی بدعت جہنم میں پہنچاتی ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور اﷲجانتاہے جو ہمارے دلوں میں ہے۔ اس پر ہمارا توکل ہے اور اس کی طرف میری انابت ہے۔ سب تعریف ہے اﷲ کے لئے۔ اوّل اور آخر میں، ظاہر وباطن میں، وہ رب ہے ہمارا اور تمام جہانوں کا۔ یہ کتاب انوار اسلام مطبوعہ سال ۱۸۹۵ء ہے اور اس کے (ص۳۴، خزائن ج۹ ص۳۵،۳۶) پر مذکورہ بالا عبارت ہے۔

  1. ۶… مامسلمانیم از فضل خدا

    مصطفی مارا امام ومقتدا

  2. اندرین دین آمدہ از مادریم

    ہم بریں از دار دنیا بگذریم

(ضمیمہ سراج منیر ص ح، خزائن ج۱۲ ص۹۵، مطبوعہ سال ۱۸۹۷ء)

۷… بالآخر یاد رہے… ہمارا عقیدہ ہے۔

(ایام الصلح ص۸۶، خزائن ج۱۴ ص۳۲۲،۳۲۳، مطبوعہ ۱۸۹۹ء)

۸… پھر کشتی نوح میں جماعت کو جو کئی صفحات پر نصیحت فرمائی ہے، اس میں فرماتے ہیں: پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں… نہ کہ اس کا بیٹا۔ (ملاحظہ ہو ص۱۰، خزائن ج۱۹ ص۱۰) پھر اس کتاب میں فرماتے ہیں کہ پھر تمہارے لئے ایک ضروری… کوئی اور کتاب (ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳) پھر اس کتاب کے (ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۵) پر فرماتے ہیں: سو اے وے تمام لوگو… حج کرے۔

(کشتی نوح مطبوعہ سال ۱۹۰۲ء ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۵)

۹… پھر فرماتے ہیں: ’’التعلیم للجماعت… فی النار‘‘ (مواہب الرحمن ص۹۶، ۹۷، خزائن ج۱۹ ص۳۱۵، مطبوعہ سال ۱۹۰۳ء) اس کا ترجمہ فارسی میں اس کے نیچے دیاہواہے۔ قرآن کریم اور احادیث اور فقہ حنفیہ کی رو سے جن باتوں کی بناء پر کسی کو مسلمان یا مؤمن کہاجاتاہے، ان سب باتوں کے متعلق حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمودہ نہایت واضح اور صاف عبارتوں کی رو سے میں نے ثابت کردیاہے کہ جماعت احمدیہ بفضلہ تعالیٰ مسلمان اور مؤمن ہے۔

یہ پہلا ثبوت جو دراصل کئی ثبوتوں کا مجموعہ ہے۔ بیان کرنے کے بعد میں دوسرا ثبوت حضرت مرزا صاحب قادیانی، مسیح موعود ومہدی موعود اور ان کی جماعت کے مسلمان اورمؤمن ہونے کا پیش کرتاہوں اور وہ آپ کے معاصرین میں سے ایک شہرۂ آفاق، صاحب علم وفضل وتقدس بزرگ کی شہادت ہے۔ یہ شہادت جس کا میں نے ذکرکیاہے، ہزار شہادتوں سے بھی زیادہ باعظمت شہادت ہے۔ کیونکہ یہ اس مرد خدا نے اداکی ہے، جو صلحا ء روزگار واصلان کردگار میں سے ہے۔ پنجاب کے علاوہ اس کی جلالت شان ہندوستان میں بھی مسلّم ہے۔ ریاست بہاول پور کی رعایا اور راعی سب کے دلوں میں اس کی بزرگی اورتقدس کا اثر نقش فی الحجر ہے اور جو ہزہائینس نواب صاحب

340

بہادر ریاست بہاول پور اورآنحضور کے بزرگان کے بھی واجب التعظیم مقتداء ہیں۔ میری مراد اس بزرگ مقدس انسان، حضرت خواجہ غلام فرید قدس سرہ کی ذات والاصفات سے ہے۔ آنجناب حضرت مرزا صاحب کی شان میں فرماتے ہیں:

ہمہ اوقات مرزا صاحب… واز عقائد اہل سنت والجماعت وضروریات دین ہرگز منکرنیست۔ (اشارات فریدی ج۳ ص۷۰) اگرچہ کلام اپنے زبردست اور جامع الفاظ سے خود کامل ثبوت ہے۔ اس امر کا کہ پوری تحقیق کے بعد بڑے وثوق اور یقین سے فرمایاگیاہے اور یہ امر خاص قابل توجہ ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چند اور بھی نہایت قوی دلائل ایسے موجود ہیں، جن سے اس کا نہایت باعظمت اور قابل توجہ ہونا ثابت ہوتاہے۔ مثلاً:

دلیل اوّل یہ ہے کہ اس کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ کے حصہ سوم سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت اقدس مرزا صاحب علیہ السلام نے اپنے دعویٰ کی صداقت پر کامل یقین ہونے کی وجہ سے جہاں علماء، فضلاء اور سجادہ نشین اصحاب کو مباہلہ کا پیغام دیا کہ احقاق حق اور ابطال باطل ہو، وہاں حضرت خواجہ صاحب کو بھی دیاہے کہ یا تو حضرت خواجہ صاحب تصدیق فرمادیں یا وہ مقابلہ میں آویں، مگر چونکہ حضرت خواجہ صاحب نیک دل برگزیدہ اور محتاط انسان تھے۔ اس لئے انہوں نے اس مباہلہ کے چیلنج کا جواب سرسری طور پر دینا پسند نہیں کیا، بلکہ پورے غور وفکر کے بعد اپنی معرفت خاصہ کی وجہ سے بذریعہ خط یہ دیا۔

من فقیر باب اﷲ غلام فرید سجادہ نشین مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم… برسبیل جواب‘‘

(اشارات فریدی حصہ سوم ص۴۳)

خواجہ صاحب کے اس خط سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ (۱)آپ علم عربی میں ایک فاضل بزرگ ہیں۔ (۲)آپ نے یونہی جواب نہیں دیا۔ بلکہ حضرت مرزا صاحب کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد دیاہے۔ (۳)اس خط میں اقرار موجودہے کہ میں شروع حال سے ہی آپ کے مقام تعظیم پر کھڑاہوں اور میری زبان سے آپ (حضرت مرزا صاحب) کے حق میں تعظیم وتکریم ورعایت آداب کے بغیر کبھی کوئی کلمہ نہیں نکلا ہے۔ میں آپ کے صلاح حال کا معترف اور مستفیض ہوں کہ آپ عباداﷲ الصالحین میں سے ہیں۔ (۴)آپ نے حضرت مرزا صاحب سے اپنی عافیت بالخیر کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔

یہ چاروں باتیں جو اس خط سے ظاہر ہیں، خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہیں۔ ایک جامع علوم ظاہری وباطنی مرد خدا نے مباہلہ کا پیغام پاکر اس کا جواب دیاہے اور سرسری طور پر نہیں بلکہ غوروخوض کے ساتھ۔ وہ کتاب پڑھنے کے بعددیاہے جس میں مباہلہ کا پیغام درج ہے اور ایسے الفاظ میں دیا ہے کہ جب تک واقعی حقیقت منکشف نہ ہوجائے، ایسے الفاظ میں جواب نہیں دیا جاسکتا۔ اس جواب میں نہ صرف یہ اقرار ہے کہ میں ابتداء سے آپ کی تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑاہوں۔ جس سے یہ بھی ظاہر ہورہاہے کہ آپ کو حضرت کے حالات کا پہلے سے علم ہے۔ بلکہ نہایت صفائی کے ساتھ پہلے لفظوں میں یہ بھی موجود ہے کہ میں آپ کی تعظیم کے لئے بغرض حصول ثواب کھڑاہوں۔

آخر میں حضرت خواجہ صاحب نے بات اپنی انتہائی حد تک پہنچادی ہے اور حضرت مرزا صاحب پر اﷲتعالیٰ کے فضل کا اظہار فرماکر یہ آرزو کی ہے کہ حضرت اقدس آپ کے لئے عافیت بالخیر کی دعاکریں۔ عافیت بالخیر ہونے کی دعا کے لئے حضرت خواجہ صاحب جیسا روشن ضمیر اور مقدس انسان جس درجہ اور مرتبہ کے انسان سے کہے گا وہ ظاہر ہے۔

اس خط کو حضرت مرزا صاحب نے سال۱۸۹۷۔ میں (ضمیمہ انجام آتھم ص۳۹، خزائن ج۱۱ ص۳۲۳، ضمیمہ سراج منیر ص الف، ب، خزائن ج۱۲ ص۸۸،۸۹) میں ہزاروں کی تعداد میں شائع کردیاہے۔ اس وقت حضرت خواجہ صاحب بقید حیات تھے۔ اس کے بعد مزید خط وکتابت

341

بھی جاری رہی ہے جو حضرت صاحب کی طر ف سے بھی شائع ہوتی رہی ہے۔ اس لئے یہ شہادت صرف اشارات کے حوالہ سے نہیں۔ بلکہ دوسری اشاعتوں کے لحاظ سے بھی قابل غور ہے۔

دوسری دلیل اس امر کی حضرت خواجہ صاحب کی شہادت خاص طور پر توجہ کے قابل ہے کہ آنجناب کو حضرت مرزا صاحب کے متعلق اپنی وہ رائے ظاہر فرمانے سے پہلے حضرت مرزا صاحب کے الہامات کا بخوبی علم ہوچکا ہے۔ جیسا کہ آنجناب کے اس ارشاد یعنی بیان سے ظاہر ہے۔ ’’مرزا صاحب مرد نیکو صالح است۔ ونزد من کتابے از ملہمات خود فرستادہ است کمال اوازاں کتاب ظاہر است۔‘‘

(اشارات فریدی ج سوم ص۴۲)

پس ثابت ہوا کہ حضرت خواجہ صاحب نے جو رائے دی ہے وہ پوری واقفیت کے بعد دی ہے۔

تیسری دلیل اس امر کی کہ شہادت مذکورہ خاص توجہ کے لائق ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے مریدان باصفا میں سے خواص الخاص مرید مولانا مولوی حاجی نور الدین صاحب حکیم جو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں خلیفہ اوّل ہوئے ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب سے ملے اور حضرت مرزا صاحب کے متعلق گفتگو ہوئی۔ جس میں پیش گوئیوں اور دعویٰ ومعیار ہائے صداقت کا ذکر آیا۔ بالخصوص آتھم والی پیش گوئی کے متعلق سوال وجواب ہوا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب کو حضرت مرزاصاحب کی کتابوں اور پیش گوئیوں کا گہرا مطالعہ تھا۔

(ملاحظہ ہو اشارات فریدی ص۴۳،۴۴)

چوتھی دلیل اس شہادت کے اندر ہے کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کی عربی کتابوں کا مطالعہ اور ان پر گہرا غور وخوض کرنے کے بعد اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں:

  1. کلام عربی او ببینید کہ از طاقت بشریہ خارج است

    و تمام کلام او مملواز معارف و حقائق وہدایت است

(اشارات فریدی صفحہ ۷۰ جلد سوم)

پانچویں دلیل یہ شہادت خود اس امر کی حیثیت ہے کہ مولویوں کی مخالفت بلکہ مولویوں کے فتویٰ کفر کا بھی حضرت خواجہ صاحب کو علم تھا۔ کیونکہ فرماتے ہیں: علماء وقت رابہ بینید دیگر گروہ مذاہب باطلہ را گذاشتید صرف در پئے ایں چنیں نیک مرد کہ اہل سنت والجماعت است وبرصراط مستقیم است… وبروئے حکم تکفیر مے سازند۔ جب حضرت خواجہ صاحب اپنی کلام میں اقرار فرماتے ہیں کہ علماء وقت خواہ مخواہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی تکفیر کررہے ہیں تواس سے ثابت ہے کہ آپ کو علماء کے فتاویٰ کفر کے ساتھ ان امور کا بھی علم تھا، جس کی بناء پر علماء نے تکفیر کی ہے۔ ورنہ بغیر اس کے حضرت خواجہ صاحب جیسا محتاط انسان علماء کے فتوئوں کو نادرست کس طرح قراردے سکتاتھا۔ آنجناب کا حضرت مرزا صاحب کو تعریف وتوصیف کے ساتھ یاد کرنا اور اہل سنت والجماعت میں سے کہنا۔ پھر علماء کا شکوہ کرنا کہ گروہ مذاہب باطلہ کو چھوڑ کر مرزاصاحب جیسے نیک مرد کے درپئے ہو گئے ہیں۔ اس امر کاکامل ثبوت ہے کہ خواجہ صاحب بزرگ حضرت مرزا صاحب کے حالات وخیالات سے بھی اچھی طرح واقف تھے اور علماء کی تکفیر ووجوہ تکفیر سے بھی۔ نیز حضرت مرزا صاحب کے متعلق حضرت خواجہ صاحب کے اس ارشاد سے کہ: از عقائد اہل سنت والجماعت وضروریات دینی ہر گز منکرنیست… یہ ثابت ہوتاہے کہ علماء نے مرزا صاحب کوعقائد اہل سنت والجماعت اور ضروریات دینی کا منکر قراردیاہے۔خواجہ صاحب اس سے واقف ہیں۔ مگر اس میں علماء کو برحق نہیں سمجھتے اور ان کے قول وفتویٰ کو رد کرنے کی خاطر فرماتے ہیں کہ: از عقائد اہل سنت والجماعت وضروریات دینی ہر گز منکر نیست… اگر اس فقرہ سے علماء کے فتویٰ تکفیر کی تردید مقصود نہ ہو تو یہ فقرہ ہی بے محل ٹھہرتاہے۔

342

ایک نہایت ضروری بات۔ اس موقعہ پر یہ شبہ ہوسکتاہے کہ اگرچہ یہ شہادت توفی الحقیقت نہایت وقیع ہے۔ لیکن جن بزرگ کی طرف منسوب کی جاتی ہے، کیا ثبوت ہے کہ واقعی اس کی ہے بھی یا نہیں۔ اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ اشارات فریدی جس میں یہ شہادت درج ہے، مقدمہ زیر تجویز کے دائر ہونے سے سال ہائے سال پہلے طبع ہوکر شائع ہوچکی ہے۔چونکہ ریاست اور اس کے ارد گرد میں حضرت خواجہ صاحب کے معتقد و مرید بکثرت موجود ہیں۔ اس لئے گھرگھر میں کتاب کا موجود ہونا یقینی ہے۔ لیکن نہ بیرون ریاست سے اس شہادت کے خلاف کوئی صدا بلند ہوئی اور نہ اندرون ریاست سے۔ اگرخدانخواستہ اس شہادت کے متعلق کچھ گنجائش کلام ہوتی تو حضرت خواجہ صاحب کے معتقدوں، مریدوں کا جن میںمعمولی درجہ سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ تک کے طبقہ کے اصحاب شامل ہیں۔ اپنے بزرگ مقتدا کے ملفوظات کی کتاب میں یہ شہادت درج پاکر کوئی لفظ مخالف زبان پر نہ لا نا ثبوت کامل ہے۔ اس امر کا کہ چھوٹے بڑے دونوں طبقوں کے لوگوں کو اس شہادت کے یقین کرنے میں ذرابھی شک نہیں ہوا اور وہ پورے اطمینان سے اس کو خواجہ صاحب کی شہادت سمجھ رہے ہیں۔ دوسری بات اس شہادت کے واقعی حضرت خواجہ صاحب کی ہی شہادت ہونے کے متعلق یہ ہے کہ کتاب اشارات فریدی، جس میں یہ شہاد ت درج ہے۔ آپ سے تعلق نارکھنے والے یا کسی بیرون انسان کی قلمبند کی ہوئی نہیں بلکہ آپ حضرت خواجہ صاحب کے ایک مرید بااختصاص نے نو برس تک آپ کی خدمت میں حاضر رہ کر آپ کی زبان فیض ترجمان سے جو کچھ سناہے، وہ تحریرمیں لاکر تیار کی ہے اور وہ تیار کرنے والے بھی کوئی معمولی انسان نہیں۔ وہ شخص ہیں جن کے حق میں حضرت خواجہ صاحب کے فرزند وجانشین خواجہ محمد بخش صاحب نے برادر دینی، مولانا رکن الدین کے تعظیمی الفاظ لکھے ہیں۔

تیسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہ کتاب بے تعلق یا غیر معروف لوگوں میں کسی کے انتظام سے طبع نہیں ہوئی، بلکہ اس کو طبع اور شائع کرنے والے۔ خود خواجہ صاحب کے فرزند وجانشین حضرت خواجہ محمد بخش صاحب ہیں۔ چنانچہ وہ اس کتاب کے اخیر میں تحریر فرماتے ہیں:

فقیر محمد بخش اما بعد میگوید… طبع کتاب بندم فقیر محمد بخش۔

اس تقریظ سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

۱… یہ کہ مولانارکن الدین صاحب نے متواتر ۹سال تک حضرت خواجہ صاحب مرحوم کی خدمت میں رہ کر آنجناب کے ملفوظات مرتب کئے تھے۔

۲… یہ سب ملفوظات ایک کتاب اور ایک نسخہ کی صورت میں تھے۔

۳… خواجہ محمد بخش صاحب جانشین حضرت خواجہ صاحب نے آنجناب کے مریدان باصفا کی خواہش و اشتیاق کی بناء پر کتاب شائع کی۔

چھٹی دلیل: اس امر کی یہ شہادت خاص قابل توجہ یہ کہ خود حضرت خواجہ صاحب مرحوم نے بھی اپنی اس تحریر کردہ شہادت کی تصدیق فرمادی ہے۔ چنانچہ اس کتاب جلد ثالث کے اخیر کی اس عبارت سے ثابت ہے۔ وایں جلد سوم ازاوّل تا آخر… تحقیق تمام نمودہ اند۔ (فقط ص۱۸۷) اس عبارت سے یہ باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ اوّل: یہ کہ یہ جلد سوم بھی حضرت خواجہ صاحب مرحوم کی بابرکت زندگی میں لکھی گئی ہے۔ دوم: یہ کتاب جلد سوم از اوّل تااخیرخواجہ صاحب مرحوم مغفور کی خدمت مبارک میں سبقاً سبقاً پڑھ کر سنائی گئی ہے۔ سوم: یہ کتاب حضرت خواجہ صاحب مرحوم نے بکمال توجہ سے سنی ہے اور اس کی تصحیح واصلاح اور تحقیق تمام فرمائی ہے۔

ساتویں دلیل: اس امر کی کہ اشارات فریدی میں طبع شدہ شہادت واقعی حضرت خواجہ صاحب کی ہے۔ خارجی شہادات میں یعنی ان کے خطوط کی بناء پر حضرت مرزا صاحب کا ان کے نہ صرف خط میں شائع کرنا۔ بلکہ ان کی عقیدت وارادت کو ان کی زندگی میں شائع کرلینا

343

اور ہزاروں کی تعداد میں حضرت مرزا صاحب کی ان کتابوں کا دنیا میں پھیل جانا۔ مگر اس کے خلاف نہ خواجہ صاحب کا خود انکار کرنا اور نہ ان کے جانشین خواجہ محمد بخش صاحب کا انکار ثابت ہونا۔ پھر حضرت خواجہ صاحب کی تصدیق وارادت کے بعدحضرت مرزا صاحب کا ایک نظم لکھنا وہ بھی خواجہ صاحب کی زندگی کا واقعہ ہے۔ وہ نظم اشارات میںبھی درج ہے اور حضرت مرزا صاحب کی کتابوں میں بھی۔

مثلاً (ضمیمہ سراج منیرص د، خزائن ج۱۲ ص۹۰،۹۱، درثمین ص لا، مطبوعہ سال ۱۸۹۷ء، اشارات فریدی حصہ سوم ص۹۰، پھر حقیقت الوحی ص۲۰۷، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵،۲۱۶)پر حضرت خواجہ صاحب کے متعلق مرزاصاحب نے پوری تفصیل سے ارقام فرمایا۔ مگر آج تک کسی شخص نے بھی ان سب امور کے باربار شائع ہونے اور ہزار ہاکی تعداد میں شائع ہوجانے کے باوجود ذرا بھر انکار نہیں کیا تو اب اتنے سالوں کے بعد اس شہادت میں کیا شک و شبہ ہوسکتاہے۔ میں ان عبارتوں میں سے چند فقرات پیش کرتاہوں جو مرزا صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔

اوّل… بالاخیر ہم اس جگہ نقل خط میاں غلام فرید صاحب پیر نواب بہاول پور جو ایک صالح اور متقی مرد مشائخ پنجاب میں سے ہیں۔ اس غرض سے درج کرتے ہیں تاکہ دوسرے مشائخ مدعین بھی کم سے کم ان کے نمونہ پر چلیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۶، خزائن ج۱۱ ص۳۲۰، مؤرخہ ۲۲؍جنوری۱۸۹۷ء)

دوسراحوالہ یہ ہے۔ مگر خدا کی شان ہے کہ ان ہزاروں میںسے یہ میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والوں نے پرہیز گاری کا نمونہ دکھلایا۔ ’’وذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشآء‘‘ خداان کو اجر بخشے اور عاقبت بالخیر کرے۔ آمین! ’’اب جب تک یہ تحریریں دنیا میں رہیں گی، میاں صاحب موصوف کا ذکر بالخیر بھی اس کے ساتھ دنیا میں کیا جائے گا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۸، خزائن ج۱۱ ص۳۲۲)

تیسرا نظم کے چند اشعار ہیں:

  1. اے فرید وقت در صدق و صفا

    باتو بادآں روکہ نام او خدا

  2. برتو بارد رحمت یار ازل

    در تو تابد نور دل دار ازل

  3. از تو جان من خوش است اے خوش خصال

    وید مست مردے دریں قحط الرجال از کوے تو

(اشارات فریدی ج سوم ص۹۰، ضمیمہ رسالہ سراج منیر ص و، خزائن ج۱۲ ص۹۴)

یہ نظم خواجہ صاحب کے دوسرے خط کے جواب میں ہے جو ایک لمبے خط کے ساتھ منسلک کر کے حضرت مرزا صاحب نے بھیجی تھی اور خود بھی ہزاروں کی تعداد میں ۱۸۹۷ء میں شائع کردی۔ یعنی حضرت خواجہ صاحب کی وفات سے تقریباً تین سال پہلے۔ (حقیقت الوحی ص۲۰۶، ۲۰۷، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵،۲۱۶)پر ہے: انیسواں نشان یہ ہے… ساقط ہوگئے… مصدق ہونے کی حالت میں ہوا… معرفت بخش دی تھی۔

ان ملفوظات کے لکھنے والے مولانا رکن الدین ہیں، جن کو خواجہ محمد بخش صاحب برادردینی کے خوش لقب سے یاد فرماتے ہیں اور (اشارات فریدی حصہ دوم ص۱۳۵،۱۳۶) پر حضرت خواجہ صاحب کے خلفاء کے ناموں میں ان کا نام بھی درج ہے۔ لیکن مولانا رکن الدین صاحب بھی حضرت خواجہ صاحب کے خلیفہ تھے۔ ایسی شخصیت پر لب کشائی کرنا درحقیقت حضرت خواجہ صاحب کی مقدس شخصیت پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ علامہ وحید حضرت خواجہ غلام فرید کی یہ شہادت نہایت ہی تسلی بخش اور قوی شہادت ہے۔ اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ قرآن شریف اوراحادیث نبویہ اور فقہ حنفیہ کی رو سے کسی کو مسلمان یا مؤمن کہنے کے لئے جن باتوں کے اقرار کی

344

ضرورت ہے، میں نے ان تمام باتوں کا اقرار حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی تحریرات سے ثابت کردیاہے۔ پھر ایک مقدس وجود کی شہادت سے بھی۔

اس کے بعد اب میں وجوہ تکفیر کو ایک ایک کر کے رد کرنا چاہتاہوں، جو غلط طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ حضرت مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے متعلق جو وجوہ تکفیر بیان کی جاتی ہیں وہ سات ہیں:

۱… انکار ختم نبوت۔ ۲… دعویٰ نبوت تشریعہ۔ ۳… دعویٰ نبوت مطلقہ۔

۴… دعویٰ وحی۔ ۵… انکار نفخ صوروحشراجساد وقیامت۔ ۶… توہین انبیاءؑ۔

۷… توہین امت محمدیہ۔

پہلی وجہ تکفیر کی تردید:

پہلی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ مرزا صاحب اور ان کے معتقدین ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور ختم نبوت چونکہ ضروریات دین میں سے ہے۔ ضروریات دین میں سے کسی ایک ضرورت کا انکار بھی کفر ہوتاہے۔ اس لئے مرزا صاحب اور ان کے مرید ایک ضرورت دینی کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہوئے۔ اس وجہ تکفیر کے متعلق مجھے جو کچھ بیان کرنا ہے، وہ میں کئی عنوان کے تحت بیان کرتاہوں:

کیاحضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کو سید الانبیاء حضرت نبی کریمa کے

خاتم النّبیین ہونے سے انکار ہے؟

ختم نبوت کے الفاط کو مخالفین عام طور پر بولتے ہیں۔ اس سے وہ خاتم النّبیین کے الفاظ مراد لیتے ہیں اور ختم نبوت کے انکار سے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا انکار اور اس طرح وہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کو حضورانورa کے خاتم النّبیین ہونے کا منکر قراردیتے ہیں۔

حالانکہ یہ بالکل ہی لغو مغالطہ در مغالطہ ہے۔کیونکہ نہ تو ختم النبوت اور خاتم النّبیین مترادف ہے کہ ختم النّبوت کے انکار سے خاتم النّبیین کا انکار لازم آئے اور نہ ان معنوں میں حضرت مرزا صاحب کوختم النّبوت کا انکارہے جن معنوں میں کہ مخالفین آپ کی طرف انکار منسوب کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی شان اعلیٰ میں خاتم النّبیین کے الفاظ کسی انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہیں۔ جن میں گنجائش کلام ہوبلکہ قرآن شریف میں وارد ہیں۔جو لاریب خداتعالیٰ کاکلام ہے۔ اس لئے اس سے کوئی معمولی انسان بھی انکار نہیں کرسکتاکہ رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں اور مرزاصاحب کے متعلق یہ کہتا کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے انکار کیاہے۔ یہ ایک ایسا اتہام ہے کہ جس کی ذرہ بھی اصلیت نہیں۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب کی کتب اس اقرار سے بھری پڑی ہیں۔ میں ان سے چند حوالہ جات لکھاتاہوں۔ (ازالہ اوہام مطبوعہ سال ۱۸۹۱ء ج اوّل ص۱۳۷، خزائن ج۳ ص۱۶۹،۱۷۰) پر ایک جلی قلم سے ہمارا مذہب کے عنوان میںفرماتے ہیں ؎

  1. از عشاق فرمان پیغمبریم

    بدیں آمدیم و بدیں بگزریم

ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے… پہنچ سکتاہے۔

دوسرا حوالہ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص ایضاً، مطبوعہ ۱۸۹۳ء) ’’ونعتقد… خلا‘‘ یعنی ہمارا اعتقاد ہے کہ ہمارے رسول تمام رسولوں سے بہتر اور سب رسولوں سے افضل ہیں اور خاتم النّبیین ہیں اور افضل ہیں تمام انسانوں سے جو پہلے آئے یا آئندہ آئیں گے۔

345

تیسرا حوالہ (کرامات الصادقین ص۲۵، خزائن ج۷ ص۶۷، مطبوعہ سال۱۸۹۳ء) ’’بالآخر… برخلا ف نہیں۔‘‘

چوتھا حوالہ (انجام آتھم حاشیہ ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷، مطبوعہ سال ۱۸۹۷ء) اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رئوس الاشہاد گواہی دیتاہوں، یہی ہے کہ ہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں۔

پانچواں حوالہ(ایام الصلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳ مطبوعہ سال ۱۸۹۹ء) ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں… خاتم الانبیاء ہیں۔

چھٹا حوالہ (ایک غلطی کا ازالہ مطبوعہ سال ۱۹۰۱ء بحوالہ حقیقت النبوۃ ص۳۶۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۳) اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل… خاتم النّبیین۔

ساتواں حوالہ (مواہب الرحمن ص۶۶، خزائن ج۱۹ ص۳۸۵، مطبوعہ سال ۱۹۰۳ء) ’’انا مسلمون… خاتم الانبیاء‘‘ یعنی ہم مسلمان ہیں۔ ایمان رکھتے ہیں خداتعالیٰ کی کتاب فرقان حمید پر اور نیز ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے سردار محمد مصطفیa خدا کے نبی اور رسول ہیں اور کہ وہ بہتر دین لائے ہیں اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں۔

آٹھواں حوالہ (حقیقت الوحی ص۲۷، خزائن ج۲۲ ص۲۹، مطبوعہ سال ۱۹۰۷ء) مگر جس کامل انسان پر… خاتم الانبیاء نے پھر اسی کتاب کے (ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱) پر فرماتے ہیں کہ کیا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے… کو… چھین لے گا۔

نواں حوالہ (اشعثی عربی ص۲۲، مطبوعہ سال۱۹۰۷ء) پر فرماتے ہیں: ’’وان نبینا خاتم الانبیاء… ظہورہ‘‘ یعنی یقینا ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہی جو آپ کے نورسے منور کیا جاوے اور جن کا ظہور آپ کے ظہور کاظل ہو۔پھر اس کتاب کے (ص۶۴) پر فرماتے ہیں: ’’وانا رسولنا… مرسلین‘‘ یعنی ہمارے رسول اﷲa خاتم النّبیین ہیں اور آپ پر مرسلین کا سلسلہ منقطع ہوگیاہے۔ ان مندرجہ بالا تصریحات کے علاوہ عملی ثبوت میں بیعت فارم کی طرف توجہ دلاتاہوں۔ جس میں وہ تمام باتیں من وعن لکھی ہوئی ہیں۔ جن کے اقرار کرنے سے کوئی شخص احمدی ہوتاہے۔ خواہ وہ دستی بیعت کرے یا تحریری۔ اس بیعت فارم سے ثابت ہوتاہے کہ کوئی شخص احمدی نہیں ہوسکتا جب تک حضورﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا اقرار نہ کرے۔ ایسی تصریحات کے ہوتے ہوئے ہمارے مخالفین کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے انکاری ہے، یقینا اتہام ہے۔ بعض لوگ ایک شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی ابتدائی زندگی میں تو آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین تسلیم کیاہے اور اس وقت مرزا صاحب مسلمان تھے۔ مگر بعد میں مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے انکار کردیاہے۔ میں نے اس شبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض ایسے حوالہ جات بھی پیش کردئیے ہیں جومرزا صاحب کی آخری زندگی کے ہیں۔ مثلاً حقیقت الوحی اور استفتاء جو آپ کی وفات سے ایک سال پہلے کی تصنیف ہے۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ مرزا صاحب نے جب سے نبوۃ کا دعویٰ کیاہے، اس وقت سے آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین ماننا ترک کردیاہے اور یہ کہ دعویٰ نبوت سال ۱۹۰۱ء میں کیا ہے۔ گویا یہ خیال اور وجوہ سے بھی غلط ہے۔ لیکن میں نے ایسی کتابوں کے حوالہ جات پیش کردئیے ہیں جو سال ۱۹۰۱ء کے بعد کی ہیں۔ مثلاً ایک غلطی کا ازالہ، مواہب الرحمن، حقیقت الوحی اور استفتاء جن میں صرف اقرار موجود ہے کہ حضرت مرزا صاحب آنحضرت سرورکائناتa کو خاتم النّبیین یقین کرتے تھے۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ اگر آپ نے رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے سے معاذاﷲ! انکار کر دیاتھا توہر احمدی سے بیعت کے وقت یہ اقرار کیوں لیاجاتاہے کہ وہ رسول پاکa کو خاتم النّبیین یقین کریں۔

346

کیا سید الانبیاء حضرت محمدمصطفیa کے خاتم النّبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ

آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت ہی نہیں مل سکتی؟

اگر ہمارے مخالفین کے نزدیک لفظ ’’خاتم النبوۃ‘‘ سے ان کی یہ مراد ہے کہ حضرت نبی کریمa بایں معنی خاتم النّبیین ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیںآسکتا تو ان کی یہ مراد بالکل بے بنیاد اور محض غلط ہے۔ کیونکہ خود رسول کریمa نے یابزرگان سلف نے جو اولیاء اﷲ میں سے تھے یا مجدد اور محدث تھے، خاتم النّبیین کے جن معنوں کی تصریح کی ہے وہ معنی ہمارے مخالفین کے بیان کردہ معنی کو محض غلط قراردیتے ہیں۔

اوّل: خاتم النّبیین والی آیت حضرت زینبt کے نکاح کے وقت اتری یعنی ۵ھ میں۔ اس کے پانچ سال بعد۱۰ھ میں حضرت نبی کریمa کے فرزند ارجمند حضرت ابراہیم نے وفات پائی۔ حضورنبی کریمa نے ان کا جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا: ’’ان لہ… لوعاش لکان صدیقا نبیا (ابن ماجہ جلداوّل مصری ص۲۳۷)‘‘ یعنی اس بچہ کی ایک دائی ہے جنت میں اوراگر یہ زندہ رہتا تو ضرورنبی ہوتا۔ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے اپنے خاتم النّبیین ہونے کو حضرت ابراہیم کے نبی ہونے میں روک نہیں بتلایا بلکہ ان کی موت کو روک ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ اگر آپ کا خاتم النّبیین ہونا ان کے نبی ہونے میں روک کا موجب ہوتا تو آپa یہ فرماتے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو ہرگز نبی نہ ہوسکتے تھے۔ کیونکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔ نیزاگر خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہوتا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں ہوسکتا توآنحضرتa کس طرح فرماسکتے تھے کہ ابراہیم زندہ رہتا تو ضرورنبی ہوتا۔ یہ فرمانا تو ایسی حالت میں برمحل ہوسکتاہے کہ خاتم النّبیین کے الفاظ ہر قسم کی نبوت کو روکنے والے نہ ہوں۔ بلکہ ان کے بعد بھی کسی نہ کسی قسم کے نبی ہونے کے لئے گنجائش باقی ہو۔ ایک قابل نوجوان طالب علم کی وفات پر تب ہی یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ضرورایم۔اے ہو جاتا۔ لیکن ایم۔اے کا وجود دنیا میں باقی ہو اور اس کی ڈگری کا حاصل کرنا ممکن ہو۔ اگر ایم۔اے کا وجود سرے سے دنیا میں ہی نہیں ہے اور اس کا حصول ناممکن ہوگیا ہوتو پھر یہ الفاظ نہیں بولے جائیں گے بلکہ محض مہمل ہوں گے۔ پس نبی کریمa کا یہ فرمانا کہ ابراہیم زندہ رہتاتو ضرورنبی ہوجاتا… ثبوت ہے اس امر کا۔ آئندہ نبوت حاصل کرنے میں آیت خاتم النّبیین ہرگز ہرگز روک نہیں ہے۔

دوم: حضرت رسول مقبولa نے خاتم النّبیین کی اور بھی تفسیر فرمائی ہے۔ مثلاً: (کنزالعمال ج۶ ص۱۷۸) پر ہے کہ ’’اخرج… خاتم الانبیاء فی النبوۃ‘‘ یعنی مرفوع اور مرسل دونوں طریق سے حدیث مروی ہے کہ رسول مقبولa نے فرمایا اپنے چچا عباس کو کہ مطمئن رہئے اے چچا! پس تحقیق آپ خاتم مہاجرین ہیں ہجرت کے لحاظ سے۔ جیسا کہ میں خاتم النّبیین ہوں نبوت کے لحاظ سے۔ مطلب صاف اور واضح ہے کہ جیسا حضرت عباسq کے بعد پھر یہی ہجرت مکہ کو یامدینہ کو کرنی جائزیا موجب ثواب ہے اور ہجرت بکلی بند اور ممنوع نہیں ہے اور ویسی ہجرتیں حضرت عباسq کے خاتم المہاجرین ہونے میں کوئی خلل انداز نہیں، ویسے ہی حضرت نبی کریمa کی نبوت کے بعد آپ کی اتباع اور توسط سے کسی کا نبی بن جانا ہی آپa کے خاتم النّبیین ہونے میں خلل انداز نہیں ہے۔ اگر حضرت عباسq کے خاتم المہاجرین ہونے میں مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی شرط ہے تو خاتم النّبیین ہونے میں ایسے ہی کمالات اور درجہ اور شریعت کی شرط ہے۔ یعنی نہ آئندہ مکہ سے مدینہ کو کوئی ہجرت ہو اور نہ آپa کے بعدکوئی مستقل اور شرعی نبوت ہو۔

347

سوم: خاتم النّبیین کی ایک اور تشریح حضرت رسول مقبولa سے ہی اس طرح پر مروی ہے۔ ’’اناخاتم الانبیاء وانت یاعلی خاتم الاولیاء (تفسیر صافی زیر آیت خاتم النّبیین ص۱۱۱)‘‘ یعنی میں خاتم الانبیاء ہوں اور اے علی! تم خاتم الاولیاء ہو۔ مطلب صاف ہے کہ اگر خاتم الانبیاء کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوسکتا تو خاتم الاولیاء کے بعد کسی قسم کا ولی بھی نہیں ہوسکتا اوراگر خاتم الاولیاء کے بعد ولایت کا دروازہ کھلاہے اور اولیاء امت میں ہوچکے ہیں تو خاتم الانبیاء کے بعدآنحضور کی متابعت اور پیروی سے امت محمدیہ میں انبیاء بھی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ جیسے آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ویسے حضرت علیq خاتم الاولیاء ہیں۔

چہارم: حضور انورa کی فرمودہ تشریح اور بیان کردہ صفائی کے بعد اب میں بزرگان سلف کے بیان بطور صفائی پیش کرتاہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہt کا ارشاد ہے: ’’قولواانہ خاتم الانبیاء۔ ولا تقولوا لا نبی بعدہ… (تکملہ مجمع البحار ص۸۵)‘‘ اب اگر خاتم النّبیین کے یہی معنی ہوتے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ (نہیں) تو حضرت عائشہ صدیقہt جیسی ذی فراست اور ذی علم جس سے آدھا دین سیکھنے کا حکم ہے۔ وہ لوگوں کو یہ فرق کرنے کے لئے ارشاد نہ فرماتیں کہ خاتم الانبیاء تو کہا کرو۔ مگر یہ نہ کہا کرو کہ آپa کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

پنجم: حضرت محی الدین ابن عربی جو صوفیاء کرام میں شیخ اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ان محمدa… بعدہ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۵)‘‘بھی حضرت محمدمصطفیa خاتم النّبوۃ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی تشریعی نبوۃ نہیں ہے۔ انہوں نے بھی تصریح کردی ہے کہ خاتم النّبیین سے مراد تشریعی نبوۃ کا خاتم ہے نہ ہر ایک نبوت کا۔

ششم: خاتم النّبیین کے معنی میں عارف ربانی حضرت عبدالکریم جیلی کی تصریح ہے۔ کتاب انسان کامل میں فرماتے ہیں: ’’فانقطع حکم… خاتم النّبیین‘‘ (باب۳۶) یعنی منقطع ہوگیا تشریعی نبوت کا حکم حضورﷺکے بعد اور حضرت محمدمصطفیa خاتم النّبیین ہوئے۔ اگر خاتم النّبیین کے یہی معنی ہوتے کہ ہر قسم کی نبوت بند ہے تو امام جیلی صاحب ہرگز نہ فرماتے کہ تشریعی نبوت کا حکم منقطع ہوا۔ پھر تشریعی، غیرتشریعی کی قید نہیں رہتی۔ صرف تشریعی نبوت کے انقطاع کی تصریح کرتے ثبوت ہے کہ دوسری نبوت ظلی اور غیر تشریعی منقطع نہیں ہے۔

ہفتم: مولانا جلال الدین رومی اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں:

  1. بازگشتہ ازدم اوہر دوباب

    در دو عالم دعوت او مستجاب

  2. بہر ایں خاتم شد است او کہ بجود

    مثل اونے بود نے خواہند بود

  3. چونکہ در صنعت برداستا دوست

    نے تو گوئی ختم صنعت براست

(دفتر ششم باب، دواختر)

ان اشعار کا مطلب بھی یہی ہے کہ آنحضرتﷺ کا خاتم ہونا۔ ان معنی میں ہے کہ آنحضورa کی طرح نہ کوئی ہوانہ کوئی ہوگا۔ جیسے کہ کاریگر کسی کاریگری میں اپنے افسران پر سبقت لے جاوے تو اسے یہ نہیں کہا جاسکتاکہ اس صفت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ سن کر تسلیم کیا۔

محمد اکبر!

348

۱۴؍مارچ ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان مولوی غلام احمد گواہ فریق ثانی باقرارصالح

ہشتم: آٹھویں شہادت حضرت مجدد الف ثانی، شیخ احمد سرہندی کی ہے، جن کو اکثر لوگ مجددتسلیم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: حصول کمالات، نبوت مرتابعان رابطریق تبیعت ووراثت بعد ازبعثت ختم الرسل علیہ وعلیٰ جمیع الانبیاء والرسل … منافی خاتمیت اونیست۔ (مکتوبات امام ربانی ج اوّل، مکتوب۳۰۱) یعنی کمالات نبوت کا بطریق وراثت اور متابیعت آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو حاصل ہو جانا حضورﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کے منافی ومخالف نہیں۔

نہم: نوویں شہادت اس امر کی کہ مخالفین جو معنی خاتم النّبیین کے مراد لیتے ہیں وہ غلط محض ہیں۔ یہ ہے علمائے دیوبند کے مسلمہ بزرگ بانی مدرسہ دیوبند مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اپنی کتاب (تحذیر الناس ص۳) پرفرمائی ہے کہ اوّل معنی خاتم النّبیین معلوم کرنے چاہئیں… ہوسکتاہے۔ گویاحضرت مولانابانی مدرسہ دیوبند نے تصریح کردی ہے کہ عوام کے نزدیک آ پ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ آخری نبی ہیں اورآپ کا زمانہ سب سے آخر ہے۔ مگر خواص اور اہل فہم کا یہ خیال نہیں ہے۔ اگر خواص اور اہل فہم کا بھی یہی خیال ہوتا تو عوام کا لفظ کہہ کر وہ معنی علیحدہ ہرگز نہ کہے جاتے۔ خواص کے نزدیک کیا معنی ہیں۔ اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ اہل فہم پر روشن ہے کہ تقدم وتاخر زمانی تو کچھ موجب فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کیوں فرمایا۔ اس میں تصریح کردی ہے کہ آخری نبی ہونا زمانہ کے لحاظ سے عوام کا خیال ہے اور آخری ہونے میں کچھ فضیلت ظاہر نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ معنی خاتم النّبیین کے صحیح نہیں ہوسکتے۔

دسویں شہادت: انہی مولوی صاحب کی مزید تصریح کے ساتھ یہ ہے کہ آپ اس کتاب (تحذیر الناس ص۲۸) پر فرماتے ہیں: اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی محمدa میں کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ اس سے زیادہ اردو زبان میں اور کیا تصریح ہوسکتی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے سے خاتمیت محمدیہ میں فرق نہیں آتا۔

گیارہویں شہادت: مخالفین کے معنی کے غلط ہونے کی ہے جو حضرت مولانا شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی نے فرمائی ہے۔ ’’وقسم بہ النبیون… بہ تشریعی علی الناس‘‘ (تفہیم۵۳)

بارہویں شہادت: مولانا حکیم سید محمدحسن صاحب مؤلف غایت البرہان کی ہے۔ وہ اپنی مشہور کتاب (کواکب دریہ ص۱۴۶) پر لکھتے ہیں: اسلام سے نبوت تشریعی منقطع ہوگئی اور (ص۱۴۷) پر لکھتے ہیں کہ: نبوت بخصوصیت الانبیاء خبردینے سے عبارت ہے۔ وہ دو قسم کی ہے۔ایک نبوت تشریعی جو ختم ہوگئی۔ دوسری نبوۃ بمعنی خبردادن وہ غیر منقطع ہے۔ (ص۱۸۳) پر لکھتے ہیں کہ: محمدa ختم المرسلین ہیں کہ بعد آپ کے وحی تشریعی منقطع ہوئی۔ ان تینوں حوالوں کا حاصل بھی یہی ہے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی نہیں ہیں کہ غیر تشریعی ظلی نبی نہیں آسکتا۔ بلکہ صرف یہ ہیں کہ صاحب شریعت نبی نہیں آسکتے۔

تیرھویں شہادت: نواب صدیق حسن خان صاحب کی ہے جو اپنی کتاب (اقتراب الساعۃ مطبوعہ آگرہ ص۱۲۶) پرلکھتے ہیں: حدیث ’’لاوحی بعد موتی‘‘ بے اصل ہے۔ ہاں! ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے۔ مگر اس کے معنی بھی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی

349

نبی شرع ناسخ نہیں آئے گا۔ اسی حوالہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد شرع ناسخ لانے والا نبی نہیں آسکتا نہ کہ غیرشرعی، ظلی، امتی نبی بھی۔

چودہویں شہادت: اس بزرگ اور عالم کی پیش کرتاہوں جو ہمارے مخالفین کا مسلمہ جید عالم اور محدث ہے اور جس کے حوالہ جات کسی اور رنگ میںکثرت سے وہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ یعنی محدث ملّا علی قاری۔ وہ اپنی کتاب موضوعات کبیر میں خاتم النّبیین کے معنی بیان کرتے ہیں۔ ’’اذالمعنی لا یأتی نبیٌ ینسخ۔ ملتہٗ ولم یکن فی امتہ‘‘ یعنی کیونکہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ اب کوئینہیں نبی آئے گا جو آپa کی شریعت کو منسوخ کرے اور وہ بھی جو آپ کی امت میں سے نہ ہو۔ اس قول سے ظاہرہے کہ محدث ملّا علی قاری کے نزدیک بھی خاتم النّبیین کے معنی صرف یہی ہیں کہ صاحب شرع ناسخ یا کسی دوسری امت سے آنے والا نبی ممنوع ہے، نہ ہر ایک قسم کا نبی۔

پندرہویں شہادت: اس امر کی کہ ہمارے مخالفین خاتم النّبیین کے جو معنی بیان کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔ یہ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک، دو، پانچ، سات، دس، پندرہ نہیں، بلکہ بہت سی آیات کریم میں تصریح فرمائی ہے کہ حضرت خاتم النّبیینa کے بعد آپ کے امتیوں اور غلاموں میں سے آپ کے ہی وسیلہ اور واسطہ سے ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں گے، جنہیں نبوت عطاء ہوگی۔ میں ان آیات کو وجہ تکفیر۳ کے جواب میں مفصل بیان کروں گا۔ اب میں شہادتیں اپنے موجودہ مخالفین کی اپنی تائید میں پیش کرتاہوں۔

سولہویں شہادت: معلوم معنی کے غلط ہونے کی۔ خود ہمارے مخالفین کا سکوت اقرارہے۔ کیونکہ کسی مولوی صاحب سے پوچھا جاتاہے کہ خاتم النّبیین کے ان معنی کی تصدیق میں لغت عربی سے کوئی ایسی دوسری مثال پیش کریں، جس سے یہ ثابت ہوکہ خاتم کا لفظ اپنے اندر یہ تأثر رکھتاہے کہ جب کبھی کسی جمع مذکر سالم کے ساتھ مضاف ہوکر استعمال ہو تو اس جمع کے تمام افراد کی آئندہ کے لئے نفی کردیتاہے۔ بایں طور کہ اس جمع کے تمام افراد کی پوری پوری بندش اور روک ضرورہوجاتی ہے۔ یعنی ان افراد میں سے کسی ایک فرد موجود کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ مطالبہ ا س سے ہوتاکہ جب خاتم النّبیین عربی زبان کے الفاظ ہیں تولازمی طور پر اس کے وہی معنی صحیح ہوں گے، جن کی تائید عربی زبان سے ہوتی ہو اور جن کی مثالیں عربی زبان میں پائی جاویں۔ برخلاف اس کے وہ معنی کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوسکتے جن کی تائید زبان عربی سے نہ ہوتی ہو۔ چونکہ سالہاسال ہوچکے ہیں، کوئی ایک حوالہ بھی آج تک پیش نہیں ہوا۔ اس لئے جاننا پڑتا ہے کہ یہ معنی محض غلط ہیں۔ کیونکہ عربی زبان کی روسے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جو مخالفین کے معنی کی تائید کرتی ہو۔

لہٰذا وہ معنی صحیح سمجھے جانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر یہ جائز رکھا جاوے کہ بغیر عربی زبان کی تائید کے عربی لفظ کے معنی صحیح سمجھے جاسکتے ہیں تو امان اٹھ جائے گا اور جو جس کا جی چاہے گا، وہ معنی کرلے گا اور تفسیر بالرائے جس کی بابت احادیث میں یہ وعید عبارت ہے کہ اپنی رائے سے تفسیر کرنے والا جہنمی ہے۔کوئی چیز نہ رہے گی اور کوئی شخص خواہ کیسے ہی لغو اور باطل تفسیر کرنے والا قرار پائے گا۔

سترھویںشہادت: ان معنی کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ زبان عربی کی(عرف) عام میں اور بالخصوص ہمارے آج کل کے دیوبندی مخالف علماء کے مسلمہ بزرگوں، بلکہ خود انہی میںسے بعض نے خاتم کا لفظ بارہااستعمال کیاہے اور ایک بار بھی وہ معنی مراد نہیں لئے ہیں جوخاتم النّبیین کے ہیں۔ خاتم کے استعمال سے ہمارے مقابل پر لیتے ہیں۔مثلاً منہاج السنۃ کے شروع میں ٹائٹل پیج پر امام ابن تیمیہ کے لئے خاتمۃ المجتہدین کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کے بعد کوئی مجتہد نہ ہوگا۔

دوسرا عجالہ نافعہ کے دوسرے ٹائٹل پیج پر حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی کو خاتم المحدثین لکھا ہواہے۔ کیااس کایہ مطلب ہے کہ آپ کے بعد کوئی محدث نہیں ہوگا۔

350

تیسرا مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے جو شیخ الہند کے لقب سے ملقب ہیں، اپنے استاد ومرشد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا مرثیہ لکھا۔ اس کا ٹائٹل پیج پر ان کو خاتم الاولیاء والمحدثین لکھاہے۔ کیا ان کا یہ مطلب ہے کہ ان کے بعد امت مرحومہ محمدیہ میں کوئی ولی اور کوئی محدث نہیں ہوگا۔ چوتھا پر لطف یہ ہے کہ ان مولوی محمودحسن صاحب کو صدر جمعیت علمائے ہند مولوی کفایت اﷲ صاحب شاہ جہاں پوری نے (القاسم ۱۱ج۲ ماہ جمادی الثانی۱۳۱۳ھ) میں ٹائٹل پیج کے اندرون آخری صفحہ پر خاتم المحدثین لکھاہے: باوجود مولوی رشید احمد صاحب کے خاتم المحدثین ہونے کے مولوی محمود حسن صاحب محدث ہوئے۔ پھر خاتم المحدثین بھی۔

(۵) پھر مولوی بدر عالم صاحب میرٹھی دیوبندی نے اپنی کتاب (الجواب الفصیح ص۳) پر مولوی انورشاہ صاحب کو خاتم المحدثین لکھاہے۔ کیا یہ لفظ خاتم المحدثین اس امر کے ظاہر کرنے کی غرض سے لکھاہے کہ مولوی انورشاہ صاحب کے بعد کوئی محدث نہیں ہوگا۔

اب ان پانچوں حوالہ جات میں خاتم کا لفظ ان معنوں میں استعمال نہیں کیاگیا، جن معنی میں خاتم النّبیین سمجھا جارہاہے۔ اگر خاتم کا لفظ ’’بذاتہ‘‘ اس امر کا مقتضی ہے کہ جمع مذکر سالم کی طرف مضاف ہو۔ اس کے تمام افراد کو بالکل بند کردے تو لازم آئے گا کہ امام ابن تیمیہ کے خاتمۃ المجتہدین ہونے کے بعد کوئی مجتہد نہیں کہلاسکتا۔ اس طرح پر دوسرے اصحاب موصوفین کے بعد جن کا ذکر اوپر کے فقرہ جات میں آچکاہے۔ کوئی ولی یامحدث نہیں ہوناچاہئے۔

لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اکفار الملحدین میں مولوی انور شاہ صاحب نے ص۹۳ سے لے کرص۱۰۳تک مولوی خلیل احمد صاحب سہارنپوری، مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی کفایت اﷲ صاحب شاہ جہان پوری، مولوی محمد صادق صاحب، مولوی عزیز الرحمن صاحب اور مولوی شبیر احمد صاحب کو محدث لکھاہے اور وہ وہی مولوی انور شاہ صاحب ہیں جن کو مولوی بدرعالم صاحب خاتم المحدثین لکھ چکے تھے۔ اگر خاتم کا لفظ وہی معنی رکھتاہے جو خاتم النّبیین میں لفظ خاتم کے لئے جاتے ہیں تو پھر یہ کیاہے کہ ایک مولوی دیوبندی صاحب، دوسرے مولوی صاحب کے لئے خاتم المحدثین لکھتے ہیں۔ نہ شاگرد صاحب یہ خیال کرتے ہیں کہ میرے استاد تو ایک اور بزرگ کو خاتم المحدثین مانتے ہیں۔ پھر میرا اس کے بعد ان اپنے استاد کو محدث بلکہ خاتم المحدثین لکھنا کیونکر درست ہوسکتاہے۔

میری اس شہادت کا خلاصہ اور اصل مطلب یہ ہے کہ صرف سلف صالحین ہی نے خاتم کے لفظ کو استعمال کر کے یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ اس کے معنی تمام افراد کو فی کل الوجوہ بند اور ختم کردینے کے نہیں ہوتے بلکہ ہمارے مخالف مولوی بھی اپنے عمل سے یہی ثابت کررہے ہیں کہ انہوں نے خاتم کا لفظ باربار استعمال کر کے یہ ظاہر کیاہے کہ اس کے معنی کل افراد کوبند یا ختم کردینے کے ہرگز نہیں ہوتے۔بلکہ بعض کو بندکرنے کے ہوتے ہیں۔ پس یہ عرف عام کا عربی زبان کے لحاظ سے استعمال بھی ایک زبردست ثبوت ہے کہ خاتم النّبیین میں خاتم کا لفظ نبیوں کی تمام اقسام اور تمام افراد کی نفی کے لئے نہیں آتا اور جو شخص ایسے معنی کرتاہے، وہ عام شائع، متعارف معنوں کے خلاف کرتاہے اور بالکل بے ثبوت، کیونکہ ان معنی کی عربی زبان میں ایک مثال بھی نہیں پائی جاتی۔ ان سترہ واضح دلائل سے جن میں سے تین خود حضرت نبی کریمa کی احادیث ہیں اور ایک حضرت عائشہ صدیقہt کا ارشاد اور آٹھ تصریحات مختلف زمانے کے بزرگوں، صوفیائے کرام، اولیاء، محدثین، مجددین ائمہ کی ہیں۔ ایک ہمارے مخالف مولوی صاحبان کے مسلمہ بزرگ۔ مدرسہ دیوبند کی شہادت ہے۔ وہ خود ہمارے مخالفین کے سکوتی اقرار اور ہر دو کی ہیں۔ ان سب کی موجودگی میں کیسے تسلیم کیا جاسکتاہے کہ ہمارے مخالفین جو معنی خاتم النّبیین کے کرتے ہیں، وہ صحیح ہیں اور ضروریات دین میں سے ہوسکتے ہیں۔ اگر ان علماء کے معنی صحیح تسلیم کئے جاویں اور ضروریات دین سے قراردئیے جاویں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ فتویٰ کہاں تک پہنچتاہے۔

351

علماء، صلحا، صوفیائے کرام، محدثین وائمہ یہاں تک کہ حضرت ام المومنین اور بالآخر سید الاوّلین والآخرین حضرت محمدa تک۔ یہ تمام مذکورہ شہادتیں ثابت کرتی ہیںکہ ہمارے مخالف مولویوں کے معنی خاتم النّبیین ضروریات دین سے قطعاً نہیںہیں۔ کیونکہ ضروریات دین تو وہ ہیں جو قرآن شریف نے متعدد آیت میں بیان کی ہوں یا پھر ضرورت دین وہ ہوگی جو رسول کریمa کی تصریح سے ہو۔ ایسا ہی پھر ضرورت دین وہ ہوگی جوامت محمدیہ کے بزرگ اور مقدس لوگ محدث، مجدد الیاء، صوفیاء کرام وغیرہ مختلف زمانوں میں ہونے کے باوجود پھر متحدہ طور پر بیان کریں۔ ایسا ہی ضرورت دین وہ ہو گی جس کو ہمارے مخالف مولوی صاحبان کے مسلمہ بزرگ تصریح سے قراردیں۔ان کے نزدیک ایسے ہی ضرورت دین وہ کہلائے گی جوزبان عربی کے محاورات کی روسے ثابت ہوکر کسی دینی تصریح کی تعیین کرتی ہو، نہ کہ بغیر کسی ثبوت زبان عربی کے۔ محض کسی ایک یاچند شخصوں کے مذعومہ معنی ہمارے مخالفین کو لازم ہے کہ وہ آیات قرآنیہ یا حدیث رسولﷺ یا کسی مسلمہ بزرگ، نیک وپاک بزرگ کی تحریر سے ایک بھی حوالہ اس امر کا پیش کریں کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیںکہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں آسکتا۔ نہ شرعی، نہ غیر شرعی، نہ امتی، نہ غیر امتی، نہ بلاواسطہ نہ بالواسطہ اور پھر یہ ثابت کریں کہ یہ معنی ضروریات دین سے ہیں۔

عنوان۴ ہمارے مخالفین اپنے مذعومہ معنی کی تائید کے خیال سے جوابات پیش کرتے ہیں۔ ان کی حقیقت کیا ہے؟ ہمارے مخالفین اپنے مذعومہ معنی کی تائید کے خیال سے بعض دیگر آیات بھی پیش کرتے ہیں جن سے وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ ان آیات کو اس امر سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ پہلی آیت جو وہ پیش کرتے ہیں وہ ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی… الخ! (مائدہ:۳)‘‘ اس آیت سے جو استدلال کیاگیاہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ دین کامل ہوچکاہے اور نعمت پوری ہوچکی ہے اور سب سے بڑی نعمت نبوت اور دین ہے تو اب نہ کوئی نبی آسکتاہے اور نہ کوئی دین۔ کیونکہ کمال کے بعد کوئی دوسری چیز اندر داخل نہیں کی جاسکتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ گواس آیت میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ آئندہ نبوت بند ہوگی۔ کیونکہ آیت میں ایسے الفاظ ہرگز نہیں ہیں جن کا یہ ترجمہ ہوسکے۔ لیکن اگر استدلال کیا جائے کہ چونکہ دین کامل ہے، اس لئے کوئی نیادین نہیں آئے گا اور چونکہ نعمت کامل ہے، اس لئے آئندہ نبوت نہ ہوگی تو پھر ان کے استدلال پرچند امور تنقیح طلب ہیں۔ ان کو مدنظر رکھنے سے واضح ہوجائے گا کہ آیاان کا استدلال صحیح ہے یا غلط اور آیا یہ آیت آئندہ نبوت کی نفی کرتی ہے یا اثبات۔

امر اول: کیا ہر نبی کے لئے نیاد ین لانا ضروری ہے یا یہ ضروری ہے کہ دین میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کرے۔

امردوم: کیا انبیاء بنی اسرائیل یکے بعد دیگرے ہمیشہ نیا دین بھی لاتے رہے یا دین سابق میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ تبدیلی کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں امور کا جواب نفی میں ہے۔ مجھے حوالہ جات وغیرہ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مشہور ومعروف بات ہے کہ ہر نبی کے لئے نیا دین لانا ضروری نہیں اور نہ پہلے دین میں کچھ تغیر وتبدل کرنا کچھ ضروری ہے۔ کیونکہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں جوپہلی کتاب اور پہلے دین کی متابعت اور اسی کی اشاعت اور خدمت کے لئے آتے رہے ہیں۔

جیسا کہ خداتعالیٰ فرماتاہے: ’’انا انزلنا التوراۃ… الخ! (مائدہ:۴۴)‘‘ یعنی ہم نے تورات کو اتارا۔ اس میں ہدایت اور نور تھا۔ فیصلہ کیا کرتے تھے اس کے ساتھ کئی فرمانبردار نبی۔ ان لوگوں کے لئے جو یہودی تھے۔ یہ آیت واضح ثبوت ہے اس امر کا کہ بعض انبیاء بنی اسرائیل میں کوئی نیا دین یا کوئی نئی شریعت نہیں لاتے تھے بلکہ تورات پر عمل اور اس کی خدمت کے لئے آتے تھے۔ پس جب ثابت

352

ہوگیا کہ ہر نبی کے لئے نئی کتاب یا نیا دین لانا ضروری نہیں۔ بلکہ صرف اشاعت دین سابق کے لئے بھی نبی آتے رہے ہیں تو پھر یہ استدلال قطعاً باطل ہوگیا کہ چونکہ دین کامل ہوچکا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی نبی نہیں آئے گا۔وہ استدلال اس لئے باطل ہوا کہ ثابت ہوگیا کہ کمال دین سے صرف تبدیلی دین سابق یا آمدن دین جدید کی نفی نکلنے سے غایت کار اس نبی کا آنا ممنوع ہوا۔ جو شریعت جدیدہ لائے یا دین اسلام میں کچھ تبدیلی کرنے والا ہو، نہ کہ ہر ایک قسم کے نبی کا آنا۔

امر سوم: کیا دین کے کامل ہونے کا یہی مطلب ہے یا یہی فائدہ ہے کہ آئندہ اس دین کی ماتحتی میںکوئی فرد بڑے درجہ کا پیدانہ ہو یا کوئی فرد اس امت کا اس کامل دین پر چل کر کوئی کمال خداتعالیٰ کی طرف سے حاصل نہ کرسکے۔

اس امر کا جواب بھی نفی میں ہے۔کیونکہ اگر دین کے کمال کا یہی مطلب ہے کہ آئندہ کوئی شخص اس دین کے کمالات کی برکت سے اعلیٰ درجہ حاصل نہ کر سکے تو پھر وہ کمال کمال نہ رہا، بلکہ زوال ہوا۔ کیونکہ کسی کالج کی نسبت(تحت) اگر عام اعلان کردیاجاوے کہ ہر رنگ میں دوسرے کالجوں سے ممتاز ہے اور بلحاظ عمارت ،سازوسامان، نصاب تعلیم وغیرہ ضروری اشیاء کے یہ کالج کامل ہوچکاہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آئندہ اس کالج میں آخری ڈگری یافتہ ایم۔اے کلاس کاکوئی قابل فرد نہ ہو۔ اگر یہی مطلب ہوگا تو اس مطلب کے لحاظ سے وہ کالج کامل کالج نہ ہوا، بلکہ ناقص ٹھہرا۔

امر چہارم: کیا جس طرح شریعت محمدیہ کے لئے فرمایاہے کہ یہ تمام ضروری امور کے بیان ہوجانے کی وجہ سے کامل ہوچکی ہے۔ اس طرح تورات کے لئے ’’تماما علی الذی احسن تفصیلاً لکل شیٔ (انعام:۱۵۴)‘‘ میں فرمایا۔ یعنی یہ تورات پورا کرنے والی ہے ہر اس امر کو جو اچھا ہے اور تفصیل کرنے والی ہے ہرضروری چیز کی۔ پھر کیا تورات کے بعد اور تورات کی موجودگی میں بنی اسرائیل کے اندر وہ نبی نہیں آئے جن کا قرآن شریف میں ذکر ہے کہ تورات کی رو سے فیصلہ کرتے تھے۔ کیا نیادین نہ لاتے تھے اور نہ اس دین میں کوئی تبدیلی کرتے تھے۔ کیا ان نبیوں کے آنے سے تورات کی شان میں کوئی فرق آیاتھا۔اگر نہیں آیاتھا تو قرآن شریف کے بعد اس کی نشرواشاعت کوئی غیر تشارع(غیر شارع) امتی نبی آئے تو قرآن شریف کی شان میں کیوں فرق آئے گا۔

امر پنجم: کیا نبی کاکام بگڑی ہوئی امت کو سنوارنا اور باہمی اختلافات کا دور کرنا اور لوگوں کو راہ راست پرلانا ہے یا کچھ اور؟

امر ششم: کیا امت محمدیہ گمراہی سے محفوظ قرار دی گئی ہے یا اس کے بگڑنے کا بھی خطرہ ظاہر کیاگیاتھا۔ ان دونوں امور کا جواب ایسا واضح ہے کہ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ کیونکہ عام مشہور بات ہے کہ امت محمدیہ کے بگڑنے کا نہ صرف خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ بلکہ پیش گوئی ہے کہ وہ یہود نصاریٰ کی طرح فرقہ فرقہ ہوجائے گی۔ باوجود دین کامل ہوجانے کے یہ سب کچھ ضروری قراردیاگیا تو لازماً نبی کا آناضروری ہوا۔ کیونکہ ایک طرف یہ ماناگیاہے کہ دین کاکام نئی شریعت لانا یا شریعت سابقہ میں کچھ تغیروتبدل کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ بگڑی ہوئی امت کو سنوارنا اور ہدایت کا راستہ دکھلانا اور اختلافات کو مٹانا وحی سے ہوتاہے۔ دوسری طرف یہ بھی مانا گیا ہے کہ امت محمدیہ نے بگڑنا بھی ضروری ہے۔ پس یہ کس طرح کہا جاسکتاہے کہ چونکہ دین کامل ہوگیا۔ لہٰذا اب نبی نہیں ہوگا۔

امرہفتم: اگر دین کامل ہے اور اس کاکمال چاہتاہے کہ اس دین میں سے کوئی شخص نبی نہ بنے یعنی اس دین کا کمال کسی دوسرے نبی کے وجود کا مانع ہے تو پھر بھی کامل دین ایک پہلے گزرے ہوئے نبی کا محتاج کیوں ہے۔ کیسے تعجب کی بات ہے کہ امت محمدیہ میں سے تو اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ دین کامل ہوگیا اور تقاضا کمال یہ ہے کہ کوئی نبی نہ آوے۔ لیکن باوجود دین کامل ہوجانے کے آسمان کی طرف نظریں لگی ہوئی ہیں کہ گزشتہ نبیوں میں سے ایک نبی آکر بگڑی ہوئی امت محمدیہ کی اصلاح فرمادیں۔

353

امر ہشتم: کیاخداتعالیٰ کی طرف سے اتمام نعمت کے یہ معنی ہیں کہ آئندہ نبوت نہ ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیونکہ اتمام نعمت کے معنی یا مفہوم۔ ہمارے مخالف علماء جو بیان کرتے ہیں کہ آئندہ نبوت نہ ہو۔ اس کا وہ کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس کا وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکتے ہیں اور ایسی ایک مثال بھی قرآن شریف سے یا احادیث صحیحہ، متصلہ، مرفوعہ سے پیش نہیں کرسکتے ہیں۔ جس سے ان کے اس معنی ومفہوم کی تائید ہوئی ہو۔ اگر قرآنی اصطلاح یالغت عربی سے کوئی ایسی مثال پائی جاوے کہ اتمام نعمت سے اس نعمت کا بند ہوجانا مراد ہواکرتاہے تو مخالفین کا استدلال صحیح مانا جاتا۔ لیکن چونکہ کوئی مثال پیش نہیں کی گئی اورنہ اتمام نعمت سے نبوت کے بند ہونے کا ماخذ بتلایاہے۔ اس لئے یہ استدلال قطعاً باطل ہے۔ صرف یہی نہیں کہ چونکہ وہ اتمام نعمت کی مثال اس مفہوم کے لئے جو وہ لیتے ہیں۔ کوئی دوسری مثال پیش نہیں کرسکتے۔ اس لئے ان کا دعویٰ بلادلیل ہے اور قابل التفات نہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں نعمت تمام ہونے کا مفہوم۔ ان کے مذعومہ مفہوم کے بالکل خلاف موجودہے۔ وہ تواتمام نعمت کا مفہوم نبوت کا بند ہوجانا قرار دیتے ہیں۔ لیکن قرآن شریف میں اتمام نعمت کا مفہوم نبوت کا جاری ہونا ہے۔ چنانچہ حضرت یوسفm کا خواب سن کر حضرت یعقوبm فرماتے ہیںکہ: ’’وکذالک یجتبیک ربک… الخ! (یوسف:۶)‘‘ یعنی اس طرح منتخب کرے گا تجھے تیرا رب اور سکھلائے گا تجھے خوابوں اور باتوں کے انجام اور اتمام نعمت کرے گا۔ تجھ پر اور دیگر آل یعقوب پر جیسی اتمام نعمت کی اس نے ابراہیم اور اسحاق پر یقینا تیرارب علیم وحکیم ہے۔

اس آیت میں حضرت یعقوبm کی زبان سے خداتعالیٰ نے خود تشریح فرمادی ہے کہ اے یوسف جیسے تیرے دادا پردادا، اسحاق اور ابراہیم پر اتمام نعمت ہوا۔ ویسا ہی تجھ پر اور دیگر آل یعقوب پر ہوگا۔ اگراتمام نعمت سے نبوت بند کردینی مراد ہے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت یوسفm اور دیگر آل یعقوب کو نبوت بند ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ لیکن کیا یہ صحیح ہے اور کیا اتمام نعمت کی اطلاع کے بعد حضرت یوسف اور دیگر آل یعقوب کو نبوت نہیں ملی۔ سب دنیاجانتی ہے اور قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ حضرت یوسفm اور دوسرے بزرگ آل یعقوب میں سے نبی ہوئے ہیں۔ جب اتمام نعمت کی اطلاع کے بعد وہ نبی ہوئے ہیں تو پھر یہ کہنا کہ اتمام نعمت نبوت کو بند کرنے کا مفہو م رکھتاہے۔ قطعاً غلط ٹھہرتاہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے حضرت یوسفm اور دیگر آل یعقوب کو اتمام نبوت کا وعدہ دینے کے بعد اپنی مفصل شہادت سے جو تفسیر’’اتممت علیکم نعمتی‘‘ کی فرمادی ہے۔ وہی تفسیر اس آیت میں مراد ہے نہ کوئی اور۔ میرے ان آٹھ امور تنقیح طلب سے یہ ثابت ہوگیا۔

اوّل: دین کامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کوئی نیا دین نہیں ہوگا۔

دوم: دین کامل ہونے کا یہ بھی مطلب ہے کہ آئندہ کوئی تغیروتبدل بھی نہیں ہوگا۔ یعنی شریعت کے لحاظ سے۔

تیسرا: دین کامل ہونے سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ آئندہ کوئی ماتحت یاخادم نبی بھی نہیں ہوگا۔

چوتھا: نبی کی آمد امت کے از حد بگڑنے پر ہوتی ہے۔

پانچواں: امت محمدیہ کو ضرور بگڑنا ہے۔ اس لئے ضروری نبی آئیں گے۔

چھٹا: اتما نعمت سے نبوت کی بندش ہرگز مراد نہیں ہوتی بلکہ۔

ساتواں: اتمام نعمت میں نبوت کے جاری ہونے کی بشارت ہے۔ پس یہ آیت اپنی تصریح کے ساتھ ہر گز منافی نبوت غیر تشریعہ نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت سے نہ صر ف ہم احمدی ہی یہ معنی سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم سے پہلے بزرگوں نے بھی یہی معنی کیا ہیں۔ میں ایک حوالہ پر اکتفاء کرتاہوں۔

354

سید عبدالکریم جیلی اپنی کتاب (انسان کامل ج۱ باب۳۶) پر لکھتے ہیں: ’’قال اﷲ تعالٰی الیوم اکملت لکم دینکم…نعمتی… لہ انہ جالو بالکمال… بذالک‘‘اس عبارت میں صاف تصریح موجود ہے۔ اوّل: دین کے کامل ہونے کی وجہ سے ہی رسول خداa خاتم النّبیین ہوئے ہیں۔ کیونکہ شریعت کی کوئی بات بغیر تفصیل و تشریح کے نہیں چھوڑی گئی ہے۔

دوسرا: اگر یہ آیت کسی اور نبی پر نازل ہوتی تو وہ نبی خاتم النّبیین بنتے۔ معلوم ہوا کہ شریعت کے کامل ہونے کی وجہ سے ہی رسول خداa خاتم النّبیین بنے اور اس آیت: ’’الیوم اکملت لکم‘‘ کا تعلق شرعی نبوت کے ساتھ ہے نہ علم نبوت سے۔

تیسرا: رسول مقبولa نے اس طرح نبوت ختم کی ہے کہ ’’ماترک شیٔ یحتاج الیہ الا وقت جاء بہ‘‘ یعنی کوئی بات بھی ایسی نہیں چھوڑی، جس کی ضرورت تو ہو مگر آنحضرتﷺ نے بیان نہ فرمائی ہو۔ شریعت کے لحاظ سے آپ خاتم ہوئے اور تب ہی ’’الیوم اکملت لکم‘‘ فرمایاگیا۔

چوتھا: یہ آیت آئندہ کاملین امت کو آنے سے نہیں روکتی۔ صرف اتنا ظاہر کرتی ہے کہ جو کوئی کامل آئندہ آئے گا۔ وہ کوئی زائد بات پیش نہیں کرے گا۔ بلکہ حضورﷺ کا تابع ہوگا۔ ملاحظہ ہو فقرہ ذیل:’’فلایجد الذی یاتی بعدہ من الکمل شیٔ مما ینبغی انہ یتبع علیہ… صلعم ذالک… ویصیر تابعہ لہٗ‘‘

یعنی ان کاملوں میں سے جو حضورکے بعد آئیں گے کوئی کامل بھی کسی ایسی چیز کو نہیں پائے گا۔ جس کے متعلق آپ کی تنبیہ ضروری ہوگی۔ مگر ایسی حالت میں ہی کہ حضورﷺ تنبیہ فرماچکے ہوں گے۔ پس آپ کا ہی اتباع کرے گا۔وہ کامل جیسا کہ حضور نے تشریح فرمادی ہوگی اوروہ آنے والا کامل حضورﷺ کا بھی تابع ہوگا۔

پانچواں: ان مذکورہ بالاباتوں کے بعد صاف الفاظ میں فرماتے ہیں: پس منقطع ہوگیا شرعی نبوت کا حکم حضورﷺ کے بعد اور آنحضرت محمدمصطفیa خاتم النّبیین ٹھہرے۔ حاصل کلام یہ ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ سے آئندہ نبوت غیرتشریعہ کی نفی نہیں ہوتی،بلکہ صرف تشریعی نبوت کی نفی ہوتی ہے۔ کیونکہ شریعت کامل ہوچکی ہے اور یہی معنی پہلے بزرگوں نے کئے ہیں۔ دوسری آیت جو ہمارے مخالفین اپنے زعم میں نبوت بالکل بند ہونے کی پیش کرتے ہیں، وہ یہ ہے۔

’’وما ارسلناک الاکافۃ… یعلمون (سبا:۲۸)‘‘ اس کا ترجمہ لفظی تو یہی ہے کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کی طرف بشیر اور نذیر بناکر اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔ آیت کے اس اردو ترجمہ سے ہر انسان آسانی سے مطلع ہوسکتاہے کہ اس میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے، جس سے آئندہ کے واسطے غیر تشریعی یعنی نبوت کی نفی نکلتی ہو۔ اس آیت سے صرف اتنا ظاہر ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کی رسالت تمام لوگوں کے لئے ہے۔ اب اس پر غور کرنا ضروری ہے کہ حضورﷺ کی رسالت عام ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے متبعین میں سے آپ کے بعد کوئی نبی نہ آوے۔ اگر یہی مطلب ہے تو پھر ہمارے مخالفین کی نظریں باربار آسمان کی طرف کیوں جاتی ہیں۔ اگر نبی کریمa کے بعد کسی نبی کا آنا اس لئے ممنوع ہے کہ نبی کریمa کی رسالت عامہ میں خلل واقع ہوتاہے تو اس سے ثابت ہوتاہے کہ کسی نبی کا بھی اس امت میں انتظار جائز نہیں، خواہ وہ دوسری امت کا ہی نبی ہو۔ کیونکہ اگر اس انسان کی نبوت سے جس نے آنحضورa کی وساطت اور قوت قدسیہ کے ماتحت نبوت حاصل کی ہے۔ آنحضورa کی نبوت میں خلل پڑتاہے تو بدرجہ اولیٰ اس نبی کی نبوت سے زیادہ خلل پڑے گا۔ ایسی نبوت براہ راست اورحضورa کے افادہ روحانیہ کا اس کی نبوت کے حصول میں کوئی دخل نہیں۔ علاوہ اس کے یہ بھی

355

دیکھ لینا چاہئے کہ حضرت موسیٰ کی بعثت اور شریعت بھی تمام بنی اسرائیل کے لئے عام تھی۔ مگر باوجود اس کے حضرت موسیٰ کے بعد ہی اسرائیل میںبکثرت نبی آئے جو تورات کے احکام کی متابعت اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے اور ان کے آنے سے حضرت موسیٰ کی بعثت اور رسالت عامہ میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ بھی مستقل نبی تھے اور نبوت ان کو حضرت موسیٰm کے طفیل سے نہیں بلکہ براہ راست ملی تھی تو مثل موسیٰ حضرت نبی کریمa کے بعد آپ کی امت سے آپ کے واسطہ اور طفیل سے ایک ظلی اور امت نبی کے آنے پر آپ کی بعثت اور رسالت عامہ میں خلل بالکل نہیں پڑے گا۔

تیسری آیت جو ہمارے مخالفین نبوت کے بالکل بند ہونے کے متعلق بیان کیا کرتے ہیں۔(سورہ اعراف:۱۵۸) کی ہے۔ یعنی ’’قل یٰآیھا الناس… جمیعاً… الخ!‘‘ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ کہہ دو اے لوگو! میں اﷲ کا رسول ہوں تم سب کی طرف۔ اس آیت سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ چونکہ رسول مقبولa کو سب لوگوں کی طرف رسول ہونے کا ارشاد ہواہے۔ اس لئے آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی اور رسول نہیں ہوسکتا۔ اس استدلال کے متعلق میری طرف سے اتنا عرض ہے کہ یہ استدلال محض غلط ہے۔ کیونکہ رسول مقبول کی رسالت کے عام ہونے کا یہ مطلب کہ آئندہ کوئی نبی نہ ہوگا، قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں اس سے پہلے کی آیت کے جواب میں باتفصیل عرض کرچکاہوں۔ یہاں پر صرف اتنا عرض کردیتاہوں کہ خداتعالیٰ نے نبی کریمa کو حضرت موسیٰ سے مشابہت دی ہے۔ جب موسیٰm کی تمام بنی اسرائیل کی طرف نبوت عام ہونے کے بعد بھی انبیاء آنے سے ان کی عام نبوت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ویسے ہی نبی کریمa کی امت میں سے نبی آجانے پر آپ کی رسالت عام میں بھی کوئی خلل نہیں پڑے گا۔

دراں حالیکہ آنحضرتﷺ کے بعد آنے والے نبی آپ کے ہی طفیل سے ماتحت نبوت کا درجہ حاصل کریں۔ اگر رسول مقبولa کی نبوت عام میں کسی نبی کے آنے سے خلل کا احتمال ہوسکتاہے تو ایسے نبی کی آمد سے ہوگا۔ جو نہ آپ کی امت میں سے ہو، نہ اس کی نبوت آپ کی طفیل ہو، بلکہ براہ راست ہو۔ مخالف مولوی صاحبان کی پیش کردہ آیات کے متعلق مفصل عرض کردینے کے بعد اب میں ان احادیث پر ایک ایک کر کے نظر کرتاہوں جو نبوت کے بند ہونے کے متعلق پیش کی جاتی ہیں کہ ان کی اصل حقیقت کیاہے۔

جواحادیث نبوت کے بالکل بند ہونے کے لئے پیش کی گئی ہیں ان کا جواب

حضرت نبی کریمa نے تبوک کو تشریف لے جانے کے بعد حضرت علیq کو امیروجانشین فرمایا۔ حضرت علیq کو حضورﷺ کی جدائی اور آپ کے ہمرکاب نہ جاکر ثواب جہاد حاصل کرنے کا موقعہ نہ ملنے سے تکلیف ہوئی تو آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’الاترضیٰ ان تکون لی… لا نبی بعدی‘‘ جس کا ترجمہ لفظی یہ ہے کہ تو راضی نہیں ہے۔ اس بات پر کہ توہو میری نسبت سے اس مقام پر جس مقام اور منصب پر تھے ہارون موسیٰ کی نسبت سے۔ ہاں! مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اس حدیث کے آخری جملہ ’’الّا انہ لا نبی بعدی‘‘ سے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ نبی کریمa نے اپنے بعد قیامت تک نبوت کی نفی فرمادی ہے۔ میری طرف سے اس کا یہ جواب ہے کہ یہاں پر بعد قیامت تک ممتد نہیں ہے۔ بلکہ آنحضرتﷺ کے مدینہ منورہ سے باہر مقام جنگ پر رہنے کے زمانہ تک ممتد ہے۔میرے پاس ان معنی کی تصدیق میں مندرجہ ذیل شواہد ہیں۔

شاہد:۱… خود واقعہ بھی ثبوت ہے کہ جس طرح موسیٰm چند دنوں کے لئے اپنی قوم سے علیحدہ ہوکر طور پر گئے تھے۔ اسی طرح حضرت رسول کریمa بھی مدینہ منورہ سے چند دنوں کو تبوک تشریف لے گئے۔

356

۲… جس طرح موسیٰm نے اپنے طور پر جانے کے وقت اپنی قوم کے لئے حضرت ہارون کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایاتھا۔ جس کا ذکر سورہ اعراف میں ہے کہ اے ہارون! تو میرا خلیفہ رہ میری قوم میں۔ اسی طرح حضرت نبی کریمa نے تبوک کو جانے کے وقت حضرت علیq کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔ اب جب کہ نبی کریمa نے فرمایا کہ اے علی! تم اس مقام ومنصب پر ہو، جس مقام اور منصب پر حضرت ہارون تھے حضرت موسیٰm کی طرف سے۔ تو سننے والے کو معاً یہ خیال پیدا ہوتاتھا کہ حضرت ہارون کادرجہ حضرت علیq کو مل گیا۔ جیسا حضرت ہارون اپنے بھائی حضرت موسیٰm کی غیر موجودگی میں ان کے خلیفہ بھی تھے اور نبی بھی تھے۔ بالکل ویسے ہی حضرت علیq بھی آنحضرتﷺ کے تبوک کو جانے کی حالت میں خلیفہ بھی ٹھہرے اور نبی بھی۔ نبی کریمa نے اس شبہ کاازالہ کردیا اور فرمایا: ’’الّاانہ ا نبی بعدی‘‘اب جو شخص بھی اس سارے واقعہ پر نظر ڈالے گا وہ یقینا سمجھ جائے گاکہ اس موقعہ پر ’’لانبی بعدی‘‘ کا فقرہ کہنا صرف یہی معنی رکھتاہے کہ میری غیر موجودگی میں تو نبی نہیں ہوگا نہ یہ کہ میرے مرنے کے بعد قیامت تک نبی نہ ہوگا۔ یہاں پر سوال یہ ہوسکتاہے کہ ’’بعدی‘‘ کا لفظ لغت عربی کی رو سے آیاغیر موجودگی کے معنوں میں آتاہے یا نہیں تو میں اس کے جواب میں خود موسیٰm اورہارونm کے واقعہ میں سے ’’بعدی‘‘ کے معنی غیر حاضری پیش کرتاہوں۔ قرآن کریم اس واقعہ کے متعلق فرماتاہے: ’’قدفتناک قومک من بعدک (سورہ طہ)‘‘ یعنی اے موسیٰ! تحقیق ہم نے فتنہ میں ڈالا ہے تیری قوم کو تیری غیر حاضری میں۔ اس آیت میں بعد کے معنی۔ غیر حاضری کے اور نہیں ہوسکتے۔

دوسرا پھر اس واقعہ کی دوسری آیت میں بھی ’’بعدی‘‘ کا لفظ غیر حاضری کے معنی میں استعمال ہواہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’فلما رجع موسیٰm… بعدی (اعراف:۱۵۰)‘‘ یعنی جب لوٹے موسیٰm اپنی قوم کی طرف ناراضگی سے افسوس کرتے ہوئے تو کہا کہ براہے کہ جوقائم مقام رہے۔ تم میرے، میری غیرحاضری میں۔ یہاں بھی ’’بعدی‘‘ کے معنی مرنے کے نہیں بلکہ غیر حاضری کے ہیں۔

تیسرا پھر اس واقعہ کی تیسری آیت میں بھی بعد لفظ کا غیر حاضری کے لئے آیاہے۔ فرمایا: ’’واذ وٰعدنا موسٰی اربعین… من بعدہ وانتم ظالمون (بقرہ:۵۱)‘‘ یعنی جب ہم نے وعدہ لیا موسیٰm سے چالیس راتوں کا تو پھر اے یہودیو! بنالیا تم نے بچھڑا معبود ان کی غیر حاضری میں۔ اس آیت میں بھی بعد کا لفظ غیر حاضری کے حق میں ہے نہ کہ مرنے کے بعد کے معنی میں۔

دوسری دلیل اس امر کی کہ: ’’الا انہ لانبی بعدی‘‘ سے قیامت تک کی نفی نبوۃ مراد نہیں۔بلکہ صرف حضرت علیq کی نبوت کی نفی ہے۔ یہ ہے کہ اس واقعہ کی دوسری روایتیں اس امرکی تصریح فرماتی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں یہی واقعہ بیان کر کے پھر ’’الّا انہ لا نبی بعدی‘‘ کی بجائے یہ الفاظ مروی ہیں۔ ’’غیر انک لست نبیاً (طبقات کبیر ج۳ ص۱۵)‘‘ مگر یہ کہ تو نبی نہیں ہے۔ یعنی نبی کریمa نے حضرت علیq کو حضرت ہارونm کا منصب دیتے وقت نبوت کی نفی کو ان معنوں میں ظاہر فرمایا کہ مگر اے علی تو نبی نہیں ہے۔ اس روایت کی موجودگی میں قطعاً کسی کا حق نہیں ہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے یہ معنی کرے کہ آئندہ قیامت تک کی نفی مراد ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی ہمارے عقائد کے خلاف نہیں پڑتی۔

دوسری حدیث جو عام طور پر نبوت کے بالکل بند ہونے کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہے، یہ ہے کہ: ’’کانت بنو اسرائیل… خلفا‘‘ (بحوالہ بخاری جلد۲) یعنی بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کبھی کوئی نبی وفات پاتا، دوسرا اس کے قائم مقام ہوجاتاہے۔ میرے بعد نبی نہیں۔ عنقریب خلفاء ہوں گے۔ اس حدیث کے الفاظ تو واضح ہیں۔ قطعاً کوئی لفظ اس میں ایسا نہیں کہ جس میں

357

قیامت تک کی نفی نبوت مراد ہو۔ ہاں! استدلال کے طور پر کہا جاتاہے کہ ’’لانبی بعدی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا۔ میں جواباً عرض کرتاہوں کہ یہ استدلال محض غلط ہے اور خود حدیث کے الفاظ یہ اس استدلال کی نفی کررہے ہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے پہلے بنی اسرائیل کا ذکر فرماکر (کہ ان کی سیاست انبیاء) کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہوگیا تو اس کی جگہ دوسرا نبی کھڑا ہوجاتا، اپنے فوت ہونے کے بعد نبوت کی نفی فرمائی ہے۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ بنی اسرائیل میں تو جب کوئی نبی فوت ہوتا اس کے معاً بعد اس کا قائم مقام بھی نبی ہی ہوتاتھا۔ لیکن میرے فوت ہونے کے بعد میرا قائم مقام نبی نہیں ہوگا۔ اس حدیث کے لفظ بعد سے ’’بعد‘‘ متصل مراد ہے نہ کہ ’’بعد‘‘ منفصل۔ یعنی اس حدیث میں اپنی وفات کے معاً بعد نبوت کی نفی کی ہے نہ کہ قیامت تک کے نبی نہ ہونے کی۔ کیونکہ اگر حضورﷺ کو قیامت تک کی نفی نبوت مراد ہوتی تو اپنی وفات کے ساتھ بنی اسرائیل کا قصہ جوڑنے کی ہر گز ضرورت نہ تھی۔

جواب دوم: میں ’’تسوسھم ہم‘‘ کا لفظ خود دلیل ہے کہ یہاں پر کیسے انبیاء کی نفی مراد ہے۔ چونکہ انبیابنی اسرائیل دوقسم کے ہوئے ہیں۔ جلالی اورجمالی۔ یعنی بعض سیاسی نبی نہیں تھے۔ مثلاً زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور بعض انبیاء سیاسی تھے۔ جیسے یوشع، دائود، سلیمانo۔ پس نبی کریمa نے انبیاء بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو اپنی سیاست کے لئے انبیاء کی ضرورت تھی۔ مگر امت محمدیہ کو اپنی اس سیاست کے لئے انبیاء کی ضرورت نہ ہوگی۔ سب سے پہلے خود حضرت موسیٰm نے جو سیاست شروع کی تھی، اس سیاست کو بھی چلانے کے لئے ان کی وفات کے معاً بعد دوسرے سیاسی نبی کی ضرورت ہوئی۔ دائودm کے بعد سلیمانm کی ضرورت ہوئی۔ مگر میرے بعد میری شروع کی ہوئی۔ سیاست کو چلانے کے لئے انبیاء کی ضرورت نہ ہوگی۔ میرے خلفاء ہی اس سیاست کو چلائیں گے۔ پس ’’تسوسھم‘‘ کا لفظ خود وضاحت کرتاہے کہ یہاں سیاسی نبیوں کا ذکر ہے کہ میرے بعد امت محمدیہ کی سیاست کے لئے نبیوں کی ضرورت نہ ہوگی۔ جیسا کہ موسیٰ کے بعد معاً یوشع کی سیاست کے لئے ضرورت ہوئی۔

جواب سوم: اس امر کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ اسی ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی بزرگان سلف نے کیاکئے ہیں، وہ معنی ہمارے کسی تنازعہ میں فیصلہ کردینے کے لئے پہلے بیان کردہ احادیث کے اور زیادہ مؤید ہوجائیں گے اور لازماً ماننا پڑے گا کہ ان مذکورہ بالا دلائل اور قرآن کے علاوہ ہمارے بزرگوں نے جو معنی بیان فرمائے ہیں، وہ زیادہ قابل قبول ہیں۔

چنانچہ ملاحظہ ہو۔

۱… حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں: ’’فاما نبوۃ التشریع والرسالۃ منقطع… نبی‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۴، مصری) یعنی کلی طور پرنبوت بند نہیں ہوئی۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ صرف نبوت تشریعی منقطع ہوگئی ہے۔ پس یہی معنی ہیں: ’’لانبی بعدی‘‘ کے اور ہم نے جان لیا کہ آپa کا ’’لانبی بعدی‘‘ فرمانا۔ اس لحاظ سے ہے کہ کوئی شریعت والا نبی نہیں آئے گا۔ نہ یہ کہ آپ کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہ ہو۔

۲… عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۴۳) پر فرماتے ہیں: ’’فقولہ… خاصۃ‘‘ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو کہ خاص شریعت جاری کرے۔

۳… علامہ محمد طاہر فرماتے ہیں اپنی کتاب (مجمع البحار تکملہ ص۸۵) پر: ’’وھذا… شرعتہ‘‘ کہ مسیح موعود کا آنا ’’لانبی بعدی‘‘ کے مخالف نہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کی مراد ’’لانبی بعدی‘‘ میں یہ ہے کہ کوئی ایسانبی نہیں کہ جو شریعت کو منسوخ کرے۔

358

۴… مولانا نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں: ہاں! ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے جس کا معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں۔ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لائے گا۔

(اقتراب الساعۃ ص۱۶۲، مطبوعہ آگرہ)

تیسری حدیث نبوت بالکل بند ہونے کے اثبات میں استدلالاً یہ پیش کی جاتی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایاہے: ’’مثلی ومثل الانبیاء… خاتم النّبیینa‘‘ (بخاری ج۲،کتاب الفضائل) اس حدیث سے یہ استنباط اور استدلال کیا جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ اور آپa سے پہلے نبیوں کی مثال ایک محل کی ہے کہ آپa نے قصر نبوت کی تعمیر خود تشریف لاکر بند کر دی۔ کیونکہ آپ آخری اینٹ تھے۔

جواب اوّل اس استدلال کا یہ ہے کہ اس حدیث میں صاف طور پر نبی کریمa نے ’’من قبلی‘‘ کی شرط لگادی ہے کہ میری مثال اور ان نبیوں کی مثال جو مجھ سے پہلے ہوچکے ہیں، ایسی ہے جیسے محل کی اینٹیں۔ نبی آتے گئے اینٹیں لگتیں گئیں۔ آخر ان گزشتہ نبیوں کے بعد آنحضرتﷺ تشریف لائے اور آپ نے ان نبیوں کو جو آپ سے پہلے آئے تھے ختم کردیا۔ چونکہ ان کی اینٹیں لگ چکی تھیں۔ پس اس مثال سے آنحضرتﷺ نے دوباتیں ظاہر فرمائی ہیں۔

اوّل جس قسم کے نبی پہلے آیا کرتے تھے اس قسم کے نبی اب ہر گز نہیں آئیں گے۔

دوسرا پہلے جو نبی آچکے ہیں ان نبیوں میں سے اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔

ان دو مطالب کے علاوہ کوئی تیسرا مطلب ہو بھی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خود نبی کریمa نے ’’من قبلی‘‘ یعنی مجھ سے پہلے کی شرط لگادی ہے۔ اگر یہ دونوں مطلب مراد نہ ہوتے تو ’’من قبلی‘‘ کی قید لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ پس یہ حدیث تو ہمارے مفید مطلب ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ آدمm کے بعد جس قسم کی نبوتیں شروع ہوئیں اور ہوتی رہیں ان سب نبیوں کو آنحضرتﷺ نے آکر بالکل ختم کردیا ہے۔ کمالات کے لحاظ سے، شریعت کے لحاظ سے ، استقلال کے لحاظ سے، زندگی کے لحاظ سے، اب ایسا نبی جو کوئی کمال لانے والاہو یا نئی شریعت لانے والاہو یا بغیرآپ کے افاضہ کے مستقل طور پر آنے والاہو یا کوئی ایسا نبی جس کو زندہ تصور کیا جارہاہو، کوئی بھی نہیں آئے گا۔ چونکہ نبوت بالاتباع کا وجود پہلے نہ تھا۔ یہ مرتبہ صرف آنحضرتﷺ کو ہی ملا ہے۔ اس لئے ایسی نبوت نہ پہلے تھی اور نہ اس کے بند ہونے کا کوئی ذکرتھا اور نہ بند ہوئی۔ کیونکہ یہ نبوت بالاستفادہ تو اس آخری اینٹ سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اگر ہمارا یہی اعتقاد ہوتا کہ پہلے انبیاء کی طرح شرعی نبی آسکتاہے یا انبیاء غیر تشریعہ کی طرح کوئی مستقل طور پر نبی بن سکتاہے یاکمالات کے لحاظ سے کوئی کمال لاسکتاہے یا پہلا کوئی نبی زندہ ہے اور وہ آسکتاہے یا آئے گا تو ان سب صورتوں میں ہمارے خلاف یہ حدیث پیش کی جاسکتی تھی۔ مگر چونکہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے اور ہم اس قسم کی سب نبوتوں کو بند سمجھتے ہیں۔ اس لئے یہ حدیث ہمارے معتقدات کے قطعاً مخالف نہیں ہے۔ جو لوگ ہمارے خلاف یہ حدیث پیش کرتے ہیں، وہ یا تو ہمارے اعتقادات کو نہیں جانتے یا جانتے ہوئے عمداً ’’من قبلی‘‘ کی شرط کو نظرانداز کردیتے ہیں۔

چوتھی حدیث: جو ہمارے مقابل پر پیش کی جاتی ہے وہ مسلم ج اوّل کی ہے۔ جس میں انبیاء پر فضیلتوں کا اظہار اپنی ذات کے لئے آنحضرتﷺ نے فرمایاہے۔ اس کے آخر میں ’’ختم بی النّبیون‘‘ اس فقرہ کے یہ معنی کئے جاتے ہیں کہ میرے وجود کے ساتھ ہی انبیاء ختم کئے گئے۔ معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

جواب اوّل: یہ حدیث بھی ہمارے معتقدات کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس حدیث کی بھی دوسری روایتوں میں ’’من قبلی‘‘ کی شرط موجود ہے۔ یعنی حضور نے فرمایا ہے کہ مجھ سے پہلے جو انبیاء آئے ہیں۔ ان پر مجھے پانچ یا چھ باتوں میں فضیلت حاصل ہے اور وہی

359

میرے ذریعہ ختم ہوئے ہیں۔ اس میں بعد میں آنے والے انبیاء کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ حضورسے پہلے آنے والے انبیاء کا ذکر ہے۔ پہلے انبیاء جس قدر بھی تھے یا جس قسم کے تھے، وہ ہر رنگ میں ختم ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ میں پہلی حدیث کے جواب میں مفصل عرض کرآیاہوں۔

چونکہ پہلے انبیاء میں سے کسی نبی کو یہ شان حاصل نہ تھی کہ اس کی اتباع اور اس کی برکت روحانیہ سے کوئی دوسرا نبی بنے۔ یہ شان صرف آنحضرتﷺ کو ہی حاصل ہوئی۔ اس لئے ایسے انبیاء کا یہاں پر کوئی ذکرنہیں ہے۔ چونکہ ایسے انبیاء پہلے نہ تھے۔ اس لئے ان کے بند ہونے کی بھی کوئی تصریح نہ آئی۔ جولوگ کسی نبی کو ابھی تک زندہ مانتے ہیں اور ختم شدہ قرار نہیں دیتے، یہ حدیث تو ان کے خلاف ہے۔ ان کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ پہلے نبی جن پر نبی کریم اپنے آپ کو فضیلت دے رہے ہیں وہی نبی پھر آکر حضور کی ان فضیلتوں میں شریک ہوجائے گا اور اس حدیث کو معاذ اﷲ! غلط کریں گے۔ کیونکہ اس حدیث میں مفید باتیں بیان کی گئی ہیں۔ وہ سب ان کو حاصل ہوجائیں گی۔

جواب دوم: بزرگان سلف اور حضرت عائشہ صدیقہt۔ بلکہ حضرت نبی کریمa نے خاتم النّبیین کے جومعنی بیان فرمائے ہیں، جنہیں میں مفصل طور پر پہلے ذکر کرآیاہوں وہ معنی مقدم ہوں گے نہ کوئی اور۔ ان تصریحات نے یہ وضاحت کردی ہے کہ خاتم النّبیین سے شرعی انبیاء کا ختم مراد ہے نہ سب کا۔ پس ان دونوں جوابوں کی رو سے یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں ہے۔

پانچویں حدیث: جو ہمارے مقابل پر پیش کی جاتی ہے وہ: ’’ان آخر الانبیاء… آخر الامم‘‘ ہے۔ رسول مقبولa نے فرمایا کہ میں تمام انبیاء سے آخری نبی ہوں اور تم تمام امتوں سے آخری امت ہو۔

جواب اوّل: میں اس کے متعلق یہ عرض کرتاہوں کہ ’’آخر الامم‘‘ کا فقرہ نبی کریمa نے آخر الانبیاء کی تشریح کے لئے بیان فرمایاہے۔ مطلب یہ کہ میں ان انبیاء کاآخرہوں جو مستقل امتیں بنایاکرتے تھے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ تم آخری امت ہو۔ اب امت بنانے والا کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ واقعتا بات ہے اور ہمارااس پر ایمان ہے کہ نبی کریمa کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو حضورﷺ کی امت سے باہر کا کسی دوسری امت کا ہویا آپ کی امت میں سے ہی ہو مگر علیحدہ امت بنائے۔ اب جو انبیاء آئیں گے وہ چونکہ نبی کریمa کے طفیل سے ہی نبی بن گئے، وہ خود ہی آنحضرتﷺ کی امت میں سے ہوں گے اور ان کے ماننے والے بھی آنحضرتﷺ کی امت ہی ہوں گے۔

جواب دوم: حضرت نبی کریمa نے آخر الانبیاء کے الفاظ کی ایک اور تصریح بھی فرمائی ہے۔ یعنی مندرجہ بالا ’’آخر الامم‘‘ کے الفاظ سے جس قسم کے نبیوں کے آخر ہونے کا ذکر تھا، ویساہی آپ نے خاص قسم کے نبیوں کے آخر ہونے کے لحاظ سے یہ فرمایا: ’’اناآخر الانبیاء ومسجدی ہذاآخر المساجد‘‘ یعنی میں آخر الانبیاء ہوں اور میری یہ مسجد آخر المساجد ہے۔ حضورنبی کریمa نے آخر الانبیاء کے الفاظ کی نہایت واضح تفصیل فرمادی ہے کہ میں ایسا ہی آخر الانبیاء ہوں جیسی میری یہ مسجد آخر المساجد ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس مسجد کے بعد اور مسجدیں بھی بنی ہیں یانہیں۔ اگر بنی ہیںتو کیا انہوں نے اس مسجد نبوی کے آخر المساجد ہونے میں کوئی خلل ڈالاہے۔ یقینا نہیں ڈالا۔ اس لئے کہ وہ بعد کی تمام مساجد اس قبلہ کی طرف ہیں جس قبلہ کی طرف مسجد نبوی کا رخ ہے اور اس طرز اور نمونہ پر ہیں جس طرح مسجد نبوی ہے۔ ایسا ہی کوئی نبی جو شریعت محمدیہ پر چلنے والا ہو اور اس نبی کریمa کے نمونہ پر ہو، ماتحتی کے لحاظ سے جیسا کہ عا م مسجدیں، مسجد نبوی کے ماتحت اور نمونہ پر ہیں تو اس کے آنے میں نبی کریمa کے آخر الانبیاء ہونے میں کوئی خلل نہیں آتا۔ پس اس حدیث میںخود نبی کریمa نے ہی آخر المساجد کے الفاظ کہہ کر تشریح فرمادی ہے کہ جو معنی آخر المساجد کے ہوں، وہی آخر الانبیاء کے لینے چاہئیں۔ ورنہ آخر الانبیاء کے ساتھ آخر المساجد کے الفاظ لانا قطعاً بے سود اور بیکار ہے۔

360

جواب سوم: عربی زبان میں آخر کا لفظ فقید المثال کے لئے بھی آتاہے۔ اس لحاظ سے آخر الانبیاء اور آخر الامم کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ میں انبیاء میں سے فقید المثال اور بے نظیر ہوں اور تم تمام امتوں میں سے بے نظیر اور بہتر امت ہو۔ ان معنی کی تائید میں ہمیں عربی زبان کے محاورات ملتے ہیں جن میں آخر کا لفظ بول کر موصوف کا فقید المثال ہونا مراد لیاگیاہے۔ ’’شرادوی وشکری من لبدٍ لاضر غالبٍ آمد اگر بیع ہمالہ‘‘ (مترجم ہندی طبع ص۱۴۲) اس کے ترجمہ میں شارح یہ الفاظ لکھتاہے کہ ربیع بن زیاد نے میری دوستی اور پھر شکر دور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی غالب میں آخر شخص ہے، یعنی ہمیشہ عدیم المثال ہے، خرید لیا اور مراد عدیم المثال سے ربیع ہے۔ یعنی اپنے لئے خریدلیا۔

دوسری (الاشباہ والنظائر ج۳ ص۳۱ مصری) میں علامہ جلال الدین سیوطی نے حضرت امام ابن تیمیہ کے لئے یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’سیدنا… آخر المجتہدین‘‘ تیسراان میں بھی انہیںمعنوں میں اقبال کا یہ مشہور شعرہے ؎

  1. چل بساداغ آہ میت اس کی زیب دوش ہے

    آخری شاعر جہاں آباد کا خاموش ہے

(بانگ دراص۸۹) چونکہ ان معنوں کی تائید قرآن پاک سے اور احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اس لئے بھی یہ معنی مقدم ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے اور تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ بعد از بہتر ہے۔ اس وجہ سے حضرت مولانا روم نے فرمایاہے ؎

  1. بہر ایں خاتم شداست روکہ بجود

    مثل اونے بود نے خواہند بود

حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں ؎

  1. ندانم ہیچ نفسے دردوعالم

    کہ داروشوکت وشان محمد

(ضمیمہ آئینہ کمالات اسلام ص۱، خزائن ج۵ ص۶۴۹)

یافرمایا ہے ؎

  1. ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل

    تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایاہم نے

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۲۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)

غرض یہ حدیث بھی ہمارے خلاف نہیں ہے۔ بشرطیکہ نبی کریم کا فرمودہ تشریعی سامنے ہو اور اس کا دل میں کچھ وقار ہو یاآخر کے محاورات مدنظرہوں۔

چھٹی حدیث: جو ہمارے خلاف پیش کی جاتی ہے۔ ’’وہ لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ ہے۔ جس میں بعدی سے مراد بعد موت لی جاتی ہے۔

جواب اوّل: اس کا یہ ہے کہ اس حدیث کا ترجمہ کرتے وقت ہمارے مخالفین اس تشریح کو چھوڑدیتے ہیں۔ وہ خود رسول مقبولa سے مروی ہے۔ حضرت کریمa سے اس حدیث کی دیگر روایات نے ان الفاظ کی تشریح کردی ہے۔ ایک مؤمن کا یہی کام ہے کہ ایک روایت جس معنی کی تائید دوسری روایت سے ہوتی ہے ان کو مقدم کرے۔ محدث ملّا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث: ’’لوکان بعدی نبی‘‘ کی دیگر روایتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’لولم ابعث لبعثت عمر‘‘ (شرح مشکوٰۃ مصری ج۵ ص ۵۳۹) مجتبائی کے حاشیہ پر بھی یہی لکھاہے: ’’وفی معنی طرق ہذاالحدیث… لولم ابعث لبعثت یاعمر‘‘ یعنی میں اگر اس وقت مبعوث نہ

361

کیا جاتا تو اے عمر! تم مبعوث کئے جاتے۔ اس روایت نے بتلادیا کہ: ’’لوکان بعدی نبی‘‘ کا لفظ علاوہ اور سوا کے معنوں میں ہے نہ کہ بعدموتی کے معنی میں اب اس روایت کے ہوتے ہوئے کسی شخص کا وہ معنی کرنا جو اس حدیث کے صریح خلاف ہوں محض مغالطہ میں ہے۔ اس طرح اس حدیث کی روایت (کنوز الحقائق مصری ص۱۰۳) میں اس طرح آئی ہے: ’’لولم ابعث فیکم لبعثت عمر فیکم‘‘ ایسا ہی اس حدیث کی ایک اور روایت تاریخ الخلفاء میں حضرت ابوبکرصدیق کی سند سے اس طرح آئی ہے: ’’لوم لم ابعث فیکم لبعث عمر‘‘ (تاریخ الخلفاء مصری ص۳۶) ایسا ہی یہ روایت (کنز العمال ج۶ ص۱۴۷) پر بھی آئی ہے۔ کس وضاحت تامہ سے بتلایاگیاہے کہ ’’بعدی‘‘ کا معنی غیری کے ہیں۔

ان روایات کی موجودگی میں جن کے روای بھی علیحدہ اور سندیں علیحدہ اور ان کو درج کرنے والے بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ وہ معنی نہ کرنا جو رسول مقبولa کے فرمودہ ہیں اور ان کے خلاف کچھ اور معنی کرنا محض ضد پر محمول کیا جائے گا۔ اس مقام پر ایک شبہ ہوتاہے کہ آیا بعدی کے معنی علاوہ اور سوا یا غیر کے ہیں یا نہیں۔ سو میں اس کی چند مثالیں قرآن کریم سے پیش کرتاہوں۔

’’من ذالذی ینصرکم من بعدہٖ (آل عمران:۱۶۰)‘‘ کون ہستی ہے جوتمہاری مدد کرے اﷲتعالیٰ کے علاوہ یا اس کے سوا دوسرا۔’’مایفتح اﷲ للناس… من بعدہ (فاطر:۲)‘‘ جو رحمت خداتعالیٰ لوگوں کے لئے جاری کرے۔ کوئی نہیں اسے روکنے والا اس کے سوا اور جس رحمت کو وہ خود روک لے کوئی جاری نہیں کر سکتا اس رحمت کو۔

سوا س کے ساتویں حدیث: جو ہمارے مقابلہ پر پیش کی گئی ہے، وہ یہ ہے: ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت… ولانبی‘‘ جواباً عرض ہے کہ یہ معنی صحیح نہیں ہیں۔ میں بجائے خود صحیح معنی پیش کرنے کے اپنے مخالفین کے مسلمہ بزرگ صوفی اور ولی حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے معنی پیش کرتاہوں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’ان النبوۃ… ولانبی‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۳) یعنی وہ نبوت کہ جو رسول اﷲa کے وجود باجود کے ساتھ منقطع ہوئی ہے وہ صرف شرعی نبوت ہے نہ عام مقام نبوت۔ پس کوئی شرح نہ ہوگی جواس شرع کے ناسخ ہو اور نہ کوئی حکم آپ کی شریعت میں زیادہ ہوگا۔

اور یہی معنی ہیںآنحضرتa کے ارشاد ان الرسالۃ والنبوت…… نبی بعدی کے۔

جواب دوم: اگر پیدا ہونے کی شرط لگائی جاوے کہ آئندہ کوئی رسول یا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا یا نیا ہونے کی شرط لگائی جاوے کہ آئندہ کوئی نیارسول یا نیا نبی نہیں ہوگا تو یہ تاویل بھی محض غلط ہے۔ کیونکہ ’’لانبی بعدی ولارسول‘‘ کے فقرہ میں پیدا ہونے یا نئے آنے کا کوئی لفظ نہیں ہے۔اگر مراد اور مطلب بیان کرتے وقت کسی خصوصیت کی قید لگائی جاسکتی ہے تو وہ قید مناسب سمجھی جاسکتی ہے۔ جس کی تائید قرآن کریم یا احادیث نبویہ یا اقوال بزرگان سلف سے ہوتی ہو، نہ اپنی کوئی ذاتی۔ سو میں احادیث اور اقوال بزرگان سلف سے ثابت کرچکاہوں کہ صرف شرعی نبوت ختم ہوئی ہے نہ کوئی اور۔ پس یہ خصوصیت اور تقیید لگائی جاسکتی ہے کہ ’’فلا رسول بعدی ولا نبی‘‘ سے مراد شرعی رسالت اور شرعی نبوت کی نفی ہے۔

جواب سوم: یہاں پر صرف لانفی جنس کے لئے نہیںآیا۔ بلکہ نفی کمال کے لئے آیاہے اور معنی یہ ہے کہ میرے جیساکامل رسول آئندہ نہیں ہوگا اور یہ ہمارے مخالفین کو بھی مسلم ہے کہ ’’لانبی بعدی ولارسول‘‘ کی طرح حضرت نبی کریمa کے دیگر اقوال مبارکہ بھی ہیں جن میں وہ معنی کمال مراد لیتے ہیں۔ مگر کسی خاص قسم کی کوئی نفی، کوئی مراد نہیں لیتا۔ مثلاً ’’لاصلوٰۃ الابفاتحۃ الکتاب‘‘ اس کے

362

بھی یہی معنی لئے جاتے ہیں کہ کامل نماز نہ ہوگی نہ یہ کہ نماز ہی نہ ہوگی۔ ’’لادین لمن لا عہدلہ‘‘ اس کا یہی معنی ہے کہ وہ کامل دیندار نہ ہوگانہ یہ کہ بالکل بے دین ہوگا جو عہد پورا نہ کرے۔ تیسرا ’’لا ایمان لمن لا امانت لہ‘‘ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وہ کامل بے دین نہ ہوگا نہ یہ کے وہ بے ایمان ہوگا جوامانت میں خیانت کرے۔ چوتھا ’’اذاھلک قیصر فلا قیصر بعدہ‘‘ اس طرح ہے۔ ’’اذاھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدی‘‘ ان تمام مذکورہ بالا مثالوں میں حرف ’’لا‘‘کو کوئی بزرگ بھی نفی جنس کا قرار نہیں دیتا۔

محمد اکبر!

۱۵؍مارچ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان شہادت مولوی غلام احمد صاحب گواہ فریق ثانی… باقرار صالح

آٹھویں حدیث تیس دجالوں والی پیش کی جاتی ہے۔ جس کے متعلق پہلا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے۔ جس کا یہ مطلب ہوکہ آئندہ کسی قسم کی کوئی نبوت نہیںہوگی اور نہ ہی یہ الفاظ ہیں کہ جو ہوگا وہ جھوٹا ہوگا۔بلکہ صرف اتنا کہاہے کہ قریباً تیس ایسے ہوں گے۔ جب تک ایسے الفاظ نہ ہوں کہ آئندہ مطلق نبوت نہ ہوگی یاجودعویٰ نبوت کرے گا وہ دجال ہوگا۔ تب تک نبوت کی بالکل نفی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ فلاں شہرپر اس وقت مصیبت نہ آئے گی جب تک اس میں چالیس جھوٹے قاضی نہ بن لیںتوکیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اس شہر میں کوئی سچا قاضی بھی نہیں ہوگا اور جو ہو گا وہ جھوٹا ہوگا۔ اس کی حقیقت اورزیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ جب کہ امت محمدیہ کے مناقب اور اس کے فضائل پر نظر کی جاوے۔ قرآن اور حدیث دونوں سے اس کاخیر امت ہونا ثابت ہے۔ جب اس خیر امت میں بیماری اس قدر پھیلے تو کس طرح ماناجاسکتاہے کہ طبیب اس میں پیدا نہ ہوں۔ ورنہ لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ یہودی اور عیسائی بننے اوردجال اور کاذب مدعیان نبوت کے آنے کے لئے تو یہ امت ہے۔مگر سچے مدعیان نبوت کے لئے نہیں ہے۔ کیا اس طرح پر امت محمدیہ کا خیر الامت ہونا باقی رہتا ہے۔

جواب دوم: شارح صحیح مسلم امام ابوعبداﷲ محمدابن خلیفہ مالکی نے اس حدیث کے متعلق یہ شہادت دی ہے: ’’ھذالحدیث ظاہر اصدقہ… ذالک‘‘ (اکمال الاکمال ج۷ ص۲۵۸ مصری) یعنی اس حدیث کی سچائی ظاہر ہوچکی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ جنہوں نے آنحضرتﷺ کے وقت سے آج تک جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاہے، شما ر کئے جاویں تو یہ تعداد پوری ہوجائے گی اور ہر وہ انسان جو تواریخ کا مطالعہ کرے گا، اس کو یہ تعداد پوری ہوجانے کا اقرار کرنا پڑے گا۔ پھر اس مسلم کی دوسری شرح اکمال الاکمال میں دوسرے امام ابوعبداﷲ محمدبن علی المازری فرماتے ہیں: ’’ھذالحدیث… عداد‘‘ یعنی اس حدیث کی سچائی پوری ہوچکی ہے اور شمارکئے جاویں تو یہ تعداد پوری ہوچکی ہے۔ چونکہ یہ دونوں مصنف آج سے تقریباً پانچ سو برس قبل ہوچکے ہیں۔ اس لئے ماننا پڑتاہے کہ آج سے پانچ سو برس قبل یہ حدیث پوری ہوچکی ہے۔

جواب سوم: علاوہ ازیں زمانہ حال کے مشہور مصنف مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب (حجج الکرامہ صفحہ۲۳۳ تا ۲۳۹ و۳۳۶) وغیرہ نام بنام ان مدعیان نبوۃ ومہدیت کا ذکر کرکے اس تعداد کو پوراکر دکھایاہے۔

جواب چہارم: اس حدیث کی دیگر روایتوں میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ صحابہ کرام نے ایسے دجالوں کی علامات دریافت

363

کیںتو آنحضرتﷺ نے فرمایاکہ جس طریقہ پر تم ہو،اس طریقہ کے خلاف وہ طریقہ تمہارے لئے پیش کریں گے۔ یعنی خلاف اسلام وہ دوسری شریعت جاری کریں گے۔ ایسا ہی اس حدیث کی دوسری روایتوں میں دجالوں کا ذکر کرنے کے بعد نبی کریمa نے مثلاً مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو بھی فرمایاہے۔ جس سے صاف طور پر ثابت ہوتاہے کہ ان دجالوں سے مراد وہی دجال مدعیان نبوت ہیں جو خلاف اسلام نئی کتاب یا کسی نئی شریعت کے دعویٰ دار ہوں۔ ان دونوں روایتوں کا ذکر (حجج الکرامہ ص۲۳۳) پر ہے جوبالفاظ ذیل ہے: ’’ودرحدیث ایں خبراست… از انتہاء‘‘

پس حاصل کلام یہ کہ اس حدیث میںتیس کے قریب مدعیان نبوت کا ذبہ کے آنے کی خبر ہے۔کسی سچے مدعی نبوت ظلیہ، غیر تشریعی کے آنے کی ممانعت نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ قوی شہادتوںسے ثابت ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت کی یہ تعداد آج سے پانچ سو برس پہلے پوری ہوچکی ہے۔

تیسرے یہ کہ اس حدیث سے مراد خود نبی کریمa کے فرمودہ اورتشریح کے مطابق بھی ایسے مدعیان نبوت کاذبہ مراد ہیں جوخلاف اسلام نئی شریعت کو جاری کرنے والے ہوں۔ لہٰذا یہ حدیث ہمارے خلاف قطعاً پیش نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ ہم بھی ایسے مدعیان نبوت کوکافر گردانتے ہیں اور حضرت مرزاصاحب کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ پایا وہ محمدمصطفیa کی اقتداء اور پیروی اور برکت سے پایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں ؎

  1. یک قدمے دوری ازاں روشن کتاب

    نزد ما کفر است و خسران و تباب

(سراج منیر ص ط، خزائن ج۱۲ ص۹۶)

نویں حدیث: جس میں ’’وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہٗ نبی‘‘ کا جملہ ہے جو ہمارے خلاف پیش کی جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا آخری فقرہ جس سے استدلال کیاجاتاہے کہ آئندہ کسی قسم کی نبوت نہیں ہوگی۔ حضرت نبی کریمa کا فرمودہ نہیں ہے۔ کیونکہ اوّل یہ حدیث (بخاری ج۲، کتاب الفضائل ج۳، تفسیر سورہ صف) دوجگہ آئی ہے۔مگر ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ کا جملہ دونوں جگہ نہیں ہے۔ مگر یہ فقرہ آنحضرتﷺ نے فرمایاہوتا تو بقیہ دوتفسیری جملوں کی طرح اس کی بھی روایت ہوتی اور حضرت امام بخاری اس جملہ کو بھی ضرور درج فرماتے۔ امام بخاری کا دودفعہ اس حدیث کو اپنی کتاب میں درج کرنا، مگر آخری جملہ کودرج نہ کرنا اس امر کی زبردست دلیل ہے کہ وہ جملہ جس سے استدلال کیاجاتاہے۔ آنحضرتﷺ کا فرمودہ نہیں ہے۔

دوم (صحیح مسلم ج۲) میں اس امر کی تصریح موجود ہے کہ یہ تفسیری جملہ ابن شہاب امام زہری کا ہے جو اس حدیث کی ہراسناد میں آتے ہیں۔ چنانچہ لکھاہے کہ: فی حدیث ’’عقیل قال قلت لزھری ما العاقب قال الذی لیس بعدہ نبی‘‘ یعنی عقیل نے امام زہری سے پوچھا کہ عاقب کون ہوتاہے۔ تو انہوں نے یہ فقرہ بولا۔

سوم: یہ بھی قرینہ خاص قابل غور ہے کہ اگر یہ جملہ حضرت نبی کریمa کا بھی فرمایاہواہوتا تو ماحی اور حاشر کی تفسیر کی طرح عاقب کی تفسیر میں بھی الفاظ یہ ہوتے کہ: ’’الذی لیس بعدی نبی ٌ‘‘ اور ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ کے الفاظ نہ ہوتے۔ یعنی دونوں تفسیری جملوں میں ’’بعدی‘‘ متکلم سے فرمانا دلیل ہے اس امر کی کہ اگر عاقب کا تفسیری جملہ یہی آنحضرتﷺ نے فرمایاہوتا تو وہ بھی بعدی ’’ی‘‘ متکلم سے ہوتانہ کہ بعدہٗ ضمیر غائب سے، جو اپنے الفاظ سے بتارہاہے کہ اس جملہ کا کہنے والا آنحضرتﷺ کے سواکوئی اور ہے۔

364

چہارم: مرقاۃ شرح مشکوٰۃ محدث ملّا علی قاری نے لکھا ہے: ’’الظاہر ان ھذ التفسیر… من بعدہٗ‘‘ زیر حدیث یعنی یہ ظاہر بات ہے کہ یہ تفسیری جملہ صحابی یا کسی تابعی یا تبع تابعین کا ہے نہ آنحضرتﷺ کا۔ الغرض جب یہ تفسیری جملہ آنحضرتﷺ کا فرمودہ نہ ہو تو لامحالہ ماننا پڑا کہ اس سے جو استدلال کیاگیاہے وہ از خود غلط ہے۔

دسویں حدیث: ’’لایبقی بعدہٗ من نبوۃ الا مبشرات‘‘ والی حدیث پیش کی جاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان آیات سے قطع نظر بھی کی جاوے کہ جن سے قرآن کریم کے بعد غیر تشریعی ظلی نبوت کا وجود ہوتاہے اور ان احادیث کو بھی نظر انداز کردیاجاوے۔ جن میں امت محمدیہ کو آئندہ ظلی نبوت کی بشارت دی گئی ہے اور ان بزرگان سلف کے اقوال کو بھی مد نظر نہ رکھا جاوے جو اس حدیث کی موجودگی میں وحی والہام وکشف کے مدعی تھے۔ جنہوں نے آئندہ نبوت ظلیہ کی بھی تصریح کی ہے جو سب اقوال تیسری اور چوتھی وجہ تکفیر میں ذکر ہوں گے تو یہ بھی حدیث ہمارے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس حدیث کی عمومیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پھر رؤیا صالحہ کے باقی تمام انعام اوربرکات کی نفی ماننی پڑتی ہے۔ حالانکہ اس امت کے وحی والہام سے مشرف ہونے کی فضیلت سب مسلمانوں کو مسلم ہے۔ لہٰذا یہ ماننا پڑاکہ آنحضرتﷺ کا یہ فرمانا باعتبار عام مسلمانوں کے ہے نہ کہ خواص اور کل افراد کے لئے۔ کیونکہ ان خواص اور کاملین کو رؤیاصالحہ سے بڑھ کر انعامات مل چکے ہیں اور واقعات زمانہ نے ثابت کردیاہے کہ اس حدیث سے بجز رؤیاصالحہ کے اور سب قسم کی نعمت کے انقطاع کا استدلال خداوند تعالیٰ کی فعلی شہادت کی وجہ سے محض غلط ہے۔ چنانچہ علامہ سندھی تصریح کرتے ہیں کہ: ’’المراد انہالم… موجودٌ‘‘ (ابن ماجہ ج۲ ص۳۳۲ مصری) یعنی اس سے یہ مراد ہے کہ عام مومنوں کے لئے نبوۃ میں سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں۔ ورنہ الہام وکشوف اولیاء کے موجود ہیں۔ الغرض جتنی احادیث بھی فریق مخالف نے انقطاع نبوت کے استدلال میں پیش کی ہیں۔ وہ حسب حقیقت کے لحاظ سے نبوت غیر تشریعی یعنی ظلی نبوۃ کا بند ہونا ہر گز ثابت نہیں کرتیں اور جماعت احمدیہ کے معتقدات کے وہ خلاف نہیں ہیں۔

مفسرین اور بعض دیگر علماء کے ان اقوال کا جواب جو مخالف علماء اپنے اپنے غلط معنی کی تائید میں پیش کرتے ہیں

اس عنوان کے ضمن میں کئی شقیں قابل غور ہیں۔ ہر شق کے متعلق علیحدہ علیحدہ عرض کرتاہوں۔

شق اوّل: کیا مفسرین یا دیگرعلماء کے ذاتی خیال داخل شریعت ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہواور نہ ماننے سے کفر لازم آئے۔ اس شق کے متعلق میرا یہ جواب ہے کہ مفسرین یا دیگر علماء کے ذاتی خیالات ہرگز داخل شریعت نہیں ہیں اور ان کاماننا ہرگز ضروری نہیں ہے اور ان کے نہ ماننے سے کوئی کافرنہیں ہوتا۔ اﷲتعالیٰ نے جن کا فیصلہ ہمارے لئے ناطق قرار دیاہے، اس کا ذکر اس آیت شریفہ میں ہے: ’’اطیعواﷲ واطیعوالرسول… الخ! (نساء:۵۹)‘‘ یعنی اطاعت کرواﷲتعالیٰ کی اور اس کے رسولﷺ کی اور امراء واحکام کی۔ لیکن اگر تم آپس میں اختلاف کرو اورتنازع ہوجائے تو اس کو خدااور اس کے رسول کی طرف لوٹائو۔ آنحضرتﷺ نے ’’علیکم بسنتی وسنت الخلفاء الراشدین المھدیین‘‘ میں ہم کو خلفاء راشدین کی سنت پر چلنے اوران کے اتباع کا اگر حکم دیاہے تو یہ حکم ان کی ذاتیات کے لحاظ سے ہرگز نہیں۔ بلکہ اس لئے ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنا متبع ہونے کی وجہ سے ان کے اتباع کا ہم کو حکم دیاہے۔ اس لئے آپ نے راشداور مہدی کے لفظ سے خلفاء کی تخصیص بھی فرمادی ہے کہ کیوں میں تم کوان کی اطاعت کا حکم دیتاہوں۔

چنانچہ حضرت امام ابن حزم فرماتے ہیں: ’’ولایحل… بلا برہان‘‘ یعنی کسی کو یہ جائز نہیں ہے کہ کسی کے قول پر عمل کرے بغیر دلیل کے۔ سوائے رسول اﷲa کے ارشاد کے۔

(حجۃ اﷲ البالغۃ ج۱ ص۱۰۳، مصری)

365

دوسرا: ’’وقد صح اجماع الصحابۃ… کلہ‘‘یعنی صحیح ہوچکا ہے اجماع تمام صحابہ کا اوّل سے لے کر اخیرتک اور ایسا ہی اجماع تابعین کا اوّل سے لے کر آخر تک اور اجماع تبع تابعین کا اوّل سے آخر تک کہ ممنوع ہے کسی شخص کا دوسرے کسی انسان کے قول کی طرف رجوع کرنا۔ اس لحاظ سے کہ اسے سب کا سب قبول کرے اور اس پر عمل کرے۔

تیسرا: حضرت امام مالک فرماتے ہیں: ’’مامن احدٍ…‘‘ کہ ہر انسان اپنی کلام سے پکڑاجاتاہے اور ایسا ہی ہر انسان کی بات رد کی جاسکتی ہے سوائے رسول خداa کے۔

چوتھے: پھر امام شافعی فرماتے ہیں: ’’لاحجت فی قول… باتسلیم‘‘ یعنی پھر رسول خداa کے سواکسی شخص کا قول دوسروں پر حجت نہیں۔ خواہ وہ اشخاص کتنے ہی زیادہ ہوں نہ کسی کاقیاس ہی حجت ہے اور نہ کچھ اور۔ اطاعت اﷲ اور اطاعت رسول خدا کے جو پوری ہو۔ اس کے سوا اور کچھ بھی لائق توجہ نہیں۔

پانچویں: اس طرح پر حضرت امام شافعی فرماتے ہیں: ’’یاابراہیم… دین‘‘ اے ابراہیم! میری ہر بات میں تقلید نہ کر۔ بلکہ ہر معاملہ میں اپنے نفس کے لئے خود بھی غور کر کیونکہ یہ تو دین کا معاملہ ہے۔

چھٹا: ایسا ہی حضرت امام احمد فرماتے ہیں: ’’لا تقلد نی… بالسنۃ‘‘ یعنی نہ میری تقلید کر اور نہ مالک ،’’اوزاعی ونخعی‘‘ کی اور نہ کسی اور کی۔ بلکہ احکام وہیں سے حاصل کر جہاں سے ان لوگوں نے حاصل کئے۔

ایسا ہی حضرت امام اعظم فتویٰ دیتے وقت ہمیشہ فرماتے تھے: ’’ھذا راے… بالصواب‘‘ یہ سب اقوال (حجۃ البالغہ ج اوّل ص۱۵۳ تا ۱۵۷، مصری) میں ہیں۔ آخری قول کا ترجمہ یہ ہے۔ یعنی یہ نعمان ابن ثابت کی یعنی میری رائے ہے اور یہ سب سے بہتر بھی معلوم ہوئی ہے۔ لیکن جو شخص اس سے اچھی بات لے آئے وہ زیادہ بہترہے۔ جب وہ مشہور اور معروف ائمہ کرام، جن کے اقوال سے فقہی مسائل میں سند لی جاتی ہے، جن کانام بنام اوپر ذکر ہوچکاہے۔ خود یہ فرماتے ہیں کہ کوئی قول محض اس وجہ سے کہ فلاں شخص کا قول ہے، قطعاً قابل قبول نہیں۔ پھرظاہرہے کہ مفسرین کے ذاتی خیالات کہاں تک قابل قبول ہیں۔ کیا مفسرین کی ہر بات صحیح اور قابل غور بھی ہے۔ اس شق میں میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ مفسرین کے خیالات کہاں تک پہنچے ہوئے ہیں اور کیا وہ تمام کے تمام اس قابل ہیں کہ قبول کر لئے جاویں۔ میں بلحاظ اختصار بطور نمونہ چند اقوال پیش کرتاہوں۔

نوٹ: گواہ یہاں چند نمونے بیان کرنا چاہتاہے۔ لیکن چونکہ ان کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں اس لئے بیان کرنے سے روک دیا گیا۔

(محمد اکبر)

عدالت مختاران مدعیہ اس مرحلہ پر کمرہ عدالت ترک کر کے چلے گئے ہیں۔ مولوی الٰہی بخش مختار مدعیہ بیان کرتاہے کہ وہ خود مختاران مدعاعلیہ کے مقابلہ میں پوری پیروی نہیں کرسکتا۔ اسے جدید مختار مقرر کرنے کے لئے مہلت دی جاوے۔ اس کی یہ استدعا چونکہ واجبی ہے۔ لہٰذا سماعت مقدمہ کل تک ملتوی کی جاتی ہے۔ گواہ کو بقیہ شہادت کے قلم بند کرنے کے لئے پابند حاضری تاریخ مقررہ کیا جاوے۔

محمد اکبر!

(۱۵؍مارچ۱۹۳۳ء)

366

۱۶؍مارچ۱۹۳۳ء

فریقین میں سے منجاب مدعیہ الٰہی بخش حاضر ہے مدعاعلیہ اور اس کے مختاران حاضر ہیں۔ کل فریقین کے درمیان کچھ معمولی آویزش ہوگئی تھی۔ محمد مبارک مختار مدعاعلیہ نے مدعیہ کے ایک مختار مولوی عبدالکریم کو جیسے مختارکاری سے بحکم عدالت علیحدہ کیا جاچکاتھا، کچھ سخت سست الفاظ کہے۔ جس پر مدعی کے دیگر مختاران کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔ اس لئے الٰہی بخش کی اس استدعا پر کہ وہ کوئی دوسرامختار مقررکر کے پیروی مقدمہ کرے گا۔ سماعت مقدمہ ملتوی کی گئی تھی۔ لیکن آج پھر الٰہی بخش کے ساتھ اور کوئی مختار حاضر نہیں ہوا۔ صرف الٰہی بخش حاضر ہے۔ اسے مزید مہلت نہیں دی جاتی اور کارروائی مقدمہ اس کے مواجہ میں شروع کی جاتی ہے۔ فریقین کو ہدایت کی گئی کہ وہ احکام ضابطہ اور احترام عدالت کو پوری طرح مدنظر رکھیں ورنہ سلوک قانونی ہوگا۔

محمد اکبر!

۱۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

۱۶؍مارچ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان شہادت مولوی غلام احمد مجاہد گواہ مدعاعلیہ باقرار صالح

شق ثانی: بھی جس کو عدالت نے غیر متعلق سمجھ کر مجھے بیان کرنے سے روک دیاہے۔ میں چنداقوال مفسرین کے ایسے پیش کرناچاہتاتھا۔ جن سے حضرت انبیاءؑ کی معصومیت کے خلاف باتیں ثابت ہوتی تھیں۔ جن سے میرا مدعاصرف اتنا تھا کہ مفسرین کے خیالات اس مقام تک پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کا کوئی قول اس لئے کہ ان کا قول ہے۔ قطعاً کسی پر حجت نہیں ہوسکتا۔

شق ثالث: مخالف علمائے جو ہمارے سامنے مفسرین کے اقوال پیش کر کے چاہتے ہیںکہ ان اقوال کو بغیر چون وچرا مان لیا جاوے کہ جیسے خود وہ علماء بھی مفسرین کے تمام اقوال کو اس طرح مانتے ہیں، جس طرح یہ کہ ماننے کے ہم سے طالب ہیں۔ اس شق میں مجھے اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ مخالف علماء خود بھی مفسرین کے تمام اقوال کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔ صرف انہی اقوال کو مان لیتے ہیں جو ان کو پسند ہوتے ہیں۔

اگر یہ بات نہ ہوتی بلکہ ان کا مفسرین کے تمام اقوال کو ماننا اس لئے ہوتا کہ ان کے نزدیک مفسرین کے تمام اقوال کا ماننا ضروری ہے تو وہ خود بھی تمام اقوال کو مانتے، ایک کو رد نہ کرتے۔ مثلاً حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے متعلق جس قدر بھی اقوال تفاسیر میں آئے ہیں خواہ وہ اقوال مفسرین کے اپنے ہوں یا دوسرے ائمہ کرام کے ہوں، ان کو وہ نہیں تسلیم کرتے۔

ایسے امام جنہوں نے عیسیٰؑ کی وفات کی تصریح فرمائی ہے۔ امام مالک اور امام ابن حزم امام ابن قیم اور باقی ائمہ کرام، جنہوں نے سکوت سے تصدیق کر دی ہے۔ کیونکہ وہ ائمہ کرام معمولی معمولی شرعی مسائل پر اپنے اجتہادات کی بناء پر اختلاف رکھتے رہے ہیں اور جورائے ان کی ہوتی رہی ہے، اس کو وہ ظاہر کردیا کرتے تھے۔ لیکن اس مسئلہ میں جہاں دوسرے اماموں نے تصریح فرمائی، وہاں باقی ائمہ نے خاموشی اختیار کی ہے۔ تفاسیر کے لحاظ سے یا احادیث کی کتب کے لحاظ سے مندرجہ ذیل تفسیریں ہیں، جن میں اقوال پائے جاتے ہیں۔ مجمع البحار، اکمال شرح مسلم، جلالین، بین السورمجتبائی، تفسیر محمدی، ترجمان القرآن، فتح البیان۔ شق رابع مفسرین کی بیان کی ہوئی حدیثیں۔ آیا ہمارے مخالف علماء مانتے ہیں۔

367

شق ثالث: میں میںنے صرف اتنابتلایا تھا کہ مفسرین اور ائمہ بعض اقوال کو بھی مخالف علماء مانتے ہیں جو انہیں پسند ہیں۔ اب میں یہ بتلانا چاہتاہوں کہ مفسرین نے اپنی تفسیروں میں جو حدیثیں بیان کی ہیں اور جن کے متعلق تصریح کی ہے کہ یہ حدیثیں ہیں۔ ان میں سے بھی ہمارے مخالف علماء ان کئی حدیثوں کو نہیں مانتے جو ان کے مخترع عقیدہ کے خلاف ہیں۔ مثلاً: ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسع ھما الا اتباعی‘‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عیسیٰؑ اگرزندہ ہوتے تو میری پیروی کے بغیر ان کو چارہ نہ تھا۔چونکہ یہ حدیث صریحاً حضرت عیسیٰؑ کی وفات ثابت کرتی ہے۔ اس لئے گو اس کو کئی لوگ امام اور مفسرین بیان کرتے ہیں۔ ہمارے مخالف علماء نہیں مانتے۔ اس حدیث کو ترجمان القرآن اور (الیواقیت والجواہر کتاب اوّل ج۲ ص۴۶۱، کتاب دوم ج۲ ص۲۴)ہے۔ (مدارج السالکین ج۲ ص۳۱۳) حافظ ابن کثیر نے اپنی (تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۲۴۶) پر بیان کیا ہے۔ آخری حوالہ اس مفسر صاحب کا ہے۔ جس کے بعض اقوال ہمارے خلاف پیش کئے جاتے ہیں۔

اس طرح حدیث ’’واخبرنی ان عیسٰیm ابن مریم عاش مائۃ وعشرین سنۃ‘‘ حضرت عیسیٰؑ ۱۲۰ برس زندہ رہے تھے۔ یہ حدیث تفسیر کمالین برحاشیہ جلالین مجتبائی ص۵۰، حجج الکرامہ ص۴۲۸ اور بحوالہ حجج الکرامہ طبرانی اور اصابہ نے بیان کی ہے۔ (کنزالعمال ج۶ ص۱۲) پر بھی یہ حدیث درج ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج۲ ص۲۴۲) پر بھی یہ حدیث درج ہے۔ یہ آخری حوالہ اس تفسیر کا ہے جس کو ہمارے مقابل پر عموماً پیش کیاجاتاہے۔ باوجود ان کئی مفسروں کے اس حدیث کو حدیث بیان کرنے کے پھر بھی مخالف علماء اس حدیث کو نہیں مانتے۔

ایسا ہی محدث ملّا علی قاری صاحب کا قول اکثر ہمارے سامنے پیش ہوتارہتاہے۔ مگر ان کی کتاب (شرح فقہ اکبرمصری ص۱۰۰) پر جویہ حدیث لکھی ہے: ’’لوکان عیسیٰ حیاً ماوحی ھو الا اتباعی‘‘ یعنی حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو ضرور میری پیروی کرتے۔ اس کو بھی مخالف علماء نہیں مانتے۔ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ ہمارے مخالف علماء مفسرین کی بیان کی ہوئی حدیثوں کو تو مانتے نہیں مگر ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم وہ اقوال قبول کریں جو مفسرین کے ذاتی ہیں اور ہمارے مخالف علماء کو مسلم ہیں۔ خواہ ہمارے نزدیک وہ اصول صحت پر اچھے ظاہر ہوں یا نہ ہوں۔

شق خامس: تفسیروں کے متعلق علماء متقدمین ومتاخرین کی آراء کہ انہوں نے تفاسیر کو عقائد واحکام شرعیہ میں کہاں تک قابل اصل مانا ہے۔

اوّل: ’’قال احمد ابن حنبل ثلاثہ کتب لیس لھا اصل‘‘ (المغازی والملاحم والتفسیر فوائد مجموعہ فی بیان احادیث موضوعہ ص۱۱۱) یعنی امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ تین قسم کی کتابیں ایسی ہیں جن کو کوئی شرعی اصل حاصل نہیں ہے۔ وہ مغازی، ملاحم اور تفسیر کی کتابیں ہیں۔

دوسرا: ’’ھذا التفاسیر… مجاھیل‘‘ (اتقان ج۲ ص۲۲۴، مصری) یعنی یہ طویل لمبی لمبی تفاسیر جن کو ابن عباس کی طرف منسوب کیا جاتاہے، وہ سب ناپسندیدہ ہیں اور ان کے راوی مجہول الاسم والحال ہیں۔

تیسرا: ’’ثم الف… بعدہ‘‘ (اتقان ج۲ ص۲۲۶) یعنی تفسیرقرآن میں کثیر لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے اسنادوں کو ترک کردیاہے اور پے درپے دوسروں کے اقوال درج کر دئیے ہیں۔ پس اس وجہ سے نقائص داخل ہو گئے اور صحیح باتیں کمزور باتوں سے ملتبس ہوگئیں۔ پھر یہ عادت ہوگئی کہ ہر شخص جسے کوئی بات سوجھتی وہ درج کردیتاہے اور جو خیال جسے پیداہوتا، اس خیال پر اعتماد کرلیتا۔ پھر بعد میں آنے والوں نے ایسی باتوں کو نقل کرنا شروع کردیا۔ اس عبارت نے تصریح کردی ہے کہ تفاسیر میں ہر قسم کا رطب ویابس۔ ہر قسم صحیح وسقیم خیال، ہر ناقص اور اچھی بات جمع ہوگئی ہے۔

368

چوتھا: ’’وقدجمع المتقدمون… مردود‘‘ (مقدمہ ابن خلدون مصری ص۳۶) یعنی متقدمین نے تفسیری باتوں کو جمع کیا اور کثرت سے لکھا۔ مگر ان کی کتب میںاور ان کی جمع شدہ باتوں میںاعلیٰ اور ناقص ، قبول ومردود سب ہی قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں۔

پانچویں: ’’ماقدملئت… ومثل ذالک‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص۲۶۱، مصری) یعنی متقدمین کی تفاسیر محض منقولی باتوں سے بھر گئیں جو ان تک یہودیوں اور عیسائیوں سے پہنچی تھیں اور وہ سب ایسی ہی خبریں ہیں جو یہود اور نصاریٰ کی روایتوں پر موقوف ہیں اور وہ تفاسیر ایسی نہیں کہ جن کی بناء پر احکام جاری کئے جاویں کہ پھر ان اقوال کی صحت تلاش کرنی ضروری ہواور ان اقوال پر عمل بھی جاری ہو اور اس قسم کی صحت کے بارے میں مفسرین نے بہت تساہل کیاہے۔

حیات جاوید مصنفہ مولانا الطاف حسین حالی نے بھی (ص۲۰۷ ج۲) پر یہ عبارت لکھی ہے۔ افسوس ہے کہ ’’قدماء‘‘ کی اس کوشش سے جو محض نیک نیتی سے کی گئی تھی۔ بے شمار روایتیں، تفاسیر قدیم میں ایسی درج ہوگئیں، جن کے لحاظ سے علماء محققین کو یہ کہنا پڑا۔ کتب تفسیر مشہودہ بالا حدیث: ’’الموضوعہ‘‘ اور اس سے بھی زیادہ افسوس یہ ہے کہ پچھلوں نے ’’قدماء‘‘ کی تفسیروں میں جو رطب ویابس روایتوں سے اپنی تفسیروںکو بھر دیااور مخالفوں کے لئے اعتراض کا دروازہ کھول دیا۔ پھر اس کتاب کے (ص۲۳۷)پر کہاہے۔ اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری قدیم تفسیریں باتفاق تمام محققین اہل اسلام کے عموماً بے سند اور موضوع وضعیف حدیثوں اور یہودیوں کے قصوں سے بھری ہوئی ہیں اور اس کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ جس قدر روایتیں تفسیر القرآن کے متعلق صحاح میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر ان سب کو بعد حذف اسناد کے ایک جگہ مع کیا جاوے تو تمام مجموعہ محدود صفحات سے زیادہ نہ ہوگا۔ حالانکہ کتب تفاسیر کی تمام روایتوں اور قصوں کو اگر جمع کیا جاوے تو کم سے کم ایک ضخیم جلد مرتب ہوسکتی ہے۔ حاصل کلام ایسی واضح تصریحات کے ہوتے ہوئے مفسرین کے اقوال پر کس طرح عقائد کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور کیسے ان اقوال کے انکار کی وجہ سے کس کو کافر کہا جاسکتاہے۔

شق سادس: مفسرین کے وہ اقوال جو پیش کئے جاتے ہیں، ان کا کیا مطلب ہے۔ اب میں ان اقوال کو جو ہمارے خلاف ختم النبوت کے بارہ میں پیش کئے جاتے ہیں فرداً فرداً لیتاہوں۔

پہلا حوالہ: ’’فمن رحمت اﷲ… افعالم‘‘اس عبارت کے جواب میں میری طرف سے یہ عرض ہے۔ اس کے دوحصے بالخصوص قابل غور ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اوّل تو مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی مثال دے کر بتلادیا کہ ایسے انبیاء ممنوع ہیں۔ یعنی جو شریعت اسلامیہ کے خلاف اور اس کے مقابل پر نئی شریعت کے دعویدار ہوں۔ دوم: اس نے یہ بھی بتلادیا کہ ایسے لوگ نہ امربالمعروف کرتے ہیں اور نہ نہی عن المنکر کرتے ہیں۔ بلکہ نہایت فاسقانہ اور فاجرانہ زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت جھوٹے اور بہتان تراش ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے معلوم ہوگیاکہ جس مدعی نبوت کی زندگی ایسی نہ ہو اور جس نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی طرح دعویٰ نہ کیا ہو جو خود یا۔ جس کی جماعت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہو۔ وہ مدعی نبوت ہر گز منع نہیں۔

میں اس جگہ صرف دو حوالے ایسے پیش کرتاہوں۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت مرزا صاحب پر یہ حوالہ چسپاں نہیں ہوتا۔ اوّل: مولوی محمد حسین بٹالوی جو سخت معاند تھے، وہ شہادت دیتے ہیں۔ براہین احمدیہ مصنفہ مرزا صاحب کے متعلق ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر میں ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔ ’’لعل اﷲ یحدث بعدذالک امرا‘‘ اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی اور جانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلاہے جس کی

369

نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ (اشاعۃ السنہ ج۷ص۲۹) حضرت مرزا صاحب کا اپنا چیلنج اپنی زندگی کے متعلق یہ ہے۔ تم غور کرو… دلیل ہے۔

(تذکرۃ الشہادتین ص۶۲، خزائن ج۲۰ ص۶۴)

دوسرا حوالہ (روح المعانی ج۷ ص۶۵) کا پیش کیاجاتاہے۔ جو الفاظ ذیل ہے: ’’وکونہ… اصرار‘‘ اس حوالہ میں بھی ’’مانحن فیہ‘‘ نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ غایت کار اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ جو شخص’’اس کے خلاف‘‘ دعویٰ کر لے گاوہ کافر ہوگا۔ اب اس کے خلاف الفاظ میں جو ضمیر ہے وہ یا تو خاتم النّبیین ہونے کی طرف جاتی ہے تو خاتم النّبیین ہونے کا خلاف خاتم النّبیین نہ ہونا ہوا۔ لہٰذا مصنف کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتا، وہ کافر ہوگا یا پھر اس کے خلاف کی ضمیر آنحضرتﷺ کی طرف جاتی ہے تو پھراس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حضورﷺ کے خلاف دعویٰ نبوت کرے، وہ کافر ہوگا نہ یہ کہ جو شخص کسی قسم کا بھی دعویٰ نبوۃ کرے، خواہ آنحضرتﷺ کے طفیل سے ظلی اورامتی نبی ہونے کا بھی دعویٰ کرے وہ بھی کافرہوگا۔ کیونکہ یہاں ایسے امتی نبی کے نہ ہونے کی کوئی تصریح نہیں ہے۔بفرض محال اگر مصنف مذکور تصریح بھی کردیتا کہ کسی قسم کی کوئی نبوت بھی ہرگزآپa کے بعد نہ ہوگی تو بھی اس کا یہ کہنا فقط اس کی رائے تھی جو کسی صورت میں ضروری تسلیم نہیں۔ بالخصوص جب دیگر علماء اور مجددین ومحدثین اور اولیاء امت کی بکثرت رائیں اس کے خلاف موجود ہوں اوربالخصوص حضرت عائشہ صدیقہt کا ارشاد اور آنحضرت نبی کریمa کی فرمودہ تیس احادیث بھی ہوں جو شروع میں بیان ہوچکی ہوں۔

ان حوالہ جات سے بخوبی ظاہر ہوگیا کہ خودان مفسرین نے ان حوالہ جات میں جس قسم کے نبیوں کو جھوٹا کہا یاان کا آنا ممنوع قراردیا اور خاتم النّبیین کے خلاف قراردیا، وہ مسلمہ کذاب اور اسود عنسی جیسے مدعیان نبوۃ ہیں، جنہوں نے مستقل شریعت کا دعویٰ اورشریعت محمدیہ کے برعکس تعلیم دی اور فسق اور فجور میں مبتلارہے۔ پس ان حوالہ جات سے ایسے نبی جو امتی ہو اور اسی شریعت محمدیہ کا حامی اور ناصر ہو، کے نہ آنے کاکوئی حکم نہیں نکلتا۔ دیگر علماء سلف کے جو حوالہ جات ہمارے مقابل پر پیش کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت۔

پہلا حوالہ: قاضی عیاض کی کتاب شفاء کی شرح مؤلفہ ملّا علی قاری ج۲ ص۵۱۸،۵۱۹مصری کاہے۔ جس کی عبارت یہ ہے: ’’وکذالک… وبعدہ‘‘ اس سارے حوالہ میں سے صرف ایک فقرہ لے کر جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتاہے کہ: ’’القائلین بتواترالرسل‘‘ یعنی جو قائل ہیں متواتر رسولوں کی آمدکے۔

جواب اوّل: اس حوالہ کا وہ فقرہ جو دلیل کے طور پر پیش کیاجاتاہے۔ یعنی القائلین تواتررسل۔ ہمارے قطعاً خلاف نہیں۔کیونکہ جو تعریف رسول کی ان علماء سلف کے نزدیک مروج ہے۔ اس تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہم ویسے رسولوں کی آئندہ آمد کے ہرگز قائل نہیں ہیں اور یہ ہم پر اتہام ہے ہم ویسے رسولوں کی آمد کے قائل ہیں۔ نبوت اور رسالت کے بارہ میں میں مختصراً عرض کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے افراد نبی کریمa کے بعد قیامت تک کسی شرعی نبی یاغیر شرعی مستقل نبی کی آمد کے ہرگز قائل نہیں۔ ہم صرف اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت محمدمصطفیa کی غلامی اور ماتحتی سے اور آپ کی برکت اور افادہ روحانیہ سے آپ کی شریعت کے خادم انبیاء قیامت تک آتے رہیں گے۔ پس وہ حوالہ ’’القائلین بتواتر رسل‘‘ کا ہم پر چسپاں نہیں ہوتا۔کیونکہ ان علماء کے نزدیک رسول کا لفظ اس انسان پر بولاجاتاہے جو شریعت لائے یاپہلی شریعت میں کچھ تبدیلی کرے۔

مثلاً اوّل۔ شرح عقائد نسفی میں لکھاہے: ’’الرسول انسانٌ بعثہ اﷲ تعالٰی الی الخلق (لتبلیغ الاحکام الشریعہ)‘‘ یعنی

370

رسول وہ انسان ہے جس کو خداتعالیٰ مخلوقات کے لئے مبعوث فرمائے۔ احکام شریعہ کی تبلیغ کے لئے۔ نبراس جو شرح عقائد نسفی کی بھی شرح ہے، اسمیں تفصیل درج ہے کہ نبی اور رسول کے فرق کے بارے میں اختلاف ہے۔ جمہور مسلمانوں کا یہی مذہب ہے کہ: ’’ان النبی اعم‘‘ کہ نبی عام ہے اوررسول خاص ہے۔ (نبراس ص۷۰،۷۹) پھر رسول کے لئے بعض نے کتاب کی شرط کی ہے اور بعض نے شرح جدید کی شرط لگائی ہے۔ چنانچہ لکھاہے: ’’یشترط فی رسول شرع جدید بخلاف النبی‘‘ (نبراس ص۸۰) ایسا ہی اس (نبراس ص۴۲۴ حاشیہ) میںشرح مقاصد کا حوالہ دے کر لکھاہے: ’’وقدینحصر رسول ینبغی لہ شریعت وکتاب‘‘ کہ رسول کا لفظ خاص طورپر اس انسان پر بولاجاتاہے کہ جس کی کوئی شریعت ہو یاکوئی کتاب جدیدہو۔ ان حوالوں سے واضح ہوگیاکہ جمہور اہل اسلام کے نزدیک رسول کا لفظ شرعی نبی پر بولاجاتاہے۔ پس علماء متقدمین جہاں رسول کی نفی کریں گے، وہاں مراد شرعی نبی سے ہوگی۔ (یہ شرح عقائد نسفی اور نبراس اور مقاصد عقائد کی کتابیں ہیں) نہ کہ عام نبی سے۔ اس کے ضمن میں یہ بھی بتادینا چاہتاہوں کہ فریق مخالف نے جو ابن کثیر کا حوالہ دیاتھا، اس میں بھی یہی الفاظ ہیں۔ ’’لان مقام الرسالت اخص من مقام النبوۃ‘‘ جس سے ثابت ہواکہ ابن کثیر کے نزدیک بھی رسول کا لفظ خاص ہے۔ یعنی شرع نبی کے لئے بولاجاتاہے اور نبی کا لفظ عام ہے۔ ان تمام مذکورہ بالا اصطلاحوں کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ مرزا صاحب نے عام اعلان فرمایاہے۔ چونکہ اسلام کی اصطلاح میں… خاتم الکتب ہے۔ (الحکم ج۳ نمبر۲۹، مطبوعہ سال۱۸۹۹ء، بحوالہ حقیقت النبوۃ صفحہ۱۲۵، انوار العلوم ج۲ ص۴۴۸) پس ’’القائلین بتواترالرسل‘‘ کا حوالہ ہمارے خلاف نہیں پیش کیا جاسکتا۔ کیونکہ ہم اس معنی سے رسولوں کی آمد کے ہرگز قائل نہیں ہیں جو معنی اہل اسلام کی اصطلاح میں رسول یا نبی کے تھے یااگر اب کوئی وہی معنی لے کر ہم سے پوچھے۔

جواب دوم: اس تصریح کے علاوہ کہ انہوں نے شرعی رسول کی نفی کی ہے یا ہر نبی کی۔ اس حوالہ میں ایک اور بھی قرینہ موجود ہے کہ ملّا علی قاری کے نزدیک ظلی اور بالواسطہ نبوۃ ہوسکتی ہے۔ مستقل اور شرعی نبوۃ نہیں ہوسکتی اور وہ پیش کردہ حوالہ کا آخری فقرہ جو عمداً ہمارے مخالفین چھوڑدیتے ہیں۔ یعنی ’’ان اراد وابہ الحقیقت والا فالمنزلۃ المجازیۃ لا توجب الکفر ولاالبدعۃ‘‘ یعنی اگرآنحضرتa کے بعد حقیقی نبوت مراد لیں توپھر کفر عائد ہوگا۔ ورنہ اگر مجازی مرتبہ مراد لیں تو پھر کفر عائد نہ ہوگا اور نہ ہی بدعت کو مستلزم ہوگا۔ پس واضح طور پر ثابت ہوگیا کہ ان دونوں بزرگوں کے نزدیک کسی انسان پر اس صورت میں کفر عائد ہوگا۔ جب کہ وہ علیٰ وجہ الحقیقت کسی کا نبی ہونا تسلیم کرتاہو۔ لیکن اگر علیٰ وجہ المجاز کسی کو نبی مانے تو اس سے کفر لازم نہیں آتا۔ بالکل انہی الفاظ میں مرزا صاحب نے فرمایا: ’’اول سمیت نبی من اﷲ تعالٰی علی طریق المجاز لا علی وجہ الحقیقت‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۵) یعنی مجھے خداتعالیٰ نے علیٰ وجہ المجاز نبی قراردیاہے نہ کہ حقیقی رنگ میں۔ دوسرا ’’ومن قال…کذاب‘‘ جس کی تشریح بالفاظ ذیل ہے۔غرض ہمارا مذہب یہی ہے… کچھ شک نہیں۔ (انجام آتھم حاشیہ ص۲۷،۲۸، خزائن ج۱۱ ص۲۷،۲۸) تیسراحوالہ: حاشا وکلا نبوۃ حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔

(اشتہار فروری۱۸۹۲ء بحوالہ حقیقت النبوۃ ص۵۱، انوار العلوم ج۲ ص۳۹۳)

جواب سوم: شرح شفا کے حوالے کے دوجواب دینے کے بعد تیسرا جواب یہ عرض ہے کہ ہمارے مخالفین ایک ایسا حوالہ پیش کرتے ہیں کہ اگر اس حوالہ کو اسی رنگ میں دیکھا جاوے جس رنگ اور جس معنی میں انہوں نے پیش کیاہے تویہ حوالہ خود انہی کے خلاف پڑتاہے۔ کیونکہ اس حوالہ میںساتھ ہی یہ بھی لکھاہواہے: ’’غلاۃ المتصفوۃ ای الجھلاء۔ واجھل منہم ابن عربی حیث جعل نفسہ خاتم الاولیاء‘‘ یعنی کافر ہیںغالی جھوٹے صوفی بھی یعنی جاہل صوفی اور ان صوفیوں میں سے زیادہ جاہل ابن عربی ہے جس نے

371

اپنے آپ کو خاتم الاولیاء کہاہے۔گویا اس کتاب والے قاضی عیاض اور ملّا علی قاری کے نزدیک حضرت شیخ محی الدین ابن عربی شیخ اکبر وغیرہ بھی کافر بلکہ زیادہ کافر ہیں۔ حالانکہ ہمارے مخالفین انہی شیخ اکبر کو ولی، صوفی مان چکے ہیں، بلکہ مانتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگر یہ فتویٰ ان اصل عبارت کے لحاظ سے یا ایسی تشریح کے لحاظ سے جو رسول اور نبی کو جوان کے ہاں مروج ہے یاان کی صاف تشریح کے لحاظ سے کہ مجازی نبوت وکفر واجب نہیں کرتا، ہم پر یہ فتویٰ عائد نہیں۔ لیکن بفرض محال اگر ہوبھی تو پھر یہی فتویٰ اس انسان پر تو علیٰ الاعلان اور واضح طور پر نام لے کر لگایاگیاہے جو ہمارے مخالفین کے نزدیک نہ صرف مسلمان بلکہ شیخ المسلمین بلکہ صوفی ولی بھی ہے اور ان ہمارے مخالفین کے نزدیک ہی نہیں۔ بلکہ اکثر بزرگان سلف کے نزدیک بھی۔

دوسراحوالہ جو علاوہ مفسرین کے کسی اور بزرگ کا پیش کیاہے، وہ بھی ملّا علی قاری ہیں۔ جن کا قول اوپر ذکر ہوچکاہے کہ مجازی نبوۃ کے دعویٰ سے کفر لازم نہیں آتا۔ انہیں بزرگ کا دوسراحوالہ ان کی دوسری کتاب (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۵ ص۵۶۴، مصری) سے پیش کیاجاتاہے۔ ’’فالمعنی انہ لایحدث نبی لانہ خاتم النّبیین السابقین‘‘

پہلا جواب: اس حوالہ کا میری طرف سے یہ ہے کہ انہوں نے اس عبارت میں سابقین کے لفظ سے تصریح کی ہے کہ پہلے نبی کے دوبارہ آنے کی نفی ہے۔ اگر بعد کے کسی نبی کے نہ آنے کا ذکرہوتا تو سابقین کا لفظ لانے کی ضرورت نہ تھی۔

جواب دوم: بفرض محال مان بھی لیا جاوے اور سابقین کے لفظ سے قطع نظر کی جاوے اور یہی مطلب نکالاجاوے کہ ملّا علی قاری بھی آئندہ نبوت کی نفی کرتے ہیں تو آئندہ کی نبوت میں سے ہرقسم کی نبوت کی کسی طرح پر بھی ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہی حضرت ملّاعلی قاری اپنی ایک اور کتاب میں فرماتے ہیں: ’’والمعنی انہ لایاتی نبیٌ ینسخ ملتہ ولم یکن فی امتہ‘‘ (موضوعات کبیر ص۵۹) یعنی خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آئندہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو حضورکی سنت اور شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔ پس جب ان بزرگ نے آئندہ ایسے نبی کی نفی کی ہے جو شریعت لانے والاہو یا شریعت میں تبدیلی کرنے والاہو۔ یہ مرقاۃ کاحوالہ خود واضح ہوگیا کہ یہاں پر نبی سے مراد ان کے خیال میں شرعی نبی ہے نہ ہر قسم کا نبی۔

آٹھواں شق: فتاویٰ فقہاء کی حیثیت۔ اس شق میں چند فتاویٰ بیان کرتاہوں جن سے یہ امرروز روشن کی طرح ثابت ہوگایہ علماء کے فتاویٰ کفر کی کیاحیثیت ہے اور ان کا کیا اثر ہے۔ ان فتوئوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے سے امت محمدیہ کا کون سا حصہ مسلمان رہ جاتاہے، جن علماء کے اقوال کے غلط معنی لے کر ہم پر فتویٰ لگایاجاتاہے۔ ان علماء کے فتوؤں کی نوعیت کیا ہے؟ انہی کتابوں میں جن کتابوں سے مخالف علماء نے ہم پر فتویٰ لگایا ہے، یہ لکھاہے: اوّل جو شخص کہے کہ میں نے خداتعالیٰ کو خواب میں دیکھا وہ کافرہے۔ (البحر الرائق ج۵ ص۱۲۰) جو شخص کہے کہ ایمان بڑھتاہے اور گھٹتا ہے وہ کافرہے۔ (البحر الرائق ص۱۲۱) جو شخص کسی کو تعظیمی سلام کرے وہ کافر ہے۔ (الاشباہ والنظائر ماشرح حموی مصطفائی پریس ص۱۷۵) اگر کسی کافر نے اسلام قبول کرنا چاہا اور کسی مسلمان کو کہا کہ مجھے اسلام بتلائو۔ یعنی اسلام پیش کرو کہ میںکس طرح مسلمان ہوں تو اس مسلمان نے اگرکہا کہ فلاں مولوی صاحب کے پاس جائو تووہ مسلمان بھی کافرہوجائے گا۔ (شرح فقہ اکبر مصری ص۱۶۰) جو شخص بطور ڈرامہ اپنے آپ کو معلم یا استاد بتائے اور ہاتھ میںبید لے کر بچوں کو مارے وہ بھی کافرہوجائے گا۔

(البحرالرائق ج۵ ص۱۲۲)

چھٹا فتویٰ: جو حضرت ابوبکرq اور حضرت عمرq کی خلافت کا انکارکرے وہ بھی کافرہے۔ (البحر الرائق ج۵ ص۱۲۱) جس شخص

372

سے کوئی سوالی خدا کا واسطہ دے کر کچھ مانگے اور وہ نہ دے یاکچھ کام کر انا چاہئے اور وہ کام نہ کرے تو وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ (شرح فقہ اکبر مصری ص۱۴۷) جو شخص کسی ذمی کی ٹوپی سرپر رکھے اور اس کی غرض گرمی سردی دور کرنا نہ ہو تو وہ بھی کافرہے۔ (البحرالرائق ص۱۳۵) ان فتووئوں پر اگر غور کیاجائے اور عمل کیا جائے تولازماًماننا پڑتاہے کہ وہ تمام بزرگ ہستیاں اور سلف صالحین، جنہوں نے اپنی کتابوں میں تصریح کی ہے کہ ہم نے خداتعالیٰ کو دیکھا، وہ بھی اور وہ محدثین جنہوں نے اپنی صحیح حدیث کی کتابوں میں اس بات کے متعلق باب باندھا اور حدیثیں بیان کیں کہ ایمان گھٹتا بھی ہے اور بڑھتابھی ہے۔ عملوں کے لحاظ سے مثلاً امام بخاری ومسلم وہ مسلمان جو ملازم یا دکاندار ہیں اور ہندوافسران یا انگریز افسران کو تعظیمی سلام کرتے ہیں۔ وہ مسلمان جو خود کسی ہندو یا عیسائی یا کسی غیر مذہب کو اسلام نہ پیش کر سکیں اور اپنے مولوی کے پاس لے آویں۔ وہ مسلمان کالجیٹ طلباء جو ڈرامہ کرتے وقت استاد کا پارٹ ادا کریں۔ تمام شیعہ جو شیخین کی خلافت سے انکار کرتے ہیں تمام وہ مسلمان جن سے سائل وغیرہ خدا کا واسطہ دے کر روٹی، کپڑا یا روپیہ مانگتے ہیں اور وہ نہیںد یتے۔ وہ تمام مسلمان جو ہندوں، عیسائیوں یا دوسرے ذمی لوگوں کا لباس پہنتے ہیں جو سر کا لباس ہو یا دیگر بدن کا ہو۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگر ان علماء کے فتویٰ سے کسی کو کافر بنایاجائے توپھر اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ صرف مذکورہ بالا فتاویٰ سے ہی کتنا حصہ امت کا کافر بنتاہے اور کتنے لوگوں کے نکاح ٹوٹتے ہیں اور ان کی اولادیں ناجائز بنتی ہیں۔

(عنوان۷)آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ کے صحیح معنی اس قدر تفصیل کے ساتھ عرض کردینے کے بعد کہ جو معنی ہمارے مخالفین لیتے ہیں، وہ غلط ہیں۔ ضروریات دین میں سے نہیں ہوسکتے اور ان معنی کی تائید میں جوحوالہ جات تفسیروں سے پیش کرتے ہیں۔ ان حوالہ جات سے بھی وہ حقیقت نہیں ہے جو وہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ حقیقت متصور بھی ہو تو پھر وہ حوالہ جات بعض لوگوں کے انفرادی آراء ہونے کی وجہ سے ایسی وقعت نہیں رکھتے کہ ان کے انکار سے کسی کو کافر کہا جاوے۔ خاص کر ایسے وقت میں کہ ان مذمومہ معنی کا انکار کرنے والا اپنے پاس دیگر بزرگان، سلف وائمہ کرام، مجددین ومحدثین اور اولیاء پھر حضرت عائشہ صدیقہt۔ حتیٰ کہ آنحضرتﷺ کے فرمودہ معنی بھی اپنی تائید میں رکھتاہوں۔ اب میں اس عنوان میں یہ ظاہر کرنا چاہتاہوں کہ آیت خاتم النّبیین کا صحیح مطلب کیاہے؟ یہ آیت سورہ احزاب کے پانچویں رکوع کی ہے اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ۵ھ میں حضرت زینبt کے نکاح پر مخالفوں کے اعتراضات کے جواب میں اتری تھی۔ (فتح البیان ج۷ ص۲۴۹) اس سورہ کے شروع میں خداتعالیٰ فرماتاہے: ’’النبی اولیٰ بالمومنین… امھاتکم‘‘ یعنی نبی زیادہ شفیق ہے۔ مومنوں پر، خود مومنوں کے نفوس سے بھی اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس آیت میں آنحضرتﷺ کو بوجہ نبی ہونے کے واضح طور پر مؤمنوں کا باپ قرار دیا گیا۔ چنانچہ اس وجہ سے بزرگن سلف نے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتاہے۔

اوّل: ’’وقال مجاہدٌ… اخوۃٌ‘‘ (فتح البیان ج۷ ص۲۵۱) یعنی مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ ہرنبی اپنی امت کا باپ ہوتاہے اور اس وجہ سے سب مؤمن آپس میں بھائی ہوتے ہیں۔

’’قال نسفی… علیہ‘‘ (فتح البیان ج۷ ص۲۸۶) یعنی نسفی نے کہاہے کہ ہر رسول اپنی امت کا باپ ہوتاہے۔ بوجہ اس کے کہ واجب ہے ان پر توقیر وتعظیم کرنا اس نبی اور رسول کی اور اس نبی پر بھی واجب ہے کہ اپنی امت کی خیرخواہی اور شفقت کرے۔ چنانچہ بعض قرأ توں میں تو صاف طور پر ’’وہو اب لھم‘‘ کے الفاظ بھی لکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً (فتح البیان ج۷ ص۲۵۱) یعنی ابن مسعود کی قرأت ’’النبی اولٰی بالمومنین‘‘ کے ساتھ۔ ’’وھو اب لھم‘‘ کے الفاظ بھی مروی ہیں۔

373

دوسرا: ’’عن بجالۃ… ابن بہم‘‘ (فتح البیان ص۲۵۲) یعنی بجالہ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب ایک نوجوان کے پاس سے گزرے اور وہ نوجوان قرآن میں ’’ازواجہ امہاتہم‘‘ کے ساتھ ’’وھو اب لھم‘‘ بھی پڑھ رہاتھا۔ حاصل کلام یہ کہ اس شروع کی آیت میں خداتعالیٰ نے بلحاظ نبی ہونے کے رسول اﷲa کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قراردیاہے اورآنحضرتa کومومنوں کا باپ۔ لیکن حضرت زینبt کے نکاح پر مخالفوں کا اعتراض دور کرنے کے لئے اوّل تو یہ فرمایا کہ: ’’وماجعل ادعیاکم ابناء کم‘‘ کہ خداتعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹے نہیں بنایا۔ ’’ذالکم قولکم بافواہکم‘‘ یہ صرف تمہارے منہ کی بات ہے اور پھر فرمایا: ’’ماکان محمد… الخ!‘‘ یعنی محمد مصطفیa تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ اس کلام سے دو شبہ اور اعتراض پیدا ہوتے تھے۔

اوّل کہ شروع سورہ میں بلحاظ نبی ہونے کے رسول پاکa کو مومنوں کا باپ قراردیاتھا اور اب اس آیت میں ان کے باپ ہونے کی نفی کردی ہے تو کیا آنحضرتﷺ کے باپ ہونے کی نفی سے آپ کی نبوت کی بھی نفی ہوگئی۔ شہاب میںد رج ہے کہ: ’’انہ انما نفیت… رسالتہ… ذلک‘‘ (شہاب علی البیضاوی ج۷ ص۱۷۵) یعنی نفی ابوت سے نفی نبوت کا شک پڑتاتھا، اس لئے اس کو دور کردیا۔ ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ سے دوسرا اعتراض مکی سورۃ میں سورۃ کوثر کو نازل کر کے بتلایاتھا کہ: ’’ان شانئک ھو الابتر‘‘ کہ آپ کا دشمن قطوع النسل ہے۔ اب اس آیت سے آنحضرتﷺ کی اولاد نرینہ کی نفی کی، تو کیا خدانخواستہ آپ پربھی اسی حالت کے چسپاں ہونے کا احتمال ہے۔ پس ان دونوں شبہوں اور اعتراضوں کو دور کرنے کے لئے فرمایا: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ لہٰذا ’’ولکن رسول اﷲوخاتم النّبیین‘‘ کا جملہ مقام مدح میں ہے اور اسی شک کو دور کرنے کے لئے جو پہلے کلام’’ ماکان محمد… من رجالکم‘‘ سے پیدا ہوتاتھا۔ مجھے یہ ضرورت نہیں کہ: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کے مقام مدح میں وارد ہونے کے حوالہ دوں۔ کیونکہ سب مسلمان اس کو توصیفی اور تعریفی جملہ ہی مانتے ہیں اورخود آنحضرتﷺ نے اس جملہ کو اپنی مدح میں فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میںجو کچھ بھی آنحضرتﷺ کی شان اقدس میں فرمایاگیاہے، وہ سب مقام مدح میں ہی ہے۔ تاہم میں دیوبندی علماء کے مسلمہ بزرگ مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا ایک حوالہ بتاتاہوں۔ وہ فرماتے ہیں پھر مقام مدح میں: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ کیسے صحیح ہوسکتاہے۔ غرض یہ کہ کسی کو انکار نہیںکہ: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ میں خاتم النّبیین کے الفاظ مقام مدح میں ہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ پہلے کلام سے جو شبہ پڑتاتھا، اس کے ازالہ کے لئے بھی ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ آیاہے۔ اس کے لئے میں حوالے پیش کرتاہوں۔

اوّل نحو کی مشہور کتاب شرح جامی سے ’’لاکن… معنی‘‘ یعنی ’’لاکن‘‘ کا حرف استدراک کے لئے ہوتاہے اور استدراک کے معنی ہیں۔ اس وہم اور شک کودورکرنا جو پہلے کلام سے پیدا ہوتاہو۔ یہ صرف ’’لاکن‘‘ ایسے دوکلاموں کے درمیان آتاہے جو نفی اور اثبات کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہوں۔ ’’ولکن حقیقتہ… ولومعنی‘‘ یعنی ’’لاکن‘‘ مخففہ یا ثقیلہ دونوں استدراک کے لئے ہوتے ہیں اور استدراک کے معنی یہ ہیں کہ دورکردینا اس وہم کو جوپیدا ہوتاہے، پہلے کلام سے اوراس کی شرط یہ ہے کہ پہلے اورپچھلے کلام میں نفی اور اثبات کا اختلاف خواہ وہ معنوی طور پر ہی ہو۔ ان دونوں حوالوںسے ثابت ہوگیا کہ خاتم النّبیین والی آیت: ’’ماکان محمد… رجالکم‘‘ سے واقعی کوئی شبہ پیدا ہوتاہے جس کے دور کرنے کے لئے صرف ’’لاکن‘‘ کو لاکر’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘

374

فرمایا گیاہے۔ سودونوں شبہے میں پہلے بیان کر آیاہوں کہ جن کو دور کرنے کے ’’لاکن‘‘ کا حرف لاکر اس آیت میں دواضافی جملے زائد کر لئے گئے ہیں۔ ایک رسول اﷲکاجملہ جس سے حضورﷺ کی نبوت یا رسالت کا اظہار کیا ہے جس سے بتادیاہے کہ آنحضرتﷺ کی رسالت اور نبوت ویسی ہی قائم ہے۔ کیونکہ ابوت روحانیہ آپ کو حاصل ہے۔

دوسرا جملہ خاتم النّبیین کا بیان فرمایاہے جس سے ظاہر کیاہے کہ آپa صرف رسول ہی نہیں بلکہ خاتم النّبیین بھی ہیں۔ یعنی بلحاظ روحانی حالات اور کمالات قدسیہ کے آپ دوسرے انبیاء کے برابر نہیں بلکہ اب سب سے افضل وبرتر اور بے نظیر ہیں۔ اب جائے غور ہے کہ چونکہ خاتم النّبیین کے الفاظ یہاں مقام مدح میں واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے خاتم النّبیین کے وہی معنی صحیح اور ضروری ہوں گے جن سے آنحضرتﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔ سو اگر خاتم النّبیین کے یہ معنی قرار دئیے جاویں کہ آپ آخری نبی ہیں اور سب سے آخر میں آئے ہیں تو یہ کوئی فضیلت کی بات نہیں۔ چنانچہ فریق مخالف کے مسلم بزرگ یہی لکھتے ہیں۔

اہل فہم پر روشمن ہوگاکہ تقدم وتاخر زمانی بالذات کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پھر مقام مدح میں ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین‘‘ فرمایاکیونکہ صحیح ہوسکتاہے۔ (تحذیر الناس ص۳) جب یہ ثابت ہوگیا کہ بلحاظ سیاق وسباق اس جگہ وہ معنی ہونے چاہئیں جو آنحضرت کی مدح کاموجب ہوں اورآخری ہونا مدح کا موجب نہیں ہے۔ کیونکہ اہل فہم جانتے ہیں کہ آخری ہونا موجب فضیلت نہیں ہوتا تو اب یہ تحقیق لازم آئی کہ زبان عربی کی روسے خاتم النّبیین کے کیا معنی ہیں۔ اس تحقیق کی طرف توجہ کرنے پر آسانی سے ظاہر ہوجاتاہے کہ خاتم ، تاکی زبر کی ساتھ جو قرآن پاک میں آیاہے۔ زبان عربی کے لحاظ سے اس کے دو معنی ہیں۔

اوّل انگوٹھی جو عام مشہور اور معروف معنی ہیں۔ احادیث میں بھی کثرت سے یہ واقع ہوتاہے کہ ایک صحابی نے جو ایک عورت سے نکاح کرنے کے خواہشمند تھے اور مہر دینے کے لئے ان کے پاس کچھ نہ تھا توآنحضرتa نے فرمایاکچھ تو تلاش کرو۔ ’’ولوخاتم من حدید‘‘ خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ مشکوٰۃ کتاب النکاح۔ اس لحاظ سے گویاخاتم النّبیین کا معنی۔ نبیوں کی انگوٹھی ہوئے۔ اب ہم نے دیکھنا ہے کہ حضورﷺ کو نبیوں کی انگوٹھی کیوں فرمایاہے۔ وجہ شبہ کیاہے۔ سو عرض ہے کہ انگوٹھی سے دوفائدے ہوتے ہیں۔

اوّل کہ انگوٹھی ہاتھ کی زینت کاکام دیتی ہے۔ اس فائدہ کے لحاظ سے خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرتﷺ نبیوں کے لئے زینت کا باعث ہیں۔ چنانچہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفسیر فتح البیان میں یہ لکھاہے: ’’انہ صارک الخاتم لھم الذی یختمون بہ ویتزینون بکونہ منھم‘‘ یعنی آنحضرتﷺ ان انبیاء کے لئے انگوٹھی ہوگئے۔ بایں طور کہ وہ انبیاء آپ کے ذریعہ سے خوبصورت ہوتے ہیں۔ یعنی اس لحاظ سے کہ حضورﷺ بھی ان میں سے ہیں۔ مجمع البحرین میں بھی لکھاہے کہ: ’’خاتم بمعنی زینت ماخوذ… لابیہ‘‘ یعنی خاتم کا معنی زینت کے ہیں اورخاتم بمعنی انگوٹھی سے ماخوذ ہیں۔ کیونکہ وہ بھی پہننے والے کے لئے موجب زینت ہوتی ہے۔

دوسراکام انگوٹھی کا یہ ہوتاہے کہ وہ انگلی کو گھیر لیتی ہے اوراحاطہ کر لیتی ہے۔ اس لحاظ سے حضورﷺ نبیوں کی انگوٹھی اس رنگ میں ہوئے کہ آنحضرتﷺ نے تمام انبیاء کے کمالات کا احاطہ کرلیاہے۔ اب کوئی کمال ایسا نہیں جو آپa میں نہ ہو۔ غرض خاتم کا معنی انگوٹھی ہیں جو لغوی معنی ہیں۔ اس انگوٹھی کے دونوں کاموں زینت واحاطہ کی وجہ سے ثابت ہوئے، وہ دونوں معنی آنحضرتﷺ کی فضیلت اور مدح کا باعث ہیں اورتمام مسلمان اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ دیگر انبیاء کرامo کو آنحضرتﷺ کے میر مجلس ہونے کے لحاظ سے

375

زینت اور خوبصورتی حاصل ہوتی ہے اور نیز یہ بھی کہ آنحضرتﷺ جامع جمیع کمالات انبیاء تھے۔ آپa کمالات کے لحاظ سے اس مقام تک پہنچے۔ جہاں نہ کوئی پہلے پہنچ سکا اور نہ کوئی آئندہ پہنچ سکے گا۔

دوسرے معنی خاتم کے عربی زبان کی رو سے مہر کے ہیں۔ یعنی وہ آلہ جس کے ذریعہ سے کسی دوسری چیز پر نشان یا مہر ثبت کی جاتی ہے۔ جیسا (روح المعانی ج۷ ص۵۹) سے جہاں پر ہے۔ ’’الخاتم… بہ‘‘ اس معنی کی روسے خاتم النّبیین کے یہ معنی ہوئے کہ آنحضرتﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ اب ہم کو دیکھنا چاہئے کہ مہر کیا کام دیتی ہے اور مہر کے کس کام کی وجہ سے آنحضرتﷺ کو نبیوں کی مہر فرمایاگیا۔ سوعرض ہے کہ مہر بھی اپنے اندردوحقیقتیں رکھتی ہے اور مہر تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔

چنانچہ حدیث میں آیا کہ: ’’عن انس بن مالک……یدہ‘‘ (بخاری ج۱ ص۱۵) یعنی جب آنحضرتﷺ نے بادشاہوں کی طرف تبلیغی خطوط لکھنے چاہے تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ وہ لوگ کسی خط کو بغیر مہر کے قبول نہیں کرتے۔ سو آنحضرت سرورکائناتa نے مہر بنوائی اور اس پر یہ نقش کیا۔ محمدرسول اﷲ اور وہ مہرلگاکر آپ نے خطوط مبارک بھیجے۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ مہر تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔ چنانچہ ابو عبداﷲ اپنی کتاب (مجمع البحار الانوار) میں حضرت نبی کریم کے ارشاد مبارک: ’’اوتیت… خواتیمہا‘‘ کے یہ معنی لکھے ہیں کہ: ’’اے القرآن… مصدق بہا‘‘ (مجمع البحار ج۱ ص۳۴۹) یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا: مجھے جامع کمالات اور ان کے خواتیم دئیے گئے ہیں۔ یعنی خواتیم سے مراد قرآن شریف ہے کہ جس کے ساتھ کتب سماویہ ختم کی گئیں۔ بایں طور کہ ان سب پر وہ حجت ہے اور ان کا مصدق ہے۔ اس حوالہ میں صاحب مجمع البحار نے ختم کی تصریح کردی ہے کہ تصدیق اور دلیل کے معنی میں ہوتاہے۔

چنانچہ انہی معنوں سے قرآن پاک میں آنحضرتﷺ کی شان مبارک میں ’’مصدق لما معکم‘‘ یا ’’مصدق لما بین یدیہ‘‘ فرمایاگیاہے۔ پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ مہر کاکام تصدیق ہے تو معلوم ہوگیاکہ آنحضرتﷺ کا خاتم النّبیین ہونا بایں معنی ہے کہ آنحضرتﷺ نبیوں کے خاتم یعنی مصدق ہیں۔ اب یہ حقیقت ایسی ہے اور یہ لغوی معنی ایسے ہیں جس سے آنحضرتﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ نہ صرف ایمانی طور پر بلکہ واقعیت کے لحاظ سے بھی صرف آنحضرت کی ہی ایسی ذات مبارک ہے جو تمام نبیوں کی صداقت ظاہر کرتی ہے۔ دنیا کی کوئی کتاب، دنیا کا کوئی انسان گزشتہ انبیاء کی نبوت اور رسالت اور صداقت کو ثابت نہیں کرسکتا۔ بجز رسول خداa کے جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ کی ذات ہے کہ بغیر قرآنی تعلیم کے اور آنحضرتﷺ کی تصریحات کے انجیلوں کی رو سے یا عیسائیوں کی بیان کردہ باتوں کے لحاظ سے وہ انسان بھی نہیں ثابت ہوتے۔ نبی توکیا کیونکہ عیسائی ان کو خداکا بیٹااورعرش عظیم پر خدا کے دائیں ہاتھ پر بیٹھاہوابتاتے ہیں۔ پہلے انبیاء کی صداقت کو تو اس طرح پر ظاہر کیا کہ اے امت محمدیہ! ان انبیاء کے ماننے والے ان نبیوں کی شان میں خواہ افراط سے کام لیں خواہ تفریط سے کام لیں۔تم نے ان سب نبیوں کو برحق ماننا ہوگا۔ کیونکہ وہ سب سچے تھے اور آئندہ انبیاء کی صداقت کو بایں طور ظاہر کیا کہ آئندہ وہی سچانبی سمجھاجائے گا جو آنحضرتﷺ کی غلامی اور ماتحتی سے آوے اورآنحضرتa کی شریعت پر عملدرآمد از خود کرے۔ دوسروں سے کروائے اور جوکمال بھی حاصل کرے وہ آپ کی ہی قوت قدسیہ کی برکت سے حاصل کرے۔ انہی معنی کی رو سے حضرت ملّا علی قاری فرماتے ہیں۔ (موضوعات کبیر ص۵۹) ’’والمعنی انہ لا یاتی نبی ینسخ ملتہ ولم یکن من امتہ‘‘ یعنی خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ کوئی نبی اب ایسا نہیں آئے گا جو آنحضرت کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔ حاصل کلام

376

نبی کریمa خاتم النّبیین ہیں۔ خاتم بمعنی مہر جو تصدیق کے لئے ہوتی ہے۔ یعنی آپ نبیوں کے مصدق ہیں۔ خواہ پہلے ہوں۔ خواہ آئندہ آنے والے۔ یہ معنی ہمارے مخالفین کو بھی مسلم ہیں۔ کیونکہ وہ بھی باوجود حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر زندہ ماننے کے جب کبھی بھی اپنے خیال سے ان کو آسمان سے اتارتے ہیں کہ جب بھی وہ آئے گا تو اسی شریعت محمدیہ پر خود چلیں گے اور دوسروں کو بھی چلائیں گے۔ گویا ان کی صداقت تب ہی ثابت ہوگی۔ جب کہ وہ مذہب اسلام کے پابند ہوں۔ ہمارے نزدیک وہ عیسیٰؑ فوت ہوچکے ہوئے ہیں۔ اب جو بھی آئے گا۔ وہ عیسوی صفت کے ساتھ اس امت محمدیہ میں ہی سے پید اہوگا۔

دوسراکام مہر کا یہ بھی ہوتاہے۔ یعنی بعض مہریں ایسی ہوتی ہیں کہ جیسے وہ ہوتی ہیں۔ ویسی دوسری چیز کو بنادیتی ہے۔ مثلاً ٹکٹوں کی مہر سے ٹکٹ بنتے ہیں یاروپیوں کی مہر سے روپے بنتے ہیں یا پائونڈ کی مہر سے پائونڈ بنتے ہیں۔ اس وجہ شبہ کے لحاظ سے خاتم النّبیین کے معنی یہ ہوئے کہ حضورﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ یعنی حضورکا افادہ روحانی اور آپ کی قوت قدسیہ روحانی طور پر نبی تراش ہے کہ آپ کے وجود باجود سے آئندہ نبی بنا کریں گے اور یہ وجہ اور کسی نبی کو عطاء نہیں ہوا کہ محض ان کی غلامی سے۔مثالی رسول ہوکر کوئی شخص نبی بن گیاہو۔ حاصل کلام یہ کہ خاتم کے معنی اگر مہر کے لئے جاویں تو یہی وجہ شبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے معنی ہوسکتے ہیں جو حضورﷺ کی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔

تیسرے معنی ان دونوں عام اورکثیر استعمال معنوں کے سوا محاورہ کے لحاظ سے ایک اور معنی بھی ہیں کہ کمالات کے لحاظ سے ایساہونا کہ دوسرا اس قسم کا نہ ہو۔ یہ معنی عموماً محاورہ پر استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے ایک شاعر اپنے استاد کی وفات پر مرثیہ کہتاہوایہ شعر کہتاہے ؎

  1. فجع القریض بخاتم الشعرائی

    وغدیر روضۃ ہاحبیب طائی

(وفیات الاعیان ج۱ ص۱۲۳)

یعنی اشعار کو صدمہ پہنچا خاتم الشعرائے کی وفات سے، جو شعرا اوراشعار کے باغ کا ایک تالاب تھاکہ ان شعرائے اور اشعار کو اس تالاب سے مددملتی تھی۔ یعنی ابوتمام حبیب طائی اس شعر میں خاتم الشعراء سے یہ مفہوم مراد نہیں لیاگیا کہ آئندہ کوئی شاعر ہی نہیں ہوگا۔ بلکہ یہی مرادہے کہ اس جیساشاعر نہیں ہوگا۔ انہی معنوں کو مد نظررکھتے ہوئے حضرت مولانا روم فرماتے ہیں ؎

  1. ختمہائے کا انبیاء بگزاشتند

    نے توگوئی ختم صنعت حقیقت برتوہست

(مثنوی دفترششم باب دوم آخر)

مطلب صاف ہے کہ رسول مقبولa خاتم الانبیاء ان معنوں میں ہیں کہ آپ جیسا نہ کوئی پہلے ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ (مثل اونے بود نے خواہند بود) اور جو خامیاں اور نقائص پہلے سے چلے آتے تھے وہ آپ نے دور فرمادئیے اور تمام راز ہائے سر بستہ آپ نے بے نقاب کر دئیے۔ اس لئے آپ بلحاظ کمالات کے خاتم ہوئے۔ انہی معنی میں حضرت غوث الاعظم سیدعبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: ’’بک تختم الولایۃ‘‘ (مکالہ۴، فتوح الغیب ص۳۰، نولکشور مطبع) یعنی راہ سلوک میں فانی الارادہ ہونے کے بعد اے مرید تو ایسا ہوجائے گا کہ تجھ پر ولایت ختم کی جائے گی۔یعنی تو اپنے ہمصروں میں بے نظیر اور اعلی مقام پر ہوگا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تیرے بعد آئندہ ولایت ہی ختم ہوجائے گی۔ انہی معنی میں ختم اور خاتم کا لفظ فارسی زبان کا بھی محاورہ بن گیاہے۔ مشہور انوری شاعر نے اپنے قطعہ میں کہاہے: ’’مادرگیتی ننرادہ… برمصطفی پیغمبری‘‘ اس طرح ہر ختم کا لفظ ان دومیں بھی بے نظیر کے معنوں میں محاروۃ استعمال ہوتاہے۔ مولانا حسرت موہانی کے دوشعر عام طور پر مشہورہیں۔

377
  1. اس ناز نیں پہ ختم ہیں سب شیوہ ہائے ناز

    جس کو بنا کے خود بھی ہے نازاں خدائے ناز

پھر کہتے ہیں:

  1. ختم تھا جس پر کبھی انداز حسن ودلبری

    آہ اب لائوں کہاں سے وہ نگاہ التفات

نہ صرف اس پر بس ہے بلکہ عام اردو بول چال میں کسی ایسے گفتار انسان کو کہتے ہیں کہ اس پر تقریرکرنا ختم ہوگیا یا سخاوت پر کہتے ہیں کہ سخاوت حاتم پر ختم ہوگئی۔ الغرض خاتم یا ختم ہونے کا محاورہ صرف عربی زبان میں تو نہیں ہے۔ اس معنی میں کہ ویسا نہیںہوگا۔ مگر یہ محاروہ ترقی کرتے کرتے لفظ خاتم اور ختم کے ساتھ فارسی اردو اور عام بول چال میںبھی رواج پاگیا۔

چوتھے معنی کو خاتم کے کئے جاتے ہیں، وہ آخر کے ہیں۔ یہ معنی نہ لغت کے ہیں نہ محاورہ عرب کے۔ بلکہ محض خیالی اور تاویلی ہیں۔ ان کے متعلق میں عرض کرتاہوںکہ تو اوّل تویہ اصلی معنی نہیں ہیں بلکہ لازمی معنی ہیں جو خود قراردئیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی لغت والا خاتم کے معنی ہرگز آخر نہیں لکھتا اور نہ کوئی محاروہ ہی ایسا پایاجاتاہے۔ جن لوگوں نے ان کو آخر کے معنی میں لیاہے انہوں نے یہ بھی تصریح کردی ہے کہ یہ لازمی معنی ہیں یاتاویل کے لحاظ سے ہیں نہ کہ اصل معنی۔

مثلاً (تفسیر فتح البیان ج۷ ص۲۹۶) میں لکھاہے: ’’قال ابوعبیدہ… خاتمہم‘‘ یعنی ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ یہاں اصل وجہ زیر ہے۔ کیونکہ تاویل یہ ہے کہ آپ نے انبیاء کو ختم کیا اورآپ ان کے خاتم ٹھہرے۔ پھر (شہاب ج۷ ص۱۷۵)پر لکھاہے: ’’وقولہ… ایضاً‘‘ کہ فتح کی قرأت کی وجہ سے جو قرآن میں آئی ہے، خاتم کا لفظ اسم آلہ ہے، جس کے معنی مہر لگانے والی چیز کے ہیں۔ اگرچہ انجام کار تاویل کے لحاظ سے اس کے معنی آخر کے بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر روح المعانی میں لکھاہے: ’’والخاتم… آخر النّبیین‘‘ (روح المعانی ج۷ ص ۵۹) میں خاتم اسم آلہ ہے اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ساتھ مہر لگائی جاوے۔ جیسے طابع اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ طبع کیا جاوے۔ پس خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص جس کے ذریعہ نبیوں کو مہر لگائی گئی اور انجام کار تاویل اس کی یہ ہے کہ ’’آخر النبی‘‘ الغرض جو شخص بھی خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کرتاہے وہ تاویل کے لحاظ سے کرتاہے نہ کہ اصل کے لحاظ سے اور یہ تاویل بھی ان لوگوں کی محض بے ثبوت ہے۔ کیونکہ انہوں نے قطعاً کوئی مثال یانظیر یا وجہ پیش نہیں کی کہ وہ کیونکر یہ تاویل کرتے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ جب یہی لوگ خاتم کو ’’ت‘‘ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور پھر اس کو اسم آلہ بھی قرار دیتے ہیں اور اسم آلہ کے لحاظ سے اصل معنی بھی کرتے ہیں اور اسم آلہ کی مثالیں یہی دیتے ہیں کبھی قالب کی اور کبھی طابع کی۔ مگر خاتم کے تاویل کے ساتھ آخر کے معنی کرتے ہوئے کوئی مثال نہیں دیتے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ تاویل ایک غلط عقیدہ کی وجہ سے ہے، نہ کسی قرینہ مثال کی وجہ سے۔

دوئم: بفرض محال اگر مان بھی لیا جاوے کہ یہاں خاتم النّبیین کے اصلی اور حقیقی معنی کی بجائے تاویلی اور لازمی معنی ہیں تو یہی تاویل کرتے وقت آخری کے معنی۔ اس رنگ میں مقدم ہوں گے جو حضرت سرورکائناتa نے ظاہر فرمائے ہوں۔ یعنی شرعی آخری نبی جن کی تفصیل میں نے آخر الانبیاء والی حدیث کا جواب دیتے وقت مدلل اورباحوالہ بیان کی ہے۔

خلاصہ جواب: وجہ تکفیر اوّل یہ ہے کہ اوّل تو احمدی جماعت رسول اﷲa کے خاتم النّبیین ہونے کی منکرنہیں ہے۔

دوم: مخالف مولوی صاحبان خاتم النّبیین کے جو معنی مراد لیتے ہیں۔ا ن کی زبان عربی اور کتب لغت سے کوئی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ علماء ، ائمہ ، محدثین کی تصریحات کے خلاف ہیں۔یہاں تک کہ ہمارے مخالفین کے مسلمہ بزرگوں کی تصریح اور خود ان کی عملی استعمال

378

کے بھی خلاف ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ام المومین حضرت عائشہ صدیقہt اور سید الاوّلین والآخرین خاتم النّبیین حضرت محمدمصطفیa کی تصریحات کے بھی خلاف ہیں۔ اس لئے وہ معنی ہرگز درست نہیں اور نہ ہی ضروریات دین میں سے ہیں۔

سوم: اس وجہ سے بھی وہ معنی ضروریات دین میں سے نہیں ہیں کہ مولوی صاحبان کی مخالفت کرنے کے باوجود خواجہ غلام فرید صاحب جیسے باخبر بزرگ نے مرزا صاحب کے متعلق یہی لکھاہے کہ وہ عقائد سنت وجماعت وضروریات دین کے منکرنہیں ہیں۔ ان آیات کا وہ مطلب نہیںہے اور نہ ان سے وہ استدلال ہوسکتاہے۔

چہارم: ہمارے مخالف مولوی صاحبان اپنے ان غلط معنی کی تائید میں جو بعض آیتوں سے استدلال کرتے ہیں، وہ استدلال محض غلط ہے۔ ان آیات کا وہ مطلب نہیں ہے اور نہ ان سے وہ استدلال ہوسکتاہے جو مخالفین کرتے ہیں۔

پنجم: ان غلط معنی کی تائید میں بعض احادیث سے جو استدلال کیاجاتاہے، وہ قطعاً باطل ہے اور نہ صرف سلف صالحین کی تصریحات کے صریح معنی کے خلاف ہے۔ بلکہ حضرت نبی کریمa کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔

ششم: مفسروں کے اقوال جو ہمارے مخالفین نے اپنی تائید میںپیش کئے ہیں ان سے ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس لئے کہ (۱)مفسرین کا قول حجت شرعی نہیں ، دوسرے ان کے اقوال کا وہ مطلب بھی نہیں۔ اگر ہو بھی تو ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوجاتا۔ چوتھا خود ہمارے مخالف مولوی صاحبان بھی مفسرین کے تمام اقوال کو قبول نہیں کرتے۔ بلکہ درج کی ہوئی حدیثیں بھی نہیں مانتے۔ صرف انہی اقوال کو مانتے ہیں جو ان کو پسند نہیں۔ اگر مفسرین کے معنی بالکل صحیح مان لئے جاویں تو ان کا حاصل صرف یہ ہے کہ شرعی رسول نہیں آسکتے۔ نہ کہ ہرقسم کے نبی۔

ہفتم: میں نے یہ عنوان قراردیاہے کہ خاتم النّبیین کا صحیح مفہوم سیاق وسباق، لغت، احادیث کی روسے کہاہے۔ ان سات عنوانوں سے میں نے واضح کردیاہے کہ مخالفین کی بیان کردہ وجہ تکفیر کسی صورت میں بھی ہم پر عائد نہیں ہوتی۔ سن کر تسلیم کیا۔

محمد اکبر!

379

جرح بر مولوی غلام احمد گواہ فریق ثانی باقرار صالح

۲۰؍مارچ ۱۹۳۳ء

میں احمدی ہوں ، میں مرزاغلام احمدصاحب کو ماننے والوں میں سے ہوں۔ ہماری جماعت جماعت احمدیہ کہلاتی ہے۔ میرے خیال میں جب کوئی شخص احمدی کا لفظ اپنے نام کے ساتھ کہتاہے یا بولتا ہے یا اپنے آپ کو کہتاہے کہ میں احمدی ہوں تو اس سے یہی مراد ہوتی ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کا فرد ہے اور جماعت احمدیہ مرزا صاحب کے ماننے والی جماعت ہے۔ جہاں جہاں ہمارے مبلغین گئے ہوئے ہیں، مثلاً لندن، افریقہ،جاوا، سماٹراوغیرہ ممالک ہیں۔

چونکہ وہ اپنے ساتھ جماعت احمدیہ کے الفاظ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے متعلق احمدیہ کا لفظ کوئی دوسرا بولے گا تو ظاہر ہے کہ اس سے وہی لوگ مرادہوں گے جو حضرت مرزا صاحب کے پیرو ہیں۔ ہندوستان میں ہماری اصطلاح یہی ہے کہ جماعت احمدیہ سے مراد وہی لوگ ہیں جو مرزا صاحب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے شخص کی اصطلاح کا مجھے علم نہیں۔ یعنی مجھے اس وقت مستحضر نہیں۔

کتاب تریاق القلوب مرزا صاحب کی تصنیف شدہ ہے۔ اس کے (ضمیمہ ص۴، خزائن ج۱۵ ص۵۲۶) پر مسلمان فرقہ احمدی درج ہے اور وہ نام فرقہ… مسلمان فرقہ احمدیہ کی عبارت یہی ہے۔ احمدی حضرت مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں اور غیر احمدی مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ یعنی احمدیہ جماعت کے میں نے جو عقائد بیان کئے ہیں۔ وہ جماعت احمدیہ کے ہیں۔ مجھے اپنی جماعت کے سوا دیگر فرقوں کے اعتقادات سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مدعیہ کے عقائد کا کوئی علم نہیں اور نہ گواہان نے اپنے اعتقادات مجھے بتلائے ہیں۔ میں ان کو دیوبندی خیالات کا سمجھتاہوں۔ جب میں مدعاعلیہ کی طرف سے بطور مختار پیش ہواتھا توگواہ نمبر۱ فریق اوّل نے اپنی سکونت اور اپنی ملازمت دیوبند اور دارالعلوم دیوبند کے ساتھ وابستہ تھی اور ان کے مختار کی طرف سے یہ کہا گیاتھا کہ یہ مفتی دیوبند ہیں۔چونکہ ان کے مختار نے ان کو مفتی دارالعلوم دیوبند کہا تھا۔ اس سے میں یہی سمجھا کہ وہ دیوبندی خیالات کے ہیں۔ میرے سامنے انہوں نے اس وقت اپنے عقائد کی کوئی تفصیل بیان نہ کی تھی۔ چونکہ ایک گواہ نے تصریح کردی ہے کہ گواہ دیوبندی خیالات کا ہے۔ میں اس سے یہ سمجھا کہ اس کے ساتھ جو باقی گواہ ہیں، وہ بھی دیوبندی خیالات کے ہیں۔ تصریح میں اس سے سمجھتاہوں جو میں اوپر بیان کرچکاہوں کہ اس گواہ نے خود یہ کہا کہ وہ مدرس دارالعلوم ہے اور اس کے مختار نے اسے مفتی دیوبند قراردیا۔

مولوی نجم الدین صاحب بھی اس فریق کی طرف سے پیش ہوئے۔ اس لئے میں سمجھا کہ وہ دیوبندی ہیں۔ فریق سے مراد میری فریق گواہان سے ہے۔ چونکہ مولوی نجم الدین صاحب اس فریق کے ساتھ مل کر پیش ہوئے۔ اس لئے میں نے سمجھا کہ وہ دیوبندی خیالات کے ہیں۔

احمدی اور غیر احمدی میں اصولی فرق بھی ہے اور فروعی بھی۔ جو کتاب اب میرے سامنے پیش کی گئی ہے اس کے ٹائٹل پیج پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ (نہج المصلٰی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج اوّل، اسرار شریعت عربی ج اوّل) یہ کتاب مؤلف فضل احمد کی ہے۔ اس میں جو کلام مرزا صاحب کا یا خلیفۃ المسیح اوّل کا یا خلیفۃ المسیح ثانی کا نقل ہے۔ بشرطیکہ وہ الفاظ ان تینوں بزرگوں کی اپنی کتابوں میں پائے جاویں، وہ مجھ پر حجت ہیں۔ ویسے یہ ایک احمدی کی مؤلفہ کتاب ہے۔ میرے نزدیک حضرت مرزا صاحب اور ان کے دونوں خلفاء کی تحریرات ان کی اپنی کتابوں سے مستند ہیں اور حجت ہیں۔ ہماری جماعت میں یہ صرف ایک احمدی کا درجہ رکھتاہے اور سوائے مذکورہ بالا حضرات کے اور کسی

380

احمدی کا قول مجھ پر حجت نہیں۔ کوئی احمدی شخص اگر مرزا صاحب یا خلیفہ اوّل یا خلیفہ ثانی سے کوئی بات نقل کرے تو تاوقتیکہ وہ ان حضرات کی اپنی کتابوں میں نہ پایا جاوے، وہ نقل میرے لئے حجت نہیں ہے۔ اگر کوئی ایساقول ان حضرات کا بیان کیا جاوے جس کی کوئی اصلی ان کی کتابوں میں نہ ہو تو وہ قول حجت نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے (ص۲۷۴،۲۷۵) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان اصولی اختلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا……اصولی فرق سمجھتاہوں۔ حضرت مرزا صاحب نے اپنی تعلیم کو مدار نجات قراردیاہے۔ اس لئے کہ مرزا صاحب کی تصدیق قرآن اور حدیث سے ہوتی ہے اور جو شخص خداتعالیٰ کی طر ف سے ہونے کا دعویٰ کرے اور قرآن اور حدیث اس کے مصدق ہوں۔ اس کا ماننا اوراس کی تعلیم پر چلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس زمانہ میں وہی تعلیم مدار نجات ٹھہرتی ہے۔ اس لئے مرزا صاحب کا ماننا ضروری ہے۔

نوٹ: جارح یہ پوچھنا چاہتاہے کہ آیا کسی مسلمان کے بلااحمدی ہونے کے نجات ناممکن ہے۔ گواہ بیان کرتاہے کہ میں نے اس کے متعلق مرزا صاحب کے جو اپنے الفاظ تھے، اوپر بیان کردئیے ہیں۔ اس سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے۔ اگر ایک شخص احمدیت سے بیزاری اور ارتداد اختیار کرتاہے تو وہ ویسا مرتد نہیں ہے جو اسلام سے مرتد ہوتاہے۔ مرتد کے لغوی معنی ہیں کہ کوئی شخص کسی بات کو مان کر اس سے انکار کردے اور اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ باتوں کے اقرار اور عقیدہ رکھنے سے اسے مسلمان کہا جاتاہے۔ ان میں سے کسی ایک کو یا سب کو نہ مانے اور انکار کردے۔ میرے نزدیک ارتداد کے جب یہ معنی ہیں۔ یہ کہ وہ باتیں کہ جن کے ماننے سے ایک شخص مسلمان ہوتاہے۔ ان میں سے ایک کا یاسب کا انکار کرنے پر مرتد کا لفظ بولاجاتاہے۔ پس وہی ارتداد کے ارکان ہوئے جو کتاب پیش کی گئی ہے۔ اس کے ٹائٹل پیچ پر جز ثالث ہر… اظہار کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے (ص۲۸۳) پر یہ الفاظ ہیں: ’’واکن ہا… بعد الایمان‘‘

سن کر درست تسلیم کیا۔

فریقین اور ان کے مختاران حاضر ہیں … ۲۱؍مارچ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان جرح مولوی غلام احمد مجاہد گواہ فریق ثانی

مرتد کی جو تعریف میں نے لکھا دی ہے یہی ایمان لے آنے کے بعد انکار کردینا۔ ایسے شخص کے نکاح کے متعلق تو قرآن اور حدیث میں کوئی تصریح مجھے معلوم نہیں۔ تعامل یہ ہے کہ نکاح فسخ سمجھاجاتاہے۔ جماعت احمدیہ نے احمدیہ سے مرتد ہونے والے شخص کے نکاح کو فسخ قرارنہیں دیا۔ احمدیت سے قبل کے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ نکاح فسخ ہوجاتاہے۔ احمدی جماعت کی طرف سے کسی ایسے فتویٰ کا دیا جانا، اس وقت مجھے یاد نہیں۔ حضرت مرزا صاحب نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی مسئلہ قرآن وحدیث سے نہ مل سکے تو ایسے مسئلوں میں فقہ حنفیہ کو دیکھا جاوے۔ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لئے قرآن شریف کی تصریح کے مطابق جائز ہے۔ قرآن شریف سے پہلے جن قوموں کو خداتعالیٰ کی طرف سے شرعی ہدایتیں دی گئی ہے۔ کتاب کی صورت میں اوروہ کسی کتاب کو مانتی ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کی طرف سے اتری تھیں۔ وہ اہل کتاب سمجھے جائیں گے۔ کوئی اہل کتاب عورت جو نبی کریمa کو گالیاں دیتی ہو۔ یہ امر کہ اس سے نکاح جائز نہیں، اس کے متعلق قرآن شریف میں کوئی استثناء نہیں۔

مجھے مرزا صاحب یا ان کے خلفاء کی تحریرات میں اس قسم کا کوئی ذکر اس وقت مستحضر نہیں ہے۔ احمدی جماعت سے مرتد ہونے والے شخص کے نکاح کے فسخ ہونے کے متعلق ہماری جماعت کی طرف سے کوئی فتویٰ شائع نہیں ہوا۔ ہمارے نزدیک ارتداد کی کوئی قسمیں

381

نہیں ہیں اور اگر کئی اپنے بزرگ کو پڑھ کر گالیاں دے تو وہ اس صورت میں دیتاہے کہ اس سے اس کے اندر اس کا انکار پیدا ہوجاتاہے اور اس صورت میں بھی وہ مرتد ہی کہا جائے گا۔ اس کے لئے کوئی نیاحکم نہیں۔ وہ عورت جس کا خاوند احمدیت سے مرتد ہوکر غیر احمدی ہوگیاہے، وہ عورت اس خاوند کی طرف اگرجانا چاہتی ہے تو اس کے روکنے کے بارہ میں ہماری جماعت کا کوئی فتویٰ مجھے معلوم نہیں۔ غیر احمدی کے گھر میں جو اولادہو وہ احمدی کی سمجھی جاتی ہے، جب تک وہ بالغ ہوکر خصوصیت کے ساتھ کچھ اظہار نہ کرے۔ ایک بالغ مسلمان اپنے آپ کو مسلمان کہ کرپھر کس سچے مسلمان کی تکفیر کرتاہے۔ یعنی اس کو کافر کہتاہے تو حدیث میں حکم ہے کہ وہ کفر اس پر لوٹ آئے گا، یہ کافر ہوگا۔ یہ شخص اصطلاحاً مرتد نہیں کہلائے گا۔ کیونکہ اس نے ان باتوں میں سے کسی ایک بات کا بھی تصریح سے انکار نہیں کیا، جن کے ماننے سے ایک غیرمذہب کا انسان مسلمان کہلاتاہے اور کسی مسلمان کو مسلمان کہہ دینے سے کہہ دینے والا مسلمان نہیں بنتا۔ ہر وہ انسان جو مرزا کو کافر کہتاہے۔ اس لئے کہ مرزا صاحب سچے مسلم ہیں۔ ان کو کافر کے لئے کہنے والا شخص اس حدیث کی بناء پر ایسا ہوگا کہ وہ کفر اس پر خود لوٹ پڑے گا۔ نہ ماننے والے کوانکار کرنے والے کو عربی زبان میں لغت کے لحاظ سے کافر کہتے ہیں۔ مرزا صاحب کا انکار کرنے والا اور مرزا صاحب کو مسلمان سمجھ کر پھر ان کو کافر کہنے والا مرتد نہیں کہاجاسکتاہے۔ کیونکہ مرتد کے معنی ہیں۔ مان لینے کے بعد انکار کرنا۔ مسیح موعود کو ماننے کا حکم خدااوراس کے رسول کی طر ف سے ہے۔

پس مسیح موعود کا نہ ماننا ا س لحاظ سے کفر ہے کہ وہ خدااور خدا کے رسولﷺ کے حکم کا انکارکررہاہے۔ اس لئے ایسے شخص کو بھی مرتد اس لئے نہیں کہا جائے گاکہ اس نے مسیح موعود کو مان کر انکار نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص ’’اٰمنت باﷲ وملٰئکتہٖ وکتبہ‘‘ کہنے کے بعد جس کے مان لینے سے اس کو مسلمان اور مؤمن کہا جاتاہے، اگر وہ اقرارکرنے کے بعد انکار کرتاہے کسی ایک شق کا یا سب کا تو وہ مرتد کہلائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی خاص نبی کے ماننے کا اقرار کرتاہے اس کا نام لے کر اور پھر اس نبی کے ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ مرتد کہلائے گا۔ کیونکہ اس نے مان کر انکار کیا۔ اگرکوئی اجمالاً مانتا ہے تو اجمالاً انکار کرنا ارتداد کہلائے گا۔ اگر کوئی شخص تفصیلاً مانتاہے تو تفصیلاً انکار کرنے پر ارتداد کہلائے گا اور اگر وہ اجمالاً مانتاہے اور تفصیلاً انکار کرتاہے تو ا س سے دریافت کیا جائے گاکہ اس اجمالاً مانتے وقت کیا مدنظر رکھا تھا۔ آیا اجمالاً اس کے اقرار کرتے وقت اس خاص نبی کا اقرار مدنظر رکھا تھایا نہیں۔ اگر وہ کہے کہ میں نے اقرار کرتے وقت اسے مد نظر نہیں رکھا تو پھر جب اس نے اس کا اقرار نہیں کیا تو اس پر ارتداد کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر وہ کہے کہ اجمالاً اقرار کرتے وقت اس نے خدا کے سب سچے رسولوں کا اقرارکیاتھا اور پھر ایک رسول کے متعلق اس کو سچا ماننے کے بعد انکار کرتاہے تو ارتداد کہلائے گا۔

مرزا صاحب ہمارے نزدیک مسیح موعود اور سچے نبی ظلی ہیں۔ یعنی آنحضرتﷺ کی قوت قدسیہ اور افادہ روحانیہ سے آپ کو نبوت عطاء ہوئی ہے اور آپ کی نبوت نبی کریمa کی نبوت کے خلاف نہیں ہے بلکہ ماتحت ہے۔ آپ کی نبوت تشریعی نبوت نہیں ہے اور آپ کی سچائی قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ نبوت کے لغوی معنی ہیں خبردینا۔ یعنی خداتعالیٰ کی طرف غیب کی اطلاع پاکر خبر دینا۔ نبوت کی اصطلاح اور مفصل کے طور پرقرآن شریف میںکوئی تعریف نہیں آئی۔ اس لحاظ سے کہ نبی رسول ہوتاہے۔ رسول کی یہ تعریف آئی ہے کہ اس پر خداتعالیٰ کی طرف سے اظہارغیب ہوتاہے۔ قرآن شریف میں درج شدہ انبیاء کے واقعات سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ خداتعالیٰ جس کو نبوت کے لئے مامور فرماتاہے وہ اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں۔

مرزا اصاحب لغوی معنی کے اعتبار سے بھی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے بھی نبی ہیں۔ مگر وہ اصطلاح جولوگوں میں مروج ہے کہ نبی مستقل طور پر براہ راست خداتعالیٰ کی طرف سے نبی ہوتاہے اور شریعت شدہ ہے۔ مرزا صاحب کی نبوت اس اصطلاح کی روسے

382

نبوت نہیں ہوگی۔ بلکہ اس اصطلاح کی رو سے جو نبی کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہونے کی حیثیت سے اظہار غیب ہونے پر دعوے کی صورت میں پیش ہو کہ خداتعالیٰ نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور فرمایاہے اور مجھے اپنے غیب سے اطلاع دی ہے۔ اس میں یہ شرط نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ اظہار غیب کی اصطلاح کے لحاظ سے مرزا صاحب نبی ہیں۔

چنانچہ مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’وتاتی اﷲ من نبوۃ الاکثرۃ المکالمۃ والمخاطبۃ‘‘ یعنی میری نبوت سے خداتعالیٰ نے کثرت مکالمہ اور مخاطبہ الانبیاء مراد لی ہے جو آنحضرتﷺ کے توسط سے ہے اور جو اصطلاح میں نے اوپر بیان کی ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ اگر اصطلاحی سے عام مسلمانوں کی مروجہ اصطلاح مرادہے اور اس کے مقابل پر کوئی مدعی نبوت اس اصطلاح کو جو میں نے بیان کی ہے، لغوی قرار دے کر (سمجھانے کے لئے) اپنے آپ کو نبی کہتاہے تو اس کا انکار اس لحاظ سے کفرہے کہ اس کی تصدیق قرآن شریف اور حدیث سے ہوتی ہے۔

لغوی سے میری مرادیہ ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے اظہارعلی الغیب ہونے کے بعد اس کا دعویٰ نبوت کرنا۔ یہ اس اصطلاح کے مقابل پر ہے جو مسلمانوں میں مروج ہے۔ اس لحاظ سے نبی کا نہ ماننے والا منکر ہے اور منکر یعنی کہ نہ ماننے والے کو عربی زبان میں لغت کے لحاظ سے کافر کہتے ہیں۔ نبی کریمa نے پیش گوئی فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں تو اس طرح آیاہے کہ میری امت۷۳فرقوں میں منقسم ہوجائے گی اور ان میں سے سب ناری ہوں گے اور ایک ناجی ہوگا اور پوچھا گیا کہ وہ کون سا فرقہ ہے تو اس کے متعلق نبی کریمa کی ایک تو یہ روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ وہ جنتی فرقہ وہ ہوگا کہ جن کا عمل درآمد اور عقائد اور اعمال وغیرہ دینی ہوں گے جو آنحضرتﷺ اورآپ کے صحابہ کرام کے تھے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ وہ ایک جماعت ہوگی اور جماعت وہ ہے جس کا کوئی واجب الاطاعت امام ہو۔ گورنمنٹ میں مرزا صاحب نے احمدیہ کو مسلمان فرقہ احمدیہ درج کرنے کی درخواست دینے کی رو سے فرقہ احمدیہ کے الفاظ کا ہم پر اطلاق کیا جاتاہے۔

خواجہ حسن نظامی اور ان کے ماننے والوں نے اسی فرقہ احمدیہ کو جس کا اوپر ذکر ہوچکاہے، یعنی جماعت احمدیہ کو (مسلمان) بتلایاہے۔ ایسا ہی مولوی ثناء اﷲ جو اہل حدیث ہیں جو پچھلے دنوں اہل حدیث لوگوں کی کسی انجمن کے امیر بھی رہے ہیں اور ایک ایسے مشہور انسان ہیں۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مسلمانوں کے فرقوں میں سے ایک فرقہ قرار دیاہے۔ نبی کریمa نے جو فرقوں کی تعداد بیان فرمائی ہے اس سے جو کثرت مراد ہے، میں خواجہ حسن نظامی صاحب کے ماننے والوں اور مولوی ثناء اﷲ صاحب کے ماننے والوں کو بھی فرقہ قرار دیتاہوں۔ غیر احمدیوں میں کثرت سے فرقے ہیں۔ وہ سب فرقے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اس میں وہ ایک دوسرے کو کافر بھی کہتے ہیں۔ آیا حسن نظامی اور ان کا فرقہ مسلمان ہیں یا نہ ، اس کے جواب میں میں یہ کہتاہوں کہ کسی غیر کے اسلام اور کفر کی بحث کرنے کے لئے یہاں نہیں آیاہوں۔ میں اپنا مسلمان ہونا ثابت کرنے کے لئے یہاں آیاہوں۔ حسن نظامی اور ان کا فرقہ مرزا صاحب کو نہیں مانتے۔ ہم اپنے واسطے لفظ احمدی ہی پسند کرتے ہیں۔ جو شخص کوئی کلام کرتاہے اس کلام کے معنی بہتر سمجھتاہے اور اس کلام کے جو معنی وہ بیان کرے گایا مطلب نکالے گا یا تاویل کرے گا وہی مقدم ہوگا۔

میں بچپن سے احمدی ہوں۔ تبلیغ اسلام میرا پیشہ ہے۔ میں سلسلہ احمدیہ کی طرف سے مبلغ ہوں۔ جس طرح نبی کریمa کی طرف سے صحابہ کو ملتا تھا، اس طرح ہم کو بھی سلسلہ کی طرف سے ملتاہے۔ فطرۃ اﷲ سے مراد خدا کی فطرت ہے اور نیک فطرت یہی ہے اسلامی فطرت بھی بمعنی نیک فطرت مراد لی جاسکتی ہے۔ احمدیت نیک فطرت ہے۔

383

قرآن شریف کی تفسیر کرنے کے لئے قرآن شریف کے فرمودات احادیث کی واقفیت، زبان عربی کی واقفیت اور جو علوم ممدود ہوسکتے ہیں، ان کی واقفیت کی ضرورت ہے۔ حدیث کے لئے دوچیزوں کی ضرورت ہے۔ روایت کی بھی اوردرایت کی بھی۔

ہمارامسلک یہ ہے کہ قرآن شریف قطعی ہے اور مروجہ بیان کردہ حدیثیں جو قرآن شریف کے مطابق ہوں گی وہ بھی قطعی ہیں۔ روایت سے مراد ایک کا دوسرے کے پاس بیان کرنا، قرآن شریف کے مطابق ہے۔ مرزا صاحب کی وحی اسی واسطے مرزا صاحب کی وحی قطعی ہے۔ چونکہ مرزا صاحب کی وحی قرآن کی رو سے قطعی ہے۔ اس لحاظ سے اس کے خلاف کوئی عربی عبارت اگر حدیث قرار دے کر پیش کی جائے گی تو وہ مستند نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قرآن شریف جو قطعی چیز ہے، اس کے وہ خلاف پڑتی ہے۔ دوحدیثیں اگر آپس میں مخالف ہیں توجو حدیث قرآن شریف کے مطابق ہوگی وہ مقدم ہوگی اور اس کے متعلق نبی کریمa کا فرمودہ ہے اور بعض اماموں نے بھی اس امر کی تصریح کی ہے اور مجھے یاد نہیں کہ باقی ائمہ نے بھی اس کے خلاف کچھ بیان کیا ہو۔

جو کتاب اب پیش کی جارہی ہے، یہ مرزا صاحب کی کتاب اعجاز احمدی ہے۔ اس کے (ص۳۰،۳۱، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ہاں! تائیدی سے… پھینک دیتے ہیں۔‘‘ اس کے آگے کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہو، جس میں کہ قرآن کو معیار قراردیاگیاہے۔

مرزا صاحب کے ماننے والوں کے سوا باقی سب نہ ماننے والوں میں شامل ہیں۔ کیونکہ شریعت ظاہر پر حکم کر گئی ہے اور ماننے والے کے بالمقابل نہ ماننے کا بھی درجہ ہے۔ کوئی تیسرا درجہ نہیں۔ اگر نہ ماننے والوں کو اطلاع نہیں ہوئی تو ان کو ماننے والانہیں کہا جاسکتا۔ یہی ہم کہیں گے کہ وہ نہ ماننے والے ہیں۔ کیونکہ درجے دو ہی ہیں۔ ماننے والا اور نہ ماننے والا۔قرآن مجید میں جس طرح دوسرے نبیوں کے ماننے کا حکم ہے، اسی طرح مرزا صاحب کے ماننے کا بھی حکم ہے۔ صریح آیات بھی ہیں جو میں اپنے بیان میں بیان کرچکاہوں اور وہ تمام قرآنی آیات جو مدعی صادق کی سچائی کا معیار بیان کی گئی ہیں، وہ مجبور کرتی ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو ضرور مانیں۔

مرزاغلام احمدقادیانی کے الفاظ کے ساتھ حدیث میں آنے والے کی پیش گوئی موجودنہیں۔ البتہ مسیح موعود اور مہدی موعود کے الفاظ سے پیش گوئیاں ہیں اور ساتھ میںعلامتیں بھی موجود ہیں جوآفاقی بھی ہیں۔ ارضی اور سمائی بھی ہیں اور ساتھ ہی معیاری بھی ہیں۔ مجبور کرتے ہیں کہ مرزاصاحب کو ماناجائے۔

غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ چھوٹے بچے چونکہ اپنے ماں باپ کے حکم پر ہوتے ہیں، اس لئے ان کی نماز جنازہ بھی احمدی نہیں پڑھتے۔ غیر احمدی کے پیچھے نماز اس لئے نہیں پڑھی جاتی کہ وہ مرزا صاحب کا مکفر اور مکذب ہے۔ اس لئے وہ ہمارا نمائندہ نہیں ہوسکتا اور شریعت بھی یہی کہتی ہے کہ افضل انسان امام ہوناچاہئے جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔ وہ اس لئے نہیں مانتا کہ وہ مرزا صاحب کو مفتری سمجھتاہے یعنی کافر سمجھتا ہے۔ کیونکہ مفتری کے متعلق خداتعالیٰ فرماتاہے کہ وہ کافرہے۔ اس لئے ایسے شخص کے پیچھے ہم نماز نہیں پڑھ سکتے اور احمدی اورغیر احمدی کا فرق مرزا صاحب کے ماننے اور نہ ماننے میں ہے۔ ہم غیر احمدی اسے کہتے ہیں کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔

مختار مدعاعلیہ کے اس سوال پر کہ کیا ہر غیر احمدی مرزا صاحب کے نہ ماننے والا مکفر اور مکذب ہے۔ گواہ نے یہ بیان کیا کہ میرا اس کے متعلق مرزا صاحب کے الفاظ میں یہ ’’عقیدہ‘‘ ہے: ’’جو مجھے نہیں مانتا اور اس لئے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتاہے اور مفتری ظالم ہوتاہے۔ گویا میں اس کے نزدیک اکفرہوا۔‘‘ یعنی نہ ماننے والا مرزا صاحب کو مفتری کہنے کی وجہ سے مرزا صاحب کا مکفر بنتاہے۔ جو کتاب اب پیش کی گئی ہے اس کا نام ’’انوارخلافت‘‘ ہے جو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی تقریروں کا مجموعہ ہے۔ اس کے

384

(ص۹۰، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۸) پر یہ عبارت ہے کہ ہمارا… کچھ کر سکے۔ مگر اس کے آگے کا فقرہ کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دنیاوی یا تمدنی تعلقات کو منقطع کر دیں۔ یہی قابل ملاحظہ ہے۔ اس کتاب کے (ص۸۹، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۷) پر ہے۔ پھر ایک اور مسئلہ ہے… تم سے مقتداء اس کتاب کے (ص۹۲، انوار العلوم ج۳ ص۱۴۹،۱۵۰) پر حسب ذیل عبارت ہے: لکھنو میں… کافر سمجھیں۔ اسی کتاب کے (ص۹۳، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰) پر ہے کہ پس غیرا حمدی… چاہئے۔ مگر اس پہلی کی عبارت۔ اب ایک اور سوال رہ جاتاہے، کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔ غیر احمدی کو لڑکی دینے کے متعلق جو کچھ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے حکم دیاہے اس پر میرا ایمان ہے۔ (انوارخلافت ص۹۳،۹۴، انوار العلوم ج۳ ص۱۵۰،۱۵۱) پر یہ عبارت ہے۔ ایک اور بھی سوال ہے… قبول کرلیاہے۔ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے جو کچھ بھی فرمایاہے۔ میں اسے مانتاہوں اور یہ عبارت کہ ہر وہ مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہ ہوا، خواہ اس نے مسیح موعود کا نام تک نہ سنا ہو، وہ کافر، خارج از اسلام ہے۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘ اگر خلیفہ المسیح ثانی کے الفاظ ہیں تو میں اس کومانتاہوں۔ ماقبل، مابعد کی شرط اور توضیح کے ساتھ برکات خلافت میں بھی مرزا بشیرالدین صاحب کی تقریریں ہیں۔ اس کے (ص۷۵، انوار العلوم ج۲ ص۲۱۱) پر یہ عبارت ہے۔ پھر… نہ دے۔ لیکن اس سے پہلے کے دوصفحات بھی مد نظر رکھ لئے جاویں۔ اس کتاب کے (ص۷۳، انوار العلوم ج۲ ص۲۱۰) پر حسب ذیل عبارت ہے: کیونکہ غیر… جائزبھی نہیں۔ مرزا صاحب کے ماننے والوں میں بلحاظ بعض نظام کے میںدو فرقوں کو جانتاہوں۔ ایک وہ جن کا مرکز قادیان ہے جو ایک امام کے تحت ہیں۔ یعنی خلیفۃ المسیح ثانی خلیفہ بشیر الدین محمود احمد صاحب اور یہ قریباً ۹۹فیصدی ہیں اور دوسرے جو لاہور میں ایک اشاعت اسلام کی انجمن کےساتھ تعلق رکھتے ہیں، جن کے پریذیڈنٹ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ہیں۔ لاہوری پارٹی نے امام جماعت احمدیہ کی بیعت نہیں کی ہوئی اور حضرت مرزا صاحب مسیح موعود کی نبوت کو محدثیت کے رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض اپنی غلطی کی وجہ مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کے بیان کردہ اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں میں اصولی اختلاف ہے۔ اگرکوئی شخص مرزا صاحب کو نبی بمعنی محدث قرار دیتاہے اور آپ کے سب اصولوں کو مانتاہے وہ احمدی ہے۔

مرزا صاحب کو مرزا صاحب کے بیان کردہ معنی کے لحاظ سے بھی خواہ محدث کے رنگ میں ہو، خواہ ظلی نبی کے رنگ میں، نبی نہیں مانتا تو وہ مرزا صاحب کو نہیں ماننے والا۔ اگر ایک شخص مرزا صاحب کی نبوت کو بحیثیت محدثیت بھی نہیں مانتا اور مرزاصاحب کے ایسے دعویٰ کو بھی وہ کفر سے تعبیر کرتاہے تو وہ بھی مرزا صاحب کا منکرہے۔ لاہوری پارٹی مرزا صاحب کو نبی بمعنی محدث مانتے ہیں۔ میری معلومات ان کے متعلق یہی ہیں۔ میں نے مولانا محمد علی کی کتاب ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ کو پڑھا ہے۔ احمدی نبی کے نام سے ایک ٹریکٹ مولوی محمدعلی صاحب کا ہے اور جو کتاب اب پیش کی گئی ہے۔ اس کے ٹائٹل پیج پر مولوی محمد علی صاحب کا نام لکھا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ انہیں کی لکھی ہوئی ہے۔

جو شخص مرزا صاحب کو مستقل شرعی نبی قرار دے۔ چونکہ مرزا صاحب نے مستقل شریعت کے مدعی کوکافر اور ملحد، بے دین قرار دیاہے۔ اس لئے گواہان کی طرف سے مستقل شریعت والی نبوت کے منسوب کرنے سے اس انسان نے گویا کفر کی نسبت کی۔ لہٰذا وہ مرزا صاحب کے صحیح دعویٰ کا منکر ہوا اور اگر کوئی شخص عمومیت کے لحاظ سے قرآن شریف کے بعد کسی شرعی نبوت کا جواز مانتاہے تو وہ کافر ہے۔ یہاں بھی کافرسے مراد یہی ہوگاکہ وہ شریعت اسلام کا منکر ہورہاہے اور نبی کریمa کی تصریحات سے انکار کررہاہے۔ اگر وہ شخص اپنے آپ کو مسلمان کے لفظ سے دنیا میں مشہور کرتاہے تو اس کو مخاطب کرتے وقت بہر حال انہی الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔ لیکن حقیقت کے لحاظ

385

سے یہ ہے کہ وہ شریعت اسلامی کاکفرہے۔ میرے نزدیک شریعت اسلامیہ میں کفر کا معنی انکارہے اور جس چیز کی طرف وہ نسبت کیا جائے گا، اس کا وہ انکار سمجھا جائے گا۔

جو شخص مرزا صاحب کے نام کا بھی کلمہ پڑھے اور قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔ بجائے مکہ والے کعبۃ اﷲ کے تو وہ لامحالہ کافرہے۔ کیونکہ شریعت اسلام کے خلاف چل رہاہے۔ ظہیر الدین اروپی، جماعت احمدیہ قادیان میں سے نہیں ہے۔ مجھے کوئی علم نہیں کہ وہ لاہوری پارٹی سے تعلق رکھتاہے یا کس پارٹی سے تعلق رکھتاہے۔ مجھے اس نے ملاقات کے وقت نہیں بتلایا کہ وہ مرزا صاحب کے ماننے والاہے۔ مجھے اس سے زیادہ ملاقات کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ جو ٹریکٹ حق المبین چار ورق کا میرے سامنے پیش کیاگیاہے اس کے شائع کرنے والے ڈاکٹر نورمحمد، منشی عالم اینڈسنز ہیں اور مشتہران سے پہلے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: ’’فان اﷲھومولٰہ……ظہیر (تحریم:۱۹)‘‘ میں ظہیرالدین کو احمدی نہیں سمجھتا۔

سن کر درست تسلیم کیا۔

تتمہ بیان جرح غلام احمد … ۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء

ہر وہ احمدی شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتاہو مگر حضرت مسیح موعود کے اس حکم کے خلاف ورزی کرے اور حضرت مسیح موعود کے نہ ماننے والوں کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کے پیچھے بھی ہم نماز پڑھنی پسند نہیں کرتے۔ میں نے حضرت مسیح موعود اور ان کے دونوں خلفاء کی کل کتابیں بھی کچھ درساً اور کچھ مطالعۃً پڑھی ہیں۔ میں سلسلہ احمدیہ کی طرف سے خدمات اسلام کے لئے مقررہوں۔

ضرورت دین وہ چیز ہے جس کا ماننا اس دین کے اندرداخل ہونے کے لئے نہایت ضروری ہو۔ یہ قرآن شریف کی رو سے، ان احادیث کی روسے، جن کو قرآن کریم یا تصدیق کی بناء پر قطعیت کا درجہ حاصل ہے۔ میں ضرورت دین کا مطلب یہی سمجھتاہوں۔ میرے نزدیک قرآن کے سوااور کوئی چیز مسلّم نہیں۔ سوائے اس کے جو قرآن شریف کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔ جو قرآن شریف کو پڑھتاہے وہ خود مطابق کرسکتاہے۔

اور میرے لئے قرآن شریف کی مطابقت دیکھنے کے لئے کہ کونسی چیز قرآن شریف کے مطابق ہے؟ میرے واجب الاطاعت اماموں کی بیان فرمودہ مطابقت یا میری اپنی مطابقت مسلّم ہے۔ میں مبایعین ہوں۔ میں مرزا بشیر الدین احمد صاحب کی بیعت ہوں۔ واجب الاطاعت اماموں سے میری مراد حضرت مسیح موعود اور ان کے خلفاء سے ہے۔ ہمارے ہاں ماہواری چندہ کا مصرف وہی ہے جو قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے۔ وہ سب کے سب مصارف اہم ہی ہیں۔ ان مصارف کا ذکر سورۂ بقرہ، سورۂ توبہ میں ہے۔ یہی آیت: ’’لیس البر… الخ! (بقرہ:۱۷۷)‘‘ آیت: ’’انما الصدقات… قلوبہم… الخ! (توبہ:۶۰)‘‘ اور تمام وہ آیتیں جن میں مومنوں کے متعلق جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی تاکید آئی ہے یا وہ تمام آیتیں جن میں اس بات کی تصریح موجودہے کہ خداتعالیٰ نے مومنوںسے ان کی جانیں اور ان کا مال خرید لیاہے۔

چونکہ مذہب کے معنی طریقہ اور روش کے ہیںجس پر ایک انسان چلتاہے اور اس لئے غیر احمدی سے احمدی ہوجانے یا احمدی سے غیر احمدی ہوجانے کو مذہب اختیار نہ کرنا کہاجاسکتاہے اور مذہب بدلنا اور مذہب اختیار کرنا میرے نزدیک ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔

چشمہ معرفت مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ اس کے (ص۲۷۵،۲۷۶، خزائن ج۲۳ ص۲۸۸،۲۸۹) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ علاوہ اس کے شریعت اسلام… اس سے علیحدہ کیاجائے۔ اس میں حاکم وقت سے مراد اسلامی شریعت ہے۔ یعنی ایسے حکام جو اسلامی سلطنت

386

سے اسلامی شریعت کو چلانے کے لئے مقررکئے گئے ہوں، اگرجہاں سلطنت اسلامی نہ ہو وہاں اس وقت کاسول لا نافذ ہوگا۔

مذکورہ بالا عبارت میں ایسی عورت کا ذکر ہے جو خاوند کے گھر میں ہو۔ یعنی تعلقات زن وشوئی ہوں اور اس کے بعد وہ درخواست علیحدگی کرے۔ حضرت نبی کریمa نے اپنے خیالات مبارکہ میں جس طرح خداتعالیٰ کی وحی کی بناء پر تبدیلی فرمائی ہے۔ اس طرح حضرت مسیح موعود نے بھی خداتعالیٰ کی وحی پر اپنے خیالات میں تبدیلی فرمائی ہے اورایسی تبدیلی کسی نبی کے لئے موجب ضرر نہیں۔ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے احکام پہنچانے کے لئے مقررہوتاہے۔ اس کا اپنا اختیار کچھ نہیں ہوتا۔ جس طرح نبی کریمa نے آہستہ آہستہ مختلف وقتوں میں مختلف خیالات میں تبدیلی فرمائی اور بالکل ویسے ہی ایک خادم اور عاشق صادق مسیح موعود نے بھی اپنے دعویٰ کو مبلغ، مصلح، مامور، مجدد، امام زمان، مصلح وقت، مسیح موعود، مہدی موعود، محدث،ظلی نبی، مجازی نبی، غیر تشریعی نبی، غیر مستقل نبی،بالافادہ نبی، بالطبع نبی، امتی نبی۔ وغیرہ وغیرہ! الفاظ سے کتابوں میں یاد فرمایاہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا حضرت نبی کریمa نے رسول، نبی ، خاتم النّبیین، احمد اپنی صفات مبارکہ بیان فرمائی ہیں جس طرح خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں مومنوں کی مثال حضرت مریمp سے بیان فرمائی ہے یا فرعون کی بیوی حضرت آسیہ سے تمثیل فرمائی ہے یا جس طرح پر صوفیائے کرام نے اپنے آپ کو استعارۃ تمثیلاً مریم صفت میں ہونا یا عام عورت کی صفت میں ہونابیان کیاہے۔ویسے ہی حضرت مسیح موعود نے ان سب تصریحات بالخصوص قرآنی بشارت اور قرآنی پیش گوئی کی بناء پر اپنے آپ کو مریم صفت ہونا ظاہر فرمایاہے۔

(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ گو اس نے… باقی نہ رہا۔ مگر اس سے قبل ومابعد کی عبارت بالفاظ ذیل جو (ص۴۴، خزائن ج۱۹ ص۴۸تا۵۲)پرہے… بھی قابل ملاحظہ ہے۔ سورۂ تحریم میں اشارہ ہے… اور عیسیٰؑ سے میں ہی مراد ہوں۔ اخیر (ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۴۸تا۵۲) اس میں بارہا آپ نے صفات کو استعارۃتمثیلیہ مراد لیاہے اور صفات کارنگ دیاہے۔ یعنی صفاتی طور پر میں مریم رہا اور قرآن کی ایک آیت سے استدلال کیاہے۔

(اربعین نمبر۴ ص۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۴،۴۴۵ حاشیہ) پر کہ خدا نے اپنے الہامات میں… حجر اسودمنم۔ جس حاشیہ میں یہ حوالہ دیاگیاہے وہ حاشیہ اس سے پہلے صفحہ کا حصہ ہے۔ جس میںنبی کریمa کی حدیث بیت اﷲ کے نیچے سے ایک بڑا خزانہ نکلے گا اور قرآن کی آیت: ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے جو بالفاظ ذیل علوم اور معارف بھی اجمالی طرز میںداخل ہیں… اور خدا نے میرانام۔ یہ تصریح آئی ہے کہ انبیاء کی جو رویاء ہوئی ہے وہ وحی ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود کا دعویٰ امتی نبی ہونے کا تھا۔ اس لئے آپ کی تمام تر کشوف اور رویاء وحی ہیں۔ اسی طرح پر ان کے معنی اور مطالب مراد لئے جائیںگے جو قرآن شریف کی تصریحات کے خلاف نہ ہوں اور عالم کشف کی جس طرح تعبیریں کی جاتی ہیں۔ مرزا صاحب نے اس امرکی تصریح فرمادی ہے جو میں پہلے بیان کرچکاہوں۔ حضرت مسیح موعود کا یہ الہام (اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶) پر ہے کہ: ’’وما ینطق عن الھویٰ… الخ!‘‘ اس کی تشریح وہی ہوگی جو آپ نے فرمائی ہوگی۔ اس اربعین کے من جملہ دیگر الہامات کی تشریح میں دوسری کتب ہیں۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود نے ایسے تمام الہامات جو حضرت نبی کریمa کے لئے خصوصی طور پر قرآن شریف میں وارد ہیں، تصریح فرمادی ہے کہ اولاً وبالذات ان تمام الہاموں کے مصداق آنحضورa کی ہی ذات مبارک ہے اور باقی جس قدر بھی اولیا ء یا کاملین امت محمدیہ کو اس قسم کے الہامات ہوتے ہیں تو ان سے بھی نبی کریمa کی ہی قوت قدسیہ مراد ہوتی ہے۔ یہ ہرگز مراد نہیں ہوتا کہ ان آیات کا مصداق ویساہی وہ شخص بن گیا جس پر بعد میں وہ آیتیں نازل ہوں۔

387

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱) پرہے: ’’اور اسی طرح میری کتاب… تیار ہوتاہے۔ مگر اس کے آگے یہ عبارت بھی ہے۔ یہی مکمل انسانی شرفیات کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ اس قسم کے کثرت سے دعویٰ صوفیائے کرام کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے حضرت بایزید بسطامی نے (تذکرہ اولیاء طبع باردوم ص۱۶۵،۴۵۱) میں فرمایاہے کہ میں سولہ سال تک طائفہ عورت کی طرح رہا یا بعض لوگوں نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اولیاء کی جو کرامتیں ہوتی ہیں وہ ان کے فیض کا مرتبہ رکھتی ہیں یا بعض بزرگوں نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ جس طرح عورتوں کوحیض آتاہے جو ان کو نماز پڑھنے سے روکتاہے۔ ایساہی خداتعالیٰ کی راہ میں ترقی کرنے والوں کو بھی حیض آتاہے یا جن بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایاہے کہ مریدوں کو ارادت میں حیض آتاہے۔ بعض اس حیض میں مرجاتے ہیں اور پاک نہیں ہوتے اور بعض اس سے پاک ہوجاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پر اور الٰہی صفات میں اس الہام میں بیان کیاگیاہے کہ مخالفین مسیح موعود آپ کے اندر بھی کسی قسم کی کوئی کمزوری یاگندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر اس الہام میں اس صفحہ پر یہ الفاظ موجود ہیں کہ خداتعالیٰ چاہتاہے کہ مخالف ہائے ناکام رہیں اور تجھ پر متواتر انعامات کرے۔ جن بزرگان کے اقوال کا میں نے اوپر حوالہ دیاہے میں ان کے حوالے پیش کر سکتاہوں۔ لیکن اس وقت میرے پاس کتابیں موجود نہیں ہیں۔ میرے مکان پر کتابیں موجود ہیں۔

(لکچر اسلام سیالکوٹ ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹) پر مجھے من جملہ… لکھی گئی جس کی عبارت ہے اور یہ کتاب مسیح موعود کی ہے۔ مگر اس سے پہلے یہ عبارت بھی اب واضح ہو…منجملہ تک کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے اور اس کے مابعد کی عبارت بھی’’ایک ہی میں‘‘ تک بھی قابل ملاحظہ ہے۔ بلکہ (ص۳۳، ۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹) تک تمام عبارت قابل ملاحظہ ہے۔ اس کے متعلق میں اتنی عرض اور کرتاہوں کہ خداوندتعالیٰ نے قرآن شریف میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر امت میں اور ہر قوم میں کوئی نہ کوئی رسول، نبی یا بالفاظ دیگر بشیرونذیر گزرچکے ہیں اور یہ بھی قرآن میں بیان فرمایاگیاہے کہ صرف نبی اور رسول کی یہ شان ہے کہ آئندہ زمانوں میںان کی تعظیم وتوقیر اور ان کا تقدس قوم میںباقی رہتاہے۔ گوقوم اس کو اس کے اپنے اصل درجہ سے کتنا بڑھاکر پیش کرے۔ جیسا مثلاً عیسیٰ کہ وہ نبی ہیں۔مگر ان کی قوم ان کو خدابنارہی ہے۔ اس طرح کرشن، قرآن شریف اوربزرگان سلف کی تصریحات سے یہ ثابت ہے کہ ہندوستان میں جو نبی ہوئے ہیں، کرشن ان میں سے تھے۔ چنانچہ حسن نظامی نے بھی کرشن ہستی کتاب میں اس کی تصریح کی ہے اور کرشن نے اپنی کتاب میں یہ وعدہ کیاہے کہ جب کبھی دنیا میں بے دینی پیدا ہوگی اور خداتعالیٰ سے دنیا دور جاپڑے گی۔ میرامظہر آتارہے گا (یاگی)۔ چنانچہ ہندوئوں میں کھگی اوتار کی مشہور پیش گوئی ہے اور اس کا انتظار ہے۔ (براہین احمدیہ ص۴۸۰،۴۸۱ حاشیہ درحاشیہ۳، خزائن ج۱ ص۵۷۱،۵۷۲) پہلے انگریزی میں الہام ہوا… سر پرکھڑابول رہاہے… کی عبارت ہے جس میں بعض انگریزی الہامات کا ذکر ہے اور یہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو نبی جس قوم کی طرف مبعوث ہوتاہے اس کے اوّل المخاطبین لوگوں کی زبان میں اس کو الہام ہوتاہے۔

چنانچہ بعض کتابوں میں نبی کریمa کے فارسی الہامات درج ہیں۔چونکہ حضرت مرزاصاحب کی بعثت کی غرض دین عیسوی کا ابطال اور دین محمدی کا اظہار کرنے کے لئے تھااور دین عیسوی کے بہت سے ایسے ممالک ہیں، جہاں انگریزی بولی جاتی ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے اور یہ بتلانے کے لئے کہ خداتعالیٰ تمہاری زبان میں بھی الہام کرے۔ تمہارے ساتھ مکالمات اور مخاطبات کر سکتاہے۔ اس لئے بتلایاگیاہے کہ مامورپربھی جو تمہاری طرف بھیجاگیاہے انگریزی الہام نازل کرتے ہیں۔حضرت مسیح نے کہا کہ وہ انگریزی نہیں جانتا اور ان انگریزی الہام میں اب تک یہ بھی پیش گوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر ظاہر ہوکر ان کی صداقت کو ثابت کررہی ہیں۔

388

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷) پر یہ عبارت ہے۔ غرض اس حصہ کثیر… پائی نہیں جاتی۔ اس سے پہلے صفحہ پر یہ الفاظ بھی قابل ملاحظہ ہیں اور پھر ایک اﷲ… (ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷) کے اخیرتک الحمدﷲ رب العالمین اور اس عبارت کے مابعد کی عبارت تحت قابل ملاحظہ ہے۔

کتاب (چشمہ معرفت حصہ دوم ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸) پر ہے اور یہ بالکل… بالاترہے۔ لیکن اس کے آگے کی عبارت (ص۲۱۰، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸،۲۱۹) سے ویدک سنسکرت لازمی امرہے… تک کی بھی قابل ملاحظہ ہے۔ البشریٰ کی جو کتاب پیش کی جاتی ہے وہ میرے نزدیک مستند نہیں ہے اور اس کا لکھنے والا بھی ہم میں نہیں ہے۔ کسی احمدی کی کوئی درج شدہ بات میرے لئے مستند نہیں۔ جب تک کہ مرزا صاحب کی اصل کتاب سے حوالہ نہ دکھلایاجاوے۔ ہر وہ بات جس کی تائید قرآن شریف سے نہیں ہوتی اورقرآن شریف کی تصدیق یافتہ احادیث نبویہ سے بھی جس کلام کی تصدیق نہیں ہوتی یا اماموں کے لئے ایسے اقوال کہ جن اقوال شریف کی تصدیق یافتہ احادیث نبویہ سے بھی جس کلام کی تصدیق نہیں ہوتی یا اماموں کے ایسے اقوال کہ جن اقوال کی تصدیق قرآن اور مندرجہ بالا احادیث سے ہوچکی ہو۔ ان اماموں کے اور اقوال جن کی تصدیق قرآن وحدیث سے نہیں ہوتی اس کے علاوہ اور مصنّفین کی کتابیں جن کی تصدیق وتائید قرآن وحدیث سے نہیں ہوتی، وہ مجھ پر حجت نہیں ہیں۔

طبع ثانی (تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴) پر حسب ذیل شعرہے۔ منم مسیح زمان… کہ مجتبیٰ باشد۔ اس کی تشریح یہی ہے جو حضرت مسیح موعود نے اپنی مختلف کتابوں میں بیان فرمائی ہے جس کی تفصیل باحوالہ ذکر میں اپنے بیان میں کرچکاہوں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں صفاتی طور پرہر نبی کا ظل ہوں کہ اس کی کوئی نہ کوئی صفت میرے ذریعہ ظاہر ہورہی ہے۔

(نزول المسیح ص۹۹، ۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)’’کربلائے است سیرہم آنم… دربرجامہ ہمہ ابرار… آنچہ من بشنوم زوحی… خدابخداپاک دانمش زخطاء… ہمچو قرآن منزہ اش دانم… ازخطاہا ہمیںاست ایمانم… انبیاء گرچہ بودہ اند بسے… من بعرفان نہ کمترام زکسے… کم نیم ہست یعنی زندہ شد ہر نبی بہ آمدنم… ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم‘‘ یہ اشعار ہیں جو قطع برید کر کے پیش کئے گئے ہیں۔ یہ اس نظم کے چند اشعار ہیں جو ۴۳۱؍اشعار کی ص۹۷سے لے کر ص۱۰۷ تک جاتی ہے۔ جن اشعار کو پیش کیاگیاہے ان کا نہایت مفصل جواب وجہ تکفیر۶ کے جواب میں عرض کر چکاہوں۔ یہاں صرف یہ بیان کرتاہوں کہ اس نظم سے پہلے اس امر پر بحث ہے کہ نجات کے لئے یقین ہونا ضروری ہے اور یقین نہیں ہوسکتا جب تک خداتعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ نہ ہو اور اس نظم کے معاً بعد یہ الفاظ ہیں۔ حاصل… محمد مصطفیa سے ہوا۔ ایک شعر اس میں سے حسب ذیل۔ لیکن آئینہ ام ازرب غنی… از پے صورت مہ مدنی… بھی قابل ملاحظہ ہے جس میں یہ بتلایاگیاہے کہ خداتعالیٰ کی کلام وہی سچی کلام ہوتی ہے جس کے ساتھ نشانات ہوں۔ محمدa کی ماتحتی میں ہو اور اس کلام پر اس ملہم کو ویساہی ایمان ہو، جیسا باقی انبیاء کو اپنی وحیوں پر ایمان ہے۔ درجہ کا ایمان کوئی ذکر نہیں ہے۔

(طبع ثانی براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳) پر یہ شعر ہے: ’’میں کبھی آدم… میری بے شمار‘‘ اس نظم کا ہے جو اس کتاب کے ص۹۹ سے شروع ہوکر ص۱۲۰ تک جاتی ہے اور جس میں انعامات الٰہی کا ذکر ہے۔ اس شعر کے ساتھ بالخصوص ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ کے چند اشعار بھی قابل ملاحظہ ہیں۔ اس نظم کے ص۱۲۴ پر ایک شعر: ’’پر مجھے تو نے… برگ وبار‘‘ بھی اس نظم کا ہے جس کا اوپر ذکرہوچکاہے اور یہ ساری نظم پڑھنے کے قابل ہے۔

389

حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی وہ کتاب جو اشارات فریدی کے نام سے موسوم ہے، جس میں سے جلد ثالث اور جلد دوم کے حوالہ جات میں نے اپنے بیان میں دئیے ہیں۔ اس میں سے تمام وہ عبارتیں جس کی تصدیق حضرت مسیح موعود کی طرف سے بھی ہوچکی ہے، وہ مجھے بکمال وتمام مسلّم ہیں۔ ان کتابوں میں سے جو حوالہ جات میں نے پیش کئے ہیں وہ اس رنگ میں پیش کئے ہیں کہ وہ ایک عارف ربانی کے ملفوظات ہیں۔ جن کا احترام ریاست بہاول پور کے داعی اور رعایا کے دلوں میں ہے۔ باقی تمام ملفوظات ان جلدوں کے اس شرط سے مجھے مسلم ہیں، جس شرط کے ساتھ باقی دنیا کی تصانیف جن کا ذکر میں پہلے کرچکاہوں باقی اور تصانیف حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کی بشرطیکہ ان کی قلم سے لکھی گئی ہوں، اشارات فریدی کی طرح ہے۔ ان کی تصدیق کی بھی وضاحت ہو اور ان کے شائع کرنے والوں میں آپ کے صاحبزاہ خواجہ محمد بخش صاحب ہوں اور ان میں بھی ایسی عبارتیں اگر پائی جاویں، جن کاتائید وتصدیق حضرت مسیح موعود کے کتب سے ہوتی ہو یاقرآن شریف سے تصدیق وتائید کرتاہے وہ بھی میرے لئے مسلّم ہیں۔ خواجہ غلام فرید صاحب واجب الاطاعت ہونے کے لحاظ سے میرے مسلّم بزرگ نہیں ہیں۔ ویسے مسلّم بزرگ ہیں، جیسے سلسلہ احمدیہ کے پہلے سابقین احمدی حضرات میرے بزرگ ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب کی خود تحریر موجودہے کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعود کی کتابیں جن میں الہامات بھی تھے، جن میں مباہلہ کا چیلنج بھی ہواکرتا تھا، جن میں دعویٰ بھی ہوتے تھے، جن میں معارف کے کلام بھی ہوتے تھے، پہنچتی رہی ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب نے ان کو پڑھاہے اور پھر حضرت مسیح موعود کے ساتھ خط وکتابت فرمائی ہے۔ حضرت خواجہ صاحب کی وفات سے پہلے حضرت مسیح موعود کی کتاب ’’تریاق القلوب‘‘ جس میں گورنمنٹ کو مسلمان فرقہ احمدیہ لکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی، لکھی جا چکی تھی اور چھاپ دی گئی تھی۔ بیسوں کتابیں اس سے پہلے بھی شائع ہوچکی تھیں، جن میں جماعت کا نام احمدیہ وغیرہ تھے۔ جماعت احمدیہ یا مسلمان فرقہ احمدیہ کوئی اور ایسا اس زمانہ میں ہونا مجھے معلوم نہیں ہے جو مرزا غلام احمدقادیان کی طرف منسوب ہوتاہو، سوائے اسی جماعت کے جس کا میں فرد ہوں۔ کیونکہ حضرت خواجہ صاحب کی ان کتب میں جن کا میں نے حوالہ اپنے بیان میں دیاہے،حضرت مسیح موعود کے نام نامی کا خاص تذکرہ موجودہے۔

کتاب ’’فوائد فریدیہ‘‘ کے ٹائٹل پیج پر یہ نہیںلکھا ہواکہ خواجہ صاحب نے یہ فرمایاہو کہ میں نے اسے لکھاہے۔ اس کے چھاپنے والے میاں خدابخش اور میاں غوث بخش ہیں۔یہ سال ۱۸۹۰ء میں شائع ہوئی ہے اور اس کے اوپر یہ لکھا ہواہے: ’’از تصنیف لطیف حضرت خواجہ غریب نواز… حاجی غلام فرید صاحب‘‘ اس کتاب کے (ص۴) پر حسب ذیل عبارت ہے کہ: ’’مے گوید احقر عباداﷲتعالیٰ… فقیر غلام فرید… این رسالہ است مسمی بفوائد فریدیہ… واجبہ ہمیں را۔‘‘ اسی کتاب کے (ص۲۹،۳۰) پر یہ عبارت ہے: ’’دربیان فرقہ ہائے…خازنیہ۔‘‘ مجھے ذاتی طور پرخواجہ صاحب کی مرزا صاحب کے ساتھ بیعت کا علم نہیں ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود نے انہیں اپنا مصدق قراردیاہے اور ان کے لئے دعا فرمائی ہے اور یہ تحریر کہ خواجہ صاحب کو اپنا مصدق لکھنا یا ان کے لئے دعا کرنا اور ایسے معتبر الفاظ لکھنا جو صرف ایک احمدی کے لئے لکھے جاتے ہیں، علاوہ اور کتب کے ایک سال۱۹۰۸ء والی کتاب ’’حقیقت الوحی‘‘ میں بھی درج کیاہے۔ حضرت خواجہ صاحب سال۱۹۰۱ء سے پہلے وفات پاگئے تھے اور جس قدر بھی دعاوی حضرت مسیح موعود کے ان کے پاس پہنچے، ان سب کی انہوں نے تصدیق فرمائی اور ان کی آخری زندگی تک ان کی خط وکتابت رہی اور کتابوں میں چھپتی رہی۔ میں خواجہ صاحب کی وفات میں پیدا ہوایاان دنوں میں۔ اس لئے مجھے معلوم نہیں کہ خواجہ صاحب نے کوئی خاص اعلان حضرت مرزاغلام احمد صاحب کے بارہ میں تحریر کر کے اپنے متبعین کے نام بھیجاہو، مان لینے کے لئے یانہ مان لینے کے لئے۔ البتہ ان کی مجالس میں اس وقت کے بعد جب کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے ان کو مباہلہ کے لئے چیلنج دیا۔ بمعنی مرزا صاحب کی تعریف وتوصیف کا ہی ذکر ہوتارہاہے اور سال۱۸۹۶ء کے بعد سےانہوں

390

نے آپ کی تعظیم وتوقیر بھی کی اور آپ سے خط وکتابت بھی کی۔

مجھے یاد نہیں کہ خواجہ غلام فرید صاحب کی وفات کے بعد ان کے خلفاء میں سے کون داخل سلسلہ ہوا اور کون نہ ہوا اور یہ کوئی ضروری بھی نہ تھا۔ حضرت خواجہ صاحب کی تحقیقات کے بارے میں، میں نے جو اپنے بیان میں عرض کیاہے، اس کی بناوہ خط ہے جو (ضمیمہ انجام آتھم ص۳۹، خزائن ج۱۱ ص۳۲۳ مطبوعہ جنوری۱۸۹۷ء) میں ہے۔ جس میں وہ تفصیل کے ساتھ اپنے معلومات اور اپنی قلبی کیفیت کا ذکر فرماتے ہیں اور یہ کہ اس خط میں حضرت خواجہ صاحب حضرت مسیح موعود سے اپنی عاقبت بالخیر ہونے کی دعاکی درخواست کرتے ہیں اور مباہلہ کے جواب میں اپنی تصدیقی کیفیت کو ظاہر فرماکر کے بتاتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی ہر ایک قسم کی کوشش میں خداتعالیٰ کی طرف سے ثواب دئیے گئے ہیں اور آپ خداتعالیٰ کی طرف سے صاحب فضیلت ہیں اور اس خط میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ میری زبان پر کوئی کلمہ آپ کے خلاف شان جس میں آپ کی تعریف وتوصیف نہ ہو، نہیں آیا۔

حضرت مسیح موعود نے ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ یا ’’انجام آتھم‘‘ میں مباہلہ کا جو چیلنج دیاہے وہ خداتعالیٰ کی طرف سے مباہلہ کے لئے مامور ہونے پر ہی دیاہے۔ اس مباہلہ میں اس امر کو مد نظر رکھاگیاہے کہ جن کو مقابل پر بلایاجارہاہے وہ یا مباہلہ کریں یا پھر تصدیق کریں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب وہی لوگ ہوں جنہوں نے پہلے فتویٰ تکفیر ہی دیاہو۔ بلکہ عمومیت کے ساتھ سب کو مخاطب کیاگیاہے۔

کتاب (آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۹، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’امابعد… نہیں کرسکا۔‘‘ یہ عبارت ایک خط وکتابت کی جزوہے جو آئینہ کمالات کی تصنیف سے پہلے کی ہے۔مگر ضمناً اس کو یہاں درج کردیاگیاہے۔یہ خط وکتابت بھی مرزاصاحب کی ہے جو مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ ہوئی۔

(انجام آتھم ص۶۹،۷۰،۷۱،۷۲، خزائن ج۱۱ ص۶۹تا۷۲) پر یہ عبارت ہے: ’’اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام… الخ!‘‘ جس کے نیچے مرزا صاحب کے دستخط ہیں۔ اس عبارت میں صاف باطنی فقراء کا لفظ خصوصیت سے قابل ملاحظہ اور قابل غور ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ خواجہ غلام فرید صاحب نے کبھی حضرت مسیح موعود کی تکفیر کی ہو۔ بلکہ یہ لکھاہے کہ میں شروع ہی سے آپ کے حال کا واقف ہوں اورمقام تعظیم پر کھڑاہوں۔ جس خط کا بھی حوالہ دیاہے، وہ انجام آتھم میںدرج ہے۔ اس کی تاریخ تحریر غالباً وہاں درج ہے۔ یہ تاریخ ۲۷؍رجب ۱۳۱۴ھ ہے۔ مرزا صاحب سال۱۹۰۱ء سے قبل ہر قسم کی نبوت کے دعویدار کو جس میں ظلی اور بروزی، محدثیت والی شان بھی ہو، کافر نہ سمجھتے تھے۔ بلکہ آپ نے جہاں جہاں نبوت کی نفی کی ہے، وہ اسی رنگ میں کی ہے کہ کوئی مستقل طور پر بغیرافادہ آنحضرتﷺ کا کوئی شخص شرعی نبی ہوکر آئے۔ نبی کریمa کے طفیل سے جو نبوت بمعنی کثرت مکالمہ ومخاطبہ مل سکتی ہے۔ جس کو آپ نے محدثیت کے نام سے بھی انہی کتابوں میں تعبیر فرمایاہے۔ اس کو ممنوع یا اس کے دعویدار کو کافرنہیں فرمایا۔

کتاب ’’حقیقت النبوۃ‘‘ مرزا بشیر الدین احمد صاحب کی ہے۔ اس کے (ص۸۹، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۳،۴۲۴) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’اس عاجز نے سناہے… پرختم ہوگئی۔‘‘ حضرت مرزا صاحب نے خواجہ صاحب کے ساتھ خط وکتابت کی اثناء میں ایک خط کے ساتھ ایک فارسی نظم منسلک کر کے بھیجی تھی۔ اس میں یہ مصرعہ ہے: ’’ہست اوخیرالرسل خیر الانام… ہر نبوت رابراوشداختتام‘‘ مگراس کے پہلے اور پچھلے شعر بھی قابل ملاحظہ ہیں۔ یعنی ساری نظم قابل ملاحظہ ہے۔ مجھے گمان پڑتاہے کہ خواجہ صاحب نے بہاول پور میں بھی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ اوّل سے ملاقات کی تھی۔ میرے خیال میں خلیفہ اوّل سے خواجہ صاحب کی جو گفتگو ہوئی، اس میں خلیفہ صاحب نے مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت تو ضروربیان کیاتھا اور پیش گوئیوں کا بھی ذکرہواتھا۔ اس وقت مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کا تذکرہ ہونے…

391

غالباً اشارات فریدی میں ذکر نہیں ہے۔

(اشارات فریدی ص۴۲،۴۳) کو میں نے دیکھ لیاہے۔ اس کے ساتھ کا (ص۴۴) بھی قابل ملاحظہ ہے۔ اس کتاب (اشارات فریدی ص۶۹،۷۰) کی عبارت ’’بعدازاں فرمودند… منکرنیست‘‘ کو بھی میں نے دیکھ لیاہے۔ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ جوخط وکتابت ہوتی رہی، اس کے ایک دوخطوط کے بعد کی یہ عبارت معلوم ہوتی ہے۔ ’’اشارات فریدی‘‘ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اس وقت تک ایک دو خطوط آچکے تھے اور دعوت مباہلہ کی کتابیں بھی آچکی تھیں۔ یہ تحریر بلحاظ صفحات ’’اشارات فریدی‘‘ خلیفہ اوّل کی ملاقات اور خط وکتابت اور کتابیں پہنچ جانے اور کتابیں پڑھ لینے کے بعد کی ہے۔ اس کے ساتھ آگے کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے جو بعدازاں فرمودند… (ص۷۲) کی دوسری سطر تک واقع گشتہ است۔ جس خط عربی کا حوالہ دیاگیاہے وہ خط حضرت خواجہ صاحب کے حکم پر لکھاگیا اور مولوی غلام احمد صاحب اختر نے لکھاجو اس وقت احمدی نہ تھے اورحضرت خواجہ صاحب نے اس خط کو سن کر یہ فرمایا کہ اس پر میری مہر لگاکر اس کو ارسال کرو۔ خادم مہرلایا اور اس پر خواجہ صاحب کے سامنے وہ مہر لگائی گئی۔ چنانچہ ’’انجام آتھم‘‘ میں جہاں یہ خط درج کیاگیا،اس پر مہر کاعکس بھی موجودہے۔ ’’اشارات فریدی‘‘ میں اس مقبوس کے شروع میں۲۸؍ماہ رجب۱۳۱۴ھ تاریخ درج ہے اور (ضمیمہ انجام آتھم ص۳۹، خزائن ج۱۱ ص۳۲۳) میں۲۷؍ماہ رجب درج ہے۔ مگر مقبوس میں تصریح ہے کہ حکم پہلے کادیاگیاتھا۔ اس دن وہ حاضر کیا گیا ہے۔ یعنی خط وکتابت درحقیقت ۲۷؍رجب کو لکھاگیا اور خواجہ صاحب کی خدمت میں۲۸؍رجب ۱۳۴۱ھ کو پیش کیاگیا۔ خواجہ صاحب نے بعض لوگوں کو ’’من عباداﷲ الصالحین‘‘ لکھاہے۔ مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ خواجہ صاحب کو یہ علم تھا کہ ان لوگوں نے بھی مرزا صاحب کو کافرکہاہے۔ (اشارات فریدی ص۱۷۹) پر حسب ذیل عبارت: ’’فرمودند… مے سازند… کے اختتام‘‘ مقبوس ہے۔ (اشارات حصہ سوم ص۴۲) پر یہ عبارت ہے: ’’واں جواب نامے… کشف است‘‘ اور اس سے پہلے کی عبارت بھی خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے جو بالفاظ ذیل ہے۔ مرزا صاحب مرد نیک وصالح است ونیزوحی کتابے ازملہمات خود فرستادہ است۔ کمال اوازاں کتاب ظاہر است۔‘‘ اسی کتاب کے (ص۱۷۹)پر عبارت محولہ بالا کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: ’’نیز برحق ہستند‘‘ اور اس کے ساتھ یہ الفاظ مرزا غلام احمدقادیانی… مہدویت وعیسویت کردہ است اور اس سے پہلے کی یہ عبارت ہمیں علماء بودند… کشیدندبھی قابل ملاحظہ ہے۔

خواجہ صاحب کا وصال سال۱۳۱۶ھ میں بیان کیاجاتاہے۔ اشارات فریدی حصہ اوّل کے آخری صفحہ ٹائٹل پیج پر جو پہلی مرتبہ سال ۱۳۲۱ھ میں شائع ہوئی، اس پرخواجہ غلام فرید صاحب کی وفات کی تاریخ درج نہیں۔ دوسرا ایڈیشن جو پیش کیاگیاہے اس کے ٹائٹل پیج کے آخری صفحہ سنہ وفات خواجہ غلام فرید صاحب سال ۱۳۱۶ھ درج ہے۔ خواجہ صاحب نے حضرت مرزاصاحب کو مدعی مہدویت اور عیسویت قراردیاہے۔

چنانچہ الفاظ حسب ذیل ہیں: ’’فرمودند کی کسی مرزا غلام احمدقادیانی ہم برحق است… دعویٰ مہدویت وعیسویت کردہ است۔‘‘ میں خواجہ صاحب کی کسی خاص شائع شدہ لائف سے واقف نہیں ہوں۔ اس اشارات فریدی سے ظاہرہے کہ حضرت خواجہ صاحب علوم ظاہری اور باطنی کے واقف تھے اور علماء کے ساتھ ان کے تعلقات تھے اور آپ نے علم کی خاطر سفر بھی کئے تھے۔ محض عرفاً گوشہ نشین نہ تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان کو کسی شخص نے مباہلہ کی دعوت دی ہو۔

سن کر درست تسلیم کیا۔

بقیہ کارروائی کے لئے مسل پرسوں پیش ہو … ۲۵؍مارچ۱۹۳۳ء پیش ہوا۔

۲۳؍مارچ ۱۹۳۳ء

392

فریقین اور ان کے مختارحاضرہیں … ۲۶؍مارچ ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان جرح مولوی غلام احمد مجاہد گواہ فریق باقرارصالح

نبی کریمa خداوندتعالیٰ کی طرف سے مامورتھے کہ قرآن شریف کے تمام الفاظ لوگوں تک پہنچادیں اور اپنے عمل سے قرآنی احکام اور اوامرونواہی کو ظاہر کردیں۔ جن باتوں کا حکم نبی کریمa کو پہنچانے کا ہوا، وہ سب آپ نے پہنچا دی ہیں۔ کوئی بات نہیںچھوڑی۔ سورہ ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم ولعلھم یتفکرون (نحل:۴۴)‘‘ میں ’’ما نزل الیہم‘‘ جوآیا ہے جو کچھ بھی انسانوں کی خاطر نبی کریمa کودیاگیا وہ سب آپ نے بیان کردیاہے۔ ’’ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (جمعہ:۲)‘‘ میں شریعت اسلامیہ اور اپنا پاک نمونہ سکھانے کا ذکرہے۔ کتاب سے یہاں مراد شریعت اسلامیہ ہے۔

’’قدجاء کم من اﷲ… صراط مستقیم… الخ! (المائدۃ:۱۵،۱۶)‘‘ میں یہ تصریح ہے کہ جو انسان خداتعالیٰ کی رضامندی چاہے، ایسے انسان کو شکوک وشبہات سے نکال کرصحیح راستہ قرآن شریف دکھلاتاہے اور خداتعالیٰ اس کی ہدایت کرتاہے۔ مرزا صاحب کی کتاب (برکات الدعا ص۱۵،۱۶، خزائن ج۶ ص۱۷،۱۸) پر جوکچھ درج ہے وہ میرا مسلم ہے۔ ان صفحات پر دوسرے اور تیسرے معیار کے الفاظ کو بھی میں نے دیکھے ہیں اور میں انہیں صحیح مانتاہوں۔ صحابہ کرام کی بیان کی ہوئی تفسیر اگر ثابت ہوجائے کہ وہ ان کی تفسیر ہے وہ تسلیم کے قابل ہوگی۔ اس طرح تابعین کی تفسیر کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔ بشرطیکہ ثابت ہوجائے کہ وہ ان کی تفسیر ہے۔ باقی قرآن شریف میںیانبی کریمa نے یا کسی اور امام نے تصریح نہیں فرمائی کہ ضرورفلاں شخص کا قول مان لو۔ قرآن شریف کے معارف کا احاطہ کسی شخص نے نہیں کیا۔ نبی کریمa نے بھی فرمایاہے کہ ہر آیت کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور کہ قرآن شریف کے معارف کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس لئے کوئی ایسی تفسیر جو قرآنی تصریحات کے خلاف ہوکوئی وقعت نہیں رکھتی۔ خواہ کسی کانام لے کر بیان کی جاوے۔ اگر کوئی ایسے معنی بیان کئے جاویں، کسی صحابی کا نام لے کر یا تابعی یاتبع تابعی یا کسی امام کانام لے کر۔ مگر قرآن شریف کی دوسری آیت اس مضمون کی تصدیق نہیں کرتیں۔

صحیح، موضوع ،متصل حدیثیں جن کی تائید قرآن کریم سے ہوتی ہے وہ بھی ان معنوں کی تائید نہیں کرتیں۔ زبان عربی میں بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مستند ڈکشنری بھی اس کا ساتھ نہیں دیتی تو وہ معنی کچھ وقعت نہیں رکھتے اور نہ ان کے خلاف دوسرے معنی کرنے والے کو خاطی کہاجاتاہے اورقرآن کی تفسیر کے لئے کسی خاص شخص کا تعین نہیں ہے کہ وہی جو مسئلے بیان کرے گا، اس کی طرف جو معنی منسوب کئے جائیںگے خواہ وہ کیسے ہی ہوں، اس کو مانا جائے اور اس کے خلاف معنی ردکیاجاوے۔ اگر کوئی صحابہ سے صحیح تفسیر ثابت ہوجائے جس کے خلاف قرآن کی کوئی تصریح نہ ہو اور صحیح، موضوع، متصل حدیثوں کی بھی تصریح نہ ہو۔ زبان عربی کی بھی کوئی تصریح ان معنی کے خلاف نہ ہو۔ وہ بہرحال مقدم ہوگی اور اس کے خلاف معنی کرنے والے کو محض اس لئے کہ وہ ان معنوں کے خلاف کررہاہے، خاطی نہیں کہا جاسکتا۔ جب تک کہ قرآن کی تصریح کے خلاف نہ معنی کئے جاویں۔ (تفسیراتقان ج۲ ص۱۷۸)پر ’’وان الصحابہ… رسولہ‘‘ کی عبارت ہے جو ایک مفسر کا قول ہے۔

کتاب (ایام الصلح ص۱۶۳، خزائن ج۱۴ ص۴۱۱) پر ہے اور اﷲتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہے: ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ مرد صالح ہو سکتاہے۔ مگر اس کے ماقبل اور مابعد کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہو۔ (شہادت القرآن ص۲۸، خزائن ج۶ ص۳۲۳،۳۲۴) پرہے: چونکہ ہمارے سید ورسول… من الآخرین کی عبارت ہے اور یہاں نبی سے مراد شرعی نبی ہے کہ آئندہ شرعی نبی نہیں ہوگا اور محدث سے مراد ظلی نبی ہے جو رسول اﷲa کے طفیل اور آپ کے اتباع کی برکت سے حاصل ہو اور اس سے ماقبل کی عبارت بھی

393

قابل ملاحظہ ہے۔ اس کے مابعد کی چند سطور بھی دیکھنے والی ہیں۔

(شہادت القرآن ص۵۶، خزائن ج۶ ص۳۵۲) پرہے اور اس ظلی وجود کے قائم رکھنے کے لئے… جس پر تیرا انعام اور اس کے معاًملحق بعد کے فقرے بھی قابل ملاحظہ ہیں۔ صراط مستقیم کے الفاظ قرآن شریف میں بیسیوں جگہ آئے ہیں۔ آیت: ’’وانک لتھدی الٰی صراط مستقیم… الخ! (شوریٰ:۵۲)‘‘ میں بھی صراط مستقیم کاذکر اپنے الفاظ اور اپنی تشریح کے ساتھ قرآن شریف میں کئی جگہ آیاہے اور مراد اس سے وہ راستہ ہے جو خداتعالیٰ کے قریب تک پہنچاتاہے اور انسان کو خداتعالیٰ کی طرف سے انعامات اور برکات کا وارث کردیتاہے۔ نبوت ایک قومی انعام ہے۔ جس قوم کے متعلق یہ قیاس کیا جاوے کہ یہ انعام اس سے بندکردیاگیاہے کہ اس قوم میںسے کسی زمانہ میں بھی کوئی فرد نبی نہیں ہوسکتا۔چونکہ انعام کا چھن جاناخداتعالیٰ کی ناراضگی کا مستلزم ہے اور اس سے ناراضگی ثابت ہوتی ہے۔ اس لئے لامحالہ ماننا پڑتاہے کہ اس قوم کے اندر ایسے نقائص ضرور پیداہوگئے ہیں جن کی بناء پر خداتعالیٰ نے ان پر سے انعام ہٹالیاہے۔ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ عہد نبوت ظالموں کو نہیں ملتا اورکہ خداتعالیٰ کا غضب اس قوم پر ہوتاہے جو نبیوں کا انکار کردیتی ہے۔ حضرت نبی کریمa کے بعد سے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ تک درمیانی زمانہ میں نبی کریمa کی ماتحتی سے اورآپ کے فیضان سے دعویٰ نبوت کرنے والانبی کوئی نہیں ہوا، اور نہ ہونے سے کوئی اعتراض لازم نہیں آتا۔ کیونکہ نبی بنانا یعنی نبوت پر مامور کرنا یہ خداتعالیٰ کا اختیار ہے اور اس نے فرمادیاہے۔ ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ کہ خداتعالیٰ بہترجانتاہے کہ کہاں اورکس زمانہ میں اور کس کو وہ نبی اور رسول بنائے گا۔ نبی کریمa کی نبوت تشریعہ پہلے بھی کافی تھی، اب بھی کافی ہے اورآئندہ بھی قیامت تک کافی ہوگی۔ یہی شریعت جو انسان کو ہرقسم کے برکات دیتی ہے اور کسی ماتحت نبی کے آجانے سے پہلی نبوت کا ناکافی ہونا لازم نہیں آتا بلکہ اس کی شان کا بلند اور بالا ہونا ثابت ہوتاہے۔ مرزا صاحب ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔ نبی کریمa کے سمجھنے، ماننے والے ہیں۔ وہ روحانی طور پر حضرت ابراہیم کی نسل ہیں اور اس لحاظ سے مرزا صاحب ابراہیم نسل سے ہوئے۔ جسمانی طور پر ویسے ابنائے فارس میں سے ہیں۔

مرزا صاحب نے اپنے آپ کے متعلق فرمایاہے کہ میں انبیائے فارس میں سے ہوں… (کتاب البریہ حاشیہ ص۱۳۴، خزائن ج۱۳ ص۱۶۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: اب میرے سوانح اس طرح پرہیں… ہماری قوم مغل برلاس ہے۔ اس کے حاشیہ پرہے کہ: میں انبیائے فارس سے ہوں اور مرزا صاحب اپنے آپ کو مرزا کہتے تھے جو شاہزادگان فارس کا لقب ہے۔

(استفتاء عربی خاتمہ ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳) پر ’’فانی قرابۃ فی کتب… لامن الاقوام ترکیہ‘‘ کی عبارت ہے۔ لیکن ساتھ ہی کی سطر میں یہ لکھاہواموجودہے کہ خداتعالیٰ نے میرے آبائواجداد میں نسل اسحاق اور نسل اسماعیل دونوں کو جمع کرلیاہے۔ حضرت ابراہیمm سے لے کر رسول کریمa تک قرآن مجید میں جن انبیاء کا ذکرہے، ان میں سے بعض حضرت ابراہیمm کی ذریت سے ہیں اور ذریۃ کالفظ محاورہ، قرآن کی رو سے صلبی نسل پرہی صرف نہیں بولاجاتابلکہ متبعین کو بھی ذریۃ کہتے ہیں۔ ابراہیمm کے بعد انبیاء کا آنا آپ کی ذریۃ میں ثابت ہے۔ خداوندتعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایاہے کہ ابراہیمی نسل کے ماسوا بھی نوحm کی نسل میںسے نبی آتے رہیں گے۔ سب انبیاء کاذکر قرآن شریف میں نہیں ہے۔ قرآن میں صرف اتناہی ہے کہ: ’’وجعلنا فی ذریتہم النبوت‘‘ کہ ہم نے مقررکردیا نوح اور ابراہیمm کی ذریۃ میں نبوت کو اور آبائی نسل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ ابراہیمی نسل سے نہیں تھے۔ کیونکہ ان کا کوئی باپ نہیں تھا۔ اگرماں کے لحاظ سے نسل مانی جاتی ہے تو مرزا صاحب مسیح موعود بھی نبی کریمa کی نسل سے ہیں اور ابراہیمی نسل سے ہیں۔ ماں کی طرف سے حضرت عیسیٰؑ ابراہیمی نسل سے تھے۔ سادات کے خاندان

394

سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ باوجود یہ کہ حضرت علیq موجود تھے۔ پھر بھی حضرت فاطمۃ الزہراt کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ سادات اپنے آپ کو نبی کریمa کی نسل کہہ کرسید کہتے ہیں۔

آیت: ’’واذ اخذ اﷲ… الخ! (آل عمران:۸۱)‘‘ میں ’’نبیین‘‘ کا لفظ جو آیاہے وہ رسول مقبولa سے پہلے انبیاء کو شامل ہے اور خود ایک اور آیت نے اس کی تفسیر کردی ہے جس میںعام نبیوں کا ذکر کرنے کے بعد خاص نبیوں کا بھی ذکرکیاگیاہے اور پھر شک کا لفظ علیحدہ بیان کر کے رسول مقبولa سے باقی نبیوں کا خاص ذکر الگ فرمایاہے۔ اس آیت میں جو اوپر بیان کی گئی ہے اور جس میں شک کا لفظ ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ماننا پڑتاہے کہ سورہ آل عمران میں میثاق النّبیین والی آیت سے پہلے نبی مراد ہیں۔ یہی رسول کریمa سے پہلے کے جس قدر نبی ہوئے ہیں وہ سب شامل ہیں جن سے عہد لیاگیا۔ سورۂ احزاب والی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں نبی کریمa کی ذات اور آپ سے پہلے نبی ہیں، آئندہ کے نبی نہیں۔ یہ تصریح کہ جس طرح پر نبی کریمa سے پہلے نبیوں سے عہد لیاجاتارہاہے کہ ہر نبی آئندہ نبی کی پیش گوئی کر جائے اور اپنی قوم کو آئندہ نبی کے ماننے کی تاکید کرجائے اور یہ عہد قرآن شریف کے اترتے وقت نبی کریمa سے بھی لیاگیاہے۔ آئندہ آنے والے نبیوں سے بھی اس قسم کے عہد لئے جانے کی تصریح قرآن شریف کی کسی آیت سے مجھے اس وقت مستحضر نہیں۔ مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ بھی نبی کریمa کی ماتحتی میں اور ان کی قوت قدسیہ سے میرے جیسے بیٹے قیامت تک ہوسکتے ہیں۔ ہر نبی سے عہد لینے سے مرادیہ ہے کہ وہ اپنی امت کو پیش گوئی کر لے کہ آئندہ ایسا نبی آئے گا۔

مرزا صاحب نے اپنے جیسے نبیوں کے آنے کے متعلق قسم کھا کر بیان کیاہے کہ قیامت تک ہوسکتے ہیں۔ نبی کریمa نے بھی اپنے بعد کسی شخص کا ذاتی نام لے کر پیش گوئی نہیں فرمائی۔ البتہ القاب،صفات، حالات، زمانہ علامات وغیرہ کے لحاظ سے پیش گوئیاں فرمائی ہیں۔ اس طرح حضرت مسیح موعود نے بھی قیامت تک آنحضرتﷺ کے اپنے جیسے بیٹے ہونے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ ذاتی طورپر کسی کانام لے کر آپ نے پیش گوئی نہیں فرمائی۔

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷) پر غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی… ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش گوئی پوری ہوجائے… کی عبارت ہے۔ اس عبارت کے بالکل ساتھ یہ الفاظ ہیں: ’’۱۳سوبرس ہجری میں… گردن پرہے۔‘‘ اور اس سے پہلے (ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے اور (اعجاز احمدی ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳) کتاب کا وہ شعر جو میں اپنے بیان میں درج کر چکا ہوں: ’’فلا ولذی… الٰی یوم بحشر‘‘ بھی مد نظر رکھا جاوے۔ آیت: ’’واذ اخذ میثاق… الخ! (اٰل عمران:۸۱)‘‘ میں رسول کا لفظ نکرہ ہے۔ عام رسول بھی مراد ہیں۔ بلحاظ اس کے کہ نکرہ عمومیت کو چاہتاہے اور کبھی تنوین، تنکیر تعظیم کے لئے آتاہے۔ اس لئے ایک رسول بھی یعنی حضور مقبولa بھی مراد ہوسکتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص۱۳۰، ۱۳۱، خزائن ج۲۲ ص۱۳۳،۱۳۴) پر قولہ تعالیٰ… میں اس سے مطالبہ کروں گا… کی عبارت ہے۔ اس کا ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ اس امر کی بحث ہے کہ آیا رسول مقبولa کا ماننا ضروری ہے یا نہیں۔ ایک شخص کا خیال تھا کہ ضروری نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود من جملہ اور آیات کے اس آیت سے یہی استدلال فرماتے ہیں کہ رسول مقبولa کا ماننا نہایت ضروری ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ کی آیت سے آئندہ کے لئے یہی استدلال فرماتے ہیں۔ (سورہ احزاب:۷) جس میں نبیوں سے میثاق لینے کا ذکرہے، اس میثاق سے وہی میثاق مراد ہے جوسورہ آل عمران والی آیت میں ہے۔ کیونکہ سارے قرآن شریف میں نبیوں کے میثاق کی کوئی اورآیت نہیں ملی جو تفصیل اور تشریح کرے۔

395

تفسیر مدارک (ص۲۰۳)پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’واخذنا میثاق… الخ!‘‘ کی تفسیر میں یہ الفاظ ہیںکہ نبیوں سے ہم نے عہدلیا۔ تبلیغ رسالت ’’والد عاالی الدین القیم‘‘ مگر اس مفسر کا یہ خیال ہے۔ قرآن شریف میں ایسی قطعاً کوئی آیت نہیں ہے کہ ہم نے نبیوں سے اس بات کا عہد لیاتھا بلکہ قرآن میں اس عہد کا خود ذکرموجودہے کہ بعدکے نبی کی تصدیق اور پیش گوئی کرنا میثاق تھا۔

(کشاف ج۲ ص۴۲۵) پربھی اس آیت کی تفسیرمیں بعینہٖ وہی الفاظ ہیں جو مدارک میں تھے۔ الفاظ حسب ذیل: ’’واذکر‘‘ میں ’’اخذنا من النّبیین جمیعاً میثاقھم… الی الدین القیم‘‘ اور ان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ مفسرین ایک دوسرے سے نقل کرتے ہیں۔ یہ بیان نہیں کرتے کہ آیاقرآن میں بھی اس قسم کاکوئی ذکر موجودہے۔

(بیضاوی ج۴ ص۱۵۹) پر بھی اس آیت کی تفسیر میں وہی الفاظ ہیں جو کشاف اور مدارک میں ہیں۔ مگر یہ اس آیت کی تشریح نہیں جس سے میں نے استدلال کیاہے کہ ہر نبی سے یہ عہد لیاگیااور جس آیت میں خود خدانے اپنے عہد کی تشریح اور تفسیر فرمادی ہے۔یعنی آیت سورہ آل عمران (تفسیر الکبیر ج۶ ص۵۷۲) ’’ائمۃ الاولٰی‘‘ سے لے کر ’’وامرھم بالتبلیغ‘‘ تک کے الفاط ہیں۔ یعنی خدا نے ان کو حکم دیاہے کہ وہ پہنچادیں۔ اس میں قطعاً اس امر کی تشریح نہیں ہے کہ کیا چیز پہنچائی جاوے۔ بلکہ پہلے لفظ سے خود میثاق کا اشارہ نکلتاہے کہ میثاق پہنچادیں۔ بعض مفسرین نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ سورہ آل عمران کی میثاق النّبیین والی آیت مطلب ہے کہ ہر نبی سے یہ عہد لیاگیاکہ اپنے بعد میں آنے والے نبی کے متعلق پیش گوئی کردے اور اس قوم کو بتادے کہ تم نے اس کو ماننا ہوگا۔ یعنی مفسرین نے اس آیت میں رسول کے لفظ سے رسول مقبولa کی ذات ہی مراد لی ہے اور ہر رسول کی ذات بھی مراد لی ہے۔ مگر میثاق وہی ہے کہ آنے والے رسول کی تصدیق اور اس کی پیش گوئی کرے۔ (بخاری ج۲ ص۲۰۸) پر ’’ما من… خیرہ‘‘ کی عبارت ہے۔ (برکات الدعاص۱۶، خزائن ج۶ ص۱۸) پر اس میں کچھ شک نہیں… تھا کہ الفاظ ہیں۔

(ازالہ اوہام ص۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰) پر اور ہم پہلے اس بات پربھی ایمان رکھتے ہیں… حاصل نہیں ہوسکتے… کی عبارت ہے۔ اس کے ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔ (ایام الصلح ص۳۵، خزائن ج۱۴ ص۲۶۵) پر مگر چونکہ مقصدتھا… وجود ہی تھا… کی عبارت ہے۔ اس کا بھی ’’ماقبل‘‘ اور ’’مابعد‘‘ قابل ملاحظہ ہے۔

(حمامۃ البشریٰ ص۷۷،۷۸، خزائن ج۷ ص۲۹۴،۲۹۵، طبع اوّل) بغیر ترجمہ پر ’’الا ترالٰی قول رسولﷺ… فکانہ‘‘ تک کی عبارت ہے۔ لیکن اس کے بعد کی سطریں بھی قابل غورہیں۔عربی زبان کی مشہور ڈکشنریاں بمثل لسان العرب، تاج العروس معتبرہیں۔ بشرطیکہ وہ کسی لفظ کا ترجمہ کرتے وقت دلیل کے طور پر کسی عرب کی کلام سے یا محاورہ سے وہ سند پیش کریں۔ ان دونوں کتابوں کا ہر مطلب بیان کیاہوا میرے لئے اس صورت میں معتبرہ ہے کہ وہ سند کے طور پر کوئی استشہاد پیش کریں اور یہ شرط قرآن شریف کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے صحیح اور غلط معنی کو مد نظر رکھنے کے لحاظ سے ہے۔ یہ دونوں کتابیں عام طورپر معتبر بھی ہیں۔ کیونکہ یہ ضخیم ہیں اور بڑی بھی ہیں۔ ’’منن الرحمن‘‘ مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ اس کے حاشیہ متعلقہ (ص۸، خزائن ج۹ ص۱۵۲) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’لسان العرب تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں۔‘‘ تفسیر صافی شیعوں کی تصنیف ہے اور یہ حوالہ دیاہے وہ مفسر کا اپنا قول نہیں بلکہ اس نے نبی کریمa سے روایت بیان کی ہے۔

تفسیر صافی میرے نزدیک اس رنگ میں مستند نہیں ہے کہ اس مفسر کا قول ہے بلکہ اس میں جوباتیں قرآن کے مطابق ہوںگی اور قرآن شریف کی تائید وتصدیق میں جن احادیث کے وہ مطابق ہوں گی اس لئے کہ ہماری کتابوں میں ان کی تائیدیں پائی جاتی ہیں۔ ان سے کسی حوالہ کا دیکھنا برا نہیں ہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ تفسیر صافی کا قائل یہ عقیدہ رکھتاہو کہ جو قرآن شریف موجودہ قرآن شریف ہے جس کی

396

وہ خود تفسیر لکھ رہاہے کہ وہ قرآن نہیں ہے۔ میں نے تفسیر صافی کو بعض جگہوں سے دیکھاہے۔ جو کتاب اب مجھے دکھلائی گئی ہے میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتاہے کہ وہ وہی کتاب ہے۔ من وعن اپنے تمام الفاظ کے ساتھ جو کہ میں نے پیش کی تھی جو اس کتاب کے شروع میں یہ الفاظ لکھے ہوئے موجود ہیں: ’’ھذالکتاب المسمی بالصافی فی تفسیر کلام اﷲ الوافی الکافی الشافی‘‘ جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ خداتعالیٰ کے کلام وافی، کافی،شافی کی یہ تفسیر ہے۔ اس کے (ص۱۳) پریہ الفاظ ہیں کہ: ’’اقوال المصطفٰی… عنہ رسول‘‘ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں کہتاہوں۔ حاصل شدہ امران تمام خبروں سے اوردیگر روایتوں سے جواہل بیت کے طریق سے ہیں کہ وہ قرآن جوہمارے اندرہے۔ وہ پورا کاپوراویسا نہیں جو محمدمصطفیa پراتارا گیا۔ بلکہ اس میں بعض وہ بھی ہے جوخلاف ہے۔ اس کے لئے جو اﷲتعالیٰ نے اتارااور بعض وہ بھی ہے جوبولاگیاہے اورتحریف کیاگیا اورتحقیق اس سے حذف کی گئی ہے۔ اکثرچیزیں مثلاً حضرت علیq کا نام بہت سی جگہوں میں یاآل محمد کا نام بعض جگہوں میں یامنافقوں کانام بعض جگہوں میں یاایسا ہی یا کچھ اورکہ وہ قرآن جوہمارے اندرہے، وہ نہیں ہے۔ اس ترتیب پرجوخداکے رسول کو پسندیدہ تھی۔ آگے چندسطروں کے بعدلکھاہے۔ انتہی کلامہ کہ اس کی کلام ختم ہوگئی اورلکھاہے کہ میں کہتاہوں: ’’ویرد علیٰ ھذاکلہ اشکال‘‘ کہ ان تمام باتوں پر بہت سے اشکال اور اعتراضات وارد ہوئے ہیں۔ اس کے متعلق تقریباً ساراصفحہ جس میں یہ ثابت کیاگیاہے کہ صحیح مذہب اس عبارت کے خلاف ہے جس کااوپرترجمہ کیاگیاہے۔ یعنی قرآن محرف اورمبدل نہیں ہے، قابل ملاحظہ ہے۔ مجھے یاد نہیںکہ جوکتاب میں نے پیش کی تھی جس کے شروع پرکیاالفاظ ہیں۔ تمام وہ کتابیں کہ جس کے مصنّفین کاحال ہمیں معلوم ہو یامعلوم نہ ہو۔ اس صورت میں معتبر ہوںگی۔ جب قرآن شریف کی تصدیق یافتہ ہو گی۔ کوئی دستاویز اشتہار یا پمفلٹ یا رسالہ یا کتاب اپنے مضامین کے لحاظ سے بھی معتبر ہو گی۔ جب کہ قرآن شریف کی تصدیق یافتہ ہو اوراگر وہ واقعہ کے ساتھ تعلق رکھتاہے تووہ اس واقع کے متعلق بھی معتبر ہوسکتی ہے۔ جب کہ اسی انسان کی تحریرات کے خلاف نہ ہو جس کی طرف دستاویزمنسوب ہے۔ اگر کسی انسان کی دستاویز ہمارے سامنے پیش کی جاوے، اس رنگ میں کہ اس کے دستخط تو اس پر اس کے نیچے نہیں ہیں۔ لیکن کہاجاتاہے کہ یااس کے اخیر میں اس کا نام لکھاہواموجود ہے کہ یہ اس کا مضمون ہے اور اس کی زندگی میں وہ دستاویز شائع ہوجاتی ہے۔ اس کو مخالفین بھی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ لوگ ان کو مخالف سمجھتے ہیں۔ خواہ وہ خود اس میں مخالف ہوں یانہ ہوں اور اس دستاویز کا منسوب شدہ شخص اس کا انکار نہیں کرتا یا وہ شخص جس کی دستاویز پیش کی جارہی ہے۔ بقید حیات ہوکہ اس سے پوچھا جاسکے۔ لیکن جس امر کی وہ دستاویز ہے۔ اس امر کے متعلق تنازعہ ہوچکاہے اور اثنائے تنازعہ میں وہ دستاویز حاصل کی گئی ہے یا ایسی ہی اور شقیں جو’’سول لاء‘‘ میں کسی دستاویز کے معتبر ہونے کے متعلق مروج ہیں تو ان کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہوگا۔ جو دستاویزاب مجھے دکھلائی گئی ہے وہی اشتہارہے جو میں نے پیش کیاہے۔ اس اشتہار میں کوئی تاریخ اشاعت درج نہیں اورنہ ہی اس کے لکھنے کی تاریخ اس میں درج ہے۔ کسی دستخط کے نیچے بھی کوئی تاریخ درج نہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ اشتہار کب کاشائع شدہ ہے۔ البتہ جن عبارتوں پر یہ فتویٰ لگایاگیاہے ان میں سے بعض عبارتوں کو میں نے یہ کئی رسالوں سے دیکھاہواہے۔

کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ جو اب میرے سامنے پیش کی گئی ہے۔ اس کے متعلق میں یہ یقینی نہیں کہہ سکتاکہ وہ مولوی اسماعیل صاحب کی ہے اور کہ (تقویت الایمان ص۳۱) کا حوالہ اس مشتہر نے کس عبارت کے تعلق سے دیاہے۔ مجھے اس وقت مستحضر نہیں ہے کہ کتاب ’’تقویت الایمان‘‘ میں سے ان عبارتوں میں سے کوئی عبارت ہے جو اس اشتہار میںدرج ہے۔ میں نے تحقیقات نہیں کی کہ بہاول پور میں کوئی شخص عبدالنبی کے نام کا بھی ہے یانہیں۔ جس کا اس اشتہار پرنام ہے اور نہ مجھے اس کے دریافت کرنے کی ضرورت تھی۔ اس اشتہار میں جن لوگوں کے نام درج ہیں، فتویٰ لگانے کے لحاظ سے میں نے ضرورت نہیں سمجھی کہ ان سے جاکر دریافت کروں اور نہ ان لوگوں سے ملاقی

397

ہواہوں۔ یہ فتویٰ میں نے ایسے رنگ میں پیش کیاتھا جس طرح ہر فریق مخالف کی طرف سے بغیرجاننے کے لوگوںکے فتوے ہمارے خلاف پیش کئے گئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ محمد ابراہیم بھاگلپوری مشتہر کون ہے۔ کوئی مشہور آدمی معلوم ہوتاہے۔ کیونکہ اس نے سواسو روپیہ انعام دینے کا بھی اشتہار میں ذکر کیاہے۔ اس فتویٰ کی صحت اور سقم کے متعلق مشتہر جانتاہے۔ البتہ میں یہ جانتاہوں کہ اس میں جوبعض عبارتیں درج ہیں وہ صحیح ہیں اور میں نے بھی ان کو اصل کتابوں سے پیش کیاہے۔

حافظ روشن علی صاحب احمدی میرے استاد ہیں۔ حضرت مسیح موعود خلیفہ اوّل اور خلیفہ ثانی کی کتابوں کے سوا کوئی کتاب مجھ پر حجت نہیں۔ حافظ روشن علی صاحب کی کسی کتاب سے وہی بات میرے لئے مستند اورحجت ہوگی جس کی تائید حضرت مسیح موعود یا آپ کے خلفاء کی اپنی تحریروں سے ہوتی ہو، خواہ اعتقادیات کی ہو، خواہ عملیات کی۔ جوکتاب فقہ احمدی حصہ اوّل میں پیش کی گئی ہے یہ حافظ روشن علی کی ہے۔ اس کے صفحہ پر یہ عبارت ہے۔ آنحضرتﷺ اورمسیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور حضرت مسیح موعود کے بعد ایسے نبیوں کاآنا ممکن ہے جوتابع شریعت محمدیہ ہوں۔ جہاں تک اس عبارت کی مسیح موعود کی کلام سے تائید ہوتی ہے اور اگلا فقرہ کہ مسیح موعود کی غلامی کے حلقہ بگوش۔ اس سے صرف شرط مراد ہو، تائید ہوتی ہے۔ ایک انسان اگرکلمہ ’’لاالٰہ الّا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ پڑھتاہے اوران چیزوں کا بھی اقرار کرتاہے جن کے ماننے سے ایک انسان مسلمان کہلاتاہے۔ مگرخداتعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتاہے جو قرآن وحدیث میں صریح طور پر بیان ہیں۔ کبھی صاف طور پر وہ یہ کہتاہے کہ میں ان کو نہیں مانتا تو وہ منکر صفات ہے اور مدعی اسلام سمجھاجائے گا۔ وہ کافر صفات الٰہیہ کہاجائے گا۔ کسی مدعی اسلام سے بائیکاٹ کرنا پس دین وغیرہ کے بارہ میں جن میں شریعت نے اپنی مرضی کو دخل نہیں دیا اورمجبور کیاہے۔ ان معاملات میں ایسے انسان کوعام دوسرے مدعیان اسلام کی طرح سمجھاجائے گا۔ اگر وہ باتیں جو آیت: ’’اولئک ہم المؤمنون حقا (انفال:۴)‘‘ سے پہلے مذکور ہیں۔ اپنے تمام مشروط اور تفاصیل کے ساتھ بکمال تمام کسی شخص کے اندر پائی جاتی ہیں۔ وہ اس آیت کا مصداق ہوگا۔ یہ ایک مروج فقرہ ہے کہ ہر ایک شخص کی اپنی اصطلاح ہوتی ہے اور اس اصطلاح کو مدنظر رکھ کر ہی اس شخص کی کلام کا مطلب سمجھا جاتاہے۔ ہر فن میں بھی اصطلاحات ہوسکتی ہیں۔ کسی شخص کے بیان کردہ مصطلحات کا علم ہوئے بغیر اس کی کلام کو اپنے خیال کے مطابق ڈھال لینا، ایسے رنگ میں کہ اس شخص کی تصریحات کے خلاف ہو، نہایت نامناسب بات ہے۔

صوفیائے کرام جن اصطلاحوں کے متعلق یہ کہہ دیں کہ ہماری یہ خاص اصطلاحیں ہیں اور ویسی اصطلاحیں اس شخص کی نہ ہوں جوان سے فائدہ اٹھانا چاہتاہے یاصوفیائے کرام کی وہ اصطلاحیں واقعی طور پر مروج بھی نہ ہوں تو پھر انہیں رنگ میں ان اصطلاحوں کو لیا جائے گا جن میں انہوں نے بیان کیا۔ بشرطیکہ وہ تصریح کردیں۔ میںسمجھتاہوں کہ صوفیائے کرام نے جوبھی اسلام اور کفر کے معنی لئے ہیں یاموت وحیات کے معنی لئے ہیں وہ صحیح لئے ہیں اور قرآن وحدیث اورزبان عربی کے ماتحت لئے ہیں۔ کسی خاص شخص کے اصطلاحی معنی جو قرآن، حدیث اور عربی کے خلاف ہوں، ان سے میں واقف نہیں ہوں اور میرے خیال میں ایسی کوئی اصطلاح ہے ہی نہیں۔ مجھے کفر اور اسلام کے معنی قرآن اورحدیث کی رو سے نہ ماننے اور ماننے اور انکار کرنے اور تسلیم کرنے یا ناقدری کرنے اور کامل فرمانبرداری کرنے کے سوا اور معنی ثابت ہونے معلوم نہیں ہیں۔ مسیح موعود کوماننا قرآن شریف اورحدیث کا مسئلہ ہے اورقرآن اورحدیث پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اجماع اس مسئلہ میں ہواکرتاہے جس کا قرآن اور حدیث میں صریحاً ذکر نہ ہو اور اجتہاد کے متعلق وہ مسئلہ ہو۔ چونکہ مسیح موعود کی پیش گوئی احادیث میں موجود ہے۔ مختلف علامات کے لحاظ سے بھی قرآن کریم میں بھی آئندہ امت محمدیہ میں خلفاء محدثین وغیرہ آنے کی پیش گوئی موجود ہے۔ اس لئے اس کا ماننا نہایت ضروری ہوگیا۔ اجتہاد کا مسئلہ بھی نہ رہا۔ اس لئے اجماع کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

398

فریقین اور اس کے مختار حاضر … ۲۷؍مارچ ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان مولوی غلام احمدمجاہد گواہ باقرارصالح… فریق ثانی

میں نے خاتم کے جو معنی کل بیان کئے ہیں وہ عربی زبان کے لحاظ سے ہیں۔ لغت کی جن کتابوں کا میں نے کل ذکرکیاتھا، ان میں خاتم النّبیین کا مرکب لفظ لکھ کر عربی زبان کی استشہاد سے کوئی ایسی ہی مثال پیش کرنے کے بعدکوئی خاص طور پر معنی زبان عربی کی رو سے نہیں کئے گئے۔ کوئی اپنے خیال سے بیان کرے تو یہ اور بات ہے۔ ہاں! علیحدہ علیحدہ الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے خاتم کے معنی زبان عربی کی رو سے کئے ہیں جو میں نے بیان کردئیے ہیں اور میں نے استشہاداً عرب لوگوں کے بیان کردہ محاورہ اور الفاظ بھی بیان کردئیے ہیں۔ ’’منتہی الارب‘‘ میرے نزدیک مسلم کتاب نہیں ہے۔

(قاموس ج۴ ص۱۰۳، ۱۰۴) پر یہ الفاظ ہیں: ’’والخاتم مایوضع…‘‘ (مجمع البحار ج۱ ص۳۲۹،۳۳۰) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’استودع اﷲ امانتک وخواتیم عملک الٰی اواخرہ‘‘ مراد اس سے اعلیٰ درجہ کے اعمال میں دوسری جگہ یہ عبارت ہے: ’’اوتیت جوامع الکلم وخواتیم… معدن لھا… لانبی بعدہ: والقرایت… بقعر: والخاتم… صلعم: بالفتح اسم اے اخرہٗ وبالکسر اسم فاعلٌ‘‘ ان عبارتوں کے ساتھ اس کتاب کا تکملہ (ص۸۵) بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ (مفردات راغب ص۱۴۲)پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’وخاتم النبی… منقطع‘‘ اس میں ’’النبوت‘‘ کا لفظ استعمال ہواہے جوخاص معنی رکھتاہے۔ یعنی شرعی نبوت اس کتاب میں قرآن شریف کے الفاظ کی تشریح ہے۔

(بحر المحیط ص۵۰۰) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’الخاتم، الخاتم، الختام وآخر القوم جمع خواتم‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۱) پرہے۔ اکیسویں آیت یہ ہے: ’’خاتم النّبیین‘‘ اور اس کے نیچے اس کا ترجمہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساراصفحہ قابل ملاحظہ ہے۔ ’’خاتم المہاجرین‘‘ کا جو لفظ میں نے اپنے بیان میں استعمال کیاہے اورجو حضرت عباسq کے متعلق ہے۔ اس کے معنی بلحاظ درجہ اورشان اورمکہ سے ہجرت کرنے کے آخرکے ہیں۔ یعنی مکہ سے ان کے بعد ہجرت جائزنہیں۔ ویسے ہی حضرت نبی کریمa کے بعد شرعی ہجرت جائز نہیں اورجیسے حضرت عباسq کادرجہ ہجرت میں ہے ویسا درجہ بعد کے ہجرت کرنے والوں کا نہیں ہوگا۔ اس سے ’’المہاجرین‘‘ میں پہلے مہاجر بھی مراد ہیں اور پچھلے بھی دونوں ہوسکتے ہیں۔ اگریہاں خاتم کے معنی آخر کے لئے جائیں گے توآخر سے مراد آخری ہوگا۔ فقید المثال نہیں تو پھر آخری ہونا ان کا مکہ سے ہجرت کرنے کے لحاظ سے ہے اور اگرآخر سے مراد فقید المثال یابڑادرجہ ہے توآئندہ آنے والے مہاجرین کے لحاظ سے مرتبہ کے لحاظ سے پہلے مہاجرین شامل نہیں ہوں گے۔ موسیٰm کی قوم میں موسیٰm کے بعد جس قسم کے نبی آئے ان کو مدنظر رکھ کر کہاجاسکتاہے کہ عیسیٰؑ ان نبیوں کے آخری نبی تھے۔ سلسلہ موسویہ کے نبیوں کے لحاظ سے ان انبیاء کاخاتم بھی عیسیٰؑ کوکہاجاسکتاہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۲۳تا۲۵، خزائن ج۱۷ ص۱۲۳تا۱۲۸ طبع دوم) پر یہ عبارتیں ہیں اور اس مماثلت کے لحاظ سے… خاتم الانبیاء تھا۔ حدیث متفق علیہ ثابت ہے۔ اکمل اور اتم طور پر ہو جاتا۔ پس اگر فرض کریں… خاتم الانبیاء سے پہلے حوالہ میں موسوی خلیفوں کے الفاظ قابل ملاحظہ ہیں اور دوسرے حوالہ میں سلسلہ اور تیسرے میں سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں خاص طور پر مدنظر رکھنے کے قابل ہیں۔ خطبہ الہامیہ کے اخیر میں (ص الف اورب، خزائن ج۱۶ ص۳۰۹) پر حسب ذیل عبارتیں ہیں: ’’ثم اعلم… خاتم المرسلین‘‘ مگر اس میں سلسلہ کلیمیہ کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں اور خاتم کے بارہ میں مرزا صاحب کی جس قدر عبارتیں پیش کی جارہی ہیں، ان میں یہ تصریح

399

نہیں ہے کہ آیاخاتم ’’ت‘‘ کی زیر کے ساتھ ہے یاخاتم ’’ت‘‘ کی زبر کے ساتھ ہے۔

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹) پر حسب ذیل عبارت ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے… میں ان کے لئے خاتم الاولاد اس کی تشریح اس مضمون میں (ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹) تک طبع ثانی میں مدنظر رہے۔ اس کتاب کے (ص۱۵۸، خزائن ج۱۵ ص۴۸۲) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’وعلٰی قدم شیت… فہوخاتم الاولاد‘‘ اس کے نیچے اس کا ترجمہ ہر دو میں بھی دیاہواہے جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدانہ ہوگا اور وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا۔ اس سے پہلے کا فقرہ بھی قابل ملاحظہ ہے جو یہ ہے: یعنی کامل انسانوںمیں سے… ہوگا۔ خبیث اورطیب کی امتیاز اس آیت میں جو میں نے پیش کی ہے بذریعہ غیب الٰہی کے ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے مجتبیٰ رسولوں پر ظاہر ہوا کرے گا اور یہی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ایمان کے لحاظ سے جو طیب اور خبیث ہوتا ہے ان کا پتہ ان مجتبیٰ رسولوں کی آمد سے ہی ہوتا ہے۔ بوجہ ان کے مان جانے یا نہ ماننے کے خبیث اور طیب کا امتیاز اس آیت میں جس کامیں نے اپنے بیان میں حوالہ دیاہے، رسولوں کی آمد اور ان کی آمد کے بعد ان پر ایمان لانے سے ہوتاہے اور ان رسولوں کاآناشریعت اسلامیہ کے مطابق ہے۔ اس آیت میں: ’’وان تومنوا وتتقوا (محمد:۳۶)‘‘ میں جس ایمان اور تقویٰ کا ذکرہے اس ایمان کوخودخداتعالیٰ نے بھی اس جملہ سے پہلے اس آیت میں ’’فاٰمنوا باﷲ ورسلہ (التغابن:۸)‘‘ فرماکر ظاہر کردیاہے کہ وہ ایمان مراد ہے جوہمارے اس حکم کے مطابق ان مجتبیٰ رسولوں پرلانے کے بعد پیداہوتاہے۔ اس آیت میں ’’من رسلہ‘‘ سے مراد وہ رسول ہیں جن پر اﷲتعالیٰ اظہار علی الغیب کرے گا۔

ہمارے اعتقاد میں بھی قرآن شریف کے بعد قیامت تک کوئی شرعی کتاب نہیں آئے گی۔ یہی کامل شریعت ہے جو اﷲتعالیٰ نے نازل فرمادی۔ البتہ اس شریعت کے متبع غیر شرعی بالافادہ انبیاء قیامت تک آسکتے ہیں۔ یہ شریعت محمدیہ بلحاظ اشیاء خوردنی وپوشیدنی کے حالت اور وقت کا حکم بتاتی ہے اور یہی حلال وحرام، خبیث اورطیب اشیاء کی وضاحت کے لئے قیامت تک کافی ہے۔ مگر وہ ایمان جو اس شریعت پر ایک انسان لانے کا اظہار کرے گا اس ایمان کے اندر معلوم کرنے کے لئے کہ واقعی یہ خالص ایمان ہے یاناقص۔ ان کا امتیاز کرنے کے لئے اس شریعت محمدیہ کے ماتحت انبیاء اور رسل آئیں گے۔ پھر ماننے والا افضل ہوجائے گا اور طیب کہلائے گا اور نہ ماننے والاخبیث کہلائے گا۔ اس لئے اﷲتعالیٰ نے اس آیت میں ’’اکل وشرب‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ ایمان کے مدعیوں اور دعویداروں کا ذکر کر کے بتلایا ہے کہ ان کے خبیث اور طیب کا فرق بذریعہ اظہار علی الغیب کے ہوگا جو رسولوں پرکیاجائے گا۔

چنانچہ فرمایا: ’’فاٰمنوا باﷲ ورسولہ‘‘ کہ جب کبھی ایسے رسول آئیںتو ان کو مان لیا کرنا۔ آیت مذکورہ بالا میں رسل کا لفظ سے غیر شرعی رسول مراد ہیں۔ ہر ایک آیت میں رسول اور نبی کا لفظ جو استعمال ہوگاوہ قرآن شریف کے یہاں فرمودہ فرائض کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس آیت میں بیان ہوں گی یا دوسری آیتوں میں تصریحات ہوں گی، ان کی بناء پر ہرجگہ علیحدہ علیحدہ مراد ہوگا۔ کسی جگہ شرعی اور غیرشرعی دونوں کسی جگہ صر ف شرعی، کسی جگہ غیر شرعی اس کے معنی محدث بھی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی ایک لحاظ سے نبی ہوتاہے اور محدث کے معنی ہیں کہ جسے مکالمہ ومخاطبہ اﷲکا حاصل ہو۔ حضرت عمر کے بارہ میں جو محدث لفظ استعمال کر کے نبی کریمa نے اس کی تشریح فرمائی ہے جس کومیں اپنے بیان میں ذکر کرچکاہوں۔ تاریخ الخلفاء کے حوالہ سے ان معنوں میں حضرت عمرq بھی محدث تھے۔

رسولوں کا بھیجنا یا نبیوں کا بھیجنا خداتعالیٰ کا کام ہے اور اس نے فرمادیاہے۔ ’’اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ کہ اﷲتعالیٰ بہترجانتاہے کہ کہاں اور کس جگہ اور کس کونبی اور رسول مقررکرے۔ کسی نبی کے آنے کی خاص طورپر زمانہ کے لحاظ سے کسی خاص زمانہ یا صدی کانام لے کر تخصیص نہیں کی گئی۔ ہاں! استدلال سے معلوم ہوسکتاہے۔ آیات ذیل: ’’ولقد اوحی… عملک الٰہ کذالک

400

یوحی… حکیم‘‘ جو سورہ زمر:۶۵ اور شوریٰ:۳ سے بیان کی گئی ہیں۔ ان میں حضرت نبی کریمa اورآپ سے پہلے کی وحی کا ذکرہے۔ چونکہ آپ پرشرعی وحی ہوئی ہے اورآپ سے پہلے بھی شرعی وحی ہوتی رہی ہیں۔ اس لئے ان دوآیات میںآئندہ وحی کا ذکرکرنا اس امر کا وہم ڈالتاتھاکہ شاید ویسی شرعی وحی آئندبھی ہوگی، ذکرنہیں کیاگیا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ کے بعد شرعی وحی منقطع اوربالکل بند ہے۔ آنحضرتﷺ سے پہلے شرعی وحی بھی ہوتی تھی اور غیر شرعی بالاستقلال وحی بھی ہوتی تھی۔ قرآن شریف کی آیات میں بعد کے لفظ کی تخصیص کے ساتھ مطلق وحی کا اس رنگ میں تو ذکر نہیں کہ نبی کریمa کے بعدیا یہ کہ محمدa کے بعد وحی ہوگی۔ ہاں! اس رنگ میں کہ آپ کی امت کو خیر امت قراردے کر اور آپ کے تمام انبیاء سے افضل اور اعلیٰ قرار دے کر اوربہترین انعام کلام الٰہی وبشارات خداوندی قرا دے کر کئی آیتوں میں تصریح فرمادئی گئی ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد آپ کے طفیل اور اتباع کی برکت سے اس امت محمدیہ میں غیرشرعی وحی کا دروازہ کھلاہے۔

چنانچہ کچھ آیتیں میں نے بیان میں مفصل بیان کردی ہیں۔ خداوندتعالیٰ کا زمین میں کسی کو خلیفہ بنانے سے یہ مراد ہے کہ اس کو لوگوں کے لئے نبی بنایا جاوے۔ جیسے حضرت آدمm کے متعلق فرمایا: ’’انی جاعلٌ فی الارض خلیفہ (البقرۃ:۳۰)‘‘ یادائودm کے لئے فرمایا: ’’یاداوٗد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض (ص:۲۶)‘‘ اور یہ دونوں نبی تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خداوند تعالیٰ کا خلیفہ بنانے سے یہی مراد ہے کہ ان کو نبی بنا کر مبعوث کیا جاوے مخلوقات کی ہدایت کے لئے۔ دائودm نبی بھی تھے اور اپنی بعد کی عمر میں باشاہ بھی ہوگئے تھے۔ جیسے کہ آنحضرتﷺ۔

حضرت آدمm نبی تھے۔ ان کی بادشاہت کرنے کے متعلق کوئی تصریح قرآن وحدیث میں نہیں ہے۔ خلیفہ کا لفظ قرآن شریف میں خاص شخص کے لئے جو استعمال ہواہے وہ دائود اورآدم کی ذوات بابرکات ہیں۔ چونکہ خدانے ان کوخلیفہ بنایاہے اور ان کے لئے لفظ خلیفہ استعمال فرمایا ہے۔ یہ دونوں نبی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ کا مطلب خلیفہ سے نبی ہوتاہے اور خلیفہ بنانے سے نبی مبعوث کرنا مراد ہوتاہے۔ حاکم ہونا اس کے واسطے ضروری نہیں۔ ہویانہ ہو یعنی اس کا بادشاہ وقت ہونا یابادشاہ وقت نہ ہونا۔ اس امر کی کوئی قید نہیں ہے۔ کیونکہ بعض انبیاء محکوم بھی ہوئے ہیں اور بعض انبیاء حاکم بھی ہوئے ہیں۔ لہٰذا دونوں مفہوم اس کے اندر مراد ہوں گے۔ یعنی خلیفہ بمعنی نبی جو حاکم ہو اورخلیفہ بمعنی نبی جو محکوم ہو۔

’’وعد اﷲ الذین آمنوا‘‘ والی آیت میں پہلی امتوں کے خلفاء کی مثال دے کر آئندہ خلفاء کا وعدہ دیاگیاہے۔ پہلی امتوں میں دونوں قسم کے خلفاء تھے۔ یعنی نبی اور نبیوں کے جانشین۔ لہٰذا اس امت محمدیہ میں بھی جن خلفاء کا وعدہ ہے ان سے نبی بھی ہیں اور نبیوں کے جانشین بھی دونوں واضح طور پر مراد ہیں۔ لہٰذا خلفاء راشدین مہدیین یہی مراد ہوسکتے ہیں اورایسے انبیاء جو رسول مقبول کے طفیل سے نبی نہیں بنے وہ بھی اور نبیوں کے خلفاء بھی۔ خلفاء کا لفظ لغت کے لحاظ سے قرآن کریمa میں بوجہ ایک قوم کے پیچھے دوسری آباد ہونے والی قوم کو جانشین قرار دینے کے بھی استعمال ہواہے۔ اس میں کفا ر اور مؤمن دونوں ہوسکتے ہیں۔ مگر امت محمدیہ کو جن خلفاء کا وعدہ ہے وہ کافر خلفاء مراد نہیں۔ اس آیت میں جو یہ الفاظ: ’’ولیمکنن طمعہ… لنا‘‘ ان سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہ آنے والے خلفاء اپنے دین کو دنیا میں خود اجراء کرنے کی طاقت رکھتے ہوں گے بلکہ اس میں یہ تصریح ہے کہ خداتعالیٰ ان کے دین کو مضبوط کردے گا اور دنیا ہزار کوشش کرے کہ ان کا دین ا ن کی تعلیم نہ پھیلے۔ لیکن وہ ناکام رہے گی اور خداتعالیٰ ان کی تعلیم اور ان کی باتوں کو دنیا میں ترقی پذیر کرے گا۔ کیونکہ جن خلفاء کی مثال دی گئی ہے کہ ویسے خلفاء اس امت میں ہوں گے۔ ان سب پہلی امتوں کے خلفاء کو اپنے اپنے دین جاری کرنے کی قدرت سیاسی طورپر نہیں ملی اورنہ یہ ضروری ہے۔

401

جس طرح حضرت موسیٰm تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے، ویسے ہی آنحضرتﷺ بھی تمام انسانوں کی طرف قیامت تک رسول ہیں۔ اس لئے جس طرح حضرت موسیٰm کے تمام نبی اسرائیل کی طرف نبی ہونے کے باوجود بہت سارے بعد میں نبی آجانے سے موسیٰm کی بعثت عامہ میں کوئی خلل اوررخنہ نہیں پڑتا۔ حالانکہ وہ بعد کے آنے والے نبی موسیٰ کی اتباع کی برکت سے نبی نہ کہلاتے تھے بلکہ بالاستقلال تھے۔ ویسے ہی آنحضرتﷺ کے بعد آپa کی اتباع اور برکت سے کسی نبی کے آ جانے پر آنحضرتﷺ کی رسالت عام میں کوئی خلل یا رخنہ نہیں پڑ سکتا۔ حضرت عباسq کو مخاطب کرتے ہوئے آنحضرتﷺ نے جو یہ فقرہ فرمایا: ’’فیکم النبوۃ والملکت‘‘ اس فقرہ میں جو کم کا لفظ ہے۔ اس سے مراد امت محمدیہﷺہے۔ اس میں مخاطب کرنے سے مراد حضرت عباسq کی ذات مراد نہیں بلکہ امت محمدیہ مراد ہے۔ خلفاء راشدین کی خلافت منہاج نبوت پر تھی۔ یعنی آنحضرتﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے اشاعت کے لئے آپ کی نیابت میں تھی۔ ’’انا اکرم الاولین والاخرین علی اﷲ ولافخر‘‘ والی حدیث میں تمام اوّلین وآخرین مراد ہیں۔ یعنی ’’انبیاء اوّلین وآخرین‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں تمام انبیاء مراد ہیں۔ کیونکہ نبی اپنی امت سے بہرحال افضل ہوتاہے۔ وہ فخر کی جگہ نہیں کہ جس کو خاص طورپر فخر کے طور پر بیان کیاجاوے اور اس لئے بھی کہ اگر’’آخرین‘‘ سے نبی مراد نہ لئے جاویں بلکہ عام مؤمن مراد لئے جاویں تو ’’اوّلین‘‘ سے بھی پھر عام مؤمن مراد لینے پڑیں گے اور رسول مقبولa کی فضیلت پہلی امتوں کے عام مؤمنوں سے ہو گی نہ کہ انبیاء سے۔ حالانکہ یہ معنی رسول مقبولa کی دوسری تصریحات کے اور احادیث کے خلاف ہے۔ اس لئے بھی کہ اگر ’’آخرین‘‘ سے مراد بعد کے صرف مؤمن ہیں تو ان سے افضل ابوبکربھی ہیں۔ پھر حضورﷺ کاحقیقت اظہار فرما کر ’’ولافخر‘‘ کہنا کوئی خاص رنگ نہیں رکھتا۔ کیونکہ دوسرے بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔

(مشکوٰۃ شریف صفحہ۵۰۵)

(باب فضائل سید المرسلین) پر یہ حدیث ہے: ’’اناسید ولدآدم یوم القیامۃ ولافخر‘‘ یعنی آنحضرتﷺ تمام نبیوں سے جو پہلے ہوچکے یا بعدمیں آئیں گے، افضل ہیں۔

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۷۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’وعبارت الشیخ… بالولائت‘‘ حضرت مسیح موعود نے یہ تصریح فرمائی۔ صحابہ سے ملا، جب مجھ کو پایا اور یہ قرآنی آیات کا اوراحادیث کا مطلب ہے جو آپ نے اپنے الفاظ میں بیان فرمایاہے۔ اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو مان لیا وہ درجہ میں حضرت نبی کریمa کے صحابہ سے مل گیا۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’فمن دخل… المتدبرین‘‘ اور اس میں آخرین قسم والی آیت سے استدلال کیاہے اور اس کے نیچے ہردوترجمہ۔ پس وہ… پوشیدہ نہیں ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کتاب میں یہ ترجمہ حضرت مسیح موعود ہی کا ہو۔ مگر یہ ترجمہ تحت اللفظ ہے اور صحیح ہے۔ مگر عبارت کا مفہوم وہی ہوگاجو حضرت مسیح موعود کی دیگر تصریحات کے مطابق ہو۔ صحابہ کرامi کی طرف منسوب شدہ بات کہ انہوں نے کہ ہے یا کہی ہے یاتحقیق کی ہے۔ اگر قرآن شریف کے مطابق ہے تو قابل قبول ہے۔ اگر صحابہ کرامi کی طرف منسوب شدہ بات کو ثابت شدہ اس لحاظ سے کہا جاتاہے کہ ان تک روایت پہنچی ہے تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کیونکہ سب روایتیں اپنے اسناد کے لحاظ سے صحیح ہوسکتی ہیں۔ لیکن قرآن شریف کے قطعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ محض غلط ہیں اور اگر ثابت شدہ کا لفظ کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہوتو بیان کیاجاوے۔ میں اس کے مطابق اپنا جواب لکھادوں گا۔

میرے بیان کردہ معیار کے مطابق میں قرآنی قطعیت کے معیار کی رو سے اگرکوئی دینی مسئلہ صحابہ کا بیان کردہ ہو تو وہ بہرحال راجح ہوگا۔ کسی ایک صحابی کا بیان کردہ تطابق اگر قرآن کے مطابق ہے، ہوکر بیان کیاگیاہے اور واقعی مطابق ہے۔ زبان عربی سے بھی اس

402

کی تائید ہوتی ہے، دیگر احادیث سے بھی اس کی تائید ہوگئی ہے اور دیگر صحابہ کے اجماع سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے تو وہ راجح ہوگا۔ لیکن کسی صحابی کا ذاتی خیال راجح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس نے بھی اس امر کی تصریح کی ہے کہ بعض صحابہ اپنے فتویٰ اور اجتہاد میں ویسے نہیں جیسے دوسرے اوراحادیث سے بھی صاف طور پر ثابت ہوتاہے کہ بعض صحابہ نے آنحضرتﷺ کے ایک ارشاد کی کچھ مراد لی۔ مگر وہ محض غلط ثابت ہوئی۔ اگر کسی غیر صحابی کی تحقیق بشرطیکہ قرآن شریف کے صریح مضمون ومفہوم کے مطابق ہو، عربی زبان کی سندات ساتھ رکھتی ہو۔ دیگر احادیث کی تائید بھی رکھتی ہو تو صحابی کی تحقیق سے مقدم ہے نہ اس لئے کہ و ہ اس کی ذاتی تحقیق ہے۔ بلکہ اس لئے کہ قرآن کریم اور عربی زبان کی سندات اور ان احادیث کی سندات جو صحابہ کی موجودگی میں سب کی سب صحابہ کو معلوم نہ تھیں اور نہ مدون ومرتب ہوئی تھیں۔ اس کی تائید میں ہیں جو میں نے شرطیں اوپربیان کی ہیں۔ ان کے بیان کرنے کے بغیر کوئی غیر صحابی کوئی تحقیق پیش کرتاہے۔ اگر وہ پیش کرنے والا خداتعالیٰ کی طرف سے ملہم ومامور نہیں ہے کہ جس کی وحی والہام کی تصدیق وتائید قرآن پاک کی تصریحات سے ہوچکی ہو۔بلکہ عام شخص ہے تو اس کی ذاتی رائے اوپر کی شرائط سے علیحدہ کر کے صحابی کی بیان کردہ شدہ تصریح سے سننے والے اور ماننے والے کے اختیار پر ہوگی کہ اسے راجح سمجھے یا نہ سمجھے۔ کسی حدیث کو قرآن کی مطابقت میں صحیح قراردینے والا خود مختار ہے کہ وہ اپنے استدلال کی رو سے اسے مطابق قراردے یا تصریح کے لحاظ سے مطابق قراردے۔

کتاب (شہادت القرآن ص۴،۵، خزائن ج۶ ص۳۰۰) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’یہ تمام امور… لازم ہے۔‘‘ اس کے آگے کی عبارت بھی خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے اوروہ دیگر تصریحات جو حضرت مسیح موعود نے احادیث کے متعلق یا اقوال صحابہ کے متعلق اپنی دیگر کتابوں میں بیان فرمائی ہیں، عدد رکعت تعامل کے طور پر نبی کریمa سے آج تک چلاآرہاہے۔ گومختلف اوقات میں لوگوں نے اختلاف بھی کیاہے۔ قرآن شریف کے صریح حکم کی موجودگی میں مخالف اجتہاد ٹھیک نہیں۔ کوئی حدیث قرآن شریف کی صریح نص سے تائید یافتہ ہے۔ بلحاظ اپنے حق اورمطالب کے تو ایسی حدیث کے خلاف بھی کوئی اجتہاد مناسب نہیں۔

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص۱۴۴،۱۴۵، انوار العلوم ج۲ ص۴۶۵،۴۶۶) پر حسب ذیل عبارت ہے اور یہ اﷲتعالیٰ کی عظیم الشان… کل نبیوں پر پڑے گا۔ اس کتاب کے (ص۹۳، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۵) پر: ’’اور نہ مجھے دعویٰ نبوت… ان میں سے ایک میں ہوں۔‘‘ کی عبارت ہے۔ مگر اس تشریح کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود نے اس کی خود فرمائی ہو۔ (ص۸۹، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۳،۴۲۴) پر الفاظ ذیل: ’’۱۹۰۱ء سے پہلے… پرختم ہوگئی ہیں۔‘‘ اس کا مطلب بھی اس تشریح کے ذیل سمجھا جائے گا جو میں نے اوپر بیان کی ہے۔

ہدیہ مجددیہ کس کی تصنیف ہے؟ مجھے اس وقت مستحضر نہیں۔ اس کا مصنف جماعت احمدیہ خیال کے نہیں ہیں، نہ مجھے اس کا مذہب معلوم ہے۔ حضرت مسیح موعود نے مکفر کی جو تشریح کی ہے اور جو ابھی میں اپنے بیان میں بیان کرچکاہوں، اس کی رو سے مولوی ثناء اﷲ کو انہوں نے اپنا مکفر سمجھاہے۔

وحی کے لغوی معنی اشارہ کرنا، سرعت سے کلام کرنا، لکھنا، الہام کرنا ہیں۔ خداتعالیٰ کا اپنے کسی مقرب بندہ سے کلام کرنا خواہ بواسطہ فرشتہ ہو یا بغیرفرشتہ ہو، محض آواز ہو، لکھی ہوئی تحریر ہو۔ وحی کے اصطلاحی معنی سمجھے جائیں گے۔ لغت یعنی زبان عربی قرآن شریف اوراحادیث سے میں وحی کے یہی معنی سمجھتاہوں۔ اگر اصطلاحی ہو بلکہ شرعی وحی مراد ہوتو حضرت مسیح موعود تشریعی وحی کے دعویدار نہیں تھے اور نہ ہم ان کو مانتے ہیں۔ اگر وحی سے یہ مراد ہو کہ رسول کریمa کے توسل سے وحی ہوگا۔ اس کی تائید اور تصدیق میں وحی ہوتا تو اس کے آپ مدعی ہیں اور ہم ان کو مانتے ہیں۔ شرعی اور غیر تشریعی کی شرط کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود کو غیر تشریعی وحی ہوئی ہے۔ حضرت

403

مسیح موعود کواصطلاحی وحی ہوئی ہے اور لغوی اور اصطلاحی میں کچھ چنداں فرق بھی نہیں۔

کتاب (فوائد فریدی ص۱۳) پر یہ عبارت ہے: ’’افضل ازتمام… وحکم ولایت صادر۔‘‘ یہ کتاب سال۱۸۹۵ء کی شائع شدہ ہے۔ اس کتاب کے (ص۱۴) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’بہ آں ہمہ پیغمبراں… محوشدہ است‘‘ اس کے (ص۱۵) پر ’’بہ آن ارکان دین محمدی… مشہور چہارامام۔‘‘ اس کے (ص۳۳تا۳۶) پرہے: ’’بہ آن کہ علامات قیامت… مالانہایت ہو۔‘‘ کسی کی توہین اور ہتک کا حکم اصطلاح متکلم کے تحت ہوگا۔

کتاب (تفسیر بیضاوی ص۱۸) حسب ذیل عبارت ہے: ’’والایمان فی الصفت… لعدم الاقرار‘‘ اسی کتا ب کے (ص۲۳۰) پر: ’’ولکفر تعیت… فی الفیہا‘‘ کی عبارت ہے۔ یہ مفسرقرآن شریف کی تفسیر بلحاظ لغت اور ادب کے کرتاہے اور یہ اس کا اپنا خیال ہے۔

کتاب (نورالانوار ص۲۲۲) پر: ’’واذا نتقل… وغیرہا‘‘ کی عبارت ہے۔ اہل سنت والجماعت کے امام جیسے ابومنصور ماتریدی اور ابوالحسن اشعری یا اس کے پائے کے جو دیگر امام ہیں۔ ان لوگوں نے جو اصول کسی دوسرے شخص کو کافر قرار دینے کے لئے اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں یا ان کی طرف منسوب ہوکر کتابوں میں بیان کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب مجھے مستحضر نہیں کہ میں یہ بتائوں کہ ہمارے اصول تکفیر کے وہ مطابق ہیں یا نہیں۔ ہم کسی شخص کو کافرنہیں کہتے۔ جب تک اس کے اندر کفر بمعنی انکار کی کوئی وجہ خود اس کے قول یا اس کی مستند تحریر سے ہمیں معلوم نہ ہو۔

(مشکوٰۃ شریف باب مناقب صحابہ ص۵۴۵) پر یہ الفاظ ہیں: ’’خیر امتی قرنی… متفق علیہ‘‘ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ساری امت اس فتویٰ کے تحت آجائے گی جو اس حدیث کے بعض الفاظ میں ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب وہی ہے جو قرآن شریف کی تصریحات اور خود رسول مقبولa کے فرمائے ہوئے فضائل امت محمدیہ کو مدنظر رکھنے سے متفق علیہ کر سکے لیاجائے گا۔ اس حدیث کے آگے متفق علیہ کے الفاظ ہیں اور ان الفاظ سے عام طور پر یہ مراد ہوتاہے کہ بخاری اور مسلمنے اس کو بیان کیا ہے۔ بعض دفعہ الفاظ بدل بھی جاتے ہیں اور اس کایہ مطلب نہیں کہ جو حدیث بخاری اور مسلم میں آئے وہ اپنے معنی اور مطلب کے لحاظ سے بالکل صحیح ہو۔

چنانچہ اماموں نے تنقید کرتے وقت روایت کے لحاظ سے بھی ان دونوں میں کئی بہت ضعیف حدیثیں قراردی ہیں۔ روایت کا مطلب وہی سمجھا جائے گا جو ان اماموں کے ہاں معروف ہے۔ اہل سنت والجماعت کے معنی یہ ہیں کہ نبی کریمa کی سنت کے پابند اور ایک جماعت کہلانے کے مستحق اور عقائد کے لحاظ سے وہی قرآن اورحدیث میں ایک مسلمان کے بیان کئے گئے ہیں۔

کتاب (غنیۃ الطالبین ص۱۹۶) ’’فاعلی المومن… اجمعین‘‘ کی عبارت ہے۔ یہ کتا ب اس شرط کے ساتھ مسلمہ ہے جو میں نے بیان کردی ہے اور اس میں جماعت کا لفظ حضرت نبی کریمa کی تصریح کہ جماعت وہ ہے کہ جس کا امام بھی ہو۔ مسلم اور واجب الاطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عبارت کو دیکھا جاوے۔ صلوٰۃ، زکوٰۃ اور نبوت کے جو معنی صحابہ کرام کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں، اگر قرآن شریف ان منسوب شدہ معنی کی تصدیق اور تائید کرتاہے اورلغت عرب میں وہ معنی پائے جاتے ہیں۔ لغت سے مراد میری زبان عربی ہے تو ایسے معنی کے خلاف کوئی شخص تاویل کرے اور تاویل بھی ایسی ہوکہ قرآنی تصریحات کے خلاف ہو تو ایسے معنی سے قطع نظر کی جائے گی۔

کتاب تاویل الحکم شرح فصوص الحکم، شرح مولوی محمدحسن امروہی کے (ص۴۲۸) پر: ’’واعلم ان الولایت…‘‘ دانستہ کی عبارت ہے۔ جس کتاب کا میں یہ حوالہ پیش کیاہے یعنی کواکب دریہ وہ حکیم سید محمد حسن صاحب مؤلف غایت البرہان کی کتاب ہے۔ اس کتاب پیش شدہ کے متعلق نہیں کہہ سکتاکہ یہ انہیں محمد حسن کی ہے۔ یہ سال ۱۸۹۳ء کی مطبوعہ ہے۔

سن کر تسلیم کیا۔ محمد اکبر!

404

(تفسیر سراج منیر ص ۲۵۲،۲۵۳) پر عبارت ذیل: ’’وخاتم النّبیین… موسٰیm‘‘ ہے۔ (کشاف ج۲ ص۴۳۳) پر حسب ذیل عبارت: ’’وخاتم النّبیین… ماکان نبی اﷲ فان قلت بعد الجمہور‘‘ہی ہیں۔ مگر ان تینوں عبارتوں کا خلاصہ مطلب یہی ہے کہ شرعی نبوت آئندہ نہ ہوگی۔ (تفسیر فتح البیان ج۷ ص۲۸۶) پر حسب ذیل عبارت: ’’وقرء الجمہور… بعض امتہ‘‘ اس میں جومعنی خاتم کے کئے گئے ہیں وہ تاویل کر کے کئے گئے ہیں اور تاویل کا لفظ اس میں لکھا ہواموجودہے۔ (میزان الاعتدال ج۱ ص۲۱) پرحسب ذیل عبارت: ’’ابراہیم بن عثمان… متروک الحدیث‘‘ ہے۔ لیکن کسی ایک شخص کے کہہ دینے سے کہ فلاں آدمی ضعیف ہے یاروایت کے لحاظ سے کمزور ہے۔ کسی حدیث کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ممکن ہے کہ اس کی تائید اور روایتوں سے ہوتی ہو۔ جیسے اس حدیث کی ہے یا دوسرے امام اس حدیث کو یا اس راوی کو ثقہ قراردیں۔

(تقریب التہذیب ج۱ ص۱۴) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’ابراہیم بن عثمان… متروک الحدیث‘‘ لیکن اس کے بالمقابل ایک دوسراامام یہ کہتاہے: ’’اما صحت الحدیث فلاشبہ لھا‘‘ کہ اس حدیث کے صحیح ہونے میں قطعاًشبہ کی گنجائش نہیں۔ شہاب علی البیضاوی (مدارج النبوت ج۲ ص۲۶۷) پر’’برآںکہ روایت کردہ شد… آخر الانبیاء‘‘ کے الفاظ ہیں۔ مگر رسول اﷲa کی حدیث نہیں ہے کسی کا قول ہے۔ (موضوعات کبیر ملّا علی قاری ص۶۸، ۶۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’قال النبی… خاتم النّبیین‘‘ اس عبارت کے ساتھ آگے ’’خاتم النبی‘‘ کے معنی لئے ہوئے ہیں جوبالفاظ ذیل ہے: ’’اذا لمعنی انہ لایاتی نبیٌ بعدہ ینسخ ملتہ ھولم یکن من امتہ‘‘ جو تصریح ہے اس امر کی کہ آئندہ تشریعی نبوت اور مستقل نبوۃ کا انقطاع خاتم النّبیین سے معلوم ہوتاہے۔ یہی مراد ہے نہ کہ ہر نبوت اور اس حوالہ کے اندر جو پہلے لکھوایاجاچکاہے اس عبارت کے اندر اس کتاب والے محدث ملّا علی قاری ان لوگوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اپنی طرف سے اتنا فقرہ کہتے ہیں: ’’لکن لہٗ طرق ثلاثۃ یقویٰ بعضھا ببعض‘‘ کہ اس حدیث کے تین مختلف اسناد ہیں جو اس میں ایک دوسے کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس کتاب کے (ص۶۹) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ویقویٰ حدیث لوکان موسٰی حیٌ بما وسعہ الا اتباعی‘‘ (انسان کامل ص۲۸،۲۹ ) پر: ’’قال اﷲ تعالٰی الیوم اکملت لکم دینکم… یاتی بہ موسٰی‘‘ کی عبارت ہے اور میں اس ساری عبارت کے متعلق مفصل طور پر اپنے بیان میں ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ والی آیت کی تشریح میں بیان کرچکاہوں۔

(فتح الباری ج۶ ص۳۶۰) پر عبارت ہے: ’’قولہ تسوسہم الانبیاء… فی الظالم‘‘اس کتاب کے (ص۴۵۵) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’واقع الحدیث الکذاب… وآخرہم الدجال الاکبر‘‘ (الازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷) پر یہ عبارت ہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجال پیدا ہوں گے۔‘‘ یہ عبارت اس تشریح کے تحت سمجھی جاسکے گی جو حضرت مسیح موعود نے اپنی اس کتاب میں یا دیگر کتب میں فرمائی ہے۔ یعنی آنحضرتﷺ کے خلاف دعویٰ نبوۃ کرنے والا اور شریعت سے باہر نکلنے والے۔

(کنزالعمال ج۷ ص۲۵۰،۲۵۱) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’ان عبد اﷲ ابن عبد اﷲ… فاقتلوا ان جابر عن قیس… تکتنو…‘‘ میں ہیں۔ اس کتاب کے (ص۱۷۰،۱۷۱) پر حسب ذیل عبارات: ’’من امتی کذابون… لانبی بعدی۔ ولا تقوموا الساعۃ کذاب بہ تقوم الساعۃ… فلہ الجنت۔ ان بین یدی… دعاددھم‘‘ ہیں۔ ان میں سے بعض کے متعلق تو میں وجہ تکفیر:۱ کے جواب میں حدیثوں کے ضمن میں بیان عرض کرچکاہوں اور بقیہ کے متعلق صرف اس قدرعرض کرتاہوں کہ تمام حدیثوں کو مدنظر رکھتے ہوئے

405

اور امت محمدیہ کے مناقب اور قرآن شریف کی تصریحات اور دیگر تصریحات کے ساتھ مطابقت کرتے ہوئے ان حدیثوں کو دیکھا جاوے۔

(کنزالعمال ج۶ ص۲۵۶) پر یہ حدیث: ’’انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم المساجد‘‘ ہے۔ مگر اس کے لئے میں اپنے بیان کے اس حصہ کو پیش کرتاہوں جو اس قسم کی حدیثوں کے جواب میں عرض کیاہے اوربالخصوص پانچویں حدیث کہ یہاں صرف شرعی نبیوں کے قسم ہونے کا ذکرہے۔ تبھی انہیں مسجد کا ذکر فرمایاہے کہ اب نئے قبلہ کو منہ کر کے کوئی مسجد نہیں بنائی جائے گی اور نہ کوئی نئے قبلہ والا نبی آئے گا۔ اس کتاب کے (ص۱۲۰)پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’اوّل الرسل آدم وآخرہم محمد۔ اوّل انبیاء بنی اسرائیل موسٰی وآخرہم عیسٰی‘‘ مگر اس میں بھی رسل کے لفظ سے وہی اصطلاح مراد ہے یعنی شرعی اور مستقل رسول۔ اس کتاب کے (ص۱۱۳) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’کنت اوّل الانبیاء فی الخلق وآخرھم فی البعث‘‘ مگر یہ پہلے انبیاء کے لحاظ سے ہے اور ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے۔

(نوٹ: بخاری ج۱ ص۵۰۱ حاشیہ۴) اس حوالہ پر فریق ثانی کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتاہے کہ جس حاشیہ کا حوالہ دیاجاتاہے وہ اصل کتاب میں دکھلایاجاوے۔ مختار فریق اوّل بیان کرتاہے کہ اس حاشیہ کے متعلق اصل کتاب علیحدہ طبع نہیں ہوئی، بلکہ بخاری کے حاشیہ پر یہی تحریر کو جاکر طبع کرائی گئی۔ اگر یہ صحیح ہے کہ اصل کتاب علیحدہ نہیں تو پھر اس کا حوالہ پیش کئے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اگر یہ ثابت کیاگیا کہ اصل کتاب موجود ہے تو اسے مسترد کیاجائے گا۔ حوالہ یہ ہے: ’’قولہ اناالعاقب……لیس بعدی نبی‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۴۰۷) پر ہے: ’’قولہ وانا العاقب… لیس بعدی نبی‘‘ لیکن اس عبارت میں ’’فابی الارواح‘‘ یعنی یہ لفظ بعد کے داخل شدہ ہیں۔ خاص طور پر قابل لحاظ ہیں کہ مصنف ’’لیس بعدہ نبی‘‘ کے الفاظ کو دیگر بزرگوں کی طرح کس کا داخل شدہ قراردیتاہے۔

(طبری ج۳ مصری ص۱۶۶،۱۶۷) پر یہ عبارت ہے: ’’کان مسیلمہ… الخ!‘‘ (بخاری ج۱ ص۳۹۰) ’’قال رسولﷺ لا ہجرت بعد الفتح… میت… فانفروا‘‘ پر یہ حدیث ہے۔ مگر مقید ہے کہ مکہ سے آئندہ ہجرت نہ کرو۔ جیسا کہ دوسری آیتوں میں اس کی تصریح آئی ہے نہ کہ مطلق۔ یہ کہ آئندہ ہجرت ہی نہ ہوگی۔ (ترمذی ج۲ ص۵۶) پر ہے: ’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت… من اجزأ النبوۃ‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ تشریح جو بزرگان سلف نے فرمائی ہے جیسے میں بحوالہ حدیثوں کے ضمن میں بیان کرچکاہوں، اس کو مد نظر رکھا جاوے۔ (ترمذی ج۲ ص۱۲۰) پر: ’’وانا العاقب الذی لیس بعدہٗ نبی‘‘ کی حدیث ہے۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۰۷) پریہ عبارت ہے: ’’عن عمروبن مہاجر…‘‘ یہ حضرت عمرو کا خطبہ ہے۔ چونکہ اس میں ساتھ ہی قرآن شریف کا ذکر موجودہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ نبی سے شرعی نبی مراد ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص۱۲۳،۱۲۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۴۷،۴۴۸) پر ہے۔ کیونکہ اس میں آپ لکھتے ہیں: کیوں ہماری نبوۃ کا اظہارکیا۔ یہ عبارت خلیفۃ المسیح ثانی کی ہے۔ حضرت مسیح موعود کے متعلق اس لئے اس کو ایک غلطی کا ازالہ جو اس کتاب کے اندر ہے یعنی اس کتاب کے (ص۲۶۴، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۵) پر ہے: ’’اور جس جس جگہ… نہیں کیا‘‘ کی روش میں سمجھاجائے۔ اسی کتاب کے (ص۱۲۵، انوار العلوم ج۲ ص۴۴۹)پرہے: ’’لیکن اسلامی اصطلاح… پہلے عقیدہ کو ترک کردیا۔‘‘ لیکن اس عبارت سے پہلے اسلامی اصطلاح کی تشریح اور توضیح موجود ہے جس کی روشنی میں یہ عبارت دیکھی جائے اور عقیدہ سے مراد یہاں کوئی ماننے والا عقیدہ نہیں بلکہ ایک سوال بھی کیاجاتاہے… کسی اور امتی نبی کے وجود سے انکار کردیں۔ اسی کتاب کے (ص۲۳۳) پرحسب ذیل عبارت سے ظاہر ہے: ’’…اب منسوخ ہیں اوران سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘ اس کتاب کے (ص۱۴۰،۴۱ا، انوار العلوم ج۲ ص۴۶۲،۴۶۳) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’جب ایک بات ایک خاص وقت… کسی کے پاس نہیں ہے۔‘‘ اس کتاب کے (ص۸۹،۹۰، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۳،۴۲۴) پر یہ عبارت ہے: ’’کل انسانوں کے

406

کمالات… کامل انسان پر اگر اس کا خاتمہ ہوگیا۔‘‘ یہ حضرت مسیح موعودکی عبارت ہے اور اسے اس تشریح کی روشنی میں دیکھنا چاہئے جو حضرت مسیح موعود نے بیان کی ہے کہ آنحضرتﷺ پر شرعی نبوۃ اور کمالات کا خاتمہ ہوا۔ یعنی آنحضرتﷺ کے بعداب نئے کمال کالانے والا یا شریعت کا لانے والا نہیں آسکتا۔ جو آئے گا وہ آنحضرتﷺ کے کمال پیروی سے آپ کے کمالات لے کر آئے گا۔ اس کتاب کے (ص۹۱تا۹۴ لغایت۹۶، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۴تا۴۲۸) حضرت مسیح موعود کی تحریرات بھی ہیں اور بعض بعض جگہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی تشریحیں بھی ہیں۔

(حمامۃ البشریٰ ص۴۹، خزائن ج۷ ص۲۴۳،۲۴۴) پرہے: ’’وان الانبیاء… عشیرتک الاقربین‘‘ یہ کتاب باردوم احمدی انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے شائع شدہ ہے۔ اسی کتاب کے (ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰) پرہے: ’’الاتعلم ان الرب رحیم… وختم اﷲ بہ النّبیین‘‘ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شرعی نبوۃ کا خاتمہ آنحضرتﷺ پرہوگیا۔ اس کتاب کے (ص۵۳،۵۴، خزائن ج۷ ص۲۵۰،۲۵۱)پرہے: ’’وان قلت ان کتاب اﷲ… یوم الفزع الاکبر‘‘ اس عربی عبارت کو (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۴۸تا۱۵۱) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ یعنی وہ عبارتیں جو وجہ تکفیر نمبر۵ کے ضمن جواب میں، میں نے بیان کی ہیں۔ اسی کتاب کے (ص۵۵،۵۶، خزائن ج۷ ص۲۵۳،۲۵۴) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’وقد علمت… وماھذا الالجنۃ والنار‘‘ (حمامۃ البشریٰ ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲) پر یہ عبارت ہے: ’’وقد نعتقد…انہم کی الرجالین‘‘ اسی کتاب کے (ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶،۲۹۷) پر ہے: ’’ومن اعتراضات المکفرین دجالین‘‘ اور اس کے آگے: ’’وما قلت للناس… ونا فی المسلمین‘‘ مگر اس کے ساتھ کی عبارت بھی سارے صفحہ کی قابل ملاحظہ ہے۔ اسی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص۸۱،۸۲، خزائن ج۷ ص۳۰۰،۳۰۱) پر حسب ذیل عبارت ہے: ’’وانی کتبت فی بعض الکتبی… لااصل لہ اصلاً‘‘ اس صفحہ پر دوسری جگہ ہے: ’’وانی واﷲ… انما بلا ورسلہٖ… علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ اور (ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲) پرہے: ’’وقد بینت… کلمۃ الکفر… خاتم النّبیین‘‘

حقیقت النبوۃ ضمیمہ:۱ بعنوان (ایک غلطی کا ازالہ ص۲۶۶ حاشیہ، انوار العلوم ج۲ ص۶۱۳) پر یہ عبارت ہے: اور حضرت فاطمہ… موجود ہے۔ کشفی حالت میں آپ نے یہ واقعہ دیکھا ہے اور اس قسم کے واقعات صوفیائے کرام کے ساتھ ہوئے۔ مثلاً جب عبدالقادر جیلانی نے حضرت عائشہ صدیقہt کی چھاتیوں سے منہ ملایا۔ حضرت مسیح موعود کی زوجہ مطہرہ ہو، ہم حضرت ام المومنین کہتے ہیں۔ سب نبیوں کی بیویوں کو ام المومنین کہا جاتاہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں نبی کو بمنزلہ باپ بوجہ اس کی شفقت اور مہربانی کے فرمایاگیاہے۔ پہلے بزرگوں نے بھی اس امر کی تشریح کی ہے کہ ہر رسول اپنی امت کا باپ ہے۔ جب رسول باپ ہوتاہے تو لامحالہ رسول کی وہ بیویاں جو روحانی طور پر بھی ان کے ساتھ ہیں، ایمان میں وہ مومنوں کی مائیں ہوئیں۔ چنانچہ یہاں تک بھی لکھاہے کہ اس بناء پر مومن آپس میں بھائی ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابراہیمm کی زوجہ اور والدہ حضرت اسماعیلm کے لئے حضرت نبی کریمa نے صحابہ کرامi کو مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے ہیں: ’’تلک امکم یابنی ماسماء‘‘ کہ وہ تمہاری ماں ہے اے صحابہ کرام اور صحابہ کرام مومن ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں اور یہ تصریح اس امر میں کہ حضرت ابراہیم کی اہلیہ والدہ اسماعیلm مومنوں کی ماں ہیں۔ بلکہ حکم یہ نکلا کہ تم نبیوں کی بیویوں کو ام المومنین کہا کرو۔ (سوال یہ تھا کہ لفظ ام المومنین کا استعمال سوائے ازواج مطہرات حضورﷺ کے کسی اور نبی کی زوجہ مطہرہ کے لئے ہوا۔ جس کا جواب گواہ نے وہی دیاہے جو اوپردرج کیاجاچکاہے)

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) پر یہ عبارت ہے: ’’لیکن جو حدیث… قبول کرنے کے لائق ہے۔‘‘ اس عبارت

407

میں جرح کا لفظ آیاہے کہ جرح سے خالی ہو۔ اس جرح سے وہی جرح مراد ہوسکتی ہے جس کی حضرت مسیح موعود خود تصریح فرمائیں۔ یعنی تمام محدثین کی بالاتفاق جرح سے میں سے جوکچھ حضرت صاحب کی کلام سے سمجھا ہے۔ ا س کے مطابق میں نے عرض کیاہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب میںاحادیث کے صحیح اورمجروح ہونے کے بارے میں متعدد دفعہ بحث فرمائی ہے۔ سب سے بڑااصول آپ نے بھی فرمایاہے کہ قرآن شریف کے معارض اور مقابل نہ ہو۔ پھر یہ اصول بھی آپ نے بیان فرمایاہے کہ صحیح حدیثوں کے وہ خلاف نہ ہو اور اس کتاب میں یہ اصول بھی ہے کہ بعض حدیثیں جن کو بعض امام ضعیف قرار دیتے ہیں۔ وہ دوسرے بزرگوں کے نزدیک قوی ہوتی ہیں۔

(ایام الصلح دوم ص۷۴، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸،۳۰۹) پریہ عبارت ہے: ’’اﷲتعالیٰ فرماتاہے… دروازہ بند نہیں ہے۔‘‘ یہ عبارت (ایک غلطی کا ازالہ مندرجہ حقیقت النبوۃ ص۲۶۴، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۵) ابتداء ہے: ’’ جس جس جگہ… اورانکار نہیں کیا۔‘‘ کی روشنی میں قابل ملاحظہ ہے۔ اس کتاب کے (ص۴۶) پرہے: ’’پھر میں اصل کلام… نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘ یہ بھی مذکورہ بالا عبارت کی روشنی میں دیکھا جاوے۔

(حقیقت الوحی ص۱۰۹) پر یہ عبارت ہے: ’’ہاں! جو شخص… مرتد ہوئے۔‘‘ (شفاقاضی عیاض ص۲۴۶،۲۴۷) پر یہ عبارت ہے: ’’کذالک فی الادعا… اجماعاً وسمعاً‘‘ اور (ص۲۴۸) ’’وکذالک نکفر…‘‘ خبرواحدپر بھی یہ عبارت ہے۔ پہلی عبارت پہلے شرح شفاء کے حوالہ سے پیش کی جاچکی ہے اور جس کا میں مفصل جواب اپنے بیان میں وجہ تکفیر:۱ شق ساتویں شق سابع میں لکھواچکاہوں۔ اسی کتاب کے (ص۲۶۶)پر ہے: ’’وسب اہل بیتہ… مااذاھا‘‘ اس کے ساتھ میں یہ الفاظ ہیں: ’’وقد اختلف العلماء فی ھذا‘‘ (شرح شفا ملا علی قاری ص۵۰۷تا۵۰۹) ’’اومن الادعا نبوۃ… کفریم‘‘ بلامرتبہ میں اس عبارت کے ماقبل اور مابعد کو لے کر اس کا مفصل جواب وجہ تکفیر:۱ میں شق سابع کے عنوان سے دوتین جوابوں میں بیان کرچکاہوں۔

(ترمذی شریف ص۱۳۳) ’’من قال فی القرآن… حسن صحیح‘‘ اور ’’اتقو الاحدیث… حدیث حسن‘‘ پر یہ دونوں حدیثیں ہیں جن میں سے ایک میں بغیر علم کا لفظ ہے اور دوسری میں رائے کا لفظ ہے۔ یعنی بغیر کسی سند کے جوا سے عربی زبان سے حاصل ہو یا حدیث شریف سے حاصل ہو۔ جو قرآن کے مطابق ہو۔ جواز خود تفسیر کرے وہ مراد ہے۔ اس کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۴۶۶،۴۶۷، خزائن ج۳ ص۳۵۰) پرہے: ’’اور سچ تو یہ ہے… تفسیر بالرائے ہوگی۔‘‘ ا س کے اندر مروجہ اور مصطلحہ الفاظ بھی ہیں جوخاص طور پر قابل لحاظ ہیں۔ کیونکہ عربی زبان کے لحاظ سے مروجہ اور مصطلحہ ہیں۔ نہ کسی کے انسان کے خود ساختہ ہیں۔ اسی کتاب (ازالہ اوہام ص۵۴۰،۵۴۱، خزائن ج۳ ص۳۹۰) پر یہ الفاظ ہیں: ’’کیونکہ یہ مسلمہ ہے کہ ان لنصوض یحمل عن ظواہر‘‘ اور ماقبل اور مابعد بھی دیکھنے کے قابل ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر یہ الفاظ ہیں: ’’اور ابن جریر بھی جو رئیس المفسرین ہے… مراد یہ کہ سمجھا جاتاہے نہ یہ کہ اس کی ہر تفسیر مصمم اور قول مسلمہ ہونے کے لحاظ سے کیونکہ اماموں میں سے بعض نے ایسا لکھاہے۔‘‘ اسی کتاب کے (ص۱۰۶، خزائن ج۵ ص ایضاً) پر یہ الفاظ ہیں: ’’اور اس کی تائید میں ابن جریر اور ابن کثیر نے یہ حدیث بھی لکھی ہے۔ حضرت شیخ اکبر کی اپنی کتب میں سے مجھے ان الفاظ کا اس وقت استحضار نہیں ہے کہ: ’’نحن قوم یحرم النظرفی کتبنا‘‘ فتوحات مکیہ اورفصوص الحکم لفظ بلفظ اوّل سے آخرتک مجھے پڑھنے کا موقعہ نہیں ہوا۔ جو صوفی اپنی خاص تحریر میں اس امر کی تصریح کردے کہ اس پر جذب کی حالت طاری ہوتی ہے اور جذب کی حالت کے نکلے ہوئے الفاظ کی وہ خود تشریح کردے تو تسلیم کیاجائے گا کہ ان پر جذب کی حالت ہوئی اور ان کے منہ سے بعض الفاظ بھی نکلے۔ لیکن اگر وہ تصریح نہ کرے تو بعض صوفیاء کے جذب کی حالت سے کل پر نہیں حکم لگایاجاسکتا۔ اگر حضرت منصور نے اناالحق

408

کہاہے اوران کی اپنی کسی کتاب میں یہ موجودہے کہ میں اناالحق کہتاہوں توپھر ان کی کتاب دیکھی جائے کہ انہوں نے کیا تصریح فرمائی ہے۔ میں صوفیائے کرام کی بیان کردہ باتوں کو شریعت کے مطابق سمجھتاہوں۔ میری نظر سے کسی صوفی کی کوئی ایسی تحریر نہیں گزری اور جس کو میں صوفی مانتاہوں کہ جو میرے نزدیک خلاف شرع ہو۔ خواجہ غلام فرید صاحب کی زندگی کے حالات اوّل سے لے کر آخر تک مجھے مطالعہ کرنے کا موقعہ نہیں ہوا۔ مجھے حضرت خواجہ صاحب کے ’’اشارات فریدی‘‘ حصہ اول دوم،حصہ سوم کو دیکھنے کا موقعہ ملاہے۔ میں حضرت خواجہ صاحب کو ’’خدیاد‘‘ خدا کا عاشق سمجھتاہوں اور صوفیائے کرام کے متعلق میں یہی سمجھتاہوں کہ وہ خداتعالیٰ کے قرب میں پہنچے ہوئے ہیں۔ سچے عاشق ہیں اور اﷲتعالیٰ ان کو کسی حد تک غیب سے بھی اطلاع الہام سے بھی مشرف فرمائے اور ان کو لوگوں کے لئے ان کی زندگی کے لحاظ سے ایسا بنائے کہ وہ لوگ ان سے نیک باتیں سیکھ سکیں اور خداتعالیٰ کی طرف توجہ کر سکیں۔ انہی میں مختلف درجے ہوتے ہیں۔ میں خواجہ صاحب کو ان میں سے سمجھتاہوں۔ ان کی پہلی زندگی کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ اس وقت کے بعد ہے جب سے ان کا تعلق حضرت مسیح موعود سے ہوا۔ اگرکوئی خداتعالیٰ کا سچا نبی تصریح کردے کہ مجھ پر بھی جذب کی حالت طاری ہوئی ہے۔خواہ وہ جذب کالفظ بولے یا نہ بولے۔ اپنے کسی کشف کو ایسی طرز پر بیان کرے کہ اس کی صداقت میں کسی قسم کا اعتراض نہ ہوتو اس نبی کے متعلق یہی مان لیاجائے گا کہ اسے ایسی حالت طاری ہوئی۔ یہ لازمی بات ہے کہ انبیاء کے حالات اعلیٰ درجہ کے صوفیوں کے حالات سے بھی برتر اوراعلیٰ ہوتے ہیں۔ ہاں! کسی حد تک انبیاء کی باتوں یاان کے رؤیا اورکشوف کو سمجھنے میں صوفیائے کرام کی تصریحات اور ان کے حالات ممدہوتے ہیں۔ عقائد میں قطعیات کا اظہار ہے ظنیات کا نہیں۔ قطعی چیز میرے نزدیک قرآن شریف ہے اور ہر وہ حدیث جوقرآن شریف کی تائید وتصدیق کی رو سے قطعیت کا مرتبہ حاصل ہو یا مسیح موعود کی وحی کہ وہ قرآن شریف کی تائید اور تصدیق کی رو سے قطعیت کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ ان کے سواء اعتقادات کے بارہ میں وہی قطعی ہے جسے ان کی تائید حاصل ہو۔ ورنہ اورکوئی نہیں۔ میرا ایمان ہے کہ انبیاء کرام کو علوم دین جوان کو خداتعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتے ہیں، ذات کے متعلق ہیں اور وہ امور جو نیکی اور تقویٰ کے ساتھ بلحاظ عملیات کے تعلق رکھتے ہیں جوخداتعالیٰ کے حکم سے وہ بجالاتے ہیں، ان میں دوسرے لوگوں سے وہ برتر اور اعلیٰ ہوتے ہیں۔ انبیاء کے جو اخلاق ہوتے ہیں وہی اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں اور دوسروں لوگوں سے افضل ہوتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو کوئی بات کہے، خواہ وہ اﷲتعالیٰ کے متعلق ہو،خواہ رسول اﷲa کی ذات بابرکات کے متعلق ہو، خواہ کسی اورنبی کی شریعت کے متعلق ہو، خواہ کسی اور شخص کے متعلق ہویااپنی ذات کے متعلق ہو۔ اس بات کا مطلب وہ خودہی اچھی طرح پربیان کرسکتاہے اور اس کے اپنے بیان کروہ مطلب کی روشنی میں ہی اس کلام کو دیکھا جائے گا اور اس کی تاویل اور تشریح مان لی جائے گی جو تاویل اس قائل نے اپنی کلام کی خود کی۔ اس قائل کے پیروتوبہرحال اس کو مانیں گے۔ اس کے مخالف کو بھی اعتراض کرتے وقت اس تاویل کو مدنظر رکھ کر اس کلام کے معنی کرنے پڑیں گے۔ کسی شخص کی کلام کی کوئی تاویل اگر اس کا کوئی نہایت ہی سچا، مخلص، معتقد بہ دلائل طور پر بیان کرتاہے توبشرطیکہ اس متکلم کی دیگر تصریحات کے خلاف نہ ہو۔ اس سچے معتقد کی تعظیم کرنے والے بہرحال اس کی تاویل کو سرآنکھوں پر رکھیں گے۔

اہل سنت والجماعت کی عقائد کی کتاب میرے خیال میں قرآن شریف ہے جوخداتعالیٰ کی قطعی اور پاک کتاب ہے۔ چونکہ عقائد میں قطعیت کا اعتبار ہے اور’’من کل الوجوہ‘‘ قطعی چیز صرف قرآن شریف ہی ہے۔ اس لئے قرآن شریف اعتقادات کے لحاظ سے مسلمہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ میرے نزدیک اورکوئی کتاب ساری کی ساری قطعی نہیں ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص۹۲، انوار العلوم ج۲ ص۴۲۵) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’اورخداتعالیٰ جانتاہے… خارج سمجھتاہوں۔‘‘ وہ شخص

409

جو اقرارکرتاہے کہ میں قرآن شریف کی بیان کردہ یارسول مقبولa کی صحیح، مرفوع، متصل حدیثوں کی بیان کردہ کوائف حشراجساد وقیامت کومانتاہوں، اس رنگ میں جوخداتعالیٰ کی ذات بابرکات کے تقدس کے خلاف نہیں ہیں بلکہ مطابق ہیں۔ ہاں! لوگوں کے خیالات کو نہیں مانتا یایہ کہ میں ایسی باتوں کو نہیں مانتا جن کے ماننے سے خداتعالیٰ کے تقدس یا تنزہ پر اعتراض پڑتاہے اور وہ یہ تصریح کردیتاہے کہ جوکچھ خدانے قرآن میں بیان فرمایا اور رسول مقبولa نے بیان فرمایا تو وہ شخص سچا مسلمان ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی تمام کتابوں میں ہمیشہ یہی تصریح فرمائی ہے اوّل سے اخیرتک کہ خداتعالیٰ نے آپ کو حضرت نبی کریمa کی اتباع اور ماتحتی میں مکالمہ ومخاطبہ اور کثرت اظہارغیب سے مشرف فرمایاہے اور دنیا کی اصطلاح کے لئے مامورومبعوث فرمایاہے۔ حقیقت کے لحاظ سے شروع سے لے کر اخیرتک یہی رہاہے۔ یعنی اظہارعلی الغیب سے مشرف ہونا۔ اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لحاظ سے الفاظ جو آپ نے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائے ہیں وہ متعدد ہیں۔ آپ نے اپنے آپ کومجدد بھی فرمایاہے۔ یعنی آپ دین اسلام کی تجدید فرمانے والے ہیں۔ جیسا حدیث میں بیان فرمایاگیاہے، آپ نے اپنے آپ کو محدث بھی فرمایاہے۔ یعنی مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ۔ آپ نے اپنے آپ کو امام زمان بھی فرمایاہے۔ یعنی خداتعالیٰ کی طرف سے موجودہ زمانہ کاامام۔ آپ نے حدیث کی پیش گوئیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مہدی یاحدیث کے الفاظ کوہی مدنظر رکھتے ہوئے تمثیلاً مسیح موعود یاحدیث کی تصریح کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مسیح موعود نبی ہوگا۔ نبی بھی اپنے آپ کو فرمایاہے اور حقیقت ماموریت اوّل سے لے کر اخیرتک ایک ہی رہی ہے۔

کتاب (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) پر حسب ذیل عبارت ہے: اس عاجز نے جو مثل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر لے جاتے ہیں۔ مگراس کے ساتھ یہ الفاظ ہیں: یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سناگیا۔ بلکہ یہی پرانا الہام ہے جو میں نے خداتعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بالتصریح درج کر دیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرگیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص… اشد مشابہت ہے۔ اس کتاب کے (ص۱۹۹تا۲۰۱، خزائن ج۳ ص۱۹۷،۱۹۸) پرحسب ذیل عبارت میں نے صرف مثل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ اس کے بعد کی عبارت اگلے صفحہ تک خاص طور پرقابل غور ہے اور اسی بحث میں دیگر عبارتیں ازالہ اوہام کے اندرجواخیرتک آچکی ہیں جن کی سرخی یہ ہے کہ مسیح موعود ہونے کا ثبوت (ص۶۶۵، خزائن ج۳ ص۴۵۹) وہ بھی قابل لحاظ ہیں۔

سن کرتسلیم کیا۔ محمداکبر!

فریقین اوران کے مختاران حاضر ہیں … ۲۹؍مارچ۱۹۳۳ء

تتمہ بیان غلام احمدمجاہد باقرارصالح

(مشکوٰۃص۲۲) ’’اتبعوا السواد الاعظم فانہ من شذشرفی النار‘‘ کی حدیث ہے اور ’’ان بنی اسرائیل… الادخلہ‘‘ کی حدیث یہی ہے۔ ہر یہ دونوں حدیثیں ایک ہی جگہ ہیں۔ ان دونوں کو مطابق کر کے معنی لئے جائیں گے۔ دوسری حدیث میں الجماعت کا تلفظ جس کی تشریح خود نبی کریمa نے بخاری میں فرمادی کہ جماعت وہ ہے جس کا واجب الاطاعت امام ہو۔ اسے بھی مدنظررکھاجاوے۔ (مشکوٰۃ ص۲۳) پراحادیث ذیل: ’’ان الشیطان ذئب الانسان… باوالجماعۃ… (۲)من فارق الجماعت…عنقہ… (۳)ترکت فیکم… سنۃ رسولہ‘‘ ہیں۔ تیسری حدیث ہی پیش کی گئی ہے وہ تصریح کرتی ہے کہ قرآن شریف کو مقدم کرنے اور معیار صحت قراردیناضروری ہے۔ (مشکوٰۃ شریف ص۲۱،۲۲) پرحسب ذیل احادیث ہیں: ’’صلی بنا رسول

410

اﷲa ذات یوم… کل بدعت ضلالۃ کی حدیث ہے اور اس میں بدعت کا لفظ ہے جو اس امر پر دلالت کرتاہے کہ قرآن شریف سے اور قرآن شریف کی تصدیق یافتہ احادیث کے خلاف کوئی معنی یااجتہاد کیاجائے۔ (مشکوٰۃص۲۰) ’’یکون فی آخرالزمان… لایقنئونکم‘‘ حدیث ہے۔ (ص۲۴) ’’رضینا باﷲ ربا… لاتبعتی‘‘ کی حدیث ہے۔ (ص۲۴) ’’من کذب علی معتمداً فلیتبوا مقعدہ من النار…‘‘ کی حدیث ہے۔ (ص۵۷۶) ’’ولا یزال… حتی تقوموالساعۃ‘‘ کی حدیث ہے۔ ا س حدیث کا شروع ’’اذا اقسہ اہل الشام‘‘ (ص۵۷۵) ’’لایزال من امتی امۃ… حتی یأتی امراﷲ وھم علٰی ذلک‘‘ کے الفاظ ہیں۔ کسی عربی عبارت کے متعلق یہ کہنا کہ یہ حدیث ہے، وہ اس صورت میں عمومیت کے لحاظ سے کہاجاتاہے کہ پہلے لوگوں نے اس عربی فقرہ کو نبی کریمa کا فرمودہ قراردیاہے۔ رہایہ امر کہ وہ حقیقتاً یہی آپa کا فرمودہ ہے، اس کے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ کیونکہ متعدد فقرات نبی کریمa کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ مگر انہیں نقادین حدیث نے یاصوفیائے کرام نے یااورلوگوں نے حدیث قرارنہیں دیا، بلکہ ان کو وضعی قراردیاہے اوروضعی قراردینے میں مختلف اصول ہیں جن کی بناپرکہاجاتاہے کہ یہ حقیقتاً حدیث رسولﷺ ہے یانہیں، میرے نزدیک ہر وہ عربی فقرہ جسے کہاجائے گا کہ یہ حدیث رسول ہے۔ اگر وہ اپنے معانی کے لحاظ سے قرآن شریف کے ساتھ مطابقت رکھتاہے اور مخالف نہیں ہے، اسے لوگ ضعیف ہی قراردیں۔ میرے نزدیک وہ حدیث کہلائے گا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا اور ہر وہ فارسی اور اردو فقرہ بھی یاکسی اورزبان کا فقرہ جس کے متعلق کہاجائے کہ یہ حضور کا فرمایاہواہے اور مراد کہنے والے کی خواہ وہ اصل الفاظ ہوں یاان کے معنی میں مراد عربی الفاظ ہوں تو وہ بھی اس صورت میں حدیث کہلائے گا۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیاہے۔ بعض بزرگوں نے لکھاہے کہ رسول اﷲa کو فارسی میں بھی الہام ہوئے۔ اس وقت مجھے ان کانام مستحضرہ نہیں۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس عبارت کوبیان کرنے والا کس کے نزدیک بزرگ ہے اور کس کے نزدیک بزرگ نہیں۔ اگر وہ بزرگ ہوگا تو سونے پرسہاگہ سمجھا جائے گا۔

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۱۱، خزائن ج۲۳ ص۳۸۲) پرحسب ذیل الفاظ ہیں: ’’اور آپ سے پوچھاگیا… چہ کنم‘‘ اور (ص۱۰، خزائن ج۲۳ ص۳۸۲) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’ایک مرتبہ آنحضرتﷺ سے… کنیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔‘‘ لیکن اس کے ماقبل اور مابعد کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۴۲، خزائن ج۱۷ ص۱۵۷،۱۵۸) پر یہ الفاظ ہیں: ’’یاد رہے کہ یہ شبہات کہ کیوں صحاح ستہ کی… ناپناچاہئے تھا۔‘‘ اس کا ماقبل اور ما بعد بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ (ص۴۴، خزائن ج۱۷ ص۱۶۰) ’’سچے مسیح اور مہدی… فتویٰ دیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ بھی ماقبل اور مابعد کی عبارت دیکھی جاوے۔ (براہین احمدیہ حصہ اوّل ص۱۰، خزائن ج۱ ص۱۹) دیباچہ پر یہ اشعار ہیں ؎

  1. ختم شد برنفس پاکش ہرکمال لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے

    آفتاب ہرزمین وہرزمان راہبرے ہراسود وہراحمرے

اس کے ساتھ ساری نظم دیکھنے کے قابل ہے۔ (ص۱۲، خزائن ج۱ ص۲۰)

آں ہمہ ازیک صدف صدگوہراند … اوّل آدم آخرشاں احمداست … اے خنک آنکس کہ بیند آخرے

کے اشعار ہیں۔ اس ایک نظم کا سلسلہ ہیں اورساری نظم قابل ملاحظہ ہے۔ (ص۱۶، ۱۷، خزائن ج۱ ص۲۳،۲۴) دیباچہ پر: ’’امابعد!… سچے دین کی ہدایت دے کر…‘‘ عبارت ہے۔ براہین احمدیہ حصہ دوم اشتہار ثانی کا (ص ب، خزائن ج۱ ص۶۲) پرحسب ذیل عبارت ہے: ’’ہم نے صدہاطرح کا فتوراورفساد دیکھ کر… واﷲ خیرو ابقی‘‘ اس طرح (براہین احمدیہ حصہ سوم، خزائن ج۱ ص۱۳۴،۱۳۵) اشتہار مسلمانوں کی حالت اوراسلام کی غربت میں حسب ذیل عبارت ہے: اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے… تین سو جزوں تک

411

پہنچ گئی ہے۔ (ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پرحسب ذیل عبارت ہے: کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم… کیایہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔ (ازالہ اوہام ص۵۴۴، خزائن ج۳ ص۳۹۳) پر یہ عبارت ہے: اور یہ بات ہم تین مرتبہ لکھ چکے ہیں… دونوں صورتیں ممتع ہیں۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳۰، خزائن ج۱۷ ص۸۱ طبع دوم) پرحسب ذیل عبارت ہے: عربی زبا ن میں ایک خط… ’’فی ہذالایام‘‘ لیکن اس کے متعلق تشریح وہی مدنظر رکھی جائے گی جو اس عبارت کے ماقبل اورمابعد میں اور دیگر کتابوں میں مرزا صاحب نے بیان کی ہے۔ (بخاری ج۲ ص۶۶طبع ہند) پرجو یہ عبارت ہے: ’’ان عائشہ… خیر‘‘ کی حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہt سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا رسول مقبولa سے آپ فرماتے تھے۔ نہیں کوئی نبی بیمار ہوتا۔ مگر اسے اختیار دیاجاتاہے دنیا اورآخرت میں اورآپ اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کو کھانسی ہوئی تو میں نے سنا کہ آپ نے یہ فرمایاان لوگوں سے جن پرانعام کیا اﷲتعالیٰ نے یعنی نبیوں میں سے اور صدیقوں میں سے اور شہداء میں سے اور صالحین میں سے۔ پس میں نے جان لیا کہ آپa کو یہی اختیار دیاگیاہے۔

(مشکوٰۃص۲۳۵) پر یہ حدیث: ’’التاجر الصدوق الامین… الشہداء‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ غریب کا لفظ بھی لکھاہواہے۔ (تفسیرابن جریرج۲۲ ص۱۲) پر یہ عبارت ہے: ’’ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین… اخرہٗ منک‘‘ اس میں النبوۃ کا الؔ خاص طور پر قابل لحاظ ہے۔ یعنی شرعی نبوت۔ (بخاری ج۱ ص۳۶۰) ’’سمعت عمر ابن الخطاب… من اعمالکم‘‘ کی عبارت ہے۔ اس میں الوحی کا لفظ خصوصیت سے قابل لحاظ ہے جو شرعی وحی کو مختص ہے۔ (مشکوٰۃ ص۵۵۶) پرہے: ’’فقلت یاخلیفۃ… اناحی‘‘ اس میں تم الدین کے الفاظ خاص طور پرقابل غور ہیں جو شرعی وحی کے انقطع کو چاہتے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۴۲۰، خزائن ج۵ ص ایضاً) پریہ عبارت ہے: ’’ان اﷲ… وامام الوریٰ‘‘ مرزا صاحب نے اس میں تصریح کی ہے کہ وحی وحی رسالت شرعیہ ہے۔ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۹) پر یہ عبارت ہے: ’’فان قلتہ وفی من الدھا… حشرمع الانبیاء‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۸) پر یہ عبارت ہے: ’’وفی حضرت الخیال… نبوۃ بلاشق‘‘ اور اس کے ساتھ یہ عبارت بھی ہے: ’’کذالک اسم نبی… من السماء‘‘ اورآگے یہ عبارت بھی ہے: ’’وھذا کلمہٗ اذاکان… ھوالوحی‘‘ اس جلد کے (ص۲۵۳) پرہے: ’’فی النبوۃ والرسالت… ولالاولیاء اﷲ لیلۃ وردت اقید ھذا لباب… فالقی الیمنٰی‘‘ اس کتاب کے (ص۲۵۲) پرہے: ’’ان الرسالت والنبوۃ… وازالا علیہم‘‘ اسی کتاب کے (ص۲۵۴) پرہے: ’’وھذہ النبوۃ… اھل‘‘ کی عبارت بھی ہے۔ مگر اس کے ساتھ کا اگلاباب خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے۔ (فتوحات مکیہ ج۳ ص۲۳۸) ’’واعلم… لاالوحی ھذہ الامت‘‘ کی عبارت ہے۔ (فتوحات مکیہ ج۱ ص۱۵۷) ’’لان الشیطان ممن عالم سفلی… وان جأنا من… مالا تعلم… والرسالت… قد اوحی الیک‘‘ کی عبارات ہیں۔ ’’خلفتہ…‘‘ (یواقیت ج۲ ص۳۷) ’’المحبت خاص والا الشا لاشمون… کما انہ خاتم النّبیین‘‘ کی عبارات ہیں۔ (مکتوبات امام ربانی حصہ سوم دفتر اوّل مکتوب ۲۰۷ ص۹۹،۱۰۰) پر’’کار دین است وغیرایں ہماں ہیچ… نہ امردیگر ورائے آں کی عبارت ہے۔ (حصہ دوم دفتراوّل ص۴) ’’وفرق دیگردرمیان ایں علوم آنست… پس خطارا دراں موطن جمالی پیدا شد‘‘ کی عبارت ہے۔

(حقیقت النبوۃ ٹائٹل ص ب، د،ج) پریہ الفاظ: ’’حضرت مولانا… پکڑو ا وہ گمراہی نکل آئی‘‘ کی عبارت ہے۔ اس کے ساتھ اس کے ماقبل اور مابعد کی عبارت دیکھی جاوے۔ حضرت مسیح موعود نے مہدی کی پیش گوئی والی حدیثوں کے متعلق کہ جن کو دنیا حدیث کہہ کر بیان کرتی

412

ہے۔ مفصل بحث اپنی کتابوں میں تحریر فرمائی ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود نے اپنی کسی کتاب میں یہ فرمایاہے کہ مسلمانوں کی بیان کردہ کوئی ایسی عربی عبارت جس کو وہ حدیث قرار دیتے ہوں… سے یہ نکلتاہے۔ مفسرین کے خیال میں کہ کوئی ایسا مہدی آئے گا جو حضرت فاطمہt کی عترت سے ہو گا اور اس بیان کردہ حدیث کے متعلق اگر حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا ہے کہ لوگوں کے بیان کردہ معنی مجھ پر صادر نہیں آتے تو ان کی ہی بیان کردہ تشریح دیگر تشریحات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے اس قسم کا مفہوم مسلم ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۵، خزائن ج۲۱ ص۳۵۶ طبع دوم۱۹۲۴ء) پریہ الفاظ ہیں: ’’میرا یہ دعویٰ نہیں… ایسا افتراء نہیں ہوا۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰) پرہے: ’’بلکہ نبوت کا دعویٰ نہیں محدثیت کا دعویٰ ہے۔‘‘ مگر اس کے مابعدکی تشریح اور وہ تشریح جو اپنی نبوت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود نے بیان فرمائی ہے کہ جس میں جگہ… انکار میں کیا قابل ملاحظہ ہے۔ (مرقات ج۱۰ ص۱۹۰) پر: ’’یاتونا لکم من الاحادیث… ولا اباؤکم… والاعتقادات فاسدہ…‘‘ (ص۲۰۵) پر: ’’الردوماعلیہ اکثر المسلمین‘‘ کی عبارات ہیں۔ (شامی ج۳ ص۲۹۴) ’’والتحریم المنظر من الکتب‘‘ کی عبارت ہے۔

(غنیۃ الطالبین ص۱۹۴) پر: ’’لاتسبوا اصحابی… فلاحلہ‘‘ کی عبارت ہے۔ میں نے کتابوں کے مسلمہ ہونے کے متعلق اپنا اصول پہلے بیان کردیاہے۔ کتاب تذکرۃ الاولیاء اس اصول کے تحت ہے۔ نواب صدیق حسن خان ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے اور ہماری جماعت بننے سے پہلے وہ فوت ہوچکے ہیں۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۴) مگر ہم اس جگہ… صحیح ہے کی عبارت ہے۔ (تحفہ کبریہ ص۱) پر: ’’یہ عریضہ مبارک بادی اس شخص کی طرف سے… سچائی قائم کرے…‘‘ کی عبارت ہے۔ مگر ان دونوں عبارتوں میں اصل یسوع مراد ہے نہ کہ فرضی۔ (راز حقیقت۱۵حاشیہ، خزائن ج۱۴ ص۱۶۷) ’’وہ نبی… تغیر نہیں ہے‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اس کتاب کے (ص۱۹، خزائن ج۱۴ ص۱۷۱) پرحضرت عیسیٰؑ… محلہ خانیار میں ہے‘‘ کی عبارت ہے۔ (تبلیغ الحق مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴) پر ’’واضح ہو… الفاظ کہہ دے ہیں‘‘ کی عبارت ہے۔ یہ مرزا صاحب کی کتاب ہے۔ (ضمیمہ تریاق القلوب ص ب،ج، خزائن ج۱۵ ص۴۹۰،۴۹۱) پر ’’اورمیں اس بات کا بھی اقراری ہوں… خداتعالیٰ کے الہام نے‘‘ کی عبارت ہے۔ یہ ایک اشتہار ہے جو تریاق القلوب کے ساتھ منسلک ہے اور یہ بھی مرزا صاحب کا ہے۔ یہ کتاب طبع دوم کی ہے اور عبارت پیش کردہ کے ساتھ اس کتاب کے (ص۱۸۱ حاشیہ) کی عبارت خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے۔ آیت: ’’ذالک جزاء ھم… الخ! (کہف:۱۰۶)‘‘ یہ آیت سورہ کہف کے آخری رکوع میں سے درمیانی ہے۔ اس رکوع کے شروع میں بھی ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے خداتعالیٰ کا بیٹا بنایا۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’یہ بدلہ ہے ان کا جہنم بسبب اس کے کہ انہوں نے انکارکیااور ہنسی کا ذریعہ بنالیا میری آیتوں کو اورمیرے رسولوں کو۔‘‘ سورہ توبہ کی آیت ذیل: ’’قل اباﷲ وآیاتہ… الخ! (توبہ:۶۵)‘‘ ہدایت الفاظ ذیل سے شروع ہوتی ہے: ’’ولئن سالتھم‘‘ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اور اگر توان سے پوچھے تو وہ کہہ دیںگے کہ وہ ہم تو صرف تمہیں مخول کی باتیں کرتے تھے اور کھیل کرتے تھے۔ یعنی خدا کی آیتوں کے ساتھ کہہ دو کیا اﷲتعالیٰ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول عربیa کے ساتھ تم ہنسی، مخول کرتے ہو۔ نہیں معذرت کرتے۔ تحقیق تم منکر ہوگئے۔ اپنے ایمان کا اظہار کرنے کے بعد اگر ہم معاف کر دیں تم میں سے کسی گروہ کو تو سزا دیں گے۔ ہم کسی دوسرے گروہ کو اس لئے کہ انہوں نے ہم سے قطع تعلق کر لیا۔ (الصارم المسلول ص۱۹۵،۱۹۶) پر: ’’درواصربٌ… والاقتل‘‘ کی عبارت ہے اور یہ صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ صحیح حدیثوں اور قرآن شریف کی تصریح کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بڑے بڑے گناہ کی بھی توبہ کی جاسکتی ہے اور خداتعالیٰ تواب ہے اور توبہ قبول کرتاہے۔ انبیاء کی توہین

413

کرنے والا بہرحال نہ ماننے والاہوگا اورنبیوں کے نہ ماننے والے شخص اگر بعد میں توبہ کریں تو ان کی توبہ اﷲتعالیٰ قبول کرتاہے۔ چنانچہ نبیوں کے سردارحضرت نبی کریمa کے نہ ماننے والے سخت مقابلہ کرنے والے ہر طرح کا دکھ دینے والے بعد میں تائب ہوکر صحابہ بن گئے۔ مخلص موتی بن گئے۔ میں نے اپنے بیان میں جو یہ الفاظ کہے ہیں۔ لیکن دیوبندی مولویوں نے… الزام لگادیا۔ یہ میرے اپنے ہیں۔ اس میں جو قبول کا لفظ ہے اس سے وہ تشریح مرادہے جومولوی محمد منظور صاحب سنبھلی نے اپنے ایک رسالہ میں ان اعتراضات کے جواب میں کی ہے جو دیوبندیوں پر کئے جاتے ہیں۔ مولوی منظور صاحب نے دیوبندیوں کی طرف سے مدافعت کردی ہے اور ان عقائد کی یا ان فقرات کی جو دیوبندیوں کے بزرگوں کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں، دیوبندیوں پر اعتراض کرنے والے شخص کے جواب میں کہتے ہیں۔ اس لئے میں یہ سمجھتاہوں کہ وہ دیوبندی ہیں۔ میں نے ’’سیف یمانی‘‘ کو اوّل سے آخر تک دیکھا ہے۔ جوکتاب مجھے اب دکھلائی گئی ہے وہ وہی سیف یمانی معلوم ہوتی ہے۔ جوکتاب میرے سامنے پیش کی گئی ہے۔ اس کے لئے ٹائٹل پیج پر شروع میں ’’ان اﷲ‘‘ کا لفظ ہے اور آخر پر ’’شائع کی‘‘ کا لفظ ہے۔ اس کے درمیان دوموٹی سطریں ہیں جن کا شروع قطع الوتین سے اور خوان تک اختتام ہے۔ یہ کتاب میری نظر سے نہیں گزری۔ میں نے حفظ الایمان، بسط البنان،تفسیر العنوان کے عنوان کے تین پراسپیکٹ کو دیکھا ہے۔ ان کے آخر کے معلوم ہوتاہے کہ یہ مولوی اشرف علی صاحب کی کتابیں ہیں۔ میں نے انہیں نہیں پڑھا ہوا۔

کتاب ’’التصدیقات المہند‘‘ کو میں نے دیکھاہے۔ اس کے (ص۲۴) پر خلیل احمد صاحب کانام موجود ہے کہ انہوں نے لکھا: میں نے کتاب ’’غائت المامول‘‘ کو نہیں دیکھا۔ میں نے مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند کی طرف منسوب شدہ جوکتاب ’’تحذیر الناس‘‘ ہے، اسے پڑھاہے۔ اس کے (ص۳) پر حسب ذیل: ’’بلکہ میں نے خاتمیت… ہوجاتی ہے۔‘‘ کی عبارت ہے۔ اسی کتاب کی اس سے پہلی عبارت جس کا شروع یہ ہے: ’’اوّل معنی خاتم النّبیین… صحیح ہوسکتاہے۔‘‘ اور اسی کتاب کی (ص۲۸) کی عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے۔ اسی کتاب کے (ص۱۰) پر: ’’سو اگر اطلاق… ہاتھ سے نہیں جاتی‘‘ کی عبارت ہے۔ مگر ساتھ ہی (ص۲۸) کی عبارت: ’’بلکہ اگر بالفرض… کچھ فرق نہ آئے گا‘‘ کی تصریح بھی قابل ملاحظہ ہے۔

مجھے معلوم نہیں کہ اسی کتاب کی مولانا محمد قاسم صاحب نے خود کوئی شرح کی ہو۔ کتاب’’آخری نبی‘‘ مولوی محمدعلی صاحب لاہوری کی طرف منسوب ہے اور وہ ہمارے نظام میں نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ ہم میں اوران میں اصولی اختلاف ہے۔ میں نے اپنے بیان میں مرزا صاحب کو جو یہ شعر بیان کیاہے۔ ’’درمشائخ… خنزیر‘‘ اس سے وہی لوگ مراد ہیں۔ میرے خیال میں جو نبی کریمa کی بیان فرمودہ تصریحات کے مصداق ہوچکے ہیں۔ نبی کریمa نے فرمایاہے کہ امت محمدیہ بگڑتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ مختلف(علاقوں) علامتوں کے بعد فرمایا: ’’علماء شر… السماء‘‘ کہ اس وقت مسلمانوں کے علماء آسمان کے نیچے ہر ایک چیز سے بدترین ہوں گے جس طرح پر میں نے ایمان اور اسلام کی باتوں کی تشریح کردی ہے اور جن رنگ میں میں نے ان باتوں کو اپنے اوپرچسپاں کیاہے کہ وہ باتیں ہم میں پائی جاتی ہیں۔ اگر ہماری طرح کوئی اور شخص بھی ان باتوں کو مانتاہے تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہے۔ اگر ایک انسان میری بیان کردہ علامات ایمان اور اسلام صحیح اس رنگ میں اقرارکرتاہے جن رنگ میں میں نے اقرارکیاہے اور اس کے بعد اس کے اندرکوئی کفر کی وجہ پیدا نہیں ہوتی۔ یعنی ان باتوں میں سے کسی کا وہ انکار نہیں کرتا تو وہ میرے ساتھ شامل ہے اور میں اپنے آپ کو مسلمان سمجھتاہوں اور وہ سب باتیں ان رنگ میں چسپاں سمجھتاہوں۔ ایک مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اور کافی بھی ہیں۔ بشرطیکہ کسی شق کا وہ انکار نہ

414

کرے۔ عملاً یا قولاً ’’اشارات فریدی‘‘ سے یہ صریحاً معلوم ہوتاہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کے پاس حضرت مسیح موعود کی ایسی کتابیں بھی پہنچی ہیں، جس میں آپ کے الہامات بھی درج تھے۔ ویسی کتابیں بھی پہنچیں جن میں مرزا صاحب کے مختلف الفاظ کے ساتھ دعویٰ میں تھے۔ (ورنہ حقیقت ایک ہی ہے) اورحضرت خواجہ صاحب نے خط لکھا بعض کتابیں منگوائی بھی ہیں۔ ناموں کی تفصیل کے ساتھ تو یہ تصریح معلوم نہیں ہوتی کہ آیا اس وقت کی سب کتابیں انہوں نے منگوائی تھیں۔ البتہ میرے اندازہ میں براہین احمدیہ، ازالہ اوہام، آئینہ کمالات اسلام، انجام آتھم، اسلامی اصول کی فلاسفی اور وہ کتاب جو عربی زبان کی ہو۔ خواجہ صاحب کے ملاحظہ میں آچکی تھی۔

سوال مکرر: مسلمان اہل کتاب ہیں۔ فوائد فریدیہ جو جرح میں میرے پیش کی گئی ہے اس کے آخر سے معلوم ہوتاہے کہ وہ سال۱۲۸۴ھ میں لکھی گئی اور اس کے شروع میں جو تقریظ ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کتاب لکھی ہوئی کتاب خانہ میں موجود تھی۔ سال۱۳۱۱ھ میں غالباً اس کو شائع کیاگیا۔ ٹائٹل پیج پرسال۱۸۹۵ء سن طبع ہے۔ انگریزی سن کے لحاظ سے خواجہ صاحب کی خط وکتابت حضرت مسیح موعود کے ساتھ سال۱۸۹۶ء کے آخر میں شروع ہوئی ہے۔ حضرت خواجہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کو اپنے خطوں میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے الفاظ سے یاد کیاہے اور اپنی مجالس میں بھی آپ نے خود اور آپ کے خدام خاص نے مرزا صاحب یامرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے الفاظ سے آپ کو یاد کیاہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنے ماننے والوں کے نام مسلمان فرقہ احمدیہ یااحمدی مسلمان یا فرقہ احمدیہ جماعت کا لفظ لکھنے کے بعد سب سے پہلے جس اشتہار میں اعلان کیاہے یا گورنمنٹ کے پاس درخواست دی ہے وہ اشتہار ۴؍نومبر۱۹۰۰ء کا ہے جو تریاق القلوب کتاب کے ساتھ ملا کر شائع کیاگیا اور علیحدہ بھی شائع کیاگیاتھا۔ اس اشتہار کو علیحدہ شائع کرنے کے علاوہ تریاق القلوب کتاب کے ساتھ مزید تاکیدی طور پر تاکہ کتاب کے ساتھ وہ بھی شامل ہوجائے لگایاگیاہے۔

کتاب تریاق القلوب سال۱۸۹۹ء میں تصنیف ہوکر چھپ چکی تھی۔ لیکن شائع نہیں کی گئی تھی۔ شائع سال ۱۹۰۲ء میں کی گئی ہے۔ صرف ایک دو صفحے اس وقت لکھے گئے اور ایک دواشتہارات جو پہلے شائع ہوچکے تھے وہ اس کے ساتھ شامل کر دئیے گئے۔ حضرت خواجہ صاحب نے مولوی عبدالجبار یامولوی عبدالحق کو وہابی کہاہے اور آپ نے اس کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ میں وہابیوں کو خارجی قراردے کران سے نفرت کا اظہار بھی فرمایاہے۔ اس کتاب کے اس صفحہ پر جہاں اوپرکا حوالہ ہے، یہ بھی لکھاہے کہ حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں مولوی غلام دستگیر قصوری آئے اور منجملہ دیگراغراض کے ایک غرض ان کی یہ بھی تھی کہ وہ حضرت خواجہ صاحب سے حضرت مسیح موعود کے حق میں فتویٰ کفر پر جو انہوں نے تیارکیاتھا دستخط کرائیں۔ مگر حضرت خواجہ صاحب نے صاف طور پر انکار کردیا اور یہ فرمایا کہ یہ ایسے ہی مولوی ہیں جنہوں نے شیخ منصور کو سولی پر چڑھایاتھا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی نبی کا بیٹا یا اس کا کوئی تعلق دار ضرور اس نبی کو مانے۔ قرآن شریف میں کافر کا لفظ خداتعالیٰ کے دین کاانکار کرنے والے یاخداتعالیٰ کی نعمت کا انکار کرنے والے پر بولاگیاہے۔ انکار کرنے کے معنوں میں ’’کافر‘‘ کا لفظ اس قدراصطلاح رکھتاہے کہ خداکے احکام یاخداتعالیٰ کے رسولوں کا یا خداتعالیٰ کی ذات کا یاخداتعالیٰ کے دین کا انکار کرنے والا۔ بعض لوگوں نے مرتد کے نکاح فسخ ہونے کے لئے اس مرتد کا دارالحرب میں چلے جانا مسلمانوں کے برخلاف برسرپیکار ہونے کی بھی شرطیں لگائیں ہیں۔ وہ نظم جو حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک خط کے ساتھ منسلک کر کے حضرت خواجہ صاحب کے پاس بھیجی تھی، جس کا شروع ہے۔ ’’اے فرید!وقت درصدق وصفا‘‘ جس کے اندر ’’ہر نبوت رابروشد اختتام‘‘ کا مصرع بھی ہے۔ اس میں حضرت مسیح موعود نے صفاتی طور پر اپنے لئے عین ہی محمد ہونے کا بھی اظہار فرمایا۔ چنانچہ من ہمانم، من ہمانم، من ہماں وغیرہ کے الفاظ خاص طورپر ہیں۔

415

حضرت مسیح موعود نے کلیہ قاعدہ کے طور پر تمام ایسے حوالہ جات کی خود ہی تصریح فرمادی ہے جن سے یہ شبہ پیداہوتاہے کہ شاید حضرت مسیح موعود نے اپنی تحریروں میں ہر ایک قسم کی نبوت کے ختم ہونے کا اس رنگ میں اظہار کیاہے جس کے گویا آپ کے رنگ میں بھی نہ ظلی، نہ بروزی، نہ بالاتباع کو جاری نہیں مانتے۔ بلکہ تصریح فرمادی ہے کہ ایسی نبوۃ سے میں نے کبھی انکارنہیں کیا۔ انبیاء کرام کو اپنے کشوف اور رؤیا الہامات کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی ہونی ممکن ہے اور ہوتی رہی ہے۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ ہدیہ مجددیہ کے مصنف کا مذہب مجھے اس لحاظ سے معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنے آپ کو کسی فرقہ کی طرف منسوب نہیں کیا اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ایسا کہا ہو۔ ہدیہ مجددیہ کی غرض تصنیف مصنف نے خود بیان کردی ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت مجدد الف ثانی کے کلام پر اعتراض کئے جن کے لئے میں یہ کتاب لکھتاہوں کہ وہ اعتراضات نہیں پڑھتے۔

حضرت خواجہ غلام فرید صاحب میرے ویسے ہی بزرگ ہیں اپنی احمدیت کے بعد جیسے کہ دیگر احمدی سلسلہ جوپہلے ہوچکے ہیں۔ میں نے جو نبی کریمa کے پیش گوئی کردہ۷۳ فرقہ کے ہوجانے کے بعد ایک فرقہ کے مختص اور ممتاز طور پر جنتی ہوجانے کی تشریح میں نبی کریمa کا تصریح کہ حضورﷺ نے اسی فرقہ کو جماعت کے لفظ سے یاد فرمایاہے اور بخاری میں اس کی خود ہی یہ تعریف فرمائی ہے کہ: ’’وامامہم‘‘ کی جماعت وہ ہے جس کا کوئی امام ہو۔ ا س سے یہ استنباط ہے کہ وہ امام واجب الاطاعت ہوگا جس کے ہونے کے متعلق خود نبی کریم کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔ یہاں تک بھی تاکید ہے کہ ایسے امام کو نہ ماننے پر جہالت کی موت میں جانا لازمی ہوتاہے۔ میرے خیال میں اس وقت ایک جماعت ایسی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ واجب الاطاعت امام کو مانتی ہے وہ ہماری جماعت ہے، جن کا مرکز قادیان ہے۔ یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ہر نوزائیدہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے۔ مگر بعد میں جوماں باپ یہودی ہوتے ہیں وہ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں اور جس کے ماں باپ عیسائی ہوتے ہیں وہ اس کو عیسائی بنا لیتے ہیں اور جن کے ماں باپ مجوسی ہوتے ہیں وہ ان کو مجوسی بنا لیتے ہیں۔ خواجہ غلام فرید صاحب نے اپنی کتاب ’’فوائد فریدیہ‘‘ میں جو حضرت مسیح موعود کے ساتھ خط وکتابت اور واقفیت ہونے سے کئی سال پہلے کی تصنیف تھی۔ بلکہ مسیح موعود کے دعویٰ ماموریت سے بھی پہلے کی تھی۔ اس میں ۷۲فرقوں کی تعداد لکھی ہے جن کو گمراہ قراردیاہے۔ ان فرقوں میں ایک فرقہ احمدیہ بھی آپ نے لکھاہے۔ لیکن اس سے ہماری اس وقت کی مشہور جماعت احمدیہ ہرگز مراد نہیں۔ کیونکہ اس کتاب کے لکھے جانے کے وقت تو حضرت مسیح موعود کا مطلق دعویٰ نہ تھا اور اس کتاب کے چھپنے کے وقت ہماری جماعت کا نام جماعت احمدیہ یا فرقہ احمدیہ نہ تھا۔ نہ ایسا نام رکھے جانے کاحضرت مسیح موعود کی طرف سے کوئی اعلان ہی ہواتھا۔ نہ حضرت خواجہ صاحب کی اس وقت حضرت مسیح موعود سے کسی قسم کی کوئی خط وکتابت ثابت ہے۔ بلکہ اس کتاب کے شائع ہونے کے پانچ سال بعد ہماری جماعت کانام جماعت احمدیہ یافرقہ احمدیہ رکھاگیاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ اس احمدیہ فرقہ سے مراد رشید احمدگنگوہی کے ماننے والے ہوں گے۔ کیونکہ ان کو دنیا وہابی کہتی ہے اورا س کتاب میں جہاں پر۷۲ فرقوں کا ذکرکر کے احمدیہ کا لفظ رکھاگیاہے، اس کے مابعد کی عبارت میں وہابیہ فرقہ کوزیادہ برابنا کر اپنی نفرت کا اظہار فرمایاہے۔ اسلام سے ارتداد اوراحمدیت بلحاظ ارتداد کے ایک ہی ہے۔ قطعاً کوئی فرقہ نہیں۔ کیونکہ احمدیت صحیح اسلام ہے۔ لیکن اس لحاظ سے کہ مسلمان کہلانے والا شخص مرتد ہوکر کسی غیر از اسلام مذہب یعنی ہندومذہب یاعیسائی مذہب وغیرہ میں شامل ہوتاہے لیکن احمدیت سے مرتد ہونے والا اسلام کے مخالف مذہبوں میں شامل ہونا اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتا،بلکہ عام مسلمانوں میں شامل ہوجاتاہے۔

۲۹؍مارچ۱۹۳۳ء، مطابق ۲؍ذی الحجہ۱۳۵۱ھ،

محمداکبر!

سن کر درست تسلیم کیا۔ محمداکبر!

416