Top banner image

مقدمہ بہاول پورجلد دوم

آج سے تقریباً ایک صدی قبل دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا الٰہی بخش کی دختر محترمہ غلام عائشہ کا نکاح مسمّی عبدالرزاق ولد جان محمد سے ہوا۔ اس وقت منکوحہ نابالغ تھی۔ اس کے بلوغ ورخصتی سے قبل ناکح عبدالرزاق، قادیانی ہو گیا یہ خاندان اس وقت ضلع بہاول پور کا رہائشی تھا۔ بالغ ہونے پر ۲۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پورکی عدالت میں محترمہ غلام عائشہ کی طرف سے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ بہت سارے مراحل طے کرنے کے بعد ۷؍فروری ۱۹۳۵ء کو جاکر جج محمد اکبر خان کی عدالت عالیہ سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ صادرہوا۔

حق وباطل کا معرکۃ الآراء

مقدمہ مرزائیہ بہاول پور

روداد۱۹۲۶ء لغایت۱۹۳۵ء

جناب جج محمد اکبر خان صاحب بی۔اے،ایل۔ایل۔بی

ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

نے مرزائیت کو ارتداد قرار دے کر مسلمہ کا نکاح مرزائی سے فسخ فرمایا

بحث

مسماۃ غلام عائشہ مدعیہ و عبدالرزاق مدعاعلیہ

مدخلہ

عدالت صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاول پور

جلد دوم

ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

1

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : روداد مقدمہ مرزائیہ بہاول پور ۱۹۳۵ء (جلد دوم)
صفحات : ۳۵۶
قیمت : ۰۰ روپے
اشاعت اوّل : اکتوبر ۱۹۸۸ء / ربیع الاوّل ۱۴۰۹ھ
اشاعت دوم : اپریل ۲۰۰۶ء / ربیع الاوّل ۱۴۲۷ھ
اشاعت سوم : نومبر ۲۰۲۰ء / ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ
مطبع : طیب شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
2

تفصیلی فہرست

  1. بحث مدعیہ از۹؍اکتوبر۱۹۳۳ء

    ۱۱

  2. فریقین اوران کے مختار حاضرہیں

    ۱۳

  3. ۱۰؍اکتوبر ۱۹۳۳ء

    ۱۵

  4. فریقین اور ان کے مختار حاضرہیں… بحث مدعیہ

    ۱۵

  5. ۱۱؍اکتوبر۱۹۳۳ء

    ۱۸

  6. فریقین اوران کے مختارحاضرہیں… تتمہ بیان مدعیہ

    ۱۸

  7. جرح … ۲۸؍مارچ۱۹۳۳ء

    ۲۰

  8. ۱۲؍اکتوبر۱۹۳۳ء

    ۲۴

  9. فریقین اوران کے مختاران حاضر ہیں… تتمہ بحث مدعیہ

    ۲۴

  10. انتباہ

    ۳۲

  11. برائے حضرات قارئین کرام

    ۳۲

  12. بحث تحریری مدعاعلیہ … مدخلہ۱۷؍دسمبر۱۹۳۳ء لغایت ۵؍مارچ ۱۹۳۴ء

    ۳۳

  13. عقائد جماعت احمدیہ

    ۳۳

  14. (۱) مختار مدعیہ کااعتراض

    ۳۵

  15. حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات پر اعتراضات

    ۳۸

  16. خالق الارض والسماء ہونے کا دعویٰ

    ۴۳

  17. (۳) اللہتعالیٰ کو تیندوے سے تشبیہ دی

    ۴۶

  18. (۴) ربّناعاج

    ۴۸

  19. (۵) انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی

    ۴۸

  20. (۶) انت اسمی الاعلٰی

    ۴۹

  21. (۷) انت منی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق

    ۴۹

  22. (۸) انّما امرک اذا اردت شیٔا ان تقول لہ کن فیکون

    ۵۰

  23. (۹) میکائیکل جس کے معنی عبرانی زبان میں خدا کی مانند ہیں

    ۵۲

  24. (۱۰) کأنّٰ اللہ نزل من السمآء

    ۵۴

  25. (۱۱) کشف

    ۵۵

3
  1. (۱۲) انت منی بمنزلۃ ولدی

    ۵۶

  2. (۱۳) ایک ضمنی اعتراض کاجواب

    ۵۷

  3. (۱۴) اسمع ولدی

    ۵۸

  4. (۱۵) اخطی واصیب

    ۵۹

  5. (۱۶) الارض والسماء معک کماھو معی

    ۶۰

  6. (۱۷) اصلی واصوم، اسھر وانام، واجعل لک انوار القدوم، واعطیک مایدوم ان اللہ مع الذین اتقوا

    ۶۱

  7. (۱۸) اعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعّال

    ۶۳

  8. (۱۹) نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدانیا ہو

    ۶۳

  9. (۲۰) متشابہات

    ۶۴

  10. محمدرسول اللہﷺ

    ۶۷

  11. (۱) آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں

    ۶۸

  12. (۲) خاتم النّبیین کے معنی!

    ۷۰

  13. (۳) معراج جسمانی کا انکار

    ۷۰

  14. (۴) معجزۂ شق القمر

    ۸۰

  15. (۵) اٰثرک اللہ علی کل شیئی

    ۸۳

  16. (۶) آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا

    ۸۴

  17. (۷) اٰتانی مالم یؤت احداً من العالمین

    ۸۶

  18. (۸) علم میں مقابلہ

    ۸۶

  19. (۹) انا فتحنالک فتحاًمبینا

    ۸۹

  20. آنحضرتﷺ کی خصوصیات

    ۹۰

  21. (۱) ھوالذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہٖ

    ۹۳

  22. (۲) انا اعطینٰک الکوثر

    ۹۴

  23. (۳) عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محمودا

    ۹۴

  24. (۴) وما ارسلناک الا رحمۃ للعٰلمین

    ۹۵

  25. (۵) قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ

    ۹۶

  26. (۶) مارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمٰی

    ۹۶

4
  1. ورسلہ

    ۱۴۲

  2. قیامت کے متعلق

    ۱۴۸

  3. علم قیامت صرف خداکوہے

    ۱۴۸

  4. عقیدہ

    ۱۴۹

  5. اوتار وتناسخ

    ۱۴۹

  6. بحث متعلق وحی

    ۱۵۳

  7. (۱) وحی انبیاءؑ کے ساتھ مخصوص نہیں

    ۱۵۳

  8. (۲) آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی غیرتشریعی مسدود نہیں ہے

    ۱۵۵

  9. (۳) دلائل بقائے وحی غیرتشریعی ازروئے قرآن شریف

    ۱۵۷

  10. (۴) دلائل بقائے وحی ازروئے احادیث نبویہ

    ۱۶۲

  11. دوسری حدیث

    ۱۶۳

  12. تیسری حدیث

    ۱۶۳

  13. (۵) عقیدہ سلف صالحین بقائے وحی غیر تشریعی کے خلاف نہیں

    ۱۶۴

  14. حوالہ فتوحات مکیہ

    ۱۶۴

  15. (۶) حضرت مسیح موعود کے نزدیک صرف تشریعی وحی بندہے

    ۱۶۸

  16. (۷) کیاحضرت مسیح موعود کے نزدیک آپ کی وحی قرآنی وحی کے برابرہے

    ۱۶۹

  17. دوسری وجہ تکفیر کارد

    ۱۷۳

  18. (۱) جماعت احمدیہ آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کرتی ہے

    ۱۷۳

  19. بحث خاتم النّبیین

    ۱۷۳

  20. (۲) جمیع مسلمان آنحضرتﷺ کے بعد ایک نبی کاآنامانتے ہیں

    ۱۷۳

  21. خاتم النّبیین سے کیا مرادہے

    ۱۷۴

  22. (۳) آنحضرتﷺ لفظ خاتم سے کیا سمجھے

    ۱۷۴

  23. صحابہؓ خاتم النّبیین سے کیا سمجھے

    ۱۷۹

  24. سلف صالحین خاتم سے کیا معنی سمجھے

    ۱۸۰

  25. موضاعات کبیر کاحوالہ

    ۱۸۰

  26. مکتوبات کا حوالہ

    ۱۸۳

  27. صوفیاء کے حوالے

    ۱۸۳

6
  1. تشریع کے معنی

    ۱۸۵

  2. حوالہ تحذیرالناس

    ۱۸۹

  3. سلف صالحین کا عقیدہ دربارہ وحی

    ۱۹۴

  4. (۶) سیاق وسباق کے لحاظ سے آیت کے معنی

    ۱۹۵

  5. (۷) خاتم النّبیین کے صحیح معنی

    ۱۹۵

  6. خاتم کے معنی آخر

    ۱۹۷

  7. (۸) خاتم النّبیین کے معنوں کاضروریات دین سے ہونا

    ۱۹۸

  8. (۹) کیا تاویل کی وجہ سے کوئی کافر ہوسکتاہے

    ۱۹۹

  9. حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی

    ۲۰۲

  10. (۱۰) انقطاع نبوۃ پردوسری پیش کردہ آیات کاصحیح مطلب

    ۲۰۷

  11. (۱۱) پیش کردہ احادیث کا صحیح مطلب

    ۲۰۹

  12. (۱۲) علماء نے لانبی بعدی کے کیا معنی کئے

    ۲۱۰

  13. (۱۳) اجماع کی بحث

    ۲۱۴

  14. (۱۴) مسیلمہ کذاب وغیرہ سے قتال کی وجہ

    ۲۱۶

  15. (۱۵) اسلامی بادشاہوں کے فیصلے

    ۲۱۶

  16. (۱۶) مسیلمہ کذاب نے کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا

    ۲۱۶

  17. (۱۷) علماء نے کس قسم کی نبوت کو بند سمجھاہے

    ۲۱۶

  18. (۱۸) علماء کے نزدیک رسول اور نبی کی تعریف

    ۲۱۹

  19. (۱۹) ظلّی… بروزی

    ۲۲۰

  20. (۲۰) کیاحضرت مسیح موعود تناسخ کے قائل تھے

    ۲۲۰

  21. (۲۱) کیاحضرت مسیح موعود نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیاہے

    ۲۲۰

  22. (۱) جہاد بالسیف کب واجب ہوتاہے

    ۲۲۶

  23. (۲) حضرت مسیح موعود کا مذہب جہاد بالسیف کے بارہ میں

    ۲۲۷

  24. انبیاء اقدسین کا طرز عمل

    ۲۲۷

  25. حضرت سید احمدصاحب بریلوی اور مولانا محمداسماعیل صاحب شہید کامذہب

    ۲۲۸

  26. قرآن مجید سے امکان نبوت پر دلائل

    ۲۲۹

  27. احادیث سے امکان نبوت کا ثبوت

    ۲۳۶

7
  1. اے بدذات فرقہ مولویاں

    ۲۸۲

  2. ذریۃ البغایا

    ۲۸۴

  3. ازواج مطہرات کی توہین

    ۲۸۶

  4. حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی توہین

    ۲۸۶

  5. بیت اللہ کی توہین

    ۲۸۸

  6. حج کی توہین

    ۲۹۰

  7. مقبرہ بہشتی

    ۲۹۰

  8. کیاتکفیر وجہ ارتداد وفسخ نکاح ہوسکتی ہے؟

    ۲۹۱

  9. کیا غیراحمدی اہل کتاب نہیں

    ۲۹۳

  10. کیامدعیہ مشرکہ ہے؟

    ۲۹۳

  11. احمدی شریعت اسلامیہ کے پابند

    ۲۹۴

  12. اصولی اختلاف

    ۲۹۷

  13. کیا مدعاعلیہ اورمدعیہ کاعلیحدہ علیحدہ مذہب ہے

    ۲۹۸

  14. مختارمدعیہ کے نزدیک فسخ نکاح کی ایک وجہ

    ۲۹۸

  15. فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

    ۳۰۰

  16. مختارمدعیہ کا صریح مغالطہ

    ۳۰۱

  17. ۵؍مارچ ۱۹۳۴ء گواہان مدعاعلیہ پرتنقید کاجواب

    ۳۱۰

  18. (۲) دربارمعلی کی توہین

    ۳۱۱

  19. (۳) گواہ مدعاعلیہ نمبر کی معلومات پربحث کاجواب

    ۳۱۲

  20. گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کے جوابات میں تعارض کا رد

    ۳۱۳

  21. گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کے علم کے متعلق اعتراضات کاجواب

    ۳۱۶

  22. گواہ مدعاعلیہ نمبر۲پرتبصرہ

    ۳۱۸

  23. مختاران مدعیہ کی صریح غلط بیانیاں

    ۳۲۰

  24. الزام خیانت کا رد

    ۳۲۳

  25. تحذیرالناس کاحوالہ

    ۳۲۳

  26. حجج الکرامہ کاحوالہ

    ۳۲۳

  27. البحرالرائق کاحوالہ

    ۳۲۴

9

بحث مدعیہ

۹؍لغایت ۱۲؍اکتوبر ۱۹۳۳ء

11

مدعیہ کی جانب سے مدعاعلیہ کے گواہان کے کذب وفریب سے بھرپوربیانات وجرح کادلائل وبراہین احمدیہ سے نہایت باطل شکن جواب دیاگیا جس کا اندازہ مدعیہ کی پیش کردہ بحث کے پڑھنے سے ہوسکتاہے۔

ادارہ

12

بحث مدعیہ از۹؍اکتوبر۱۹۳۳ء

فریقین اوران کے مختار حاضرہیں

مدعاعلیہ کے احمدی ہونے سے قبل مدعیہ اور مدعا علیہ دونوں احمدی اعتقاد کے مطابق کافرتھے۔ ان میںسے مدعاعلیہ نے جب مذہب احمدیت قبول کیاتو وہ مسلمان ہوگیا اورمدعیہ بدستور کافررہی۔ اس لئے ایک کافر اورمسلمان کانکاح قائم نہیں رہ سکتا اورفسخ ہوگیا۔

اہل کتاب کانکاح مسلمان کے ساتھ اس لئے جائز ہے کہ قرآن شریف میں ہے کہ ان امتوںکی عورتیں اورمرد باہمی نکاح کرسکتے ہیں جن کو قرآن مجید سے پہلے کتاب عطاء کی گئی۔ یہ مذکور نہیں کہ قرآن کے بعد یا کسی دوسری کتاب کے نازل ہونے والی امت پریہ آیت حاوی ہوگئی۔

آئینہ صداقت میں مرزا صاحب بشیرالدین محمود تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’مرزا صاحب جس اسلام کو پیش کرتے ہیں وہ اوراسلام ہے۔‘‘ (ملخص آئینہ صداقت ص۵۳، انوار العلوم ج۶ ص۱۲۵)

مدعاعلیہ مرزا صاحب کا معتقد ہونے کی وجہ سے مسلمان ہوگیا اور مدعیہ یہ عقیدہ رکھنے کی وجہ سے مشرک ہوئی کہ عیسیٰ زندہ ہیں اورنازل ہوں گے۔ اس لئے مشرک کے ساتھ مسلمان کانکاح کسی صورت میں بھی قائم نہیں رہ سکتا۔

ختم النّبوۃ کے متعلق سال۱۸۹۹ء تک بقول مرزا محمودصاحب، مرزا غلام احمد صاحب کا یہی عقیدہ تھا کہ رسول اللہﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا۔ اب مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت اس وقت قابل سماعت ہوگا۔ جب کہ یہ آیت: ’’ختم النّبوۃ‘‘ منسوخ ہوجائے اور کسی حکم شرعی اورضروریات دین کا منسوخ ہونا یا اس کا دعویٰ کرنا کفروارتداد ہے۔

مرزاصاحب فرماتے ہیں: ’’امتی نبی نہیں ہوسکتا اورنبی امتی نہیں ہوسکتا۔‘‘ آگے لکھتے ہیں کہ: ’’جس مذہب میں امتی نبی نہ ہوسکے وہ شیطانی مذہب ہوا۔‘‘ اس سے یہ سمجھاجائے گا کہ حضورa سے قبل جو انبیاءؑ تھے اور جو اپنی امتوں کو نبی نہ بنا سکتے تھے، ان کے مذاہب شیطانی ہوئے اورسابقہ نبیوں کے مذاہب کو شیطانی کہنے والاکافرہی سمجھاجائے گا۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے تمام کمالات کا ظل ہوں اور دوسرے انبیاء ایک ایک صفت کے ظل تھے۔ اس لئے تمام انبیاء کو اپنے آپ سے کم تر کہناتمام انبیاء کی توہین ہے اور عیسیٰؑ کے آنے سے بقول مرزا صاحب چونکہ اسلام میں خرابی واقع ہوتی ہے تو اس سے معلوم آیا کہ اس سے زیادہ کمال والے نبی کے آنے سے زیادہ خرابی کا احتمال ہوگا۔ اس لئے رسول اللہﷺ کے بعد دوسرے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مرزاصاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کی پیش گوئی متواتر ہے اور متواتر کا منکرکافرہوتاہے۔ مرزا صاحب چونکہ اس کے منکرہوئے اس لئے کافرہوئے۔

مرزا صاحب تحریرفرماتے ہیں کہ حسب تصریح قرآن مجید رسول اسے کہتے ہیں کہ جس نے احکام وعقائد دین جس پر عمل کرکے درجہ حاصل کئے ہوں۔ رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم بذریعہ جبرئیلm حاصل کرے۔ اس لئے جب تک جبرئیلm کے ذریعہ احکام نہ پہنچیں خود مرزا صاحب کی تحریر کے مطابق کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔

13

مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ اصل عیسیٰؑ ہیں اور رسول اللہﷺ بھی عیسیٰؑ کا ظل ہیں۔ خود مرزا صاحب بھی عیسیٰؑ کا ظل ہیں اور ایک دفعہ عیسیٰؑ کا اورظلی آئے گا۔(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۴،۳۴۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)

رسول اللہﷺ کو عیسیٰؑ کا ظل کہنے سے سمجھاجائے گا کہ رسول اللہﷺ سے اعلیٰ عیسیٰؑ ہیں۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو عیسیٰؑ سے افضل کہتے ہیں۔ اس لئے سمجھاجائے گا کہ مرزاصاحب رسول اللہﷺ سے افضل ہیں اور یہ کفر کی حدتک پہنچے گا۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ازل سے خاتمیت دی گئی تھی۔ رسول اللہﷺ کی خاتمیت سے مفہوم ختم نبوۃ سے ہے اور وہ اپنے لئے ختم حقیقی ثابت کرتے ہیں۔ اس لئے سمجھاجائے گاکہ رسول اللہﷺ خاتم مجازی ہوئے۔ یہ صریح کفر اورتوہین ہے۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حقیقت کا حلول کئی دفعہ ہوا اوران لوگوں میںہوا جن کے نام احمداورمحمدa تھے لیکن انہوں نے دعویٰ نبوت نہ کیا۔ اس لئے مرزا صاحب کا دعویٰ نبوۃ بھی اس وجہ سے درست نہیں سمجھاجاسکتا کہ ان میں حقیقت محمدa کا حلول ہوا اور کہ ان کا نام احمدتھا۔ مرزا صاحب کے کلام میں بہت سے متناقض اقوال ہیں۔ مدعیہ کی طرف سے جو قول مرزا صاحب کے خلاف پیش کیاگیا اس کے جواب میں مدعا علیہ کی طرف سے دوسرے اقوال جو اہل اسلام کے موافق ہیں پیش کردئیے گئے ہیں۔

اس لئے مرزا صاحب کا عقیدہ قائم کرنے کے لئے مخالف اقوال کوزیادہ ترجیح دی جائے گی۔ موافق اقوال کی نسبت سمجھاجائے گا کہ وہ پہلے کے ہیں اور صحیح عقیدہ مخالف اقوال کے مطابق ہے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ صحیح طور پر پیش نہیں کیاگیا اورٹھیک متعین نہیں ہوا کہ ان کا دعویٰ کیاتھا؟ ان کے اپنے علماء میں اختلاف ہے۔

اہل تصوف کے حوالہ جات ہمارے مقابلہ میں پیش کئے جانے درست نہیں کیونکہ متعدد وجوہ ہیں۔ تصوف کا سوال نہیں بلکہ شریعت کا ہے۔ تصوف کا کوئی حوالہ اگر شریعت کے مخالف ہو تو وہ قابل اعتماد نہیں۔ مفتی سے غلطی ہونی ممکن ہے۔ ’’تحذیر الناس‘‘ کے حوالے سے جو یہ کہاگیاہے کہ مولانامحمدقاسم صاحب بھی ختم زمانی کے منکرہیں۔ اس عبارت کے بعد اس کا رد موجودہے۔ ملاحظہ ہو (ص۳ سطر۱۷) (ص۱۰) کی عبارت بھی اس ضمن میں ملاحظہ ہو۔

مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جس کا ایک جھوٹ ثابت ہوگیا اس کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں۔ ’’بحر الرائق‘‘ کے حوالہ سے جو فریق ثانی کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ علماء معمولی معمولی باتوں پر کفر کا فتویٰ دے دیاکرتے ہیں۔ اس کتاب کی جلد خامس کے (ص۳۵) پر یہ عبارت ہے کہ کفر کا فتویٰ جب دیاجاتاہے کہ اس پراتفاق ہو اور متکلم کے کلام کی تاویل نہ ہو اور متفقہ علیہ ہو۔

نبوۃ تشریعی کے یہ معنی ہیں کہ جس کی وحی میں تبلیغ ہو، امرہو، نہی ہو۔ فریق ثانی کی طرف سے یہ کہاجاتاہے کہ نبوۃ تشریعی کے یہ معنی ہیں کہ نبوۃ مستقلہ ہو۔ یعنی بدوں توسل حضورa ہو۔ صاحب کتاب ہو اور شریعت سابقہ کا ناسخ ہو۔ ملّا علی قاری کا قول ختم النبوۃ کے متعلق عام عقیدہ اسلام کے خلاف نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات کل کا اطلاق جزو پر کیاجاتاہے۔ ملّا علی قاری حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے قائل تھے اورجوقول ان کا فریق ثانی کی طرف سے نقل کیاگیاہے ان کے کل مضمون کو دیکھنے پر ان کی مراد عیسیٰؑ ہے۔ اسی طرح حضرت مجدد الف ثانی کا قول بھی تمام عقیدہ کے خلاف نہیں ہے۔ ان کی آگے کی عبارت دیکھی جاوے، وہ خود اس کی وکالت کرتی ہے۔ کمالات نبوۃ ملنے سے یہ مراد نہیں کہ جس شخص میں کمالات ہیں وہ نبی ہوجائے۔ ملاحظہ ہو(مکتوبات ص۲۴۸، حصہ چہارم ص۴۹،۵۰)

حجج الکرامۃ میں جودجالوں کے متعلق حوالہ دیاگیاہے، اس میں تیس کے آگے زیادہ کے الفاظ ہیں۔ لیکن حوالہ میں یہ الفاظ نہیں دئیے گئے۔

14

(شرح فصوص الحکم ص۱۱۴) پر ولایت کو بھی اصطلاحاً نبوۃ کہاگیاہے۔ اس حوالہ کی رو سے نبی متبع نہیں ہوسکتاتھا۔

مرزا صاحب نے(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵) پر جو کچھ لکھاہے اس سے اپنے آپ کو تشریعی نبی ثابت کرتے ہیں۔

کتاب (حقیقت النبوۃ ص۶،۷، انوار العلوم ج۲ ص۳۵۰، ۳۵۱) کی عبارت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جس شخص کے اندر کسی لفظ کے حقیقی معنی پائے جاویں، وہ اس لفظ کا حقیقی مصداق تھا تومرزاصاحب نے جب صاحب شریعت کے حق بیان فرمائے اوربتلایا کہ یہ معنی ان میں پائے جاتے ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب مدعی صاحب شریعت نبوۃ کے ہیں۔

۱۰؍اکتوبر ۱۹۳۳ء

فریقین اور ان کے مختار حاضرہیں… بحث مدعیہ

کفر ثابت کرنے کے لئے صرف ایک بات کفریہ ثابت ہوجانے سے کفر عائد ہوجاتاہے۔ اسلام ثابت کرنے کے لئے تمام جزئیات اسلام کا ثابت کرناضروری ہے۔ گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ نے کہا ہے کہ سلسلہ احمدیہ کے سب لٹریچر میری نظر میں سے نہیں گزرے، جو اس وقت تک شائع ہوچکے ہیں۔ فتوحات مکیہ کی نسبت گواہ نمبر۱ نے یہ بیان کیاہے کہ اس نے اس کتاب کو مکمل طور پر نہیں دیکھا۔ گواہ نمبر۱ نے شرح فقہ اکبر کا حوالہ پیش کیاہے۔ اس نے یہ نہیں بتلایاکہ وہ شرح فقہ اکبر کس کی مصنفہ ہے۔ ’’بحرالرائق‘‘ کے اصول تکفیر کے متعلق بھی گواہ نمبر۱ نے لاعلمی بیان کی ہے۔ ’’اشارات فریدی‘‘ سالم کتاب کے مطالعہ سے بھی انکار کیاہے۔ منصب رسالت کے متعلق بھی گواہ نے کہا ہے کہ میں نے سالم کتاب نہیں پڑھی۔ کتاب محیط کے پورے مطالعہ سے بھی انکار کیاگیاہے۔ ہدیہ مجددیہ کے مصنف کے متعلق یہی کہاگیاہے کہ علم نہیں ہے اور نہ اس کا مصنف معلوم ہے۔ ’’جوامع الشواہد‘‘ کے مصنف سے بھی لاعلمی ظاہر کی گئی ہے۔ ’’بھونچال برلشکر دجال‘‘ کے مصنف سے بھی لاعلمی ظاہر کی گئی ہے۔ ’’ہدیہ مجددیہ‘‘ دونوں فریق کے مسلمات میں سے نہیں ہے۔ مگر اس کا حوالہ فریق ثانی کی طرف سے پیش کیاگیاہے۔ جوامع الشواہد، بھونچال برلشکر دجال، حجج الکرامہ، شہاب علی البیضاوی، انواراحمدیہ، حیات جاوید۔ ہر دو فریق کے مسلمات میں سے نہیں ہیں۔ مسلم اور مسلمان ہونے میں فرق ہے۔ محض مسلمان ہونے سے کسی کی تحریر مسلم قرارنہیں دی جاسکتی۔ اجماع کے متعلق گواہ نمبر۱ نے جرح ۹؍مارچ۱۹۳۳ء میں کہاہے کہ بلاکسی استثناء کے تمام امت کسی مسئلہ پراجماع کرے تو اس کو اجماع کہاجائے گا اور اسی جرح میں یہ بھی مندرج ہے کہ تمام امت کے مسلمہ بزرگ اوراکابر اسے مانتے ہوں۔ اشارات کے متعلق ایک جگہ یہ بتلایاگیاہے کہ خواجہ صاحب نے خواجہ محمدبخش صاحب سے سبقاً سبقاً سنی اور ایک جگہ ہے کہ مولانارکن الدین سے سنی۔ حالانکہ کتاب خواجہ صاحب کے وصال کے بعد مرتب ہوئی۔ ۱۱؍مارچ کی جرح میں یہ ماناگیاہے کہ جوچندہ نہ دے وہ بیعت سے خارج ہے۔ لیکن احمدی رہے گا۔ ’’آئینہ صداقت‘‘ (ص۳۵، انوار العلوم ج۶ ص۱۱۰) میں ہے کہ جو بیعت میں داخل نہیں وہ کافر ہے۔ یہ مسلّم ہے کہ نبی کسی مشرکانہ عقیدہ پر قائم نہیں رہ سکتا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ وہ۱۲سال تک حیات مسیح کے مسئلہ کے قائل رہے اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور یہ بھی تسلیم کیاگیا ہے کہ مسیح موعود نبی ہوتاہے۔

مرزاصاحب نے کہاہے کہ سب سے زیادہ معتبر کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ ہے۔ گواہ نمبر۱ نے بیان کیاہے کہ اس کتاب میں بعض احادیث غیر معتبر ہوسکتی ہیں اورجرح ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء میں گواہ نمبر۱ نے کہاہے کہ مرزاصاحب اوران کے خلفاء کی کتابیں مسلم ہیں۔

15

گواہ نے ۷؍مارچ۱۹۳۳ء میں یہ کہاہے کہ احکام جو بذریعہ جبرئیل نازل ہوں توکوئی امر نہیں۔ مرزا صاحب کے قول مندرجہ ’’ازالہ اوہام‘‘ (حصہ دوم ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱) کے خلاف ہے۔ جہاں وہ کہتے ہیں کہ: ’’جہاں جبرئیلm ایک حکم بھی لاویں ختم النبوۃ کے خلاف ہے۔‘‘ گواہ نے کہا کہ اولیاء اللہ اورانبیاء کو جووحی ہوتی ہے وہ ایک ہے۔ حالانکہ علم الکتاب جس کا حوالہ خود گواہ نے دیاہے (ص۱۱)پر درج ہے کہ لفظ وحی کااطلاق اولیاء اللہ کے الہام پر نہیں ہوسکتا۔ گواہ نے مرزاصاحب کی وحی کے متعلق کہاہے کہ وہ کوئی قرآن کے معارض نہیں۔ حالانکہ صحیح احادیث کے متعلق بھی یہ کہاگیاہے کہ اگروہ قرآن کے مطابق ہوں گی تومانی جائیں گی ورنہ نہیں۔ اہل کتاب کی تعریف گواہ نمبر۱ نے گواہ نمبر۲ سے مختلف بیان کی۔ گواہ نمبر۱ کہتاہے کہ جن کو کتاب ملی ہو۔ گواہ نمبر۲کہتاہے کہ جن کو پہلے کتاب مل چکی۔ گواہ نمبر۱ نے بیان کیا کہ ابن مسعود جلیل القدر صحابی تھے۔ کتاب (ازالہ اوہام ص۵۹۶، خزائن ج۳ ص۴۲۲) میں ہے کہ’’ابن مسعود معمولی آدمی تھا۔‘‘ گواہ نمبر۲ نے بیان ہے کہ قرآن مجید کی مطابقت کے لئے اس کے واسطے اس کے واجب الاطاعت اماموں یا اس کی دینی مطابقت مسلم ہے۔ آگے کہاہے کہ میرے نزدیک مرزا صاحب اورخلیفہ اوراوّل خلیفہ ثانی کے اقوال مستندہیں۔ اس کے علاوہ اور میرے نزدیک اورکوئی شئے مستند نہیں۔ گواہ نمبر۵ نے تفسیر صاوی ایسی کتاب کا حوالہ دیاہے جو فریقین کی غیرمسلمہ ہے۔ اس طرح کتب ذیل کواکب دریہ، اقراب الساعۃ، فتح البیان، شہاب انواراحمدیہ، ہدیہ مجددیہ، حیات جاوید۔ فریقین کی غیر مسلم کتابیں ہیں جوگواہ نمبر۲ نے پیش کیں۔ اس طرح گواہ نمبر۲ نے کہاہے کہ شرح شفاء کل نہیں پڑھی۔ ہدیہ مجددیہ کا مصنف نامعلوم ہے۔ اہل کتاب کی تعریف گواہ نمبر۲نے ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء کو یہ بیان کی کہ وہ لوگ جن کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور سوال مکرر میں کہا ہے کہ مسلمان اہل کتاب ہیں۔

گواہان فریق ثانی نے ایمان کی تعریف میں چندباتیں بیان کی ہیں۔ اس سوال پر یہ کہا ہے کہ یہ باتیں مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہیں، کافی نہیں۔ ان کی طرف سے کہاجاتاہے کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے سے ایک شخص کافر ہوجاتاہے۔ ہماری طرف سے کہا جاتاہے کہ باوجود ایک شخص کے ایمان میں ان باتوں کاموجود ہونا جوگواہان نے بیان کی ہیں، اسے مسلمان نہیں بناتا۔ اگر وہ مرزا صاحب کو نبی مانے۔ مرزا صاحب کے جو اقوال عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق ظاہر کئے گئے، وہ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوۃ سے قبل کے ہیں۔ یعنی سال۱۹۰۱ء سے قبل کے مدعیہ کی طرف سے جومرزاصاحب کے خلاف کفریہ الزام لگائے گئے ہیں ان کاکوئی جواب نہیں دیاگیا۔ مدعیہ کی طرف سے تازہ تصانیف کے حوالہ جات پیش کئے گئے۔ آخری حوالہ سال ۱۹۰۷ء کی تصنیف سے ہے۔ تفاسیر متقدمین کے متعلق مقدمہ ابن خلدون کا جو یہ حوالہ دیاگیاہے کہ تفاسیر المتقدمین ’’مملوء غث وسمین‘‘ یہ صحیح نہیں ہے۔ تین ایڈیشنوں کی کتابوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں، بلکہ الفاظ یہ ہیں: ’’الا ان کنتم ومقولاتہ مشتمل علی الغث والسمین‘‘

جن تفاسیر میں فریق ثانی کی طرف سے یہ کہاجاتاہے کہ تفاسیر میں انبیاء کی عصمت کے خلاف باتیں ہیں۔ اگر بعض تفاسیر میں ایسی باتیں ہیں تو وہ تردید کے لئے ہیں، تائید کے لئے نہیں ہیں۔ جوتفاسیر مدعیہ کی طرف سے پیش کی گئی ہیں وہ معتبرہیں۔

امام احمدبن حنبل کے متعلق جوکہاگیاہے کہ وہ تفسیر کے قائل نہیں، یہ غلط ہے۔ جس کتاب کا حوالہ دیاگیاہے اس میں اس عبارت کے آگے جو Quoteکی گئی ہے، درج ہے کہ وہ صرف متعین کتابوں کو غیر معتبر سمجھتے تھے نہ کہ تفسیر کو۔

’’تفسیر اتقان‘‘ کا جو حوالہ دیاگیاہے اس کا مقدم مؤخر حذف کیاگیاہے اور وہ اس موقع پرتردیدی طور پر نقل کیاگیاہے اورجو مطلب اس سے اخذ کیاگیاہے وہ مقدم مؤخر عبارت سے صحیح نہیں ہے۔ کلمات کفر اور چیز ہے اورکسی کوکافر قراردینا دوسری چیز۔ ’’بحرالرائق‘‘ کے جو حوالہ جات فریق ثانی کی طرف سے دئیے گئے، کبھی ان کے متعلق یہ درج ہے کہ وہ کلمات معتبر ہیں۔ لیکن ان پر کوئی

16

فتویٰ نہیں۔ جن علماء دیوبند کے خلاف کفر کا فتویٰ لگایاگیاہے اس کے متعلق وہ علماء ان واقعات سے جوان کی طرف منسوب کئے، جاکر ان پر فتویٰ کفرلگایاگیاہے۔ برأت ظاہر کرتے رہے ہیں۔ گواہ فریق ثانی نے اپنی جرح مؤرخہ ۱۵؍مارچ۱۹۳۳ء اسے تسلیم کرلیاہے۔ ان علماء دیوبند نے ان لوگوں کو جنہوں نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا کافر نہیں کہا۔ بلکہ سمجھتے رہے کہ وہ غلطی پرہیں اور معذور ہیں۔ جو کتاب ’’حسام الحرمین‘‘ اس غرض کے لئے پیش کی گئی اس میں سب سے پہلے مرزا صاحب کانام درج ہے۔ علمائے حرمین نے بعد میں اہل دیوبند کے متعلق اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ان کو یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ اہل دیوبند کے عقائد بھی مرزا غلام احمد صاحب جیسے ہیں۔ خواجہ غلام فرید صاحب کے متعلق جو یہ کہاجاتاہے کہ انہوں نے پوری تحقیق سے مرزا صاحب کے نام خط لکھا، یہ درست نہیں۔ کیونکہ خواجہ صاحب کے سامنے صرف چند کتب مصنفہ مرزا صاحب پیش کی گئیں اور حکیم نورالدین صاحب سے گفتگو کی گئی۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوسکا کہ خواجہ صاحب نے مرزاصاحب کی ان کتابوں کو جوان کے پاس پہنچیں، کل کامطالعہ کیا۔

خواجہ صاحب کی دوسری اشاعتوں کی تائید مرزا صاحب کی کتابوں سے کی گئی اور کسی دوسری کتاب یارسالہ سے نہیں کی گئی۔ خواجہ صاحب نے ’’اشارات فریدی‘‘ (حصہ سوم ص۴۲) پرمرزا صاحب کے مکاشفات کو غلط ماناہے۔ خواجہ صاحب کے آگے جوکتابیں مرزا صاحب کی پیش ہوئیں، ان میں مرزاصاحب نے محدثیت کا دعویٰ کیاہواہے نبوۃ کا نہیں۔ یہ فریق ثانی کی طرف سے تسلیم کیاگیاہے کہ اس وقت تک مرزا صاحب اپنے آپ کو محدث کہتے تھے۔

خواجہ صاحب کی بشارت اس لئے مدعاعلیہ کے حق میں نہیں ہوسکتی کہ اس وقت تک مرزا صاحب کے وہ اقوال کفریہ جن پر کفر کا فتویٰ دیاگیاتھا، شائع نہیں ہوئے تھے۔

گواہ نمبر۲ نے یہ بیان کیاہے کہ مرزا صاحب کے کسی مرید کے قول وفعل کا اعتبار نہیں، تاوقتیکہ مرزا صاحب کی اصل کتاب کا حوالہ نہ ہو۔ اس طرح خواجہ غلام فرید صاحب کے متعلق بھی یہ کہاجاسکتاہے کہ ’’اشارات فریدی‘‘ میں سے جو بات ان کی طرف منسوب کی گئی ہے وہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ خواجہ صاحب کی کسی اصل کتاب کے حوالے سے نہ ہو۔ کتاب ’’اشارات فریدی‘‘ حسب تسلیم گواہ نمبر۲ فریق ثانی خواجہ صاحب کی وفات کے بعد طبع اور شائع ہوئی۔ خواجہ صاحب نے ملّا رکن الدین کی کوئی توثیق نہیں کی۔ خواجہ صاحب کی تصدیق کے متعلق بھی خود مؤلف کا اپنابیان ہے۔ کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کتاب ’’فوائد فریدی‘‘ (ص ۲۹،۳۰) قابل ملاحظہ ہیں۔ اس سے پایاجائے گا کہ جماعت احمدیہ کے متعلق خواجہ صاحب کا اپناکیاخیال تھا؟ فرقہ احمدیہ کو ناری فرقہ قراردیا اور گواہ نمبر۲ نے تسلیم کیاہے۔ اس وقت ان کا فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہوچکاتھا۔ خواجہ صاحب سال۱۸۸۹ء میں فوت ہوئے۔

ضروریات دین کی تاویل کرنے والا کافرہے۔ اس کی تردید میں فریق ثانی کی طرف سے اس قسم کا کوئی حوالہ نہیں دیاگیا کہ ضروریات دین کی تاویل کرنے والاکافر نہیں۔ حضرت ابوبکرصدیقq کے زمانہ میں جن لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیاتھا، ان کو حضرت ابوبکرصدیقq نے مرتد قراردیاتھا۔ حدیث میں ارتداد کے الفاظ میں جس حدیث کے حوالہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کو کتاب اللہ پرپیش کیاجاوے، اگر مطابق ہوتو قبول کیاجاوے ورنہ نہیں۔ اس کے متعلق خطاب، حقائق اوریحییٰ ابن جعفر ائمہ دین کے لئے ہیں کہ یہ حدیث بے دینوں نے گھڑی ہے۔

حدیث بلاسند معتبر نہیں۔ فریق ثانی نے کہا ہے کہ حدیث بلاسند معتبرہے۔ لیکن جس کتاب کا حوالہ دیاگیاہے اس میں یہ کہیں نہیں کہ حدیث بلاسندمعتبر ہے۔ ملاحظہ ہو(نخبۃ الفکر ص۱۲،۱۳) ’’منصب امامت‘‘ کے حوالہ سے یہ غلط کہاگیاہے کہ جونکاح اور دوسرے معاملات

17

میں ہر ایک شخص سے جو اسلام کا دعویٰ کرتاہے، ویسے ہی معاملہ ہوگا جیسے تمام مسلمانوں سے۔ ’’منصب امامت‘‘ میں دراصل یہ بات درج ہے کہ جودعویٰ اسلام کرتے ہیںکفر اس کا چھپاہواہے، اسلام ان کا ظاہرہے۔ دعویٰ کی تصدیق شعائر اسلامی سے کرتے ہیں۔ شریعت سے دست بردار نہیں ہیں۔ ان سے یہ معاملہ ہوگا۔ (ملاحظہ ہو ص۹۴)

کسی اہل کتاب مرد سے مسلمان لڑکی نکاح نہیں کرسکتی۔ البتہ اہل کتاب کی لڑکی سے مسلمان مرد نکاح کرسکتاہے۔ فریق ثانی کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ اگرکوئی احمدی لڑکی کسی غیر احمدی سے نکاح کرے تو وہ نکاح فسخ نہیں کردیاجاتا۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کواہل کتاب سمجھتے ہیں۔ اس مسئلہ کی رو سے شریعت اسلامیہ کا یہ نیاحکم سمجھاجائے گا کہ مسلمان لڑکی اہل کتاب کے نکاح میں جاسکتی ہے اور نیا حکم شریعت میں پیدا کرنابالاتفاق کفرہے۔ اہل کتاب سے نکاح کامسئلہ مرتدہونے کے مسئلہ سے جداہے۔ یعنی اگر مسلمان عورت عیسائی یایہودی ہوجائے تو اس کا نکاح قائم نہیں رہے گا۔ بلکہ وہ مرتد سمجھی جائے گی اور نکاح فسخ ہوجائے گا۔ مرزا محمود صاحب کی کتاب(ملائکۃ اللہ ص۴۶، انوار العلوم ج۵ ص۴۴۰) پرہے کہ واضح ہو کہ وہ غیراحمدیوں کوکافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے احمدی لڑکیوں کانکاح غیراحمدیوں سے کرنے سے روکتے ہیں۔(دستخط بحروف اردوصاحب جلیس محمداکبر)

بقیہ کارروائی کے لئے مسل کل پیش ہو۔۱۰؍اکتوبر۱۹۳۳ء

(دستخط بحروف اردوصاحب جلیس محمداکبر)

۱۱؍اکتوبر۱۹۳۳ء

فریقین اوران کے مختارحاضرہیں… تتمہ بیان مدعیہ

مفسرین کے اقوال میں جو رطب ویابس درج ہے وہ قصص کے متعلق ہے، اصل احکام کے متعلق نہیں۔ یعنی اصل احکام کی تفسیر میں رطب ویابس نہیں صرف قصص میں ہے۔ جس کی صحت کے لئے کسی اہتمام کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ یہی رائے ابن خلدون کی ہے۔ ملاحظہ ہو(مقدمہ ابن خلدون ص۳۸۳،۳۸۴) اقتباس اور اقسام میں فرق ہے۔ جن اولیاء اللہ کے متعلق آیات قرآن کے مکاشفات بیان کئے گئے ہیں، انہوں نے اپنی عبارتوں میں ان آیات سے اقتباس کیاہے۔ ان میں الہام ظاہر نہیں کیا۔ علم الکتاب میردرد سے جو حوالہ جات پیش کئے ہیں ان کے متعلق اس کتاب کے (ص۶۱، ۶۵) پردرج ہے کہ وہ ان آیات سے اقتباس کررہے ہیں۔ گواہ نمبر۱ نے اپنی جرح مؤرخہ۹؍مارچ۱۹۳۳ء میں تسلیم کیاہے کہ کسی خصوصی مسئلہ پرتمام کی تمام امت اجماع کرے تواس کی تسلیم ضروری ہے۔

’’ارشاد الفحول‘‘ کاجوحوالہ اجماع کے متعلق فریق ثانی کی طرف سے پیش کیاگیاہے ان میں ان الفاظ کی بحث ہے کہ جواجماع پردلالت کرتے ہیں، اس میں الفاظ: ’’لا اعلم خلافاً محالا خلاف فہم‘‘ کے ہیں۔ ان کو اجماع کے الفاظ شمار نہیں کیاگیا۔ مسئلہ ختم النبوۃ میں الفاظ: ’’اجمعت الامتہ‘‘ اور ’’اجماع‘‘ کالفظ پیش کیاگیاہے جس سے اجماع ثابت سمجھاجاسکتاہے۔ متواتر مضمون کے متعلق امام رازی کا جو حوالہ پیش کیاگیاہے، مسلم الثبوت سے اس کی تردید، اس کے نیچے (فواتح الرحمت ص۴۹۷،۴۹۵) پر دی گئی ہے۔ مرزا صاحب نے متواتر مضمون کو زبردست دلیل قراردیاہے۔ (شہادت القرآن ص۲،۳، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

18

گواہ نمبر۲ نے اجماع کے متعلق جوحوالہ جات پیش کئے ہیں ان کی مقدم مؤخر عبارت پوری نہیں پڑھی۔ مسئلہ ختم النّبوۃ میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے گئے ہیں:

آیات قرآن، احادیث، آثارصحابہ، اقوال بزرگان، فیصلہ مفسرین، فیصلہ ائمہ لغت، فیصلہ ائمہ فقہاء مجتہدین۔ مدعیہ کی طرف سے سات آیات ’’خاتم النّبیین‘‘ کی تفسیر میں پیش کی گئی ہیں۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی آیت اس کی تفسیر میں پیش نہیں ہوئی۔ مدعیہ کی طرف سے ایک گواہ نے دوسو سے زائد احادیث اس کے ثبوت میں بتلائی ہیں اور۱۷حدیثیں مختلف بیانات میں صاف اور صریح طور پر پیش کی گئی ہیں۔

مدعاعلیہ کی طرف سے گواہ نمبر۱ نے صرف ایک حدیث اوروہ بھی ضعیف درجہ کی پیش کی ہے اور گواہ نمبر۲ نے دوحدیثیں بیان کی ہیں۔ بزرگان کے اقوال کے متعلق گواہ نمبر۱مدعاعلیہ نے بیان کیاہے کہ قرآن اورحدیث کے خلاف کسی قول یابزرگ کا قول معتبر نہیں ہے۔ آثار صحابہ میں ابن جریر کی عبارتیں پیش کی گئی ہیں اوروہاں۶۴ حوالوں سے اسے ثابت کیاگیاہے اورتمام صحابہ کا اجماع نقل کیاگیاہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے دواقوال پیش کئے گئے ہیں۔ پہلاقول حضرت عائشہt کا بلاسند کے ہے۔ دوسراقول حضرت علیq کا ہے جو’’درمنثور‘‘ سے نقل کیاگیاہے۔ ’’درمنثور‘‘ کے متعلق گواہ نمبر۱کا یہ بیان ہے کہ وہ تفسیر کی کتاب ہے اور اس میں گواہ کے نزدیک رطب ویابس ہیں جوماننے کے قابل نہیں۔

اقوال بزرگان کی فہرست میں مدعیہ کی جانب سے ۲۶اقوال پیش کئے گئے ہیں اور مدعاعلیہ کی جانب سے ۸ حوالہ جات دئیے گئے ہیں، جن میں سے دوحوالہ ’’حجج الکرامہ‘‘ اور ’’اقتراب الساعۃ‘‘ سے ہیں، جوفریقین کے مسلمات میں سے نہیں ہیں۔ مفسرین کے فیصلہ جات کے تحت میں مدعیہ کی طرف سے۱۵فیصلے پیش کئے گئے ہیں اور مدعاعلیہ کی طرف سے ان معنی کے تعیّن کے لئے پیش کئے گئے ہیں اور مدعاعلیہ کی طرف سے اس معنی کے تعیّن کے لئے کوئی بھی حوالہ نقل نہیں کیاگیا۔ لفظ ’’خاتم‘‘ کے لغوی معنی ثابت کرنے کے لئے تین حوالے دئیے گئے ہیں۔ ان میں ایک شہاب کا حوالہ فریقین کا غیر مسلم ہے۔

ائمہ لغت کے ۸ حوالہ جات مدعیہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں جن میں سے ایک کتاب مفردات کے متعلق صاحب اتقان لکھتے ہیں کہ قرآن کے متعلق اس سے بہتر رائے زنی پرکوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ مدعاعلیہ کی طرف سے صرف ایک حوالہ منجد کاپیش کیاگیاہے۔

احکام فقہاء کے تحت۶ حوالہ جات منجانب مدعیہ پیش ہوئے ہیں، جن میں سے ’’بحرالرائق‘‘ کوگواہ نمبر۱مدعاعلیہ نے مسلم اور مستند ماناہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے کوئی حوالہ فقہاء کا پیش نہیں ہوا۔ گواہ نمبر۲ مدعاعلیہ نے اپنے بیان مؤرخہ۲۶؍مارچ۱۹۳۳ء میں یہ تسلیم کیاہے کہ قرآن اورمرفوع متصل حدیث کے خلاف کوئی اور دلیلیں مسموع نہیں ہوں گی۔ حدیث: ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیا‘‘ جومدعاعلیہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے، سند کے اعتبار سے غیرصحیح لفظوں کے اعتبار سے مثبت کی گئی ہے۔

صحیح معنوں کے لحاظ سے ہمارے موافق ہے۔ سند کے لحاظ سے میزان الاعتدال، تقریب تہذیب، مدارج النبوۃ… گواہ نمبر۱، نمبر۲ کی جرح میں پیش کی گئی ہیں۔ میزان الاعتدال اورتقریب التہذیب جرح وتعدیل کی کتابیں ہیں اور اس کے مصنف امام فن حدیث مانے جاتے ہیں۔

مرزا صاحب نے اپنی کتاب(برکات الدعا ص۱۲حاشیہ، خزائن ج۶ ص۱۵) میں یہ لکھاہے کہ ہرایک فن میں اس کے ماہر کی شہادت معتبرہوتی ہے۔ میزان الاعتدال کے مصنف نے یحییٰ ابن معین اوریحییٰ بن معین جرح کے امام ہیں۔ اس کے قول کے حوالہ سے انہوں نے کہا

19

ہے کہ ابن ماجہ ٹھیک راوی نہیں ہیں، غیر معتبر ہے۔ ’’لوعاش ابراہیم… الخ!‘‘ ابن ماجہ سے نقل کی گئی ہے۔ اس طرح حدیث مجروح ہوگئی۔ مرزا صاحب نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) پرلکھاہے کہ حدیث بشرطیکہ جرح سے خالی ہو، معتبرہوگی۔

ملّا علی قاری، حافظ حدیث اصطلاحاً نہیں ہیں، نہ امام جرح اورمقتدمین میں گواہ نمبر۱ نے اسے تسلیم کیاہے۔ ملّا علی قاری نے بھی حدیث مذکورہ بالاکو صحیح نہیں کہا۔ حدیث کے شروع میں لفظ ’’لو‘‘ استعمال ہواہے اور’’لو‘‘جس جگہ داخل ہوتاہے وقوع نہیں ہوتا۔ گواہ نمبر۱ نے اس اصول کو جرح ۸؍مارچ۱۹۳۳ء میں تسلیم کیاہے۔ بخاری جلدنمبر۲صفحہ۹۱۴ پر اس حدیث کے متعلق یہ درج ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے ہیں تو نبی ہوتے۔ مگراللہ کے علم میں یہ تھا کہ حضورa کے بعدکوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ان کا انتقال ہوگیا۔ ابن ماجہ کے جن حوالہ جات سے حدیث:’’لوعاش ابراہیم‘‘ نقل کی گئی ہے۔ اس سے پہلے متصل حدیث مذکورہ بالااجماع ابن ابی اوفی سے نقل ہے۔ کنزالعمال سے ایک حدیث یہ پیش کی گئی کہ ’’یاعم انت خاتم المھاجرین فی الھجرۃ…‘‘ لیکن اس کتاب میں صحیح اورغیرصحیح دونوں حدیثیں ہیں۔ اس کی صحت اور سند کے متعلق کوئی چیز پیش نہیں کی گئی۔ مضمون کے اعتبار سے بھی یہ حدیث ہمارے مخالف نہیں۔ کیونکہ مکہ سے مدینہ کی طرف جو ہجرت تھی فرض تھی اوراس کے آخری مہاجر حضرت عباسq تھے۔ اس کے بعد وہ ہجرت بندہوگئی۔ اس لئے حضرت عباسq ’’خاتم المہاجرین‘‘ شمار کئے جاسکتے ہیں۔ حضرت رسول اللہﷺ نے اعلان فرمایاتھا کہ فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں اورگواہ نمبر۲ نے اس کے یہ معنی بتلائے ہیں کہ کسی قسم کی ہجرت مکے سے مدینے کی طرف باقی نہ رہی۔

جرح … ۲۸؍مارچ۱۹۳۳ء

آثار صحابہ میں حضرت عائشہt کا قول: ’’قولوا خاتم النّبیین ولا تقولوا لانبی بعدی‘‘ فریق ثانی کی طرف سے پیش کیاگیاہے۔ یہ حدیث بھی مستند اور معنی کے لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے۔ یہ حوالہ تکملہ مجمع البحار سے جو لغت کی کتاب ہے پیش کیاگیاہے۔ کوئی سندپیش نہیں کی گئی اور نہ حدیث کی کسی معتبر کتاب سے اسے پیش کیاگیاہے۔ یہ قول رسول اللہﷺ کے قول کے مخالف ہے اور جب کسی صحابی کا قول رسول اللہﷺ کے قول کے مخالف ہو تو وہ قابل اعتبار نہیں۔ کیونکہ حدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ سے اس کا تعارض ہے۔

مدعاعلیہ کی طرف سے حضرت عائشہq کی سند سے رسول اللہﷺ کی حدیث کے مطابق ایک قول نقل کیاگیاہے۔ معنی کے لحاظ سے بھی یہ حدیث ہمارے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت عائشہt یہ فرماتی ہیں کہ کہو تم ’’خاتم النّبیین‘‘ نہ کہ ’’لانبی بعدی‘‘ یعنی مقام مدح میں ’’خاتم النّبیین‘‘ کا لفظ استعمال کرو۔ ’’لانبی بعدی‘‘ کا لفظ نہ کہو۔ کیونکہ اس سے دونوں مطالب آپ کا بالذات افضل ہونا اورآپ کے بعد دوسرے کسی نبی کا نہ آنا پیداہوتے ہیں۔

حضرت علیq کے جس قول کا حوالہ گواہ نمبر۲ نے دیاہے اس کی سند میں اورکوئی چیز پیش نہیں کی گئی۔ بزرگان کے اقوال کے سلسلہ میں گواہ نمبر۱ نے بیان کیاہے کہ صحیح احادیث جہاں ظنی ہیں اور اعتقادیات میں قطعی کا اعتبار ہوتاہے، ظنیات کام نہیں آتے۔ کتاب ’’حجج الکرامۃ‘‘ ہمارے مسلمات سے نہیں ہے اس لئے ہم پرحجت نہیں ہوسکتی۔ ایک شخص کے معتبر ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اس کی تمام تصانیف صحیح اور معتبر ہوں،جس میں اس قسم کا التزام نہ ہو، وہ معتبر نہیں ہوگی۔ موضوعات ملّا علی قاری میں ان کی رائے اورعقیدہ ظاہر نہیں کیاگیا بلکہ موضوع حدیثوں پر تنقید اورتبصرہ کرنے کے لئے لکھی گئی ہے۔ ملّا علی قاری کی دوسری کتابیں عقائد کے متعلق جیسے شرح شفا، شرح

20

فقہ اکبروغیرہ ان میں عقیدہ عام مسلمانوں کے مطابق ظاہرکیاہے۔ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۵۶) کا حوالہ غیر متعلق ہے۔ (شامی ج۲ ص۲۹۴)میں محی الدین ابن عربی سے نقل کیاگیاہے کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ ہماری کتابوں میں نظرکرناحرام ہے اورگواہ نمبر۲ نے تسلیم کیاہے کہ ہرایک کی اپنی اصطلاح ہے اور اس اصطلاح کے خلاف مطلب لینا درست نہیں ہے۔ (یواقیت ص۱۱) پرہے کہ صوفیائے کرام کی عبارت پر اعتراض کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن ان کے الفاظ کی اصطلاح جاننے کے بعد پھر اگر اس کے بعد شریعت کے مخالف ہو تو اسے پھینک دیں گے۔

صوفیائے کرام کی اصطلاح سمجھنے کے لئے یہی مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ گواہ نمبر۲ نے یہ کہاہے کہ انہوں نے صوفیائے کرام کی کوئی کتابیں نہیں دیکھیں اور گواہ نمبر۲ نے یہ کہا کہ فصوص الحکم اورفتوحات مکمل پڑھنے کا موقعہ اسے نہیں ملا۔ شیخ محی الدین ابن عربی کی اصطلاحات کے لئے مستقل تصنیف کبریت احمرہے اورنبوۃ کے معنی صوفیائے کرام کی اصطلاح میں خبر دینے کے ہیں۔ اس کو وہ باقی بتلاتے ہیں اور شریعت کی اصطلاح والی نبوۃ کو ختم بتلاتے ہیں۔ (کبریت احمر ص۱۱۸) اور اس کے شیخ کے نزدیک رسالت کے معنی تبلیغ کے ہیں اور نبوت ولایت کے مقابلہ پرہے۔ (فتوحات ج۳ باب۳۸) شیخ کی اصطلاح میں مشرح ہوتاہے اور نبی اور رسول ہوناایک چیز ہے۔ (فصوص الحکم ص۴۲۷) پرہے کہ کسی قسم کی نبوت چاہے تشریعی یاغیر تشریعی باقی نہیں رہی۔

شیخ محی الدین ابن عربی نے کتاب (یواقیت ج۲ مبحث۳۵ ص۳۸) پرلکھاہے کہ نبوۃ کا دعویٰ کرنے والاحضورa کے بعدخواہ ہماری شریعت کے موافق ہو یامخالف اگر وہ مکلف ہے تو اس کی گردن ماردیںگے۔ ورنہ اس سے گریز کریں گے۔ عبدالکریم جس کا جو حوالہ کتاب ’’انسان کامل‘‘ سے پیش کیاگیاہے وہ بھی صوفیائے کرام کی اصطلاح معلوم ہونے کی بعد بحق مدعاعلیہ مفید نہیں ہوسکتا۔ اس کتاب کے (ص۶۸،۶۹) پرہمارے موافق عبارت موجودہے۔

کتاب (تحذیرالناس ص۳) کی عبارت تاخرزمانی کے بند ہونے کی تصریح کر رہی ہے۔ (ص۲۸) پربالفرض کا لفظ قابل لحاظ ہے۔ اس کتاب کے (ص۱۰) پرخاتم النّبیین بمعنی آخری نبی کے منکر کوکافر قراردیاہے۔ مولانامحمدقاسم صاحب نے اپنی کتاب مناظرہ عجیبہ شرح (تحذیرالناس ص۱۰۳) پرلکھاہے کہ: ’’اپنادین ایمان ہے کہ بعدرسول اللہﷺ کسی اور نبی کے ہونے کااحتمال نہیں جو اس میں تامل کرے۔ اس کوکافر سمجھتاہوں۔‘‘

مثنوی مولاناروم کا یہی ایک شعر پیش کیاگیاہے کہ نبوۃ حاصل ہوسکتی ہے۔ اس شعر میں نبوت کا جو لفظ استعمال ہوا، اس سے کمالات نبوت مراد ہے نہ کہ نبوۃ فی نفسہ۔ حوالہ تفہیمات الٰہیہ میں بھی لفظ تشریح اس معنی میں استعمال ہواہے جو اوپربیان کیاجاچکاہے۔ کواکب دریہ حکیم محمدحسن صاحب امروہہ ہماری غیر مسلم ہے۔ اس میں بھی لفظ تشریع اسی معنی میں استعمال ہورہے جو اوپر بیان کیاجاچکاہے۔ اس مصنف نے اپنی دوسری کتاب ’’تاویل الحکم‘‘ میں لکھاہے کہ تشریعی اورغیرتشریعی دونوں قسم کی نبوت بندہے۔ (ص۴۲۷،۴۲۸) کتاب ’’اقتراب الساعۃ‘‘ ہماری مسلم نہیں ہے۔ اس لئے اس کا حوالہ ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ خود نواب صدیق حسن خان صاحب نے کتاب ’’فتح البیان‘‘ (ص۲۸۷) پر’’خاتم النّبیین‘‘ کی تفسیر ہمارے مطابق کی ہے۔ فیصلہ مفسرین فریق ثانی کی طرف سے کوئی پیش نہیں کیاگیا۔ کتاب ’’سراج منیر‘‘ میں لفظ ’’خاتم‘‘ کے معنوں میں پہلامعنی اخیر کا لکھاگیاہے اور اس کے بعد دوسرا معنی زینت دینے والا لکھاہے۔اسی مفسر کا آخری فیصلہ تفسیر ’’ختم النّبوۃ‘‘ میں مدعیہ کے موافق ہے۔ کتاب ’’سراج المنیر‘‘ لغت کی کتاب نہیں بلکہ تفسیر کی کتاب ہے۔ شہاب ہمارے نزدیک غیرمسلم ہے۔ اس لئے کہ فن کے کوئی امام نہیں اور نہ ان سے کوئی سند پکڑی جاتی ہے۔ بایں ہمہ انہوں نے بھی ’’ختم النّبوۃ‘‘ کے معنی بھی آخری نبی لکھے ہیں۔ روح المعانی کا حوالہ بھی ہمارے موافق ہے۔ کیونکہ اس میں بھی ’’ختم النّبوۃ‘‘ کے معنی آخری نبی کئے گئے

21

ہیں۔ اس کتاب (روح المعانی ص۶۰) پر ایک عبارت جو’’والمراد‘‘ سے شروع ہوتی ہے، وہ اس کا پوراحل کرتی ہے۔ اس ضمن میں (ص۶۵)قابل ملاحظہ ہے۔

مدعاعلیہ کی جانب سے منجد کاجو حوالہ مہر یاانگوٹھی کے معنی کے لئے پیش کیاگیاہے وہ لفظ مفرد خاتم کا پیش ہواہے۔ حالانکہ اسی کتاب کے اندر مضاف ہوکر آخری کے معنی میں استعمال کیاگیاہے اوریہاں بحث مضاف کے اندرہے۔ لہٰذا یہ حوالہ غیر متعلق ہے۔ (ص۱۶۴) اس کے سوااور سب متعارف لغتیں خاتم کے معنی مدعیہ کے موافق بیان کرتی ہیں۔ قرآن مجید کے مطالب شاعرانہ تخیلات کے تحت میں مبالغہ کے طور پر بعض الفاظ بمثل ’’خاتم المحدثین‘‘، ’’خاتم المفسرین‘‘ کے استعمال سے حل نہیں کئے جاسکتے۔ عربی کا جو شعر معنی بیان کرنے کے لئے نقل کیاگیاہے، اس میں بھی قرآن مجید میں استعمال شدہ لفظ کا معنی حل نہیں ہوتا۔ گواہ نمبر۲ نے اسے تسلیم کیاہے۔ علاوہ ازیں یہ شعرشرع میں حجت نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ مابعد کے زمانہ کے شاعر کاہے۔

مرزا صاحب نے سال ۱۹۰۱ء کے بعد خاتم النّبیین کا لفظ استعمال کیاہے۔ لیکن پہلے معنی بدل دئیے ہیں۔ ظلی اور بروزی نبوۃ کی اصطلاح صرف مرزا صاحب کی قائم کردہ ہے۔

مرزا صاحب نے کتاب (ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲) پرختم النبوۃ کے مسئلہ کو پورے طور حل کیاہے۔ مدعیہ کی طرف سے جوآیات خاتم النّبیین کے معنی میں پیش کی گئی ہیں۔ ان کا جواب فریق ثانی کی طرف سے تاویلات سے دیاگیاہے۔ حالانکہ ان کی مراد حدیث اورتفسیر سے متعیّن کی گئی تھی۔

مرزا صاحب نے ایام الصلح کے حوالہ مذکورہ بالا میں تحریرفرمایا ہے کہ: ’’لانبی بعدی‘‘ میں نفی عام ہے۔ وحی رسالت سوائے نبیوں کے اوردوسرے کسی کی نسبت استعمال نہیں کی گئی۔ انبیاء کرام پرجووحی اترتی ہے وہ وحی نبوۃ کہلاتی ہے۔ مرزا صاحب نے(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۳) پروحی نبوۃ کی یہ تعریف کی ہے کہ: ’’کیونکہ جس میں شان نبوۃ باقی ہے۔‘‘ اس کی وحی بلاشبہ وحی نبوۃ ہے۔ دوسری جگہ (سراج المنیر ص۴، خزائن ج۱۲ ص۶) پرہے کہ: ’’نبی کی وحی، وحی نبوۃ کہلائے گی۔‘‘ ( ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پرلکھاہے کہ وحی رسالت وہی ہے جوبتوسط جبرئیل ہو۔ گواہ نمبر۱ نے ۷؍مارچ کی جرح میں تسلیم کیاہے کہ جس میں نئے حکم ہوں، وحی تشریعی ہے۔ مرزا صاحب نے تحریرکیاہے کہ اللہکی طرف سے تھوڑا بہت نازل ہونابرابرہے۔

مرزا صاحب (ازالہ اوہام ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پر لکھتے ہیں کہ وحی نبوۃ پر توتیرہ سوبرس سے مہر لگ گئی۔

مدعیہ کے گواہان نے یہ نہیں کہا کہ وحی مطلق بندہے۔ بلکہ وحی رسالت بندہے اورگواہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گواہان فریق مخالف کہتے ہیں کہ وحی اب کسی پر نہیں ہوسکتی۔

چنانچہ ہمارے گواہ نمبر۲ نے کہاہے کہ ادّعائے نبوۃ اور ادّعائے وحی نبوت بھی کفرہے۔

آیت: ’’وما کان لبشر… الخ! (الشوریٰ:۵۱)‘‘ سے یہ مراد ہے کہ انسان کا خدا سے ہم کلام ہونا تین طریق پرہے۔ اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وحی نبوۃ انبیاء سے مخصوص ہے یانہیں یایہ کہ رسول اللہﷺ کے بعد نبوت جاری رہ سکتی ہے۔ یہاں لفظ ’’لبشر‘‘ سے مراد نبی ہی ہے۔ عام بشرنہیں۔ اگروحی سے مراد وحی نبوت لی جاوے تو عام بشرمراد نہیں ہوگا۔

’’واوحینا الٰی ام موسٰی… (القصص:۷)‘‘ کی آیت میں جس وحی کا ذکرہے۔ وہ وحی نبوۃ نہیں۔ کیونکہ ام موسیٰ عورت تھیں۔ عورت نبی نہیں ہوسکتی۔ حضرت مریم کے متعلق جو آیات پیش ہوئی ہیں ان کا بھی یہی جواب ہے۔

22

ذوالقرنین کے متعلق جوآیت ہے: اس سے بھی یہ قرارنہیں دیاجاسکتاکہ ان کو جو وحی ہوئی وہ وحی نبوت تھی۔ کیونکہ ان کے متعلق دوقول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبی تھے۔ دوسرا یہ کہ نبی نہ تھے۔ راجح یہی ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔ اگر نبی تھے تو وحی نبوت سمجھی جائے گی۔ اگر نبی نہ تھے توجووحی انہیں ہوئی وہ وحی نبوۃ نہ تھی۔ اسی طرح حوارین کی طرف وحی بھی وحی نبوت نہ تھی۔ حضرت ابراہیم کی اہلیہ کی طرف بھی بوجہ عورت ہونے کی وحی نبوت نہیں ہوسکتی تھی۔ صوفیائے کرام کے متعلق یواقیت میں جس وحی کا ذکرہے وہ وحی الہام ہے۔ وحی نبوۃ نہیں ہے۔ ’’مستجیب لہٗ‘‘ کے معنی کلام کرنے کے نہیں ہیں بلکہ دعا قبول کرنے کے ہیں۔ گواہ نمبر۱ نے اس کے یہ معنی لئے ہیں کہ اگر جواب نہ دے اورکلام نہ کرے تو وہ اور معبودان باطلہ کے مرید ہوجائیں گے۔

اجیب کے معنی قبول کرنے ہیں، کلام کرنے کے نہیں ہیں اورنہ کسی نے مراد لی ہے۔ اس آیت میں ’’واذاسألک عبادی عنی فانی قریب… الخ! (البقرۃ:۱۸۶)‘‘ میں اجیب کے معنی کلام کرنے کے نہیں ہیں۔ اسی طرح آیت:’’ان الذین قالوا ربنا اللہ… الخ! (حم السجدۃ:۳۰)‘‘ اس سے مراد موت کے فرشتوں سے ہے۔ اس سے وحی نبوۃ کا اجراء ثابت نہیں ہوتا۔ آیت: ’’رفیع الدرجات ذوالعرش… الخ! (المؤمن:۱۵)‘‘ میں یہ بتلایاگیاہے کہ فرشتے کا اترنا وحی الٰہی لے کر اللہکی نظر استجاب پرہے، نہ کسی اوردنیوی جاہ وجلال پر۔ آیت:’’کنتم خیرامۃ… الخ! (آل عمران:۱۱۰)‘‘ بھی اجراء نبوت کے لئے غیر متعلق ہے۔

آیت: ’’تنزل الملٰئکۃ والروح‘‘ کا بھی اجراء نبوۃ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان آیات سے احمدیہ جماعت کے وجود سے پہلے کسی صحابی، تابعی یا مفسر نے ان آیات سے اجراء نبوۃ پردلیل نہیں پکڑی۔ اسے تفسیر بالرائے کہاجائے گا جوغیر معتبر سمجھی جائے گی۔ اسی طرح جو احادیث نقل کی گئی ہیں ان سے بھی اجراء نبوۃ ثابت نہیں ہوتی۔

بزرگان کی زبان پرفرشتوں کا گفتگو کرنا اورچیز ہے اور ان سے فرشتوں کاکلام کرنا اورچیز۔ حدیث:’’واحی اللہ علی عیسٰی‘‘ کو مرزا صاحب نے کتاب (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹،۲۱۰) میں اسے مجروح قراردیاہے اور اگر حدیث تسلیم کرلی جاوے تو یہاں وحی بمعنی الہام ہے۔

فتوحات مکیہ کا جوحوالہ پیش کیاگیاہے کہ اس میں وحی تشریعی کو محققین نے انبیاء کے ساتھ بتلایاہے جو ہمارے مدّعا کے موافق ہے۔

(کبریت احمرص۱۰) پر یہ تصریح کی گئی ہے کہ وحی تشریعی جو وحی نبوت ہے وہ بندہوچکی اورعیسیٰؑ پرکوئی جدید وحی نہ ہوئی اوراولیاء پرجووحی ہوتی ہے وہ بھی الہام ہے اوروحی الہام بندنہیں بلکہ جاری ہے۔

مجدد صاحب نے جس کلام الٰہی کا ذکرکیاہے وہ وحی ہے جو محدثین پرہوتی ہے اور وہ وحی الہام ہے۔ وحی نبوت نہیں ہے۔

مولانا روم کے جو اشعار اس بارہ میں نقل کئے گئے ہیںوہاں وحی ولی کا ذکرہے۔ وحی نبوت کا نہیں۔

منصب امامت سے جو حوالہ اس غرض کے لئے پیش کیاگیاہے کہ وحی نبوۃ جاری ہے۔ وہاں صرف یہ اصطلاح بتلائی گئی ہے کہ انبیاء اللہ پرجوالہام ہوتاہے اسے مجازاً وحی کہتے ہیں اور قرآن کے سواکسی کے لئے ثابت ہو تو اسے تحدیث کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ الہام جو انبیاء اللہ سے ثابت ہے اسے وحی کہتے ہیں اور اگر ان کے سواکسی اورکوثابت ہوتو اسے تحدیث کہتے ہیں اورکبھی کتاب اللہ مطلق الہام کوخواہ انبیاء اللہ سے ثابت ہو۔ خواہ اولیاء اللہ سے وحی کہتے ہیں۔ امام غزالی کا جو حوالہ (الیواقیت ج۲ ص۷۵) سے پیش کیاگیاہے۔ وہ وہاں تردیدی طور پر نقل کیاگیاہے۔ اس سے استدلال نہیں پکڑاجاسکتاہے۔

23

’’روح المعانی‘‘ کا جو حوالہ اجراء نبوۃ کے متعلق پیش کیاگیاہے اس کا دارومدار حدیث نواس ابن سمعان پرہے۔ جسے خود مرزا صاحب نے مجروح قراردیاہے۔ ’’حجج الکرامہ‘‘ کے مصنف کوئی بہت بڑے عالم نہیں۔ اس لئے ہمارے لئے ان کا کوئی قول حجت نہیں۔ وہ غیر مقلد ہیں اور ان کے ساتھ مقلدین کی لڑائی رہی ہے۔ اس لئے ’’حجج الکرامہ‘‘ ہمارے لئے مسلم نہیں ہے۔

انسداد وحی کے متعلق مدعیہ کی طرف سے چھ آیات پیش کی گئیں کہ رسول اللہﷺ کے بعد وحی نبوت مسدود ہے اور اس کے متعلق ۲۵یا۲۶ احادیث بیان کی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتاہے کہ وحی نبوت مسدود ہے۔ حضرت عمرqفرماتے ہیں کہ: ’’بے شک وحی منقطع ہوچکی ہے۔‘‘(بخاری ج۱ ص۳۶۰)

حضرت ابوبکرq کا قول ہے کہ: ’’وحی منقطع ہوچکی اوردین پوراہوگیا۔‘‘ (مشکوٰۃص۵۴۸)

(علم الکتاب ص۱۱) پر ہے کہ اختتام وحی کہ آن نیز بمثل الہام دوقسم است… ومنقطع شدند کارخانہ وحی بعدخاتم الانبیاء۔ مسیلمہ کذاب کے متعلق فریق ثانی کی طرف سے تاریخ خمیس بخاری، اشارات فریدی کے حوالہ جات ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے یہ ثابت کیاگیاہے کہ مسیلمہ کو صرف دعویٰ نبوۃ کی وجہ سے کافر سمجھا گیا اور صحابہ نے اجماع کیاکہ وہ کافرہے۔

ذریۃ البغایا کے معنی لغت کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن جرح گواہ نمبر۱مؤرخہ۱۲؍مارچ۱۹۳۳ء میں مرزا صاحب کی کتب ذیل (لجنۃ النورص۳۱، خزائن ج۱۶ ص۳۷۱ ودیگر صفحات) سے ثابت کیاگیاہے کہ ذریۃ البغایا حرامی یاحرام زادہ کے معنی میں استعمال کیاگیاہے۔ ان حوالہ جات میں بغیہ یا بغایا کے تحت معنی بیان کئے گئے ہیں۔ دوسری کتاب لغت (فائق ج۱ ص۶، منتہی الارب ج۱ ص۳۹) سے یہ دکھلایا گیا ہے کہ بغیہ کے معنی زانیہ کے ہیں۔

دستخط صاحب جلیس بحروف انگریزی… محمداکبر

عدالت:بقیہ کارروائی کے لئے مسل کل پیش ہو۔ ۱۱؍اکتوبر۱۹۳۳ء

دستخط صاحب جلیس بحروف انگریزی… محمداکبر

۱۲؍اکتوبر۱۹۳۳ء

فریقین اوران کے مختاران حاضر ہیں… تتمہ بحث مدعیہ

مرزا صاحب نے فتوحات کی عبارات سے جن میں یہ ذکرہے کہ نبوۃ تشریعی بندہے۔ یہ استدلال کیاہے کہ جو شخص نبوۃ کے ساتھ شریعت کا دعویٰ کرے، یہ نبوت خاتم النّبیین کے خلاف ہے اور اس کے نبی ہوسکتاہے۔ تشریعی کے معنی صاحب شریعت ہونا جو مرزا صاحب نے مراد لیاہے کہ اس کے ساتھ کتاب مستقل ہو۔ احکام نئے ہوں۔ بعض پہلے احکام کافسخ ہو۔ یہ معنی تشریعی کے نہ کسی لغت کی کتاب میں ہیں اور نہ حدیث اورتفسیر اور نہ قرآن شریف میں، نہ مرزا صاحب نے اور گواہان مدعاعلیہ نے کہیں اس کا ثبوت دیاہے۔ اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتاہے کہ نبوۃ تشریعی کی تعریف خود شیخ مصنف فتوحات کے کلام سے کردی جائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس نبوت کی ہم نے تفسیر کی ہے ایک نبی محض ایک رسول محض اور ایک نبی اور ایک رسول دونوں اس سے ہماری مراد نبوت تشریعی ہے کہ جو اولیا کے لئے نہیں ہوتی۔ اس عبارت میں تشریعی کے معنی بیان کردئیے کہ اولیاء کے مقابل ہے کہ جس کو شریعت اور عرف اور اصطلاح اسلام میں نبوت کہتے ہیں۔ اس کو شیخ نے نبوت تشریعی کے ساتھ اداکیاہے۔ اب نبوت تشریعی سے وہ معنی جو مرزا صاحب نے لئے، مراد نہیں لئے جاسکتے۔

24

گواہ مدعیہ نے مرزا صاحب کے مدعی شریعت ہونے پر جو تریاق القلوب کی عبارت پیش کی ہے، اس کا جواب مدعاعلیہ کی طرف سے یہ دیاگیاہے کہ مرزا صاحب کی مراد نبی صاحب شریعت اورملہم اورمحدث کا حکم بیان کرناہے، نہ کہ نبی غیرصاحب شریعت کا۔ یہ جواب صحیح نہیں۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ اس وقت تک مرزا صاحب کے نزدیک نبی تشریعی وہی تھا جو نبی صاحب شریعت ہو۔ یہ جدید اصطلاح سال۱۹۰۱ء میں پیداہوئی ہے۔ لہٰذا تریاق القلوب جو سال۱۹۰۱ء سے قبل کی ہے۔ اس میں وہ معنی مراد نہیں ہوسکتے۔ دوسرامرزا صاحب نے خود یہ جواب نہیں دیابلکہ وہ مکفر اور منکر کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ اس لئے گواہان کا جواب متکلم کی اپنی مرادکے خلاف ہے۔ فریق ثانی کی طرف سے تین آیات اجراء وحی اورنبوت رسالت کے باقی ہونے کے متعلق بیان کی ہیں۔ وہ معنی کسی ایک محدث اور مفسر یا صحابہ سے منقول نہیں۔ یہ معنی خود انہوں نے ایجاد کئے ہیں۔ اگر ان معنی کوصحیح مان لیاجاوے تو پھر وہ نبوۃ کہ جس کے ساتھ کتاب مستقل ہواور شریعت مستقل ہو اور پہلی شریعت کے کل یا بعض احکام کافسخ ہو جو مرزا صاحب کے نزدیک بھی یہی ہے اور اس کا مدعی کافرہے۔ اس کا باقی ہونا بھی ان آیات سے ثابت ہوجائے گا۔

کسی نبی کی توہین باتفاق کفرہے۔ مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیاگیاہے کہ مرزا صاحب نے انبیاء کی توہین کی ہے۔ منجملہ ان کے حضرت عیسیٰؑ کی توہین میں بہت کچھ کہاگیاہے۔ مدعاعلیہ کی طرف سے یہ جواب دیاگیاہے کہ عیسیٰؑ کی توہین کے متعلق جوکچھ کہاگیاہے یہ ایک فرضی مسیح کے متعلق ہے اور بطور الزام کے کہاگیاہے۔ گواہان کا یہ جواب درست نہیں ہے کہ یہ الفاظ جن کو توہین قراردیاگیاہے بطورالزام کے استعمال کئے گئے ہیں۔ اس واسطے کہ گواہان مدعاعلیہ نے ازالہ اوہام مولانارحمت اللہ صاحب اوراستفسار مولوی آل حسن صاحب امروہی اورہدیۃ الشیعہ مولانامحمدقاسم صاحب کی بہت سی عبارت نقل کی ہے اورخود بھی اپنے بیانات میں ان مصنّفین کی یہ عبارت بھی نقل کردی ہے کہ یہ ہم نے جوکچھ لکھاہے الزام کے طور پرلکھاہے جو عیسائیوں کی کتاب سے ثابت ہوتاہے۔ ورنہ ہم ایسانہیں لکھ سکتے۔ مرزا صاحب انجام آتھم میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھلابراکیاہے وہ یسوع کوکہاہے۔ عیسیٰؑ کو نہیں کہا۔ مرزا صاحب کی کتاب سے یہ ثابت کیاگیاہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک یسوع اورعیسیٰؑ ایک ہی ہیں۔ چنانچہ گواہان کی جرح میں بھی یہ ظاہر کیاگیاہے۔یسوع مسیح ایک ہیں۔ مرزا صاحب نے ایک جواب (ضمیمہ تریاق القلوب ص ب، خزائن ج۱۵ ص۴۹۰) پریہ دیاہے کہ انہوں نے جو کچھ توہین کی ہے، بدنیتی سے نہیں کی بلکہ مسلمانوں کاجوش ٹھنڈا کرنے کے لئے۔ اس سے یہ الزام نہیں آتا کہ عیسیٰؑ کی توہین کی جاتی۔ مرزا صاحب نے قبول کیاکہ انہوں نے عیسیٰؑ کی توہین کی۔ اس کی وجہ سے یہ بیان کی کہ مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا ہوجائے اورنقض امن نہ ہو۔ یہ توہین باعث کفر اورارتداد ہے جومرزا صاحب کے اقرار سے ثابت ہوتی ہے۔

مرزا صاحب (اعجاز احمدی ص۳۸، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسینq کی نسبت لکھاہے یا عیسیٰؑ کی نسبت کہا یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پرزبان درازی کرتاہے۔ میں یقین رکھتاہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یاحضرت عیسیٰؑ جیسے راست باز پربدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے جوکچھ کہاباذن الٰہی ہے۔

جن جن باتوں سے گواہان مدعیہ نے جو الفاظ توہین کے بیان کئے ہیں نہ اس میں فرضی عیسیٰؑ کوگالیاں دی گئی ہیں نہ الزام ہے۔ بلکہ مرزا صاحب اپنی تحقیق بیان فرماتے ہیں۔ لہٰذا ہرہرفقرہ مرزا صاحب کے کفر اور ارتداد کا باعث ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) کے حوالہ سے جوتوہین کے الفاظ مدعیہ کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں ان سے صریح گالیاں ثابت ہوتی ہیں۔ ان گالیوں کو مرزا

25

صاحب نے اتنا مدلل اورمحقق کرکے بیان کیاہے کہ جس کا حاصل یہ ہے۔ خداعلیم وخبیر کے نزدیک بھی معاذاللہ! یہ تمام عیوب حضرت عیسیٰؑ کے اندر موجودتھے۔ (دافع البلاء اندرون ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹،۲۲۰) کی جوعبارت مدعیہ کی طرف سے بیان کی گئی ہے اس کا جواب گواہان مدعاعلیہ نے یہ دیاہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی نسبت اللہتعالیٰ نے حصور کالفظ نہیں فرمایا۔ یہ وجہ توہین کی ہے اور دوسراجواب یہ دیاہے کہ مرزا صاحب یہ جواب دے رہے ہیں۔ عیسائیوں کا اور ان مسلمانوں کاجو عیسیٰؑ کو سب نبیوں سے افضل سمجھتے ہیں یہ دونوں جواب بالکل غلط ہیں۔ یہ وجہ کہ استدلال لفظ حصور نہ ہونے سے ہے۔ یہ گواہان نے خود اپنی طرف سے پیش کر کے اس کو رد کیاہے۔ گواہان مدعاعلیہ کا ہرگز منشاء نہیں۔ دوسراجواب بھی بالکل غلط ہے۔ اس واسطے کہ مسلمان میں ایسا کسی کا عقیدہ ہی نہیں کہ عیسیٰؑ سب انبیاء سے افضل ہیں۔ عیسائی قرآن کو بھی نہیں مانتے۔ مرزا صاحب حوالہ مذکورہ بالا میں عیسیٰؑ کے متعلق کہتے ہیں کہ میں انہیں بے شک ایک راست باز آدمی جانتاہوں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ انہیں نبی نہیں سمجھتے۔ ورنہ راست بازی کاوصف کافر میں بھی پایاجاسکتاہے اور یہ بھی ایک موجب توہین ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ اپنے زمانے کے لوگوں سے البتہ اچھاتھا۔ اس کے آگے خدامعلوم وہ بھی درست ہے یا نہ۔ اس کی تصریح آگے حاشیہ کے مضمون سے ہوتی ہے۔ جہاں یہ درج ہے کہ یہ جو ہم نے یہ کہا…ہمارا ایمان محض نیک نیتی کے طور پرہے… افضل اوراعلیٰ ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ورنہ کے استعمال سے ماقبل عبارت کی تردید نہیں ہوتی بلکہ یہاں ماقبل اورمابعد کا ایک معنی نکلتاہے۔ آگے کی عبارت میں الفاظ ذیل کہ اسی وجہ سے خدانے قرآن میں یحییٰ کانام حصورکہا،مگر مسیح کایہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے… سے ثابت ہوتاہے کہ مرزا صاحب قرآن کی تفصیل فرماتے ہیں اور اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہتعالیٰ نے عیسیٰؑ کو جو حصورنہیں فرمایا۔ اس کی وجہ سے صرف یہی ناپاک قصے تھے توگویاخداکے علم میں بھی مرزا صاحب کے نزدیک عیسیٰؑ ان ناپاک قصوں سے ملوث تھے۔ جن کی وجہ سے اللہتعالیٰ نے انہیں حصور نہ کہا۔ اس عبارت سے چند نتیجہ نکلتے ہیں۔ خدا خدائی کے قابل نہیں عیسیٰؑ نبوۃ کے قابل نہیں۔ نبوۃ ایک ایسامرتبہ ہے کہ معاذاللہ! بدمعاش اوررنڈی بازوں کو مل جاتاہے اوراس سے تمام شریعت اورتمام انبیاءؑ اور مرتبہ نبوۃ کی کھلی توہین ہے۔ اس سے مرزا صاحب کافر اورمرتد ہوئے۔ لفظ حصور کے عدم استعمال کے متعلق جو اعتراض گواہان مدعاعلیہ نے گواہان مدعیہ پرکیاتھا وہ خود مرزا صاحب پروارد ہوتاہے۔

مرزا صاحب نے (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) میں یہ کہاہے کہ: ’’عیسیٰؑ کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘ اور پھر (کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵) میں لکھتاہے کہ: ’’ممکن نہیں کہ تینوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔‘‘ آگے (ازالہ اوہام ص۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶) کی عبارت سے ظاہر ہوتاہے کہ: ’’عیسیٰؑ کی جھوٹی پیش گوئیاں زیادہ تھیں اورسچی کم۔‘‘ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عیسیٰؑ نبی نہ تھے۔

(اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) کی عبارت کے الفاظ مذکورہ بالا سے بھی تحت میں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ عیسیٰؑ کو صرف قرآن کے اعتبار پرسچا ماناگیا۔ ورنہ یہودیوں کوان پر سخت اعتراض تھا۔ (حاشیہ کتاب کشتی نوح ص۶۶، خزائن ج۱۹ ص۷۱ حاشیہ) کی عبارت سے عیسیٰؑ کی صاف توہین ظاہر ہوتی ہے جو کفر کی حد تک پہنچتی ہے۔ اس عبارت میں مخاطب بھی مسلمان ہیں۔

جب مرزا صاحب نے عیسیٰؑ کے دوبارہ تشریف لانے سے انکار کیا اورخود اس منصب کو اپنے لئے تجویز فرمایا۔ عیسیٰؑ سے اپنے آپ کو شان میں اعلیٰ اورافضل بتلایا تو اب یہ سوال پیداہوا کہ وہ معجزات کہاں ہیں جوہر شان میں بڑھے ہوئے ہوں۔

26

اس وجہ سے مرزا صاحب کو اس کی ضرورت پڑی کہ ان تمام معجزات کا بالکلیہ انکار کیا۔کہیں ان کو مسمریزم بتلایا، کہیں شعبدہ بازی بتلایا،کہیں بڑھیوں کے کھلونوں سے تشبیہ دی، کہیں قابل نفرت بتلایا۔ حالانکہ یہ تمام معجزات قرآن شریف میں مذکور ہیں اور امت کا اس اعتقاد پر ہے۔

مگر مرزا صاحب نے سب کا انکار کردیا اور اس توہین سے سب کافر ہوئے اور ان چیزوں کو مشرکانہ خیال فرماکر ساری امت کو بھی مشرک کہاجوایک دوسری وجہ کفرکی ہے۔

مرزا صاحب نے نہ صرف دیگر انبیاءؑ کی توہین کی ہے بلکہ خود حضورسرورعالمa کی بھی توہین کی ہے۔ مثلاًتحریر کیاہے۔(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)کہ ’’رسول اللہﷺ کے تین ہزار معجزات تھے۔‘‘ اور ان کے اپنے تین لاکھ۔ اس کا جواب یہ دیاجاتاہے کہ مرزا صاحب نے اپنے لئے معجزات کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بلکہ نشان کیاہے۔ معجزہ خارق عادت کو کہتے ہیں۔ مرزا صاحب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲) پرلکھتے ہیں کہ: ’’ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر مثالوں پرمشتمل ہیں جودس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اورنشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجہ پرخارق ہیں۔‘‘

مرزا صاحب نے رسول اللہﷺ کی عینیت کا دعویٰ کیاہے اور عینیت کا دعویٰ کرنا صریح کفرہے۔ گواہان فریق ثانی نے اس کا یہ جواب دیاہے کہ یہ عینیت جسمانی نہیں تھی۔ اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ جسم دو تھے اورروح ایک تھی تو یہ عین تناسخ ہے جو سب کے نزدیک باطل اورموجب کفر ہے اور اگر مرزا صاحب میں دوروحیں تھیں توکون سی روح تھی۔ اگر رسول اللہﷺ کی تھی تونبوۃ اس روح کے ساتھ رہی۔ مرزا صاحب کو پھر نبی کہنا کفر کی حد تک پہنچتاہے۔ اس ضمن میں فریق ثانی کی طرف سے فتوحات مکیہ اور مکتوبات وغیرہ سے جو صوفیائے کرام کے اقوال پیش کئے گئے ہیں، وہ بالکل بے محل اور مدعا علیہ کے کفر اور مدعیہ کے لئے مفید ہیں۔ اس لحاظ سے کہ جو حوالہ جات دئیے گئے ہیں ان میں سے بعض کی پہلے کی عبارت حذف ہے۔ بعض کی مابعد کی عبارت حذف ہے۔

اوربعض جگہ یہ مطلب لیاگیاہے جومصنف کی تصریح کے بالکل خلاف ہے۔ بعض جگہ ترجمہ میں غلطی کی ہے۔ اس کے علاوہ کلیتاً تمام حوالوں کا جواب یہ ہے کہ جس قدر عبارات صوفیائے کرام کی نقل کی ہیں، ان میں سے ایک شخص بھی مدعی نبوت نہیں ہے۔ نہ مدعی رسالت ہے، نہ مدعی وحی نبوت ہے، نہ مدعی وحی رسالت ہے۔ ان کی تصریحات بھری ہوئی ہیں کہ کوئی ولی اگرچہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کاہو، اور امت محمدیہ میں سب سے افضل ہو۔ جیسا حضرت ابوبکرصدیقq نبیوں کی جماعت میں سے جو سب سے کمترنبی ہیں، ان کا سران کے قدم کے نیچے رہتاہے۔ یعنی کوئی ولی کتنے ہی اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا ہو وہ نبیوں میں ادنیٰ مرتبہ کے نبی کوبھی نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ اس سے نیچے رہتاہے۔ برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ افضل تو کیسے ہوسکتاہے۔ مقام نبوۃ میں کوئی ولی جانہیں سکتا۔ فوراً فناہوجائے گا۔ اعلیٰ درجہ کے جو بھی اولیاء ہیں، ان کی حالت ایسی ہے کہ جیسے ہم نیچے سے ستارے کو دیکھتے ہیں۔ مقام نبوت سے کسی ولی کو کوئی حصہ نہیں۔

اب اگر کسی کے کلام میں کوئی ایسی بات ہو، مثلاً کہ میں فلاں نبی کے مقام میںگیا یاکہہ دے کہ میں مقام محمود میںگیا، توان کا مطلب ان کی حسب تصریحات یہی ہوسکتاہے کہ میں نے ان مقامات کی دور سے زیارت کی یاجیسے کسی خاص تقریب کے وقت کسی خاص شاہی مکان کے دیکھنے کی عام رعایا کو اجازت ہوجاتی ہے اور اس مکان کو جاکر دیکھتاہے تو یہ کہنا اس کا صحیح ہے کہ میں اس مکان میںگیا۔ اس مکان میں بیٹھا۔ مگر اس کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ وہ اس مکان کا مالک ہے یا وہ اس کی جگہ ہے یا وہ اس کامدعی ہے یا وہ اس مرتبہ کے لائق ہے۔

27

جیساحضرت مجدد صاحب نے فرمایاہے کہ انبیاءؑ سرورعالمa کے دسترخوان کے شریک اورہم جلیس ہیں۔ اگرچہ سب آپ کے طفیلی ہیں۔ مگر دوسرے اولیاء اللہ کل وہ پس خوردہ اوربقیہ کھانے والے ہیں۔ مرزا صاحب مقام نبوت کے مدعی ہیں۔ وہ جس چیز کو اپنے لئے ثابت کرتے ہیں، بطریق استحقاق اوربطریق منصب ثابت کرتے ہیں۔ مرزاصاحب کے کلام میں اگرکوئی ایسی چیز ہوگی توبے شک مرزا صاحب کا اس سے کفر اور ارتداد ثابت ہوگا۔ بخلاف دوسرے اولیاء کے مرزا صاحب کے بھی بظاہر یہ الفاظ ہیں کہ میری کوئی وحی قرآن کے مخالف نہیں۔ مگر مرزا صاحب کے یہ الفاظ ہی الفاظ ہیں کہ جن کے اندر معنی نہیں ہے۔ اس واسطے کہ (ایام الصلح ص۸۶، خزائن ج۱۴ ص۳۲۲) پرمرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن اورحدیث کے معنی بیان کرتے ہیں۔ بہرحال ان کا کلام معتبرہوگا۔‘‘ لہٰذا جتنے حوالے فریق ثانی کی طرف سے مدعیہ کے خلاف پیش کئے ہیں ان میں ایک بھی حوالہ ان کے لئے مفید نہیں۔

مدعیہ کی طرف سے یہ کہاگیاہے کہ تمام انبیاءؑ جناب رسول اللہﷺ کی ایک ایک صفت میں ظل تھے اور مرزا صاحب تمام صفات میں ظل ہیں۔ جوکمالات کہ تمام انبیاءؑ میں متفرق طور پرپائے جاتے تھے وہ مرزا صاحب میں مجتمعا پائے جاتے ہیں۔ یہ عبارت قول فیصل سے نقل کی گئی تھی۔ اب ( تشہیذ الاذہان ج۱۰ ص۱۳) پربھی یہی عبارت ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۹۳، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸) پرمرزا صاحب ’’انافتحنالک فتحاًمبینا‘‘ اورآیت:’’سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہٖ… الخ!‘‘

(ص۱۹۴، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸،۲۸۹) پراپنے لئے ثابت فرماکر معنی یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ کے فتح سے مرزا صاحب کے زمانہ کی فتح بہت بڑی اورظاہر ہے۔ مسجد حرام میں نورکامل نہ تھا اورمسجد اقصیٰ یعنی مرزا صاحب کی مسجد کے گرداگرد نور اس درجہ کامل ہوگیاہے کہ اس کے اوپرترقی ممکن نہیں۔ (حاشیہ درحاشیہ ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص الف،ت، خزائن ج۱۶ ص۳۰۸تا۳۱۲) کی عبارت سے آدمm کی توہین ہوئی ہے۔ گواہ مدعیہ نمبر۳ نے(تریاق القلوب ص۳۷۷) سے یہ ثابت نہیں کیا کہ مرزا صاحب اس کے تناسخ کے قائل ہیں۔ بلکہ اس سے اور (قول فیصل ص۷) کی عبارت سے یہ ثابت کیاہے کہ مرزا صاحب جو اپنے آپ کو ظلی بروزی نبی کہہ کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی نبوت، نبوت محمدیہ سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ یہ بالکل لغو اور بیہودہ خیال ہے۔ دوسرا رسول اللہﷺ ابراہیمm کے بروز ہوئے۔

اورخاتم النّبیین آپ ہوئے۔ اس عبارت پر گواہ مدعاعلیہ نے جو یہ کہاہے کہ اس سے تناسخ ثابت ہوتاہے۔ اس سے کوئی تناسخ ثابت نہیں ہوتا اور نہ گواہ نمبر۳ نے تناسخ ثابت کیاہے۔ جب عبارت مذکورہ بالا سے حضور سرورعالمa کی توہین اور تمام انبیاءؑ پر فضیلت اور ان کی توہین بھی بہ ضرورت ثابت ہوگی تو اب جس قدر اشعارگواہان مدعیہ نے توہین انبیاءؑ میں مرزا صاحب کے پیش کئے ہیں، ان سب کے معنی بجز توہین کے اور کچھ نہیں ہوئے۔ ۱۵آیات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ قیامت کے دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے، نفخ صورہوگا۔

مرزا صاحب نے ان تمام چیزوں کا بالکل انکار کردیاہے۔ یہ لفظ بے شک کہاہے کہ حشرا جساد ہے۔ مگر جب جنتی جنت میں رہیں گے اوردوزخی دوزخ میں رہیں گے تو قبر سے پھرکون نکلے گا اورنفخ صور سے جمع کس کوکیاجائے گا۔ اس بحث کو مرزا صاحب نے ازالہ میں مفصل بیان کیاہے۔ لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ یہ مسئلہ مسلم ضروریات دین سے ہے اورایسا مسلم ہے کہ مرزا صاحب اور ان کے متبعین اورگواہان مدعاعلیہ بھی اس کا انکار نہ کرسکے۔

28

مگر محض الفاظ ہیں معنی کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح سے اگر اورتمام ضروریات دین کا کوئی شخص انکار کردے اور لفظ وہی کہتا رہے تواسلام کا ایک رکن باقی نہیں رہ سکتا۔

اوراسلام چند الفاظ کا نام رہ جاتاہے اور یہ باتفاق کفروارتداد ہے۔ چونکہ حشراجساد تقریباً سوآیات سے زیادہ میں مذکور ہے اورایک آیت کا انکار کرنابھی کفرہے۔ لہٰذا کم سے کم ایک وجہ یہ مرزا صاحب کے کفر کی ہے اورچونکہ قبروں سے اٹھنا بھی ضروریات دین سے ہے اورقبروں سے اٹھنے والے کروڑوں کیا، اربوں ہیں اورمرزا صاحب نے ہرایک کا قبر سے اٹھنے کاانکار کیا۔ لہٰذا بے شمار اس وجہ سے کافر اورمرتد ہوئے۔ پھر جب قیامت سے انکارہے تو حوض کوثر بھی ندارد۔ ’’انا اعطینک الکوثر‘‘ سے بھی انکار ہوا اوریہ بھی کفر ہے۔ اس سے شفاعت کبری کے انکار کا بھی نتیجہ نکلتاہے۔ اس عقیدہ سے پل صراط بھی ندارد سمجھی جائے گی۔

(شہادت القرآن ص۶۴، خزائن ج۶ ص۳۶۰) پرمرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن میں نفخ صور سے مراد قیامت نہیں بلکہ اسلامی طاقت کاکم ہونا اورامواج فتن کا اٹھنا۔ بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی مہدی اورمجدد کولے جاوے۔‘‘ (ص۲۴، خزائن ج۶ ص۳۲۰) پرہے کہ: ’’لڑائیوں اورمباحثات کے شور اٹھنے پر نفخ صورہوگا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۷۷، خزائن ج۲۳ ص۸۵) پر’’صور سے مراد مسیح موعود لیاگیاہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۳، خزائن ج۲۱ ص۱۰۹) پر بھی یہی عبارت ہے۔

مدعاعلیہ نے اپنے اقرار سے احمدی یا مرزائی مذہب کو قبول کیاہے اورمرزا صاحب کو ویسا ہی نبی سمجھتاہے، جیسے اورانبیاءؑ ہیں۔ نکاح کے وقت وہ اس مذہب پرنہیں تھا۔ گواہان مدعیہ اوربحث سے یہ امرقرآن، حدیث، اجماع امت سے ثابت ہوگیا کہ مدعیہ کا نکاح مدعاعلیہ سے فسخ ہوگیا۔ امکان نبوۃ کے سلسلہ میں جو آیات فریق ثانی کی طرف سے بیان کی گئی ہیں، ان سے صحابہ کرام سے لے کر مرزا صاحب کے وقت تک کسی نے امکان نبوۃ کا استدلال نہیں کیا۔ قرآن کے محاورات میں رسول اللہﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو ’’یٰآیھا الذین آمنوا‘‘ اور ’’یٰآیھاالذین کفروا‘‘ اور ’’یٰآیھاالناس‘‘ سے خطاب کیاگیاہے اور ’’یٰبنی آدم‘‘ سے تمام اولاد آدم مراد ہے۔ اس میں امت محمدیہa کی تخصیص نہیں ہے۔ آپa پر اس آیت کا نازل ہونا، اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ اس میں آپa کے بعد کے انبیاء کا ذکرہے۔ کیونکہ بہت سی آیات بطورحکایت حال ماضیہ کے نازل ہوتی رہیں۔ پہلی آیت فریق ثانی کی طرف سے سورہ اعراف کی پیش کی گئی ہے اور یہ قصہ آدمm کی ابتداء آفرینش سے شروع کیاگیاہے۔

اورامت محمدیہa سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہی واقعہ دوسرے پیرایہ میں سورۃ طہٰ میں نقل کیاگیاہے کہ جب آدمm کو جنت سے اترنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ یہ حکم لگادیاگیاہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آیت خود فریق ثانی سے ذریۃ آدم مراد ہے۔ نہ کہ امت محمدیہa، نہ اس کے متعلق کوئی سند فریق ثانی کی طرف سے پیش کی گئی۔ ’’یٰبنی آدم‘‘ کا حکم جو رسولوں کے متعلق تھا۔ وہ آیت خاتم النّبیین سے ختم ہوچکا۔ اس کے بعد اورکوئی نبی نہیں آئے گا۔ ابن جریر جو بہ تسلیم مرزا صاحب رئیس المفسرین ہیں، انہوں نے یہ روایت پیش کی ہے کہ یہ عہد جو آیت محولہ میں ہے بعالم ارواح ذریۃ لیاگیاہے۔ (ابن جریر ج۸ ص۱۲۴ )یہ آیت مکی ہے۔ خاتم النّبیین والی آیت مدنی ہے جو یقینا اس کے بعد کی ہے۔ اس لئے اس دوسری آیت کے حکم نے پہلی آیت کے حکم کو ختم کردیا۔

دوسری آیت: ’’اللہ یصطفی… الخ! (الحج:۷۵)‘‘ کے استدلال میں فریق ثانی کی طرف سے حال اور استقبال دونوں مراد لئے گئے ہیں جودرست نہیں اور گواہ نے تسلیم کیا ہے کہ دونوں معنی حقیقی ہیں اور مشترک میںدو معنی حقیقی مراد نہیں ہوسکتے۔ مضارع حقیقتاً استمرار کے لئے نہیں آتا۔

29

اختلاف کی صورت میں رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فریاما یہ کوئی نبی آئے گا۔ بلکہ یہ کہاہے کہ اس وقت میری اورمیرے خلفاء کی سنت پرعمل کرنا۔ یہ حدیث جرح میں فریق ثانی نے تسلیم کی ہے۔ گواہ نمبر۱ نے ’’صراط الذین انعمت علیہم‘‘ کہا۔ ترجمہ بھی درست نہیں کیا۔ یعنی یہ کہ اے خدا توہمیں ان لوگوں سے بنا، جن پرتیراانعام ہوا۔ اس آیت سے اجراء نبوۃ کو کوئی تعلق نہیں۔ ذریۃ کا لفظ جسمانی نسل پربولاجاتاہے، روحانی پر نہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے حضرت ابراہیمm کی نسل سے نہ ہونے کی وجہ سے اس آیت کا اجراء نبوۃ پرکوئی اطلاق نہیں ہوتا۔ جہاں یہ بیان کیاگیاہے کہ ابراہیمm کی ذریت سے جو ظالم ہوں گے، ان کو عہد نہیں پہنچے گا۔ اس آیت سے یہ بھی نکلتاہے کہ قیامت تک حضرت ابراہیم کی اولاد سے نبی ہوتے رہیں گے، بلکہ ان کی اولاد میں ہوں گے۔ چنانچہ ہوئے اورخاتم النّبیین پرختم ہوگئے۔ جو بھی آیت میثاق کی پیش کی گئی ہے اس آیت کے اندر رسول کے لفظ سے صرف رسول اللہﷺ مراد لئے گئے ہیں۔ جو نبی آخر الزمان ہیں اوریہی خبر (حقیقت الوحی ص۱۳۰، خزائن ج۲۲ ص۱۳۴، ۱۳۳) میں درج ہے۔ رسول اللہﷺ اس عہد میں داخل نہیںہوئے۔ اس لئے اس آیت سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اس امت میں کوئی نبی آئے گا۔

اس ضمن میں جو دوسری آیت رسول اللہﷺ سے عہد لینے کی پڑھی گئی ہے، اس سے یہ عہد مراد نہیں بلکہ دوسرا عہد مراد ہے جو عہد تبلیغ رسالت ہے۔ پہلا عہد رسول اللہﷺ پرایمان لانے کا عہد ہے۔

آیت: ’’فاولٰٓئک مع الذین… الخ! (النساء:۶۹)‘‘ میں معیّت اوررفاقت کا ذکرہے۔درجہ اورمنصب ملنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی تائید میں ایک حدیث سچے تاجروں کے متعلق پیش کی گئی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ معیّت سے مراد نبوت نہیں بلکہ صرف رفاقت ہے۔ اس آیت کا آخری حصہ ’’وحسن اولٓئک رفیقا‘‘ دلالت کرتاہے کہ معیّت سے مراد رفاقت ہے نبوت نہیں۔ رسول اللہﷺ نے بھی اس قسم کی معیّت سے رفاقت ہی مرادلی ہے۔ شان نزول اس آیت کا بتلاتاہے کہ معیّت سے رفاقت ہی مراد ہے۔ آیت:’’ماکان اللہ لیذر المؤمنین… الخ! (آل عمران:۱۷۹)‘‘ سے یہ نہیں نکلتا کہ خبیث اورطیب کی تمیز کے لئے نبی کی ضرورت ہے۔ اس میں ’’علی ما انتم علیہ‘‘ سے صحابہ مراد ہیں اور یہ آیت انہیں کے زمانہ کے متعلق ہے۔

آیت: ’’کلا ھدینا… الخ! (الانعام:۸۴)‘‘ میں یہ کہاگیاہے کہ وہ آئندہ ایسا ہی ہدایت دیاکرے گا جس کوچاہے گا۔ اپنے بندوں میں سے یہ ترجمہ غلط کیاگیاہے۔ اس میں بھی آئندہ نبوۃ اور رسالت کا کوئی ذکرنہیں ہے۔

آیت: ’’وعداللہ الذین اٰمنوا منکم… الخ! (النور:۵۵)‘‘ میں ’’منکم‘‘ سے مراد صحابہ ہیں اور دوسرا خلافت فی الارض کے معنی نبی بنانے کے نہیں ہیں۔ خلافت ارضی کا لفظ ان نبیوں کے متعلق ہے جو زمین میں حکمران بھی تھے۔

فریق ثانی نے دائودm کو غیر تشریعی نبی کہاہے، حالانکہ وہ تشریعی ہیں۔ ان پر زبورنازل ہوئی تھی۔ جن بنی اسرائیل کی خلافت ارضی کے ساتھ اس آیت میں ان لوگوں کو تشبیہ دی گئی اس کے متعلق قرآن میں تصریح ہے کہ بیت المقدس کی حکمرانی مراد ہے، نبوۃ وغیرہ نہیں۔ لہٰذا یہاں بھی حکمرانی مراد ہوگی جو صحابہ کی خلافت سے پوری ہوچکی۔ رسول اللہﷺ کی نبوت عام ہے۔ سورت زمر کی آیتوں سے جو اجراء نبوت کا استدلال کیاگیاہے اس کے جواب کے لئے یہ کافی ہے کہ رسول اللہﷺ کی نبوت آخر وقت تک قائم ہے اور جدید نبی کی ضرورت نہیں۔ گواہ مدعاعلیہ نے جو حدیث پیش کی ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہاگیاہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ حقیقی طور پر نہیں مرزا صاحب (سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ ص۵) پرتحریر فرماتے ہیں کہ ’’ایسے ہی وہ نبی کہہ کر پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیاہے۔وہ بھی

30

اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔ دوسری حدیث جو حضرت ابوبکرq کی فضیلت میں نقل کی ہے اس سے ’’الّا ان یکون نبیٌ‘‘ سے مراد وہ عیسیٰؑ ہیں جو حقیقی طور پر نبی بلکہ بحیثیت مجدد امتی ہوکر آئیں گے۔ دوسری حدیث جو حجج الکرامہ سے پیش کی گئی ہے وہ مثبت مدعانہیں۔ کیونکہ اس میں نبوت سے مراد حضورa کی نبوت ہے۔ بعد کے آنے والی نبوت نہیں۔ مشکوٰۃ والی حدیث میں تبلیغ النبوۃ سے مراد خلافت نبوت کے طریق پرہے نہ کہ خود نبوت پر۔ یعنی نبی ہوں گے۔ دوسری حدیث جو مشکوٰۃ سے حضرت ابوبکرqاورحضرت عمرq کی فضیلت میں نقل کی گئی ہے اس میں یہ ہے کہ جنت کے تمام اوّلین وآخرین سے یہ دونوں افضل ہوں گے سوائے نبیین اورمرسلین کے۔ یہاں دنیا میں نبی آنے کا کوئی ذکر نہیں۔

فریق ثانی نے یہ تسلیم کیاہے کہ جہاں کوئی مسئلہ قرآن اورحدیث میں مصرح نہ ملے، وہاں فقہ حنفی پرعمل ہوگا اوردوسرے گواہ نے یہ تسلیم کیاہے کہ مسئلہ فسخ نکاح قرآن حدیث کا مصرحہ نہیں تو یہ مسئلہ ان مسائل سے ہواجن میں فقہ حنفی پرعمل ہوگا اورفقہ حنفی کی عبارت شامی سے جرح میں بھی پیش ہوچکی ہے اور گواہان نے بھی پیش کیا کہ مرتد کے احکام میں سے نکاح کا فسخ ہونا ہے۔ گواہ نمبر۱ نے اپنی جرح یکم؍مارچ ۱۹۳۳ء میں تسلیم کیاہے کہ اگر مرتد ہوجائے تو عام فتویٰ یہی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے گا۔ دوسرے گواہ نے ۲۱؍مارچ ۱۹۳۳ء کی جرح میں یہ کہاہے کہ تعامل یہ ہے کہ فسخ سمجھاجائے گا۔

دستخط صاحب جلیس بحروف اردو، محمداکبر

عدالت۔ بحث مدعیہ ختم ہے۔ مدعاعلیہم کی طرف سے کہاجاتاہے کہ وہ بحث کے لئے تیارنہیں،انہیں مہلت دی جاوے۔ کیونکہ بہت سی نئی باتیں ایسی پیش کی گئی ہیں، جن کے لئے جدید حوالہ جات کی ضرورت ہے اوروہ حوالہ جات اس وقت ان کے ہمراہ نہیں۔ وہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ وہ اس امر کے مستحق ہیں کہ انہیں مہلت دی جاوے۔ اس غرض کے لئے مسل پرسوں پیش ہو۔ ۱۲؍اکتوبر۱۹۳۳ء۔

دستخط صاحب جلیس بحروف اردو، محمداکبر

31

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

انتباہ

برائے حضرات قارئین کرام

حضرات قارئین ! ہم بطور انتباہ یہ عرض کردینا چاہتے ہیں کہ اس بحث کو پڑھنے کے بعد جواب الجواب کا حصہ جومولانا ابوالوفاء شاہجہان پوری کی طرف سے پیش کیاگیا اورچھ سوصفحات پر مشتمل ہے ضرور مطالعہ فرمائیں۔ اگرآپ صرف یہ حصہ پڑھ کر جواب الجواب کا حصہ نہیں پڑھیں گے تو آپ علمی اقدار اورایمانی جذبات پر بڑا ہی ظلم کریں گے اور عقلی وفطری تقاضوں کو پائمال کریں گے۔ کیونکہ اس قسم کی تحریرات کا مطالعہ کرنے والے کو عقلاًوفطرۃً لازم ہو جاتاہے کہ دونوں پہلوئوں کو دیکھے اوران کا تقابل کرے اور پھرفیصلہ کرے۔

ہم اجمالاً یہ بتادینا چاہتے ہیں۔ یہ ساری بحث ایک فریب اوردھوکہ کا مرقع ہے۔ اس کو پڑھنے سے معلوم ہوجائے گا کہ تلبیس ومکر کا ایک جال ہے۔ اس میں نہ دلائل ہیں اور نہ حقیقت سے کوئی واسطہ اور نہ ہی ان باتوں کو اصل بیانات پر بحث کہاجاسکتاہے۔ خاتم الانبیاءa کی نبوت کے بعد دعویٰ نبوت کو علماء ربانیین نے پہاڑوں کی طرح بلندومضبوط دلائل سے کفر ثابت کیاتھا۔ اس تمام بحث میں اس کا ذرہ برابر بھی جواب یا اس پرکوئی اعتراض نہیںکیاجاسکا۔ محض اپنے خیالات واوہام کو اس انداز کے ساتھ پیش کیاہے کہ عوام کو یہ تاثر دیں کہ علماء کی جماعت نے مرزائیت کا جوکفر ثابت کیاہے ہم نے اس کا رد کردیااورجواب دے دیا ان کی یہ روش بالکل قرآن کریم کی اس آیت کا مصداق ہے۔

’’ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیرعلم ولاھدی ولاکتاب منیر ثانی عطفہ لیضل عن سبیل اللہ (الحج:۸،۹)‘‘ {اور آدمیوں سے بہت سے آدمی سے بھی ہیں جو اللہ کے بارہ میںبغیر کسی علم کے خصوصیت اور جھگڑاکریں۔ جن کے پاس نہ علم ہے نہ ہدایت اورنہ روشن کتاب ودلیل، وہ اپنی جانب کو پھیرے ہوئے(مسخ وتحریف میں مبتلا ہے) تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے بھٹکادے۔} اللہ رب العزت امت کو گمراہی سے بچائے، حق کو سمجھنے اور اس کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کی توفیق عطافرمائے۔ اللہرب العزت ہرشر اورفتنہ سے اوربالخصوص فتنۂ مسیح الدجال سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین!

ناچیز نے اپنی پوری ذمہ داری اوروثوق کے ساتھ حضرات قارئین کو اس بات پر متنبہ کرناضروری سمجھا اوردیانت کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس مقدمہ میں فریق مخالف نے جوکہا، ادارہ کو اس کی اشاعت کی تاکید کی، تاکہ لیل ونہار کافرق دیکھ لیاجائے۔ حضرت مولاناابوالوفاء شاہجہان پوری کی بحث کو پڑھ کر یہ فرمان خداوندی ذہن ودماغ میں رچ جائے: ’’بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذاھوا زاھق (الانبیاء:۱۸)‘‘ {کہ بلکہ ہم تو اسی طرح حق کوباطل کے اوپر دے مارتے ہیں پھر وہ حق(اپنی صرف سے) باطل کا بھیجا نکال ڈالتاہے اور ناگہاں(ہرایک دیکھ لیتاہے کہ) باطل مٹ چکااور نیست ونابود ہوگیا۔}

تویہ جواب الجواب الحمدﷲ! حق وصداقت اورایمان وتوحید کا ایک بھاری اورمضبوط گرز ہے جس سے باطل کی قائم کی ہوئی چٹانیں پاش پاش ہوگئیں۔ ’’اللّٰھم ارناالحق حقّا وارزقنا اتباعہٗ اللّٰھم ارنا الباطل باطلاً وارقنا اجتنابہ ربّنا لاتزغ قلوبنا بعد ازھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃً انک انت الوھاب وصلّی اللہ علٰی صفوۃ البریۃ خاتم الانبیاء والمرسلین سیدنا ومولانا محمدوعلٰی اٰلہٖ واصحابہ اجمعین‘‘

احقرمحمدمالک کاندھلوی

شیخ الحدیث، جامعہ اشرفیہ لاہور، سرپرست اعلی اسلامک فائونڈیشن (رجسٹرڈ) لاہور

32

بحث تحریری مدعاعلیہ

مدخلہ۱۷؍دسمبر۱۹۳۳ء لغایت ۵؍مارچ ۱۹۳۴ء

عقائد جماعت احمدیہ

گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں بالوضاحت یہ ثابت کردیاہے کہ مدعاعلیہ پکا مسلمان اورمؤمن ہے اور ضروریات دین سے کسی ضرورت حقہ کا قطعاً منکر نہیں ہے۔ اس طرح اس کے مطاع ومقتداء حضرت مسیح موعود اور آپ کی تمام جماعت شریعت کی رو سے کسی اسلامی عقیدہ کی منکر نہیں ہے اورشریعت کی رو سے جن باتوں کوماننے اورکرنے سے ایک انسان مسلمان اورمؤمن ہوتاہے وہ سب باتیں ان میں پائی جاتی ہیں اوربقول مسیح موعود وہ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں ؎

  1. مامسلمانیم از فضل خدا

    مصطفی مارا امام و مقتدا

  2. اندرین دیں آمدہ از ماہ دریم

    ہم بریں از دار دنیا بگذریم

  3. آں کتاب حق کہ قرآن نام اوست

    بادہ عرفان ما از جام اوست

  4. آں رسول کش محمدؐ ہست نام

    دامن پاکش بدست مادمدام

  5. اقتدائے قول او در جان ماست

    ہرچہ زو ثابت شود ایمان ماست

(سراج منیر مطبوعہ ص (ح )۱۸۹۷ء وضرورۃ الامام ٹائٹل، خزائن ج۱۲ ص۹۵)

جن امور کے ماننے یاکرنے سے شریعت اسلامی کی رو سے کوئی انسان مسلمان ومؤمن ہوسکتاہے وہ گواہان مدعاعلیہ نے قرآن مجید اوراحادیث وفقہ کی رو سے بالتفصیل اپنے بیانات میں ذکر کردئیے ہیں۔ خلاصہ کے طور پران امور کا ذکر کرتاہوں(۱)خداتعالیٰ پرایمان۔ (۲)ملائکہ پرایمان۔ (۳)اللہ کی کتابوں پر ایمان۔ (۴)اللہ کے تمام رسولوں پرایمان۔ (۵)آخرت پرایمان۔ (۶)قضاء وقدر پرایمان۔ (۷)کلمہ شہادتین کا اقرار۔ (۸)نماز کا قیام۔ (۹)زکوٰۃ کی ادائیگی۔ (۱۰)روزہ ماہ رمضان۔ (۱۱)بشرط استطاعت حج بیت اللہ۔

اور یہ امور مندرجہ ذیل آیات واحادیث سے ثابت ہیں:

۱… ’’والذین یؤمنون بالغیب … المفلحون (بقرۃ:۳تا۵)‘‘

۲… ’’اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کلٌ اٰمن باللہ وملائکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ لانفرق بین احد من رسلہٖ (بقرۃ:۲۸۵)‘‘

۳… ’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہﷺ بنی الاسلام علٰی خمس شہادۃ ان لا الہ الّا ﷲ وان محمداً عبدہٗ ورسولہٗ واقام الصلٰوۃ وایتاء الزّکوٰۃ والحج وصوم رمضان (مشکوٰۃ بحوالہ بخاری ومسلم کتاب الایمان)‘‘

۴… حضرت عمرq سے ایک لمبی حدیث بخاری ومسلم میں مروی ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ حضرت جبرئیلm نے آنحضرتﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر ہوکر حضورa سے چند سوال کئے اور حضورa نے ان کے جوابات دئیے۔ جبرئیلm کے چلے جانے کے

33

بعد آنحضرتﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ جبرئیل تھے ’’جاء یعلمکم دینکم‘‘ جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ان کے سوالوں میں سے ایک سوال ایمان کے متعلق اورایک اسلام کے متعلق بھی تھا۔ آنحضرتﷺ نے جبرئیلm کے سوال’’’مالایمان‘‘ پرفرمایا: ’’ان تؤمن باللہ وملائکتہٖ وکتبہ ورسلہٖ والیوم الاٰخر تؤمن بالقدر خیرہ وشرہ‘‘ اورسوال: ’’ماالاسلام‘‘کے جواب میں فرمایا: ’’الاسلام ان تشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمداً رسول اللہ وتقیم الصلٰوۃ وتؤتی الزکوٰۃ وتصوم رمضان وتحج البیت ان استطعت الیہ سبیلا (مشکوٰۃ ص۱۱، مطبوعہ مجتبائی دہلی کتاب الایمان)‘‘

چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۳ جرح کے جواب میں ان کو تسلیم کرچکاہے۔

اور کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ لکھاہے: چنانچہ فقہ اکبر مع شرح طبع دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن کے (ص۳،۴) پرہے۔ اصل توحید: ’’ومایصح الاعتقاد علیہ یجب ان یقول اٰمنت باللہ وملائکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ والبعث بعدالموت والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالٰی والحساب والمیزان والجنۃ والنار حق کلہ‘‘

پھر اس کے (ص۳۴) پر اس کی شرح میں جو ابومنصور محمدبن محمد حنفی ماتریدی سمرقندی نے کی ہے، لکھاہے:’’فمن اراد ان یکون من امۃ محمدa فقال بلسانہ لاالہٰ الّا اللہ محمد رسول اللہ وصدق بقلبہ معناہ فھو مؤمن وان لم یعرف الفرائض والمحرمات‘‘ چنانچہ یہ سب باتیں بفضلہ تعالیٰ جماعت احمدیہ میں پورے طور پرپائی جاتی ہیں اور احمدی ان پر عامل ہیں اور یہی عقائد واعمال بانی جماعت احمدیہ علیہ التحیۃ کے تھے اوراپنے انہی کے ماننے اورکرنے کی اپنی جماعت کو تلقین کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

(۱) ’’اے بزرگو! اے مولویو! اے قوم کے منتخب لوگو! خداآپ لوگوں کی آنکھیں کھولے۔ غیظ وغضب میں آکر حد سے مت بڑھو۔ میری اس کتاب کے دونوں حصوں کو غور سے پڑھو کہ ان میں نور اورہدایت ہے۔ خداتعالیٰ سے ڈرو اور اپنی زبانوں کو تکفیر سے تھام لو۔ خداتعالیٰ خوب جانتاہے کہ میں ایک مسلمان ہوں۔‘‘

اٰمنت باللہ وملائکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ والبعث بعدالموت واشھد ان لآالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداً عبدہٗ ورسولہ فاتقوا اللہ ولا تقولوا لست مسلماً واتقوا الملک الذی الیہ ترجعون‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲، خزائن ج۳ ص۱۰۲)

(۲) ’’اور خداتعالیٰ جانتاہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پرایمان رکھتاہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اورکلمہ ’’لآالہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘‘ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتاہوں۔‘‘ (آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳)

(۳) پھرفرماتے ہیں: ’’ہم وہ لوگ ہیں جن کا مقولہ ہے: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ آمنا باللہ وملآئکتہ ورسلہ وکتبہ والجنۃ والنار والبعث بعدالموت‘‘ یعنی ہم ایمان لائے ہیں خداتعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اورجنت ونار پر اورحشرونشر۔‘‘ (انوار الاسلام ص۳۴، خزائن ج۹ ص۳۵)

(۴) فرماتے ہیں: ’’التعلیم للجماعۃ لایدخل فی جماعتنا الا الذی دخل فی دین الاسلام واتبع کتاب اللہ وسنن سیدنا خیر الانام وآمن باللہ ورسولہ الکریم الرحیم وبالحشر والنشر والجنۃ والجحیم ویعد ویقربانہ لن یبتغی دیناً غیر دین الاسلام ویموت علٰی ھذا الدین دین الفطرۃ متمسکا بکتاب اللہ العلام۔ ویعمل بکل ماثبت من السنۃ والقرآن واجماع الصحابۃ الکرام‘‘ (مواہب الرحمن ص۹۶، خزائن ج۱۹ ص۳۱۵)

34

یعنی ہماری جماعت میںسے وہی ہوسکتاہے جو دین اسلام میںداخل ہوا اورخداتعالیٰ کی کتاب اورنبی کریمa کی سنتوں کی پیروی کرے اور اللہ پر اور اس کے رسول کریم ورحیم پرایمان لائے اورایمان لائے حشرونشر اورجنت ونار پر اوروعدہ کرے اور اقرار کرے کہ وہ بجز اسلام کے کسی اوردین کو ہرگز اختیار نہ کرے گا اورمرے گا اسی دین پرمضبوط پکڑتے ہوئے خدائے علیم کی کتاب کو اور کہ عمل کرتارہے گاہر اس چیز پرجوثابت ہو،سنت نبویa اور قرآن پاک سے اورصحابہ کرام کے اجماع سے۔

(۵)اورآپ تقدیر کے متعلق اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’(خداکی) قضاء قدرپرناراض نہ ہو۔ سوتم مصیبت کودیکھ کر اور بھی آگے قدم رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱)

پھر فرماتے ہیں: ؎

  1. قبضۂ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا!

    پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار

ان حوالوں کے علاوہ دیگر حوالہ جات کے لئے جن میں عام عقائد واعمال کاذکرہے۔ ملاحظہ ہو (نورالحق حصہ اوّل ص۵، خزائن ج۸ ص۷) اور (کشتی نوح ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۵) اور (تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱) اور (التبلیغ آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷،۳۸۸، خزائن ج۵ ص۳۸۷،۳۸۸) اورکتاب(مواہب الرحمن ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۲۸۷) اور(ایام الصلح ص۸۶،۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۲ تا ۳۲۴) ان سب حوالہ جات کے لئے دیکھناچاہئے مطبوعہ بیان گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ (ص۴تا۷)

جب حضرت مسیح موعود کے اقوال اس امر میں بالکل واضح ہیں کہ آپ اسلام کے خلاف کوئی عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ از روئے شریعت اسلام کسی مسلمان مؤمن میں جن باتوں کا پایاجانا ضروری ہے وہ جماعت احمدیہ اور بانی جماعت میںمن کل الوجوہ پائی جاتی ہیں تو اس سے احمدی مدعاعلیہ کا قطعی طور پر مسلمان ہونا ثابت ہے۔

(۱) مختار مدعیہ کااعتراض

مختار مدعیہ نے حوالہ جات منقولہ بالا کے متعلق ۱۰؍اکتوبر ۱۹۳۳ء کی بحث میں یہ اعتراض کیاہے کہ مدعاعلیہ کے گواہوں نے مرزا صاحب کے بعض حوالہ جات جن میں اسلامی عقائد ماننے کا اقرارہے۔ کل نوپیش کئے ہیں جن سے بتایاہے کہ مرزا صاحب کے عقائد بھی مسلمانوں کے ہیں۔ یہ ہمارے لئے مفید ہیں کہ پہلے تو وہ مسلمان تھے۔ لیکن بعد میں ان عقائد سے پھرے۔ جب تک مرزا صاحب کے دماغ میں نبوت کا خیال نہیں تھا اوردعویٰ نہیں کیاتھا، اس وقت تک یہ اسلامی عقائد کے بڑھ چڑھ کردعاویٰ ہیں۔ مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ نبوت کیا اور پیش کردہ کتب ۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہیں۔

سو یہ مختار مدعیہ کا ایک صریح مغالطہ ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنی جہالت کا اعتراف۔ کیونکہ گواہان مدعاعلیہ نے جن کتب کے حوالہ جات پیش کئے ہیں ان میں ۱۸۹۱ء کے بعد کی کتب کے حوالے بھی درج ہیں۔ جب کہ بقول گواہ مختار مدعیہ نمبر۲ حضرت مسیح موعود مسلمان نہیں رہے تھے۔ کیونکہ اس نے ۲۴؍اگست کو بجواب سوال عدالت تسلیم کیاہے کہ ازالہ اوہام کی تالیف تک مرزا صاحب مسلمان تھے اورازالہ اوہام۱۸۹۱ء کی تصنیف ہے۔ اس لئے ۱۸۹۱ء کے بعد کی کتب کا حوالہ جب کہ گواہ مدعیہ نمبر۲ کے نزدیک حضرت مسیح موعود مسلمان نہیں رہے تھے۔نیز ان حوالہ جات میں ایک حوالہ (مواہب الرحمن مطبوعہ۱۹۰۳ء) کا اور ایک حوالہ(کشتی نوح مطبوعہ۱۹۰۲ء) کا بھی ہے جو سال ۱۹۰۱ء کے بعد لکھی گئی ہیں۔ جب کہ بقول مختار مدعیہ حضرت مسیح موعود نے دعویٰ نبوت کردیاتھا اورکافرہوگئے تھے۔ لیکن حق برزبان جاری مختار مدعیہ کو بھی یہ

35

تسلیم کرنا پڑاہے کہ ان حوالہ جات میں جن عقائد کا ذکرہے ان سے واقعی طور پر حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کا مسلمان ہونا ثابت ہے اور یہ اسلامی عقائد ہیں۔ مگر یہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے ہیں، اس لئے ان سے استدلال کرنا درست نہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ گواہان مدعاعلیہ کا استدلال اسی صورت میں غلط ثابت ہوسکتاہے کہ مختار مدعیہ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتابوں سے ان کی تردید دکھادیتا۔ مگرچونکہ وہ کوئی تردید پیش نہیں کرسکا۔ اس لئے یہ حوالہ جات بدستور قائم ہیں اور گواہان مدعاعلیہ کا ان سے استدلال کرنا بالکل صحیح اوربرمحل ہے۔

پھر مختار مدعیہ نے کہاہے: مدعاعلیہ کی طرف سے (مواہب الرحمن مطبوعہ۱۹۰۳ء) پیش کی گئی ہے۔ لیکن مدعیہ کی طرف سے کفریہ عقائد ثابت کرنے کے لئے (بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء) کا حوالہ پیش کیاگیاہے۔ (یہ اس قول کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ شمس) اور توحید کے خلاف ۱۵؍مئی۱۹۰۷ء (یعنی حقیقۃ الوحی، شمس) کاحوالہ پیش کیاگیاہے۔ اس کے بعد کی کوئی تحریرمدعاعلیہ کی طرف سے پیش نہیں کی گئی جس میں ایمان کا اقراراور عقائد کفریہ سے انکارہو۔

گواہان مدعاعلیہ جو حوالے پیش کئے ہیں، ان میں جن عقائد کا ذکرہے انہی پرحضرت مسیح موعود آخر تک قائم رہے اوران کی تردید مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کی کسی کتاب سے پیش نہیں کی۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ آخر تک آپ کے وہی عقائد رہے جو اپنی پہلی کتابوں میں لکھ چکے تھے۔ اس بات کو عقلمند بآسانی سمجھ سکتاہے کہ جب ایک شخص اپنے عقائد، اپنی کسی کتاب میں بیان کردے اورپھر اس کے بعد کی کسی کتاب میں ان کی تردید نہ کرے تو اس کے وہی عقائد سمجھے جائیں گے جو اس نے اپنی پہلی کتاب میں لکھے تھے۔ لیکن اس واضح جواب کے ہوتے ہوئے بھی مختار مدعیہ کی تسلی نہ ہوتو اس کے لئے میںحقیقۃ الوحی جو ۱۹۰۷ء میں چھپی ہے اور چشمہ معرفت جو۱۵؍مئی۱۹۰۸ء کوشائع ہوئی، چند تحریریں ذیل میں لکھ دیتاہوں۔

چنانچہ آپ آیت: ’’الذین یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوٰۃ‘‘ سے لے کر ’’مفلحون‘‘ تک لکھ کرفرماتے ہیں: ’’خدا ان آیات میں فرماتاہے کہ متقی وہ لوگ ہیں کہ جوپوشیدہ خداپر ایمان لاتے ہیں اورنماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے کچھ خداکی راہ میں دیتے ہیں اورقرآن شریف اورپہلی کتابوں پرایمان لاتے ہیں، وہی ہدایت کے سرپرہیں اور وہی نجات پائیں گے۔ ان آیات سے یہ تومعلوم ہواکہ نجات بغیرنبی کریم پر ایمان لانے اور اس کی ہدایت نماز وغیرہ کے بجالانے کے نہیں مل سکتی اور’’جھوٹے ہیں وہ لوگ جو نبی کریم کا دامن چھوڑ کر محض خشک توحید سے نجات ڈھونڈتے ہیں۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۳۴، خزائن ج۲۲ ص۱۳۵تا۱۳۷)

اور فرماتے ہیں: ’’اللہ وہ ہے جس نے حضرت محمدa کو بھیجا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاوے، تب ہی اس کا ایمان معتبر اورصحیح سمجھاجائے گا۔جب کہ آنحضرتﷺ پرایمان لاوے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۲، خزائن ج۲۲ ص۱۴۶)

اور فرماتے ہیں: ’’میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی سچے دل سے پیروی کرنا اورآپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خداپیارا بنادیتاہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۶۵، خزائن ج۲۲ ص۶۷)

اورفرماتے ہیں: ’’پس گناہ سے محفوظ رہنے اور صدق اوروفاداری اورمحبت میں ترقی کرنے کے لئے جس امر کو تلاش کرناچاہئے وہ محض اسلام میں موجود ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۹۸، خزائن ج۲۳ ص۳۱۲)

اور فرماتے ہیں: ’’اس نے (یعنی خدانے۔ شمس) محض اپنے فضل سے نہ میری کسی ہنر سے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اس کے عظیم الشان نبی اور اس کے قوی الطاقت کلام کی پیروی کرتاہوں اور اس سے محبت رکھتاہوں اوروہ خداکا کلام جس کا نام قرآن شریف ہے جو ربانی طاقتوں کا مظہرہے۔ میں اس پرایمان لاتاہوں۔‘‘(مضمون ملحقہ چشمہ معرفت ص۴۰، خزائن ج۲۳ ص۴۱۰)

36

اور فرماتے ہیں: ’’ہم لوگ جو قرآن شریف کے پیرو ہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خداتعالیٰ کی طرف سے قرآن شریف ہے۔ اس لئے ہم خداتعالیٰ سے اکثرعربی میں الہام پاتے ہیں تاوہ اس بات کا نشان ہوکہ جوکچھ ہمیں ملتاہے وہ آنحضرتﷺ کے ذریعہ سے ملتاہے اور ہم ہرایک امر سے اسی ذریعہ سے فیض یاب ہیں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۱۲۰، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸،۲۱۹)

اورآیت: ’’اٰمن الرسول بما انزل الیہ من ربہٖ‘‘ جس میں تمام ایمانیات کا ذکرہے اور جسے گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں قرآن مجید سے ایمانیات ثابت کرنے کے لئے ذکرکیاہے۔ حضرت مسیح موعود مضمون ملحقہ (چشمہ معرفت ص۶، خزائن ج۲۳ ص۳۷۷) میں مع ترجمہ تحریر فرمایاہے اور ہندوئوں کواسلام کی طرف رغبت دلاتے ہوئے فرمایاہے۔

ایساہی آپ لوگ بھی صدق دل سے اس کلمہ پرایمان لائیں کہ ’’لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ‘‘ (مضمون ملحقہ چشمہ معرفت ص۱۳، خزائن ج۲۳ ص۳۸۴)

اور حقیقت الوحی سے جو امور مختار مدعیہ نے اپنی کمال نادانی سے خلاف توحید سمجھ کرپیش کئے ہیں، اکثر ان سے براہین احمدیہ میں موجود ہیں۔ جب کہ گواہان مدعیہ اورمختار مدعیہ کے نزدیک بھی آپ مسلمان تھے۔ جیسا کہ آئندہ ذکرہوگا۔

اورمختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ مدعیہ کی طرف سے بدر۵؍مارچ ۱۹۰۸ء کاحوالہ پیش کیاگیاہے جس میں دعویٰ نبوت کا ذکرہے۔ لیکن مدعاعلیہ کی طرف سے اس کے بعد کوئی تحریر پیش کی گئی، صریح جھوٹ ہے۔ کیونکہ مدعاعلیہ کی طرف سے اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کا حوالہ پیش کیاگیاہے اور یہ ایک خط ہے جو اپنے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اپنی وفات سے تین دن قبل ایڈیٹر اخبار عام کے نام تحریر فرمایا۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: ’’میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتارہاہوں اور اب بھی ظاہر کرتاہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایاجاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتاہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتاہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اوراپنا علیحدہ علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتاہوں اور شریعت اسلامیہ کو منسوخ کی طرح قراردیتاہوں اورآنحضرتﷺ کی اقتداء اورمتابعت سے باہر جاتاہوں، یہ الزام صحیح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفرہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ یہی لکھتاآیاہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتاہوں۔ وہ صرف اس قدرہے کہ میں خداتعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت بولتااورکلام کرتاہے اورمیری باتوں کا جواب دیتاہے اور بہت سی غیب کی باتیںمیرے پرظاہر کرتااورآئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پرکھولتاہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرانام نبی رکھاہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اورجس حالت میں خدامیرانام نبی رکھتاہے تو میں کیونکر انکارکرسکتاہوں۔ میں اس پر قائم ہوں، اس وقت تک جو اس دنیا سے گزرجائوں۔ مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویامیں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتاہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتاہوں۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جوقرآن شریف نے پیش کیا اور کس کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شوشہ قرآن شریف کا منسوخ کرسکے۔ سوصرف اس وجہ سے نبی کہلاتاہوں کہ عربی اورعبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خداسے الہام پاکربکثرت پیشین گوئی کرنے والا اوربغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہوسکتے۔ ان معنوں سے میں بھی نبی ہوں اور امتی بھی ہوں… تاکہ ہمارے سید وآقاکی وہ پیش گوئی پوری ہوکہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اورنبی بھی ہوگا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۹۸،۵۹۷)

37

یہ آخری مکتوب ہے جو اپنی وفات سے تین دن پیشتر آپ نے تحریر فرمایا۔ اس میںآپ نے صاف طور پرتحریر فرمایاہے: ’’میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیااور کسی کی مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شوشہ قرآن شریف کامنسوخ کرسکے۔‘‘ اورآنحضرتﷺ کو اپنا سید وآقا بیان فرمایا اور ہر ایک بات سے جس کی وجہ سے اسلام سے قطع تعلق ہو، بیزاری کا اعلان فرمایا۔ پس اس آخری تحریر سے ثابت ہے کہ آپ کامذہب سوائے اسلام کے اورکوئی نہیں تھا اورمدعاعلیہ کوبھی اقرارہے کہ وہ مسلمان ہے۔ جیسا کہ جواب دعویٰ سے ظاہرہے۔ اس لئے دعویٰ مدعیہ خارج ہوناچاہئے۔

حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات پر اعتراضات

مذکورہ بالا حوالہ جات سے حضرت مسیح موعود کا عقیدہ توحید باری کے متعلق بالکل واضح ہے۔ لیکن مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات سے غلط مفہوم لے کر یہ ثابت کرناچاہاہے کہ آپ اسلامی توحید کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے آپ کو خدا کے ساتھ شریک اور اس کی مانند ٹھہراتے ہیں اورخداتعالیٰ کو ایسی صفات سے متصف مانتے ہیںجواللہتعالیٰ کی شان کے شایان نہیں ہیں۔

(۱)

’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خداہوں۔‘‘ (کتاب البریہ ص۷۸، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)

مختار مدعیہ نے اس کشف سے یہ استدلال کیاہے کہ بانی جماعت احمدیہ (نعوذباللہ) خداہونے کے مدعی ہے۔

کیونکہ آپ نے فرمایا کہ اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حالانکہ اللہتعالیٰ کے سواکسی میںالوہیت نہیں ہوسکتی ولی ہویانبی اورایساشخص جو یہ کہتاہو وہ اگر کروڑ مرتبہ بھی ’’لاالہ الااللہ‘‘ کہے تو وہ قابل قبول نہیں۔ اس لئے مرتد ہوا اور اس کا نکاح فسخ ہوناچاہئے۔

حالانکہ حضرت مسیح موعود نے اس کشف اوررؤیاسے یہ کبھی نہیں سمجھا کہ آپ خدا بن گئے ہیں اور نہ کبھی آپ نے خدا ہونے کا دعویٰ کیاہے۔

یہ ایک نہایت رکیک اورذلیل مغالطہ ہے جوروزروشن میں عدالت کے سامنے پیش کیاگیا۔ جس امر کو مختار مدعیہ نے حضرت اقدس کی طرف منسوب کیاہے۔ وہ آپ کا عقیدہ نہیں بلکہ وہ ایک رؤیاہے۔ چنانچہ جوالفاظ مختارمدعیہ نے آئینہ کمالات اسلام سے پڑھے ہیں ان میں بھی یہ امر موجود ہے کہ ’’میں نے خواب میں دیکھا اورخواب میں ہی میں نے یقین کیا کہ میں خداہوں۔‘‘ کیا یہ عبارت صاف طور پر نہیں بتاتی کہ اس سے پہلے کشف کا ذکرکیاگیاہے۔ اس سے اپنی خدائی کا دعویٰ کا اظہار مقصود نہیں۔ بلکہ ایک کشف اوررؤیاہے جو تعبیر طلب ہے اوردنیا جانتی ہے کہ جو امرخواب میں دیکھا جائے وہ حقیقت پرمحمول کیاجانا ضروری نہیں۔

(۱) حضرت یوسفm نے خواب میں دیکھا کہ چاند، سورج، ستارے مجھے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ حضرت یوسفm نے اپنے باپ سے کہا: ’’یٰآبت انی رأیت احدعشرکوکباً والشمس والقمر رأیتھم لی ساجدین (یوسف:۴)‘‘ اے میرے باپ میںنے گیارہ ستاروں اورسورج اورچاند کو اپنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا اورآیت: ’’الم ترانّ اللہ یسجدلہ من فی السمٰوت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم (الحج:۱۸)‘‘ سے ثابت ہے کہ ستارے اورسورج وچاند صرف خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور کسی کے لئے نہیں توکیا مختار مدعیہ یہاں بھی یہ نتیجہ نکالے گا کہ حضرت یوسفm نے جورؤیا میں سورج، چاند اورستاروں کو اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے درحقیقت خدائی کا دعویٰ کیا۔

38

(۲) اصل بات یہ ہے کہ رؤیا میں ایسے نظارے دکھلائے جاتے ہیں جو عالم اعیان میں اگرہوں تو شریعت کے بالکل خلاف ہوتے ہیں۔ مثلاً آنحضرتﷺ کا رؤیا میں دیکھنا کہ آپ کے ہاتھ میں سونے کے دوکنگن ہیں۔ (بخاری کتاب الرؤیا، مسلم الجزء الثانی ص۲۷۸ کتاب الرؤیا) حالانکہ سونے کا پہننا مرد کے ناجائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

(۳) اسی طرح ارشاد رحمانی میں مولانا فضل الرحمن صاحب کے متعلق ان کے مرید دیوبندیوں کے مسلم مقتداء مولوی محمدعلی مونگیری لکھتے ہیں: ’’کہ آپ نے فرمایا کہ ہم نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ اپنی والدہ سے صحبت کی اور اپنے بھائی کو مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر ہم بہت گھبرائے۔ حضرت سے عرض کیا۔ فرمایا کہ اس خواب کو دیکھنے والا ولی ہوگا۔ ماں کی صحبت سے اشارہ خاکساری ہے اور بھائی کے قتل سے مراد نفس کا مارڈالنا ہے۔ صوفیہ نے لکھاہے کہ تاازمادر خود جفت نشود وبرادرخود نہ کشد کامل نشود۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت (اعلیٰ حضرت سے مقصود شاہ محمدآفاق قدس سرہ ہیں۔ (ارشاد رحمانی ص۴۸)) عرصہ ہوا والدہ سے صحبت کرتے ہوئے تو میں نے بھی اپنے آپ کو دیکھا تھا مگربھائی کا قتل کرنا مجھے یاد نہیں پڑتافرمایا کہ اتنی ہی کسرہے۔‘‘(ارشاد رحمانی وفضل یزدانی ص۵۷)

(۴) اور بھی ایسی مثالیں بہت سی موجود ہیں۔ چنانچہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’رأیت ربی فی صورۃ شابٍ امرد قطط لہ وفرۃمن شعر وفی رجلیہ نعلان من ذھب (الحدیث)‘‘ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۶۳)

نیز (احادیث المصنوع فی احادیث الموضوع ص۱۳، مطبع فاروقی دہلی) کہ میں نے اپنے رب کو ایک بے ریش جوان کی شکل میں دیکھا جس کے بال کان کی لوتک پہنچے ہوئے تھے اوراس کے پائوں میں سونے کا جوتاتھا اور اس کے متعلق ’’المصنوع فی احادیث الموضوع الامام العلامۃ نورالدین علی بن سلطان القاری الہروی مطبوعہ مجتبائی‘‘ (ص۱۳) میں لکھاہے کہ: ’’حدیث ابن عباس صحیح لاینکرہٗ الامعتزلی‘‘ کہ ابن عباسq کی یہ حدیث صحیح ہے اور سوائے معتزلہ کے اس کا کوئی انکار نہیں کرتا اورعلامہ محمدطاہر بھی فرماتے ہیں کہ حدیث: ’’رأیت ربی فی صورۃ شاب لہ وفرۃ صحیح‘‘ (تذکرۃ الموضوعات برحاشیہ المصنوع فی احادیث الموضوع ص۷ یعنی یہ حدیث صحیح ہے)

کیا مختار مدعیہ حضرت یوسفm اور خاص کر آنحضرتﷺ کے رؤیا کے متعلق بھی یہی کہے گا کہ نبیوں کا خواب چونکہ وحی ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا حقیقت پر محمول ہونا چاہئے اور وہ یہ تسلیم کرے گا کہ اللہتعالیٰ بے ریش نوجوان کی صورت میں ہے اور سونے کے جوتے پہنا کرتا ہے۔ یہی رسول کریمa کا اعتقاد تھا۔ (نعوذ باللہ من ذلک) ’’ایسے کشوف اور حالات دوسرے پر بھی گزرے ہیں۔‘‘ حضرت مسیح موعود نے صرف یہی ظاہر نہیں کردیا کہ یہ خواب ہے بلکہ آئینہ کمالات اسلام میں اس رؤیا کا ذکرکرکے فرماتے ہیں: ’’رأیتنی فی المنام عین اللہ‘‘ کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو خدادیکھا: ’’واعنی بعین اللہ رجوع الظل الٰی اصلہٖ وغیبوبتہٖ فیہ کما یجری مثل ھٰذہٖ الحالات فی بعض الاوقات علی المحبین‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۴، خزائن ج۵ ص۵۶۴)

یعنی اپنے آپ کو عین اللہ دیکھنے سے ظل کا اپنے اصل کی طرف رجوع اور اس میں غائب اورمحو ہوجانا مراد ہے۔ جیسا کہ اس قسم کے حالات بعض اوقات عاشقان الٰہی پرطاری ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ واقعہ آپ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقربان بارگاہ الٰہی بھی اس سے مشرف ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ جیسے آپ نے اس رؤیا میں یہ دیکھاہے کہ میں خودخداہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اورکوئی خیال اورکوئی عمل نہیں رہا اورمیں ایک سوراخ داربرتن کی طرح ہوگیاہوں یا اس شئے کی طرح جسے کسی دوسری

39

شئے نے اپنی بغل میں دبایاہو اور اسے اپنے اند بالکل مخفی کر لیاہو۔ یہاں تک کہ اس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہتعالیٰ کی روح مجھ پرمحیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کرلیاہے۔ یہاں تک کہ میرا کوئی بھی ذرہ باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا کہ میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اورمیرے کان اس کے کان اورمیری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محوہوگیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اورقوت مجھ میں جوش مارتی اوراس کی ربوبیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے۔ (عربی الفاظ)’’وضربت حول قلبی سرادقات الحضرۃ ودقق نفسی سلطان الجبروت‘‘ سونہ تو میں میں رہا اورنہ میری کوئی تمنا باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گرگئی اور رب العالمین کی عمارت نظرآنے لگی۔

(عربی عبارت) ’’انھدمت عمارۃ نفسی کلہا وترأت عمارات رب العالمین وانمحت اطلال وجودی وعفت بقایا انانیتی ومابقیت ذرۃ من ھویّتی‘‘

میں اس وقت یقین کرتاتھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہتعالیٰ کے اعضاء ہیں اورمیں خیال کرتاتھا کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویّت سے قطعاً نکل چکاہوں۔ اس حالت میں میں یوں کہہ رہاتھا کہ ہم ایک نیا نظام نیا آسمان اورنئی زمین چاہتے ہیں۔ سوپہلے تو میں نے آسمان اورزمین کو اجمالی صورت میں پیداکیا جس میں کوئی ترتیب اورتفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتاتھا کہ میں اس کے خلق پرقادرہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیداکیا اورکہاکہ: ’’انّا زینّا السمآء الدنیا بمصابیح‘‘ (کتاب البریۃ ص۷۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰۵)

یہ وہ کشف ہے جس پر اعتراض کیاگیاہے۔ حالانکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے دیکھا ہے ایسا ہی حضرت سید عبدالکریم جیلی اپنی کتاب (الانسان الکامل ج۱ ص۴۴)میں فرماتے ہیں: ’’وعنھم ای من اھل تجلی الصفات من تجلی اللہعلیہ بفصۃ القدرۃ وتکونت الاشیاء بقدرتہ فی العالم الغیبی وکان علٰی انموذجہ فی العالم العینی وفی ھٰذا التجلی سمعت صلصلۃ الجرس فانحل ترکیبی واضمحل رسمی وانمحی اسمی فکنت لشدۃ مالاقیت مثل الخرقۃ البالیۃ المعلقۃ فی الشجرۃ العالیۃ تذھب بھاالریح الشدیدۃ شیٔا فشیٔا لاابصر شھوداً الابرقاً ورعوداً وسحاباً یمطربالانواروبحاراً تموج بالنار والتقت السماء والارض وانا فی الظلمات بعضھا فوق بعض فلم تزل القدرۃ تخترع بی ماھوا الاقوی وتخترق بی ماھو ی فالاھوی الٰی ان ضرب الجلال علیّ سرادق المتعال وولج جمل الجمال فی سم الخیال ففتق فی المنظر الاعلٰی تق الید الیمنٰی فحینئذ تکوّنت الاشیاء وزوال العماء ونودی بعد ان استوی الفلک علی الجودیّ ایھا السماء والارض ائتیا طوعاً وکرھاً قالتا اتینا طائعین‘‘

ترجمہ:اور ان کاملین میں سے جن پر الٰہی صفات کو تجلی ہوئی وہ بھی ہیں۔ جن پرخداتعالیٰ نے صفت قدرت کی تجلی فرمائی۔ جس سے اشیاء عالم خارجی کے نمونہ پرعالم غیبی پرہویدا ہوئیں۔ پھر کہتے ہیں کہ جب مجھ پر تجلی ہوئی تو میں نے گھنٹی کی آواز سنی۔ پس میرے جسم کی ترکیب وبناوٹ جاتی رہی اورمیں اپنے سارے وجود سے معدوم ہوگیا۔ میرانام ونشان باقی نہ رہا اور اس دبائو کی شدت کے سبب میں ایک بلند درخت میں لٹکے ہوئے چیتھڑے کی طرح ہوگیا۔ جس کو تندہوا تھوڑاتھوڑا کر کے اڑائے لے جارہی تھی۔ میں ظاہر میںسوائے چمکوں

40

اورگرجوں کے کوئی چیز نہ دیکھتاتھا اوربادل انواربرسا رہاتھا اور سمندر آگ میں موجیں ماررہاتھا اور آسمان اورزمین میں ایک دوسرے میں داخل ہوکر ملیں گے اور میں سخت اندھیروں میں ہوگیا۔ پس قدرت میرے ذریعہ سے اقویٰ سے اقویٰ چیزبناتی گئی اورمحبوب سے محبوب سے چیزوں کوپھاڑتی گئی۔ یہاں تک کہ حضرت عزت وجلال کے خیمے مجھ پرلگائے گئے… پس اس وقت اشیاء پیداہوئیں اوربادل جودھواں ساتھاصاف ہوگیا اوربعد اس کے جوکشتی جودی مقام پرٹھہر گئی۔ آواز دی گئی کہ اے آسمان اورزمین تم دونوں طوعاً یا کرہاً میری اطاعت کرو توانہوں نے کہا کہ ہم بخوشی خاطر اطاعت کرتے ہیں۔

یہ کشف حضرت اقدس مسیح موعود کے اس کشف سے جس مختار مدعیہ نے اعتراض کیاہے بالکل ہی مطابق ہے۔ کیا مختارمدعیہ اس پر بھی یہی استدلال کرے گا کہ حضرت سیدعبدالکریم جیلی نے خدائی کا دعویٰ کیاتھا۔

اورحضرت اقدس نے اس کشف کے آخرمیں یہ بھی فرمادیاہے: ’’لانعنی بھذہ الواقعۃ کما یعنی فی کتب اصحاب وحدۃ الوجود وما نعنی بذالک ماھو مذھب الحلولییّن بل ھذہ الواقعۃ توافق حدیث النبیa اعنی بذالک حدیث البخاری فی بیان مرتبتہ قرب النوافل لعباداللہ الصالحین‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۶، خزائن ج۵ ص۵۶۶)

ہماری مراد اس واقعہ سے یہ نہیں۔ جیسا کہ وحدۃ الوجود کی کتب میں مراد لی جاتی ہے اورنہ ہی ہماری مراد قائلین حلول کا مذہب ہے۔ بلکہ یہ واقعہ توآنحضرتﷺ کی اس حدیث کے موافق ہے جوبخاری میںاللہتعالیٰ کے صالح بندوں کے لئے مرتبہ قرب نوافل میں بیان ہوئی ہے۔

اور وہ بخاری کی حدیث یہ ہے۔اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’لایزال عبدی یتقرب الیّ بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصربہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا‘‘ (بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ج۴ ص۹۳)

یعنی اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ میرابندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتاجاتاہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتاہوں کہ پس جب میں اس سے محبت کروں تو میں اس کے کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتاہے۔ اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے اور اس کا پائوں ہوجاتاہوں جس سے وہ چلتاہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ گواہ مدعیہ تو اس رؤیا اور کشف سے دعویٰ الوہیت نکالتاہے اور حضرت مسیح موعود کتاب البریہ میں یہی کشف بیان کر کے اس سے مسیح کی الوہیت کا بطلان ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

آپ حضرات پادری صاحبان سوچیں اورغورکریں اور ان الہامات کایسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں اورپھر انصافاً گواہی دیں کہ کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں۔ ان الہامات سے بڑھ کر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات سے نکل سکتی ہے تو میرے الہامات سے نعوذ باللہ! میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگی اورسب سے بڑھ کر ہمارے سید ومولیٰ رسول اللہﷺ کی خدائی ثابت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ آپ کی وحی میں صرف یہی نہیں کہ جس نے تجھ سے بیعت کی اس نے خدا سے بیعت کی۔ صرف یہ کہ خداتعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قراردیا اورآپ کے ہر ایک فعل کو اپنا فعل ٹھہرایاہے اوریہ کہہ کر کہ:’’وماینطق عن الھویٰ ان ھوالّاوحی یوحٰی‘‘ آپ کے تمام کلام کو اپنا کلام ٹھہرایا ہے۔ بلکہ ایک جگہ تو تمام لوگوں کو آپ کے بندے قراردیاہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے: ’’قل یٰعبادی‘‘ یعنی کہہ دو کہ اے میرے بندو۔‘‘ (کتاب البریہ ص۷۹،۸۰، خزائن ج۱۳ ص۱۰۵)

41

اوردیوبندیوں کے مسلم مقتداء اورپیشواجناب مولانامحمداسماعیل شہید اسی کے قریب قریب فرماتے ہیں: ’’اوربفجوائے حدیث: انا عندظن عبدی بی وانامعہٗ اذاذکرنی‘‘

(میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوں اورمیں اسی کے ساتھ ہوتاہوں جب وہ مجھ کو یاد کرتاہے) بعوض قلق اوراضطراب کے کہ جدائی میں اٹھایاتھا۔ خلعت مکالمہ اورسرور اس کو حاصل ہوتاہے اور اس کی وحشت انس سے بدل جاتی ہے اور مقامات فناء اوربقاء کے پردۂ اختفاء سے ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اس وقت دریائے وحدت میں ڈوب کر اس کی عجب حالت ہوجاتی ہے اورکلمہ ’’اناالحق‘‘(یعنی میں خودخداہوں) اور’’لیس فی جبتی سوی اللہ‘‘ (یعنی میرے جبہ میں سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ہے) کہنے لگتاہے۔ چنانچہ اس کی مثال یہ ہے کہ جب ایک لوہے کے ٹکڑے کو آگ میں ڈالتے ہیں اورآگ چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے تواجزائے لطیفہ آگ کے نفس وجوہر لوہے میں اثرکرکے اس کو اپنا ہم شکل اورہم رنگ اورہم صفت بنالیتے ہیں۔ تب جلانا اوربھوننا جو آگ کی خاصیت میں سے ہے۔ اس لوہے کو حاصل ہوجاتاہے اورظاہر میںبھی وہ لوہا آگ کے اتصال سے سرخ ہوکر مثل آگ کے بن جاتاہے۔ اگرچہ دراصل وہ لوہے کالوہاہی ہے۔ لیکن بسبب ہجوم آگ کے صرف آثار اوراحکام آگ کے اس کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گووہ آثار اوراحکام ابھی تک بھی آگ ہی کے ہیں۔ لیکن اگر لوہے کو اس وقت زبان ہوتی تو وہ ضرور پکاراٹھتا کہ میں وہ آگ ہوں جس سے کاروبار طباخوں اورلوہاروں اورسناروں وغیرہ ارباب صنائع کے انجام پاتے ہیں۔پس اسی طرح پر جذب کوشش رحمانی نفس کاملہ اس طالب کوبحراحدیت کی طرف کھینچتی ہے تو پھر یہ مشت خاک مثل پارۂ آہن اپنی اصلیت کو فراموش کرکے کلمہ ’’انا الحق‘‘ وغیرہ کہنے لگتاہے۔ کیا تم نے قرآن مجید میں نہیں پڑھا کہ خضرm نے کہا تھا کہ ’’ما فعلتہ عن امری‘‘ یعنی(کشتی کاتوڑنا وغیرہ) میں نے خود نہیں کیا اور جیسا کہ حدیث قدسی میں آیاہے کہ میں اس وقت اپنے بندے کے کان ہوجاتاہوںکہ سنتاہے مجھ سے اورمیں اس کی آنکھ ہوجاتاہوں کہ بولتاہے مجھ سے۔ مگر یہ بات بہت باریک اورمسئلہ نہایت نازک ہے۔ اس کے پیچھے پڑنانہیں چاہئے۔ لیکن جب کسی سالک پریہ باتیں ظاہر ہوں تو وہ اس سے انکار بھی نہ کرے۔ کیونکہ جب وادی مقدس میں آگ نے کہا تھا: ’’انی انااللہ رب العالمین‘‘(یعنی میں رب جہانوں کا ہوں) اگر نفس کاملہ اس اشرف موجودات کا کہ نمونہ ذات الٰہی کا ہے۔ کلمہ ’’اناالحق‘‘ کہے تو جائے تعجب نہیں ہے۔‘‘ (سوانح احمدی ص۷۸،۷۹)

(۱) چنانچہ شیخ فرید الدین صاحب عطار سرخیل صوفیاء حضرت بایزید بسطامی کے تذکرہ میں فرماتے ہیں: ’’جوشخص حق میں محوہوجاتاہے۔ وہ حقیقت میں سرتاپاحق ہی ہوتاہے اوراگر وہ آدمی خود نہ رہے اور سب حق کو ہی دیکھے تو یہ عجیب ہوتا۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ص۱۴۹)

(۲) کتاب (خزائن اسرار الکلم شرح فصوص الحکم کے مقدمہ ص۲۳،۲۴) میں لکھاہے: ’’آیت: ’’ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم‘‘ سے معلوم ہواکہ آنحضرتﷺ عین اللہ تھے اورصحابہ کرام وقت اس بیعت کے مشاہد حق تعالیٰ کے تھے۔ بیچ رسول اللہﷺ کے کہ مظہر اکمل اس کے ہیں۔ پھرتاکید فرمائی اللہتعالیٰ نے اس معنی کی اور کہا کہ ہاتھ اللہکے اوپر ہاتھ صحابہ مبایعین کے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ عین اللہ ہیں۔ مشاہدے میں صحابہ مبایعین کے اور ہاتھ رسول اللہﷺ کا ہاتھ اللہ کا ہے۔ اس مشاہدے میں۔‘‘

سلف صالحین کے اس قسم کے بہت سے اقوال ہیں۔ لیکن اختصار کی غرض سے انہی پر اکتفاء کرتاہوں اور اب میں اس رؤیا کی جو حضرت مسیح موعود نے دیکھی حکمت بتلاتاہوں۔

42

اس رؤیا میں درحقیقت اس اعتراض کا جواب دیاگیاہے جوا س مقدمہ میں پیش ہے کہ آیا۔ حضرت مسیح موعود مسلمان اورصراط مستقیم پرتھے یانعوذ باللہ! صراط مستقیم سے برگشتہ اورکافر۔ سو یہ رؤیا جواب ہے۔ اس سوال کا کہ آپ صراط مستقیم پرتھے اورپکے مسلمان تھے۔ چنانچہ آج سے چھ سوسال پیشتر علامہ عبدالغنی النابلسی اپنی کتاب تعطیر الانام فی تعبیر الاحلام میں لکھتے ہیں: ’’من رأی کانہ صار الحق سبحانہ وتعالٰی اھتدی الی صراط المستقیم‘‘ (تعطیر الانام ج۱ ص۹) جو شخص دیکھے کہ گویا وہ خود خداہوگیا ہے تو وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پاگیا۔ یعنی وہ صراط مستقیم پرہوگا۔ یہ تعبیر حضرت مسیح موعود نے خود نہیں کی بلکہ آپ کے وجود سے کئی سو سال پیشتر کی لکھی ہوئی ہے اور اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ خواب میں انسان اپنے آپ کوخدا دیکھ سکتاہے ؎

کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

یہ تو ایک کشف تھا اب ہم حضرت مسیح موعود کا عقیدہ دربار توحید الٰہی درج کرتے ہیں۔ آپ اپنا الہام ذکر کر کے فرماتے ہیں: ’’یعنی تو کہہ دے کہ اے لوگو! میں تمہاری مانند ایک بشرہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خداایک ہی خداہے اورتمام خیر قرآن میںہے۔‘‘ (دافع البلاء ص۷، خزائن ج۱۸، ص۲۲۷ حاشیہ)

اورفرماتے ہیں: ’’اے سننے والو سنو کہ خداتم سے کیا چاہتاہے۔ بس یہی کہ تم اس کے ہوجائو اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں… وہ وہی ’’وحدہ لاشریک‘‘ ہے۔ جس کا کوئی بیٹانہیں اورجس کی کوئی بیوی نہیں۔ وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اورجس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں۔‘‘ (الوصیت ص۹، خزائن ج۲۰ ص۳۰۹،۳۱۰)

اور فرماتے ہیں: ’’تمام دینا کاوہی خداہے جس نے میرے پروحی نازل کی، جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے، جس نے مجھے اس زمانہ کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا، اس کے سواکوئی خدانہیں۔ نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ جو شخص اس پرایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اورخذلان میں گرفتار ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۱۸،۱۹، خزائن ج۱۹، ص۲۰)

خالق الارض والسماء ہونے کا دعویٰ

مختار مدعیہ کے علاوہ گواہ مدعیہ نمبرالف نے اس کشف کے آخری حصہ پر جس میں زمین وآسمان کے خلق کاذکر ہے۔ یہ اعتراض کیاہے کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خالق جانا اوراگرکوئی شخص خدائی کادعویٰ کرے اور اپنے آپ کو خالق جانے وہ اسلام سے مرتد ہوجاتاہے۔’’رأیتنی فی المنام‘‘ لکھوا کر یہ ترجمہ لکھوایاہے کہ: ’’میں نے خواب میں دیکھا۔‘‘ اورجو معاملہ خواب میں دکھائی دے اس کو واقعہ پرمحمول کرنا اورخواب دیکھنے والے کا عقیدہ قراردینا حد درجہ کی سفاہت ہے یا پرلے درجہ کی شرارت۔ مختارمدعیہ کے اس کشف پراعتراض کے جواب میں اوپربتادیاجاچکاہے۔ لہٰذا اس جگہ ہمیں صرف تین باتوں پر غور کرناباقی ہے۔

(۱) کیاخواب میں آپ نے موجودہ زمین وآسمان کے بنانے کا ذکرکیاہے؟

(۲) اگر نئے زمین وآسمان بنانے کا ذکرہے تو اس سے کیامرادہے؟

(۳) کیا آپ اپنے آپ کو موجودہ زمین وآسمان کا خالق سمجھتے ہیں یااللہتعالیٰ کو؟

43

پہلی بات کے متعلق توخود کشف کے الفاظ سے ثابت ہے کہ اس میں موجودہ زمین وآسمان کا ذکرنہیں ہے۔ جیسا کہ آپ رؤیا کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’اس حالت میں میں یوں کہہ رہاتھا کہ میں یوں کہہ رہاتھا کہ ہم ایک نیا نظام اورنیا آسمان اورنئی زمین چاہتے ہیں۔‘‘

اب دوسری بات کے معلوم کرنے کے لئے کہ آپ نے نئی زمین اورنئے آسمان سے کیا مراد بیان فرمائی ہے۔ میں حضرت اقدس کی وہ عبارت پیش کرتاہوں، جس میں آپ نے اس کشف پرمولویوں کے اعتراض کا جواب دیاہے۔ فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھاکہ میں نے نئی زمین اورنیا آسمان پیداکیا اورپھر میں نے کہا کہ آئو اب انسان کو پیداکریں۔ اس پر نادان مولویوں نے شورمچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ حالانکہ اس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیداکرے گا کہ گویا آسمان اورزمین نئے ہوجائیں گے۔‘‘ (چشمہ مسیحی ص۵۸ حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۷۵،۳۷۶)

اور فرماتے ہیں: ’’خدانے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بناوے۔ وہ کیاہے نیاآسمان؟ اورکیاہے نئی زمین؟ نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدااپنے ہاتھ سے تیارکررہاہے جو خداسے ظاہر ہوئے اورخدا ان سے ظاہرہوگا اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے ان کے اذن سے ظاہر ہورہے ہیں لیکن افسوس کہ دنیا نے خدا کی اس نئی تجلی سے دشمنی کی۔‘‘(کشتی نو ح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۷)

اور فرماتے ہیں: ’’ہرایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اورنئی زمین بنائی جاتی ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۱۰۲ حاشیہ درحاشیہ)

اور فرماتے ہیں : ’’مجملاً صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ اس قدر ان کو جنبش دینے کے لئے کچھ آسمانی کارروائی ظہور میں آئے گی اور ہولناک نشان ظاہر ہوں گے۔ تب لوگ جاگ اٹھیں گے کہ یہ کیاہواچاہتاہے۔ کیا یہ وہی زمانہ نہیں جوقریب قیامت ہے جس کی نبیوں نے خبردی ہے اور کیا یہ وہی انسان نہیں جس کی نسبت اطلاع دی گئی تھی کہ اس امت میں سے وہ مسیح ہوکر آئے گا جو عیسیٰؑ بن مریم کہلائے گا۔ تب جس کے دل میں ذرہ بھی سعادت اوررشد کامادہ ہے، خداتعالیٰ کے غضبناک نشانوں کو دیکھ کر ڈرے گا اورطاقت بالا اس کو کھینچ کر حق کی طرف لے آئیں گی اور اس کے تمام تعصب اورکینے جل جائیں گے۔ جیسا کہ ایک خشک تنکا بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑکر بھسم ہوجاتاہے۔ غرض اس وقت ہر ایک رشید خدا کی آواز سن لے گا اور اس کی طرف کھینچاجائے گا اور دیکھ لے گا کہ اب زمین اورآسمان دوسرے رنگ میں ہے۔ نہ وہ زمین ہے اورنہ وہ آسمان۔ جیسا کہ مجھے پہلے اس سے ایک کشفی رنگ میں دکھلایا گیا تھا کہ میں نے ایک نئی زمین اورایک نیا آسمان بنایا۔ ایسا ہی یہ عنقریب ہونے والاہے اورکشفی رنگ میں یہ بنانا میری طرف منسوب کیاگیاہے۔ کیونکہ خدانے اس زمانہ کے لئے مجھے بھیجا ہے۔ لہٰذا اس نئے آسمان اورنئی زمین کا میں ہی موجب ہوا اورایسے استعارات خداکی کلام میں بہت ہیں۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۳، خزائن ج۲۱ ص۱۰۹)

اورنئے آسمان اورنئی زمین کا محاورہ حضرت اقدس ہی کے کشف میں موجود نہیں۔ بلکہ ایک عظیم الشان تغیر کے لئے پہلی کتابوں میں بھی استعمال ہواہے۔ چنانچہ انجیل میں پطرس حواری کا قول ہے: ’’اس کے وعدے کے مطابق ہم ایک نئے آسمان اورنئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راست بازی لمبی رہے گی۔ (پطرس ۳/۱۳) اور عہد نامہ قدیم میں یسعیاہ نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔ دیکھو میں نئے آسمان اورنئی زمین کو پیداکرتاہوں اورجو آگے تھے، ان کا پھرذکر نہ ہوگا اور وہ خاطر میں پھر نہ آویں گے۔ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اورشادمانی کرو۔‘‘ (یسعیاہ ۶۵/۱۷،۱۸)

44

اورعلامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں ؎

  1. اب چرخ کی ہیں نئی ادائیں

    چلنے لگیں اور ہی ہوائیں

  2. چھیڑے جو گئے نئے افسانے

    نغمہ وہ رہا نہ وہ ترانے

  3. پھونکا ہے فلک نے اور افسوں

    اب رنگ زمانہ ہے دگرگوں

  4. سیارے ہیں اب نئی چمک کے

    وہ ٹھاٹھ بدل گئے فلک کے

  5. اب صورت ملک و دیں نئی ہے

    افلاک نئے زمین نئی ہے

(مثنوی صبح امید ص۵)

ان تصریحات کی موجودگی میں ہر ایک عقل مند بخوبی جان سکتاہے کہ شاہد نے جونتیجہ اس رؤیا سے نکالاہے وہ حضرت اقدس کی تحریروں کے بالکل برعکس ہے اورآپ کے منشاء کے صریح خلاف ہے۔ یہ اس نے صرف عدالت کو مغالطہ دینے کے لئے کیا ہے۔ ورنہ آئینہ کمالات اسلام میں اسی رؤیا کے آخر میں حضرت مسیح موعود کایہ صریح ارشاد بھی موجود ہے: ’’والقی فی قلبی ان ھٰذا الخلق الذی رأیتہ اشارۃ الٰی تائیدات الی تائیدات سماویۃ وارضیۃ وجعل الاسباب موافقۃ للمطلوب وخلق کل فطرۃ مناسبۃ مستعدۃ للحلوق بالصالحین الطیبین والقی فی بالی ان اللہ ینادی کل فطرۃ صالحۃ من السماء ویقول کونی علی عدۃ لنصرۃ عبدی واحلو الیہ مسارعین‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۶۶، خزائن ج۵ ص۵۶۶)

اورمیرے قلب میں یہ القاء کیاگیاکہ رؤیا میں نئے آسمان اورنئی زمین کے خلق کو جو میں نے مشاہدہ کیاہے اور یہ سماوی اورارضی تائیدات اوراسباب کو مطلوب کے موافق بنانے کی طرف اشارہ ہے اورہر فطرت جوپاکباز صالحین کے ساتھ ملنے کی استعداد رکھتی ہے۔ اس کو طیار کرتاہے اورمیرے د ل میں یہ بھی ڈالاگیاکہ اللہتعالیٰ ہرایک نیک فطرت کو آسمان سے آواز دے گا اور کہے گا کہ تو میرے بندے کی نصرت کے لئے تیار ہوجااوراس کی طرف تیزی سے جائو۔

’’پس شاہد مدعیہ کا اس تشریح کو عمداً نظر انداز کرکے عدالت کومغالطہ دینا اسے ایک ثقہ شاہد کی حیثیت سے بالکل گرادیتاہے۔‘‘

تیسری بات کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی کتب اس اقرار سے بھری پڑی ہیں کہ زمین وآسمان ’’ومافیھا‘‘ کا خالق صرف اللہتعالیٰ ہی ہے۔ چنانچہ آپ آئینہ کمالات اسلام ہی میں جس سے شاہد نے حوالہ دیاہے۔

فرماتے ہیں کہ:’’انی اعتقد من صمیم قلبی انّ للعالم صانعا قدیراً واحداً قادراً کریماً مقتدراً علٰی کل ماظھرو اختفٰی‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۴، خزائن ج۵ ص۳۸۴)

میں صمیم قلب سے اعتقاد رکھتا ہوں کہ اس جہاں کا ایک واحد صانع ہے جو ہر ایک ظاہری اور پوشیدہ چیز پر مقتدر اور قادر ہے۔

اورفرماتے ہیں:’’جب سے خدانے آسمان اور زمین کو بنایا کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ اس نے نیکوں کو تباہ اورہلاک اورنیست ونابود کردیاہو۔‘‘ (کشتی نوح ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۲۰)

اورفرماتے ہیں: ’’یعنی ہمارا خداوہ خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمان اورزمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑا۔ یعنی اوّل اس نے اس دنیا کے تمام اجرام سماوی اورارضی کو پیدا کیا اورچھٹے دن میں سب کو بنایا (چھ دن سے مراد ایک بڑازمانہ ہے) اورپھرعرش پرقرار پکڑا۔ یعنی تنزہ کے مقام کو اختیارکیا۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۱۱۱، خزائن ج۲۳ ص۱۱۹)

45

اورفرماتے ہیں ؎

  1. اے خالق ارض و سما برمن در رحمت کشا

    دانی تو آں درد و مراکز اں پنہاں کنم

(درثمین فارسی ص۶۰، براہین احمدیہ ص۵۱۴، خزائن ج۱ ص۶۱۳)

اورفرماتے ہیں ؎

  1. اے قدیر و خالق ارض و سما

    اے رحیم و مہربان و رہنما

(حقیقت المہدی ص۱، خزائن ج۱۴ ص۴۳۴)

پس حضرت مسیح موعود نے نہ تو اپنے آپ کو اس رؤیا کی بناء پر موجودہ زمین وآسمان کا خالق کہا اور نہ اللہتعالیٰ کے ’’خالق السماء والارض‘‘ ہونے سے انکار کیا۔ پھر باوجود اس کے شاہد کا آپ کی طرف یہ دعویٰ منسوب کرنا نرا افتراء اوربہتان ہے۔

(۳) اللہتعالیٰ کو تیندوے سے تشبیہ دی

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے اپنے بیان میں ایک یہ بھی اعتراض کیاہے کہ حضرت مسیح موعود نے اللہتعالیٰ کو تیندوے سے تشبیہ دی ہے۔ حالانکہ وہ ’’لیس کمثلہٖ شیٔ…‘‘ کے مطابق یہی ہے کہ اللہتعالیٰ بے مثل ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’وہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹانہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں اوروہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی اہتمام نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں۔ وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے اور دورہے باوجود نزدیک ہونے کے۔ وہ تمثل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کرسکتاہے۔ مگر اس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اورنہ کوئی شکل ہے۔‘‘(الوصیت ص۹، خزائن ج۲۰ ص۳۱۰)

اور فرماتے ہیں: ’’خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تشریح کے ساتھ ذکرکیاگیاہے۔ جیسا کہ یہ آیت ہے: ’’لیس کمثلہٖ شیٔ وھو السمیع البصیر‘‘ یعنی کوئی چیز اپنی ذات اورصفات میں خدا کی شریک نہیں اوروہ سننے والا اور دیکھنے والاہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۶۱، خزائن ج۲۳ ص۲۷۳، مطبوعہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۸ء)

اورفرماتے ہیں: ’’پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اور دوسری صفت کا نام محبت رکھاگیاہے۔ لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت انسانی محبت کی طرح ہے۔ جیسا کہ خود اللہتعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ یعنی خدا کی ذات اورصفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔‘‘(چشمہ معرفت ص۳۸، خزائن ج۲۳ ص۴۶،۴۷)

ان حوالہ جات سے جو ۱۹۰۱ء کے بعد کے ہیں ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہتعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں۔ لیکن جیسا کہ قرآن مجید میں خداتعالیٰ نے جزاوسزا کی کیفیت سمجھانے کے لئے غضب اور محبت کے الفاظ استعمال کئے ہیں اورفرمایاہے: ’’اذکرو اللہکذکرکم اٰبآئکم‘‘ جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو ویسے اللہ کویاد کرو۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے اللہتعالیٰ کا اپنی مخلوقات میں تصرف کی حقیقت سمجھانے کے لئے تخیل اورفرض کے طور پر ایک مثال دی ہے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ’’اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھانے کے لئے تخیلی طورپر ہم فرض کرسکتے ہیں کہ ’’قیوم العالمین‘‘ ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ پیر اورایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اورلاانتہاء عرض وطول رکھتاہے اورتیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی

46

کے تمام کناروںتک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔‘‘(توضیح المرام ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰)

آگے فرماتے ہیں: ’’پس یہی ایک عام فہم مثال اس روحانی امر کی ہے جوکہاگیاہے کہ مخلوقات کی ہر ایک جزو خداتعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کررہی ہے اورکمال درجہ کی اطاعت سے اس کے ارادوں کی راہ میں محو ہورہی ہے۔‘‘(توضیح المرام ص۷۶، خزائن ج۳ ص۹۰)

اور حدیث میں آتاہے: ’’ان اللہ یقبل الصدقۃ فیربیھا کما یربی احدکم فلوہ‘‘ (متفق علیہ تفسیر مظہری ص۳۱۳)

کہ خدا تعالیٰ صدقہ کو قبول کرتاہے اوراس کو ایسے بڑھاتاہے۔ جیسا کہ تم سے کوئی بچہ شتر کی پرورش کرکے اسے بڑھاتاہے۔ پس آنحضرتﷺ نے یہاں اللہتعالیٰ کی تشبیہ ایک اونٹ کے بچے کے مربی سے دی ہے اورقرآن مجید میں اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’اللہ نورالسمٰوت والارض مثل نورہٖ کمشکوۃ… الخ!‘‘ کہ اللہتعالیٰ آسمانوں اورزمین کا نورہے اوراس کے نور کی کیفیت سمجھنا چاہتے ہوتو اس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ پھر شیشہ میں جو چمکیلے ستارے کی مانند ہے اوراحادیث میں آنحضرتﷺ نے اللہتعالیٰ کے متعلق فرمایا ہے کہ:’’نور انی اراہ‘‘ کہ وہ تو نورہے، میں اسے کیونکر دیکھ سکتاہوں اورحضرت مسیح موعود نے تومثال بیان کرتے ہوئے صاف طور پر فرمادیا ہے کہ یہ مثال تخیلی طور پر اورفرض کر کے بیان کی گئی ہے۔ پس اس مثال دینے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت اقدس خداتعالیٰ کے لئے مانند اوربے مثل ہونے کے منکرہیں، ایساہی ہوگا۔ جیسے کوئی شخص آنحضرتﷺ کے متعلق اپنی سفاہت سے یہ کہہ دے کہ آپ نے اللہتعالیٰ کو بچہ شتر کے مربی سے تشبیہ دی ہے۔ جیسا کسی کا یہ کہنا لغو وباطل ہوگا، ویساہی گواہ مدعیہ کا اور مولانامحمدقاسم صاحب بھی فرماتے ہیں کہ: ’’اولیاء خدااورمقربان الٰہی کی محبت وہ حقیقت میں خداہی کی محبت کا ایک ٹکڑا ہے۔ کوئی غیر شیٔ نہیں۔‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۶۳) توکیا مختار مدعیہ مولانامحمدقاسم پربھی کفر کا فتویٰ دے گا کہ انہوں نے خداکو بندے کی مانند قراردیا اور اس کی محبت کو خداکی محبت۔

اس سے زیاہ اور سنئے۔ حدیث قدسی میں آیاہے کہ اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ جب میں کسی بندے سے محبت کرتاہوںتو میں اس کے کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتاہے۔ ’’ویدہ التی یبطش بھا‘‘ اور اس کا ہاتھ ہوجاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے۔ ’’ورجلہ التی یمشی بہا‘‘ اوراس کا پائوں ہوجاتاہوں، جس سے وہ چلتاہے اوراگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتاہوں۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع)

اورایک اورحدیث قدسی میں آیاہے کہ اللہتعالیٰ کہے گا’’یابن آدم مرضت فلم تعدنی‘‘ کہ اے ابن آدم میں بیمار ہواتونے میری عیادت نہ کی تو ابن آدم کہے گا۔ ’’کیف اعودک وانت رب العالمین‘‘ کہ میں تیری کیونکر عیادت کرسکتاہوں۔ حالانکہ تو رب العالمین ہے توخداتعالیٰ جواب دے گا کہ تجھے میرے فلاں بندے کی مرض کا علم ہواتھا۔ مگر تم نے اس کی تیمارداری نہ کی۔ کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تواس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا،مگر تو نے مجھے کھانانہ دیا۔ ابن آدم کہے گا اے ر ب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا اورتورب العالمین ہے۔ فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ میرے فلاں بندے نے کھانا طلب کیا اور تو نے اسے کھانا نہ دیا۔ اگر تو اسے کھانا دیتا توآج وہ کھانا میرے پاس دیکھتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا مگر تو

47

نے نہ دیا تو وہ کہے گا۔ اے رب میں تجھے کیسے پلاتا اورتورب العالمین ہے۔ فرمایا: تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا مگر تونے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا توآج میرے پاس بھی پاتا۔(مسلم)

اب دیکھو کہ اس حدیث میں تواللہتعالیٰ نے اپنے آپ کو اپنے بندے کے قائم مقام ٹھہراکراپنے حق میں بیمار، بھوکا اورپیاسا کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اب کیا شاہد مدعیہ اللہتعالیٰ کی طرف اپنے بھی فتویٰ کی مشین گن کارخ پھیر دے گا۔

(۴)ربّناعاج

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۵، بقیہ حاشیہ نمبر۴، خزائن ج۱ ص۶۶۲)

مختار مدعیہ نے اس الہام کے متعلق کہاہے کہ اس سے شرک فی الصفات لازم آتاہے اور اس امر کے اثبات کے لئے اس نے فارسی شعر پڑھ کر یہ ظاہر کیا ہے کہ لفظ عاج بتوں کے لئے استعمال کیاگیاہے اور یہ لفظ فارسی ہے۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو عربی زبان سے کچھ بھی مس رکھتا ہو،جانتا ہے کہ یہ لفظ عربی زبان کاہے اورحضرت مسیح موعود نے تو اس کے کوئی معنی نہیں کئے۔ مختار مدعیہ نے خود یہ بات تسلیم کی ہے کہ حضرت اقدس نے اس کے کوئی معنی نہیں کئے۔ پس ایسی حالت میں مخالف کوکوئی حق نہیں کہ اپنی طرف سے اس کے کوئی معنی کر کے ملہم پر اعتراض کرے۔ مختار مدعیہ کا یہ اعتراض بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ مخالفین اسلام مکر اورخدع اوراستہزاء کے معنی اپنی طرف سے لے کر اللہتعالیٰ کو (نعوذ باللہ) مکار اوردھوکاباز اورمسخرہ قراردیتے ہیں۔ لیکن عقل مند سمجھتاہے کہ مخالفین قرآن الفاظ کے جو معنی کرتے ہیں صحیح نہیں۔ بلکہ وہی معنی صحیح ہیں جو معتقدین حقیقت قرآن کریں۔ اس طرح مذکورہ بالا الہام کے معنی وہی صحیح ہوسکتے ہیں جوملہم یاملہم کے پیرو کریں۔ چنانچہ اس کے معنی عربی زبان کی رو سے یہ ہیں۔ عاج کا مادہ عجوۃ ہے اوراس کے معنی منتہی الارب میں ’’شیریکہ طفل یتیم راخوراند‘‘ اوریہی معنی منجد میں لکھے ہیں۔ اس لحاظ سے اس الہام کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہمارا رب وہ ہے جو ہماری یتیمی کی حالت میں ہم کو خاص دودھ پلانے والاہے۔ یعنی جب کہ ایمان ثریا پرچلاگیا اورزمینی کوئیں علماء اورصوفیہ کے خشک ہوچکے تھے۔ ہمارے رب نے اس کسمپرسی کی حالت میں ہمارا ہاتھ پکڑا اورآسمانی دودھ سے سیراب فرمایا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ؎

  1. ابتدا سے تیرے ہی سایہ من میرے دن کٹے

    گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیرخوار

دوسرامادہ عاج کا عج ہے جس کے متعلق صراح اورمنتہی الارب میں لکھاہے:’’عج عجاً وعجیجا برداشت آواز راوبانگ کردو منہ الحدیث افضل الحج العج والثج یعنی برداشتن آواز بتلبیہ وقربان کردن ہدیہ را۔‘‘ یعنی ہماراخداآواز بلند کرنے والاہے۔ یعنی اس کے دین اوراس کے احکام کا ہی غلبہ ہوگا۔ عاج کو فارسی لفظ قراردے کر غلط معنی بیان کرنا دوسرامغالطہ ہے جوعدالت کودیاگیا۔

(۵)انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی

(اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

اس الہام سے مختار مدعیہ نے یہ ثابت کرنا چاہاہے کہ گویا حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی توحید اورتفرید میںشریک ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ یہ مفہوم بالکل غلط اورملہم کی تشریحات کے خلاف ہے۔ بمنزلہ توحید سے یہ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کوئی کسی سے کہے تو میرے لئے بمنزلہ فرزند ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ درحقیقت اس کا فرزند ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ سمجھا جائے گاکہ میں تجھ سے ایسی محبت رکھتاہوں، جیسی کہ فرزند سے رکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اسی طرح اللہتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو اس

48

وقت جب کہ آپ کے مخالف آپ کو مٹانے کے درپے تھے اورچاہتے تھے کہ آپ کاکسی جگہ خیر کے ساتھ ذکر نہ ہو اورآپ کی تباہی کے لئے ہرقسم کے منصوبے اورتدابیر سوچ رہے تھے۔ ان الفاظ میں بشارت دی کہ ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ کہ تو مجھے ایساہی پیارا ہے۔ جیسا کہ مجھے اپنی توحید پیاری ہے اورجب تو مجھے اس حد تک محبوب ہے تو پھر تجھے کون تباہ کرسکتاہے۔ دشمنوں کی ساری کوششیں عبث اورحاسدوں کے تمام منصوبے لاحاصل ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود الہام مذکور کی تشریح میںخود بھی فرماتے ہیں: ’’تومجھ سے ایسا قرب رکھتاہے اورایساہی تجھے چاہتاہوں۔ جیسا کہ اپنی توحید اورتفرید کو سوجیسا کہ میں اپنی توحید کی شہرت چاہتاہوں۔ ایسا ہی تجھے دنیا میں مشہور کردوں گا اورہر ایک جگہ جو میرانام جائے گا تو تیرا نام بھی ساتھ ہوگا۔ (اربعین نمبر۳ص۲۵ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

اورایسا ہی ہوادنیا کے مخالفین باوجود اپنی انتہائی مخالفتوں کا خداتعالیٰ کے اس ارادہ کو روک نہ سکے۔ پس ملہم کی تشریح کے خلاف الہام کے معنی کرناقطعاً جائز نہیں ہے۔ حضرت اقدس توحید کے قائل ہیں اورآپ نے اپنی جماعت کو توحید ہی کی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’خدانے چودھویں صدی کے سرپراپنے ایک بندے کو جو یہی لکھنے والا ہے، بھیجا تااس کے نبی کی سچائی اورعظمت کی گواہی دے اورخداکی توحید اورتقدیس کو دنیا میں پھیلاوے۔‘‘(نسیم دعوت ص۴، خزائن ج۱۹ ص۳۶۶،۳۶۷)

اورآپ جماعت کوتعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اس کی توحید زمین پرپھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو۔‘‘(کشتی نوح ص۱۱، خزائن ج۱۹ ص۱۱)

اور فرماتے ہیں: ’’خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھائو اوراس کی توحید کا اقرار نہ صرف زبان سے بلکہ عملی طور پرکرو تاکہ خدابھی عملی طور پر اپنا لطف واحسان تم پر ظاہر کرے۔‘‘(الوصیت ص۸، خزائن ج۲۰ ص۳۰۸)

اورتوحید کو حقیقی مدار نجات قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’نجات دو امر پر موقوف ہے۔ ایک یہ کہ کامل یقین کے ساتھ خداتعالیٰ کی ہستی اوروحدانیت پر ایمان لاوے۔ دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیت جلشانہ کہ اس کے دل میں جاگزین ہوکہ جس کے استیلاء اورغلبہ کا یہ نتیجہ ہوکہ خداتعالیٰ کی اطاعت عین اس کی راحت جان ہو، جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اوراس کے محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پائمال اور معدوم کردے۔ یہی توحید حقیقی ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۱۶، خزائن ج۲۲ ص۱۲۰)

(۶)انت اسمی الاعلٰی

(اربعین نمبر۳ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۴۲۳)

اس الہام سے مختار مدعیہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کا اسم اعظم قراردیاہے اورجو شخص اپنے آپ کو خداتعالیٰ کا اسم اعظم بتائے، وہ مشرک ہے اورمختار مدعیہ کی خیانت ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود کی اس الہام کی تشریح کو نظرانداز کردیاہے جو یہ ہے۔ ’’تومیرے اسم اعظم کا مظہرہے۔ یعنی ہمیشہ تجھ کو غلبہ ہوگا۔‘‘ (تریاق القلوب ص۸۱، خزائن ج۱۵ ص۳۱۵)

پس اسمی الاعلیٰ سے یہی مراد ہے کہ آپ خداتعالیٰ کے اسم اعلیٰ کے مظہرہوں گے۔ آپ کو دشمنوں پر ہرمقام میں غلبہ حاصل ہوگا۔

(۷)انت منی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق

(اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰)

اس الہام سے مختار مدعیہ نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ آپ ’’لاالہ الااللہ‘‘ کے قائل نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ کے مرتبہ کو کوئی نہیں جانتا۔

49

حالانکہ اس کا ترجمہ حضرت اقدس نے اربعین میں یہ کہاہے۔ ’’اور مجھ سے تووہ مقام اورمرتبہ رکھتاہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔‘‘ اس سے خدا کے ساتھ شرکت کا دعویٰ نکالنا ہماری سمجھ سے بالاہے۔ اللہتعالیٰ ان لوگوں کو سیدھا رستہ دکھائے اور حضرت مسیح موعود کے اس مقام اورمرتبہ کو جاننے کی توفیق عطا فرمائے جس کے متعلق اللہتعالیٰ نے اس الہام میں خبردی ہے کہ دنیا اس مقام اور مرتبہ تقرب کو جو تجھے مجھ سے حاصل ہے نہیں جانتی۔

(۸)انّما امرک اذا اردت شیٔا ان تقول لہ کن فیکون

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۱۲۴، استفتاء ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۷۱۴)

اس الہام سے مختار مدعیہ نے یہ استدلال کیاہے کہ نعوذ باللہ! حضرت مسیح موعود اپنے آپ کوخدا کا شریک قراردیتے ہیں اور یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ آپ کے الہامات اس بات کی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آپ کو ہرگز یہ دعویٰ نہیں ہے۔ چنانچہ (استفتاء ص۸۶) میں یہ الہام درج ہے اور اس کے ماقبل کے الہامات کے ساتھ ملا کر اگر یہ الہام پڑھاجائے تو مختار مدعیہ کا یہ اعتراض خود بخود باطل ہوجاتاہے اوریہی بات استفتاء کے حوالہ کی بناء پر گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے جرح کے جواب میں کہی تھی۔ جسے مختار مدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ کا مغالطہ قراردیاہے۔ حالانکہ یہ خود مختار مدعیہ کا مغالطہ ہے۔ کیونکہ اس وقت پہلے گواہ کے سامنے استفتاء کا حوالہ پیش کیاگیاہے۔ جس کے جواب میں گواہ نے یہ بیان کیاتھا کہ یہ خطاب اللہتعالیٰ کوہے اوریہ بالکل صحیح تھا۔ چنانچہ وہاں الہامات کی وہی ترتیب ہے جو (حقیقت الوحی ص ۱۰۴، خزائن ج۲۲ ص۱۰۷) میں ہے اور وہ یہ ہے: ’’رب انی مغلوب فانتصر، فسحقھم تسحیقا‘‘ زندگی کے فیشن سے دورجاپڑے ہیں۔ ’’انما امرک اذا اردت شیٔا ان تقول لہ کن فیکون‘‘ جن کا تحت اللفظ ترجمہ (حقیقت الوحی ص۱۰۵، خزائن ج۲۲ ص۱۰۷) میں یوں درج ہے: ’’اے میرے خدا میں مغلوب ہوں۔ میرا انتقام دشمنوں سے لے۔ پس ان کو پیس ڈال کہ وہ زندگی کی وضع سے دور جاپڑے ہیں تو جس بات کا ارادہ کرتاہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہوجاتی ہے۔‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں جوضمائر خطاب ہیں، وہ جناب الٰہی کے متعلق ہیں۔ پھر انہی الفاظ میں آپ کو یہ بھی الہام ہوا۔ ’’انما امرنا اذا اردنا شیٔا ان نقول لہ کن فیکون‘‘ یعنی ہمارے امور کے لئے ہمارا یہ قانون ہے کہ جب ہم کسی چیز کا ہوجانا چاہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے۔

(تریاق القلوب ص۹۱، خزائن ج۱۵ ص۳۴۳، البشری ج۲ ص۵۰)

اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی تمام تحریریں یہی بتاتی ہیں کہ ’’کن فیکون‘‘ کے ایسے کامل اختیارات کہ جس بات کا ارادہ کرے وہ فی الفور ہوجائے۔ صرف خداتعالیٰ ہی کوحاصل ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’حکم اس کا (یعنی خداکا) اس سے زیادہ نہیں کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتاہے اورکہتاہے کہ ہو، پس ساتھ ہی ہوجاتی ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز کی بادشاہی ہے۔‘‘ (جنگ مقدس ص۱۸، خزائن ج۶ ص۱۰۱) اور فرماتے ہیں: ’’نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خداکی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ ’’لہ ملک السمٰوت والارض‘‘ یعنی زمین پرخدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی اور پھر اس آیت پرایمان لانا پڑا کہ’’انما امرہ اذا اراد شیٔا ان یقول لہ کن فیکون‘‘ یعنی تمام زمین وآسمان اس کی اطاعت کررہے ہیں۔ جب ایک کام کو چاہتاہے توکہتاہے کہ ہوجاتو فی الفور وہ کام ہوجاتاہے۔(کشتی نوح ص۳۵، خزائن ج ۱۹ ص۳۸)

50

ہاں! آپ نے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۵، خزائن ج۲۱ ص۲۴) میں یہ تحریر فرمایاہے: ’’افسوس بعض نادانوں نے عبودیت کے اس تعلق کو جوربوبیت کے ساتھ ہے جس سے ظلی طور پر صفات الٰہیہ بندے میں پیدا ہوتی ہے۔ نہ سمجھ کرمیری اس وحی میں اللہ پر اعتراض کیاہے کہ ’’انما امرک اذا اردت شیٔا ان تقول کہ کن فیکون‘‘ یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے کہ ہوجاتو وہ جاتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کاکلام ہے جو میرے پرنازل ہوا۔ یہ میری طرف سے نہیںہے اور اس کی تصدیق اکابر صوفیاء اسلام کرچکے ہیں۔ جیسا کہ عبدالقادر جیلانی نے بھی فتوح الغیب میں لکھاہے اور عجیب تر یہ کہ سیدعبدالقادرجیلانیq نے بھی یہی آیت پیش کی ہے۔ افسوس لوگوں نے صرف اسمی ایمان پرکفایت کرلی ہے اورپوری معرفت کی طلب ان کے نزدیک کفرہے۔‘‘

حضرت سید عبدالقادرجیلانیq فرماتے ہیں:’’قال اللہ تعالٰی فی بعض کتابہ یا ابن آدم انا اللہ لاالٰہ الاانا اقول للشیٔ کن فیکون اطعنی اجعلک تقول للشیٔ کن فیکون وقدفعل ذالک بکثیرمن انبیائٖہ واولیائہٖ وخواص عبادہ‘‘(مقالہ نمبر۱۳ فتوح الغیب) یعنی اللہتعالیٰ نے اپنی بعض کتب میں کہاہے کہ اے ابن آدم میں خداہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں ایک چیز کہتاہوں ہوجاتو وہ ہوجاتی ہے تومیری اطاعت کر میں تجھ سے ایسا کروں گا کہ تو ایک چیز کو کہے گا ہوتو وہ ہوجائے گی اورایسا معاملہ اللہتعالیٰ نے اپنے بہت سے انبیاء اوراولیاء اورخواص بندوں سے کیاہے۔ پھرفرماتے ہیں:’’قال اللہ عزوجل واتقواللہ ویعلمکم اللہ تم یرد علیک التکوین… متکون بالاذن الصریح الذی لاغبارعلیہ‘‘ (فتوح الغیب مقالہ نمبر۱۲) اللہتعالیٰ نے فرمایاہے کہ تم خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور خداتعالیٰ تم کو سکھائے گاپھر تجھے تکوین سپرد کی جائے گی۔ پس تو اذن صریح سے جس پرکوئی غبار نہ ہوگا،تکوین یعنی پیدا کرے گا۔

پس جو بات حضرت مسیح موعود نے بیان کی ہے، اس کے متعلق سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ ایسی تکوین توبہت سے مقربین بارگاہ الٰہی کو حاصل ہوئی۔ پس کیا مختار مدعیہ عبدالقادرجیلانی کے متعلق بھی یہی کہے گا کہ انہوں نے خدا کے شریک ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس لئے وہ ’’لاالہ الا اللہ‘‘ سے منکر اورمرتدتھے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جو تکوین کشتگان محبت الٰہی سے صادر ہوتی ہے۔ اس میں اور خداتعالیٰ کی تکوین میںفرق ہے۔ ایسے انسان کاکن کہنا ہمیشہ نتیجہ پیدانہیں کرتا۔ جیسا کہ خداتعالیٰ کا بلکہ ایسے لوگوں کا کن کہنا اس وقت منتج ہوتاہے جب کہ وہ لقاء کی حالت میں ہوتے ہیں اوروہ خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ایسے ہوتے ہیں، جیسے مردہ نہلانے والے کے ہاتھ میں ان کی تموج کے وقت کی حرکات اپنی نہیں ہوتی۔ بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’لقاء کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آجاتاہے تو اس مرتبہ کے تموج کے اوقات میں الٰہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں اور ایسے شخص کی گہری محبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسرکرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا۔ کیونکہ اس تموج کی حالت میں کچھ الٰہی صفات کا رنگ ظلی طور پر انسان میں آجاتاہے۔ یہاں تک کہ اس کا رحم خداتعالیٰ کا رحم اور اس کا غضب خداتعالیٰ کا غضب ہوجاتاہے اوربسااوقات وہ بغیر کسی دعا کے کہتاہے کہ فلاں چیز پیدا ہوجائے تو وہ پیدا ہوجاتی ہے اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتاہے تو اس پر کوئی وبال نازل ہوجاتاہے اور کسی کورحمت کی نظر دیکھتاہے تووہ خداتعالیٰ کے نزدیک مورد رحم ہوجاتاہے۔ جیسا کہ خداتعالیٰ کا کن دائمی طور پرنتیجہ مقصودہ کو بلاتخلف پیداکرتاہے۔ ایسا ہی اس کا کن بھی اس تموج اورمد کی حالت میں خطا نہیں جاتا اور جیسا کہ میں بیان کرچکاہوں۔ ان اقتداری خوارق کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے کہ یہ شخص شدت اتصال کی وجہ سے خدائے عزوجل کے رنگ سے ظلی طور پر رنگین ہوجاتاہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۶۸،۶۹، خزائن ج۵ ص۶۸،۶۹) اور

51

اسی حالت کی مثالیں مختلف انبیاء میں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ کے سونٹا مارنے سے سمندر پیچھے ہٹ گیا اور آنحضرتﷺ نے بدر میں ایک مٹھی کنکریوں کی پھینکی جو ایک آندھی کی شکل بن گئی اورآپ نے ایک برتن میں انگلیاں رکھیں اور اس سے پانی نکلنے لگا۔ تھوڑا سا پانی اتنابڑھا کہ سینکڑوں آدمیوں نے پیا اور پھر بھی وہ باقی رہا۔ اسی طرح کھانا بڑھانے کے خوارق احادیث میں کثرت سے بیان ہوئے ہیں۔ پس یہ تکوین اس تموج اورمد کی حالت میں ہوتی ہے جس کی طرف مذکورہ بالا عبارت میںآپ نے اشارہ فرمایاہے اور یہ جائے اعتراض نہیں ہے۔ چنانچہ (حکمۃ الاشراق مطبوعہ ایران ص۷) میں لکھاہے: ’’الم تران الحدید الحامیۃ تتشبہ بالنار لمجاورتھا وتفعل فعلھا فلا تتعجب من نفس استشرقت واستضائت بنوراللہ فاطاعھا الا کوان طاعتھا للقد سیّین فتؤمی فیحصل الشیٔ بایماء بہا وتصور میقع الشیٔ بحسب تصورھاومثل ھٰذا فلیعمل العاملون‘‘

یعنی کیا تجھے معلوم نہیں کہ گرم لوہاآگ کی مجاورات میں آگ کے مشابہ ہو جاتاہے اورآگ کا کام کرتاہے پس تو اسی طرح اس نفس سے تعجب نہ کر کہ جو خداتعالیٰ کے نورسے روشن ہوکرچمک اٹھاہے اورمخلوقات اس کی ویسی اطاعت کریں، جیسی کہ عالم قدسی میں رہنے والوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ پس وہ خداکے نور سے منورنفس اشارہ کرتاہے تو وہ چیز اس کے اشارہ سے موجود ہوجاتی ہے اور تصور کرتاہے تو اس کے تصور کے مطابق وہ چیز واقع ہوجاتی ہے اور عمل کرنے والے کو ایساہی عمل کرناچاہئے۔ پھر یہ حالت صرف اسی صفت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دوسری صفات علم وغیرہ کا بھی ایسے کامل نفس سے ظہور ہوجاتاہے۔

اوراذااردت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہر وقت مقربان بارگاہ الٰہی کو یہ مقام دیاجاتاہے اور یہ قضیہ شرطیہ کلیہ نہیں ہے، بلکہ مہملہ ہے جو قوت قضیہ جزئیہ کے ہوتاہے۔ جیسا کہ (صحیح مسلم شرح اکمال ج۷ ص۷۱) میں بذیل حدیث:’’اذا احب اللہ عبداً وضع لہ القبول فی الارض‘‘ لکھاہے: ’’انما ھی المھملۃ فی قوۃ الجزئیۃ فالمعنی قد یکون اذا احب اللہ عبداً وضع لہ القول فی الارض وانما کانت مھملۃ لان اذا وان اھمال فی الشرطیۃ علٰی ماتقرر فی المنطق‘‘ یعنی یہ حدیث کہ اللہتعالیٰ بندے سے محبت کرتاہے تو اس کی قبولیت زمین میں کردیتاہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کبھی ایسا ہوتاہے نہ کہ ہروقت۔ کیونکہ یہ قضیہ مہملہ قوت جزئیہ میں ہے۔ پس اسی طرح کامل انسان کاکن دائمی طور پرنتیجہ مقصودہ پیدا نہیں کرتا بلکہ تموج اور مد کی حالت میں جو انسان کی لقاء کے مرتبہ میں حاصل ہوتی ہے، جس کی طرف آیت: ’’مارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمٰی‘‘ میں یہی اشارہ پایاجاتا ہے اور اس وقت بندہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتابلکہ الٰہی طاقت اس کے اندر کام کررہی ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ روحانیت کے مراتب عالیہ سے محروم اورمعرفت الٰہی سے نابینالوگ ایسی باتوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ افسوس کہ جو امور انسانی کمال کا ثبوت سمجھے جاتے تھے اورکتب بزرگان جس کے تذکرہ سے معمور ہیں۔ آج ناواقفی اوربیگانگی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بڑے بڑے مدعیان علم انہی پر معترض ہیں۔ اگر مختار مدعیہ کا قول صحیح سمجھاجائے تو مذکورہ بالاتمام بزرگ مشرک قرار پاتے ہیں۔نعوذ باللہ من ذالک!

(۹) میکائیکل جس کے معنی عبرانی زبان میں خدا کی مانند ہیں

(اربعین نمبر۳ ص ۲۵حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کی اس عبارت پرکہ: ’’دانیال نبی نے میرا نام میکائیل رکھاہے اورعبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند‘‘ یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ کا اپنے متعلق ایسا یقین کرنا ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ کے خلاف ہے اور یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک

52

مغالطہ ہے۔ کیونکہ جس جگہ سے اعتراض کیاگیاہے اسی جگہ اس کی تشریح بھی موجود ہے۔ چنانچہ آپ اس پیش گوئی کا ذکرکرتے ہیں یہ نہیں فرماتے ہیں کہ میں خدا کی مثل ہوں۔ بلکہ آپ نے اس کی توضیح یہ بیان فرمائی ہے: ’’دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرانام میکائیل رکھاہے اورعبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے، جو براہین احمدیہ میںدرج ہے:’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی وحان ان تعان وتعرف بین الناس‘‘ یعنی تو مجھ سے ایسا قرب رکھتاہے اورایسا ہی میں تجھے چاہتاہوں، جیسا کہ اپنی توحیدی اورتفرید کو سوجیسا کہ میں اپنی توحید کی شہرت چاہتاہوں۔ ایسا ہی تجھے دنیا میں مشہور کروں گا اورہر ایک جگہ جو میرانام جائے گا تیرا نام بھی ساتھ ہوگا۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳)

پھر آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کا مثیل اور آدم کے رنگ میں ظاہر ہونے والا قراردیاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’خدا نے آدم کی مانند اس عاجز کو پیداکیا اوراس عاجز کانام آدم رکھا۔ ‘‘ جیسا کہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے: ’’اردت ان استخلف فخلقت آدم‘‘ اورنیز یہ الہام:’’خلق آدم فاکرمہ‘‘ اور آدم کی نسبت توریت کے پہلے باب میں یہ آیت ہے۔ تب خدا نے کہا کہ ہم نے انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بنا ویں۔ دیکھو (تورات ب:۱ آیت:۶) اور پھر کتاب (دانیال ب:۱۲) میں لکھاہے اوراس وقت میکائیل (جس کا ترجمہ ہے خدا کی مانند) وہ بڑا سردار جوتیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے۔ اٹھے گا (یعنی مسیح موعود آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا) پس میکائیل یعنی خدا کی مانند درحقیقت تورات میں آدم کا نام ہے اورحدیث نبوی میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ خدانے آدم کو اپنی صورت پرپیدا کیا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود آدم کے رنگ پرہوگا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۱۰۶، خزائن ج۱۷ ص۲۷۵، ۲۷۴ حاشیہ) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود نے میکائیل نام سے صرف یہ مراد لی ہے کہ مسیح موعود آدم کے رنگ میں ظاہرہوگا۔

اور حدیث میں بھی آیاہے:’’خلق اللہ آدم علی صورتہٖ‘‘ (مسلم ابواب البرج۲ ص۳۹۷) کہ خداتعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا اور مولانامحمداسماعیل صاحب شہید بھی فرماتے ہیں: ’’اگرنفس کاملہ اس اشرف موجود ات کا نمونہ ذات الٰہی کاہے۔ کلمہ ’’انا الحق‘‘ کہے تو جائے تعجب نہیں ہے۔‘‘ (سوانح احمدی ص۷۹) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی مخلوقات میں سے صرف آدمm ہی ایسی مخلوق تھی جو خداتعالیٰ کی صفات کا مظہر بن سکتی تھی۔ دوسری مخلوقات تمام صفات الٰہیہ کا مظہر نہیں بن سکتی تھی۔

اس لئے آدمm ہی کو ’’خلیفۃ اللہ فی الارض‘‘ کا خطاب ملا اور اگر ایسے نام کا اپنے آپ کو مصداق قرار دینے سے شرک لازم آتاہے یا یہ ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ کے خلاف ہے تو جمیع مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ میکائیل فرشتہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید کی آیت: ’’من کان عدواً ﷲ ملٰئکتہ ورسلہ وجبرئیل ومیکال‘‘ پارہ نمبرسورہ بقرہ میں ہے اورمیکائیل کے معنی عربی ڈکشنری میں خدا کی مانند لکھے ہیں۔ جیسا کہ (اقرب الموارد ج۲) میں لکھاہے۔ ’’میکائیل اسم ملک عبرانیہ مرکب معناھا من مثل اللہ‘‘ میکائیل ایک فرشتے کانام ہے اوریہ نام عبرانی زبان کا لکھاہے اور یہ مرکب ہے جس کے معنی ہیں خداکی مانند۔ لہٰذا فرشتے کانام میکائیل (خداکی مانند ماننا) آیت: ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ کے خلاف نہیں ہیں تو حضرت مسیح موعود کا نام کسی نبی کی کتاب میں میکائیل آجانا ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ کے خلاف کیونکر ہونے لگا؟ اور اگر ’’لیس کمثلہٖ شیٔ‘‘ کے خلاف ہے تو پھر تمام مسلمان جو قرآن شریف کی رو سے میکائیل فرشتے پرایمان رکھتے ہیں اور اس کے منکر کو کافر کہتے ہیں۔ مشرک قرارپائیں گے اور اس کی نوبت جہاں تک پہنچتی ہے قابل غور ہے۔ علاوہ اس کے یہ بھی واضح رہے کہ پیش گوئیوں میں آنحضرتﷺ کا آنا خدا کاآنا قرار دیاگیاہے۔ چنانچہ (استثناء ب:۳۳) کی پیش گوئی کہ خدافاران پر

53

سے ظاہرہو آنحضرتﷺ پر لگائی گئی ہے۔ جیسا کہ مختار مدعیہ کے مقبول ومسلم مسلمان اور سرسید احمدخان نے خطبات احمدیہ اور شیخ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الجواب الصحیح میں اوردیگر اکثر علماء نے اپنی تصانیف میں اس کی تصریح کی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نہ تو حضرت اقدس نے اپنے آپ کو خدا کی مانند قراردیانہ کسی جگہ اس کے ’’لیس کمثلہ شیٔ‘‘ کے برخلاف کچھ لکھا ہے۔ بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بلکہ علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت ہے: ’’لیس کمثلہٖ شیٔ وھو السمیع البصیر‘‘ یعنی کوئی چیز اپنی ذات اورصفات میں خدا کی شریک نہیں اور وہ سننے والا اوردیکھنے والاہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۶۱، خزائن ج۲۳ ص۲۷۳)

(۱۰) کأنّٰ اللہ نزل من السمآء

(استفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲)

مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے الہام’’مظھر الحق والعلا کأنّٰ اللہ نزل من السماء‘‘ غلط مفہوم لے کر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے لڑکے کو جس کے متعلق یہ الہام ہے، خدا ماننا پڑتاہے اوریہ بھی مختار مدعیہ کا مغالطہ ہے۔ کیونکہ اس الہام سے قطعاً یہ مراد نہیں جو مختار مدعیہ نے لی ہے اورحضرت مسیح موعود اپنی متعدد کتب میںخود اس کی تفسیر فرماچکے ہیں کہ خداتعالیٰ کے اترنے سے مراد خداتعالیٰ کی رحمت کانزول ہے۔ یعنی اس کے ذریعہ سے خداتعالیٰ کے جلال کا ظہورہوگا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:(۱)’’مظھر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء‘‘ جس کا نزول بہت مبارک اورجلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور، خدا کا سایہ اس کے سرپرہوگا وہ جلد از جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری موجب ہوگا اورزمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔‘‘(اشتہارفروری۱۸۸۶ء، تبلیغ رسالت ج۱ ص۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۰۱،۱۰۲)

(۲)’’مظھر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء یظھر بظہورہ جلال رب العالمین یاتیک نور ممسوح بعطر الرحمان‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۸، خزائن ج۵ ص۵۷۸) یعنی ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدااترے گا اورخداکے آسمان سے اترنے کو رحمت سے تعبیر کیاجاتاہے۔ جیسا کہ ایام اللہ سے خدا کے غضب کے دن ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت:: ’’وذکرہم بایام اللہ (ابراہیم)‘‘ میں مراد ہے اورحدیث میں آتاہے: ’’ینزل ربنا تبارک وتعالٰی کل لیلۃ الٰی السماء الدنیا حتی یبقی ثلٰث اللیل (الٰی آخرالحدیث، بخاری ومسلم مشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ ص۱۰۹)‘‘

آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ اللہتعالیٰ ہررات کے تیسرے پہر سمائے دنیا کی طرف اترتاہے۔ اب ظاہر ہے کہ اللہتعالیٰ صفات اجسام سے منزہ اورنزول اورہبوط اورصعود وغیرہ سے بالکل پاک ہے۔ کیونکہ… نزول صعوداجسام کا خاصہ ہے۔ لیکن خداتعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ اسی وجہ سے شارحین نے لکھاہے: ’’المراد نزول الرحمۃ وقربہ تعالٰی بانزال الرحمۃ وافاضۃ الانوار واجابۃ الدعوات واعطاء المسائل ومغفرۃ الذنوب‘‘ (حاشیہ مشکوٰۃ مجتبائی دہلی ص۱۰۹) خداتعالیٰ کے اترنے سے رحمت کا نزول ہے اور خداتعالیٰ کے رحمت اتارنے اورانوار کے عطاء کرنے اوردعائوں کے قبول کرنے اورمانگی ہوئی چیزوں کودینے اورگناہوں کو بخشنے کے ساتھ خداتعالیٰ کا قرب مراد ہے۔ پس حضرت مسیح موعود کے اس الہام میں: ’’گویاکہ خداتعالیٰ آسمان سے اترا۔‘‘ یہی مراد ہے کہ اس وقت خداتعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوگا اور اس کا جلال چمکے گا اور حق ظاہر ہوگا۔‘‘

54

(۱۱) کشف

مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے اس کشف پر جس میں خداکو دیکھنے اورخدا کے کاغذ پردستخط کرنے کا ذکرہے۔ یہ اعتراض کیاہے کہ اس سے خداتعالیٰ کو جسمانی ماننا پڑتاہے اورخداتعالیٰ جسمانیات سے پاک ہے اور اس کی تشبیہ کسی سے نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا ایسے کشف کو صحیح ماننے والاکیونکر ’’لاالہٰ الااللہ‘‘ کا معتقد ہوسکتاہے۔ مگریہ بھی مختار مدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود نے صاف طور پر لکھاہے کہ میں نے تمثیلی طور پرخداتعالیٰ نے دیکھا اوربطور تمثل خدا تعالیٰ کو خواب میں دیکھنا، ہرگز قابل اعتراض نہیں اور اس سے کسی طرح خداتعالیٰ کا تشبہ بالجسمانیات ثابت نہیں ہوتا اور تمثل کے طور پر خداتعالیٰ کو خواب میں دیکھنا، اولیاء اللہ سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت سید عبدالقادرجیلانی فرماتے ہیں:’’رأیت رب العزۃ فی المنام علیٰ صورۃ امی‘‘ کہ میں نے اپنے رب کو اپنی ماں کی صورت پردیکھا۔ مختار مدعیہ کے قول کی رو سے حضرت سید عبدالقادر جیلانی ’’نعوذ باللہ من ذالک‘‘ مشرک، کافر، مرتد ٹھہراتے ہیں۔ (بحرالمعانی مصنفہ حضرت سید محمدبن نصیر الدین جعفری المکی الحسینی ص۶۴) مختار مدعاعلیہ نے زبانی بحث کی بعد یہ تحریر پیش کی کہ اسے شامل مسل کیا جاوے۔ فریق ثانی کو اس پر اعتراض ہے۔ اس کے متعلق کل فریقین کی بحث سن کر اسے طے کیاجائے مسل کے ساتھ ہے۔

۱۷؍دسمبر۱۹۳۳ء، محمداکبر

مجھے علماء دیوبند کے متعلق اس اعتراض جو حنفی سنی علماء نے ان پر کیاتھا۔ یقین نہیں آتا تھا کہ وہ بزرگوں کی وقعت وعظمت نہیں کرتے۔ لیکن مختار مدعیہ کے ان اعتراضات نے ثابت کردیاہے کہ یہ اعتراض بے حقیقت نہیں ہے۔ اندھیر کی بات ہے کہ اکابر علماء امت جن امور کو لکھتے اورانسانی کمالیت میں شمار کر لیتے ہیں۔ انہی کو دیوبندی علماء نے شرک وکفر اور ارتداد قراردیاہے۔ میں اس موقعہ پر بیسیوں بزرگوں کا خداتعالیٰ کو خواب میں دیکھنا پیش کرسکتاہوں۔ لیکن بخیال اختصار ایک ایسے شخص کو پیش کرتا ہوں جس کی بزرگی سے مختار مدعیہ اوراس کے کسی ہم خیال کو انکار کی جرأت نہیں ہوسکتی اوروہ مولانامحمدقاسم صاحب بانی مدرسہ دیوبند ہیں۔ جن کے غلام غلامان ہونے پرمختار مدعیہ نمبر۲ نے عدالت کے روبرو فخر ومباہات کا اظہار کیاہے۔ سوانح عمری مولانامحمدقاسم صاحب مؤلفہ مولوی محمدیعقوب صاحب نانوتوی کے (ص۳۰) میں لکھاہے کہ: ’’جناب مولوی محمدقاسم صاحب نے ایام طفلی میں یہ خواب دیکھتاتھا کہ گویا میں اللہجل شانہ کی گود میں بیٹھا ہواہوں۔ ان کے داداجی نے یہ تعبیر فرمائی کہ تم کو اللہتعالیٰ علم عطاء فرمائے گا اور بہت بڑے عالم ہوگے اور نہایت شہرت حاصل ہوگی۔‘‘ مختار مدعیہ کے مسلک کی رو سے یہ خواب ان کے آقامولانامحمدقاسم صاحب کو مشرک کافر ومرتد قراردیتاہے۔ کیونکہ اس سے بقول مختار مدعیہ اورگواہان مدعیہ خدا کامجسم ہوناپایاجاتاہے۔ جیسا کہ اللہشانہ کی گود کے الفاظ اس کا جسمانیات سے تعلق ظاہر کرتے ہیں۔ مختار مدعیہ اورگواہان مدعیہ خود مانتے ہیں کہ ہر شب کے آخری حصہ میں خداتعالیٰ دنیا کے آسمان پرنزول فرماتاہے۔ (بخاری مسلم مشکوٰۃ ص۱۰۹وترمذی ج۱ ص۵۹) پھر ان کے نزدیک خداتعالیٰ کاہنسنا بھی ممکن ہے۔ (مسلم ج۱ ص۹۲باب اثبات الشفاعتہ، ابن ماجہ ج۱ ص۳۹) اوریہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہتعالیٰ اپنی پنڈلی ننگی کرے گا۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ ممکن ہے اور خداتعالیٰ کی شان کے مناسب ہے۔ لیکن اگر محال اور خدا کی شان کے منافی ہے تو اسے حضرت مسیح موعود کا تمثلی طور پر کشف میں دیکھنا! معلوم ہوتاہے کہ مختار مدعیہ نے غالباً اس فتویٰ کی رو سے جو فقہ کی مشہور ومعروف کتاب (البحرالرائق ج۵) میں لکھاہے کہ جو شخص کہے کہ میں رب العزت کو خواب میں دیکھا وہ کافرہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود کو کافر قرار دینے کے شوق میں یہ اعتراض کیاتھا اورانہیں یہ خبرنہیں تھی کہ خیر سے مولوی محمدقاسم بھی خواب دیکھ چکے

55

ہیں۔ افسوس پھر علماء اوراولیاء ہی نہیں بلکہ آنحضرتﷺ بھی فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب کو بے ریش نوجوان کی صورت میں دیکھا جس کے بال کانوں کی لوتک تھے اورپائوں میں سونے کا جوتاتھا اورحافظ سیوطی نے لکھاہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۶۳)

اوربحرالمعانی مصنفہ حضرت سید محمدبن نصیرالدین کے (ص۷۵) میں یہ روایت لکھی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’رأیت ربی لیلۃ المعراج علی صورۃ شاب امرد‘‘ کہ معراج کی رات میں نے اپنے رب کو بے ریش نوجوانوں کی شکل پردیکھا۔ معلوم نہیں مختار مدعیہ اپنے اس مسلک کے لحاظ سے کہ خداتعالیٰ کو خواب میں دیکھنے والامشرک کافر مرتد ہے اوراگروہ کروڑ مرتبہ بھی کلمہ پڑھے تو قابل قبول نہیں۔ اس حدیث کو دیکھنے کے بعد کیا فتویٰ دے گا۔

(۱۲)انت منی بمنزلۃ ولدی

مختار مدعیہ نے اس الہام سے یہ غلط نتیجہ نکالاہے کہ مرزا صاحب نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیاہے اور یہ بھی اس کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ اس الہام کودرج کر کے حضرت مسیح موعود نے اس کی تشریح بھی ساتھ ہی بیان کردی ہے کہ خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور کسی کو خداکا بیٹا قراردینا کفرہے۔ چنانچہ (دافع البلاء ص۷ حاشیہ، خزائن ج ۱۸ ص۲۲۷)میں یہی الہام: ’’انت منی بمنزلہ ولدی‘‘ درج فرماکر حاشیہ میں فرماتے ہیں: ’’یادرہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتاہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا یاخدا کا بیٹاہوں۔ لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرتﷺ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قراردیااورفرمایا: ’’یداللہ فوق ایدیھم‘‘ ایساہی بجائے ’’قل یا عباد اللہ‘‘ کے’’قل یٰعبادی‘‘ کہا اور یہ بھی فرمایا کہ: ’’فاذکرواللہ کذکرکم اٰبائکم‘‘ پس خدا کی اس کلام کو ہوشیاری اوراحتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لائو اوراس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین کرو کہ خدا ’’اتخاذ ولد‘‘ سے پاک ہے، تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایاجاتاہے اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جوبراہین احمدیہ میں درج ہے: ’’قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الٰھکم الہ واحد والخیر کلہ فی القرآن‘‘ (دافع البلاء حاشیہ ص۶،۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

کیا اس تشریح کو دیکھنے کے بعد کوئی امانت ودیانت سے حصہ رکھنے والا انسان یہ کہہ سکتاہے کہ حضرت اقدس نے اس الہام کی رو سے فرزند خداہونے کا دعویٰ کیاہے؟ ہرگز نہیں۔ حضرت اقدس تو اس تشریح میں فرمارہے ہیں کہ خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔ خدا کابیٹاہونے کا دعویٰ کفرہے اورمختار مدعیہ اس سے عدالت کو یہ باورکرانا چاہتاہے کہ مرزاصاحب نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر حضرت اقدس (حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹) میں یہی الہام مذکورہ درج کر کے حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اوریہ کلمہ بطوراستعارہ کے ہیں۔ چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ کو خدا سے پاک ٹھہرا رکھاہے۔ اس لئے مصلحت الٰہی نے یہ چاہاکہ اس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کے لئے نسبت استعمال کرے۔ تاعیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے مسیح کو خدا بناتے ہیں اس امت میں بھی ایک ہے۔ جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔‘‘ اور(حقیقت الوحی ص۶۳، خزائن ج۲۲ ص۶۵تا۶۶) میں فرماتے ہیں: پہلی کتابوں میں جو کابل راست بازوں کوخداکے بیٹے کرکے بیان کیاگیاہے۔ اس کے یہ بھی معنی نہیں ہیں کہ وہ درحقیقت خدا کے بیٹے ہیں۔ کیونکہ یہ تو کفر ہے اور خدا بیٹے اوربیٹیوں سے پاک ہے۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ ان کامل راست بازوں کے آئینہ صافی ہیں۔ عکسی طور پرخدانازل ہواتھا اورایک شخص کا عکس جو

56

آئینہ میں ظاہر ہوتاہے۔ استعارہ کے رنگ میں گویاوہ خدا کا بیٹاہوتاہے۔ کیونکہ جیسا کہ بیٹا باپ سے پیدا ہوتاہے۔ ایسا ہی عکس اپنے اصل سے پیداہوتاہے۔ پس جب کہ ایسے دل میں جو نہایت صافی ہے اورکوئی کدورت اس میں باقی نہیں رہی۔ تجلیات الٰہیہ کا انعکاس ہوتاہے تو وہ عکسی تصویر استعارہ کے رنگ میں اصل کے لئے بطور بیٹے کے ہوجاتی ہے۔ اسی بناء پرتوریت میں کہاگیاہے کہ یعقوب میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا بیٹاہے۔ اگر عیسائی لوگ اسی حد تک کھڑے رہتے ہیں کہ جیسے ابراہیم اوراسحاق اوراسماعیل اوریعقوب اور یوسف اورموسیٰ اوردائود اور سلیمانo وغیرہ خدا کی کتابوں میں استعارہ کے رنگ میں خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی عیسیٰؑ بھی ہے تو ان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ کیونکہ جیسا کہ استعارہ کے رنگ میں ان نبیوں کو پہلے نبیوں کی کتابوں میں بیٹا کر کے پکاراگیاہے۔ ہمارے نبیa کو بعض پیش گوئیوں میں خدا کر کے پکاراگیاہے اور اصل بات یہ ہے کہ نہ تو وہ تمام نبی خداتعالیٰ کے بیٹے ہیں اورنہ آنحضرتﷺ خداہیں۔ بلکہ یہ تمام استعارات ہیں۔ محبت کے پیرایہ میں ایسے الفاظ خداتعالیٰ کی کلام میں بہت ہیں۔‘‘ اور آپ (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۴، خزائن ج۲۲ ص۵۸۲) اس بناء پر خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے درحقیقت بیٹے ہیں۔ کیونکہ یہ تو کلمہ کفرہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے۔ بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میںوہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچے کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اسی مرتبہ کی طرف قرآن میں اشارہ کر کے فرمایا گیاہے: ’’فاذکروا اللہ کذکرکم اٰبائکم اواشد ذکرا‘‘ یعنی خدا کو ایسے محبت اوردلی جوش سے یاد کرو، جیسا کہ بچہ اپنے باپ کو یاد کرتاہے۔ اسی بناء پر ہرایک قوم کی کتابوں میںباپ یا بیٹا کے نام سے خدا کو پکارا گیاہے۔ سو اولیاء اللہ کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں، یہ صرف استعارہ ہے۔ ورنہ خدا اطفال سے پاک اور ’’لم یلد ولم یولد‘‘ ہے۔

(۱۳) ایک ضمنی اعتراض کاجواب

مختار مدعیہ نے کہا ہے کہ خدا کے نیک بندوں کو مجازی طور پر اطفال اللہ تو کہہ سکتے ہیں لیکن ولد کا لفظ مجازی طور پر بھی استعمال نہیں کرسکتے۔ یہ بھی اس کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ کوآیت قرآنی: ’’فاذکروا اللہ کذکرکم اٰبائکم‘‘ میں مجازی طور پر اب یعنی باپ کے قائم مقام رکھ کر اسے باپوں کی طرح یاد کرنے کا حکم فرمایا ہے تو یاد کرنے والوں کو استعارہ کے رنگ میں ولد اورابن کے قائم مقام نہ ہونے اور اس کو ناجائز قراردینے کی کیا وجہ ہے؟ علاوہ اس کے حضرت اقدس نے اپنے الہام میں ولد کے معنی طفل ہی کے کئے ہیں۔ چنانچہ اطفال حق کے الفاظ حق کے الفاظ جو اولیاء کے حق میں استعمال کئے گئے ہیں ان کو استعارہ کے طور پر قرار دے کر آپ نے فرمایاہے کہ خداتعالیٰ اطفال سے پاک ہے اور ’’لم یلد ولم یولد‘‘ ہے۔ مختار مدعیہ کو جاننا چاہئے کہ ابن اور ولد کا لفظ ہم معنی ہیں۔ قرآن مجید میں جیسے حقیقی معنوں میں مسیح کو ابن اللہ کہنے کی مذمت کی گئی ہے ویسے ہی ولد اللہ کہنے کی اورجیسے ابن کا لفظ مجازی طور پرپیارے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے ویسے ولد کا لفظ بھی۔ چنانچہ (الیواقیت ج۲ ص۱۳۹) میں لکھاہے: ’’کمایقول الشخص لاجنبی انت اخی اوولدی علی طریق التقریب والاکرام ثم لایرثہ اذ مات ولایحرم علی بناتہ واخواتہ‘‘ یعنی جیسے کوئی شخص ایک اجنبی کو اپنا بھائی یا اپنا بچہ تقریب اور اکرام کی خاطر کہہ دے تو پھر وہ شخص نہ تو اس کے مرنے پر اس کا وارث ہوتاہے اورنہ اس پر اس کی بیٹیاں اوربہنیں حرام ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے معلوم ہوگیا کہ ولد استعمال مجازی طور پر ہوسکتاہے۔ اب اگر ابن اللہ کے الفاظ کا مجازی طور پر استعمال کسی نبی کے لئے دکھادیاجائے تو مختار مدعیہ کے لئے گنجائش چون وچرا نہیں رہ سکتی۔ پس ہم تمام دیوبندیوں کے مسلم مقتداء پیشوا حضرت مولاناشا ولی اللہ صاحب کا حوالہ (الفوز الکبیر فی اصول التفسیر ص۸) سے پیش کرتے ہیں: ’’وازاں جملہ آینست کہ خداتعالیٰ در ہرملت انبیاء وتابعان

57

ایشاںرابہ لقب مقرب ومحبوب تشریف دادہ است ومنکر آں ملت را بصفت مبغوضیت نکر ہیدہ است ودرین باب بہ لفظے شائع در ہر قوم تکلم واقع شد اگر لفظ ابناء بجائے محبوباں ذکرشدچہ عجب۔ ‘‘ اگرچہ شاہ صاحب کا حوالہ ہی کافی ہے۔ لیکن میں ایک حوالہ دیوبند کے شیخ الہند مولانا رحمت اللہ مہاجربیت اللہ کا بھی پیش کرتاہوں۔ آپ اپنی کتاب (ازالۃ الاوہام ص۵۲۰) میں فرماتے ہیں: ’’فرزند عبارت از عیسیٰؑ ہست کہ نصاریٰ آنجناب راحقیقۃ ابن اللہ میدانند واہل اسلام آنجناب راابن اللہ بمعنی عزیز وبرگزیدۂ خدا میشمارند۔‘‘ اگرچہ اس حوالہ نے بات انتہاء تک پہنچادی۔ لیکن مختار مدعیہ کو اچھی طرح اس کو گھردکھانے کے لئے میں ایک حوالہ مولوی محمد قاسم صاحب کا بھی پیش کئے دیتاہوں، جن کے غلامان غلام ہونے کا مختاران مدعیہ کو فخر حاصل ہے فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ کا تعدد محال ہے۔ اس لئے خدا کے لئے بیٹے کا ہونا یاماں باپ کا ہونا یا بھائی کا ہونا بھی بے شک منجملہ محالات ہوگا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جیسے رعیت کے لوگ اپنے حاکموں اوربادشاہوں کو بوجہ مزید التفات ماں باپ کہہ دیاکرتے ہیں اوربادشاہ اورحاکم ان کو فرزندی کا خطاب دے دیاکرتے ہیں۔ ایسے ہی اگر گہ وبیگاہ کسی بزرگ ولی نے خداتعالیٰ کو باپ کہہ دیاہو یا خداوندتعالیٰ نے کسی اچھے بندے کو جیسے انبیاء یا اولیاء فرزند کہہ دیاتو اس کے بھی یہی معنی ہوں گے کہ خداتعالیٰ ان بزرگوں پر مہربان ہے۔ حقیقی ابوت یا بنوت ایسی جاپر سمجھ لینا اورخداتعالیٰ کو حقیقی باپ اوران کو حقیقی بیٹا سمجھا سخت بے جاہوگا۔‘‘(حجۃ الاسلام مطبوعہ مجتبائی ص۱۱)

میں نہیں سمجھتاکہ جب خداتعالیٰ کی طرف سے کسی نبی یا ولی کو بیٹے کے لفظ سے مخاطب کرنا ان کے مقتدائوں اور پیشوائوں کی تحریروں سے اس شدومد کے ساتھ جائز ثابت ہوتاہے تو پھر مختار مدعیہ کو حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالاالہام پر اعتراض کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

(۱۴)اسمع ولدی

(البشریٰ ج۱ ص۴۹)

مختار مدعیہ نے اس کو الہام قراردے کر حضرت مسیح موعود کی طرف ولد اللہ ہونے کا دعویٰ منسوب کیاہے اور مختار مدعیہ کا ایک نہایت ہی رکیک مغالطہ ہے۔ کیونکہ جرح کے جواب سے گواہ نمبر۱ نے اصل حقیقت ظاہر کردی تھی۔ باوجود اس کے مختار مدعیہ نے پھر اسے پیش کیاہے جس سے اس کی نیت نہایت صفائی سے ظاہرہورہی ہے۔ درحقیقت یہ حضرت مسیح موعود کا کوئی الہام نہیں ہے۔ اصل الہام ’’اسمع واری‘‘ ہے۔ اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ منقول عنہ کتاب میں ’’اسمع ولدی‘‘ نہیں بلکہ ’’اسمع واری‘‘ ہے اور ظاہر ہے کہ جب اصل کتاب میں وہ الفاظ نہیں جو نقل میں ہیں تو نقل صحیح نہیں سمجھی جاسکتی۔ چنانچہ اگرکوئی مسلم شخص قرآن مجید کی آیت نقل کرنے میںغلطی کرجائے تو کسی مخالف کا اس غلط نقل کو قرآن مجید کی آیت قرار دینا کسی عقل مند انسان کے نزدیک درست نہیںہوگا۔ اصل صحیح اورنقل غلط قراردی جائے گی۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ چنانچہ ’’البشری‘‘ میں ’’اسمع ولدی‘‘ کا حوالہ یہ دیاگیاہے۔ منقول از(مکتوبات احمدیہ ج اوّل ص۲۳) اب مکتوبات احمدیہ جس سے یہ حوالہ دیاگیاہے اس کی اصل عبارت یہ ہے: ’’آج قبل تحریر اس خط کے یہ الہام ہوا:’’کذب علیکم الخبیث کذب علیکم الخنزیر، عنایت اللہ حافظک انی معک اسمع واری الیس اللہ بکاف عبدہ فبرأہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھا‘‘ ان الہامات میں یہ ظاہر کیاگیاہے کہ کوئی ناپاک طبع آدمی اس عاجز پرکوئی جھوٹ بولے گایابولاہے۔ مگر عنایت اللہ حافظ ہے۔‘‘ اب صاف ظاہر ہے کہ (البشری ج اوّل ص۴۹) میں کاتب کی غلطی سے ’’اسمع واری‘‘کی جگہ

58

’’اسمع ولدی‘‘ لکھاگیاہے اورچونکہ اصل میں اس کا ترجمہ یہ نہ تھا۔ غلطی سے مؤلف نے ترجمہ بھی ظاہری کتاب کے مطابق کردیا اور اس کے مؤلف بابو منظورالٰہی ملازم محکمہ تار ریلوے نے دیباچہ میں لکھ دیاہے کہ وہ کوئی عربی دان نہیںہیں۔ انہوں نے جمع الہامات کا کام محض اپنے شوق اورثواب کی نیت سے کیاتھا اور حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں کثرت سے اس بات کا اظہار کیاگیاہے کہ اللہتعالیٰ ’’اتخاذ ولد‘‘ سے پاک ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’خداتعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے سب سے زیادہ مرتبے پر وہ لوگ ہیں جن کا نام نبی اور رسول ہے۔ بے شک وہ خداتعالیٰ کے پیارے اورمقبول ہیں، نہایت درجہ کے عزت دار ہیں۔ اسی میں کھوئے گئے اور اسی کا روپ بن گئے اورخداتعالیٰ کا جلال ان سے ظاہرہوا۔ خداان میں اور وہ خدا میں، مگر تاہم ان میں سے ہم حقیقتاً نہ کسی کو خداکہہ سکتے ہیں اورنہ خدا کا بیٹا۔‘‘(اشتہار ملحقہ کتاب شہادۃ القرآن ص ب، خزائن ج۶ ص۳۷۹)

۲… اور فرماتے ہیں: ’’وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اورخالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میںازلی ابدی اور غیر معتبر ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا اورنہ کوئی اس کا بیٹا۔ وہ دکھ اٹھانے اورصلیب پرچڑھنے اورمرنے سے پاک ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۱۰، خزائن ج۱۹ ص۱۰،۱۱)

۳… اورفرماتے ہیں: ’’یاد رہے کہ خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک اورنہ بیٹا ہے اور نہ کسی کوحق پہنچتاہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خداہوں یاخدا کا بیٹاہوں۔‘‘(دافع البلاء ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

(۱۵)اخطی واصیب

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

مختار مدعیہ کے پیش کردہ الہامات کے علاوہ دوالہام گواہ نمبر۱ الف نے اپنے بیان میں پیش کئے ہیں اور ان کے پیش کرنے میں گواہ نے وہی مغالطہ کا طریق اختیارکیاہے جو مختار مدعیہ نے کیا۔ چنانچہ اس نے سے الہام: ’’اخطی واصیب‘‘ ذکر کرکے یہ نتیجہ لکھوایاہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اس الہام کی رو سے خداتعالیٰ کو غلطی کرنے دینے والاقراردیاہے اورنتیجہ نکالنے میں اس نے دیدہ دانستہ عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اور اس کی ایسی تشریح کی ہے جو ملہم کے منشاء کے بالکل برخلاف ہے اور یہ نتیجہ نکالنے کے شوق میں اس نے اس الہام کا وہ ترجمہ اورتشریح جو حضرت مسیح موعود نے خود فرمائی ہے بالکل نظر انداز کردی ہے۔ حالانکہ اس کی موجودگی میں کوئی اعتراض پیدانہیں ہوتا اوروہ نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا، جوگواہ مدعیہ نے نکالاہے اور ترجمہ اور تشریح حقیقت الوحی کے اسی صفحہ پرجہاں سے گواہ نے یہ الہام نقل کیاہے مذکورہے۔ چنانچہ حضرت اقدس نے اس الہام کا ترجمہ یہ نہیں کیا کہ: ’’میں غلطی کرتاہوں۔‘‘ بلکہ آپ نے ترجمہ یوں کیاہے: ’’اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی ارادہ پوراکروں گا۔‘‘ اب دیکھنا چاہئے کہ اس الہام کو ان معنوں میں لے کر کون سا اعتراض باقی رہ جاتاہے۔

اورحضرت اقدس اس الہام کی تشریح میں اسی صفحہ کے حاشیہ پرفرماتے ہیں: اس وحی الٰہی کے ظاہر الفاظ یہ معنی رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کروں گا اورصواب بھی۔ یعنی جو میں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں۔ میرا ارادہ پوراہوگا اورکبھی نہیں۔ ایسے الفاظ خداتعالیٰ کے کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھاہے کہ میں مؤمن کی قبض روح کے وقت تردد میں پڑتاہوں۔ حالانکہ خداتردد سے پاک

59

ہے۔ اسی طرح یہ وحی الٰہی کہ کبھی میرا ارادہ خطاء جاتاہے اور کبھی پورا ہوجاتاہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی میں اپنی تقدیر اورارادہ کو منسوخ کردیتاہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہاہوتاہے۔(حقیقت الوحی ص۱۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶)

اورحضرت اقدس نے عبارت بالا میں جس حدیث کا ذکرفرمایا،اس کے الفاظ یہ ہیں:’’عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہﷺ ان اللہ تعالٰی قال من عاد لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب الی قولہ تعالٰی وما ترددت شیٔ انا فاعلہٗ ترددی عن نفس المؤمن یکرہ الموت وانا اکرہ مسائتہ‘‘ (بخاری کتاب الرقاق باب التواضع)

یعنی اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ مجھ کو کسی کام میں جسے میں کرنا چاہتاہوں(پس وپیش) نہیں ہوتا۔ جتنا اپنے مسلمان بندے کی جان نکالنے میں ہوتاہے۔ وہ توموت کو (بوجہ تکلیف جسمانی کے) برا سمجھتاہے اور مجھے بھی اسے تکلیف دینا برا لگتاہے۔

اور یہ حدیث قدسی ہے۔ یعنی آنحضرتﷺ اللہتعالیٰ سے روایت کرتے ہیں۔ اب اگر اس حدیث کو بھی گواہ مدعیہ کے طرز پر لیاجائے تو خداتعالیٰ کا متردد ہونالازم آئے گا۔ حالانکہ اللہتعالیٰ تردد سے پاک ہے۔

اللہتعالیٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ ہے کہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور وہ کبھی غلطی نہیں کرتا۔ چنانچہ آپ کا الہام ہے:

۱… ’’ان ربی لایضل ولاینسی‘‘ کہ میرا رب نہ غلطی کرتاہے نہ بھولتاہے۔(اربعین نمبر۲ ص ۳۶، خزائن ج۱۷ ص۳۸۴)

۲… ’’لایخفی علی اللہ خافیۃ‘‘ کہ خداتعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔(البشریٰ ج۱ ص۳۳)

۳… ’’وانہ یعلم السر واخفی لاالہ الا ھو یعلم کل شیٔ ویری‘‘ اور اللہجانتاہے سر کو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ چیز کو۔ کوئی معبود نہیں بجز اس کے اور وہ ہر شئے کو جانتاہے اور دیکھتاہے۔ (البشریٰ ج۲ ص۵۸)

پس ’’اخطی واصیب‘‘ کے ایسے معنی لینا جو ملہم کے ترجمہ اور تشریح اوردیگر الہامات کے خلاف ہوں، ایک ایسی جسارت ہے جس کے متعلق کچھ کہنے سے نہ کہنا بہترہے۔

(۱۶)الارض والسماء معک کماھو معی۱؎، ۲؎

(سراج منیر ص۷۴، خزائن ج۱۲ ص۸۳)

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے اس الہام سے حضرت مسیح موعود پر یہ بہتان باندھا ہے کہ گویا مرزا صاحب نے اس الہام سے اپنے آپ کو اللہتعالیٰ کی طرح حاضروناظر جاناہے۔ حالانکہ نہ تو حضرت مسیح موعود کا عقیدہ ہے کہ آپ اللہتعالیٰ کی طرح حاضروناظرہیں اور نہ آپ کی جماعت آپ کے متعلق ایسا اعتقاد رکھتی ہے اور نہ آپ نے اس الہام سے کبھی یہ مطلب کیاہے اور آپ نے خود جو مطلب اس الہام کا بیان فرمایاہے وہ آپ کی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں درج ہے، جو یہ ہے۔ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آئندہ بہت سی قبولیت ظاہر ہوگی اور زمین کے لوگ رجوع کریں گے اورآسمانی فرشتے ساتھ ہوں گے۔ جیسا کہ کل ظہور میں آیا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶۱، خزائن ج۲۱ ص۷۸)

۱؎ ھو تاویل سے واحد ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔ (سراج منیر حاشیہ ص۷۴، خزائن ج۱۲ ص۸۳)

۲؎ ہوکا ضمیر واحد بتاویل مافی السموٰت والارض ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۸۷، خزائن ج۱ ص۵۸۰ حاشیہ در حاشیہ)

60

اور بطور قاعدہ کلیہ فرماتے ہیں: جو شخص بڑا صدق لے کراللہتعالیٰ کی طرف دوڑتاہے۔ وہ اس کے لئے بڑے بڑے کام دکھاتاہے۔ یہاں تک کہ اپنے زمین وآسمان کو اس کے لئے غلاموں کی طرح کردیتاہے۔ ’’اس کے منشاء کے مطابق دنیا میں تصرف کرتاہے۔‘‘ (ضمیمہ چشمہ معرفت ص۵۱، خزائن ج۲۳ ص۴۲۰)

اور جانناچاہئے کہ زمین وآسمان کی معیت سے یہ مراد ہے کہ زمین وآسمان سے آپ کی تائید کے نشانات ظاہرہوتے ہیں اور وہ آپ کی صداقت اورسچائی کی شہادت دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ؎

  1. آسمان بارد نشان میگوند زمین

    ایں دوشاہد از پئے تصدیق من استادہ اند

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۸، خزائن ج۵ ص۳۵۸)

اور فرماتے ہیں ؎

  1. آسمان میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ

    چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک وتار

  2. تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے

    تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار

  3. آسمان پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے

    ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار

  4. اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح

    نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار

(درثمین اردو ص۱۲۵،۱۳۰، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷،۱۰۲، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷،۱۳۲)

اور اس قسم کی معیت سے شرک مراد لینا حد درجہ کی نادانی ہے۔ کیونکہ اگرزمین وآسمان کی معیت سے جو خداتعالیٰ کی مخلوق ہے شرک لازم آتاہے تو جوخداتعالیٰ کی معیت کا مدعی ہو وہ زیادہ مشرک ہوناچاہئے۔ حالانکہ اس معیت سے نہ توگواہان مدعیہ یہ مراد لیتے ہیں اورنہ مختار مدعیہ۔ اللہتعالیٰ فرماتاہے۔ ’’وھو معکم اینماکنتم (الحدید:۴)‘‘ کہ جہاں کہیں تم وہ تمہارے ساتھ ہے۔ ’’ان اللہ مع الذین اتقوا (النحل۱۲۸)‘‘ کہ خداتعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔ ’’ان اللہ معنا (توبہ۴۰)‘‘ آنحضرتﷺ نے فرمایاخداہمارے ساتھ ہے اورحدیث میں تو ’’اللہ ثالثھما‘‘فرماکرخدا اپنے کاتیسرا ٹھہراہے۔ پس معیت کے لفظ سے حاضروناظر ہونالازم نہیںآتا اورلفظ کمامشابہت تامہ کا مقتضی نہیں ہے۔ جیسا کہ آیت: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا (المزمل:۱۵)‘‘ اوردرود شریف ’’کماصلیت علی ابراھیم‘‘ میں کما سے مراد مشابہت تامہ نہیں۔ بلکہ الہام میں کما سے صرف اتنی مشابہت مقصود ہے کہ جیسے زمین وآسمان خداتعالیٰ کے وجود پر شاہدہیں۔ ویسے ہی وہ بوجہ ان نشانات اورتائیدات کے جو خدا کی طرف سے تائید مسیح موعودان میں ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی صداقت پرشاہد ہیں اوراس الہام سے حضرت مسیح موعود کی طرف خدا کی طرح حاضروناظر ہونے کا دعویٰ منسوب کرنا بعید ازعقل ہی نہیں پرلے درجہ کی جہالت کا مظاہرہ کرناہے۔

(۱۷)اصلی واصوم، اسھر وانام، واجعل لک انوار

القدوم، واعطیک مایدوم ان اللہ مع الذین اتقوا

(البشری ج۲ ص۷۹)

مختار مدعیہ نے اس الہام پر یہ اعتراض کیاہے کہ اللہتعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب کی گئی ہیں جوخدا کی شان کے بالکل مخالف

61

ہیں اورآیت: ’’لا تاخذہ سنۃ ولا نوم‘‘ کے مخالف ہیں اور یہ بھی اس کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ پہلے حصہ الہام میں مذکورہ امور خداتعالیٰ کے متعلق نہیں بلکہ ملہم کی شان کا اظہار کررہے ہیں اور دوسراحصہ خداتعالیٰ کے متعلق ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ اپنی تجلی کے نور تجھ میں دکھلائوں گا اورتجھے وہ نعمت دوں گاجو ہمیشہ رہے گی۔ تحقیق خدا ان لوگوں کے ساتھ ہے جوتقویٰ کرتے ہیں۔ اس دوسرے حصہ میں جن انعامات کا ذکرکیاہے اس کی وجہ پہلے حصہ الہام میں ملہم کی حالت ذکر کر کے بیان کی گئی ہے کہ آپ شریعت اسلامیہ کے پابند اورآنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ حدیث بخاری میں آتاہے کہ آنحضرتﷺ کو ان اشخاص کی باتیں پہنچیں جن میں سے ایک نے کہاتھا کہ میں تو ساری رات خداتعالیٰ کی عبادت ہی کرتارہوں گا اور سوئوں گانہیں اوردوسرے نے یہ کہاتھا کہ میں کبھی نکاح ہی نہیں کروں گا اور ایک نے یہ کہا تھا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا تو آپ نے خطبہ پڑھا اورفرمایا کہ دیکھو میں تم سے زیادہ متقی اورخداتعالیٰ سے ڈرنے والاہوں۔ میں نے نکاح بھی کیاہے اور میں روزہ رکھتاہوں اورافطار بھی کرتاہوں اورنماز بھی پڑھتاہوں اور سوتابھی ہوں۔ پس تمہیں میری سنت پرچلنا چاہئے۔ (بخاری ج۳کتاب النکاح)

تو اس بات کا الہام کے پہلے حصہ میں ملہم کی زبان پرذکرکیاہے کہ میں نماز بھی پڑھتاہوں اور روزہ بھی رکھتاہوں اورجاگتابھی ہوں اورسوتابھی ہوں۔ یعنی میں خدائی کا دعویدار نہیں بلکہ آنحضرتﷺ کے نقش قدم پرچلنے والا ایک مسلمان بندہ ہوں۔ یہاں قل محذوف ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد جگہوں میں قل محذوف ہوتاہے۔ سورۃ فاتحہ بھی انہی میں سے ہے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے اس بندوں کو سکھایاہے کہ وہ کہیں ’’الحمد ﷲ رب العالمین الٰی آخر سورۃ الفاتحہ‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۲۵۵)

جیسے مختارمدعیہ نے ملہم کے صریح اقوال کے خلاف الہام کا مطلب لے کر عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ویسے ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ مدعیہ کے چارگواہوں کے علاوہ دوگواہوں میں سے نمبرالف نے عدالت کو مغالطہ دینے کی سعی کی ہے اور اس الہام کے لئے (البشری ج۲ ص۷۹) کا حوالہ دے کر مطلب یہ لکھوایا۔ ’’اورجس طرح میں قدیم اورازلی ہوں، اسی طرح تیرے لئے میں نے ازلیت کے انوار کردئیے ہیں اور تو بھی ازلی ہے۔‘‘ حالانکہ نہ یہ الہام کا مطلب ہے اور نہ ہی البشری میں یہ ترجمہ لکھاہے۔ اس میں اس فقرہ کا یہ ترجمہ درج ہے۔ ’’اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطاء کروں گا اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ خداان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔‘‘(البشریٰ ج۲ ص۷۹)

کیا ایسے گواہ جوبات کو اپنی طرف سے بناکر دوسرے کی طرف منسوب کرنے سے نہیں ڈرتے، وہ اس قابل ہیں کہ ان کی شہادت قبول کی جائے۔

اورمختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب کا یہ عقیدہ ہے کہ خداتعالیٰ پرنیند آئی ہے۔ آپ کی تحریرات کے صریح مخالف ہے۔

آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’خداتعالیٰ ہرایک نقصان سے پاک ہے۔ جس پر کبھی موت اورفناء طاری نہیں ہوئی۔ بلکہ اونگھ اورنیند سے بھی جوفی الجملہ موت سے مشابہ ہے پاک ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۳۱، خزائن ج۱ ص۵۱۶ حاشیہ درحاشیہ)

۲… اور فرماتے ہیں: ’’جیسا کہ موت اس پر(یعنی خداتعالیٰ پر) جائز نہیں۔ ایسا ادنی درجہ کا تعطل حواس بھی جو نیند اوراونگھ سے ہے وہ بھی اس پرجائز نہیں۔ مگر دوسروں پرجیسا کہ موت وارد ہوتی ہے۔ نیند اوراونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔‘‘(چشمہ معرفت ص۲۶۱، ۲۶۲،خزائن ج۲۳ ص۲۷۳)

62

(۱۸)اعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعّال

(خطبہ الہامیہ ص۲۳، خزائن ج۱۶ ص۵۵،۵۶)

حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالا اقوال سے مختار مدعیہ نے یہ غلط استدلال کیاہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس قول سے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی صفت محیی وممیت میں شریک ماناہے اور اپنی تائیدمیں حضرت عیسیٰؑ سے احیاء میت کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیکھو مسیح نے صاف کہاہے کہ میں یہ خلق اوراحیاء باذن اللہ کرتاہوں، مگر مرزا صاحب نے یہ بھی ذکرنہیں کیا۔

میں عدالت پرمختار مدعیہ کے اس مغالطہ دہی کو واضح کرتا ہوں جو عمداً کی گئی ہے اور بتاناچاہتاہوں کہ اسی عبارت میں ’’من الرب الفعال‘‘ کے الفاظ موجود ہیں جو مختار مدعیہ نے بالقصد ترک کردئیے ہیں۔

اور تو اس عبارت میں ’’اعطیت‘‘ کے لفظ سے ہی یہ بات ظاہر تھی کہ حضرت اقدس اللہتعالیٰ کی طرف سے ان صفات کے پانے کا اظہار فرمارہے ہیں۔ مگر آپ نے ’’من الرب الفعال‘‘ کے لفظ سے اس مفہوم کو بالکل واضح کردیاتھا۔ لیکن مختار مدعیہ نے مغالطہ دینے کی غرض سے دانستہ الفاظ ’’من الرب الفعال‘‘ ترک کر کے اعترض کردیااور اس فقرہ کاوہ مفہوم لینا جومختار مدعیہ نے بیان کیاہے، قائل کی منشاء کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ آپ نے اس قول کی تشریح (خطبہ الہامیہ ص ۲۸، خزائن ج۱۶ ص۶۱،۶۲) میں ان الفاظ سے کردی ہے۔

’’وبیدی حربۃٌ ابیدبھاعادات الظلم والذنوب وفی الاخری شربۃ اعبد بھا حیاۃ القلوب فأس الاخفاء ونفاس للاحیاء‘‘ اور میرے ہاتھ میں ایک حربہ ہے جس کے ساتھ میں ظلم اورگناہوں کی عادات کو ہلاک کرتاہوں اور دوسرے ہاتھ میں شربت ہے جس سے میں قلوب دوبارہ زندہ کرتاہوں۔ ایک کلہاڑی فناء کرنے کے لئے ہے اور دم زندہ کرنے کے لئے مجھے دئیے گئے ہیں۔

انہی دونوں باتوں کا مذکورہ بالاقول میں ذکرہے نہ کہ خداتعالیٰ کی صفت احیاء اورافناء میں شریک ہونے کا۔

(۱۹) نئی زندگی انہی کو ملتی ہے جن کا خدانیا ہو

(ضمیمہ تریاق القلوب ص س، خزائن ج۱۵ ص۴۹۷)

اس عبارت سے مختار مدعیہ نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ!خداتعالیٰ کو متغیرومتبدل مانتے ہیں اور یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعودخداتعالیٰ کو ازلی ابدی اورغیر متغیرومتبدل مانتے ہیں اورنیا خداہونے سے ہرگز آپ کی یہ مراد نہیں کہ خدا پراناہوگیا تھا اور اب نیا ہوگیا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جب انسان خداتعالیٰ کی طرف جھکتاہے اور ایک نیا رنگ عبودیت کا اختیار کرتاہے۔ جس کو نئی زندگی سے تعبیرکیاگیاہے توخداتعالیٰ اس پر نئے رنگ کی تجلی فرماتاہے اور بندہ سے اس کا معاملہ ایک نیامعاملہ ہوتاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادراور قیوم اورخالق الکل خداہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اورغیرمتغیرہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔ وہ دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اورمرنے سے پاک ہے۔ وہ ایسا کہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے اورباوجود نزدیک ہونے کے وہ دورہے اورباوجود ایک ہونے کے اس کی تجلیات الگ الگ ہیں۔ انسان کی طرف جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آئے تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدابن جاتاہے اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتاہے اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتاہے۔ مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آجاتاہے۔ بلکہ وہ ازل سے غیرمتغیراورکمال تام رکھتاہے۔ لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیرہوتے ہیں توخدابھی ایک نئی تجلی سے اس پر

63

ظاہر ہوتاہے اور ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جوانسان سے ظہور میں آتی ہے۔ خداتعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔(کشتی نوح ص۱۰، خزائن ج۱۹ ص۱۰،۱۱)

اورفرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے اپنے پاک الہام سے مجھے آگاہی بخشی کہ خداوہ ذات ہے جواپنی تمام صفات میں کامل ہے اور ازل سے ایک ہی رنگ اورایک ہی طریق پر چلاآتاہے نہ اس میں حدوث ہے، نہ وہ پیداہوتاہے نہ مرتاہے۔‘‘(اشتہارملحقہ کتاب شہادۃ القرآن ص ب۲، خزائن ج۶، ص۳۷۹)

پس مختار مدعیہ کا حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالاقول سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آپ خداتعالیٰ کو متغیرومتبدل مانتے ہیں بالکل لغواورقطعاً لغووباطل ہے اور ایسی صاف باتوں پر ایسے فضول اعتراضات ہر مصنف مزاج کے لئے باعث افسوس ہیں۔

(۲۰) متشابہات

ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد جو مختار مدعیہ نے اس امر کے ثبوت پیش کئے تھے کہ حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو اللہتعالیٰ کے ساتھ شریک مانتے اورخداتعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب کرتے ہیں جو ان کے شان کے شایان نہیں ہیں۔ میں یہ بتاناچاہتاہوں کہ الٰہی کلام ہمیشہ دوقسم کاہوتاہے۔ ایک محکم، دوسرا متشابہ اورخداتعالیٰ قرآن مجیدمیں فرماتاہے: ’’والذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ‘‘ کہ جن کے دلوں میں زیغ اورکجروی کامادہ ہوتاہے وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتاہے کہ فتنہ برپا ہوا اورلوگ حق سے منحرف ہوجائیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں بھی دونوں قسم کاکلام پایاجاتاہے اوربعض کوتاہ اندیش متشابہات کو ظاہری معنوں میںلے جاکر جادۂ مستقیم سے منحرف ہوگئے اورخداتعالیٰ کو بھی ایک مجسم چیز کی طرح سمجھنے اور اس کے لئے ہاتھ، آنکھ وغیرہ ماننے لگے اور یہ سمجھا کہ وہ واقعی عرش پر ایک بادشاہ کی طرح بیٹھا ہواہے۔ لیکن سمجھ دار اورعارفان الٰہی نے ایسے کلمات کو محکمات کے تابع کیا اوران کے ایسے معنی کئے جو محکمات کے مخالف نہ تھے اورآنحضرتﷺ کی اتباع میں کاملین امت محمدیہ کو بھی متشابہات ورثہ میں ملے جن پر خشک ملائوں نے جہالت ونادانی سے اعتراضات کئے اوران کے موردوں کو کافر اورمرتد اورواجب القتل ٹھہرایا۔ امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے ہیں: ’’قرآن مجید میں بھی متشابہات مثل ’’یدو استواء علی العرش‘‘ وغیرہ واقع ہیں کہ جس سے بعض فرقوں نے اللہتعالیٰ کا جسم ثابت کیا اورگمراہ ہوئے۔ حالانکہ اللہتعالیٰ ان کی گمراہی سے واقف تھا۔ بلکہ ان کلمات کے سرزد ہونے میں متابعت سنت پیغمبرa بھی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ حضرت خاتمیت مآبa نے بھی فرمایا:’’ضحک اللہ، وان اللہ خلق آدم علی صورتہ ورایت ربی فی سکک المدینۃ علی صورۃ امرد شاب، ووضع اللہ یدہ علی کتفی فوجدت بردھا‘‘ حالانکہ انبیاء خصوصاً جناب سید المرسلینa کمال صحو(ہوش) میں تھے۔‘‘(مقامات امام ربانی ص۵۰)

اگرمختار مدعیہ کی طرز استدلال کو صحیح سمجھاجائے تو امام ربانی مجدد الف ثانی کی اس منقولہ حدیث سے خدا کا مجسم ہونا، اس سے بہت بڑھ کرثابت ہوسکتاہے۔ جیسا کہ مختار مدعیہ نے حضرت اقدس مسیح موعود کے متشابہات الہامات سے آپ کے منشاء اورکھلی کھلی تشریحات کے خلاف معنی لے کر ثابت کرناچاہئے۔ کیونکہ اس میں ’’ضحک اللہ‘‘ کے لفظ ہیں، جس کے معنی ہیں کہ اللہتعالیٰ ہنسا اورمختار مدعیہ کی طرز استدلال کے لحاظ سے ہنسنے کے لئے ان چیزوں کی جن سے ہنسنے کا فعل منحصرہے۔ یعنی رخسار اورلب وغیرہ کی ضرورت ہے اور جس میں یہ چیزیں پائی جائیں۔ اس کے مجسم ہونے میں کیا کلام ہوسکتاہے۔ اس طرح اس حدیث میں ہے کہ اللہتعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا

64

اور جس کو اللہتعالیٰ اپنی صورت پر پیداکرے۔ اس کے خدا کے مشابہ ہونے میںکیا کلام ہوسکتاہے اور اسی کے صورت میں خدا کی مانند ہونے سے کس طرح انکار کیاجاسکتاہے اورمختار مدعیہ کے نزدیک یہ سب امور موجب کفر وشرک وارتداد ہیں اورحضرت مجددالف ثانی کی تحریر میں یہ بھی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایاہے کہ میں نے اللہتعالیٰ کو مدینہ کی گلیوں میں ایک بے ریش نوجوان کی صورت میں دیکھا اوراس نے اپنا ہاتھ میرے شانوں پررکھا اورمیں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور یہ تمام باتیں بھی مختار مدعیہ کے عجیب وغریب مگر خلاف اہل اسلام طرز استدلال کی رو سے خدا کو مجسم ٹھہراتی ہیں۔ کیونکہ بے ریش نوجوان اس کا ہاتھ اور اس کی ٹھنڈک وغیرہ امور سب تجسم کو چاہتے ہیں اورصرف مجدد الف ثانی ہی کو جنہوں نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ نعوذباللہ! مشرک کافر اورمرتد نہیں ٹھہراتی بلکہ نعوذ باللہ! دوردور اوربہت دورتک نوبت پہنچاتی ہے۔ دیوبندی مولوی بظاہر توحضرت مجدد الف ثانی کو بڑے شدومد سے اپنا قبلہ وکعبہ بتاتے ہیں۔ مگر جب دوسروں کو کافر کہنے کا شوق زور کرتاہے تو ان پر بھی ہاتھ صاف کرجاتے ہیں۔

یہ توحدیث تھی اگر قرآن شریف کو بھی دیکھا جائے تو مدعیہ کے طرز استدلال کے لحاظ سے اس کی آیات سے بھی مختار مدعیہ کاچلایا ہوا سلسلہ کفر بہت دور تک پہنچتاہے۔ مثلاً اس میں ’’استویٰ علی العرش‘‘ یعنی اللہتعالیٰ عرش پر بیٹھا ہے اورآیت: ’’یحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ‘‘ یعنی اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے اور ’’یداہ مبسوطتان‘‘ یعنی خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں اور’’ید اللہ فوق ایدیھم‘‘ یعنی آنحضرتﷺ کی بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پرخداکا ہاتھ ہے اور آنحضرتﷺ کا سعدبن معاذq کی وفات پرفرمانا: ’’اھتزلہ عرش الرحمن‘‘ کہ اس وفات سے خداکا عرش ہل گیا۔ اگر ان آیات اوراحادیث کے معنی کرنے میں بھی وہی طرز استدلال اختیار کیاجائے جو مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے متشابہ الہامات اورمبہم ومجمل عبارات کے لئے اختیار کی ہے تو احادیث نبویہ اورآیات قرآنیہ سے بھی خدا کا مجسم ہونا پایاجاتاہے اور جس طرز استدلال کی یہ حالت ہو اس کے باطل ہونے کے متعلق کسی اور امر کے پیش کرنے کی مطلق ضرورت نہیں۔

آخر میں اتناکہہ دینا ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات میں بھی محکم اورمتشابہ دونوں قسم کاکلام ہے اور یہ کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔ حسب قاعدہ متشابہ کو محکم کے تابع کرناچاہئے۔ یعنی متشابہ کے ایسے معنی کرنے چاہئیں جو محکم کے خلاف نہ ہوں اور ملہم نے اپنے کسی متشابہ الہام کے معنی خود بیان کردئیے ہوں تو کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچ سکتاکہ وہ ان معنوں کے خلاف کوئی اورمعنی نکالے۔ متشابہ تو الہام ہے۔ کسی مبہم یا ذوالوجودہ عبارت کے معنی بھی منشأ متکلم کے خلاف نہیں نکالے جاسکتے اور یہ وہ اصل ہے جس سے دنیا میں کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ حتیٰ کہ دیوبندیوں کے ابن شیرخداعلی المرتضیٰ دربھنگی سابق ناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند مختار مدعیہ نمبر۲ بھی بضرب دہل جس کی تصدیق وتائید کا اعلان فرمارہے ہیں۔ چنانچہ مولوی احمد رضاخان کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں کہ: ’’آپ اپنی طرف سے خلاف منشأ متکلم کلام کے معنی تجویز فرماتے ہیں: ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ (السحاب المدرارص۴۳) پھر اور لکھتے ہیں: ’’علاوہ ازیں تصنیف رامصنف نیکوکندبیان، جب مصنف خود فرماتے ہیں کہ میرا مطلب یہ ہے تو اب کسی کوچون وچرا کی گنجائش کیاہے۔‘‘ (السحاب المدرار ص۵۵) اورمفتی دیوبندی مولوی محمد شفیع صاحب گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بھی ۲۰؍اگست کو جرح کے جواب میں اس اصل کو تسلیم کیاہے کہ اگر مختلف اقوال مذکورہوں تومبہم قول کو مفصل اقوال کی طرف راجع کیاجائے گا۔ پس اس اصل مسلمہ فریقین کے مطابق کسی متشابہ الہام یا مجمل ومبہم عبارت کے وہی معنی درست سمجھے جائیں گے جو منشأ ملہم ومتکلم کے موافق ہوں نہ وہ جو اس کے شدید ترین دشمنوں نے اس کے منشأ اورکھلی کھلی

65

تشریحات کے خلاف اس پر غلط وباطل اتہام لگانے کے لئے گھڑے ہوں اور ملہم یا متکلم ومصنف کے بیان کردہ معنی کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کے معنی قابل التفات نہیں ہوں گے۔ خواہ وہ معنی کرنے والے دیوبند کے کوئی فاضل ہوں یا کسی اورمقام کے کوئی ناقابل اوراسی اصل کے لحاظ سے حضرت اقدس کی وہ تشریح بھی درج کرتاہوں جو حضورنے الہام: ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘(دافع البلاء ص ۶، خزائن ج ۱۸ ص۲۲۷) کے متعلق بیان فرمائی ہے تااصل حقیقت واضح سے واضح ترہوجائے اور وہ یہ ہے۔

’’یاد رہے کہ خداتعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کوحق پہنچتاہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خداہوں یا خدا کابیٹاہوں۔ لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اوراستعارہ میں سے ہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرتﷺ کے ہاتھ کو ہاتھ قراردیا اور فرمایا: ’’یداللہ فوق ایدھم‘‘ ایساہی بجائے ’’قل یاعباداللہ‘‘ کے ’’قل یٰعبادی‘‘ بھی کہا اور یہ بھی فرمایا: ’’فاذکرواللہ کذکرکم اٰبائکم‘‘ پس خدا کی اس کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو ا ور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لائو اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اورحقیقت حوالہ بخدا کرو اوریقین رکھو کہ خدا’’اتخاذ ولد‘‘ سے پاک ہے۔ تاہم متشابہات کے رنگ میںبہت کچھ اس کے کلام میں پایاجاتاہے۔ پس ا س سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہوجائو اورمیری نسبت بیّنات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے: ’’قل انما انا بشرمثلکم یوحٰی الی انما الٰھکم الٰہ واحد والخیر کلہ فی القرآن‘‘ (دافع البلاء حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

یہ ہے مختار مدعیہ کے اعتراضات کی حقیقت اور انہی اعتراضات کی بنیاد پرکچھ عقائد خود وضع کر کے اس نے حضرت اقدس کی طرف منسوب کئے اور عدالت کے سامنے کھڑے ہوکر باربار اس امر کو دہرایاتھا کہ یہ اعتقاد رکھنے والے اگر کروڑ مرتبہ بھی’’کلمہ لاالہ الا اللہ‘‘ پڑھیں تو وہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ لیکن مندرجہ بالا بیانات سے کالشمس فی نصف النہار ظاہر ہوگیاہے کہ مختار مدعیہ کے اعتراضات سراسر مغالطہ وہی پر مبنی تھے اور توحید الٰہی کے خلاف جو عقائد اس نے حضرت اقدس کی طرف منسوب کئے تھے، وہ حضرت اقدس کے عقائد نہیں تھے بلکہ مختار مدعیہ نے حضرت اقدس کے منشاء کے خلاف اپنے باطل استدلال سے خود پیداکر کے حضرت اقدس کی طرف منسوب کر دئیے تھے۔ جب یہ ثابت ہوگیاتو حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت کے کلمہ توحید کے مطابق ایمان رکھنے میں شک کرنے کی سرموبھی گنجائش نہیں رہی۔

66

محمد رسول اللہﷺ

مختارمدعیہ نے کلمہ کے دوسرے جزو یعنی محمد رسول اللہ سے بھی حضرت مسیح موعود کو اسی طرح منکر قراردیناچاہاہے جس طرح پہلے جزو کے متعلق چاہاتھا۔ اس امر میں بھی عدالت کو اسی طرح مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے جس طرح کہ پہلے کی تھی۔ اس لغوو باطل امر کو ثابت کرنے کے لئے کہ نعوذباللہ! آپ کلمہ کے جزو دوم یعنی محمد رسول اللہ کے بھی منکر ہیں۔ جو بحث اس نے عدالت کے سامنے کی ہے وہ اس کے پہلے جزو کی بحث سے بھی زیادہ مخدوش ولغو اور باطل ہے۔

قبل اس کے میں اس کے ایک ایک اتہام کے متعلق علیحدہ علیحدہ کلام کروں۔ عدالت سے اس طرف توجہ مبذول کرنے کی خصوصیت سے درخواست کرتاہوں کہ کسی شخص کا عقیدہ اس کے صاف الفاظ سے معلوم کیاجاسکتاہے نہ کہ اس کے مخالفوں کے۔ ان معانی سے جو انہوں نے اس کی کسی متشابہ یا مجمل ومبہم عبارت سے اس کی منشاء اور اس کی کھلی کھلی تصریحات کے بالکل ہی خلاف نکالے ہوں۔ خاص کر ایسی حالت میں کہ ا س شخص کے کفر واسلام کا مسئلہ زیر بحث ہو۔ لیکن مختارمدعیہ نے نہ تو پہلے جزو کے متعلق حضرت مسیح موعود کی کوئی ایسی عبارت پیش کی ہے جس کے صاف الفاظ میں انکار توحید باری موجود ہو اورنہ دوسری جزو کے متعلق کوئی ایسی عبارت پیش کی ہے جس کے الفاظ سے انکار رسالت نکلتاہو۔ بلکہ متشابہ الہامات کا تشریحات ملہم کے خلاف مفہوم لے کر اس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ نعوذ باللہ! آپ کو کلمہ کے دونوں جزوں سے انکار ہے۔ اس کارروائی سے نہایت صفائی کے ساتھ یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ باوجود بہت بڑی کوشش کے مختار مدعیہ کو حضرت مسیح موعود کی ایسی عبارت بھی نہیں مل سکی جس کے الفاظ میں انکار توحیدورسالت موجودہو۔ یہ دونوں خبروں کے متعلق اس نے جو الہامات یا عبارات پیش کی ہیں، ان کے غلط مفہوم سے نتیجہ کے طور پر یہ بات نکالی ہے اور یہ امر قطعاً قابل التفات نہیں ہے۔ اس سے کسی طرح کسی کا کفر ثابت نہیں کیاجاسکتا۔

مختارمدعیہ کو حضرت مسیح موعود کی ایسی ایک عبارت بھی نہیں مل سکی جس کے الفاظ میں انکار رسالت وتوحید موجودہو۔ لیکن آپ کی ایسی بے شمار عبارتیں موجودہیں جن کے الفاظ میں اقراررسالت وتوحید موجودہے۔ اس کے منکر کوکافر کہاگیاہے۔ اس وجہ سے اس نے عدالت کو مغالطہ دینا چاہاہے اور اس پر مختار مدعیہ نمبر۲نے بھی بہت زور دیاہے کہ جو عبارات جس مفہوم میں انہوں نے پیش کی ہیں، انہی کا دیکھ لینا کافی ہے۔ دیگر عبارات کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ یہ ایسی بات ہے جو صحیح قرار دینے سے امان اٹھ جاتاہے۔کوئی شخص بھی کفر کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتا۔ کیونکہ کسی شخص کی متشابہ اورمجمل عبارات کے خود ساختہ معنی لے کر اور اس کی منشاء تصریحات اوردیگر عبارات کو نظر انداز کر کے فتویٰ دیاجائے توبڑی آسانی سے کفر کا فتویٰ دیاجاسکتاہے۔ مگر یہ کفر کا فتویٰ درحقیقت اس پر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کفر کا فتویٰ دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس پر فتویٰ دیاجائے، اس کا قول صراحت کے ساتھ موجب کفرہو۔ متشابہ ومبہم اورذوالوجوہ عبارت پر کسی طرح کفر کا فتویٰ نہیں دیاجاسکتا۔ بلکہ ایسی عبارتوں سے وہی معنی لئے جاتے ہیں اور لئے جاناچاہئیں جو صاحب عبارت کے منشاء اوراس کی تشریحات اور اس کی دوسری محکم وبیّن عبارتوں کے خلاف نہ ہوں۔

چنانچہ۲۰؍اگست۱۹۳۲ء کو گواہ مدعیہ نمبر۱ نے جرح کے جواب میں یہ اصل تسلیم کیاہے۔ ’’ایک مصنف کے قول کا ماقبل ومابعد جب تک معلوم نہ ہو اور اس کی دوسری تصانیف سے اس کا صحیح عقیدہ معلوم نہ کیاجائے۔ اس وقت تک کوئی ایک جملہ کسی کتاب کا پیش کردینا عقیدہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیںہے۔‘‘ اور۲۱؍اگست کوبجواب مکررجرح اس نے اس قول کی یہ تشریح کی ہے کہ: ’’اگر مصنف کے ایک

67

ہی مسئلہ میں مختلف اقوال مذکورہ ہوں۔ ان میں سے ایک قول مبہم ہے تو اس مبہم قول کو مفصل اقوال کی طرف راجع کیاجائے گا۔‘‘ اسی طرح گواہ نمبر۴ نے بھی ۳۱؍اگست کو بجواب جرح اس اصل کو تسلیم کیاہے کہ: ’’متکلم کے مبہم کلام کو اس کے مصرح کلام پر حمل کیاجائے گا۔‘‘ چونکہ مختارمدعیہ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود کے متشابہ الہامات اور مجمل عبارات کے جو معنی اس نے خود گھڑے ہیں وہ آپ کے منشاء وتشریحات کے بالکل خلاف ہیں اور صرف نہیں بلکہ ان کے خلاف آپ کی بے شمار عبارتیں بھی موجود ہیں۔ اس لئے اس نے حضرت مسیح موعود کی عبارتوں کے متناقض ومتعارض ہونے پر بڑازور دیاہے اورکہاہے کہ ہرامر کے متعلق آپ کے کلام میں تناقض موجودہے اورکوئی ایسا قول نہیں جس کے خلاف دوسرا قول بھی موجود نہ ہو۔ لیکن یہ اس کا سراسر مغالطہ ہے اور اس سے اس کا مقصود یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے متشابہ الہامات ومجمل اقوال کے جو غلط معنی اس نے گھڑے ہیں۔ وہ صحیح قرارپائیں اور آپ کے جو اقوال اس کے ان گھڑے ہوئے غلط معنی کے خلاف پیش کئے جائیں وہ تناقض ومتعارض متصورہو کر نظر انداز ہوجائیں۔

حضرت مسیح موعود کے کلام میں درحقیقت کوئی تناقض وتعارض نہیں ہے۔ آپ کا ہر قول اپنے محل میں چسپاں اوراپنے مقام پر بالکل درست ہے۔ جیسا کہ اس بحث میں ظاہرہوگا۔ اب میں مختارمدعیہ کے ایک ایک قول کو لیتااور اس کاجواب دیتاہوں۔

(۱) آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں

مختارمدعیہ نے پہلا مغالطہ تویہ دیاہے کہ آخری نبی ہو،ناآنحضرتﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور حضرت مرزا صاحب نے آپ کے آخری ہونے سے انکارکیاہے۔ لہٰذا آپ کلمہ کے جزو ثانی کے منکرہوئے اور دائرہ اسلام سے خارج۔

جانناچاہئے کہ قرآن مجید واحادیث کی رو سے آنحضرتﷺ کاجن معنوں کی رو سے آخری نبی ہونا ثابت ہوتاہے ان معنوں کے لحاظ سے آپ نے کبھی آنحضرتﷺ کے آخری ہونے سے انکار نہیں کیا۔ بلکہ آپ فرماتے ہیں: ’’نوع انسان کے لئے اب روئے زمین پرکوئی کتاب نہیں۔ مگرقرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں۔ مگرمحمدمصطفیﷺ سو تم کوشش کرو کہ سچی محب اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔‘‘(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳) اورفرماتے ہیں۔ ’’نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جویقین رکھتاہے کہ خد ا سچ ہے اور محمد رسولa اس میں اورتمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اورکتاب ہے اور کسی کے لئے خدانے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۴)

اورمیں دعویٰ سے کہتاہوں کہ حضرت مسیح موعود نے ان معنی سے کہ آنحضرتﷺ آخری شرعی نبی ہیں اورآپ کی اتباع کے بغیر انسان کسی روحانی مقام پر فائز نہیں ہوسکتا۔کبھی انکار نہیں کیا اور حضورa کی یہ خصوصیت بحیثیت آخری نبی ہونے کے قرآن مجید اوراحادیث سے ثابت ہے۔

میں مختار مدعیہ کے اس مغالطہ کو کہ (حضرت مرزا) صاحب نے آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے سے انکارکیاہے۔ ظاہرکرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کا یہ ارشاد کہ ؎

  1. اوّل آدم آخر شاں احمد است

    اے خنک آنکس کہ بیند آخری

(درثمین فارسی ص۷، خزائن ج۱ ص۲۰)

68

اوریہ ارشاد کہ ؎

  1. احمد آخر زمان کو اوّلین راجائے فخر

    آخرین رامقتدائو ملجائو کہف وحصار

(درثمین فارسی ص۸۸، آئینہ کمالات اسلام ص۲۴، خزائن ج۵ ص۲۴)

اورآپ کا یہ ارشاد: ’’ملائک یعنی جبرئیل آخر الرسلa پر یہی ظاہر ہوا کہ ملائک کے اس فعل رمی شہب سے علت غائی رمی شیاطین ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص۱۲۶، خزائن ج۵ ص۱۲۶) پیش نہیں کرتا۔ جو مختار مدعیہ کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ پہلا شعر براہین احمدیہ کا اور دوسرا آئینہ کمالات اسلام کاہے اور یہ دونوں کتابیں۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہیں۔ جب کہ بقول مختار مدعیہ آپ نے کوئی کفریہ دعویٰ نہیں کئے تھے۔ یعنی براہین احمدیہ۱۸۸۵ء کی ہے اورآئینہ کمالات اسلام ۱۸۹۳ء کی ہے۔ بلکہ حقیقت الوحی کا حوالہ پیش کرتاہوں جو۱۹۰۷ء میں آپ کی وفات سے صرف ایک سال پہلے کی شائع شدہ کتاب ہے اورجب کہ بقول مختار مدعیہ آپ تمام کفریہ دعویٰ کرچکے تھے تامختارمدعیہ کی مغالطہ اندازی عام وخاص سب پرالم نشرح ہوجائے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’تمام نبیوں نے جو بنی اسرائیل میں آتے رہے۔ اس پیش گوئی کے یہی معنی سمجھے تھے کہ وہ آخر الزمان نبی بنی اسرائیل سے پیداہوگا۔ مگر وہ نبی بنی اسماعیل میں سے پیداہوگیا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۴۴، خزائن ج۲۲ ص۴۷)

اور (ص ۴۶، خزائن ج۲۲ ص۴۹) پر فرماتے ہیں: ’’سو تقویٰ کے دائرہ سے باہر قدم مت رکھو۔ کیا جیسا کہ یہود نے اور ان کے نبیوں نے سمجھا تھا آخری نبی، بنی اسرائیل میں سے آیا؟ یا الیاس نبی دوبارہ زمین پر آگیا؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہود نے دونوں جگہ غلطی کھائی۔‘‘

اور فرماتے ہیں: ’’اللہوہ ذات ہے جورب العالمین اور رحمن اوررحیم ہے جس نے زمین وآسمان کو چھ دن میں بنایااورآدم کو پیداکیا اوررسول اللہ بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب سے آخر حضرت محمدمصطفیﷺ کو پیداکیا جو خاتم الانبیاء اورخیر الرسل ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۱، خزائن ج۲۲ ص۱۴۵)

یہ بیان کردینے کے بعد کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آقاومولانا افضل الانبیاء حضرت محمدمصطفیﷺ کو آخری نبی ماناہے کہہ دینا بھی بے محل نہ ہوگا کہ جس حدیث میں آخر الانبیاء آیاہے وہ کوئی زیادہ قوی حدیث نہیں ہے۔ بلکہ اس کے راویوں میں سے ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے۔ جسے امام احمداوریحییٰ بن معین اورایک جماعت نے ضعیف قراردیاہے اور دار قطنی وغیرہ نے اسے متروک الحدیث کہاہے اورابن عدی نے کہا ہے کہ اس کی تمام احادیث میں تأمل ہے۔(میزان الاعتدال ج۱ ص۹)

اور اس کے دوسرے راوی عبدالرحمن المحاربی کے متعلق ابن معین نے کہا ہے کہ وہ منکرحدیثیں اورغیر معروف اورمجہول لوگوں سے روایت کرتاہے۔ ابوحاتم نے کہا سچا تو ہے، لیکن مجہول شخصوں سے روایت کرتاہے جس سے اس کی تمام احادیث خراب ہوجاتی ہیں اور وکیع نے کہاہے کہ وہ لمبی حدیثیں یاد نہیں رکھ سکتا اور امام احمد بن حنبل نے کہا ہے وہ مدلس ہے۔(میزان الاعتدال ج۲ ص۱۰۴)

باوجودیہ یہ روایت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ یقینی طور پر صحیح مان لی جائے۔ تاہم اس کے معنی بالکل واضح ہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے دجال کا ذکرکرتے ہوئے جو اسلام کا دشمن اوراس کی تخریب میں ساعی ہوگا۔ اپنے آپ کو آخر الانبیاء فرمایاہے اور ساتھ ہی اپنی امت کو آخرالامم یعنی آپ ایسے آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو مستقبل امت بنانے والا ہو۔ پس احمدیہ جماعت مذکورہ بالامعنوں کے لحاظ سے آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے کی خصوصیت کو تسلیم کرتی ہے۔

69

یہ عجیب بات ہے کہ کلمہ میں تومحمدرسول اللہﷺ کا اقرارکرنا ضروری ہے اور مختار مدعیہ آخری نبی ہونے کے اقرار کوکلمہ کی جزو میں داخل کررہاہے۔ حالانکہ نہ تو قرآن مجید میں آنحضرتﷺ کے لئے آخری نبی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اورنہ کسی مشہور متواتر حدیث میں بلکہ جس حدیث میں آخرالانبیاء کا لفظ آیاہے۔ وہ بھی خبرواحد ہونے کی وجہ سے ظنی ہے جس پر عقیدہ کی بنیاد رکھی جاسکتی۔ کیونکہ عقائد میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے۔ اگر باورنہ ہوتو مختارمدعیہ اورگواہان مدعیہ اپنے مسلم عالم کا قول پڑھ لیں۔ مولوی خلیل احمد صاحب لکھتے ہیں: ’’اعتقادیات میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے نہ کہ ظنیات صحاح کا چہ جائیکہ ضعاف اورموضوعات کا۔‘‘ (البراہین القاطعہ ص۸۹)

اورمختار مدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہان مدعاعلیہ نے جرح کے جواب میں آنحضرتﷺ کی خصوصیات پر ایمان لانے کو ضروری ماناہے۔ یہ ایک مغالطہ ہے۔ گواہان مدعاعلیہ میں سے کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ جو خصوصیات نہ تو قرآن مجید سے ثابت ہوں او نہ کسی حدیث متواترسے، بلکہ لوگوں نے اپنی طرف سے چند مفروضات گھڑکر ان کو نام خصوصیات رکھ لیاہو، ان پر بھی ایمان لانا ضروریات مؤمن میں سے شمارکیاجائے۔

(۲) خاتم النّبیین کے معنی!

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے کلمہ کے جز و ثانی کی انکار کی دوسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ آپ خاتم النّبیین کے معنی کے منکرہیں۔ چونکہ خاتم النّبیین کے معنی کے متعلق گواہان مدعاعلیہ نے مفصل طور پراپنے بیانوں میں بحث کردی ہے اور ثابت کردیاہے کہ حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کو بصدق دل یقین کرتے ہیں اوراس کے جو معنی قرآن مجید اور آنحضرتﷺ اورصحابہؓ اورائمہ اورلغت عرب کی رو سے ثابت ہوتے ہیں ان پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس مختارمدعیہ کا یہ ادّعاکہ احمدی خاتم النّبیین کے معنی کے منکر ہونے کی وجہ سے کلمہ کے جزو ثانی کے منکر ہیں لغو اوربے ہودہ ہے۔

(۳) معراج جسمانی کا انکار

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت کے کلمہ کی جزو ثانی سے منکرہونے کی ایک وجہ یہ قراردی ہے کہ وہ معراج جسمانی کے منکرہیں اور تمام اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ آپ کو عرش تک معراج جسمانی ہوئی تھی، جس میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ دوسری معراجوں کا یہاں ذکرنہیں اور اگر کوئی اپنے لئے یاکسی اور کے لئے ویسی معراج مانے تو شرک فی الرسالۃہوگا اور مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھاہے کہ یہ آنحضرتﷺ کا ایک کشف تھا اور ایسے کشوف میں خود مؤلف بھی صاحب تجربہ ہے۔ اس قول سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے لئے ایک نہیں بلکہ کئی معراج ثابت کئے ہیں اورآنحضرتﷺ کے معراج جسمانی کا انکارکیاہے۔ اس لئے آپ کلمہ کی جزو ثانی کے منکرہوئے۔ کیونکہ معراج نبوی رسول اللہﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور اس انکار کی وجہ سے کافر ومرتد ہوئے۔ لہٰذا مدعیہ کا نکاح فسخ ہوناچاہئے۔

مختار مدعیہ کے اس اعتراض میں تین باتیں قابل غور ہیں۔

۱… کیا رسول اللہﷺ کو معراج جسمانی ہوئی اور کیا صحابہ اورائمہ سلف صالحین اورتمام صالحین اورتمام علماء اہل سنت معراج جسمانی کے قائل تھے۔

70

۲… کیا پہلے انبیاء میں سے یا اولیاء امت میں سے کسی کو آنحضرتﷺ کی طرح معراج ہوئی۔

۳… کیا حضرت مسیح موعود نے یہ لکھاہے کہ مجھے آنحضرتﷺ کی معراج کی طرح معراج ہوئی۔

پہلی بات کے متعلق خود مختار مدعیہ نے سرسید احمدخان صاحب کو مسلمان سمجھتے ہوئے اوران کے نام کے ساتھ علیہ الرحمۃ کا فقرہ استعمال کرتے ہوئے جوبزرگان دین کے لئے استعمال کیاجاتاہے، اقرارکیاہے کہ وہ آنحضرتﷺ کے معراج جسمانی کے منکرتھے اور اسے رؤیامانتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی تفسیر میں صریح طور پر لکھاہے: ’’اگر ہماری یہ رائے صحیح نہ ہو اور ابن عباس نے عین کالفظ رؤیا کے ساتھ اسی مقصد سے بولاہے کہ رؤیاسے ’’رؤیت‘‘ یا ’’تعین فی الیقظہ‘‘ مرادہے تووہ بھی من جملہ اس گروہ کے ہوں گے جو معراج فی الیقظہ کے قائل ہوئے ہیں۔ مگر ہم اس گروہ میں ہیں جو واقعہ معراج کی حالت خواب میں تسلیم کرتے ہیں اورہمارے نزدیک خواب میں ماننا لازم ہے۔(تفسیر سرسید ص۱۰۷)

جب مختار مدعیہ کے نزدیک سرسید معراج جسمانی کے منکرہوکر مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک بزرگ مسلمان ہیں جو خطاب علیہ الرحمۃ کے مستحق ہیں تو وہ اسی بناء پر کسی اور کودائرہ اسلام سے خارج اورکلمہ شہادتین کے منکرکس طرح قراردے سکتاہے۔ ہمیں تو اس تفریح وتخالف کی اس کے سوا اورکوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ حضرت اقدس مرزا صاحب نے جو کہ مسیح موعود اورمہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیاہے اورقدیم نوشتوں کی بناء پرضروری تھا کہ اس زمانہ کے مولوی حسد اورتعصب کی وجہ سے انہیں کافر ومرتد قراردیں۔

دوسری بات کے لئے مناسب سمجھتاہوں کہ فریق مخالف کے ایک مسلم عالم کی تحقیق بیان کردوں۔ علامہ سیدسلمان ندوی (سیرۃ النبی ج۴ ص۲۹۳) میں بذیل عنوان: ’’معراج جسمانی تھی یا روحانی، خواب تھا یا بیداری ‘‘ تحریر فرماتے ہیں: ’’اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے کہ سورہ اسراء(معراج) کی اس آیت کی نسبت ’’وماجعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنہ للناس (بنی اسرائیل:۶۰)‘‘ کہ میں نے جورؤیا(دکھاوا) تجھ کو دکھایا اس کو ہم نے لوگوں کے لئے صرف آزمائش بنایاہے۔

بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ معراج کے متعلق ہے۔ رؤیاعربی زبان میں ’’دکھاوا‘‘ کو کہتے ہیں۔ یعنی’’ جو دیکھنے میںآئے‘‘ اورعام طور پر سے اسی کے معنی ’’خواب‘‘ کے ہیں۔ اس لئے جوفریق معراج کو خواب بتاتاہے۔ وہ اس آیت کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتاہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کی اس روایت میں ان کی تصریح ہے کہ رؤیاآنکھ کا دیکھنا تھا جو معراج میں آنحضرتﷺ کو دکھایاگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہو محض خواب نہ تھا۔

صحیح بخاری، صحیح مسلم، مسندابن حنبل اور حدیث کی دیگر کتابوں میں جن میں معراج کے مسلسل اورتفصیلی واقعات درج ہیں۔ ان سب کو ایک ساتھ پیش نظررکھنے سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ان روایتوں کے الفاظ تو خواب وبیداری دونوں پہلوئوں سے خاموش ہیں۔ یعنی ان میں مطلقاً اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ خواب تھا یا بیداری اورپایہ کہ ان میں خواب منام اوررؤیا کی تصریح ہے۔بخاری، مسلم اور مسند احمدبن حنبل میں حضرت ابوذرq کی جو روایت ہے اور حضرت انسq کی اسی روایت میں جو شریک کے واسطہ سے ہے۔ یہ تصریح تمام مذکورہے کہ یہ واقعہ آنکھوں کے خواب اوردل کی بیداری کی حالت میں پیش آیا۔ بخاری میں یہ حدیث کتاب التوحید اورباب صفۃ النبی دومقامات میں ہے اوراس کے الفاظ یہ ہیں:’’سمعت عن انس بن مالک یقول لیلۃ اسری برسول اللہﷺ حتی اتوہ لیلۃ اخری فیما یری قلبہ وتنام عینہ ولاینام قلبہ وکذالک الانبیاء تنام اعینہم ولاتنام قلوبھم‘‘ (کتاب التوحید)

71

انس بن مالک کو میں نے اس شب کا واقعہ جب آپ کو کعبہ کی مسجد سے لے جایاگیا(معراج) بیان کرتے ہوئے سنا…یہاں تک کہ ایک اور رات کو وہ (تین شخص) آئے اس حالت میں کہ آپ کا دل دیکھتاتھا اور آپ کی آنکھ سوئی ہوئی تھی لیکن آپ کا دل نہیںسوتاتھا اور اس طرح پیغمبروں کی آنکھیں سوتی ہیں۔ مگر ان کے دل نہیں سوتے۔

اسی معنی کا دوسری حدیث جو باب صفۃ النبیa میں آئی ہے درج کی ہے۔ پھر لکھتے ہیں: ’’بخاری نے اس باب میں اس حدیث کو یہیں تک لکھا ہے۔ کتاب التوحید میں اس کے بعد معراج کے تمام واقعات بیان کر کے آخرمیںحضرت انس کا یہ فقرہ روایت کیاہے:’’فاستیقظ وھوفی المسجد الحرام‘‘ پھر آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں تھے۔

صحیح مسلم میں یہ روایت نہایت مختصرہے۔ سند کے بعد صرف اس قدر لکھ کر کہ: ’’آپ مسجد حرام میں سوتے تھے۔‘‘ اس کو ختم کردیاہے۔ اس کے بعد یہ لکھاہے کہ: ’’شریک نے اس روایت کو گھٹا بڑھادیاہے اور آگے پیچھے کردیاہے۔‘‘ اس لئے جیسا کہ اوپر گزرچکاہے شریک کی یہ تنہاء زیادت قبول نہ ہوتی، مگر وہ اس بات میں تنہاء اورمفرد نہیں ہے۔ صحیحین میں ہے کہ حضرت مالک بن صعصعہ انصاری خود آنحضرتﷺ کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’بیننا انا عندالبیت بین النائم والیقظان‘‘ (صحیح بخاری باب ذکر الملائکہ وصحیح مسلم باب الاسراء) کہ میں کعبہ کے پاس خواب وبیداری کی درمیانی حالت میں تھا۔

صحیح بخاری باب المعراج اورمسند ابن حنبل میں مالک بن صعصعہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’بینماانا فی الحطیم مضطجعاً‘‘ اسی اثناء میں کہ خانہ کعبہ کے مقام حطیم میں لیٹا ہواتھا۔

اس کے بعد ان روایتوں میں معراج کے تمام واقعات مذکورہیں۔ بیچ اورآخرمیں بیداری کا کچھ ذکرنہیںہے۔ دلائل بیہقی میں ایک روایت ہے جس میں حضرت ابوسعید خدریq کے واسطہ سے یہ بیان کیاگیاہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایاکہ: ’’میں عشاء کے وقت خانہ کعبہ میں سورہاتھا۔ ایک آنے والا(جبرائیل) آیا اور اس نے مجھے آکر اٹھایا اور میںاٹھا۔‘‘ اس کے بعد واقعہ معراج کی تفصیل ہے۔ لیکن اس کا دوسرا ہی راوی جھوٹا، دروغ گو اورناقابل اعتبار ہے اور اس میں جو منکراورغرائب امور بیان کئے گئے ہیں۔ وہ سرتاپالغوہیں ابن اسحاق نے سیرت میں اورابن جریر طبری نے تفسیر(سورہ اسراء) میں حضرت حسن بصری سے بھی اس قسم کی روایت کی ہے کہ میں سو رہا تھا کہ جبرائیل نے پاؤں سے ٹھوکر مار کر مجھے اٹھایا لیکن اس کا سلسلہ حضرت حسن بصری سے آگے نہیں بڑھتا۔ بہرحال جیسا کہ ہم نے پہلے لکھاہے کہ صحیح روایتوں میں یا تو مطلق خواب وبیداری کی تفصیل نہیں اوریاخواب وبیداری کی درمیانی حالت کی تصریح ہے۔

سیرت ابن ہشام اورتفسیر ابن جریر طبری میں محمدبن اسحاق کے واسطہ سے حضرت عائشہt اور حضرت معاویہq سے دو روایتیں ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ یہ بزرگوارمعراج کوروحانی اوررؤیائے صادقہ کہتے ہیں۔(ص۲۹۳-۲۹۶) جولوگ معراج کو بیداری کا واقعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے متعلق لکھتے ہیں وہ قرآن مجید کی کسی نص یا حدیث کے کسی صحیح متن سے اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ زیادہ تر عقلی استدلال کا پہلو اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر سے لے کرامام رازی تک سب نے یہی کہاہے۔ اس فرقہ کے عقلی دلائل چارہیں۔

۱… قرآن مجید میں ہے کہ: ’’سبحان الذی اسری بعبدہٖ‘‘ پاک ہے وہ خداجو (شب معراج میں) لے گیا اپنے بندہ (عبد) کو۔ اس آیت سے ثابت ہوتاہے کہ خدااپنے ’’بندہ‘‘ کو لے گیا۔ بندہ یا عبد کا اطلاق جسم پر یاجسم وروح دونوں کے مجموعہ پر ہوتاہے۔ تنہاء روح کو عبدیابندہ نہیں کہتے۔

72

۲… واقعہ معراج میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ براق پر سوار ہوئے۔ آپ نے دودھ کا پیالہ نوش فرمایا۔ سوار ہونا، پینا یہ سب جسم کے خاص ہیں۔ اس لئے یہ معراج جسمانی تھی۔

۳… اگر واقعہ معراج رؤیا اورخواب ہوتا توکفار اس کی تکذیب کیوںکرتے۔ انسان توخواب میں خداجانے کیاکیادیکھتاہے۔ محال سے محال چیز بھی اس کو عالم خواب میں واقع بن کر نظرآتی ہے۔

۴… خداتعالیٰ نے قرآن مجید میں کہاہے کہ:’’وماجعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنۃ للناس (بنی اسرائیل:۶۰)‘‘ سو اس مشاہدہ معراج کو ہم نے لوگوں کے لئے معیار آزمائش بنایاہے۔ اگر یہ عام خواب ہوتاتو یہ آزمائش بنایاہے۔ اگر یہ عام خواب ہوتا تو یہ آزمائش ایمان کی کیا چیز تھی اور اس پر ایمان لانامشکل کیاتھا۔

معراج کے جسمانی اورواقعہ بیداری ہونے پر یہ دلائل حد درجہ کمزور اوربے بنیاد ہیں۔ یہ کون کہہ سکتاہے کہ مجرد روح پربندہ اورعبدکا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ جسم انسانی تو ہرلحظہ اورہر آن بکھررہاہے اورفناہورہاہے۔ بندہ ازل اورعبدمطلق تویہی جان بے جسم اور روح بے جسد ہے۔ قرآن مجید کی یہ آیت پاک تم کویاد ہوگی۔ ’’یٰآیتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الٰی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (الفجر:۲۷تا۳۰)‘‘ اس آیت میں دیکھو کہ نفس وجان وروح کو صاف بندہ اورعبد کہاگیاہے۔ (اسی طرح سورہ مائدہ:۱۱۸) میں ہے:’’ان تعذبھم فانھم عبادک‘‘ اس آیت میں قیامت کے روز حضرت عیسیٰؑ اپنی امت کے متعلق عباد کا لفظ فرمائیں گے۔ حالانکہ اس دن خاکی جسد نہ ہوں گے۔ اسی طرح حدیث میں آیاہے۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ جب کسی مؤمن بندے کی روح نکال کر فرشتے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں تو اگلے فرشتے پوچھتے ہیں کہ یہ پاک روح کون سی ہے۔ ’’فیقولون فلان بن فلان‘‘ وہ کہتے ہیں یہ فلاںبیٹافلاں ہے۔ آخر کار جب وہ ساتویں آسمان پرپہنچتے ہیں۔

’’فیقول اللہ عزوجل اکتبوا کتاب عبدی فی علیّین‘‘ خداتعالیٰ فرماتاہے کہ میرے اس ’’بندہ‘‘ کے اعمالنامہ میں یہ لکھ دو کہ اس کی جگہ علیّین میں ہے۔(مشکوٰۃ ص۱۴۲)

اس میں بھی صرف روح کے لئے لفظ عبد کا استعمال ہواہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان خواب کا ذکرکرے تو صیغہ وہی استعمال کیاجاتاہے جو روح مع الجسد کے لئے استعمال ہوتاہے۔ (شمس)

یہ کہنا کہ سوار ہونا اوردودھ پینا جسم کے خواص ہیں۔ اس لئے معراج جسمانی تھی۔ سرتاپا مغالطہ ہے یہ تو جب کہاجاسکتاہے جب کوئی یہ کہے کہ براق اور دودھ بھی ہماری اس دنیا کی مادی سواری اور ایک جوہر سیال تھا۔ اگر یہی اعتراض کرناہے تو تم یہی کیوں نہیں کہتے کہ نفس آناجانا کہنا سننا بھی خواص جسمانی ہیں۔ اس لئے یہ معراج جسمانی تھی۔ لیکن تم کو معلوم ہوکہ جس عالم کی باتیں کررہے ہیں۔ وہاں نہ ہم ان پائوں سے چلتے ہیں نہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں، نہ ان کانوں سے سنتے ہیں، نہ اس جسم سے سوارہوتے ہیں اورنہ اس منہ سے کھاتے اورپیتے ہیں… اسی طرح جس طرح آپ کا یہ سفر روحانی تھا، براق، دودھ اورمعراج کے دیگر مناظر ومشاہد بھی روحانی تھے۔

تیسرا استدلال کہ: ’’اگر یہ خواب ہوتاتوکفار تکذیب کیوں کرتے۔‘‘ بھی صحیح نہیں۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں:

۱… اگرآنحضرتﷺ، صحابہ اورمسلمان (نعوذباللہ) اس رؤیا کو محض خواب وخیال کا رتبہ دیتے توکفار کوتکذیب کی حاجت نہ تھی۔ مگرچونکہ ان کو معلوم تھا کہ محمد(a) جوکچھ اس عالم میں دیکھتے ہیںوہ اس کو واقع اورحقیقت جانتے ہیں۔ اس لئے ان کو اعتراض تھا اور واقعات معراج میں سیربیت المقدس کے سوا اورتمام باتیں دوسرے عالم کی تھیں۔ جن کے صدق وکذب اورحق وبطلان کی کوئی صورت ان

73

کے پاس نہ تھی۔ اس بناء پر انہوں نے معراج کے تمام واقعات اورمناظر میں سے بیت المقدس کا حال پوچھا۔ اگر آپ اس کو (نعوذباللہ) غلط بتاتے تو اورباتوں کو بھی وہ لوگوں میںاسی طرح غلط،باطل اوربے حقیقت ثابت کرتے۔

۲… دوسرا سبب یہ تھا کہ قریش خدا کی عظمت وتقدس کو ماننے تھے۔ فرشتوں پریقین رکھتے تھے۔ حضرت ابراہیمm وغیرہ پیغمبروں کی نیکی اوربڑائی بھی انہوں سے سنی تھی اوراپنے خیال میں وہ آنحضرتﷺ کو نعوذ باللہ! جھوٹا، کاذب اوردروغ گو، لامذہب اوربے دین جانتے تھے۔ اس لئے ان کے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آسکتی تھی کہ ایسا آدمی ایسا مقدس، ایسا باعظمت، ایسا روحانی اورایسا پاکیزہ خواب دیکھ سکتاہے۔

۳… اوراصل بات یہ ہے کہ یہ مشاہدہ جس کو خواب کہہ کر تعبیر کررہے ہوں، حقیقت کی رو سے خواب نہ تھا۔ بلکہ جسم سے منقطع ہوکر روح کی سیرتھی اور قریش کے لئے اس کا سمجھنا آسان تھا۔ آخری استدلال توتمام ترطرف داران رؤیا کے حق میں ہے کہ خود خداوندتعالیٰ اس کو رؤیا سے تعبیر کرتاہے۔

’’وماجعلنا الرؤیاالتی اریناک الا فتنۃ للناس‘‘ ہم نے جورؤیا تجھ کو دکھایااس کو لوگوں کے لئے آزمائش بنایا۔ کسی چیز کو ایمان واعتراف کی آزمائش کا معیار بنانے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ بظاہر اس پر ایمان لانا مشکل اور حیرت انگیز ہی ہو۔ مدینہ جاکر قبلہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ ہوجاتاہے۔ یہ کوئی عجوبہ اورعقل کے خلاف چیز نہیں۔ تاہم اس کو بھی اللہتعالیٰ ایمان کی آزمائش کا معیارقراردیتاہے۔

اصل یہ ہے کہ تمام کج بحثیاں اورلفظی نزاعیں اس لئے پیداہوئی ہیں کہ لوگوں نے رؤیا کی حقیقت پرغور نہیں کیا۔ وہ انبیاء کے رؤیا کو بھی عام انسانی خواب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ دراصل صرف لفظ کا اشتراک ہے۔ ورنہ اس کی حقیقت بالکل جداگانہ ہے۔ یہ وہ ’’رؤیا‘‘ ہے جس میں گو آنکھیں بند ہوتی ہیں، مگر دل بیدار ہوتاہے۔ کیا یہی عام رؤیا کی حقیقت ہے۔ یہ وہ حالت ہے جو بظاہر خواب ہے مگر دراصل ہوشیاری، بلکہ مافوق ہوشیاری ہے بلکہ عام خواب اور اس میں مشابہت صرف اس قدرہے کہ اس عالم مادی اورکاروبار حواس ظاہری سے پہلے میں تغافل ہے تو دوسرے میں تعطل ہے۔ لیکن عالم ارواح اورکائنات ملکوت میں پہلے کو دخل نہیں تو دوسرے میں سراپا ہوشیاری، بیداری، حقیقت بینی، ہمسری ناموس، سیرسماوات، لقائے ارواح، رویت حق سب کچھ ہے۔ اس لئے صحابہ یا راویوں میں سے جن لوگوں نے اس کو ’’منام‘‘ یا’’رؤیا‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیاہے، وہ درحقیقت مجاز واستعارہ ہے۔ ورنہ اصل مقصود یہی کیفیت روحانی اوریہی حالت ملکوتی ہے اور یہی سبب ہے کہ ہمارے ظاہری حواس کے مادی قوانین طبعی کی رو سے جو چیزیں محال معلوم ہوتی ہیں وہ اس عالم میں محال نہیں ہیں۔ اس آیت پاک کو ’’وماجعلنا الرؤیا التی اریناک‘‘ ہم نے جورؤیا(معراج) تجھ کو دکھایا لوگ رؤیا کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباسq سے صحاح میں روایت ہے کہ یہ آیت معراج کے متعلق ہے لیکن حضرت ابن عباسq یہ بھی اس روایت میں کہتے ہیں کہ یہ رؤیائے چشم تھا۔‘‘

اصل الفاظ روایت کے بیان کر کے لکھتے ہیں: ’’اس پر یہ لغوی بحث چھڑ گئی کہ رؤیا لغت میں ’’آنکھ کے دیکھنے‘‘ کو نہیں کہتے۔ فریق مخالف کہتاہے کہ حضرت ابن عباسq سے بڑھ کر لغت عرب کا واقف کار اورکون ہوسکتاہے۔ جب وہ رؤیائے۱؎ عین کہتے ہیں تو کس کو انکار

۱؎ رؤیا کا لفظ لغتاً عالم خواب کے ساتھ مخصوص ہے جس میں جسد عنصری حرکت نہیں کرتا۔ چنانچہ مفردات راغب میں جس کے متعلق مختارمدعیہ نے بھی کہاہے کہ اس سے بڑھ کر قرآنی مشکل الفاظ کے حل کرنے کے لئے اورکوئی لغت نہیں لکھاہے کہ رؤیا وہ ہے جو خواب دیکھاجاتاہے۔ لسان العرب میں ہے:

74

ہوسکتاہے۔ علاوہ ازیں راعی اورمتنبی بعض شعراء نے ظاہری آنکھ سے دیکھنے کو بھی رؤیا کے لفظ سے تعبیر کیاہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اوّل تو راعی اورمتنبی لغت کے لئے سند نہیں ہیں اوراگرہوں بھی تو اس کے شعر سے یہ سمجھناکہ رؤیا کا لفظ رویت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، صحیح نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسی خواب اورخیالی دیدار اوردکھاوے کے معنی میں مستعمل ہواہے۔ حضرت ابن عباسq کی تفسیر کا مطلب جہاں تک ہم سمجھ سکتے ہیں، ایک بلیغ اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں مشاہدات معراج کو ’’رؤیا‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیاہے۔ رؤیا کے معنی عام طور سے ’’خواب‘‘ کے ہیں جو محض تخیّل بھی ہوسکتاہے۔ اس شبہ کو رفع کرنے کے لئے اور رؤیا یامعراج کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے انہوں نے ’’رؤیا‘‘ کو رؤیائے عینی کہہ کر اس کی تفسیر کی۔ یعنی یہ معراج صرف ظاہری حیثیت سے آنکھ کا خواب تھا۔ ورنہ درحقیقت وہ قلب کا مشاہدہ تھا اور اسی حد تک واقعی اورقطعی تھا جس حد تک ظاہری آنکھوں کا مشاہدہ ہوسکتاہے۔‘‘(ص۲۹۷تاص۳۰۱)

پھر لکھتے ہیں: ’’حافظ ابن القیم نے زاد المعاد میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں اداکیاہے: ’’وقد نقل ابن اسحاق عن عائشۃt ومعاویۃq انھما قالا انماکان الاسراء بروحہ ولم یفقد جسدہ ونقل عن الحسن البصری نحو ذالک… الخ!‘‘ یعنی ابن اسحاق نے حضرت عائشہt ومعایہq سے یہ نقل کیا ہے کہ ان دونوںنے کہا کہ معراج میں آپ کی روح لے جائی گئی اور آپ کا جسم کھویا نہیں گیا۔(یعنی وہ اسی دنیا میں اپنی جگہ پر موجودتھا) اورحسن بصری سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ لیکن یہ جاننا چاہئے کہ یہ کہنا کہ معراج منام(خوب) تھا اور یہ کہنا کہ بذریعہ روح کے تھی جسم کے ساتھ نہ تھی۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے… اورجولوگ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کو آسمان پرچڑھایاگیا، ان میں دوفرقے ہیں۔ ایک فرقہ کہتاہے کہ آپ کومعراج روح وبدن دونوں کے ساتھ ہوئی اوردوسرا فرقہ کہتاہے کہ صرف روح کے ساتھ ہوئی اوربدن کھویانہیں گیا۔(یعنی اس عالم سے) ان لوگوں کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ خواب تھا۔ بلکہ یہ مقصد ہے کہ خود بذاتہ روح کو معراج ہوئی۔‘‘(ص۳۰۳)

پھر لکھتے ہیں: ’’علماء اسلام میں کم ازکم ایک شخص تو ایسا ہے جو صوفی اورصاحب حال بھی ہے اورمحدث اورمتکلم بھی، یعنی حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی، آپ حجۃ البالغہ میں معراج کی حقیقت ان الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’واسریٰ بہ‘‘ سے لے کر’’واللہاعلم‘‘ تک(ترجمہ) آپ کو معراج میں مسجد اقصیٰ پہنچایاگیا۔ پھر ’’سدرۃ المنتھٰی‘‘ اورجہاں خدانے چاہا اوریہ تمام جسم مبارک کے لئے بیداری کی حالت میں ہوالیکن اس مقام میں جوعالم مثال اورعالم ظاہر کے بیچ میں ہے اورجو دونوں عالموں کے احکام کا جامع ہے۔ اس لئے جسم پرروح کے احکام جاری ہوئے اورروح پر

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ’’الرؤیا ما رائیتہ فی المنام‘‘ کہ رؤیا کے معنی خواب میں دیکھنے کے ہیں اورشہاب علی (الشفاء ج۲ ص۲۵۷) پر رؤیا کے معنی لکھے ہیں: ’’مایری فی المنام من الاحلام مصدر یختص بذالک ویقال فی غیرہ رویۃ بالتاء ورأی‘‘ کہ رؤیا خواب میں دیکھنے کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے سوا میں ’’رویٔت یارایٔ‘‘ استعمال ہوتاہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہرجگہ خواب کے معنوں ہی میں آیاہے۔ پارہ۱۶ع ۱۱،۱۶ اور پارہ۱۳ع ۵وپارہ۲۳ع۷ وپارہ۲۶ ع۱۲+ ایک فاضل دیوبندی فرماتے ہیں: ’’الرؤیا یستعمل فی المنام خاصۃ‘‘ کہ رؤیا خواب میں دیکھنے کے ساتھ مخصوص ہے۔ (تسہیل البیان ص۳۰۴ مصنفہ مولوی ذوالفقار علی دیوبندی) مجمع البحار میں ہے: ’’الرؤیا مایری فی المنام‘‘ کہ جو خواب میں دیکھاجاتاہے اسے رؤیاکہتے ہیں اورامام ابومحمدالقاسم ابن علی الحریری نے رؤیا کو بمعنی ’’رویٔت فی الیقظہ‘‘ استعمال کرنا غلط بتایاہے اورمتنبی کے شعر پر اعتراض کیاہے: ’’وقد انکرہ الحریری تبعاً لغیرہ وقالوا انما یقال رؤیا فی المنام واما التی فی الیقظۃ فیقال رویۃ‘‘ کہ حریری کے سوا اور بہت سے علماء نے بھی اس استعمال سے انکار کیاہے اور رؤیا کو خواب ہی سے مخصوص ماناہے اور جب بیداری میں ہو تو اسے ’’رویٔت‘‘ کہتے ہیں۔ (فتح الباری ج۸ ص۲۷۸) پس رؤیا کا لفظ اگر کشف پرجوبیداری میں ہوتاہے۔ بولاگیاہے تو اس کا استعمال مجازاً ہے۔

75

معاملات روحانی جسم کی صورت میں نمایاں ہوئے اوراس لئے ان واقعات میں سے ہر واقعہ کی ایک تعبیر ظاہرہوئی اور اسی طرح کے واقعات حضرت حزقیل اورموسیٰؑ کے لئے ظاہرہوئے تھے اوراولیاء امت کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ جوخداکے نزدیک ان کے درجہ کی بلندی مثل اس حالت کے ہوتی ہے جو رؤیامیں ان کو معلوم ہوئی۔ واللہ اعلم!

اس کے بعد شاہ صاحب نے معراج کے مشاہدات میں سے ایک ایک کی تعبیر کی ہے۔ خود احادیث صحیحہ اورمعتبر روایات میں جہاں یہ واقعہ مذکورہے کہ آپ کے سامنے دودھ اورشراب کے دوپیالے پیش کئے گئے تو آپ نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ تم نے فطرت کو اختیار کیا۔اگر شراب کا پیالہ اٹھاتے تو تمہاری تمام امت گمراہ ہوجاتی۔ اس عالم تمثیل میں گویا فطرت کو دودھ اورضلالت کو شراب کے رنگ میں مشاہدہ کردیاگیاہے۔(ص۳۰۳، ۳۰۶)

مذکوہ بالا عبارت سے امام ابن القیم اورحضرت شاہ ولی اللہصاحب محدث دہلوی کا مذہب معلوم ہوگیابلکہ معراج اس جسم عنصری کے ساتھ نہ تھا کہ روح کے ساتھ تھا اورانہیں دونوں بزرگوں کو بمنزلہ شاہدین عادلین ٹھہرا کر ان کی عبارت کو مولوی ثناء اللہ صاحب (تفسیرثنائی ج۵ ص۲۶)میں نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’پس ان بزرگوں کے کلام سے جواز ثابت ہوتاہے۔‘‘ پھرلکھتے ہیں: ’’غالباً اس رائے کو اختیار کرنے کے وجوہات میں یہ بھی ایک وجہ ان بزرگوں کو پیش آئی ہوگی کہ آسمانی سیر کی حدیثوں میں ذکرآتاہے کہ انبیاءؑ سے آنحضرتﷺ کی ملاقات ہوئی۔ پھر اگرآپ اس جسم مطہر کے ساتھ تھے توو ہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ حالانکہ ان کا اس جسم خاکی کو چھوڑدینا شہادت تواتر کے علاوہ قرآن وحدیث سے بھی ثابت ہے۔فافھم ولاتعجل!‘‘

پھر لکھتے ہیں: ’’بڑااعتراض تو آسمانی سیر جسمانی پرتھا جس کا حل شاہ ولی اللہ صاحب اورحافظ ابن القیم نے کردیا۔ کیونکہ ان حضرات کی تقریرات سے ثابت ہوتاہے کہ عنصری جسم آنحضرتﷺ کاآسمان پر نہیں گیا۔‘‘(ص۲۶)

اس عبارت سے مولوی ثناء اللہ صاحب کا مذہب معراج کے متعلق واضح ہے کہ جسم عنصری کے ساتھ معراج نہیں ہوا۔ لیکن صفحہ اوّل میں جلی حروف سے لکھتے ہیں: ’’اسراء اورمعراج دو واقعہ الگ الگ ہیں اور یہ دونوں بیداری میں بجسدہ الشریف ہوئے ہیں۔‘‘ پس ابتداء میں تو لکھ دیا کہ جسد کے ساتھ معراج ہوا تھا لیکن آخر میں جاکر انکارکردیااورکہا کہ میرامذہب تومعراج کے متعلق وہی ہے جوشاہ ولی اللہ صاحب اورحافظ ابن القیم کاہے۔ بہرحال اس تمام بیان کا خلاصہ یہ ہے۔ سلف صالحین میں سے اکابرصحابہ اور ائمہ نے معراج کو اس جسم عنصری سے تسلیم نہیں کیا۔

اورعلامہ زمخشری نے بھی تفسیر کشاف میں یہ اختلاف نقل کیاہے: ’’واختلف فی انہ کان فی الیقظۃ ام فی المنام، فعن عائشۃt انھا قالت واللہ مافقد جسد رسول اللہﷺ ولکن عرج بروحہ، وعن معاویۃ انما عرج بروحہ وعن الحسن کان فی المنام رویاراٰہa‘‘ (کشاف ص۷۵۸)

یعنی معراج میں اختلاف ہواہے کہ وہ بیداری میں تھا یاخواب میں عائشہt سے تو یہی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: بخداآپ کاجسد شریف گم نہیں ہوا۔ بلکہ آپ کی روح کا عروج ہواتھا اوریہی مذہب حضرت معاویہq کا تھا اورامام حسن بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ خواب میں آپ نے رؤیادیکھی تھی۔

اسی طرح حذیفہq سے مروی ہے کہ اس نے کہا:’’ذالک رؤیا وانہ ما فقد جسد رسول اللہﷺ وانما اسری بروحہٖ وحکی ھذا القول ایضاً عن عائشۃ ومعاویۃ‘‘ (تفسیر کبیرج۵ ص۳۷۸)

76

اس سے ثابت ہے کہ حذیفہq بھی جسمانی معراج کے قائل نہ تھے۔

نوٹ: حضرت عائشہt کی روایت پر یہ اعتراض کیاگیاہے کہ معراج کے وقت تو وہ چھوٹی تھیں تو ان کی شہادت کیسے قبول کی جاسکتی ہے کہ آنحضرتﷺ کا جسم مبارک موجود تھا یا غائب۔ چنانچہ (دفع العجاج ص۲۸) میں مختارمدعیہ نمبر۲ مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی بھی حضرت عائشہt کا مذہب یہی لکھتے ہیں: ’’مافقد جسمہ‘‘ اور(ص۴۳) میں لکھتے ہیں: جسم مبارک غائب نہیں ہوا اورروحانی اسراء ہوئی۔ پھر وہی اعتراض کرتے ہیں کہ مکہ معظمہ کی رات کے قصہ کی نسبت کیسے فرماسکتے ہیں کہ آپ کا جسم مبارک غائب تھا یا موجود، یہ اعتراض بھی قابل التفات نہیں ہے۔ کیونکہ مافقد بصیغہ مجہول کہنا صرف عینی شہادت پر ہی محمول نہیں ہوسکتا بلکہ سماع کی صورت میں بھی کہنا صحیح اوردرست ہے اور ممکن ہے کہ آنحضرتﷺ سے انہوں نے یہ بات سنی ہو۔ چنانچہ قاضی عیاض لکھتے ہیں: ’’فاذالم تشاھدذالک عائشۃ دل علی انھا حدثت عن غیرھا من الصحابۃ فحدیثھا من مرسلات الصحابۃ فھو صحیح ایضاً کماعلیہ المحدثون‘‘ (الخفاجی)

یعنی اگر حضرت عائشہt نے خود نہیں دیکھا تو ضرور ہے کہ انہوں نے کسی اور سے روایت کی ہے اور وہ صحابی ہوسکتاہے۔ پس یہ حدیث مرسلات صحابہ میں سے ہوتو بھی صحیح ہے۔ جیسا کہ محدثین کا مذہب ہے۔ (شہاب علی الشفاء ج۲ ص۳۰۵)

مختارمدعیہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ معراج جس میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں وہ جسمانی ہواتھا۔ دوسرے معراجوں کے متعلق ہم نہیں کہتے اوریہ قول بھی محققین کے نزدیک مردود ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جومتعدد معراج مانتاہے اس نے سخت ٹھوکرکھلائی اور لغو کام کیا۔ ’’فقد ابعدوا غرب وھرب الی غیر مھرب ولم یتحصل علی مطلب‘‘ (ابن کثیر ج۶ ص۴۰) اور (زادالمعاد ج اوّل) میں اس قول کو باطل اورخبط محض لکھاہے۔ نیز علامہ زرقانی نے بھی ایسا ہی لکھاہے۔ (شرح مواہب ج۱ ص۳۰۸)

بہرحال اس تمام بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ سلف صالحین میں سے اکابر صحابہ اورائمہ نے معراج کو بغیرجسم عنصری کے ماناہے اور اسی امر کے قائلین میں سے جن کا ذکرہوچکاہے۔

مندرجہ ذیل ہیں: (۱)حضرت عائشہt۔ (۲)حضرت معاویہq۔ (۳)حذیفہq۔ (۴)امام حسن بصری۔ (۵)حضرت شاہ ولی اللہ صاحب۔ (۶)اور سرسیدکو خومختار مدعیہ مان چکاہے کہ وہ معراج جسمانی کے منکرتھے اور مسلمان ہیں اور مولوی ثناء اللہ کی مذکورہ بالاعبارت سے بھی ثابت ہے کہ معراج اس جسم عنصری کے ساتھ نہ تھا اوراگر معراج کے واقعات پربھی غورکیاجاوے تو صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہ عالم اعیان کا واقعہ نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو:

۱… آپa نے فرمایا: ’’فرج سقف بیتی‘‘ (مشکوٰۃ ص۵۳۹) کہ فرشتہ چھت پھاڑ کر آپ کے پاس آیا۔اوّل تو فرشتہ کے آنے کے لئے چھت پھاڑنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نیز وہ پھٹی ہوئی چھت صبح کو دیکھی نہیں گئی اور نہ کسی روایت میں ہی آیاہے کہ وہ درست کی گئی۔

۲… پھر تمام فوت شدہ انبیاء کی ملاقات کا ہونا اور آپ کی اقتداء میں نماز کاا دا کرنا سیرروحانی کے ہونے کی دلیل ہے۔

۳… آپ کا سینہ آب زم زم سے دھوکر پاک کیاگیاہے اور آپ کا قلب چیر کر ایمان اورحکمت سے بھراگیا۔ حالانکہ جسم عنصری میں نہ تو سینہ کے چیرے جانے کا کوئی نشان تھا نہ دل کے چاک کئے جانے کا کوئی اثر۔

۴… ایک سونے کا طشت لایاگیاجوایمان اورحکمت سے بھراہواتھا۔ غورکرو کیا ایمان اورحکمت مادی چیزیں ہیں، جنہیں برتن میں لانے کی ضرورت پڑی۔

77

۵… سدرۃ المنتہیٰ کے پاس آپ نے دو دریا باطنی اوردوظاہری دیکھے۔’’اماالظاھران فالنیل والفرات‘‘(مشکوٰۃ ص۵۲۷) ظاہری نیل اورفرات تھے۔ حالانکہ نیل اورفرات زمین پرہیں نہ کہ آسمان پر۔

۶… دودھ اور شراب کے دوپیالے پیش کئے گئے اورحضور سرورعالمa نے دودھ کو اختیار کاتو جبرائیلm نے دودھ اورشراب کی تعبیر کردی کہ دودھ سے مراد فطرت اورشراب سے مراد ضلالت ہے۔

۷… جب کفار نے بیت المقدس کے متعلق سوالات کئے تو تمثیلاً بیت المقدس آپ کے سامنے لایاگیا۔(مشکوٰۃ ص۵۳۰)

۸… سب ارواح کا پہلے آسمان پر حضرت آدمm کے دائیں بائیں دیکھنا۔ (مشکوٰۃ ص۵۲۹) حالانکہ سب ارواح تو پہلے آسمان پر نہیں ہیں۔

۹… ’’وسمع فیہ صریف الاقلام‘‘ (مشکوٰۃ ص۵۲۹) قلموں کی آواز بھی اس پردلالت کرتی ہے۔ ورنہ جواموراللہتعالیٰ کے حضورلکھے جاتے ہیں وہ ہمارے جیسے قلم اور دواتوں سے نہیں لکھے جاتے۔

۱۰… آپ جنت میں گئے تو آگے کسی کے چلنے کی آہٹ معلوم ہوئی۔ دیکھا تو وہ بلالq ہے۔(مشکوٰۃ ص۵۷۵)

اور پھر براق جس کا قدخچر اورگدھے کے درمیان تھا، منتہائے نظرپراس کا قدم پڑنا یہ سب امور ایسے ہیں جوبتاتے ہیں کہ یہ کشفی اورروحانی معاملہ تھا اورکوئی نص شرعی ایسی نہیں جو ہمیں مجبورکرے کہ تمام واقعات ظاہر پرحمل کئے جائیں اورشاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے ان تمام واقعات کی تعبیر اپنی کتاب حجۃ اللہالبالغہ میں لکھی ہے۔

اب جب کہ معلوم ہوگیا کہ متقدمین کا اس بارہ میں اختلاف ہے کہ آیا معراج جسم عنصری کے ساتھ تھایانہیں تواگرکوئی شخص معراج جسم عنصری کے ساتھ ہونے کاقائل نہ ہوتو اسے کافر اوردائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیاجائے گا۔ حضرت مسیح موعود نے بحیثیت حکم ہونے کے جو معراج کی حقیقت بیان کی ہے، وہ اس امر میں قطعی اورفیصلہ کن ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی ایک اورغلطی جو مسلمانوں کے درمیان پڑگئی ہے وہ معراج کے متعلق ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتﷺ کو معراج ہواتھا۔ مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا۔ سو یہ عقیدہ غلط ہے اورجن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرتﷺ اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پرچلے گئے تھے سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔

بلکہ اصل بات اورصحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہواتھا۔ وہ ایک وجود تھا مگرنورانی، درآیات بیداری تھی مگرکشفی اورنورانی، جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ مگر وہی جن پر کیفیت طاری ہوئی ہو۔‘‘(تقریر احمدی اورغیراحمدی میں کیافرق ہے ص۱۵،خزائن ج۲۰ ص۴۹۰، ملفوظات ج۸ص۳۶۳)

اسی طرح فرماتے ہیں: ’’واما معراج رسولناa فکان امرا اعجازیامن عالم الیقظۃ الروحانیہ اللطیفۃ الکاملۃ، فقد عرج رسول اللہﷺ بجسمہ الی السمآء وھو یقظان لاشک فیہ ولاریب، ولکن مع ذالک مافقد جسمہ من السریر کما شھد علیہ بعض ازواجہٖ رضی اللہعنھن وکذالک کثیر من الصحابۃ‘‘ (حمامۃ البشری ص۳۴، خزائن ج۷ ص۲۱۹،۲۲۰)

یعنی آنحضرتﷺ کا معراج ایک اعجازی امرتھا اورایک کامل لطیف بیداری کے عالم میں ہوا اور اس میں شک نہیں کہ

78

آنحضرتﷺ اپنے جسم کے ساتھ بیداری کی حالت میں آسمان پر چڑھے لیکن باوجود اس کے آپ کے جسم مبارک آپ کی چارپائی سے علیحدہ نہیں ہوا۔ جیساکہ آپ کی ایک بیوی نے اور بہت سے دیگر صحابہ نے اس امر کی شہادت دی ہے۔

۱… پس آپ کا مذہب معراج کے بارہ میں وہی ہے جو سلف صالحین کا تھا کہ معراج کشف میں ہوا۔ جس میں جسم عنصری نہیں ہوتا بلکہ جسم نورانی ہوتاہے۔

۲… دوسراامر قابل غور یہ ہے کہ آیا ایسا معراج دیگر انبیاء یا اولیاء میں سے بھی کسی کو ہوا۔ مولاناسلیمان ندوی صاحب فرماتے ہیں: ’’انبیاءؑ کے روحانی حالات اورواقعات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اولعزم پیغمبروں کو آغاز نبوت کسی خاص وقت اورمخصوص ساعت میں یہ منصب رفیع حاصل ہوتاہے… اور اپنے رتبہ اوردرجہ کے مناسب مقام پرکھڑے ہو کرفیض ربانی معمور اورغرق دریائے نور ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مقربان خا ص کو یہ درجہ عطاہوتاہے کہ وہ حریم خلوت گاہ اقدس میں بار پاکر ’’قاب قوسین‘‘(دوکمانوں کا فاصلہ) سے بھی زیادہ نزدیک ترہوجاتے ہیں اورپھروہاں سے اپنے منصب کا فرمان خاص لے کر اسی کاشانۂ آب وخاک میں واپس آجاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمm کو جب نبوت عطاہوئی ہے تو ارشاد ہوتاہے:’’وکذالک نری ابرہیم ملکوت السموٰت والارض (الانعام:۷۵)‘‘ اوراسی طرح ہم ابراہیمm کو زمین وآسمان کی بادشاہی دکھاتے ہیں۔ یہ سیر ملکوت یعنی آسمان وزمین کی بادشاہی کامشاہدہ کیاہے۔ یہی اسراء اورمعراج ہے۔‘‘

پھر اس کے بعد حضرت یعقوب کا معراج تکوین ب۲۸ سے نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’حضرت موسیٰؑ کوہ طور پر جلوہ حق کا جو پرتونظرآیا،وہی ان کی معراج ہے اوردیگر انبیاء بنی اسرائیل کے مشاہدات ربانی اورسیاحت روحانی کی تفصیل سے تورات کے صفحات معمورہیں۔ عیسائیوں کا مجموعہ انجیل میں یوحنا رسول کا مکاشفہ بتفصیل مذکورہے اور اس میں آثار قیامت جزا وسزا اورجنت ودوزخ وغیرہ کے متعلق اکثرایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جو قرآن مجید کے بالکل مطابق ہوں اوران کو تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ مجوس اپنے پیغمبر زرتشت کے متعلق بھی معراج کا ایک طویل افسانہ سناتے ہیں۔ جس میں زیادہ آنحضرتﷺ کے واقعات معراج کے نقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیروان بدھ بھی نخل حکمت کے سایہ میں بدھ کے مشاہدہ ربانی کاایک قصہ بیان کرتے ہیں۔(سیرۃ النبی ج۴ ص۲۷۱،۲۷۲)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ دیگر انبیاء کو بھی اسی طرح معراج ہوئی جس طرح آنحضرتﷺ کو۔ فرق مراتب کاہے لیکن بعض کو’’قاب قوسین اوادنٰی‘‘ تک بھی معراج ہوئی۔ امت محمدیہ کے اولیاء میں سے بھی بعض نے ایسی معراج کا دعویٰ کیاہے۔ چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی فرماتے ہیں ؎

  1. گرچو احمد در شب معراج وصل

    از حرم تا صوب اقصیٰ میردم

  2. از زمین تاسدرہ وز سدرہ بعرش

    بر براق برق آسا میردم

  3. از فلک بگذشت واز انس و ملک

    از دنا سوئے تدلیٰ میردم

  4. قاب قوسین است او ادنیٰ حجاب

    بے حجب تا حق تعالیٰ میردم

(دیوان خواجہ معین الدین چشتی ص۵۴)

اس طرح صفحہ ۶۵ پرفرماتے ہیں ؎

  1. گر عروج جان معینے با یدت بر نہ فلک

    در رکاب خواجہ لولاک میباید شدن

79

کیا مختار مدعیہ خواجہ معین الدین چشتی کے متعلق بھی کہے گا کہ وہ کافر ومرتد تھے۔ اس لئے کہ وہ اپنے لئے آنحضرتﷺ جیسا معراج ثابت کرکے شرک فی الرسالت کے مرتکب ہوکرکلمہ کے جزو ثانی کے منکر ہوئے۔

تیسری بات کہ کیا حضرت مسیح موعود نے آنحضرتﷺ کے معراج کی طرح کئی معراجوں کا اپنے لئے دعویٰ کیا ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اپنی کسی کتاب میں یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے آنحضرتﷺ کے معراج کی طرح معراج ہوئی اورجس عبارت سے غلط استدلال کر کے مختارمدعیہ نے آپ پریہ افتراء کیاہے۔ وہ عبارت یہ ہے: ’’سیر معراج اس جسم کثیف(عنصری، خاکی۔ شمس) کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا جس کو درحقیقت بیداری کہناچاہئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیرکرسکتاہے۔ پس چونکہ آنحضرتﷺ کے نفس ناطقہ کی اعلی درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی تھی۔ اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کی انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیاجاتاہے، پہنچ گئے۔ سودرحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشددرجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔ میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کو سمجھتاہوں۔ بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جودرحقیقت بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفیٰ اوراجلیٰ ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔‘‘(ازالہ اوہام حاشیہ ص۴۷، ۴۸، خزائن ج۳ ص۱۲۶)

مختار مدعیہ نے اس حوالہ کو ایسے طریق پر پیش کیاہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ حضرت مسیح موعود اپنے کشفوں کے مقابلہ پر معراج کو استخفاف کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ مختار مدعیہ کا دیدہ دانستہ عدالت کو مغالطہ دینے کی کوشش کرناہے۔ کیونکہ اس حوالہ کے خط کشیدہ الفاظ سے صاف معلوم ہوتاہے کہ حضرت مسیح موعود آنحضرتﷺ کا معراج ایسا مانتے ہیں، جس میں آپ کاذاتی۱؎ طور پر کوئی شریک نہیں ہوسکتا اوریہ کہ آپ کا معراج عرش عظیم تک ہواتھا۔

ْ اورحضرت مسیح موعود کے اس قول سے کہ اس قسم کے کشفوں میں خود مؤلف صاحب کو تجربہ ہے۔ یہ قطعاً مراد نہیں ہے کہ آپ کو ویسے معراج ہوا جیسے رسول اللہﷺ کو۔ بلکہ آپ نے صرف یہ بتانے کے لیے کہ کشف کی حالت درحقیقت بیداری سے زیادہ اصفیٰ اور اجلیٰ ہوئی ہے۔ اپنے کشوف کا ذکرکیاہے کہ میں بھی اس میں صاحب تجربہ ہوں۔ نہ یہ کہ آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مجھے بھی آنحضرتﷺ کی طرح معراج ہوئی نہ ایک بلکہ کئی۔ جیسا مختار مدعیہ سمجھتاہے۔

(۴) معجزۂ شق القمر

مختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے کلمہ کے جزء ثانی کے قائل نہ ہونے کے ثبوت میں آپ کا مندرجہ ذیل شعرپیش کیاہے:

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

۱؎ ذاتی طور پر کی شرط میں نے اس لئے لگادی ہے کہ تاوہ اولیاء جوباتباع آنحضرتﷺ اپنے لئے معراج کو ثابت کرتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ سمجھے جائیں۔ جیسا کہ خواجہ معین الدین نے لکھاہے:

عروج جان معینے براوج اوادنی بجز متابعت مصطفی نمے بینم

(دیوان خواجہ معین الدین چشتی ص۴۵)

80

کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنے لئے شق القمر کا معجزہ اقویٰ طور پرثابت کیاہے اورآنحضرتﷺ کے لئے کمزور کر کے دکھایاہے۔ اس سے آنحضرتﷺ کی توہین لازم آتی ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب کافرہوئے اوردائرہ اسلام سے خارج۔ یہاں یہ تاویل نہیں چلی کہ چاند گہن مراد ہے۔ کیونکہ میں دعویٰ سے کہتاہوں کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کبھی چاند گہن ہواہی نہیں۔

آخری حصہ کے جواب میں توصرف اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ جوشخص علم طبیعیات سے اس درجہ ناواقف ہو اور دورہ ارضیہ کے قانون سے اس قدر غافل ہو اور باوجود ہرسال چاندگہن کا مشاہدہ کرنے کے لئے یہ دعویٰ کرے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کبھی چاندگہن ہوانہیں، اس کو سمجھانا عقل مندوں کی قدرت سے باہرہے۔ لیکن مختار مدعیہ کی کتب اسلامیہ اور تاریخ سے ناواقفیت ثابت کرنے کے لئے ایک حوالہ دے دینا بھی ضروری خیال کرتاہوں۔ تفسیرروح المعانی جس کے حوالے گواہان مدعیہ نے پیش کئے ہیں۔ اس میں لکھاہے اور لکھا بھی وہی ہے جو حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایاہے: ’’ویؤیدکونہ لیلۃ البدر ما اخرجہ الطبرانی وابن مردویہ من طریق عکرمۃ عن ابن عباس قال کسف القمر علی عہد رسول اللہﷺ فقالوا سحر القمر فنزلت اقتربت الساعۃ الی مستمر‘‘ (روح المعانی ج۸ ص۲۷۱)

اس بات کی تائید کی کہ شق القمر چودھویں رات کو ہوا۔ اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو ابن عباس سے بطریق عکرمہ طبرانی اورابن مردویہ نے بیان کی ہے کہ آنحضرتﷺ کے عہدمیں چاند گہن ہوا تو انہوں نے کہا کہ چاند پر جادوچل گیاہے۔ سورۃ قمر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس شعر میں تو آپ نے اس امر کا اظہار فرمایا ہے کہ آنحضرتﷺ کی صداقت کے لئے آسمان پرچاند کانشان ظاہر ہوا اور میری صداقت ظاہر کرنے کے لئے چاند اورسورج کا نشان۔ اے مخالف! کیا پھر بھی تو میری صداقت کا انکار کرے گا۔ اس شعر میں نہ تو کوئی ایسا لفظ پایاجاتاہے جس سے آنحضرتﷺ کی توہین لازم آتی ہو اور نہ حضرت مسیح موعود کا افضل ہونا ہی ثابت ہوتاہے۔ بلکہ آپ نے اس شعر سے ماقبل اس امر کی تصریح فرمادی ہے کہ میرا اپناکوئی کمال نہیں ہے۔ بلکہ جو کچھ مجھے ملاہے وہ اس لئے کہ میں آنحضرتﷺ کا روحانی فرزند ہوں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ؎

  1. وانی ورثت المال مال محمد

    فما انا الا الہ المتخیر

(اعجاز احمدی ص۷۰، خزائن ج۱۹ ص۱۸۲)

اور میں محمدa کے مال کا وارث بناگیاہوں، پس اس کی آل برگزیدہ ہوں۔ جس کو ورثہ پہنچے گا۔‘‘ اور فرماتے ہیں ؎

  1. فلا والذی خلق السماء لاجلہ

    لہ مثلنا ولد الٰی یوم یحشر

  2. وانا ورثنا مثل ولد متاعہ

    فای ثبوت بعد ذالک یحضر

مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا۔ ایسا نہیں کہ اس کی اولاد نہ ہو، بلکہ ہمارے نبیa کے لئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیںاور قیامت تک ہوں گے اور ہم نے اولاد کی طرح وراثت پائی۔ پس اس سے بڑھ کر اورکون ساثبوت ہے۔ جو پیش کیاجائے۔‘‘

اس سے اگلے شعر میں چاند سورج گہن کاذکر فرماتے ہیںجس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ نشان بھی آپ کو آنحضرتﷺ کی اتباع سے ورثہ میں ملاہے اور اس کے بعد فرماتے ہیں:

  1. وانی لظل ان یخالف اصلہ

    فما فیہ فی وجھی یلوح ویزہر

81

اورسایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہوسکتاہے۔ پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے۔‘‘(اعجاز احمدی ص۷۰،۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۲،۱۸۳)

لہٰذا آپ کے لئے جو نشان ظاہر ہوتے ہیں وہ آنحضرتﷺ کی برکت سے ہیں۔ اگر روایتوں میں یہ خبرنہ ہوتی کہ چاند اورسورج کا گہن مہدی موعود کی صداقت کی دلیل ہوگی تو وہ نشان کیونکرہوسکتاتھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اپنی متعدد کتب میں اس پیش گوئی کا ذکرکر کے آنحضرتﷺ کی مدح وثناکی ہے اور درود بھیجا اوراللہتعالیٰ کا شکراداکیاہے۔ چنانچہ آپ کتاب (نورالحق حصہ دوم ص۵۸،۵۹، خزائن ج۸ ص۲۵۶،۲۵۷)میں فرماتے ہیں:

ترجمہ از اشعار عربی ’’تیرے پرجان قربان ہو، اے بہتر مخلوقات ہم نے تیری خبر کا نور اندھیرے میں دیکھ لیا۔ ہم نے سورج اور چاند کو دیکھ لیا جیسا کہ تو نے اشارہ کیاتھا۔ بہ تحقیق دونوں کو گرہن لگ گیا، تاخلقت منورہو، ہمیں خداتعالیٰ کی مدد تیرہ سوبرس گزرنے کے بعدآئی اور ہم بیٹوں کی طرح وارث ہیں اور بزرگوں کے تمام مال کے وارث ہوگئے ہیں۔

’’بخدا میں کافر نہیں۔ میری جان اس نبی پر قربان ہے جو صاحب مقام محمود ہے اور میرادل نبیa نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میں اپنے دل کو اسی کے لئے سراسیمہ دیکھتاہوں اور نبیa کا ذکرمیرے دل کے لئے آرام ہے اورمیری جان کے لئے مثل طعام کے ہے اورمیردشمن بے شرمی سے ناحق بدگوئی کررہا۔‘‘ (نورالحق حصہ دوم ص۶۰، خزائن ج۸ ص۲۵۸)

حضرت مسیح موعود تو کسوف خسوف کو آنحضرتﷺ کا فرمایاہوا نشان قراردیتے ہیں اور اس پر آپ کا شکریہ بجالاتے ہیں۔ لیکن مختار مدعیہ اس کو موجب توہین آنحضرتﷺ قراردیتاہے اوریہ یاد رکھنا چاہئے کہ عربی زبان میں خسوف کا لفظ خرق اورشق کے معنوں میں آتاہے۔ چنانچہ قاموس میں ہے:’’خسف الشیئی خرقہ، وخرق الثبوت شقہ‘‘ اورتاج العروس میں اس استعمال کو مجاز قراردیاہے۔ چنانچہ لکھاہے: ’’ومن المجاز خسف الشیئی یخسفہ خسفاً ای اخرقہٗ‘‘

حضرت مسیح موعود نے شعر میں آنحضرتﷺ کے ذکر کے ساتھ تو خسف القمر فرمایاہے اور اپنے لئے غسا القمران اورغسا القمران کے معنی سورج اورچاند کا تاریک ہوجانا ہے اور اردو ترجمہ میں خسوف کا لفظ ہی رہنے دیا۔ کیونکہ وہ دونوں پر صادق آتاہے اور آنحضرتﷺ کے معجزہ شق القمر کاذکرآپ نے متعدد کتب میں کیاہے۔ سرمہ چشم آریہ میں اس معجزہ کے ثبوت میں ایک لمبی محققانہ بحث کی ہے اورآئینہ کمالات اسلام میں آپ نے تحریر فرمایاہے: ’’ایساہی دوسرا معجزہ آنحضرتﷺ کا شق القمرہے… جو اسی الٰہی طاقت سے ظہور میں آیاتھا۔ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی۔ کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو ایسی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیاتھا۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۶۵،۶۶، خزائن ج۵ ص۶۵،۶۶)

پھر آپ فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی شق القمر کا عالمی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلارہاہے قرآن شریف میں مذکورہے کہ آنحضرتﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دوٹکڑے ہوگیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آناخلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف توفرماتاہے: ’’اقتربت الساعۃ انشق القمر وان یروا اٰیۃ یعرضوا ویقولوا سحرمستمر‘‘

یعنی قیامت نزدیک آگئی اورچاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا یہ پکاجادو ہے جس کا آسمان تک اثرچلاگیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ میرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قراردیتاہے جو سخت دشمن تھے اورکفر پرہی مرے تھے۔ اب

82

ظاہرہے، اگرشق القمروقوع میں نہ آیاہوتا تومکہ کے مخالف لوگ اورجانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ وہ بلاشبہ شور مچاتے ہیں کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے۔ ہم نے تو چاند کو دوٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اورعقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اورافتراء خیال کرکے پھربھی چپ رہتے۔ بالخصوص جب کہ ان کو آنحضرتﷺ نے اس واقعہ کا گواہ قراردیاتھا۔ اس حالت میں ان کافرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رد کرتے۔ نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہرلگادیتے۔ اس سے یقینی طور پر معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ضرورظہور میںآیا۔‘‘ (ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۲، خزائن ج۲۳ ص۴۱۱)

اور(چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)میں فرماتے ہیں : ’’اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتاتوان کا حق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیںدیکھا اورنہ اس کو جادوکہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امرضرورظہور میں آیاتھا جس کا نام شق القمر رکھاگیا۔ بعض نے یہ بھی لکھاہے کہ وہ ایک عجیب قسم کاخسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبردی تھی اوریہ آیتیں بطور پیش گوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کالفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا۔ کیونکہ خسوف وکسوف میں جوحصہ پوشیدہ ہوتاہے۔ گویاوہ پھٹ کر علیحدہ ہوجاتاہے ایک استعارہ ہے۔‘‘

پس حضرت مسیح موعود نے بھی خسوف کا لفظ شق القمر کے لئے بطور استعارہ استعمال کیاہے اورمراد شق القمر کا معجزہ ہے جس کا یقینی اورقطعی ہوناآپ اپنی متعددکتب میں ذکرفرماچکے ہیں۔

شق القمر کے معجزہ میں جو اختلاف ہواہے اس کا ذکرسید سلیمان صاحب ندوی نے بھی (سیرۃ النبی ج۴ ص۳۸۳)میں کیاہے۔ فرماتے ہیں: ’’بعض عقل پرست مسلمانوں نے قرب قیامت سے یہ تاویل کی ہے کہ اس آیت سے آنحضرتﷺ کے عہد میں شق قمرکا ثبوت نہیں ہوتا، بلکہ یہ قیامت کے واقعہ کا ذکرہے۔‘‘

اس عبارت میں ان لوگوں کو بھی جوعہد نبوی میں شق القمر کے وقوع کے ہی قائل نہیں۔ مسلمان کہاہے اور(ص۳۸۷) میں لکھتے ہیں: ’’بعض متکلمین نے جن میں ایک ولی اللہشاہ صاحب بھی ہیں لکھاہے اورامام غزالی کا بھی ادھر ہی رجحان معلوم ہوتاہے کہ درحقیقت چاند میں شگاف نہیںہواتھا۔ بلکہ لوگوں کا ایسا نظرآیا۔ چنانچہ حضرت انسq کی روایت کے یہ الفاظ ہیں:’’سئل اھل مکہ فاراھم القمر فرقتین (صحیح مسلم)‘‘ اہل مکہ نے آپ سے نشانی طلب کی تو آپ نے چاند دوٹکڑے دکھایا۔‘‘ الغرض یہ واقع ہے کہ آنحضرتﷺ کی صداقت کے لئے شق القمر کا نشان کفار کے مطالبہ پردکھایاگیا اور یہ بھی واقع ہے کہ روایت میں مہدی معہود کی صداقت کا ایک نشان ماہ رمضان میں سورج چاند کا گہن قراردیاگیاہے اوروہ گہن۳۱۱ھ میں وقوع پذیرہوا۔ پس یہ دونشان ہیں جوظاہر ہوئے اوران کا کوئی انکارنہیں کرسکتا۔ انہی دونوں کا آپ نے اپنے شعر ؎

  1. لہ خسف القمر المنیر وان لی

    غسا القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمد ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

میں ذکرکیاہے اور اس میں نہ تو معجزہ شق القمر کا استخاف ہے نہ آنحضرتﷺ کی توہین۔

(۵) اٰثرک اللہ علی کل شیئی

(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳، حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

مختار مدعیہ نے اس الہام کو خلاف منشاء ملہم لے کر عدالت کو مغالطہ دینا چاہاہے کہ گویا حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو آنحضرتﷺ پرترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے بھی کلمہ کی جزوثانی کے منکر ہوئے۔

83

اس الہام کا اصل ترجمہ جو خود حضرت مسیح موعود نے(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) میںیہ کیاہے: ’’خدانے تجھے ہر ایک چیز میں سے چن لیا۔‘‘ اب ظاہر ہے کہ اس الہام سے مراد صرف اس قدرہے کہ اللہتعالیٰ نے اس زمانہ میں آپ کو ہر ایک چیز میں سے چن لیاہے۔ اس سے یہ قطعاً ثابت نہیںہوتا کہ آپ کوآنحضرتﷺ اور دیگرانبیاء میں سے چن لیا۔ اللہتعالیٰ قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے حق میں فرماتاہے: ’’واٰتاکم مالم یوت احداً من العالمین‘‘ کہ تمہیں وہ کچھ دیا جوکسی کو جہانوں میں سے نہیں دیا اورفرمایا:’’وانی فضلتکم علی العالمین‘‘ کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی اور اسی طرح عام بنی اسرائیل کے حق میں فرمایا: ’’ولقد اخترنا ھم علی علم علی العالمین (دخان)‘‘ یعنی ہم نے ان کو علم کے ساتھ جہان والوں میں سے چن لیاہے۔ کیا مختارمدعیہ اس کا یہ مطلب سمجھتاہے کہ آنحضرتﷺ اورامت محمدیہ پر بھی ان کو فضیلت دی گئی تھی۔ تمام مفسرین ان آیات کی تفسیر میں’’عالمی زمانھم‘‘ یعنی ان کے زمانہ کے عالم مراد لیتے ہیں۔پس اگر مختار مدعیہ انصاف پسند یاتعصب سے خالی ہوتا تو باآسانی سمجھ سکتاتھا کہ اس الہام سے آنحضرتﷺ پر آپ کی فضیلت نہیں نکلتی۔ کیونکہ اس الہام سے پہلے (حقیقت الوحی ص۸۳، خزائن ج۲۲،ص ۸۶) پر یہ الہام درج ہے۔’’پاک محمدa مصطفی نبیوں کا سردار۔‘‘ اور اس کے بعد (حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲، ص۹۹) پر یہ الہام درج ہے:’’کل برکۃ من محمدa فتبارک من علم وتعلم‘‘ یہ تو تمام برکت محمدa سے ہے۔ پس بہت برکتوں والاہے جس نے اس بندہ کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔‘‘ پہلے الہام سے توآنحضرتﷺ کا سید الانبیاء ہوناظاہر ہے اوردوسرے الہام سے آنحضرتﷺ کا استاد ہونا اور مسیح موعود کا شاگرد ہوناثابت ہے اوردرمیان میں الہام:’’اٰثرک اللہ علی کل شیئی‘‘ ہے جس سے مختار مدعیہ یہ نتیجہ نکالتاہے کہ گویا آپ نے آنحضرتﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ حالانکہ یہ نتیجہ نہ تو صرف حضرت مسیح موعود کے عقیدہ کے ہی خلاف ہے جس کا آپ نے اپنی کتب میں متعددجگہ اظہارفرمایاہے۔ بلکہ اس الہام سے پہلے اورپچھلے الہام کے بھی خلاف ہے۔

(۶) آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایاگیا

(حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)

اس الہام سے بھی مختار مدعیہ نے یہ غلط نتیجہ نکالاہے کہ گویا آپ کو آنحضرتﷺ سے افضلیت کا دعویٰ ہے۔ کیونکہ اسی قسم کے فقرات صوفیہ اوردوسروں کی کتابوں میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔ اگر ان کا مفہوم مختار مدعیہ کی طرز پر لیاجائے تو تمام صوفیاء کرام اور اولیاء کرام کو انبیاء اوراولیاء کی توہین کا مرتکب ماننا پڑے گا۔ چنانچہ ایسے ہی اقوال کو لے کر بعض صفہاء اورکم علم لوگوں نے بزرگان دین پر اعتراضات کئے ہیں۔ حالانکہ قائلین کا وہ منشاء نہ تھا جو معترضین نے اس سے پیداکیا۔ چنانچہ مولوی محمدمنظور صاحب نے اپنی کتاب ’’سیف یمانی‘‘ میں بزرگان دیوبند کے بعض ایسے فقرات کی تشریح لکھی ہے جن کی بناء پر ہندوستان اورعرب کے علماء نے ان کے مرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دیاہے۔ چنانچہ مولوی صاحب مذکور اپنی کتاب (یمانی ص۱۲۹) میںرسالہ ’’عقائد وہابیہ دیوبند یا‘‘ مؤلفہ مولوی نثار احمد صاحب کانپوری سابق مفتی آگرہ کے ایک اعترض کا جواب دینے کی غرض سے لکھتے ہیں: ’’آپ(یعنی مفتی نثاراحمدصاحب) نے تقویۃ الایمان سے حضرت شہید مرحوم(مولانا اسماعیل شہید) کی یہ عبارت نقل کی ہے کہ: ’’ہر مخلوق بڑا ہویاچھوٹا، وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل ہے۔‘‘ اس کے بعدآپ نے اپنی طرف سے یہ منطق جاری کی ہے کہ ہربڑے چھوٹے میں جناب رسول اللہﷺ اورتمام حضرات انبیاء اولیاء کرام داخل ہیں۔ لہٰذا یہ ان تمام حضرات کی توہین ہے۔‘‘

84

یہ عبارت لکھ کر مولوی محمدمنظور صاحب تقویۃ الایمان کے جملہ کا وہ مطلب بیان کرتے ہیں جو ان کے خیال میں صحیح ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اس وقت ہمارے سامنے سلطان الاولیاء حضرت خواجہ نظام الدین کے ملفوظات مسمی بفوائد الفواد ہیں۔ اس کے (ص۱۰۱) پرہے: ’’ایمان کسے تمام نشود تاہمہ خلق نزد اوہم چناں نمانید کہ پشک شتر۔‘‘ یعنی کسی کاایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا۔ جب تک ساری مخلوق اس کے نزدیک اونٹ کی مینگنی کے برابرنہ ہو اورحضرت شہاب الدین سہروردی کی (عوارف المعارف ص۴۵) پرہے: ’’لایکمل ایمان امرأ حتی یکون الناس عندہ کالاباعر‘‘ یعنی کسی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ لوگ اس کے نزدیک مینگنیوں کی طرح نہ ہوں۔ دریافت طلب امریہ ہے کہ آپ کی وہ منطق ان دونوں عبارتوں میں بھی جاری ہوتی ہے یانہیں۔ اگر نہیں تو وجہ فرق کیاہے؟ کیا تمام مخلوق اورتمام لوگوں میں حضرت انبیاءؑ اوراولیاء کرام داخل نہیں اوراگر جاری ہوتی ہے تو کیا آسمان ولایت کے یہ دونوں آفتاب وماہتاب بھی آپ کے نزدیک ایسے ہی کافر ہیں جیسے کہ شہید مرحوم۔ ’’بیّنوا توجروا‘‘

پس باوجودیکہ شہید مرحوم کی عبارت میں ہر مخلوق اورخواجہ نظام الدین صاحب کی عبارت میں ہمہ خلق کے الفاظ موجودہیں لیکن پھر بھی علماء دیوبند تمام مخلوقات مراد نہیں لیتے۔ لیکن حضرت مسیح موعود کے الہام جس میں سب تخت یاکل یاتمام تختوں کے اترنے کا بھی ذکرنہیں بلکہ کئی تختوں کے اترنے کا ذکرہے۔ اس سے ابتدائے آفرینش سے لے کر اس وقت تک کے کل تخت مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ الہام بھی گزشتہ الہام کی طرح الہام ’’پاک محمدa مصطفی نبیوں کا سردار‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۳، خزائن ج۲۲ ص۸۶) اور الہام: ’’کل برکۃ من محمدa فتبارک من علم وتعلم‘‘ (حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹) کے درمیان (ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲)پرہے: اس کے معنی اوّل وآخر کے الہامات کے خلاف کسی طرح نہیں ہوسکتے۔ اس سے مراد اولیاء امت محمدیہ کے تخت ہیں اورآپ کا درجہ ان سب سے بلندہے۔ کیونکہ آپ خاتم الاولیاء ہیں۔ جیسے کہ آنحضرتﷺ کا مقام اوررتبہ سب انبیاء سے بلند ترہے۔ کیونکہ آپ خاتم النّبیین ہیں۔ بے شک آپ کو نبی کا خطاب دیاگیاہے لیکن یہ مستقبل نبو ت نہیں۔ بلکہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے یہ مرتبہ آپ کو نصیب ہواہے۔ اس لئے ان تختوں سے مراد وہی تخت ہیں جو آنحضرتﷺ کی اتباع میں کاملین امت محمدیہ کو ملے۔ پس انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ جیسے انہوں نے اپنے بزرگوں کے اقوال سے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے توجیہات کیں، ایسے ہی انہیں چاہئے تھاکہ فریقین مخالف کے بزرگوں کے کلام پر اعتراض کرنے کے بجائے توجیہات کو قبول کرتے۔ جوان کی ان توجیہات سے جو انہوں نے اپنے بزرگوں کے کلام سے اعتراض دور کرنے کے لئے کیں، بہت ظاہر اورواضح تھیں۔ اس طرح پیران پیر کاایک یہ ارشاد بھی موجودہے: ’’قدمی ھٰذہٖ علی رقبۃ کل ولی‘‘ (مقامات امام ربانی ص۱۰۴) کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردنوں پرہے۔ چنانچہ اس کے متعلق مولوی رشیداحمدگنگوہی سے کسی نے استفسار کیاکہ: ’’پیران پیرصاحب کاقدم سب پیروں کی گردن پرہے۔ اس کی کوئی اصلیت، طریقت وتصوف میں بھی ہے یانہیں۔‘‘ مولوی صاحب نے یہ جواب دیا کہ پیران پیرکاقدم ہونا سب کی گردن پر۔ اس سے مراد ان کی بزرگی اوربڑائی ہے۔ اس میں کیاحرج ہے جوان سے بڑے ہیں۔ ان کا قدم حضرت پیران پیرکی گردن پرہے۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل ص۷۷، مطبوعہ جید برقی پریس دہلی)

حضرت سید عبدالقادر کے قول میں توکسی کا استثناء نہیں تھا۔ لیکن مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی کے جواب سے ظاہر ہے کہ جس عبارت میں بظاہر کوئی استثناء نہ بھی ہوتوبھی قائل کے حالات اوراس کے گروہ کے دوسرے افراد کو مدنظررکھ کر استثناء ہوسکتاہے۔

85

(۷)ٰتانی مالم یؤت احداً من العالمین

(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

مختارمدعیہ نے اس الہام سے بھی وہی نتیجہ نکالاہے جو نمبر۵،۶ سے نکالا کہ اس میں حضرت مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اللہتعالیٰ نے مجھے وہ چیز دی ہے جو گزشتہ اورموجودہ زمانوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ اس میں صریح توہین نبی کریمa کی ہے۔ مختارمدعیہ کا اس الہام سے یہ نتیجہ نکالنا بالکل ایساہی ہے جیسے کوئی آیت: ’’انی فضلتکم علی العالمین‘‘ اورآیت: ’’واٰتاکم مالم یؤت احداً من العالمین‘‘ سے یہ نتیجہ نکالے کہ بنی اسرائیل کو گزشتہ اورموجودہ تمام اقوام اورانبیاء پر فضیلت ہے۔ ان کو وہ کچھ عطاء ہواجو غیراسرائیلی انبیاء کو نصیب نہیںہوا۔ لیکن جیسے ان آیات سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے۔ ویسے ہی مختار مدعیہ کا حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالا الہام سے توہین انبیاء یا توہین آنحضرتﷺ کا نتیجہ نکالنا غلط اورباطل۔ مختارمدعیہ نے یہ الہام حقیقت الوحی سے پیش کیاہے اور حقیقت الوحی میں حضرت مسیح موعود نے اس کا ترجمہ کیاہے: ’’اورمجھ کو وہ چیزدی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)

حضرت مسیح موعود توالعالمین سے اس زمانہ کے لوگ مراد لیتے ہیں اورمختارمدعیہ باوجود اس تشریح کے خلاف منشاء ملہم یہ ظاہر کرناچاہتاہے کہ اس سے گزشتہ اورموجودہ زمانہ کے تمام لوگ مراد ہیں۔‘‘

(۸) علم میں مقابلہ

مختارمدعیہ نے ایک یہ بھی الزام قائم کیاہے کہ حضرت مرزا صاحب نے (ازالہ اوہام ص۶۹۰تا۶۹۲، خزائن ج۳ ص۴۸۲،۴۸۳) میں لکھاہے کہ دجال اورخردجال وغیرہ کے متعلق جو پیش گوئیاں ہیں وہ آپa پرپورے طور پر منکشف نہیں ہوئیں۔ پس جس نے یہ کہا کہ آنحضور پر منکشف نہ ہوئیں اور مجھ پر ہوئیں تو ایسے شخص کا آنحضرت پرایمان کیسا؟ جو یہ دعویٰ کرتاہے کہ مجھے آنحضرتﷺ سے زیادہ علم دیاگیاہے۔

یہ بھی مختارمدعیہ کا ایک صریح مغالطہ ہے جس حوالہ کی بناء پر اس نے یہ اعتراض کیاہے۔ اس میں تفاضل علمی کا کہیں ذکرنہیں اورنہ اس قضیہ میں علمی فضیلت کا سوال ہی اٹھ سکتاہے۔ حضرت مسیح موعود نے جو لکھاہے، وہ احادیث کے بالکل مطابق ہے اور ائمہ اسلام کا بھی وہ مذہب ہے۔ عقائد کی کتب میں لکھاہے: ’’ان النبیa قد یجتھد فیکون خطا کماذکرہٗ الاصولیون وکان النبیa یشاورالصحابۃ فیمالم یوح الیہ وھم یراجعونہ فی ذالک… وفی الحدیث ماحدثتکم عن اللہ سبحانہ فھوحق وماقلت فیہ من قبل نفسی فانما انا بشرٌ اخطی واصیب‘‘ (نبراس ص۳۹۲) کہ آنحضرتﷺ کبھی کبھی اجتہاد بھی کرتے تھے اوروہ کبھی خطا ہوجاتاتھا۔ جیسا کہ اصولیوں نے لکھاہے اوران امور میں ان کے متعلق آپ پروحی نازل نہ ہوئی ہو۔ آپ صحابہ سے مشورہ لے لیاکرتے تھے۔ حدیث میں ہے۔ آپ نے فرمایاکہ جوبات میں اللہتعالیٰ کی طرف سے کہوں وہ تودرست ہوتی ہے۔ یعنی اس میں غلطی کا احتمال نہیں۔ہاں! جوبات میں اس وحی الٰہی کی تشریح میں اپنی طرف سے کہوں تو میں انسان ہوں۔ اجتہاد میں غلطی بھی ہوتی ہے اور شرح (فتوح الغیب ص۳۱۴) میں شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں:’’انبیاء رااجتہادات مے باشندوگاہے خطاء نیز مے افتد‘‘ اورعلامہ محمدقاسم صاحب نانوتوی بھی انبیاء سے اجتہادی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’حضرت دائودm سے جو بالاتفاق نبی ہیں اورمعصوم ہیں۔ اجتہاد میں غلطی ہوئی۔(ہدیۃ الشیعہ ص۲۴۸)

86

جو باتیں آئندہ زمانے سے تعلق رکھتی ہوں ضروری نہیں کہ اللہتعالیٰ انبیاء پرموبمو ان کاانکشاف کردے۔ بلکہ ایسی پیش گوئیوں میں اکثر ابہام ہوتاہے اور اس کی اصل حقیقت اوراصل مراد اس وقت ظاہرہوتی ہے جب کہ اس کا وقوع ہو۔ چنانچہ احادیث میں اس کی بکثرت مثالیں موجودہیں جن کا ذکرحضرت مسیح موعود نے (ازالہ اوہام ص۶۸۸، خزائن ج۳ ص۴۷۱) میں کیا ہے جنہیں مختصراً عرض کرتاہوں۔ فرماتے ہیں: ’’انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہووخطاء ہے۔ مثلاً: اس خواب کی بناء پرجس کا قرآن کریم میں ذکرہے جوبعض مومنوں کے لئے موجب ابتلاء کا ہوئی تھی۔ آنحضرتﷺ نے اس امید پر کہ اب کے سفر میں طواف میسر آجائے گا۔ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور کئی دن تک منزل درمنزل طے کر کے اس بلاد مبارکہ تک پہنچے۔ مگرکفار نے طواف خانہ کعبہ سے روک دیا اور اس وقت اس رویاء کی تعبیر ظہور میں نہ آئی اور رسول کریمa کی خواب وحی میں داخل ہے۔‘‘ پس اس کے معنی سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ اسی طرح جب آنحضرتﷺ کی بیویوں نے آپ کے روبروہاتھ ناپنے شروع کئے تھے تو آپ کو اس غلطی پر متنبہ نہیں کیاگیا۔ یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئے اور بظاہر معلوم ہوتاہے کہ آپ کی یہی رائے تھی کہ درحقیقت جس بیوی کے لمبے ہاتھ ہیں، وہی سب سے پہلے فوت ہوگی۔ اس وجہ سے باوجودیکہ آپ کے روبروہاتھ ناپے گئے۔ مگرآپ نے منع نہ فرمایا کہ یہ حرکت خلاف منشاء پیش گوئی ہے۔ جیسا کہ (فتح الباری ج۳ ص۳۲۹) میں ایک روایت ہے: ’’فلم ینکرعلیھن‘‘

اسی طرح ابن صیاد کی نسبت صاف طور وحی نہیں کھلی تھی اورآنحضرتﷺ کا اوّل اوّل یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ (چنانچہ حدیث میں آتاہے: ’’عن نافع کان ابن عمر یقول واللہ ما اشک ان مسیح الدجال ابن صیاد‘‘ (ابودائود، مشکوٰۃ) یعنی حضرت ابن عمرخداکی قسم کھا کر کہتے تھے کہ مجھے ابن صیاد کے دجال ہونے میں ذرا شک نہیں اور بخاری اور مسلم میں محمدبن المنکدر سے روایت ہے کہ میں نے جابربن عبداللہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے سنا کہ ابن صیاد ہی الدجال ہے تو میں نے کہا کہ تم قسم کھاتے ہوتوانہوں نے جواب دیا: ’’انی سمعت عمریحلف علٰی ذالک عند النبیa فلم ینکرہ النبیa‘‘ کہ میں نے عمر کو اس بات پر آنحضرتﷺ کے سامنے قسم کھاتے ہوئے سنا اور نبی کریمa نے اس کا انکار نہیں کیا اورنہ ہی یہ فرمایا کہ اے عمر تم غلط کہہ رہے رہو اورمظاہر الحق ترجمۃ مشکوٰۃالمصابیح میں علامہ قطب الدین فرماتے ہیں: ’’حال اس(ابن صیاد) کامبہم ہے اورآنحضرتﷺ پر بھی اس بات میں وحی نہیں اتری۔‘‘ اورایساہی نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں: ’’حلف عمر نزد رسول خداa وغایت مبنی برظن اوست سکوت آنحضرتﷺ بجہت آں بود کہ وی دراں وقت متردد بود۔‘‘ (حجج الکرامہ ص۴۱۷)

۴… ایسا ہی سورۃ روم کی پیش گوئی کے متعلق جوحضرت ابوبکرصدیقq نے شرط لگائی تھی۔ آنحضرتﷺ نے صاف فرمایاکہ ’’بضع‘‘ کالفظ لغت عرب میں نوبرس تک اطلاق پاتاہے اور میں بخوبی مطلع نہیں کیاگیاکہ نوبرس کی حد کے اندر کس سال تک یہ پیش گوئی پوری ہوگی۔

۵… ایساہی وہ حدیث جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’فذھب وھلی الٰی انھا الیمامۃ اوھجر فاذاھی المدینۃ یثرب‘‘ صاف ظاہر کررہی ہے کہ جو کچھ آنحضرتﷺ نے اپنی اجتہاد سے پیش گوئی کا محل ومصداق سمجھاتھا وہ غلط نکلا۔چنانچہ مولوی محمدحسین بٹالوی (اشاعت السنہ جلدنمبر۱۰ ص۲۹۶،۲۹۷) پرمذکورہ بالاحدیث نقل کرتے ہیں: ’’عن عائشۃ ان النبیa قال لھا اریتک فی المنام فی سرفۃ من حریر وبقول ھذہ امرأتک فاکشف عنھا فاذا ھی انت فاقول ان یک ھذا من عند اللہ یمضہ

87

(بخاری ص۵۵۱)‘‘ یعنی حضرت عائشہ صدیقہt کی صورت قبل از نکاح مشاہدہ کرائی گئی اورکہاگیا کہ یہ تیری زوجہ ہوگی۔ آنحضرت کو (باوجودیکہ اصل الہام میں شک نہ تھا اور انبیاء کا الہام منامی ہی کیوں نہ ہو ہمیشہ یقینی ہواکرتاہے) اس الہام کی تعبیر ومراد سمجھنے میں اشتباہ واقع ہوگیا اور آپ نے فرمایا کہ اگر یہ خدا کی طرف سے ہو۔ (یعنی بظاہر معنی کے اس صورت سے عائشہ صدیقہ ہی مراد ہے) تو خدا اس کو سچا کرے گا۔

جب ان دونوں الہاموں کے(جو متعلق بہ تبلیغ وتکلیف نہیں) معنی سمجھنے میں ’’سیدالملہمین وخاتم المرسلین وخاتم النّبیین‘‘ کو شک واشتباہ واقع ہوا اور الہام دوئم کے معنی سمجھنے میںتو آپ کا خیال واقع کے بھی خلاف نکلا۔‘‘ اس قسم کی مثالیں پیش کر کے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’ان تمام باتوں سے یقینی طور پر یہ اصول قائم ہوتاہے کہ پیش گوئیوں کی تاویل اورتعبیر میں انبیاءؑ کبھی غلطی بھی کھاتے ہیں۔ لیکن اموردینیہ ایمانیہ میں اس خطاء کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ ان کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتاہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ غلطی کا احتمال صرف ایسی پیش گوئیوں میں ہوتاہے جن کو اللہتعالیٰ اپنی کسی خاص مصلحت کی وجہ سے مبہم اورمجمل رکھنا چاہتاہے اور مسائل دینیہ سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک نہایت دقیق رازہے جس کے یاد رکھنے سے معرفت صحیحہ مرتبہ نبوت کی حاصل ہوتی ہے۔ اس بناپر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگرآنحضرتﷺ پر ابن مریم اوردجال کی حقیقت کا ملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے سترباع کے گدھے کی اصل حقیقت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہواورنہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی۔ صرف امثلہ قریبہ اورصورت متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے، اجمالی طور پرسمجھاگیاہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقت ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہوجائیں تو شان نبوت میں کچھ جائے حرف نہیں۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۹۰تا۶۹۲، خزائن ج۳ ص۴۷۲، ۴۷۳)

چونکہ بعض پیش گوئیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی کیفیت وقوع کا پتہ واقع ہونے پرلگتاہے۔ پس حضرت مسیح موعود کا یہ تحریرفرمانا کہ اگر آنحضرتﷺپردجال اورخردجال وغیرہ کی حقیقت موبمومنکشف نہ ہوئی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اب اگر حضرت مسیح موعود پر ان کشوف کی حقیقت ان پیش گوئیوں کے مصداق کے ظہور کے بعد ظاہرہوگئی تو اس سے حضرت اقدس کے علم کا آنحضرتﷺ کے علم سے زیادہ ہونا ہرگز لازم نہیں آتا۔ کیونکہ اگریہی چیزیں آنحضرتﷺ کے وقت ظہور پذیرہوجاتیں تو سب سے پہلے آپ ہی پر ان کشوف کی حقیقت منکشف ہوتی۔ ہاں! جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قوی ممکن ہے۔ آپ کو سمجھایاگیاہوتو کچھ تعجب کی بات نہیں اورآپ جس قدر اپنی فراست سے غیب محض کو سمجھ سکتے تھے اتنا اورکوئی نہیں سمجھ سکتاتھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’ہمارے رسول اللہﷺ کی فراست اور فہم تمام امت کی مجموعی فراست اورفہم سے زیادہ ہے۔ بلکہ ہمارے بھائی اگر جلدی سے جوش میں نہ آجائیں تو میرا یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کرسکتاہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اورفہم آپ کی فراست اور فہم کے برابر نہیں۔ مگر پھر بھی بعض پیش گوئیوں کی نسبت آنحضرتﷺ نے خود اقرارکیاہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۰۰، خزائن ج۳ ص۳۰۷)

پس اگر پیش گوئیوں کو سمجھنے میں قبل از وقوع کسی شخص کو غلطی واقع ہو اور اس پر بعد از وقوع اس کی اصل کیفیت وقوع کا انکشاف تام نہ ہو لیکن اس کی وفات کے بعد کسی پر حقیقت منکشف ہو جائے تو جس پر حقیقت منکشف ہوتی ہو، اس کے متعلق یہ نہیں کہاجائے گا کہ وہ اس

88

شخص سے جس پرقبل از وقوع حقیقت منکشف نہیں ہوئی تھی، علم میں زیادہ ہے۔ کیونکہ اگر پیش گوئی کرنے والا شخص بھی اگر وقوع کے وقت زندہ ہوتا تو اس سے پہلے ہی سمجھ لیتا۔ تعجب کی بات ہے کہ یہ اعتراض ان اشخاص نے کیاہے جن کے مقتداء اور پیشواء آنحضرتﷺ کے متعلق یہ لکھ چکے ہیں۔ پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیاجانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضورکی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زیدوعمرو بلکہ ہرصبی مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتاہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے۔‘‘ (حفظ الایمان ص۷ مؤلفہ اشرف علی تھانوی) بتائو یہ کہنا صریح گالی نہیں؟کیا نبی کریمa کو صرف اتنا ہی علم غیب دیاگیاہے جتنا کہ ہرپاگل اورچوپائے کو حاصل ہے؟ اور لکھتے ہیں : ’’شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی۔ فخر عالم کی وسعت علم کی کون سے نص قطعی ہے۔ (براہین قاطعہ مؤلفہ خلیل احمد انبیٹھوی مصدقہ مولوی رشیداحمد گنگوہی ص۵۱) اس میں ابلیس لعین کا مقابلہ آنحضرتﷺ سے کر کے شیطان ملعون کا علم آنحضرتﷺ کے علم سے زیادہ بتلایاہے۔ کیا اس میں آنحضرتﷺ کی توہین نہیں ہے اور یہ عبارت سوء ادبی کی مشعرنہیں ہے۔

(۹) انا فتحنالک فتحاًمبینا

مختارمدعیہ نے (خطبہ الہامیہ ص۱۹۳، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸) کی مندرجہ ذیل عبارت پیش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریمa کے زمانہ میں گزرگیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اورزیادہ ظاہرہے اورمقدرتھا کہ اس وقت مسیح موعود کا وقت ہو۔ ’’اس کی طرف خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے:’’سبحٰن الذی اسریٰ… الخ! (الآیۃ)‘‘

اور اس نے اس عبارت سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ نعوذباللہ! حضرت مسیح موعود نے آنحضرتﷺ کی فتح مبین کو ااستخفاف کی نظر سے دیکھاہے اوراپنی فتح کو بتایاہے۔ حالانکہ یہ نتیجہ نکالنا سراسر باطل اورخلاف منشاء متکلم ہے۔

جس فتح مبین کی طرف آپ نے مذکورہ بالا عبارت میں اشارہ فرمایاہے اس کے متعلق آنحضرتﷺنے خبردی تھی اور بزرگان امت محمدیہ بھی یہی مانتے چلے آتے ہیں اورخود مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی کے زمانہ میں اسلام کو دوسرے مذاہب پر ایسی فتح اور غلبہ حاصل ہوگا جو پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوابلکہ ان کا تو یہ بھی عقیدہ ہے کہ مسیح اورمہدی دیگرمذاہب والوں سے سوائے اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے اور جو مسلمان نہیں ہوگا اسے تلوار کے گھاٹ اتاریں گے اوردنیا میں سوائے مذہب اسلام کے اور کوئی مذہب نہ ہوگا، اگرچہ ہمارے نزدیک دین کے مقابلہ میں جبرکرنا مذہب اسلام کی رو سے جائز نہیں ہے۔ لیکن اتنا ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام دلائل قاہرہ اور حجج باہرہ کی رو سے تمام ادیان پر غالب آئے گا اورجن ممالک میں اسلام کی تبلیغ واشاعت نہ ہوتی تھی، وہاں بھی شمس اسلامی طلوع کرے گا۔ ظلمات میں زندگی بسر کرنے والوں کو بھی اپنی شعاعوں سے نورانی بنائے گا۔ حتیٰ کہ آہستہ آہستہ کرۂ معمور کے لوگ اسلام کو اختیار کریں گے اور دنیا میں دیگر مذاہب کے پیرو اتنی قلیل تعداد میںرہ جائیں گے کہ وہ معدوم کے حکم میں ہوں گے۔ چنانچہ مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ کے مسلم مقتداء مولوی محمداسماعیل صاحب شہید اپنی کتاب (منصب امامت ص۵۶)میں لکھتے ہیں: ’’قال اللہ تعالٰی ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (الحجرات:۲۸)‘‘ ظاہر است کہ ابتدائے ظہور دین درزمان پیغمبرa بوقوع آمدہ واتمام آں ازدست حضرت مہدی واقع خواہد گردید۔‘‘

89

اورفرماتے ہیں کہ:’’قل یٰآیھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف:۱۵۸)‘‘ ظاہر است کہ تبلیغ رسالت بہ نسبت جمیع ناس از آنجناب متحقق نگشتہ بلکہ امر دعوت از آنجناب شروع گرویدہ یوماً فیوماً بواسطہ خلفاء راشدین وائمہ مہدیین روبتزائد کشیدتااینکہ بواسطہ امام مہدی اتمام خواہد رسید۔‘‘

کیا یہاں بھی مختار مدعیہ مولانا شہید کے متعلق وہی فتویٰ دے گا کہ انہوں نے نعوذباللہ! آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ظہور دین کی ابتداء توآنحضرتﷺ کی طرف منسوب کی۔ لیکن کامل غلبہ اوراتمام ظہور دین مہدی کی طرف منسوب کیا اور اسی طرح کہا کہ آنحضرتﷺ سے آیت: ’’قل یٰآیھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً‘‘ کے حکم کے مطابق تمام لوگوں تک تبلیغ رسالت متحقق نہیں ہوئی۔ بلکہ تبلیغ رسالت بھی مہدی کے ذریعہ سے پوری ہوگی۔ جس کے کھلے ہوئے معنی یہ ہیں کہ اسلام کی اشاعت اورغلبہ کی حالت شروع میں ہلال کی مانند تھی۔ پھر خلفاء کے ذریعے سے ترقی پکڑتی گئی۔ یہاں تک کہ مہدی موعود کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ جائے گی اور بدر کی حالت کے مشابہ ہوگی۔ اگر مختارمدعیہ یہ سمجھ لیتا کہ نبی کے اتباع کے ذریعے جو فتوحات اوردین کو ترقیات حاصل ہوتی ہیں وہ دراصل اسی نبی کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور اس میں اس نبی کی توہین نہیں، بلکہ تکریم اوراعزاز ہوتاہے تو وہ یہ اعتراض نہ کرتا۔ بلکہ سمجھتا کہ آنحضرتﷺ کے ایک امتی کے ہاتھ پر فتوحات کا حاصل ہونا آنحضرت ہی کی فتح ہے۔ کیونکہ آنحضرت کے وقت میں جو فتح حاصل ہوتی وہ بھی اسلام کی فتح تھی۔ مسیح موعود کے زمانہ میں جو فتح مقدرہے وہ بھی اسلام ہی کی فتح ہے جوآنحضرتﷺ کا دین ہے۔ پس آپ کے دین کی فتح آپ کی ہی فتح ہے جو آپ کے ایک روحانی فرزند کے ہاتھ پرہوگی۔ اس میں آپ کی توہین نہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اس عبارت کے آگے (ص۲۰۰) پرفرماتے ہیں: ’’اور چونکہ مسیح موعودنبی کریم کے وجود کا آئینہ اوربرکات کی اشاعت اورتمام دینوں پر اسلام کے غلبہ سے آنجناب کے امر کاتمام کرنے والاتھا۔ لہٰذا نبی کریم نے اس کی کوشش کو پسندکیا۔ جیسا کہ باپ بیٹوں کی کوشش کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وصیت فرمائی کہ آنجناب کا سلام اس کو پہنچایاجائے اور اس سلام سے یہ اشارہ ہے کہ سلامتی اوربلندی مسیح کے شامل حال ہوگی۔‘‘

مختارمدعیہ ان فتوحات کو جو آنحضرتﷺ کے بعدآپ کے خلفاء کے ذریعہ حاصل ہیں۔ تسلیم کرتاہے اوراس سے آنحضرت کی کوئی ہتک نہیں سمجھتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود کے زمانہ کی فتوحات سے وہ آنحضرتﷺ کی ہتک نکالناچاہتاہے اور اس کا سبب تعصب کے سواء اورکچھ نہیں۔

آنحضرتﷺ کی خصوصیات

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل دس الہامات کا ذکرکیاہے۔

۱… ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘(براہین احمدیہ ص۲۳۹، خزائن ج۱ ص۲۶۵ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱)

۲… ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۷، خزائن ج۱ ص۶۱۷ حاشیہ درحاشیہ)

۳… ’’عسٰی ان یبعثک ربک مقامامحمودا‘‘(آسمانی فیصلہ ص۱۹، خزائن ج۴ ص۳۴۲)

90

۴… ’’ماارسلناک الارحمۃ للعٰلمین‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۶، خزائن ج۱ ص۶۰۳)

۵… ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

۶… ’’مارمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمیٰ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۸، خزائن ج۱ ص۲۶۵حاشیہ درحاشیہ نمبر۱)

۷… ’’ماینطق عن الھوٰی ان ھو الاوحی یوحٰی‘‘ (تذکرہ طبع چہارم ص۳۷۸)

۸… ’’ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیھم‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۴، خزائن ج۱ ص۶۱۳ حاشیہ در حاشیہ)

۹… ’’سبحان الذٓی اسریٰ بعدہٖ لیلا‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۵ حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

۱۰… ’’لولاک لماخلقت الافلاک‘‘ (تذکرہ طبع چہارم ص۶۱۲)

ان الہامات کے متعلق مختارمدعیہ نے یہ اعتراض کیاہے کہ ان میں جن مقامات اورمراتب کا ذکرہے وہ آنحضرتﷺ کی خصوصیات ہیں۔ جو ان خصوصیات کا انکار کرے، اس کا آنحضرتﷺ پر ایمان کیا؟ وہ اگر ہزار مرتبہ بھی ’’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کہے تو قابل قبول نہیں۔

سو ان تمام امور کا جواب گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے بیان میں مفصل مذکورہے۔ اس میں ائمہ اوراکابرین، اولیاء، امت محمدیہ کے اقوال سے ثابت کیاگیاہے کہ اگر کسی پر ان آیات کا القاء ہو جن میں خاص آنحضرتﷺ کو خطاب کیاگیاہے تو بطریق اعتباریہ مطلب نکالاجائے گا۔ اگر وہ مرتبہ یا مقام بطریق وراثت جس لائق کہ ملہم ہے،’’علی حسب المنزلت‘‘ اس کو نصیب ہوگا اور اس امرونہی وغیرہ میں وہ آنحضرتﷺ کے حال میں شریک سمجھاجائے گا۔ اس لئے ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

ان صفحات میں اس امر کی تائید میں کہ مقام محمود وغیرہ مراتب میں اولیاء اللہ کوحصہ ہے اور اولیاء امت بھی بطریق وراثت ان میں آپ کے شریک ہوسکتے ہیں۔ ایک حوالہ مولاناعبدالعلی صاحب بحرالعلوم کا اور ایک شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کا اور ایک شیخ عبدالرزاق صاحب قاشانی کا اورایک سید عبدالقادرجیلانی اور ایک خواجہ معین الدین چشتی کا پیش کیاہے اور آیات قرآن کریم کے الہام ہونے کے جواز پر ایک حوالہ ’’اثبات الہام والبیعۃ‘‘ کتا ب کا جومولوی عبدالجبار صاحب غزنوی کی تصنیف ہے اور ایک حوالہ فتوح الغیب کا اورایک مقامات امام ربانی مجدد الف ثانی کا ایک علم الکتاب کا دیا ہے جن کے جواب میں ۱۱؍اکتوبرکی بحث میں مختارمدعیہ نے یہ کہاہے کہ اولیاء اللہ نے یہ نہیں کہاکہ ہم پر آیات نازل ہوئیں۔ صرف ایک حوالہ علم الکتاب کا ہی پیش کیاتھا کہ ان پر آیات اتری ہیں اورمصنف کتاب خود اقراری ہے کہ یہ اقتباس ہیں نہ کہ الہام۔ گواہ نمبر۱مدعاعلیہ نے بجواب جرح ۱۱؍مارچ یہ تسلیم کیاہے کہ اقتباس کسی کے کلام کو اپنے کلام میں لانے کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ مختارمدعیہ کو قرآن مجید کی آیات سے دلچسپی نہیں ہے۔ ورنہ وہ یہ کہنے کی جرأت نہ کرتا کہ علم الکتاب کے حوالے کے سوا آیات قرآنی کے نزول کا کوئی حوالہ پیش نہیں کیاگیا۔ کیونکہ فتوح الغیب کے حوالہ میں جوجملہ (انک الیوم لدینا مکین امین) ہے اور مقامات امام ربانی کے حوا لہ میں ’’انا نبشرک بغلام ن اسمہ‘‘ اور اثبات الالہام والبیعۃ (ص۱۴۲،۱۴۳) کے حوالہ میں جوعربی کلام درج ہے: وہ آیات قرآنی ہیں جن کا اولیاء اللہ پر نازل ہونے کا جواز تسلیم کیاگیاہے اور وہ اولیاء اللہ کوالہام ہوئی ہیں اورمختارمدعیہ نے گواہ نمبر۱ مدعاعلیہ کی طرف جو اقتباس کی تعریف منسوب کی ہے۔ اس میں دیدہ دانستہ خیانت سے کام

91

لیاگیاہے۔ کیونکہ گواہ نمبر۱مدعاعلیہ نے اقتباس کا یہ مطلب ’’کسی کے کلام کو اپنی کلام میں لانا‘‘ بیان کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی کہاتھا کہ اقتباس الہام کے ذریعہ بھی ہوسکتاہے۔ جرح ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء

اس قید کے بڑھانے کی وجہ یہ تھی کہ خواجہ میردرد نے جو آیات اقتباس کی ہیں تو وہ اپنی طرف سے نہیں، بلکہ بذریعہ الہام خاص آپ کے قلب پر القاء کی گئی ہیں۔ چنانچہ علم الکتاب کی عبارت کے شروع میں یہ الفاظ ہیں: ’’وامرنی فی قلبی بالالھام الخاص‘‘ کہ خداوندتعالیٰ نے میرے دل میں الہام خاص کے ساتھ حکم کیا اور الہام خاص کی تعریف انہوں نے یہ بیان کی ہے۔

’’الہام خاص آنست کہ اوسبحانہ، بربندگان خاص درحالت قرب مع اللہیابرقلوب ایشان بے دخل فکر واندیشہ وبے توسط حواس دیگر بالقائے رحمانی مے اندازد ودرنائی نفوس ایشان کلمات بے صدائی خود میسرآید… ویابعض اوقات بوساطت ملائکہ بآوازوصوت ہم پیغام خود حق سبحانہ باولیاء خویش مے رساندد ایں را آوازسروش نیز مے خواند واحساس ایں سردش گاہ بگوش ظاہری ہم کردہ مے شود واکثر ہمہ گوش باطن مے شنود، ہرجاکہ اولیاء لفظ الہام رابحال خود بیان کردہ اند مراد از آں ہمیں الہام خاص است علم الکتاب ص۸۲‘‘ جب الہام خاص کی تعریف معلوم ہوگئی تو اب ہر انسان بخوبی سمجھ سکتاہے کہ جن آیات قرآنیہ کے متعلق خواجہ نے ’’امرنی فی قلبی بالالہام الخاص‘‘ کہاہے تو اس سے مراد یہی ہے کہ خداوندتعالیٰ نے ان آیات کو آپ کے دل میں الہام کیا ہے۔ اس عبارت کے بعض فقرات خود دلالت کر رہے ہیں کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ نے ان سے یہ باتیں کی ہیں۔ چنانچہ اسی عبارت کے بعض فقرات کا ترجمہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے پکارا اور کہا کہ اے اللہتعالیٰ کے خلیفہ اور اے خدا کی آیت میں تیری عبودیت کا شاہد ہوں تو میری الوہیت کا شاہد بن۔ بے شک تو میرا عبد اورمیرا اور میرے رسول کا مقبول ہے۔ پس جس نے تیری اطاعت کی اس نے خدااوراس کے رسول کی اطاعت کی۔ ’’الٰی آخرالمکالمۃ‘‘ اسی طرح دوسری عبارت جو(ص۶۴)سے درج کی گئی ہے۔ اس کے بھی ابتداء میں لکھاہے: ’’ وقال بالالہام الشافی‘‘ کہ خداتعالیٰ نے مجھے الہام شافی کے ذریعہ کہا کہ یہ میری کتاب لے جا اور اپنے قریبی خاندان کے لوگوں کو ڈرا۔ اس عبارت میں فرماتے ہیں:

۱… ’’وانی لااقول الاما امرنی بہ ربی‘‘ اورمیں سوائے اس کے جو میرارب مجھے حکم دیتاہے اورکچھ نہیں کہتا۔

۲… ’’ولقد القی اللہ علٰی قلبی من آیات بینات مع انی لست حافظ القرآن‘‘

اورخداوندتعالیٰ نے میرے قلب میں کھلی کھلی آیات القاء کی ہیں۔ حالانکہ میں قرآن کا حافظ نہیں ہوں۔ لفظ القاء جو اس عبارت میں استعمال کیاگیاہے، اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ الہام خاص یا از اقسام وحی نہیں۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے قرآن مجید میں وحی کے لئے بھی القاء کا لفظ استعمال کیاہے۔ جیسے فرمایا: ’’ویلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ ‘‘ کہ وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتاہے اپنے حکم سے کلام القاء کرتاہے اور یہ بات کہ خواجہ میر درد نے کہا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی کا اطلاق نہیں کیا جائے گاتو یہ ایک صوفیہ کی اصطلاح ہے۔ جیسے گواہ نمبرا نے اپنے بیان میں ذکرکردیاہے۔ چنانچہ شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی سوانح مولاناروم میں لکھتے ہیں: ’’فرق مراتب کے لحاظ سے یہ اصطلاح قرارپائی گئی ہے کہ انبیاء کی وحی کو وحی کہتے ہیں اور اولیاء کی وحی کو الہام۔‘‘ اوراس کی تفصیل مولانا محمداسماعیل صاحب شہید نے اپنی کتاب منصب امامت میں اچھی طرح کی ہے اورگواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں صفائی کے ساتھ پیش کردیا۔

92

(۱)ھوالذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہٖ

یہ قرآن مجید کی آیت ہے جس میں دین اسلامی کے دیگر ادیان پر غلبہ کی طرف اشارہ پایاجاتاہے اوریہی آیت حضرت مسیح موعود پر بذریعہ الہام نازل ہوئی، تاظاہر ہو کہ اس کامل غلبہ کا وقت آگیاہے اور اس کے سامان بھی آپ کو عطاء کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ آپ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’وہ خدا جس نے اپنے فرستادہ کو بھیجا، اس نے دوامر کے ساتھ اس کو بھیجا ہے کہ ایک تو یہ کہ اس کو نعمت ہدایت سے مشرف فرمایاہے۔ یعنی اپنی راہ کی شناخت کے لئے روحانی آنکھیں اس کو عطاء کی ہیں اورعلم لدنی سے ممتاز فرمایاہے اورکشف اورالہام سے اس کے دل کو روشن کیاہے اور اس طرح پر الٰہی معرفت اورمحبت اورعبادت کا جو اس پر حق تھا۔ اس حق کی بجاآوری کے لئے آپ اس کی تائید کی ہے اور اس لئے اس کا نام مہدی رکھا۔ دوسراامر جس کے ساتھ وہ بھیجاگیاہے وہ دین الحق کے ساتھ روحانی بیماروں کو اچھا کرناہے۔ یعنی شریعت کے صدہامشکلات اورمعضلات حل کر کے دلوں سے شہادت دورکرناہے۔ پس اس لحاظ سے اس کا نام عیسیٰ رکھا… کیونکہ جب اس کو یہ خدمت سپرد ہے کہ وہ اسلام کی خوبی اور فوقیت ہر ایک پہلوسے تمام مذاہب پر ثابت کردے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ علم محاسن وعیوب مذاہب اس کو دیاجائے اور اقامت حجج اورافحام خصم میں ایک ملکہ خارق عادت اس کو عطاء ہوااورہرایک پابند مذہب کو اس کے قبائح پرمتنبہ کرسکے اور ہر ایک پہلو سے اسلام کی خوبی ثابت کرسکے اور ہر ایک طور سے روحانی بیماروں کا علاج کر سکے۔‘‘(اربعین نمبر۲ص۹،۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۵۶)

(سراج منیر ص۳۶، خزائن ج۱۲ ص۴۲،۴۳) میں آپ اس الہام کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ ان پر ظلم ہوا اور خدا ان کی مدد کرے گا۔ یہ آیت قرآنی الہامی پیرایہ میں اس عاجز کے حق میں ہے اور رسول سے مراد مامور اور فرستادہ ہے جو دین اسلام کی تائید کے لئے ظاہرہوا۔ اس پیش گوئی کا ماحصل یہ ہے کہ خدا نے جو اس مامور کو مبعوث فرمایاہے، یہ اس لئے تاکہ اس کے ہاتھ سے دین اسلام کو تمام دینوں پرغلبہ بخشے اور ابتداء میں ضرورہے کہ اس مامور اور اس کی جماعت پرظلم ہو۔ لیکن آخر میں فتح ہوگی اور یہ دین مامور کے ذریعے سے تمام ادیان پر غالب آجائے گا اور دوسری تمام ملتیں دلائل بینہ کے ساتھ ہلاک ہوجائیں گی۔ دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان پیش گوئی ہے اور یہ وہی پیش گوئی ہے جو ابتداء سے اکثر علماء کہتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے حق میں ہے اور اس کے وقت میں پوری ہوگی اور براہین احمدیہ میں سترہ(۱۷) برس مسیح موعود کے دعویٰ سے پہلے درج ہے : ’’تاخدا ان لوگوں کو شرمندہ کرے کہ جو اس عاجز کے دعویٰ کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں۔‘‘ پس اس آیت کا حضرت مسیح موعود اور مہدی پر الہام ہونا قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت کے متعلق تفسیروں میں بھی مذکورہے کہ اس آیت کا حقیقی مصداق اوراظہار الدین علی المخالفین مسیح موعود اور مہدی معہود کے وقت میں ہوگا۔ چنانچہ مولانااسماعیل صاحب شہید منصب امامت میں فرماتے ہیں:’’قال اللہ تعالٰی ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہٖ‘‘ ظاہر است کہ ابتدائے ظہوردین درزمان پیغمبرa بوقوع آمدہ واتمام آن از دست حضرت مہدی واقع خواہد گردید۔‘‘ (منصب امامت ص۵۶)

چونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا ہے اور اس آیت میں جس غلبہ کا وعدہ دیاگیاہے اس کا کمال اوراتمام مسیح موعود اور مہدی کے زمانہ میں وقوع پذیر ہونا تھا۔ اس لئے اس آیت کا آپ پر الہاماً نازل ہوناجائے اعتراض نہیں ہوسکتا۔

93

(۲)انا اعطینٰک الکوثر

ْ مختار مدعیہ نے اس الہام کی بناء پر اعتراض کیاہے کہ حوض کوثر جس کی توصیف احادیث میں آتی ہے، جسے آنحضرتﷺ نے اپنے لئے مخصوص قراردیاہے۔ مرزا صاحب نے اپنے لئے تجویز کیا۔مختارمدعیہ کا مقصد اگر عدالت کو مغالطہ دینانہ ہوتا تو وہ ضرور ایسے اعتراضات سے اجتناب کرتا۔ کیونکہ خود مسیح موعود نے کسی جگہ بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے اللہتعالیٰ نے حوض کوثردیاہے۔ بلکہ آپ نے حقیقت الوحی (ص۲۵۹، خزائن ج۲۲ ص۲۷۱) میں کوثر مراد کثرت لی ہے اور اسی الہام کا یہ ترجمہ کیاہے: ’’ہم نے کثرت سے تجھے دیا۔‘‘

چنانچہ یہ الہام براہین احمدیہ میں بھی موجودہے۔ جب کہ آپ کو یہ مولوی مسلمان سمجھتے تھے اور خود مولوی محمدحسین بٹالوی نے براہین احمدیہ کا ریویو کرتے ہوئے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں اس اعتراض کا مندرجہ ذیل جواب دیا۔ ’’اورآیت نمبر۸ کا مخاطب قرآن میں تو وہ (مؤلف براہین احمدیہ۔ شمس) آنحضرتﷺ ہی کو سمجھتے ہیں اور کوثر سے اس آیت میں حوض کوثر میدان محشر (جس کا آنحضرتﷺ کو وعدہ دیاہے اور یہ وعدہ آنحضرت کے سواء کسی نبی کو نہیں دیاگیا۔ چہ جائے ولی) مراد خداوندی سمجھتے ہیں اور جب انہیں الفاظ سے خداتعالیٰ نے ان کو مخاطب فرمایاتو انہیں (نہ آیت قرآن میں) وہ اپنے آپ کومخاطب سمجھ کر کوثر سے وہ معارف کثیرہ (جوخدانے ان کو عطاء فرمائے ہیں) مراد خداوندی قراردیتے ہیں۔ چنانچہ (ص۵۱۷) کتاب ان الفاظ ملہمہ کا ترجمہ وہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔‘‘

’’ہم نے تجھے معارف کثیرہ عطاء فرمائے ہیں۔ اس کے شکر میں نماز پڑھ اورقربانی دے۔‘‘ اورحضرت مسیح موعود نے (انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸) میں اس الہام کا یہ ترجمہ کیاہے: ’’ہم نے تجھے بہت سے حقائق اورمعارف اوربرکات بخشے ہیں۔‘‘

(۳)عسٰی ان یبعثک ربک مقاما محمودا

مختارمدعیہ نے اس الہام سے بھی عدالت کو یہ مغالطہ دیناچاہاہے کہ گویا حضرت مسیح موعود نے اس آیت قرآنی کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرایاہے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔ مختارمدعیہ نے (دافع البلاء ص۶) کا حوالہ دیاہے اور(ص ۸، خزائن ج۱۸ ص۲۲۸) پرجو اس کا ترجمہ درج ہے، وہ دانستہ نظرانداز کیاہے جس پر درحقیقت کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا، اور وہ یہ ہے: ’’وہ وقت قریب ہے کہ میں ایسے مقام پر تجھے کھڑاکروں گا کہ دنیا تیری حمدوثناء کرے گی۔‘‘

حضرت اقدس نے اس کے یہ معنی کئے ہیں، لیکن مختارمدعیہ وگواہان مدعیہ کے مسلم پیشوا شیخ عبدالرزاق قاشانی نے تو مہدی معہود کے لئے بھی مقام محمود تجویز کیاہے۔ چنانچہ شرح فصوص الحکم میں تحریر فرماتے ہیں:’’فلہ المقام المحمود‘‘(شرح فصوص الحکم مطبوعہ مصرص۵۳) کہ مہدی کے لئے بھی مقام محمود ہے۔

اورشیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں:’’وہو المقام المحمود الذی لایشارکہ فیہ لہ، من الانبیاء والرسل الااولیاء امتہ‘‘ (ہدیہ مجددیہ ص۷۰) اورمقام محمود میں آنحضرتﷺ کا انبیاء اوررسولوں سے کوئی شریک اوروارث نہیں ہوتا۔ مگر وہ اولیاء جو کہ آپ کی امت سے ہوں۔

اس عبارت سے ظاہرہے کہ مقام محمود میں انبیاء مرسلین سابق تو آپ کے شریک نہیں ہوسکتے۔ مگر آپ کی امت کے اولیاء شریک ہیں۔ کیا مختار مدعیہ ان بزرگوں کوبھی آنحضرتﷺ کی خصوصیات کا منکرقراردے کر کلمہ کا منکر، کافر ومرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ٹھہرائے گا۔

94

(۴) وما ارسلناک الا رحمۃ للعٰلمین

اسی الہام سے بھی مختار مدعیہ نے وہی مغالطہ دینا چاہاہے جو پہلے الہاموں سے۔ گویا حضرت مرزا صاحب نے آنحضرتﷺ کی خصوصیت کو اپنی طرف منسوب کر کے کلمہ کی جزو ثانی کا انکار کردیا۔ حالانکہ یہ صریح کذب ہے۔ حضرت مسیح موعود قرآنی آیت کا مصداق آنحضرتﷺ کو ہی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ چشمہ معرفت میں فرماتے ہیں: ’’پھر دوسری جگہ فرمایا:’’وما ارسلنٰک الارحمۃ للعٰلمین‘‘ یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لئے تجھے نہیں بھیجا، بلکہ اس لئے بھیجاہے کہ تمام جہاں پر رحمت کی جائے۔ پس جیسا کہ خداتمام جہاں کا خداہے۔ ایساہی آنحضرتﷺ تمام دنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں اور آپ کی ہمدردی تمام دنیا سے ہے نہ کہ کسی خاص قوم سے۔‘‘(مضمون ملحقہ چشمہ معرفت ص۱۶، خزائن ج۲۳ ص۳۸۸)

حضرت مرزا صاحب کا دعوی مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کاہے اور پہلے علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مہدی بھی رسول کریمa کی طرح رحمۃ للعالمین ہوگا۔ چنانچہ علامہ سید محمدشریف محمد بن رسول حسینی برزنجی ثم المدنی اپنی کتاب ’’الاشاعۃ لاشراط الساعۃ‘‘ (مطبوعہ مصرص۱۶۸)میں لکھتے ہیں: ’’فالمہدی کما کان رسول اللہﷺ قال اللہ تعالٰی وما ارسلناک الارحمۃ للعالمین، والمہدی یقفوا ثرہ ولایخطیٔ فلابد ان یکون رحمۃ‘‘ یعنی مہدی خداتعالیٰ کی رحمت ہے۔ جیسا کہ رسول کریمa خدا کی رحمت تھے اوراللہتعالیٰ نے فرمایاہے: ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجاہے اور مہدی آنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلے گا اور خطاء نہیں کرے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ بھی رحمت ہو۔

اورمولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے توجو مختارمدعیہ اورگواہان مدعیہ کے مسلم مقتداء اور پیشوا ہیں۔ علماء اسلام کو بھی رحمۃ للعالمین میں شریک سمجھاہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہﷺ کی نہیں ہے بلکہ دیگر اولیاء وانبیاء ودیگر علماء ربانیین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں۔ اگرچہ جناب رسول اللہﷺ سب میں اعلیٰ ہیں۔ لہٰذا اگر دوسرے کے لئے اس لفظ کو بتاویل بول دے تو جائز ہے۔ فقط بندہ رشیداحمد!‘‘ (فتاوی رشیدیہ حصہ دوئم ص۱۲)

اب کیا مختار مدعیہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے حق میں جو ان کا مقتداء ہے اور خاتم الاکابراورخاتم المحدثین ہے (دیکھو مرثیہ شیخ الہند محمود حسن بروفات مولوی رشید احمد صاحب) کافر اور مرتد اورکلمہ کی جزء ثانی کے منکر ہونے کا فتویٰ دے گا۔ کیونکہ مختارمدعیہ جس بات کو آنحضرتﷺ کی صفت خاصہ بتاتاہے اس کے سب سے بڑے مقتداء نے اس کے متعلق صاف الفاظ میں کہہ دیاہے کہ لفظ رحمت للعالمین صفت خاصہ رسو ل اللہﷺ کی نہیں ہے۔ افسوس کہ مختارمدعیہ کو اپنے گھر کا بھی پتہ نہیں ہے۔

پس حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالا الہام سے آنحضرتﷺ کی توہین لازم نہیں آتی اور نہ آپ کی وہ خصوصیت جو قرآنی آیت میں مذکورہے، زائل ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود اس الہام کے مصداق آنحضرتﷺ کی اتباع اورپیروی کی برکت سے ہوئے ہیں اور جولوگ خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے جاتے ہیں وہ بلاریب حسب مراتب رحمۃ للعالمین ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے آپ نے اس الہام کا یہ ترجمہ کیاہے: ’’اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجاہے۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳) اور دوسرا ترجمہ یہ کیاہے: ’’میں نے تجھے اس لئے بھیجاہے تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔‘‘ (البشریٰ ج۱ ص۳۰)

95

(۵)قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ

مختارمدعیہ کے اس الہام پر اعتراض کا بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید میں اس آیت میں آنحضرتﷺ ہی مراد ہیں۔ لیکن اس الہام میںموجودہ زمانہ کے لوگوں کو خطاب ہے کہ وہ آپ کی پیروی کریں۔ کیونکہ آپ آنحضرتﷺ کی پیروہوکر محبوبیت کے درجہ تک پہنچے ہیں۔ اس لئے آپ کی پیروی آنحضرتﷺ کی پیروی ہے۔ جیسا کہ خواجہ میردرد نے (علم الکتاب ص۶۱) میں لکھاہے کہ اللہتعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:’’فمن اطاعک فقد اطاع اللہ والرسول‘‘ کہ جس نے تیری اطاعت کی اس نے خدا اور رسول کی اطاعت کی اورمولوی محمدحسین بٹالوی اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃمیں اس الہام کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ اس آیت کے معنی ’’قرآن میں وہ (مؤلف براہین) یہی سمجھتے ہیں کہ یہ آیت آنحضرتﷺ کے خطاب میں ہے اور اس میں آنحضرتﷺ کا اتباع امت پر لازم کیاگیاہے اورجب ان ہی الفاظ سے خدا نے ان کو ملہم، مخاطب کیاتو ان الفاظ میں(نہ قرآن میں) وہ اپنے آپ کو مخاطب سمجھتے ہیں اور اپنے اتباع سے اتباع آنحضرتﷺ مراد قراردیتے ہیں۔ چنانچہ (ص ۵۰۴)کتاب ان الفاظ کا ترجمہ ان الفاظ سے فرماتے ہیں کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، یعنی اتباع رسول مقبول کرو تاکہ خدا تم سے بھی محبت کرے۔(اشاعۃ السنۃ ج۷ ص۱۲۹)

پس اصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے فرمان:

  1. یک قدم دوری ازاں غالی جناب

    نزد ما کفر است و خسران و تباب

کے مطابق آنحضرتﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ اس لئے آپ کی پیروی عین نبی کریمa کی پیروی ہے۔ چنانچہ فرمایاہے کہ: ’’مؤلف کو محض یہ برکت متابعت حضرت خیر البشر وافضل الرسل یہ منصب عطاء ہواہے۔‘‘(اشاعۃ السنۃ۷ ج۷ حاشیہ ص۲۲۰)

نیز فرماتے ہیں: ’’سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایاہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اورخدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لئے اس نعمت کا پاناممکن نہ تھا، اگر میں اپنے سیدومولا فخر الانبیاء اورخیرالوریٰ حضرت محمدمصطفیﷺ کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو میں نے جو کچھ پایااس پیروی سے پایا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۶۲، خزائن ج۲۲ ص۶۴) اور اس الہام میں مولویوں کی تکفیر کا رد بھی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود (نشان آسمانی ص۳۵، خزائن ج۴ ص۳۹۹) میں اس الہام کو ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’اور ایک طرف مولوی لوگ فتویٰ پرفتویٰ لکھ رہے ہیں کہ اس شخص کی ہم عقیدگی اورپیروی سے انسان کافرہوجاتاہے اور ایک طرف خداتعالیٰ اپنے اس الہام پر متواتر زور دے رہاہے۔‘‘ یعنی مخالفین کو اس الہام میں جواب دیاگیاہے کہ یہ آنحضرتﷺ کا عاشق صادق اور اس کا شیدائی ہے۔ اس لئے اس کی پیروی اور اس کی تقلید انسان کوخدا کا محبوب بنادیتی ہے۔

(۶) مارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمٰی

مختارمدعیہ نے اس الہام پرجو اعتراض کیاہے اس کا بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید میں یہ آیت آنحضرتﷺ کے ہی حق میں ہے اور جس واقعہ کی طرف آیت قرآنی میں اشارہ ہے، اس الہام میں اس واقعہ کی طرف ہی اشارہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود قرآنی آیت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ہمارے سیدومولیٰ سیدالرسل حضرت خاتم الانبیاءa نے جنگ بدر میں ایک سنگ ریزوں کی مٹھی کفار پرچلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی۔ مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسانہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچاہو، اور وہ سب اندھوں کی طرح ہوگئے اور

96

ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیداہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔ اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتاہے:’’ومارمیت اذرمیت ولٰکن اللہ رمٰی‘‘ یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تونے نہیں پھینکا بلکہ خداتعالیٰ نے پھینکا۔ یعنی درپردہ الٰہی طاقت کام کرگئی۔ انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۶۵، خزائن ج۵ ص۶۵)

اور اپنے الہام کی یہ تشریح فرمائی ہے: ۳؍ مئی۱۹۰۵ء ’’مارمیت اذرمیت ولٰکن اللہ رمٰی‘‘ (تشریح) حضرت مسیح موعود نے فرمایا: اس سے اشارہ ان اشتہارات کی طرف معلوم ہوتاہے جوحال میں شائع ہورہے ہیں۔(البشری ج۲ ص۹۷، بحوالہ بدرج۱ نمبر۴ ص۱)

پس یہ اعتراض کہ آنحضرتﷺ کے معجزہ کو اپنی طرف منسوب کرلیابالکل غلط اور محض بہتان ہے۔

(۷)وماینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحیٌ یوحٰی

مختار مدعیہ کا اس الہام پر بھی وہی اعتراض ہے جو پہلے الہاموں پر کیاہے۔ اس لئے ہماری طرف سے بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید کی آیت کے مصداق تو آنحضرتﷺ ہی ہیں اور حضرت مسیح موعود کے اس الہام سے یہ مراد ہے کہ آپ کے الہامات خداکی طرف سے ہیں۔ چنانچہ آپ الہام کا ترجمہ اس سے پہلے دوالہاموں کے ساتھ یہ کرتے ہیں: ’’پس تم قرآن کو چھوڑ کر کس حدیث پرچلوگے؟ ہم نے اس بندہ پر رحمت نازل کی ہے اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتابلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خداکی وحی ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۳۷، خزائن ج۱۷ ص۴۲۷)

اور اس سے آنحضرتﷺ کی کوئی توہین لازم نہیں آتی بلکہ آپ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی اولاد روحانی آپ کے نقش قدم پر چل کر اورآپ کے رنگ میں رنگین ہوکر ایسے مقام پر پہنچتی ہے اور عالی شان مرتبہ پاتی ہے جس میں ان کی وحی شیطانی دخل اورخواہشات نفسانی سے بالکل منزہ کی جاتی ہے اوریہ مقام علی قدر مراتب آنحضرتﷺ کے بعد اولیاء کو ملتارہاہے۔ چنانچہ خواجہ میردرد فرماتے ہیں: ’’الہام خاص آنست کہ او سبحانہ، بربندگان خاص درحالت قرب مع اللہ یاقلوب ایشاں بے دخل فکرواندیشہ و بے توسط حواس دیگر بالقائے رحمانی مے اندازد ودرنایٔ نفوس ایشاں کلمات بے صدائے خود میسر آید۔ ولیکن اولیاء راایں حالت دائم میشود وہیچ گاہ خود درمیان نمے باشند وآئینہ دار مرتبہ ماینطق عن الھوٰی مے گردند وہمہ کلمات چنیں اشخاص الہامات الٰہی است وناشی از مشاہدہ وآگاہی یابعض اوقات بوساطت ملائکہ بآواز وصوت ہم پیغام خود حق سبحانہ باولیاء خویش مے رساند واین راآواز سروش نیزمے خواند واحساس ایں صدائے سروش گاہ بگوش ظاہری ہم کردہ میشود و اکثر ہمہ گوش باطن مے شنود۔‘‘ (علم الکتاب ص۸۲) یہ جب مقام حسب مراتب پہلے اولیاء کو ملتا رہاہے تو حضرت مسیح موعود کے اس مقام پرفائز ہونے پر اعتراض کیامعنی؟ اس کو کلمہ کے خلاف بتاناکیسا؟

(۸) وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم

اس الہام پر مختارمدعیہ کے اس اعتراض کا جواب بھی وہی ہے کہ قرآن مجید میں خطاب توآنحضرتﷺ کو ہی ہے اور قرآن مجید کی آیت میں اور معنی ہیں اور اس الہام میں اور معنی چنانچہ حضرت مسیح موعود کا الہام یہ ہے: ’’ماکان اللہ لیعذبھم وانت فیم انہ آویٰ القریۃ لولا الاکرام لھلک المقام‘‘ (دافع البلاء ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۲۶) اور اس کا ترجمہ آپ نے یہ فرمایاہے: ’’خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو ان میں رہتاہے۔ وہ اس گائوں کو طاعون کی دست برد اورا س کی تباہی سے بچائے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اورتیرااکرام مدنظر نہ ہوتا تو میں اس گائوں کو ہلاک کردیتا۔ (دافع البلاء ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۲۷)

97

پس آیت قرآن مجید جو آنحضرتﷺ کے متعلق ہے، اس سے مراد اہل مکہ ہیں اور اس الہام سے قادیان کے باشندے مرادہیں۔‘‘

(۹) سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہٖ

مختارمدعیہ کے اس اعتراض کا بھی یہی جواب ہے کہ قرآن مجید میں جس اسراء کا ذکرہے وہ آنحضرتﷺ کے ساتھ مختص ہے اور اس الہام میں جس اسراء کا ذکرہے وہ اورہے۔ چنانچہ آپ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات کے وقت سیرکرایا۔ یعنی ضلالت اورگمراہی کے زمانہ میں جورات سے مشابہ ہے، معرفت اوریقین تک لدنی طور پر پہنچایا۔‘‘ (البشری ج۱ ص۲۸)

اور(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۵، خزائن ج۲۱ ص۲۱۱) پر اس کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’ایک ہی رات میں سیرکرانے سے مقصد یہ ہے کہ اس کی تمام تکمیل ایک ہی رات میں کردی اورصرف چارپہر میں اس کے سلوک کو کمال تک پہنچایا۔‘‘

پس آنحضرتﷺ کا اسراء اوررنگ کاہے جس کا آیت قرآن میں ذکرہے اوراس الہام میں جس اسراء کاذکرہے وہ اور قسم کاہے۔

چنانچہ امام ربانی مجددالف ثانی کے متعلق بھی ان کے مکتوبات کے حوالے سے لکھا: ’’جو کمالات اوروں کو سالہاسال میں پیش آتے ہیں۔ حضرت کو آناًفاناً بسیر محبوبی ومرادی حاصل ہوئے۔‘‘(سوانح عمری امام ربانی مؤلفہ محمدحسین ابن قدوۃ الراسخین مولوی شیخ قادربخش ص۱۱)

(۱۰)لولاک لماخلقت الافلاک

حضرت مسیح موعود کے اس الہام کو بھی مختار مدعیہ نے قابل اعتراض ٹھہرایاہے۔ حالانکہ خود حضرت مسیح موعود نے اس کی تشریح میں فرمادیاہے: ’’ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت نیا آسمان اورنئی زمین بنائی جاتی ہے۔ یعنی ملائک کو اس کے مقاصد کی خدمت میں لگایاجاتاہے اور زمین پر مستعد طبیعتیں پیداکی جاتی ہیں۔ پس یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی حاشیہ ص۹۹، خزائن ج۲۲ ص۲۰۲)

گویاحضرت مسیح موعود ان آسمانوں سے مراد روحانی آسمان لیتے ہیں جو ہر عظیم الشان مصلح کے وقت پیدا ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مصداق ’’لولاک لماخلقت الافلاک‘‘ کاتوآنحضرتﷺ کا وجودباجود ہی ہے۔ کیونکہ آپ نوع انسانی کے جو کہ اشرف انواع مخلوقات ہے، اکمل اوراعلیٰ فردہیں۔ جس پرتمام کمالات انسانی کا خاتمہ ہے۔ لیکن ظلی طور پر جو اپنے اندر آنحضرتﷺ کے کمال رکھتاہے، وہ بھی ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ کاظلی طور پر مصداق ہوجاتاہے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’قتل المؤمن اعظم عنداللہ من زوال الدنیا‘‘(نسائی ج۲ ص۱۶۵) اورابن ماجہ میں یہ حدیث ان الفاظ سے آئی ہے: ’’قال لزوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل مؤمن بغیر الحقن کی شرح میں علامہ سندی یہ قول درج کرتے ہیں: ’’المراد بالمؤمن الکامل الذی یکون عارفاً باللہ تعالٰی وصفاتہ فانہ المقصود من خلق العالم لکونہ مظھراً لایات اللہ واسرارہ وماسواہ فی ھذا العالم الحسی من السمٰوات والارض مقصود لاجلہ ومخلوق لیکون مسکناً لہٗ ومحلا لتفکرہ ونصارزوالہ اعظم من زوال التابع‘‘ (ابن ماجۃ ج۲ مصری حاشیہ ص۷۰)

کہ حدیث میں مؤمن سے کامل مؤمن مرادہے جو اللہتعالیٰ اور اس کی صفات کا عارف ہو۔ کیونکہ پیدائش عالم سے وہ ہی مقصودہے۔ اس وجہ سے کہ وہ اللہتعالیٰ کی آیات اور اسرار کامظہرہے اور اس کے علاوہ جوعالم محسوسات میں زمین وآسمان ہیں، اس کی

98

خاطر ان کے بنانے کا مقصدکیاگیااور اسی لئے وہ پیداکئے گئے تاکہ وہ کامل مؤمن کاجائے سکونت اورمحل تفکر ہوں۔ لہٰذا کامل مؤمن کا زوال اعظم ہے تابع کے زوال سے۔

پس مذکورہ بالا الہام پر آنحضرتﷺ کی اس حدیث اورمذکورہ بالا شرح کی روشنی میں کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔

اس موقع پر یہ کہہ دینا بھی نامناسب نہ ہوگا کہ مختار مدعیہ تو اس امر کو آنحضرتﷺ کی خصوصیت قراردے کر اس میں کسی اور کا اپنے آپ کوشریک بتانا خواہ وہ ظلی طور پرہی کیوں نہ ہو، کفر اورارتداد قراردیتاہے۔ لیکن اس کے مسلم مقتداء وپیشواء وخاتم المحدثین جناب مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی سرے سے اس حدیث کی صحت ہی کے قاہل نہیں ہیں۔ چنانچہ اس کے متعلق ایک سائل کے اس سوال کے جواب میں کہ’’اول ما خلق اللہ نوری‘‘ اور ’’لولاک لما خلقت الافلاک‘‘ صحیح حدیثیں ہیں یاوضعی، ان کو وضعی بتاتے ہیں۔ (فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۱۴۰) پر لکھتے ہیں: یہ حدیثیں کتب صحابہ میں موجود نہیں، مگرشیخ عبدالحق نے ’’اوّل ما خلق اللہ نوری‘‘ کو نقل کیاہے کہ اس کی کچھ اصل ہے۔ فقط!‘‘ اس سے ظاہرہے کہ مولوی رشیداحمد صاحب کے نزدیک نہ تو حدیث صحاح میں ہے اور نہ اس کی کچھ اصل ہے۔ اب کیا مختار مدعیہ مولوی رشیداحمدصاحب کو جوحدیث لولاک کی صحت ہی کے منکر ہیں اور اس کو وضعی اوربے اصل سمجھتے ہیں کلمہ کی جزء ثانی کا منکر قراردے کر ان پر کفر اور ارتداد کا فتویٰ دے گا؟

(۱۱) عینیت کا دعویٰ

محمد رسول اللہ والذین معہٗ اشدآء علی الکفار

مختارمدعیہ نے (حقیقۃ النبوۃ ص۲۶۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۲) سے مذکورہ بالا الہام پیش کر کے کہا ہے کہ (حضرت) مرزا صاحب نے صفات میں شرکت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ آنحضور کی ذات میں بھی شرکت کا دعویٰ کیاہے اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کیا۔ ملاحظہ ہو (حقیقۃ النبوۃ ص۲۶۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۲) کہ اس وحی میں میرانام محمدرکھاگیاہے اوررسول بھی۔ یہ بھی مختار مدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ ورنہ حضرت مسیح موعود کی کتب کو سرسری نظرسے دیکھنے والابھی جانتاہے کہ آپ نے کسی کتاب میں نہیں لکھاکہ میں جسمانی لحاظ سے وہی محمدa ہوں جوآج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے آئے تھے۔ بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ میں ظلی اوربروزی طور پروہی محمدہوں۔ میں ان کا خادم ہوں اور وہ میرے مخدوم ہیں اور میں آپ کاظل ہوں اور آپ اصل ہیں۔ یعنی میں آپ کی خدمت شاگردی اورآپ کی اتباع میں اس قدر فناہواہوں کہ گویا میراوجود آپ کے وجود سے بلحاظ روحانیت علیحدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ( ایک غلطی کاازالہ ص۴،۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱، ۲۱۲) میں ہی مصرح ہے جس کا حوالہ مختارمدعیہ نے دیاہے۔ آپ فرماتے ہیں: ’’میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیاگیاہوں کہ یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں۔ بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمدمصطفیﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہوکر میں رسول بھی ہوںاور نبی بھی۔ یعنی بھیجاگیابھی اورخداسے غیب کی خبریں پانے والابھی۔

اور فرماتے ہیں: ’’خدانے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرانام محمداوراحمد رکھاہے اورمجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قراردیاہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیںآیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اورچونکہ میں ظلی طور پر محمدہوں۔ اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔‘‘ (حقیقۃ النبوۃ ص۲۶۵، ۲۶۶، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۶)

99

گواہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں اس سوال کا جواب مفصل دے دیاہے اورعلماء سلف کے اقوال سے ثابت کردیاہے کہ جب انسان اپنے محبوب کے رنگ میں رنگین ہوکر دوئی کو اٹھادیتاہے تو اس وقت اتحاد محب ومحبوب ہوتاہے اور اس مشابہت تامہ کی وجہ سے اس کو محبوب کا نام دیاجانا ان کے اتحاد کی دلیل ہوتاہے۔ چنانچہ مقامات امام ربانی (ص۴۰) میں لکھاہے: ’’حقیقت محمدی یہ مقام محبت ومحبوبیت ممتزجہ ذاتیہ حضرت رسول اللہﷺ کاہے۔ اس مقام میں تابع کو اپنے متبوع سے ایسی مشابہت ومناسبت پیداہوجاتی ہے کہ گویا متبعیت درمیان سے اٹھ گئی اور امیتاز تابع ومتبوع زائل ہوجاتاہے اور ایسا متوہم ہوتاہے کہ گویا تابع ومتبوع ہردو ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہیں۔ وہم آغوش ایک کنارو ایک بسترہیں۔ مگرتابع اپنے تئیں طفیلی اپنے متبوع کا جانتاہے۔‘‘

اورمہدی کے متعلق تو لکھاہے کہ اس کا باطن محمدa کا باطن ہوگا۔(شرح فصوص الحکم ص۵۲،۵۳) اور اسی طرح مولاناعبدالعلی صاحب بحرالعلوم نے لکھاہے:’’بایزید چوں قطب وقت بود عین رسول بود، چراکہ قطب نمے باشد مگربرقلب محمدa وہرکہ قلب کسی بود عین آنکس است۔‘‘ (مثنوی دفترچہارم حاشیہ ص۱۵۰)

اب کیا مختارمدعیہ بحرالعلوم مولاناعبدالعلی صاحب کو بھی جوبایزید بسطامی کو عین محمدکہہ رہے ہیں۔ کافر ومرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دینے کی جرأت کرے گا۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوبیان گواہ نمبر۱۔

(۱۲) شعر

مختارمدعیہ نے عینیت کا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کا یہ شعر(تریاق القلوب ص ۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴) سے پیش کیاہے ؎

  1. منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

اور اس شعر کو آنحضرتﷺ کی توہین قراردیاہے۔ حالانکہ اس شعر سے نہ تو عینیت کا دعویٰ ثابت ہوتاہے اور نہ آنحضرتﷺ کی کوئی توہین۔ کیونکہ اس شعر میں آپ نے اپنا مقام بیان فرمایاہے کہ میں مسیح بھی ہوں اورخداتعالیٰ مجھ سے کلام بھی کرتاہے اور بروزی طور پر میں محمدواحمدبھی ہوں۔ جیسا کہ آپ نے دوسرے مقامات میں تشریح فرمائی ہے کہ محمدواحمدکا نام خدا کی طرف سے مجھ کو بروزی طور پر عطاء کیاگیاہے۔ اس لئے کہ میں رسول اللہﷺ کا خادم اورآپ کا قائم مقام ہوں۔ چنانچہ اسی قصیدہ میں آپ فرماتے ہیں:

  1. پناہ بیضہ اسلام آں جواں مردیست

    کہ خون بدل زپئے دین مصطفی باشد

  2. بروئے یار کہ ہرگز نہ رتبتے خواہم

    مگر اعانت اسلام مدعاباشد

(تریاق القلوب ص۲تا۵، خزائن ج۱۵ ص۱۳۱تا۱۳۷)

چنانچہ اس کی تائید (تریاق القلوب ص۷، خزائن ج۱۵ ص ۱۴۱) سے بھی ہوتی ہے، جہاں آپ فرماتے ہیں: ’’ اے تمام وہ لوگوجو زمین پر رہتے ہو اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اورمغرب میں آباد ہو۔ میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتاہوں کہ اب زمین پرسچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدابھی وہی خداہے جوقرآن نے بیان کیا ہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والانبی اورجلال وتقدس کے تخت پر بیٹھنے والاحضرت محمدمصطفیﷺ ہیں۔ جن کی روحانی زندگی اورپاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملاہے کہ اس کی پیروی اورمحبت سے ہم

100

روح القدس اور خدا کے مکالمہ اورآسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔‘‘ اور(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۶) میں فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خداتعالیٰ نے میرا نام احمد اور محمد بھی رکھا اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا آنحضرتﷺ خاتم نبوت ہیں، ویساہی یہ عاجز خاتم ولایت ہے۔‘‘

پس قائل کی تشریحات کے خلاف اس کے قول کی تشریح کرنا کسی طرح جائز اورقابل قبول نہیں ہے۔

حضرت مسیح موعود کاجواب

یہ سب الہامات جو مختارمدعیہ نے بطور اعتراض پیش کئے ہیں اور ان سے یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آنحضرتﷺ کی خصوصیات کو اپنی طرف منسوب کیاہے جو کلمہ کی جزء ثانی سے انکار کو مستلزم ہیں۔ ان سب کے متعلق حضرت مسیح موعود نے براہین احمدیہ میں جس میں یہ الہامات درج ہیں یہی شبہ پیش کرکے جواب رقم فرمایاہے: ’’اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لاناچاہئے کہ کیوں کر ایک ادنیٰ امتی آل رسول مقبول کے اسماء یاصفات یامحامد میں شریک ہوسکے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے۔ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالات قدسیہ سے شریک ومساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جرأت نہیں۔ چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرتﷺ کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالب حق ارشدک اللہ تم متوجہ ہو کر اس بات کوسنو کہ خداوندکریم نے اس غرض سے تاکہ ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہرہوں اورتاہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاویں مخالفین کو ملزم ولاجواب کرتی رہیں۔ اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کررکھاہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کو جوکمال عاجزی اور تذلل آنحضرتﷺ کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑکر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔ خداان کو فانی اورایک مصفی شیشہ کی طرح پاکر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ ظاہر کرتاہے اور جوکچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یاکچھ آثار اوربرکات اورآیات ان سے ظہور پذیرہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتاہے اورحقیقی اورکامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کامصداق اتم ہوتاہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیہ درحاشیہ ص۲۴۲،۲۴۳، خزائن ج۱ ص۲۶۸،۲۶۹)

اورفرماتے ہیں: ’’ان کلمات کا حاصل مطلب تلفظات اوربرکات الٰہیہ ہیں جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے شامل حال ہوجاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان تمام آیات کا آنحضرتﷺ اور دوسرے سب طفیلی ہیں۔ اس بات کو ہرجگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مدح وثناجوکسی مؤمن کے الہامات میں کی جائے۔ وہ حقیقی طور پر آنحضرتﷺ کی مدح ہوتی ہے اوروہ مؤمن بقدر اپنی متابعت کے اس مدح سے حصہ لیتاہے اور وہ بھی محض خداتعالیٰ کے لطف واحسان سے نہ کسی اپنی لیاقت وخوبی سے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص۴۸۷، ۴۸۹، خزائن ج۱ ص۵۸۰،۵۸۱)

اور آپ اپنے الہام:’’کل برکۃ من محمدa فتبارک من علم وتعلم‘‘ کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’یعنی ہر ایک برکت جو اس عاجز پر یہ پیرایۂ الہام وکشف وغیرہ نازل ہورہی ہے وہ محمدa کے طفیل اوران کے توسط سے ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۲۴۲، خزائن ج۳ ص۴۱۷)

101

اور فرماتے ہیں: ’’خداوندکریم نے اسی رسول مقبول کی متابعت اورمحبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیاہے اور علوم لدنیہ سے سرفراز فرمایاہے اور بہت سے اسرارمخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق ومعارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پرکردیاہے اور بارہا بتلادیاہے کہ یہ سب عطیات وعنایات اور یہ سب تفضلات واحسانات اور یہ سب تلطفات وتوجہات اوریہ سب انعامات وتائیدات اور یہ سب مکالمات ومخاطبات بے من متابعت ومحبت حضرت خاتم الانبیاءa ہیں:

  1. جمال ہم نشین درمن اثر کرد

    وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۴۰،۵۴۱، خزائن ج۱ ص۶۴۵،۶۴۶ حاشیہ)

آپ کی متعدد تصریحات سے ظاہر ہے کہ آپ پر انعامات کا نزول بابرکت متابعت مصطفیﷺ ہے اور آنحضرتﷺ آپ کے مخدوم اور متبوع ہیں اور آپ ان کے خادم اورتابع ہیں۔‘‘

دوسراجواب

حضرت مسیح موعود نے ایسے الہامات اپنی کتاب اربعین نمبر۲ اورانجام آتھم میں تحریرفرماکر مخالفین کو مباہلہ اور بالمقابل دعاکرنے کے لئے دعوت دی ہے۔ چنانچہ الہام:’’الارض والسماء معک کماھومعی‘‘ ( اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۲، انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص۵۲) میں: ’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۳، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص۵۱) اور ’’انت اسمی الاعلٰی‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۴، خزائن ج۱۷ ص۳۸۲) اور ’’انت منی بمنزلۃ لایعلمھاالخلق‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۲، خزائن ج۱۲ ص۳۸۰، انجام آتھم ص۱۵) اور ’’کان اللہ نزل من السماء‘‘ (انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲) اور ’’انا فتحنا لک فتحا مبینا‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۳۵۲، انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸) اور ’’ھوالذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی ودین الحق لیظہرہٗ علی الدین کلہ‘‘(اربعین نمبر۲ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۳۵۲، انجام آتھم ص۵۱، خزائن ج۱۱ ص۵۱) اور: ’’انا اعطینٰک الکوثر‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۵، خزائن ج۱۷ ص۳۸۴، انجام آتھم ص۵۸، خزائن ج۱۱ ص۵۸) اور ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعٰلمین‘‘ (اربعین نمبر۳ ص۲۳، خزائن ج۱۷ ص۴۱۰ ) اور ’’قل ان کنتم تحبون اللہ‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۳۸۱، انجام آتھم ص۵۲) اور ’’سبحان الذیٓ اسرٰی بعبدہٖ‘‘ (انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۵۳) اور ’’ما ینطق عن الھوٰی‘‘(اربعین نمبر۲ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۳۸۵) میں مندرج ہیں۔

اوران تمام الہامات پر مختارمدعیہ نے اعتراض کیاہے۔

’’انجام آتھم میں حضرت مسیح موعود نے یہ الہامات مع دیگر الہامات کے لکھ کر مولویوں کو مباہلہ کے لئے بلایاہے اور جن لوگوں کو دعوت مباہلہ دی گئی ہے ان میں سے چوتھے نمبرپردیوبندیوں کے مقتدیٰ خاتم المحدثین مولوی رشیداحمد گنگوہی کاذکرہے اورمباہلہ کا طریق بھی اس کتاب میں ذکرکردیاہے۔‘‘

’’کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقررہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جولکھ چکاہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضرہوں گا اور دعاکروں گا کہ یاالٰہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں، میرا ہی افتراء ہے اور تو جانتاہے کہ میں نے ان کو

102

اپنی طرف سے بنالیاہے یا اگر شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدترہو اور اس سے رہائی عطاء نہ کر جب تک موت آجائے تاکہ میری ذلت ظاہر اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہترہے۔ لیکن اے خدائے علیم وخبیراگر توجانتاہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے منہ کی باتیں ہیں توان مخالفوں کو جواس وقت حاضرہیں، ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلاکر، کسی کو اندھا کردے اور کسی کو مجذوم اورکسی کو مفلوج اورکسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یاسگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پرآفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں آمین۔

ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہرشخص جو مباہلہ کے لئے حاضرہو،جناب الٰہی میں یہ دعا کرے کہ اے خدائے علیم وخبیر اس شخص کو جس کانام غلام احمدہے درحقیقت کذاب اورمفتری اور کافر جانتے ہیں۔ پس اگر یہ شخص درحقیقت کذاب اور مفتری اورکافر اور بے دین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں، بلکہ اپنا ہی افتراء ہے تو اس امت مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندرہلاک کردے تاکہ لوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں اور اگر یہ مفتری نہیںاور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہام تیرے ہی منہ کی پاک باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کافر اورکذاب سمجھتے ہیں، دکھ اور ذلت سے بھرا ہواعذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کردے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یاسگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پرآفت نازل کر اورکسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر اورجب یہ دعافریق ثانی کرچکے تودونوںفریق کہیں کہ آمین۔

اور اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندرمرگیایا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہوگیا جس میں جان بری کے آثار نہ پائے جائیں تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے اور میںہمیشہ کی لعنت کے ساتھ ذکرکیاجائوں گا اور میں ابھی لکھ دیتاہوں کہ اس صورت میں مجھے کاذب اورمورد لعنت الٰہی یقین کرناچاہئے… میں یہ بھی شرط کرتاہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جاوے کہ جب تمام لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلائوں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہوجائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہاتو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا۔ اگرچہ وہ ہزار ہوں یادوہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر توبہ کروں گا اوراگر میں مرگیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اورآرام ہوجائے گا۔

گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر اور نہ تکفیر اورتوہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو اور اے مومنو برائے خداتم سب کہو کہ آمین۔‘‘(انجام آتھم ص۶۵تا۶۷، خزائن ج۱۱ ص۶۵تا۶۷)

اس دعوت کے مقابلہ میں مولویوں نے سکوت اختیار کیا اور مباہلہ کے میدان میں نہ نکلے اور اپنی خاموشی سے اس میدان مبارزت سے پیٹھ دکھاکر ان الہامات کے خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے پر مہرکردی۔ اس دعوت پر پانچ سال گزرنے کے بعد پھر آپ نے اربعین نمبر۲میں اپنے الہامات تحریر کر کے دعوت دی کہ وہ امرتسر یابٹالہ میں ایک جلسہ کریں اور جس قدرہوسکے معزز علماء اوردنیادار جمع ہوں اورمتضرعانہ صورتیں بنائیں اور کوشش کریں کہ حضوردل سے دعائیں ہوں اوراگر یہ دبکاکے ساتھ ہوں اور علماء میں سے کم از کم چالیس آدمی

103

ہوں کہ چالیس کے عدد کو قبولیت دعا کے لئے ایک بابرکت دخل ہے اورمیں بھی اپنی جماعت کو لے کر آجائوں گا اور ان الفاظ میں دعاکی جائے۔ یاالٰہی اگر تو جانتاہے کہ یہ شخص مفتری ہے اور تیری طرف سے نہیںہے اور نہ مسیح موعود ہے اور نہ مہدی ہے تو اس فتنہ کو مسلمانوں میں سے دورکر اور اس کے شر سے اسلام اور اہل اسلام کو بچالے اور جس طرح تونے مسیلمہ کذاب کواور اسود عنسی کو دنیا سے اٹھا کر مسلمانوں کو ان کے شرسے بچالیا اور اگر یہ تیری طرف سے ہے اور ہماری عقلوں اور فہموں کا قصورہے تو اے قادر ہمیں سمجھ عطافرماتاکہ ہم ہلاک نہ ہوجائیں اور اس کی تائید میں کوئی ایسے امور اورنشان ظاہر فرما کہ ہماری طبیعتیں قبول کرجائیں کہ یہ تیری طرف سے ہے اورجب یہ تمام دعاہوچکے تو میں اور میری جماعت بلندآواز سے آمین کہے۔‘‘(اربعین نمبر۲ ص۲۸، خزائن ج۱۷ ص۳۷۶)

’’اس کے بعد میں اسی رسالہ کو جس میں میرے الہامات درج ہیں، ہاتھ میں لے کرمندرجہ ذیل الفاظ میں دعاکروں گا۔ (ایضاً) کہ اے خدا اگر یہ تیرا کلام نہیں ہے اور میں تیرے نزدیک کاذب اورمفتری اوردجال ہوں، جس نے امت محمدیہ میں فتنہ ڈالاہے اور تیراغضب میرے پرہے تو میں تیری جناب میں تضرع سے دعاکرتاہوں کہ آج کی تاریخ سے ایک سال کے اندرزندوں میں سے میرا نام کاٹ ڈال اور میرے تمام کاروبار درہم برہم کردے اوردنیا میں سے میرا نشان مٹاڈال اور اگر میں تیری طرف سے ہوں اور میں تیرے فضل کا موردہوں تو اے قادرکریم! اسی سال میں میری جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دے اور فوق العادت برکات شامل حال فرما اور میری عمر میں برکت بخش اور آسمانی تائیدات نازل کر اور جب دعاہوچکے تو تمام مخالف جو حاضرہوں آمین کہیں۔‘‘(اربعین نمبر۲ ص۲۹، خزائن ج۱۷ ص۳۷۷)

اے بزرگو اور قوم کے مشائخ اور علماء عصر! میں آپ لوگوں کو اللہتعالیٰ کی قسم دیتاہوں کہ اس درخواست کوضرورقبول فرمائیں۔ کیونکہ اس دعا کا نفع نقصان کل میری ذات تک محدود ہے۔ مخالفین پر اس کا کچھ اثرنہیں۔(ایضاً)

مگر علماء اسی طریق پر فیصلہ کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے اور اپنے فرار سے ثابت کردیا کہ وہ الہامات جن پر مختار مدعیہ نے اعتراضات کئے ہیں خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں۔

تیسراجواب

براہین احمدیہ جب شائع ہوئی، اس پر مولوی محمدحسین بٹالوی نے ریویو لکھا اور مطالب خلاصہ کتاب جس میں ایک عنوان مؤلف الہامات بھی ہے لکھ کر ان الفاظ میں اس کتاب براہین احمدیہ کی تعریف کی: ’’اور یہ عبارتیں میں صرف اس امر کے اثبات کے لئے پیش کرتاہوں کہ جو الہامات براہین احمدیہ میں درج ہیں قابل اعتراض نہیں کتاب کی توثیق مقصودہے۔‘‘

یہ اس کتاب کا خلاصہ مطالب ہے۔ اب ہم اس پر اپنی رائے نہایت مختصر اور بے مغالطہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اورموجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبرنہیں۔ ’’لعل اللہ یحدث بعدذٰلک امرا‘‘ اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلاہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔ ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتادیں جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ وبرہم سماج سے اس زوروشور سے مقابلہ پایاجاتاہے ہو اور دوچار ایسے

104

اشخاص انصار اسلام کی نشان دہی کریں جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی وجانی وقلمی ولسانی کے علاوہ مالی نصرت کا بھی بیڑا اٹھایاہو اورمخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو جود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ ومشاہدہ کرے۔ اس تجربہ ومشاہدہ کا اقوام غیر کو مزا بھی چکھادیاہو۔‘‘(اشاعۃ السنۃ نمبر۶ ج۷ ص۱۶۹)

مؤلف براہین احمدیہ کے الہامات پر ایک دو مولویوں نے اعتراض کئے تھے جن کا مولوی محمدحسین بٹالوی نے مفصل اورمدلل جواب دیا اور کہا کہ ایسے الہامات کا ہوناجائزہے اور اسی کتاب میں یہ الہامات بھی مندرج ہیں جن پر مختارمدعیہ نے اعتراض کئے ہیں۔ چنانچہ البشری میں بحوالہ براہین احمدیہ یہ الہامات درج ہیں:

۱… ’’الارض والسماء معک کماھومعی‘‘ (البشری ص۱۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۸۷حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۵۷۹)

۲… ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۲۲، خزائن ج۱ ص۶۲۳ حاشیہ درحاشیہ)

۳… ’’ربّناعاج‘‘ (البشری ص۲۳، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۴ حاشیہ درحاشیہ نمبر۴، خزائن ج۱ ص۶۶۲)

۴… ’’انت منی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق‘‘ (البشری ص۴۶، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۶۱ حاشیہ درحاشیہ نمبر۴، خزائن ج۱ ص۶۶۸)

۵… ’’کان اللہ نزل من السماء‘‘ یہ الہام ۱۸۸۰ء کا ہے۔(البشری ج۲ ص۹، حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹)

۶… ’’انا فتحنا لک فتحاً مبیناً‘‘ (البشری ص۱۳،۳۷، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۱ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱، ص۲۶۷)

۷… ’’ھوالذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی‘‘ (البشری ص۱۲،۳۷، براہین احمدیہ حصہ۳ ص۲۳۹ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱ ص۲۶۵)

۸…’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ (البشریٰ ص۳۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۷حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۶۱۷)

۹… ’’عسٰی ان یبعثک ربک مقامامحمودا‘‘ (البشری ج۲ ص۱۰، نزول الہام ۱۸۸۸ء، آسمانی فیصلہ ص۱۹، خزائن ج۴ ص۳۴۲)

۱۰…’’ما ارسلناک الارحمۃ للعٰلمین‘‘ (البشری ص۳۰، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۶حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۰۳)

۱۱…’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘ (البشری ص۲۱، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۰حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱ ص۲۶۶)

۱۲…’’مارمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمٰی‘‘ (البشری ص۱۲، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱ ص۲۶۵)

۱۳…’’ماکان اللہ لیعذبہم وانت فیھم‘‘ (البشری ص۱۳،۳۶، براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۲ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱ ص۲۶۷)

۱۴…’’سبحان الذٓی اسرٰی بعدہٖ لیلا‘‘ (البشری ص۲۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۴ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

۱۵…’’محمد رسول اللہ والذین معہٗ اشدآء علی الکفار‘‘ (البشری ص۳۷، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۷ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۶۱۶)

۱۶… بلکہ ان کے علاوہ براہین احمدیہ میں اورا لہامات بھی اس قبیل سے ہیں۔ جیسے:’’انک علٰی صراط مستقیم۔ فاصدع بما تؤمر‘‘ (البشری ص۲۷، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۴ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱، خزائن ج۱ ص۵۹۹)

۱۷… ’’انذر عشیرتک الاقربین۔دنٰی فتدلٰی، فکان قاب قوسین اوادنٰی‘‘ (البشریٰ ص۲۰، براہین احمدیہ ۴ ص۴۹۳ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۵۸۶)

۱۸… ’’انک الیوم لدینا مکین امین‘‘ (البشریٰ ص۲۸، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۴ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۶۰۰)

105

۱۹… ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلّٰی‘‘ (البشریٰ ص۳۳، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۱ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳، خزائن ج۱ ص۶۰۸)

۲۰… ’’الم نشرح لک صدرک‘‘ (البشریٰ ص۴۵، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۸ حاشیہ درحاشیہ نمبر۴، خزائن ج۱ ص۶۶۶)

۲۱… ’’بیت الفکر بیت الذکر ومن دخلہ کان اٰمنا‘‘ (البشریٰ ص۴۵، براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۸، خزائن ج۱ ص۶۶۶)

وغیرہ ہیں۔ لیکن اس وقت ان الہامات کے متعلق علماء نے یہ تسلیم کرلیاکہ امت محمدیہ کے ایک فرد پر ان الہامات کا نزول ہوسکتاہے اور ایسا ہوناقابل اعتراض نہیں ہے۔ گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ازالہ اوہام کی ایک عبارت کے متعلق عدالت کے سوال کے جواب میں ۲۴؍اگست۱۹۳۲ء کو یہ تسلیم کیاہے کہ: ’’جب تک مرزا صاحب نے یہ عبارت لکھی تھی اس وقت تک مرزا صاحب مسلمان تھے۔‘‘ بس گواہ مدعیہ نمبر۲ ازالہ اہام کی تالیف کے زمانہ تک حضرت مسیح موعود کا مسلمان ہونا تسلیم کرتاہے اور مختار مدعیہ نمبر۱ نے بھی دس ۱۰؍اکتوبر۱۹۳۳ء کو بحث کرتے ہوئے یہ کہاہے: ’’وہ کفریات جو حقیقت الوحی سے پیش کی ہیں، اگر وہ اس وقت (یعنی خواجہ غلام فرید صاحب کے وقت) موجودتھیں تو یہ شہادت صحیح ہے۔‘‘

چونکہ ہم نے ان الہامات کا جو مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کا کفر ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں براہین احمدیہ اور ان کتب سے ثابت کردیاہے جو خواجہ صاحب کی زندگی میں شائع ہوئیں۔ لہٰذ گواہ مدعیہ نمبر۲ اور مختارمدعیہ کے اقراروں کی بناء پر یہ الہامات قابل اعتراض نہیں ہیں۔

  1. ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا مرے حق میں

    زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

106

(۱) ملائکہ

مختارمدعیہ نے ایک اعتراض یہ بھی کیاہے کہ حضرت مسیح موعود ملائکہ کو ارواح کواکب مانتے ہیں۔ شریعت والے ملائکہ کوجن کے متعلق قرآن مجید میں’’عبادمکرمون‘‘ وارد ہے، نہیں مانتے۔ کیونکہ عبد کالفظ ’’ذوالعقول‘‘ پر اطلاق پاتاہے۔ لہٰذا جوشخص ملائکہ کو ارواح کواکب کہے اور ان کے وجود فی الخارج کا منکرہو، اس کا ملائکہ پر ایمان کیا؟ اوروہ کیسے مؤمن کہلاسکتاہے۔

مگریہ بھی مختارمدعیہ کا ایک صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود کی کتب میں فرشتوں پر ایمان لانے کا ذکربڑی کثرت سے آیاہے۔ آپ فرماتے ہیں:

۱…

  1. از ملائک راز خبر ہائے معاد

    آنچہ گفت آل مرسل رب العباد

  2. آں ہمہ از حضرت احدیت است

    منکر آں مستحق لعنت است

(سراج منیرص ح،ط، خزائن ج۱۲ ص۹۶)

۲… ’’تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں راز دار۔‘‘(براہین حصہ پنجم ص۹۸، خزائن ج۲۱ ص۱۲۸)

۳… ’’اے میرے مولا تو اب فوج ملائک کو اتار۔‘‘(براہین حصہ پنجم ص۱۱۹، خزائن ج۲۱ ص۱۴۹)

۴… ’’ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق حشراجساد حق اور جنت حق اوردوزخ حق ہے۔‘‘(ایام الصلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳)

۵… ’’واعتقد ان ﷲ ملائکۃ مقربین لکل واحدمنھم مقام معلوم‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۴، ۳۸۵، خزائن ج۵، ص۳۸۴، ۳۸۵)

۶… فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے توحید قائم نہیں رہ سکتی اورہر ایک چیز کو اور ایک تاثیر کو خداتعالیٰ کے ارادہ سے باہر مانناپڑتاہے اور فرشتہ کا مفہوم تویہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جوخدا کے حکم سے کام کررہے ہیں۔ پس جب کہ یہ قانون ضروری اورمسلم ہے توپھرجبرئیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیاجائے۔(چشمہ معرفت ص۱۷۳، حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۱۸۱)

اور عجب بات ہے کہ مختارمدعیہ نے جس کتاب توضیح مرام سے فرشتوں کا انکارنکالاہے۔ اس میں حضرت اقدس فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف نے جس طرز سے ملائک کا حال بیان کیاہے وہ نہایت سیدھی اورقریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے سے کچھ بن نہیں پڑتا۔‘‘(توضیح مرام ص۳۶،۳۷ طبع دوم، خزائن ج۳ ص۷۰)

اورفرماتے ہیں: ’’ومامنا الالہ مقام معلوم وانا لنحن الصافون‘‘ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو ان کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔ ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خداتعالیٰ ان کی طرف سے قرآن مجید میں فرماتاہے: ’’ومامنا الا لہ مقام معلوم وانا لنحن الصافون‘‘ (توضیح مرام ص۳۲، خزائن ج۳ ص۶۷)

اورفرماتے ہیں: ’’ملائک اس معنی میں ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملائک اجرام سماویہ اورملائک اجسام الارض ہیں۔ یعنی ان کے قیام اور بقاء کے لئے ارواح کی طرح ہیں اور نیز اس معنی سے بھی ملائک کہتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں۔‘‘(توضیح مرام حاشیہ ص۳۳، خزائن ج۳ ص۶۸)

107

اورملائکہ کو روح کی طرح کہنے سے حضرت مسیح موعود کی یہ مراد نہیں کہ فی الواقعہ وہ روحیں ہیں اور ان کا علیحدہ کوئی وجود نہیں ہے۔ بلکہ روح کی طرح سے مراد یہ ہے کہ ملائکہ کو ان نورانی اورروشن ستاروں سے ایک مجہول الکنہ تعلق ہے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ’’پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسب نوری ونفوس طیبہ ان روشن اورنورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ مگر اس تعلق کو ایسانہیں سمجھنا چاہئے کہ جیسے زمین کا ہر ایک جاندار اپنے اندر جان رکھتاہے بلکہ ان نفوس طیبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نورانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے۔ روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکنہ تعلق ہے اور ایسا شدیدتعلق ہے کہ اگر ان نفوس طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کیاجائے تو پھر ان کے تمام قوی میں فرق پڑجائے گا۔‘‘

انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خداتعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے۔ ایسے ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیںہے) وہ نفوس نورانیہ کواکب اورسیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں۔‘‘(توضیح مرام ص۳۷، ۳۸، خزائن ج۳ ص۷۰)

اور (توضیح مرام ص۶۸، خزائن ج۳ ص۸۶) پر جو آپ نے فرمایا: ’’مثلا جبرئیل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتاہے۔ اس کو کئی قسم کی خدمات سپردہیں جن میں سے ایک وحی کرنا بھی ہے۔‘‘ تویہاں بھی تعلق سے آپ کی مراد ایسا ہی تعلق ہے جو فرشتوں کو دوسرے اجسام سے ہے۔ چنانچہ آپ (توضیح مرام ص۸۳، خزائن ج۳ ص۹۴) میں فرماتے ہیں: ’’تیسراکام جبرئیل کا یہ ہے کہ جب خداتعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہوتوہوا کی طرح موج میں آکر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچاتاہے یاروشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہوکر اس کو نظر کے سامنے کردیتاہے یاحرارۃ محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیداکر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلاتاہے۔‘‘

اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ جبرئیلm سورج نہیں ہے بلکہ سورج کے علاوہ ایک اوروجودہے اور آئینہ کمالات اسلام میں آپ فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات ومقسمات امر رکھاہے اورہر ایک عرض اورجوہر کے حدوث وقیام کا وہی موجوب ہیں۔ یہاں تک کہ خداتعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اٹھائے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ ’’ان کل نفس لما علیھا حافظ‘‘ سے کلی طور پر فرشتوں کا تقرر ہر ایک چیز پر ثابت ہوتاہے۔ اس وجہ سے خداتعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض مقامات میں رمی شہب کا فاعل فرشتوں کو ٹھہرایا اور بعض دوسرے مقامات میں اس رمی شہب کا فاعل ستاروں کو ٹھہرایا۔ کیونکہ فرشتے ستاروں میں اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ جیسا کہ جان بدن میں اپنا اثر ڈالتی ہے۔ ملائکہ کو اجرام سماوی بلکہ بعض فرشتوں کوجو عنصر یوں ہیں عناصر اوراجرام سماعی سے ایسا شدیدتعلق ہے۔ جیسا کہ ارواح کو قوالب کے ساتھ ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہوتاہے کہ ملائک آسمان پر ایک مستقل وجود رکھتے ہیں۔ مگر کیا یہ دوسری بات بھی اسی کتاب عزیز کی رو سے سچی ثابت نہیں ہوتی کہ ملائکہ کا تعلق ہر ایک اجرام سماعی سے ایک حافظانہ تعلق ہے اور ہرایک ستارہ اپنے بقاء اورقیام اورصدور افعال میں ملائکہ کی تائید کا محتاج ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ جو اپنے تئیں مولوی کہلاتے ہیں یوں تو مسلمانوں کوکافر بنانے کے لئے بڑے سرگرم ہیں۔ مگر قرآن کریم کی تعلیم مبارکہ حکمیہ کو تدبر اورتعمق کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ پھر حق کے سمجھنے میںکیونکر کامیاب ہوں۔(آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص۱۳۷، ۱۴۵، خزائن ج۵ ص۱۳۷ تا۱۴۵)

108

اورفرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیںآتے بالکل عبث ہے۔ فرشتے خداتعالیٰ کے وجود کی طرح ایک نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں۔ پھر کس طرح ان آنکھوں سے نظرآئیں۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص۱۸۱، خزائن ج۵ ص۱۸۱)

ان تمام مذکورہ بالا عبارات سے واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک فرشتے دراصل کواکب کی ارواح کانام نہیں ہے اور ان کے لئے روح یاجان کا لفظ جو استعمال کیاہے تو وہ صرف اس لئے استعمال کیاہے تاکہ ستاروںکے ساتھ ان کا شدیدتعلق ظاہرہو اور ان میں جوتغیرات ہوتے ہیں وہ سب فرشتوں کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی آیت: ’’وانشقت السمآء فھی یومئذ واھیۃ والملک علی ارجائھا ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ‘‘ کی تفسیر میں یہی لکھتے ہیں کہ: ’’درحقیقت آسمان کی بقاء بباعث ارواح کے ہے۔ یعنی ملائک کے جو آسمان اورآسمانی اجرام کے لئے بطور روحوں کے ہیں اورجیسے روح بدن کی محافظ ہوتی ہے اوربدن پر تصرف رکھتی ہے۔ اسی طرح ملائک آسمان اورآسمانی اجرام پرتصرف رکھتے ہیں۔ اسی طرح ملائک سماوی انہی کے ساتھ زندہ ہیں اورانہی کے ذریعہ سے صدور افعال کواکب ہے۔ پھر جب وہ ملائک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے توآسمان کا نظام ان کے نکلنے سے درہم برہم ہوجائے گا۔ جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کانظام درہم برہم ہوجاتاہے۔

اورشیخ محی الدین ابن العربی نے (فتوحات مکیہ باب۶۰)میں سورج اورچاند ستاروں کو فرشتوں کی سواریاں قراردیاہے اور کہا ہے کہ فرشتہ کے لئے ایک ستارہ ہے جو اس کی سواری ہے اور اس میں وہ خدا کی تسبیح کرتاہے۔(الیواقیت ج۲ ص۵۵)

اب میں اس اعتراض کا جواب حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں بھی دے دیناچاہتاہوں۔ آپ فرماتے ہیں:’’ومن اعتراضاتھم انھم قالوا ان ھذا الرجل یحسب الملائکۃ ارواح الشمس والقمر والنجوم۔اما الجواب فاعلم! انھم قد اخطاؤ فی ھٰذا واللہ یعلم انی لا اجعل ارواح النجوم ملائکۃ بل اعلم من ربی ان الملائکۃ مدبرات للشمس والقمر والنجوم وکل مافی السماء والارض وقد قال اللہ تعالٰی ان کل نفس لما علیھا حافظ وقال فالمدبرات امرا ومثل تلک الایات کثیر فی القرآن فطوبی للمتدبرین‘‘(حمامۃ البشری ص۷۸،۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶)

’’یعنی مخالفین کا یہ اعتراض بھی ہے کہ یہ شخص ملائکہ کو سورج اورچاند اورستاروں کی ارواح خیال کرتاہے۔ جواباً واضح ہو کہ انہوں نے ایسا سمجھنے میں غلطی کی ہے اوراللہجانتاہے کہ میں ستاروں کی ارواح کوقرارنہیں دیتا۔ بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ علم دیاگیاہے کہ ملائکہ سورج اورچاند اورستاروں اور ہر اس چیز کے جو آسمان وزمین میں ہے، مدبرہیں اور اللہتعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایاہے: ’’وان کل نفس لمّا علیھاحافظ‘‘ اورفرمایاہے:’’والمدبّرات امرا‘‘ اور ایسی آیات قرآن مجید میں بہت ہیں۔ پس سعادت ہے غور کرنے والوں کے لئے۔‘‘

اورمدعاعلیہ کے اس سوال کا جوا س نے توضیح مرام کی عبارت کی بناء پر کیاہے اورجس کا میں نے ابھی جواب دیاہے۔ حضرت اقدس خود بھی جواب دے چکے ہیں۔ چنانچہ آپ اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں مختارمدعیہ کے ہم رنگ مولویوں کا پہلے سوال درج کرتے ہیں اور پھر اس کا جواب تحریر فرماتے ہیں۔

(سوال) ملائک اورجبرئیلm کے وجود سے انکارکیاہے اور ان کوتوضیح مرام میں کواکب کی قوتیں ٹھہرایاہے۔ (جواب) یہ آپ کا دھوکاہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ عاجز ملائکہ اورجبرئیل کے وجود کو اسی طرح مانتاہے۔ جس طرح قرآن اورحدیث میں واردہے اورجیسا کہ قرآن مجید اوراحادیث صحیحہ کی روسے ملائک کے اجرام سماوی سے خادمانہ تعلقات پائے جاتے ہیں یاجوکام خاص طور پر انہیں سپرد ہورہاہے اس کی تشریح رسالہ توضیح مرام میں ہے:

109
  1. چوبشنوی سخن اہل دل مگو کہ خطا است

    سخن شناس نۂ دلبرا خطا ایں جا است

(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰)

اب جائے انصاف ہے کہ حضرت اقدس نے توضیح مرام کی عبارت کے متعلق اپنی قطعی ویقینی مراد اس قدر صراحت ووضاحت سے ظاہر فرمادی ہے۔ لیکن باوجود اس کے اس قطعی اوریقینی مراد کو چھوڑ کر عدالت اور پبلک کو مغالطہ دینے کے لئے آپ کی عبارت توضیح مرام کے وہ معنی لئے جاتے ہیں جو قطعی اور یقینی طور پر غلط ہیں۔ پھر اپنے ان خود تراشیدہ لغووباطل معنی کی بناء پر کفر کا فتویٰ دیاجاتاہے۔ مجھے اس وقت مختارمدعیہ نمبر۲کی جو گواہ مدعیہ نمبر۲بھی ہے اورناظم تعلیمات دارالعلوم دیوبند بھی رہ چکاہے۔ ایک عبارت یادآگئی جو اس نے مولوی احمدرضاخان صاحب بریلوی کے لئے لکھی تھی۔ میں حسب ضرورت موقع صرف ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ اس کو پیش کردینا مناسب وقت سمجھتاہوں کہ حقیقتاً وہ اسی موقعہ کے لئے ہے نہ اس موقع کے واسطے۔ جہاں وہ پیش کی گئی تھی اور وہ یہ ہے: ’’دھوکہ دینے کے واسطے قطعی ویقینی مراد سے اعراض فرمایاجاتاہے اور جوقطعی اوریقینی غلط معنی ہیں وہی مراد لے کر قطعی اور یقینی تکفیر فرمائی جاتی ہے۔ اے چودھویں صدی! جب تیرے علماء ایسے ہیں تو دجال کیسے ہوں گے۔‘‘(السحاب المدرارص۴۵)

اب مناسب معلوم ہوتاہے کہ فرشتوں کے بارہ میں مختارمدعیہ کے نزدیک سرسیدکا جن کو انہوں نے علیہ الرحمۃ کہاہے، مذہب بھی بیان کردیاجاوے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’قرآن مجید سے فرشتوں کا ایسا وجود جیسا کہ مسلمانوں نے اعتقاد کر رکھاہے ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ برخلاف اس کے پایاجاتاہے۔

۲… جن فرشتوں کا قرآن میں ذکرہے، ان کا اصل وجود نہیں ہوسکتا۔بلکہ خداکی بے انتہاقدرتوں کے ظہور کو اوران قویٰ کو جوخدانے اپنی تمام مخلوق میں مختلف قسم کے پیداکئے ہیں، ملک یا ملائکہ کہاہے۔ جن میں سے ایک شیطان یا ابلیس بھی ہے۔‘‘ (تفسیر سرسیدج۱ ص۴۹)

اورلکھتے ہیں: ’’اصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں خداتعالیٰ انسانوں کی فطرت کو اور اس کے جذبات کو بتلاتاہے اورجو قویٰ بہیمیہ اس میں ہیں، ان کی برائی یا ان کی دشمنی سے اس کو آگاہ کرتاہے۔ مگر یہ ایک نہایت دقیق راز تھا جوعام لوگوں کی اور اونٹ چرانے والوں کے لئے قصے یاخدا اور فرشتوں کے مباحثہ کے طور پر اس فطرت کو بیان کیاہے تاکہ ہر کوئی خواہ اس کو فطرت کا راز سمجھے خواہ فرشتوں اورخدا کا مباحثہ، خواہ شیطان اورخدا کا جھگڑا۔ اصل مقصدحاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔ (تفسیر سرسیدص۵۳)

اب یہ امر خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے کہ مختارمدعیہ فرشتوں کے متعلق وہ عقیدہ رکھنے پرجو میں حضرت اقدس کی تحریروں سے ادھردکھاچکاہوں حضرت اقدس پر توکفر کا فتویٰ دیتاہے اور سر سیداحمدخان کو فرشتوں کی بابت باوجود یہ عقیدہ رکھنے کے جو ابھی میں نے ان کی تفسیر سے نقل کیاہے۔ ان کو الفاظ ’’رحمۃ اللہعلیہ‘‘ کا مستحق قراردیتاہے۔

(۲) نزول ملائکہ

شاہد مدعیہ نمبرب نے حضرت مسیح موعود پر نزول ملائکہ کے متعلق یہ اعتراض کیا ہے کہ: ’’آپ جبرئیل کے زمین پرنزول اورملک الموت کے بذات خودزمین پر اترکرقبض ارواح کرنے کے قائل نہیں ہیں اور جبرئیل کے نزول کو جوشرع میں وارد ہے۔ اس کی تأثیر کا نزول مانتے ہیں اورجوصورت جبرئیل کی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کو جبرئیل کا عکس بتاتے ہیں۔‘‘

(اما الجواب) حضرت مسیح موعود نے نزول جبرئیل وملک الموت کی اصل حقیقت نہایت مدلل طور پر توضیح مرام میں بیان فرمادی ہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اس جگہ اس بات کا بیان کردنیا بے موقعہ نہ ہوگا کہ جوکچھ ہم نے روح القدس اورروح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے، یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہل اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں، منافی نہیں ہے۔ کیونکہ محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے

110

قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کرزمین پراترتے ہیں اوریہ خیال بہ بداہت باطل ہے۔ کیونکہ اگریہی ضرورہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجاآوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیرہونا بغائت درجہ محال تھا۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزار ہاایسے لوگوں کی جانیں نکالتاہے جو مختلف بلاد اور امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔ اگرہر ایک کے لئے اسباب کامحتاج ہوکر اورپیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اورگھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا موقعہ ملے تو ایک سیکنڈ میں اتنی بڑی کارگزاری کے لئے کوئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیںہوسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفۃ العین کے یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہاں گھوم کر چلاآوے ہرگزنہیں۔ بلکہ فرشتے اپنے اصل مقامات سے جوان کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے مقررہیں۔ ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خداتعالیٰ ان کی طرف سے قرآن مجید میں فرماتاہے:’’وما منا الا لہ مقام معلوم وانا لنحن الصآفون (صافات)‘‘ (توضیح مرام ص۲۹تا۳۲، خزائن ج۳ ص۶۶،۶۷)

حضرت مسیح موعود نے اس عبارت میں جو حضرت عزرائیل وغیرہ فرشتوں کے نزول کی حقیقت بیان فرمائی ہے وہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ تمام فرشتے اپنے مقام معلوم میں موجودہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے مستقر سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اور حضرت جبرئیل کا انبیاء کے پاس آنا صرف تمثیلی رنگ میں تھا۔ چنانچہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’یاتی الملک احیانا فی مثل صلصلۃ الجرس فیفصم عنی وقد وعیت ماقال وھو اشد علیّ ویتمثل لی الملک احیانارجلا فیکلمنی فاعی مایقول‘‘ (بخاری ج۲ ص۴۲ا، باب ذکر الملائکہ)

کہ فرشتہ کبھی تو گھنٹی کی آواز کے تمثیل میںآتاہے اور یہ صورت مجھ پر سخت ہوتی ہے اوربعض دفعہ وہ انسان کی تمثیل میں آتاہے تو وہ مجھ سے کلام کرتاہے تو میں اس کی بات کو یاد رکھتاہوں۔

اس سے بھی ثابت ہے کہ جبرئیل کا نزول تمثیلی طور پرہی ہوتاہے۔ خود آنحضرتﷺ نے بھی جبرئیل کے نزول کو تمثیلی رنگ میں ہی بتایاہے اور اسی طرح حضرت مریم کا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ اللہتعالیٰ نے بھی فرمایاہے:’’فتمثل لھا بشراً سویا‘‘ یعنی وہ روح القدس فرشتہ حضرت مریم کے لئے انسانی صورت میں متمثل ہوکر ظاہرہوا۔

اورحضرت مسیح موعود کتاب ’’مدراج النبوۃ‘‘ مؤلفہ شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی سے جبرئیل کے تمثیلی نزول کا ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ شیخ بزرگ عبدالحق محدث کو جزائے خیر دیوے کیونکہ انہوں نے بصدق دل قبول کرلیا کہ جبرئیل بذات خود نازل نہیں ہوتا۔ بلکہ ایک تمثیلی وجود انبیاءؑ کو دکھائی دیتاہے اور جبرئیل اپنے مقام آسمان میں ثابت اوربرقرارہے۔ یہ وہی عقیدہ ہے جو اس عاجزکا ہے جس پر حال کے کورباطن علماء کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ افسوس کہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اس بات پر تمام مفسرین نے بھی اتفاق کیاہے کہ جبرئیلm اپنے حقیقی وجود کے ساتھ صرف دومرتبہ آنحضرتﷺ کو دکھائی دیاہے اورایک بچہ بھی اس بات کو سمجھ سکتاہے کہ اگر وہ اپنے اصل اورحقیقی وجود کے ساتھ آنحضرتﷺ کے پاس آئے توخود یہ غیرممکن تھا۔ کیونکہ ان کا حقیقی وجود تو مشرق ومغرب میں پھیلاہواہے اور ان کے بازوآسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ پھر وہ مکہ یا مدینہ میں کیونکر سماسکتے تھے۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۱۲۲،۱۲۳، خزائن ج۵ ص۱۲۲،۱۲۳)

اوربخاری اورمسلم میں حضرت عائشہt نے آیت:’’ولقد راٰہ بالافق المبین‘‘ اور آیت:‘‘ولقدراٰہ نزلۃ‘‘ کی تفسیر میں فرمایاہے: ’’فقالت انا اوّل ھذہ الامۃ سال عن ذٰلک رسول اللہﷺ فقال لا انماھو جبرئیل لم ارہ علی صورتہ التی

111
خلق علیھا غیرھاتین المرتین رایتہٗ منھبطاً من السماء سار اعظم خلقہ بین السماء والارض‘‘ (مسلم ج۱ ص۷۴)

اس میں حضرت عائشہt نے یہ فرمایاہے کہ: ’’میں اس امت کا سب سے پہلا فرد ہوںجس نے آنحضرتﷺ سے خداکو دیکھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ میںنے خداکونہیں دیکھا بلکہ جبرئیل کو دیکھاتھا۔ میں نے اسے حقیقی صورت میں جس پر وہ پیداکیاگیاہے، سوائے ان دومرتبہ کے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا اور اس کے عظیم الشان وجودزمین سے آسمان تک تمام افق بھراہواتھا۔‘‘

اوربخاری میں ہے: ’’انہ رای جبرئیل ولہ ستمائۃ جناح‘‘ (بخاری ذکرالملائکہ ج۲ ص۱۴۴)

یعنی آپ نے جبرئیل کو دیکھا کہ اس کے چھ سو۶۰۰پرتھے۔

ان احادیث سے ظاہر ہے کہ جبرئیل وغیرہ ملائکہ اپنی حقیقی صورت میں نازل نہیں ہواکرتے، بلکہ ان کا زمین پر آنابصورت انسانی تمثلی رنگ میں ہوتاہے۔ ورنہ آنحضرتﷺ کا جبرئیلm کوان کی اصل صورت میں صرف دوہی بار دیکھنا کیا معنی رکھتاہے۔ جب کہ وہ بکثرت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔

علاوہ ان کے اور علماء امت نے بھی تسلیم کیاہے کہ جبرئیل مثالی طور پر دکھائی دیتے تھے اورخود نہیں اترتے تھے۔ چنانچہ’’روح المعانی‘‘ میں لکھاہے کہ: ’’آنحضرتﷺ کی روح مقدس کا دکھائی دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض نے نزول جبرئیل کے متعلق کہاہے۔‘‘

’’ان جبرئیل مع ظہور بین یدی النبیa فی صورتہ دحیۃ الکلبی اوغیرہ لما یفارق سدرۃ المنتھٰی‘‘ (روح المعانی ج۷ ص۶۲)

یعنی جبرئیلm آنحضرتﷺ کے سامنے دحیہ کلبی وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہونے کے باوجود سدرۃ المنتہیٰ سے کبھی علیحدہ نہیں ہوئے۔

یہ ہے قرآن شریف اوراحادیث اوراکابر بزرگان اسلام کے بیان کی روسے نزول جبرئیل کی حقیقت اورحضرت مسیح موعود کا مسلک بھی اسی کے مطابق ہے۔ ایسی حالت میں اس عقیدہ کے متعلق حضرت اقدس پر اعتراض کرنا، ان سب بزرگان پرجویہی مسلک رکھتے ہیں اعتراض کرناہے۔ بلکہ حضورانورنبی کریمa اورحق تعالیٰ عزاسمہ وجل شانہ کی ذات پاک پر بھی۔ کیونکہ حدیث وقرآن سے بھی جبرئیلm کانزول بطورتمثل ہی ثابت ہوتاہے نہ اس کے خلاف۔ گواہ مدعیہ نے جبرئیل کے تمثیلی نزول کو خلاف نزول وارد شرع تو قراردیا مگر نہ تو وہ کوئی حدیث یاآیت ایسی پیش کرسکاہے جس سے جبرئیل وملک الموت کا ذاتی نزول ثابت ہوتا اور نہ اس نے ان دلائل میں سے جو تمثیلی نزول کے متعلق حضرت مسیح موعود نے پیش کی ہیں، کوئی دلیل توڑ کر دکھائی ہے۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ کہہ دینا کہ آپ ملائکہ کے نزول وارد شرع کونہیں مانتے۔ لغووباطل ہونے کے لحاظ سے قطعاً قابل التفات نہیں۔ ملائکہ اورجبرئیل کانزول وارد شرع رہی ہے جوقرآن وحدیث اوراقوال اکابرامت سے ظاہرہے اور وہی حضرت اقدس مانتے ہیں۔

(۳) نجوم کی تاثیر

اورشاہد مدعیہ نمبرب نے یہ اعتراض بھی کیاہے کہ: ’’مرزا صاحب اس وجہ سے بھی مسلمان نہیں ہیں کہ وہ نجوم کی تاثیر کے قائل ہیں۔‘‘ چنانچہ (توضیح مرام ص۵) میں لکھتے ہیںکہ: ’’دنیا میں جوکچھ ہورہاہے،نجوم کی تاثیرہے۔‘‘

اماالجواب: (توضیح مرام ص۵) پر یہ عبارت نہیں ہے۔ البتہ (ص۳۸) پر آپ فرماتے ہیں: ’’آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں۔ وہ کائنات الارض کی تکمیل وتربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں۔ غرض یہ نہایت جچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پرچڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات اورجمادات اورحیوانات پر آسمانی کواکب کا

112

دن رات اثرپڑرہاہے اورجاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر توضروریقین رکھتا ہو گا کہ چاند کی روشنی پھلوں کو موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کے پکانے کے لئے اور شیریں کر نے کے لئے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے کے لئے بلاشبہ مؤثرہیں۔‘‘(توضیح مرام ص۳۸، ۳۹، خزائن ج۳ ص۷۰،۷۱)

اس زمین میں نجوم کی تأثیر کا انکار کرنا تو تجربہ اورمشاہدہ کو غلط اورباطل ٹھہراناہے اور یہ ایسی واضح بات ہے کہ جس کا انکار ایک کم فہم آدمی بھی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ عقائد کی کتاب ’’نبراس‘‘ میں لکھاہے:’’اما القول بان الکواکب اسباب وعلامات بتسخیر الواجب تعالٰی فلاکفر بل قد اعترف بہ المحققون کالامام الغزالی وصاحب الفتوحات‘‘ (نبراس ص۱۹۲، مطبوعہ میرٹھ)

یعنی یہ کہنا کہ ستارے اللہتعالیٰ کے مسخر کرنے کی وجہ سے بعض چیزوں کے حدوث یا تغیّر کے لئے ذرائع اورعلامات ہیں تو یہ کفرنہیںہے۔ بلکہ محققین نے اس امر کا اعتراف کیاہے۔ جیسے امام غزالی اورشیخ محی الدین ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ نے۔‘‘

اور اسی کی کتاب کے (حاشیہ ص۴۲۸)میں لکھاہے: ’’وقد صرح الشیخ الاکبر فی الفتوحات فی مواضع کثیرۃ بان حرکات الافلاک والکواکب واوضاعھا مؤثرات وعلامات باذن الحق سبحانہ فی العناصر وقال لو عرف الجھال المنکرون لھٰذا العلم فی قولہٖ تعالٰی والنجوم مسخرات بامرہٖ لما قالوا شیئاً مماقالوا‘‘

یعنی شیخ اکبر نے فتوحات کے بہت سے مقامات پر تصریح کی ہے کہ آسمانوں اور ستاروں کے حرکات اور اوضاع اللہتعالیٰ کے اذن سے عناصر میں مؤخرہیں یابطور علامات کے ہیں اورانہوں نے یہ بھی کہاہے کہ اگر اس علم سے جاہل اور منکر لوگ جانتے کہ نجوم بھی اللہتعالیٰ کے زیر حکم خدمات میں لگے ہوئے ہیں تو جو اعتراض وہ کرتے ہیں نہ کرتے۔

اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ ج۲ ص۱۷۹)میں فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’انواع اورنجوم میں کسی حقیقت کا پایاجانابعید امرنہیں ہے اور شریعت میں اس کو شغل بنالینے سے منع کیاگیاہے کہ اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ کیونکہ بعض تأثیرات تو بدیہیات اور ادلیات میں سے ہیں۔ جیسے فصلوں کو اختلاف سورج اورچاند کے اختلافات کی وجہ سے ہے اور ایسی اور تأثیرات۔ بعض ایسی تاثیرات ہیں جو تجربہ اورحدس اور رصد سے معلوم ہوتی ہیں۔ پس جیساکہ ہر ایک نوع کے لئے گرمی اورسردی، خشکی اور رطوبت کے لحاظ سے جو امراض کے دفعیہ کے لئے وقت ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔ مخصوص طبائع میں اسی طرح افلاک اور کواکب کی طبائع اورخواص ہیں۔ جیسے سورج کی حرارت اورچاند کی رطوبت۔ پس جب کوئی ستارہ اپنے محل میں آتاہے تو اس وقت اس کی قوت زمین میںظاہر ہوتی ہے۔ کیا تجھے علم نہیں کہ عورت عورتوں کے عادات اور اخلاق سے ایک ایسے سبب کی وجہ سے مختص ہوتی ہے جو اس کی طبیعت میں پایاجاتاہے۔ اگرچہ اس کا ادراک کرنا مشکل ہے۔ اسی طرح مرد کی طبیعت میں ایک بات پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ جرأت اور جمہوریت وغیرہ صفات سے مختص ہوگیاہے۔ پس تجھے اس امر کا بھی انکارنہیں کرناچاہئے کہ زہرہ اور مریخ کے قویٰ کے زمین پرحلول کرنے کے وقت ان پوشیدہ طبائع مذکورہ کی طرح تأثیر ہو۔‘‘

پس بقول شاہ ولی اللہصاحب حدیث میں مطلقاً نجوم کی تأثیر سے انکارنہیں کیاگیابلکہ اس امر سے منع کیا گیاہے کہ حقیقی طور پر نجوم اور انواع مؤثر سمجھے جائیں اور خیال کیا جائے کہ نجوم ہی ان اشیاء کے حصول کی حقیقی علت اور سبب ہیں۔ چنانچہ شاہد مدعیہ نے جس کتاب سے یہ اعتراض کیاہے۔ حضرت مسیح موعود نے اسی میں اس امر کی تردید فرمادی ہے کہ نجوم حقیقی طور پر مؤثرنہیں ہیں، بلکہ حقیقی مؤثر اللہتعالیٰ ہی ہے اور ان کی تأثیر اللہتعالیٰ کے حکم کے موافق ہے۔ آپ فرماتے ہیں:’’یحسبون الشمس والقمر والنجوم مؤثرات بذاتھا ولامؤثر الاھو‘‘ (توضیح مرام ص۷۴، خزائن ج۳ ص۸۹)

113

یعنی لوگ سورج اور چاند اورنجوم کو مؤثربالذات خیال کرتے ہیں۔ درحقیقت سوائے ذات باری کے کوئی مؤثر بالذات نہیں۔ اس شاہد مدعیہ کا اعتراض حضرت مسیح موعود پر ہی نہیں بلکہ تمام محققین امت پرہے اور اس کے اعتراض کو صحیح ماننے کی صورت میں مشاہدات اور تجارب صحیحہ کا انکار کرنا پڑتاہے۔

(۴) ’’پاک تثلیت‘‘

اور اس شاہدمدعیہ نمبرب نے ایک یہ بھی اعتراض کیاہے کہ مرزا صاحب نے روح القدس اور روح الامین سب انسانوں کی صفتیں بتائی ہیں اور لکھاہے کہ یہی پاک تثلیث ہے جوخدا کی محبت اور آدمی کی محبت کے ملنے سے بطور نتیجہ پیداہوتی ہے۔

شاہدمدعیہ کا یہ الزام کہ حضرت مسیح موعود نے یہ لکھاہے کہ روح القدس اور روح الامین سب انسان کی صفتیں ہیں بالکل غلط ہے آپ فرماتے ہیں: ’’اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت ہے، قویٰ ایمان سے ملی ہوتی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں باارادہ الٰہی پیدا ہوکر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اورمادہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اورمخلوق میں پیدا ہوکر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کو ہیزمثال محبت کو پکڑلیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیداہوجاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ (توضیح مرام ص۲۱،اس کے لئے تفصیل ملاحظہ ہو، توضیح مرام ص۲۱تا۲۶، خزائن ج۳ ص۶۱تا۶۶)

اورشاہد مدعیہ کا یہ کہنا کہ حضرت مرزا صاحب تثلیث کے قائل ہیں، عدالت کو مغالطہ دیناہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے یہاں تثلیث سے عیسائیوں کی تثلیث(یعنی تین خداہونا)مرادنہیں لی۔ بلکہ آپ فرماتے ہیں: ’’اوریہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں سے مشرکانہ طورپر سمجھ لیاہے اور ذرہ امکان کوجو’’ہالکۃ الذات‘‘ اور ’’باطلۃ الحقیقۃ‘‘ ہے۔ حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابرٹھہرا دیا ہے۔‘‘(توضیح مرام ص۲۲، خزائن ج۳ ص۶۲)

’’پس اس میں توعیسائیوں کی تثلیث کی تردیدہے نہ کہ اس کا اقرار۔ جس طریق پرحضرت اقدس نے لفظ تثلیث کا استعمال فرمایاہے وہ بالکل برمحل اور درست ہے۔ لیکن اس پراعتراض کرنے کی وجہ سے معلوم ہوتاہے کہ شاید مختاروگواہان مدعیہ اس کو کسی طرح بھی قابل استعمال نہیں جانتے اوراگریہی بات ہے تو حددرجہ کی لغویت ہے۔ کیونکہ اس طرح تو ’’ثانی اثنین (توبہ)‘‘کا استعمال بھی جائز نہیں ہوناچاہئے۔ کیونکہ فرقہ ثانویہ دوخدائوں کا قال ہے اور اس کی تردید میں اللہتعالیٰ نے فرمایاہے: ’’لا تتخذوا الٰھین الثنین (نحل)‘‘ کہ تم دوخدا مت بنائو اور پھر اس وجہ سے ازواج مطہرہ پاک جوڑے کا لفظ بھی نہیں بولنا چاہئے اور مؤمنوں کے لئے ’’من یکفر بالطاغوت‘‘ میں کفرکے لفظ کا استعمال بھی جائز نہیں ہوناچاہئے تھا تاکہ کافروں سے مؤمنوں کی لفظ کفر میں مشابہت نہ ہوجائے۔ پس لفظی اشتراک کی وجہ سے عقیدہ ثابت نہیں ہوجاتا۔ ‘‘

حضرت مسیح موعود نے عیسائیوں کے تثلیثی عقیدہ کی تردید اپنی متعددکتب میں کی ہے اورملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایاہے: ’’اس نے (یعنی خدانے) میرے پرظاہر کیاہے کہ وہ اکیلاہے اورغیرمتغیر اور قادر اورغیر محدودخداہے۔ جس کی مانند اورکوئی نہیں۔‘‘(تحفہ قیصریہ ص۲۰، خزائن ج۱۲ ص۲۷۲)

پس حضرت مسیح موعود پر مخالفین کا یہ الزام کہ آپ نعوذباللہ! عیسائیوں والی تثلیث کے قائل ہیں باوجود ملائکہ کے منکرہیں محض کذب صریح وافترا قبیح ہے۔‘‘

114

قرآن مجید کی توہین

(۱) قرآن شریف خداکی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں

(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷)

مختارمدعیہ نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کو اللہتعالیٰ کی کتب پر ایمان نہیں ہے۔ حضرت اقدس پر یہ الزام لگایاہے کہ آپ نے لکھاہے: ’’قرآن خداکی کتاب ہے اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ اور اس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ مرزا صاحب نے قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں قراردیاہے تولاریب انہوں نے پاک قرآن کی توہین کی۔ لیکن یہ بھی من جملہ مختارمدعیہ کے بہت سے مغالطوں کے ایک مکروہ مغالطہ ہے۔ کیونکہ جس جملہ کے متعلق اس نے یہ یقین دلاناچاہاہے کہ وہ مسیح موعود کا قول ہے وہ درحقیقت حضورکاقول نہیں بلکہ اللہتعالیٰ کا الہام ہے۔ مختارمدعیہ نے اس کو حقیقت الوحی کے مجموعہ الہامات میں سے نقل بھی کیاہے اور اس مقام پر یہ اپنے سابقہ الہاموں کے ساتھ اس طرح درج ہے: ’’خدا تیرے سب کام درست کردے گا اورتیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اس نشان کا مدعایہ ہے کہ قرآن شریف خداکی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۶،۸۷)

اوریہ مجموعہ الہامات (حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳) سے شروع ہوکر (ص۱۰۸، خزائن ج۲۲ ص۱۱۱)تک چلاگیاہے اور اس مجموعہ الہامات سے پہلے (ص۶۹، خزائن ج۲۲ ص۷۲) میں حضرت مسیح موعود نے تحریرفرمایاہے: ’’اب ہم وہ الہامات بطور نمونہ ذیل میں لکھتے ہیں۔‘‘ اور اس کے بعد آپ نے مجھے الہامات شروع کیاہے اور (ص۸۴، خزائن ج۲۲ ص۸۷) پر الہام مذکورہ درج فرمایاہے اورجب یہ ثابت ہے کہ یہ الہام ہے تو اس میں ’’میرے منہ‘‘ سے حضرت اقدس کا منہ مراد نہیں ہوسکتا بلکہ اللہتعالیٰ ہی کا منہ مراد ہوسکتاہے۔ یعنی اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ قرآن شریف خداکی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ اس قسم کے اختلاف ضمائر کی مثالیں جابجاقرآن شریف میں موجودہیں۔ نمونہ کے طور پر سورہ فاتحہ ہی دیکھ لی جاوے کہ ’’الحمد ﷲ رب العالمین‘‘ میں تو غائب کا صیغہ رکھاگیاہے اور ’’ایاک نعبد‘‘ میں مخاطب کا۔

غرض جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیاہے کہ یہ حضرت اقدس کا قول نہیں بلکہ الہام الٰہی ہے۔ صرف اس امر کے علم سے کہ یہ الہام ہے اس پر وہ اعتراض نہیں ہوناچاہئے تھا جوکیاگیاہے اورمجموعہ الہامات کے اندراس کے موجود ہونے سے اس کا الہام ہونابخوبی ظاہرتھا۔ لیکن بات یہاں تک پہنچ کرہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے متعلق حضرت اقدس سے سوال بھی کیاگیاہے کہ اس الہام میں میرے منہ کی باتوں سے کس کے منہ کی باتیں مرادہیں اور’’میرے‘‘ کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے توآپ نے اس کا یہ جواب دیاکہ: ’’خداکے منہ کی باتیں۔‘‘ خداتعالیٰ فرماتاہے: ’’میرے منہ کی باتیں اس طرح کی ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجودہیں۔‘‘(ملاحظہ ہواخبار بدر۱۱؍جولائی۱۹۰۵ء)

مگر بایں ہمہ مختارمدعیہ نے اس اعتراض کرنے میں کوئی تأمل نہیں کیاہے۔ ایک تو یہ الہام تھا۔ اس لئے منہ سے خداتعالیٰ کا منہ

115

مراد ہوسکتاتھا نہ کسی اور کا۔ دوسرے ملہم نے ایک سوال کے جواب میں اس کی تشریح بھی فرمادی تھی کہ یہ الہام میں جو ’’میرے منہ‘‘ کے الفاظ ہیں، ان سے خداتعالیٰ کا منہ مراد ہے۔ ایسے صاف لکھے ہوئے مضمون کی موجودگی میں اور پھر اس قدرتشریح کردئیے جانے کی حالت میں خلاف منشائے متکلم معنی لے کر ان پر رائے زنی کرنا، جتنی قابل نفرت حرکت ہے میں اس کے متعلق خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔بلکہ مختارمدعیہ نمبر۲ کی رائے پیش کئے دیتاہوں وہ کہتاہے۔

اگرایسے صاف کھلے ہوئے مضامین پربھی اختیار ہے کہ جس کا جی چاہے عبارت کا مطلب کہہ دے اور فتویٰ دے دے۔ اب مسلمانی تو دنیا میں رہنے کی نہیں۔ مگر اس کانتیجہ بجز ذلت ورسوائی کچھ نہیں ہے۔ کوئی شخص کسی کے کہنے سے کافرنہیں ہوسکتا۔(السحاب المدرارص۴۸)

(۲)فبایّ حدیث بعدہ یؤمنون

(الہدیٰ ص۸۲، خزائن ج۱۸ ص۳۳۱)

مختارمدعیہ نے عدالت کو ایک یہ مغالطہ دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنی وحی کو قرآنی وحی کی طرح مانتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات وانجیل اور قرآن پر۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

اور فرماتے ہیں ؎

ہمچو قرآن منزہ اش دانم

اور یہ امر قرآن مجید کی آیت: ’’فبایّ حدیث بعدہ یؤمنون‘‘ کے صریح خلاف ہے۔ مختارمدعیہ نے آیت توپیش کردی، مگر اس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ اگر مطلب سمجھتا تو یہ آیت کبھی پیش ہی نہ کرتا۔ کیونکہ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن مجید کو چھوڑ کر وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔ یعنی قرآن مجید کے مخالف کسی چیز پر ایمان لاناجائز نہیں ہے اور اگر آیت کا یہ مطلب نہ لیاجاوے تو احادیث رسول اللہﷺ اور وحی غیر متلو اور قدسی احادیث وغیرہ سب کا انکار کرنا پڑتاہے۔

اورحضرت مسیح موعود کی وحی قرآن مجید کے بالکل موافق ہے اور اس کاکوئی کلمہ بھی قرآنی تعلیم کے معارض نہیں ہے اور آپ کی وحی کے قرآن کی طرح منزہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ جیسے قرآنی وحی شیطانی دخل سے پاک ہے۔ ویسے ہی حضرت مسیح موعود کی وحی بھی شیطانی دخل سے پاک ہے نہ کہ دونوں وحیاں مرتبہ میں بھی برابرہیں۔ کیونکہ یہاں تشبیہ مرتبہ کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے اور شیطانی دخل سے پاک ہونے کے اعتبار سے ہے۔ جیسے: ’’انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح (النساء)‘‘ میں بھی تشبیہ مرتبہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ خداکی طرف سے ہونے کے لحاظ سے ہے۔ یعنی اس آیت شریفہ میں جوآنحضرتﷺ کی وحی کو حضرت نوح اور دوسرے انبیاءؑ کی وحی کے مانند فرمایاہے تو یہ فرمانا اس لئے نہیں ہے کہ حضورنبی کریمa کی وحی اور دوسرے انبیاءؑ کی وحی مرتبہ میں برابرتھی بلکہ صرف اس لئے فرمایاہے کہ آنحضرتﷺ کی وحی اور دوسرے انبیاءؑ کی وحی اللہ کی طرف سے ہونے میں برابرتھیں۔ ورنہ مرتبہ کے لحاظ سے توآنحضرتﷺ کی وحی کا تمام انبیاء کی وحی سے بمدارج افضل ہوناظاہرہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کے اس قول کا کہ ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے کہ تورات وانجیل اور قرآن پر۔‘‘ یہی مطلب ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے میں سب برابر ہیں۔ مرتبہ میں برابری کا اس میں ذکرنہیں اورحضرت اقدس کے اس قول سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آپ نے اپنی وحی

116

اورقرآنی وحی کو درجہ ومرتبہ میں ایک قراردیاہے۔ ایساہی ہے جیسا کہ کوئی آیت شریفہ مندرجہ بالا سے یہ نتیجہ نکالے کہ اس میں حضرت نوحm اور دیگر انبیاءؑ کی وحی اورآنحضرتﷺ کی وحی کو درجہ ومرتبہ میں برابر بتایاہے۔‘‘

علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود نے نہ ایک جگہ بلکہ جابجا اس امر کا اظہارفرمایاہے کہ قرآنی وحی تمام وحیوں سے افضل اوربرترہے اورکوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ آ پ فرماتے ہیں: ’’خدا کی لعنت ان پر جو یہ دعویٰ کریں کہ وہ قرآن مجید کی مثل لاسکتے ہیں۔ قرآن کریم سراپامعجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس وجن نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اورخوبیاں ہیں، جنہیں انسانی علم ہرگز جمع نہیں کرسکتا۔ بلکہ وہ ایسی پاک وحی ہے کہ اس کی مثل اورکوئی وحی نہیں ہوسکتی۔ اگررحمان کی طرف سے اس کے بعد اور بھی کوئی وحی ہو اورخداتعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاءؑ پر ہوئی، ایسی نہ کسی پر پہلے ہوئی اورنہ کبھی آئندہ ہوگی۔‘‘(الہدیٰ ص۳۲، خزائن ج۱۸ ص۲۷۵،۲۷۶)

اور فرماتے ہیں: ’’سوجیسا کہ فطرت کی رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا۔ ایسا ہی خارجی طور پربھی اعلیٰ اورا رفع مرتبہ وحی کا اس کو عطاء ہوا اوراعلیٰ وارفع مقام محبت ملا۔ یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے جس کا نام مقام جمع اورمقام وحدت تامہ ہے۔‘‘(توضیح مرام ص۲۶، خزائن ج۳ ص۶۴)

چونکہ تفصیل مسئلہ وحی میں آئے گی۔ اس لئے انہیں دوحوالوں پر اکتفاء کرتاہوں اور یہ دوبھی جو رتبہ رکھتے ہیں، ہر منصف مزاج اس کا اندازہ کرسکتاہے۔

(۳) تحدی

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پر ایک اعتراض یہ بھی کیاہے کہ آپ نے اپنے قصیدہ اعجازاحمدی کو بطور تحدی پیش کیاہے اور(خطبہ الہامیہ ٹائٹل پیج،خزائن ج۱۶ص۱) پر آیت کالفظ لکھاہے اور یہ بھی کہ اس کی مثل کوئی نہیں لاسکتا۔ لہٰذا اس سے قرآن مجید کی توہین لازم آتی ہے۔

تعجب ہے کہ مختارمدعیہ تو اس سے توہین قرآن مجید نکال رہاہے۔ مگر سیدنا حضرت مسیح موعود ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہمارا تویہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خداتعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تامعارف حقائق قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہرکریں اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغو طور پر اسلام میں رائج ہوگئی تھی۔ اس کوکلام الٰہی کاخادم بنایاجائے۔‘‘(نزول المسیح ص۵۹،خزائن ج۱۸،ص۴۳۷)

اور جب آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ کو عربی انشاء پردازی کا معجزہ جس میں آپ تمام دنیا کے آدمیوں پر غالب رہے اور عرب وعجم میں کوئی آپ کا مقابلہ نہ کرسکا۔ اس لئے عطاء ہواتھا کہ آپ حقائق قرآن کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کردیں۔ وہ بلاغت جوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی تھی اور جس کا رواج اسلام میں لغو اور بیہودہ طور پر رہ گیاتھا، کلام الٰہی یعنی قرآن شریف کی خادم بنائی جائے اور اس سے قرآن شریف کی خدمت لی جائے۔ مختار مدعیہ کا اعجاز احمدی کی اس تحدی پر کہ اس کاکوئی جواب نہیں لاسکتا۔ یہ اعتراض کہ اس سے قرآن شریف کی ہتک لازم آتی ہے بالکل باطل ثابت ہوکر قطعاً ناقابل التفات ہوگیا۔

اور(خطبہ الہامیہ ٹائٹل پیج، خزائن ج۱۶ ص۱) پر جو آپ نے تحریر فرمایاہے کہ: ’’اس میں نئے معارف اور حقائق بیان کئے گئے ہیں اور میری طرح فی البدیہ ایسی فصیح وبلیغ عبارت میں کوئی نہیں بول سکتا اور یہ خداتعالیٰ کا ایک نشان ہے۔ کیوں کہ یہ معارف اور اس کتاب کا ایک

117

حصہ مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام کیاگیاہے۔‘‘ اگر اس کے نشان سے مختارمدعیہ کے نزدیک قرآن مجید کی توہین لازم آتی ہے تو اس لحاظ سے خود قرآن مجید کو بھی اپنی توہین کا مرتکب ماننا پڑے گا۔ کیونکہ اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’ان فی خلق السمٰوٰت والارض… لآیات لقوم یوقنون‘‘

اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ زمین وآسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور کشتیوں اور ہوائوں اوربادلوں میں یقین کرنے والی قوم کے لئے آیات ہیں۔ اسی طرح فرمایا: ’’وفی الارض آیات للمؤمنین وفی انفسکم افلا تبصرون‘‘ کہ زمین میں بھی یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی آیات اور نشانات ہیں اور خود تمہاری جانوں میں بھی نشانات ہیں۔ پس کسی چیز کے آیت اور نشان ہونے سے قرآن مجید کی توہین لازم نہیں آتی۔

اور قصیدہ اعجازیہ کے متعلق حضرت مسیح موعود نے اللہتعالیٰ سے یہ دعامانگی کہ: ’’میرے پیارے قادر! اور دلوں کے اسرار کے گواہ! میری مدد کر اور ایسا کر کہ یہ تیرا نشان دنیا میں چمکے اورکوئی مخالف میعاد مقررہ میں اس کی نظیر بنانے میں قادر نہ ہو۔ اے میرے پیارے ایسا ہی کر۔‘‘(اعجاز احمدی ص۳۹، خزائن ج۱۹ ص۱۵۰)

اور (ص۳۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۸) پرتصریح فرمادی کہ چونکہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے ہوں اور صادق ہوں۔ اس لئے وہ مدت مقررہ میںقصیدہ نہیں بناسکیں گے۔ کیونکہ خداتعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کردے گا۔

اور (ص۹۰، خزائن ج۱۹ ص۲۰۵) پر آپ نے یہ تحریر فرمادیا: ’’اگر بیس دن میں جودسمبر۱۹۰۲ء کی دسویں تاریخ کے دن کی شام تک ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کردیا تویوں سمجھو کہ میںنیست نابود ہوگیا اورمیرا سلسلہ باطل ہوگیا۔ اس صورت میں میری جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کردیں۔

لیکن مخالفین مدت معینہ میں کوئی جواب نہ لکھ سکے اور ان کے قلم ٹوٹ گئے۔ حضرت مسیح موعود کی صداقت پر یہ چمکتاہوا نشان قیامت کے دن تک باقی رہ گیا۔ یہ یاد رہے کہ قرآن کریم کی تحدی اور اس تحدی میں فرق ہے۔ قرآن مجید میں کسی مہلت کاذکرنہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود کی تحدی میں مہلت کا ذکرہے۔ یعنی اس مہلت کے اندر اندر خداتعالیٰ مولویوں اورعالموں کے دلوں اور قلموں پر ایساتصرف کرے گا کہ وہ اس کتاب کے مقابلہ میں کچھ نہ کچھ لکھ سکیں۔ یہ امر یقینی خداتعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک نشان ہے۔ بحوالہ (الہدی ص۳۲، خزائن ج۱۸ ص۲۷۵) میں ذکرکرچکاہوں کہ: ’’خدا کی لعنت ان پر جو یہ دعویٰ کریں کہ وہ قرآن کی مثل لاسکتے ہیں۔ قرآن کریم سراپا معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس وجن نہیں لاسکتا۔ اس میں وہ معارف اورخوبیاں جمع ہیں، جنہیں انسانی علم ہرگز جمع نہیں کرسکتا۔‘‘

اور فرماتے ہیں: ’’کلما قلت من کمال بلاغتی فی البیان فھو بعد کتاب اللہ القرآن‘‘ (لجنۃ النورص۱۲۲ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص۴۶۴)

یعنی جوکچھ میں نے بیان میں کمال بلاغت سے کہاہے تو وہ خداتعالیٰ کی کتاب قرآن کے بعد ہے۔ یعنی اس کے مرتبہ پر نہیں۔

پس مختارمدعیہ کا لفظ آیت اور قصیدہ اعجازیہ کے مقابلہ میں ویسا قصیدہ بنانے کے لئے تحدی سے قر آن مجید کی توہین نکالنا سراسر مغالطہ ہے۔

118

(۴) کیا قرآن گالیوں سے پرہے؟

مختامدعیہ اور گواہ مدعیہ نمبرالف کا سیدنا حضرت مسیح موعود پر ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ آپ نے قرآن کو گالیوں سے پرماناہے اور یہ لکھاہے کہ: ’’پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم گالیوں سے پرہے۔‘‘ اور اس قول سے قر آن مجید کی صریح توہین لازم آتی ہے۔ لیکن یہ بھی مختارمدعیہ کا ایک صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ حضرت اقدس کی منقولہ بالاعبارت بتارہی ہے کہ اس کا پہلی عبارت سے تعلق ہے۔

اورچونکہ یہ عبارت پہلی عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو کوئی اعتراض پیدانہیں ہوتا۔ اس لئے مختارمدعیہ اور گواہ مدعیہ نے عمداً پہلی عبارت چھوڑ دی ہے اور یہ ناتمام عبارت اس میں سے قطع کرکے اعتراض بے جا کے شوق کو پورا کرنے کی ایک نہایت ہی غیرصحیح راہ پیدا کی ہے۔ اب میں اصل عبارت پیش کرتاہوں تاحقیقت الامر کا انکشاف ہو۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دو مختلف مفہوموں میںفرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہرایک بات کو جودراصل ایک واقعی امر کا اظہارہو اور اپنے محل پرچسپاں ہو، محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جوحق گوئی کے لازم حال ہواکرتی ہے دشنام دہی تصور کرلیتے ہیں۔ حالانکہ دشنام اور سب اورشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جوخلاف واقع اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیاجائے اور اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذاء رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کرسکتے ہیں تو پھر اقرارکرنا پڑے گا کہ سارا قرآن گالیوں سے پرہے۔ کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں، یہ ہر گز ایسے نہیں ہیں، جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوتے ہوں۔ بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی۔ کیاخداتعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرماناکہ: ’’انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم‘‘ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے۔ کیاخداتعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو’’شرالبریہ‘‘ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا، یہ معترض کے خیال کی رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا؟ کیاخداتعالیٰ نے قرآن شریف میں ’’واغلظ علیھم‘‘ نہیں فرمایا۔ کیا مومنوں کی علامات میں ’’اشدآء علی الکفار‘‘ نہیں لکھاگیا۔ کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سور اور کتے کے نام سے پکارنا اورگلیل کے عالی مرتبہ فرماںروا ہیرودیس کا لونبڑی نام رکھنا اورمعزز سردار کاہنوں اور فقیہوں کو کنجری کے ساتھ مثال دینا اور یہودیوں کے بزرگ مقتدائوں کو جو قیصرگورنمنٹ میں اعلیٰ درجہ کے عزت دار اور قصیر ی درباروں میں کرسی نشین تھے، ان کو کریہہ اور نہایت دل آزار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرامزادے ہو، حرام کار ہو، شریر ہو، بد ذات ہو، بے ایمان ہو، احمق ہو، ریاکار ہو، شیطان ہو، جہنمی ہو، تم سانپ ہو، سانپوں کے بچے ہو۔ کیا یہ سب الفاظ معترض کی رائے کے موافق فاش اورگندی گالیاںنہیں ہیں؟ اس سے ظاہر ہے کہ معترض کا اعتراض نہ صرف مجھ پراورمیری کتابوں پر بلکہ درحقیقت معترض نے خداتعالیٰ کی ساری کتابوں اور سارے رسولوں پر نہایت حد درجہ کے جلے سڑے دل کے ساتھ کیاہے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۳تا ۱۵، خزائن ج۳ ص۱۰۹تا۱۱۰)

اس عبارت میں بتایاگیاہے کہ دشنام دہی وسب وشتم اورچیزہے اور بیان وامر واقعہ اورچیز اور پھر دونوں کا فرق ظاہر کر کے جتایاگیاہے کہ اگر بیان واقعہ کو محض اس کی تلخی کے سبب جو حق گوئی میں لازمی ہے، دشنام دہی میں داخل کرلیاجائے تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ

119

سارا قرآن گالیوں سے پرہے۔ کیونکہ بیان واقعہ مع اپنی تلخی اور ایذاء رسانی کے قرآن شریف میں بھی جابجا موجودہے۔ پھر ایسے بیان واقعہ کی متعدد مثالی بھی پیش کردی گئی ہیں۔

’’اب دیکھنا چاہئے کہ اس عبارت سے حضرت اقدس کا منشاء یہ ظاہر کرنا ہے کہ قرآن گالیوں سے پرہے یاآپ ان لوگوں کو جو اپنی بددماغی اورلغویت پسندی کی وجہ سے بیان واقعہ کو دشنام دہی میں داخل کرلینے کی مالیخولیا میں مبتلاہیں یہ تنبیہ فرمارہے ہیں کہ امرحق پوش اور حق گوش لوگو! اپنی غلط پسندی اور بے راہ روی سے قرآن شریف جیسی تقدس اور حقیقی تہذیب سے معمور کتاب کو گالیوں سے پرنہ ٹھہرائو۔ کیونکہ جب تم اپنی حماقت وبلادت سے بیان واقعہ کو محض اس کی کسی قدرلازمی تلخی کی وجہ سے دشنام دہی میں داخل کرو گے تو پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ قرآن بھی گالیوں سے پرہے۔ کیونکہ بیان واقعہ معہ اپنی تلخی کے اس میں بھی موجودہے۔ علم وفہم سے معمولی ساحصہ رکھنے والے بھی نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت اقدس تو بیان واقعہ کو دشنام دہی میں داخل کرنے والے ناعاقبت اندیش لوگوں سے یہ فرمارہے ہیں کہ اپنے اس غلط طرز عمل سے قرآن شریف کو گالیوں سے پر ہونے کے اعتراض کا مورد نہ بنائو۔ نہ یہ کہ آپ خود نعوذباللہ! قرآن شریف کو گالیوں سے پربتارہے ہیں۔‘‘

جب ایسے بدیہی امر کے متعلق بھی مخالفین احمدیت کا یہ حال ہے کہ وہ اس کو بھی مغالطہ دہی کا ذریعہ بنانے سے نہیں چونکتے تو اس سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ فطری امور کے متعلق ان سعادت مندوں کا کیاحال ہوگا۔

بلاخوب تردید کہاجاسکتاہے کہ قرآن شریف کی عظمت وتقدس کے اظہار اور اس کے کامل ومکمل اور ہر لحاظ سے بے نظیرہونے کے بیان اور اس پر عمل پیراہونے کی تاکید اور اس کی تعریف وتوصیف میں جوکچھ حضرت مسیح موعود کے قلم سے نکلاہے۔ اس کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنی بالکل بے سود ہے۔ نمونہ کے طور پر ان کے چند ارشادات پیش کرتاہوں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’حقیقی اورکامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔ سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیاہو۔ کیونکہ جیسا کہ خدانے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ:’’الخیرکلہ فی القرآن‘‘ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔ یہی بات سچ ہے۔ افسوس ان لوگوں پر جو کسی اورچیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔ تمہاری تمام فلاح اورنجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔ کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں ہے جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔ تمہارے ایمان کا مصدق یامکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اورکوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔ خدانے تم پر بہت احسان کیاہے جو قرآن جیسی نعمت تمہیں عنایت کی۔ پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔ یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔ یہ بڑی دولت ہے۔ اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پرتمام ہدایتیں ہیچ ہیں۔‘‘ (کشتی نوح ص۲۴، خزائن ج۱۹ ص۲۶،۲۷)

اور فرماتے ہیں کہ: ’’ہیچ شریعت بعد اونیست ونہ ہیچ کتاب ناسخ کتاب وشریعت اوست وہیچ کس مبدل کلمہ او نیست وہیچ بارشے ہمچو باران اونیست وہر کہ بمقدار یک ذرہ از قرآن خارج باشد پس اواز ایمان خارج شد۔‘‘ (مواہب الرحمن ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۲۸۷)

القصہ آپ فرماتے ہیں ؎

  1. ز عشاق وفرقان وپیغمبرم

    بدیں آمدیم وبدیں بگزریم

120

(۵) بشارت احمد

مختار مدعیہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد مندرجہ (انوار خلافت ص۱۸، انوار العلوم ج۳ ص۸۳) پر کہ آیت:’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں احمد سے مراد حضرت مسیح موعود ہیں اور حضرت عیسیٰؑ کی یہ بشارت اپنے مثیل یعنی محمدی کے حق میں تھی۔ یہ اعتراض کیاہے کہ: ’’چونکہ مرزا محموداحمدصاحب نے اس آیت میں احمد سے حضرت مرزا صاحب مراد لی ہے۔ لہٰذا وہ اس آیت قرآنیہ کے منکرہوئے۔‘‘

مختارمدعیہ کا یہ استدلال نہایت ہی عجیب وغریب ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں ایک ذکر شدہ پیش گوئی کا مصداق بیان کرنے سے آیت کا انکار لازم آنے کی توکوئی صورت ہی نہیں ہے۔ یہ استدلال اتنا محیّر العقول ہے کہ فاضل ججان ہائیکورٹ مدراس بھی اس پر اظہار تعجب کئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔

غرض استدلال مذکور سواء اس کے کہ اہل نظر کو تھوڑی دیر کے لئے تفریح نامطبوع کاکام دے اور وہ اس پر اظہار تعجب کرلیں اورکوئی حقیقت نہیں رکھتا اورصحت سے تو اس کو دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ کیونکہ آیت: ’’ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں ایک ایسے رسول کے آنے کی پیش گوئی ہے جس کانام احمد ہو۔ اب اگر اس احمد کی تعیین کی جائے کہ احمد سے فلاں وجود مرادہے اور وہ تعیین صحیح نہ ہوتو اس سے صرف یہ ثابت ہوگا کہ اسم احمد کی جو تعیین کی گئی ہے وہ غلط کی گئی ہے۔ نہ یہ کہ جس آیت میں احمد کے آنے کی پیش گوئی تھی غلط تعیین کرنے والے نے اس آیت کا انکار کردیاہے اورکون نہیں جانتا کہ کسی مذکورفی الخبر کی تعیین میں غلطی ہوجانا اور بات ہے اور اس خبر کاانکار اوربات ہے۔ مختارمدعیہ نے یہ ذہن نشین کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہبنصرہ نے یہ آیت: ’’اسمہ احمد‘‘ والی پیش گوئی کا مصداق بہرحال وبہرلحاظ حضرت مسیح موعود ہی کو قراردیاہے۔ حضرت سید الانبیاءaکو کسی اعتبار سے اورکسی لحاظ سے بھی نہیں۔ لیکن یہ مختارمدعیہ کا نرا مغالطہ ہے اوراگرچہ یہی صحیح ہوتاتو بھی حضرت خلیفۃ المسیح کی تعیین اسم احمد ازروئے دلائل صحیح ثابت نہ ہوسکنے کی حالت میں اس کا نام تعیین کی غلطی ہی رکھاجاسکتاتھا نہ کہ آیت کا انکار۔ لیکن حقیقت الحال یہ ہے کہ جس طرح مختار مدعیہ کی وہ پہلی بات کہ حضرت خلیفۃ المسیح کے بیان سے آیت کا انکار لازم آتاہے، غلط اور باطل تھی۔ اسی طرح اس کی یہ دوسری بات بھی کہ آپ نے آنحضرتﷺ کو کسی لحاظ سے بھی آیت موصوفہ کا مصداق قرارنہیں دیا، غلط اورباطل ہے۔ کیونکہ آپ نے اس آیت کے دو مصداق قراردئیے ہیں۔ ایک بلحاظ اسم ذاتی کے، اسم وصفی کے لحاظ سے تو آنحضرتﷺ کو مصداق بتایاہے کہ احمدآپ کا اسم وصفی تھا اور اسم ذات کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود کو کہ احمد آپ کا اسم ذات تھا۔

چنانچہ اسم وصفی کے لحاظ سے حضورانورنبی کریمa کے مصداق اوّل آیت موصوفہ ہونے کی بابت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا ارشاد یہ ہے: ’’جس قدر پیش گوئیاں آپ کی امت کی نسبت ہیں، ان کے پہلے مظہر توآنحضرتﷺ ہی ہیں۔ آپ احمد نہ ہوتے تو مسیح موعود کیونکر احمد کہلاسکتاتھا۔ حضرت مسیح موعود کو توجوکچھ ملاہے وہ آنحضرتﷺ کے طفیل ملاہے۔ اگر ایک صفت کی نفی آنحضرتﷺ سے کی جائے تو ساتھ ہی اس صفت کی نفی حضرت مسیح موعود سے بھی ہوجائے گی۔ کیونکہ جوچیز چشمہ میں نہیں ہے وہ گلاس میں کہاںسے آسکتی ہے۔ پس آنحضرتﷺ احمدتھے اور (بلحاظ وصفی) اس پیش گوئی کے اوّل مظہر وہی تھے۔‘‘(القول الفصل ص۲۹، انوار العلوم ج۲ ص۲۸۹)

121

اورآپ (انوار خلافت ص۱۹، انوار العلوم ج۳ ص۸۴) میں فرماتے ہیں: ’’یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کو احمد کہنے میں آنحضرتﷺ کی ہتک نہیں اور اس سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرتﷺ احمدنہ تھے۔ آپ احمدتھے اور ضرورتھے۔ لیکن احمد کی صفت تھی نہ کہ آپ کانام۔ جوشخص کہے کہ احمد آپ کی صفت نہیں تھی وہ جھوٹاہے۔ کیونکہ صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے اور اگر آپ احمدنہ ہوتے توحضرت مسیح موعود احمدہوہی کیونکر سکتے تھے۔ کیونکہ آپ نے جوکچھ حاصل کیاہے وہ آپ (آنحضرتﷺ) کی ہی شاگردی میں حاصل کیاہے۔ لیکن باوجود اس کے یہ کہنا درست نہیں کہ رسول اللہﷺ کا نام احمدتھا۔‘‘

ان عبارتوں میں نہایت صراحت کے ساتھ اقرارکیاگیاہے کہ بلحاظ اسم وصفی آنحضرتﷺ احمد تھے اورضروراحمدتھے۔ ایسے کہ اگرحضوراحمدنہ ہوتے تو مسیح موعود بھی احمد نہیں ہوسکتے تھے اور بلحاظ اسم وصفی پیش گوئی اسمہ احمد کا مصداق اوّل حضورa ہی ہیں۔ لیکن حضورکا اسم ذات احمدنہ تھا۔

اورجن عبارتوں میں یہ بتایاہے کہ بلحاظ اسم ذات اس پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: ’’آنحضرتﷺ کا نام احمدنہ تھا بلکہ محمدتھا… کسی جگہ بھی قرآن کریم میں آنحضرتﷺ کو احمد نام سے یاد نہیں کیاگیا۔ اگر آنحضرتﷺ کانام احمدہوتااورجیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ والدہ کو الہام کے ذریعے سے یہ نام بتایاگیاہوتا تو قرآن کریم میں جو وحی الٰہی ہے، اوّل تو احمدنام ہی آتا اور اگر محمد بھی آتا تواحمدبعض مقامات پر ضرورآتا۔ وہ عجیب الٰہی نام نہ تھا کہ قرآن کریم اس نام سے ایک دفعہ بھی آنحضرتﷺ کو نہیں پکارتا۔ ہرجگہ محمد ہی کے نام سے پکارتاہے۔ (جیسا کہ آیت: ’’ما محمد الارسول‘‘ آیت: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ‘‘ آیت: ’’بما نزل علی محمد‘‘ اور آیت: ’’ماکان محمد ابآ احد من رجالکم‘‘ سے ظاہرہے۔ شمس)

دوسری دلیل آپ کانام احمد نہ ہونے کی یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کانام احمدتھا۔ کلمہ شہادت جس پر اسلام کا دارومدار ہے۔ اس میں بھی محمدرسول اللہ کہاجاتاہے کبھی احمدرسول اللہ نہیں کہاجاتا۔ حالانکہ اگرآپ کانام احمدہوتا توکلمہ شہادت کی کوئی روایت تو یہ بھی ہوتی کہ: ’’اشھد ان احمد رسول اللہ‘‘ پنج وقتہ اذان میں بھی ببانگ بلندمحمدرسول اللہ کہہ کر آپ کی رسالت کا اعلان کیاجاتاہے۔ کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہاجاتا۔ تکبیر میں بھی محمد ہی آنحضرتﷺ کا نام آتا ہے اور درود ’’اللّٰہم صلی علٰی محمد‘‘ میں بھی آنحضرتﷺ کو محمد نام لے کر ہی یادکیاجاتاہے اور اس نام کے رسول پر خداتعالیٰ کی رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔ رسول کریمa کے خطوط کی نقلیں موجودہیں۔ ان سب میں اپنے دستخط کی جگہ محمدنام کی ہی مہر لگائی ہے۔ ایک خط میں بھی احمد اپنا نام تحریرنہیں فرمایا۔ (ہرقل کو جو ایک عیسائی بادشاہ تھا جب آپ نے خط لکھا تو اس پر بھی آپ نے محمدنام کی ہی مہرلگائی۔ حالانکہ اسے یہ بتانے کے لئے کہ میں مسیح کی بشارت کا مصداق ہوں احمدنام کی مہرلگانا زیادہ مناسب تھا۔شمس) اگر آپ کانام احمدہوتا تو پھرصحابہ کرام کی گفتگوئیں احادیث میں مذکورہیں۔ لیکن ایک دفعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کسی صحابی نے آنحضرتﷺ کو احمدکہہ کر پکاراہو اورنہ ان کی آپس کی گفتگو ہی میں یہ نام آتاہے نہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کانام احمدرکھاگیاتھا۔ بلکہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ کانام محمدرکھاگیاتھا۔ آپ کے مخالف جس قدرتھے جن میں خود آپ کے رشتہ دار اورچچابھی شامل تھے۔ سب آپ کو محمد نام سے پکارتے تھے یاشرارت سے مذمم کہہ کرپکارتے تھے کہ وہ بھی محمدکے وزن پرہے۔ غرض جس قدربھی غور کریں اورفکرکریں آپ کانام قرآن کریم سے احادیث سے کلمہ سے اذان سے تکبیر سے درود سے آپ کے خطوط سے معاہدات سے تاریخ سے صحابہ کے اقوال سے محمد ہی معلوم ہوتاہے نہ کہ احمدپھر اس قدردلائل کے ہوتے ہوئے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کانام احمدتھا۔‘‘ (انوارخلافت ص۲۱،۲۲، انوار العلوم ج۳ ص۸۶،۸۷)

122

اورفرماتے ہیں: ’’آیت: ’’مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں ایک ایسے رسول کی پیش گوئی ہے جس کانام احمدہے اور آنحضرتﷺ کی صفت احمدتھی، نام احمدنہ تھا اوردوسرے جونشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں۔ آپ کانام احمدتھا اور آپ احمد کے نام پرہی بیعت لیاکرتے تھے اورخدا نے بھی آپ کانام احمدرکھاتھا۔ آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں سے ملا۔ اس لئے سب باتوں پرغورکرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبردی گئی تھی مسیح موعود ہی ہیں۔ ہاں! اس لحاظ سے کہ آپ کے کل کمالات آنحضرتﷺ سے لئے ہوئے تھے۔ اوّلین مصداق آنحضرتﷺ کو قراردیناضروری ہے۔ مگر اس لئے کہ آپ صفت احمدیہ کے سب سے بڑے مظہرتھے نہ ا س لئے کہ آپ کانام احمدتھا۔ کیونکہ درحقیقت آپ کانام احمدنہ تھا۔‘‘(القول الفصل ص۲۹، انوار العلوم ج۲ ص۲۸۹،۲۹۰)

اور فرماتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ احمدتھے اور سب سے بڑے احمدتھے۔ کیونکہ آپ سے بڑاکوئی مظہرصفت احمدیت کا نہیں ہوا۔ لیکن آپ کانام احمدنہ تھا اور ’’اسمہ احمد‘‘ کا مصداق (بلحاظ اسم ذات احمدہونے کے) مسیح موعودہے۔ ہاں! آنحضرتﷺ کی طرف بھی یہ پیش گوئی بوجہ آقا اور استاد ہونے کے اشارہ کرتی ہے۔‘‘(القول الفصل ص۳۱، انوار العلوم ج۲ ص۲۹۱،۲۹۲)

اورفرماتے ہیں: ’’کسی شخص کا پیش گوئی کا مصداق ہونادلائل سے معلوم ہوتاہے اور جب دلائل اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودہیں تو رسول کریم کی اس میں کسی وجہ سے ہتک نہیں ہوئی؟ یہ کہنا کہ آنحضرتﷺ کانام احمدنہیں آپ کی ہتک نہیں ہے۔ کیونکہ نام کابغیر نام کی صفات کے ہونا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔ جب تک کسی میں اس نام کے مطابق اوصاف نہ پائے جاتے ہوں، نام کوئی قابل عزت بات نہیں۔ دیکھوبعض لوگوں کا نام عبدالرحمن اورعبدالرحیم ہوتاہے۔ لیکن وہ کام عبدالشیطان کے کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض کانام نیک اور شریف ہوتاہے۔ لیکن دراصل وہ بد اور بدوضع ہوتے ہیں توماں باپ کا رکھاہوانام کوئی عزت کی شئے نہیں ہوجاتا۔ اگر ہم رسول کریمa کے متعلق یہ کہیں کہ رسول اللہمیں احمدکی صفت نہیں پائی جاتی تو یہ آپ کی ہتک ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ آپ کانام احمدنہیں، ہرگز آپ کی ہتک کرنا نہیں کہلاسکتا۔ بلکہ یہ امر واقعہ کہلائے گا۔ پس جب کہ نام فضیلت کا ذریعہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کام فضیلت کاذریعہ ہوتے ہیں توپھر آپ کانام احمد نہ ماننے میں آپ کی ہتک کس طرح ہوسکتی ہے۔ اگر رسول کریمa کانام محمدبھی نہ ہوتابلکہ کچھ اورہوتاتوکیا اس میں آپ کی ہتک ہوجاتی؟ اور کیا آپ کے ہرکام میں کمی آجاتی؟ آپ کانام جوکچھ بھی ہوتاوہی بابرکت ہوتا اور اس نام پردنیا اسی طرح فداہوتی جس طرح آپ کے محمدنام پرفداہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ آپ کے نام پر فدانہیں ہوتے بلکہ درحقیقت آپ کے کام پر فداہوتے ہیں۔ پس اگر یہ کہاجاتاہے کہ آنحضرتﷺ کانام احمدنہیں۔ ہاں! احمد کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں توپھر نادان ہے وہ جویہ کہے کہ ایسا کہنے سے آپ کی ہتک ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جو احمد کی خبردی گئی ہے اس کے متعلق میں نے وہ آیت پڑھ دی ہیں۔ جن میں احمدکاذکرہے اوراب میں خداتعالیٰ کے فضل سے بتاتاہوں کہ آیات میں احمدکااصل مصداق (اس لحاظ سے کہ آپ کا اسم ذات احمدتھا) حضرت مسیح موعود ہی ہیں اورآنحضرتﷺ نام کے لحاظ سے احمدکامصداق نہیں۔ کیونکہ آپ کانام احمدنہیںبلکہ محمدتھا۔ صرف صفت احمدیت کی وجہ سے اس کے مصداق ہیں۔ ورنہ جس احمدنام کے انسان کے متعلق خبرہے وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔(انوارخلافت ص۱۹،۲۰، انوار العلوم ج۳ ص۸۴،۸۵)

اور فرماتے ہیں: ’’جب کہ واقعات سے ثابت ہوگیاکہ احمد سے مراد (اسم ذات کے لحاظ سے) آنحضرتﷺکا ایک خادم (یعنی حضرت مسیح موعود) ہے توپھربھی ہٹ دھرمی سے کام لیناشیوہ مومنانہ نہیں۔(انوارخلافت ص۲۴، انوار العلوم ج۳ ص۸۹)

123

اورفرماتے ہیں: ’’اس پیش گوئی’’من بعدی اسمہ احمد‘‘ کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ حضرت مسیح موعود نے رسول اللہﷺ کو بھی اس آیت کامصداق قراردیاہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس کے کل فیضان جو حضرت مسیح موعود کو پہنچاہے، آپ ہی سے پہنچاہے۔ اس لئے جو خبرآپ کی نسبت دی گئی ہے اس کے مصداق رسول کریمa بھی ضرور ہیں کہ جوخوبیاں ظل میں ہوں اصل میں ضرور ہونی چاہئیں۔ عکس کی خبردینے والا ساتھ ہی اصل کی خبر بھی دیتاہے۔ پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریمa کی بھی خبردی گئی ہے اور اس بیان سے یہ واجب نہیں آتاکہ اس پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود نہ ہوں۔ اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعودہیں اوراس لحاظ سے کہ آپ کے سب کمالات آنحضرتﷺ سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔ رسول کریمa کی بھی پیش گوئی اس میں سے نکل آتی ہے۔‘‘(انوارخلافت ص۳۷،۳۸، انوار العلوم ج۳ ص۱۰۱، ۱۰۲)

ان عبارتوں میں نہایت تفصیل وتشریح سے ظاہر کیاگیاہے کہ آنحضرتﷺ کا اسم ذات احمد نہیں بلکہ محمد ہی تھا۔ ہاں! بلحاظ صفات آپ ضروراحمد تھے اوربلحاظ اسم وصفی آپ کاایک نام احمدبھی تھا۔ جیسے کہ۱؎ عاقب وحاشر ونبی التوبہ ونبی الرحمت وغیرہ بہت سے نام بھی بلحاظ وصف ہی تھے نہ بلحاظ ذات اور آپ کی پیش گوئی ’’من بعدی اسمہ احمد‘‘ کے مصداق بھی بلحاظ اسم وصفی تھے نہ کہ بلحاظ اسم ذات۔ کیونکہ آپ کا اسم ذات محمدتھا نہ کہ احمد۔ اسم ذات کے لحاظ سے اس پیش گوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔ کیونکہ آپ کا اسم ذات احمدتھا اور اس مدعا کے ثبوت میں حضرت خلفیۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے (انوارخلافت ص ۱۸تا۵۲، انوار العلوم) نہایت قوی اور زبردست دلائل کادریابہادیاہے۔

اور اتنا بھی نہ سمجھ سکے کہ جوشخص اپنے امام کو اس آیت کا موردومصداق ٹھہراتاہے وہ یقینا اس آیت پرصدق دل سے ایمان لاتاہے۔ ورنہ وہ اپنے امام کے صدق پر اس آیت سے استدلال نہ کرتا۔ نیز اگرمختاران مدعیہ کو منکر آیت ہونے کا فتویٰ دینے کا بہت ہی شوق تھاتو انہیں چاہئے تھا کہ پہلے ان مفسرین اور بزرگوں کے بھی جنہوں نے آیت: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ میں مسیح موعود اور مہدی کو بھی آنحضرتﷺ کے ساتھ شامل بتایا۔ منکرآیت ہونے کا فتویٰ صادر فرماتے پھردوسری طرف توجہ کرنے کا خیال دل میں لاتے۔

۱؎ اس موقعہ پر یہ شبہ پیداکیاجاسکتاہے کہ بخاری شریف میں آنحضرتﷺ نے اپنے اسماء محمد، احمد، ماحی، حاشر، عاقب بیان فرمائے ہیں۔ لہٰذا یہ سب آپ کے نام ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں اسماء بمعنی صفات آتاہے۔ جیسا قرآن شریف میں ہے: ’’لہ الاسمآء الحسنٰی‘‘ یعنی سب اچھے نام خداتعالیٰ کے ہیں۔ حالانکہ اللہتعالیٰ کا اسم ذات توصرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ۔ باقی سب صفاتی نام ہیں۔ پس حدیث میںبھی آپ نے اپنی صفات بیان فرمائی ہیں۔ ورنہ مانناپڑے گا کہ ماحی، حاشر، عاقب سب آپ کے نام ہی تھے۔ حالانکہ تمام مسلمان تیرہ سوبرس سے مانتے چلے آتے ہیں کہ یہ آپ کے صفات ہیں، نام نہیں تھے اوریہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس حدیث میں بلاشبہ محمدبھی بطور صفت ہی آتاہے، بطورنام نہیں آیا۔ ہاں! قرآن کریم اوردوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپ کانام محمد ہی تھا اور اس امر کا ثبوت کہ اس حدیث میں بطور صفت آیاہے۔ یہ ثبوت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ’’تحدیث بالنعمت‘‘ کے طور پر فرمایاہے کہ میرے یہ نام ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ صرف یہ امر تو کسی تعریف کے لائق نہیں ہوسکتاکہ فلاں فلاںمیرے نام ہیں اورکیاآنحضرتﷺ جیسے عظیم الشان انسان کے متعلق یہ خیال کیاجاسکتاہے کہ آپ خالی نام پر فخرکریں گے۔ معاذ اللہ من ذالک! حقیقت الامر یہی ہے کہ آپ نے اس حدیث میں اپنے صفات ہی بیان فرمائے ہیں کہ خداتعالیٰ نے مجھے محمدبنایاہے۔ یعنی خود میری تعریف کی ہے اور مجھے احمدبنایاہے۔ یعنی سب سے بڑھ کرخداکی تعریف کرنے والا اوردیگر صفات حسنہ سے متصف کیا۔ تفصیل کے لئے دیکھناچاہئے ’’انوارخلافت‘‘ کہ اس میں تمام خدشات وساوس کا نہایت قوی دلائل سے قلع قمع کردیاگیاہے۔

124

(۶) قرآن اوراحادیث اور وحی مسیح موعود

مختار مدعیہ نے (اعجازاحمدی ص۳۰، ۵۷، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰، ۱۶۸، ۱۶۹) کے حوالوں کی بناء پر حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ آپ نے حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دینے کے قابل قراردے کر حدیثوں کی سخت توہین کی ہے اور اپنی وحی کو آنحضرتﷺ کی حدیثوں پر ترجیح دی ہے اور یہ بھی حدیثوں کی سخت توہین ہے۔

لیکن مختارمدعیہ کا یہ بھی ایک مغالطہ ہی ہے۔ کیونکہ اس اعتراض سے اس نے یہ ظاہر کرناچاہاہے کہ گویاحضرت مسیح موعود نے صحیح احادیث کی بابت یہ فرمایاہے کہ ہم وہ ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اورحضرت مسیح موعود نے صحیح احادیث کی بابت ہرگز یہ نہیں فرمایا۔ جیسا کہ علاوہ اوربے شمار حوالوں کے خود مختارمدعیہ کے پیش کردہ حوالوں سے بھی ظاہرہے۔

مختارمدعیہ کا پیش کیا ہواپہلا حوالہ یہ ہے:

۱… ’’میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں ہے بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پرنازل ہوئی ہے۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیںبھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

اس حوالہ سے صاف ظاہرہے کہ یہ کلام ان حدیثوں کی بابت ہے جو آپ کے دعویٰ کے متعلق ہیں اور ان کی آپ نے دوقسمیں فرمادی ہیں۔ ایک وہ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور ان کے متعلق آپ نے صاف فرمادیاہے کہ ہم انہیں تائیدی طور پر پیش کرتے ہیں۔ یعنی ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔ اب ظاہرہے کہ اس قسم کے مقابلے میں دوسری قسم انہی حدیثوں کی ہوگی جو مخالف قرآن ہیں اور اسی قسم کی حدیثوں کے متعلق حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایاہے کہ دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں اورحضرت مسیح موعود کی وحی، جیسا کہ آگے بیان ہوگا قرآن کے بالکل مطابق ہے۔

پس مختارمدعیہ کے پیش کئے ہوئے اس حوالے سے بخوبی ظاہر ہے کہ ردی میں پھینک دینے کا ارشاد ان حدیثوں کے لئے ہرگز نہیں ہے جو مطابق قرآن ہوں، بلکہ ان کے لئے ہے جو مخالف قرآن ہوں۔

۲… دوسرا حوالہ مختارمدعیہ نے یہ پیش کیاہے: ’’اورحدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اورہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہورہاہے۔ ہم نے اس سے لیا کہ وہ’’حی وقیوم‘‘ اور ’’واحد لاشریک‘‘ ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔‘‘(اعجاز احمدی ص۵۷، خزائن ج۱۹ ص۱۶۸،۱۶۹)

جواب: نظر برحوالہ جس میں حضرت مسیح موعود نے ان احادیث کے متعلق جو قرآن کے مطابق ہیں اور آپ کی وحی کی (جوقرآن کے موافق ہے) معارض نہیں، فرمایاہے کہ انہیں ہم قبول کرتے ہیں اوراپنی تائید میں پیش کرتے ہیں اورجوحدیثیںقرآن مجید کے مخالف ہیں، انہیں ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اس حوالہ میں بھی انہی حدیثوں کا ذکرہے جو خلاف قرآن ہے۔ لیکن اس پربس نہیں بلکہ جہاں سے مختارمدعیہ نے یہ حوالہ لیاہے جو درحقیقت ایک عربی شعر کا ترجمہ ہے وہیں یہ بھی موجودتھا کہ یہ خلاف قرآن حدیثوں کے لئے لکھاگیاہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’اے گمراہ کرنے والے! کیا تو قرآن کی شان سے انکارکرتاہے اور بجز قرآن ہمارے ہاتھ میں کیاہے۔‘‘(اعجاز احمدی ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۱۶۹)

125

اوراسی میں فرماتے ہیں: ’’پس اے مخالفو! نقلوں کے ساتھ خوش نہ ہوجائو اور بہتیری نقلیں اورحدیثیں ہیں جو دھوکہ باز نے بنائی ہیں۔‘‘

اس کے بعد ہی فرماتے ہیں: ’’اورخداتعالیٰ کی وحی کے بعدنقل کی کیا حقیقت ہے؟ پس ہم خداکی وحی کے بعد کسی حدیث کو مان لیں۔ یہ تعلیم آیت: ’’فبای حدیث بعد اللہ وآیاتہ یؤمنون‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد(اعجاز احمدی ص۵۷، خزائن ج۱۹ ص۱۶۸) کے شروع ہی میں جو شعرہے اس کا ترجمہ یہ فرمایاہے: ’’اورحدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہورہاہے۔‘‘ اور یہ وہ مضمون ہے جومختار مدعیہ کے دوسرے حوالے کا پہلا جزہے۔

اس کے بعد حضرت مسیح موعود دوشعروں میں مولوی محمدحسین بٹالوی کا ذکرفرماتے ہیں: ’’کیا تو میرے پاس اس اترنے والا کا ذکرکرتاہے جس کو تونے نہیں دیکھا اور ایسی حدیثیں پیش کرتاہے جس کا تحریف نے ستیاناس کردیا۔‘‘’’حی وقیوم‘‘ اور ’’واحد لاشریک‘‘ ہے اورتم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔‘‘

پہلے شعر میںآپ نے ایک مخالف کو مخاطب کرکے فرمایاہے کہ اے گمراہ کرنے والے! کیا توقرآن کی شان سے انکارکرتاہے اوربجز قرآن ہمارے ہاتھ میں کیاہے۔ اس مضمون سے ظاہرتھا کہ یہ خطاب ایک ایسے مخالف کوہے جو قرآن شریف سے بھاگتا اورمسیح موعود کے دعویٰ کی تردید میں کچھ ایسی حدیثیں پیش کرتاتھا جو خلاف قرآن تھیں۔ کیونکہ اگر وہ موافق قرآن ہوتیں تو قرآن شریف سے گریز کرکے کیوں پیش کی جاتیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود نے اسی پر اکتفاء نہ فرماکر صاف الفاظ میں ظاہر فرمادیاکہ اسی موقع پر ذکرکس قسم کی حدیثوں کاہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’بہتیری نقلیں اورحدیثیں ہیں جودھوکہ باز نے بنائی ہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۱۶۸)

اورپھر اس سے بھی زیادہ مخالف مذکورہ کو مخاطب کر کے یہاں تک فرمادیا کہ کیا تو میرے سامنے ایسی حدیثیں پیش کرتاہے جن کا تحریف نے ستیاناس کردیا۔ اب ہرمنصف مزاج وحق پسند کے لئے یہ امر قابل توجہ ہے کہ باوجود اس صراحت کے ساتھ یہ ظاہر کردئیے جاتے کہ اس موقع پر خلاف قرآن حدیثوں کاذکرہے نہ کہ مطابق قرآن کا۔ لیکن مختارمدعیہ نے اس کی ذرا بھی پروا نہ کر کے اوران سب اشعار سے جواس امر کو ظاہر کررہے تھے۔ منہ پھیرکر (ص۵۷) کے پہلے شعر کا اورپھربیچ کے شعر چھوڑ کر ساتویں شعر کاترجمہ نقل کر کے یہ دکھاناچاہاکہ گویاحضرت اقدس نے صحیح احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینے کی بات کی ہے۔ اللہتعالیٰ نے قرآن مجید میں صادق اورکاذب کی امتیازی علامت یہ فرمائی کہ صادق شخص اپنے اقوال اوراپنے افعال میں صادقوں سے مشابہت رکھتاہے اورکاذب اپنے اعتراضات اور اپنی تحریکات اوراعمال میں کاذبوں کاہم رنگ ہوتاہے۔ جیسا کہ آیت: ’’قل ماکنت بدعاً من الرسل‘‘ اورآیت:’’مایقال لک الاماقدقیل للرسل من قبلک‘‘ اورآیت:’’تشابھت قلوبھم‘‘وغیرہ آیات سے ظاہرہے۔ اب دیکھ لو کہ مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے اس قول پرکہ ’’ہم نے اس سے لیاکہ وہ’’حی‘‘ اور ’’قیوم‘‘ اور ’’وحد لا شریک‘‘ ہے اور تم مردوں سے روایت کرتے ہو، اعتراض کیاہے اور یہی قول آپ سے قبل اولیاء اللہ کی جماعت کا ایک ممتاز فرد اپنے منکرین کے جواب میں کہہ چکاہے۔ چنانچہ (الیواقیت والجواہر ج۱ ص۲۱) میں لکھاہے: ’’وقدکان الشیخ ابویزید بسطامی یقول لعلماء زمانہ (خطابا للمنکرین علیہ وفی الصفحۃ ص۱۰۲ فی الجزء الثانی) قد اخذتم علمکم میتاعن میت واخذنا علمنا من الحیی الذی لایموت‘‘

126

یعنی ابویزید بسطامی اپنے زمانہ کے منکرین مولویوں کو مخاطب کرکے کہتے تھے تم نے اپناعلم مردوں سے حاصل کیاہے اورہم نے اس زندہ خداسے علم پایاہے جو کبھی نہیں مرتا۔ کیا یہ وہی قول نہیں جو حضرت مسیح موعود نے فرمایاہے اورجن پرمختارمدعیہ نے اعتراض کیاہے۔

یہاں اس امر کاظاہر کردینانامناسب نہیں ہے کہ مختاران مدعیہ کے بیشتراعتراضات کی بناء قطع وبرید عبارات پرہے۔ وہ اچھے خاصہ مضمونوں اور عبارتوں میں سے بعض ایسے جملے قطع کرکے جن کے معنی اپنی ملحقہ عبارت سے علیحدہ ہونے پر خراب ہوجائیں پیش کردئیے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی دیکھایاجاچکاہے اور اس اعتراض کے حوالہ نمبر۲ کے متعلق بھی دکھایاگیاہے اور حوالہ نمبراوّل میں مختارمدعیہ نے جتنی عبارت پیش کی ہے۔ اگرچہ وہی اظہار حقیقت الامر کے لئے کافی ہے۔ تاہم اس موقع سے چند اورحوالے بھی پیش کرتاہوں جن کے دیکھ لینے کے بعد کسی خداترس اور شریف الطبع انسان کے لئے یہ موقع نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ کہنے کی جسارت کرسکے کہ آپ نے یہ فرمایاہے کہ ہم صحیح احادیث کوردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔

مختارمدعیہ نے جس مضمون کے (ص۳۰) سے ایک حوالہ نقل کر کے حضرت مسیح موعود پر صحیح حدیثوں کے ردی کی طرح پھینک دینے کا بہتان باندھا ہے۔ اس مضمون کے (اعجاز احمدی ص۲۷،۲۸، خزائن ج۱۹ ص۱۳۷)میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’علاوہ اس کے ان حدیثوں میں اس قدرتناقص ہے کہ اگر ایک حدیث کے برخلاف دوسری حدیث تلاش کرو تو فی الفور مل جائے گی۔ پس ا س سے قرآن شریف کے بینات کو چھوڑنا اور ایسی متناقض حدیثوں کے لئے ایمان ضائع کرنا کسی ابلہ کاکام ہے نہ عقلمند کا۔‘‘

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود ان حدیثوں کو چھوڑدینے کے لئے فرمارہے ہیںجوقرآن شریف کے خلاف ہوں۔

اور فرماتے ہیں: ’’مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کونہ چھوڑا جائے ورنہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۸، خزائن ج۱۹ ص۱۳۷)

اورفرماتے ہیں: ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دو۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے وہ قبول کرو جوقرآن کے منافی ومعارض نہ ہوں تاکہ ہلاک نہ ہوجائو۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۸، خزائن ج۱۹ ص۱۳۸)

یہ اس مضمون کے حوالہ جات ہیں جس کے (ص۳۰) سے ایک حوالہ نقل کر کے مختارمدعیہ نے حضرت اقدس کو صحیح احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینے کا مدعی قراردیناچاہتاتھا۔ لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ اللہتعالیٰ نے اس کی اس باطل کارروائی کاجواب پہلے ہی حضرت مسیح موعودکے قلم حق رقم سے لکھوایا اور وہ بھی اس شان سے کہ گویاآپ مخالف کا یہ اعتراض دیکھ رہے ہیں کہ مرزا صاحب نے احادیث صحیحہ اورغیرصحیحہ سب کو ردی کی طرح پھینک دینے کے لائق ٹھہرایاہے اور اس اعتراض کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں وہ قبول کروجو قرآن کے منافی ومعارض نہ ہوں تاہلاک نہ ہوجائو۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۸، خزائن ج۱۹ ص۱۳۸)

مرزا صاحب کی اتنی ہی تحریر قابل لحاظ ہے جو ان پر اعتراض کرنے کے لئے پیش کی جائے اور جس سے ان کی تکفیر کی جائے۔ باقی تحریروں کے دیکھنے کی مطلق ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کی تحریریں متضاد ہوتی ہیں۔ کہیں کچھ اور کہیں کچھ۔ اب حضرت مسیح موعود کی عبارتیں اورمختارمدعیہ کے اعتراضات عدالت کے سامنے ہیں اوران سے اچھی طرح فیصلہ کیاجاسکتاہے کہ حضرت مسیح موعود کی عبارتوں میں تناقض وتعارض ہے یا مختارمدعیہ کے خیالات میں۔

127

اگرچہ منقول بالاحوالہ جات سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہی حدیث رد کردینے کے لائق ہے جومخالف قرآن ہو۔ کیونکہ مخالف قرآن حدیث درحقیقت آنحضرتﷺ کی حدیث نہیں ہے۔ لیکن انہی پربس نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود کی دوسری کتب میں بھی یہ مضمون بڑی کثرت اور بڑی صفائی سے موجودہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’جوحدیث قرآن اورسنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسروچشم قبول کیاجائے اورجہاں قرآن وسنت سے کسی حدیث کو متعارض پائیں تو اس کو چھوڑ دیں۔‘‘(ریویوبرمباحثہ مولوی محمدحسین چکڑالوی)

اورفرماتے ہیں: ’’ہاں! اگر ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کی مخالف ہوتو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور ان تمام احادیث کو جوقرآن کے موافق ہیں رد کرناپڑتاہے اور میں جانتاہوں کہ کوئی پرہیز گاراس پر جرأت نہیں کرے گا کہ اس حدیث پرعقیدہ رکھے کہ وہ قرآن وسنت کے برخلاف ہو اورایسی حدیثوں کے مخالف ہوجوقرآن کے مطابق ہیں۔‘‘(کشتی نوح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۶۲،۶۳)

اورفرماتے ہیں: ’’لیکن اگرکوئی ایسی حدیث ہوجوقرآن کریم کے بیان کردہ قصص کے صریح مخالف ہے تواس کی تطبیق کے لئے فکر کرو۔ شاید وہ تعارض تمہاری غلطی ہو اور اگر کسی طرح وہ تعارض دور نہ ہو تو ایسی حدیث کو پھینک دو کہ وہ رسول اللہﷺ کی طرف سے نہیں ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۶۳)

پس حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی حدیث کو چھوڑنے، رد کرنے اور پھینک دینے کے لئے لکھاہے وہ اس کے لئے لکھاہے جو مخالف قرآن ہو اورجوباوجود سعی بلیغ کے بھی موافق نہ ہوسکے اور ایسی حدیث بلاریب آنحضرتﷺ کی حدیث کسی طرح نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ اللہتعالیٰ نے تو قرآن شریف میں کچھ اور فرمایا ہوا ہو اورآنحضرتﷺ اس کے خلاف کچھ اور فرمادیں۔ ’’حاشا وکلا‘‘ اورایسی مخالف قرآن حدیثوں کو رد کرنے کے متعلق حضرت مسیح موعود سے پہلے بھی اکابر علماء اہل سنت والجماعت بلکہ مسلم بزرگان دیوبند بھی بارہالکھ چکے ہیں اور انہیں سے بعض کے اقوال حدیث: ’’فاعرضوہ علی کتاب اللہ‘‘ کے عنوان کے ماتحت درج کئے جائیں گے۔

پس خوب یاد رکھو کہ جن احادیث کے رد کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود نے ’’اعجاز احمدی‘‘ میں ارشاد فرمایا ہے وہ وہی حدیثیں ہیں جو مولوی محمدحسین بٹالوی وغیرہ قرآن مجید کے خلاف آپ کے دعویٰ مہدویت ومسیحیت کو باطل ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے تھے۔ جن کا ظنی ہونا سب کو مسلم ہے اوران میں سے اکثراکابرعلماء امت کے نزدیک موضوع ہیں۔ چنانچہ ان حدیثوں کی مثال آپ نے ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں ذکرکی ہے۔

آپ فرماتے ہیں: ’’لوگ اپنے دلوں میں پہلے ہی ٹھہرالیتے ہیں کہ جو کچھ مہدی اورمسیح کی نسبت حدیثیں لکھی ہیں اور جس طرح ان کے معنی کئے گئے ہیں، وہ سب صحیح اورواجب الاعتقاد ہیں۔ اس لئے جب وہ لوگ اس فرضی نقشہ سے جو قرآن شریف سے بھی مخالف ہے مجھے مطابق نہیں پاتے تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کاذب ہے۔ مثلاً وہ خیال کرتے ہیںکہ مسیح موعود ایک ایسی قوم یاجوج ماجوج کے وقت آناچاہئے جن کے لمبے درختوں کی طرح قد ہوں گے اور اس قدر لمبے کان ہوں گے کہ ان کو بستر کی طرح بچھا کر ان پر سو رہیں گے۔ نیز کہ مسیح آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اترنا چاہئے۔ بیت المقدس کے منارہ کے پاس مشرقی اور دجال عجیب الخلقت اس سے پہلے موجود چاہئے۔ جس کے قبضہ قدرت میں سب خدائی کی باتیں ہوں۔ مینہ برسانے اور کھیتیاں اگانے اور مردوں کے زندہ کرنے اس کے گدھے کا سر اتنا بڑا ہوکہ دونوں کانوں کا فاصلہ تین سو ہاتھ کے قریب ہو اوردجال کی پیشانی پر کافر لکھاہواہو اور مہدی ایسا چاہئے کہ جس کی تصدیق کے لئے آسمان سے زور زور سے آوازآوے کہ یہ خلیفۃ اللہمہدی ہے اور وہ آواز تمام مشرق ومغرب تک پہنچ جائے اور مکہ سے اس کے لئے

128

ایک خزانہ نکلے اور وہ عیسائیوں سے لڑے اور عیسائی بادشاہ اس کے پاس پکڑے آویں اور تمام زمین کوکفار کے خون سے پرکردیوے اور ان کی تمام دولت لوٹ لے اور اس قدرقاتل اور خون ریز ہو کہ جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے۔ ایسا خونی آدمی کوئی نہ گزرا ہو اور اس قدر اپنے تابعوں میں مال تقسیم کرے کہ لوگوں کو مال رکھنے کے لئے کوئی جگہ نہ رہے… قبول کرلینے تک۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۴۲،۴۳، خزائن ج۱۷ ص۱۵۸تا۱۶۰)

پس ایسی روایات جو بعض تو الفاظ کے ظاہری معنی کے لحاظ سے اوربعض ’’من کل الوجوہ‘‘ قرآن مجید اور آپ کی وحی کے جو قرآن مجید کے موافق ہے، مخالف ہیں۔ انہیں ردی کی طرح پھینکنے کے متعلق آپ نے تحریرفرمایا ہے۔ کیونکہ وہ درحقیقت آنحضرتﷺ کی حدیثیں نہیں ہیں، بلکہ ذخیرہ موضوعات ہیں۔‘‘

اگرچہ مذکورہ بالاتمام بیان سے یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود موافق قرآن احادیث کو مانتے ہیں۔ لیکن اب اس امر کے متعلق چند مستقل حوالہ جات بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’کیا یہ سچ ہے کہ حدیثیں ایسی ہی ردی اور لغو ہیں۔ جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب نے سمجھا ہے۔ معاذاللہ! ہرگزنہیں۔‘‘(حکم ربانی کا ریویوص۱، خزائن ج۱۹ ص۲۰۷)

اورفرماتے ہیں: ’’احادیث نبویہ مرفوعہ متصلہ ایسی خبرنہیں ہے کہ ان کو ردی اورلغو سمجھاجائے۔‘‘ (ریویو ص۲، خزائن ج۱۹ ص۲۰۷)

اورفرماتے ہیں: ’’احادیث کا انکار ایک طور سے قرآن شریف کا انکار ہے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘ کہ خداتعالیٰ کی محبت بھی آنحضرتﷺ کی اتباع سے وابستہ ہے توپھر آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کے لئے جن پر اتباع موقوف ہے۔ حدیث بھی ایک ذریعہ ہے۔ پس جوشخص حدیث کو بھی چھوڑتاہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتاہے۔‘‘ (ریویو ص۲، خزائن ج۱۹ ص۲۰۸)

اورفرماتے ہیں: ’’جوحدیث قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو اس کو بسروچشم قبول کیاجائے۔‘‘(ریویو ص۵، خزائن ج۱۹ ص۲۱۲)

اورفرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کا یہ فرض ہوناچاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض ومخالف قرآن وسنت نہ ہوتو خواہ کیسی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو وہ اس پر عمل کریں۔‘‘(ریویو ص۵، خزائن ج۱۹ ص۲۱۲)

اورکشی نوح میں آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’حدیث کی قدرنہ کرناگویاایک عضو اسلام کا کا ٹ دینا ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۶۲)

۲… ’’بہرحال احادیث کی قدرکرو اور ان سے فائدہ اٹھائو کہ وہ آنحضرتﷺ کی طرف منسوب ہیں اور جب تک قرآن اورسنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو۔ بلکہ چاہئے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کاربند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ کوئی سکون اورنہ کوئی فعل اور نہ ترک فعل۔ مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو۔‘‘(کشتی نوح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۶۳)

۳… ’’اگرکوئی حدیث ضعیف ہے مگر قرآن سے مطابقت رکھتی ہے تو اس حدیث کو قبول کرلو۔کیونکہ قرآن اس کا مصدق ہے اور اگرکوئی ایسی حدیث ہے جو کسی پیش گوئی پر مشتمل ہے۔ مگرمحدثین کے نزدیک وہ ضعیف ہے اور تمہارے زمانہ میں یا پہلے اس سے اس حدیث کی پیش گوئی سچی نکلی ہے تو اس حدیث کو سچی سمجھو۔‘‘(کشتی نوح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۶۳)

۴… ’’اگر ایک حدیث ضعیف درجہ کی بھی ہو بشرطیکہ وہ قرآن وسنت اور ایسی احادیث کے مخالف نہیں جو قرآن کے موافق ہیں تو اس حدیث پر عمل کرو۔‘‘ (کشتی نوح ص۵۹، خزائن ج۱۹ ص۶۴)

129

اب دیکھنا چاہئے کہ اس سے زیادہ حدیث کو ماننے اور اس کی قدر عظمت کرنے کی اور کون سی صورت ہو سکتی ہے۔ احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ کا تو ذکرہی کیاہے۔ حضرت اقدس تو ایک ضعیف سے ضعیف حدیث کو بھی ماننے اور اس پر عمل کرنے کی اتنی شدید تاکید فرمارہے ہیں کہ کوئی حرکت وسکون اور کوئی فعل یا ترک فعل ایسا نہیں ہوناچاہئے جس کے متعلق تمہارے پاس حدیث نہ ہو، یعنی تم اپنے تمام کاموں میں حدیث کو دستور العمل بنائو۔ مگراس شرط سے کہ وہ حدیث قرآن شریف اوراحادیث صحیحہ سنت ثابتہ کے خلاف نہ ہو اور آپ نے یہاں تک فرمادیا ہے کہ:

  1. کیوں چھوڑتے ہو لوگوں نبی کی حدیث کو

    جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو

ان حوالہ جات سے یہ امر بڑی وضاحت سے ظاہر ہوگیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے انہیں احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینے کے لئے لکھا جو مخالف قرآن اور مخالف سنت ثابت واحادیث صحیحہ ہونے کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ردی کی طرح پھینک دی جائیں۔ معلوم نہیں کہ ایسی حدیثوں کے ردی کی طرح پھینک دیئے جانے، خلاف قرآن ہونے کی حالت میں دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں یاتو یہ کہ ایسی حدیثیں ردی کی طرح پھینک دی جائیں اور یا کہ (نعوذباللہ) قرآن شریف سے دست کشی کی جائے اور اس میں کیا کلام ہوسکتاہے کہ جو شخص خلاف قرآن حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دینا نہیں چاہتا وہ یقینا ایسے سامان پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جس سے (نعوذباللہ) قرآن شریف ردی کی طرح پھینک دیاجائے۔

مختاران مدعیہ نے تو سراسر مغالطہ کی راہ سے حضرت مسیح موعود کو احادیث صحیحہ کا ردی کی طرح پھینک دینے والا ثابت کرناچاہاتھا اور نہ صرف حضرت اقدس کو ہی بلکہ آپ کے ساتھ علامہ ابن خلدون جنہوں نے مہدی کی احادیث کو مجروح اورضعیف ٹھہرایاہے اور دیگر محققین کو بھی لیکن آپ خود خیر سے قرآن شریف کے ردی کی طرح پھینک دینے والے ٹھہر گئے اور اس مصرع کے پورے مصداق ثابت ہوئے۔

میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

’’چونکہ مختاران مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے خلاف قرآن احادیث کو ردی کی طرح پھینک دینے والے قول میں بڑے زور سے بحث کی ہے۔ حتیٰ کہ من جملہ وجوہ کفر کے ایک یہ بھی وجہ کفر قراردی ہے اوراس کا نتیجہ یہ ہوناچاہئے کہ وہ خود بہت بڑے عامل بالحدیث ہوں۔ اس لئے یہ دیکھ لینا نہایت ضروری ہوگا کہ: ’’ومن حیث الفرقہ‘‘ کہاں تک حدیث پر عمل کرنے والے ہیں اور اس کے متعلق ہم سب سے پہلے نماز کی حدیثوں کو لیتے ہیں۔‘‘

کیا امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے اوررفع یدین کرنے، آمین بالجہر کہنے اور وتر کی ایک اور تراویح کی آٹھ رکعات پڑھنے کے متعلق احادیث موجودہیں یا نہیں۔ اگر ہیں اور ضرورہیں تو کیا دیوبندی حضرات امام کے پیچھے الحمدشریف پڑھتے ہیں؟ اورکیا وہ رفع یدین کرتے ہیں ؟ کیا وہ آمین بالجہر کہتے ہیں؟ کیا وہ وتر کی ایک رکعت اور تراویح کی آٹھ رکعات اداکرتے ہیں؟ اگرنہیں اورہرگز نہیں توکیاوہ ان سب حدیثوں کو جویہی نہیں کہ خلاف قرآن شریف نہیں ہیں بلکہ صحیح بخار ی میں آئی ہیں، ردی کی طرح پھینک دینے والے ہوئے یاکوئی کسر باقی رہ گئی۔

اس طرح حدیث: ’’لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعھما الا اتباعی اورحدیث مالکم تخافون من موت بینکم ھل خلدنبی ٌ قبلی فیمن بعث فاضلہ فیکم‘‘ (لباب الاخیارص۴۸)

جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ کیا دیوبندی مولویوں نے وفات حضرت مسیح مان کر ان کو صحیح تسلیم کیا؟ اگر نہیں تو وہ ان احادیث کو ردی کی طرح پھینکنے والے ہوئے یانہیں؟ پھر حدیث:’’فاعرضوہ علی کتاب اللہ‘‘ یعنی جوروایت ہو، اسے قرآن مجید پر عرض کرو۔ جو اس کے موافق ہو،لے لو اورجومنافی ہو، اسے چھوڑدو۔ کیا مختاران مدعیہ نے صریح طور پر عدالت کے روبرو اس حدیث کو

130

ردی کی طرح پھینکا یا نہیں۔ اس طرح اور حدیثیں ہیں جنہیں مختاران مدعیہ نے صریح طور پر عدالت کے روبرو اس حدیث کو ردی کی طرح پھینکا نہیں۔ اس طرح اورحدیثیں ہیں جنہیں مختاران مدعیہ اورگوہان مدعیہ ردی سمجھ کر قابل عمل خیال نہیں کرتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے عدالت میں اپنے آپ کوعامل بالحدیث اورتمام احادیث کو صحیح ماننے والے ظاہر کرتے ہیں۔

رہامختارمدعیہ کا یہ اعتراض کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی وحی کو احادیث پرترجیح دی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے حدیث کے رد کردینے کے متعلق جہاں کہیں فرمایا ہے تو وہ قرآن کے خلاف ہونے کی شرط کے ساتھ فرمایاہے اور ساتھ ہی اپنی وحی کا جوذکرکیاہے اپنے منصب حکم وعدل کے اظہار کے لئے اور اس غرض سے کہا ہے کہ معلوم ہو کہ آپ کو مخالف قرآن وحی ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ آپ اپنی وحی کو از اوّل تاآخرتمام وکمال مطابق قرآن شریف جانتے ہیں اورکسی امر میں سرموبھی خلاف نہیں جانتے۔ اب پہلے میں وہ حوالہ بیان کرتاہوں جس سے ظاہرہوتاہے کہ حضرت مسیح موعود نے امر مذکورہ میں اپنی وحی کو اپنے عہدہ ومنصب کے اظہار کی غرض سے شامل فرمایاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’بعض چالاک مولوی کہتے ہیں کہ اگرکوئی آسمان سے اترے اوریہ کہے کہ فلاں فلاں حدیث جوتم جانتے ہوصحیح نہیں ہے توہم بھی قبول نہ کریں گے اور اسے منہ پر طمانچہ ماریں گے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں! حضرات آپ کے وجود پریہی امیدہے۔ مگر ہم باادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کالفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیاہے۔ اس کے ذرا معنی تو کریں ہم تواب تک یہی سمجھتے تھے کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیاجائے اور اس کا فیصلہ گو ہزار حدیث کو بھی موضوع قراردے ناحق سمجھاجائے۔ جو شخص خدا کی طرف سے آئے گا وہ آپ کے طمانچے کھانے کو نہیں آئے گا۔ خداتعالیٰ اس کے لئے خود راہ نکالے گا۔ جس شخص کو خدانے کشف اور الہام عطاء کیا اور بڑے بڑے نشان اس کے ہاتھ پرظاہر فرمائے اور قرآن کے مطابق ایک راہ اس کو دکھلادی تو پھر وہ بعض ظنی حدیثوں کے لئے اس روشن یقینی راہ کو کیوں چھوڑ دے گا اورکیا اس پر واجب نہیں ہے کہ جوکچھ خدانے اس کو دیاہے اس پرعمل کرے اوراگرخدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف پائے اوراپنی وحی کو قرآن کے مطابق پائے اوربعض حدیثوں کو بھی اس کے مؤید دیکھے تو ایسی حدیثوں کو چھوڑدے۔ ان حدیثوں کو قبول کرے جو قرآن کے مطابق ہیں اور اس کی وحی کی مخالف نہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲۹،۳۰، خزائن ج ۱۹ ص۱۳۹)

میں اس موقعہ پر اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ وحی الٰہی جب کہ اس کا وحی الٰہی ہوناقطعی اوریقینی طور پرثابت ہو تو وہ حدیث پر مرجح ہے یا نہیں اور جب ہمارے مخالفین کے وہ مسیح جو ان کے خیال میں آسمان پر تشریف رکھتے ہیں۔ دنیا میں نازل ہوں گے اوران کو وحی ہو گی تو بحیثیت کلام الٰہی ہونے کے وہ حدیثوں پرمرجح ہوگی یانہیںہوگی۔ بلکہ موقعہ کے لحاظ سے صرف اتنا بیان کر دیتاہوں کہ حضرت مسیح موعود نے اس موقعہ پرجوکچھ لکھاہے۔ وہ صرف ان احادیث کے متعلق لکھاہے جوقرآن شریف کے بھی خلاف ہوں اور احادیث صحیحہ کے بھی۔ یہ عرض کردینے کے بعد میں حضرت مسیح موعود کے مندرجہ بالاطریق فیصلہ حدیث کی طرف عدالت کو توجہ دلاتاہوں کہ کیا یہ طریق فیصلہ پکانہیں رہا کہ میں ایک حد درجہ کے صادق اور راست باز انسان کے دل ودماغ کا نتیجہ ہوں اورکیا اس کا لفظ لفظ ظاہر نہیں کررہاہے کہ میں کسی منصوبہ باز اور دنیاساز کے مناسب حال نہیں ہوں۔

اس کے بعد سب وہ حوالہ بیان کرتاہوں جس سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت اقدس کی وحی قرآنی وحی سرمو مخالف نہیں۔ ہوبہو مطابق وموافق ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:’’وکل ما فھمت من عویصات القرآن اوالھمت من اللہ الرحمن فقبلتہ علی شریطۃ الصحت والصواب والسمت وقدکشف علی انہ صحیح خالص یوافق الشریعۃ لاریب فیہ ولا لبس ولاشک ولا شبھۃ الی والرسول الکریم‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۲۱، خزائن ج۵ ص۲۱)

131

یعنی جوکچھ مجھے خداتعالیٰ کی طرف تفہیم ہوئی ہے یاالہامات نازل ہوئے ہیں، ان سب کو میں نے اسی شرط سے قبول کیاہے کہ وہ سب صحیح اور درست ہیں اور نشانات صداقت بھی ساتھ رکھنے اور مجھ پر کشفاً یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ تمام الہامات صحیح اور خالص اور قرآن حکیم کے مطابق ہیں۔ ان میں کوئی شک وشبہ نہیں اوربفرض محال اگر کوئی الہام خلاف قرآن ہوتا، ردی کی طرح پھینک دیتے اوروہی معنی مراد لیتے جوخداتعالیٰ اوراس کے رسول محمدمصطفیﷺ کی مراد تھی۔‘‘

اور فرماتے ہیں: ’’وان القرآن مقدم علی کل شیٔ ووحی الحکم مقدم علی احادیث ظنیۃ بشرط ان تطابق القرآن وحیہ مطابقۃ تامۃ وبشرط ان تکون الاحادیث غیرمطابقۃ للقرآن وتوجد فی قتصصھا مخالفۃ لقصص صحف مطھرہ‘‘ (مواہب الرحمن ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۲۸۸)

یعنی قرآن مجید ہرایک چیز پرمقدم ہے اور حکم کی وحی ظنی حدیثوں پر مقدم ہے۔ بشرطیکہ اس کی وحی قرآن مجید کے ساتھ مطابقت تامہ رکھتی ہو اور بشرطیکہ احادیث قرآن مجید کے غیر مطابق ہوں اور قرآن مجید کے قصوں کے برخلاف ان احادیث میں قصص مذکورہوں۔

ان دونوں حوالوں سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود کی وحی قرآن مجید کے موافق ہے۔ اس لئے اس کے معارض جوظنی حدیثیں ہوں گے وہ قرآن مجید کے بھی معارض ہوں گی۔ اس لئے قابل قبول نہیں ہیں اورردی کی طرح پھینکنے کے قابل ہیں۔ لیکن احادیث صحیحہ کے متعلق جوآنحضرتﷺ کے ارشادات ہیں۔ ہماراعقیدہ اورہمارامذہب بقول حضرت مسیح موعود یہی ہے، جو آپ نے فرمایا ؎

  1. اقتدائے قول او در جان ماست

    ہرچہ زو ثابت شود ایمان ماست

(۷) حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ

حضرت مسیح موعود نے اعجاز احمدی میں فرمایا ہے کہ جو روایت قرآن مجید کے خلاف ہے، اسے ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں اوریہی اصل آنحضرتﷺ سے بھی مروی ہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ’’تکثیر لکم الاحادیث بعدی فاذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق فاقبلوہ وما خالف فردوہ‘‘ کہ یعنی میرے بعد کثرت سے تمہارے پاس حدیثیں پہنچیں گی۔ پس جب تمہارے پاس کوئی حدیث میری طرف منسوب کر کے بیان کی جائے توتم اس کو کتاب اللہ پر عرض کرو۔ پس جوکتاب اللہ کے موافق ہو، اسے قبول کرلو اورجواس کے مخالف ہو، اسے رد کردو۔

لیکن اس حدیث پرمختارمدعیہ نے یہ جرح کی ہے:

۱… کہ یہ حدیث توضیح تلویح اور اصول شاشی سے پیش کی گئی ہے اور وہ اصول فقہ کی کتابیں ہیں۔ کسی حدیث کی کتاب سے نقل نہیں کی گئی اورجن کی کتابوں سے نقل کی گئی ہے۔ وہ محدث نہیں ہیں۔

۲… فوائد المجموعہ میں علامہ شوکانی نے کہا ہے: ’’وضعۃ الزنادقۃ‘‘ کہ یہ بے دینوں کی حدیث ہے اور یہی بات یحییٰ بن معین اورعلامہ ذہبی کہتے ہیں اورعلامہ شوکانی نے کہا ہے کہ مفہوم کے لحاظ سے اس آیت کو: ’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا رد‘‘ کرتی ہے۔

۳… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کا یہ کہنا کہ حدیث بلاسند بھی معتبر ہوسکتی ہے اوراصول حدیث کی کتاب شرح نخبۃ الفکر میں ایسا لکھاہے۔ محض اتہام ہے اور محض مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے اورصحیح مسلم جوصحیح بخاری کے ہم پایہ کتاب ہے۔ اس میں عبداللہ بن مبارک کا قول ہے کہ اسناد دین سے ہے۔ اگر اسناد نہ ہوتی تو ہرشخص جو چاہتاکہہ دیتا۔ لہٰذا بلاسندحدیث معتبرنہیں ہوسکتی۔

132

پہلی بات کا جواب

مختارمدعیہ نے یہ اعتراض کرکے کہ چونکہ یہ حدیث توضیح تلویح اور اصول شاشی سے پیش کی گئی ہے اور وہ اصول فقہ کی کتاب ہے اس لئے قابل تسلیم نہیں ہے۔ فقہ حنفیہ غیرمعتبر اوروضعی ہیں۔ کیا کوئی سچاحنفی اس خطرناک اعتراض کو صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیارہوگا؟ ہرگزنہیں!

اب دیکھنا یہ ہے کہ جن کتب میں یہ حدیث آئی ہے، آیا ان کے مؤلفوں نے یہ حدیث وضع کرلی ہے یا وہ فی الواقع اسے رسول کریمa کی حدیث سمجھتے ہیں۔ مختارمدعیہ بھی اسی امر کے متعلق بجز اس کے اورکچھ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے صحیح سمجھ کر یہ حدیث اصول فقہ کی کتابوں میں درج کی ہے اور صحیح قراردے کر صحابہ کرام کے کلام سے اس کی تائید کی ہے۔ چنانچہ علامہ محمدفیض الحسن ابن علامہ فخر الحسن صاحب گنگوہی اصول شاشی میں یہ حدیث نقل کرکے فرماتے ہیں:’’وتحقیق ذلک فیماروی عن علی ابن ابی طالب انہ قال کانت الرواۃ علی ثلاثۃ اقسام، الی فلھٰذا المعنی وجب عرض الجز علی الکتاب والسنۃ المشہورۃ‘‘ (اصول شاشی مطبوعہ مطبع نامی کان پور ص۷۶)

یعنی اس حدیث کی حقیقت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے جو علی ابن ابی طالب سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا راوی تین قسم کے تھے۔ ایک مؤمن مخلص جو آنحضرتﷺ کی صحبت میں رہے اورآپ کے کلام کے معانی کو سمجھا۔ دوسرااعرابی جو اپنے قبیلہ سے آیا اور اس نے سناجوسنا اور رسول اللہﷺ کے کلام کی حقیقت تک نہ پہنچا اور اپنے قبیلہ میں واپس آکر آپ کے الفاظ سے سوادوسرے الفاظ میں آپ کی بات بیان کی اور معنی بدل گئے۔ لیکن اس کا خیال یہی رہا کہ مطلب میں کوئی فرق پیدانہیں ہوا۔ تیسرامنافق جس کا نفاق غیرمعروف تھا تو اس نے افتراء کر کے وہ باتیں روایت کیں جواس نے سنی نہ تھیں اورلوگوں نے اس سے سن کراور اسے مؤمن مخلص سمجھ کر وہ روایت آگے بیان کی۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں میں شہرت پاگئی۔ پس اس وجہ سے روایت کا کتاب اللہ اور سنت مشہورہ پرعرض کرناواجب ہوگیا۔

مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ حدیث کسی محدث نے بیان نہیں کی، قابل التفات نہیں ہے۔ کیونکہ تلویح میں یہ روایت امام بخاری کی طرف منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے یہ روایت اپنی کتاب میں بھی بیان کی ہے اور تلویح کے حاشیہ فزی میں لکھاہے، جس کا ماحصل یہ ہے کہ: ’’صاحب تلویح نے صاحب الکشاف کے اس جواب کو رد کیا ہے جو اس نے حدیث کے ضعیف ہونے کا دیاتھا کہ چونکہ امام ابوعبداللہ البخاری نے یہ حدیث اپنی کتاب میں ذکرکی ہے اوروہ اس فن میں نہایت بلند پایہ اوراس صفت کا امام ہے۔ پس اس کا اس حدیث کو بیان کرنا ہی اس کی صحت کی کافی دلیل ہے اور اس کے بعد دوسرے کے طعن کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور صاحب تلویح کے رد کا خلاصہ یہ ہے کہ امام بخاری نے جوحدیثیں اپنی صحیح میں ذکرکی ہیں وہ دوقسم کی ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جس کااس نے اثبات کیاہے اور ایک قسم وہ ہے جسے اس نے محض استشہاد اورتائید کے لئے ذکرکیاہے۔ پہلی قسم توبالکل صحیح ہے بخلاف دوسری قسم کے۔ فزی کہتاہے کہ اس تردید کا یہ جواب ہوسکتاہے کہ یہ رد اس وقت تام کہلاسکتاہے جب کہ اسی حدیث کی تائید میں دوسری حدیث موجودنہ ہوتی جو محمدبن جبیرمطعم سے مروی ہے کہ نبیa نے فرمایا: ’’ما حدثتم عن مما تنکرون فلا تصدقوا فانی لا اقول المنکر وانما یعرف ذالک بالعرض علی الکتاب‘‘

یعنی اگر میری طرف سے کوئی ایسی بات جوتمہارے نزدیک منکرہے بیان کی جائے تو تم اس کی تصدیق نہ کرو۔ کیونکہ میں منکر بات نہیں کہتا اور کسی بات کا منکرہونا کتاب پرعرض کرنے سے ہی معلوم ہوگا۔(شرح التوضیح علی التنقیح ص۲۶۱)

اور اس حدیث کی تائید ایک اور صورت سے بھی ہوسکتی ہے جو امام بیہقی نے پوری سند کے ساتھ مدخل میں نکالی ہے۔ چنانچہ علامہ وحید الزمان صاحب حیدرآبادی لکھتے ہیں: ’’اخرج البیہقی فی المدخل باسنادہ عن ابی جعفر من رسول اللہﷺ انہ دعا

133
الیہود فسألھم فحدثوہ حتی کذبو اعلی عیسٰی فصعد رسول اللہﷺ المنبرفخطب الناس وقال ان الحدیث سیفشر فما اتاکم عنی یوافق القرآن فھو عنی وما اتاکم عنی یخالف القرآن فلیس عنی‘‘ (اشراق الابصار فی تخریج احادیث الانوار مطبوعہ مصطفائی دہلی ص۲۶)

یعنی رسول اکرمa نے یہود کو بلاکر ان سے سوال کیا تو انہوں نے باتیں کرتے ہوئے عیسیٰؑ کی طرف بعض جھوٹ باتیں منسوب کیں۔ آپ منبرپرچڑھے اور لوگوں میں یہ خطبہ کیا اورفرمایا کہ عنقریب بہت باتیں پھیل جائیں گی۔ پس جو بات تمہارے پاس میری طرف سے قرآن مجید کے موافق پہنچے تو وہ مجھ سے ہوگی اورجومخالف قرآن پہنچے تو وہ مجھ سے نہیں ہوگی۔ پس بیہقی کی وہ حدیث بھی حدیث متنازعہ فیہ کی مؤید ہے جس سے اس کی صحت ثابت ہوتی ہے۔

علاوہ ان کے اور بھی بہت سی احادیث اور روایات اس قسم کی پائی جاتی ہیں جن سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے اور اس حدیث کے معانی اور مفہوم کی مقوی اور ممدہیں۔ مثلاً دارقطنی میں ہے:’’کلامی لاینسخ کلام اللہ (مشکوٰۃ ص۳۲)‘‘ کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: میرا کلام اللہتعالیٰ کے کلام کاناسخ نہیں۔ پس جوحدیث اللہتعالیٰ کے کلام کے مغائر منافی اور اس کی ناسخ ہوگی وہ یقینا حدیث مذکورہ کے مطابق آنحضرتﷺ کاکلام نہ ہوگا۔

اس طرح بخاری کی حدیث: ’’اوصی بکتاب اللہ‘‘ (بخاری ج۳ ص۶۵) ’’ماکان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھوباطل قضاء اللہحق‘‘( بخاری ج۲ ص۸۰) اور حدیث:’’ماعندنا شیٔ الاکتاب اللہ‘‘ اورحدیث’’انی ترکت فیکم ما ان تمسکتم بہٖ لن تضلوا کتاب اللہ وسنتی‘‘ اورحدیث:’’ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ وسنت رسولہ‘‘ (مشکوٰۃ ص۳۱)

اورمذکورہ ہرامرکے لئے کتاب اللہ کو محک اورکسوٹی قراردیتی ہے، جس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ حدیث یقینا صحیح ہے اور اس کو موضوع کہنا لغووباطل۔

دوسری بات کاجواب

اوّل: تو اس حدیث کے الفاظ پرغور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث زنادقہ اور دجاجلہ کی مخترعہ ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ اس حدیث میں زندیقانہ اورملحدانہ روش کا کوئی شائبہ نہیں پایاجاتا اور یہ ثبوت ہے اس امرکا کہ یہ حدیث زنادقہ کی وضع کی ہوئی نہیں ہے۔

دوم: اگر اس حدیث کے مفہوم اورمعانی پر غور کیا جاوے تو بھی صاف طور پرمعلوم ہوتاہے کہ یہ موضوع نہیں۔

کیونکہ اس حدیث میں ایک ایسا اصل بتایاگیاہے کہ اگر اسے مدنظررکھاجائے تو امت محمدیہ کا اکثرحصہ تباہی وبربادی سے بچ جاتاہے۔ محض اس اصل کو ترک کردینے کی وجہ سے قرآن مجید کی تعلیم پس پشت ڈال دی گئی اور روایات اورفقہ کی کتابوں پردارومدار سمجھ لیاگیا۔

دراصل اللہتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو اس فتنہ سے آگاہ کردیاتھا۔ جو احادیث موضوعہ سے پیداہونے والاتھا جس سے بچنے کے لئے سرورکائناتa نے یہ ارشاد فرمایا کہ جب احادیث کثرت سے ہوجائیں اور یہ نہ معلوم ہوسکے کہ فرمودہ نبوی کون ساہے تو اس وقت اس اصل کو مدنظر رکھنا کہ جو احادیث قرآن کریم کے موافق ہوں انہیں قبول کرلینا اورجواحادیث قرآن کریم کے مخالف ہوں، انہیں ردکردینا۔ یہ اعلی مفہوم ہے اس حدیث کا۔ کیا اس پاکیزہ ومفید مفہوم کی موجودگی میں یہ خیال کئے جانے کی گنجائش ہے کہ یہ حدیث موضوع اورزنادقہ کی اختراع ہوسکتی ہے۔

134

سوئم: بہت سی احادیث اور روایات اس حدیث کے مضمون کی تائید کررہی ہیں جن میں سے بعض اوپربیان کی جاچکی ہیں۔

چہارم: کسی امام کے ایک مذہب کو موضوع کہہ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ وہ فی الواقعہ بھی موضوع ہے۔ کیونکہ بہت ممکن ہے کہ اسے حدیث کی سند یا صحت کا علم نہ ہوا ہو اور اس لئے اس نے اس کو موضوع کہا ہو اورجسے علم ہوا۔ اس نے صحیح کہا۔ مثلاً حدیث:’’لولاک لماخلقت الافلاک‘‘ جس کے متعلق مختارمدعیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ آنحضرتﷺ کی خاص خصوصیت میں سے ہے۔ جس میں آپ کاکوئی شریک نہیں اس کے متعلق صنعانی نے کہا ہے کہ موضوع ہے۔(ملاحظہ ہو فوائد المجموعہ للشوکانی ص۱۱۶)

اورگواہان کے مسلم مقتداگنگوہی صاحب بھی اس کی کوئی اصل پائے جانے کے منکرہیں اور حدیث: ’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم‘‘ کے متعلق ابن حبان نے کہا ہے: ’’وھوباطل لااصل لہ‘‘ کہ یہ حدیث باطل اور بے اصل ہے۔ حالانکہ یہ عقیلی اورابن عدی نے انس سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ (فوائد المجموعہ ص۹۶)

پس صرف کسی کے اس قول کی بناپر کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ کوئی حدیث موضوع نہیں قراردی جاسکتی بلکہ موضوع قرار دینے والوں کے دلائل پرغور کر لینے کے بعد اس کی صحت یاعدم صحت کافیصلہ کیاجاسکتاہے۔ چنانچہ متنازعہ فیہ حدیث پردوقسم کی جرح کی گئی ہے۔

مختارمدعیہ کی پہلی جرح

یہ حدیث یزید بن ربیعہ نے ابوالاشعث سے اور اس نے ثوبان سے روایت کی ہے اور یزید ابن ربیعہ مجہول ہے اور اس کا ابوالاشعث سے سماع معروف نہیں ہے۔ یہ حدیث منقطع ہوگی۔

جواب: اس جرح کا ایک جواب تویہ ہے کہ بہت ہی کم راوی ایسے ہیں جن کے متعلق ائمہ حدیث میں اختلاف نہ ہوا ہو۔ اگر ایک کہتاہے کہ فلاں راوی نہایت راست باز ہے تو دوسراکہتاہے کہ وہ متروک الحدیث ہے اور تیسراکہتاہے کہ وہ نسیٔ الحفظ ہے۔ چوتھا کہتاہے کہ وہ وضّاع ہے۔ خود حدیثیں بننالیتاہے۔ غرض کہ روایت کے متعلق کثرت سے اختلاف ہے۔ پس جب کسی راوی کے ثقہ اورغیرثقہ ہونے کے متعلق اختلاف ہے تو وہ حدیث اس وقت نہیں چھوڑنی چاہئے۔ جب تک کہ حدیث کا مفہوم بھی اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کرے۔ چنانچہ یزیدابن ربیعہ کے متعلق بھی متقدمین میں اختلاف ہواہے۔ ابومصعر نے کہاہے:’’کان یزید ابن ربعیۃ فقیھاغیرمتھم ماننکرعلیہ اذ ادرک بالاشعث ولٰکن اخشی علیہ سوء الحفظ والوھم‘‘

یزید بن ربیعہ فقیہ تھا۔ اس پرکوئی اتہام نہیں لگایاجاسکتا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس امر کا انکار کریں کہ اس نے ابو الاشعث کو پایا۔ البتہ مجھے اس پر سوء حفظ اوروہم کا ڈرہے۔

اور ابن عدی نے کہا ہے:’’ارجو انہ لاباس بہ‘‘ مجھے تو یہی امیدہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔(میزان الاعتدال ج۲ ص۶۰۰)

اور مولوی محمدفیض الحسن اور حافظ مولوی نور الحسن صاحب لکھتے ہیں: ’’فان قلت‘‘ سے ’’الٰی غیرہ‘‘ تک یعنی اگر توکہے کہ اس حدیث میں محدثین نے طعن کیاہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث یزید بن مربیعہ نے ابوالاشعث سے اور اس نے ثوبان سے روایت کی ہے اور یزید بن ربیعہ مجہول ہے اور ابوالاشعث سے اس کا سماع غیر معروف ہے تو یہ حدیث منقطع ہوگی۔ جس سے حجت پکڑنا درست نہیں ہوسکتاتو اس طعن کاجواب یہ ہے کہ امام محمدبن اسماعیل البخاری نے یہ حدیث اپنی کتاب میں بیان کی ہے اور وہ محدثین کے امام ہیں۔ پس یہ ان کا حدیث لاناہی اس کی صحت کی کافی دلیل ہے اور اس کے ہوتے ہوئے کسی کے طعن پر التفات نہیں کیاجاسکتا۔‘‘(عمدۃ الحواشی برحاشیہ اصول شاشی مطبوعہ نامی کان پور ص۷۶)

135

اورتلویح کے حاشیہ فزی میں یہ لکھاہے کہ چونکہ اس حدیث کی تائید دوسری حدیث سے ہوتی ہے جومحمد بن جبیربن مطعم سے مروی ہے۔ اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ جیسا کہ اوپرگزرچکاہے۔

مختارمدعیہ کی دوسری جرح

علامہ شوکانی لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں خود اس کا رد موجود ہے۔ کیونکہ جب ہم نے اسے کتاب اللہ پرعرض کیا تو اسے کتاب اللہ کی آیت: ’’مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا‘‘ کے مخالف پایا اور خطابی نے کہا ہے کہ اسے حدیث: ’’اوتیت الکتٰب ومثلہ معہ‘‘ رد کرتی ہے اور فیروزہ آبادی نے بھی حدیث یعنی ’’اوتیت الکتاب ومثلہ معہ‘‘ کو لے کر اسے موضوع ٹھہرایاہے۔‘‘

جواب: مولوی وحیدالزمان حیدرآبادی نے …’’اشراق الابصار فی تخریج احادیث انوار‘‘ میں ان اقوال کودرج کرکے لکھاہے:’’وفیہ مافیہ‘‘ یعنی یہ جواب بہت کمزورہے۔ چنانچہ حاشیہ پروہ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:’’اشارۃ الی ان ھٰذا لقول یجری فیماسکت الکتاب عنہ واما اذاخالفہ کماھو المراد ھھنا لعدم الموافقۃ فردہ وجب‘‘

یعنی علامہ شوکانی نے جو آیت پیش کی ہے کہ رسول جو تمہارے پاس لائے اسے لے لو اور جس سے روکے اس سے رک جائو اورحدیث کہ مجھے قرآن اور اس کی مثل دیاگیاہے تو اس سے مراد وہ اقوال یا وہ باتیں ہیں جن کے بارہ میں قرآن مجید ساکت ہے اور لیکن اگرکوئی قول قرآن کے مخالف ہو۔ جیسا کہ حدیث میں عدم موافقت بالقرآن سے مراد ہے تو ایسے قول کا رد کرناواجب ہے۔

جب علامہ شوکانی وغیرہ کوحدیث: ’’اذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ‘‘ کی آیت: ’’مااتاکم الرسول فخذوہ‘‘ اورحدیث:’’اوتیت القرآن ومثلہ‘‘ سے مطابقت معلوم نہ ہوئی تو اسے موضوع ٹھہرادیا۔ حالانکہ آیت میں یہ نہیں لکھاتھا کہ جو بات رسول قرآن مجید کے مخالف لائے تو اسے لے لو اور نہ ہی حدیث میں یہ تھا کہ جو قرآن کی مثل آنحضرتﷺ کو دیاگیاہے وہ قرآن مجید کے مخالف ہے۔ بلکہ حدیث: ’’اذا روی لکم عنی‘‘ اس آیت اورحدیث کی تفسیر کررہی ہے کہ جب آنحضرتﷺ کے اقوال کا موضوعہ اقوال سے جو افتراء کر کے آپ کی طرف منسوب کئے گئے ہوں۔ معلوم کرنامشکل ہوجائے تو سمجھ لیناچاہئے کہ آنحضرتﷺ کا قول وہی معتبرہوگا جو قرآن مجید کے مخالف نہ ہو۔ اگرکوئی مخالف پائو تویقینا سمجھ لو وہ قول افترا کے طور پر آپ کی طرف منسوب کیاگیاہے۔ چنانچہ (شرح التوضیح علی التنقیح ص۲۶۳) میں ’’اذاروی لکم عنی حدیث‘‘ کو ذکرکرکے لکھاہے:’’فدل ھٰذا الحدیث علی ان کان کل حدیث یخالف کتاب اللہ فانہ لیس بحدیث الرسولa وانما ھومفتری‘‘ کہ اس حدیث کا مدلول یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کے مخالف ہوتو وہ رسول اللہ کی حدیث نہیں۔ بلکہ وہ محض افتراء ہے جو آپ پرکیاگیاہے۔

پنجم: یہ حدیث مسلم اکابر ائمہ نے صحیح تسلیم کی ہے اور اس کے مطابق اپنا عقیدہ رکھاہے۔ چنانچہ نورالانوار میں لکھاہے:’’وتمسک الشافعی ایضاً فی عدم جواز نسخ الکتاب بالسنۃ لقولہ علیہ السلام اذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فماوافقہ فاقبلوہ والا فردوہ فکیف ینسخ بھا‘‘ (نورالانوار مطبوعہ مصطفائی ص۱۷۹)

۱… اورامام شافعی نے کتاب کے سنت سے منسوخ نہ ہونے پر آنحضرتﷺ کی اس حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے کہ جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی روایت بیان کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر عرض کرو۔ اگر اس کے موافق ہوتو لے لو ورنہ اسے رد کردو۔ پس سنت کے ساتھ کتاب اللہ کس طرح منسوخ ہوسکتی ہے۔

۲… اسی طرح تفسیر قادری میں زیر آیت: ’’اقیموا الصلٰوۃ ولاتکونوا من المشرکین‘‘ لکھاہے۔ ’’تیسیر میں شیخ محمدابن

136

اسلم طوسی قدس سرہ سے منقول ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی کہ جوکچھ مجھ سے روایت کی جائے تو اسے قرآن شریف پرپیش کرو۔ اگرموافق ہوتو وہ روایت مجھ سے ہے تومیں نے اس حدیث کو کہ: ’’من ترک الصلوٰۃ متعمداً فقد کفر‘‘ چاہا کہ کسی آیت سے موافق کروں اور تیس برس تک میں نے فکر کی یہاں تک کہ یہ آیت پائی کہ: ’’اقیمو الصلٰوۃ ولا تکونوا من المشرکین‘‘

بہت صاف بات ہے کہ اگرحدیث:’’اذاروی لکم عنی حدیث‘‘ موضوع ہوتی تو یہ کس طرح ہوسکتاتھا کہ ایک جلیل القدر امام اس پر عمل کر کے حدیث: ’’من ترک الصلٰوۃ متعمداً‘‘ کی صحت قرآن کریم سے معلوم کرنے کے لئے تیس برس تک کوشش کرتے ہے۔ کیا شیخ محمدابن اسلم طوسی قدس سرہ جیسے رفیع المرتبت امام کاجن کی جلالت شان محتاج بیان نہیں ہے۔ زنادقہ کی گھڑی ہوئی حدیث پرعمل کرنے میں طویل زمانہ ضائع کردینا عقل انسانی تسلیم کرسکتی ہے؟ ہرگز نہیں اور عقل وانصاف سے واسطہ رکھنے والوں کویہ تسلیم کئے بغیرچارہ نہیں ہے کہ دراصل امام موصوف اس حدیث کو نہایت صحیح اور درست سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے آنجناب نے مدت دراز تک اس کے مطابق عمل کرکے بحرتلاش میں غواصی جاری رکھی اوربالآخرگوہر مقصود حاصل کرلیا۔

۳… اورعلامہ جیون اپنی تفسیر احمدی کے مقدمہ میں جوزمانہ اورنگ زیب کے زمانہ میں تصنیف فرمائی تھی۔ آیت: ’’مافرطنا فی الکتاب من شییٔ‘‘ وغیرہ لکھ کر فرماتے ہیں: ’’وقال النبیa اذا بلغکم عنی حدیث فاعرضوہ علٰی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ والافردوہ۔ ففی القرآن تصدیق کل حدیث ورد عن النبیa‘‘ (التفسیر الاحمدی ص۳، مطبوعہ مطبع پنجابی لاہور)

یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جب تمہیں میری طرف سے کوئی حدیث پہنچے تو اس کو کتاب اللہ پر پیش کرو۔ اگر اس کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو ورنہ اسے رد کردو۔ پس قرآن مجید میں ہر ایک اس حدیث کی جو آنحضرتﷺ سے وارد ہے تصدیق موجودہے۔

ششم: جن لوگوں نے یہ کہاہے کہ یہ حدیث اپنے مفہوم کے لحاظ سے قرآن مجید کے مخالف ہے، انہوں نے صریح غلطی کی ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اس حدیث کی تصدیق وتائید کرنے والی آیت کثرت سے موجود ہیں۔ چنانچہ اللہتعالیٰ قرآن مجید کی شان میں فرماتاہے: ’’فیھا کتب قیمۃ لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ۔ ان ھذا القرآن یھدی للتی ھواقوم۔ وانہ لحق الیقین حکمۃ بالغۃ تبیانا لکل شیی انزل اللہ الکتاب بالحق والمیزان ھدیً للناس والفرقان انہ لقول فصل لاریب فیہ‘‘

ان آیات میں خداتعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ مثلاًیہ کہ وہ تمام صداقتوں پر مشتمل ہے اور باطل کسی طور سے بھی اس کی طرف راہ نہیں پاسکتا۔ وہ سب سے زیادہ سیدھی راہ بتلاتاہے۔ وہ حق الیقین ہے۔ اس میں ظن اورشک کی جگہ نہیں۔ وہ کلمۂ بالغہ ہے۔اس میں ہرچیزکابیان ہے۔ وہ حق ہے اورمیزان حق ہے۔ یعنی آپ بھی سچاہے اور سچ کی شناخت کے لئے محک بھی ہے۔ وہ لوگوں کے لئے صداقت ہے۔ ہدایتوں کی اس میں تفصیل ہے اور حق وباطل میں فرق کرتاہے۔ وہ قول الفصل ہے۔ اس میں کچھ بھی شک نہیں۔

پس جس کتاب کی یہ خصوصیات ہوں وہ کیوں احادیث کی صحت کا معیار نہ ٹھہرے اور اپنی خصوصیات کی وجہ سے اللہفرماتاہے:’’فبای حدیث بعد اللہ وآیاتہ یؤمنون‘‘ اور’’فبای حدیث بعدہ یؤمنون‘‘ یعنی تم بعداللہاوراس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لائوگے۔ اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اوریقینی فیصلہ دیوے، یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور شک باقی نہ رہ جائے اور منشاء اچھی طرح کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جوصریح اس کے مخالف پڑی ہو مؤمن کاکام نہیں۔ چنانچہ (مشکوٰۃ ص۱۸۶) میں ایک حدیث ترمذی اور دارمی سے منقول ہے جس سے متنازعہ فیہ امر پرکافی روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ ہے: ’’عن الحارث الاعور قال مررت فی المسجد فاذالناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علیّ فاخبرتہ فقال اوقد فعلوھا۔ قلت نعم، قال اما انی سمعت رسول اللہﷺ یقول الاانھا ستکون

137
فتنۃ قلت ماالخرج یا رسول اللہ قال کتاب اللہ فیہ نباء ماقبلکم وخبرہ ما بعدکم وحکم مابینکم ھوالفصل لیس بالھزل من ترکہ من جبار قصمہ اللہ ومن ابتغی الھدیٰ فی غیرہ اضلہ اللہ وھو حبل اللہ المتین من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجزومن حکم بہ عدل ومن دعاالیہ ھدی الی صراط مستقیم‘‘ (رواہ الترمذی والدارمی)

یعنی حارث اعور نے کہا کہ میں مسجد میں جہاں لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور حدیثوں میں خوض کررہے تھے، گزرا۔ سو یہ بات دیکھ کر یہ لوگ قرآن کوچھوڑ کر حدیثوں میں کیوں لگ گئے ہیں۔ حضرت علیq کے پاس گیا اور آپ کو خبردی آپ نے مجھ سے فرمایا: یقینا سمجھ کر میں نے رسول اللہﷺ سے سناہے کہ آپ فرماتے تھے۔ عنقریب ایک فتنہ ہوگایعنی دینی امور میں لوگوں کو غلطیاں ہوں گی اور اختلاف میں پڑجائیں گے اور کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھیں گے۔ تب میں نے عرض کی اس کہ فتنہ سے کیوںکر رہائی ہوگی۔ تب آپ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے ذریعہ سے رہائی ہوگی۔ اس میں تم سے پہلوں کی خبر موجود ہے اور آنے والے لوگوں کی بھی خبر ہے۔ جوتم میں تنازعات پیداہوں ان کا اس میں فیصلہ موجودہے اور وہ قول فصل ہے ہزل نہیں۔ جو شخص اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اور اس کوحکم نہیں بنائے گا، خداتعالیٰ اس کو گمراہ کردے گا۔ وہ حبل اللہ المتین ہے جس نے اس کے حوالہ سے کوئی بات کہی اسے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ ماجور ہے اورجو اس کی رد سے حکم بنا اس نے عدالت کی اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے راہ راست کی طرف بلایا۔

پس اس حدیث میں صریح طور پر خبردی گئی ہے کہ اختلافات کے فتنہ کے وقت جو شخص قرآن مجید کو محک اور معیار اورمیزان قرار دے گا وہ بچ جائے گا اورجو شخص اسے حکم نہیں بنائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ یہ حدیث بآواز بلند پکاررہی ہے کہ احادیث وغیرہ میں جس قدر اختلاف باہمی پائے جاتے ہیں۔ ان کا تصفیہ قرآن کریم کی رو سے کرناچاہئے اور یہی مفہوم حدیث:’’اذاروی لکم عنی حدیث‘‘ کا بھی ہے۔ پس چونکہ یہ حدیث اپنے مفہوم اورمعانی کی رو سے قرآن مجید اور دوسری احادیث صحیحہ کے بالکل مطابق ہے۔ اس لئے اس کو موضوع قراردینا لغووباطل ہے۔

ہفتم: صحابہ اور ان کے بعد دوسرے اکابرامت کا تعامل بھی اس حدیث کی صحت ثابت کرتاہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے بہت سی احادیث جوصحابہ میں رائج تھیں، قرآن مجید کے مخالف ہونے کی وجہ سے رد کردی ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عائشہt کے پاس ذکرآیا کہ ابن عمرq آنحضرتﷺ کی طرف یہ قول منسوب کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’ان المیت یعذب فی قبرہ ببکاء اھلہ‘‘ کہ میت کو اس کی قبر میں اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے تو حضرت عائشہt نے جواب دیا کہ آنحضرتﷺ نے یہ تو فرمایاتھاکہ: ’’انہ یعذب بخطیتہ و ذنبہ وان اھلہ لیبکون علیہ الان‘‘ کہ اس میت کو تو اپنے قصوروں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب دیاجاتاہے اور اس کے اہل اب اس پر روتے ہیں۔ دوسری روایات میں ہے کہ پہلی بات غلط ثابت کرنے کے لئے حضرت عائشہt نے آیت:’’لاتزر وازرۃ وزر اخریٰ‘‘ اور حضرت ابن عباسq نے آیت:’’واللہ اضحک وابکی‘‘ پڑھی۔ (بخاری ج۱ ص۱۵۶) پھر حضرت عائشہt نے فرمایا اور یہ قول آنحضرتﷺ کے اس قول کی مانند ہے جو آپ نے اس کنویں پرکھڑے ہوکرفرمایاتھا۔ جس میں بدرکے مشرکین مقتول ڈالے گئے تھے کہ ان سے جو میں کہتاہوں سنتے ہیں اور اس وقت بھی آپ کا وہ مطلب نہیں تھا جولیاگیا۔بلکہ آپ نے فرمایاتھا: ’’انھم الاٰن لیعلمون ان ماکنت اقول لھم حق ثم قرأ انک لاتسمع الموتی وما انت بمسمع من القبور‘‘ (بخاری ج۳ ص۵)

کہ وہ اب ضرورجانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتاتھا وہ حق ہے۔ پھر حضرت عائشہt نے یہ آیت پڑھی کہ تو مردوں کو نہیں سناسکتا اورنہ ان کو جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔

138

اسی طرح مسروق سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہt سے عرض کیا کہ: ’’رأی ربہ‘‘ کیا محمدa نے اپنے رب کو دیکھا تو حضرت عائشہt نے جواب دیا کہ تیرے اس قول سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں۔ غور سے سن، تین باتیں ایسی ہیں کہ جس نے وہ تیرے سامنے بیان کیں۔ اس نے جھوٹ بولا۔

’’من حدثک ان محمداa رأی ربہ فقد کذب، تم قرأت لاتدرکہ الابصار وھویدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر وماکان لبشران یکلمہ اللہ وحیا اومن ورآء حجاب، ومن حدثک انہ یعلم مافی غد فقد کذب ثم قرأت وما تدری نفس ماذاتکسب غدا ومن حدث انہ کتم شیئا فقد کذب ثم قرأت یٰایھا الرسول بلّغ ما انزل الیک من ربک الایۃ ولکنہ رای جبرئیلm فی صورتہ مرتین‘‘ (بخاری ج۳ ص۱۲۹)

یعنی جس نے تجھ سے یہ کہا کہ محمدa نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے جھوٹ بولا۔ کیونکہ خداتعالیٰ کو دیکھنا آیت: ’’لاتدرکہ الابصار‘‘ اور آیت: ’’وماکان لبشر‘‘ کے خلاف ہے اور اگر تجھے کوئی بتائے کہ جوکل ہونے والاہے اسے آنحضرتﷺ جانتے ہیں تو اس نے بھی جھوٹ بولا۔ کیونکہ یہ آیت:’’لا تدری نفس ماذا تکسب غدا‘‘ کے مخالف ہے اور اگر تجھے کوئی کہے کہ آنحضرتﷺ نے وحی میں سے کچھ چھپالیا ہے تو اس نے بھی جھوٹ بولا۔ کیونکہ ایسا کہنا آیت: ’’یٰایھا الرسول بلّغ ما انزل الیک من ربک‘‘ کے خلاف ہے اور سورہ ٔنجم کی آیت: ’’ولقد راہ بالافق المبین‘‘ اور آیت: ’’ولقدرأہ نزلۃ اخریٰ‘‘ سے جبرئیل کو اس کی اصلی صورت میں دومرتبہ دیکھنا مراد ہے۔

حضرت عائشہt کے تعامل سے بھی کہ وہ احادیث کو قرآن مجید سے رد کردیتی تھیں۔ صاف ظاہر ہے کہ حدیث: ’’اذاروی لکم عنی‘‘ بالکل صحیح ہے۔ چنانچہ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی بھی حضرت عائشہ صدیقہt کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’چنانچہ حضرت عمرq نے فاطمہ بنت قیس کی روایت کو ردکردیا کہ وہ کہتی تھی کہ مطلقہ ثلث کو نفقہ وسکنیٰ نہیں ملتا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم کتاب وسنت کو ایک عورت کے قول وروایت سے رد نہیں کرسکتے۔ معلوم نہیں کہ اس کویاد رہا یا بھول گئی اورحضرت عائشہt نے سکنی نہ دینے کہ وجہ خاص بیان کردی، جس کو فاطمہ نہ سمجھی تھی اور حضرت عائشہ کو جب خبرملی کہ حضرت عمروعبداللہ بن عمر اہل میت کے رونے سے میت کو معذب ہونا روایت کرتے ہیں تو آیت قرآن سے جو مثل قاعدہ کلیہ کے ہے: ’’ولاتزر وازرۃ وزر اخریٰ‘‘ سے رد کیا اور کہا کہ قرآن تم کو بس ہے۔

۲… اس طرح ابن سعداور طبرانی نے مقنع تمیمی سے روایت کی ہے کہ میں آنحضرتﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کی کہ لوگ اس طرح آپ کی حدیث میں خوض کرتے ہیں تونبیa نے اپنے ہاتھ اتنے اونچے اٹھائے کہ مجھ کو بغلوں کی سفیدی نظرآنے لگی اور یوں دعاکی۔ ’’اللّٰھم لااحل لھم ان یکذبوا علی‘‘ کہ اے خدا میں ان کے لئے جائز نہیں قراردیتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھیں۔ مقنع نے کہا:’’فلم احدث بحدیث عنہ علیہ السلام الاحدیث نطق بہ کتاب اوجرت بہ سنتہ یکذب علیہ فی حیاتہ فکیف بعدمماتہ‘‘ (موضوعات کبیرص۶)

یعنی میں نے آنحضرتﷺ کی اس دعا کے بعد آپ کی طرف کوئی حدیث بیان نہیں کی۔ مگر وہی جو منطوق کتاب اللہ کے مطابق ہو یا اس پر سنت جاری ہویعنی سنت سے ثابت ہو۔آپ کی زندگی میں آپ پرجھوٹ باندھاجاتاہے تو آپ کی وفات کے بعدکیاحالت ہوگی۔

۳… امام ملّا علی قاری موضوعات میں لکھتے ہیں: ’’الکریم حبیب اللہ ولوکان فاسقا والبخیل عدواللہ ولوکان راھباًلااصل لہ بل الفقرۃ الاولٰی موضوعۃ لمعارضتھا بنص قولہ تعالٰی ان اللہ یحب التوابین واللہ لایحب

139
الظٰلمین والفاسق اما من الظٰلمین اولکافرین‘‘ (موضوعات کبیر ص۶۲)

یعنی اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ’’الکریم حبیب اللہ ولوکان فاسقاً‘‘ ا س لئے موضوع ہے کہ وہ اللہتعالیٰ کے قول ’’ان اللہ یحب التوابین‘‘ اور ’’واللہ لایحب الظٰلمین‘‘ کے معارض ہے۔ کیونکہ فاسق یاظالم ہوگایاکافر۔

۴… اس طرح فوائد مجموعہ شوکانی میں لکھاہے:’’حدیث مامات النبیa حتٰی قرأ وکتب قال الطبرانی منکرمعارض للکتاب العزیز‘‘ (فوائد مجموعہ ص۱۱۶)

یعنی یہ حدیث کہ آنحضرتﷺ فوت نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ پڑھ لکھ لیتے تھے۔ طبرانی نے کہا کہ یہ حدیث بوجہ معارض ہونے قرآن مجید کے منکر یعنی غیرصحیح ہے اور اس کے ہوتے ہوئے حدیث: ’’اذا روی لکم عنی‘‘ کی صحت کے خلاف کسی کی لب کشائی بجوئے نمے آرزو یہ ہے۔ حدیثوں کے متعلق گزشتہ اماموں کاروشن اورنورانی طرز عمل اگرچہ بات نہایت صاف اور مطلب بالکل واضح ہوچکاہے اور از روئے انصاف گنجائش چون وچراکی مطلق باقی نہیںرہی ہے۔ تاہم میں اس پر اکتفاء نہ کر کے گواہان مدعیہ ومختاران مدعیہ کی ذہنیت کی رعایت سے چند حوالہ اور پیش کرتا ہوں اور حوالے بھی ایسے جو میرے مدعا کو مختاران مدعیہ کی نظر میں روشن سے روشن تر اور مختاران مدعیہ کو حیران وششدر بنا دینے والے ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کر دینے والے ہیں کہ مختاران مدعیہ حالات واندرون خانہ سے بھی کتنے ناواقف اور بے خبرہیں۔ تما م دیوبندیوں کے مسلم مقتداء اور امام جناب مولوی محمدقاسم صاحب نانوتوی بانیٔ دارالعلوم دیوبند اپنی مشہور عالم کتاب ’’ہدیۃ الشیعہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ: اہل سنت کلام اللہ کے سامنے کسی کی نہیں سنتے۔ یہاں تک کہ احادیث کو بھی اس پر مطابق کرکے دیکھتے ہیں۔ اگر موافق نکلے تو فبہا، ورنہ موافق مثل مشہور ’’کالائے زبون بریش خاوند‘‘ اس کو راویوں کے سرمارتے ہیں اور جان لیتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ راویوں کا قصورہے۔ القصہ عقل ونقل کی کسوٹی دین ودنیا میں امام سمجھتے ہیں۔(ہدیۃ الشیعہ ص۱۰)

حالانکہ حضرت اقدس کا یہ قول نبی کریمa کی سچی حدیثوں کے متعلق ہرگزنہیں تھا۔ بلکہ ان کے متعلق تھا جو غلطی سے حدیثیں خیال کی جاتی تھیں اور درحقیقت حضور کی حدیثیں نہیں تھیں۔ بلکہ جعلی اور موضوع تھیں اور مفروضہ کے طور پر آنحضرتﷺ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے حدیثیں کہلاتی تھیں۔ اب میں نے اس قسم کی حدیثوں کے متعلق مولوی محمدقاسم صاحب کا بھی ایک ایسا حوالہ پیش کردیاہے جس میں وہ ایسی حدیثوں کو جوخلاف قرآن ہوں، راویوں کے سرمارنے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے، بلکہ ان کو’’کالائے زبون‘‘ بھی ٹھہراتے ہیں۔ کیا مختاران مدعاعلیہ مولوی صاحب کو بھی احادیث رسول اللہﷺ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے سے بھی زیادہ بے وقعتی کرنے یعنی لوگوں کے سرمار دینے والاقراردے کرکافر ومرتد ٹھہرائیں گے۔

اورمولوی محمدقاسم صاحب بجواب سرسیداحمدخان (تصفیۃ العقائد ص۸۰) میں فرماتے ہیں: واقعی مخالف کلام اللہ نہ کسی محدث کا قول معتبرہوگا نہ کسی مفسر کا۔ بلکہ خود حدیث اگرمخالف کلام اللہ ہوتو موضوع سمجھی جائے گی۔ مگرمخالف وتوافق کا سمجھنا ہم جیسوں کا کام نہیں۔ اس کے لئے تین علموں کی ضرورت ہے۔ ایک تو علم یقینی معانی قرآن اور دوسرے علم یقینی معانی قول مخالف اور تیسرے علم یقینی اختلاف جس کو یہ منصب خداعطاء کرے۔ اس کے بڑے نصیب! یہ یاد رکھنا چاہئے کہ علامہ صاحب کے قول ہم جیسوں سے ان کے نزدیک مختارمدعیہ نمبر۱ کے دینی بزرگ سرسید جیسے لوگ مراد ہیں نہ اپنے جیسے لوگ اور نہ اپنے بزرگوں اور استادوں جیسے۔ کیونکہ آپ ہدیۃ الشیعہ میں یہ اقرار فرماچکے ہیں کہ اہل سنت ان حدیثوں کو جومخالف کلام اللہ ہوں راویوں کے سرمارتے ہیں اور اس قول کے مطابق ایسے لوگ جومخالف قرآن احادیث کو راویوں کے سرمارنے والے ہوں ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ہاں! ہرشخص کا یہ کام نہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

140

دو سنی غلط نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ بفضل تعالیٰ ان عیوب سے پاک ہیں۔ بلکہ جیسے کسوٹی پر چاندی سونے کولگا کر کھوٹاپرکھ لیتے ہیں۔ سنی کلام اللہ پر روایات کو مطابق کرکے صحیح وضعیف کو دریافت کرلیتے ہیں۔(ہدیۃ الشیعہ ص۱۹۰)

اورفرماتے ہیں: ’’جس صورت میں کلام اللہ میں ’’رحمآء بینھم‘‘ ہو ا ور اس کے تمہارے نزدیک یہی معنی ہوں کہ ان میں ہرگز کبھی رنج ہوتاہی نہیں تو موافق قاعدہ اصول کے ان روایات کا اعتبار نہ ہوگا جوکلام اللہ کے مخالف ہیں۔ (ہدیۃ الشیعہ ص۷۹) روایات سے مراد اس قول میں احادیث ہیں۔

کیا مختاران مدعیہ کے لئے اپنے اس مسلمہ امام کی یہ صراحت موجود ہوتے ہوئے بھی حدیث:’’اذاروی لکم عنی‘‘ کے متعلق یہ کہنے کی از روئے انصاف کوئی گنجائش ہے کہ یہ حدیث بلحاظ معنی ومفہوم کے بھی قرآن مجید کے خلاف ہے اور قابل اعتبارنہیں۔

تیسری بات کا جواب

چنانچہ حاشیہ میں اس کی مثال جس کوکوئی سند نہیں پائی جاتی۔ ’’لولاک لماخلقت الافلاک‘‘ لکھی ہے۔ جسے مختارمدعیہ بھی آنحضرتﷺ کی خصوصیات میں سے تسلیم کرتاہے اور اس کی سند نہ ہونے کی وجہ سے صنعانی نے اسے موضوع قراردیاہے۔(ملاحظہ ہو فوائد المجموعہ للشوکانی ص۱۶۶)

اور اس طرح حدیث: ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ جسے امام ربانی مجدد الف ثانی نے (مکتوبات ج۱ ص۲۶۷) میں جو مختارمدعیہ اور گواہان مدعیہ اور ان کے مقتدائوں کو بھی علم ہے اس کی بھی کوئی سند نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ (فوائد المجموعہ للشوکانی ص۱۰۱، موضاعات کبیرص۵۷، المصنوع فی احادیث الموضوع ص۱۷) میں ابن حجر اور زرکشی دمیری اور عسقلانی کا قول نقل کیاہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے اور اس طرح حدیث: ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ کے متعلق (موضوعات کبیرص۲۰) میں لکھاہے کہ اس کی کوئی اصل نہیںہے۔ حالانکہ دیوبندیوں کے مسلمہ بزرگ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی نے (البراہین القاطعہ ص۳۲)میں جو مولوی رشید احمد صاحب کی مصدقہ ہے اور مولوی محمدقاسم صاحب نے (لطائف قاسمیہ مطبوعہ مجتبائی ص۲۷) میں اس حدیث کو صحیح قراردے کر پیش کیاہے۔

اس طرح (البراہین القاطعہ ص۵۱) میں اس حدیث کو جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں۔‘‘ صحیح قراردے کر پیش کیاہے۔ حالانکہ اس کے متعلق بھی لکھاہے: ’’لااعلم خلف جداری ہذاقال ابن حجر لااصل لہ‘‘ (فوائد المجموعہ ص۱۱۶) کہ ابن حجر نے کہا یہ حدیث بے اصل ہے۔ پس مذکورہ بالااحادیث جن کی کوئی سند نہیں پائی جاتی، ائمہ اوراکابرامت میں صحیح تسلیم کی گئی ہیں اور زبان زد خلائق ہیں اور مشہور کی قسم میں داخل ہیں اور بلاسند معتبرہیں۔ ہاں! عبداللہ بن مبارک کے قول کے مطابق اسناد کا ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اگرکوئی حدیث اس حد تک قبولیت کا درجہ پاچکی ہو کہ اس کے لئے سند کے ذکرکرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی ہو اور وہ بلا سند مشہور ہوگئی ہو تو وہ حدیث بھی اس حدیث کی طرح جس کی سند بیان کی گئی ہے معتبر سمجھی جائے گی۔ جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے کہ باوجود ان کی سندوں کے نہ ہونے کے اکابر ائمہ اور جید علماء انہیں صحیح تسلیم کرتے ہیں۔

141

ورسلہ

حضرت مسیح موعود اور آپ کے تما م پیرو اللہتعالیٰ کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء اور رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور حضر ت اقدس کی کتابوں میں متعدد جگہ ایمان بالرسل کاذکرموجود ہے۔ چنانچہ آپ (حقیقت الوحی ص۱۴۱،خزائن ج۲۲ ص۱۴۵) میں فرماتے ہیں: ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے زمین وآسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیداکیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب سے آخر حضرت محمدمصطفیﷺ کو پیداکیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔‘‘

اورفرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ خوب جانتاہے کہ میں ایک مسلمان ہوں۔’’اٰمنت باللہ وملآئکتہ وکتبہٖ ورسلہ والبعث بعد الموت واشھد ان لآالٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدعبدا ورسولہ‘‘ (ازالہ اوہام ص۲،خزائن ج۳ ص۱۰۲)

اور اسی طرح اپنے مضمون ملحقہ چشمہ معرفت آیت: ’’اٰمن الرسول نما انزل الیہ من ربہ‘‘ جس میں تمام ایمانیات کا ذکرہے کو تحریر کیا ہے اور اپنی متعدد کتب میں ایمان بالرسل کااظہارکیاہے۔ جیسے کہ گواہان مدعاعلیہ کے بیانوں سے واضح ہے۔ اس کے بعد مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پر انبیاء اور امت محمدیہ وغیرہ کی توہین کے الزمات لگائے ہیں جن کا جواب عنوان توہین کے ذیل میں آئے گا۔ ان شاء اللہتعالیٰ!

سردست میں اس اعتراض کولیتاہوں جو مختارمدعیہ نے ۷؍اکتوبر کی بحث میں پیش کیا ہے اور ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں بھی کہ مرزا صاحب نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور گواہ مدعا علیہ نے جواب جرح میں کہا ہے کہ کرشن کو نبی ماننا خلاف قرآن نہیں۔ الغرض مختار مدعیہ کے اعتراض کا ماحصل یہ ہے کہ ایک غیر نبی بلکہ ایک کافر کو زمرہ انبیاء میں داخل کرنا کفرہے اور پھر اس کے مثیل ہونے کادعویٰ کفردرکفرہے۔

جواب: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے نہ تو کسی کافریامؤمن غیر نبی کو زمرہ انبیاء میں داخل فرمایا ہے اور نہ کسی کافر کے مثیل ہونے کا دعویٰ کیاہے۔

پہلے میں اس امر پر نظر کرتاہوں کہ آیا سری کرشن جی کافر تھے یا مؤمن اور نبی اور اس کے لئے قرآن شریف کی طرف رجوع کرتاہوں کہ ان کا نبی ہونا خلاف قرآن نہیں بلکہ بالکل مطابق قرآن ہے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’ان من امۃ الاخلافیھا نذیر‘‘ یعنی دنیا میں کوئی ایسی امت نہیں ہے جس میں خداتعالیٰ نے کوئی ڈرانے والا نہ بھیجاہو۔

اور فرمایا ہے: ’’منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک‘‘ یعنی اے نبی کریم ہم نے بعض رسول کا ذکرتم سے کیاہے اور بعض کا نہیں کیا۔

ان آیتوں میں سے ایک آیت میں تو یہ ظاہر کیاگیاہے کہ قرآن شریف میں کل نبیوں کا ذکرنہیں صرف بعض کاہے اور بعض نبی ایسے بھی ہیں، جن کا قرآن شریف میں کچھ ذکرنہیں آیا اور ایک آیت میں یہ بتایا گیاہے کہ دنیا کی ہر قوم میں خدا کی طرف سے ڈرانے والے یعنی نبی آئے ہیں اورجب ہر قوم میں نبیوں کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ ہندو بھی ایک بہت بڑی قوم ہے۔ پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ بڑی قوم میں کوئی نبی نہ بھیجا گیا ہو اوراگرکوئی یہ کہے کہ نذیر کے لفظ سے نبی مراد ہونا ضروری نہیں، عالم وغیرہ بھی مراد ہوسکتے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ جس آیت میں یہ لفظ نذیرآیاہے، اس سے پہلے اس لفظ کے ساتھ اللہتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو بھی مخاطب فرمایا

142

ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:’’ان انت الا نذیر انا ارسلناک بالحق بشیراونذیر وان من امۃ الّاخلافیھا نذیر‘‘ یعنی تو ایک نذیر ہے اور ہم نے تجھے حق کے ساتھ بشیر ونذیر کرکے بھیجاہے اور کوئی امت نہیں ہے۔ مگر ہماری طرف سے اس میں ایک نذیر گزراہے۔‘‘

سیاق کلام بتارہاہے کہ اس آیت میں نذیر سے مرادنبی ہی ہے۔ علاوہ اس کے اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا‘‘ یعنی ہم نے ہرامت میں اپنا رسول ضروربھیجا ہے اور اس سے لفظ نذیر کی اچھی طرح تشریح ہوگئی اورظاہر ہوگیا کہ ہرامت میں خداکانبی ورسول ضرورآیاہے۔ پھر قرآن مجید اور صحف انبیاء سے معلوم ہواہے کہ جھوٹے نبی کا ذکردنیا میں زیادہ مدت تک قائم نہیں رکھاجاتا۔ بلکہ جلدمنقطع کردیاجاتاہے اور اس کاکوئی نام پورانہیں رہتا۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بھی اپنی تفسیر کے مقدمہ میں لکھاہے: ’’نظام عالم میں جہاں اورقوانین ہیں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوتی، بلکہ وہ جان سے ماراجاتاہے۔ پھرلکھاہے کہ خدانے کسی جھوٹے نبی کو سرسبزی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیرمتناہی مذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتاسکے۔‘‘(مقدمہ تفسیر ثنائی ج۱ ص۱۶)

پس ہندوستان کا ایک بڑا ملک اورہندوقوم کا ایک بڑی قوم ہونا اور سری کرشن جس کا ہزاروں سالوں سے اس ملک اور قوم میں اعلیٰ درجہ کا برگزیدہ اورخدارسیدہ سمجھاجانااور غیرمعمولی عزت وعظمت سے دیکھا جانابتارہاہے کہ درحقیقت وہ خدا کے نبی تھے۔ ورنہ ایک جھوٹے کے لئے خداکی عزت اتنی دیرپاعزت کبھی گوارانہیں کرسکتی۔ حق پسندطبائع کے لئے تو یہ بیان نہایت تسلی بخش بیان ہے کہ جب قرآن شریف سے سری کرشن جی کا نبی ہونا پایاجاتاہے تو ان کے مثیل ہونے کا دعویٰ ایک نبی کے مثیل ہونے کا دعویٰ ہوا۔ پھر اس کا کفرسے تعلق لیکن جو لوگ باوجود اس کے مقبول اورقابل قبول ہونے کے اس کو قبول نہ کریں۔ ان پر بڑے بڑے علماء وفضلاء بلکہ اولیاء و ائمہ تک کو کافر ومرتد ماننا پڑے گا۔ یہ کیونکہ انہوں نے حضرت کرشن جی کو نبی ماناہے اور لطف یہ ہے کہ بعض حضرات نے انہیں آیتوں سے ان کی نبوت پر استدلال کیاہے اورطرّہ یہ کہ مختاران مدعیہ کے مقتدائوں اور پیشوائوں نے اس معاملہ میں دوسروں سے بڑھ کر حصہ لیاہے۔ چنانچہ مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی فرماتے ہیں:

۱… ’’اوّل تو قرآن شریف میں ارشاد ہے: ’’وان من امۃ الّاخلافیھا نذیر‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی امت یعنی گروہ عظیم الشان نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والانہ گزراہو۔ پھرکیوں کرکہہ دیجئے کہ اس ولایت ہندوستان میں جو ایک عریض وطویل ولایت ہے۔ کوئی ہادی نہ پہنچاہو۔ کیا تعجب ہے کہ ہندوصاحبان کن کو اوتار کہتے ہیں۔ یہ اپنے زمانے کے نبی یاولی یانائب نبی ہوں۔ دوسرے قرآن شریف میں بھی ارشاد ہے: ’’منھم من قصصنا علیک ومنھم من نقصص علیک‘‘ جس کا حاصل یہ ہوا کہ بعض انبیاء کا قصہ تو ہم نے تجھ سے بیان کردیاہے اور بعضوں کا قصہ بیان نہیں کیا۔ سوکیاعجیب ہے کہ انبیاء ہندوستان بھی انہیں میں سے ہوں جن کا تذکرہ آپ سے نہیں کیاگیا۔‘‘(مباحثہ شاہجہان پور مابین مولوی محمدقاسم وپنڈت دیانند ومنشی اندرمن وپادری اسکاٹ ونولسن صاحبان منعقدہ ۱۲۹۵ء مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۳۱،۳۲)

۲… اسی طرح مولوی محمدعلی صاحب کانپوری ثم مونگیری اپنی کتاب ’’ارشاد رحمانی وفضل یزدانی‘‘ مطبوعہ مطبع منبع فیض شاہجہانی میں اپنے پیر حضرت قدوۃ الکملا واسوۃ الفضلا، ہادی مراحل شریعت وطریقت واقف اسرارحقیقت ومعرفت محیط رجال کرام ومرجع خواص وعوام، قطب دوران، غوث زمان مولانافضل الرحمن صاحب کا ارشاد لکھتے ہیں: ’’ایک روز بعد عصر بخاری شریف کے سبق میں حضرت سلیمانm کا ذکرآیا۔ صاحبزادہ صاحب احمدمیاں نے فرمایا کہ کنہیا کی سولہ ہزارگوپیاں تھیں۔ ارشاد ہوا کہ حضرت کے پیشتر یہ لوگ مسلمان تھے۔ فقیر کہتاہے کہ بعض اور حضرات نقشبندیہ نے بھی ایسے ہی کچھ کہاہے۔ چنانچہ قیوم دوران حضرت مرزا مظہر جان جاناں قد سرہ اس شخص کو خواب کی تعبیر میں فرماتے ہیں، جس نے دیکھا تھا کہ ایک جنگل آگ سے بھرا ہواہے اورکنہیا اس کے بیچ میں ہے اور رام چندر داس کے کنارہ پر ایک

143

شخص نے اس کی تعبیر میں بیان کیا کہ وہ لوگ کافروں کے سردارہیں۔ اس لئے جہنم کی آگ میں جلتے ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا: اس کی تعبیر دوسری ہے۔ جتنے لوگ گزرگئے ہیں ان میں سے کسی خاص شخص پر کفر کاحکم کرنا بغیر ثبوت شرعی جائزنہیں ہے اور ان دونوں کا حال نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث میں۔ قرآن مجید میں آچکا ہے کہ ہرقریہ میں ہدایت کرنے والاگزراہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہنود میں کوئی ہادی گزراہوگا۔ اس تقدیر ہوسکتاہے کہ لوگ اپنے عہد میں ولی ہوں یا نبی اور رام چندر نسبت سلوک کی تعلیم کرتاہے اور کشن نسبت جذبی چونکہ کنہیا میں ذوق شوق کا غلبہ تھا۔ اس لئے وہ عشق و محبت کی آگ میں جلتاہوانظر آیااوررام چندر پر سلوک غالب تھا۔ جذب کو طے کرچکاتھا۔ اس وجہ سے وہ اس آگ کے کنارے سے نظرآیا۔ حضرت حاجی محمدافضل قدس سرہ نے اس تعبیر کو پسند کیا اور خوش ہوئے۔(ارشاد رحمانی فضل یزدانی ص۴۷،۴۸)

’’ان عبارتوں میں جن صاحبوں نے سری کرشن جی اور سری رام چندرجی کے مؤمن اور ولی ہونے اور نبی ہونے کا خیال ظاہر کیاہے۔ یہ سب مختاران مدعیہ کے مسلم بزرگ ہیں اور مولانامحمدقاسم صاحب نے تو کرشن جی اور رام چندر جی کی نبوت پرانہی آیتوں سے روشنی ڈالی ہے جو میں نے ابتدائے بیان میں اس غرض سے پیش کی ہیں۔‘‘

اب کیا مختارمدعیہ مولوی محمدقاسم صاحب اور دیوبندیوں کے دوسرے مسلم بزرگوں اور مختارمدعیہ نمبر۲ کے قبلہ وکعبہ مولوی محمد علی صاحب کانپوری ثم مونگیری سابق ناظم ندوۃ العلماء اور شہرہ آفاق بزرگ حضرت مولاناشاہ فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی اور قیوم دوران حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید اورحضرت حاجی محمدافضل قدس سرہ، غیر انبیاء کازمرہ انبیاء میں داخل کرنے والاقرار دے کر اوردائرہ اسلام سے خارج قراردے گا۔

یہ بیان نامکمل رہ جائے گا۔ اگر میں اس موقع پر ان سب حضرات کے مقتداء و پیشواء امام ربانی حضرت الشیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی قدس سرہ کا ارشاد فیض رشاد بھی نہ سنادوں۔ آنجناب فرماتے ہیں:’’ودرامم سابقہ کہ ملاحظہ مے کندکہ کم بقعہ مے یابد کہ درآنجا بعثت پیغمبرے نہ شدہ باشد حتی کہ درزمین ہند کہ دورازیں معاملہ مینما ید نیز مے یابد کہ از اہل ہند پیغمبران مبعوث شدہ اند دعوت بہ صانع جل شانہ فرمودہ اند ودربعضے بلاد ہند محسوس میگردوکہ انوارانبیاء درظلمات شرک دررنگ مشعلہا افروختہ اند… اینحا کوتہ اندیشے سوال نہ کند کہ اگر درزمین ہند انبیا مبعوث مے شدمذہر آئینہ خبر بعثت ایشاں نیز بمامیرسید بلکہ آں جز از جہت توفردواعی بتواتر منقول میگشت۔ ولیس فلیس، زیراکہ گوئیم کہ دعوت ایں پیغمبراں مبعوث عام نبود بلکہ دعوت بعضے مخصوص بیک قوم بودہ بعضے رادعوت مخصوص بیک قریہ ویابیک بلدہ بود وتواندبود کہ حضرت حق سبحانہ درقومی یادرقریہ شخصے رابایں دولت مشرف ساختہ باشد وآنشخص آنقوم یااہل آنقریہ رادعوت معرفت صانع جل شانہ کردہ باشد ومنع از عبادت غیر اوتعالیٰ نمودہ… الفاظ رسالت ونبوت وپیغمبری از لغات عرب وفارس آمدہ بواسطہ اتحاد دعوت پیغمبر ماعلیہ وعلیٰ آلہ وعلیٰ جمیع الانبیاء الصلوٰت والتسلیمات وایں الفاظ درلغت ہند نبود ۃ تاانبیاء مبعوثہ ہند رانبی یا رسول یا پیغمبر گویند وباین اسامی ایشاں رایاد کندد… اگر انبیاء درہندمبعوث نہ شدہ باشند وہم بہ زبان ایشاں بایشاں دعوت نکردہ باشد ہرآئینہ حکم اینہا حکم شاہق جبل بود باوجود تمردو دعویٰ الوہیت بدوزخ نہ در آیند و عذاب مخلد ایشانبرانشوو وہذا ممالایرتضیہ العقل السلیم ولا یساعدہ الکشف الصحیح فانانشاہد بعض مردتہم فی وسط الجحیم‘‘ (مکتوبات ج۱ ص۲۸۴، ۲۸۵، مکتوب ص۲۵۹)

اس عبارت کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ: ’’ہندوستان میں انبیاء مبعوث ہوئے ہیں اور ہندوستان کے بعض شہروں کے اندرشرک کی تاریکیوں میں انبیاء کے انوارمشعل کی طرح روشن معلوم ہوتے ہیں اور اس جگہ کوئی کوتہ اندیش سوال نہ کرے کہ اگر ہند میںانبیاء مبعوث ہوئے ہوتے تو ہم کوبھی اس کی خبرہوتی۔ کیونکہ خبر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہند میں جو انبیاء مبعوث ہوئے ہیں۔ ان کی دعوت عام نہیں تھی۔ بعض ایک مخصوص قوم کے لئے تھے اور بعض ایک گائوں کے لئے اوربعض ایک شہرکے لئے اور وہ نبی اور رسول اور پیغمبر کے نام سے مشہورنہیں

144

ہوئے۔ کیونکہ یہ الفاظ عربی وفارسی کے تھے۔ ہندوستان کی زبان کے نہیں تھے اور اگر یہ پایاجائے کہ ہندوستان میں انبیاء مبعوث نہیں ہوئے اور اہل ہند کو اس کی زبان میں دعوت نہیں دی گئی تو پھر یہاں کے لوگ بھی انہیں لوگوں کے حکم میں ہوں گے جوبلند پہاڑوں کی چوٹیوں پررہنے والے ہوں اور جنہیں کسی رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو تو اس صورت میں یہاں جو سرکشش اورمدعی الوہیت وغیرہ گزرے ہیں۔ چاہئے کہ انہیں جہنم کا عذاب نہ ہو اور یہ وہ بات ہے جس کو قبول کرنے کے لئے عقل سلیم تیار نہیں ہے اور کشف صحیح بھی اس کو رد کرتاہے اور اس کی تائید نہیں کرتاہے۔ کیونکہ ہم کشفاً ان کے بعض سرکشوں کو دوزخ میں پڑاہوامشاہدہ کرتے ہیں۔ ‘‘

اس عبارت میں بڑی صراحت ووضاحت اوربڑے شدومد سے ہندوستان میں نبیوں اوررسولوں کا آنا بیان کیاگیاہے اور ان لوگوں کو جو اس میں کلام کریں۔ مثلاً یہ کہیں کہ ہم کو ان کی آمد کیوں معلوم نہ ہوئی کم سمجھ اورکم فہم قراردے کر یہاں کے انبیاء کی آمد معلوم نہ ہوسکنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ یہاں کے انبیاء رسول اور نبی اور پیغمبروں کے نام سے مشہور نہیں ہوئے۔ کیونکہ یہ الفاظ ان کی زبان کے نہیں ہیں اورچونکہ وہ ان ناموں کی بجائے اورناموں سے مشہور ہوئے۔ اس لئے ان کانبی ورسول ہوناعام طورپر معلوم نہ ہوسکا اور پھربتایا ہے کہ ہندوستان میں نبیوں کا نہ آنا ایسی بات ہے جس کو عقل سلیم کسی طرح قبول نہیں کرسکتی۔ کیونکہ جہاں نبی نہ آیاہو، وہاں کے نافرمان باشندے دوزخ میں نہیں ڈالے جاسکتے۔ حالانکہ یہاں کے نافرمان وسرکش باشندوں کا دوزخ میں پڑاہواہوناکشف صحیح کے ذریعے ہمارے مشاہدے میں آرہاہے۔

اب کیا گزشہ اصحاب کے ساتھ مختارمدعیہ حضرت مجدد الف ثانی پر بھی یہی فتویٰ لگائے گا کہ وہ غیر انبیاء کو زمرہ انبیاء میں داخل کرنے کی وجہ سے (نعوذ باللہ) کافر ومرتدہیں۔

کلام انتہاء کو پہنچ گیا اور حقیقت اپنی پوری نورانیت کے ساتھ مثل مہر نیم روزتاباں اوردرخشاں ہوچکی ہے۔ لیکن سرزمین بہاولپور شاکی رہ جائے گی۔ اگرانہیں سب سے آخر میں اس سرزمین سے تعلق خاص رکھنے والے بزرگ فرد یگانہ ووحید حضرت خواجہ غلام فرید کے ارشادات میں سے بھی کچھ پیش نہ کردو ں گا۔

ارشادات فریدی جلد ۲ص ۷۹،۸۰ میں لکھاہے: ’’بعدازاں یکے ازحضار عرض کرد کہ سر کرشن جی ورام چندر صاحب فقیر ودرویش بودہ اند یانے۔ حضورخواجہ ابقاہ اللہ تعالیٰ ببقا ئہٖ فرمددند کہ ہمہ اوتاراں دریشاں پیغمبران ونبیان وقت خود بودہ اند۔ وہریک ازیشاں حسب شریعت خود کتابے دارد۔ چنانچہ چہاروید بلغت سنسکرت الآن نیز بموجوداست وہرایک از انہابرائے شکستن عبادات ورسوم بدکہ درآں قوم شائع بودند مبعوث شدہ است۔ چنانکہ چوں درہند واں قدرومنزلت برہمناں زیادہ ازحد افزودہ ورابطہ وواسطہ میان حق وخلق بجز برہمن دیگری رانمے پنداشتند، پس جہت قلع ایں عقیدہ بدھ جی صاحب مبعوث شدورسم گائو پرستی راشکست ومحوکرد تاکہ برچرم گائو نان میخورد وگاواں رامیکشت علاوہ از جگ وہوم کردن ودرکتب ایشان اگرچہ درعادات وفروع عبادات احکام مخالف یک دیگراند مادراصل مطلب کہ رجوع اللہتعالیٰ وتوحید خداعزوجل است ہمہ باہم متحد ومتفق ہستند۔بعد ازاں فرمودندہ کہ نبوۃ زردشت صاحب ہم یک گونہ بحدیث شریف ثابت میگرد… چوں ذکر مجوس کہ امت زردشت است درمقابلہ اہل کتاب واقع شدہ ازاں صریح وواضح معلوم میشود کہ زر دشت صاحب ہم نبی وپیغمبروقت خود بودہ است۔‘‘

حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کی اس عبارت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے مختلف اوقات میں مختلف بدعات ورسوم قبیحہ کے مٹانے اور مخلوق کوخداتعالیٰ کی اطاعت عبادات کی طرف بلانے کے واسطے ہندوستان میں سری کرشن جی اور راجہ رام چندرجی اوربدھ جی وغیرہ کو نبی اور رسول بنا کر بھیجا اور اس طرح فارسیوں کی ہدایت کے لئے زردشت کو مبعوث فرمایا۔ سائل نے تو سری رام چندر جی اور سری

145

کرشن جی کے فقیر اور درویش ہونے کے متعلق سوال کیا تھا ہوسکتاتھا کہ جواب اثبات میں دے دینے پر اکتفاء کیاجاتاہے۔ مگرحضرت خواجہ صاحب نے گوارانہ فرمایا کہ حقیقۃ الامرکاجیسا کہ چاہئے اظہار نہ کردیاجائے۔ پس آپ نے وضاحت کے ساتھ ان کا نبی ورسول ہوناظاہر فرمایا اور نہ صرف ان کا بلکہ بدھ جی کا بھی اورزردشت کا نبی ورسول ہونا بھی۔ اب مختارمدعیہ کے نزدیک تو حضرت خواجہ صاحب بھی غیر نبی بلکہ غیر انبیاء کو زمرہ میں داخل کرنے کی وجہ سے(نعوذباللہ) کافرومرتد ٹھہرتے ہیں اورتمام سابق الذکرحضرات سے زیادہ اوربدرجہا زیادہ، کیونکہ ان میں سے بعض نے توصرف کرشن جی اور بعض نے نام نہیں لئے ہندوستان میں نبیوں کا آنابتادیا۔ مگرحضرت خواجہ صاحب نے اس پربس نہ کرکے تمام اوتاروں اور تمام رشیوں کو اپنے اپنے وقت کا نبی بتایا اور وید کو آسمانی کتاب پھر کلام کو چہار دیواری ہند سے نکال کر ایران تک پہنچایا اور زردشت کا بھی نبی ہوناظاہر فرمایا۔

اب دوہی صورتیں ہیں یاتویہ مان لیاجائے کہ مختارمدعیہ کا حضرت اقدس مرزا صاحب پر یہ الزام لگاناکہ آپ ایک غیر نبی یعنی کرشن جی کو زمرہ انبیاء میں داخل کرنے کی وجہ سے (نعوذباللہ) کافرہیں۔ قطعاً لغووباطل ہے اور کسی لحاظ سے بھی قابل التفات نہیں اور یایہ ماننا پڑے گا کہ وہ بکثرت علماء وفضلاء اور اولیاء جو حضرت رام چندرجی اورحضرت کرشن جی کو خداکانبی ورسول اورہند کے تمام اوتاروں اور رشیوں کو اپنے اپنے وقت کا نبی ورسول مانتے ہیں اورجن میں سے صرف بعض کے نام میں نے درج کردئیے ہیں۔ یہ سب کے سب(نعوذباللہثم نعوذباللہ) مرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہیں اور میں ان کے واسطے بھی یہ فرض نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلمان ان علماء اور اولیاء کو جن کے نام میں نے لکھے ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے ہندوستان کے تمام اوتاروں اور رشیوں کو علی العموم اوربالخصوص حضرت رام چندرجی اور حضرت کرشن جی کو خداکانبی ورسول ماناہے۔ کافرمان لے گا اور مختارمدعیہ کو اپنے بزرگوں کے کافرقراردینے کے بعد بھی مسلمان ہی سمجھے گا۔

اس موقع سے بغیر اس امر پرغور کئے ہوئے گزرجانا مناسب نہ ہوگا کہ اگرچہ حضرت رام چندرجی اور کرشن جی کو نبی ورسول تو اوربزرگوں نے بھی مانا اور بتایاہے۔ لیکن حضرت خواجہ صاحب نے جس حقیقی جوش وخروش اورجیسے شدومد سے ان کے نبی ورسول ہونے کی شہادت دی ہے کہ کسی اور بزرگ میں اس کی نظیرنہیں پائی جاتی۔ اس کی وجہ بجز اس کے اورکچھ معلوم نہیں ہوتی کہ آنجناب نے یہ کام ایک خاص ارادہ الٰہی کے ماتحت میں کیاہے۔ چونکہ خداکے علم میں تھا کہ ریاست بہاولپور میں عدالت کے روبروبحث پیش آئے گی کہ سری رام چندرجی اور سری کرشن جی کو نبی کہنے والا ایک غیر نبی کوزمرہ انبیاء میں داخل کرنے اور پھر اپنے آپ کو اس کی مثل قراردینے کی وجہ سے کافر ومرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لئے اس نے بلحاظ روحانیت اس سرزمین کے سب سے بڑے انسان سے یہ شہادت قلم بندکرادی کہ رام چندر اور سری کرشن جی نبی ہیں۔ تاوقت پر یہ شہادت پیش ہوکر اس سرزمین کے ہرچھوٹے بڑے پرحجت تمام ہونے کا موجب بنے اور اکابر کی شہادتوں کا یہاں والوں پر اتنا ا ثرنہیں ہوسکتاتھا۔ جتنا کہ یہاں کے ایک فرد وحید حضرت خواجہ غلام فرید صاحب قدس سرہ جیسے مسلم مقدس بزرگ کا، خواجہ صاحب سے اللہتعالیٰ نے یہ شہادت اس لئے دلوائی ہے تاکہ اس کے مامور پر جوالزام ریاست بہاولپور میں عائد کیا جائے گا۔ اس کالغووباطل ہونا اس کی زمین کے ایک مسلم مقدس کے ذریعہ ظاہر فرمادے۔ لیکن آج جب کہ یہ ارادہ الٰہی وقوع میں آچکاہے۔ ہرشخص کے سامنے ہے۔ مبارک وہ جو اس پرغورکریں۔

بیان مندرجہ بالا سے سری کرشن جی کی نبوت معقول ومنقول دونوں طریقوں پر اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ گنجائش کلام باقی نہیں رہتی۔ لیکن اگر یہ وسوسہ پیش کیا جائے کہ جب سری رام چندرجی اور سری کرشن جی کی قوم یعنی ہندو ان کی طرف چوری زنا اور دعویٰ الوہیت وغیرہ امور جونشان نبوت کے بالکل منافی ہیں۔ منسوب کررہے ہیں توپھر ان کو نبی ماننا کس طرح درست ہوسکتاہے اور ایسی حالت میں ان کے مثیل ہونے کا دعویٰ جو ایک نہایت خراب حال مدعی الوہیت کے مثیل ہونے کا دعویٰ ہو،کیونکر جائز ہوسکتاہے تو جواب یہ ہے کہ ان کو نبی

146

ماننا اسی طرح درست ہوسکتاہے۔ جس طرح کہ حضرت لوط وحضرت یوسف، حضرت دائود وحضرت سلیمان اورحضرت مسیح کونبی ماننا درست ہے۔ حالانکہ ان سب نبیوں کی قوموں نے ان کی طرف ویسی ہی لغویات منسوب کی ہیں جیسی کہ ہنود نے سری رام چندرجی اورسری کرشن جی کی طرف منسوب کی ہیں۔ بلکہ ان سے بڑھ کر،اورجن طرح ان انبیاءؑ کی قوموں کا ان کی طرف لغویات منسوب کرنا غلط تھا اور وہ انبیاءؑ ان لغویات سے مبرّا ومنزّہ تھے۔ اسی طرح سری رام چندرجی اور سری کرشن جی ان لغویات سے جو ان کی قوم نے ان کی طرف منسوب کیں بری ہیں اور جب یہ معلوم ہوگیا تو کرشن جی کے مثیل ہونے کا دعویٰ قابل اعتراض نہ رہا۔ میں اس کو ایک مثال کے ذریعے سے اورزیادہ واضح کردینا چاہتاہوں۔ تمام دیوبندی حضرات کے مسلم مقتداء اوران کے شیخ الہند مولوی محمود حسن صاحب نے اپنے پیرمولوی رشیداحمدصاحب کو اس زمانے کامسیحا اورماہ کنعان یعنی اس زمانے کا یوسف لکھاہے۔ جیسا کہ وہ مرثیہ میں فرماتے ہیں ؎

  1. مسیحائے زمان پہنچا فلک پر چھوڑ کر سب کو

    چھپا لحد میں وائے قسمت ماہ کنعانی

کہ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی فوت ہوکرزیر زمین دفن ہوگئے تھے۔ اس موقع پر یہ کہنا کہ آسمان پر چلے جانے سے زیر زمین دفن ہونابھی مراد ہواکرتاہے اورمسیح بھی مولوی رشیداحمدصاحب کی طرح زیرزمین دفن ہوکر آسمان پر جابیٹھے ہیں۔ بلکہ کہنا صرف یہ ہے کہ مسیحا کی قوم یعنی عیسائی تومسیحا کی طرف شراب خوری اور دعویٰ ابنیت والوہیت وغیرہ بہت سے خراب امور منسوب کررہے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے مولوی محمود حسن صاحب نے، مولوی رشیداحمدصاحب کو مسیحائے زمان لکھاتوکیوں لکھا۔ اس غرض سے جوباتیں عیسائی مسیحا میں مان رہے ہیں مولوی محمود حسن وہ باتیں مولوی رشیداحمد میں بھی مانتے تھے، ہرگزنہیں۔ بلکہ مولوی محمودحسن صاحب ان باتوں کو جوعیسائی مسیحا کی طرف منسوب کرتے ہیں غلط سمجھتے تھے اور دعویٰ ابنیت والوہیت وغیرہ تمام خراب امور سے پاک جانتے تھے اوران کے نبی ورسول ہونے پر ایمان رکھتے تھے اورمسیحاکی انہیںصفات کے لحاظ سے جووہ خود مانتے تھے انہوں نے مولوی رشید احمدصاحب کو مسیحا کہاتھا۔ یہی اور بالکل یہی بات یہاں بھی ہے کہ ہنود جوباتیں حضرت کرشن جی کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ حضرت اقدس سیدنامسیح موعود انہیں صحیح نہیں جانتے اوردعویٰ الوہیت وغیرہ امورجوان کی طرف منسوب کئے جارہے ہیں اورجوشان نبوت کے خلاف ہیں۔ حضرت اقدس ان سے سری کرشن جی کی ذات کوبری جانتے ہیں اورانہیں خداکانبی اوررسول یقین کرتے ہیں اورآپ کا مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ کرشن جی کی ان صفات کو ملحوظ رکھ کرہے جنہیں آپ صحیح جانتے تھے نہ ان خراب امور کے لحاظ سے جوہندوان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔

اگرچہ اس مثال سے یہ بات بالکل صاف ہوگئی ہے کہ کرشن جی کی طرف ان کی قوم یعنی ہندوئوں کاخلاف شان نبوت کچھ امور منسوب کرنا ویسا ہی ہے، جیسا کہ حضرت مسیح وغیرہ انبیاء کی قوموں کا ان کی طرف خلاف شان نبوت بہت سے امور سے منسوب کردینا۔ لیکن زیادہ اطمینان کے لئے انہیں اپنے اس بیان پرتمام دیوبندیوں کے مسلم مقتداء وپیشواء مولانامحمدقاسم صاحب کی شہادت بھی پیش کئے دیتاہوں اور وہ یہ ہے: ’’رہی یہ بات کہ اگر ہندوئوں کے اوتار انبیاء یا اولیاء ہوتے تو دعویٰ خدائی نہ کرتے۔ ادھر افعال ناشائستہ مثل زنا،چوری وغیرہ ان سے سرزد ہوئے۔ حالانکہ اوتاروں کے معتقد یعنی ہندو ان دونوں باتوں کے معتقد ہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ دونوں باتیں بے شک ان سے سرزد ہوئی ہیں۔ سو اس شبہ کایہ جواب ہوسکتاہے کہ جیسے حضرت عیسیٰؑ کی طرف دعویٰ خدائی نصاریٰ نے منسوب کردیاہے اور دلائل عقل ونقل اس کے مخالف ہیں۔ ایسے ہی کیا عجب ہے سری کرشن اور سری رام چندر کی طرف بھی یہ دعویٰ بدروغ منسوب کردیاہو… علی ہذاالقیاس! جیسے حضرت لوط اور حضرت دائودm کی نسبت باوجود اعتقاد نبوت یہود ونصاریٰ تہمت شراب خوری اور زناکاری لگاتے ہیں اورہم ان کو ان عیوب سے بری سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی کیا عجیب ہے کہ سری کرشن سری رام چندربھی عیوب مذکورہ سے مبرّاہوں اوروں نے ان کے ذمے یہ تہمت زنا وسرقہ لگادی ہو۔‘‘ (مباحثہ شاہجہان پورص۳۱،۳۲)

147

قیامت کے متعلق

علم قیامت صرف خداکوہے

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پر ایک اعتراض یہ بھی کیاہے کہ آپ نے قیامت کے متعلق جس عقیدہ کااظہار کیاہے وہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ کیونکہ آپ نے (لیکچرسیالکوٹ ص ۸،خزائن ج۲۰،ص۲۰۹) پرفرمایاہے: ’’یہ صحیح نہیں ہے جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قیامت کاکسی کوعلم نہیں۔‘‘ حالانکہ قرآن مجید میں خداتعالیٰ نے فرمایاہے کہ قیامت کاکسی کوعلم نہیں۔

جواب: اگرمختارمدعیہ کا مقصد مغالطہ اندازی نہ ہوتا تو وہ یہ اعتراض کبھی نہ کرتا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اس امر کے متعلق جوکچھ تحریرفرمایا ہے وہ اتناصاف ہے کہ علم قرآن وعلم حدیث سے نہایت قلیل میل رکھنے والا شخص کو اس کو صحت کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں دیکھتا۔

چنانچہ مختارمدعیہ نے جوفقرہ نقل کیاہے۔ اس کے آگے ہی حضرت اقدس فرماتے ہیں: ’’پھرآدم سے اخیرتک سات ہزار سال کیونکر مقرر کردئیے جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی خداتعالیٰ کی کتابوں میں صحیح طورپر فکرنہیں کیا اورقرآن شریف سے بھی صاف طور پریہی نکلتاہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام کتابیں باتفاق یہی کہتی ہیں۔ آیت:’’ان یوما عند ربک کالف سنۃ مماتعدون‘‘ سے یہی نکلتاہے اور تمام نبی واضح طور پر یہی خبردیتے آئے ہیں۔ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکاہوں سورہ العصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ص۸،۹، خزائن ج۲۰ ص۲۰۹،۲۱۰)

اورجویہ کہاگیا ہے کہ قیامت کی گھڑی کاکسی کو علم نہیں اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو پھرآثار قیامت جوقرآن شریف اور حدیث صحیح میں بیان کئے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ان کے ذریعہ سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتاہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھاتھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی۔ کتابیں بہت شائع ہوں گی جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بیکار ہوجائیں گے۔ سوہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہوگئیں ہیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعے سے تجارت شروع ہوگئی۔ سوہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خداتعالیٰ نے آیت: ’’اقتربت الساعۃ‘‘ اوردوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبردے رکھی ہے۔ سوشریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے۔ بلکہ تمام نبی آخرزمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں اور انجیل میں بھی لکھی ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ اس خاص گھڑی کی کسی کوخبرنہیں۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ص۹،۱۰،خزائن ج۲۰ ص۲۱۰،۲۱۱)

اس عبارت سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود کے اس قول کا مطلب جس پرمختارمدعیہ نے اعتراض کیا ہے۔ یہ ہے کہ یہ صحیح نہیں کہ قیامت کاکسی وجہ سے بھی کسی کوعلم نہیں علامات وآثارقیامت کے ذریعہ سے ایک قسم کاعلم حاصل ہوتاہے اور اس علم کے متعلق اس حدیث میں بھی جسے گواہ مدعیہ نمبر۳ بجواب جرح ۲۴؍اگست کو صحیح تسلیم کر چکاہے۔ لکھاہے جبرئیل نے قیامت کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا:

148

اس کے متعلق مسئول کو سائل سے زیادہ علم نہیں ہے۔ تب جبرئیل نے علامات ساعت یعنی قیامت کی نشانیوں کے متعلق سوال کیا تو اپنے جواب میں علامات قیامت بیان فرمائیں اورخود مختارمدعیہ اور گواہان مدعیہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح کانزول علامات قیامت میں سے ہے۔ جیسا کہ گواہ نمبر۳ مؤرخہ ۲۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کرچکاہے۔

پس قیامت کے متعلق جس قسم کے علم ہونے کے متعلق حضر ت مسیح موعود نے تحریر فرمایاہے وہ فریق ثانی کو بھی مسلم ہے اورقرآن مجید وحدیث سے بھی ثابت ہے۔ ہاں! اس گھڑی کا کسی کوعلم نہیں جس پر قیامت قائم ہوگی۔

عقیدہ

اوتار وتناسخ

ایک اعتراض مختار مدعیہ نے یہ بھی کیا ہے کہ مرزا صاحب عقیدہ اوتار اور تناسخ کے قائل ہیں۔ چنانچہ (لیکچرسیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸) میں لکھتے ہیں: ’’اسی طرح میں ہندئوں کے لئے بطور اوتارکے ہوں۔‘‘ اور(کتاب البریہ ص۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲) میں لکھاہے: ’’خداتیرے اندراترآیا۔‘‘ یعنی اوتار اور تناسخ کا عقیدہ اسی سے ثابت ہے کہ آپ نے لکھاہے کہ میں کرشن ہوں۔ چنانچہ اپنا الہام پیش کیاہے: ’’ہے رودرگوپال تیری مہماگیتی میں لکھی گئی ہے۔‘‘(تذکرہ ص۳۸۰، لیکچر سیالکوٹ ص۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹)

اوراسی طرح کہاہے ؎

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابرہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

اورتناسخ کی تعریف یہ ہے کہ ایک روح دوسرے جسم میں چلی جائے۔ اوتار اور تناسخ کا عقیدہ بالاتفاق کفریہ عقیدہ ہے۔

جواب: حضرت مسیح موعود نہ عقیدہ اوتار کے جوہندوئوں میں رائج ہے قائل ہیں اور نہ تناسخ کے اور مختارمدعیہ نے اپناادّعاء باطل ثابت کرنے کے لئے جوعبارت لیکچرسیالکوٹ سے پیش کی ہے۔ اس کے آگے اوتار کی تشریح حضرت مسیح موعود نے نبی لکھی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہرکیاگیاہے۔ درحقیقت ایک ایساکامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوئوں کے کسی رشی اوراوتار میں پائی نہیں جاتی اوراپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خداتعالیٰ کی طرف سے روح القدس اترتاتھا وہ خداکی طرف فتح مند اورباقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کوپاپ سے صاف کیا وہ اپنے زمانہ کادرحقیقت نبی تھا۔ جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں سے میں بگاڑ دیاگیا وہ خدا کی محبت سے پرتھا اورنیکی سے دوستی اورشرسے دشمنی رکھتاتھا۔ خداکاوعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیداکرے سویہ وعدہ میرے ظہور سے پوراہوا۔ ‘‘(لیکچرسیالکوٹ ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)

کیا مختارمدعیہ پر وہ حکایت لفظ بلفظ صادق نہیں آتی جومولوی محمدقاسم صاحب نے لکھی ہے کہ کسی بانوا نے کہاتھا کہ کلام اللہ میں خدانے نماز سے منع فرمایاہے۔ اس لئے ہم نماز نہیں پڑھتے کسی نے پوچھا کہ صاحب ہمیں بتلائو،ہم نے توآج تک یہ بات نہیں سنی۔ اگریہ حکم ہے تو کلام اللہ کے قربان جائیے۔ بڑی آرام کی بات نکل آئی بانوا نے کہا صاحب سورہ نساء میں ہے:’’ولاتقربوالصلٰوۃ‘‘ یعنی نماز

149

کے پاس نہ پھٹکو۔ اس نے کہا صاحب اس کے بعد ’’انتم سکاریٰ‘‘ بھی توہے۔ یعنی نشے کی حالت میں نماز مت پڑھو۔ ساری آیت کے معنے پر عمل کرناچاہئے۔ بانوا نے کہا باباسارے کلام پر کس سے عمل ہواہے یہ بھی غنیمت ہے جو اتنا بھی عمل ہوجائے۔(ہدیۃ الشیعہ ص۱۰۲)

سوشاید مختارمدعیہ نے بھی یہ طریقہ عمل اختیارکیاہے۔ایک عبارت لے کر اعتراض کردیتاہے اوراس کی تشریح اورتوضیح کو جو اسی جگہ درج ہوتی ہے۔ چھوڑ دیتاہے۔

سنئے! مولوی محمدقاسم صاحب نانوتوی فرماتے ہیں: ’’کیا عجب ہے کہ جس کوہندو صاحب اوتار کہتے ہیں وہ اپنے زمانہ کے نبی یا ولی یعنی نائب ولی ہوں… رہی یہ بات کہ اگرہندوئوں کے اوتار انبیاء یااولیاء ہوتے تو دعویٰ خدائی نہ کرتے۔‘‘

اس کے جواب میں لکھتے ہیں: ’’سو جیسے حضرت عیسیٰؑ کی طرف دعویٰ خدائی نصاریٰ نے منسوب کردیاہو۔ کیا عجب ہے کہ سری کرشن اور سری رام چندر کی طرف بھی یہ دعویٰ بدروغ منسوب کردیاہو۔‘‘(مباحثہ شاہ جہان پورص۳۱)

اورنواب صدیق حسن خان صاحب شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی کا قول نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’بالجملہ اوتار ہنود مظاہرحق گشتہ باشند خواہ از افراد بشرباشند یا از شیروماہی وغیرہ مثل عصائے موسیٰ وناقہ حضرت صالحm، لیکن عوام ایں فرقہ سبب قصور فہم درمیان ظاہر ومظہر فرق نکردہ ہمہ رامعبودساختند ودرضلالت افتادند وہمین است حال فرقہ ہائے بسیار از مسلمین مثل تعزیہ سازاں ومجاوراں قبورجلالیان ومداریان۔واللہ اعلم!(حجج الکرامہ ص۹۵)

پس اوتار سے مراد خداتعالیٰ لینا نہ قائل کی منشاکے ہی صریح خلاف ہے بلکہ علماء نے بھی اوتار کی جوحقیقت بیان کی ہے۔ اس کے بھی خلاف کرناہے اور حضرت مسیح موعود نے جب کہ اوتار کی تشریح اور تفسیر ’’نبی‘‘ کے لفظ سے کردی تو اس کے بعد کسی نیک نیت انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس سے مراد خدالے کر آپ کی طرف خدائی کا دعویٰ منسوب کرے۔

اورجوحوالہ (کتاب البریہ ص۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۲) کا پیش کیاہے کہ ’’خداتیرے اندراترآیا۔ ‘‘ تو اس کاجواب بھی اسی جگہ موجودہے۔ کیونکہ اس سے پہلا الہامی فقرہ یہ ہے۔ ’’میں نے ارادہ کیاکہ اپناجانشین بنائوں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیداکیا اور اس کے بعد کا فقرہ یہ ہے۔ خداتجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گاجب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ پھر اس کے اگلے الہاموں میں حضرت مسیح موعود کے حق میں فرستادہ اورنذیر وغیرہ کے الفاظ موجود ہیں۔ نیز ان الہامات اورکشوف کاذکرکرکے آپ عیسائیوں پر حجت قائم کرتے ہیں کہ ایسے کلمات سے کوئی خدانہیں ہوجاتا۔ بلکہ وہ خداتعالیٰ کے تقرب اورمحبت کے اظہار پردلالت کیاکرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’یسوع ابن مریم خدانہیں ہے۔ یہ کلمات جو اس کے منہ سے نکلے اہل اللہ کے منہ سے نکلاکرتے ہیں مگر ان کے کوئی خدانہیں بن سکتا۔ اٹھو اور توبہ کرو کہ وقت آگیا۔ اس خداکو پوجو جس پر توریت اور قرآن کا اتفاق ہے۔ یسوع بن مریم ایک عاجز بندہ تھا۔ اس کو نبی سمجھو جس کو خدانے بھیجاتھا۔ اگراب بھی کوئی عیسائی نہ مانے تو یاد رکھئے کہ وہ خداتعالیٰ کی حجت اس پر پوری ہوچکی ہے۔‘‘(کتاب البریہ ص۸۲، خزائن ج۱۳ ص۱۰۸)

پس خداکے اترنے سے مراد قطعاً وہ نہیں ہے جومختارمدعیہ نے لی ہے۔ کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود کے عقیدہ کے برخلاف ہونے کے علاوہ سیاق وسباق کے بالکل متناقض ہے۔

اورخداکے اترآنے کا محاورہ حدیث میں بھی استعمال ہواہے جس سے مراد نزول رحمت اوراللہتعالیٰ کی توجہ لی گئی ہے۔ چنانچہ امام محمدطاہر فرماتے ہیں: ’’ینزل کل لیلۃ الی سماء الدنیا النزول والصعود والحرکات من صفات الاجسام واللہ

150

یتعالٰی عن ذالک والمراد نزول الرحمۃ والالطاف الالٰہیۃ وقربھا من العباد وقت التھجد‘‘ کہ حدیث میں آیاہے کہ خداتعالیٰ ہررات آسمان دنیا کی طرف اترتاہے اور نزول اورصعود اورحرکات اجسام کی صفات ہیں اور اللہتعالیٰ اس سے بہت بلندہے کہ وہ ان صفات سے متصف ہو۔ اس لئے خداتعالیٰ کے نزول سے مراد نزول رحمت اورالطاف خداوندی اوراس کا تہجد کے وقت بندوں کے قریب ہوناہے۔

پس جب احادیث میں خداتعالیٰ کے اترنے سے ظاہری طور پر اترنا نہیں سمجھاگیا۔ کیونکہ ظاہری مراد قرآن مجید کی دوسری آیات اور احادیث کے منافی ہے تو حضرت مسیح موعود کے کلام میں خداتعالیٰ کے اترنے سے ظاہر طورپر اترنا مراد لیناجوآپ کے دوسرے الہامات اور اقوال اورعقائد کے صریح خلاف ہے کیونکر جائز ہوسکتاہے۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’جب ایک انسان سچے دل سے خداسے محبت کرتاہے اورتمام دنیاپر اس کو اختیار کرلیتاہے اورغیراللہ کی عظمت اوروجاہت اس کے دل میں باقی نہیں رہتی، بلکہ سب کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی بدتر سمجھتاہے۔ تب خداجواس کے دل کو دیکھتاہے۔ ایک بھاری تجلی کے ساتھ اس پر نازل ہوتاہے اور جس طرح ایک صاف آئینہ میں جو آفتاب کے مقابل پررکھاگیا ہے۔ آفتاب کاعکس ایسے پورے طور پر پڑتاہے کہ مجاز اوراستعارہ کے رنگ میں کہہ سکتے ہیں کہ وہی آفتاب جو آسمان پر ہے۔ اس آئینہ میں بھی موجودہے۔ ایساہی خداایسے دل پراترتاہے اور اس کے دل کو اپناعرش بنالیتاہے۔ یہی وہ امر ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۶۳،۶۴، خزائن ج۲۲ ص۶۵)

پس خدا کے اترنے سے مراد خداتعالیٰ کی تجلیات کا نزول ہے اوربحکم:’’تخلقوا باخلاق اللہ‘‘ اللہتعالیٰ کے صفات کوجذب کرکے اس کے رنگ میں رنگین ہوناہے نہ یہ کہ حقیقت خداتعالیٰ کانزول۔ چنانچہ اس کے مطابق امام ربانی مجددالف ثانی فرماتے ہیں: ’’لایسعنی ارضی ولاسمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المؤمن مخصوص بقلب‘‘ بندہ مؤمن اس کہ معاملہ اواز سائرناس جدااست کہ بفناد بقامشرف گشتہ است واز حصول واراستہ بحضورپیوستہ است۔ آنجا اگرگنجائش است باعتبار حضور است نہ باعتبار حصول: ؎

در کدم آئینہ در آیداد

(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۸۷)

اسی طرح سید عبدالقادر جیلانی (فتوح الغیب مقالہ۲۶) میں تحریرفرماتے ہیں:’’لا تکشف البرقع والقناع عن وجھک حتی تخرج من الخلق، الی ان قال لایبقی فیک ارادۃ غیر ارادۃ ربک فتمتلی بربک فلایکون بغیر ربک فی قلبک مکان ولامدخل وجعلت بواب قلبک واعطیت سیف التوحید والعظمۃ والجبروت فکل من رآیتہ دنا من سراحۃ صدرک الی باب قلبک اندرت راسہ من کاھلہ‘‘ یعنی اے انسان تو اپنے چہرہ پرسے برقع اور روپوش مت اٹھایہاں تک کہ تو مخلوقات سے باہرنکل جائے یہاں تک کو تجھ میں تیرے رب کے ارادہ کے سواء اورکوئی ارادہ نہ رہے۔ پس تواپنے رب سے بھرجائے گا۔ پس تیرے رب کے سوا تیرے قلب میں اورکسی کانہ مکان ہوگا اورنہ داخل ہونے کی جگہ اورتجھے تیرے دل کا دربان بنایاجائے گا اور تجھے توحید اور عظمت اورجبروت کی تلوار دی جائے گی۔ پس ہر وہ شخص جسے تو دیکھے گا کہ وہ تیرے سینہ کے صحن سے تیرے دل میں آنا چاہتاہے تو اس تلوار سے اس کا سر اس کے شانہ سے علیحدہ کردے گا۔ یعنی:

  1. غیر حق ہر ذرہ کاں مقصود تست

    تیغ لا برکش کہ آں معبود تست

151

پس یہی معنی حضرت مسیح موعود کے الہام آواہن یعنی خداتیرے اندراترآیاکے ہیںنہ کچھ اور اور سید عبدالقادرجیلانی نے صرف خداکے اترآنے پرہی کفایت نہیں کی۔ بلکہ امتلاء کا لفظ استعمال فرمایاہے جس کے معنی بھرجانے کے ہیں۔ یعنی بندہ خدا کے ساتھ بھرجاتاہے اور حضرت مسیح موعود نے اپنی تمام کتابوں میں کسی جگہ بھی تناسخ کے مسئلہ کو صحیح نہیں قراردیابلکہ جابجا اس کی تردید کی ہے۔

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کا عقیدہ تناسخ ثابت کرنے کے لئے (لیکچرسیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸) کاحوالہ دیاہے کہ آپ نے اس میںاپنے آپ کوکرشن قراردے کر تناسخ کی صحت کو تسلیم کیاہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود نے اسی کے آگے تناسخ کی تردید فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ اپنے کرشن ہونے کے متعلق الہام ذکرکرکے فرماتے ہیں: ’’اب میں بحیثیت کرشن ہونے کے آریہ صاحبوں کو ان کی چند غلطیوں پرتنبیہ کرتاہوں۔ ان میںسے ایک تووہی ہے جس کا ذکر میں پہلے بھی کرآیاہوں کہ یہ طریق اوریہ عقیدہ صحیح نہیں کہ روحوں اور ذات عالم کوجن کوپرکرتی یاپرمانو بھی کہتے ہیں۔ غیرمخلوق اور انادی سمجھاجائے… پھر اس غلطی نے ایک اور غلطی میں آریہ صاحبوں کو پھنسا دیا ہے جس میں ان کا خودنقصان ہے۔ جیسا کہ پہلی غلطی میں پرمیشر کانقصان ہے اور وہ یہ کہ آریہ صاحبوں نے مکتی کو معیادی ٹھہرادیاہے اورتناسخ ہمیشہ کے لئے گلے کاہار قراردیاگیاہے جس سے کبھی نجات نہیں۔ یہ بخل اور تنگ دلی خدائے رحیم وکریم کی طرف منسوب کرنا عقل سلیم تجویز نہیںکرسکتی۔‘‘ (لیکچرسیالکوٹ ص۳۴،۳۵، خزائن ج۲۰ ص۲۲۹،۲۳۰)

پھراس کے بعد (ص۳۶تا۳۸، خزائن ج۲۰ ص۲۳۰،۲۳۱) تناسخ کی تردید میں دلائل تحریر فرمائے ہیں:

عقیدہ تناسخ کی اس قدر پرزور تردید کے ہوتے ہوئے کیا کوئی دیانتدار شخص یہ کہہ سکتاہے کہ لیکچرسیالکوٹ کا مؤلف عقیدہ تناسخ کوصحیح مانتاہے۔ ہرگز نہیں! ہرگزنہیں!

پھر اس سے بھی عجب ترلطیفہ یہ ہے کہ مختارمدعیہ نے تناسخ کی تعریف ’’ایک روح کا دوسرے جسم میں چلے جانا‘‘ کرکے حضرت مسیح موعود کے شعر سے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ میں کبھی آدم ہوں، کبھی موسیٰ ہوں،کبھی یعقوب ہوں اورنیز ابراہیم ہوں کہاہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب عقیدہ تناسخ کو صحیح مانتے تھے۔ حالانکہ وہ خود تناسخ کی یہ تعریف کرتاہے کہ ایک روح کا دوسرے جسم میں چلے جانا۔ لیکن اگرمختارمدعیہ کا مذکورہ بالا استدلال صحیح ہے تو حضرت مسیح موعود میں ایک روح نہیں ہوگی۔ بلکہ کئی ارواح ہوگی اوریہ بات عقیدہ تناسخ رکھنے والوں کے نزدیک بھی صحیح نہیں کہ کئی ارواح ایک جسم میں داخل ہوجائیں۔ بلکہ اس شعر کا مطلب جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے آپ کو بہت سے نبیوں کے نام دیئے جانے کی وجہ ذکرکرتے ہوئے خود تحریر فرمایا ہے۔ یہ ہے: ’’سوضرورہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اورہرایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہورہو۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱ )

اس کی تفصیل ملاحظہ ہوزیر عنوان۔ ’’توہین‘‘

152

بحث متعلق وحی

اس موضوع پر بحث کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ گواہان مدعیہ نے مطلق ادّعاء وحی کو بھی کفرقراردیاہے۔ چنانچہ گواہ نمبر۳ نے اپنے بیان میں لکھوایاہے کہ ادّعاء وحی کفر ہے۔ اگرچہ مدعی نبوت نہ ہو اوراگرکوئی شخص مطلق وحی کا دعویٰ کرے۔ خواہ نبوت کا مدعی نہ بھی ہو۔ تب بھی کافرہے۔ اگربنی آدم میں وحی پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے اور غیروں کے لئے کشف، الہام یاوحی لغوی ہوسکتی ہے۔ اگروحی کی تعریف یہ کی ہے کہ فرشتہ بھیجاجائے کہ فلاں سے جاکر یہ کہہ دو اور اپنی تائید میں شرح شفاکاحوالہ بھی پیش کیاہے۔

لیکن باوجود اس کے مختارمدعیہ نے عدالت کو مغالطہ دینے کے لئے یہ صریح غلط بیانی کی کہ گواہان مدعیہ نے صرف وحی رسالت کو بندقراردیاہے۔ مگرگواہ نمبر۳ کابیان مختارمدعیہ کے اس دعویٰ کو باطل ثابت کرتاہے۔‘‘ نیز گواہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیاہے کہ آیت ماکان لبشر میں جوطریق وحی بیان کئے گئے ہیں۔ وہ امت محمدیہ پربندہیں اور گواہ نمبر الف و ب نے مطلق وحی کے بقاء سے کہہ کر انکار کیا ہے کہ وحی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ نبوت اور وحی لازمی چیز ہے اور اگردوسری وحی ہوسکتی ہو تو ممکن ہوجائے گا کہ قرآن شریف کاکوئی حکم منسوخ ہوجائے۔

اس بحث میں مندرجہ ذیل امورتنقیح طلب ہیں:

۱… کیاوحی انبیاءؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔

۲… کیا آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی غیر تشریعی مسدود ہے۔

۳… کیا قرآن مجید سے بقاء وحی پرکوئی دلیل نہیں ہے۔

۴… کیااحادیث سے بقاء وحی غیر تشریعی پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

۵… کیا بقائے وحی غیرتشریعی عقیدہ سلف صالحین کے خلاف ہے۔

۶… کیا حضرت مسیح موعود کے نزدیک ہرقسم کی وحی بندہے۔

۷… کیا حضرت مسیح موعود اپنی وحی کو قرآنی وحی کے برابر قراردیتے ہیں۔

(۱) وحی انبیاءؑ کے ساتھ مخصوص نہیں

مختار گواہان مدعیہ کا یہ دعویٰ کہ وحی انبیاءؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے باطل ہے۔

پہلی آیت: ’’ماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الاوحیا اومن ورآء حجاب اوریرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشآء (شوریٰ)‘‘ اس آیت میں لفظ بشر جو نبی اورغیر نبی دونوں پریکساں اطلاق پاتاہے استعمال کرکے اللہتعالیٰ نے بتادیا کہ نزول وحی انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ لیکن مختارمدعیہ اس آیت میں بشر سے مراد نبی لیتاہے۔ حالانکہ آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو بشرکو انبیاء کے ساتھ مخصوص کرے اور (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۶،۴۱۷) میں اس آیت کوذکرکرکے یہ لکھاہے کہ ان تمام طرق سے اولیا امت کو بھی وحی ہوتی ہے اور نبی اورولی کی وحی میں فرق یہ ہے کہ ولی پرشریعت والی وحی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ آگے ذکرہوگا۔

پس مختارمدعیہ کا بشر سے صرف انبیاء مراد لینا قرآن مجید کے ایک لفظ کی عمومیت کو باطل ثابت کرنے کے علاوہ ان ائمہ کی بھی مخالفت کرناہے جنہوں نے اولیاء امت پر آیت مذکورہ طرق سے وحی کا ہونا تسلیم کیاہے۔

153

۲… ’’واوحینا الٰی ام موسٰی ان ارضعیہ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولاتخافی ولاتحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (قصص)‘‘

یہ ایک یقینی اورقطعی وحی ہے جوکئی عظیم الشان غیب کی خبروں پرمشتمل ہے۔ پھراللہتعالیٰ نے اس وحی کی عظمت ایک دوسری آیت میں یوں فرمائی ہے: ’’ولقد منناعلیک مرۃ اخریٰ اذ اوحینا الی امک مایوحٰی (طہٰ)‘‘

یعنی اے موسیٰ ہم نے تجھ پرایک اور بھی احسان کیاہے۔ جب ہم نے تیری ماں کی طرف ایک خاص شان دار وحی کی تھی۔ مختارمدعیہ نے اس آیت کے متعلق کہاہے کہ اس میں بھی وحی نبوت کا ذکرنہیں ہے۔ گواہ مدعاعلیہ کا مقصود اس آیت سے غیر انبیاء پر وحی کانزول ثابت کرنا تھا۔ سووہ مختارمدعیہ نے تسلیم کرلیاہے۔

۳… ’’واذکرفی الکتاب مریم اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویا۔ قالت انی اعوذ بالرحمن ان کنت تقیا۔ قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلام زکیا (مریم)‘‘

اس آیت میں صاف طور پر مذکورہے کہ حضرت جبرائیلm انسانی شکل میں متثمل ہوکر حضرت مریم کے پاس آئے اور ان کے سوال کرنے پر جواب دیا کہ میں خداکا رسول ہوکرآیاہوں تاکہ تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دوں جوتمہیںدیاجائے گا۔

۴… ’’واذ قالت الملآئکۃ یامریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسی ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین (آل عمران)‘‘

اس آیت میں فرشتوں کے ذریعہ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش اوران کے نام ونبوت اور ان کی خوبیوں کی جودرحقیقت زبردست پیش گوئیاں تھیں۔ حضرت مریم کوبشارت دی گئی ہے۔

۵… ’’واذ قالت الملآئکۃ یامریم ان اللہ اصفطاک وطھرک واصطفاک علٰی نسآء العالمین یامریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین (آل عمران)‘‘

اس آیت میں حضرت مریم کو کئی فرشتوں نے خداتعالیٰ کا پیغام دیا ہے اور پھر فرمانبرداری اور نماز کے لئے حکم دیا۔

۶… ’’وامرأتہ قائمۃ فضحکت فبشرنھا باسحاق ومن ورآء اسحاق یعقوب قالت یاویلتی أالدوانا عجوزوھٰذا بعلی شیخا ان ھٰذا لشیٔ عجیب قالوا اتعجبین من امراللہ رحمۃ اللہوبرکاتہ علیکم اھل البیت انہ حمید مجید (ھود)‘‘

اس آیت سے بھی صاف طور پرعیاں ہے کہ اللہتعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے حضرت سارہ سے کلام کیا جس میں عظیم الشان پیش گوئی تھی جوان کی زندگی اورزندگی کے بعد سے تعلق رکھتی تھی۔

۷… ’’قلنا یاذالقرنین اما ان تعذب واما ان تتخذ فیھم حسنا (کہف)‘‘

اس آیت میں ذوالقرنین سے مکالمہ کاذکرہے جونبی نہ تھا اور ایسی یقینی اور قطعی مکالمہ کا ذکرہے جس میں ایک قوم کو عذاب دینے یا اس سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیاگیاہے اور اسی کے مطابق ذوالقرنین نے اس قوم کے متعلق اعلان بھی کردیا: ’’قال اماظلم فسوف نعذبہ ثم یرد الی ربہ فیعذبہ عذابانکرا وانامن اٰمن وعمل صالحا فلہ جزاء الحسنٰی وسنقول لہ من امرنا یسرا (کہف)‘‘

154

یعنی ظالموں کو سزادیں گے اور پھر جب اللہتعالیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی انہیں درد ناک عذاب دے گا۔ لیکن نیک اعمال کرنے والے مؤمنوںکو اچھا بدلہ ملے گا۔ مختارمدعیہ نے گیارہ اکتوبر کی بحث میں کہا کہ ذوالقرنین کے متعلق دوقول ہیں۔ بعض نے کہاہے کہ وہ نبی تھا۔ لیکن (صحیح) قول یہی ہے کہ وہ نبی نہ تھا اور اس کے لئے اس نے ابن جریر اورابن کثیر اورتفسیر کبیرکا حوالہ دیاتھا۔ حالانکہ ابن جریر اور ابن کثیر میں ذوالقرنین کے نبی ہونے کے متعلق کوئی قول مذکورنہیں۔ البتہ تفسیر کبیر میں دوقول لکھے ہیں۔ مجھے یہاں صرف اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ مختارمدعیہ مغالطہ دینے اور اپنے دعویٰ کی تائید میں ان تفسیروں کے نام لکھوانے سے جس میں کہ اس کے دعویٰ کاکوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ ذرانہیں جھجکتا۔ ان مذکورہ بالاآیات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے:

۱… وحی انبیاءؑ سے مخصوص نہیں بلکہ غیر نبی کو بھی وحی ہوتی ہے۔

۲… جن طرق سے اللہتعالیٰ انبیاءؑ سے کلام کرتاہے انہیں طریقوں سے غیر انبیاء یعنی اولیاء وغیرہ کے ساتھ ہم کلام ہوتاہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۱ سے ظاہرہے۔

۳… فرشتوں کانزول بھی غیر انبیاء پر ہوتاہے اورخداتعالیٰ اپنی بات فرشتوں کے ذریعہ سے ان کو پہنچاتاہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۴، ۵، ۶ سے ظاہرہے۔

۴… بعض اوقات غیر انبیاء پر بھی ایسی وحی ہوجاتی ہے جس میں امرونہی پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ آیت نمبر۶،۷ سے ظاہرہے۔

۵… غیر انبیاء کی وحی بھی بعض وقت غیب کی خبر پر مشتمل ہوتی ہے۔ جیسا کہ آیت نمبر۲،۳،۴سے ظاہرہے۔

(۲) آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی غیرتشریعی مسدود نہیں ہے

گواہان ومختاران مدعیہ نے ایک آیت یاحدیث بھی ایسی پیش نہیں کی جس سے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی الٰہی کا بندہوجاناثابت ہوتاہے۔ ہاں! ایسی آیتیں پیش کردی ہیں جن میں آنحضرتﷺ کے بعد وحی نازل ہونے کا ذکران کو نظر نہیں آیا اوران سے یہ استدلال کیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی مسدود ہے۔ حالانکہ کسی آیت میں آنحضرتﷺ کے بعد نزول وحی کا ذکرنہ ہونا اوربات ہے اورباب نزول وحی کے مسدود ہونے کا ذکراوربات ہے۔ ذکرنزول وحی نہ ہونے سے ہرگز لازم نہیں آتا کہ آنحضرتﷺ کے بعد باب نزول وحی مسدود ہے۔ ایسی آیتیں پیش کرناجن میں نزول وحی کا ذکر نہیں۔ یہ یقین دلانے کی کوشش کہ ان سے باب نزول وحی مسدود ثابت ہوتاہے صریح غلط ہے۔ چنانچہ گواہ نمبر۴نے آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ہم یوقنون (البقرۃ:۴)‘‘ سے یہ استدلال کیاہے کہ اگرآنحضرتﷺ کے بعدبھی کوئی وحی نازل ہوتی تو اس آیت شریفہ میں اس کا ذکربھی ضرور کیاجاتا۔ لیکن چونکہ کوئی ذکرنہیں کیاگیا۔ لہٰذامعلوم ہوا کہ آپ کے بعدکوئی وحی نازل نہیں ہوسکتی۔

۱… اس کا پہلا جواب تویہ ہے کہ عدم ذکر عدم شئے کو مستلزم نہیں ہوتا۔ یعنی اگر اس آیت میں آنحضرتﷺ کے بعدنازل ہونے والی وحی کا ذکرنہیں ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کے بعد کوئی وحی نازل ہونے والی نہیں ہے۔

۲… دوسراجواب یہ ہے کہ اس آیت میں جس وحی کا ذکرہے۔ اس وحی میں تشریعی وحی اور شریعت سابقہ میں قدرے تغیّر وتبدّل کرنے والی وحی بھی شامل ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد دین کامل ہوجانے کی وجہ سے شریعت والی وحی کا سلسلہ بھی بند ہوچکاتھا۔ اس لئے آنحضرتﷺ کے بعد نازل ہونے والی وحی کا ذکرنہیں فرمایاگیا۔ تاکہ کسی کو یہ دھوکہ نہ ہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی شریعت والی یاشریعت سابقہ میں ترمیم کرنے والی وحی نازل ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کی ایک دوسری ایک ’’ولقد اوحی الیک الی الذین من قبلک (الآیۃ)‘‘ کی تفسیر میںعلماء متقدمین نے اس امر کی تشریح کی ہے۔ امام عبدالوہاب شعرانی بحوالہ فتوحات مکیہ اپنی کتاب (الیواقیت والجواہر ج۲

155

ص۹۴) میں لکھتے ہیں: ’’انہ لم یجیٔ لنا خبر الٰھی ان بعد رسول اللہﷺ وحی تشریح ابدا۔ انما لناوحی الھام قال تعالٰی ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک‘‘ یعنی ہمارے پاس کوئی خبر الٰہی نہیں آئی جس سے معلوم ہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی تشریعی ہوگی۔ بلکہ اب وحی الہام ہوگی۔ جب کہ آیت: ’’ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک‘‘ سے ظاہر ہے۔

۳… تیسرا جواب یہ ہے کہ تمام اکابر علمائے سلف کااس پر اتفاق ہے کہ مسیح موعود پر وحی ہوگی اور یہی بات حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح موعود پر خداکی طرف سے وحی نازل ہوگی۔ چنانچہ علامہ ابن حجر الہیثمی سے جب پوچھاگیا کہ آخری زمانہ میں جب عیسیٰؑ نازل ہوں گے تو ان پر وحی ہوگی۔ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا۔’’نعم یوحٰی الیہ علیہ السلام کما فی حدیث مسلم‘‘ یعنی ان کی طرف وحی ہوگی۔ جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔(روح المعانی ج۷ ص۱۶۵)

بس اکابر علماء سلف کے عقیدے اور مسلم کی حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک‘‘ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرتﷺ کے بعدغیر تشریعی وحی کاآنابندہے۔

۴… چوتھا جواب ہے کہ آیت: ’’والذین یؤمنون بما انزل الیک‘‘ میں اگر مطلق وحی مراد لی جاتی جو تشریعی غیرتشریعی دونوں کو شامل ہے تو ’’الآخرۃ‘‘ سے آنحضرتﷺ کے بعد آنے والی وحی جوآپ کے بعد آنے والی نبوت رسالت کو مستلزم ہے،۔ مراد لینا بالکل قرین قیاس ہے اوراللہتعالیٰ نے ان دونوں قسم کی وجہوں میں فرق کرنے کے لئے اسلوب کلام کو بدل کریعنی ’’ماینزل من بعدک‘‘ کی جگہ ’’بالآخرۃ‘‘ فرمایا تاکہ یہ امر متعین ہوجائے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نازل ہونے والی ایسی وحی نہیں ہے جو حاصل شریعت یاشریعت محمدیہ میں کچھ ترمیم کرنے والی ہو۔

اورگواہ نمبرب نے یہ آیت پیش کی ہے: ’’قولوا اٰمنا باللہ وما انزل الینا وماانزل الٰی ابراہیم واسماعیل واسحاق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسٰی وعیسٰی وما اوتی النّبیّون من ربھم لانفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون (البقرۃ:۱۳۶) ‘‘ اور اس سے بھی وہی استدلال کیا جو پہلے آیت سے کیاگیاتھا۔ حالانکہ اس آیت میں بھی کہیں یہ ذکرنہیں کہ آئندہ وحی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کے’’ماسبق مالحق‘‘ میں اہل کتاب کو ایمان کی طرف بلایا ہے اور اس امر کا اظہار کیاگیا ہے کہ جیسے ہم تمام نبیوں کو خداتعالیٰ کی طرف سے حق تسلیم کرتے ہیں اوران سے جومکالمہ الٰہیہ ہوا۔ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اسی طرح تم بھی اس کو جوخداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہواہے اورجو اس پر اتراہے تسلیم کرو۔ اس آیت سے وحی آئندہ کی نفی نکالنا اسی طرح غلط ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیت سے نکالناغلط تھا اور پہلی آیت کے استدلال کے غلط ہونے کے متعلق جوجواب دئیے گئے ہیں، اس آیت کے استدلال کوبھی غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اوراسی گواہ نے آیت: ’’الم ترالی الذین یزعمون انھم آمنوا بما انزل الیک وماانزل من قبلک یریدون ان یتحاکمو الی الطاغوت وقدامروا ان یکفروا بہ (النساء:۶۰)‘‘ سن کر کے بھی یہی استدلال کیا کہ آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی مسدود ہے۔ حالانکہ اس میں بھی قطعاً اس بات کا ذکرنہیں ہے کہ آئندہ وحی نہیں ہوگی بلکہ اس میں ان لوگوں کو خطاب کیاگیاہے۔ جوباوجود اس دعاء کے کہ قرآن مجید اور پہلی کتب الٰہیہ پر ایمان لاتے ہیں۔ ان کے مطابق فیصلہ کرنے کی جگہ طاغوت یعنی کفار کافیصلہ چاہتے ہیں اور یہاں اس امرکااظہار بھی ضروری ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد جو وحی بھی قرآن مجید واحادیث کے مصدق وموعود شخص پرنازل ہوگی وہ اس کلام کے جو آنحضرتﷺ پراتاراگیا مخالف نہ ہونے کی وجہ سے ’’بما انزل الیک‘‘ میں شامل سمجھی جائے گی۔ یہ بات بڑی دلچسپی سے دیکھے جانے کے لائق ہے کہ مختاران مدعیہ حضرت مسیح موعود کی وحی کو بھی منزل اللہ ماننے کوتیار نہیں اوران کے خاتم

156

المحدثین مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی مجتہدین کے اجتہادات کو بھی منزل من اللہ قراردیتے ہیں۔

چنانچہ لکھتے ہیں: کتاب اللہ منزل من اللہتعالیٰ ہے اور حدیث رسول اللہﷺ کی بھی منزل من اللہتعالیٰ ہے اور استنباط مجتہدین علیہم الرحمۃ کے بھی منزل من اللہتعالیٰ ہیں۔ کیونکہ جوکچھ اشارات ودلالات نصوص سے مستخرج ہیں وہ عین حکم نص کا ہوتاہے۔(سبیل الرشاد ص۳۶)

اور اسی گواہ مدعیہ نمبرب نے یہ آیت بھی پیش کی ہے:’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین الانھم لیأکلون الطعام (الفرقان:۲۰)‘‘ یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسل بھیجے وہ ضرور کھانا کھاتے تھے اور اس سے بھی انقطاع نزول وحی پر استدلال کیاہے۔ حالانکہ اس آیت سے وحی کے انقطاع کا وہم بھی نہیں گزر سکتا۔ کیونکہ کفار جو یہ اعتراض کیاکرتے تھے کہ آنحضرتﷺ رسول کیسے ہوسکتے ہیں۔ جب کہ وہ کھانا کھا لیتے ہیں۔ اللہتعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اعتراض کو یوں رد کیا کہ دیکھو پہلے جس قدر رسول آئے وہ بھی تو کھاناکھایاکرتے تھے۔ پس ان آیات میں سے کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی بندہے۔

(۳) دلائل بقائے وحی غیرتشریعی ازروئے قرآن شریف

گواہان مدعاعلیہ نے فریق مخالف کے اس دعویٰ کو غلط ثابت کرنے کے لئے کہ آئندہ وحی نہیں ہوگی۔ قرآن کریم سے مندرجہ ذیل آیت پیش کی ہیں:

پہلی آیت: ’’رفیع الدرجات ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ لینذر یوم التلاق (مؤمن)‘‘ اس آیت میں تین باتیں نزول وحی کا موجب قراردی گئی ہیں۔ اللہتعالیٰ کا رفیع الدرجات اورذوالعرش ہونا، اس کے بندوں کاپایاجانا، تیسراضرورت رنذار۔

پس جب کہ یہ تینوں باتیں نبی کریمa کے بعد بھی موجود ہیں تو باب نزول وحی کا مسدود اور وحی کامفقود ہوناکیامعنی اور روح کے معنی خواہ جبرئیل کے لیں۔ خواہ مطابق آیت:’’اوحینا الیک روحامن امرنا‘‘ کلام الٰہی کے لیں۔ یہ مطلب دونوں صورتوں میں بالکل واضح ہے۔ آئندہ زمانہ میں بھی کلام الٰہی کا نزول ہوگا۔ چنانچہ تفسیر جلالین میں اس آیت میں الروح کے معنی وحی کے لکھے ہیں اورامام فخر الدین رازی نے اس آیت کے ذیل میں لکھاہے: ’’والصحیح ان المراد بالروح الوحی‘‘ یعنی صحیح یہی ہے کہ مراد روح سے وحی ہے۔(تفسیر کبیرج ۷ ص۳۱۱)

اورشیخ محی الدین ابن عربی اس آیت کولکھ کرفرماتے ہیں: ’’قال تعالٰی یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ فجاء بمن وھی نکرۃ فینذر یوم التلاق فجاء بمالیس بشرع ولاحکم بل بالانذار فقد یکون الولی بشیراً ونذیراً ولٰکن لایکون مشرعاً فان الرسالۃ والنبوۃ بالتشریع قد انقطعت فلا رسولa ولانبی ای لاشرع ولاشریعۃ وقد علمنا ان عیسٰی ینزل ولابد مع کونہ رسولا ولکن لایقول یشرع بل یحکم فینا بشرعنا‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۷)

ماحصل اس عبارت کا یہ ہے کہ اس آیت میں شریعت یااحکام کے نزول کاذکرنہیں۔ بلکہ انذار کاذکرہے اور ولی بھی کبھی بشیر ونذیر ہوتاہے۔ لیکن شرع یعنی شارع نہیں ہوتا۔ کیونکہ رسالت اور نبوت تشریعیہ رسول اللہﷺ کے بعد منقطع ہوگئی ہے اورعیسیٰؑ بھی وقت نزول باوجود رسول ہونے کے ہماری ہی شرع کے ساتھ حکم کریں گے۔

پس اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ آیت مذکورہ بالا سے ثابت ہوتاہے کہ وحی منقطع نہیں ہوئی۔ بلکہ جاری ہے اور اب کوئی رسول یا نبی بھی ہو توصرف تبشیر اورانذار کی وحی اس پر ہوسکتی ہے۔ شرعی وحی نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ شیخ اکبر کے نزدیک مسیحؑ بھی باوجود رسول

157

ہونے کے نئی شریعت نہیں لائیں گے۔ بلکہ شریعت محمدیہ کے تابع ہوں گے۔

مختارمدعیہ کہتاہے کہ اس میں صرف یہ بتایاہے کہ فرشتہ کاوحی الٰہی لے کر اترنااللہ کی نظرانتخاب پرہے۔ نہ کسی دنیوی جاہ وجلال پر۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ کسی طرح نہیں نکلتا کہ نزول وحی منقطع ہے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ کی یہ صفت انتخاب پہلے موجود تھی اب بھی موجود ہے۔ جیسا کہ یلقی صیغہ مضارع سے جواستمرار تجددی پردلالت کرتاہے۔ ظاہرہے۔

دوسری آیت: ’’ینزل الملآئکۃ بالروح علی من یشآء من عبادنا ان انذروا انہ لآالٰہ الا انا فاعبدون (حجر)‘‘ اس آیت میں سے امر نہایت وضاحت سے بیان کیاگیاہے کہ اللہتعالیٰ فرشتوں کو کلام دے کر اپنے بندوں کے پاس بھیجتاہے اوربھیجاکرے گا۔ پس اس آیت میں بھی اللہتعالیٰ نے اپنی سنت مستمرہ کاذکرفرمایاہے جس کا انقطاع نہیں ہے۔ کیونکہ وحی لے کر فرشتوں کے نزول کے جو بواعث آیت میں مذکور ہیں وہ آنحضرتﷺ کے بعد میں بھی پائے جاتے ہیں۔

تیسری آیت: ’’واذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذادعان (بقرہ)‘‘

اس آیت میں بھی خداتعالیٰ نے خاص طور پر یہ وعہ فرمایاہے کہ وہ پکارنے والے کی پکار کا جواب دے گا۔ ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے اس پر یہ جرح کی ہے کہ اس آیت میں اجیب کے معنی ہیں: ’’میںقبول کرتاہوں‘‘ کلام کرنے کے نہیں۔ ورنہ مانناپڑے گا کہ وہ ہرایک سے کلام کرتاہے۔ لیکن اگرمختارمدعیہ کے معنوں کو صحیح تسلیم کیاجائے تو پھر ماننا پڑے گا کہ وہ ہرایک کی دعا قبول کرتاہے۔ حالانکہ یہ امر واقع کے خلاف ہے۔ بہرحال مختارمدعیہ یہ کہے گا کہ جس شخص کی دعا لائق قبول ہے اسے قبول کرتاہے۔ اسی طرح ہمارا یہ جواب ہے کہ جسے خداتعالیٰ بذریعہ کلام جواب دیناچاہئے، اسے جواب دیتاہے اور یہ معنی تفسیر ابن جریر میں بھی لکھے ہیں: ’’الوجہ الآخر ان یکون معناہ اجیب دعوۃ الداع اذادعان ان شئت فیکون ذالک‘‘ (ابن جریرج۶ ص۹۴) یعنی ایک جو وجہ اس آیت کے معنی کی یہ ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کاجواب دیتاہوں۔ یعنی اگر میں چاہوں تو ایساہوتاہے۔

چوتھی آیت:’’ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملآئکۃ الّاتخافوا ولاتحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیآء کم فی الحیاۃ الدنیا وفی الآخرۃ (حم السجدۃ)‘‘

یہ آیت بھی صاف طور پر بیان کررہی ہے کہ جولوگ اللہتعالیٰ کے راستے میں استقامت دکھائیں گے۔ ان پختہ ایمان داروںکوخداتعالیٰ کی طرف سے فرشتے بشارتیں سنایاکریں گے۔ چنانچہ (روح المعانی ج۷ ص۶۴) میں لکھاہے: ’’والاخبار طافحۃ برویۃ الصحابہ للملک وسماعھم کلامہ وکفٰی دلیلا لما نحن فیہ قولہ سبحانہ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملآئکۃ الّاتخافوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون الایۃ قال فیھا نزول الملک علی غیر الانبیاء فی الدنیا وتکلیمہ ایاہ‘‘

صحابہ کے فرشتوں کو دیکھنے اوران کی کلام کو سننے کے متعلق کثرت سے خبریں پائی جاتی ہیں اورجس امر میں ہم گفتگو کررہے ہیں۔ اس کے اثبات کے لئے خداتعالیٰ کاقول ’’ان الذین قالوا ربنا اللہ‘‘ ہی کافی ہے۔ کیونکہ اس میں اس دنیا میں غیر انبیاء پر فرشتے کانزول اور اس سے کلام کرنے کا ثبوت موجودہے۔

پس مختارمدعیہ کا اس آیت کے متعلق ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں یہ کہنا کہ ایساموت کے وقت ہوتاہے۔ قابل التفات نہیں ہے اور اس آیت سے ہی معلوم ہوتاہے کہ ایسے کامل راست بازوں پر خداتعالیٰ کے فرشتے خوشخبری لے کرنازل ہوتے ہیں اورآپ کوخداتعالیٰ کی حمایت ونصرت کاوعدہ یاد دلاتے ہیں۔

158

پانچویں آیت:’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران)‘‘

یہ آیت پیدائش انسان کی اصل غرض اورفطرت انسانی کا اصل مقصود اللہتعالیٰ کی محبت کوقراردیتی ہے اورانسان اوراس کے خالق میں محبت وتعشق کارشتہ ہوناچاہئے۔ پہلے انسان خداتعالیٰ کاسچا عاشق بنے اور ظاہرہے کہ حقیقی طور پر محبت دوہی ذریعوں سے پیداہوتی ہے۔ دیدار سے یاگفتار سے۔

لیکن جب ان دونوں چیزوں میں سے کوئی چیز بھی نصیب نہ ہوئی۔ دیدار تو اس لئے کہ وہ خداتعالیٰ کے وراء الوراء ہونے کی وجہ سے اس عالم میں نہیں ہوسکتا اور گفتار اس لئے کہ اس کا سلسلہ آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہوگیا تو عاشق الٰہی بننے کے لئے کون سی صورت رہے گی۔ کوئی کس طرح اللہ کا عاشق بنے گا اورمنازل عشق میں مصائب کے جومہیب پہاڑ اورہولناک دریاحائل ہیں وہ کس طرح طے ہوسکیں گے۔

مختارمدعیہ نے اس پر یہ جرح کی ہے کہ پھر وحی نبوت صحابہ پربھی ہونی چاہئے۔ حالانکہ اس موقع پر بحث اس امر میں ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی ہوسکتی ہے یانہیں۔

چھٹی آیت:’’ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستجیب لہ الٰی یوم القیامۃ وھم من دعآئہم غافلون (احقاف)‘‘

اللہتعالیٰ نے اس آیت میں سچے خدا کی یہی نشانی قراردی ہے کہ وہ بندوں کی پکار کاجواب دیتاہے۔ لیکن معبودان باطلہ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ لوگوں کی پکار کا جواب دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہتعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کاجواب دیتاہے جس سے وہ وجود باری تعالیٰ کے متعلق درجہ حق الیقین تک فائز ہوں۔ یعنی انہیں اس امر کا کہ اللہتعالیٰ موجودہے۔ حق الیقین حاصل ہوجائے۔

اس آیت کے متعلق مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں یہ کہاہے کہ ’’یستجیب‘‘ کے معنی قبول کرنے کے ہیں۔ جواب دینے کے کہیں نہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ’’یستجیب‘‘ کے معنی جواب دینے کے عربی زبان میں بکثرت آتے ہیں۔ چنانچہ کعب بن سعد الغنوی کا شعرہے:

  1. وداع دعایا من یجیب الی القدمی

    فلم یستجیبہ عند ذالک مجیب

(ابن جریر ج۲ ص۹۳)

اس شعر میں’’لم یستجیبہ‘‘ کے معنی ’’اسے جواب نہ دیا۔‘‘ کے ہیں اورلطف یہ ہے کہ اس آیت میں بھی ’’یستجیب‘‘ کے معنی جواب دینے ہی کے لئے گئے ہیں۔ چنانچہ ابن جریر میں اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی گئی ہے: ’’لایستجیب لہ الٰی یوم القیامۃ یقول لایجیب دعاہ ابدا لانھا حجر وخشب اونحوذٰلک‘‘

(ابن جریرج۲۶ ص۳) یعنی وہ اس کی پکار کا کبھی جواب نہیں دے سکتے۔ کیونکہ وہ پتھر ہیں یالکڑی وغیرہ ہیں اور مولانا شاہ رفیع الدین صاحب نے بھی اس آیت میں ’’یستجیب‘‘ کے یہی معنی لئے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اورکون شخص ہے بہت گمراہ اس شخص سے کہ پکارتاہے۔ سوائے خداکے اس شخص کو کہ نہ جواب دے اس کو دن قیامت تلک۔‘‘ کیامختارمدعیہ کے اس قسم کے اعتراضات سے جو اس نے گواہان مدعاعلیہ کے استدلالات پرکئے ہیں۔ علم قرآن سے اس کی محرومی ظاہر نہیں ہوتی۔

ساتویں آیت: ’’الم یروا انہ لایکلمھم ولایھدیھم سبیلا اتخذوہ وکانوا ظالمین (اعراف:۱۴۸)‘‘

اسی طرح فرمایا: ’’لہ دعوۃ الحق والذین یدعون من دونہ لایستجیبون لھم بشیٔ (رعد:۱۴)‘‘

اسی طرح فرمایا: ’’ان تدعوھم لایسمعوا دعآء کم ولوسمعوا مااستجابوالکم (فاطر:۱۴)‘‘

اسی طرح فرمایا:’’وان تدعوھم الی الھدیٰ لایتبعوکم سوآء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون (اعراف:۱۹۳)‘‘

159

ان تمام آیات میں خداتعالیٰ نے معبودان باطلہ کی الوہیت کے بطلان کے اظہار کرنے کے لئے ان کے معبودان کے غیر متکلم ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے اورا ن کے عدم تکلم کو ان کی موت اورعدم الوہیت پردلیل ٹھہرایاہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ سے اپنے متکلم ہونے کو اپنی حیات اور حقیقی الہ ہونے کا ثبوت گرداناہے اور یہ دلیل قطعی ہے۔ اس امر کی کہ اللہتعالیٰ کی صفت تکلم ہرزمانہ میں اپناجلوہ دکھاتی رہے گی۔

آٹھویں آیت:’’اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم (فاتحہ:۵،۶)‘‘

اس آیت میں اللہتعالیٰ نے ہم کو ترغیب دلائی ہے کہ پہلے اللہتعالیٰ سے ’’منعمین علیھم‘‘ کے مقامات عطاء کئے جانے کے طلب گار ہوں جس کامطلب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ وہ مقامات عطاکرے گا اوروہ مقامات نبوت اورصدیقیت اورشہادت اورصالحیت کے ہیں۔ جب وہ مقامات اورمراتب امت محمدی کو ملیں گے تولازمی طور پرمکالمہ الٰہیہ اور وحی کے جوانعامات پہلی امتوں کے حامل افرادپرہوئے۔ اس امت کے حامل افراد بھی اس سے متمتع ہوں گے۔

نویں آیت: ’’کنتم خیرامۃ اخرجت للناس (آل عمران:۱۱۰)‘‘

اس آیت میں اللہتعالیٰ نے امت محمدیہ کو خیرالامم قراردیاہے اور اللہتعالیٰ کا کسی کو کوئی لقب دینابلامعنی نہیں ہوسکتا۔ کوئی عقل سلیم اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتی کہ امت محمدیہ ہوتوخیرالامم۔ لیکن وہ ان مقامات سے جوپہلی امتوں پرہوئے۔ محروم ہو، افسوس کہ امت محمدیہ میں بقاء وحی کے منکرین نہیں سوچتے کہ اللہتعالیٰ قدیم سے اپنے بندوں کے ساتھ ہم کلام ہوتاآیاہے۔ یہاں تک کہ بنی اسرئیل میں عورتوں کو بھی مکالمہ اورمخاطبہ کا شرف حاصل ہواہے۔ جیسے حضرت موسیٰ کی ماں اور مریم صدیقہ کو تو پھر یہ امت کیسی بدقسمت اوربے نصیب ہے کہ اس کے مرد بنی اسرئیل کی عورتوں کی طرح بھی نہیں۔ یاد رہے کہ اللہتعالیٰ کے صفات کبھی معطل نہیں ہوتے۔ پس جیسا کہ وہ ہمیشہ سنتارہے گا۔ ایسا ہی وہ ہمیشہ بولتا بھی رہے گا۔ اس دلیل سے زیادہ ترصاف اورکوئی دلیل ہوسکتی ہے کہ خداتعالیٰ کے سننے کی طرح بولنے کا سلسلہ بھی کبھی ختم نہیں ہوگا اور اس سے ثابت ہوتاہے کہ ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گا۔ جن سے اللہتعالیٰ مکالمات ومخاطبات کرتارہے گا۔ اس وقت دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندررکھتاہے کہ وہ بشرط سچی اورکامل اتباع ہمارے سید ومولیٰ آنحضرتﷺ کے مکالمات الٰہیہ سے مشرف کرتاہے۔ اسی وجہ سے توحدیث میں آیاہے کہ ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرئیل‘‘ یعنی میری امت کے علماء ربانی بنی اسرئیل کے نبیوں کی طرح ہیں اورحدیث میں بھی علماء ربانی کو ایک طرف امتی کہاہے اور دوسری طرف نبیوں سے مشابہت دی ہے۔ پس امت محمدیہ کا خیر الامم ہونامستلزم ہے۔ اس بات کو کہ امت کے کامل افراد وحی الٰہی کے فیض سے مستفیض ہوں۔

چنانچہ مولوی محمدحسین بٹالوی نے بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کہ امت محمدیہ کے کاملین کو بذریعہ الہام غیب پر مطلع کیاجاتاہے۔ اسی آیت سے دلیل پکڑی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ’’بعد تسلیم اس امر کے کہ خداتعالیٰ بعض وجوہ سے اطلاع غیب غیرنبی کو بھی دیتاہے اور یہ امر پہلی امتوں میں بشہادت قرآن پایاگیاہے۔ اس امت مرحومہ کے لئے اس شرف کے حصول پر ہمارے پاس کوئی خاص نص قرآن یاحدیث نہ بھی ہو توہم کو حصول اس شرط کے ثابت کرنے کے لئے ایک وہ آیت جس میں اس مرحومہ امت کو خیر امت ٹھہرایاگیا ہو اور ایک وہ حدیث جو اس آیت کی تفسیر ہے اور اس میں یہ تصریح ہے کہ تم نے( اسے امت محمدیہ) سترامتوں کو پوراکیاہے اورتم ان سب سے اللہکے نزدیک بہتر اور باعزت ہوکافی دلیل ہے۔ ومع ہذابالفعل! ہم ایک خاص حدیث حصول اس شرف کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ منکرین مخالفین اس حدیث کا ثبوت اس مدعاکے لئے ناکافی ہونا ثابت کریں گے؟(اشاعۃ السنۃ نمبر۷ ج۷ ص۲۰۵،۲۰۶)

160

پس گیارہ اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ اس آیت کو مسئلہ وحی سے کوئی تعلق نہیں ہے لغووباطل ہے۔

مختارمدعیہ نے ۱۱،۱۲؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے کہ جن آیات سے وحی یانبوت کا اثبات کیاگیاہے۔ ان آیات کی یہ تفسیر پہلی کسی نے نہیں کی۔ اس لئے ان سے وحی یانبوت کے بقاء پر استدلال کرنا تفسیر بالرائے ہے۔ اس کا پہلاجواب تویہ ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں کچھ مختارمدعیہ کے جواب میں ابھی میں نے بعض آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیروں کے حوالے نقل کئے ہیں۔ لیکن اصولاً یہ ضروری نہیں ہے کہ پہلی تفسیروں میں سے ان کے معنی نقل کئے جائیں۔ کیونکہ قرآن مجید عربی زبان میں ہے اوراسی کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر کی جاتی ہے۔ گواہان مدعاعلیہ نے جو تفسیریں ان آیات کی پیش کی ہیں وہ قواعد عربیت اورقرآن وحدیث کی رو سے بالکل صحیح ہیں۔

اورمختارمدعیہ کی طرف سے ان کی کوئی تغلیط نہیں کی گئی۔

دوسراجواب یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے معارف اور عجائب کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ بعض الفاظ حدیث: ’’مرفوعہ مثل لایشبع منہ العلماء ولایخلق عن کثرۃ الرد ولاتنقضی عجائبہ‘‘ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کسی آیت کی تفسیر مجرد اس وجہ سے تفسیر بالرائے نہیں کہلاسکتی کہ وہ تفسیر گزشتہ مفسرین میں سے کسی نے نہیں کی ہے۔ گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کو اس حدیث کے متعلق بجواب جرح یہ کہاتھا کہ اس کی سند مجہول ہے۔ اس واسطے قابل اسناد نہیں ہے۔ لیکن یہ امر اس نے محض اپنے بچائو کی غرض سے پیش کیاتھا۔ ورنہ وہ خوب اچھی طرح جانتاہے کہ اس حدیث کے متعلق ذرہ بھی گنجائش کلام نہیں ہے۔ کیونکہ اس کو اس سے بے خبری نہیں ہوسکتی کہ (تحذیر الناس ص۱۱) میں حدیث بطور دلیل پیش کی ہے۔ جب کہ مختارمدعیہ کے اس باطل خیال کی تردید میں بھی کہ کسی امت کی ایسی تفسیر کوجو مفسرین گزشتہ میں سے کسی نے نہ کی ہو۔ تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔

مولانامحمدقاسم ہی کا ارشاد پیش کرتاہوں۔ جس سے صاف ظاہر ہوجائے گا کہ کوئی ایسی تفسیر جوقواعد عربیہ کے مطابق ہو۔ اگرچہ پہلے کسی مفسر نے نہ کی ہو۔ تفسیر بالرائے نہیں کہلائے گی۔ چنانچہ مولوی صاحب فرماتے ہیں: ’’اب یہ گزارش ہے کہ ہرچند آیت: ’’اللہ الذی خلق سبع سمٰوٰت‘‘ کی یہ تفسیر کسی اورنے نہ لکھی ہو توکیا ہوا۔ معنی مطابق اگر اس احتمال پر منطبق نہ ہو تو البتہ گنجائش تکفیر ہے اوریوں کہہ سکتے ہیں کہ موافق حدیث: ’’من فسر القرآن برأیہ فقد کفر‘‘ سے یہ شخص کافر ہوگیا۔ پھر اس صورت میں یہ گناہ گار تنہاء کافرنہ بنے گا۔ یہ تکفیر بڑے بڑوں تک پہنچے گی۔‘‘ (تحذیرالناس ص۴۰)

اب مختاران مدعیہ کو سوچناچاہئے کہ مولوی صاحب نے جب ایک آیت کی ایسی تفسیر کی جوسلف صالحین میں سے کسی نے نہیں کی تھی اورلوگوں نے ان کی اس بناء پر تکفیر کی اور کہا کہ تمہاری یہ تفسیر ایجاد بندہ ہے اور پہلے کسی نے نہیں کی تو اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ہوا کیا۔ اگر پہلے کسی نے یہ تفسیر نہیں کی۔ جب معنی مطابقی اسی احتمال پرمنطبق ہیں تو یہ تفسیر بالرائے کیسے ہوگئی اوراگر یہی تفسیر بالرائے موجب کفرہے تو پھر بڑوں بڑوں کو بھی کافرماننا پڑے گا۔ کیونکہ وہ بھی ایسی تفسیریں کرتے رہے ہیں جوان سے پہلوں نے نہیں کی تھیں۔

پس اگر فرض بھی کرلیاجائے کہ جوآیات گواہان مدعاعلیہ نے وحی اور نبوت کے بقاء کے ثبوت میں پیش کی ہیں۔ ان سے پہلے کسی نے یہ استدلال نہیں کیا توپھر بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور یہ اعتراض بھی کہ اگر ان آیات سے یہ استدلال صحیح ہے تو پھر وحی شریعت جدیدہ ونبوت مستقلہ بھی جوبالاتفاق فریقین بند ہے۔ جاری ماننی پڑے گی، قطعاً صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ان آیات سے محض مکالمہ الٰہیہ کا وجود اورنبی کا آناثابت ہوتاہے۔ لیکن دوسری آیات مثل خاتم النّبیین اورآیت:’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ اورآیت:’’من یطع اللہ والرسول فاولٰٓئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النّبیین والصدیقین والشھدآء والصالحین وحسن اولٰٓئک رفیقا‘‘ بتارہی ہے کہ وحی شریعت جدیدہ اورنبوت مستقلہ کادروازہ آنحضرتﷺ کے بعد بندہے۔

161

(۴) دلائل بقائے وحی ازروئے احادیث نبویہ

مسلم کی حدیث میں آنے والے مسیح کے متعلق صاف الفاظ میں لکھاہے کہ اللہتعالیٰ اسے وحی کرے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’بینما ھوکذالک اذا وحی اللہ الٰی عیسٰی انی قد اخرجت عباداً لی لایدان بقتالھم لاحد فاحرز عبادی الی الطور‘‘ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص۴۷۴، مطبوعہ مجتبائی)

اور اس حدیث کا مفہوم حضرت مسیح موعود نے یہ بیان کیا کہ وہ اقوام یاجوج وماجوج سے جنگ نہیں کرے گا۔ بلکہ مومنوں کو طور کی طرف جمع ہونے کا ارشاد کرے گا اورظاہر ہے کہ طور ایک چھوٹی سے پہاڑی ہے جس پر تمام بندگان الٰہی کا جمع ہوناناممکن ہے۔ اس لئے اس جگہ طور سے مراد مقام تجلیات الٰہیہ ہے۔ یعنی مسیح موعود مسلمانوں کو دین کی طرف توجہ دلائے گا وہ حقیقی مؤمن اورخداتعالیٰ کے بندے بنیں تاکہ وہ مورد تجلیات الٰہیہ ہوں اور خداوند ان کے ساتھ ہو اورہر جگہ ان کو غلبہ عطاء کرے۔ بہرحال اس حدیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کووحی ہوگی۔ چنانچہ اکابر علماے سلف نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ مسیح موعود پر وحی کا نزول ہوگا۔ چنانچہ گواہ نمبر۳ نے بھی۱۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیاہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو ہم پہلے نبی مانتے ہیں۔ اس کے سوا جو وحی ہے وہ وحی نبوت نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا اورمختارمدعیہ کا اس حدیث کے متعلق یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نے نواس بن سمعان کی اس حدیث کو مجروح قراردیاہے کہ اگر یہ حدیث تسلیم بھی کرلی جائے تواس میں وحی کالفظ بمعنی الہام ہے۔ قابل التفات نہیں ہے۔ کیونکہ اوّل تو حضرت مسیح موعود نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ: ’’یہ فرض صاحب مسلم کے سر پر تھا کہ وہ اپنی ذکر کردہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے رفع کرتے کہ انہوں نے جو ایسے تعارض کا ذکر تک نہیں کیا تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمد بن المنکدر کی حدیث کو نہایت قطعی اور یقینی اور صاف اورصریح سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات وکنایات خیال کرتے تھے اور اس کی حقیقت کو حوالہ بخداکرتے تھے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۳۷، ۲۳۸، خزائن ج۳ ص۲۲۰)

اورخصوصاً اس کے فقرہ متنازعہ فیہ کو اپنی کتب میںصحیح سمجھ کر ذکرکیاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’ایساہی ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے جو مسیح موعود کے بارے میں ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا۔ اس حدیث کے یہ الفاظ ہیں:’’اخرجت عباداً لی لایدان بقتالھم لاحد فاحرز عبادی الی الطور‘‘

یعنی اے آخری مسیح میں نے اپنے بندے ایسی طاقتور زمین پر ظاہر کئے ہیں۔ (یعنی یورپ کی قومیں) کہ کسی کوان کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ پس توان سے جنگ نہ کر بلکہ میرے بندوں کو طور کی پناہ میں لے آ۔ یعنی تجلیات آسمانی اور روحانی نشانیوں کے ذریعہ سے ان بندوں کو ہدایت دے۔ سومیں دیکھتاہوں کہ یہی حکم مجھے ہواہے۔‘‘(مضمون چشمہ معرفت ص۲۶، خزائن ج۲۳ ص۳۹۷)

اوراگریہ نہ بھی ہوتا تو بھی چونکہ فریق مدعیہ کو اس حدیث کی صحت سے انکارنہیںہے۔ اس لئے گواہان مدعاعلیہ اس کو بطور حجت ملتزمہ فریق مدعیہ کے مقابلہ میں عقلاً وقانوناً وشرعاً پیش کرسکتے ہیں اوریہ کہنا کہ برتقدیرتسلیم وحی کے معنی الہام کے ہیں۔ علماء سلف صالحین کے معنی کے خلاف ہے۔ جیسا کہ (روح المعانی ج۷ ص۶۵) کے حوالہ سے گواہان مدعاعلیہ اپنے بیانوں میں بتاچکے ہیں کہ یہ وحی جبرئیلm کی زبان پر ہوگی۔ کیونکہ وہی اللہتعالیٰ اوراس کے رسولوں کے درمیان پیغمبرہے اور حدیث:’’لاوحی بعدی‘‘ باطل ہے اوریہ جومشہورہے کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جبرئیل زمین پرنازل نہیں ہوتے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور غالباً اس شخص کی مراد بھی جس نے مسیحؑ پر آپ کے نزول کے بعد وحی کی نفی کی ہے۔ وحی تشریع سے ہے اور جس وحی کا یہاں ذکرہے۔ اس میں تشریع نہیں ہے اورروح المعانی مختارمدعیہ اور گواہان مدعیہ کے مسلمات سے ہے اور یہی بات حجج الکرامہ میں لکھی ہے۔

162

دوسری حدیث

ابن ابی الدینا نے کتاب الذکر میں حضرت انس سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ ابی بن کعب نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوں گا اور نماز پڑھوں گا اور خداتعالیٰ کی ایسی حمد کروں گا، جوکسی نے نہ کی ہو۔ یعنی آنحضرتﷺ کے اس ارشاد سے اگرمیری امت میں کوئی محدث ہو تو وہ عمرq ہے۔ یہ مراد نہیں کہ آپ کو ان کے محدث اورمتکلم ہونے میں کوئی ترددتھا۔ کیونکہ آپ کی امت افضل الامم ہے اورجب دوسری امتوں میں ایسے لوگ پائے گئے تو امت محمدیہ میں ایسے لوگوں کی تعداد میں زیادہ رتبہ میں بلند پایاجانازیادہ مناسب اورضروری ہے۔ بلکہ یہ جملہ تاکید اور یقین کرکے پیرایہ میں بیان ہواہے اوراس جملہ میں جو مبالغہ پایاجاتاہے۔ وہ ذی فہم انسان پرمخفی نہیں اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ اگر کوئی میرا دوست ہے تو وہ فلاں ہے تو ایسے جملہ سے قائل کامنشاء یہ ہوتاہے کہ وہ فلاں شخص میرا پکادوست ہے۔

ان تینوں حدیثوں سے صاف طور پریہ ثابت ہے کہ آنے والے مسیح پر وحی نازل ہوگی اوران کے علاوہ بھی کاملین افراد محمدیہ پہلی امتوں کے کامل افراد کی طرح مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوںگے۔

گواہ مدعیہ نے اپنے بیانوں میں انقطاع وحی کے متعلق ایک حدیث بھی پیش نہیں کی ہے۔ لیکن باوجود اس کے مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کوعدالت میں بحث کرتے ہوئے علانیہ یہ غلط بیانی کی کہ گواہان مدعیہ نے انقطاع وحی کے متعلق پچیس حدیثیں پیش کی ہیں اورمختارمدعیہ نے جودوحدیثیں پیش کی ہیں۔ ایک رزیں کی (مشکوٰۃ ص۵۴۸) سے اور دوسری (بخاری ج۱ ص۳۶۰) سے تو ان دونوں حدیثوں سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیر شرعی منقطع ہے۔

مشکوٰۃ کی روایت میں تو یہ بیان ہواہے کہ جب آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد عرب نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکارکردیا اورحضرت ابوبکرq نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا توحضرت عمرq نے ان لوگوں سے نرمی کا سلوک کرنے کی درخواست کی۔ حضرت ابوبکرq نے اس کا یہ جواب دیا کہ: ’’اجبار فی الجاھلیۃ وخوار فی الاسلام انہ قد انقطع الوحی وتم الدین اینقض وانا حی‘‘ یعنی کیاجاہلیت میں توجبار تھے اور اب اسلام میں آکربزدل اورضعیف بنتے ہو۔ یاد رکھو وحی منقطع ہوگئی کہ دین پوراہوگیا۔ کیادین میں کمی بیشی کی جائے گی اور میں زندہ ہوں۔ اس سے صاف ظاہرہے کہ اس حدیث میں وحی سے مراد شرعی وحی ہے جو پہلے دین کو یااس کے بعض احکام کومنسوخ کرنے والی ہے۔ بس جب وہ نماز پڑھ کر اللہتعالیٰ کی حمدوثنا کرنے کے لئے بیٹھے۔

’’اذاھو بصوت عال من خلف اللھم لک الحمد کلہ وبیدک الخیرکلہ والیک یرجع الامر کلہ… فاتی رسول اللہﷺ فقص علیہ فقال ذلک جبرئیل‘‘ (روح المعانی ج۷ ص۶۴)

یعنی اس نے پیچھے سے ایک بلند آواز سنی جس کے یہ الفاظ تھے: ’’اللھم لک الحمد الی آخرہ‘‘ پھر ابی بن کعب رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور یہ واقعہ بیان کیا تو آپ فرمایا وہ جبرئیلm تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ پر بھی جبرئیل کانزول ہوتاتھا۔

تیسری حدیث

آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’عن ابی ھریرۃq قال قال رسول اللہﷺ لقد کان فی قبلکم من الامم محدثون فان یک فی امتی احدفانہ عمر‘‘ (متفق علیہ مشکوٰۃ مطبوعہ مجتبائی ص۵۵۶)

اسی طرح فرمایا: ’’لقد کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منھم احد فعمر‘‘ (بخاری کتاب الفضائل، فضائل عمر)

163

کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں اور بنی اسرائیل میں ایسے اشخاص بھی ہوئے جن سے خداتعالیٰ ہم کلام ہواہے۔ لیکن وہ نبی نہ تھے۔ ایسے اشخاص میری امت میں سے بھی ہوں گے جن میں سے ایک عمر ہے اور محدث کی تشریح آنحضرتﷺ نے یہ کی ہے۔ ’’قال یتکلم الملآئکۃ علی لسانہ‘‘ (طبرانی اسنادہ حسن، تاریخ الخلفاء ص۱۱۸، مطبوعہ مصر)

یعنی فرشتے اس کی زبان پرکلام کرتے ہیں۔

اس حدیث کی شرح میں امام ملّا علی قاری یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ محدث سے کیا مراد ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اللھم المبالغ فیہ الذی انتھی الی درجۃ الانبیاء فی الالہام‘‘ یعنی محدث سے ایسا ملہم مراد ہے جو الہام میں انبیاء کے درجہ کو پہنچاہواہو اورفرماتے ہیں:’’فان یک فی امتی احد فھو عمرلم یرد ھٰذا القول مورد التردد قال امتہ افضل الامم واذاکانوا موجودین من غیر ھم من الامم فبالحری ان یکونوا فی ھٰذہ الامۃ اکثر عددا واعلٰی رتبۃ وانما ورد مورد التاکید والقطع، ولایخفی علی ذی الفھم محلہ من المبالغۃ۔ کمایقول الرجل ان یکن لی صدیق فانہ فلان یرید بذالک اختصاصہ بالکمال فی صداقتہ‘‘ (مرقاۃ ج۵ ص۵۳۱)

رہی بخاری کی حدیث تو اس میں بھی وحی کے انقطاع سے مراد قرآن کی وحی کاانقطاع ہے جو آنحضرتﷺ پرنازل ہوتی تھی جس میں احکام اورمنافقوں کے نفاق اورمؤمنوں کے ایمان کی حالت کا اظہارہوتاتھا۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’ان اناسا کانور ایوخذون بالوحی فی عہد رسول اللہﷺ وان الوحی قد انقطع وانما ناخذکم الان بما ظہران من اعمالکم‘‘

یعنی آنحضرتﷺ وفات پاگئے۔ اب توہم تمہارے اعمال کی بناء پر ہی مواخذہ کریں گے اورجو کسی کے دل یانفس میں ہوگا۔ اس کے مطابق محاسبہ نہیں کریں گے۔ اس کا محاسب اللہتعالیٰ ہوگا۔ پس ا س حدیث میں خاص وحی کے انقطاع کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرتﷺ پرنازل ہوتی تھی۔

(۵) عقیدہ سلف صالحین بقائے وحی غیر تشریعی کے خلاف نہیں

گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں قرآن وحدیث سے امت محمدیہ میںو حی الٰہی کے بقاء کے ثبوت پیش کرنے کے بعد سلف صالحین کے وہ اقوال پیش کئے ہیں جن میں انسان سے آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی کا دروازہ کاملین امت محمدیہ کے لئے کھلاہوناتسلیم کیاہے اورنزول وحی تشریعی کوممنوع قراردیاہے۔ اس کے لئے ملاحظہ ہو۔ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کابیان۔

اب میں مختارمدعیہ کے ان اعتراضوں پرنظر کرتاہوں جواس نے سلف صالحین کے ایسے اقوال پر کئے ہیں جن سے امت محمدیہ کے لئے وحی غیرتشریعی کاباقی ہونا ثابت ہوتاہے۔

حوالہ فتوحات مکیہ

گواہان مدعاعلیہ نے امت محمدیہ میں بقائے وحی غیر تشریعی کے متعلق (فتوحات مکیہ ج۲ ص۴۱۶،۴۱۷)کاجوحوالہ پیش کیاتھا اورجس کا ترجمہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کی بجواب جرح یہ کیا ہے۔

جووحی رسول اللہپرنازل ہوئی تھی۔ یعنی آپ کے قلب پرتوآپ پر ایک حرارت سی ہوجاتی تھی جس کو حال سے تعبیر کیاجاتاہے۔ اس لئے یہ سخت ہوتی تھی اوراس کی وجہ سے مزاج منحرف ہوجاتاتھا۔ یہاں تک کہ وہ حالت آپ سے جاتی رہتی اورآپ خبر دیتے۔ اس چیز کی جوآپ کودی جاتی اور یہ تمام اقسام وحی موجود ہیں۔ اب بھی اللہتعالیٰ کے بندوں میں اور وہ وحی جس کے ساتھ نبی مختص ہے وہ تشریعی وحی

164

ہے کہ حلال کرے اور حرام کرے۔‘‘

حوالہ مذکورہ کے اس ترجمہ سے جو گواہ مدعیہ نمبر۱ کا کیا ہواہے۔ بڑی صفائی سے ظاہر کیاہے کہ آیت:’’وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الاوحیا اومن ورآء حجاب او یرسل رسولا (الشوری)‘‘ میں جو اقسام وحی بیان کئے گئے ہیں اورجن طرق سے آنحضرتﷺ کو وحی ہوتی تھی وہ تمام اقسام وحی اب بھی اولیاء اللہ میں مانے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ولی کو وحی تشریعی جس میں تحلیل وتحریم ہو،نہیں ہوتی۔ کیونکہ تحلیل وتحریم نبوت کے ساتھ مختص ہے۔ یہ بیان اپنے مطلب کے اظہار میں کسی تشریح کامحتاج نہیں ہے ا ور اس میں نہایت صراحت سے وحی تشریعی کے سواء تمام اقسام وحی کا اولیائے امت محمدیہ میں موجود ہونا ثابت ہوتاہے۔ لیکن کیسی عجیب جسارت ہے کہ مختارمدعیہ نے اس بیان کو بھی اپنے مفید مدعاظاہر کرنے میں کوئی تأمل نہیں کیا اور۱۱؍اکتوبر کی بحث میں کہا ہے کہ حضرت شیخ اکبر نے وحی تشریح کو انبیاء کے ساتھ مختص کیاہے جوہمارے مدعاکے مؤید ہے۔ حالانکہ مختارمدعیہ کا حضرت شیخ کے اس یبان کو اپنے مدّعاکے مؤید کہنا ویساہی ہے۔ جیسا کہ کسی قائل الوہیت وابنیت مسیح کاسورہ اخلاص کے ترجمہ کو اپنے مفید مطلب کہنا۔ کیونکہ علاوہ انتہائی صفائی وصراحت کے جو حضرت شیخ اکبر ابن عربی نے اس بیان میں اختیارکی ہے۔ لفظ تشریعی کی تشریح بھی ساتھ ہی کردی ہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں: ’’فلا یشرح الانبی ولایشرح الارسول خاصۃ فیحلل ویحرم ویبیح‘‘

یعنی نبی اوررسول کی تشریح سے مراد کسی چیز کو حلال اور کسی کومباح وغیرہ قراردیناہے۔ پس ایسی وحی کے بقا کے توہم بھی قائل نہیں جس میں نئے احکام تحلیل وتحریم کے پائے جاتے ہیں اورنہ ہم ایسی نبوت ہی کے قائل ہیں اور اسی قسم کی وحی کے انقطاع کے متعلق الکبریت الاحمر میں عبارت ہے۔ ورنہ دوسری قسم کی وحی جس میں نئے اوامر تحلیل وتحریم کے نہ ہوں۔ حضرت مسیحؑ پرہوئی۔ فتوحات مکیہ اور الکبریت الاحمر کی عبارت سے ظاہرہے۔

اورگواہ مدعیہ نمبر۳ بھی ۲۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کرچکاہے کہ حضرت عیسیٰؑ کوہم پہلے نبی مانتے ہیں ان کی وحی تو وحی نبوت ہوگی۔ اس کے سوا جو وحی ہے وہ نبوت نہیںہے۔ گو لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا یا اسی قسم کے اور امور کی نسبت سے کیساہی فرق کیوں نہ ہو۔ لیکن نفس مکالمہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں آتا۔ یعنی جوکلام کسی نبی پر نازل ہو وہ بھی خداکاکلام ہوتاہے اورجوکلام کسی نبی کے کامل متبع پرنازل ہوتاہے وہ بھی خداہی کاکلام ہے اور یہ مختارمدعیہ کے فریق مقابل یعنی احمدیوں کے عقائد سے بالکل ہی مطابق ہے۔ ہاں! مختارمدعیہ کی اس توجیہہ نے گواہان مدعیہ کے بیانات کاضرور قلع قمع کردیاہے۔ کیونکہ مختارمدعیہ نے توحضرت مجددالف ثانی کے اس حوالہ کو اپنے مدعا کا مثبت قراردیاہے۔ حالانکہ گواہ مدعیہ نمبر۳ مؤرخہ ۲۹؍اگست کو بجواب جرح کہہ چکاہے کہ (مکتوبات امام ربانی ج۲ مکتوب نمبر۹۹، مکتوبات ص۵۱) میں جوکچھ لکھاگیاہے وہ کشفی یاالہامی ہے جوحجت نہیں اور ایسی صورت پیداہوگئی ہے کہ مختارمدعیہ اور گواہ مدعیہ دونوں کے لئے یہ کہنے کا موقع ہے۔

  1. زخمی کرے مجھی کو میری آہ دل خراش

    میرا ہی تیر میرے کلیجے کے پار ہو

گواہ مدعیہ نے تومکتوبات کے مذکورہ حوالہ کویہ کہہ کر کہ کشفی یاالہامی ہے جوحجت قطعی نہیں اورمختارمدعیہ نے یہ کہنے کے بعد بھی کہ ہمارے لئے یہ مثبت مدّعاہے۔ غلط توجیہہ کرکے ٹال دینا چاہاہے۔ مگر ان دونوں کے مسلم مقتداء وپیشواء جناب مولوی اسماعیل صاحب دہلوی کا جوحوالہ گواہان مدعاعلیہ نے پیش کیاہے۔ وہ ان دونوں کے خلاف احمدیوں کی تائید اور حوالہ مکتوب امام ربانی کی تصدیق کررہاہے اورجس کو دیکھنے کے بعد ایک منصف مزاج انسان کو یہ تسلیم کئے بغیرچارہ نہیں کہ جن طرق سے انبیاء کو وحی اورالہام اورمکالمہ الٰہیہ ہونا قرآن مجید سے ثابت ہوتاہے۔بعینہٖ انہی سے اولیاء اللہ کو ہونا بھی ثابت ہے۔ اگرچہ اصطلاحاً ان کانام رکھنے میں فرق کیاگیاہے اور یہ علماء کی اپنی خود ساختہ اصطلاح ہے۔’’ولکل ان یصطلح‘‘

165

۴… اور(تفسیر روح المعانی ج۷ ص۶۵)سے بھی صاف منقول ہے کہ مسیحؑ پرنزول کے وقت بذریعہ جبرئیل وحی ہوگی اوروہ وحی باوجود ان کے نبی اور رسول ہونے کے غیر تشریعی ہوگی۔ پس اس سے بھی آنحضرتﷺ کے بعد نبی پرغیرتشریعی وحی ہونی ثابت ہے۔

اوراسی طرح گواہ نمبر۴ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ حدیث میں جووحی کاذکرآیاہے۔ وہ مسلم ہے۔ مگر اس سے تبلیغی وحی مراد نہیں ہے اوراس نے حدیث مسلم جس میں وحی کا ذکرہے… کو صحیح تسلیم کیاہے اور بجواب جرح یہ بھی تسلیم کیاہے کہ حضرت عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تو وہ رسول ہوں گے۔ ہر رسول پرغیر تبلیغی وحی کے نزول کو انہوں نے تسلیم کیاہے۔ اگرچہ یہ سمجھ نہیں آیا کہ غیرتبلیغی سے گواہ کی کیا مراد ہے۔ کیونکہ حدیث میں جس وحی کا ذکرہے کہ میرے بندوں کو طور پر جمع کرو۔ اب اگر مسیح موعود یہ وحی لوگوں کو پہنچائے گانہیں توانہیں جمع کیسے کرے گا؟

بہرحال یہ وحی تبلیغی توہوگی۔ لیکن جہاں تک میں سمجھتاہوں گواہ کی مراد تبلیغی وحی سے یہ ہے کہ تشریعی نہ ہوگی جس میں نئے احکام اورنواہی ہوں۔

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۹۹) کے حوالہ کے متعلق بھی جس میں کہ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی نے صریح طور پر ظاہر کیاہے کہ جومکالمہ الٰہیہ انبیاء کے ساتھ ہوتاہے۔ وہی ان کے بعض کامل متبعین کے لئے بھی بطور اتباع اور وراثت کے ہوجاتاہے۔ مختارمدعیہ نے کہاہے کہ یہ حوالہ بھی ہمارے مثبت مدعاہے۔ کیونکہ مجدد صاحب نے جس کلام الٰہی کا ذکرکیاہے وہ وحی ہے جومحدثین پرہوتی ہے اور وہ وحی الہام ہے وحی نبوت نہیں۔

مختارمدعیہ نے حضرت مجدد الف ثانی کے بیان کی جو یہ نئی توجیہ کی ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی نے جس کلام الٰہی کاذکرکیاہے وہ کلام ہے تو وحی الٰہی ہے جومحدثین پرنازل ہوتی ہے اورجووحی محدثین پرنازل ہوتی ہے وہ وحی الہام ہوتی ہے وحی نبوت نہیں ہوتی۔ اس عجیب وغریب توجیہ سے فریق مقابل کاتوکوئی حرج نہیں کیوں کہ جس کلام الٰہی کا ذکر حضرت مجددالف ثانی نے فرمایاہے۔ مختار مدعیہ خواہ اس کلام کانام محدثین پرنازل ہونے والی وحی رکھے۔ خواہ اس کی وحی الہام کے موجب تفرع نام سے نامزد کرے، خواہ اورکچھ کہے۔ بہرحال حضرت مجدد صاحب کے مضمون مکتوب مندرجہ بالا سے روز روشن کی طرح سے یہ ظاہرہے کہ جس کلام کا آپ نے اس موقع پر ذکرفرمایا ہے۔ انبیاء پر بھی وہی نازل ہوتاہے اورجومکالمہ ومخاطبہ انبیاءؑ سے ہوتاہے۔ بعینہٖ اسی طرح کا اس کے کامل متبعین کوبھی ہوتاہے۔

۵… مختارمدعیہ نے حجج الکرامہ کے اس حوالہ پر’’ ظاہراست کہ آرندہ وحی بسوئے اوجبرئیلm باشد بلکہ بہ ہمیں یقین داریم ودرآن ترددنمی کنیم‘‘ ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے کہ یہ حوالہ غیرمسلم ہے۔ کیونکہ نواب صدیق حسن خان صاحب متشدد غیرمقلدین سے نہیں اورحنفیوں کو وہ مشرک سمجھتے ہیں۔ مختارمدعیہ کے اس بیان سے ظاہرہوتاہے کہ پہلے حوالے کے متعلق باوجود گواہ کے یہ کہہ دینے کے کہ مکتوب کاحوالہ ہمارے لئے حجت نہیں۔ مختارمدعیہ کے اس حوالہ کی بابت یہ کہنا کہ ہمارے مدعا کو ثابت کرنے والاہے، نادانستگی سے نہیں۔ بلکہ دیدہ دانستہ تھا اور وہ گواہان مدعیہ کی شہادت کو غلط اورانہیں کم علم اور اپنے آپ کو ذی علم ثابت کرناچاہتاہے۔ کیونکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ نواب صدیق حسن صاحب کو میں مسلمان سمجھتاہوں اور ان کی کتاب حجج الکرامہ میں ظاہراست سے عبارت ہے۔ پس گواہ مدعیہ تو انہیں مسلمان تسلیم کرکے یہ نہیں کہتا کہ ان کا قول ہمیں مسلم نہیں ہے۔ لیکن مختارمدعیہ کہتاہے کہ چونکہ وہ حنفیوں کو مشرک سمجھتے ہیں اس لئے ان کا قول غیر مسلم ہے اورمختارمدعیہ یہ کہہ کر صرف گواہ مدعیہ نمبر۱ کی شہادت ہی کو بے وقعت نہیں بنارہاہے۔ بلکہ اپنے سب سے بڑے پیشواء ومقتداء اوراپنے خاتم المحدثین مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی پر بھی اپنی فوقیت جتلارہاہے۔ کیونکہ مولوی رشیداحمدصاحب، نواب صدیق حسن صاحب کو مرحوم اوررئیس عاملین بالحدیث قراردیتے ہیں اور دیگرمفسرین عظام کے ساتھ ان کا

166

ذکرکرتے ہوئے ان کے قول سے سند پکڑتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’اورمولوی صدیق حسن خان مرحوم رئیس عاملین بالحدیث اپنی تفسیر میں اور قاضی شوکانی اور ابن کثیر اور بیضاوی اور مدارک وغیرہا تفاسیر میں یہ معنی اولی الامر کے قبول کرتے ہیں۔(سبیل الرشاد ص۳۶)

اور (فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل حاشیہ ص۱۰۳) میں لکھاہے: ’’نواب صدیق حسن خان صاحب رئیس بھوپال اپنے رسالہ تعلیم الصلوٰۃ میں ارقام فرماتے ہیں۔ خطبہ منجملہ شعائر دین کے ہے۔ یہ خطبہ عربی زبان میں ہونہ عجمی اورنثر ہو نہ نظم۔ سلف سے یہی طریق چلاآرہاہے۔‘‘ اور(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۱۰۵) میں ہے۔ مولانانواب سید صدیق حسن صاحب قنوجی روضۃ الندیہ شرح درالبہیہ میں فرماتے ہیں اور(فتاویٰ حصہ سوم ص۵۵)میں ہے: ’’چنانچہ مولاناسید صدیق حسن خان صاحب نے تکریم المومنین میں لکھاہے کہ اس حدیث کی صحت میں تکلم ہے۔ لیکن معنی اس کے صحیح ہیں۔‘‘

مختارمدعیہ نے گواہان مدعیہ کی شہادت کو قابل استناد بنانے کے رد کرنے کے قابل بنادیاہے۔کیونکہ دربار معلی نے اپنے اس فیصلہ میں یہ تحریرکیاہے کہ علمائے اسلام کی رائے حاصل کرنی چاہئے۔ لیکن عاملین بالحدیث جولاکھوں کی تعداد میں ہوں گے، ان کے رئیس نے گواہان مدعیہ کو جوحنفی مذہب ہونے کے مدعی ہیں، مشرک قراردیاہے۔ پس جو لوگ مشرک ہوں وہ علمائے اسلام کیونکر ہوسکتے ہیں۔ علماء اسلام سے وہی علماء مراد لئے جاسکتے ہیں جن کو تمام مسلمانوں کے فرقے علماء اسلام سمجھتے ہوں۔ مگر جو مدعیہ کی طرف سے گواہ پیش کئے گئے ہیں۔ ان سب کی بابت رئیس عاملین بالحدیث کا یہ فتویٰ ہے کہ وہ مشرک ہیں۔ لہٰذا ان کی شہادت رد کردینے کے لائق ہے۔ مختارمدعیہ نے نواب صدیق حسن خان صاحب کے اس قول کو ’’مسیح موعود پر وحی لانے والایقینا جبرئیل ہے‘‘ انہیں غیر مقلد بتاکرٹال دیناچاہاتھا۔ لیکن ہم نے دکھادیاہے کہ وہ پہلے غیرمقلدہیں جن کے اقوال مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی کے فتوے میں بطورسند پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن اسی پر بس نہ کریں ہم حضرت امام ملّا علی قاری مسلم حنفی علامہ کاقول بھی پیش کئے دیتے ہیں۔

فرماتے ہیں: ’’ثم الظاہران الجائی الیہ بالوحی ھو جبرئیل ھوالذی نقطع بہ ولانتردد فیہ لان ذالک وظیفتہ وھو السفیربین اللہ وبین انبیائہٖ واما مااشترعلی السنۃ العامۃ ان جبرئیل لاینزل الی الارض بعد موت النبیa فلااصل لہ‘‘ (کتاب الاشاعہ لاشراط الساعۃ علامہ السید الشریف محمدبن رسول الحسینی البرزنجی ثم المدنی ص۳۲۷)

یعنی ظاہریہی ہے کہ مسیح کے نزول کے بعد ان کی طرف وحی لانے والاجبرئیل ہے۔ بلکہ اس پر ہم یقین رکھتے ہیں اورہم اس میں کسی قسم کا تردد نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ اس کا وظیفہ ہے اور وہ اللہاورانبیاء کے درمیان سفیرہے اورعامۃ الناس کی زبان پر جو یہ مشہورہے کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعدجبرئیل زمین پر نازل نہیں ہوتے تو اس کی کوئی اصل نہیںہے۔ ملّا علی قاری کے بتائے ہوئے انہیں حوالہ سے مختارمدعیہ اورگواہ مدعیہ نمبر۴ بھی ہے جس نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح کہا: ’’جبرئیلm وحی لے کر رسول اللہکے بعد کسی شخص پرنازل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے وقت بھی ان پرجبرئیل نہیں آئیں گے۔‘‘

امام ملّا علی قاری نے بعینہٖ وہی الفاظ کہے ہیں جومؤلف حجج الکرامہ نے کہے ہیں۔ صرف زبان کافرق ہے وہ عربی میں ہیں اور یہ فارسی میں۔

لیکن ہمیں کامل یقین ہے کہ اب مختارمدعیہ اپنی تقلید کا یوں ثبوت دے گا کہ وہی بات جو ایک غیر مقلد کی طرف سے ہونے کی وجہ سے غیر مسلم تھی۔ اب ایک مسلم حنفی امام کے کہنے کی وجہ سے قابل تسلیم ہوجائے گی۔ ورنہ اس عقیدہ کی وجہ سے ان سب کوکافر ماننا پڑے گا۔

پس سلف صالحین کے اقوال سے صاف طور پرثابت ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی جاری ہے اور صرف وحی تشریعی بندہوئی ہے۔

167

(۶) حضرت مسیح موعود کے نزدیک صرف تشریعی وحی بندہے

گواہان مدعیہ نے اپنے بیان میں ازالہ اوہام اورحمامۃ البشریٰ کے بعض حوالہ جات پیش کئے ہیں جن میں لکھاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی الٰہی کا سلسلہ منقطع ہے۔ لیکن ہرایک شخص جو ان تحریروں کاغور سے مطالعہ کرے گا وہ جان لے گا کہ اس وحی سے حضرت مسیح موعود کی مراد شریعت والی وحی یانبی مستقل کی وحی ہے جوبغیرآنحضرتﷺ کی اتباع کے ہو۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام ہی میں فرماتے ہیں: ’’اے غافلو! اس امت مرحومہ میں وحی کی تالیاں قیامت تک جاری رہیں مگر حسب مراتب۔‘‘(ازالہ اوہام ص۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۱)

اور اس سے بھی پہلی کتاب (توضیح مرام ص۱۸، ۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰) پرفرماتے ہیں: ’’اوراگریہ عذرپیش ہو کہ باب نبوت مسدودہے اوروحی جوانبیاء پرنازل ہوتی ہے۔اس پر مہرلگ چکی ہے تو میں کہتاہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسددوہواہے اورنہ ہرایک طور سے وحی پر مہرلگائی گئی ہے بلکہ جزئی طورپروحی اور نبوت کااس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلاہے۔‘‘

اوراسی ص پر آپ فرماتے ہیں: ’’میں محدث ہوں اور خداتعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوتاہے۔‘‘

اورمحدث کی وحی کے متعلق فرماتے ہیں: ’’رسول اورنبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی بھی دخل شیطانی سے منزہ کیاجاتاہے۔‘‘(توضیح المرام ص۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰)

اسی طرح (کشتی نوح ص۲۲، خزائن ج۱۹ ص۲۴ حاشیہ) پرفرماتے ہیں: ’’قرآن شریف پرشریعت ختم ہوگئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ سچے دین کی جان ہے۔ جس دین میں وحی الٰہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدااس کے ساتھ نہیں۔‘‘

اسی طرح اسی ص میں فرماتے ہیں: ’’یہ خیال مت کرو کہ خداکی وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اورروح القدس اب اترنہیں سکتا۔ بلکہ پہلے زمانوں میں ہی اترچکا اور میں تمہیں سچ سچ کہتاہوں کہ ہرایک دروازہ بندہوجاتاہے۔ مگرروح القدس کے اترنے کا دروازہ کبھی بندنہیں ہوتا۔ تم اپنے دلوں کے دروازے کھول دو تاوہ ان میں داخل ہو۔ تم اس آفتاب سے خود اپنے تئیں دور ڈالتے ہو۔ جب کہ اس شعاع کے داخل ہونے کی کھڑکی کو بند کرتے ہو۔ اے نادان! اٹھ اور اس کھڑکی کوکھول دے۔ تب آفتاب خود بخود تیرے اندر داخل ہوجائے گا۔‘‘ (کشتی نوح ص۲۲، خزائن ج۱۹ ص۲۴،۲۵)

اسی طرح (استفتاء ص۱۶، خزائن ج۲۲ ص۶۳۷) میں فرمایاہے کہ: ’’ان اللہ سمانی نبیاً بوحیہ‘‘ کہ اللہتعالیٰ نے میرانام اپنی وحی میں نبی رکھاہے اوراس نام رکھنے کی وجہ بتائی ہے کہ خداتعالیٰ نے میری طرف کثرت سے وحی کی اور کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار کیا۔‘‘ اوراسی طرح حمامۃ البشری میں بھی اپنی وحی کو پیش کیاہے اور آپ نے الہام کا لفظ حسب اصطلاح متقدمین بمعنی وحی استعمال کیاہے۔ جیسا کہ الہام کی تعریف بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ’’الہام ایک القائے غیبی ہے جس کو نفث فی الروع اوروحی بھی کہتے ہیں۔‘‘(پرانی تحریریںص۱۵، خزائن ج۲ ص۲۰)

اسی طرح (براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیہ ص۲۲۰، خزائن ج۱ ص۲۴۳،۲۴۴) میں لکھتے ہیں: ’’لفظ الہام جواکثر جگہ عام طورپر وحی کے معنوں پر اطلاق پاتاہے وہ باعتبار لغوی معنوں کے اطلاق نہیں پاتا۔ بلکہ اطلاق اس کا باعتبار عرف علماء کرام ہے۔ کیونکہ قدیم سے علماء کی ایسی ہی عادت جاری ہوگئی ہے کہ وہ ہمیشہ وحی کی خواہ وحی رسالت ہو یاکسی دوسرے پروحی اعلام ہونازل ہو، الہام سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘

پس حضرت مسیح موعود صرف شریعت جدیدہ والی وحی کا انقطاع مانتے ہیں یا اس وحی کا جو کسی مستقل نبی کی طرف ہو، جس کی نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع کا نتیجہ نہ ہو۔ چاہے وہ ایک دوفقرے ہی کیوں نہ ہو، اس وجہ سے جہاں آپ نے آنحضرتﷺ کے بعد وحی کے انقطاع کاذکرکیاہے۔ وہاں حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ نزول ماننے والوں کا ردکیاہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ مستقل نبی تھے۔ ان کی

168

نبوت رسول اللہﷺ کی اتباع کے نتیجے میں نہیں تھی۔ ورنہ مطلق وحی کے بقاء کا دعویٰ اوریہ کہ آپ کو وحی ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں لکھاہے۔

(۷) کیاحضرت مسیح موعود کے نزدیک آپ کی وحی قرآنی وحی کے برابرہے

عجب بات ہے کہ فریق مخالف ایک طرف توحضرت مسیح موعود کی عبارتوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے کہ آپ کے نزدیک بھی آنحضرتﷺ کے بعد وحی منقطع ہوچکی ہے اور دوسری طرف آپ کی کتب سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے کہ نعوذباللہ! آپ نے اپنی وحی کوقرآن مجید کے بالمقابل اوراس کے ہم مرتبہ بتایاہے۔

اس نے اپنے دعویٰ کی تائید میں مندرجہ ذیل حوالے پیش کئے ہیں:

۱… ’’میں خداتعالیٰ کی ۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتاہوں۔ میں اس کی پاک وحی پرایساہی ایمان لاتاہوں جو مجھے سے پہلے ہوچکیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۴)

۲… ’’میں خدا کی قسم کھاکے کہتاہوں کہ میں ان الہامات پر اس طرح ایمان لاتاہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اورخداکی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خداکاکلام جانتاہوں۔ اس طرح اس کلام کوبھی جومیرے پرنازل ہوتاہے۔ خداکاکلام یقین کرتاہوں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

۳… ’’میں جیسا کہ قرآن مجید کی آیات پر یقین رکھتاہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے اس کھلی کھلی وحی پرایمان لاتاہوں جو مجھے ہوئی اورجس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پرکھل گئی ہے اورمیں بیت اللہ میں کھڑے ہوکرقسم کھاسکتاہوں کہ وہ پاک وحی جومیرے پرنازل ہوئی ہے۔ وہ اس خداکاکلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ حضرت عیسیٰؑ اورحضرت محمدمصطفیﷺ پر اپنا کلام نازل کیاہے۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)

اب ان تینوں حوالوں کی عبارتوں پرغور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ان عبارتوں میں آپ نے اپنی وحی پر ایمان لانے کا اظہار کیاہے جس طرح وحی قرآن اور دوسری وحیوں پر۔

پس ان عبارتوں سے صرف اتنا ثابت ہوتاہے کہ آپ کو اپنی وحی کے منجانب اللہ اوراس کے دخل شیطان سے پاک ومنزہ ہونے پر یقین کامل ہے۔ مولاناروم فرماتے ہیں ؎

  1. وحی دلگیرش کہ منظر گاہ اوست

    چوں خطا باشد کہ دل آگاہ اوست

(مثنوی دفتر۴ ص۱۵۱)

اورفریق مخالف کا یہ کہنا کہ آپ نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے مقابل پرپیش کیاہے اور اس کو قرآن شریف کی مثل قراردے کر اپنے آپ کو صاحب شریعت ہونے کا دعویدار بنایاہے، سراسرغلط ہے۔ کیونکہ آپ نے کہیں نہیں لکھا کہ میری وحی شرعی اورقرآن کے مثل اوراس کے ہم مرتبہ ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ کی لعنت ان پر جویہ دعویٰ کرے کہ وہ قرآن کی مثل لاسکتے ہیں۔ قرآن کریم سراپا معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس وجن نہیں لاسکتا اوراس میں وہ معارف اورخوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم ہرگزجمع نہیں کرسکتا۔ بلکہ وہ ایسی پاک وحی ہے کہ اس کی مثل اورکوئی وحی نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ رحمان کی طرف سے اس کے بعد اوربھی کوئی وحی ہو اور خداتعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم النّبیین پرہوئی۔ ایسی نہ کسی پرپہلے ہوئی اورنہ کبھی آئندہ ہوگی اورجوشان قرآن مجید کی وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں۔ اگرچہ قرآن کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیاجائے۔ اس لئے کہ قرآن مجید کے معارف وحقائق کا دائرہ سب دائروں سے بڑاہے۔‘‘(الہدی ص۳۲،۳۳، خزائن ج۱۸ ص۲۷۶)

169

اور اسی طرح آپ کی وحیوں کے فرق مراتب کاذکرکرتے ہوئے (نزول مسیح ص۱۴۴، خزائن ج۱۸ ص۴۹۲)میں فرماتے ہیں: ’’کلام الٰہی سے مراد وہی کلام الٰہی ہے جوزمانے کے لئے تازہ طور پراترتاہے اوراپنی طبعی خاصیت سے ملہم اوراس کے ہم نشینوں پرثابت کرتاہے کہ میں یقینی طورپرخداکاکلام ہوں اور ایساملہم طبعاً اس میں اورخداکے دوسرے کلمات میں جو پہلے نبیوں پر نازل ہوئے، من حیث الوحی کچھ فرق نہیں سمجھتا۔ گودوسرے وجوہ سے کچھ فرق ہو۔‘‘ اس سے بھی بڑھ کر آپ نے اپنی وحی کو قرآنی وحی میں جابجا قرآنی وحی کی فضیلت کاذکرہے۔ جیسے کہ:’’الخیرکلہ فی القرآن‘‘ (حقیقت الوحی ص۸۲، خزائن ج۲۲ ص۸۵)

’’الرحمن علم القرآن‘‘(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)

اور ’’کل برکۃ من محمدa فتبارک من علم ومن تعلم‘‘ یعنی تمام برکات روحانیہ حضورنبی کریمa کے طفیل ہیں۔(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)

اور (توضیح مرام ص۲۵، خزائن ج۳ ص ۶۳،۶۴) میں فرماتے ہیں: ’’تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہرایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر ایک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القویٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اوراس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے۔ کیونکہ یہ وحی الٰہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اوراس کو ’’راٰی ماراٰی‘‘ کے نام سے بھی پکاراجاتاہے۔ کیونکہ اس کیفیت کااندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اوروہم وگمان سے باہرہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے۔ جس پر تمام سلسلہ انسانین کاختم ہوگیاہے اور دائرہ استعدادات بشریہ کاکمال کوپہنچتاہے اور وہ درحقیقت پیدائش الٰہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہاء ہے۔

جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمدہےa جس کے معنی یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیاگیاہے۔ یعنی کمالات تامہ کا مظہرہو۔ جیسا کہ فطرت کی روسے اس نبی کا اعلیٰ اورارفع مقام تھا۔ ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ وارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطاء ہوا اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا ملا۔ یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اورمسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کانام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔‘‘

۱… ’’اس میں حضرت مسیح موعود نے کھول کربتادیاہے کہ آنحضرتﷺ کی وحی کا مرتبہ نہایت ہی اعلیٰ وارفع مرتبہ ہے جوکسی نبی کو نصیب نہیں ہوا اورنہ ہوسکتا ہے۔

۲… اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ آپ کی وحی آنحضرتﷺ اورقرآن مجید کی اتباع اورپیروی کانتیجہ ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اورمحض محبت رسول اللہﷺ کی وجہ سے وہ اعلیٰ مرتبہ مکالمہ الٰہیہ کا اوراجابت دعائوں کامجھے حاصل ہواہے کہ بجر سچے نبی کے پیروکے اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکے گا۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۲۷۶، خزائن ج۵ ص۲۷۶)

اورفرماتے ہیں: ’’دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندررکھتاہے کہ وہ بشرط سچی اورکامل اتباع کے ہمارے سید ومولیٰ آنحضرتﷺ کے مکالمات الٰہیہ سے مشرف کرتاہے۔‘‘(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۴)

اورفرماتے ہیں: ’’میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اوراپنے لئے اس کانام پاکراس کے واسطہ سے خداکی طرف سے علم غیب پایاہے۔‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۲۶۴ بحوالہ ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ص۲۱۰،۲۱۱)

اورفرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کا یہ وعدہ ہے کہ:’’لہم البشریٰ فی الحیوٰۃ الدنیا‘‘ اوریہ وعدہ ہے کہ: ’’ایدہم بروح منہ‘‘ اور یہ وعدہ ہے:’’ویجعل لکم فرقانا‘‘ اس وعدہ کے مطابق خدانے یہ سب مجھے عنایت کیاہے اورترجمہ ان آیات کایہ ہے کہ جولوگ قرآن شریف پرایمان لائیں گے۔ ان کو مبشرخوابیں اورالہام دئیے جائیں گے یعنی بکثرت دئیے جائیں گے یہ… اور یہ

170

فرمایا کہ کامل پیروی کرنے والے کی روح القدس سے تائید کی جائے گی۔‘‘(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۴۰،۴۱، خزائن ج۲۳ ص۴۱۰)

اورفرماتے ہیں: ’’ہماری طرف سے دعویٰ ہے جس کو ہم بمقابل ہرفریق کے ثابت کرنے کوتیار ہیں اوروحی قرآنی اپنی تعلیم اوراپنے معارف وبرکات اورعلوم میں ہرایک وحی سے اقویٰ واعلیٰ ہے۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص۲۴۹، خزائن ج۲ ص۲۹۸)

اورفرماتے ہیں: ’’ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وحی کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اورجوشخص امتی نہ ہو اس پر وحی الٰہی کا دروازہ بندہو۔ سوخدانے ان معنوں سے آپ کوخاتم الانبیاء ٹھہرایا۔لہٰذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جوشخص سچی پیروی سے اپنا امتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپناتمام وجود محونہ کرے۔ ایساانسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پاسکتاہے اورنہ کامل ملہم ہوسکتاہے۔ کیونکہ مستقل نبوت آنحضرتﷺ پرختم ہوگئی۔ مگرظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی۔ انسان کی تکمیل کادروازہ بند نہ ہو۔ تاکہ یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرتﷺ کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہاہے کہ مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کے دروازے کھلے ہیں اور معرفت الٰہیہ جومدار نجات ہے۔ مفقود نہ ہوجائے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)

اورفرماتے ہیں: ’’اورخداکے مکالمات اورمخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس بے شک نبی کے ذریعہ ہمیں میسرآیاہے کہ آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پرپڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم سنوار سکتے ہیں۔ جب تک ہم اس کے مقابل پرکھڑے ہیں۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۱۶، خزائن ج۲۲ ص۱۱۹)

اور فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے ’’ھدی للمتقین‘‘ میں یہ وعدہ فرمایاہے کہ اگر اس کی کتاب اوررسول پرکوئی ایمان لائے گا تو وہ مزید ہدایت کا مستحق ہوگا اور خدااس کی آنکھ ہوجائے گا اور اپنے مکالمات ومخاطبات سے مشرف کرے گا اور بڑے بڑے نشان اس کو دکھائے گا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۳۸، خزائن ج۲۲ ص۱۴۱)

’’وہ رسول محمدعربی جس کوگالیاں دی گئیں۔ وہ سچا اور سچوں کا سردارہے۔ اس کے قبول پرحد سے زیادہ انکار کیاگیا۔ مگرآخراسی رسول کو تاج عزت پہنایاگیا۔ اس کے غلاموں اورخادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدامکالمہ مخاطبہ کرتاہے اورجس پر خداکے غیبوں اورنشانوں کا دروازہ کھولاگیاہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۷۴، خزائن ج۲۲ ص۲۸۶)

اورفرماتے ہیں: ’’اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذباللہ! آنحضرتﷺ کے مقابل پرکھڑاہوکرنبوت کا دعویٰ کرتاہوں یا کوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمات ومخاطبات الٰہیہ سے جوآنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

ان تمام حوالوں سے جن میںسے اکثر انہی کتابوں سے ہیں جن کی عبارتوں پر اعتراض کیاگیاہے۔ ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود قرآنی وحی کو سب سے افضل وبرتر اوراپنی وحی کوقرآن مجید اورآنحضرتﷺ کی غلامی اورکامل متابعت اورپیروی کا نتیجہ بیان فرماتے ہیں۔

علاوہ ازیں آپ قرآن مجید پرعمل کرنے کی جماعت کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’جولوگ قرآن شریف کوعزت دیں گے وہ آسمان پرعزت پائیں گے۔ جولوگ ہرایک حدیث اور ہرایک قول پرقرآن کومقدم رکھیں گے ان کو آسمان پرمقدم رکھاجاوے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پراب کوئی کتاب نہیں، مگرقرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول شفیع نہیں مگرمحمدمصطفیﷺ۔

نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جویقین رکھتاہے کہ خداسچ ہے اورمحمدمصطفیﷺ اس میں اورتمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اورنہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اورکتاب ہے۔‘‘(کشتی نوح ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳)

171

اورفرماتے ہیں: ’’تمہاری فلاح اور نجات کاسرچشمہ قرآن میں ہے۔ کوئی دینی ضروررت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔ تمہارے ایمان کا مصدق یامکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اورکوئی کتاب نہیں جوبلاواسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔‘‘ (کشتی نوح ص۲۴، خزائن ج۱۹ ص۲۷)

اورفرماتے ہیں: ’’قرآن مجید کے بعد اورکوئی کتاب نہیں جونئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کاحکم منسوخ کرے یااس کی پیروی معطل کرے۔ بلکہ اس کاعمل قیامت تک ہے۔‘‘(الوصیت حاشیہ ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۱۱)

اورفرماتے ہیں: ’’اورہم لوگ جوقرآن مجید کے پیرو ہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خداتعالیٰ سے قرآن شریف ہے۔ اس لئے ہم خداتعالیٰ سے اکثر عربی میں الہام پاتے ہیں تاکہ وہ اس بات کانشان ہو کہ جوکچھ ہمیں ملتاہے وہ آنحضرتﷺ کے ذریعہ سے ملتاہے اور ہم ہر ایک امر میں اسی ذریعہ سے فیض یاب ہیں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۱۰، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸،۲۱۹) میں ملاحظہ ہو (ص۴۰،۴۱، تجلیات الٰہیہ ص۴،۵، خزائن ج۲۰ ص۳۹۷،۳۹۸، مواہب الرحمن ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۲۸۸) وغیرہ۔

جس برگزیدہ خدا کے یہ ارشادات ہوں کیا اس کے متعلق یہ شبہ کئے جانے کی گنجائش ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن وحی کے برابرقراردیتاہے۔ اس کا فیصلہ عموماً ہرمنصف مزاج اورخصوصاً عدالت کے انصاف پرچھوڑ کر کہتاہوں کہ ان ارشادات پرہی بس نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کریہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی وحی کی صداقت معلوم کرنے کے لئے قرآن کریم کو محک معیار قراردیاہے۔ چنانچہ (آئینہ کمالات اسلام ص۲۱، خزائن ج۵ ص۲۱) میں فرمایاہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’قرآن شریف آنحضرتﷺ کے بعد قیامت تک تحریف وتبدیل اورکسی خطاء کار کی غلطی پیداکردینے سے محفوظ ہے نہ وہ منسوخ ہوگا اورنہ اس میں کوئی کمی بیشی ہوگی اورنہ کسی ملہم صادق کاکوئی الہام اس کے خلاف ہوسکتاہے اور جوکچھ مجھے خداتعالیٰ کی طرف تفہیم ہوتی ہے یاالہامات نازل ہوئے ہیں۔ ان سب کو میں نے اسی شرط سے قبول کیاہے کہ وہ سب صحیح اوردرست ہیں اور نشانات صداقت بھی ساتھ رکھتے ہیں اورمجھ پر کشفاً یہ ظاہر کیاگیاہے کہ تمام الہامات صحیح اورخالص اورقرآن کریم کے مطابق ہیں۔ ان میں کوئی شک وشبہ نہیں اور بفرض محال اگر کوئی الہام خلا ف قرآن ہوتا توہم اسے ردی نشان کی طرح پھینک دیتے۔‘‘

اورفرماتے ہیں: ’’وان القرآن مقدم علٰی کل شیٔ ووحی الحکم مقدم علی احادیث ظنیۃ بشرط ان تطابق القرآن وحیہ مطابقۃ تامہ وبشرط ان تکون الاحادیث غیر مطابقۃ القرآن‘‘ (مواہب الرحمن ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۲۸۸)

یعنی قرآن ہرشیٔ پرمقدم ہے اورحکم کی وحی ظنی احادیث پرمقدم ہے۔ بشرطیکہ اس کی وحی قرآن سے مطابقت تامہ رکھتی ہو اور احادیث قرآن کے مطابق نہ ہوں۔

اورفرماتے ہیں: ’’اورپھرمیں نے اس پرکفایت نہ کرکے اس وحی کوقرآن شریف پرعرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)

غرض سیدنا حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں صدہاجگہ اس امرکااظہار فرمایاہے کہ میری وحی قرآن مجید اورآنحضرتﷺ کی اتباع اورپیروی کانتیجہ ہے اور قرآن مجید کی وحی سب وحیوں سے مرتبہ میں اعلیٰ وارفع ہے اور وہ میری وحی کے لئے محک اورمعیار اورکسوٹی کے طور پر ہے۔ بایں ہمہ کثرت، ارشادات وتصریحات مختاران مدعیہ اورگواہان مدعیہ کاان سب کے خلاف حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق یہ کہنا کہ آپ نے اپنی وحی کودرجہ اورمرتبہ کے لحاظ سے قرآنی وحی کے برابرٹھہرایاہے۔ کہنے والوں کو جس مقام پرکھڑاکرتاہے، دیکھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں۔

172

دوسری وجہ تکفیر کا رد

(۱) جماعت احمدیہ آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین کرتی ہے

دوسری وجہ تکفیر فریق مخالف نے یہ بیان کی ہے کہ حضرت مرزا صاحب اور آپ کے معتقدین آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کے منکرہیں۔ آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین تسلیم کرناضروریات دین میں سے ہے اورجوضروریات دین میں سے کسی امر کاانکار کردے وہ کافرہے۔ لہٰذاحضرت مرزاصاحب اورآپ کے تمام معتقدین کافرہوئے۔

اماالجواب: یہ امر کہ حضرت مسیح موعود اورآپ کے متبعین آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کے منکرہیں صریح بہتان ہے۔ حضرت مسیح موعود کی کتب میں آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا بڑی کثرت سے اقرارموجودہے:

۱… چنانچہ آپ فرماتے ہیں (انجام آتھم حاشیہ ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷) میں: ’’اوراصل حقیقت جس کی میں علیٰ رئوس الاشہاد گواہی دیتاہوں۔ یہی ہے جوہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں۔‘‘

۲… اورفرماتے ہیں (اخبار الحکم ۱۷؍مارچ ۱۹۰۵ء) میں: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اورمیری جماعت پرجویہ الزام لگایاجاتاہے کہ ہم رسول اللہﷺ کوخاتم النّبیین نہیں مانتے یہ ہم پر افتراء عظیم ہے۔ ہم جس وقت یقین ومعرفت اوربصیرت کے ساتھ آنحضرتﷺ کوخاتم الانبیاء مانتے اوریقین کرتے ہیں۔ اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ لوگ نہیں مانتے۔‘‘

ان کے علاوہ (ازالہ اوہام ص۱۳۷، خزائن ج۳ ص۷۰، آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص۳۸۷، ایام الصلح ص۸۱، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳، کرامات الصادقین ص۲۵، خزائن ج۷ ص۳۱، ایک غلطی کا ازالہ، مواہب الرحمن ص۶۶،۶۷، خزائن ج۱۹ ص۲۸۵، حقیقت الوحی ص۲۷، خزائن ج۲۲ ص۲۹، استفتاء ص۶۴، خزائن ج۲۲ ص۶۸۹) سے نہایت صفائی کے ساتھ حضرت اقدس کاآنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین مانناظاہرہے اور ان حوالوں کی عبارات دیکھنے کے لئے ملاحظہ ہو۔بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱(موسومہ بہ مقدمہ بہاولپورص۳۰تا۳۲)

پھرواضح رہے کہ کوئی شخص جماعت احمدیہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتاجب تک کہ بیعت کے وقت وہ آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا صدق دل سے اقرارنہ کرے۔ جیسا کہ بیعت فارم کے فقرہ ’’آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین یقین کروں گا‘‘ سے ثابت ہے۔ پس یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت آنحضرتﷺ کاخاتم النّبیین نہیں مانتی… قطعاً لغو وباطل ہے۔

بحث خاتم النّبیین

(۲) جمیع مسلمان آنحضرتﷺ کے بعد ایک نبی کاآنامانتے ہیں

مختارمدعیہ اورگواہان نے آنحضرتﷺ کے بعد باب نبوت کو مسدود ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی آیت خاتم النّبیین پیش کی ہے اور کہاہے کہ یہ لفظ خاتم ہمیشہ عربی زبان میں صرف آخر کے معنوں میں استعمال ہوتاہے اورگواہ مدعیہ نمبر۱نے۲۰؍اگست کو بجواب جرح اس بات کی تصریح کی ہے کہ جوشخص ختم کے معنی آخر کے سواکچھ اور کرتاہے تو وہ کافرہے۔ مگردوران جرح میں ہی جب ان سے دریافت کیاگیا کہ زبان عرب کے کوئی محاورہ پیش کرو جس میں خاتم کالفظ جمع کی طرف مضاف ہو اور پھراس کے معنی آخری فرد کے لئے گئے ہوں تووہ کوئی

173

ایک مثال بھی پیش نہیں کرسکے۔ ہاں! انہوں نے صرف ایک حوالہ ’’منتہی الارب‘‘ اور ’’لسان العرب‘‘ کا پیش کیاہے جس میںلکھاہے کہ: ’’خاتم القوم آخرہم‘‘ سو اس کا مفصل جواب میں آگے چل کر لفظ آخر کی بحث میں دوں گا۔ فی الحال یہ بتاناچاہتاہوں کہ اگرخاتم النّبیین کے معنی یہی ہیں۔ جیسا کہ مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ نے کئے ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کابھی نبی نہیں ہوسکتاتویہ معنی تمام مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں۔ کیونکہ وہ آنحضرتﷺ کے بعد حضرت عیسیٰؑ کاآنا بحیثیت نبی کے مانتے ہیں۔ جیسا کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے۔’’حضرت عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تو وہ رسول ہوں گے اور تقریباً جمیع قائلین نزول مسیحؑ کا یہی اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تووہ نبی ہوں گے۔ چنانچہ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ حجج الکرامہ سے اس کے متعلق ائمہ کے اقوال نقل کرائے گئے ہیں۔ اب میں امام ملّا علی قاری کا قول جو حنفی علماء میں ایک نہایت ہی جلیل القدرعالم ہیں، پیش کرتاہوں۔

’’فمن قال بسلب نبوتہ کفر حقا کماصرح بہ الامام السیوطی فان النبی لایذھب عنہ وصف النبوۃ ولابعد موتہ واما حدیث لاوحی بعدی باطل لااصل لہ نعم ورد لانبی بعدی ومعناہ عندالعلماء انہ لایتحدث بعدہ نبی بشرع ینسخ شرعہ‘‘ (کتاب الاشاعت لاشراط الساعۃ ص۲۲۶)

یعنی جس شخص نے کہا کہ مسیحؑ مسلوب النبوۃ ہوکرآئیں گے تو وہ یقینا کافر ہوگیا۔ جیسا کہ امام سیوطی نے اس امر کی تصریح کی ہے۔ کیونکہ نبی سے اس کی موت کے بعد بھی وصف نبوت زائل نہیں ہوجاتا اور یہ حدیث کہ میرے بعد وحی نہیں ہے، باطل اوربے اصل ہے۔ ہاں! ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے اور اس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آپ کے بعدکوئی ایسانبی پیدانہ ہوگاجوایسی شریعت لائے جس سے آنحضرتﷺ کی شریعت منسوخ ہو اور (ص۲۲۷)میں مسیح پر بعد نزول وحی بذریعہ جبرئیل مان کر یہ امر واضح کردیاہے کہ وہ نبی ہوں گے۔ پس اگر ’’خاتم النّبیین‘‘ میں ’’النّبیین‘‘ سے مراد ہرقسم کے نبی ہیں تو حضرت عیسیٰؑ بھی دوبارہ نہیں آسکتے۔ اگر کہو کہ نئے نبی کاآنا معنی ہے، پرانے کا نہیں، توہم بڑے ادب سے عرض کریں گے کہ اگر ’’النّبیین‘‘ سے پرانے نبیوں کا استثناء ہوسکتاہے تو اس طرح ایک امتی غیرتشریعی نبی کا استثناء بھی ہوسکتاہے۔

خاتم النّبیین سے کیا مرادہے

(۳) آنحضرتﷺ لفظ خاتم سے کیا سمجھے

گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں حدیث:’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقانبیا‘‘ کی بناء پر یہ ثابت کیاہے کہ آنحضرتﷺ بھی آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ سے ہرقسم کی نبوت کاخاتمہ نہیں سمجھے، ورنہ آپ آیت: ’’خاتم النّبیین‘‘ کے نزول پرپانچ سال گزرجانے کے بعد اپنے صاحبزادے ابراہیم کے حق میں قطعاً یہ نہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو نبی ہوتے۔ مختارمدعیہ نے اس حدیث پر دوقسم کی جرح کی ہے۔

۱… ’’لو‘‘جس چیز پرداخل ہوتاہے اس کا وقوع میں آنا محال ہوتاہے۔ جیسے آیت:’’لوکان فیھما اٰلھۃ الااللہ‘‘ میں کہ متعدد خدائوں کاہونامحال ہے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے۸؍ مارچ کو بجواب جرح کیاہے کہ ’’لو‘‘جس جگہ داخل ہوتاہے وقوع نہیں ہوتا۔

۲… اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان بن شیبہ کے متعلق لکھاہے کہ وہ ضعیف ہے اور ثقہ نہیں ہے اور متروک الحدیث ہے۔

۳… یہ حدیث باعتبار معنی مثبت مدعانہیں۔ کیونکہ (بخاری شریف ج۲ ص۹۱۴) میں ابن ابی اوفیٰ سے نقل ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر

174

ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ مگراللہتعالیٰ کے علم میں یہ تھا کہ حضور کے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ ’’فلذالک مات‘‘ پس اس لئے مرگیا۔ پہلے شبہ کاجواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ کیونکہ ایک وقت میں شرط ’’لو‘‘کاوقوع بوجہ گزشتہ زمانہ میں وقوع نہ ہونے کے محال ہوتاہے۔ لیکن آئندہ زمانہ کو مدنظررکھتے ہوئے شرط اورجزا دونوں کاوقوع جائز وممکن ہوتاہے۔جیسے کہ اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’لو انھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم (حجرات)‘‘ کہ اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ توخود ان کے پاس باہرآتاتویہ ان کے لئے مناسب اور بہتر اورباعث خیروبرکت تھا۔

اسی طرح اس حدیث میں یہ مذکور ہے:’’لوعاش لاعقت اخوالہ من القبط‘‘ کہ اگر ابراہیم زندہ رہتاتو اس کے قبطی ماموں آزاد کئے جاتے۔ دوسری حدیث میں ہے: ’’لوعاش ابراہیم مارق بہ خال (ابن ماجہ)‘‘ اگر ابراہیم زندہ رہتاتو اس کاکوئی ماموں غلام نہ ہوتاتواب ظاہر ہے کہ بوجود شرط جواب شرط کاوجود بالکل جائز اورممکن تھا۔ ورنہ اس فقرے کے کوئی معنی نہیں تھے۔ پھر جب کسی شخص کی مدح کرنی مراد ہو اور اس کی فضیلت کا اظہار مقصود ہو تو محال اور ناممکن الوقوع امر سے فضیلت کا اظہار کرنا بالکل عبث اور بے معنی ہے اور کسی کی فضیلت تبھی ظاہر ہوسکتی ہے جب کہ جواب الشرط ممکن الوقوع ہو۔ مثلاً جب ہم یہ کہیں کہ ’’لوعاش زید لکان نابغۃ‘‘ کہ اگر زید زندہ رہتاتو بہت بڑاعالم ہوتا۔ یہ قول زید کے لئے اس وقت تعریفی بن سکتاہے۔ جب کہ پہلے نوابغ (یعنی اعلیٰ درجہ کے علماء) کاوقوع ممکن تسلیم کیاجائے، ورنہ یہ قول باطل اور بے معنی ہوگا۔ اس طرح آنحضرت کا فرماناکہ اگر ابرہیم زندہ رہتا توصدیق نبی ہوتا… اسی حالت میں درست ہوسکتاہے کہ آپ کے بعد نبوت کے وقوع کاامکان تسلیم کیاجائے۔ ورنہ اس قول کے کچھ معنی نہیں ہوں گے اورآنحضرتﷺ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہے کہ حضور کی طرف ایسے قول کی نسبت دی جائے جوبالکل بے معنی ہو۔ مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے۸؍مارچ کوبجواب جرح تسلیم کیاہے کہ ’’لو‘‘جس جگہ داخل ہوتاہے اس میں اکثر وقوع نہیں ہوتانہ یہ کہ کسی جگہ میں وقوع ممکن نہیں ہوتا۔

دوسرے شبہ کاجواب: مختارمدعیہ نے اس حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کے لئے اس کے ایک راوی ابراہیم بن عثمان کوضعیف قراردیاہے اور بحوالہ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰) کہاہے کہ مجروح حدیث لائق قبول نہیں ہوتی۔ حالانکہ ابراہیم بن عثمان پریہ حکم لگانا کہ اس کی تمام احادیث ضعیف ہیں اور قابل اعتماد نہیں صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ جوحوالہ مختارمدعیہ نے اسے ضعیف ثابت کرنے کے لئے میزان الاعتدال سے پیش کیاہے کہ اس میں یہ لکھا ہے وہ شہر واسط کے قاضی تھے اور شعبہ نے اسے اس روایت کی وجہ سے جھوٹا قراردیاہے کہ اس نے حکم سے بروایت ابن ابی لیلیٰ یہ بیان کیا کہ صفین میں ۷۰ صحابی جوجنگ بدر میں شامل ہوئے تھے شریک ہوئے۔

مصنف کہتاہے کہ میں نے (تعجب سے) سبحان اللہ کہا۔ کیا حضرت علیq اور حضرت عمارqصفین میں شامل نہیں ہوئے اور وہ جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ پس شعبہ نے جس وجہ سے ابراہیم کی تکذیب کی تھی، مصنف نے خود اس کا رد کردیا۔ پھرلکھاہے کہ عثمان الدارمی نے ابن معین سے روایت کی ہے کہ وہ ثقہ نہیں اور اس کے ثقہ نہ ہونے کی وجہ کوئی بیان نہیں کی اور احمدنے اسے ضعیف کہاہے۔ امام بخاری نے کہاہے: ’’سکتوا عنہ‘‘ کہ محدثین اس کے بارہ میں خاموش ہیں اور امام مسلم نے متروک الحدیث کہا ہے۔ یہ اختلاف صاف بتارہاہے کہ یقینی طورپراس کے کاذب یاضعیف ہونے کی کسی کے پاس دلیل نہیں ہے اورتہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجرالعسقلانی اس کے متعلق فرماتے ہیں: ’’وقال عباس الدوری عن یحیٰی ابن معین قال: قال یزید بن ھارون ماقضٰی علی الناس رجل اعدل فی قضاء منہ وقال ابن عدی لہ احادیث صالحۃ وھو خیر من ابی حیۃ‘‘ (تہذیب التہذیب ج۱ ص۱۴۵)

175

یعنی عباس الدوری نے یحییٰ بن معین سے نقل کیاہے کہ اس نے کہا کہ یزید بن ہارون نے کہاہے کہ اس کے زمانہ میں اس سے زیادہ عدل اور انصاف کے ساتھ کسی نے فیصلے نہیں کئے اورابن عدی نے کہا کہ اس کی نہایت اچھی حدیثیں بھی ہیں اور وہ ابوحیہ سے بہترہے۔

مختارمدعیہ نے کہاتھا کہ ابن معین چونکہ اس فن کے ماہرہیں۔ (اورعثمان دوری نے ان سے اس راوی کا ضعیف ہونانقل کیاہے) اس کے لئے یہ حدیث قابل اعتبار نہیں۔ مگر ابن معین نے ہی اس کے قضاء میں عادل ہونے کے متعلق یزید ابن ہارون سے نقل کیاہے اورجب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے زمانہ میں نہایت منصف قاضی تھے تو وہ شخص جو (نعوذباللہ) جھوٹ حدیثیں بناکررسول کریمa کی طرف سے منسوب کرے وہ عادل قاضی کیسے ہوسکتاہے۔ معلوم ہوتاہے کہ وہ قاضی تھے اور فیصلہ کرتے وقت کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ اس لئے ان کے مخالفوں نے ان کو بدنام کرنے کے واسطے وضعی حدیثیں ان کی طرف منسوب کردی ہوں توکوئی بعیدامرنہیں ہے کہ ابن عدی جوفن جرح اورتعدیل کے ماہرین سے ہیں اور انہوں نے اس فن میں ایک نہایت عمدہ کتاب بھی لکھی ہے جس کے متعلق علامہ ذہبی کی یہ رائے ہے: ’’ولابن احمد بن عدی کتاب الکاھل ھواکمل الکتب واجلھا فی ذالک‘‘ (میزان الاعتدال ج۱ ص۳)

کہ ابن عدی کی ایک کتاب کامل ہے جو اس فن جرح وتعدیل میں سب کتابوں سے اکمل اوراجل ہے۔

ان کی اس راوی کے متعلق یہ رائے ہے کہ ان سے نہایت معتبر اوراچھی حدیثیں بھی مروی ہیں تو اب کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایک خاص حدیث کوصرف اس وجہ سے غیر معتبر یاضعیف قراردے کہ اس کا راوی ابراہیم ہے۔ جب تک کہ دوسرے قرآن سے اس حدیث کا وضعی اورضعیف ہوناثابت نہ کرے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

اس حدیث کی صحبت بڑے بڑے علماء نے تسلیم کی ہے۔ چنانچہ شہاب علی البیضاوی کی (ج۷ ص۱۷۵)میں اس حدیث کے متعلق صاف طور پر لکھاہے:’’اقول اماصحتہ الحدیث فلاشبھۃ فیھالانہ۔ رواہ ابن ماجۃ وغیرہ کماذکرہ ابن حجرہ‘‘ یعنی اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ کیونکہ ابن ماجہ اوراس کے سواء دوسروں نے بھی یہ روایت کی ہے۔ جیسا کہ ابن حجر نے اس امر کاذکرکیاہے۔

مختارمدعیہ کہتاہے کہ شہاب ہمیں مسلم نہیں۔ لیکن مسلم نہ ہونے کی وجہ کوئی بیان نہیں کی۔ دراصل بات یہ ہے کہ مختاراصل میں شہاب سے ناواقف ہے۔ وہ کون ہیں؟ اگر وہ واقف ہوتاتوغیرمسلم ہونے کاسوال ہی نہیں اٹھاتا۔ کیونکہ ان کی کتاب ’’شرح الشفاء للخفاجی‘‘ کے حوالے خود گواہان مدعیہ نے پیش کئے ہیں اورعنایۃ القاضی جس کا یہ حوالہ پیش کیاگیاہے انہی کی تصنیف ہے اور ان کانام احمدبن محمدہے۔ مصر کے باشندے اورحنفی المذہب تھے اور قاضی القضاۃ تھے اورشہاب الدین الخفاجی کے لقب سے ملقب تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے جوبات کہی ہے، وہ بالکل صحیح ہے اورابن حجرعسقلانی حافظ حدیث ہیں… نے ان کے قول سے سند پکڑتے ہوئے کہاہے کہ اس حدیث کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس لئے مختارمدعیہ کا قول کہ شہاب کا حوالہ غیر مسلم ہے۔ بالکل قابل التفات نہیں ہے۔

۲… پھرملّا علی قاری نے موضوعات کبیر میں اس حدیث کے موضوع ٹھہرانے والوں کو جواب دے کر لکھاہے: ’’لہ طرق ثلاث یقوی بعضھا ببعض‘‘ (موضوعات کبیرص۵۹) کہ یہ حدیث موضوع ہے اوریہ تین طریق سے مروی ہے جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ پھر اس حدیث کی صحت پر بحث کرتے ہوئے لکھاہے کہ اگرا براہیم زندہ رہتے اورنبی ہوجاتے تو وہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے ہوتے، جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آنحضرتﷺکے بعد امتی ہوکر نبی ہوں گے۔

پھر اس شبہ کا ازالہ کرنے کے لئے کہ ابراہیم کا نبی ہوجانا یا حضرت عمرq کا نبی ہوجانا، آپ کے خاتم النّبیین ہونے کے خلاف

176

نہ ہوتا۔ لکھتے ہیں کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں:’’انہ لایاتی نبی بعدہ ینسخ ملتہ ولم یکن من امتہ‘‘ کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا جوآپ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت سے نہ ہو۔ پھر ایک دوسری حدیث کے ضمن میں لکھتے ہیں: ’’ولایخفی انہ لایستلزم من کون احد الرواۃ متروکا کون الحدیث موضوعا لاسیما اذاجاء الحدیث من طریق آخربل وتعدد طرقہ‘‘ (مرقاۃ ص۵۰۴)

اوریہ امر مخفی نہیں کہ ایک راوی کا متروک الحدیث ہونا، اس امر کومستلزم نہیں ہے کہ وہ حدیث بھی موضوع ہو۔ خصوصاً اس حالت میں جب کہ وہ حدیث دوسرے طریق سے مروی ہو، بلکہ متعدد طرق سے روایت کی گئی ہو۔ جیسے کہ حدیث متنازعہ فیہ متعدد طرق سے روایت ہوئی ہے۔

۳… امام ملّا علی قاری نے اس حدیث کی صحت ثابت کرنے کے لئے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں مفصل بحث کی ہے اور لکھاہے: ’’قال النووی فی تہذیبہ واما ماروی عن بعض المتقدمین حدیث لوعاش ابراہیم لکان صدیقانبیا۔ فباطل وجسارتہ علی الکلام بالمغیبات ومجاوزتہ وھجوم علی عظیم‘‘ کہ علامہ نے اپنی کتاب تہذیب میں کہاہے کہ یہ حدیث بعض متقدمین سے مروی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے توو ہ نبی ہوتے، باطل ہے اور امور غیبیہ کے اظہار پر جسارت اور اٹکل پچو بات کہتاہے اور ایک بہت بڑا گناہ کاارتکاب ہے۔

ابن عبدالبر کا قول ہے، لکھاہے:’’ولا ادری ماھذا فقد ولد نوح غیر نبیی ولولم یلد الانبیاء لکان کل احد نبیا لابد من ولد نوح انتہی‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ یہ حدیث کیسی ہے۔ کیونکہ نوحm کے بیٹے ایسے بھی ہوتے تھے جوغیر نبی تھے اور اگر اس کا ہر ایک بیٹا نبی ہوتا تو ہرایک شخص نبی ہوتا۔ کیونکہ وہ نوح کی اولاد کے ہیں۔

ان دونوں اعتراضوں کے رد میں لکھاہے: ’’قال شیخ مشایخنا العلامۃ الربانی الحافظ ابن حجر العسقلانی فی الاصابۃ وھٰذاعجیب من النووی مع ورودہ عن ثلاثۃ من الصحابۃ ولایظن بالصحابی ان یھجم علی مثل ھذا بظنہ قلت مع انھم لم یقولوہ موقوفا بل اسندوہ مرفوعاً کما بینہ خاتمہ الحفاظ السیوطی باسانیدہ فی رسالۃ علیحدۃ مع ان من القواعد المقررہ فی الاصول ان موقوف الصحابی اذالم یتصور ان یکون من رای فھوفی حکم المرفوع فانکار النووی کابن عبدالبر بالذالک اما لعدم اطلأعتھا اولعدم ظہورالتاویل عندھماواللہاعلم‘‘ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۵ ص۳۹۵)

کہ ہمارے مشائخ کے شیخ علامہ ربانی حافظ ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں لکھاہے کہ نووی علامہ سے اس قسم کی بات کا صدور عجیب بات ہے۔ کیونکہ یہ حدیث تین صحابیوں سے مروی ہے اورصحابی پریہ ظن نہیں کیاجاسکتاکہ وہ اپنے گمان سے ایسے امر کا ارتکاب کرنے پر جرأت کرے۔ لیکن میں کہتاہوں کہ اس حدیث کوبیان کرنے والوں نے موقوف نہیں بیان کیا، بلکہ اس کوسند کے ساتھ مرفوع بیان کیاہے۔ جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کی تمام سندیں ذکرکی ہیں۔

اصول حدیث میں ثابت شدہ قواعدسے یہ بات بھی ہے کہ صحابی کی موقوف حدیث جب کہ اس کارائے سے ہونا غیر متصور ہوتو وہ مرفوع کے حکم میں ہوگی۔ پس نووی کا ابن عبدالبرکی طرح اس حدیث کی صحت سے انکار کرنا یاتوان دونوں کے عدم اطلاع کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے ہے کہ ان پر اس حدیث کی تاویل ظاہر نہیں۔ پس اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ صحیح ہے اور مرفوع متصل ہے۔ تامختار مدعیہ نہ کہہ سکے کہ حدیث مرفوع متصل کے خلاف کوئی حدیث قبول نہیں اور اس حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہوگیاکہ حافظ ابن حجر

177

عسقلانی بھی جوفن حدیث کے ماہرین سے ہیں، اس حدیث کوصحیح قراردیتے ہیں۔ پس یہ حدیث فی نفسہ مجروح نہ رہی۔

۴… فریق مخالف نے جوقول اپنی تائید میں ابن ابی اوفی صحابیq کا پیش کیاہے کہ اگرابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، لیکن وہ باقی نہیں رہے۔ اس لئے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتاتھا۔ یہ قول دلیل ہے اس بات کی کہ حدیث: ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا‘‘ صحیح ہے۔ ورنہ یہ خیال کیسے پیداہوسکتاتھا کہ ابراہیم اگرزندہ رہتے تونبی بنتے۔ کیونکہ نبی کی اولاد سے ہونانبی ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ پس صحابی کو ان کی نبوت کاخیال بھی ہوسکتاہے۔ جب کہ ان کے متعلق آنحضرتﷺ نے یہ خبردی ہوتی کہ اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ پس عبداللہ ابن ابی اوفیq کا قول خود اس حدیث کی صحت ثابت کررہاہے۔ چنانچہ ابن عامر نے ابن ابی اوفی سے بھی یہ حدیث راویت کی ہے۔ ملاحظہ ہو:(کنزالعمال ج۶ ص۱۱۷)

تیسرے شبہ کاجواب: علم حدیث سے واقف شخص پر مخفی نہیں ہے کہ فہم صحابی حجت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا قول حجت ہوسکتاہے جب کہ اس کے مخالف دوسرے صحابی کا قول بھی موجود ہو۔ کیونکہ صحابی فہم قرآن وحدیث میں غلطی کرسکتاہے۔ مثلاً نافع سے روایت ہے کہ اس نے کہا: ’’کان ابن عمریقول واللہ مااشک ان المسیح الدجال ابن صیاد‘‘ (ابودائود ج۲ ص۳۴۷)

کہ حضرت ابن عمر کہتے تھے کہ بخدا! مجھے اس میں ذرہ شک نہیں کہ ابن صیاد ہی المسیح الدجال ہے۔ حالانکہ ان کا یہ سمجھنا درست نہ تھا۔ اس طرح انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب ’’یٰآیھاالذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘ اتری تو ثابت بن قیسq اپنے گھر میں گوشہ نشین ہوگئے اور آنحضرتﷺ کے پاس نہ گئے اور کہنے لگے کے میں دوزخی ہوں۔ آنحضرتﷺ نے سعد بن معاذسے ان کے متعلق دریافت کیا کہ ثابت کوکیاہوا؟ وہ بیمار ہوگئے ہیں؟ تو سعد نے جواب دیا کہ وہ تومیرے ہمسایہ ہیں۔ مجھے تو ان کی بیماری وغیرہ کا کوئی علم نہیں۔ پھرسعد نے آکر ان سے یہ ذکرکیا تو انہوں نے کہا: ’’انزلت ھذۃ الایۃ ولقد علتم انی عن ارفعکم صوتا علی رسول اللہﷺ فانا من اھل النار‘‘ (مسلم ج۱ ص۷۵، مطبوعہ مجتبائی)

یعنی یہ آیت اتاری گئی جس میں یہ حکم ہے کہ تم آوازیں نبیa کی آوازپربلند نہ کیاکرو۔ ورنہ اعمال کے حبط ہوجانے کا خطرہ ہے اورتم جانتے ہو کہ میں تم سب سے بلند آواز ہوں تو یقینا میں اہل نار سے ہوں۔ سعد نے آنحضرتﷺ کے حضور میں یہ حال عرض کیا تو آپaنے فرمایا کہ وہ تو اہل جنت سے ہے۔ پس ثابت نے جوآیت کا مفہوم سمجھا وہ صحیح نہیں تھا۔

اسی طرح اوربہت سی ایسی مثالیں احادیث میں پائی جاتی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ صحابہ سے آیات اور احادیث کا اصل مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوجاتی تھی۔ پس ابن ابی اوفی کا یہ فہم کہ ابراہیم اس لئے زندہ نہ رہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قوم کاکوئی نبی نہیں ہوسکتاتھا… جب کہ ان کے اس مفہوم کے خلاف حضرت عائشہt کا قول بھی موجودہے اوراگر یہ وجہ کہ وہ اسی لئے وفات پاگئے کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتاتھا… صحیح تسلیم کی جائے تو پھر اس سے یہ مراد لینا زیادہ مناسب ہوگا کہ آپ کے بعد نبی نہ ہونے سے مراد آپ کی وفات کے بعد متصل نبی ہونا ہے اور اس طرح اس قول اورحضرت عائشہt کے قول میں مطابقت بھی ہوجائے گی اورنیز بخاری کی حدیث: ’’کانت بنواسرائیل تسوسہھم الانبیاء اذاھلک نبی خلفہ نبی‘‘ کے خلاف بھی نہ ہوگا، جس سے ثابت ہوتاہے کہ آپ کی وفات کے بعد متصل کوئی نبی نہیں آئے گا،بلکہ خلافت موعودہ کا سلسلہ جس کی مدت ایک دوسری حدیث میں آپ نے تیس بیان فرمائی ہے شروع ہوگا اور اگرغور سے دیکھاجائے توآنحضرتﷺ کے اس فرمان سے ہرگز یہ منشاء ظاہر نہیں ہوتا جو ابن ابی اوفی نے بیان کیا ہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ نے ’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقانبیا‘‘ ابراہیم کی وفات کے بعد فرمایاتا ظاہر ہو کہ ابراہیم میں کمالات نبوت حاصل کرنے کی استعداد موجود تھی اوراگرزندہ رہتے توصدیق نبی بن جاتے۔ لیکن اب موت اس مقام کوحاصل کرنے میں

178

روک ہوگئی ہے اور اگر اس قول سے آنحضرتﷺ کامنشاء مبارک اس امر کا اثبات ہوتاکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا توآپ اس طرح فرماتے: ’’لوعاش ابراہیم لماکان نبیا‘‘ کہ اگر میرابیٹا ابراہیم زندہ بھی رہتا توباوجود استعداد حصول کمالات نبوت رکھنے کے وہ ہرگز نبی نہ ہوتا۔ پس یہ کلمات اس وقت کلمات مدحیہ ہوسکتے ہیں جب کہ یہ تسلیم کیاجائے کہ آنحضرتﷺ کے بعد آپ کی غلامی اورآپ کی اتباع میں مقام نبوت مل سکتاہے۔

صحابہؓ خاتم النّبیین سے کیا سمجھے

اس کے متعلق ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱: مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں صریح غلط بیانی کی ہے کہ گواہان مدعیہ نے خاتم النّبیین کی تفسیر میں ۶۴ صحابہ سے زائد کے آثار ابن جریر کی تفسیر میں سے پیش کئے ہیں۔ حالانکہ ان آثار کا نہ تو ذکرابن جریر میں خاتم النّبیین کی تفسیر میں ہے اور نہ گواہان مدعیہ نے پیش ہی کئے ہیں اور نہ تمام صحابہ کاا س پر کہ آپ کے بعدکوئی امتی نبی نہ آئے گا، اجماع ہی ہواہے۔ جیسا کہ بحث اجماع میں بیان کیاجائے گا اور گواہان مدعاعلیہ کی طرف سے جوحضرت عائشہt اور حضرت علیq کا قول پیش کیاگیاہے۔ ان کے متعلق مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں یہ جرح کی۔

۱… گواہان مدعاعلیہ نے ۸؍مارچ کو یہ تسلیم کیا کہ صحابہ تفسیر میں غلطی کرتے تھے۔ اس لئے حضرت عائشہt نے ایسا سمجھنے میں غلطی کی۔ لیکن گواہا ن مدعاعلیہ کے مسلمات کی بناء پر یہ جواب ہے۔

جواب: مختارمدعیہ کے نزدیک صحابہ غلطی نہیں کرتے تھے اور گواہان مدعاعلیہ کے نزدیک حضرت عائشہt نے یہ تفسیر صحیح کی ہے۔ اس لئے فریقین کو اس تفسیر کی صحت میں شبہ نہیں ہوناچاہئے۔

۲… حضرت عائشہt اورحضرت علیq کے اقوال درمنثور سے نقل کئے گئے ہیں اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے درمنثور کے متعلق بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ اس کے نزدیک اس میں رطب ویابس ہے۔ اس لئے یہ دونوں قول غیر مسلم ہونے چاہئیں۔

جواب: چونکہ یہ دونوں قول گواہان مدعاعلیہ کے نزدیک بوجہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے موافق ہونے کے صحیح ہیں اور مختارمدعیہ کے نزدیک درمنثور میں یابس کوئی چیز نہیں سب رطب ہی ہے۔ اس لئے فریقین کے نزدیک یہ دونوں قول صحیح ہیں۔

۳… سند کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح نہیں نہ کسی کسی معتبر حدیث کی کتاب سے نقل کی ہے اور اس کا تعارض آنحضرتﷺ کے قول ’’لانبی بعدی‘‘ سے ہے۔

جواب: مختارمدعیہ کا یہ قول کہ سند کے اعتبارسے یہ حدیث صحیح نہیں۔ بلادلیل ہونے کی وجہ سے مردود ہے اور اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے جن کی سند بھی ہے، نکالاہے اورتکملہ مجمع البحار میں بھی ( جس کے متعلق شاہ عبدالعزیز صاحب نے (عجالہ نافعہ ص۹) میں لکھاہے کہ مشکل احادیث کی شرح اورتوجیہات بیان کرنے کے لحاظ سے مجمع البحار دوسری کتابوں سے مستغنی کردینے والی کتاب ہے) حضرت عائشہt کا مذکورہ بالاقول صحیح سمجھ کردرج کیا گیا ہے اور پھر اس کی حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ سے مطابقت کر کے دکھلائی گئی ہے اور اگر یہ قول جیسا کہ مختار مدعیہ نے کہا ہے۔ بسند صحیح ثابت نہ ہو تو اس صورت میں اوّل تو اس کو درج کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرے اگر درج کیا تھا توضعیف اورموضوع کہہ کررد کردیاجاتامگر رد نہیں کیاگیا۔ بلکہ مؤلف مجمع البحار نے اسے صحیح سمجھ کر حدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ سے اس کی تطبیق کی اور بتایا کہ اس قول اورحدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں جیسا کہ مختارمدعیہ نے بھی کہاہے کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ ’’لا نبی بعدی‘‘ سے رسول اللہﷺ نے یہی مطلب لیاہے کہ آپ کے بعد ایسا نبی نہیں ہے جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔

۴… حضرت علیq کے اس قول کی تائید کہ خاتم زیر سے پڑھائو، زیر وزبر سے معنی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ گواہان مدعاعلیہ نے یہ

179

کہاہے کہ یہ اہتمام اس لئے تھا کہ غلط عقیدہ پیدانہ ہو، لیکن باوجود اس کے حضرت علیq اور ان کے صاحبزادے کا ایک قول بھی ایسانہیں جو احمدی حضرات کی تائید کرتاہو۔

جواب: لفظ خاتم کے معنوں کی تحقیق اورخاتم کے بکسرالتاء اوربفتح التاء میں جو معنوی لحاظ سے فرق ہے وہ گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں تفصیل سے ذکرکردیاہے۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ اور حضرت علیq کا یہ قول جن کو مخاطب کرکے آنحضرتﷺ نے ’’الّا انہ لا نبی بعدی‘‘ فرمایاتھا احمدیوں کی تائید کرتاہے۔ اس کے بعد حضرت علیq یاآپ کے صاحبزادے کے اس قول کے مخالفت کوئی قول نہیں کرتاتومختارمدعیہ یاگواہان مدعیہ کا فرض تھا نہ گواہان مدعاعلیہ کا۔ کیونکہ گواہان مدعاعلیہ کے لئے تو اس روایت کا ذکرکردینا کافی تھا جس سے کہ حضرت علیq اور آپ کے صاحبزادوں کا مذہب خاتم کے معنوں کے بارہ میں ظاہرہے۔

سلف صالحین خاتم سے کیا معنی سمجھے

اس عنوان کے ماتحت گواہان مدعاعلیہ نے پندرہ حوالے پیش کئے تھے جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے یہ مراد ہے کہ آپ کے کوئی صاحب شرع جدید نبی نہیں آسکتااورایسے نبی کا آنا جوآنحضرتﷺ کا متبع اورآپ کی شریعت کا جوا اپنی گردن پر رکھنے والا ہو، آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین کے منافی نہیں ہے۔ مختاران مدعیہ نے ان اقوال پرجوجرح ۹،۱۱؍اکتوبر کو کی ہے۔ وہ مع جواب ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

۱… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ صحیح احادیث تک ظنی ہوتی ہیں اورکہ عقائد میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے اور یہاں بھی عقائد کے متعلق گفتگوہورہی ہے۔ اس میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے۔ اگر ان کا جواب نہ بھی دیاجائے توکوئی حرج نہیں۔

جواب: مختارمدعیہ نے اپنے اس قول سے اس اصل کو تسلیم کرلیاہے کہ عقائد میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے اورعلماء اورائمہ کے اقوال قطعیات میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے ان کی وجہ سے کسی کی تکفیر نہیں کی جاسکتی یاان کی تفہیم کو بطور حجت پیش نہیں کیاجاسکتا۔ اس لئے جو حوالہ جات مفسرین اور دیگر بزرگوں کے گواہان مدعیہ نے اپنی تائید میں پیش کئے ہیں اور ان کی بناء پر مدعاعلیہ کی تکفیر کی ہے وہ قابل التفات نہیں ہیں۔ اس لئے کسی آیت کی تفسیر میں اختلاف کی وجہ سے کسی کوکافرنہیں کہاجاسکتا۔ گواہان مدعاعلیہ نے سلف صالحین کے اقوال اپنی تائید میں اس لئے پیش کئے ہیں کہ گواہان مدعیہ نے جو معنی خاتم النّبیین کے کئے ہیں وہ سلف صالحین کے معنی کے خلاف ہیں اور اگرگواہان مدعیہ کے معنی سے اختلاف کرنے کی وجہ سے کوئی شخص کافر ہوجاتاہے تو یہ تمام علماء وائمہ بھی کافر قرارپائیں گے اورصحیح احادیث بھی ظنی ہوتی ہیں اور عقائد میں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے۔ یہ میں ہی نہیں کہتا بلکہ آپ کے مسلم بزرگ مولوی خلیل احمد انبیٹھوی بھی لکھتے ہیں: ’’مؤلف خود مقرہے کہ اعتقادیات میں روایات ضعاف معتبر نہیں بندہ کہتاہے کہ احادصحاح میں معتبر نہیں۔ چنانچہ فن اصول میں مبرہن ہے۔ پس یہ روایات ہرگز معتبرنہیں۔‘‘(براہین قاطعہ ص۹۶)

موضاعات کبیر کاحوالہ

امام ملّا علی قاری نے جوحنفی فرقہ کے بہت بڑے امام ہیں اپنی کتاب (موضوعات کبیر ص۶۹) میں خاتم النّبیین کے معنوں کی بابت یہ لکھاہے:’’اذ ا المعنی انہ لایأتی بعدہ نبی ینسخ ملتہٗ ولم یکن من امتہ‘‘ اوراس کے معنی گواہ مدعیہ نے ۲۵؍اگست کو بجواب جرح یہ لکھوائے ہیں: ’’یہ قول کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوجاتے توپھر بھی وہ آنحضرتﷺ کے پیروہوتے اورآپ کی اتباع میں نبی بنتے۔ جیسے عیسیٰ وخضر والیاسo اور یہ بات قول خاتم النّبیین کے خلا ف نہیں۔ کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسانبی نہ ہوگا

180

جوآپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو اور اسی گواہ نے انہیں باوجود خاتم النّبیین کے یہ معنی کرنے کے مسلمان تسلیم کیاہے۔

مختارمدعیہ نے اس کا یہ جواب دیاہے کہ کسی کامسلم ہونا اورچیز ہے اور اس کی کتاب کامسلم ہونا اورچیز یعنی ملّا علی قاری کامسلمان ہونا اورامام ہوناتومسلم ہے لیکن ان کی کتب کا مسلم ہونا مسلم نہیں۔ مختار مدعیہ نے حضرت ملّا علی قاری کی کتب کو جوغیر مسلم کہاہے تو اس کے یہ معنی نہ سمجھے لئے جائیں کہ کہ وہ’’من کل الوجوہ‘‘ غیر مسلم ہیں۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسی وقت غیرمسلم ہیں جب کہ ان کا کوئی قول مختاران مدعیہ اورگواہان مدعیہ کے خلاف ہو، لیکن اگر کوئی قول ایسا مل جائے جو ان حضرات کے خیال میں ان کی تائید کرتاہو توپھر ملّا علی قاری کی کتب بڑے دھڑلے سے مسلم ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ گواہان مدعیہ نے جب شرح فقہ اکبر اورشرح شفاء کے حوالے پیش کئے ہیں تووہ مسلم تھیں کہ وہ حوالے اپنے موافق معلوم ہوتے تھے۔ لیکن جب انہیں کی کتب سے ایسے حوالے پیش کئے گئے جو مختارمدعیہ کواپنے خلاف نظرآئے تو موصوف کی کتب غیرمسلم ہوگئیں۔ چلواگرتمہارے نزدیک ان کا یہ قول غیرمسلم ہے اور جیسا کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۰؍اگست کو بجواب جرح یہ کہا ہے کہ خاتم النّبیین کے معنی ہیں نبوت کوبند کرنے والا اورآنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اگرکوئی شخص ان معنوں کے سواء ختم نبوت کے کوئی اورمعنی کرے تو وہ یقینا کافرہوگا۔‘‘

ان پربھی کفرکافتویٰ لگائیں اور پھرانہیں مسلمان بلکہ امام سمجھنے والے تمام حنفیوں کوکافر ومرتد سمجھیں اور ان کے نکاحوں پرفسخ ہونے کا فتویٰ لگائیں۔ مختارمدعیہ نے اس حوالے کے متعلق یہ بھی کہاہے کہ موضوعات کبیرکوئی عقائد کی کتاب نہیں۔ دوسری کتابوں شفاء اورشرح فقہ اکبر وغیرہ میں انہوں نے مسلمانوں کا سا عقیدہ ظاہر کیاہے۔ یعنی چونکہ موضوعات عقائد کی کتاب نہیں، اس لئے انہوں نے یہاں کفریہ عقیدہ لکھ دیا (معاذاللہ) سنئے! انہوں نے جوشفاء اور شرح فقہ اکبر میں جولکھاہے وہ اس کے مخالف نہیں۔ کیونکہ انہوں نے ’’لا نبی بعی‘‘ کے معنی یہی کئے ہیں کہ آپ کے بعد ایسانبی جو آپ کی شریعت کاناسخ ہو، نہیں آسکتا اورصرف یہی نہیں کہ انہوں نے اپنی طرف ان معنوں کی نسبت دی ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں: ’’واما حدیث لاوحی بعدی باطل لااصل لہ نعم ورد لانبی بعدی ومعناہ عند العلماء انہ لایحدث بعدہ نبی بشرع ینسخ شرعہ‘‘ (کتاب الاشاعت لاشراط الساعۃ ص۲۲۶)

یعنی حدیث:’’لاوحی بعدی‘‘ باطل اور بے اصل ہے۔ ہاں!’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے اور اس کے معنی علماء کے نزدیک (جہلاء کے نزدیک نہیں) یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسانبی پیدا نہ ہوگاجونئی شریعت لائے اور آپ کی شریعت منسوخ کرے۔ اس لئے جہاں انہوں نے یہ لکھاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبی نہ ہوگا تو اس سے مراد ایسا ہی نبی ہے جوناسخ شریعت محمدیہ ہو۔ جیسا کہ مذکورہ بالا دونوں قولوں سے ظاہرہے۔

۳… مختارمدعیہ نے اس کے متعلق یہ کہاہے۔ جب مرزا صاحب کے اپنے اقرار سے اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ نبی امتی نہیں ہوسکتا اور عقل کے بھی خلاف ہے تو ملّا علی قاری کے حوالہ کے یہ معنی کیسے لئے جاسکتے ہیں۔ ملّا علی قاری کے نزدیک امتی سے مراد محض حضرت عیسیٰؑ ہے۔ مفہوم کلی اداکرکے اس سے مراد جزئی ہے۔ جیسا کہ (حقیقۃ النبوۃ حصہ اوّل ص۲۳۹) میں بعض افراد سے جو مفہوم کلی مگر مراد جزئی ’’صرف مسیح موعود لی گئی ہے۔‘‘

جواب: مختارمدعیہ نمبر۲ کا ایک صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی نبی امتی نہیں ہوسکتا۔ یعنی جس شخص کو خداتعالیٰ نے نبوت عطاء فرمادی ہو تویہ نہیں ہوسکتا کہ وہ شخص کسی دوسرے نبی کاامتی ہو سکے اورآپ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ کوئی امتی شخص نبی نہیں ہوسکتا، بلکہ برخلاف اس کے آپ نے اپنی کتاب میں جابجا اس کی تصریح فرمائی ہے کہ آنحضرتﷺ کی اتباع سے آپ کے

181

امتیوں کوعندالضرورت مقام نبوت بطورالہام مل سکتاہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی ایسانبی آنے والاہے جو امتی نہیں۔ یعنی آپ کی پیروی سے فیض یاب نہیں اور اس جگہ سے ان لوگوں کی غلطی ثابت ہوتی ہے جوخواہ مخواہ حضرت عیسیٰؑ کودوبارہ دنیا میں لاتے ہیں اور وہ حقیقت جو الیاس نبی کی دوبارہ آنے کی تھی جوخود حضرت عیسیٰؑ کے بیان سے کھل گئی، اس سے کچھ عبرت نہیں پکڑتے، بلکہ جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگاہے اس کا انہی حدیثوں میں یہ نشان دیاگیاہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔ مگر کیا مریم کا بیٹا امتی ہوسکتاہے کون ثابت کرے گا؟ اس نے براہ راست نہیں، بلکہ آنحضرتﷺ کی پیروی سے درجہ نبوت پایاتھا۔(حقیقت الوحی ص۲۸، ۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۰،۳۱)

اور فرماتے ہیں: ’’اورمجھے خداتعالیٰ نے میری وحی میں باربار امتی کرکے پکاراہے اور نبی کرکے بھی پکاراہے اور ان دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں نہایت لذت پیداہوتی ہے اور میں شکر کرتاہوں کہ اس مرکب نام سے مجھے عزت دی گئی اور اس مرکب نام کے رکھنے میں حکم یہ معلوم ہوتی ہے تاکہ عیسائیوں پر ایک سرزنش کا تازیانہ لگے کہ تم عیسیٰؑ بن مریم کوخدابتاتے ہو۔ مگرہمارا نبیa اس درجہ کانبی ہے کہ اس کی امت کا ایک مرد نبی ہوسکتاہے اورعیسیٰؑ کہلاسکتاہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔‘‘(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۴، خزائن ج۲۱ ص۳۵۵)

اورفرماتے ہیں: ’’پس میں اپنے مخالفوں کویقینا کہتاہوں کہ حضرت عیسیٰؑ امتی ہرگز نہیں ہیں۔ گووہ بلکہ تمام انبیاء آنحضرتﷺ کی سچائی پر ایمان رکھتے تھے، مگر وہ ان ہدایتوں کے پیروتھے جوان پر نازل ہوئی تھیں اوربراہ راست خدانے ان پر تجلی فرمائی تھی۔ یہ ہرگز نہیں تھا کہ آنحضرتﷺ کی پیروی اورآنحضرتﷺ کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے یا وہ امتی کہلاتے۔ ان کو خداتعالیٰ نے الگ کتابیںدی تھیں اور ان کو ہدایت تھی کہ وہ ان کتابوں پر عمل کریں اورکراویں۔ جیسا کہ قرآن شریف اس پر گواہ ہے۔ پس اس بدیہی شہادت کی روسے حضرت عیسیٰؑ مسیح موعود کیوں کرٹھہرسکتے ہیں۔ پس چونکہ وہ امتی نہیں۔ اس لئے وہ اس قسم کے نبی بھی نہیں ہوسکتے، جس کا امتی ہوناضروری ہو۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۹۲،۱۹۳، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴،۳۶۵)

ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کے اس قول سے کہ نبی امتی نہیں ہوسکتا… یہ مراد ہے کہ جس نے نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل نہ کی ہو وہ نبی امتی نہیں ہوسکتا۔ہاں! ایک امتی شخص جس نے نبوت کا مقام آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل کیا ہو، وہ امتی نبی ہوسکتاہے۔

اورالفاظ امام ملّا علی قاری کے اس ترجمہ سے جوبزبان گواہ مدعیہ نمبر۱ لکھاجاچکاہے، ظاہرہے کہ وہ اس موقعہ پر امتی سے جیسا کہ مختارمدعیہ نے کہا ہے محض حضرت عیسیٰؑ کو مراد نہیں لیتے بلکہ ابراہیم کوبشرط زندگی نبوت ملنے کے ذکرکے ساتھ ہی حضرت عمر کابھی ذکرکرکے ظاہر فرمادیتے ہیں کہ ان کی مراد عمومیت کے ساتھ خاتم النّبیین کے معنی بیان کرناہے نہ کہ امتی کے لفظ سے موقعہ مذکورہ پرحضرت عیسیٰؑ کی تخصیص وتعیین۔

مختارمدعیہ نے اپنے غلط مفہوم کو صحیح ثابت کرنے کے لئے (حقیقۃ النبوۃ ص۲۳۹) کا جوحوالہ پیش کیاہے، وہ قطعاً یہاں منطبق نہیں ہوتا۔ کیونکہ بعض افراد کا لفظ بول کر ایک شخص مراد لیاجایاکرتاہے اور جس جملہ میں بعض کا لفظ آئے تو وہ قضیہ جزئیہ ہوتاہے۔ قضیہ کلیہ نہیں ہوتا۔ خود حضرت مسیح موعود کے کلام سے واضح ہے کہ بعض افراد سے حضور نے اپنی ذات مراد لی ہے اور یہ امر بوضوح تام حقیقۃ النبوۃ میں موجود ہے۔ لیکن کیا کوئی شخص بتاسکتاہے کہ امام ملّا علی قاری کے اس قول سے کہ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا جوآپ

182

کی ملت کو منسوخ کرے اورآپ کی امت سے نہ ہو۔ حضرت عیسیٰؑ مراد ہیں۔ سوال تویہاں خاتم النّبیین کے معنوں کا ہے اورظاہر ہے کہ انہوں نے جوخاتم النّبیین کے کئے ہیں، وہ گواہان مدعیہ کے معنوں کے خلاف اورگواہان مدعاعلیہ کے معنوں کے مطابق ہیں۔

مکتوبات کا حوالہ

مختارمدعیہ نے امام ربانی مجددالف ثانی کے قول کے متعلق یہ کہا ہے کہ اس میں توصرف کمالات نبوت کے حصول کا ذکرہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ جس میں کمالات نبوت پائے جائیں وہ نبی بھی ہوجائے۔ لیکن ہمارا استدلال اس قول سے صرف اتناہے کہ آنحضرتﷺ کی متابعت اورآپ کاوارث بن کرکمالات نبوت کاحصول جب ختم نبوت کے منافی نہیں تو اسی طرح کسی امتی کاآنحضرتﷺ کی کمال متابعت سے وراثت کے طورپراسم نبی کا پالینا بھی خاتمیت کے منافی نہیں ہوسکتا۔ ہاں! اگر کسی قسم کی نبوت اورکمالات نبوت کاپایاجانا محال ہے تو ان سے صرف ایسی نبوت اورایسے کمالات نبوت مراد ہیں جوبغیر طریق وراثت اورمتابعت آنحضرتﷺ کے ہوں۔

صوفیاء کے حوالے

مختارمدعیہ نے حضرت شیخ محی الدین ابن عربی اور شیخ عبدالوہاب شعرانی اورسید عبدالکریم جیلی وغیرہ صوفیاء کرام کے حوالوں کے متعلق ۹؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے کہ: ’’صوفیاء کرام اعلیٰ درجہ کے مسلمان اوراعلیٰ درجہ کے ایمان والے ہیں۔ مگر محبت کا رنگ اور ہے۔ صوفیاء پرمحبت کی وجہ سے سکر کا رنگ آتاہے تو اس میں وہ بہت کچھ کہہ دیتے ہیں۔ گو وہ کہتے توٹھیک ہیں مگرشریعت کے خلاف ہوتاہے۔ ظاہر میں خلاف شریعت ہوتو تاویل، ورنہ توقف ہوگا۔

یہ ہے گواہان مدعاعلیہ کے پیش کئے ہوئے ان حوالہ ہائے صوفیائے کرام کے متعلق مختارمدعیہ کا جواب، جوگواہان مدعاعلیہ نے خاتم النّبیین اور حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ کی تفسیر میں پیش کی ہیں۔ یہ جواب جس رنگ کاہے اس میں حضرات صوفیائے کرام کے اقوال سے تعلق عقیدت رکھنے والوں کی خاص توجہ کے لائق ہے۔ صوفیائے کرام باوجودیکہ اعلیٰ درجہ کے مسلمان اور اعلیٰ درجہ کے صاحب ایمان ہوتے ہیں۔ مگر محبت کا معاملہ چونکہ اور ہی ہے۔ اس لئے جب محبت کاجوش بڑھتاہے اور اپنے محبوب ومطلوب ازلی کی بنائی ہوئی شریعت کے خلاف جومنہ میں آئے کہنا شروع کرتے ہیں اور اس کی محبت وعشق کی عمیق درعمیق راہوں میں ایسے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ایسے طالب رضا وفنا شدہ بن جاتے ہیں کہ اس کی مرضی اور اس کی خوشنودی کی بھی کچھ پروا باقی نہیں رہتی۔ اس نے توکچھ فرمایاہے اوریہ بندگان خاص کچھ اور ہی ہانک لگاتے ہیں تو ’’استغفراللہ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ‘‘ اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘ یعنی اے نبی کریم آپ میرے بندوں سے فرمادیں کہ اگر تم خداتعالیٰ کے عاشق صادق بنناچاہتے ہوتو میرے پیچھے ہولو خداتعالیٰ تمہیں پیروی کی برکت سے اپنا محبوب بنائے گا۔ مگر باوجود سن لینے اور باوجود یہ معلوم ہونے کے کہ آنحضرتﷺ خلاف شریعت کچھ نہ فرماتے تھے۔ یہ اعلیٰ درجہ کے مسلمان اوراعلیٰ درجہ کے صاحبان ایمان یعنی صوفیائے کرام جوچاہتے ہیں وہ خلاف شریعت کہتے چلے جاتے ہیں۔ معاذ اللہ من ذالک!

مختارمدعیہ نے کہا ہے کہ خدا کی محبت میں چور ہونے کی وجہ سے وہ اعلیٰ درجہ کے مسلمان اورصاحبان ایمان ایسا کرتے ہیں۔ لیکن اگرنعوذباللہ! یہ صحیح ہوتو پھر خدا کی محبت کی زیادتی تونہایت ہی خطرناک اور پناہ مانگنے کے قابل چیزبن جائے گی اور اسی سے مختار مدعیہ کے قول کی لغویت ظاہر ہے۔ بات دراصل کچھ اور ہے۔ مفصل کی تو نہ اس موقعہ پرضرورت ہے نہ اس کے لئے اس وقت ہے۔ مختصریہ کہ

183

یاتوصوفیاء کی طرف ایسے اقوال منسوب کردئیے جاتے ہیں جودرحقیقت ان کے اقوال نہیں ہوتے یا ان کے مطالب عالیہ تک علمائے ظواہر کی نظر رسائی نہیں رکھتی۔

مختارمدعیہ نے یہ بھی کہاہے کہ صوفیاء کے اقوال تصوف میں تو معتبر ہیں مگرعقائد میں نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کیاصوفیاء کوآپ مسلمان نہیں سمجھتے۔ عقائد کی کتب کون سے منزل من اللہ ہیں یا آنحضرتﷺ کے ارشادات ہیں وہ بھی امت محمدیہ کے بعض افراد کی تصنیف شدہ ہیں اور صوفیاء بھی امت محمدیہ کے افراد ہیں۔ عقائد کی کتب میں توزیادہ ترعقلی طور پربحث کی گئی ہے۔ لیکن صوفیاء کو اس سے بڑھ کر یہ دعویٰ ہے کہ وہ کشف کے ذریعہ بھی بعض باتوں کی صحت یاعدم صحت معلوم کرلیتے ہیں۔ اسی لئے ابویزید بسطامی نے اپنے زمانہ کے علماء کے متعلق جوان کی باتوں پر معترض تھے فرمایا:’’اخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت‘‘ (الیواقیت ج۲ ص۱۰۲)

یعنی تم نے مردوں سے علم حاصل کیا ہے اور ہم نے اس زندہ سے علم حاصل کیاجوہمیشہ زندہ ہے اورمرتانہیں۔ پس اس لحاظ سے کہ ان مقربان بارگاہ الٰہی تھے۔ ان کی باتوں کو بھی تائیدی طور پرپیش کیاجاسکتاہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ صوفیائے کرام میں جوبزرگ علم ظاہری میں بھی کمال رکھتے ہوں اورعلم باطنی میں بھی ان کے اقوال تائید ی طور پر نہ پیش کئے جائیں۔

۳… مختارمدعیہ نے بحوالہ (شامی ج۲ ص۲۹۴) ایک حوالہ پیش کیاہے جس میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی طرف سے یہ قول پیش کیاگیاہے کہ انہوں نے کہا کہ ہماری کتابیں دیکھنا حرام ہے۔ اس لئے جب تک ان کا کوئی محرم راز نہ ہوتب تک اسے ان کی کتاب دیکھنا نہیں چاہئے۔

جواب: مختارمدعیہ کے اس قول کا کہ جب تک کہ ان کاکوئی محرم راز نہ ہوان کی کتابیں نہ دیکھنے سے یہی مطلب ہوسکتاہے کہ صوفیاء ہی ان کی کتابوں کو پڑھیں۔ علماء ظواہر جوان کے طریق سے ناواقف ہیں۔ ان کے لئے بقول ابن عربی ان کی کتابیں دیکھنا حرام ہے اوراگر یہ بات جومختارمدعیہ سمجھا ہے اور اس نے پیش کی ہے صحیح ہوتی تو انہیں کتابیں لکھنے اورشائع کرنے کی کیاضرورت تھی۔ اگر یہ قول شیخ محی الدین ابن عربی کی طرف غلط طورپرمنسوب نہیں کیاگیاتو اس کا وہ مفہوم جومختارمدعیہ سمجھاہے، قطعاًنہیں ہوسکتا۔ کیونکہ شیخ محی الدین ابن عربی نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی کتب کے پڑھنے اور پڑھانے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ شیخ مجدالدین فیروزآبادی صاحب القاموس نے کہاہے:’’واماقول بعض المنکرین ان کتب الشیخ لاتحل قراتھا فکفر‘‘ یعنی بعض منکروں کا یہ کہنا کہ شیخ محی الدین ابن عربی کی کتابوں کا پڑھنا حلال نہیں ہے، یہ کفرہے۔ پھر کہتے ہیں کہ: ’’ایک مرتبہ منکروں نے میرے پاس یہ سوال لکھ کربھیجا کہ توان کتابوں کے بارے میں جوشیخ محی الدین ابن العربی کی طرف منسوب ہیں جیسے فصوص اورفتوحات کیا کہتا ہے؟ کیا ان کا پڑھنا ناجائز ہے اورکیا وہ ان کتب سے ہیں جو پڑھی اور سنائی جاتی ہیں؟‘‘

’’فاجبت نعم ھی من الکتب المسموعتہ المقرؤۃ وقد قراھا علیہ الحافظ البرذلی وغیرہ‘‘ یعنی میں نے جواب دیا کہ ہاں! یہ ان کتب میں سے ہیں جو سنی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں اور حافظ برذلی وغیرہ نے اسے سنا کر پڑھی ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے قونیہ شہر میںفتوحات کے پڑھنے پڑھانے کااجازت نامہ خود شیخ محی الدین ابن عربی کے قلم کا لکھاہوادیکھا ہے اور بہت سے علماء اورمحدثین کے پاس کتابۃً اجازت دیکھی۔

’’فمطالعۃ کتب الشیخ قربۃ الی اللہ تعالٰی ومن قال غیرذالک فھو جاھل زائغ عن طریق الحق‘‘
184

پس شیخ کی کتب کامطالعہ باعث قرب الٰہی ہے اور جو اس کے سوا کہے تو وہ جاہل ہے اور طریق حق سے ایک طرف ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم وہ اپنے زمانہ میں صاحب ولایت عظمیٰ اورصدیقیت کبریٰ کے مقام پر تھے اورشیخ صلاح الدین الصغری نے تاریخ علماء مصر میں یہ لکھاہے: ’’من اراد ان ینظر الٰی کلام اھل العلوم اللدینہ فلینظر فی کتب الشیخ محی الدین ابن العربی‘‘ یعنی جوشخص علوم لدنیہ والوں کے کلام کو دیکھنا چاہے تواسے شیخ محی الدین ابن العربی کی کتب کا مطالعہ کرناچاہئے۔(الیواقیت والجواہر ج۱ ص۱۰)

اور امام بن اسعد الیافعی بھی شیخ محی الدین ابن العربی کی کتب کی روایت کو جائز کرتے تھے۔ ان جاہلوں کے اہل طریق کاانکار کرنے کی مثال بعینہٖ ایسی ہے جیسے ایک مچھر اپنی پھونک سے پہاڑکو اس کی جگہ سے ہلا کر دوسری جگہ کردیناچاہے۔(الیواقیت ج۱ص۱۱)

اسی طرح ام کی کتب کے مطالعہ کرنے کی نسبت (الیواقیت والجواہر ج۱ ص۱۰،۱۱،۱۲،۱۳) میں مختلف علماء کبار کے اقوال درج ہیں۔ پس ان اقوال کے مقابلہ میں جن میں ان کی کتابیں پڑھنے اورپڑھانے کی تاکید کی جاتی ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے جوان کی طرف منسوب کردیاگیاہے اور مختارمدعیہ جس کاایک رکیک مفہوم لے کر یہ ظاہر کرناچاہاہے کہ گویا حضرت محی الدین ابن عربی کی کتب کامطالعہ کرناحرام ہے۔

۲… نبوت تشریعی سے شریعت لانے والی نبوت مراد نہیں ہے، بلکہ ایسی نبوت مرادہے جس کوشریعت میں نبوت کہاجاتاہے اور مرزاصاحب نے جوتشریعی کے معنی صاحب شریعت ہونااورکتاب مستقل اوراحکام نئے ہونایابعض پہلے احکام کانسخ ہونالئے ہیں، یہ کسی کتاب سے ثابت نہیں۔

جواب: مختارمدعیہ کاتشریع نبی کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ نئی شریعت لانے والاہو،بلکہ جسے شریعت میں نبی کہاجاتاہے وہ مراد ہے۔ صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ جب ہم فتوحات مکیہ، فصوص الحکم وغیرہ کو پڑھتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتاہے کہ تشریعی نبوت سے مراد شریعت والی نبوت ہے۔

تشریع کے معنی

۱… شاہ ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں: ’’تشریع عبارت ازاں است کہ انساں چوں مرکب است ازدوقوت ملکیہ وبہیمیہ اعتدال نوعی اورتقاضامے کند آں حرکات راکہ بسبب آن ہر دو قوت بجائے خودبماند ودرمعاد سعادت نصیب اوشود دراتفاقات ضروریہ از آداب معیشت ونکاح وابتغائے معیشت وسیاست مدن از جادہ قویمہ بیروں نرود وایں ہمہ احوال وافعال رابرائے نوع انسان معین کردن تشریعی است۔‘‘ (رسالہ سطعات مؤلفہ شاہ ولی اللہ صاحب ص۹)

۲… شیخ محی الدین ابن العربی فرماتے ہیں: ’’فانہ تعالٰی اعطی خلفائہٗ من الانبیاء التشریع واعطی ھٰذہ الامۃ الاجتھاد فی نصب الاحکام وامرھم ان یحکموا بماأدی الیہ اجتھادھم وذٰلک تشریع فلحقوا المقامات الانبیاء فی ذالک‘‘ (الکبریت الاحمربرحاشیہ الیواقیت ج۱ ص۱۴۲)

اس کلام کاماحصل یہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے انبیاء کو جوتشریع دی تو اس امت کو احکام قائم کرنے میں اجتہاد دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے اجتہاد سے جو سمجھیں اس کے مطابق حکم کریں اوریہ بھی تشریع ہے۔ پس امر میں وہ انبیاءؑ کے مقام سے مل گئے۔

۳… اورفصوص الحکم میں لکھاہے:’’وان کان خاتم الاولیاء تابع فی الحکم لماجاء بہ خاتم الرسل من التشریع فلذالک لایقدح فی مقامہ‘‘ (فصوص الحکم ص۲۸مطبوعہ کانپور)

اور اس کا ترجمہ جواسی کتاب میں سے ہے، یہ ہے۔ اگرچہ ہے خاتم الاولیاء حکم شریعت کے اس چیز کاکہ لائے اس کوخاتم الرسل

185

احکام ظاہر شریعت سے۔ پس یہ پیروی نہیں ضررکرتی ہے بیچ مرتبہ خاتم الاولیاء کے۔ مختارمدعیہ نے فصوص الحکم کاایک یہ حوالہ پیش کیاہے کہ:’’واما نبوۃ التشریع والرسالۃ منقطعۃ وفی محمدa فقد انقطعت فلا نبی بعدہ یعنی مشرعا اومشرعالہ ولارسول وھو المشرع ‘‘ اس میں لفظ مشرع اور لفظ مشرع لہ سے اس نے یہ استدلال کیاہے کہ ہرقسم کی نبوت منقطع ہے۔ اب نہ کوئی نبی شریعت جدیدہ لے کرآسکتاہے اور نہ جس کے لئے کوئی شریعت بنائی گئی ہو۔ حالانکہ یہاں بھی تشریع سے مراد شریعت بناناہی ہے اور مشرع کے معنی نئی شریعت لانے والا۔ جیسے حضرت موسیٰؑ صاحب توراۃ اورمشرع لہ کے معنی ہیں جن پرکوئی جدید کتاب نازل نہ ہوئی ہو۔ جیسے وہ انبیاء بنی اسرائیل جو احکام توریت کے تابع تھے لیکن اس جگہ یہ یاد رکھناچاہئے کہ یہاں وہی نبی مراد ہیں جو مستقل ہیں۔ ورنہ وہ نبوت جواتباع سے حاصل ہو جس کانام وہ نبوت عامہ رکھتے ہیں وہ منقطع نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس عبارت کے متصل ہی چھ سطروں کے بعد لکھتے ہیں: ’’فابقی لھم النبوۃ العامۃ التی لاتشریع فیھا والبقی لھم التشریع فی الاجتھاد فی ثبوۃ الاحکام وابقی لھم الورثۃ فی التشریع‘‘ یعنی پس باقی رکھا اللہتعالیٰ نے واسطے ان کے نبوت عام کو نہیں ہے۔ تبلیغ احکام ناموس (شرعی) کی بیچ اس کے اور باقی رکھی اللہتعالیٰ نے واسطے بندوں کے تشریع، یعنی تخریج احکام شرعیہ کے بیچ اجتہاد، بیچ ثبوت احکام شرعیہ کے، مترجم شاہ محمدمبارک علی صاحب نبوت عامہ کی تشریع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یعنی نبوت دوقسم پرہے۔ ایک نبوت تشریعی ہے اور وہ عبارت ہے اوامرونواہی وغیرہ۔ احکام ظاہر شریعت سے حق تعالیٰ کی جانب سے خلق کی طرف بذریعہ انبیاء اور رسولوں کے۔ دوسری قسم نبوت عامہ ہے اور وہ عبارت ہے عرفان اور اسرار غیب اورخبردینے سے اورظاہر کرنے سے اسرار ملک اور ملکوت اور ربوبیت۔‘‘ (فصوص الحکم مترجم مطبوعہ کانپورحاشیہ ص۶۴۱)

اس حوالہ سے نبی تشریعی کے معنی بالکل واضح ہوجاتے ہیں کہ نبوت تشریعی انبیاء اور رسولوں کے ذریعہ خداتعالیٰ کی طرف سے اوامر ونواہی وغیرہ احکام ظاہر شریعت کے مخلوق کے لئے دئیے جانے کو کہتے ہیں۔

اس کے بعد میں فتوحات مکیہ سے بھی ایک حوالہ پیش کرتاہوں تاکہ تشریعی کے معنی بیان کرنے میں مختارمدعیہ نے جومغالطہ دیناچاہاہے وہ دور ہوجائے۔

چنانچہ شیخ محی الدین ابن العربی فرماتے ہیں: ’’فان النبوۃ التی انقطعت بوجود رسول اللہﷺ انما ھی نبوۃ التشریع لامقامھا فلا شرع یکون ناسخاً لشرعہa ولایزید فی شرعہ حکما آخر وھٰذا المعنی قولہa ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی۔ ایٔ لانبی بعدی یکون علی شرع یخالف شرعی بل اذا کان یکون تحت حکم شریعتی ولارسول بعدی الٰی احد من خلق اللہ بشرع یدعوھم الیہ فھذا ھوالذی انقطع وسدبابہ لامقام النبوۃ‘‘ یعنی جو نبوت آنحضرتﷺ کے وجود سے منقطع ہوئی ہے وہ نبوت تشریعی ہے نہ کہ مقام نبوت۔ پس کوئی شریعت ایسی نہیں ہوسکتی جو آنحضرتﷺ کی شریعت کو منسوخ کرنے والی ہو اورآپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد کرنے والی ہو اور یہی معنی آنحضرتﷺ کے اس قول کے ہیں کہ رسالت اورنبوت منقطع ہوگئی ہے۔ پس نہ میرے بعدکوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا جو ایسی شریعت پرہو جومیری شریعت کے مخالف ہے، بلکہ جب کبھی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے تحت ہوگا اور میرے بعد خلق اللہ میں سے کوئی رسول نہیں جو شریعت لائے اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔ پس اس قسم کی نبوت منقطع ہوئی ہے اور اس کا دروازہ بند کیاگیاہے نہ کہ مقام نبوت۔ اس کے آگے فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کے آنے میں جو نبی اور رسول ہیں، کوئی اختلاف نہیں اور اس میں بھی کہ وہ نئی شریعت نہیں لائیں گے بلکہ شریعت محمدیہ کے ہی تابع ہوں گے۔ پس جب حضرت عیسیٰؑ کی نبوت ثابت اورمتحقق ہے اور وہ نبی اوررسول ہیں جو آنحضرتﷺ کے بعدظاہرہوئے لیکن آنحضرتﷺ اپنے اس قول میں بھی صادق ہیں کہ میرے بعد نبی

186

نہیں۔ پس ہم سمجھ لیتے کہ آپ کی مراد خاص نبوت تشریعی سے ہے جس کو اہل نظر اختصاص سے تعبیر کرتے ہیں۔

پھر لکھتے ہیں:’’فالنبوۃ مقام عنداللہ ینالہ البشر وھومختص بالاکابر من البشر یعطی للنبی المشرع ویعطی للتابع لھٰذ النبی المشرع الجاری علی قال اللہ تعالٰی فی القرآن ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھارون نبیاً فاذا نظر الی ھذا المقام بالنسبۃ الی التابع وانہ باتباعہ حصل لہ ھٰذا المقام سمی مکتسبا بھذا لاتباع اکتساباً الم یاتہ شرع من ربہ یختص بہ ولا شرع یوصلہ الٰی غیرہ وکذالک کان ھارون فسددناباب اطلاق لفظۃ النبوۃ علی ھذا المقام مع تحقیقہ لئلا یتخیل متخیل ان المطلق لھٰذا للفظ یرید نبوۃ التشریع فیغلط کما اعتقدہ بعض الناس فی الام الٰی حامد الغزالی‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۳،۴)

’’اس عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ نبوت خداتعالیٰ کے نزدیک ایک مقام ہے جس کوانسان حاصل کرتاہے اوریہ مقام اکابر لوگوں کے ساتھ مختص ہے جو نبی مشرع کو بھی ملتاہے اور اس مشرع نبی کے تابع کو بھی ملتاہے۔ اللہتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے کہ ہم نے حضرت موسیٰؑ کے بھائی ہارون کو اس کے لئے نبی بنایاہے۔ پس جب وہ اس مقام کی نسبت کو تابع اور اس کی اتباع کے لحاظ سے دیکھتاہے تو اس مقام کا نام مکتسب اور اس اتباع کے تعمیل کانام اکتساب رکھتاہے اورنہ توخداکی طرف سے اس کے لئے کوئی خاص شریعت آتی ہے اور نہ دوسروں کو پہچاننے کے لئے اورہارونm بھی ایسے ہی نبی تھے۔ اس وجہ سے ہم نے اس مقام پر باوجود اس کے متحقق ہونے کے لفظ نبوت کا اطلاق کرنا بندکردیا تاکوئی خیال کرنے والاغلط طور پر یہ خیال نہ کرلے کہ اس لفظ کے بولنے والی کی مراد نبوت تشریع ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے امام غزالی کے متعلق کہہ دیا ہے کہ وہ اکتساب نبوت کے قائل ہیں۔‘‘

اس حوالہ سے صاف طور پرمعلوم ہوتاہے کہ نبوت کی دوقسمیں ہیں ایک تشریعی دوسری غیرتشریعی۔ نبوت اسے کہتے ہیں کہ جو مستقل ہو اور وہ کسی نبی کی اتباع کے نتیجہ میں نہ ہو اور اسے کوئی شریعت دی جائے۔ چاہے وہ اس کے لئے خاص ہو اور دوسروں کے لئے اسے پہلی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہواوردوسری قسم کی نبوت غیرتشریعی ہے جواللہتعالیٰ کے نزدیک ایک مقام روحانی ہے جو کسی انسان کو کسی نبی کی اتباع کے نتیجہ میں ملتاہے اور ہارونm صاحب فتوحات کے نزدیک نبی غیرتشریعی تھے اور اس طرح حضرت عیسیٰؑ بھی نزول کے وقت غیرتشریعی نبی ہوں گے۔ مذکورہ بالا تمام حوالہ جات سے ثابت ہے کہ آنحضرتﷺکے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا،جو نئی شریعت لائے اورآپ کی شریعت میں کمی وبیشی کرنے والا ہو۔ لیکن مطلق نبی کاآنا ممتنع نہیں ہے۔

اب زیادہ سے زیادہ یہی اعتراض ہوسکتاہے کہ انہوں نے تو ایسے شخص پر جومقام نبوت کو بھی حاصل کرلے نبی کااطلاق جائز نہیں قراردیاتاکہ کوئی اس سے نبوت تشریعی نہ خیال کرلے۔ میں اسے تسلیم کرتاہوں۔ مگر ان کا یہ قول عموم کے لحاظ سے ہے۔ ورنہ مسیح موعود کو توخودنبی غیرمشرع مانتے ہیں اور ہارونm کو بھی۔ انہوں نے تابع نبی اورغیرمشرع قراردیاہے۔ لیکن باوجود اس کے خداتعالیٰ نے انہیں نبی کانام دیاہے۔ جیسا کہ: ’’ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھارون نبیا‘‘ سے ظاہرہے۔ پس ان کے مذہب کی روسے بھی جس تابع نبی کو خداتعالیٰ نبی قراردے دے تواس پر نبی اطلاق ہوسکتاہے اورایسے نبی کاآنا حدیث:’’لا نبی بعدی‘‘ اورآیت:’’خاتم النّبیین‘‘ کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے صرف ایسے نبی کا نہ آنا مراد ہے جوناسخ شریعت محمدیہ ہے۔ لاغیر! اصل بات یہ ہے کہ صوفیاء نے جو یہ کہاہے کہ ان کانام نبی نہیں رکھاجائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کوخداتعالیٰ کی طرف سے نبی کانام نہیں دیاگیاتھا۔ اس لئے انہوں نے مسیح موعود کوجن کے متعلق احادیث میں نبی کالفظ آیاتھا نبی کانام دیااوردوسروں کے متعلق ایسانہ کہا۔ لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود کوخداتعالیٰ کی طرف سے نبی کانام دیاگیاتھا۔ اس لئے آپ نے اسی حقیقت کوعلی رئوس الاشہاد ظاہرفرمایا کہ جس شخص کوآنحضرتﷺ

187

کی اتباع میں اور آپ میں فناہوکرخداتعالیٰ کی طرف سے نبی کانام عطاء ہو وہ ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے اور شیخ محی الدین ابن العربی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اہل اللہ کے بھی مختلف درجات اورمراتب ہیں اوراگربڑامرتبہ رکھنے والاایک بات کہے تواس کی بات بہ نسبت دوسروں کے قابل قبول ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:’’وسبب غلط الغزالی وغیرہ فی منع تنزل الملک علی الولّی عدم الذوق وظنھم انھم قد عملوا بسلوکہم جمیع المقامات فلما ظنوا ذالک بانفسھم ولم یروملک الالہام نزل علیھم انکروہ وقالوا ذالک خاص بالانبیاء فذوقھم صحیح وحکمھم باطل مع ان ہؤلآ الذین منعوا قائلون بان زیارۃ الثقتہ مقبولۃ واہل اللہ کلہم ثقات قال والوان ایا حامد امام الغزالی وغیرہ اجتمعوانی زمانہم بکامل من اھل اللہ واخبرھم بتنزل الملک علی الولی یقبلوا ذالک‘‘ (الیواقیت ج۲ ص۹۵)

اس عبارت کاماحصل یہ ہے کہ غزالی وغیرہ نے جویہ کہاہے کہ ولی پرفرشتہ نازل نہیں ہوتا تو اس غلطی کی وجہ عدم ذوق اوران کایہ خیال کرلیناہے کہ گویاانہوںنے سلوک کے تمام مقامات طے کرلئے۔ جب انہوں نے اپنے متعلق یہ خیال کرلیا اورفرشتہ الہام کواپنے اوپرنازل ہوتے نہ دیکھا توانہوں نے اس کاانکار کردیا اور کہا کہ فرشتہ کانزول انبیاء کے ساتھ خاص ہے۔ پس ان کاذوق توصحیح ہے لیکن حکم باطل ہے اور پھریہی لوگ جنہوں نے کہا کہ ولی پر فرشتہ نازل نہیں ہوتا، اس امر کے قائل ہیں کہ ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے اور تمام اہل اللہ ثقہ ہیں۔ اگر امام غزالی وغیرہ اپنے زمانہ میں کسی کامل اہل اللہ سے ملتے اور وہ انہیں ولی پر فرشتہ کے نزول کی خبردیتا تو وہ اسے ضرور قبول کرلیتے۔ پس اگر یہ بھی تسلیم کرلیاجائے کہ صوفیاء نے غیرتشریعی نبی کے متعلق یہ کہاہے کہ اسے نبی کانام نہیں دیاجاتاتو بھی کچھ حرج نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے اورجب ان میں سے کسی کوخداتعالیٰ نے نبی کانام نہ دیاتوانہوں نے خیال کرلیا کہ نبی کانام کسی کونہیں دیاجاتاتاکہ شریعت والی نبوت نہ سمجھ لی جائے۔ پس ان کا ذوق توصحیح ہے لیکن ان کا حکم باطل ہے۔ کیونکہ مہدی موعود ومسیح موعود کو جوبالاتفاق سب اہل اللہ سے افضل اورثقہ ہیں، خداتعالیٰ نے نبی کانام دیااور آپ نے ببانگ دہل فرمایا۔

’’میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذباللہ! آنحضرتﷺکے مقابل پرکھڑاہوکر نبوت کا دعویٰ کرتاہوں یاکوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جوآنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سومکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ میں پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امرکانام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کانام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتاہوں۔ولکل ان یصطلح‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

اوراصطلاح کے متعلق مولوی محمدقاسم صاحب بھی لکھتے ہیں: ’’اصل مطلب میں توشریک ہی نکلے لفظوں اور اصطلاح کاہی فرق رہا سو یہ کیابڑی بات ہے۔ مصرع ہریکے اصطلاحے دادہ ایم۔‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۳۰)

۵… مختار مدعیہ نے یہ بھی کہا ہے یہ عجیب بات ہے کہ وہ (احمدی) وہ حوالے پیش کرتے ہیں جوان کے مطلب کے ہیں۔ باقی عبارات جو ان میں ہیں وہ نہیں پیش کرتے۔ فتوحات میں بھرا پڑا ہے کہ مسیح زندہ ہیں اور ان کانزول ہوگا۔ اس کاجواب یہ ہے کہ آپ بھی توان کتابوں سے وہی حوالے پیش کرتے ہیں جوآپ کے مطلب کے ہیں۔ دوسرے نہیں پیش کرتے۔ ہم توان بزرگوں کے متعلق یہ رائے رکھتے ہیں کہ نزول مسیح کی پیش گوئی چونکہ مستقبل سے تعلق رکھتی ہے اورعلم غیب میں اجتہاد کودخل نہیں ہے۔ اس کی کیفیت وقوع کے سمجھنے میں غلطی ہوسکتی ہے اور ان سے یہ غلطی ہوئی۔ لیکن اس وجہ سے ہم ان کو تکفیر تونہیں کرتے۔ برخلاف اس کے آپ نے تویہ کہا ہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ اور ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنی صرف یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعدکسی قسم کاکوئی نبی نہیں آسکتااوراگر اس آیت وحدیث کے اس کے سواکوئی اور معنی کرے تووہ کافرہے۔ اس لئے ہمیں ضرورت پیش آئی کہ آپ لوگوں پراتمام حجت کرنے کے لئے ان بزرگوں کے اقوال پیش کریں جن

188

کوآپ مسلمہ بزرگ سمجھتے ہیں اوروہ’خاتم النّبیین‘‘ اور’’’لا نبی بعدی‘‘ کے وہی معنی کرتے ہیں جوجماعت احمدیہ کرتی ہے۔

مختارمدعیہ توہمارے طریق پرتعجب کااظہار کرتاہے اورقابل تعجب خود اس کاطریق ہے۔ یہاں تک کہ اس کے مسلم مقتداء مولوی خلیل احمدصاحب انبیٹھوی ومولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی بھی اس کے طریق کوقابل تعجب بتاتے اورادنیٰ طالب علموں کے تعجب کرنے کے لائق ٹھہراتے ہیں۔ چنانچہ البراہین القاطعہ جودونوں صاحبوں کی طرف منسوب ہے۔ (ص۸۸)پرفرماتے ہیں: ’’مؤلف نے یہ قاعدہ نیا ایجاد کیاہے کہ اگر کسی نے کسی کتاب سے کوئی روایت نقل کی تو وہ تمام کتاب ناقل کے نزدیک معتبر ہوجاوے یہ آج تک کسی نے نہیں لکھا۔ مثلاً ہدایۃ شرح وقایہ وغیرہ کتب سے استدلال لائے ہیں۔ مع ہذا! اس کی ضعیف روایت پرجرح کرکے ترک کردیتے ہیں۔ ترمذی ابودائودوغیرہما کتب سے سند لاتے ہیں۔ مع ہذا! جس روایت میں اس کے ضعف ہے اس کو ترک کرتے ہیں اس کوادنیٰ طالب علم بھی جانتاہے مگرمؤلف کہتاہے کہ مولوی محمداسحاق صاحب نے شیخ عبدالحق اورخزانہ اوردستور القضات سے روایات نقل کی ہیں توبس سب مرویات، منقولات ان کے نزدیک معتبرواجب القبول ہوگئی۔ یہ عجب العجاب استدلال ہے۔

حوالہ تحذیرالناس

پھرمختارمدعیہ نے مولوی محمدقاسم صاحب بانی مدرسہ دیوبند کے قول کے متعلق یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا ان کے قول مندرجہ (تحذیرالناس ص۲۸) سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کاہونا آپ کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ سو اس کے جواب میں میں ان کا وہی قول پیش کردیناچاہتاہوں اور اس امر کافیصلہ کہ آیاگواہان مدعاعلیہ اس سے جوکچھ سمجھتے ہیں صحیح ہے یانہیں۔ عدالت کے انصاف پرچھوڑتاہوں اور وہ قول یہ ہے: ’’بلکہ اگربالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیداہو توپھربھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یافرض کیجئے۔ اسی زمین میں کوئی نبی تجویز کیاجائے۔‘‘(تحذیرالناس ص۲۸)

اس عبارت کے الفاظ صاف سلیس سادہ آسان اور بالکل ہی عام فہم اردو زبان میں ہیں اوران میں برائے نام بھی ابہام نہیں ہے اور بوجہ اپنی انتہائی وضاحت کے ناظرین کوپکارپکار کربتارہے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کا پیداہونا حضورکی خاتمیت میں کوئی خلل ڈالنے والانہیںہے اورعلمائے عصر نے بھی اس عبارت کے یہی معنی سمجھے ہیں۔ چنانچہ ہندوستان کے شہرۂ آفاق عالم مولوی احمدحسن صاحب کان پوری اپنی کتاب افادات الاحمدیہ میں مقدمہ مقلد وغیرمقلد کے متعلق ہندکمیشن کے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’البتہ پیغمبری ختم ہوگئی اوریہ لفظ خاتم النّبیین قرآن شریف میں موجودہے۔ مگربعض علماء نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ اگرحضرت کے بعد یا حضرت کے زمانہ میں کوئی پیغمبر پیداہوتواس آیت کے منافی نہیں اور اس مسئلہ کی ایجاد سے ان پراور بہت سے علماء نے اعتراضات کئے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!‘‘ (افادات الاحمدیہ ص۴۵)

مولوی احمدحسن صاحب کے اس جواب سے ظاہرہے کہ مولوی محمدقاسم صاحب کی عبارت کے جوکچھ معنی وہ سمجھتے ہیں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ بلکہ اور بہت سے علماء بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ یعنی وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ مولانامحمدقاسم نے یہ بیان فرمایاہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی پیداہو تووہ خاتمیت محمدیہ میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

اوران علماء پرکیا موقوف ہے۔ ہرعالم وغیرعالم جوخواہ مخواہ حق پوشی وناحق کوشی سے کام لینا نہ چاہے۔ عبارت منقولہ بالا کے وہی معنی سمجھے گا جومولوی احمدحسن صاحب سمجھے ہیں۔

اگرچہ عبارت اپنے معنی کے اظہار میں کسی تشریح وتفصیل کی ہرگز محتاج نہیں تاہم میں یہ بھی دکھاناچاہتاہوں کہ خود مولانامحمدقاسم ہی کے قول سے اس کی کیاتشریح وتفصیل ثابت ہوتی ہے۔

189

آپ فرماتے ہیں: ’’اوّل معنی خاتم النّبیینa کرنے چاہئیں، تاہم فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔ سوعوام کے خیال میں تورسول اللہﷺ کاخاتم ہونابایں معنی ہے کہ آپ کازمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یاتأخرزمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔ پھر مقام مدح میں’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتاہے۔ ہاں! اگر اس وصف کواوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کومقام مدح نہ قراردیجئے توالبتہ خاتمیت باعتبار تأخرزمانی صحیح ہوسکتی ہے۔ مگر میں جانتاہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارہ نہ ہوگی کہ اس میں ایک تو خدا کی جانب نعوذباللہ! زیادہ گوئی کاوہم ہے۔ آخر اس وصف میں قدوقامت وشکل ورنگ وحسب ونسب وسکونت وغیرہ اوصاف میں جن کو نبوت یا اورفضائل میں کچھ دخل نہیں، کیا فرق ہے۔ جو اس کوذکرکیااوران کوذکر نہ کیا۔ دوسرے رسول اللہﷺ کی جانب نقصان قدرکااحتمال، کیونکہ اہل کمال کے کمالات ذکرکیاکرتے ہیں اورایسے ویسے لوگوں کے اس قسم کے احوال کب بیان کیاکرتے ہیں۔ اعتبار نہ ہوتوتاریخوں کودیکھ لیجئے۔ باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا۔ اس لئے سد باب اتباع مدعیان نبوت کیاہے جوکل جھوٹے دعویٰ کرکے خلائق کوگمراہ کریں گے۔ البتہ فی حدذاتہ قابل لحاظ ہے۔ پھرجملہ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ اورجملہ ’’ولٰکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ میں کیا تناسب تھا جوایک کودوسرے پرعطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو استدراک قراردیااورظاہرہے کہ اس قسم کی بے ربطی اوربے ارتباطی خداکے کلام معجز نظام میں متصور نہیں۔ اگر سد باب مذکورمنظورہی تھا تو اس کے لئے بیسیوں مواقع تھے۔ (تحذیر الناس ص۳)

اس تحریر سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔

۱… خاتم النّبیین سے آنحضرتﷺ کے زمانہ کوانبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اورآپ کو سب میں آخری نبی سمجھناعوام کاخیال ہے۔

۲… ’’لکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ مقام مدح میں فرمایاگیاہے۔

۳… تقدم وتأخرزمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں جب کہ اہل علم پر یہ بات روشن ہے۔

۴… باعتبار تأخرزمانی کے خاتم النّبیین کولینا اس وقت درست ہوسکتاہے۔ اگر اس وصف کواوصاف مدح میں سے نہ قراردیاجائے۔

۵… اوراوصاف مدح میں سے نہ لینے کی صورت میں ایک توخداتعالیٰ پرزیادہ گوئی کاالزام آتاہے۔ دوسرے آنحضرتﷺ کی قدرکم ہوتی ہے۔

۶… اگرآخری دین ہونے کے لحاظ سے سدباب اتباع مدعیان ثبوت کہو تو فی حدذاتہ قابل لحاظ ہے۔ لیکن اس کے لئے یہ موقع نہیں بلکہ بیسیوں اور مواقع اس کے بیان کرنے کے ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنا عقیدہ ظاہر کرتے ہیں۔

’’بلکہ بناء خاتمیت اوربات پرہے جس سے تأخرزمانی اورسدباب مذکورہ خود بخود لازم آتاہے اورفضیلت نبوی بالا ہوجاتی ہے۔‘‘(ص۳)

یعنی خاتم النّبیین کے وہ ایسے معنی کریں گے کہ جس سے آنحضرتﷺ کی شان بھی دوبالا ہوجائے اور تأخرزمانی بھی پایاجائے۔ یعنی آخری دین ہونے کی وجہ سے جوسدباب اتباع مدعیان نبوت ضروری تھا وہ بھی پوراہوجائے کہ آپ کے بعد اورکوئی نبی ایسانہیں ہوسکتا جونیا دین لائے۔ کیونکہ آپ کادین آخری دین ہے۔

اس کی تفصیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کاقصہ موصوف بالذات پرختم ہوجاتاہے۔ جیسے موصوف بالعرض کاوصف موصوف بالذات سے مکتسب ہوتاہے۔ موصوف بالذات کاوصف جس کا ذاتی ہونا اور مکتسب

190

من الغیر ہونالفظ بالذات میں سے مفہوم ہے۔ کسی غیر سے مکتسب اورمستعار نہیں ہوتا۔ مثال درکارہے تولیجئے۔ زمین وکوہسار اور درودیوار کانوراگرآفتاب کا فیض ہو تو آفتاب کا نورکسی اورکافیض نہیں اور ہماری غرض وصف ذاتی ہونے سے اتنی ہی تھی۔ بایں ہمہ اگریہ وصف آفتاب کاذاتی نہیں تو جس کاتم کہو، وہی موصوف بالذات ہوگا اوراس کا نور ذاتی ہوگا اور کسی اورسے مکتسب اورکسی اور کافیض نہ ہوگا۔ الغرض یہ بات بدیہی ہے کہ موصوف بالذات سے آگے سلسلہ ختم ہوجاتاہے۔‘‘

موصوف بالذات اور موصوف بالعرض میں یہ فرق ہواکرتاہے کہ موصوف بالذات کوجوچیز حاصل ہوتی ہے، وہ بلاواسطہ اورذاتی ہوتی ہے اورموصوف بالعرض کاوصف بالواسطہ مکتسب ہوتاہے اورکسی دوسرے کا فیض ہوتاہے۔ جس کا وصف بالذات ہوتاہے وہ سلسلہ اس پر ختم ہوجاتاہے۔ چنانچہ آفتاب پراگر اس کا نور ذاتی ہے تو ہم کہیں گے کہ اس پر نور کاسلسلہ ختم ہے۔ لیکن اس سے یہ مراد قطعاً نہیںہوگی کہ اس کے واسطہ سے بھی نور حاصل نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ آپ اس تقریر کا نتیجہ یہ تحریرفرماتے ہیں: ’’سو اسی طور پررسول اللہﷺ کی خاتمیت کوتصورفرمائیے۔ یعنی آپ موصوف بوصف نبوت خاص ہیں اورسواء آپ کے اورنبی موصوف بوصف نبوت بالعرض اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے۔ پرآپ کی نبوت کسی اور کافیض نہیں۔ آپ پر سلسلہ نبوت مختتم ہوجاتاہے۔ غرض آپ جیسے نبی الامۃہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ہیں اوریہی وجہ ہوئی کہ بشہادت ’’واذ اخذ اللہ میثاق النّبیین… الخ!‘‘ اور انبیاء کرامo سے آپ پرایمان لائے ہیں اور آپ کے اتباع اوراقتداء کاعہد لیاگیا۔ ادھرآپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰؑ بھی زندہ ہوتے تو میری ہی اتباع کرتے۔ علاوہ ازیں بعد نزول حضرت عیسیٰؑ کا آپ کی شریعت پرعمل کرنا اسی بات پرمبنی ہے اور رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد کہ:’’علّمت علم الاوّلین والآخرین‘‘ بشرط فہم اسی جانب مشیر ہے۔ شرح اس معمہ کی یہ ہے کہ اس ارشاد سے ہرخاص وعام کویہ بات واضح ہے کہ علوم اوّلین مثلاً ادیان اورعلوم آخرین اور لیکن وہ سب علوم رسول اللہﷺ میں مجتمع ہیں۔ عالم حقیقی رسول اللہﷺ ہیں اور انبیاء باقی اور اولیاء اورعلماء گزشتہ ومستقبل اگرعالم ہیں تو بالعرض ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی اہل فہم جانتے ہیں کہ نبوت کمالات علمی میں سے ہے۔‘‘(ص۴)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے۔

۱… آنحضرتﷺ کی نبوت بالذات ہے اورآپ کی نبوت کسی کا فیض نہیں ہے۔ دوسروں کی نبوت بالعرض اورآپ کافیض ہے۔

۲… اس کمال کی وجہ سے نبوت آپ پرختم ہے کہ آپ کی طرح نبوت سے موصوف بالذات کوئی نہیں ہوسکتا جو بھی ہوگا بالعرض ہوگا۔ گزشتہ زمانہ میں ہوا ہویاآئندہ زمانہ میں ہو۔

۳… اس وجہ سے بھی آپ خاتم النّبیین ہیں کہ نبوت کمالات علمی میں سے ہے۔ اگرآپ میں تمام کمالات علمیہ جمع ہیں۔

۴… جیسے آپ نبی الامت ہیں ویسے ہی آپ نبی الانبیاء بھی ہیں۔ یعنی آپ جیسے اپنی امت کے روحانی معنوی باپ ہیں۔ اسی طرح آپ انبیاء کے بھی روحانی باپ ہیں۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’نیز اس صورت میں جیسے قرأت خاتم بکسرالتاء چسپاں ہیں ایسے ہی قرأت بفتح التاء بھی نہایت درجہ کو بے تکلف موزوں ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جیسے قرأت خاتم بفتح التاء کا اثر اورنقش مختوم علیہ میں ہوتاہے۔ ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتاہے۔ حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوت معروفہ تورسول اللہﷺ کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں ہے پر ابوۃ معنی امتیوں کو بھی حاصل ہے۔ انبیاء کی نسبت توفقط خاتم النّبیین شاہد ہے۔ سوجب ذات بابرکات محمدی موصوف بالذات بالنبوۃ

191

ہوئی اور انبیاء باقی موصوف بالعرض تو یہ بات اب ثابت ہوگئی کہ آپ والد معنوی ہیں اورباقی انبیاء آپ کے حق میں بمنزلہ اولاد معنوی اورامتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہمیں غور کیجئے۔(ص۱۰،۱۱)

پھرلکھتے ہیں: ’’اطلاق خاتم اس بات کو مقتضی ہے کہ تمام انبیاء کاسلسلہ آپ پرختم ہوتاہے۔ جیسے انبیاء گزشتہ کاوصف نبوت میں حسب تقریر مسطور اس لفظ سے آپ کی طرف محتاج ہوناثابت ہوتاہے اورآپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج نہ ہونا۔ اس میں انبیاء گزشتہ ہوں یاکوئی اور۔ اس طرح اگر فرض کیجئے آپ کے زمانہ میں بھی اس زمین میں یا کسی اورزمین میں یاآسمان میں کوئی نبی ہو تو یہ بھی اس وصف نبوت میں آپ ہی کا محتاج ہوگا اوراس کاسلسلہ نبوت بہر طور پرآپ پرمختتم ہوگا اورکیوں نہ ہو عمل کاسلسلہ علم پرختم ہوتاہے۔ جب علم ممکن بشر ہی ختم ہوگیا تو پھر سلسلہ علم وعمل کیا چلے۔ غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا توآپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا۔ بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اورکوئی نبی ہو جب بھی آپ کاخاتم ہونا بدستور باقی رہتاہے۔‘‘(ص۱۴)

اس عبارت سے بھی واضح ہے کہ آنحضرتﷺ پر سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ نبوت جوکمالات علم میں سے ہے وہ رسول اللہﷺ میں اتم واکمل طور پرموجود ہے اوراس سے زیادہ علم کا حصول بشر کے لئے ممکن نہیں۔ اس وجہ سے جوبھی نبی ہو یا فرض کیجئے آئندہ ہو توہم کہیں گے کہ اس کی نبوت اورکمالات علمیہ بھی آنحضرت پرختم ہیں۔ کیونکہ آپ مستجمع جمیع کمالات انبیاء ہیں اور آپ نبوت سے موصوف بالذات ہیں اورکسی کے محتاج نہیں۔ لیکن باقی نہیں موصوف بالعرض ہونے کی وجہ سے وصف نبوت میں آپ کے محتاج ہیں۔ اگرغور سے دیکھاجائے تواس میں ایک لطیف نکتہ بیان کیاگیاہے، وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے انبیاء سے آخر میں آنے اورانہیں ختم کردینے کے توکوئی معنی ہی نہیں بنتے۔ کیونکہ اگرکہو کہ پہلے انبیاء کوختم کردیا تووہ پہلے ہی ختم ہوچکے تھے۔ ان کا ختم کرناکیا اورآئندہ کوئی آنانہیں تھا جواسے ختم کرتے۔ لیکن بلحاظ مراتب کے خاتمیت لینانہایت موزوں ہے۔ کیونکہ اس سے مراد یہ ہوگی کہ حضرت عیسیٰؑ نبی تھے اورانہیں کچھ کمالات حاصل تھے۔ لیکن آنحضرتﷺ ان کمالات کوحاصل کرکے آگے بڑھ گئے۔ اس لئے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کوآپ نے ختم کردیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم، حضرت نوحo وغیرہ کی نبوت چندکمالات کی جامع تھی جوآنحضرتﷺ حاصل کرکے ان سے بھی آگے نکل گئے۔ اسی طرح ان کی نبوتیں بھی آپ نے ختم کر دیں اور معراج میں یہی بات دیکھائی گئی کہ آپ تمام نبیوں کو چھوڑ کر ان سے آگے نکل گئے۔ اس وجہ سے آپ تمام انبیاء کے خاتم ٹھہرے کہ ان تمام کے کمالات آپ پرختم ہوگئے اورآپ سب کے جامع ہوئے۔ اس لحاظ سے مولوی محمدقاسم صاحب فرماتے ہیں کہ جوانبیاء پہلے گزرچکے ہیں۔ ان کے لحاظ سے توآپ کی خاتمیت زمانی سے انکار نہ ہوسکے گا۔

’’ہاں! اگرخاتمیت بمعنی اتصاف بوصف نبوت لیجئے۔ جیسا کہ اس ہیچ مدان نے عرض کیاہے توپھرسوائے رسول اللہﷺ اورکسی کوافراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبویa نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ہی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہوگی۔ افراد مقدرہ پربھی آپ کی فضیلت ثابت ہوجائے گی۔ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبویaبھی کوئی نبی پیداہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور کوزمین میں یافرض کیجئے۔ اسی زمین میں کوئی اورنبی تجویز کیاجائے۔‘‘ (ص۲۸)

اس تمام تقریرکاخلاصہ یہی ہے کہ مولوی محمدقاسم صاحب خاتم النّبیین کے معنی ایسے لیتے ہیں جن کی رو سے آنحضرتﷺ کے زمانہ میں یاآپ کے بعد بھی کوئی نبی آئے جوآپ کی نبوت کامحتاج ہو اور اس کی نبوت وصف بالعرض ہو نہ بالذات۔ وہ بھی آپ کے

192

خاتمیت کے منافی نہیں ہے اور خاتمیت کے معنی یہ ہیں کہ آپ پر تمام کمالات نبوت ختم ہوگئے اورآپ ہی ہرزمین اورہرزمانے کے بادشاہ ہیں اورحضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ؎

  1. تمت علیہ صفات کل مرتبۃ

    ختمت بہ نعماء کل زمان

کہ آپ پرتمام اعلیٰ صفات پوری ہوگئیں اور آپ پرہرزمانہ کی نعمتیں ختم ہوگئیں۔

پھرمولانا فرماتے ہیں: ’’وہ نبی جوصفت العلم سے مستفید ہو اور بارگاہ علمی تک باریاب ہو۔ تمام انبیاء سے مراتب میں زیادہ اوررتبہ میں اعلیٰ اورسب کا سردار اورسب کامخدوم ومکرم ہوگا اورسب اس کے تابع ومحتاج ہوں گے۔ اس پر مراتب کمالات ختم ہوجائیں گے۔ اس لئے وہ نبی خاتم الانبیاء بھی ضروری ہوگا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انبیاء بوجہ احکام رسانی مثل گورنر وغیرہ نوائب خداوندی ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کاحاکم ہوناضروری ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے۔ اس لئے جیسے عہد ہائے ماتحت میں سب میں اوپر عہدہ گورنری یاوزارت ہے اورسواء اس کے اور سب عہدے ماتحت ہوتے ہیں اوران کے احکام کو وہ توڑ سکتاہے۔ اس کے احکام کوکوئی اورنہیں توڑ سکتا اور وجہ اس کی یہی ہوتی ہے کہ اس پرمراتب عہدہ جات ختم ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی خاتم مراتب نبوت کے اوپر اورکوئی عہدہ یامرتبہ ہوتاہی نہیں۔ جو ہوتاہے اس کے ماتحت ہوتاہے۔ اس لئے اس کے احکام اوروں کے احکام کے ناسخ ہوں گے۔ اوروں کے احکام اس کے احکام کے ناسخ نہ ہوں گے اور اس لئے یہ ضرورہے کہ وہ خاتم زمانی بھی ہو۔ کیونکہ اوپر کے حاکم تک نبوت سب حکام ماتحت کے بعد میں آتی ہے اوراس لئے اس کا حکم اخیرحکم ہوتاہے۔‘‘(مباحثہ شاہ جہان پور ص۲۴،۲۵)

پھرجیسے گورنر خاتم الحکام کے ماتحت ہوکر کسی حاکم کاآنا اس کی خاتمیت کے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح خاتم النّبیین کے ماتحت ہوکر اور آپ کے احکام کے نفاذ کے لئے کسی نبی کاآنا آپ کی خاتمیت کے منافی نہیں ہے۔ اگر کسی نبی کاآنا آپ کی خاتمیت کے خلاف ہو تووہ ایسا نبی ہے جوآپ کے احکام کوآخری احکام نہ سمجھے اوران کومنسوخ کرے۔ ورنہ ایسانبی جو آپ کی شریعت کامتبع ہو اورآپ کی غلامی کادعویٰ کرے وہ آپ کی خاتمیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ اس کی نبوت آپ کی نبوت سے علیحدہ نہیں بلکہ اسی سے مستفیض ہے۔

چنانچہ مولوی محمدقاسم صاحب فرماتے ہیں: ’’جیسے اس وقت اگرگورنر سابق بھی موجود ہو تو لارڈلٹن ہی کا اتباع کرے جوگورنر زمانہ حال ہے۔ ایسے ہی اس زمانے میں اگر حضرت موسیٰؑ اورحضرت عیسیٰؑ بھی موجود ہوتے توان کوچارناچار رسول عربیa ہی کااتباع کرناپڑتا۔ پس آنحضرتﷺ کا متبع ہوکر کسی نبی کاآنا منافی خاتمیت نہیں۔ ‘‘

اس امر کی تائید میں ایک اور حوالہ پیش کردینا بھی ضروری معلوم ہوتاہے۔ تحذیرالناس میں جس حدیث پربحث ہے اسی حدیث پرکتاب نصر المومنین میں بھی بحث کی گئی ہے اورجن لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قراردیاہے ان کوعلماء نے ارتداد اورکفر صریح کی طرف نسبت دے کر اس کے پیچھے نماز پڑھنے اوراس کے پاس بیٹھنے کوناجائز قراردیاہے۔(نصرالمومنین ص۲،۳،۴،۶)

اوراس فتویٰ پرچودہ علماء کی مواہیر ہیں۔

پھر اس کتاب کے (ص۷) میں اس حدیث کوضعیف اورموضوع قراردینے والوں کے اس سوال کا کہ النّبیین میں الف لام استغراق کاہے۔ اس لئے آپ تمام قسم کے انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔ یہ جواب دیاہے: ’’ہم نہیں تسلیم کرتے کہ الف لام النّبیین میں استغراق کاہے۔ بلکہ عہد کے لئے ہے اور مراد النّبیین سے وہ ہیں کہ جوحضرت آدمm سے لے کرآنحضرتﷺ تک ہوئے اسی طبقہ علیا میں تھے اور یہ اگرچہ ایک احتمال ہے لیکن باعتبار اصول کے یہ بات بہت قوی ہے۔‘‘

193

پھر لکھتے ہیں: ’’اہل اسلام کے بعض فرقے ختم نبوت کے ہی قائل نہیں اور بعض قائل ختم نبوت تشریعی کے ہیں نہ مطلق نبوت کے۔‘‘(نصرالمومنین مطبوعہ نور کانپور۱۲۹۱ھ)

آخری جملہ میں تو بعض ایسے فرقوں کاذکرکرکے جو تشریعی نبوت کے ختم ہونے کے بھی قائل نہیں ہیں ان کو بھی مسلمان ہی قراردیاہے اورمختاران مدعیہ صرف ختم نبوت غیرتشریعی نہ ماننے والوں کو بھی کافر کہنے سے نہیں رکتے اورمختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ مولوی محمدقاسم صاحب نے مناظرہ عجیبہ میں یہ لکھاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کااحتمال نہیں تواس سے مراد وہی لی جائے گی جو ان تصریحات کے خلاف نہ ہو اوران کو ملحوظ رکھ کر ایسا ہی نبی ہوسکتاہے جو نیا دین لائے۔ جیسا کہ (تحذیرالناس ص۳) میں مولوی محمدقاسم صاحب نے اس امر کی تصریح کردی ہے کہ یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا۔ اس لئے سدباب اتباع مدعیان نبوت کیاہے جوکل جھوٹے دعویٰ کرکے خلائق کوگمراہ کریں گے۔ البتہ قابل لحاظ ہے۔ پھرآپ کے اس قول سے کہ آئندہ نبی کے آنے کااحتمال نہیں۔ ایسا ہی نبی مراد لیاجاسکتاہے جس کے آنے سے آنحضرتﷺ کا دین آخری دین نہ رہے اوراسی طرح (تحذیر الناس ص۱۰) کی عبارت میں بھی اس قسم کے نبیوں کے لحاظ سے انہوں نے آنحضرتﷺ کوخاتم زمانی ماناہے۔ ورنہ وہ بغیردین جدید وشریعت جدیدہ کے حضرت عیسیٰؑ کاآنحضرتﷺ کے بعد نبی ہوناتسلیم کرتے ہیں۔‘‘

علاوہ ازیں اگر ان کے معنوں میں اور دیگر علماء کے معنوں میں کوئی فرق نہ ہوتا اور وہ دیگر علماء کی طرح آنحضرتﷺ کوخاتم زمانہ تسلیم کرتے توانہیں ان کی تکفیر کی کیاضرورت تھی۔ جیسا کہ نصرالمومنین کے حوالہ سے اوپرذکرہوچکاہے کہ اہل اسلام کے بعض فرقے ختم نبوت تشریعی کے ہیں۔ ایساہی فقہاء نے بھی لکھاہے کہ:’’ای کفر بقولہ لا اعلم ان آدمm نبی اولا ولوقال اٰمنت بجمع الانبیاء علیھم السلام وبعدم معرفۃ ان محمداa آخرالانبیاء عبدالبعض‘‘ (البحرالرائق ج۵ ص۱۳۰)

یعنی اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ آدمm نبی ہیں یانہیں تووہ کافرہوجائے گا۔ لیکن اگرکوئی کہے کہ میں تمام انبیاء پرایمان لایا اورمحمدa کے آخر الانبیاء ہونے کی عدم شناخت پر،توبعض کے نزدیک کافر ہوگا۔ اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتﷺ کوان معنوں میں آخری نبی ماننا جس کامختار اورگواہان مدعیہ دعویدار ہیں اکثر علماء کے نزدیک ضروریات دین سے نہیں ہے اور نہ ہی موجوب کفرہے۔

باقی حوالے جن میں ’’لا نبی بعدی‘‘ اور ’خاتم النّبیین‘‘ کے یہ معنی کئے گئے ہیں کہ آپ کے بعد ایسانبی نہیں آسکتاجوناسخ شریعت محمدیہ ہو یاجیسا کہ مولانا جلال الدین رومی نے مثنوی دفتر ششم میں لکھاہے۔ خاتم النّبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ پرتمام کمالات نبوت ختم ہوگئے۔ ان سب پرمختارمدعیہ نے کوئی جرح نہیں کی۔ البتہ اقتراب الساعۃ کے حوالہ کے متعلق یہ کہاہے کہ وہ نواب صدیق حسن خان کی تالیف ہے۔ اس لئے غیر مسلم ہے۔ نواب صدیق حسن خان صاحب کی شخصیت کے متعلق زیر عنوان۔

سلف صالحین کا عقیدہ دربارہ وحی

ذکرکرچکاہوں اوریہاں اتنا اشارہ کردیناضروری سمجھتاہوں کہ اقتراب الساعۃ سے جویہ حوالہ پیش کیاگیاہے کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آپ کے بعدکوئی نبی ناسخ شریعت محمدیہ نہیں آئے گا۔ درحقیقت اس کے قائل امام ملّا علی قاری ہیں۔ جیسا کہ پہلے حوالہ کتاب ’’الاشاعۃ لاشراط الساعۃ‘‘ گزرچکاہے۔

پس ائمہ سلف کے اقوال سے ظاہرہے کہ آنحضرتﷺکے خاتم النّبیین ہونے اور آپ کے قول ’’لا نبی بعدی‘‘ سے یہ مراد ہے کہ آپ کے بعد مستقل صاحب شرع جدید کوئی نبی نہیں آسکتا جوآپ کی شریعت کے احکام کومنسوخ کرے۔

194

(۶) سیاق وسباق کے لحاظ سے آیت کے معنی

اس آیت کی تفسیر کے لئے ملاحظہ ہوبیان گواہان مدعاعلیہ۔

(۷) خاتم النّبیین کے صحیح معنی

خاتم بفتح التاء کے اصل معنی عربی زبان میں انگوٹھی یامہر کے ہیں اورگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ان معنی کے اثبات کے لئے حدیث اورتفسیر اورلغت کوپیش کیاتھا۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ لیکن مختارمدعیہ نے اس پریہ جرح کی ہے کہ منجد سے جوحوالہ پیش کیاگیاہے وہ مفرد ہے اور کتاب اللہ میں مضاف ہوکر استعمال ہواہے۔ یہاں بحث مضاف کے اندرہے۔ لہٰذا غیر متعلق ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ مختارمدعیہ کا یہ قول کس حدتک قابل التفات ہے۔ کیونکہ تھوڑی سی عقل رکھنے والا شخص بھی جان سکتاہے کہ مضاف اور مضاف الیہ کے معنی کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں کے علیحدہ علیحدہ معنی معلوم ہوں۔ ورنہ اس کے معنی کوئی کرہی نہیں سکتا۔ پس خاتم کے حقیقی معنی معلوم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ مفرد ہونے کی صورت میں کس معنی میں استعمال ہوتاہے اورخاتم کالفظ مہر اورانگوٹھی کے معنی میں احادیث میں بکثرت استعمال ہواہے اورگواہ مدعیہ نمبر۳نے۲۹؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ لغت والوں نے تصریح کی ہے۔ خاتم بفتح التاء مہرکے معنوں میں بھی ہے۔

اورگواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں وضاحت سے بیان کردیاہے کہ آنحضرتﷺ فی الحقیقت مہریاانگوٹھی نہیں۔ پھرجوآپ کونبیوں کاخاتم کہاگیا تووہ اس لئے کہ آپ کے خاتم النّبیین ہونے اور حقیقی مہریاانگوٹھی میں مندرجہ ذیل وجہ شبہ ہوسکتی ہے۔

۱… زینت جیسا کہ فتح البیان کے حوالہ سے ظاہر ہے۔ (فتح البیان ج۷ ص۲۸۶،مطبوعہ ص۴۲)

۲… احاطہ جیسے انگوٹھی انگلی کوگھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ ایسے آپ بھی تمام نبیوں کے محیط ہیں۔ یعنی ان کے تمام کمالات کے جامع ہیں۔ جیسا کہ مولوی محمدقاسم صاحب بھی فرماتے ہیں: ’’اس ارشاد سے ہرخاص وعام کویہ بات واضح ہے کہ علوم اوّلین مثلاًادیان اور علوم آخرین اورلیکن وہ سب علوم رسول اللہﷺ میں مجتمع ہیں۔‘‘ (تحذیرالناس ص۴)

اورکمال کے اظہار کے لئے لغت عرب اور دوسرزبانوں میں بکثرت خاتم اور ختم کالفظ استعمال ہواہے اوران معنی کی تائید میں گواہان مدعاعلیہ نے منجملہ اوربہت سے حوالہ جات کے ایک حوالہ فتوح الغیب کا، ’’بک تختم الولایۃ‘‘ اورایک وفیات الاعیان سے مجمع القریض بخاتم الشعراء شعرنہیں کہاتھا۔ مگرمختارمدعیہ نے فتوح الغیب کے حوالہ کے متعلق یہ کہاہے کہ اس میں توخاتم الولایۃ کاذکرہے۔ نبوت کاتوذکرہی نہیں۔ اس لئے یہ غیر متعلق ہے۔ گویاکہ مختارمدعیہ کے نزدیک جب خاتم کالفظ ولایت کی طرف منسوب ہو تو پھر آخرکے معنی نہیں ہوتے۔ لیکن جب نبوت کی طرف مضاف ہوتواس کے معنی آخر کے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا مختارمدعیہ کے نزدیک اس تفریق معنی کی دلیل سوائے تعصب کے اور بھی کوئی ہے۔ ہرگزنہیں۔

اوراس شعر کے متعلق مختارمدعیہ نے تین باتیں کہی ہیں۔

اوّل… اشعار سے قرآن مجیدکوحل کرناتنقیص کلام الٰہی ہے۔

جواب: معلوم ہوتاہے۔ مختارمدعیہ کوبالکل قرآن مجید کی تفاسیر دیکھنے کاموقعہ بھی نہیں ملا۔ کیونکہ تفسیروں میں قرآن مجید کے مشکل الفاظ کوحل کرنے کے لئے جابجا شعروں کو پیش کیاگیاہے اور امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں لکھاہے: ’’قال ابوبکر بن الانباری قد جاء عن الصحابۃ والتابعین کثیر الاحتجاج علی غریب القرآن ومشکلہ بالشعر وانکر جماعۃ

195
لاعلم لھم النحویین ذالک‘‘ (اتقان ج۱ ص۱۴۹)

یعنی ابوبکرابن الانباری نے کہاہے کہ قرآن مجید کے مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے میں صحابہ اور تابعین سے بکثرت شعر سے حجت پکڑنا ثابت ہے اوربعض بے علم لوگوں نے نحویوں پراس امر کو برا منایاہے کہ انہوں نے شعروں کو کیوں پیش کیا۔

اور اسی لکھتے ہیں:’’قال ابن عباس الشعر دیوان العرب فاذا خفی علینا الحرف من القرآن الذی انزلہ اللہ بلغۃ العرب رجعنا الی دیوانھا فالتمسھا معرفۃ ذالک منہ‘‘

یعنی ابن عباس نے فرمایا کہ شعرعرب کادیوان ہے۔ جب قرآن کاجسے خداتعالیٰ نے عربی زبان میں اتاراہے کوئی حرف ہم پرمخفی ہوجائے۔ یعنی اس کے معنی سمجھنا مشکل ہوجائیں توہم عرب کے دیوانوں کی طرف رجوع کرکے اس کے اصل معنی جان لیں گے۔

پس یہ کہنا کہ اشعار کوقرآن مجید سے حاصل کرنا تنقیص کلام الٰہی ہے۔ اپنے آپ کوبے علم لوگوں کی صف میں داخل کرناہے۔

دوم… قرآن مجید میں جمع مذکرسالم کی طرف مضاف ہے اور یہاں جمع تکسیر کی طرف۔ لہٰذا یہ شعرمابہ النزاع بحث سے خارج ہے۔

جواب: منجد کے حوالے کے مقابلہ میں توانہوں نے صرف یہ عذرکیاہے کہ یہ مفرد ہے اور کتاب میں مضاف ہوکراستعمال ہواہے اوراس طرح گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ کہاہے کہ

۱… خاتم کالفظ جب جمع کی طرف مضاف ہوتواس کے معنی آخر کے ہوتے ہیں۔ لیکن جب خاتم الشعرا کی مثال پیش کی گئی کہ اس میں توخاتم کالفظ جمع کی طرف مضاف ہے اوراس کے معنی آخرکے نہیں تومختارمدعیہ نے یہ عذرپیش کردیا کہ شعراء توجمع تکسیر ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں النّبیین جمع مذکرسالم ہے۔ لہٰذا یہ شعر مابہ النزاع بحث سے خارج ہے۔ یعنی مختارمدعیہ کے نزدیک اگرخاتم الانبیاء اورخاتم الرسل کہاجاتا توپھراس کے معنی آخرکے نہیں۔ کیونکہ الانبیاء اورالرسل جمع تکسیر ہیں۔ جمع مذکرسالم نہیں اور اگر النّبیین جمع مذکرسالم کہاجائے توپھرآخر کے معنی ہوتے ہیں۔

پس خاتم کے لفظ کے جمع مذکرسالم یاجمع تکسیرکی طرف مضاف ہونے سے معنوں میں کوئی فرق نہیں آتاخاتم النّبیین کہنایاخاتم الانبیاء کہنایاخاتم المرسلین یاخاتم الرسل کہنا معنوی لحاظ سے ایک ہی ہے۔

سوم… شعرا جاہلی واسلامی کے اقوال کوبطور سند پیش کیاجاسکتاہے نہ کہ بعد کے شاعروں کے اقوال کو۔

جواب: یہ مختارمدعیہ کااپناوضع کردہ اصول ہے۔ عربی زبان ایک زندہ زبان ہے۔ اس کے جوادیب شعراء گزرے ہیں۔ جب تک ان کے قول کے خلاف شعراء جاہل میں سے کوئی قول پیش نہ کیاجائے۔ ان کا قول بھی ایک مختلف فیہ لفظ کے معنی بیان کرتے وقت بطور سند کے پیش ہوسکتاہے اورمابہ النزاع بحث میں توقرآن مجیدکے زمانہ کے بعد شاعروں کاقول بدرجہ اولیٰ پیش کیاجاناچاہئے۔ کیونکہ اگر قرآن مجید میں خاتم النّبیین میں لفظ خاتم کے معنی عربی زبان کی رو سے محض آخرہی کے ہوتے توپھر اس کے بعد کوئی اسلامی شاعرخاتم کے لفظ کودوسرے معنی میں استعمال نہیں کرسکتاتھا۔

اورختم کالفظ اردو زبان میں بھی کمال کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ چنانچہ مولوی محمدقاسم صاحب کے متعلق مولوی محمدیعقوب صاحب نانوتوی اپنی کتاب ’’حالات طیب مولوی محمدقاسم صاحب مرحوم‘‘ مطبوعہ صادق الانوار بہاولپور میں لکھتے ہیں: ’’مہمان نوازی مولوی صاحب پرختم ہے۔‘‘

اس فقرہ میں قطعاً یہ منشاء نہیں ہے کہ آپ کے سواء کوئی اورمہمان نواز تھا یانہیں ہے۔

196

تیسری وجہ شبہ یہ ہے کہ مہرتصدیق کے لئے ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرتﷺ نبیوں کی تصدیق ہوئے۔ دومعنوں کے لحاظ سے ایک تواس لحاظ سے کہ تمام انبیاء نے آپ کے آنے کی بشارت دی اورتصدیق کی

دوسرے اس لحاظ سے کہ آپ مصدق النّبیین ہوئے۔ کیونکہ کسی نبی کی نبوت بدوں آپ کی مہر تصدیق ثبت ہونے کے ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس کی تفصیل دیکھو مع امثلہ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اس کے علاوہ عربی زبان کی روسے خاتم کے معنی علامت کے بھی ہیں۔ چنانچہ مجمع البحار میں زیر لفظ ختم لکھاہے: ’’فی اعناقھم الخواتم اراد بہ اشیاء من ذھب وغیرہ معلق فی اعناقھم یعرفون بھا‘‘

آنحضرتﷺ کے اقوال کہ ان کے گلوں میں خواتم ہوں گی سے یہ مراد ہے کہ ان کے گلے میں سونے وغیرہ کی چیزیں ڈالی جائیں گی جن سے ان کی شناخت ہوگی۔

پھرحدیث آمین خاتم رب العالمین کے معنی لکھے ہیں: ’’ای العلامۃ التی تدفع عنھم الاعراض والعاھات‘‘ کہ خاتم سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک نشانی ہوگی جوان سے بیماریاں اور آفات دور کرے گی۔

اس سے معلوم ہوا کہ خاتم کے معنی علامت کے بھی ہیں اور اس کی تصدیق شعراء عرب کے کلام سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ ابان بن عبدہ شاعرحماسی کہتاہے ؎

  1. ببیض خفاف مرھفات قواطع

    لداوٗد فیھا اثرہ وخواتمہ

اس کا ترجمہ مولوی ذوالفقار علی صاحب دیوبندی نے یہ کیاہے۔ ’’الخواتم الاعلام‘‘ ہم ان سے لڑیں ساتھ صیقل دار سبک تیز برندہ تلواروں کے جن میں حضرت دائود کی نشانیاں اور پتے ہیں یعنی بہت پرانے ہیں۔(حماسہ مجتبائی ص۱۸۴)

اس لحاظ سے خاتم النّبیین کے معنی علامۃ النّبیین کے ہوئے کہ آپ کے ذریعہ انبیاء شناخت کئے جاتے ہیں اور آپ کی ذات معیار نبوت ہے جو آپ کے اسوۂ حسنہ پرہوگا وہ نبی ہے۔ پس آپ انبیاء کے صدق وکذب جانچنے کے لئے بطور معیار کے ہیں جن معیاروں کی رو سے آپ کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ معیار کسی نبی میں پائے جائیں تو وہ بھی صادق ہوگا۔

زبان عرب میں خاتم بفتح التاء کالفظ کبھی اخیر کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ آخر کے معنوں میںجب بھی استعمال ہواہے تووہ لازم معنی لے کرنہ کہ اصل معنی کی روسے۔

خاتم کے معنی آخر

مختارمدعیہ نے صرف ایک حوالہ لسان العرب اورمنتہی الارب سے پیش کیاہے جس میں لکھاہے: ’’خاتم القوم آخرہم‘‘ لیکن جب کہ ہم نے محاورات عرب سے معین اقوال اور استعمالات پیش کئے ہیں۔ یہ ویسے نہیں ہے۔ کیونکہ مصنف نے یہ قول کسی کی طرف منسوب نہیں کیا کہ کس شاعر نے یاکس ادیب نے خاتم القوم کوآخرہم کے معنوںمیں استعمال کیاہے۔ لیکن برتقدیر صحت میں کہتاہوں کہ یہ حوالہ بھی فریق مخالف کومفید نہیں ہے۔ کیونکہ محاورات عرب میں ایسے مقام پر آخر کے معنی آخری فرد کے نہیں ہوتے۔ بلکہ اشرف اورافضل کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ قیس حواسی شاعر کہتاہے ؎

  1. شری ودی وشکری من بعید

    لاٰخر غالب ابدا ً ربیع

اس کی شرح میں لکھاہے: ’’وابداً قید لاخر واراد بہ نفس بقول شری ودی وشکری ربیع من مکان بعید لرجل ھوآخر بنی غالب ابداً حیث لایکون مثلہ فیھم یعنی شری لنفسہ‘‘ (حماسہ مصری ص۱۳۱)

197

اوراس کا ترجمہ مولوی ذوالفقارعلی صاحب دیوبندی نے یہی کیاہے: ’’ربیع بن زیاد نے میری دوستی اورشکردور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جونبی غالب میں آخری ہمیشہ کے لئے عدم المثل ہے خرید لیاہے۔‘‘ (حماسہ مجتبائی باب الحماسہ ص۱۳۶)

اور اس قصیدہ کے شروع میں بطوردیباچہ لکھاہے: ’’قال قیس بمدح بنی زیاد العبسیین وکانوا السبعۃ وکان ربیع ابن زیاد افضلھم‘‘ کہ قیس نے عبسی بنی زیاد کی مدح میں یہ شعر کہے ہیں اور وہ سات تھے اور ربیع بن زیاد ان سب سے افضل تھا۔ پس آخر بنی غالب اپنے ہوئے کہ جوقوم میں اشرف اورافضل اورعدیم المثال فرد ہے۔ کیونکہ ایسے مقام پرقوم کاآخری فرد مراد لینا عقل کے بھی خلاف ہے اور وہ متصور ہونہیں سکتا۔ جب تک کہ یہ تسلیم نہ کیاجائے کہ وہ قوم بالکل تباہ اوربرباد ہوچکی ہے اوراس کے آگے ان کاکوئی فرد نہیں ہوگا۔ پس’’خاتم القوم آخرہم‘‘ کے معنی بھی محاورات عرب کی روسے اشرف اورافضل اورعدیم المثال کے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ پس یہی ایک مثال تھی جو وہ کتب لغت سے پیش کرسکے ہیں اوریہ بھی ان کے معانی کے خلاف ہے موافق نہیں۔ باقی جومعنی خاتم کے گواہان مدعاعلیہ نے بیان کئے ہیں ان کی تائید میں انہوں نے زبان عرب کے محاورات اوراستعمالات پیش کئے ہیں۔ ہاں! کیا مختارمدعیہ یہاں بھی کہے گا کہ ’’خاتم القوم‘‘ میں تو القوم جمع مذکرسالم نہیں ہے اوریہ مثال ’’مابہ النزاع‘‘ بحث سے خارج ہے۔ دیدہ باید!

(۸) خاتم النّبیین کے معنوں کاضروریات دین سے ہونا

مختارمدعیہ نے گواہوں کی طرح اس بات پرزور دیاہے کہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں جس کے بعد کسی قسم کانبی نہیں آسکتا اوراس پر اجماع ہوچکاہے اورجوبات ضروریات دین سے متواتر ثابت ہو، اس کی تاویل کرناکفروارتداد ہے۔ جانناچاہئے کہ کسی شخص کے کہنے سے کہ فلاں بات ضروریات دین سے ہے وہ بات ضروریات دین سے نہیں ہوجاتی۔ بلکہ کسی چیز کوضروریات دین سے ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ امرقرآن مجید واحادیث متواترہ یامشہورہ سے بدرجہ غایت صحت پہنچ چکاہو اور وہ اجماع صحابہ سے بھی ثابت ہو۔

ضروریات دین کے متعلق مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں: ’’ضروریات دین وہ امور ہیں جو قرآن مجید اور حدیث مشہورہ اور اجماع متواترہ سے ثابت ہوں۔‘‘ (شفاء العلیل ترجمہ قول الجمیل مطبوعہ نظامی کانپور)

اوراس کے حاشیہ میں لکھاہے: جیسے حشرونشر اورجنت ودوزخ اوروزن اعمال اورگزرنا پل صراط پروغیرہ ذالک۔

لیکن خاتم النّبیین کے جو معنی فریق مخالف نے کئے ہیں نہ تو ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے نہ حدیث مشہور میں اورنہ اجماع متواتر سے یہ ثابت ہے۔ جیسا کہ پہلے صحابہ اورائمہ سلف صالحین کے اقوال سے ثابت ہوچکاہے۔ صحابہ کاتوان معنوں پر جیسا کہ اجماع کی بحث میں آئے گا۔ کبھی اجماع نہیں ہوا اورمسلمانوں کے بعض فرقے اہل حدیث وغیرہ اس اجماع کوجوفقہ والوں نے پیش کیاہے۔ حجت شرعی ہی نہیں سمجھتے اورامام مالک کے قول سے بھی یہی مستفاد ہے کہ جوصحابہ کے بعد اجماع کامدعی ہے وہ کاذب ہے۔ (مسلم الثبوت ج۲)

اورمولوی محمدحسین بٹالوی لکھتے ہیں: ایک جماعت کا اتفاق اجماع نہیں کہلاتا۔ بلکہ اجماع اتفاق کل کانام ہے اور کل میں سے ایک شخص کاخلاف بھی مانع انعقاد اجماع ہے۔ اس کا ثبوت بھی تحریر نمبر۸میں ہے۔(اشاعۃ السنۃ نمبرہشتم لغایت دہم ج۱۴، بابت ۱۸۹۰ء)

گواہان مدعیہ ومختارمدعیہ کے معنوں کے خلاف ایک نہیں بلکہ کئی ائمہ وعلما سلف کی شہادتیں پیش کرچکے ہیں۔ پس یہ معنی قطعاً ضروریات دین سے نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا مختارمدعیہ کا یہ قول کہ امت کاان معنوں پراجماع ہوچکاہے کیونکر درست ہوسکتاہے۔

198

(۹) کیا تاویل کی وجہ سے کوئی کافر ہوسکتاہے

گواہان مدعیہ اورمختاران مدعیہ اس امر کااقرارکرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین کہتے ہیں۔ لیکن خاتم النّبیین کی تاویل کرنے کی وجہ سے کافرہیں۔ مختارمدعیہ نے بھی ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں یہ کہاہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے کوئی مثال پیش نہیں کی کہ ضروریات دین میں تاویل کرنے والے کوکافر نہ کہاگیاہو۔ یعنی مختاران مدعیہ کے نزدیک بھی احمدیوں کے کفر کی وجہ خاتم النّبیین کی تاویل کرناہے اوراگر یہ ثابت ہوجائے کہ ضروریات دین میں تاویل کرنے کی وجہ سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا توگواہان مدعیہ کااحمدیوں کوکافر قراردینا بھی غلط ثابت ہوجائے گا۔

سوال دونوں امور کے متعلق گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں تفصیل سے ذکرکیاتھا اوربتایاتھا کہ بڑے بڑے ائمہ نے ضروریات دین میں تاویل کرنے والے کوکافرنہیں قراردیا۔ جب کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہوں اور ’’لاالہ الااللہمحمدرسول اللہ‘‘ ان کاکلمہ ہو۔ ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ جس میں ثابت کیاتھا کہ احمدیہ جماعت خاتم النّبیین کے معنی کی تاویل نہیں کرتی، بلکہ لغت کی روسے جو اس کے معنی بن سکتے ہیں وہ لیتی ہے اور اس کے برعکس گواہان مدعیہ نے جومعنی خاتم النّبیین کے لئے ہیں وہ تاویل اورتلازم معنی ہیں اور مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ حضرت ابوبکرq کے اوائل ایام خلافت میں جن عربوں نے تاویلاً زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کیا تھا، انہیں حضرت ابوبکرq نے مرتد قراردیا… بالکل غلط ہے۔ بعض لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی کے منکرہوگئے تھے اوراکثر نے اسلام کوچھوڑ دیاتھا اوربعض جگہ متنبی بھی کھڑے ہوگئے تھے اوربعض نے اپنے ارتداد کی یہ وجہ قراردی تھی کہ آنحضرتﷺ نبی نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر نبی ہوتے تو نہ مرتے۔ پس حضورa کے وفات پانے کوارتداد کاسبب بنالیاتھا۔ کسی حدیث میں ان کے ارتداد کی وجہ تاویلاً زکوٰۃ کی ادائیگی ذکرنہیں مختارمدعیہ کا محض مغالطہ ہے۔

تاویل کرنے والوں کوکافر نہ کہنے کے متعلق ایک حوالہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے منہاج السنۃ کاپیش کیاتھا کہ گواہ نمبر۳ کے بیان کے مطابق خوارج نے ضروریات دین کاانکار کیاتھا۔ لیکن باوجود اس کے حضرت علیq اور دیگر صحابہ نے خوارج کومسلمان ہی سمجھا اور البحرالرائق میں ان کی عدم تکفیر کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خونوں اورجانوں کوحلال سمجھتے ہیں۔ تاویل سے کام لیتے تھے۔ اگرچہ وہ تاویل باطل تھی اوراگر کوئی بغیر تاویل کے جائز سمجھے تووہ کافر ہے۔

پھرمنہاج السنہ میں ہی لکھاہے:’’الثانی ان المتأول الذی قصدہ متابعۃ الرسول لایکفر ولایسفق اذااجتھد فاخطأ وھٰذا مشہورعندالناس فی المسائل العملیہ واما مسائل العقائد فکثیر من الناس کفرہ المخطئین فیھا وھٰذ القول لایعرف عن احد من الصحابۃ والتابعین لھم باحسان ولایعرف عن احدائمۃ المسلمین وانما ھوفی الاصل من اقوال البدع الدین یبتدعون بدعۃ ویکفرون من خالفھم فالخوارج والمعتزلہ والجہمیۃ‘‘ (منہاج السنۃ ج۳ ص۶۰)

بعض وہ تاویل کرنے والاجس کاارادہ تاویل سے متابعت رسول ہو۔ اس کوکافر یافاسق نہیں کہاجائے گا۔ جب کہ وہ اجتہاد کرے اور غلطی کی جائے مسائل عملیہ کے متعلق تویہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے۔ لیکن عقائد کے مسائل میں بہت سے لوگوں نے مخطیئوں کوکافر کہاہے۔ لیکن یہ نہ تو کسی صحابی کا قول ہے اور نہ تابعین میں سے کسی کا اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی امام کا یہ درحقیقت ان بدعتیوں کا قول ہے جو ایک بدعت نکالتے ہیں۔ پھرجوان کی مخالفت کرے اسے کافر کہہ دیتے ہیں۔ جیسے کہ خوارج اورمعتزلہ اورجہمیہ اوراس امر سے کسی کوانکار نہیں ہوسکتا کہ عقائد ہمیشہ ضروریات دین سے ہوتے ہیں۔ پس ان میں بھی اگرکوئی تاویل کرے اور غلطی کھائے تو پھربھی ان کی تکفیر

199

کرنا سوائے بدعتیوں کے صحابہ اورتابعین میں سے کسی نے جائز نہیں سمجھا۔

گواہان مدعیہ تو احمدیوں کی اس وجہ سے تکفیر کرتے ہیں کہ احمدی خاتم النّبیین کے معنی یہ نہیں کرتے کہ آپ کے بعد کسی قسم کانبی نہیں آسکتا۔ حالانکہ یہ معنی نہ تو قرآن مجید میں مذکورہیں نہ کسی صحیح مشہور حدیث ہیں اورجس روایت میں آخر الانبیاء کالفظ آیاہے تووہ بھی ادنیٰ درجہ کی حدیثوںمیں سے آیاہے اور عقائدمیں قطعیات کا اعتبار ہوتاہے۔ لیکن پھربھی گواہان مدعیہ بڑے شوق سے ان کی تکفیر کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف ہم صحابہ کودیکھتے ہیں کہ تقدیر کامسئلہ جواعتقادات اورایمانیات میں سے ہے۔ اس کا بعض لوگوں نے جب انکار کیا تواکثر صحابہ نے پھر بھی ان کو کافر نہ کہا۔

چنانچہ علامہ ابن حزم فرماتے ہیں: ’’وقد حدث انکارا لقد ر فی ایامہم فما کفرھم اکثرالصحابۃ‘‘ (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج۳ ص۲۵۷)

یعنی ان کے زمانہ میں تقدیر کاانکار ہوا۔ لیکن اکثرصحابہ نے منکرین تقدیرکوکافر نہ کہااورگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے جوحوالہ (الیواقیت والجواہرج۲ ص۱۴۰) سے پیش کیاتھا۔ اسے اب تفصیل سے پیش کیاجاتاہے۔

امام عبدالوہاب الشعرانی ان غلط تاویل کرنے والوں کے متعلق جواہل قبلہ ہیں۔ جیسے معتزلہ اورنجاریہ اور روافض اورخوارج اور مشبہ لکھتے ہیں کہ جمہور علماء اورخلفاء نے موئولین کوکافر نہیں کہا بلکہ انہیں مسلمان سمجھا اور مسلمانوں سا ان سے معاملہ کیا اور جس نے انہیں کافرکہا۔ اس نے ظلم کیا اور حدسے بڑھ گیا۔ یہ اختلاف بیان کرکے موئولین کوکافرنہ کہنے والے اماموں کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں جس کاترجمہ یہ ہے کہ: ’’ائمہ کے دوسرے گروہ نے موئولین کی تکفیر نہیں کی اورنہ ان میں سے کسی کوکافر اورنہ رسولوں کا مکذب قراردیا اور انہوں نے یہ دلیل دی ہے کہ اگرتاویل کرنے والے کافروں کی طرح رسولوں کے مکذب ہوتے تو وہ رسول اللہﷺ کے کلام کی تاویل کے پیچھے نہ پڑتے۔ بلکہ اس کلام کو ہی پرے پھینکتے اور اس سے اعراض کر لیتے۔ پس ان کا اس کی تاویل کی طرف مائل ہونابتاتاہے کہ انہوں نے اس کلام کو قبول کیا اوراس کی تصدیق کی۔ مگر اتنی بات ہے کہ وہ درست تاویل نہ کرسکے اور اس میں غلطی کھاگئے تو ان کا حکم اس شخص کاساہے جوکفرسے بھاگا اور اپنی غلطی سے بدعت میں مبتلاہوگیا۔‘‘

اورابوسلیمان الخطابی فرماتے ہیں کہ: ’’پہلی مغارقت اہل سنت سے حضرت علیq کے زمانہ میں ہوئی اورمخالفت کرنے والے وہ لوگ تھے جن کے بارہ میں رسول اللہﷺ نے بایں الفاظ خبردی تھی کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے۔ جیسے کہ تیر نشانہ سے نکل جاتاہے اورحضرت علیq سے ان کے متعلق سوال کیاگیا کہ وہ کافرہیںتوآپ نے فرمایا وہ کفرسے توبھاگ گئے۔ (لیکن گواہ مدعیہ نمبر۳ نے اپنے بیان میں لکھوایاتھا کہ جب خوارج سے بعض ضروریات دین کاانکار ہوا تونماز وروزہ ان کوحکم کفرسے بچانہ سکا) توکہاگیا۔ اچھا وہ منافق ہیں توآپ نے فرمایا: نہیں۔ کیونکہ منافقین توخداتعالیٰ کاقلیل ذکرکرتے ہیں اور یہ لوگ توخداتعالیٰ کابہت ذکرکرتے ہیں تو دریافت کیاگیا کہ اچھا وہ ہیں کیا توآپ نے فرمایا کہ وہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں فتنہ پہنچا تو اس میں اندھے اوربہرے ہوگئے۔

’’قال الخطابی وانما لم یجعلھم کفارا لانھم تعلقوا بضرب من التاویل‘‘

اورخطابی نے کہا کہ حضرت علیq نے انہیں کافر قرارنہیں دیا۔ کیونکہ وہ ایک قسم کی تاویل کرتے تھے اور آنحضرتﷺ کے قول غیر قول من الدین سے مراد یہ ہے کہ وہ اطاعت سے نکل جائیں گے۔ جیسا کہ قرآن شریف کی آیت: ’’وماکان لیاخذاخاہ فی دین الملک‘‘ میں دین سے مراد اطاعت ہے اور اس نے کہا کہ جو علماء تاویل کرنے والے کو کافر نہیں کہتے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ تاویل کرنے والے کے خون اوراموال کی حفاظت ’’لاالہٰ الامحمدرسول اللہ‘‘ کہنے کی وجہ سے ایک ثابت شدہ امرہے۔

200
’’ولم یثبت لنا ان الخطأ فی التاویل کفر‘‘

اوریہ بات کہ تاویل کرناکفرہے، یہ ہمارے نزدیک ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس کے لئے بھی نص یا اجماع کی دلیل کا ہونا ضروری یا اجماع کی اصل صحیح پرکوئی قیاس صحیح ہوسکتاہو۔ لیکن ہم نے ان میں سے کوئی بات نہیں پائی۔ پس تاویل کرنے والے لوگ مسلمان ہی ہوں گے۔ ہاں! اگر کسی زمانہ میں کسی ایسے مجتہد کاوجود پایاجائے جس میں ائمہ اربعہ کی طرح شروط اجتہاد کامل طورپر پائے جائیں اور وہ کہے کہ اس کے پاس یقینی دلیل ہے اور تاویل میں غلطی کرنا موجب کفرہے توہم انہیں کاذکرکریں گے لیکن ایسے شخص کاپایاجانابہت ہی بعید ہے۔

اورلکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے شیخ امام الدین مصری جامع الغمری نے بیان کیاہے کہ ایک شخص نے توحید کے بارے میں کچھ ایسی کلام کی جوبظاہر شریعت کے مخالف تھی توشاہ مصر کی حضور ی میں علماء کی مجلس منعقدہوئی اورانہوں نے اس کے کفرکافتویٰ دیا اور شیخ جلال الدین المحلی اس وقت غیر حاضرتھے۔ جب حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کس نے اس کے قتل کافتویٰ دیا توشیخ الاسلام صالح البلقینی اورایک جماعت نے کہا کہ ہم نے یہ فتویٰ دیاہے تو اس نے کہا کس دلیل سے توشیخ صالح نے جواب دیا کہ میرے والد شیخ الاسلام سراج الدین البلقینی نے ایسے ہی واقعہ میں کفر کافتویٰ دیاتھا توشیخ جلال الدین نے کہا تم اپنے باپ کے فتویٰ کی وجہ سے ایک مؤحد مسلمان شخص کو قتل کرتے ہو جوکہتاہے میرارب اللہہے اور محمدہمارانبی اللہ کارسول ہے۔ پھر اس شخص کا ہاتھ پکڑکر اسے قلعہ سے نیچے لے آئے اورکسی کوان کا پیچھا کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔

اورلکھتے ہیں کہ مخزومی نے کہا کہ شیخ الاسلام شہاب الدین زہری نے ایک شخص کے قتل کافتویٰ دیا جس نے باوجود منع کرنے کے حضرت عائشہt ام المومنین کوگالیاں دی تھیں۔ پس جب وہ اس شخص کو قتل کرنے کے لئے کھینچ کرلے چلے تو اس نے بلند آواز سے کہا کہ اے زہری بتا۔ تیری حجت اللہتعالیٰ کے پاس کیاہوگی۔ کیاتم ایسے شخص کو قتل کرتے ہوجوکہتاہے کہ میرا رب اللہ ہے اور محمدمیرانبی خداکارسول ہے تو زہری اس کے بعد ہمیشہ اس کے قول کو یاد کرکے زاروزار رویاکرتاتھا اور کہتاتھا کہ میں اس آدمی کے قتل سے خائف ہوں کہ کہیں قیامت کے روز مجھ سے اللہتعالیٰ اس کامواخذہ نہ کرے۔

دیکھو یہ خوف اس شخص کے متعلق ہے جس نے کہ اس کوگالیاں دیں اور برابھلاکہاتھا جس کی برأت قرآن میں مصرح ہے۔

اورلکھاہے کہ امام شافعی سے منقول ہے کہ میںجوظاہر کے مخالف تاویل کرنے والے ہیں ان کو کسی ذنب کی وجہ سے کافرنہیں قراردیتا۔

مخزومی کہتے ہیں کہ امام شافعی کی مراد اہل اہواء سے محتمل تاویل کرنے والے ہیں۔ جیسے معتزلہ اورمرجۂ اور اہل قبلہ سے اہل توحید مراد ہیں۔ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۰تا۱۴۳)

اس حوالہ سے ظاہرہے کہ کسی آیت کی تاویل یا کسی عقیدہ کی تاویل میں غلطی کرنے سے کوئی انسان کافر نہیں ہوجاتا اور اسی طرح ابن حزم نے ایک گروہ کاان لوگوں کے متعلق جوان سے اعتقادی مسائل میں اختلاف کریں۔ یہ مذہب نقل کیا ہے: ’’ان کان الخلاف فی صفات اللہ عزوجل فھوکافر وان کان فیمادون ذالک فھوفاسق وذھبت طائفۃ الی انہ لایکفرولایفسق مسلم یقول قالہ فی اعتقاد۔ اوفتیا وان کل من اجتھد فی شیٔ من ذالک فان بمارای انہ الحق فانہ ماجور علی کل حال ان اصاب الحق فاجر ان فان اخطاء فاجرٌ واحد وھٰذا قول ابن ابی لیلٰی وابی حنیفہ والشافعی وسفیان الثوری وداؤد بن علیq من جمیعہم وھوکل من عرفنا لہ قولا فی ھٰذہ المسألۃ من الصحابۃi لاتعلم منھم فی ذالک خلافا اصلا‘‘ (کتاب الفضل فی الملل والنحل ج۳ ص۲۴۷)

201

لیکن اگر مخالفت اللہتعالیٰ کی صفات میں ہے تو وہ کافر ہے اوراگر اس کے سوادوسرے معتقدات میں اختلاف ہے تو وہ فاسق ہے اور ایک گروہ اس طرف گیاہے کہ کسی مسلم کی تکفیر اور تفسیق اس کے کسی قول کی وجہ سے جواس نے اعتقاد کے بارہ میں یافتویٰ میں کہاہو، نہیں ہوگی اور ہر وہ شخص جو کسی مسئلہ میں اجتہاد کرے اور جو اسے حق معلوم ہو، اسے اختیارکرے تو وہ بہرحال ماجورہے۔ اگر اس نے حق کوپالیا تو اسے دواجر ملیں گے اوراگرغلطی کی تو ایک اجر اور یہ قول ابن ابی لیلیٰ اور ابوحنیفہ اورشافعی اورسفیان ثوری اور دائود بن علی اورتمام صحابہ کاہے جوہم جان سکے ہیں اور اس کے خلاف کوئی قول نہیں ملا۔

اورجو اختلاف خاتم النّبیین کے معنوں میں فریق مدعیہ اور فریق مدعاعلیہ کے مابین ہے ان حوالوں کی روشنی میں کون انسان ہے جو یہ کہے کہ اس کی وجہ سے گواہان مدعیہ کو فریق مدعاعلیہ کی تکفیر کاحق حاصل ہے اور مختارمدعیہ کایہ قول کہ اہل اہواء وہ ہیں جواہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں۔ یہاں بھی ضروریات دین میں سے کوئی چیز نہیں۔ حالانکہ معتزلہ اورمشبہ اور جہمیہ وغیرہ نے جواللہتعالیٰ کی صفات وغیرہ اور قرآن مجید کے متعلق آپس میں اختلاف کیاہے۔ کوئی عقلمندنہیں کہہ سکتا کہ اگر خاتم کے معنی آخری معنی جس کے بعد کوئی کسی قسم کانبی نہ آوے، ضروریات دین میں سے ہیں تواللہتعالیٰ کی صفات کی تاویل یاعدم تاویل کرناکیوں ضروریات دین میں سے نہیں ہے۔

اورعلاوہ ازیں جیسا کہ میں پہلے ثابت کرچکاہوں کہ احمدی جماعت خاتم النّبیین کے معنی کرنے میں تاویل نہیں کرتی، بلکہ اس کے صحیح معنی لیتی ہے جو عربی زبان اور محاورات کی رو سے بالکل درست ہے۔ لیکن فریق مخالف ہے جو اس کے تاویل معنی کرتاہے۔ کیونکہ زبان عرب اورمحاورات عرب کے لحاظ سے خاتم کے معنی آخرکے حقیقی معنی نہیں بلکہ لازم معنی ہیں۔

حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم النّبیین کے معنی

مختارمدعیہ نے کہا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بھی خاتم النّبیین کے یہی معنی کئے ہیں کہ آپ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا اور اس کے لئے (ایام الصلح ص۷۴،۷۵، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸،۳۰۹، ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲، آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص۳۸۷، راز حقیقت ص۱۶، خزائن ج۱۴ ص۱۶۸، ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۵،۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۰،۴۱۲، حصہ اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰، حصہ دوم ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶، ۴۱۷) وغیرہ کی عبارتیں پیش کی ہیں جن میں آپ نے آنحضرتﷺ کے بعد نبی کے آنے سے انکار کیاہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو جہاں جہاں حضرت اقدس نے آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے یہ مراد لی ہے کہ آپ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا تووہاں سے وہ نبی مراد ہے جو مستقل ہویاصاحب شریعت ہو اور اس کی نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع اورپیروی کا نتیجہ نہ ہو۔ چنانچہ (ایام الصلح ص۷۴، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸،۳۰۹) میں یہ صاف طور پر لکھاہے کہ:

اسلام میں اس نبوت کا دروازہ توبندہے جو اپنا سکہ جماتی ہو۔ اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ اورحدیث میں ہے: ’’لانبی بعدی‘‘ اورلیکن بایں ہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہوچکی ہو۔ لہٰذا دنیا میں ان کے دوبارہ آنے کی طمع کام اوراگر کوئی اور نبی نیا یاپرانا آوے تو ہمارے نبیa کیوں کہ خاتم الانبیاء ہیں۔ ہاں! وحی ولایت اورکمالات الٰہیہ کا دروازہ بندنہیں ہے۔ ماسواء اس کے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ محدث بھی نبیوں اور رسولوں کی طرح خداکے مرسلوں میں داخل ہے۔ بخاری میں ’’وما ارسلنا من رسول ولانبی ولامحدث‘‘ کی قرأت غور سے پڑھو۔ دوسری حدیث میں ہے: ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘

یہ بھی یاد رہے کہ مسلم میں مسیح موعود کے حق میں نبی کالفظ بھی آتاہے۔ یعنی بطور مجاز اور استعارہ کے اس وجہ سے براہین احمدیہ میںبھی ایسے الفاظ خداتعالیٰ کی طرف سے میرے حق میں ہیں۔ دیکھو(ص۴۸۹ حاشیہ درحاشیہ۳، خزائن ج۱ ص۵۹۳)’’ہوالذی ارسل

202

رسولہ بالہدی‘‘ اس جگہ رسول سے مراد یہ عاجز ہے اورپھردیکھو (براہین احمدیہ ص۵۰۴حاشیہ درحاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۰۱) میں یہ الہام ہے: ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ جس کا ترجمہ ہے خدا کا رسول نبیوں کے لباس میں۔ اس الہام میں میرا نام رسول بھی رکھا گیا اور نبی بھی۔ جس شخص کے خود خدانے یہ نام رکھے ہوں۔ اس کو عوام الناس میں سے سمجھنا کمال درجہ کی شوخی ہے۔ (ص۷۴،۷۵، خزائن ج۱۴ ص۳۰۸، ۳۰۹، ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲، ۳۹۳) میں یہ لکھاہے: ’’ہمارے نبیa کاخاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسیٰؑ کی موت کوہی چاہتاہے۔ کیونکہ اگر آپ کے بعدکوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہرسکتے اورنہ وحی نبوت کا سلسلہ منقطع متصور ہوسکتاہے اورنئے پرانے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں تفریق موجود ہے اور حدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔‘‘

اب یہ عبارات صاف بتلارہی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد آپ جس قسم کے نبی کی آمد کو وہ پرانا ہویانیا بندتجویز فرماتے ہیں۔ وہ مستقل نبی ہے جس نے براہ راست نبوت کوپایاہے۔ جیسے کہ حضرت عیسیٰؑ کی مثال سے ظاہر ہے۔ ورنہ آپ ساتھ ہی صاف طور پریہ اقرار کرتے ہیں کہ میرا نام خدانے رسول اور نبی رکھاہے۔

اور (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۵،۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۰،۴۱۲) میںلکھاہے: ’’نیز خاتم النّبیین ہونا ہمارے نبیa کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں! ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدی سے نور حاصل کرتاہے اورنبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں۔ وہ اب تحدید سے باہرہے۔ کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے۔ جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔ لیکن مسیح ابن مریم جس پرانجیل نازل ہوئی جس پرجبرئیل کانازل ہونا بھی ایک لازمی امر کاسمجھاگیاہے کسی طرح امتی نہیں بن سکتا۔‘‘

پھر(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶،۴۱۷) میں لکھاہے: ’’محدث من وجہ نبی ہوتاہے۔ مگر وہ ایسا نبی ہے جونبوت محمدیہ کے چراغ سے روشنی حاصل کرتاہے اور اپنی طرف سے براہ راست نہیں۔ بلکہ اپنے نبی کے طفیل سے علم پاتاہے۔‘‘

غرضیکہ جس جس جگہ آپ نے ’’خاتم النّبیین‘‘ اور’’لانبی بعدی‘‘ سے یہ مراد لیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نیا یاپرانا نہیں آسکتا تواس سے مراد وہی نبوت ہے جو مستقل نبوت ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کی تھی نہ کہ دوسری نبوت جوآنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے جوکثرت مکالمات ومخاطبات اور امورغیبیہ پرکثرت سے اطلاع پانے کانام ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود بطور قاعدہ کلیہ کے فرماتے ہیں: ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یارسالت سے انکار کیاہے۔ صرف ان معنوں سے کیاہے کہ میں مستقل طور پرکوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ ہی مستقل طورپر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کانام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایاہے رسول اورنبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طورکا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ انہی معنوں سے خدانے مجھے نبی اور رسول کرکے پکاراہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔(ایک غلطی کاازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، ۲۱۱)

پس حضرت مسیح موعود کایہ قول فیصلہ کن ہے کہ آپ نے جہاں کہیں یہ لکھاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا یایہ کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل مسدود ہے۔ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی ایسانبی نیاہویاپرانا نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کومنسوخ کرے یاآپ کے واسطہ کے بغیر نبوت حاصل کرے۔ لیکن اس امر کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنے لئے باوجویکہ آپ کو الہامات میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھاگیاتھا۔ لیکن آپ اپنے متعلق محدث کالفظ استعمال فرماتے رہے۔ ان

203

معنوں سے کہ آپ نے یہ مقام آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل کیاہے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ ابتدائً آپ نبی کی یہ تعریف خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جوجدید شریعت لائے یاشریعت سابقہ کے بعض احکام منسوخ کرے یابلاواسطہ نبی ہو۔

چنانچہ (حقیقۃ النّبوۃ ص۱۲۵) میں بحوالہ (الحکم ج۳نمبر۲۹ بابت۱۸۹۹ء) میں لکھاہے: مگرچونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسولوں کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یانبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیراستفاضہ کسی نبی کے خداتعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہناچاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔ کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کے نہیں ہے اورہماراکوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور اہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبیa خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔

لیکن چونکہ لغت میں جوشرائط نبوت پائی جاتی تھیں وہ اپنے اندر موجود پاتے تھے۔ یعنی(۱) کثرت سے مکالمہ ومخاطبہ (۲) انذاروتبشیر سے امورغیبیہ پراظہار (۳) خداتعالیٰ کا نبی نام رکھنا۔

اس لئے آپ اپنے آپ کو لغوی نبی کہتے تھے اور عام مسلمانوں کی مذکورہ بالا تعریف کے خلاف سمجھ کر (کیونکہ یہ عام مسلمانوں کا ہی عقیدہ تھا اور انبیاء انکشاف تام تک عام عقیدہ پرقائم رہتے ہیں) آپ باوجود سب شرائط نبوت کے پائے جانے کا اقرار کرنے کے نبی کی بجائے محدث کا لفظ استعمال فرماتے تھے۔ لیکن باربار کے الہامات نے آخر آپ کی توجہ کونبی کے حقیقی مفہوم کی طرف پھیرا اورآپ کے دل پر پورے طور پر امر واقع کاانکشاف ہوا اور قرآن کریم کوبھی آپ نے عام لوگوں کے عقیدہ کے خلاف پایا تو آپ نے اس پہلے عقیدہ کو ترک کردیا۔ چنانچہ اس کا ثبوت وہ تحریرات ہیں جوآپ نے نبی کی تعریف میں۱۹۰۱ء کے بعد لکھی ہیں۔ چنانچہ آ پ فرماتے ہیں:

۱… ’’خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات ومخاطبات کانام اس نے نبوت رکھاہے۔ یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱)

۲… ’’جب کہ وہ مکالمہ ومخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اورکمی باتی نہ ہو اورکھلے طور پر امور غیبیہ پرمشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتاہے جس پرتمام نبیوں کااتفاق ہے۔‘‘(الوصیت ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۱۱)

۳… ’’ایسے شخص میں ایک طرف توخداتعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع انسان کی ہمدردی اوراصلاح کابھی ایک عشق ہوتاہے۔ ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اورمحدث کہتے ہیں اور وہ خداکے پاک مکالمات ومخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پرظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ص۳۰، خزائن ج۲۰ ص۲۲۵)

۴… ’’جس کے ہاتھ پراخبارغیبیہ منجانب اللہ ظاہرہوں گے۔ بالضرورۃ اس پر مطابق آیت: ’’فلایظہرعلی غیبہ‘‘ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۸)

۵… ’’عربی اورعبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پاکربکثرت پیش گوئی کرنے والا اور بغیرکثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہوسکتے۔‘‘ (مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۷)

پس پہلی تعریف کے مطابق تو آپ اپنے نبی ہونے اور آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نیاہے یاپرانا انکار کرتے رہے اور دوسری تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی لکھتے رہے اور اس مفہوم نبوت کا اپنے میں متحقق ہونے سے کبھی انکارنہیں کیا اور اس قسم کی نبوت جو آنحضرتﷺ کی اتباع اورآپ میں فناء ہوکر حاصل ہو کبھی ختم نبوت اور ’’لانبی بعدی‘‘ کے مخالف نہیں قرار دیا۔ چنانچہ اب میں آپ

204

کی دوسری تحریریں پیش کرتاہوں جس سے ’’خاتم النّبیین‘‘ اور ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی آپ نے کئے ہیں۔

۱… ایک طرف تو آپ حسب آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ اولاد نرینہ سے جو ایک جسمانی یاد گارتھی محروم رہے اور دوسری طرف روحانی اولاد بھی آپ کو نصیب نہ ہوئی جو آپ کے روحانی کمالات کی وارث ہوتی اورخداتعالیٰ کا یہ قول’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ بے معنی۔ ظاہرہے کہ زبان عرب میں ’’لکن‘‘ کا لفظ استدراک کے لئے آتاہے۔ یعنی جوامر حاصل نہیں ہوسکا، اس کے حصول کی دوسرے پیرایہ میں خبردیتاہے جس کی رو سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرتﷺ کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی۔ مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوت کاکمال بجز آپ کی پیروی کی اتباع کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنی تھے جن کو الٹا کرنبوت کے آئندہ فیض سے انکارکردیاگیا۔ حالانکہ اس انکار میں آنحضرتﷺ کی سراسر مذمت اور منقصت ہے۔ کیونکہ نبی کاکمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے اور روحانی امور میں اس کی پوری پرورش کردکھلاوے۔(چشمہ مسیحی ص۷۳،۷۴، خزائن ج۲۰ ص۳۸۸)

۲… پھر فرماتے ہیں: ’’ونعنی بختم النّبوۃ ختم کمالاتھا علی نبینا الذی ھوافضل رسل اللہ وانبیائہٖ ونعتقد بانہ لانبی بعدہ الاالذی ھو من امتہ ومن اکمل اتباعہ، الذی وجد الفیض کلہ من روحانیہ واضاء بضیائہٖ فھناک لاغیر ولامقام الغیرۃ ولیست نبوۃ اخریٰ ولامحل للغیرۃ‘‘ (مواہب الرحمن ص۶۷، خزائن ج۱۹ ص۲۸۵،۲۸۶)

اورختم نبوت سے ہماری مراد یہ ہے کہ تمام کمالات نبوت ہمارے نبی پرجو خدا کے انبیاء اورتمام رسولوں سے افضل ہیں ختم ہوگئے ہیں اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہ جو آپ کی امت سے ہواورآپ کے کامل متبعین سے ہو اورتمام فیض آپ کی روحانیت سے پایاہو اورآپ کے نور سے منورہواہو۔ پس وہاں غیریت نہیں ہے اور نہ ہی جائے غیریت اور کوئی دوسری نبوت نہیں ہے۔ اس لئے ایسی نبوت محل حیرانگی نہیں۔

۳… پھرفرماتے ہیں: ’’وانی علی مقام الختم من الولایۃ کما کان سیدی المصطفٰی علی مقام الختم من النّبوۃ وانہ خاتم الانبیاء وانا خاتم الاولیاء لاولی بعدی الا الذی ھو منی وعلی عھدی‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۶۹،۷۰)

کہ جیسے میرے سردار مصطفیﷺ ختم نبوت کے مقام پر تھے۔ میں ختم ولایت کے مقام پر ہوں آپ خاتم الانبیاء تھے اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ ان معنوں میں کہ میرے بعد کوئی ولی نہیں ہوسکتا۔ مگر وہی جومجھ سے ہو اور میرے طریقے پر ہو۔ اس لحاظ سے خاتم النّبیین کے یہ معنی ہوئے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ مگر جو آپ میں سے ہو اور آپ کی شریعت کا متبع ہو۔

۴… عقیدہ کی رو سے جوخداتم سے چاہتاہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمدa اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کرہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔ مگر وہی جس پربروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدانہیں اورنہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے۔ پس جوکامل طور پر مخدوم میں فناء ہوکرخدا سے نبی کا لقب پاتاہے وہ ختم نبوت کاخلل انداز نہیں۔(کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۵،۱۶)

۵… پھرمختار مدعیہ نے کہاہے کہ اپنے آپ کو خاتم الاولاد لکھاہے۔ باوجودیکہ یہ اردو زبان میں استعمال کیاگیاہے اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیایہ خاتم بفتح تاء ہے یابکسر تاہے۔ تاہم اس کی تشریح بیان گواہ مدعاعلیہ میں کی جاچکی ہے۔ آپ نے اپنے لئے ’’خاتم المصلحین‘‘ بھی لکھاہے۔ ملاحظہ ہو (اربعین نمبر۲ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۳۵۷)

205

غرض آنے والے مصلح کے لئے جو ’’خاتم المصلحین‘‘ ہے۔ دو مہر عطاء کئے گئے ہیں۔ اب اس سے آپ کا یہ قطعاً منشاء نہیں ہے کہ آپ کے بعدکوئی مصلح نہیں آئے گا۔ بلکہ آپ نے آئندہ مصلح موعود کے آنے کی پیش گوئی کی ہوتی ہے۔

پھر اس طرح آپ فرماتے ہیں: ’’اس میں حکمت یہ ہے کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ جیسا کہ آدمm خاتم المخلوقات ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۹۸، خزائن ج۱۷ ص۲۵۷،۲۵۸)

کیا آدمm کے خاتم المخلوقات ہونے سے یہ مرادہے کہ آپ کے بعدکوئی مخلوق نہیں اور سلسلہ خلق بند ہوگیاہے۔ ہرگز نہیں بلکہ اس سے مرادیہی ہے کہ آدمm اکمل اوراشرف المخلوقات ہیں۔ اسی طرح آنحضرتﷺ اکمل اوراشرف المخلوقات ہیں۔ جیسے آدم کے بعد کوئی پیدانہیں ہوسکتا۔ مگر جواس کی نسل سے ہو۔ اسی طرح آنحضرتﷺخاتم النّبیین آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ مگر وہی جوآپ کی روحانی اولاد سے ہو۔

۶… آنحضرتﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہردی جو کسی اورنبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کانام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اورآپ کی توجہ سے روحانی نبی تراش ہے اوریہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی تھی۔(حقیقت الوحی حاشیہ ص۹۷، خزائن ج۲۲ ص۱۰۰)

۷… ’’وان قال قائل کیف یکون نبی من ھٰذہ الامۃ وقد ختم اللہ علی النبوۃ فالجواب انہ عزوجل ماسما ھٰذا الرجل نبیا الا لاثبات کمال نبوۃ سیدنا خیرالبریۃ فان ثبوت کمال النبی لایتحقق الابثبوت کمال الامۃ ومن دون ذالک ادّعاء محض لا دلیل علیہ عند اھل الفطنۃ ولامنعی بختم النبوۃ علی فرد من غیر ان تختتم کمالات النبوۃ علی ذالک الفرد ومن کمالات العظمٰیٰ کمال النبی فی الافاضۃ وھولایثبت من غیر نموذج یوجد فی الامۃ‘‘ (ضمیمہ حقیقت الوحی حاشیہ ص۱۶، خزائن ج۲۲ ص۶۳۷)

اگرکوئی شخص یہ سوال کرے کہ اس امت سے نبی کیسے ہوسکتاہے۔ جب کہ اللہتعالیٰ نے نبوت پر مہرکردی ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے میرا نام نبی آنحضرتﷺ کے کمال کے اثبات کے لئے رکھاہے۔ کیونکہ نبی کاکمال اس کی امت کے کمال کے ثبوت سے متحقق ہوتاہے اوراس کے بغیر توکمال کادعویٰ کرنا اہل دانش کے نزدیک دعویٰ بلادلیل ہے اور کسی فرد پرنبوت کے ختم ہونے سے سوائے اس کے اور کیا مراد ہوسکتی ہے کہ اس فرد پر کمالات نبوت ختم ہوگئے اور سب سے بڑا کمال نبی کایہ ہے کہ وہ دوسروں کو فیضان پہنچانے میں کامل ہے اور اس کاثبوت جب تک کہ امت میں کوئی نمونہ موجود نہ ہوثابت نہیں ہوسکتا۔

۸… آنچہ ناآشنایان حقیقت بہ مغز سخن نارسیدہ بہ لفظ رسول ورسالت ونبی ونبوت اعتراض میکند کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء است ومضمون حدیث لانبی بعدی بعدازاں آنحضرتﷺ نبی نتواند بودایشاں معنی ختم نبوت اصلاً نہ فہمیدہ اندچہ بروجود ذی جود سرور عالمa کمال درجہ نبوت ختم شدہ است نہ نبوت آرے تا درجہ بر وجودذی جود سرورعالمa کمال درجہ نبوت ختم شدہ است نہ نبوت آرے روز قیامت غیراز امت وامت بودن آنحضرتﷺaنبی صاحب شریعت جدیدہ نخواہد رسید چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رازنیز ہمیں اعتقاد است کمانقلہ محمدطاہرفی تکملہ مجمع بحارالانوار عن عائشۃ قولوا خاتم الانبیاء ولاتقولوا لانبی بعدہ الغرض عقیدہ ماایں نیست کہ سلسلہ نبوت ختم شدہ است اما کمالات نبوۃ برذات سرورانبیاء ختم گشت است ہیچ اسرئیل نبی دریں امت نخواہد رسیدآنکہ مبعوث شد فی بود مبعوث گروند۔ (تذکرۃ الشہادتین فارسی حاشیہ ص۶، بابت جولائی ۱۹۰۴ء)

206

ان حوالہ جات سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم النّبیین اورلانبی بعدی کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی مستقل یاصاحب شریعت جدیدہ پراناہویانیا اس امت میں نہیں آسکتا۔ ہاں! ایسا نبی جو فناء الرسول ہوکرنبوت کے مقام کو حاصل کرے توایسی نبوت ختم نبوت اورحدیث لانبی بعدی کے مخالف نہیں ہے۔ پس مختارمدعیہ کا حضرت مسیح موعود کی تحریرات کو اپنی تائید میں پیش کرنابے سود ہے۔ اگر اس بارہ میں زیادہ تحقیق درکارہوتوملاحظہ ہو حقیقت النّبوۃ ص۸۲تا۱۳۴

(۱۰) انقطاع نبوۃ پردوسری پیش کردہ آیات کاصحیح مطلب

دوسری آیت جو گواہان مدعیہ نے اپنے زعم میں انقطاع نبوت پر پیش کی ہے۔ وہ آیت: ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘ کہ جب دین کامل ہوچکا اورنعمت پوری ہوچکی تو اب کسی نبی کی کیاضرورت؟

۱… اس آیت میں انقطاع نبوت کا بالکل ذکرنہیں ہے۔ بلکہ اکمال دین اوراتمام نعمت کا ذکرہے۔

۲… اکمال دین اورانقطاع نبوت آپس میں لازم نہیں ہے۔ کیونکہ نبی کے لئے نیا دین لاناضروری نہیںہے۔ بلکہ پہلے دین کی اشاعت اورترویج کے لئے بھی نبی ہوسکتاہے۔ جیسا کہ آیت: ’’انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھاالنّبییون (مائدہ)‘‘ سے ظاہرہے۔

۳… پس اس آیت سے اگر کچھ ثابت ہوتاہے توصرف اتنا کہ ایسا نبی کوئی نہیں آسکتا جوشریعت جدیدہ لائے یاشریعت اسلامیہ کے احکام میں تغیروتبدل کرے۔

۴… گواہان اور مختارمدعیہ خود حضرت عیسیٰؑ کے نبی ہونے کی حیثیت میں نزول کے قائل ہیںتوکیا وہ سمجھتے ہیں کہ دین میں کوئی نقص ہے۔ پس جس غرض کے لئے وہ حضرت عیسیٰ کا انتظار کررہے ہیں۔ اسی غرض کے لئے ہم حضرت مسیح موعود کی آمد کو مانتے ہیں۔

۵… اگر دین کامکمل ہونا کسی نبی کے وجود کامانع ہے تو پھر یہی دین اپنی ترویج اشاعت کے لئے کیوں ایک اسرائیلی نبی کا محتاج ہے۔

۶… اصل بات یہ ہے کہ اکمال دین اوراتمام نعمت ہی اس امر کی مقتضی ہے کہ اسی دین کی پیروی سے انسان اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات روحانیہ کوحاصل کرے اور روحانیت کااعلیٰ درجہ کا ارتقائی مقام جونبوت کے نام سے موسوم ہے وہ اس مقام پر اس مکمل دین کی متابعت اورکامل نبی آنحضرتﷺ کی پیروی سے فائز ہو۔ اس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

چنانچہ سید عبدالکریم بن ابراہیم جیلی اپنی کتاب (الانسان الکامل ج۱ص۷۶) میں تحریرفرماتے ہیں: ’’قال اللہ تعالٰی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی الٰی فانقطع نبوۃ التشریع بعدہ وکان محمدa خاتم النّبیین لانہ جاء بالکمال ولم یجیٔ بعد ذالک‘‘ اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں۔

۱… آنحضرتﷺ اکمال دین کی وجہ سے خاتم النّبیین ہوئے ہیں اوراگریہی آیت: ’’الیوم اکملت… الخ!‘‘ کسی اورنبی پرنازل ہوتی تو وہی خاتم النّبیین ہوتا۔

۲… لیکن یہ آیت صرف محمدa پرنازل ہوئی تو آپ خاتم النّبیین ہوئے۔ کیونکہ آپ نے کوئی حکمت اورکوئی ہدایت اورکوئی علم اورکوئی سرایسانہیں چھوڑا جس ضرورت ہو اور آپ نے وہ نہ بتایاہو۔

۳… آئندہ جوکاملین آئیں گے وہ آپ ہی کا اتباع کریں گے اور شریعت کو وہ کامل ہی پائیں گے۔

۴… چونکہ دین کا آپ پرکامل ہونا آپ کے خاتم النّبیین ہونے کو مستلزم ہے۔ اس لئے اس سے صاف طورپرمعلوم ہوتاہے کہ ختم نبوت کا تعلق دین اور شریعت سے ہے کہ آپ کے بعدکوئی شریعت نہیں آئے گی۔

207

۵… آخر میں لکھتے : اس وجہ سے کہ آنحضرتﷺ نے سب امور جن کی دین میں احتیاج ضروری تھی بیان کردی ہے۔ اس لئے آپ کے بعد تشریعی نبوت کا حکم منقطع ہوگیا اورمحمدa خاتم النّبیین ہیں۔ کیونکہ آپ ہی کامل دین لے کرآئے اور کوئی نہیں لایا۔

پس اس آیت سے بھی آئندہ باب نبوت کا مسدود ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ دین کاکامل ہونا چاہتاہے کہ اب مقام نبوت جوخداتعالیٰ کی نعمت ہے۔ اس سے اس دین کے متبعین محروم نہ ہوں۔ بلکہ عندالضرورت اللہتعالیٰ انہیں اس نعمت سے متمتع فرمادے۔

بقیہ آیات: اسی طرح آیت:’’وما ارسلناک الا کآفۃ للناس‘‘ اورآیت:’’قل یٰآیھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘ اور ’’لکل قوم ھاد‘‘ پیش کرکے یہ استدلال کیاہے کہ چونکہ آپ کی رسالت وبعثت تمام لوگوں کے لئے ہے۔ اس لئے آپ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا۔

سوال کاجواب یہ ہے:

۱… ان آیات میں آئندہ نبی آنے یانہ آنے کاقطعاً کوئی ذکرنہیںہے۔

۲… آنحضرتﷺ نے خود فرمایا ہے کہ مجھے دوسرے انبیاء پر ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ وہ ایک قوم کے لئے آئے تھے اور میں تمام دنیا کے لئے بھیجاگیاہوں۔ پس اس میں دعوت کی عمومیت کاذکرہے۔

۳… حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے۔ لیکن آپ کے دین کی ترویج کے لئے ان کے بعد بہت سے نبی آئے اور وہ حضرت موسیٰؑ کے دین پر لوگوں کوعمل پیراہونے کی تلقین کرتے رہے۔ اس طرح اگر آنحضرتﷺ کے بعد بھی کوئی نبی جو آپ کا متبع اور آپ کی شریعت کو فروغ دینے کے لئے آئے تو اس میں آپ کی دعوت کی عمومیت میں کوئی خلل نہیں پڑتا اور چونکہ وہ آپ کاشاگردہوگا اوراس نے تمام فیوض آپ کی متابعت کی برکت سے پائے ہوں گے۔ اس لئے اس سے بھی آپ کی دیگر انبیاء پرفضیلت ثابت ہوگی اور آیت: ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الٰی فرعون رسولا‘‘ کی رو سے آنحضرت جب مثیل موسیٰ ہوئے تو ضروری ہوا کہ جیسے سلسلہ موسویہ میں شریعت موسویہ کی ترویج واشاعت کے لئے نبی آئے۔ یہاں بھی کم از کم مشابہت کوپوراکرنے کے لئے ایک نبی آئے۔ لیکن چونکہ آپ خاتم النّبیین ہیں۔ اس لئے وہ نبی آپ کی کمال متابعت کرکے ہی ہوسکتاہے تاکہ یہ بھی ظاہرہو کہ آپ حضرت موسیٰؑ سے بہت بڑھ کرہیں۔ کیونکہ آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اورآپ کی شاگردی اور اتباع سے انسان اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج ومشابہت کوحاصل کرسکتاہے۔

اورگواہ مدعیہ نمبرالف نے جو آیت: ’’سراجامنیرا‘‘ پیش کی ہے کہ جیسے سورج پرروشنی ختم ہے۔ ایسے ہی آنحضرتﷺ پرنبوت ختم ہے۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوتاہے کہ جیسے سورج پرروشنی ختم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس سے روشنی حاصل کرکے کوئی روشن نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح خاتم النّبیین کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے فیض سے بھی کوئی نبوت کونہیں پاسکتا اور اس وجہ سے آپ کو صرف سورج ہی نہیں۔ بلکہ منیر سورج قراردیاگیاہے۔ یعنی دوسروں کو بھی وہ روشن کرنے والاہے۔ پس چاند، سورج سے روشنی حاصل کرکے منورہوتاہے اور دوسروں کو نورپہنچاتاہے۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کے بعد وہی شخص منور اور دوسروں کو روشن کرسکتاہے جس کا نورنبوت آنحضرتﷺ کی نبوت سے مستفاد ہو۔

اس طرح گواہ مدعیہ نمبرالف نے جو آیت: ’’قل لئن اجتمعت الانس والجن‘‘ اور آیت: ’’وبالحق انزلناہ‘‘ اور آیت: ’’اطیعوا اللہ والرسول‘‘ وغیرہ کسی آیت سے بھی ایسی نبوت کاجس کے ہم قائل ہیں۔ انقطاع ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان میں تو نبوت کے بقاء یا انقطاع کاذکرہی نہیں پایاجاتا۔

208

اورآیت:’’میثاق النّبیین‘‘ سے تو نبوت کا بقاء ثابت ہوتاہے۔ کیونکہ جیسے دیگر انبیاء سے میثاق لیاگیا۔ ویسے ہی آنحضرتﷺ سے بھی لیاگیاہے۔ جیسا کہ سورۂ حجر کی آیت سے ظاہرہے اور آیت: ’’انانحن نزلنا الذکر وانا لحٰفظون‘‘ سے بھی یہی نکلتاہے کہ ایسے وقت میں جب کہ علم قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا تو اس کی حفاظت معنوی کے لئے ایسے نبی کاآناجوآنحضرتﷺ کی اولاد روحانی سے ہو اور قرآن مجید کی پیروی کی برکت سے اس نے مقام نبوت حاصل کیا ہو۔ اس آیت کے ہوتے ہوئے جب کہ آنے والا نبی کوئی نیا حکم نہیں لائے گا تو اس کا آنا سوائے تخریب امت ہونے کے اور کیافائدہ دے سکتاہے۔ یہ جواب ہے کہ نبوت فی نفسہ کوئی عذاب نہیں، بلکہ خداتعالیٰ کا ایک انعام ہے۔ پس ایسا نبی جوآنحضرتﷺ کا پیرواورآپ کی شریعت کی ترویج واشاعت کے لئے آئے۔ اس کا آنا یقینا باعث تخریب امت نہیں بلکہ اصلا ح امت ہوگا۔

اورمختاران اورگواہان مدعیہ کا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جواللہتعالیٰ کے ایک نبی ہیں وہ آئیں گے اور آنحضرتﷺ کے دین کی اشاعت کریں گے۔ پس اگر ایک مستقل نبی کے آنے سے آنحضرتﷺ کی رسالت اور دعوت کے عام اور تمام لوگوں کے لئے ہونے میں کوئی رخنہ واقع نہیں ہوتا توآنحضرتﷺ کی اولاد روحانی میں سے ایک فرد کوحضورکی پیروی کی برکت سے اگر مقام نبوت حاصل ہوجائے تواس میں کون ساگناہ لازم آجاتاہے۔

بہرحال گواہان مدعیہ جوآیات اپنے مدعاکے اثبات میں پیش کی تھیں۔ ان سے قطعاً ان کا مدعاثابت نہیں ہوتا۔

(۱۱) پیش کردہ احادیث کا صحیح مطلب

مختاران مدعیہ اور گواہان نے جو احادیث انقطاع نبوت کے ثبوت میں پیش کی تھیں۔ ان کے جو جوابات گواہان مدعاعلیہ نے دئیے تھے۔ مختاران مدعیہ نے اپنے سکوت سے ان کوصحیح تسلیم کرلیا اور ان کے رد میں کوئی بات پیش نہیں کی۔ اس لئے میں مختصراً ان جوابات کودہراتاہوں اور مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہان مدعیہ نے دو سو احادیث پیش کیں جن میں سے سترہ احادیث صحیح پیش کی گئیں، محض مغالطہ ہے۔ کسی کے فضول دعویٰ سے کہ اتنی حدیثیں پائی جاتی ہیں۔ دعویٰ ثابت نہیں ہوجاتا اور جوحدیثیں انہوں نے پیش کی تھیں وہ ان کے مفید مطلب نہیں ہیں اورقطعاً ان سے ان کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا اور کل حدیثیں انہوں نے تیرہ پیش کی ہیں اور یہی ان کے نزدیک سب سے قوی تھیں۔ لیکن ان سے بھی ان کا مدعاثابت نہیں ہوتا اورپھران تیرہ میں سے بھی بعض احادیث بالکل ضعیف ہیں۔

پہلی حدیث کہ آنحضرتﷺ نے حضرت علیq کو مخاطب کرکے فرمایا:الاترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الّاانہ لانبی بعدی‘‘ کہ اے علی! کیا تو اس بات سے خوش نہیں ہوتا کہ تومجھے ایسا ہی ہے جیسا کہ موسیٰ کوہارون تھے۔ مگر ہاں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اب اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ سیاق حدیث کے بالکل خلاف ہے۔ یہاں اصل میں وجہ شبہ حضرت علی اور حضرت ہارونm میں وہ خلافت کا تھوڑاسازمانہ ہے جو دونوں کو پیش آیا۔ حضرت موسیٰؑ طور پر تشریف لے گئے تو ہارون کوخلیفہ بناگئے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہتعالیٰ فرماتاہے:’’وقال موسٰی لاخیہ یاھارون اخلفنی فی قومی (اعراف)‘‘

یعنی حضرت موسیٰؑ نے اپنے بھائی سے کہا کہ اے ہارون! میری قوم میں تومیراجانشین رہ۔ اسی طرح پرآنحضرتﷺ نے حضرت علیq کو غزوہ تبوک پرجاتے ہوئے مدینہ منورہ میں اپناخلیفہ مقررکیا۔ لیکن جب حضرت علیq کو حضرت ہارونm سے تشبیہ دی گئی تواس سے یہ شبہ پیداہوتاتھا کہ حضرت ہارونm تو نبی تھے۔ شاید یہ بھی نبی ہوں توآپ نے اس کا ازالہ کردیا کہ میرے بعد نبی نہیں۔

209

چنانچہ بحار الانوار کی ایک حدیث میں یہ آیاہے کہ:’’انت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الّا النبوۃ‘‘ (بحار الانوار ج۹ ص۲۷۸)

کہ تو مجھے ہارونm کی طرح ہے موسیٰؑ کے مقابلہ میں مگر نبوت میں نہیں۔ یعنی تو نبی نہیں ہے۔

اور (ص۲۷۷) میں ’’الا انہ لیس معی نبی‘‘ کے الفاظ ہیں کہ مگر میرے ساتھ کوئی نبی نہیں ہے اور ایک حدیث میں تو صاف لکھاہے:’’اماترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انک لیس بنبی انہ لاینبغی لی ان اذھب الاوانت خلیفتی‘‘ (کنزالعمال ج۶ ص۱۵۳)

کہ تومجھے ہارون کے بمنزلہ پرہے۔ مگریہ کہ تو نبی نہیں ہے اور میرے لئے مناسب نہیں کہ میں جائوں اور آپ کو اپناجانشین مقررنہ کرکے جائوں۔

اوربعد کے معنی غیرحاضری کے بکثرت قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔

۱… ’’فانا قد فتناقومک من بعدک یاموسٰی(طہ)‘‘ اے موسیٰ ہم نے تیری قوم کو تیرے بعد یعنی تیری غیر حاضری میں فتنے میں ڈال دیاہے۔

۲… ’’ولما رجع موسٰی الی قومہ غضبان اسفا قال بئسماخلفتمونی من بعدی (اعراف)‘‘

جب حضرت موسیٰؑ ناراضگی سے افسوس کرتے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئے تو فرمایا تم نے میری غیر موجودگی میں میری جانشینی کی ہے۔

۳… اسی طرح فرمایا: ’’واذ وٰعدنا موسٰی اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ (بقرہ)‘‘

۴… تویہاں بھی بعدہ کے معنی ’’بعدذھابہ الی الطور‘‘ ہیں۔ یعنی طور پرجانے کے بعد ان کی غیرحاضری میں تم نے بچھڑے کومعبود بنایا۔

۵… پس بعد کے معنی غیرحاضری کے کثرت سے زبان عرب میں پائے جاتے ہیں۔ باقی اس امر کی تائید میں حوالہ جات اور مطلب کے لئے ملاحظہ ہوں۔ گواہ مدعاعلیہ۔

اوالمراد انہ لم یبعث بعد عیسٰی نبی بلاشرعۃ مستقلۃ وانما مستقلۃ فان بعث بعدہ من بعث بتقریر شریعتہ عیسٰی رفعہ خالد بن سنان اخرجھا الحاکم من المستدرک من حدیث ابن عباس ولھا طرق‘‘ (فتح الباری ج۶ ص۳۵۴)

(۱۲) علماء نے لانبی بعدی کے کیا معنی کئے

نواب صدیق حسن خان صاحب اقتراب الساعۃ مطبوعہ آگرہ (ص۱۶۲) میں لکھتے ہیں:

۱… حدیث: ’’لا وحی بعد موتی‘‘ بے اصل ہے۔ ہاں! ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے۔ مگر اس کے معنی بھی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہیں لائے گا۔

۲… اسی طرح ملّا علی قاری بھی فرماتے ہیں: ’’اما حدیث لاوحی بعدی باطل لااصل لہ نعم ورد لانبی بعدی ومعناہ عند العلماء انہ لایحدث بعدہ نبی ینسخ شریعہ‘‘ (کتاب الاشاعۃ لا شراط الساعۃ السیدشریف محمد بن رسول الحسینی البرزنجی ص۲۲۶)

اس کا ترجمہ وہی ہے جو اوپرنمبر۱ میں ذکرہے کہ حدیث: ’’میری نبوت کے بعد وحی نہیں۔‘‘ باطل ہے اور بے اصل محض ہے۔ ہاں! ’’لانبی بعدی‘‘ آیاہے اور اس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسانبی پیدانہ ہوگا جو نئی شریعت لائے اور آپ

210

کی شریعت کومنسوخ کردے۔ بقیہ ملاحظہ ہوں بیان گواہ مدعاعلیہ۔

دوسری حدیث: جوگواہان مدعیہ نے پیش کی تھی۔ ’’وکانت بنواسرائیل تسوسھم الانبیاء‘‘ کی ہے۔ سوال کاجواب ملاحظہ ہوبیان مطبوعہ مدعاعلیہ اور نیز اس حدیث میں یہ ظاہرکردیاگیاہے کہ بنی اسرائیل میں دوقسم کے نبی ہوئے تھے۔ ایک وہ جوسیاسی تھے۔ جیسے یوشع، سلیمان، دائودo وغیرہ اوردوسرے غیر سیاسی یعنی جنہوں نے زہد اورتصوف میں اپنی زندگی گزاردی وہ بادشاہ نہ تھے۔ جیسے حضرت زکریا، یحییٰ اور عیسیٰo وغیرہ۔

اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے جس سیاست کو شروع کیاتھا۔ اسے ناقص چھوڑ کر وفات پاگئے اور اپنے اتباع کے لئے سیاسی ترقیات کے دروازے کھول گئے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد سیاست کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ بلکہ خلفاء ہوں گے جواس کام کو سرانجام دیں گے اور وہ ایک دونہیں بلکہ کثرت سے ہوں گے تو اس حدیث سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی قسم کا نبی امت محمدیہ کے لئے جب کہ وہ حسب پیش گوئی آنحضرتﷺ یہود کے قدم بقدم چلیں۔ کوئی مسیح نفس امتی نبی نہیں آئے گا۔

تیسری حدیث: ’’ختم بی النّبوۃ‘‘ پیش کی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ پربھی اگر غور کیاجائے توصاف معلوم ہوگا کہ یہاں آنحضرتﷺ نے اپنا مقابلہ پہلے انبیاء سے کیاہے۔ جیسا کہ اس حدیث کی روایتوں میں لفظ ’’من قبلی‘‘ سے ظاہرہے۔ ان انبیاء پرجومجھ سے پہلے تھے چھ باتوں پر فضیلت دی گئی جن میں ایک یہ ہے کہ میں خاتم النّبیین ہوں۔

’’ختم بی النّبییون‘‘ میں اگرختم کے معنی بھی لئے جائیں تو ’’النبییون‘‘ میں الف لام تخصیص یاعہد کے لئے ہوگا۔ یعنی وہ نبی جو آپ سے پہلے گزرچکے ہیں جو بالاستقلال نبی تھے۔ پھر بھی اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ آپ کے بعد حضور کے فیضان اورحضور کی پیروی کی برکت اورقوت قدسیہ اورافاضہ روحانیہ کے طفیل آپ کی شریعت کی اشاعت کے لئے کوئی نبی نہیں آسکتا اورحضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کے معنی تفہیمات الٰہیہ میں یہی کئے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد ایسا کوئی نبی نہ ہوگا جس کو اللہتعالیٰ لوگوں کے لئے شاعر بنائے۔

چوتھی حدیث: ’’العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘

العاقب کی تفسیر سے مختارمدعیہ نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں ہے۔ اس کامفصل جواب بیان گواہ مدعاعلیہ مختارمدعیہ نے جوحوالہ حاشیہ بخاری سے پیش کیاہے کہ فتح البخاری میں یہ لکھاہے کہ ترمذی میں بعد نبی کے الفاظ آئے ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ اسی عبارت میں یہ لکھاہے: ’’فظاہر الادراج‘‘ کہ یہ لفظ بعد کے داخل شدہ ہیں۔

پس شارح ’’لیس بعدہ نبی‘‘ کے الفاظ کو دیگر بزرگوں کی طرح کسی کی طرف سے داخل شدہ قراردیتاہے اورالعاقب کے معنی (بخاری ج۲ ص۷۳۷ حاشیہ نمبر۷) میں یہ لکھاہے:’’الذی یخلف فی الخیر من کان قبلہ‘‘ کہ جونیکی میں اپنے سے پہلے کاجانشین ہو۔

پانچویں حدیث:’’لم یبق من النّبوۃ الا المبشرات‘‘ سے مختارمدعیہ نے یہ استدلال کیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت منقطع ہے۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ۔

پس مبشرات بھی نبوۃ کی ایک قسم ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف مبشرات کی نوع باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ حکیم محمدحسین رئیس امروہہ اپنی کتاب ’’کواکب دریّہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’نبوت لغت میں بمعنی خبر دینے کے لئے ہے۔ امور آئندہ اوراس کے اقسام میںسے بخصوصیت الٰہیہ جس میں کسب کودخل نہ ہو اور جو بخصوصیت الٰہیہ ہے اس کی بہت سی اقسام ہیں۔ ایک: خواب میں روح رب

211

اعظم خود ارشاد کرے۔ دوسری: مشاہدہ میں روح الاعظم کے ارشادہے۔تیسرے: ملک خواب میں کہے جومشاہدہ میں آجاوے۔ پانچویں: کوئی نبی خواب میں فرما دے۔ چھٹے: کوئی نبی مشاہدہ میں فرمادے۔ ساتویں: صلصلۃ الجرس خواب میں دریافت ہو۔ آٹھویں: مشاہدہ میں بطور صلصلۃ الجرس دریافت ہو۔ یہ سخت ترین اقسام وحی سے ہے اور اس میں سے کبھی شیطان بھی چرالیتاہے۔ نویں: روح القدس یعنی اسم رحمان ہے کہ مقام فنایابقاء میںدریافت ہو۔ الغرض اصطلاح میں نبوت بخصوصیت الٰہیہ خبردینے سے عبارت ہے وہ دوقسم کی ہے۔ ایک نبوت تشریعی جوختم ہوگئی۔ دوسری نبوت بمعنی خبردادن ہے۔ اس کو مبشرات کہتے ہیں۔ اپنے اقسام کے ساتھ اس میں سے رویاء بھی ہے۔( کوکب دریہ ص۱۴۷،۱۴۸)

پس اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے مبشرات کی جو ادنیٰ قسم تھی رؤیابیان کی ہے۔ ورنہ ان تمام بزرگان دین اور ائمہ اسلام کو جنہوں نے رؤیاکے اوپرکشوف اور وحی الٰہی اورمکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ کے دروازہ کوآنحضرتﷺ کے بعد مفتوح ماناہے جھوٹا ماننا پڑے گا۔

چھٹی حدیث: ’’اناآخرالانبیاء وانتم آخرالامم‘‘ اور ’’ان مسجدی آخر المساجد‘‘ سے مختارمدعیہ اور گواہان نے یہ نتیجہ نکالاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیںآسکتا۔ یہ حدیث ابن ماجہ سے روایت کی ہے اوراس کے راویوں میں سے ایک روای اسماعیل بن رافع ہے جن کے متعلق میزان الاعتدال (ج۱ ص۹۰) میں لکھاہے: ’’ضعفہ احمد و یحیٰی وجماعۃ وقال الدارقطنی وغیرہ متروک الحدیث وقال ابن عدی احادیثہ کلھا ممافیہ نظر‘‘ کہ امام احمد اور یحییٰ(ابن معین) اور ایک جماعت نے اس کو ضعیف ٹھہرایاہے اور امام دارقطنی اوردوسرے ائمہ نے اسے متروک الحدیث قراردیاہے۔ ابن عدی نے کہاہے کہ اس کی تمام احادیث کو قبول کرنے میں توقف ہے۔ صرف امام بخاری نے اسے مقارب الحدیث یعنی درمیانہ قراردیاہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر اس کی حدیث لے لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن باقی ائمہ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں اور اسے متروک الحدیث مانتے ہیں۔

اور اس کے دوسرے راوی عبدالرحمن بن محمدحمادی کے متعلق میزان الاعتدال (ج۲ ص۱۰۴) میں لکھاہے: ’’قال ابن معین یروی المنکر عن المجہولین۔ قال ابوحاتم صدوق یروی عن المجہولین، احادیث منکرہ فیفسدحدیثہ بذلک وقال ابن معین ایضاً ثقہ وقال وکیع ماکان احفظہ للطوال وقال عبداللہ بن احمدبن حنبل عن ابیہ ان المحاربی کان یدلس ولانعلمہ سمع من معمر‘‘

ابن معین نے کہا ہے کہ وہ منکرحدیثیں غیرمعروف اور مجہول لوگوں سے روایت کرتاہے۔ ابوحاتم نے کہا: سچاتوہے لیکن مجہول شخصوں سے روایت کرتاہے جس سے اس کی تمام حدیث خراب ہوجاتی ہے اوروکیع نے کہاہے کہ وہ لمبی حدیثیں یاد نہیں رکھ سکتا اورامام احمد بن حنبل نے کہاہے کہ وہ مدلس ہے اورہم نہیں جانتے کہ اس نے معمر سے سناہو۔

باوجویکہ اس کے راوی اتنے ثقہ نہیں کہ اس کی حدیث کو یقینی طور پر صحیح مان لیاجائے۔ مگر تاہم اس حدیث کے معنی بالکل واضح ہیں۔ آنحضرتﷺ نے اس دجال کاذکرکرتے ہوئے جواسلام کادشمن اوراسلام کی تخریب میں مساعی ہوگا۔ اس کے بالمقابل آپ نے اپنی نسبت آخرالانبیاء فرمایاہے اور ساتھ ہی ’’آخر الامم‘‘ ذکرفرماکرواضح کردیا کہ آپ ایسے آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی مستقل امت بنانے والے نبی نہیں آسکتا۔

اور گواہ مدعیہ نمبر۱ نے جو حدیث:’’اوّل النّبیین فی الخلق‘‘ کنزالعمال سے پیش کی تو وہ بھی ابن بلال سے مروی ہے جو کہ مسلم کتب صحاح میں سے نہیں ہے۔ دوسرے اس میں ’’النّبیین‘‘ سے مراد بھی آپ سے پہلے کے انبیاء ہیں۔ آپ ان کی نسبت سے یقینی آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد ویسا کوئی نہیں آ سکتا۔

212

اورگواہ مدعاعلیہ نمبرالف نے دوحدیثیں کنزالعمال سے ایسی پیش کی ہیں جن میں صرف آپ کاخاتم النّبیین ہونا مذکورہے اور آپ کے خاتم النّبیین ہونے میں کسی کوکلام نہیں ہے اورہم بصدق دل یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ یاد رہے کہ گواہ نمبر۲ کے عنوان کے ماتحت چارحدیثوں کاذکرآگیاہے۔

ساتویں حدیث: ’’مثلی ومثل الانبیاء من قبلی‘‘ اس حدیث سے اگر کچھ ثابت ہوتاہے تو صرف دوامر ثابت ہوتے ہیں۔

۱… جس قسم کے پہلے نبی آیاکرتے تھے صاحب شریعت یامستقل۔ یعنی براہ راست نبوت حاصل کرنے والے۔ اس قسم کا اب کوئی نبی نہیں آئے گا اوردرحقیقت یہاں پہلے نبیوں کی نسبت سے جوآپ نے تشبیہ دی ہے تووہ شریعت کے لحاظ سے ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: ’’فکانہ شبہ الانبیاء وما بعثوبہ من ارشاد الناس ببیت است قواعدہ ورفع بنیانہ وبقی منہ موضع بہ یتم اصلاح ذالک البیت… فان شریعۃ کل نبی بالنسبۃ الیہ کاملۃ بہ فالمراد ھنا النظر الی الاکمل بالنسبۃ الی شریعتہ المحمدیۃ مع مامضی من الشرائع الکاملۃ‘‘ (فتح الباری ج ۶ ص۴۰۷)

اس عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ اس حدیث سے جوتشبیہ بیان ہوئی ہے تو وہ شریعت محمدیہ کے بہ نسبت پہلی شرع کاملہ کے اکمل ہونے کے اظہار کے لئے ہے۔

۲… دوسراامر اس حدیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ پہلے نبیوں میں سے اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔

آٹھویں حدیث: ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر‘‘ حضرت مسیح موعود نے اس حدیث سے جو آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کے بند ہونے پر استدلال کیاہے تو اس سے مراد وہی نبوت ہے جو مستقل اوربراہ راست اوربغیراتباع آنحضرتﷺ کے حاصل ہو۔ باقی اس حدیث پر معنی اور تفصیل ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

نویں حدیث: ’’سیکون فی امتی ثلثون کذابون‘‘ کہ میری امت میں تیس دجال ہوں گے۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ص۵۹تا۶۰

اس میں ایک بات اور قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کا تیس کاعدد معین فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی سچابھی آئے گا اور یہ تیس مدعیان نبوت کاذبہ تومدت ہوگئی پہلے ہوچکے۔ جیسا کہ اکمال کے حوالہ سے ثابت ہے۔

ہاں! ایک حدیث کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے جوطبری نے تہذیب الآثار میں ذکرکی ہے اور وہ یہ ہے: ’’سیکون بعدی ثلاثون کلھم یدعی انہ نبی ولانبی بعد الامن شاء اللہ‘‘ (اکمال الاکمال ج۱ ص۳۶۵) کہ میرے بعد تیس دجال ہوں گے جن میں سے ہرایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر جسے خداتعالیٰ نبی بناناچاہے گا وہ نبی ہوگا۔ پس اس روایت میں یہ استثناء اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی سچانبی بھی آنا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اس حدیث کے جواب میں فرماتے ہیں:

باربار یہ کہتے ہیں کہ ہم تم کو اس وجہ سے نہیں مانتے کہ ہماری حدیثوں میں لکھاہے کہ تیس (۳۰) دجال آئیں گے۔ اے بدقسمت قوم! کیا تمہارے حصہ میں دجال ہی رہ گئے۔ تم ہرایک طرف سے اس طرح تباہ کئے گئے جس طرح ایک کھیتی کو رات کے وقت کسی اجنبی کے مویشی تباہ کردیتے ہیں۔ تمہاری اندرونی حالتیں بھی بہت خراب ہوگئیں اور بیرونی حصے بھی انتہاء کو پہنچ گئے۔ صدی کے سرپرجومجدد آیاکرتے تھے وہ بات شاید نعوذباللہ!خدا کو بھول گئی کہ اب کی دفعہ اگر صدی کے سرپربھی آیا توبقول تمہارے ایک دجال آیا۔ تم خاک میں مل گئے۔ مگر خدانے تمہاری خبرنہ لی۔ تم بدعات میں ڈوب گئے۔ مگر خدانے تمہاری دستگیری نہ کی۔ تم میں سے روحانیت جاتی رہی۔ صدق وصفاکی بونہ رہی۔ سچ کہواب تم میں روحانیت کہاں ہے۔ خدا کے تعلقات کے نشان کہاں۔ دین تمہارے نزدیک کیاہے۔ صرف زبان کی چالاکی

213

اورشرارت آمیز جھگڑے اورتعصب کے جوش اوراندھوں کی طرح حملے۔ خدا کی طرف سے ایک ستارہ نکلا۔ مگرتم نے اس کو شناخت نہ کیا اورتم نے تاریکی کواختیار کیا۔ اس لئے خدا نے تمہیں تاریکی میں ہی چھوڑ دیا۔ اب اس صورت میں تم اورغیرقوموں میں کیا فرق ہے۔ کانا ایک اندھوں میں بیٹھ کر کہہ سکتاہے کہ تمہاری حالت سے میری حالت بہترہے۔ ہائے افسوس! ان نادانوں پرجنہوں نے مجھے شناخت نہیں کیا۔ وہ کیسی تیرہ وتاریک آنکھیں تھیں جوسچائی کے نور کودیکھ نہ سکیں۔ میں ان کو نظر نہیںآ سکتا۔ کیونکہ تعصب نے ان کی آنکھوں کو تاریک کر دیا۔ دلوں پر زنگ ہے اور آنکھوں پر پردے۔ اگر وہ سچی تلاش میں لگ جائیں اور اپنے دلوں کو گند سے پاک کردیں۔ دن کو روزے رکھیں اور راتوں کواٹھ کر نماز میں دعائیں کریں اورروئیں اور نعرے ماریں تو امید ہے خدائے کریم ان پر ظاہر کردے کہ میں کون ہوں۔ چاہئے کہ خدا کے استغناء ذاتی سے ڈریں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۴۵تا۱۴۷، خزائن ج۲۱ ص۳۱۳ تا۳۱۵)

(۱۳) اجماع کی بحث

مختارمدعیہ وگواہان نے اس امر پرزور دیاہے کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے معنوں پرکہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ شرعی نہ غیرشرعی۔ تمام امت کا اجماع ہوچکاہے۔ حالانکہ یہ گزشتہ بحث سے بالکل واضح ہے کہ ان معنوں پرنہ صحابہ کااجماع ہوا۔ نہ ان کے بعد کسی اورعصر میں اجماع ثابت ہے۔ بلکہ اس کے خلاف ہم نے ائمہ اورعلماء کے اقوال سے ثابت کردیاہے کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا جوآپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت کا اجماع ہوچکاہے۔ دعویٰ بلا دلیل ہے اور اگر تسلیم بھی کیا جائے تو پھر صحابہ کے اجماع کے ایک قسم کے سواء باقی اجماعوں کے انکار سے کفر لازم نہیں آتا۔ چنانچہ (ارشاد الفحول ص۷۷ مطبوعہ مصری) میں لکھاہے: ’’اجماع صحابہ کا بلاخلاف حجت ہے اور قاضی عبدالوہاب سے منقول ہے کہ بعض مبتدع لوگوں کایہ خیال ہے کہ صحابہ کا اجماع بھی حجت نہیں اور صرف صحابہ کے اجماع کے حجت ہونے کی خصوصیت کی طرف دائود ظاہری گئے ہیں۔ ابن حبان کی کلا م سے بھی جو انہوں نے اپنی صحیح میں لکھاہے۔ یہی ظاہرہے اور یہی بات امام احمد بن حنبل سے مشہورہے۔ کیونکہ ابودائود نے جو ان سے روایت کی ہے اس میں یہ لکھاہے کہ اجماع یہ ہے کہ جوآنحضرت یاآپ کے صحابہ سے ثابت ہے۔ اس کی اتباع کی جائے اور وہ تابعین سے جوثابت ہوگا اس کے بارے میں مخیرہیں، چاہے قبول کرے یا نہ۔ امام ابوحنیفہ نے کہاہے کہ جب صحابہ کسی بات پر اجماع کریں توہم اسے تسلیم کریں گے اور اگر تابعین اجماع کریں توہم ان کی مزاحمت کریں گے۔

اورابن وہب نے کہاہے: دائود اوراس کے اصحاب کا مذہب یہی ہے کہ اجماع صرف صحابہ کا ہی اجماع ہے اور اس قول کے خلاف کوئی قول موجود نہیں ہے اوراگر یہ سوال ہوکہ صحابہ کے بعد کے اجماع کے متعلق تمہاری کیارائے ہے توہم جواب دیں گے کہ وہ اجماع دووجہ سے جائز نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ آنحضرت نے خبردی ہے کہ ایک گروہ میری امت سے ایسا ہوگا جو حق پر مرے گا اوردوسری یہ کہ ملکوں کی وسعت اورکثرت امت کی وجہ سے ان کے تمام اقوال کاضبط کرناناممکن ہے اورجوشخص اس اجماع کا دعویٰ کرے۔ ایسے شخص کاکذب ظاہرہے۔

پس جب کہ صحابہ کے بعد اجماع کاوجودہی ناممکن ہوا تو یہ کہنا کہ خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی ہونے پرامت کااجماع ہے بالکل کذب اوربہتان ہے اورباقی رہاصحابہ کااجماع تواس کے متعلق ہم ثابت کرچکے ہیں کہ وہ کبھی اور کسی وقت خاتم النّبیین کے معنی پرنہیں ہوا۔ باقی ملاحظہ ہو بیان مطبوعہ ص۶۰تا۶۲

اوربعض اقوال جن میں یہ لکھاہے: ’’لایختلف فیہ اثنان‘‘ کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس میں دوشخص بھی اختلاف نہیں کرتے توصرف کسی عالم کے ہی یہ کہنے سے اجماع ثابت نہیں ہوجاتا۔ جیسے کہ ارشاد الفحول کے حوالہ سے ظاہر ہے…

214

ثابت ہے جس میں امام مالک نے ایک مسئلہ کے متعلق کہا کہ اس میں کسی ایک شخص کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ حالانکہ اس میں اختلاف موجود تھا۔ اس طرح امام شافعی نے کہا کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں۔ حالانکہ اس میں خلاف مشہورہے۔ پس کسی کے ایسا کہنے سے اجماع ثابت نہیں ہوجاتا۔

گواہان مدعاعلیہ نے جوحوالہ اجماع کے متعلق اپنی تائید میں نورالانوار سے پیش کیاتھا اس کے متعلق مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں یہ لکھاہے کہ اجماع الصحابۃ نصاً کاجو مفہوم لیاگیاہے کہ ہرایک تصریح کرے، یہ صحیح نہیں۔ بلکہ یہ اجماع سکوتی ہی کے مقابل میں ہے۔ مختارمدعیہ کے اس جواب سے ظاہرہے کہ نہ تواس نے نور الانوار کی عبارت کوغور سے دیکھا اور نہ اس کے سمجھنے کی کوشش کی۔ نورالانوار کی عبارت یہ ہے:’’فالاقویٰ اجماع الصحابۃ نصامثل ان یقولوا جمیعا اجمعنا علی کذا فانہ مثل الایۃ والخبر المتواتر حتی یکفر جاحدہ ومن الاجماع علٰی خلافۃ ابی بکرq ثم الذی نص البعض وسکت الباقون من الصحابۃ وھو المسمی بالاجماع السکوتی ولایکفرجاحدہ‘‘ (نورالانوار ص۱۸۹)

کہ سب سے اقویٰ اجماع صحابہ کاہے۔ جونصاً ہو۔ یعنی سب کے سب بالاتفاق یہ کہیں کہ ہم نے اس پر اجماع کیاہے تو وہ آیت اورخبرمتواترکی طرح ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کا منکرکافرہوگا اور حضرت ابوبکرکی خلافت پرجواجماع ہواوہ اسی قسم کاتھا اوراس کے بعد وہ اجماع ہے کہ جس میں بعض صحابہ نے تو اظہار رائے کیا اور باقی صحابہ خاموش رہے اور ان کی مخالفت نہ کی تویہ اجماع سکوتی کہلائیں گے اوراس کا منکرکافر نہیں ہوگا۔

اس بات سے صاف ظاہرہے کہ نصاً سے مراد وہی ہے جوگواہان مدعیہ کی ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہیں کہ ہم اس پر اجماع کرتے ہیں۔ پھرمختارمدعیہ نے یہ بھی کہاہے کہ اجماع سے مراد امت کااجماع ہے۔ یہ شرط نہیں کہ صحابہ اہل بیت کااجماع ہو۔ سو اس کے متعلق اوپرکافی ذکرکیاجاچکاہے۔ لیکن یہاں پر یہ کہہ دینا نامناسب نہیں ہے کہ یہاں مابہ النزاع وہ اجماع ہے جس کے انکار سے کفرلازم آوے اوروہ جیسا کہ نورالانوار کی عبارت سے ظاہرہے۔ وہی اجماع ہے جوصحابہ کااجماع ہے جو صحابہ کااجماع نصاً ہو۔ یعنی سب کہیں کہ ہم اس پر اجماع کرتے ہیں اور اگر ان سے سکوتی اجماع ثابت ہو تو اس کامنکر بھی کافرنہیں ہوگا۔ چہ جائیکہ صحابہ کے بعد کے اجماع کے منکر کو کافر کہا جائے۔ چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۳ نے بھی ۲۸؍اگست کوبجواب جرح تسلیم کیاہے کہ حنفیہ کا اصول ہے کہ اجماع صحابہ کا قطعی ہے اور منکراس کا کافرہے اورمابعد کے اجماع کامنکر مبتدع اورفاسق ہے۔

لیکن نہ گواہان مدعیہ اور نہ مختاران مدعیہ اس امر کا ثبوت دے سکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے ان معنوں پرجوگواہان مدعیہ نے پیش کئے ہیں۔ صحابہ نے نصاً اجماع کیاتھا۔ پس جب صحابہ کا ان معنی پر ایسا اجماع ثابت نہیں تو اس کے سوادوسرے معنی کرنے والے کوکافر قرار دینا مذہب حنفیہ کی رو سے بھی جائز نہیں ہے۔ مختارمدعیہ نے یہ بھی کہاکہ گواہان مدعیہ نے اپنی تائید میں اجمعت الامۃ کے الفاظ دکھائے ہیں کہ ان کے پیش کردہ معنی پر امت نے اجماع کیاہے۔ اگرچہ اس کاجواب بھی اوپرگزرچکاہے۔ مگر پھربھی میں یہاں ایک مثال سے واضح کردیناچاہتاہوں کہ کسی شخص کا اجمعت الامۃ کہہ دینا بھی ثابت نہیں کرتا کہ واقعی طور پر امت کااس پر اجماع بھی ہو۔ چنانچہ کتاب الابانہ میں لکھاہے:’’اجمعت الامۃ علی ان اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الی السماء‘‘ (کتاب الابانۃ مطبوعہ حیدرآباد ص۴۱)

کہ امت نے اس پر اجماع کیاہے کہ اللہتعالیٰ نے عیسیٰؑ کو آسمان پر اٹھالیا۔ حالانکہ امام مالک نے ان کی وفات کے متعلق تصریح کی ہے اور۹؍اگست کو بوقت جرح عدالت کے روبرو جب ان کے قول کو پیش کیاگیاتو گواہ مدعیہ نمبر۳ اس کے خلاف ان کا کوئی قول نہ پیش کرسکا اور اس طرح اوربھی اکابر نے مسیح کی وفات کوتسلیم کیاہے۔ پس کسی شخص کے یہ کہہ دینے سے کہ امت نے اس پراجماع کیاہے۔

215

اجماع ثابت نہیں ہوجاتا۔ خصوصاً جب کہ اس کے خلاف ائمہ کے اقوال بھی موجود ہوں۔ اگرغور سے دیکھاجائے تو تمام امت کا اگر اجماع قراردیا جاسکتا ہے تو صرف اس بات پرکہ آنحضرتﷺ کے بعدنئی شریعت لانے والانبی کوئی نہیں ہوسکتا اورگواہان مدعاعلیہ نے (مسلم الثبوت ج۲ ص۱۷۱) سے امام رازی کایہ مذہب پیش کیاتھا کہ وہ تواتر معنوی کے حجت ہونے کو مستبعد خیال کرتے ہیں۔ مختارمدعیہ یہ کہتاہے کہ اس کے نیچے فواتح الرحموت میں اس کی تردید موجودہے۔ حالانکہ جس کتاب سے گواہان مدعیہ نے حوالہ پیش کیاہے۔ اس کے حاشیہ میں رازی کی تائید کی گئی اور حضرت مسیح موعود نے (شہادت القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸) میں تواتر معنوی کاذکرنہیں کیا۔ بلکہ یہ فرمایاہے کہ مسیح موعود کے آنے کے متعلق اس قدر روایات آئی ہیں کہ جن سے قدر مشترک کوکہ مسیح آئے گا متواتر ماننا پڑتاہے۔ تواتر معنوی تو اس کا یہ ہونا چاہئے تھا کہ حضرت عیسیٰؑ ہی آئیں گے۔ اس کو آپ نے رد فرمایاہے۔ اس لئے کہ پیش گوئی کی کیفیت وقوع کے سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہے اوراس طرح مجتہد بھی سمجھنے میں خطاء کرسکتاہے۔

(۱۴) مسیلمہ کذاب وغیرہ سے قتال کی وجہ

ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

(۱۵) اسلامی بادشاہوں کے فیصلے

ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

(۱۶) مسیلمہ کذاب نے کس قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا

ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

اورگواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیاہے کہ آنحضرت کے بعد مسیلمہ نے احکام میں تغیر وتبدل کیا اور حجج الکرامۃ میں جوواقعات مذکور ہیں وہ صحیح ہیں۔

(۱۷) علماء نے کس قسم کی نبوت کو بند سمجھاہے

گواہان مدعیہ اورمختارمدعیہ نے خاتم النّبیین کے معنی آخری نبی جس کے بعد کسی قسم کاکوئی نبی نہیں ہوگا۔ ثابت کرنے کے لئے مفسرین کے اقوال پیش کئے ہیں۔ لیکن قبل اس کے جو میں ان کے اقوال کا صحیح مفہوم بیان کروں۔ اصولی طور پر بتادینا چاہتاہوں کہ مفسرین نے جوکسی آیت سے کچھ سمجھاہو وہ دوسرے پرحجت ملزمہ نہیں ہوسکتی۔ مفسرین تو کجارہے۔ صحابہؓ کا فہم بھی حجت قطعیہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ان سے بھی سمجھنے میں غلطیاں ہوتی رہی ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے مثالوں سے واضح کرچکاہوں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی کتاب (عقد الجید فی الحکام الاجتہاد والتقلید ص۳۹تا۴۱، مطبوعہ صدیقی لاہور) میں لکھتے ہیں:

پس ابن حزم کا قول یہ ہے جو کہتاہے کہ تقلید حرام ہے اور کسی کوحلال نہیں کہ سوائے رسول اللہﷺ کے کسی کے قول کو بلادلیل اخذکرے۔ بدلیل اس آیت کے’’اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم‘‘ کہ تم اسی کے پیروی کروجوتمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاراگیاہے اور اس کے سواء اور رفیقوں یااولیاء کی پیروی مت کرو اوربدلیل آیت: ’’واذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ… الخ!‘‘ کہ جب ان سے یہ کہاجاتاہے کہ تم پیروی کرو اس کی جوخدانے اتاراہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو پیروی کریں گے اسی چیز کے جس پر ہم نے اپنے باپ داداکو پایاہے اور اللہتعالیٰ نے اس کی مدح میں فرمایا ہے جوتقلید نہ کرے۔’’فبشر عبادی الذین یستمعون

216

القول‘‘ کہ تو بشارت دے میرے ان بندوں کو کہ جوبات کو توجہ سے سنتے ہیں اورپھراسی میں سے اس بات کو اختیارکرلیتے ہیں جن کواللہتعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور وہی عقل والے ہیں۔ پھراللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اللہ والرسول‘‘ پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تواس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹائو۔ اگر تم خدا اور یوم آخرت پرایمان رکھتے ہو۔ سوا ﷲتعالیٰ نے تنازع کے وقت حادثے کالوٹانا بجز قرآن کریم اور حدیث کے کسی طرف مباح نہیں کیا اور اس سے تنازع کے وقت کسی قائل کے قول کی طرف ردکرناحرام ہوگیا۔ کیونکہ وہ قرآن اورسنت کے سواء ہے اورتمام صحابہ کااجماع اوّل سے آخرتک اورتابعین کااجماع اوّل سے آخرتک اور تبع تابعین کا اجماع اوّل سے آخر تک اس تقلید سے باز رہنے اورمنع کرنے پرثابت ہوچکاہے کہ کوئی شخص اپنے میں سے کسی انسان کے قول کی طرف یااپنے سے پہلے کے قول کی طرف قصد کرے۔ پھر وہ تمام اقوال کو اخذ کر لے۔ پس جس شخص نے امام ابوحنیفہ کے تمام اقوال یاامام شافعی کے تمام اقوال یا امام احمد کے تمام اقوال اخذ کئے اور ان میں سے ان کے علاوہ اپنے متبوع کا قول چھوڑ کر غیر کا قول نہیں لیا اور جو قرآن وحدیث میں آیا ہے اس پر اعتماد نہیں کرتا۔ جب تک کہ اس کو کسی انسان معین کے قول سے مطابق کرے تووہ خوب سمجھ لے کہ اس نے تمام امت اوّل سے آخر تک کے یقینا خلاف کیاجس میں کوئی شبہ نہیںہے اوروہ اپنے واسطے سارے تینوں تعریف کئے ہوئے زمانوں میں نہ سلف پاتاہے اور نہ امام تو اس نے بے شک مؤمنین سے الگ راہ اختیار کی۔ اس وجہ سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔

اوراسی طرح ائمہ اربعہ کے اقوال جس میں انہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ہماری کوئی اندھی تقلید نہ کرے۔ بلکہ اگر کوئی قول ہمارے اقوال سے اچھا دیکھے تواس کو اختیار کرے۔ دیکھو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

اوراگر مفسرین کی تفسیروں کا نمونہ دیکھنا ہوتوملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبرا

باوجودیکہ مفسرین کے اقوال کسی پرحجت نہیں ہیں۔ تاہم مختارمدعیہ کے پیش کردہ حوالہ جات پرجب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ان سے بھی صاف طور پرثابت ہوتاہے کہ انہوں نے بھی جس نبوت کو بندقرار دیاہے وہ ایسی نبوت ہے کہ جس سے شریعت اسلامیہ کو منسوخ ماننا پڑے گا۔ جیسا کہ ان کی مثالوں سے واضح ہے۔

چنانچہ پہلا حوالہ جوزیادہ تر گواہوں نے پیش کیاہے وہ (ابن کثیرج۸ ص۹۱،۹۲) کاہے جو’’فمن رحمت اللہ تعالٰی‘‘ سے شروع ہوتاہے اور ’’افعالھم‘‘ تک ختم ہوگاہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔

اللہتعالیٰ کی بندوں پرایک رحمت محمدa کو بھیجنا۔ پھر آپ کو ’’خاتم الانبیاء والمرسلین‘‘ کے لقب اوردین حنیف کے کامل کردینے سے مشرف فرماناہے۔ اللہتعالیٰ نے اپنی کتاب اوراس کے رسولa نے سنت متواترہ میں اس بات کی خبردی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیںتاکہ جان لیں خداکے بندے کہ ہر وہ شخص کہ جو آنحضرتﷺ کے بعد اس مقام کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب، افاک، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والاہوگا۔ خواہ کتنے ہی شعبدہ بازی جادوگری کے اقسام اور طلسمات اورنیرنگیاں دکھاوے۔ کیونکہ نبی صادق سے یہ سب باتیں عقلمندوں کے نزدیک محال ہیں۔ جیسا کہ خداتعالیٰ نے اسود عنسی سے یمن میں اور مسیلمہ کذاب سے یمامہ میںبرے حالات اوربیہودہ باتوں سے ظاہرکیا جن سے ہرذی عقل وفہم جان گیا کہ یہ دونوں کاذب ہیں، گمراہ ہیں۔ اسی طرح ہرایک اس مقام کا مدعی قیامت کے روز تک ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ مسیح دجال پر ختم ہوجائیں گے جس کے ساتھ اللہتعالیٰ ایسے امور کوپیداکرے گاکہ ان کے کرنے والے کے جھوٹ پرعلماء اور مؤمنین گواہی دیں گے اور یہ خداوندتعالیٰ کی اپنی مخلوق پربہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ فی الواقعہ نہ کسی نیکی کاحکم کرتے ہیں اور نہ کسی برائی سے منع کرتے ہیں۔ مگر اتفاقی طورپر یاجس میں ان کاکوئی خاص مقصد ہو اور وہ اپنے اقوال وافعال میں نہایت درجہ کے جھوٹے اورفاجر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ نے فرمایا: ’’ھل أنبئکم علٰی من تنزل الشیٰطین تنزل علٰی کل افاک اثیم‘‘

217

اس حوالہ سے صاف طورپرظاہرہوتاہے کہ حافظ ابن کثیر کے نزدیک ایسے انبیاء کی آمد ممتنع ہے جومسیلمہ کذاب اوراسود عنسی کی طرح ہوں اور جو نہ امر بالمعروف اور نہ نہی عن المنکر کریں، بلکہ اوّل درجہ کے فاسق اور فاجر اور لوگوں کو فسق وفجور کی طرف بلانے والے ہوں۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے حالات زندگی کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے۔ لیکن ایسے نبی کاآناجو متبع شریعت محمدیہ ہو اور امربالمعروف اورنہی عن المنکر کرتاہو۔ اس کا اس میں ذکرنہیں ہے اورحضرت مسیح کاتو یہ چیلنج ہے کہ: ’’تم کوئی عیب، افتراء یاجھوٹ یادغاکاالزام میری پہلی زندگی پرنہیں لگاسکتے تاکہ تم یہ خیال کروکہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اورافتراء کا عادی ہے۔ یہ بھی اس نے جھوٹ بولاہوگا۔ کون تم میں سے ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کرسکتاہے۔ پس یہ خداکافضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پرقائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین ص۶۲، خزائن ج۲۰ ص۶۴)

اورمولوی محمدحسین بٹالوی نے براہین احمدیہ پرریویو کرتے ہوئے (اشاعۃ السنۃ ج۷ نمبر۹ ص۲۸۴) میں آیت: ’’ھل أنبئکم علی من تنزل الشیطین‘‘ جسے حافظ ابن کثیر نے ذکرکیاہے، پیش کرکے حضرت مرزاصاحب کے مخالفین کوجواب دیتے ہوئے لکھاہے۔

مؤلف براہین احمدیہ مخالف وموافق کے تجربے اورمشاہدے کی رو سے (واللہ حسیبہ) شریعت محمدیہ پرقائم اورپرہیز گار اور صداقت شعار ہیں۔

اوریہ مولوی محمدحسین بٹالوی وہی ہیں جن کے متعلق مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی نے سبیل الرشاد میں رئیس قوم غیرمقلدین لکھا ہے اور ان کے قول کو بطور حجت کے پیش کیاہے۔(سبیل الرشاد ص۱۶)

دوسراحوالہ (روح المعانی ج۷ص۶۵)کا پیش کیاہے:’’وکونہa خاتم النّبیین ممانطقت بہ الکتاب وصدعت بہ السنۃ واجمعت علیہ الامۃ فیکفرمدعی خلافہ یقتل ان یصر‘‘ یعنی حضورکا خاتم النّبیین ہونا ان باتوں میں سے ہے جن کو قرآن پاک نے بیان کیا اور سنت نے اسے کھول دیا اور امت نے اس پر اجماع کیا۔ پس وہ شخص کافر ہوگا جواس کے خلاف دعویٰ نبوت کرے اور قتل کیاجائے گا وہ جس نے اصرارکیا۔ جوشخص ایسی نبوت کا دعویٰ کرے کہ جس کی وجہ سے وہ کہے کہ میں آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین نہیں مانتا یاآنحضرتﷺ کے خلاف دعویٰ کرے تو وہ کافرہوگا۔ پس حوالہ سے بھی اس نبوت کا امتناع ثابت نہیں ہوسکتا جس کے ہم اور دیگر علماء واولیاء اورمجدد دین امت قائل ہیں۔

تیسراحوالہ شفاقاضی عیاض کی شرح مؤلفہ ملّا علی قاری (ج۲ ص۵۱۸،۵۱۹)کاہے:’’وکذالک من ادعی النبوۃ احد مع نبینا کاصحاب مسیلمۃ واسود عنسی وبعدہ کالعیسویۃ من الیہود القائلین بتخصیص رسالتہ الی العرب خاصۃ وکالکرامیہ لانھم اباحوا المحرمات القائلین بتواتر الرسل وکاکثر الرفضۃ القائلین بمشارکۃ علیq مع الرسالۃ النّبیa ای حال وجودہ وبعدہ وکذالک کل امام عند ھٰولاء یقوم مقامہ فی النّبوۃ والحجۃ یعنی ان ارادوا بھا الحقیقۃ والافی المنزلۃ المجازی لاتوجب الکفروالبدعۃ‘‘ یعنی کافرہے وہ شخص جوآنحضرتﷺ کے ساتھ کسی کونبی قراردے۔ جیسے اسود عنسی اور مسیلمہ کے پیرو یاآپ کے بعد یہود کاعیسوی فرقہ جوکہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی رسالت صرف عرب کے لئے مخصوص ہے اور کرامیہ کی طرح جو تواتر رسل کے قائل ہیں جنہوں نے محرمات کو بھی جائز قراردے دیاتھا اور اکثر رافضیوں کی طرح جو حضرت علیq کے رسالت، رسول کریمa کی رسالت میں مشارکت کے معتقد ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کے بعد بھی اور اسی طرح ان کے نزدیک ان کا ہر امام آنحضرتﷺ کاقائم مقام ہواہے۔ نبوت اور حجت ہونے میں، یعنی اگر وہ اس سے حقیقی نبوت مراد لیں ورنہ مجازی نبوت کفراوربدعت کاموجب نہیں ہے۔

218

اس میں بھی اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اوریہود کے قبائل کی مثال دے کر جن کے متعلق یہ ثابت شدہ امر ہے کہ انہوں نے اسلامی شریعت کے احکام کومنسوخ کیا اور اسلامی محرمات کو حلال قراردیا۔ یہ بتاتاہے کہ جو نبوت آنحضرتﷺ کے بعد منقطع ہے وہ وہی مستقل اورحقیقی نبوت ہے جس میں اسلامی شریعت کو مسنوخ ماننا پڑے۔ چنانچہ اخیر میں بھی اس کو کھول دیاگیاہے کہ مجازی نبوت کفر کوواجب نہیں کرتی۔

اس عبارت سے ثابت ہے کہ اگر علی وجہ المجاز کسی کو نبی مانیں تو اس سے کفر لازم نہیں آتا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں: ’’سمیت نبیاً من اللہ تعالٰی علٰی طریق المجاز لاعلی وجہ الحقیقۃ‘‘ (ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص۶۵، خزائن ج۲۲ ص۶۸۹)

اسی طرح (انجام آتھم حاشیہ ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷) میں فرماتے ہیں: ’’ومن قال بعد رسولنا وسیدنا انی نبی ورسول علی وجہ الحقیقۃ۔ والافتراء وترک القرآن واحکام الشریعۃ الغرا فھوکافرکذاب‘‘

ترجمہ: اورجوشخص ہمارے رسول اور سردار کے بعد یہ کہے کہ میں علیٰ وجہ الحقیقۃ نبی اور رسول ہوں اورافتراء کے طورپرکہے اور قرآن مجید اور شریعت غرا کے احکام کوچھوڑے توکافر اورکذاب ہے۔

اور (سراج منیرص۳، خزائن ج۱۲ ص۵) میں فرماتے ہیں: ’’مگریاد رکھو کہ خدا کے کلام میں اس جگہ حقیقی معنی مراد نہیں جوصاحب شریعت سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

بقیہ حوالوں کا جواب دیکھو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

(۱۸) علماء کے نزدیک رسول اور نبی کی تعریف

ملا حظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبرا۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلے علماء نے جو نبوت کا انکار کیاہے، یہ تو اس تعریف کے مطابق کیاہے جوان کے نزدیک تھی کہ رسول وہ ہوتاہے جوصاحب کتاب ہویا شریعت سابقہ کے بعض احکام کو منسوخ کرے۔ نبی کے لئے بھی پہلے رسول کی اتباع لازم نہ تھی۔ بلکہ روح الامین خود ان کے پاس شریعت وغیرہ لاتاتھا جس کے مطابق وہ عبادت وغیرہ کرتے تھے۔

جیسا کہ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۲۸) سے ظاہرہے اور اسی تعریف کے مطابق حضرت مسیح موعود نے (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)میں فرمایاہے کہ: ’’قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتاہے کہ رسول اسے کہتے ہیں جس نے عقائد اوراحکام دین بذریعہ جبرئیل حاصل کئے ہوں اور قرآن مجید کی آیت: ’’انااوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنّبیین‘‘ سے بھی یہی ظاہرہوتاہے کہ کیونکہ جب آنحضرتﷺ نے علوم دینیہ، بذریعہ جبرئیل سیکھے تولازماً ماننا پڑا کہ پہلوں کوبھی اس طرح علوم دینیہ حاصل ہوتے تھے۔ چنانچہ ایک عالم کا قول صراحۃً ہمارے اس دعویٰ کی تائید کرتاہے اور وہ امام ملّا علی قاری ہیں۔ کیونکہ وہ شرح فقہ اکبر میں یہ لکھتے ہیں کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے بعد دعویٰ نبوۃ کرے وہ بالاجماع کافرہے۔ موضوعات کبیر میں وہ خاتم النّبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتاجوآنحضرتﷺ کے ملت کومنسوخ کرے اورآپ کی امت میں سے نہ ہو۔ اسی طرح اشاعۃ الاشراط الساعۃ میں ان کا یہ قول درج ہے کہ ’’لانبی بعدی‘‘ کے معنی ’’لانبی ینسخ شرعہ‘‘ کے ہیں۔ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جوآپ کی شریعت کومنسوخ کرے۔ پس ان دونوں قولوں سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جہاں علماء سابقین نے آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کو بند قراردیاہے وہ وہی نبوت ہے جو نئی شریعت والی ہو اور اسلامی احکام کو منسوخ قراردے۔ لیکن ایسی نبوت جس کے ہم مدعی ہیں جوآنحضرتﷺ کی اتباع میں بطور انعام ملتی ہے اور کوئی نئی شریعت اس کے ساتھ نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کا حامل قرآن پاک کاپیرواورسنت رسول کا خادم ہوتاہے توایسی نبوت کو یاتوعلماء نے جائز قراردیاہے یا ایسی نبوت کے متعلق انہوں نے سکوت اختیار کیاہے۔‘‘

219

خلاصہ کلام یہ کہ گواہان اورمختارمدعیہ کا علماء سابقین کے اقوال کوہمارے خلاف پیش کرناکسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انہوں نے جونبی اور رسول کی تعریف کی ہے اس کی رو سے ہم بھی کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آسکتا۔

(۱۹) ظلّی… بروزی

ظلّی اوربروزی کے لئے ملاحظہ ہو بیان مطلوبہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔ نیز بروز کا ذکرخواجہ غلام فرید صاحب نے اشارات فریدی میں بھی لکھاہے: ’’والبروز ان یفیض روح من ارواح الکمل علی کامل کما یفیض علیہ التجلیات وھو یصیر مظہرہ و یقول انا ھو‘‘ (اشارات فریدی حصہ ۲ ص۱۱۰)

پھرفرماتے ہیں کہ: ’’از حضرت آدم صفی اللہتاخاتم الولایت امام مہدی حضورحضرت محمدa بار زا ند پس اوّل بار آدمm بروز کردہ اند۔ اوّل قطب حضرت آدمm شدہ است۔ الی ان قال تاآنکہ ایام مہدی بروز خواہند فرمودہ۔ پس حضرت آدم تامہدی ہمہ انبیاءؑ وکمل اولیاء کہ قطب مدارشدہ اند۔ ہم مظاہر روح محمدیa ہستند وروح مراد شان بروز وظہور فرمودہ است۔‘‘ (اشارات فریدی حصہ دوم ص۱۱۱، ۱۱۲)

(۲۰) کیاحضرت مسیح موعود تناسخ کے قائل تھے

ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔ چونکہ مختار مدعیہ نے بحث میں یہ کہاہے کہ گواہان مدعیہ میں سے کسی نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پرتناسخ کاالزام نہیں لگایا۔ اس لئے جب وہ گواہ نمبر۲ کے قول کوجوانہوں نے تریاق القلوب کے حوالہ کے بارہ میں کہاتھا۔ رد کرتے ہیں تو پھر مجھے بھی اس پرکچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

(۲۱) کیاحضرت مسیح موعود نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیاہے

گواہان ومختار مدعیہ نے حضرت مسیح موعود پرایک یہ الزام قائم کیاہے کہ آپ نے صاحب شریعت جدیدہ نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیاہے جوباتفاق فریقین کفرہے۔ سوان حوالوں کے جوابات لکھنے سے پیشتر حضرت مسیح موعود کی بعض عبارات پیش کرتاہوں جن سے صاف طور پر ثابت ہے کہ آپ قرآن شریف کے بعد کسی اور شریعت کانزول جائز قرار نہیں دیتے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’بل الحدیث یدل علی النبوۃ التامۃ الحاملۃ الوحی شریعتہ قد انقطعت‘‘ بلکہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبوت تامہ جووحی شریعت کی حامل ہو وہ منقطع ہوچکی ہے۔(توضیح مرام ص۲۰، خزائن ج۳ ص۶۱)

۲… ’’اورہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پرایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی اور ایک شوشہ یانقطہ اس کی شرائع یاحدود اوراحکام اوراوامر سے زیادہ نہیںہوسکتا اور نہ کم ہوسکتاہے اوراب کوئی ایسی وحی یا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جواحکام فرقانی کے ترمیم یاتنسیخ یاکسی ایک حکم کو تبدیل یاتغیرکرسکتاہو اوراگرکوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اورکافرہے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۳۷،۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰)

۳… ’’قرآن مجید کاایک شوشہ یانقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔‘‘(نشان آسمانی ص۲۸، خزائن ج۴ ص۳۹۰)

۴… ’’جوشخص قرآن مجید اورشریعت غراء کے احکا م کو ترک کرکے نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر اورکذاب ہے۔‘‘(انجام آتھم حاشیہ ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷)

220

۵… ’’قرآن شریف پرشریعت ختم ہوگئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی۔‘‘ (کشتی نوح حاشیہ ص۲۲، خزائن ج۱۹ ص۲۴)

۶… ’’یاد رہے کہ ہمارایہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جوصاحب شریعت ہویابلاواسطہ متابعت آنحضرتﷺ وحی پاسکتاہو، بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بندہے۔‘‘(ریویو برمباحثہ چکڑالوی وبٹالوی ص۶، خزائن ج۱۹ ص۲۱۳)

۷… ’’یہ خوب یاد رکھنا چاہیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرتﷺ کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اورکوئی کتاب نہیں جونئے احکام سکھادے یاقرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے۔ بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔‘‘(الوصیت ص۱۱حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۳۱۱)

۸… ’’خدا اس شخص کا دشمن ہے جوقرآن شریف کومنسوخ کی طرح قراردیتاہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتاہے اوراپنی شریعت چلاناچاہتاہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۲۴،۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۰)

۹… ’’ اورکسی کومجال نہیں کہ وہ ایک نقطہ یاایک شعشہ قرآن کریم کا منسوخ کرسکے۔‘‘(اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، بحوالہ حقیقت النّبوۃ ص۲۷۱، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۱)

۱۰… ’’نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ حاصل کرلے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔ یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے۔ کیونکہ شریعت آنحضرتﷺ پرختم ہے۔‘‘(تجلیات الٰہیہ ص۹، حاشیہ خزائن ج۲۰،ص۴۰۱)

۱۱… ’’میری مراد نبی سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذباللہ! آنحضرتﷺ کے مقابلہ پرکھڑاہوکرنبوت کادعویٰ کرتاہوں یاکوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کے اتباع سے حاصل ہے۔‘‘( تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

۱۲… ’’ہم نبی ہیں۔ ہاں! یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کوتوہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘(بدر۵؍مارچ ۱۹۰۸ء بحوالہ حقیقۃ النّبوۃ ص۲۷۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۲)

۱۳… ’’یہ الزام جومیرے ذمہ لگایاجاتاہے کہ گویا میں ایسی نبوت کادعویٰ کرتاہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتاہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اورعلیحدہ قبلہ بناتاہوں اور شریعت اسلام کومنسوخ کی طرح قراردیتاہوں اور آنحضرتﷺ کے اقتداء اورمتابعت سے باہر ہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفرہے اورنہ آج سے بلکہ اپنی ہرایک کتاب میں ہمیشہ میں لکھتاآیاہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے۔‘‘

(اس حوالہ میں ہرایک کتاب کا لفظ قابل غور ہے)(اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، بحوالہ حقیقۃ النبوۃ ص۲۷۰، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۰)

۱۴… ’’میں مستقل طورپرکوئی شریعت لانے والانبی نہیں ہوں اور نہ ہی میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوںسے کہ میں نے اپنے رسول ومقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اوراپنے لئے اس کانام پاکر اس کے واسطے سے خداکی طرف سے علم غیب پایاہے۔ رسول اورنبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، بحوالہ حقیقۃ النّبوۃ ص۲۶۴، انوار العلوم ج۲ ص۵۷۵)

221

اب حضرت مسیح موعود کے مذکورہ بالااقوال سے جو ابتداء دعویٰ سے آخرتک کے ہیں۔ چنانچہ اخبار عام کا حوالہ توآپ کی وفات سے تین دن پہلے کا ہے۔ ان سب سے ثابت ہے کہ آپ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آپ صاحب شریعت جدیدہ نبی ہیں۔ بلکہ اپنے آپ کو غیرشرعی نبی تحریرفرماتے رہے ہیں۔ اب جو شخص حضرت مسیح موعود کی ان توضیحات کے بعد آپ کی کسی عبارت سے صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا دعویٰ آپ کی طرف منسوب کرتاہے تووہ غلطی ہے اورمؤلف کے خود انہی توضیحات کے مخالف مفہوم نکالنا چاہتاہے۔ حالانکہ گواہ مدعیہ نمبر۲ جرح کے جواب میں اس بات کو تسلیم کرچکاہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی کسی خاص کتاب کوشریعت قرارنہیں دیاہے۔

اورنہ ہی مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں یہ کہاہے کہ میری وحی وحی شریعت ہے۔ لیکن اربعین کی عبارت سے ایسا ثابت ہوتاہے۔

لیکن مذکورہ بالاتمام تصریحات ایسی ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے اربعین یا آپ کی کسی عبارت سے ان عبارتوں کے خلاف مفہوم لینا عقل وانصاف کے خلاف نہیں۔ بلکہ خود مدعیہ کے گواہان کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو مکرربیان میں کہا کہ: ’’اگر مصنف کے ایک ہی مسئلہ میں مختلف اقوال مذکور ہوں اور ان میں ایک قول مبہم ہے تو اس مبہم قول کومفصل اقوال کی طرف راجع کیاجائے گا اور ۳۱؍اگست کو گواہ نمبر۴ نے بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ متکلم کے مبہم کلام کو اس کے مصرح کلام پرحمل کیاجائے گا۔‘‘

پس گواہوں کے اقرار کی بناء پریہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود کے جن اقوال سے گواہوں نے آپ کے صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا دعویٰ ثابت کرناچاہے۔ ان اقوال کی وہ تشریح کی جانی چاہئے جو حضرت مسیح موعود کے مفصل اورواضح اقوال کے مطابق ہے اور وہ اقوال کہ جن میں سے کہ چنداوپردرج کئے جاچکے ہیں۔ اس امر کوباصراحت ثابت کرتے ہیں کہ آپ کو صاحب شریعت جدیدہ اورمستقل نبی ہونے کاکوئی دعویٰ نہیں ہے۔

جن اقوال سے گواہان مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کا دعویٰ صاحب شریعت جدیدہ ہونے کا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان کا جواب ملاحظہ ہوبیان (مطبوعہ ص۷۷تا۹۰) گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اورچوتھے حوالہ کے جواب میں یہ بات بھی واضح رہے کہ امام وقت کی اطاعت اوراس کی تعلیم پرچلنا اس وقت کے لوگوں کے لئے نجات کے لئے ضروری ہوتاہے۔ چنانچہ مولوی محمداسماعیل صاحب شہید جنہیں نواب صدیق حسن خان صاحب نے (حجج الکرامہ ص۱۴۷) میں مجددصدی سیزدھم قراردیاہے اورگواہان کے نزدیک بھی وہ ایک بہت بڑے پایہ کے عالم گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب منصب الامامت میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام وقت کی اطاعت کئے بغیرکوئی عبادت قبول نہیں ہوسکتی اوراپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں حدیث:’’من لم یعرف امام زمنہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ‘‘ پیش کی ہے۔ یعنی جس نے اپنے زمانہ کے امام کوشناخت نہیں کیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ ان کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’ازاں جملہ توقف نجات آخردیست اویعنی چنانکہ اگرکسے باہزار وجہ درمعرفت الٰہیہ وتہذیب نفس جدوجہد تمام وسعی مالاکلام بجاآوردو اما وقتیکہ ایمان بالرسل ندارد ہرگز اخردی بدست نخواہد آورد وخلاص ازغصب جبار ودرکات نار نخواہد یافت ہم چنیں ہرچندعبادات شریعیہ وطاعت دینیہ بجاآورد وجدوجہد تمام درامتثال احکام اسلام بروئے کارآرد۔ اماوقتیکہ دراطاعت اما وقت گردن او نتہد واقرار بامامت اونکند ہرگز عبادات مذکوردرآخرت کارآمدن نیست واز داروگیررب قدیرخلاص یافتنی نہ من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ جاہلیۃ۔ وقال النبیa من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ‘‘ (منصب امامت ص۶۳،۶۴)

222

پس حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ میری اطاعت اورمیری تعلیم کومانناجوعین قرآن مجید کی تعلیم ہے اوراس کو مدار نجات قرار دینا آپ کو صاحب شریعت جدیدہ نبی نہیں بناتا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’اورلعنت ہے اس شخص پرجوآنحضرتﷺ کے فیض سے علیحدہ ہوکرنبوت کا دعویٰ کرے۔ مگر یہ نبوت آنحضرتﷺ کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جاوے اور آنحضرتﷺ کی سچائی دکھلائی جائے۔‘‘(چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱)

اور (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۷) پرفرماتے ہیں: ’’ہرایک برکت جو اس عاجز پربہ پیرایہ الہام وکشف وغیرہ نازل ہورہی ہے وہ محمدa کے طفیل سے اوران کے توسط سے ہے۔‘‘

پس اس قسم کی تصریحات سے ثابت ہے کہ اللہتعالیٰ نے ہی آپ قرآن مجید سکھایاہے اور آپ کی وحی قرآن مجید کے موافق ومطابق اورشریعت اسلامیہ کی خادم ہے۔ پس آپ کاآپ کی وحی اور تعلیم اور بیعت کومدارنجات قراردینا، اس لئے نہیں ہے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے ہیں۔ بلکہ قرآن شریف کی صحیح تعلیم کو پیش کر کے منوانا مرادہے۔

آٹھواں حوالہ: ہمیں ان فتوئوں کو بھی مد نظر رکھاجاناچاہئے جو خود فرقہ مختلفہ کے علماء نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ناجائز قراردینے کے لئے دئیے ہیں۔

چنانچہ دیوبندیوں کے واجب التعظیم بزرگ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی نے اس سوال پر ’’کہ جمعہ کی نماز جامع مسجد میں باوجودیکہ امام بد عقیدہ ہوپڑھے یادوسری جگہ پڑھے۔‘‘ یہ جواب دیا کہ: ’’جس کے عقیدہ درست ہوں اس کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے۔‘‘(فتاویٰ رشیدیہ ص۱۵۷)

اور اسی طرح الفتح المبین میں مولوی نذیر حسین محدث دہلوی اوران کے تمام معتقدین کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ دیاگیاہے۔ چنانچہ لکھاہے کہ: ’’مذہب غیر مقلدین اہل سنت والجماعت سے خارج ہے تواہل سنت کی نماز لامذہبوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور بالکل غیر جائز اورنادرست ہے۔‘‘(ص۴۵۸)

اورلکھاہے: ’’اس فرقۂ لامذہب کواہل سنت والجماعت سے خارج سمجھنا اوران کے پیچھے نماز نہ پڑھنا اورسبب فتنہ فساد کے ان کو مساجد میں آنے نہ دینا بجا اور درست ہے۔‘‘(ص۴۵۹)

اس فتویٰ پر دوسو علماء کے دستخط اورمہریں ثبت ہیں جن میں مولوی رشیداحمدگنگوہی بھی شامل ہے اور اسی کتاب کے (ص۴۵۱) پرہے کہ: ’’جب کہ شافعی المذہب متعصب کے پیچھے اقتداء جائز نہ ہوئی۔ جیسا کہ فتویٰ عالم گیری وجامع الرموز میں مرقوم ہے: ’’اما الاقتداء بشافعی فلابأس بہ اذالم یتعصب لم یبغص للحنفی‘‘ پس ان غیرمقلدین لامذہب کے پیچھے بطریق اولیٰ جائز نہ ہوئی۔‘‘

پس اگر ان لوگوں کے فتویٰ سے کہ خلاف فرقہ کے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی حرام ہے اوران کی امامت میں اقتداء کرناجائز نہیں۔ اس سے وہ صاحب شریعت نبی نہیں ہوجاتے توحضرت مسیح موعود کے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت پرحکم دینے پر آپ کا مدعی نبوت تشریعی کا نتیجہ نکالنا کیونکر درست ہوسکتاہے۔

بیانوں کے علاوہ مختارمدعیہ نے جرح میں آپ کو مدعی نبوت تشریعہ ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب سے چند حوالے پیش کئے ہیں۔

پہلا حوالہ: ’’گورنمنٹ انگریز اور جہاد ص۱۴،۱۵، خزائن ج۱۷ ص۱۵‘‘ کا پیش کیاہے جو یہ ہے: ’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیاہوں وہ یہ ہے کہ آج سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔ مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔‘‘ اتنی عبارت

223

مختارمدعیہ نے کوٹ کی ہے جس سے ثابت کرناچاہے کہ آپ نے شریعت اسلامیہ کے حکم کو منسوخ کردیا۔ حالانکہ اگرمختارمدعیہ اس کے ساتھ کی عبارت جوان الفاظ کے آگے تھی مطالعہ کرناتوبخوبی سمجھ سکتاتھا کہ یہ حکم آپ نے اپنی طرف سے نہیں دیا۔ بلکہ آنحضرتﷺ نے مسیح موعود کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ مسیح جب آئے گاتو وہ دینی جنگوں کاخاتمہ کردے گا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا بھی ارادہ ہے۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کوسوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھاہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔‘‘

نیز اس کتاب میں آپ نے اسلامی جہاد کی حقیقت بیان کی ہے کہ اسلام میں جہاد یعنی تلوار سے دین کی حمایت کے لئے لڑنا اسلام میں کن حالات میں جائز قراردیاگیاتھا۔ پھرلکھاہے: ’’اس لئے اب مذہبی طور پر تلوار اٹھانے والوں کا خداتعالیٰ کے سامنے کوئی عذر نہیں۔ جوشخص آنکھیں رکھتاہے اور حدیثوں کو پڑھتااورقرآن کو دیکھتاہے وہ بخوبی سمجھ سکتاہے کہ یہ طریق جہاد جس پر اس زمانہ کے اکثر لوگ وحشی کاربند ہورہے ہیں، یہ اسلامی جہاد نہیں ہے بلکہ یہ نفس امارہ کے جوشوں سے یابہشت کی طمع خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئی ہیں۔‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اورجہاد ص۸،۹، خزائن ج۱۷ ص۹،۱۰)

پس ان عبارات سے صاف ظاہرہے کہ اس وقت مذہب کے لئے تلوار نہ اٹھانے کا حکم حضرت مسیح موعود نے اپنی طرف سے نہیں دیا۔ بلکہ حضرت محمدرسول اللہﷺ نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مسیح موعودکازمانہ ایسا ہوگا کہ اس وقت شریعت اسلامیہ کی روسے دین کے لئے تلوار سے جہاد کرناناجائز ہوگا۔

ان تمام مولویوں کا بخاری کی حدیث کے مطابق عقیدہ ہے کہ جب مسیح آئے گاتووہ قرآن مجید کے صریح حکم ’’حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صاغرون‘‘ کہ اہل کتاب وغیرہ سے جزیہ کولے کر ان سے جنگ کوترک کیاجائے… کے خلاف جزیہ نہیں قبول کرے گا اورجومسلمان نہیں ہوگا اس کو تلوار کے گھاٹ اتارے گا۔

اور(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳ حاشیہ) کا جوحوالہ پیش کیاگیاہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ کیاگیاہے کہ مسیح موعود کا زمانہ ایسا ہوگا کہ اس وقت موجبات جہاد مفقود ہوں گے۔ اسی وجہ سے آپ نے فرمایا ہے کہ: ’’مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیاگیا۔‘‘

اور(اعجاز احمدی ص۳۴، خزائن ج۱۹ ص۱۴۴) کاجوحوالہ پیش کیاگیاہے اور مولوی محمدحسین بٹالوی سے یہ مطالبہ کیاگیاہے۔ لکھاہے کہ: ’’گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کے خیالوں کو دلوں سے مٹایاجائے اورا یسے خونریز مہدی اور خونریز مسیح سے انکارکیاجائے۔‘‘

یہ اس لئے لکھاہے کہ مولوی محمدحسین بٹالوی نے گورنمنٹ پرایک میموریل کے ذریعہ یہ ظاہر کرناچاہا کہ مسلمان ایسے مہدی اور ایسے عیسیٰ کے منتظرنہیں ہیں جوعیسائیوں کے ساتھ لڑے گا اور یہ یقین دلاناچاہاکہ میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ کوئی ایسا مہدی نہیں آئے گا جوخون ریزی سے قیامت برپاکردے گا اورنہ کوئی ایسا مسیح آئے گا جو آسمان سے اترکر اس کا ہاتھ بٹائے گا اور اس قسم کی یہ سب باتیں بے اصل ہیں۔

پس چونکہ مولوی محمدحسین بٹالوی نے مسیح موعود اور مہدی کے زمانہ کے وقت جہاد کے متعلق وہی عقیدہ ظاہرکیاہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھاہے کہ اس لئے آپ نے اسے مخاطب کرکے لکھاہے کہ اگر واقعی تمہارا یہی عقیدہ ہے کہ تم نے میموریل کے ذریعہ ظاہر کیاہے تو ان لوگوں کے دلوں سے جہاد کے مسئلہ کے خیال کو دور کیاجائے اور اس طرح سے مولوی محمدحسین بٹالوی کا لوگوں پر نفاق ظاہرہوگیا۔ کیونکہ لوگوں سے وہ یہ کہتاتھا کہ ایسے مہدی سے انکارکرنا کفرہے اورگورنمنٹ کولکھا کہ ایسا کوئی مہدی نہیں آئے گا۔

224

اوراسی طرح (حقیقت المہدی ص۲۲) کا جوحوالہ پیش کیاگیاہے اس میں بھی یہی لکھاہے کہ جہاد سیفی کا وقت گزرچکاہے اور اس وقت قلمی اورروحانی جہاد کی ضرورت ہے اور اس طرح (تحفہ گولڑویہ ص۷۹، خزائن ج۱۷ ص۲۲۳) کاجوحوالہ پیش کیاگیاہے اس میں بھی یہی لکھاہے کہ: ’’اسی وقت تک جہاد تھا کہ جب اسلام پرمذہب کے لئے تلوار اٹھائی جاتی ہے۔ اب خود بخود ایسی ہواچلی ہے جوہرایک فریق اس کارروائی کونفرت کی نگاہ سے دیکھتاہے جومذہب کے لئے خون کیاجائے۔‘‘

اب جب کہ دیگر مذاہب کی طرف سے اسلام پر مذہب کے لئے تلوار نہیں اٹھائی جاتی اس لئے شریعت اسلامیہ کی رو سے یہ جائز نہیں ہے کہ دیگر مذاہب پرتلوار اٹھائی جائے۔ اس لئے جہاد سیفی کا وقت نہیں ہے۔ چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب ’’اقتراب الساعۃ‘‘ مطبوعہ بنارس کے (ص۷) میں فرماتے ہیں:

جولوگ اس علم سے ناواقف ہیں وہی فتاویٰ جہاد کاحق میں ہرفتنہ کئے دیتے ہیں۔ ورنہ دنیا میں مدت سے صورت جہاد کی پائی نہیں جاتی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکم جہاد کا اسلام میں ہے یاتھا، مگر اب منسوخ ہوگیا ہے۔ بلکہ کہتے ہیں کہ اس زمانہ کی لڑائی بھڑائی خواہ مسلمان وکافر میں ہویا باہم مسلمانوں کے مشکل ہے کہ جہاد شرعی ٹھہرسکے۔ خلق کا یہ حال ہے کہ جولوگ اچھے کام رات دن کرتے ہیں۔ جیسے نماز، روزہ حج زکوٰۃیاجومال اپنے اوپر یااپنے گھر پرصرف کرکے اٹھاتے ہیں۔ اس میں بھی توان کی نیت مطابق شرع کے نہیں ہوتی ہے یا تودکھانا، سنانا ناموری حاصل کرنا مقصودہوتاہے یااسراف وتبذیرمیں گرفتارہوتے ہیں۔ پھربھلاخدا کی راہ میں جان دینے کو بے مطلب دنیا کے آج کل کون نکل سکتاہے وہ دن گئے کہ لوگ دین کے پیچھے دنیا پر لات مارتے تھے۔ اب توجوکام دین کے پردہ میں بھی ہوتاہے وہ بھی غالباً دنیا طلبی کے لئے ہی ہوتاہے۔پھر اس جدا ل وقتال کو کس طرح جہاد دین سمجھاجائے۔

اس کے بعد یہ بتانے کے لئے کہ شریعت اسلامیہ میں جہا د سیفی کب واجب ہوتاہے اور اس کی غرض کیاہے۔ قرآن مجید اور احادیث اوراولیاء امت کے اقوال سے ثابت کرتاہوں۔ قرآن مجید اوراحادیث سے معلوم ہوتاہے کہ جہادتین اقسام پرمشتمل ہے۔ جہاداکبر، جہادکبیر،جہاد اصغر۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’کلمۃ حق عندسلطان جائر الجہاد الاکبر (مشکوٰۃ)‘‘ کہ ظالم اورجابر حاکم کے سامنے سچی بات کہنا جہاد اکبرہے اور (تفسیر روح البیان ج۱ ص۱۹۰) میں لکھاہے:’’قال ان افضل الجہاد کلمۃ حق عندسلطان جائر وانما کانت افضل لان الجہاد بالحجۃ والبرھان جہاد اکبر بخلاف الجہاد بالسیف والسنان فانہ جہاد اصغر‘‘ یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جہاد میں سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہناہے اور یہ اس لئے افضل ہے کہ حجت اوربرہان کاجہاد جہاد اکبرہے اور سیف وسنان کا جہاد جہاد اصغرہے۔‘‘

اورجب حضورغزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو فرمایا: ’’رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر‘‘ کہ ہم جہاد اصغرسے جہاد اکبر کی طرف واپس آئے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضورکے پاس ایک شخص آیااورعرض کی کہ میں اللہ کے راستہ میں جہاد کی خواہش رکھتاہوں۔ فرمایا کیا تیرے والدین ہیں؟ اس نے کہا: ہاں!’’قال فیھما فجاھد‘‘ یعنی آپ نے فرمایا کہ ان کے معاملہ میں جہاد کرتوآپ نے والدین کی خدمت کوبھی جہاد قراردیا اورقرآن مجید میں اللہتعالیٰ فرماتاہے: ’’ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیرا فلا تطع الکافرین وجاھدھم بہ جہادا کبیرا‘‘

اس آیت میں جومکی ہے۔ کافروں سے قرآن مجید کے ساتھ جہاد کاحکم دیاگیاہے اوراس جہاد سے مراد وعظ ونصیحت ہے۔ جیسا کہ تفسیر کبیر میں امام فخرالدین رازی نے تصریح کی ہے۔

225

پس قرآن مجید واحادیث رسول کریم نے لسانی، مالی جہاد اور اہواء نفسانیہ کی اماتت اور اپنی تمام حرکات وسکنات کوشریعت کے مطابق کرنے کوجہاد کبیر اور جہاد اکبرقراردیاہے اورجہاد بالسیف کوجہاد اصغر کہاہے۔ جہاد کبیر اور جہاد اکبر ہر وقت اورہرزمانہ میں جاری ہیں۔ لیکن جہاد اصغر کے لئے چندشرائط ہیں جب وہ پائے جائیں تو مسلمانوں پرجہاد فرض ہوجاتاہے ورنہ نہیں۔

(۱) جہاد بالسیف کب واجب ہوتاہے

جب ہم آنحضرتﷺ کے عہد سعادت پر نظرڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ حضورنے اور حضور کے جان نثارصحابہؓ نے اس وقت تک تلوار نہیں اٹھائی۔ جب تک کہ آپ کے دشمنوں نے آپ کو اورآپ کے جانباز صحابہ کو انواع واقسام کی ایذائیں پہنچاکرجنگ کے لئے مجبور نہ کردیا اورجب تنگ آمد بجنگ آمد والی حالت پیداہوگئی تو آپ نے تلوار کا مقابلہ تلوار سے کیا۔کیونکہ دشمن بعض صحابہ کوگرم پتھر پر لٹاتے اور وہ سخت گرمی کی حالت میں شدت پیاس سے باہر زبان نکالتے اور نہایت عجز اور آہ وزاری سے پانی طلب کرتے۔ مگرانہیں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیاجاتا اور بعض کو نہایت بے رحمی سے قتل کردیاجاتا۔ عورتوں کی بے حرمتی کی جاتی۔ مسلمانوں کا باہر نکلنا دشوارہوگیا اورزمین ان پر تنگ کردی گئی تو اللہتعالیٰ نے جنگ کاحکم دیا۔ چنانچہ سب سے پہلی آیت جس میں مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی یہ ہے: ’’ان اللہ یدافع عن الذین آمنوا ان ﷲ لایحب کل خوان کفور۔ اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرھم لقدیر الذین اخرجوا من دیارھم بغیرحق الا ان یقولوا ربنا اللہ (الحج:۳۸،۳۹)‘‘

اس آیت کریمہ سے اذن قتال کی مندرجہ ذیل وجوہات معلوم ہوتی ہیں:

۱… جس جنگ کی صحابہ کو اجازت دی گئی تھی وہ دفاعی تھی۔

۲… جن کو اجازت دی گئی وہ مظلوم تھے۔

۳… انہیں مظلومی کی حالت میں ان کے گھروں سے نکالاگیاتھا۔

اوران پر یہ ظلم وستم صرف اس کہنے کی وجہ سے روارکھاگیاتھا کہ ہمارا رب اللہہے۔ یعنی محض اختلاف عقائد اور دین کی بناء پرانہیں قتل کیاگیا اور گھروں سے نکالاگیا۔ ایک دوسری آیت: ’’وقاتلوھم حتٰی لاتکون فتنۃ‘‘ میں قتال کی غرض بیان کی گئی ہے جوبخاری میں مذکور ہے کہ ایک شخص ابن عمر کے پاس آیا اور کہا کیا وجہ کہ آپ ایک سال توحج کرتے ہیں اور دوسرے سال عمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ توآپ ترک کرکے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ اللہتعالیٰ نے جہاد کے لئے باربار ترغیب دی ہے۔ اس پرحضرت ابن عمرq نے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے! اسلام کی بناء پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے۔ اوّل اللہاوراس کے رسول پر ایمان لانا۔ دوسرے پانچ نمازیں پڑھنا۔ تیسرے روزے رمضان شریف کے رکھنا۔ چوتھے زکوٰہ دینا اور پانچویں بشرط استطاعت بیت اللہ کاحج کرنا۔ ( یعنی اس میں جہاد کاذکرنہیں) تو اس شخص نے کہا: کیا آپ آیت: ’’وان طآئفتان من المومنین اقتتلوا‘‘ اور آیت: ’’وقاتلوھم حتی لاتکون فتنہ… الخ!‘‘ نہیں پڑھتے۔ آپ نے فرمایا: ہم اس غرض کوآنحضرتﷺ کے عہد میں پوراکرچکے ہیں۔ ’’وکان الاسلام قلیلا فکان الرجل یفتن فی دینہ اما قتلوہ واما یعذبوہ حتی کثر الاسلام فلم تکن فتنہ (بخاری)‘‘ یعنی اس وقت مسلمان تھوڑے اورکمزور تھے اور کفار اسلام قبول کرنے والے ہرشخص کو فتنہ وفساد اورمصائب میں مبتلا کرتے تھے یا تو اسے قتل کردیتے تھے یا ہمیشہ تکلیف میں رکھتے۔ یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور فتنہ باقی نہ رہا۔

پس آیت اورحضرت ابن عمر کے اس قول سے ظاہرہے کہ جہاد بالسیف اس وقت واجب ہوتاہے۔ جب دین کے معاملہ میں جبرواکراہ سے کام لیاجائے اورجب کوئی مسلمان ہوناچاہے تو اسے تلوار کے زور سے روکیں اور اگر مسلمان ہوجائے تو اسے قتل کردیاجائے یا

226

اسے ہمیشہ عذاب اور تکلیف دیتے رہیں۔ ایک مقتداء تابعی حضرت عطاء ابن ابی رباح کا جو اپنے زمانہ میں مکہ شریف کے مفتی تھے، یہی فتویٰ ہے۔ یہ علم حدیث اور فقہ میں جابربن عبداللہ بن انصاری اور عبداللہ بن عباس اورعبداللہ بن زبیرجیسے صحابہ کبارi کے شاگرد رشید تھے۔

(۲) حضرت مسیح موعود کا مذہب جہاد بالسیف کے بارہ میں

جہاد بالسیف کے فرض وواجب ہونے میں جو مذہب آنحضرتﷺ کے صحابہ کاتھا۔ وہی حضرت مسیح موعود کا ہے۔ چنانچہ آپ ایک پادری کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اوراس نکتہ چین نے جوجہاد اسلام کا ذکرکیاہے اورگمان کرتاہے کہ قرآن بغیرلحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتاہے۔ سو اس سے بڑھ کر اورکوئی جھوٹ اورافتراء نہیں۔ اگر کوئی سوچنے والاہے۔ جانناچاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا۔ بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کاحکم فرماتاہے جو خداتعالیٰ کے بندوں کو اس پر ایمان لانے اوراس کے دین میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور اس بات سے کہ وہ خداتعالیٰ کے حکموں پر کاربندہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں سے لڑنے کے لئے حکم فرماتاہے جومسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مؤمنوں کو ان کے گھروں سے اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرناچاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں۔ ’’اولئک الذین غضب اللہ علیھم ووجب علی المومنین ان یحاربوھم ان لم ینتھوا‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہتعالیٰ کاغضب ہے اور مومنوں پرواجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آئیں۔‘‘(نورالحق حصہ اوّل ص۴۵، خزائن ج۸ ص۶۲)

موجودہ حالات میں واقعات بالا اور شرائط مذکورہ جہاد بالسیف کی نہیں پائی جاتیں۔ لہٰذا حضرت مسیح موعود نے قرآن مجید کے عین منشاء کے مطابق یہ فتویٰ دیا کہ اب دینی جنگ حرام ہے۔ آپ نے یہ فتویٰ حکم جہاد کی تنسیخ کے لئے نہیں دیا کہ حضرت مسیح موعود پر یہ افتراء کیاجاتاہے۔

چنانچہ حضورفرماتے ہیں: ’’بعض نادان مجھ پر اعتراض کرتے ہیں۔ جیسا کہ صاحب المنار نے بھی کیاہے کہ یہ شخص انگریزوں کے ملک میں رہتاہے۔ اس لئے جہاد کی ممانعت کرتاہے۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر میں جھوٹ سے اس گورنمنٹ کوخوش کرناچاہتا تو میں باربار کیوں کہتا کہ عیسیٰ بن مریم صلیب سے نجات پاکر اپنی طبعی موت سے بمقام سرینگر کشمیرمرگیا اور نہ وہ خداتھا نہ خداکا بیٹا۔ کیا انگریز مذہب جوش والے میرے اس فقرہ سے مجھ سے بیزار نہیں ہوں گے۔ پس سنو! اے نادانو!! میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ایسی گورنمنٹ سے جودین اسلام اور دینی رسوم پرکچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لئے ہم پرتلوار چلاتی ہے۔ قرآن شریف کی روسے مذہبی جنگ کرنا حرام ہے۔ کیونکہ وہ بھی کوئی مذہبی جہاد نہیں کرتی۔‘‘(کشتی نوح ص۶۸ حاشیہ، خزائن ج۱۹ ص۷۵)

انبیاء اقدسین کا طرز عمل

اسی طرح صحابہؓ جب کفار مکہ کے بے پناہ شدائد سے تنگ آکر آنحضرتﷺ کے ماتحت بادشاہ حبشہ کے ملک میں چلے گئے، جوایک عیسائی بادشاہ تھا۔ مہاجرین صحابہ اس حکومت اوربادشاہ کے قوانین کی پوری پوری اطاعت وفرمانبرداری کرتے رہے۔ کبھی سرکشی اورسول نافرمانی نہیں کی۔ بلکہ ان صحابہ کے قائد حضرت جعفرابن ابی طالب نے برسردربار بادشاہ کی تعریف کی کہ:’’ان قومنا بغوا علینا وارادوا فتنتنا عن دیننا فخرجنا الی دیارک واخترناک علی من سواک ورغبنا فی جوارک ورجونا ان لانظلم عندک ایھاالملک‘‘ (تاریخ الامم اسلامیہ للخضرمی ص۱۰۸)

’’کہ ہم پرہماری قوم نے چڑہائی کی اور ہمیں ہمارے دین سے پھسلاکرفتنہ میں ڈالنا چاہاتوہم تیرے ملک میں چلے آئے اور ہم نے دوسروں پرتجھے ترجیح دی اور تیرے قرب کوہم نے پسند کیا اور اے بادشاہ ہمیں امید ہے کہ تیرے ہاں ہم پرظلم نہ کیا جائے گا۔‘‘ غرضیکہ

227

ہمارے مخالف صحابہ کے طرز عمل سے یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ انہوں نے کسی مذہبی آزادی دینے والی حکومت سے جنگ کی ہے۔

حضرت سید احمدصاحب بریلوی اور مولانا محمداسماعیل صاحب شہید کامذہب

تیرہویں صدی کے مجدد سید احمد بریلوی اوران کے جان بازوجان نثار حواری مولانامحمداسماعیل صاحب شہید جنہوں نے اپنے زمانہ کے ظالم سکھوںسے مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہ دینے پرجہاد کیا اورخدا کی راہ میں شہید ہوئے۔ ان کا مذہب بھی وہی ہے جوحضرت مسیح موعود کاہے۔ یہ دونوں بزرگ ہستیاں ہندوستان پنجاب میں نہایت عظمت اورقدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ سید اسماعیل شہید کواخباراہل حدیث میں خاتم الشہداء لکھاہے۔ (اہل حدیث ۱۵؍مئی ۱۹۰۸ء) اورسید صاحب بریلوی کو نواب صدیق حسن خان صاحب نے حجج الکرامۃ میں مجددین میں شمار کیاہے۔ مولوی محمدجعفر صاحب تھانیسری مؤلف (سوانح احمدی ص۵) میں لکھتے ہیں:

۱… ’’یہ سب صحیح روایت ہے کہ اثناء قیام کلکتہ میں جب ایک روز مولانا محمداسماعیل صاحب شہید وعظ فرمارہے تھے۔ایک شخص نے مولانا سے یہ فتویٰ پوچھا کہ سرکارانگریزی پرجہاد کرنادرست ہے یانہیں؟ اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ ایسی بے روریاء اور غیرمتعصب سرکار پرکسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں ہے۔ اس وقت پنجاب کے سکھوں کا ظلم اس حد کو پہنچ گیاہے کہ ان پر جہاد کیاجائے۔‘‘

۲… صاحب مخزن لکھتاہے کہ: ’’(سید صاحب) ہرگھڑی اورہرساعت جہاد اورقتال کاارادہ کرتے رہتے تھے اور سرکار انگریزی کوکافر تھی۔ مگر اس کی مسلمان رعایاکی آزادی اور سرکار انگریزی کی بے روریائی اوربوجہ موجودگی ان حالات کے ہماری شریعت کے شرائط سرکارانگریزی کے جہاد کرنے کو مانع تھیں۔ اس واسطے آپ کو منظور ہوا کہ اقوام سکھ پنجاب پرجونہایت ظالم اور احکامات شریعت کی حارج اورمانع تھے، جہاد کیاجائے۔‘‘ (سوانح احمدی ص۴۵)

۳… ’’یہ بھی ایک صحیح روایت ہے کہ جب آپ سکھوں سے جہاد کرنے کوتشریف لے جاتے تھے۔ کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پرجہاد کرنے کے کیوں جاتے ہو۔ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دین اسلام سے کیا منکرنہیں ہیں۔ گھرکے گھر میں ان سے جہاد کرکے ملک ہندوستان لے لو۔ یہاں لاکھوں آدمی آپ کاشریک اورمددگار ہوجاوے گا۔ کیونکہ سینکڑوں کوس سفر کرکے سکھوں کے ملک سے پار ہوکر افغانستان جانا اور وہاں برسوں رہ کر سکھوں سے لڑنا، یہ ایک ایسا امر محال ہے جس کو ہم لوگ نہیں کرسکتے۔ سید صاحب نے جواب دیا کہ کسی کاملک چھین کر ہم بادشاہت کرنانہیں چاہتے۔ نہ انگریزوں کا نہ سکھوں کاملک لینا ہمارا مقصدنہیں ہے۔ بلکہ سکھوں سے بالکل جہاد کرنے کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے برادران اسلام پر ظلم کرتے ہیں اوراذان وغیرہ فرائض مذہبی اداکرنے کے مزاحم ہوتے ہیں۔ اگرسکھ اب یہاں ہمارے غلبہ کے بعد ان حرکات مستوجب جہاد سے باز آجائیں گے توہم کوان سے لڑنے کی ضرورت نہ رہے گی اورسرکار انگریزوں کو منکر اسلام ہے۔ مگرمسلمانوں پرکچھ ظلم اورتعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہب اور عبادت اسلامی سے روکتی ہے۔ ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کہتے ہیں اورترویج مذہب کرتے ہیں۔ بلکہ اگرکوئی ہم پر زیادتی کرتاہے اس کو سزادینے کو تیارہیں۔ ہمارااصل کام اشاعت توحید الٰہی اوراحیاء سنن سید المرسلین ہے۔ سوہم بلاروک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔ پھرہم سرکار انگریزی پرکس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصو ل مذہب، طرفین کاخون بلاسبب گرادیں۔ یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہوگیا اوراصل غرض جہاد کی سمجھ لی۔‘‘

۴… اسی کتاب (سوانح احمدی ص۱۱۵) پرسید صاحب کاایک خط درج کیاہے جس میں مذکورہے نہ باکسے از امراء مسلمین منازعت داریم نہ کسے از روساء مومنین مخالفت باکفار لئام مقابلہ داریم نہ بامدعیان اسلام۔ صرف باد راز موئیان(بمعنی بال والے) جویان مقابلہ ایم نہ باکلمہ گویان ونہ اسلام جویان ونہ باسرکارانگریزی کہ اومسلمان رعایائے خود رابرائے ادائے فرائض مذہبی شان آزادی بخشیدہ است۔‘‘

۵… اسی کتاب کے (ص۱۳۹) پرلکھاہے: اس سوانح اورنیز مکتوبات منسلکہ سے صاف معلوم ہوتاہے کہ سیدصاحب کاسرکارانگریزی

228

سے جہاد کرنے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس آزاد عملداری کو اپنی ہی عملداری سمجھتے تھے۔

اب ایک طرف قرآن مجید وحدیث اورصلحائے امت اورمجددین ملت ہیں جوحضرت سیدنامسیح موعود کی مسئلہ جہاد میں تائید کرتے ہیں اور دوسری طرف گواہان اورمختاران مدعیہ ہیں جو علوم شرعیہ سے محض ناواقفیت کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود پر تنسیخ جہاد کاالزام لگاتے ہیں۔ اس سے عدالت بخوبی معلوم کرسکتی ہے کہ کون سا فریق حق پر ہے۔

قرآن مجید سے امکان نبوت پر دلائل

ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ مذکورہ بالا دلائل میں سے دلیل نمبر۱ کے متعلق مختارمدعیہ نے یہ کہا ہے کہ آیت: ’’یٰبنی آدم اما یاتینکم رسل‘‘ میں خطاب ان بنی آدم سے ہے جوحضرت آدمm کے وقت میں تھے اوراس کے لئے انہوں نے ابن جریر کی ایک روایت پیش کی ہے اور ابن جریر کے متعلق حضرت مسیح موعود نے خود لکھاہے کہ وہ رئیس المفسرین ہیں۔ سواس کا جواب یہ ہے کہ اگر آیت کامفہوم اس کے سیاق وسبا ق سے خود بخود واضح ہوتوہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ روایت کے پیچھے پڑیں اور اگرکوئی روایت اس صریح مفہوم کے جوکہ سیاق وسباق سے ظاہر ہوتاہے۔ مخالف مفہوم بیان کرتی ہو تو وہ بوجہ قرآن مجیدکے صریح مفہوم کے مخالف ہونے کے ساقط عن الاعتبار ہوگی۔

چنانچہ آیت متنازعہ کے سیاق وسباق سے وہی مفہوم ثابت ہوتاہے جوگواہان مدعاعلیہ نے بیان کیاہے۔ کیونکہ اسی آیت سے پہلے بھی بنی آدم کے ساتھ خطاب موجودہے جویہ ہے: ’’یٰبنی اٰدم خذوا زینتکم عندکل مسجدوکلوا واشربوا ولاتسرفوا انہٗ لایحب المسرفین‘‘ اس آیت میں یابنی آدم کے ساتھ یہ جوخطاب کیاگیاہے تو وہ انہیں لوگوں کے لئے ہے جونزول قرآن مجید کے وقت موجودتھے یابعد میں آئیں گے۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح مسلم میں بھی آیاہے کہ مشرک مرد اور عورتیں بیت اللہ کا ننگے ہوکر طواف کرتے تھے اور اسے موجب ثواب سمجھے تھے تواللہتعالیٰ نے یہ آیت اتاردی:’’خذوا زینتکم عند کل مسجد… الخ!‘‘ یعنی ننگے طواف نہیں کرنا چاہئے اور اس آیت کے شان نزول میں جوبھی روایات آتی ہیںانہیں معنوں کی مؤید ہیں اور اس سے بھی پہلی آیت:’’یٰبنی آدم لایفتننکم الشیطٰن کما اخرج ابویکم من الجنۃ‘‘ سے بھی ظاہرہے کہ یہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کوخطاب ہے اور سورت کاابتداء بھی انہیں معنوں کی تائید کرتاہے اورحضرت آدم کا واقعہ بھی ضمنی طور پر درمیان میں آیاہے اور آیت ’’متنازعہ فیھا‘‘ کے بعد جوآیات ہیں وہ بھی ہمارے معنوں کی تائید کرتی ہیں۔ کیونکہ اس ضمن میں اللہتعالیٰ نے رسولوں کے منکرین، مکذبین کے متعلق فرمایاہے کہ: ’’قال ادخلوا فی امم قدخلت من قبلکم من الجن والانس فی النار‘‘ کہ مکذبین کوان کی وفات کے بعدکہاجائے گا کہ تم بھی آگ میں ان امتوں کے ساتھ داخل ہوجائو جوتم میں سے قبل جن اور انس سے گزرچکی ہیں۔

پس یہ آیت بھی بتارہی ہے کہ آیت ’’متنازعہ فیھا‘‘ میں انہیں لوگوں سے خطاب ہے جن سے پہلے بہت سی امتیں گزرچکی ہیں اور وہ وہی لوگ ہیں جو قرآن کریم کے نزول کے وقت موجودتھے یاان کے بعدآنے والے تھے اور یہی بات گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں بحوالہ اتقان امام جلال الدین سیوطی کی کتاب سے نقل کی تھی۔ جس کے ہوتے ہوئے مختارمدعیہ نے صریح غلط بیانی کی کہ گواہان مدعاعلیہ نے اس پرکوئی نقل پیش نہیں کی اور جوروایت مختارمدعیہ نے پیش کی ہے وہ کوئی مرفوع متصل نہیں ہے اور اس کانفس مضمون اس کے ضعف پردلالت کرتاہے۔ کیونکہ اس میں لکھاہے کہ اللہتعالیٰ نے آدم اور اس کی ذریت کو اپنی ہتھیلی میں رکھا اورپھران کو ’’اے بنی آدم‘‘ سے خطاب کیا۔ اوّل تو اس میں آدم اور اس کی اولاد کاہتھیلی میں رکھنے کا ذکرہے اور خطاب میں آدم کاکوئی ذکرہی نہیںہے۔ دوسرے قرآن مجید میں مطلقاً اس بات کا اشارہ تک بھی نہیں ہے کہ یہ قول جس کا ’’حکایتاً عن الماضی‘‘ ہے۔ ثالثاً اس روایت کے راوی بھی کوئی زیادہ ثقہ نہیں۔

229

چنانچہ عبدالرحمن بن زیاد کے متعلق ابن قطان نے کہاہے کہ بعض اس کو ثقہ کہتے ہیں:’’ولٰکن الحق فیہ انہ ضعیف‘‘ یعنی اس کے متعلق سچی بات یہی ہے کہ وہ ضعیف ہے۔ (میزان الاعتدال)

اورایک راوی ہیاج ہے جس کے متعلق یحییٰ بن معین نے کہاہے کہ وہ ضعیف ہے اورمرہ نے کہاہے کہ وہ کچھ چیز نہیں اور پھریہ روایت بھی صحابی سے نہیں بلکہ تابعی سے ہے اور تابعین کے متعلق لکھاہے: ’’قال شعبۃ بن الحجاج وغیرہ اقوال التابعین فی الفروع لیست حجۃ فکیف تکون حجۃ فی التفسیر‘‘ کہ شعبہ وغیرہ نے کہاہے کہ تابعین کے اقوال تو ضروریات دین میں بھی حجت نہیں تو وہ تفسیر میں کیسے حجت ہوسکتے ہیں۔ (ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان ج۱ ص۷)

اورعلاوہ ازیں تفسیروں میں جوروایات آئی ہیں۔ ان کے متعلق بزرگان سلف نے کوئی اچھی رائے ظاہر نہیں کی۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ’’ھٰذالتفاسیر التی اسندوھا الٰی ابن عباس غیر مرضیۃ۔ ورواتھا مجاھیل‘‘ (اتقان ج۲ ص۲۲۴، مصری)

یعنی یہ لمبی لمبی تفسیریں جن کو ابن عباس کی طرف منسوب کیاجاتاہے وہ سب ناپسندیدہ ہیں اوران کے راوی مجہول ہیں۔ اسی طرح علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: ’’وقد جمع المتقدمون فی ذٰلک وادعوا الا ان کتبھم ومنقولاتھم تشتمل علی الغث والسمین والمقبول والمردود‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص۲۶۰، مصری)

یعنی متقدمین نے تفسیری باتیں جمع کی ہیں اورایک حدتک خوب احاطہ کیا۔ مگر ان کی کتب میں اور ان کی درج شدہ باتوں میں اعلیٰ اورناقص، مقبول ومردود سب قسم کی باتیں پائیں جاتی ہیں۔ پھر (ص۲۶۱) میںلکھاہے: ’’فامتلات التفاسیر من المنقولات عندھم الی مثل ذلک‘‘ یعنی متقدمین کی تفاسیر محض منقول باتوں سے بھرگئیں جو ان تک یہودیوں اور عیسائیوں سے پہنچی ہیں اور وہ سب ایسی ہی خبریں ہیں جویہود ونصاریٰ کی روایات پرمشتمل ہیں اور وہ تفاسیر ایسی نہیں ہیں جو احکام سے متعلق ہوں کہ ان اقوال کی صحت کی جائے تاان پرعمل واجب ہو اور ایسی صحت تلاش کرنے کے بارہ میں مفسرین نے بہت تساہل استعمال کیاہے۔

اورحضرت مسیح موعود کے ابن جریر کو رئیس المفسرین لکھنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ جوکچھ اس نے اپنی تفسیرمیں لکھاہے وہ صحیح ہے۔ بلکہ آپ نے اسے رئیس المفسرین علماء متقدمین کے قول کے مطابق لکھاہے۔ چنانچہ (فتح البیان ج اوّل ص۱۰/۱۰۳) میں بحوالہ اتقان مصنفہ امام جلال الدین سیوطی لکھاہے: ’’کتابہ اجل التفاسیر واعظمھا یتعرض لتوجیہ الاقوال وترجیح بعضھا علی بعض والاعراب والاستنباط فھو یفرق بذالک علی تفاسیر المتقدمین‘‘ (فتح البیان ج اوّل ص۱۰)

کہ ابن جریر کی کتاب تفسیرباقی تفسیروں کی نسبت جلیل اور عظیم الشان ہے۔ کیونکہ وہ اقوال کی توجیہہ کرتا اوربعض قولوں کوبعض پرترجیح دیتاہے اورخود استنباط کرتاہے۔ اس لحاظ سے اس کی تفسیر متقدمین کی تفسیروں پرفوقیت رکھتی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے ابن جریرکی جوروایات آئینہ کمالات اسلام میں لکھی ہیں وہ بطور استدلال نہیں لکھیں، بلکہ پہلے قرآن مجید کی آیت سے ایک مضمون بیان کیا ہے اورتائیدی طور پر ان روایات کوفریق مخالف پراپنا مدعامنوانے کے لئے ذکر کی ہیں اور ایسا کرنے سے یہ لازم نہیں آتاکہ کہ ابن جریر نے اپنی تفسیروں میں جوروایات درج کی ہوں، ان کو صحیح تسلیم کیاجائے۔ مختارمدعیہ نے اس امر کے یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو ’’یا بنی آدم‘‘ کی بجائے ’’یٰآیھا الناس‘‘ سے قرآن مجید میں خطاب کیاجاتاتھا اور ’’یا بنی آدم‘‘ سے جویہاں خطاب کیاگیاہے تو اس کا امت محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ آدم سے لے کر بعد کے تمام لوگوں کوخطاب ہے اور اس آیت میں ذات آدم کو جوخطاب تھا، اس کا حکم خاتم النّبیین سے ختم ہوچکاتھا۔

230

سوجیسا کہ اوپرذکرکیاگیاہے۔ اس آیت میں آنحضرتﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو خطاب ہے اور اتقان میں بھی امام جلال الدین سیوطی نے یہی لکھاہے۔ لیکن مختارمدعیہ پراس کو واضح کرنے کے لئے نامناسب نہ ہوگا کہ اس کے مسلم مقتداء بانی مدرسہ دیوبند کا قول بھی ذکرکیاجاوے کہ ’’یا بنی آدم‘‘ سے آنحضرتﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو خطاب ہوتاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’علی ھٰذ القیاس‘‘ رسول اللہﷺ کے زمانہ کے آدمیوں کوخداوندکریم اس آیت میں ’’یٰبنی آدم لایفتننکم الشیطان‘‘ اورنیز اور آیت میں بنی آدم فرماتاہے۔ حالانکہ حضرت کاان میں سے کوئی بھی بیٹانہ تھا۔اگرتھے بھی توکہیں اڑسنگ کے پڑسنگ جاکراولاد کی اولاد ہوتی ہے۔(ہدیۃ الشیعہ ص۲۹۰)

جب یہ ثابت ہوگیا کہ آیت کے مالحق وماسبق کی روسے آنحضرتﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو خطاب ہے تو مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ اس کاحکم آیت ’’خاتم النّبیین‘‘ سے ختم ہوچکاغلط ہوگیا۔ کیونکہ اگرآنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کے رسول کا آنا ممتنع اورمحال تھا تو اس آیت کے ذکرکرنے کی ضرورت نہ تھی۔ نیز نسخ احکام میں ہواکرتاہے نہ کہ اخبار میں اور یہ بات کہ آئندہ رسول آئیں گے۔ از قبیل اخبارہے نہ ازقبیل احکام۔

اور ’’اما یاتینکم‘‘ میں فرضی صورت دلالت نہیں کرتا۔ جیسا کہ مختارمدعیہ نے کہاہے بلکہ امر واقع کابیان ہے۔ ورنہ منکرین نبوت جمیع انبیاء تویہ بھی کہ دیں گے کہ ’’امایاتینکم من ھدی‘‘ بھی فرضی صورت پردلالت کرتاہے۔ ورنہ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ واقع میں بھی آئیں گے۔ جب خداتعالیٰ انسانوں کومخاطب کرکے ایک خبردیتاہے تواس سے مراد فرضی صورت نہیں ہواکرتی۔

معلوم ہوتاہے کہ مختارمدعیہ کو یہ وہم صرف اما سے پیدا ہواہے۔ حالانکہ عربی زبان میں ایسا بھی ہوتاہے کہ مضارع مؤکد بنون تاکید پرلام کی بجائے اما بھی آجاتاہے اور وہ فرض کے لئے نہیں۔ جیسے کہ خداتعالیٰ نے حضرت مریم کوفرمایا: ’’واما ترین من البشر احداً فقولی انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا‘‘ اب ظاہرہے کہ حضرت مریم سے خداتعالیٰ نے اماترین کلام کی تھی تو اس کی مراد یہی تھی کہ توانسان کودیکھے توان سے کلام نہ کرنا۔ چنانچہ انہوں نے موقعہ پرانہیں جواب دینے کی بجائے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا تواس نے ان سے کلام کی۔ پس اسی طرح اس آیت میں بھی فرضی صورت میں کلام نہیں کیاگیا۔

دوسری آیت: ’’قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لاینال عھد الظالمین‘‘

اس آیت سے گواہ مدعیہ نمبر۲ نے استدلال کیا تھا کہ اس آیت میں حضرت ابراہیمm کی ذریت سے نبی بنانے کا اللہتعالیٰ نے وعدہ کیاہے اور امتناع نبوت کی وجہ ان کاظالم ہونا بتائی ہے کہ یہ وعدہ اس وقت تک پوراہوتارہے گا جب تک کہ وہ ظالم نہ ہوں۔

پس دوہی صورتیں ہیں، یاتو یہ تسلیم کیاجاوے کہ تمام آل ابراہیمm ظالم ہوگئی ہے، یایہ مانا جائے کہ ان میں نبوت کا پایاجانا ممکن ہے۔

اس پر مختارمدعیہ نے یہ اعتراض کیاہے کہ اوّل ذریت کالفظ جسمانی نسل پربولاجاتاہے روحانی پر نہیں۔ دوم جسمانی طور پر مرزا صاحب ذریت ابراہیم سے نہیں۔

پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ذریت کا لفظ عربی زبان میں روحانی نسل پر بولا جاتا ہے۔ مختارمدعیہ پرحجت قائم کرنے کے لئے میں یہاں پرلغت عرب کے حوالے چھوڑتاہواصرف اس کے مقتداء ومسلمہ عالم بانی مدرسہ دیوبند کے قول پیش کردینے پر اکتفاء کرتاہوں۔ فرماتے ہیں: ’’ہوسکے ہے کہ ذریت سے مراد مرید اور متبع ہی مراد ہو۔چنانچہ عربیت کے محاورات میں اپنے زمرہ کے لوگوں کو آل اورذریت کہہ دیاکرتے ہیں۔‘‘(ہدیۃ الشیعہ ص۳۰۴)

231

اس سے اعتراض کی پہلی جزجس میں مختارمدعیہ کی تحدی پائی جاتی تھی کہ ذریت کا لفظ صرف جسمانی اولاد پر بولاجاتاہے، غلط ثابت ہوئی اوردوسری جز تو بدیہی طورپر باطل ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود حضرت ابراہیمm کی اولاد سے ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’واللہ جمع فیھم النسل اسحاق واسماعیل من کمال الحکمۃ والمصلحۃ‘‘ (استفتاء ص۷۷، خزائن ج۲۲ ص۷۵۳) کہ میرے باپ دادوں میں کمال حکمت اور مصلحت کی بناء پر اسحاق اوراسماعیل کی نسل جمع ہوگئی۔ پس آپ بلاریب ابرہیمm کی نسل سے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ کو نبی فارس ماناجائے تو بھی آپ حضرت اسحاق کی اولاد ہونے کی وجہ سے حضرت ابرہیم کی اولاد میں سے ہیں اوراگر مغل یعنی ترکی نژاد سمجھا جائے تو بھی۔ کیونکہ ترک ابراہیمm کی لونڈی (بیوی) قطورہ کی اولاد سے ہیں۔ جیسے عرب حضرت ہاجرہ کی اولاد سے اور ترکوں کا قطورہ کی اولاد سے ہونے کا ذکرابن اثیر نے اپنی تاریخ میں کیاہے۔ (ملاحظہ ہو الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ ص۵۶)

تیسری آیت: ’’اللہ یصطفٰی من الملائکۃ رسلا ومن الناس‘‘ کے متعلق مختارمدعیہ نے یہ اعتراض کیاہے کہ مضارع کا صیغہ حال اور مستقبل کے لئے یکساں طور پر استعمال نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر وہ حقیقی طور پر دونوں زمانوں پردلالت کرتاہے تو وہ لفظ مشترک ہوا۔ مگر مشترک میں دونوں معنی مراد نہیں ہوسکتے۔ اس کے جواب میں صرف اتنا کہنا چاہتاہوں کہ مضارع کاحال اور استقبال دونوں کے لئے یکساں طور پر ہوناجب تک کہ کوئی قرینہ کسی ایک میں سے اس کو مختص نہ کرے۔ ہرایک شخص جوعربی زبان سے تھوڑی سی واقفیت رکھتاہے جانتاہے۔

چنانچہ منجد میں لکھاہے: ’’المضارع صیغۃ الفعل التی تدل علی الحال اوالاستقبال‘‘ کہ مضارع فعل کاایک صیغہ ہے جوحال یااستقبال پردلالت کرتاہے اورخود گواہان مدعیہ میں سے گواہ نمبر۱ نے جرح کے جواب میں تسلیم کیاہے کہ:’’مضارع کا صیغہ حال اور استقبال دونوں کے لئے آتاہے۔‘‘

اور کسی لفظ کادونوں معنوں میں مشترک ہونا اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ اگر کسی جگہ اس کے دونوں معنی الگ ہو سکتے ہوں تو صرف اشتراک کی وجہ سے نہ لئے جائیں۔ مثلاً جب یہ کہاجائے کہ ’’رأیت عینہ‘‘ اور اس سے مراد آنکھ اورچشمہ دونوں ہوسکتے ہوں تو دونوں مراد لئے جاسکتے ہیں۔ جب تک کہ اسے کوئی خاص قرینہ ایک معنی میں معین نہ کردے اورآیت میں یہ صیغہ خدا کے لئے استعمال ہواہے۔ اس لئے بیان استمرار کے معنی ہی موزوں ہوسکتے ہیں۔

چوتھی آیت: ’’اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم‘‘ کے متعلق مختارمدعیہ نے جرح میں (ایام الصلح ص۱۶۳، خزائن ج۱۴ ص۴۱۱) کا حوالہ دیاتھا کہ حضرت مرزاصاحب نے اس آیت کے وہ معنی نہیں کئے جوگواہان مدعاعلیہ نے کئے ہیں۔ ایام الصلح میں آپ یہ آیت لکھ کرفرماتے ہیں: ’’اس جگہ مفسرقائل ہیں کہ ’’صراط الذین انعمت علیہم‘‘ کی ہدایت سے غرض تشبیہ بالانبیاء ہے جواصل حقیقت ہے۔‘‘

اس عبارت سے آپ نے ان لوگوں کوجواب دے دیا جو ایک مستقل نبی یعنی حضرت عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد کے قائل تھے اورمخالفین کے اس قول کا کہ مثیل نبی نبی ہوتاہے، جواب دیاہے اور مفسرین کے قول سے یہ ثابت کیاہے کہ کسی کو نبیوں کے ساتھ تشبیہ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ نبی ہے اور یہ معنی ان معانی سے جو گواہان مدعاعلیہ نے کئے ہیں متضاد نہیں ہیں۔ کیونکہ ایام الصلح میں جس قسم کی نبوت کاانکار کیاگیاہے اس قسم کی نبوت گواہان مدعاعلیہ اس آیت سے ثابت نہیں کرتے اور اس قسم کی نبوت اس آیت سے حضرت مسیح موعود نے خود ثابت کی ہے۔ جیسا کہ (کشتی نوح ص۴۴، خزائن ۱۹ ص۴۷،۴۸) میں فرماتے ہیں: ’’کیاضروری نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظرآئے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اوران کا ظل ہو۔ کیونکہ خداتعالیٰ کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ اس امت میں اس زمانہ میں ہزارہایہودی صفت لوگ پیدا کرے اور ہزارہاعیسائی مذہب میں داخل کرے، مگر ایک شخص بھی ایسانہ ظاہرکرے کہ

232

جو انبیاء گزشتہ کاوارث اوران کی نعمت پانے والاہوتا۔ پیش گوئی جوآیت: ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ سے مستنبط ہوتی ہے وہ ایسی ہی پوری ہوجائے۔ جیسا کہ یہودی اور عیسائی ہوجانے کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔‘‘

مختارمدعیہ نے یہ بھی کہاہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے جو اس آیت کاترجمہ کیاہے کہ ہمیں ان لوگوں سے بناء جن پرتیراانعام ہوایہ غلط ہے۔ حالانکہ اس پر آیت میں جودعاہے اس کا یہی مفہوم ہے جوگواہان مدعاعلیہ نے بیان کیاہے۔ کیونکہ ایک مؤمن یہ دعانہیں کرتا کہ وہ ان کا راستہ ہی دیکھنے پر خوش ہوجائے اور اسے منعم علیہ گروہ میں داخل نہ کیاجائے۔ اگر وہ منعم علیہ گروہ میں داخل نہیں ہوگا تویقینا ’’مغضوب علیھم یاضالین‘‘ میں سے ہوگا اورآیت: ’’من یطع اللہ والرسول فاولٓئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النّبیین‘‘ پرمختارمدعیہ نے یہ اعتراض کیاہے کہ آیت میں معیت کے معنی یہ نہیں ہیںکہ وہ نبی ہوجائیں گے۔ بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے اور اپنی تائید میں ایک تو بخار ی سے حدیث پیش کی ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی وفات کے وقت یہ آیت: ’’مع الذین انعم اللہعلیھم‘‘ پڑھی اور دوسری حدیث: ’’التاجر الصدوق الامین مع النّبیین‘‘ تاجر صدوق امین نبیوں صدیقوں اورشہیدوں کے ساتھ ہوگا۔

ان دونوں روایتوں سے مختارمدعیہ نے یہ ثابت کرناچاہاہے کہ اس آیت سے جومفہوم گواہان مدعاعلیہ نے نکالاہے وہ صحیح نہیں ہے۔ حالانکہ اگرغور سے دیکھاجائے تو یہ دونوں روایتیں اس مفہوم کے مخالف نہیں ہیں جوگواہان مدعاعلیہ نے پیش کیا ہے۔

آنحضرتﷺ نے یہ آیت وفات کے وقت پڑھی تو اس پڑھنے سے کس طرح ثابت ہوگیاکہ آپ کی مراد اس آیت سے یہ ہے کہ آپ نبیوں اور صدیقوں کے ساتھ ہوں اور نبیوں میں شامل نہ ہوں۔ حالانکہ آنحضرتﷺ تونبی ہی نہیں بلکہ خاتم النّبیین تھے۔ پس آنحضرتﷺ توبے شک نبیوں ہی کے رتبہ میں ہوں گے۔ کیونکہ آپ نبی تھے اورتاجر صدوق بھی ضرورانہیں لوگوں میں سے ہوگا جن پرخداکاانعام ہوا تووہ بھی اپنے مقام کے لحاظ سے ضرور ان چارگروہوں میں شامل ہوگا۔

اس کے قطعاً یہ معنی نہیں کہ اگر وہ نبی نہیں تونبیوں کے ساتھ ہوگا اوراگر صدیق نہیں تو صدیقوں کے ساتھ ہوگا اوراگریہ مراتب آخر ت کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں تو پھر بھی کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتا کہ چاروں گروہ جنت میں ایک ہی مقام پرہوں گے۔ بلکہ ان کے مقامات اورمراتب کامختلف ہونا ایک بدیہی امرہے۔ پس تاجر صدوق ان چاروں مراتب میں سے جس مرتبہ میں ہوگا وہ اس مرتبہ والوں میں شامل ہوگا اوراگر ’’مع الذین انعم اللہعلیھم‘‘ کے معنی بقول مختارمدعیہ یہ لئے جائیں کہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے نہ یہ کہ ان میں سے ہوں گے تو آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جوخدااوررسولوں کی اطاعت کریں گے تووہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر انعام کیا۔ لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے جن پر انعام ہوا۔ یعنی امت محمدیہ منعم علیہ گروہ کے ساتھ توہوگی منعم علیہ نہیں ہوگی۔ نبیوں کے ساتھ ہوں گے، لیکن نبی نہ ہوں گے۔ شہیدوں اورصالحین کے ساتھ ہوں گے لیکن شہید اورصالح نہ ہوں گے۔

اوراس مفہوم کوکوئی عقلمند انسان ماننے کے لئے تیارنہیں۔ رہی یہ بات کہ صرف مع کے معنی ایسی معیت کے ہوتے کہ جن کے ساتھ کسی کو معیت حاصل ہے، ویساہی ہوجائے اوراس کا بھی وہی مقام ہوجودوسرے کامقام ہے تو یہ معنی قرآن مجید سے بھی ثابت ہیں۔ چنانچہ اللہتعالیٰ مؤمنوں کودعاسکھاتاہے جن میں ’’توفنا مع الابرار‘‘ کے الفاظ موجودہیں کہ اے خدا! توہمیں نیکوں کے ساتھ وفات دے۔ یہاں پر ’’مع‘‘ سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے جس دن نیک مریں اس دن ہمیں بھی مارڈال۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں ایسی حالت میں وفات دے کہ ہم نیک ہوں۔

اسی طرح ایک آیت میں اللہتعالیٰ نے ابلیس کے متعلق فرمایاہے: ’’ابٰی ان یکون مع الساجدین (الحجر)‘‘ اور دوسری

233

آیت میں فرمایا: ’’لم یکن من الساجدین (اعراف)‘‘ توایک آیت میں مع استعمال کیا اور دوسری میں من استعمال کیا جن سے ثابت ہوا کہ مع بمعنی من بھی استعمال ہوتاہے۔ اسی طرح امام فخرالدین رازی آیت: ’’فاکتبنا مع الشاہدین‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’عن ابن عباس اکتبنامع الشاہدین ای اکتبنافی زمرۃ الانبیاء لان کل نبی شاہد لقولہ قال اللہ تعالٰی فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین وقد اجاب اللہ تعالٰی دعا ء ھم وجعلھم انبیاء ورسلہ فاحیوا لموتی وصنعوا کل ماصنع عیسٰی‘‘

۲… ’’انہ تعالٰی قال شھداللہ انہ لآالہ الاھو والملآئکتہ واولوالعلم فجعل اولواالعلم من الشاھدین وقرن ذکرھم بذکرنفسہ وذالک درجۃ عظیمۃ ومرتبۃ عالیہ فقالوا فاکتبنا مع الشاھدین ای اجعلنا من تلک الفرقۃ الذین قرنت ذکرھم بذکرک‘‘
۳… ’’فاکتبنا مع الشاہدین ای اجعلنا ممن یکون فی شہود جلالک حتی نصیر مستحقرین لکل مایصل الینا من المشاق والمتاعب فحینئذٍ یسھل علینا الوفاء بماالزمناء من نصرۃرسولک ونبیّک‘‘ (تفسیر کبیر ج۲ص۶۸)

ان مذکورہ بالا تینوں عبارتوں کا بالترتیب ترجمہ حسب ذیل ہے۔

۱… ابن عباس نے ’’اکتبنا مع الشاہدین‘‘ کا جو ترجمہ کیاہے کہ ہمیں انبیاء کے زمرہ میں لکھ لے۔ کیونکہ ہرایک نبی اپنی قوم پرشاہد ہوگا۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ نے فرمایاہے کہ ہم رسولوں سے بھی دریافت کریں گے اوران سے بھی جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے اور اللہتعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول کیا اور انہیں انبیاء اور رسل بنایا۔ پھر انہوں نے مردے زندہ کئے اورانہوں نے وہ تمام باتیں کردکھائیں جو حضرت عیسیٰؑ نے کی تھیں۔

۲… اللہتعالیٰ نے اوراس کے فرشتوں اوراہل علم نے اس بات کی گواہی دی کہ خدا کے سواکوئی معبود نہیں۔ پس اہل علم کوبھی خدا نے گواہ ٹھہرایا ہے اوران کے ذکرکواپنے ذکر کے ساتھ ملایاہے اور یہ ایک بڑادرجہ اوراعلیٰ شان کامرتبہ ہے تو انہوں نے یہ دعا کی کہ ہمیں شاہدوں کے ساتھ لکھ لے۔ یعنی ہمیں اس فرقہ میں سے کردے جس کا ذکرتونے اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر کیاہے۔

۳… ’’فاکتبنا مع الشاہدین‘‘ یعنی ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جوتیرے جلال کامشاہدہ کرتے ہیں۔ تاکہ ہم تمام مشقتوں اورتکلیفوں کو جوہمیں پہنچیں حقیرجانیں اورجوہم نے تیرے رسول اور تیرے نبی کی نصرت کاعہد اپنے اوپرلیاہے، اسے سہولت کے ساتھ بجالاسکیں۔

اسی طرح اللہتعالیٰ ان صفات کا جن کاایک مؤمن میں پایاجاناضروری ہے، ذکرکرنے کے بعد فرماتاہے: ’’فاؤلٓئک مع المؤمنین‘‘ یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے تواس آیت میں ’’مع المؤمنین‘‘ کے معنی یہی ہیں کہ وہ مؤمن ہوں گے۔

اور اسی طرح لسان العرب میں ’’کونوا مع الصادقین‘‘ کے معنی ’’کونوا صادقین‘‘ لکھے ہیں کہ تم صاد ق بنو۔

مختارمدعیہ نے اپنے خیال میں ایک بہت بڑا یہ اعتراض کیاہے کہ اس طرح تو ’’وھومعکم‘‘ سے کبھی بندہ بھی خداہو جائے گا۔ کیا مختارمدعیہ خدا کی بندے سے معیت اورایک انسان سے انسان کی معیت کو ایک ہی قسم کی جانتاہے۔ خدا کی معیت تو انسان کی معیت سے بالکل علیحدہ چیز ہے۔ اس سے اسے انسانوں کی انسانوں سے معیت پرقیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ پس آیت متنازعہ فیہاکے یہ معنی ہوئے کہ خدا اورمحمدرسول اللہﷺ کی اطاعت کرنے والے بھی ان لوگوں میں سے ہوںگے۔ خیر خداتعالیٰ کاانعام ہوا۔ یعنی نبی، صدیق اورصالحین میں سے یعنی جو جس مرتبہ کے لائق ہوگا اسے خداتعالیٰ وہ مرتبہ عطاء کرے گا۔

234

اورآیت: ’’واذ اخذنا میثاق النّبیین ومنک ومن نوح‘‘ اور اسی طرح’’وماکان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ‘‘ اور ’’ذالک ھدی اللہ یھدی بہ من یشآء‘‘ سے گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے بقاء نبوت پرجواستدلال کیاہے وہ اس کے بیان میں تفصیل سے مذکورہے اورمختارمدعیہ نے اس پرجوسوالات کئے ان کا جواب بھی اس میں موجود ہے۔ البتہ آیت: ’’لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم‘‘ کے متعلق جو بحث مختارمدعیہ نے کی ہے وہ قابل التفات ہے۔

گواہ مدعاعلیہ نے یہ آیت خلافت جسمانی اورخلافت روحانی دونوں پرچسپاں کی ہے۔ لیکن مختارمدعیہ نے ۱۲؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے۔ ’’وعد اللہ الذین آمنوا منکم‘‘ سے مراد صرف صحابہ ہیں۔ ’’خلافت فی الارض‘‘ کے معنی نبی بنانے کے نہیں جن بنی اسرئیل کی خلافت ارضی کے ساتھ ان کو تشبیہ دی گئی ہے اس کے متعلق قرآن میں تصریح ہے کہ اس سے سرزمین بیت المقدس کی حکمرانی مرادہے۔ نبوت وغیرہ نہیں۔ لہٰذا یہاں بھی حکمرانی مرادہے جوصحابہ کرام کی حکمرانی سے پوری ہوچکی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’وعد اللہ الذین آمنوا منکم‘‘ سے صرف صحابہ کو مراد سمجھنا الفاظ قرآن کریم کی عمومیت کا بلادلیل باطل کرناہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں جوخطابات مؤمنوں سے کئے گئے ہیں۔ ان سے صرف صحابہ ہی مقصود نہیں بلکہ امتی لوگ بھی مراد ہیں۔ چنانچہ ’’یوصیکم اللہ فی اولادکم‘‘ میں بھی ’’یوصیکم‘‘ اور ’’اولادکم‘‘ میں وہی خطاب موجودہے۔ اب اگر اسی خطاب کے مخاطب صرف صحابہ ہی لئے جائیں تو پھر دوسرے امتی اس حکم سے آزاد ہوجائیں گے۔ چنانچہ مولوی محمدقاسم صاحب اس آیت کے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ متکلم اس کے رسول اللہﷺ ہیں اور مخاطب امتی۔(ہدیۃ الشیعہ ص۲۵۵)

پس آیت مذکورہ بالا میں بھی آنحضرتﷺ پرایمان لانے والے امتی مراد ہیں اور یہ کہنا کہ یہ آیت صرف خلافت جسمانی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے خلافت روحانی سے نہیں۔ بالکل غلط ہے کیونکہ خلافت جسمانی یعنی بادشاہت تو ایسے لوگوں کو بھی مل جاتی ہے جو نیک اورمؤمن نہیں ہوتے۔ پس محض خلافت جسمانی کو ایمان اوراعمال صالحہ کے ساتھ مقید کرنا واقعہ کے لحاظ سے غلط ہے۔

نیز اس کا جونتیجہ دین کا مضبوط ہوجانا نکالاگیاہے یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آیت میں صرف خلافت جسمانی مراد نہیں ہے۔ بلکہ خلافت روحانی بھی اور دین کو متمکن کرنے والی درحقیقت خلافت روحانی ہوتی ہے نہ کہ خلافت جسمانی۔ اگر مختارمدعیہ اس امر کی دلیل پہلے مفسرین سے چاہے تو تفسیر کبیرموجودہے۔ امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ان الاستخلاف بالمعنی الذی ذکرتموہ حاصل بجمیع الخلق فالمذکور ھٰھنا فی معرض البشارۃ لابد وان یکون مغایرا لہ واماقولہ تعالٰی کما استخلف الذین من قبلھم فالذین کانوا قبلھم قد کانوا خلفاء تارۃ بسبب النبوۃ وتارۃ بسبب الامامۃ والخلافۃ حاصلۃ فی الصورتین‘‘ (تفسیر کبیر ج۶ ص۴۲۸،۴۲۹) یعنی جن معنوں میں اختلاف کاتم نے ذکرکیاہے اورخلافت جسمانی مرادلی ہے تو یہ خلافت توتمام مخلوقات کوحاصل ہے۔ پس جس خلافت کا یہاں بطوربشارت کے ذکرکیاگیاہے۔ ضروری ہے کہ وہ ان کے مغائر ہو اوراللہتعالیٰ کے قول میں جوپہلوں کے استخلاف کاذکرکیاگیاہے توجولوگ مسلمانوں سے پہلے تھے، ان میں خلفاء کبھی نبوت کی وجہ سے کبھی امامت کی وجہ سے ہوتے تھے اور خلافت ان دونوں صورتوں میں حاصل ہوتی۔ اس حوالہ سے ظاہرہے کہ جیسے پہلے خلافت روحانی وجسمانی تھی ویسے ہی اس امت میں بھی ہوگی۔ پھر اس کی اوروضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’واما قولہ کما استخلف الذین من قبلھم یعنی کما استخلف ھارون ویوشع وداؤد و سلیمان وتقدیر النظم یستخلنھم کما استخلف الذین من قبلھم من ھٰولاء الانبیاء علیھم السلام‘‘ یعنی خداتعالیٰ کے قول کہ جیسے ان سے پہلے خلیفے بنانے سے مراد ہارون اور یوشع اور داؤد اور سلیمان وغیرہ خلیفے ہیں اور اس آیت کا معنی ہے کہ خدا انکو ان پہلے نبیوں کے خلیفے بنانے کی طرح خلیفے بنائے گا۔(تفسیرکبیرج۶ص۴۲۸،۴۲۹)

235

اور لکھتے ہیں:’’واما قولہ تعالٰی ولیمکنن لہم دینہم للذی ارتضٰی لہم وہو الاسلام‘‘ کہ ’’ولیمکنن لھم‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ خداان کے دین کوجواس نے ان کے لئے پسندکیاہے۔ یعنی اسلام کوثابت اورمضبوط کرے گا۔ اس حوالہ سے صاف ظاہرہے کہ جواستدلال اس آیت سے گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے خلافت روحانی اورجسمانی پرکیاہے۔ وہی صحیح ہے۔

احادیث سے امکان نبوت کا ثبوت

ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱

مختارمدعیہ نے نواس بن سمعان کی حدیث پرجس میں آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے لقب سے پکاراہے کیاہے کہ حضرت مسیح موعود نے (ازالہ اوہام ص۲۳۷، خزائن ج۳ ص۲۲۰) میں لکھاہے کہ: ’’اس راوی نے اس حدیث کے بیان میں دھوکہ کھایاہے۔‘‘

جواب: حضرت مسیح موعود کا اس قول سے قطعاً یہ منشاء نہیں ہے کہ نواس کی روایت موضوع ہے اوراس میں جولفظ نبی اللہ کا واردہواہے وہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ دجال کے متعلق جوبعض باتیں جوبخاری اورمسلم کی متفق حدیثوں سے اختلاف رکھتی ہیں صرف ان کے متعلق آپ نے فرمایاہے کہ تو اس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکاکھایاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جوامام مسلم نے پیش کی ہے، خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتاہے کہ نواس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکاکھایاہے۔ یہ فرض صاحب مسلم کے سرپرتھا کہ وہ اپنی ذکرکردہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے رفع کرتے۔ مگر انہوں نے جوایسے تعارض کاذکرتک نہیں کیا تو اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ محمدبن المنکدر کی حدیث … کو قطعی اوریقینی سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات وکنایات خیال کرتے تھے اوراس کی حقیقت کوحوالہ بخداکرتے تھے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۳۷،۲۳۸، خزائن ج۳ ص۲۲۰)

اوراس امر کا ذکرکہ آنے والے مسیح کو نبی اللہ کہہ کرپکاراہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی متعدد کتب میں کیاہے اورمختارمدعیہ نے (سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ ص۵) سے جوحوالہ پیش کیاہے کہ اس میں حضرت مسیح موعودنے فرمایاہے کہ: ’’حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے جونبی کالفظ آیاہے وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پراطلاق نہیں پاتا۔‘‘

وہ اس لحاظ سے ہے کہ حقیقی نبی سے آپ صاحب شریعت اورمستقل نبی مراد لیتے ہیں اور اس کے مقابل میں آپ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کو جوحدیثوں میں نبی کہاگیاہے تواس سے مراد حقیقی نبی نہیں ہے اور دوسری حدیث کہ ابوبکر میری امت میں سب سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو یہ اتنی واضح حدیث تھی کہ اس پر مختارمدعیہ کو چاہئے تھا کہ وہ خاموش رہتا۔ مگر اس پر بھی اس نے کہہ دیا کہ اس جگہ ’’الّا ان یکون نبی‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰؑ ہیں جو حقیقی طور پر نبی ہیں۔ حالانکہ حدیث میں ایک تو نبی کا لفظ نکرہ واقع ہواہے جس کو کسی خاص فرد کے ساتھ مخصوص کردینا صحیح نہیں۔ دوسرے اس حدیث کے الفاظ میں یہ امر صاف مذکور تھا کہ ابوبکر اس امت میں سب سے افضل ہے۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو۔یعنی اگر امت میں سے کوئی نبی تو وہ افضل ہوگا۔ کیونکہ اس میں حضرت ابوبکر کا مقابلہ پہلے انبیاء سے نہیںتھا۔ بلکہ اس سے ہے جو کہ اس امت میں سے آئے۔ پس اس حدیث سے ایک تونبی کاآنا ثابت ہوتاہے۔ دوسرے یہ کہ وہ امتی ہوگا جس نے تمام کمالات آنحضرتﷺ کی اتباع کے نتیجے میں حاصل کئے ہوں گے۔

۲۳

خلاصہ ملاحظہ ہو

بیان مطبوعہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ص۹۶،۹۷۔

236

تیسری وجہ تکفیر کا رد

گواہان مدعیہ نے تیسری وجہ تکفیر یہ بیان کی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے قیامت اورنفخ صور وغیرہ اورقیامت کے دن مردوں کے قبروں سے جی اٹھنے وغیرہ کاانکارکیاہے۔

اس کا جواب ملاحظہ ہو بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

نیز ملاحظہ ہوں مندرجہ ذیل حوالہ جات جن میں حضرت مسیح موعود نے صاف طور پر بعث بعد الموت اورروز قیامت اوراعمال کی جزا وسزا کاصریح طور پر اقرارکیاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔

۱… خداتعالیٰ خوب جانتاہے کہ میں ایک مسلمان ہوں۔

’’آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والبعث بعد الموت واشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداً عبدہٗ ورسولہٗ فاتقواللہ ولا تقولوا لست مسلما واتقوا الملک الذی الیہ ترجعون‘‘ (ازالہ اوہام ٹائٹل پیج ص۲، خزائن ج۳ ص۱۰۲)

۲… ’’ونعتقد ان الجنۃ حق والنارحق وحشرالاجساد حق‘‘ یعنی ہمارااعتقادہے کہ جنت برحق ہے اور جہنم بھی برحق ہے۔ حشراجساد بھی برحق ہے۔(آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۷، خزائن ج۵ ص۳۸۷)

۳… ’’ہم وہ لوگ ہیں جن کا مقولہ ہے: ’’لآ الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اٰمنا باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والجنۃ والنار والبعث بعد الموت‘‘ یعنی ہم ایمان لاتے ہیں خداتعالیٰ پرفرشتوں پر اور اس کے سب رسولوں پر اور اس کی سب کتابوں پر جنت اور جہنم پر اوربعث بعدالموت پر۔ (انوارالاسلام ص۳۴، خزائن ج۹ ص۳۵)

۴… ’’ونؤمن بالملائکۃ ویوم البعث والجنۃ والنار‘‘ اورہم فرشتوں اور یوم البعث اور دوزخ اوربہشت پرایمان رکھتے ہیں۔(نورالحق حصہ اوّل ص۵، خزائن ج۸ ص۷)

۵… ’’یہ بات نہایت بدیہی اور عندالعقل مسلم اورقرین قیاس ہے کہ جیسا کہ انسان دنیا میں ارتکاب جرائم یاکسب خیرات اوراعمال صالحہ کے وقت صرف روح سے ہی کوئی کام نہیں کرتا۔ بلکہ روح اورجسم دونوں سے کرتاہے۔ ایسا ہی جزاوسزا کا اثر بھی دونوں پرہی ہوناچاہئے۔ یعنی جان اورجسم دونوں کواپنی اپنی حالت کے مناسب پاداش اخروی سے حصہ ملناچاہئے۔‘‘(نورالقرآن حصہ دوم، خزائن ج۹ ص۴۲۱،۳۴۲)

۶… ’’پس ہم مسلمان لوگ اس بات پرایمان رکھتے ہیں۔ بہشت جوجسم وروح کے لئے دارالجزاء ہے وہ ایک ادھورااورناقص دارالجزاء نہیں۔ بلکہ اس میں جسم اورجان دونوں کو اپنی اپنی حالت کے موافق جزاء ملے گی۔ جیسا کہ جہنم میں اپنی حالت کے موافق دونوں کوسزادی جائے گی۔‘‘ (نورالقرآن حصہ دوم ص۳۱، خزائن ج۹ ص۴۲۳،۴۲۴)

۷… ’’قیامت کوجولوگ جہنم کا مزہ چکھیں گے وہ کہیں گے۔ ’’وما لنا لانری رجالاکنا نعدھم من الاشرار‘‘ یعنی ہمیں کیاہوگیا کہ دوزخ میں وہ لوگ نظرنہیں آتے جنہیں ہم شریر سمجھتے تھے۔‘‘(لیکچر سیالکوٹ ص۲۱، خزائن ج۲۰ ص۲۱۸)

237

۸… ’’اوریوم آخرقرآن شریف کی روسے یہ ہے جس میں مردے بھی اٹھیں گے اور پھرایک فریق بہشت میں داخل کیاجائے گاجوجسمانی اورروحانی نعمت کی جگہ ہے اورایک فریق دوزخ میں داخل کیاجائے گا جوروحانی اور جسمانی عذاب کی جگہ ہے۔‘‘(حقیقت الوحی ص۱۴۱، خزائن ج۲۲ ص۱۴۵)

۹… ’’ایسا عقیدہ جومؤمنین مطہرین بلاتوقف بہشت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہ میری طرف سے نہیں بلکہ یہی عقیدہ ہے جس کی قرآن شریف نے تعلیم دی ہے اوردوسری تعلیم جو قرآن شریف میں ہے جوحشر اجساد ہوگا اورمردے زندہ ہوں گے وہ بھی حق ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ یہ بہشت میں داخل ہونا (یعنی فوت ہوتے ہی داخل ہونا) صرف اجمالی رنگ میں ہے اور اس صورت میں جومؤمنوں کو مرنے کے بعد بلاتوقف اجسام دئیے جاتے ہیں وہ اجسام ابھی ناقص ہیں۔ مگر حشراجساد کادن تجلی اعظم کادن ہے۔ اس دن کامل اجسام ملیں گے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۱۳ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۸۷ حاشیہ)

ان تصریحات کے ہوتے ہوئے مختارمدعیہ نے جوبحث کی ہے وہ قطعاً قابل التفات نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے متعدد جگہ اپنی کتب میں ان سب عقائد کابیان فرمایاہے اورجوآیات اوراحادیث ان مسائل کے متعلق پائی جاتی ہیں۔ ملحدین کے اعتراضات کو ملحوظ رکھ کر ان سب میں تطبیق فرمائی ہے تو یہ تقریر جوازالہ اوہام میں بیان ہوئی ہے تووہ ان مختلف حدیثوں اورآیات کی تطبیق میں ہے۔ مختارمدعیہ نے ۱۲؍اکتوبر کی بحث میں کچھ آیات سنائی تھیں جن سے بزعم خود اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان آیات سے ثابت ہوتاہے کہ لوگ قبروں سے اٹھائیں جائیں گے اور نفخ صور ہوگا۔ مگرمرزا صاحب کے نزدیک جب جنتی جنت میں رہیں گے اوردوزخی دوزخ میں تو قبروں میں سے جونکلے گا اور نفخ صور اس کو جمع کرے گا۔ سوا س سوال کاجواب حضرت مسیح موعود کے کلام سے اوپرگزرچکاہے۔میں مختارمدعیہ سے اگر وہ بھی ظاہری قبور مراد کہتاہے تو وہ قومیں جومردوں کوجلاتی ہیں یاجوسمندروں میں ڈوب کرمرجاتے ہیں یا جنہیں درندے کھاجاتے ہیں وہ کن قبروں سے اٹھیں گے۔ اگر تمام لوگ قیامت کے روز تک اپنی قبروں میں ٹھہرے رہتے ہیں اوران میں سے کوئی جنت اوردوزخ میں داخل نہیں ہوتا توان آیات کا کیامطلب ہے۔ ’’اغرقوا فادخلوا ناراً (نوح)‘‘ کہ نوح کے مخالف غرق کئے گئے۔ پھرانہیں آگ میں داخل کردیااور اسی طرح فرماتاہے: ’’النّار یعرضون علیھا غدواوعشیا ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا آل فرعون اشدالعذاب‘‘ کہ فرعونی صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اورجس دن قیامت قائم ہو، اس دن ہم حکم کریں گے کہ فرعون کو ’’اشدا العذاب‘‘ میں ڈالو اور آیت:’’یٰآیتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الٰی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی‘‘ اس آیت کاماحصل یہ ہے کہ جونفس خدا کی طرف سے تسلی پاگیاہو اسے دیگر بندگان الٰہی کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک مؤمن کو بلاتوقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے:’’قیل ادخل الجنۃ قال یالیت قومی یعلمون‘‘ اسے کہا گیا کہ تو جنت میں داخل ہو جا۔ اسی طرح احادیث میں آتاہے کہ آنحضرتﷺ نے معراج میں اور اس کے علاوہ بھی جہنم کو دیکھا تو اس میں اکثر عورتیں تھیں اورجنت کودیکھا تو اس میں اکثر ضعفاء تھے اور شہداء کے متعلق تو قرآن مجید میں وارد ہے کہ انہیں مردے مت کہو۔ ’’بل احیآء عندربھم یرزقون‘‘ بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور وہ رزق پاتے ہیں۔

اورامام ابن حزم فرماتے ہیں:’’ھٰکذا نص رسول اللہﷺ علٰی ان ارواح الشھداء فی الجنۃ وکذالک الانبیاء بلاشک‘‘ (کتاب الفصل ج۲ ص۱۳۴)

238

یعنی اسی طرح رسول اللہﷺ نے نص کے طور پر بیان کیاہے کہ شہداء کی ارواح جنت میں ہیں اور اسی طرح انبیاء کی ارواح بھی بلاشک جنت میں ہیں۔ پس اگرکوئی شخص مرنے کے بعد جنت اوردوزخ میں داخل نہیں ہوتا تومختارمدعیہ ان آیات اوراپنے اس عقیدہ میں کہ مردے قبروں سے اٹھیں گے۔ تطبیق کرکے دکھائے اور یہ بھی یاد رہے کہ جن قبور کاذکرقرآن مجید میں ہے وہ یہ قبریں نہیں ہیں۔ بلکہ ان سے برزخی قبریں مراد ہیںجن کے متعلق اللہتعالیٰ فرماتاہے کہ: ’’ثم اماتہ فاقبرہ‘‘ یعنی پھرخداتعالیٰ انسان کو مارتاہے اورپھراس کے لئے قبربناتاہے اور آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’القبر روضۃ من ریاض الجنۃ اوحفرۃ من حفرۃ النیران (ترمذی)‘‘ کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا آگ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔

پس مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب محض الفاظ مانتے ہیں معنی کچھ نہیں۔ درحقیقت اس کے اپنے اوپر صادق آتاہے۔ کیونکہ وہ ان آیت کے معنی پرغور نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی غور اور فکر کے مومنوں کی شان کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم حشر اجساد اور ’’بعث من فی القبور‘‘ اوردیگر تمام اموراخروی پرایمان لاتے ہیں اورنفخ صور کوبھی مانتے ہیں۔ مختارمدعیہ نے شہادۃ القرآن اورچشمہ معرفت کے چند حوالے پیش کرکے کہاہے کہ حضرت مسیح موعود نفخ صور کے منکرہیں۔ حالانکہ شہادۃ القرآن میں ہی آپ نے آیت: ’’ونفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوٰت‘‘ کے تحت میں لکھاہے: ’’یہ آیتیں ذوالوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔‘‘ (شہادۃ القرآن ص۲۵، خزائن ج۶ ص۳۲۱)

اسی طرح (شہادۃ القرآن ص۶۴،خزائن ج۶ص۳۶۰) پربھی فرماتے ہیں: کیونکہ نفخ صور صرف جسمانی احیاء اوراماتت تک محدود نہیں بلکہ روحانی احیاء اوراماتت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہوتاہے۔

دیکھو ان دونوں جوابوں میں جوشہادۃ القرآن میں ہی موجودہیں کیا نفخ صور کا اقرار موجود نہیں ہے۔ پھر یہ کہناکس قدرخلاف واقع ہے کہ آپ نے نفخ صور سے انکار کیاہے۔ آپ نے آیت: ’’ونفخ فی الصور فجمعنا ھم جمعا‘‘ کی آیت میںنفخ صور سے مراد مسیح موعود لی ہے۔ کیونکہ اس آیت کے سباق وسیاق سے ظاہرہے کہ یہ قیامت کا واقعہ نہیں ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’دوسرے مقام میں فرمایاہے: ’’فاذا جاء وعد ربی جعلہ دکاوکان وعدربی حقا۔ وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض ونفع فی الصور فجمعناھم جمعا (الجزء:۱۶)‘‘

یعنی جب وعدہ خداتعالیٰ کے نزدیک آجائے گا توخداتعالیٰ اس دیوار کو ریزہ ریزہ کردے گاجو یاجوج وماجوج کی روک ہے اورخداتعالیٰ کاوعدہ سچاہے اور ہم اس دین یعنی یاجوج وماجوج کی سلطنت کے زمانے میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے۔ تاکہ ایک دوسرے میں موجزنی کریں۔ یعنی ہرایک فرقہ اپنے مذہب ودین کو دوسرے پرغالب کرناچاہے گا اورجس طرح ایک موج اس چیز کو اپنے نیچے دباناچاہتی ہے جس کے اوپرپڑتی ہے۔ اس طرح اقوام موج کی مانند بعض بعض پر پڑیں گی تاکہ ان کو دبالیں اورکسی کی طرف سے کمی نہیںہوگی۔ ہرایک فرقہ اپنے مذہب کو عروج دینے کے لئے کوشش کرے گا اوروہ اپنی لڑائیوں میں ہوں گے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے صور پھونکاجائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پرجمع کردیں گے۔ صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عباد اللہ کے موافق خداتعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیداہوگا اور اس کے دل میں زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور وہ زندگی دوسروں میں سرایت کرے گی۔‘‘(شہادۃ القرآن ص۱۵،۱۶، خزائن ج۶ ص۳۱۱)

239

قرآن مجید کے ۹ مقامات پر نفخ صور کاذکر آیاہے۔ پس اگر ان میں سے کسی ایک مقام کی نسبت آپ یہ سمجھتے ہوں کہ اس کے سیاق کے لحاظ سے وہ اس زمانہ کے لئے بطور پیش گوئی کے ہے تواس سے یہ لازم نہیں آجاتاکہ آپ مطلقاً نفخ صور کاانکار کرتے ہیں۔ چنانچہ دوسری آیت کے ماتحت جیسے کہ (شہادۃ القرآن ص۲۵،خزائن ج۶،ص۳۲۱) کے حوالہ سے ذکرہوچکاہے۔ آپ قیامت کے وقت جونفخ صور ہوگا اسے تسلیم کرتے ہیں۔

پھر مختارمدعیہ نے یہ فرض کرکے حضرت مسیح موعود نے جب قیامت کا ہی انکار کردیاتو پل صراط وغیرہ کابھی انکار کردیا۔

حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت ہرایک اس چیز کو مانتی ہے جو قرآن مجید اور حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ آپ پل صراط کے متعلق بھی فرماتے ہیں: ’’یہی صورت جسمانی طور پرعالم آخرت میں ہمیں نظر آجائے گی اور ہم آنکھوں سے دیکھیں گے کہ درحقیقت ایک صراط ہے جوپل کی شکل پردوزخ کے اوپربچھایاگیاہے جس کے دائیں بائیں دوزخ ہے۔ تب ہم مامور کئے جائیں گے کہ اس پرچلیں سوا گر ہم دنیا میں صراط مستقیم پرچلتے رہے ہیں اور دائیں بائیں نہیں چلے توہم کواس صراط سے بھی خوف نہیں ہوگا اورنہ جہنم کی بھاپ ہم تک پہنچے گی اور نہ کوئی فزع اورخوف ہمارے دل پر طاری ہوگا۔ بلکہ نورایمان کی قوت سے چمکتی ہوئی برق کی طرح ہم اس سے گزرجائیں گے۔ لیکن جو شخص دنیا میں صراط مستقیم پرنہیں چل سکا وہ اس وقت بھی چل نہیں سکے گا اوردوزخ میں گرے گا اورجہنم کی آگ کاکندہ بن جائے گا۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۱۴۷،۱۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

مختارمدعیہ نے جس رنگ سے تکفیر کی اس کو دیکھ کر بے اختیار حضرت مسیح کا مقولہ یاد آتاہے کہ دوسرے کی آنکھ کاتنکا نظرآجاتاہے۔ لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ یہی مختارمدعیہ ہے جس نے مولوی احمدرضاخان کے فتاویٰ تکفیریہ کے رد میں کتابیں لکھی ہیں۔ مولوی اسماعیل صاحب شہید کے متعلق مولوی احمدرضاخان کاذکرکرتے ہوئے لکھاہے: ’’جوشہید مظلوم خان صاحب کے نزدیک وہابی نہیں بلکہ ان کے باپ ہیں اور مقتداء وپیشواء اوران سے خان صاحب کے نزدیک ایک نہیں بلکہ متعدد کیابے شمار کفر سرزد ہوئے ہیں جن کی بناء پر ان پرجزماً قطعاً یقینا اجماعاً موجودہ کثیرہ کفر لازم۔‘‘(الکواکب الیمانی علی اولاد الزوانی ص۹۰)

لیکن اگرمختارمدعیہ اپنی عبارتوں کو بالمقابل رکھ کر اس عبارت کو پڑھتاتواس کو معمولی سمجھ کرذکر بھی نہ کرتا۔ مولوی احمدرضاخان کی مذکورہ بالاتحریرمختارمدعیہ کی تحریر کے مقابل میں کچھ چیز نہیں۔

چنانچہ مختارمدعیہ حضرت مسیح موعود کے متعلق کہتاہے: حشراجساد تقریباً سوآیات سے زیادہ میں مذکور ہے اور ایک آیت کابھی انکار کرناکفرہے۔ لہٰذا کم ازکم سووجہ کفروارتداد مرزاصاحب کی ہوئی اورچونکہ بحث ’’من فی القبور‘‘ بھی ضروریات دین سے ہے اورقبروں سے اٹھنے والے کروڑوں کیا اربوں ہیں اور مرزاصاحب نے ہرایک شخص کے قبر سے اٹھنے کاانکارکیاہے۔ لہٰذا بے شمار وجہوں سے کافر اور مرتد ہوئے۔

اب بتائو مختارمدعیہ کی تحریر مولوی احمدرضاخان کی تحریر سے تکفیر میں بڑھی ہوئی ہے یانہیں۔ لیکن باجود اس کے وہ اسے قابل اعتراض سمجھتاہے۔

240

چوتھی وجہ تکفیر:

توہین انبیاءؑ

حضرت مسیح موعود نے کسی نبی کی توہین نہیں کی

گواہان مدعیہ نے ایک وجہ تکفیر کی یہ بیان کی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے انبیاء کی توہین کی ہے اور جوانبیاء کی توہین کرے وہ کافر اورمرتدہے۔ اس کے جواب کے لئے ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

حضرت مسیح موعود ان کے اس اعتراض کاخود جواب دیتے ہیں: ’’اوراگر یہ اعتراض ہے کہ نبی کی توہین کی ہے اور وہ کلمہ کفرہے تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ اورہم سب نبیوں پرایمان لاتے ہیں اور تعظیم سے دیکھتے ہیں۔‘‘(انوارالاسلام ص۳۴، خزائن ج۹ ص۳۵)

۱… مختاران مدعیہ نے انبیاء کی توہین ثابت کرنے کے لئے پہلا حوالہ یہ پیش کیاہے اور یہ حضرت اقدس مسیح موعود کا شعرہے:

  1. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام رامرابتمام

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

سواس کا جواب ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اورمختارمدعیہ نے اس سے جواستدلال کیاہے وہ قطعاً باطل ہے۔ اس کا مطلب صرف اتناہی ہے کہ اللہتعالیٰ نے عرفان کاجوجام اورانبیاءؑ کو پلایاہے میرے سیدومطاع حضرت محمدa کے طفیل سے وہی جام مجھے بھی پلایاہے۔ اس کا مطلب جیسا کہ مختارمدعیہ نے ظاہرکرناچاہاہے یہ ہرگزنہیں ہے کہ حضرت اقدس کو تمام انبیاء کے عرفان سے معہ حضرت محمدa سے عرفان کے زیادہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ مختارمدعیہ کا یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی اس قول سے کہ خداتعالیٰ نے تمام انبیاء کو اپنے واحد ماننے کی جوتوفیق عطاء فرمائی ہے۔ وہی توفیق مجھے بھی عطاء فرمائی ہے۔ یہ مطلب نکالے کہ اس قائل نے اپنی توفیق کو تمام انبیاء کی توفیق کے برابر بنا کر تمام انبیاء پر اپنی فوقیت جتائی ہے۔ حالانکہ یہ مطلب لینا بالکل باطل ہوگا۔ صحیح مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح ہر نبی خداتعالیٰ کو واحد مانتاتھا، اسی طرح میں بھی واحد مانتاہوں نہ یہ کہ ان سب کا مجموعی طور پر واحد ماننامیرے واحد ماننے کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

علی ہذا القیاس! حضرت اقدس کے شعر کابھی یہی مطلب ہے کہ ہرنبی کوجوجام عرفان دیاگیاہے، وہی جام لبالب مجھے بھی دیاگیاہے۔ مجھے اللہتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کی غلامی کے طفیل اپناجام عرفان پلانے میں کسی سے کم نہیں رکھا، بلکہ جوجام ان کو پلایاوہی مجھے بھی پلایا۔ جیسا کہ اسی نظم میں آپ فرماتے ہیں:

  1. انبیاء گرچہ بود اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹،خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

241

اگرآپ کا مقصود وہ ہوتاجومختارمدعیہ نے ظاہرکرناچاہاہے تو آپ یہ کیوں فرماتے کہ میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ اس صورت میں تو آپ یہ فرماتے کہ میں ان سے بہت بڑھاہواہوں۔ پھریہ کیوں فرماتے کہ:

  1. وارث مصطفی شدم بہ یقیں

    شدہ رنگیں برنگ یار حسیں

(نزول المسیح ص۹۹،خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

یعنی مجھے جوجام عرفان الٰہی پلایاگیاہے اور جس میں مجھے کسی سے کم نہیں رکھاگیا ہے وہ اس لئے ہے کہ میں آنحضرتﷺ کا وارث اورحضور کے رنگ سے رنگیں کیاگیاہوں۔ اسی نظم میں یہ کیوں فرماتے :

  1. لیک آئینہ ام ز رب غنی

    از پئی صورت مہر مدنی

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

یعنی میں آنحضرتﷺ کی شکل مبارک کے لئے بطور آئینہ ہوں اور جس طرح آئینہ جس چیز کے سامنے ہو، اس کی صورت اپنے اندرلے لیتااور دوسروں پر ظاہرکرتاہے۔ اسی طرح میں آنحضرتﷺ کی شکل مبارک دوسروں کو دکھانے والاہوں۔ اگر شعر مذکورکا وہ مطلب ہوتاجومختارمدعیہ نے ظاہرکیاہے تو اس شعر کے آگے ہی یہ شعر کبھی نہ لکھے جاتے۔ اس مضمون کوجام مجھے پلایاگیاوہ آنحضرتﷺ کی غلامی کے طفیل پلایاگیاہے۔ حضرت اقدس نے جابجاتحریر فرمایاہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اوروہ لوگ کہ جو قرآن شریف کا اتباع اختیار کرتے ہیں اور خداکے رسول مقبول پرصدق دل سے ایمان لاتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کوتمام مخلوقات اورتمام نبیوں اورتمام رسولوں اور تمام ان چیزوں سے جوظہورپذیرہوئیں یاآئندہ ہوں۔ بہتر اورپاک تراورکامل تراورافضل اوراعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ بھی ان تک ان نعمتوں سے حصہ پاتے ہیں اور جو شربت موسیٰ اور مسیحn کو پلایا گیا وہی شربت نہایت کثرت سے نہایت لطافت سے نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔ اسرائیلی نوران میں روشن ہے۔ نبی یعقوب کے پیغمبروں کی ان سے برکتیں ہیں۔ سبحان اللہ ثم سبحان اللہ! حضرت خاتم الانبیاءa کس شان کے نبی ہیں، اللہاللہکیا عظیم الشان نورہے۔ جس کے ناچیز خادم، جس کے ادنی سے ادنی امت،جس کے احقر سے احقر چاکرمراتب مذکورہ بالاتک پہنچ جاتے ہیں۔ ’’اللھم صل علٰی نبیک وحبیبک سید الانبیاء وافضل الرسل وخیرالمرسلین وخاتم النّبیین محمد وآلہ واصحابہ وبارک وسلم‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ نمبر۱۱ ص۲۴۵تا۲۴۷، خزائن ج۱ ص۲۷۱،۲۷۲)

۲… دوسرا حوالہ توہین انبیاء کے متعلق یہ پیش کیاگیاہے:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اوراگر حضرت مسیح موعود کا یہ قول موجب توہین انبیاء ہوسکتاہے تو شارح فصوص الحکم حضرت شیخ عبدالرزاق قاشانی جومہدی موعود کو عرفان الٰہی میں آنحضرتﷺ کے سواء تمام انبیاءؑ سے فائق ظاہرکرتے ہیں۔ بہت بڑے توہین انبیاء کرنے والے ٹھہریں گے۔ کیونکہ وہ شرح (فصوص الحکم مطبوعہ مصرص۵۲،۵۳) میں لکھتے ہیں: ’’المہدی الذی یجیٔ فی آخر الزمان فانہ فی الاحکام الشرعیہ تابعاً محمدa وفی المعارف والعلوم والحقیقہ تکون جمیع الانبیاء والاولیاء تابعین ولایناقض ماذکرنا لان باطنہ باطن محمدa‘‘

242

یعنی وہ امام مہدی جوآخری زمانہ میں آئیں گے وہ احکام شرعیہ میں توآنحضرتﷺ کے ہی تابع ہوں گے۔ لیکن معارف علوم اورحقیقت میںتمام انبیاء اوراولیاء ان کے تابع ہوں گے اور یہ بات ہمارے مذکورہ قول کے مناقض نہیں۔ کیونکہ ان کا باطن آنحضرتﷺ کا ہی باطن ہوگا۔

۳… تیسراحوالہ یہ پیش کیاگیاہے:

  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

اس کا جواب ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اور اس مضمون کا ایک شعر دیوبندیوں کے مسلمہ بزرگ شیخ الہند مولوی محمودحسن صاحب نے مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کے مرثیہ میں لکھاہے:

  1. فقط ایک آپ کے دم سے نظرآتے تھے سب زندہ

    بخاری و غزالی و بصری و شبلی و شیبانی

۴… چوتھا حوالہ یہ پیش کیاگیاہے:

  1. تکدر ماء السابقین و عیننا

    الی آخر الایام لا تتکدر

(ضمیمہ نزول المسیح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰)

اور اس کا ترجمہ کرکے کہ نبیوں کے پانی خشک ہوگئے، لیکن ہماراچشمہ آخری دنوں تک کبھی خشک نہ ہوگا۔ حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق یہ ظاہر کیاگیاہے کہ اس میں آپ نے تمام انبیاء حتیٰ کہ سید الانبیاء آنحضرتﷺ کے مبارک چشمہ کے بھی خشک ہوجانے اورصرف اپنے چشمے کے ہمیشہ جاری رہنے کا دعویٰ کرکے تمام انبیاء حتیٰ کہ حضورسید المرسلین پربھی اپنی فضیلت ظاہرکی ہے۔ حالانکہ حضرت اقدس نے خود اس شعر کا جوترجمہ فرمایاہے۔ وہ یہ ہے کہ: ’’دوسروں کے پانی جو امت میں سے تھے خشک ہوگئے۔ مگرہماراچشمہ آخری دنوں تک کبھی خشک نہ ہوگا۔‘‘

اس ترجمے سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے سابقین کے لفظ سے اس امت کے لوگ مراد لئے ہیں نہ کہ تمام انبیاء اور قرآن مجید کے متعلق تواسی کتاب (اعجاز احمدی ص۵۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶۷) پرفرماتے ہیں:

  1. واللہ فی القرآن کل حقیقہ

    وآیاتہ مقطوعۃ لاتغیر

  2. معین معین الخلد نورمعینا

    ھداہ غیر الماء لایتکدر

اوربخدا قرآن شریف میں ہرایک حقیقت سے اور اس کی آیتیں قطعی ہیں جوبدلتی نہیں۔ وہ صاف پانی ہے بہشت کاپانی ہمارے خداکا نور ہدایت اس کی صاف زلال ہے مکدرنہیں ہے۔

پس شعر اوّل کے ترجمہ کی موجودگی میںجوحضرت اقدس نے خود کیاہے اورپھر ان دونوں شعروں اوران کے ترجموں کی موجودگی میں مختارمدعیہ کا یہ نتیجہ نکالنا کہ شعر اوّل میں سابقین سے تمام انبیاءؑ مراد ہیں۔ کیونکردرست ہوسکتاہے۔

243

حضرت سید عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:

  1. افلت شموس الاوّلین و شمسنا

    ابد العلی افق السماء لا تغرب

(مقامات امام ربانی ص۱۰۴)

اس شعر میں اوّلین کے سورج غروب ہوجانے اور اپنے سورج کے ہمیشہ درخشان رہنے اور کبھی غروب نہ ہونے کا دعویٰ کیاگیاہے تو کیا اس شعر کے لفظ اوّلین سے مختارمدعیہ تمام نبیوں کو معہ سیدنا نبی کریمa کے مراد لے کر یہ مطلب سمجھا ہے کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی نے تمام نبیوں حتیٰ کہ سیدالانبیاa کے سورج کابھی غروب ہوجاناظاہر کرکے اپنے سورج کے ہمیشہ درخشاں رہنے کا دعویٰ کیاہے اور اس طرح آنجناب نے تمام انبیاء پراپنی فضیلت ظاہر کی ہے بلکہ اس شعر کا مطلب وہ ہے جو امام ربانی مجدد الف ثانی نے (مکتوبات ج۳ ص۲۵۲، مکتوب نمبر۱۲۳) میں فرمایاہے: ’’مراد از شمس آفتاب فیضان ہدایت وارشادات وازفول آن عدم فیضان مذکورہ وچوں بوجود حضرت شیخ معاملہ کہ باو لین متعلق داشت باد قرارگرفت داد واسطہ وصول رشد وہدایت گردید چنانچہ پیش ازوی اولیں بودہ اند ونیز تامعاملہ توسط فیضان برپااست بتوسل اوست ناچار است آمد کہ: ’’افلت شموس الاولین… الخ!‘‘ یعنی شمس سے مراد آفتاب فیضان وارشادات ہے اور اس کے غروب ہونے سے فیضان وارشادات مذکورہ کامفقود ہونا اور جب اس معاملہ نے جو اولین سے تعلق رکھتاتھا۔ سیدی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے وجود پرقرارپکڑا اور آپ رشدو ہدایت کے رسول کا واسطہ ذریعہ ٹھہرے۔ جیسا کہ آپ سے پیشتر اولین ہوئے ہیں اور جب تک بھی کہ فیضان کے توسط کا معاملہ برپاہے۔ آپ ہی کے توسل سے ناچار آپ کا ’’افلت شموس الاولین… الخ!‘‘ فرمانا راست آیا۔ یعنی آپ سے پہلے اولیائے امت کے جوفیضان اپنے اپنے زمانوں میں جاری تھے وہ بندہوگئے اورچشمہ فیضان حضرت شیخ بنادئیے گئے جو مطلب حضرت شیخ جیلانی کے شعر میں امام ربانی مجدد الف ثانی نے بیان فرمایا ہے، وہی مطلب حضرت اقدس کے شعر کا ہے جو معنی حضرت شیخ کے شعر میں لفظ اوّلین کے ہیں وہی معنی حضرت اقدس کے شعر میں سابقین کے مختار مدعیہ کا اختیار ہے۔ جو چاہے وہ مطلب لے لے۔ مگر دونوں شعروں کا مطلب ایک ہی نہیں ہوگا جو مراد ایک شعر میں لفظ اولین کی ہے، وہی دوسرے شعر میں لفظ سابقین کی۔ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک جگہ تو تمام انبیاء معہ حضور سید الانبیاء کے مراد لئے ہیں اور دوسری جگہ صرف اولیائے امت اور مختار مدعیہ نے شعر سے اولیاء امت کی جو توہین نکالی ہے۔ اس کا جواب بذیل عنوان اولیائے امت آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالٰی!

۵… پانچواں حوالہ یہ پیش کیاگیاہے:

  1. مقام او مبین از راہ تحقیر

    بدو دانش رسولاں ناز کردند

اورکہاگیاہے کہ ہمارے نزدیک یہ زمانہ بدترین زمانہ ہے اور خود گواہان مدعاعلیہ نے بھی اسے بدترین زمانہ ہی کہاہے۔

جواب: گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیان میں یہ ذکرکیاہے کہ آنحضرتﷺ نے اس زمانہ کے مولویوں کے متعلق یہ خبردی ہے کہ وہ بدترین مخلوقات ہوں گے اور ضلالت اورگمراہی کا دوردورہ ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی آپ نے مسیح موعود کے آنے کی بشارت دی ہے اور اس کے اوراس کی جماعت کے ذریعہ اسلام کی جوتبلیغ اوراشاعت ہوگی۔ اس پر خوشی کااظہار فرمایاہے اور اس وجہ سے بھی کہ باوجود یہ کہ

244

مولوی اوردوسرے مخالفین اسلام اس کی مخالفت پرکمر بستہ ہوں گے اور تمام منصوبے اس کی ہلاکت کے کریں گے اور اس کی جماعت کا استحصال کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ مگرخداتعالیٰ کی نصرت اس کے اور اس کی جماعت کی شامل حال ہوگی اور وہ روزافزوں ترقی کرتی جائیں گی۔ یہاں تک کہ وہ زمانہ آجائے گا کہ تمام دنیا میں اسلام کا سورج چمکے گا۔آنحضرتﷺ کی حمدوستائش سے زمین معمور ہوجائے گی۔ جیسا کہ منصب امامت کے حوالے سے لکھا جاچکاہے اور آنحضرتﷺفرماتے ہیں کہ:’’انی لارجو ان طال بی عمر ان القی عیسٰی بن مریم فان عجل بی موت فمن لقیہ منکم فلیقرأ من السلام اخرجہ مسلم واحمد باسنادین رجالھما رجال الصحیحین‘‘ (حجج الکرامہ ص۴۲۹)

یعنی میں اس بات کی امید کرتاہوں کہ اگر میری عمر لمبی ہوجائے تو میں عیسیٰ بن مریمn سے ملوں۔ پس اگر میں پہلے وفات پاگیاتو جوتم میں سے اسے ملے تو اسے میری طرف سے سلام کہے اوراس جگہ عیسیٰ بن مریم سے حضرت عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی نبی مراد نہیں بلکہ محمدعیسیٰ ابن مریم یعنی حضرت مسیح موعود مراد ہیں۔ کیونکہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی نبی سے تو رسول اللہ معراج میں مل چکے تھے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ دجال کے فتنہ سے تمام انبیاء اپنی قوموں کو ڈراتے آئے ہیں اور اس کے فتنہ سے بڑھ کرنہ کبھی فتنہ ہوااور نہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ)

پس جیسے رسول اللہﷺ اور دیگر انبیاء نے دجال کے فتنہ ہائلہ سے ڈرایا، ویسا ہی انہیں اس شخص کا بھی علم دیاگیاہوگا جو اس کے فتنہ کو دور کرے گا اور وہ فریقین کے نزدیک مسیح موعودہے جو ہمارے نزدیک حضرت مرزا صاحب کے آنے سے پورا ہوچکا۔ چنانچہ (دلائل النّبوۃ ج۱ ص۱۴) میں ابوہریرہ سے ایک روایت آئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ اے میرے رب میں الواح میں ایک ایسی امت کا ذکرپاتاہوں جن کو علم اوّل وعلم آخردیاجائے گا اور وہ قرون ضلالت مسیح دجال سے مقاتلہ کریں گے۔ پس تو اس کو میری امت بنا دے تواللہتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ احمد کی امت ہے۔ نیز ملاحظہ (حجج الکرامہ ص۱۳۰) اورمولاناعبدالرحمن جامی نے نفحات الانس میں لکھاہے کہ: ’’شیخ ابوالحسن شاذلی قدس اللہتعالیٰ روحہ کہ قطب زمان خود بود از واقعہ کہ دین چنیں خبردادہ است کہ حضرت رسالت مآبa باموسیٰ وعیسیٰ مفاخرت ومباہات کردہ است بغزالی۔‘‘(نفحات الانس معہ سلسلۃ الذہب مطبوعہ نولکشور ص۲۲۹)

پس جب امام صاحب غزالی کے وجود سے آنحضرتﷺ نے مفاخرت اورمباہات کا اظہار کیا تو حضرت مسیح موعودبدرجہ اولیٰ اس کے مستحق ہیں اورآنحضرتﷺ کاناز کرنا ایساہی ہے جیسے کہ کوئی اپنے لائق بیٹے کے اچھے کاموں پر ناز کرے۔ پس جیسے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے کاموں پرناز کرنا بیٹے کی عزت افزائی کا موجب ہے نہ کہ باپ کی ہتک کا۔ ویسے ہی آنحضرتﷺ کا اپنے روحانی بیٹے مسیح موعود کے خدمات اورکاموں کے حال معلوم کرکے اس کے وقت پرناز کرنا اس کو عزت بخشتاہے نہ کہ نعوذباللہ! حضور کی ہتک اوردوسرے انبیاء اس زمانہ کے مولویوں کی طرح حاسد نہیں ہیں کہ وہ کسی کے کمال کو دیکھ نہ سکیں۔ اس لئے آنحضرتﷺ کے اپنے کامل فرزند روحانی پرناز کرنے کو دیکھ کراورانبیاء کابھی ناز کرنا ایک لازمی امرتھا اورناز کرنا موجب توہین نہیں ہوتا۔ ایک بیٹا اپنے باپ اور باپ اپنے بیٹے پر اوربڑابھائی چھوٹے بھائی پر بھی ناز کرسکتاہے اور ناز کرنے کو موجب توہین قرار دینا درست نہیں ہے۔

۶… چھٹاحوالہ یہ پیش کیاگیاہے کہ:

  1. روضہ آدم کہ تھا جو نا مکمل اب تلک

    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۳، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

245

اس شعر سے مختارمدعیہ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آپ نے تمام انبیاء کی توہین کی ہے اور اپنی طرف وہ بات منسوب کی جوکسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی۔ حالانکہ اس شعر سے حضرت مسیح موعود کا یہ مقصد نہیں کہ اپنی فضیلت تمام انبیاء پر ظاہر کریں۔ بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ شخص جس آخر زمانہ میں آنا مقدرتھا اور جس کی آمد پرتکمیل اشاعت موقوف تھی، وہ میں ہوں اور میرے آنے سے وہ بات پوری ہوگئی کہ روضہ آدم جس سے مراد نسل انسانی ہے… کی ہدایت کے لئے جوآخری ہدایت اورآخری شریعت نازل ہوئی تھی اس سے فیضیاب ہونے کا وقت اب آگیاہے اور اب آپ اورآپ کی جماعت کے ذریعہ دنیا کی تمام اقوام کو وہ ہدایت پہنچی ہے اور پہنچتی رہے گی۔ یہاں تک کہ تمام دنیا کی قومیں دین اسلا م کو قبول کرلیں اور جیسا کہ انسان حضرت آدمm کے وقت ایک قوم تھے، اسی طرح آخری زمانہ میں بھی ایک قوم کی صورت میں ہوجائیں۔ چنانچہ اسی نظم میں جس کے شعر کے مطلب پریہ کلام ہورہاہے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایاہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۲، خزائن ج۲۱ ص۱۳۲)

  1. ملت احمد کے مالک نے جو ڈالی تھی بنا

    آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزان دیار

  2. گلشن احمد بنا ہے مسکن باد صبا

    جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتار یار

اوراس مضمون کو آپ نے (چشمہ معرفت ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)میں یوں فرمایاہے: ’’اورچونکہ آنحضرتﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتدہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس خدانے نہ چاہا کہ وحدۃ اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پردلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتاتھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کاتھا وہ اسی زمانے میں انجام کو پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جوتمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اورایک ہی مذہب پرہوجائیں زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کازمانہ ہے اوراس کی تکمیل کے لئے اس امت میں سے ایک نائب مقررکیا جومسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اس کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پرآنحضرتﷺ ہیں اور اس کے آخر پرمسیح موعودہے اور ضرورتھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا ہوئے۔ کیونکہ وحدۃ اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے۔ اس کی طرف یہ ایک اشارہ کرتی ہے۔ ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

پس آنحضرتﷺ کے ذریعہ سے تکمیل ہدایت ہوئی۔ لیکن تکمیل اشاعت کازمانہ وہ نہیں تھا۔ کیونکہ اشاعت کے اسباب اس وقت پیدانہیںکئے گئے تھے اور تکمیل اشاعت کے لئے اللہتعالیٰ کے علم میں یہی مقررتھا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی کے ذریعہ سے ہو۔ علماء متقدمین اس امر کے قائل ہیں۔ چنانچہ مولوی محمداسماعیل صاحب شہید اپنی کتاب (منصب امامت ص۵۶) میں لکھتے ہیں:’’قال اللہ تعالٰی ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ وظاہر است کہ ابتداء ظہوردین درزمان پیغمبرa بوقوع آمدہ واتمام آن ازوست حضرت مہدی واقع خواہد گردید۔‘‘

پھرفرماتے ہیں:’’قال اللہ تعالٰی قل یٰآیھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا وظاہر است کہ تبلیغ رسالت بنسبت جمیع ناس ازاں جناب متحقق نگشتہ بلکہ مرد عورت ازآنجناب شروع گرویدہ یومافیو بالواسطہ خلفاء راشدین وائمہ مہدیین اوبتزاید کشید تاازنیکہ بواسطہ امام مہدی خواہد رسید۔‘‘ (منصب امامت ص۵۶)

246

اور اسی مضمون کی طرف حضرت مسیح موعود نے شعرمذکورہ بالا میں اشارہ فرمایاہے۔

۷… ساتواں حوالہ یہ پیش کیاگیاہے:

  1. منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبٰی باشد

(تریاق القلوب ص۳، خزائن ج۱۵ ص۱۳۴)

حالانکہ اس شعرکا کسی نبی کی توہین سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ اس میں آپ نے اپنا مقام بیان فرمایاہے کہ میں مسیح بھی ہوں اور کلیم خدا بھی کہ خداتعالیٰ مجھ سے کلام کرتاہے اور بروزی طور پرمحمدواحمد بھی ہوں اورجیسا کہ اپنے دوسرے مقامات پرتشریح فرمائی کہ محمد واحمد کانام بروزی طور پر مجھے عطاء کیاگیاہے کہ میں رسول اللہﷺ کاخادم اور آپ کے قائم مقام ہوں۔ چنانچہ اس قصیدہ میں آپ فرماتے ہیں:

  1. بروے یار کہ ہر گز نہ رتبتے خواہم

    مگر اعانت اسلام مدعا باشد

  2. پناہ بیضہ اسلام آن جوان مردیست

    کہ خون بدل زپئے دین مصطفی باشد

(تریاق القلوب ص۲تا۵، خزائن ج۱۵ ص۱۳۱تا۱۳۷)

اوراس کی تائید (تریاق القلوب ص۷، خزائن ج۱۵ ص۱۴۱) کے اس مضمون سے بھی ہوتی ہے: ’’اے تمام، وہ لوگو جوزمین پررہتے ہو اورتمام وہ انسانی روحو جومشرق ومغرب میں آباد ہو۔ میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتاہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خداوہی خداہے جو قرآن نے بیان کیاہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والانبی اورجلال وتقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمدمصطفیﷺ ہیں جس کی روحانی زندگی اورپاک جلال کاہمیں یہ ثبوت ملاہے کہ اس کی پیروی اورمحبت سے ہم روح القدس اورخدا کے مکالمہ اورآسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔‘‘

۸… آٹھواں حوالہ یہ پیش کیاہے:

  1. آدمم نیز احمد مختار

    در برم جامہ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اوراس پر بھی وہی اعتراض کیا ہے جو اس سے پہلے شعر پرکیاتھا۔ سو اس کا جواب بھی بالکل وہی ہے جو حوالہ نمبر۱ میں گزرچکاہے۔ اس میں حضرت مسیح موعودفرماتے ہیںکہ میں آدم بھی ہوں اوراحمد مختارa بھی اور مجھ پر ان تمام ابرار کاجامہ ہے جوآدم سے لے کر رسول اللہﷺتک ہوئے۔ اس لحاظ سے میں آدم بھی ہوں اور موسیٰ بھی ہوں اورعیسیٰ بھی ہوں اور احمدمختارa بھی ہوں۔ کیونکہ جوجامہ علم ومعرفت کاان پر خدا کی طرف سے پہنایاگیاتھا۔ وہی خداتعالیٰ نے مجھے بھی اپنے فضل سے باتباع آنحضرتﷺ پہنایاہے۔

۹… نواں حوالہ پیش کیاہے:

  1. میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں

    نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۰۳، خزائن ج۲۱ ص۱۳۳)

اور اسی طرح انہوں نے (حقیقت الوحی ص۷۳، خزائن ج۲۲ ص۷۶ حاشیہ) میں آپ نے تحریرفرمایاہے کہ میں آدم ہوں۔ شیث ہوں۔ یعنی انبیاء کے نام مجھے دئیے گئے ہیں… پیش کیاہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اگرکسی نبی کو بہت سے نام دئیے جائیں تو اس سے

247

دوسرے انبیاء کی توہین کیسے لازم آتی ہے۔ اس میں توانبیاء کی عزت کااظہار ہے۔ کیونکہ مشبہ کومشبہ بہ کانام دیاجائے تو بالعموم مشبہ بہ میں وجہ مشبہ اقویٰ طور پرپائی جاتی ہے۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۶،۱۱۷) میں مختلف ناموںکے دئیے جانے کی وجہ تحریر فرماتے ہیں: ’’خداتعالیٰ نے میرااحمدومحمد بھی رکھا اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا کہ آنحضرتﷺ خاتم نبوت ہیں۔ ویسا ہی یہ عاجز خاتم ولایت ہے اور بعد اس کے میری نسبت براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں یہ بھی فرمایا: ’’جری ﷲ فی حلل الانبیاء‘‘ یعنی رسول خداتمام گزشتہ انبیاءؑ کے پیرایہ میں اس وحی الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کراخیرتک جس قدر انبیاءؑ خداتعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں۔ خواہ اسرائیلی ہوں یا غیر اسرائیلی، ان سب کے خاص واقعات یاخاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیاگیا ہے… اوراس میں سے یہ بھی اشارہ پایاجاتاہے کہ تمام انبیاءؑ کے جانی دشمن اورسخت مخالف جو عناد میں حد سے بڑھ گئے تھے جن کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیاگیا۔ اس زمانہ کے اکثر لوگ بھی ان سے مشابہ ہیں۔ اگر وہ توبہ نہ کریں… اورجیسا کہ پہلی امتوں میں کوئی قوم طاعون سے مری اورکوئی قوم پانی کے طوفان سے اور کوئی آندھی کے طوفان سے اورکوئی قوم خسف سے اسی طرح اس زمانہ کے لوگوں کو عذابوں سے ڈرناچاہئے۔ اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں۔ کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام مواد موجود ہیں۔ محض حکم الٰہی نے مہلت دے رکھی ہے اور یہ فقرہ کہ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ بہت تفصیل کے لائق ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۶،۱۱۷)

اسی طرح آپ نے (ص۸۸، ۸۹، ۹۰) پر ان اسماء کی وجہیں تحریر کی ہیں اور (تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱) میں یہ لکھ کر کہ خداتعالیٰ نے نبیوں کے نام سے مجھے خطاب فرمایاہے لکھاہے: ’’سوضرور ہے کہ ہرایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اورہرایک نبی کی ہر ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہورہو۔‘‘

بایزید بسطامی کے متعلق تذکرۃ الاولیاء میں لکھاہے کہ: ’’ایک نے آپ سے کہا ابراہیمm اور موسیٰؑ اورمحمدa خداکے بزرگ وبلند بندے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایاوہ سب میں ہی ہوں۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء ص۱۴۹)

چنانچہ اس طرح خواجہ غلام فرید صاحب اپنی کتاب (فوائد فریدیہ ص۴۰) میں حضرت فضیل ابن عیاض کاقول نقل فرماتے ہیں: ’’فرمودہ است انا العرش والکرسی واللوح والقلم وانا الجبرئیل والمیکائیل والعزرائیل والاسرافیل وانا موسٰی وعیسٰی ومحمد‘‘

اور(ص۴۱) میں نقل فرماتے ہیں: ’’حضرت سہل بن عبداللہ تستری فرمودہ است کہ من حجتم برملائکہ وگوسفند من حجت است برعلماء وفقہاء۔‘‘

اوراسی صفحہ پرنقل فرماتے ہیں: ’’ حضرت ابوالحسن نوری فرمودہ است نظرت یوما الی النور فلم ازل انظرالیہ حتی صرت ذالک النور‘‘

اوربھی بہت سے بزرگوں کے خواجہ صاحب نے اقوال نقل کئے ہیں۔ کیا مختارمدعیہ ان سب کو کافر ومرتد قرار دے گا۔

پس اگر کسی مشابہت کی وجہ سے حضرت مرزا صاحب کو مختلف انبیاء کے نام دئیے گئے تواس سے نہ تو کسی نبی کی توہین لازم آتی ہے اور نہ اس سے دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

248

سیدالانبیاء محمد مصطفیﷺ اور مسیح موعود

گواہان مدعیہ نے حضرت مسیح موعود پر ایک یہ الزام بھی لگایاہے کہ آپ نے حضرت رسول کریمa کی توہین کی ہے اور اپنے کوان پر فضیلت دی ہے۔ ان کاجواب ملاحظہ ہو، بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔

۱… پہلی توجہ توہین گواہان مدعیہ نے یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات قرآنیہ جس میں اللہتعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو چندمراتب اورمقامات علویہ سے مشرف فرمایاتھا۔ انہیں اپنے اوپر چسپاں کرلیا۔

اس کاجواب ملاحظہ ہو۔ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔

اورحضرت مسیح موعود نے ایسے الہاموں کے متعلق اپنی کتاب براہین احمدیہ میں جس میں کہ یہ سب الہامات درج ہیں تحریر فرمایاہے: ’’اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ امتی آں رسول مقبول کے اسماء یا صفات یامحامد میں شریک ہوسکے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پرکوئی نبی بھی آنحضرتﷺ کے کمالات قدسیہ سے شریک ومساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کوبھی اس جگہ برابری کادم مارنے کی جرأت نہ ہوئی۔ چہ جائیکہ کسی اورکوآنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالب حق ’’ارشدک اللہ‘‘ تم متوجہ ہوکر اس بات کو سنو کہ خدواند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہرہوں اور تا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم ولاجواب کرتی رہیں۔ اسی طرح پراپنی کمال حکمت اوررحمت سے یہ انتظام کررکھاہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کو جوکمال عاجزی اورتذلل سے آنحضرتﷺ کی متابعت اختیار کرتے ہیں اورخاکساری کے آستانہ پر پڑ کربالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔ خداان کو فانی اورایک مصفا شیشے کی طرح پاکر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ ظاہر کرتاہے اور جوکچھ ’’من جانب اللہ‘‘ ان کی تعریف کی جاتی ہے یاکچھ آثاروبرکات اورآیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدرکامل تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتاہے اورحقیقی اورکامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتاہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۲،۲۴۳، خزائن ج۱ ص۳۶۸،۲۶۹حاشیہ درحاشیہ)

پھرفرماتے ہیں: ’’اوران کلمات کاحاصل مطلب تلطفات اوربرکات الٰہیہ ہیں جوحضرت خیرالرسل کی متابعت کی برکت سے ہرایک کامل مؤمن کے شامل حال ہوجاتی ہیں اور حقیقی طور پرمصداق ان تمام آیات کا آنحضرتﷺ اوردوسرے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہرجگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہرایک مدح وثنا جوکسی مؤمن کے الہام میں کی جائے وہ حقیقی طور پرآنحضرتﷺ کی مدح ہوتی ہے اوروہ مؤمن بقدر اپنی متابعت کے اس مدح سے حصہ لیتاہے اور وہ بھی محض خداتعالیٰ کے لطف واحسان سے نہ کسی اپنی لیاقت وخوبی سے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص۴۸۷تا۴۸۹، خزائن ج۱ ص۵۸۰،۵۸۱)

پھرآپ کا ایک الہام ہے: ’’کل برکۃ من محمدa فتبارک من علم وتعلم‘‘ یعنی ہرایک برکت جو اس عاجز پربہ پیرایہ الہام وکشف وغیرہ نازل ہورہی ہے وہ محمدa کے طفیل اوران کے توسط سے ہے۔(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۷)

اورفرماتے ہیں:

۱… ’’رسول محمدعربی جس کوگالیاں دی گئیں… اس کے غلاموں اورخادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدامکالمہ ومخاطبہ کرتاہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۲۷۴، خزائن ج۲۲ ص۲۸۶)

249

۲… ’’میری مراد نبوت سے کثرۃ مکالمت اورمخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل کی ہے۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

۳… ’’یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پرنہیں بلکہ آسمان پرایک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمدمصطفیﷺ۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱، بحوالہ حقیقۃ النّبوۃ ص۲۶۵، انوارالعلوم ج۲ ص۵۷۵)

۴… ’’اورہم لوگ جوقرآن شریف کے پیروہیں اور ہماری شریعت کی کتاب خداتعالیٰ کی طرف سے قرآن شریف ہے۔ اس لئے ہم خداتعالیٰ سے اکثرعربی میں الہام پاتے ہیں تا وہ اس بات کا نشان ہوکہ جوکچھ ہمیں ملتاہے وہ آنحضرتﷺ کے ذریعہ ملتاہے اورہم ہرایک امر میں اس سے فیضیاب ہیں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۱۰، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸،۲۱۹)

اس سے مختار مدعیہ کاوہ اعتراض باطل ہوگیا جو اس نے ۱۲؍اکتوبر کی بحث میں کیاتھا کہ مرزا صاحب مقام نبوۃ کے مدعی ہیں وہ جس چیز کو ثابت کرتے ہیں۔ بطریق استحقاق اوربطریق منصب کے ثابت کرتے ہیں برخلاف دوسرے اولیاء کے۔ کیونکہ مندرجہ بالاحوالہ جات سے صاف ظاہرہے کہ جوکچھ آپ کوملاہے وہ بطفیل آنحضرتﷺ ملاہے۔ آپ کو بالاستقلا ل کسی کمال کے حاصل کرنے کا دعویٰ نہیں ہے۔ نیز ۱۲؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے صوفیہ کے حوالوں کے متعلق جواصولی طورپر بحث کی ہے وہ بالکل بے محل ہے۔ کیونکہ اس نے مثالوں میں یہ ظاہرکردیاہے کہ اگر کوئی ولی کہے کہ میں فلاں نبی کے مقام میں گیا یا مقام محمود میں گیا تو ان کا مطلب ان کی حسب تصریحات یہی ہوسکتاہے کہ میں ان مقامات کی دور سے زیارت کی۔ حالانکہ گواہان مدعاعلیہ نے اس قسم کی حوالہ جات پیش نہیں کئے تھے۔ بلکہ انہوں نے جس جس مدعاکے اثبات کے لئے اولیاء کے حوالے پیش کئے ہیں ان سے ان کا مدعابالکل واضح اور ثابت ہے اور مختارمدعیہ نے جوتاویل کی ہے۔ اس کو ان حوالہ جات کے مطلب سے دور کی بھی نسبت نہیں ہے۔

(۲) عینیت کادعویٰ

گواہان مدعیہ نے جو حضرت مسیح موعوپریہ الزام لگایاتھا کہ آپ نے عین محمدہونے کا دعویٰ کرکے آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے اس کا مفصل جواب گواہان مدعاعلیہ نے دے دیاتھا۔ ملاحظہ ہوبیان مطبوعہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔ ان کے جواب پر مختارمدعیہ نے یہ کہاکہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو محمد واحمدقراردے کر عینیت کادعویٰ کیاہے۔ گواہوں نے جواب دیاہے کہ یہ عینیت جسمانی نہ تھی یہ بالکل غلط جواب ہے روحیں ایک تھیں یا دو اگر یہ مطلب ہے کہ جسم دوتھے روح ایک تھی تویہ عین تناسخ ہے جوسب کے نزدیک باطل اوراگر مرزاصاحب میں دوروحیں تھیں تونبی کی کون سی روح تھی اگر مرزاصاحب کی روح تھی توپھروہی خرابی لازم آئی یعنی ختم نبوت کاانکاراوراگرآنحضرت کی روح توپھر مرزاصاحب نبی نہ ہوئے۔ (دیکھو بحث۱۲؍اکتوبر)

چونکہ گواہان مدعاعلیہ کاجواب بالکل واضح ہے اور اس جواب پرمذکورہ بالا اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔ اس لئے میں یہاں پر گواہان مدعاعلیہ کے جواب کی طرف اشارہ کردینے پرہی اکتفاء کرتاہوں۔ جوب ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ اور اس جواب میں بحوالہ (مثنوی دفترچہارم ص۱۵۰) یہ حوالہ بھی پیش کیاگیاتھا کہ: ’’بایزید چوں قطب وقت بود عین رسول اللہﷺ بود چراکہ قطب نمے باشد مگر برقطب محمدa وہرکہ قطب کسے بود عین آنکس است۔‘‘ مگرمختارمدعیہ نے اس کی طرف ذرا بھی التفات نہیںکیا اور اس پر اعتراض کردیا کہ بایزید بسطامی کیسے رسول اللہﷺ کے عین ہوگئے تھے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود نے کہیں بھی اپنے لئے عین محمدa کے الفاظ نہیں فرمائے۔بلکہ

250

آپ نے تصریح فرمائی ہے کہ مجھے بروزی طور پر محمدواحمدکانام دیاگیاہے اور میرے اوران کے درمیان شاگرد واستاد کی نسبت ہے اور ظل اوراصل کی ہے۔ آنحضرتﷺ استاد ہیں اور اصل ہیں اورحضرت مسیح موعود آپ کے شاگرد اورظل ہیں اورامام ربانی بھی (مکتوبات ج۱، ص۲۶۶، مکتوب نمبر۴۸) میں فرماتے ہیں کہ: ’’انبیاءؑ کے حامل متبع بہ سبب کمال متابعت انہی میں جذب ہوجاتے ہیں اوران کے رنگ میں ایسے رنگین ہوتے ہیں کہ تابع ومتبوع یعنی نبی اورامتی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ سوائے اوّل اورآخر ہونے کے اور اصل اورظل کے۔‘‘

اورحضرت مسیح موعود نے صاف فرمادیاہے: ’’آنحضرتﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیاجو خلق اورہمت اورہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمدومحمد اس کو عطاء کیاتا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہوربعینہٖ آنحضرتﷺ کا ظہور تھا۔‘‘(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱،خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)

پس حضرت مسیح موعود نے حقیقی طور پر وہ محمدa ہونے کا جوآج سے چودہ سوبرس قبل تشریف لائے تھے ہرگز دعویٰ نہیں کیا۔

(۳) حقیقی خاتم

مختارمدعیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں بحوالہ ضمیمہ خطبہ الہامیہ ایک یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے متعلق کہا ہے کہ میں حقیقی خاتم ہوں اور رسول مقبول کو بھی قرآن مجید میں خاتم النّبیین کہاگیاہے۔ حقیقت کے مقابل میں مجاز ہوتاہے تو گویاآنحضرتﷺ مجازی خاتم النّبیین ٹھہرے یہ صریح کفراورتوہین ہے۔

جواب: مختارمدعیہ کا یہ ایک صریح مغالطہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے کہیں بھی اپنے آپ کو حقیقی خاتم النّبیین نہیں کہااورنہ آنحضرتﷺ کو مجازی خاتم النّبیین کہاہے جس عبارت پرمختارمدعیہ نے اعتراض کی ہے اس میں اس کی تردید موجود ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:’’ختمت النبوۃعلٰی نبیناa فلا نبی بعدہ الاالذی نوربنورہ وجعل وارثہ من حضرت الکبریاء واعلموا ان الختمیۃ اعطیت من الازل لمحمدa ثم اعطیت لمن علمہ روحہ وجعلہ ظلہ فتبارک من علم وتعلم فان الختمیۃ الحقیقیۃ کانت مقدرۃ فی الالف السادس الذی ھویوم سادس من ایام الرحمان لیشابہ اباالبشر من کان ھو خاتم نوع الانسان‘‘

’’یعنی آنحضرتﷺ پرنبوت ختم ہوگئی۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ مگر وہی جو آپ کے نور سے منورکیاجائے اورجناب الٰہی سے آپ کا وارث بنایاجائے۔ یاد رکھو کہ ازل سے محمدa کو ختمیت عطاء کی گئی۔ پھر اس شخص کوعطاء کی گئی جس کو اس کی روح نے سکھایااوراسے اپنا ظل بنایا۔پس بابرکت ہے وہ جس نے سکھایا اور جس نے سیکھا۔ پس حقیقی ختمیت چھٹے ہزار میں مقدر تھی جوخداکے دنوں سے چھٹا دن ہے تااس سے حضرت ابوالبشرآدم کی بھی اس شخصیت سے مشابہت پائی جائے جو نوع انسان کا خاتم ہے۔‘‘(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰)

یہ عبارت خود بتارہی ہے کہ آنحضرتﷺ حقیقی خاتم النّبیین ہیں۔ کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ مگر وہی جو آپ کے نور سے منور ہو۔ پس جوشخص نبوت کا مقام آنحضرت کی اتباع کی برکت سے پائے گا تو وہ حقیقی خاتم النّبیین کیسے ہوسکتاہے۔ دوسرے حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کاشاگرد اوروارث بتایاہے۔ پس جوآپ کو جو ختمیت حاصل ہوئی ہے تو وہ بطور وراثت کے ہے اورنیز آپ نے اپنی بعثت کوبروزی طور پر آنحضرتﷺ کی بعثت قراردیاہے۔ جیسا کہ (اقتباس الانوار ص۵۲) میں بھی لکھاہے: ’’محمدبود کہ

251

آدم درمبدٔ ظہور نمود یعنی بطور بروز درابتداء عالم روحانیت محمد مصطفی درآدم متجلی شد وہم اوباشد کہ درآخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی درخاتم الولایت کہ مہدی است یز روحانیت محمد مصطفی بروز وظہور خواہد کرد وتصرفہاخواہد نمود۔‘‘ (ایام الصلح ص۱۳۸،خزائن ج۱۴ ص۳۸۳)

اورجوختمیت آپ کو عطاء کی گئی ہے وہ بلحاظ ولایت کے ہے اور آنحضرت کو ختمیت بلحاظ نبوت کے ہے۔ چنانچہ شیخ محی الدین العربی فرماتے ہیں: ’’فکل نبی من لدن اٰدم الی اٰخر نبی مامنھم احد یأخذ الامن مشکاۃ خاتم النّبیین وان تأخر وجود طینتہ فانہ بحقیقۃ موجود وھوقولہ کنت نبیاً واٰدم بین الماء والطین وغیرہ من الانبیاء ماکان نبیاً الاحین بعث وکذالک خاتم الاولیاء کان ولیا وآدم بین الماء والطین وغیرہ من الاولیاء ماکان ولیا الابعد تحصیلہ شرائط الولایۃ من الاخلاق الالھیۃ فی التصاف بھا من کون اللہ یسمی بالولی لحمید فانہ الولی الرسول النّبی وخاتم الاولیاء الولی الوارث الاخذ عن الاصل المشاہد للمراتب وھو حسنۃ من حسنات خاتم الرسل محمدa‘‘ (فصوص الحکم ص۳۰)

’’یعنی آدم سے لے کرآخری نبی تک انہیں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو خاتم الانبیاء کے طاق دان سے نور نہ لیتاہو۔اگرچہ آنحضرت کا وجود عنصری متاخر ہو۔لیکن وہ اپنی حقیقت کے ساتھ موجود تھے اور یہ امر خاتم الانبیاء کے اس قول سے ثابت ہے کہ میں اس وقت نبی تھا۔ جب کہ آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے اورآنحضرت کے سوا دوسرے انبیاء میں سے کوئی نبی نہیں تھا۔ مگر جس وقت کہ وہ مبعوث ہوئے اور اسی طرح خاتم الاولیاء اس وقت ولی تھے۔ جب کہ آدم پانی اورکیچڑ کے درمیان تھے اوراس کے سوا اولیاء میں ولی نہیں ہوا۔ مگر جس وقت کہ اس نے ولایت کی شرائط اخلاق الٰہی کو ولایت سے متصف ہوکر حاصل کرلیا اوریہ شرائط ولایت کی بہ سبب اللہتعالیٰ کانام ولی حمید ہونے کے ہے۔ پس خاتم الرسل کی نسبت باعتبار ان کی ولایت کے خاتم الاولیاء کی طرف ایسی ہی ہے۔ جیسے انبیاء اوررسولوں کی نسبت اس کی طرف۔ پس تحقیق وہ ولی اور رسول اورنبی تھے اورخاتم الاولیاء ولی اور وارث اورلینے والااصل معدن سے اور مشاہدہ کرنے والامراتب کاہے اور وہ خاتم الاولیاء خاتم الرسل محمدa کے درجات حسنات میں سے ایک درجہ حسنہ کا مظہرہے۔‘‘

پس باوجودیکہ ختمیت حقیقہ حضرت مسیح موعود کے لئے خاتم ولایت ہونے کے لحاظ سے لی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن ختم نبوت کے لحاظ سے حقیقی ختمیت آنحضرتﷺ کو بالاستقلال حاصل ہے اورحضرت مسیح موعود کو جو ختمیت حاصل ہوئی ہے تو وہ آنحضرتﷺکی اتباع میں ہوئی ہے اور بطور وراثت کے۔ چنانچہ ختمیت کے لحاظ سے آپ کا دعویٰ خاتم الاولیاء ہونے کا ہے۔ چنانچہ آپ خطبہ الہامیہ میں بھی جس کا مختارمدعیہ نے حوالہ دیاہے۔

فرماتے ہیں: ’’میں ولایت کے سلسلے کوختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سید آنحضرتﷺ نبوت کے سلسلہ کوختم کرنے والے تھے اوروہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں۔ مگر وہ جومجھ سے ہوگا اورمیرے عہد پرہوگا۔‘‘(خطبہ الہامیہ ص۳۸،خزائن ج۱۶ ص۶۹، ۷۰)

اورفرماتے ہیں: ’’براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خداتعالیٰ نے میرا نام احمد اور محمدبھی رکھا اوریہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسا کہ آنحضرتﷺ خاتم نبوۃ ہیں۔ ویسا ہی یہ عاجز خاتم ولایت ہے۔‘‘(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۹، خزائن ج۲۱ ص۱۱۶)

پس مختارمدعیہ کایہ قول کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو حقیقی خاتم النّبیین اورآنحضرتﷺ کومجازی قراردیاہے، محض بہتان ہے۔

252

(۴) معجزات کی تعداد

مختارمدعیہ نے تحفہ گولڑویہ کے حوالے کی بناء پر ایک یہ بھی اعتراض کیاہے کہ مرزا صاحب نے اپنے معجزات تین لاکھ بیان کئے ہیں اور آنحضرتﷺ کے تین ہزار اس کا مفصل جواب گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں دے دیاہے۔ اس لئے اب اس کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔

اصل بات یہ ہے کہ مختارمدعیہ کو اس امر سے غلط فہمی ہوئی ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے کلام سے کہ نشان بھی خرق عادت ہے اور معجزہ بھی خرق عادت ہے دونوں کو ایک سمجھ لیاہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود نے جہاں نشان کو خرق عادات قراردیاہے وہیں نسان کی تقسیم بھی بیان کی ہے۔ جس سے بیّن طورپر معجزہ اور نشان میں فرق ظاہر ہوجاتاہے۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر معجزہ نشان ہوتاہے۔ لیکن ہرنشان کوکسی کامعجزہ نہیں قراردیاجاسکتا۔ مثلاً حضرت مسیح نے بعض لوگوں کو آپ کی صداقت کے متعلق خوابیں یاآنحضرتﷺ کی پیش گوئیوں کا اس زمانہ کے متعلق ظاہر ہونا اپنے نشانات میں سے شمار کیا ہے۔ لیکن ان کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ آپ کے معجزات ہیں۔

پس جہاں نشانات کاذکرکیاہے وہاں آنحضرت کے نشانوں یا معجزات کا قطعاً ذکرنہیں کیا۔ ورنہ آنحضرتﷺ کے ویسے نشانات کا توکوئی شمار ہی نہیں ہوسکتا اورتحفہ گولڑویہ میں جہاں مقابلہ میں آنحضرت کے معجزات کاذکرکیاہے، وہاں اپنی پیش گوئیاں سو۱۰۰ کے قریب بتائی ہیں اور آنحضرتﷺ کے تین ہزار معجزات اوریہ بھی فریق مخالف کے مسلمات کی بناء پرکہاہے۔ ورنہ حضرت مسیح موعود کا مذہب یہی ہے کہ آپ کے معجزات قیامت تک ظہور میں آتے رہیں گے اورگواہان مدعاعلیہ حضرت مسیح موعود کے اقوال سے ثابت کرچکے ہیں کہ آپ کی تائید میں جوظاہر ہوتاہے وہ بھی آنحضرتﷺ کے معجزات ہیں اور آپ کو مکالمہ ومخاطبہ کاشرف بھی آنحضرتﷺ کے فیض سے ملاہے۔

(۵) حضرت مسیح موعود کا نبی ہونا

مختارمدعیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں ایک یہ بھی اعتراض کیاہے کہ بہت سی عبارات میں مرزاصاحب نے لکھاہے کہ عیسیٰؑ کاتشریف لانا آنحضرتﷺ کی ہتک ہے اور اسلام کی بربادی ہے۔ (ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۳۹۳) اوراپنے آپ کو ان سے بڑا قراردے کر نبی مانا ہے اور یہ صریح توہین آنحضرتﷺ کی ہوئی۔ کیونکہ جب مسیح جیسے گھٹیل کم درجہ نبی کاآنااسلام کی بربادی اورآنحضرت کی ہتک ہے تو بہت بڑے نبی کے آنے کی وجہ سے تو اسلام کی بربادی اور آنحضرتﷺ کی توہین زیادہ ہوئی ہے۔

جواب: مختارمدعیہ کا یہ ایک مغالطہ ہے یاحضرت مسیح موعود کی تحاریر سے ناواقفیت کاثبوت ہے۔ کیونکہ آپ نے مسیحؑ کے آنے کو جوفساد عظیم قراردیاہے تواس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ آئیں تو یا وحی نبوت یعنی نبوۃ مستقلہ کا دروازہ جوبلاواسطہ اتباع آنحضرتﷺ ہے، کھلاماننا پڑے گا یا ان کا مسلوب النّبوۃ ہوکر آنا تسلیم کرنا پڑے گا۔ چنانچہ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۳۹۳) کی عبارت جس کا مختارمدعیہ نے حوالہ دیاہے یہ ہے: ’’اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النّبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے۔ اس سے تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہوجائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خداتعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوۃ سے الگ کرکے اورمحض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔ ‘‘

اور (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷) میں فرماتے ہیں: ’’صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہکہلاتاہے، وہ کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اورامتی ہوجانا نصوص قرآنیہ اورحدیثیہ کی رو سے بھی ممتنع ہے۔‘‘

پس حضرت عیسیٰؑ امتی ہوہی نہیں سکتے۔ کیونکہ امتی کا مفہوم یہ ہے کہ جوبغیر اتباع آنحضرتﷺ اوربغیر اتباع قرآن شریف

253

محض ناقص اورگمراہ بے دین ہو۔ پھرآنحضرتﷺ کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اورکمال نصیب ہو اور یہ خیال حضرت عیسیٰؑ کی نسبت کرنا کفرہے۔ کیونکہ وہ ایک مستقل نبی تھے اورخداتعالیٰ نے ان پر تجلی فرمائی تھی۔ یہ ہرگزنہیں ہوسکتا کہ آنحضرتﷺ کی پیروی اورآنحضرت کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے۔

لیکن ایک امتی کاآنحضرتﷺ کی اتباع اورآپ میں فنا ہوکر نبوت کے مرتبہ کاحاصل کرنا نہ قرآن مجید کے مخالف ہے اور نہ احادیث کے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’سواگر یہ کہاجائے کہ آنحضرتﷺ تو خاتم النّبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اورنبی کس طرح آسکتاہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے توکوئی نبی نیا ہویاپرانا، نبی نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوۃ کا جاری رہنا اورزمانہ آنحضرت سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بے شک ایسا عقیدہ معصیت ہے اور آیت: ’’ولکن رسول اللہوخاتم النّبیین‘‘ اورحدیث: ’’لانبی بعدی‘‘ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادۃ ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پرسچا اورکامل ایمان رکھتے ہیں۔ جوفرمایا: ’’ولکن رسول اللہوخاتم النّبیین‘‘ اور اس آیت میں ایک پیش گوئی ہے جس کی ہمارے مخالفون کو خبر نہیں اوروہ یہ ہے کہ اللہتعالیٰ اس آیت میں فرماتاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعدپیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کردئیے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندویاعیسائی یاکوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کرسکے۔ نبوۃ کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں۔ مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی ’’فنافی الرسول‘‘ کی۔ پس جوشخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتاہے، اس پر عملی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کانبی ہونا حیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتاہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔‘‘ (ایک غلطی کاازالہ ص۱،۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷،۲۰۸)

پس مستقل نبی کے آنے سے جس کی نبوۃ آنحضرتﷺ کی اتباع کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس سے فساد عظیم لازم آتاہے نہ کہ جس قسم کی نبوۃ کا حضرت مسیح موعود نے دعویٰ کیاہے۔

اورجو حوالہ مختارمدعیہ نے اخبارالحکم کا پیش کیاہے کہ پہلے انبیاء تو آنحضرتﷺ کے خاص خاص صفات میں ظل تھے اوراب ہم تمام صفات میں نبی کریمa کے ظل ہیں۔ یہ ڈائری ہے۔ اوّل تو ضروری نہیں کہ حضرت مسیح موعود کے من وعن الفاظ ڈائری نویس نے نقل کئے ہوں۔ لیکن بصورت تسلیم اس میں بھی آنحضرتﷺ کی کوئی توہین نہیں اور نہ دوسرے نبیوں کی توہین ہے۔ کیونکہ ان کی نبوت بالاصالہ اوربالاستقلال تھی۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایاہے: ’’پس میں اپنے مخالفوں کو یقینا کہتاہوں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہرگز نہیں ہیں۔ گو وہ بلکہ تمام انبیاء آنحضرتﷺ کی سچائی پر ایمان رکھتے تھے۔ مگر وہ ان نہایتوں کے پیرو تھے جوان پر نازل ہوئی تھیں اور براہ راست خدا نے ان پرتجلی فرمائی تھی۔ یہ ہرگز نہیں تھا۔ آنحضرتﷺ کی پیروی اورآنحضرتﷺ کی روحانی تعلیم سے وہ نبی بنے تھے تا وہ امتی کہلاتے۔‘‘(براہین حصہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)

پس پہلے انبیاء کا آنحضرتﷺ کے خاص خاص صفات میں ظل ہونے سے یہ مراد یہ ہے کہ ان میں صفتیں بالاستقلال وبالاصلاۃ پائی گئی تھیں۔ وہ تمام کی تمام آنحضرتﷺ میں اکمل طور پر پائی گئیں۔ پس اس کمال کو مدنظر رکھتے ہوئے جو آنحضرتﷺ کو ہر اس صفت میں جس سے پہلے نبی متصف ہوئے حاصل تھا۔ ان کے لئے ظل کالفظ استعمال فرمایاہے۔ گویا اصل میں ان تمام صفات کے مستحق توآنحضرتﷺ ہی ہیں۔ لیکن آپ کو جو صفات حاصل ہوئیں وہ بالواسطہ نہ تھیں۔ بلکہ مستقل اوربلاواسطہ تھیں اورحضرت مسیح موعود کوجوکچھ بھی حاصل ہوا وہ بالواسطہ تھا نہ بالاستقلال۔ اس لئے یہاں تفاضل کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

254

چنانچہ آپ اسی عبارت میں فرماتے ہیں: ’’کمالات متفرقہ جوتمام دیگر انبیاء میںپائے جاتے تھے۔ وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پرہم کو عطاء کئے گئے اور پھر مولانا روم کا یہ شعر پیش کیاہے:

  1. نام احمد نام جملہ انبیاء ست

    چوں بیامد صد نودہم پیش ماست

اورظلی طور پر جوکمالات امت محمدیہ کو حاصل ہوئے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے شیخ محی الدین ابن عربی، سید عبدالقادرجیلانی کا ایک قول نقل فرماتے ہیں:’’یامحشرالانبیاء اوتیتم اللقب واوتینا مالم تؤتوا‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ص۱۰۰)

یعنی انہوں نے فرمایا کہ اے انبیاء کے گروہ تمہیں تو نبوت کا لقب دیاگیا اور ہمیں وہ کچھ دیاگیا جو تمہیں نہیں دیاگیا۔

اسی طرح سید محمدبن نصیر الدین جعفری المکی الحسینی خلیفہ حضرت چراغ دہلوی بحر المعانی ص۱۶ میں فرماتے ہیں: ’’اے محبوب اگر موسیٰؑ کہ مظہر ذات اوست درآئینہ محمدیa رب ارنی ہرگز خبربہ لن ترانی نخور دے۔ اماچوں بیرون آئینہ اونظر است لامحالہ خبر بہ لن ترانی خورد وآنکہ اے محبوب موسیٰؑ اگر درعہد حضرت نبیa بودے چوں محال اوبدیدے۔ گویا کہ جمال حضرت جل وعلادیدے وتسکین یافتے کہ من رانی فقدرای ربی زہے بیچارگی کہ درذات موسیٰ شد بعد از خبر بہ لن ترانی درآئینہ محمدیa از حضرت احدی جل جلالہ روشن کرد بعدہ تمنا برد وبگفت کہ: ’’اللّٰہم اجعلنی من امتہ محمدa وآلہ واصحابہ واحبابہ وسلم‘‘

پس آنحضرتﷺ کی اتباع سے وہ کمالات حاصل ہوتے ہیں جو پہلوں کو حاصل نہ ہوئے تھے۔

اسی طرح (ص۳۳) میں لکھاہے:’’امام مجاہد میگوید کہ بالائے عرش ہفتاد حجاب از نوروظلمت است چوں موسیٰ ازیں خبر یافت سلوک آغاز میکردن۔ وے شنید کہ یاموسیٰ ہٰذالمقام ومنزل مخصوص بمحمد وامتہ۔‘‘

حیات مسیح

مختارمدعیہ نے ایک الزام حضرت مسیح موعود پریہ لگایا ہے کہ آپ نے آنحضرتﷺ کو شرک کی طرف منسوب کیا۔ کیونکہ آپ نے (استفتاء ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰) میں حیات مسیح کے عقیدہ کوشرک قراردیا اورآنحضرتﷺ کا عقیدہ حیات مسیح کاحدیث:’’ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم(ابن کثیر)‘‘ سے ثابت ہے۔ لہٰذا مرزاصاحب نے آنحضرتﷺ کو مشرک قراردے کر آپ کی توہین کی۔

جواب: آنحضرتﷺ نے کبھی عقیدہ کااظہار نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰؑ بجسدہ العنصری زندہ موجود ہیں۔ بلکہ آپ کے اقوال سے واضح طور پر معلوم ہواہے کہ آپ وفات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’ایھا الناس بلغنی انکم تخافون من موت نبیکم ھل خلد نبی قبلی فیمن بعث فاخلد فیکم‘‘ (لباب الخیار فی سیرۃ المختار ص۹۴) اے لوگو! مجھے یہ بات معلوم ہے کہ تم اپنے نبی کی موت سے ڈرتے ہو۔ کیا مجھ سے پہلے کوئی نبی زندہ باقی رہا ہے جو میں تم میں رہوں گا۔‘‘

اسی طرح بخاری کی حدیث میں آیاہے کہ آپ نے فرمایا کہ: ’’حشر کے دن جب میرے بعض صحابہ پکڑ کرلے جائے جائیں گے اور میںکہوں گا کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں تو مجھے جواب دیاجائے گا کہ جب سے توان سے علیحدہ ہوا۔ اس وقت سے یہ مرتد ہوگئے تھے۔ اس پر آپ فرماتے ہیں:فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیھم شہیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم(کتاب التفسیر بخاری ج۳ ص۸۶) کہ میں بھی وہی بات کہوں گا جو حضرت عیسیٰؑ نے کہی کہ میں بھی اپنی قوم کا نگران اورمحافظ تھا جب تک کہ میں ان میں تھا۔ مگر جب تونے مجھے وفات دے دی تو پھر توہی ان کا رقیب اور نگران تھا۔ پس اس حدیث سے صاف

255

طور پر ظاہر ہوتاہے کہ جیسے آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد صحابہ میں ارتداد واقع ہوا۔ ویسے ہی حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے بعد عیسائیوں نے مسیح کو خدا بنایا۔ اسی طرح بخاری میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے آنے والے مسیح کو گندم گوں رنگ اور سیدھے بالوں والابیان فرمایا ہے اور مسیح اسرائیلی کا حلیہ گھنگھروالے بال اورسرخ رنگ کاذکر فرمایا اور یہ دونوں حلیے بتارہے ہیں کہ پہلا مسیح جس کو آنحضرتﷺ نے معراج کی رات عیسیٰؑ کے ساتھ یعنی وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا وہ اور ہے اور وہ وفات پاکر وفات یافتہ انبیاء میں شامل ہوگیاہے اور جو آنے والاہے وہ اور ہے اورپھر بخاری میں ہے کہ آنحضرتﷺ کی وفات پر جب حضرت ابوبکرq نے آیت: ’’وما محمد الارسول قد خلت من قبلہ الرسل افأن مات اوقتل انقلبتم علٰی اعقابکم‘‘ پڑھی تو سب نے اس دلیل کی بناء پر کہ تمام انبیاء وفات پاچکے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی وفات کو تسلیم کرلیا۔

پس مختارمدعیہ کا ان احادیث کی موجوگی میں یہ کہنا کہ آنحضرتﷺ حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے بالکل غلط ہے اور جو روایت تفسیر ابن کثیر سے مختارمدعیہ نے پیش کی ہے۔ وہ بوجہ ضعیف اورمجروح ہونے کے مذکورہ بالا مرفوع متصل احادیث کے مقابلہ میں قابل قبول نہیں ہے اور نہ ہی کسی صحابی سے مروی ہے۔ بلکہ تابعی کی روایت ہے اور ظاہر ہے کہ تابعی تو اسے کہتے ہیں جو آنحضرتﷺ سے نہ ملاہو۔ اس لئے یہ حدیث مرسل ہوگئی اورجب اس کے راویوں پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی نہایت درجہ کے ضعیف راوی ہیں۔ چنانچہ اس کا ایک راوی احمد بن عبدالرحمن بن وھب ابوعبداللہ المصری ہے اور اس کے متعلق ابن عدی نے کہاہے: ’’رایت شیوخ مصر مجمعین علی ضعفہ والخرباء لایمتعون عن الاخذ ابوذرعۃوابوحاتم ممن دونھا (میزان الاعتدال)‘‘ یعنی میں نے مصر کے تمام مشائخ یعنی علماء کو متفق پایا کہ وہ ضعیف راوی ہے اور اجنبی لوگ جس سے ابوزرعہ اورابوحاتم اس سے روایت لینے سے رکتے نہیں اور ظاہرہے کہ وہ مصری ہے اورمصر کے علماء کی رائے اس کے حق میں صحیح ہوسکتی ہے۔ کیونکہ مصر سے باہر کے رہنے والوں کو اس کے حالات کاحقیقی علم نہیں ہوسکتا۔

دوسرا راوی عبداللہ بن ابی جعفر الرازی ہے۔ اس کے متعلق محمدبن حمید الرازی نے کہاہے: ’’سمعت منہ عشرۃ الاف حدیث فرمیت بھاکان فاسقا (میزان الاعتدال)‘‘

یعنی میں نے اس سے دس ہزار حدیث سنی اورسب کو میں نے پھینک دیا اور وہ فاسق تھا اور ابوزرعہ اورابوحاتم نے اسے سچا کہاہے لیکن اس کے حق میں بھی محمدبن الرازی کی شہاد ت قابل قبول ہے۔ کیونکہ وہ اس کا ہم وطن ہے اوراس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے۔

تیسراراوی عیسیٰ بن ابی عیسیٰ یاماں ابوجعفر الرازی ہے۔ اس کے متعلق مختلف آراء ہیں۔ بعض نے اس کو ثقہ قراردیاہے۔ لیکن احمد اورنسائی نے کہا ہے کہ وہ قوی نہیں۔ ’’وقال الفلاس نسئی الحفظ‘‘ یعنی فلاس نے کہا ہے کہ اس کا حافظہ اچھا نہیں اور ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ مشہور لوگوں سے سن کر حدیثیں بیان کرنے میں منفرد ہے اور ابوزرعہ نے کہا ہے کہ وہ کثیر الوہم ہے اور جانناچاہئے کہ عمروبن علی الفاس یحییٰ بن سعید قطان کاشاگرد ہے۔ جیسا کہ ابن معین بھی انہی کا شاگرد ہے۔

اورچوتھا راوی ربیع بن انس ہے۔ اس کے متعلق ابن معین نے کہاہے:’’کان یتشیع فیفرط فیہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال الناس یتقون من حدیثہ کان من روایۃ ابی جعفر عنہ لان فی احادیثہ عنہ اضطراباً کثیراً‘‘ (تہذیب التہذیب)

یعنی وہ تشیع میں افراط کا پہلو اختیار کرتاتھاابن حبان نے اس کا ذکر ثقات میں کیا ہے اور کہا ہے کہ لوگ اس کی اس حدیث کے لینے سے پرہیز کرتے ہیں جو ابوجعفر نے اس سے روایت کی ہے۔ کیونکہ اس کی ان احادیث میں جو اس نے ربیع سے روایت کی ہے۔ بہت اضطراب ہے۔

256

اورآخری راوی حسن بصری ہے اس کے متعلق ’’اکمال فی اسماء الرجال‘‘ میں صاحب المشکوٰۃ نے بھی لکھا ہے کہ وہ حضرت عمرq کی خلافت کے آخری دوسال میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ پس انہوں نے آنحضرتﷺ کودیکھاتک نہیں اوروہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے یہ بات یہود سے کہی کہ عیسیٰؑ مرے نہیں۔ پس لازماً یہ حدیث مرسل ہوئی اور ایسی حدیث کا حکم بھی اپنے پاس نہیں بلکہ دیوبندیوں کے مقتداء اور پیشواء کی کتاب ہدیۃ الشیعہ سے پیش کرتاہوں۔

آپ فرماتے ہیں: ’’اورسنیوں کے نزدیک گوحضرت زید اکابر اولیاء میں سے ہوں۔ لیکن تاہم آدمی ہیں جب تک مستند نہ ہو۔ کیونکر معلوم ہوکہ انہوں نے جس سے یہ بات لی ہے وہ معتبر ہے کہ نہیں۔ صحابہ کی ملاقات میںتو احتمال ہے۔ باقی رہے تابعین سوان میں جھوٹے، سچے، نیک وبد سب طرح کے ہیں اور اگر بالفرض کسی معمرصحابی سے ان کی ملاقات ہوئی ہوتو بھی کیا لازم ہے کہ وہ صحابی اس وقت حاضر ہی تھے یاان کو کسی دوسرے صحابی سے یہ بات پہنچی تھی اور پھر حضرت زید نے بھی انہیں سے سناہو۔ احتمال ہے کہ جس صحابی سے ان کی ملاقات ہوئی ہو، ان کو یہ بات معلوم نہ ہو اور اگر معلوم بھی ہوتو انہوں نے ان سے نہ سنا ہو بلکہ کسی تابعی سے سناہو۔ بلکہ زبان زد عوام ایک بات دیکھ کر اس کے موافق نقل کردیا ہو یابطور تسلیم قول معترض یہ بات فرمائی ہو۔ بہرحال احتمالات چنددرچند قادح اعتبار روایت موجود ہیں۔ پھر بایں ہمہ احتمالات کوئی کیونکر اس روایت کو دربارہ دعویٰ ہبر فدک قبول کرے۔ خصوصاً درصورت یہ کہ آیت اورروایت صحیحہ متصل بلکہ مرفوع اعنی روایت مشکوٰۃ اس کے مخالف موجود ہو۔‘‘

(ہدیۃ الشیعہ ص۲۳۱) میں وضاحت کے لئے یہ عبارت بہ تبدیلی الفاظ یوں لکھے دیتاہوں کہ پھر بایں ہمہ احتمالات مذکورہ کوئی کیوں کر مختارمدعیہ کی اس روایت کو دربارہ عقیدہ حیات مسیح قبول کرے۔ خصوصاً درصورت یہ کہ آیت:’’فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم‘‘ اور آیت: ’’ما محمد الارسول قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ اور روایت صحیحہ متصل بلکہ مرفوع اعنی روایت بخاری اس کے مخالف موجود ہے۔

اور نیز (البراہین القاطعہ ص۸۲) میں مولوی خلیل احمد صاحب دیوبندی لکھتے ہیں: ’’اب اس حدیث شیخین کے مقابلہ میں ضعیف روایت کہ قابل احتجاج ہی ہرگز نہیں کس طرح درست ہوگی۔‘‘

اورمختارمدعیہ کا یہ اعتراض اس وقت درست ہوسکتاتھا کہ اگرآپ کا یہ عقیدہ ہوتا کہ آنحضرتﷺ بھی مسیحؑ کو آسمان پر بجسدہ عنصری زندہ مانتے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود کی تمام کتابیں اس بات سے مملو ہیں کہ: ’’آنحضرتﷺ حضرت مسیح کووفات یافتہ سمجھے ہیں اور یہی عقیدہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔‘‘

رہی یہ بات کہ حضرت مسیح موعود نے حیات مسیح کے عقیدہ کو شرک عظیم قراردیاہے تواس کا جواب گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں بالتفصیل دے دیاہے اور بتادیا ہے کہ عربی زبان میں کسی چیز کو اس کی مستقبل کی حالت کو مدنظر رکھ کر جو نتیجتاً اس سے پیدا ہوتی ہے۔ نام دے دیاجاتاہے۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ’’تسمیۃ باسم مایؤول الیہ نحو انی ارانی اعصر خمراً ای عنبا یؤول الی الخمریۃ ولایلدو ا الافاجرا کفارا ای صائرا الٰی الکفر والفجور‘‘ (اتقان ج۲ ص۴۵)

کہ کسی چیز کو وہ نام دے دینا جو اس کا آئندہ ایک نئی حالت کے ماتحت نام ہوتاتھا۔ جیسے قرآن مجید میں آتاہے کہ قیدی نے دیکھا کہ میں شراب کو نچوڑتاہوں تو مراد شراب سے انگور ہیں، جن سے شراب بنتی ہے اور اسی طرح قوم نوح کے متعلق فرمایا کہ وہ نہیں جنیں گے مگر فاسق اورکافر لوگ یعنی وہ بچے جوکافر اور فاجر ہوں گے۔ پس چونکہ حیات مسیح کا عقیدہ منجرالی الشرک تھا اورلاکھوں مسلمان اس عقیدہ

257

کی وجہ سے عیسائی ہوگئے تھے۔ اس لئے آپ نے اس حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو شرک عظیم قراردے دیا اوراردو کی تصانیف میں اس امر کی تصریح کردی کہ یہ عقیدہ منجرالی الشرک ہے یا یہ عقیدہ شرک کا حامی ہے۔

اورگواہان مدعاعلیہ نے یہ بھی واضح کردیاتھا کہ بعض وقت عربی زبان میں کسی فعل کے لئے شرک یاکفر کا لفظ استعمال کیا جاتاہے۔ مگر اس کے مرتکب کوکافر اور مشرک نہیں کہاجاتا۔ لیکن مختارمدعیہ نے ان احادیث کو بالکل نظرانداز کرکے وہی اعتراض دوبارہ کردیا ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان کو منوانے کے لئے اس کے مقتدائوں کے اقوال پیش کئے جاویں۔ چنانچہ مولوی رشید احمدصاحب گنگوہی، مولانامحمداسماعیل صاحب شہید کی ایک عبارت نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’جواب مولانامحمداسماعیل صاحب نہایت صحیح ہے کہ افعال شرکیہ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ شرک محض ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ لوگ ان کو کرتے ہیں اور تاویل ہوسکتی ہے۔ پس پہلی قسم سجدہ بت کوکرنا، زنار ڈالنا ان امور سے مشرک ہوجاتاہے اور دوسری قسم میں افعال سے کبیرہ گناہ ہوتاہے۔ خروج عن الاسلام نہیں ہوتا۔ کیونکہ بعض شرک اصل شرک ہے اوربعض کم کہ شرک دون شرک کہتے ہیں تو دوسرے درجہ کے شرک حقیقتاً شرک نہیں۔ مثلاً قسم بغیراللہ کو شرک فرمایا اور ریا کو شرک فرمایا اورتسمیہ بغیر اللہ کو شرک فرمایا۔ پران کے کرنے سے مشرک حقیقی نہیں ہوتا۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم!

رشید احمد گنگوہی عفی عنہ

(فتاویٰ رشیدیہ حصہ سوم ص۵)

اوریہی جواب گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بجواب جرح دیاتھا جس کو مختارمدعیہ نے صحیح تسلیم نہ کرتے ہوئے پھر وہی اعتراض کردیا۔

اورمیں اس جواب کو واضح کرنے کے لئے ایک اور مثال حدیث سے پیش کردیتاہوں۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں: ’’بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلٰوۃ‘‘ (صحیح مسلم برحاشیہ اکمال اکمال المعلم ج۱ ص۱۸۸)

’’یعنی آدمی کے درمیان اورشرک اورکفر کے درمیان نماز کا چھوڑدینا ہے۔‘‘

یعنی اگر نماز چھوڑے گا تووہ کفر اورشرک میں داخل ہوگا۔ لیکن تارک نماز کوگواہان مدعیہ کا فر اور مشرک نہیں کہتے۔ جیسا کہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بجواب جرح یہ کہا ہے کہ تارک نماز کو کافر اورمشرک نہیں کہا جاوے گا۔ پس جیسے ترک نما زکو اس حدیث میں شرک اورکفر تو کہاگیاہے۔ لیکن اس کے تارک پر گواہان مدعیہ کافر اورشرک کے احکام نافذ نہیں کرتے اور نہ اسے کافر اورمشرک سمجھتے ہیں اورشارحین نے اس کا ایک جواب یہ بھی دیاہے کہ نماز چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آخرکارانسان حقیقتاً کافر بن جاتاہے۔ اس لئے ترک نما زکوکفر قراردیاگیا۔ پس بعینہٖ اسی طرح حیات مسیح کا عقیدہ چونکہ منجر الی الشرک ہوجاتاہے۔ جیسا کہ ہزاروں مسلمانوں کے عیسائی ہونے سے ظاہر ہے۔ اس لئے اسے شرک کانام دیاگیااورحضرت مسیح موعود نے ان پہلے لوگوں کوجنہوں نے اجتہادی غلطی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک معذور قراردیاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’مجھ سے پہلے جو علماء اپنی اجتہادی غلطی سے ایسا خیال کرتے رہے کہ ابن مریم آسمان سے آئے گا۔ وہ خدا کے نزدیک معذور ہیں۔ ان کو برا نہیں کہنا چاہئے۔ ان کی نیتوں میں فساد نہیں تھا۔ بوجہ بشریت بھول گئے۔ خداان کو معاف کرے۔ کیونکہ ان کو علم نہیں دیاگیاتھا اور ان کی اجتہادی غلطی ایسی تھی۔ جیسے دائودm نے غنم القوم کے مسئلہ میں اجتہادی غلطی کی تھی۔ مگر اس کے بیٹے سلیمان کوخدانے فہم عطاء کردیاتھا۔‘‘(دافع البلاء ص۱۶، خزائن ج۱۸ ص۲۳۶)

اورحضرت مسیح موعود نے جوحیات مسیح کا عقیدہ رکھا تو وہ رسمی عقیدہ تھا جو مسلمانوں میں چلاآتاتھا۔

لیکن جب خداتعالیٰ نے آپ پر ظاہر کردیا کہ حضرت عیسیٰؑ وفات پاگئے ہیں تو آپ نے لوگوں میں ان کی وفات کا اعلان کردیا اور قرآن اورحدیث کی رو سے ان کی وفات کے مسئلہ کوالم نشرح کردیا۔

258

حضرت موسیٰؑ

گواہ مدعیہ نمبرالف نے (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۷۷) کے حوالہ سے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھاہے کہ موسیٰ کی دودھ اورشہد کی نہروں کے ملنے کی پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ لہٰذا مرزا صاحب حضرت موسیٰ کی توہین کے بھی مرتکب ہوئے۔

جواب: حضرت مسیح موعود نے تتمہ حقیقت الوحی میں نہیں بلکہ (حقیقت الوحی ص۱۷۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۱۸۳) میں یہ لکھاہے کہ: ’’حضرت موسیٰ کی توریت میں یہ پیش گوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں، لے جائیں گے۔ مگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ حضرت موسیٰ بھی راہ میں فوت ہوئے اور بنی اسرائیل بھی راہ میںہی مرگئے۔ صرف اولاد ان کی وہاں گئی۔‘‘

حضرت مسیح موعود نے جس امر کااظہار اس عبارت میں کیا تھا وہ ایک امر واقع ہے جس کاانکار نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود کا یہ قطعاً منشا نہیں کہ وہ وعدہ کبھی بھی پوار نہیں ہوا۔ بلکہ آپ نے اسی عبارت میں واضح کردیا کہ ان کی اولاد وہاں داخل ہوئی۔ یعنی وہ وعدہ جوبنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے کیاگیا تھا وہ ان کی اولاد کے ذریعہ پورا ہوا۔ چنانچہ آپ نے ایک اور مقام پر اس امر کو وضاحت سے لکھاہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھناچاہئے کہ خداتعالیٰ کے وعدے جو اس کے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی نسبت ہوتے ہیں۔ کبھی تو بلاواسطہ پورے ہوتے ہیں اور کبھی بالواسطہ ان کی تکمیل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم کو بھی جو نصرت اورفتح کے وعدہ دئیے گئے تھے وہ ان کی زندگی میں پورے نہیں ہوئے۔ بلکہ ایک دوسرے نبی کے ذریعہ سے جو تمام نبیوں کا سردار ہے یعنی سیدنا وامامنا حضرت محمدمصطفی خاتم الرسل کے ظہور سے پورے ہوئے اور اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو جوکنعان کی فتح کی بشارتیں دی گئی تھیں۔ بلکہ صاف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیاگیا تھا کہ تواپنی قوم کو کنعان میں لے جائے گا اور کنعان کی سرسبز زمین کا تو انہیں مالک کردے گا۔ یہ وعدہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں پورا نہ ہوسکا اور وہ راہ میں ہی فوت ہوگئے۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیش گوئی غلط نکلی جو اب تک تورات میں موجود ہے۔ کیونکہ موسیٰ کی وفات کے بعد موسوی قوت اورموسوی روح اس کے شاگرد یوشع کوعطاء ہوئی اور وہ خداتعالیٰ کے حکم اوراس کے نفخ روح سے موسیٰ میں ہوکر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام بجالایا جو موسیٰ کاکام تھا۔ سوخداتعالیٰ کے نزدیک وہ موسیٰ ہی تھا۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۱۶،۴۱۷، خزائن ج۳ ص۳۱۷)

اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نفس پیش گوئی کے پورے ہونے کو مانتے ہیں۔ لیکن موسیٰ کی بجائے آپ کے خلیفہ یوشع نبی کے ذریعہ پوری ہوئی۔ اسی طرح حدیث میں آتاہے کہ آنحضرتﷺ نے دیکھا کہ کسریٰ وقیصر کے خزائن کی کنجیاں آپ کے ہاتھ میں رکھی گئیں۔ مگر وہ آپ کے ہاتھ کے بجائے حضرت عمر کے ہاتھ میں آئیں اوروہ خزائن کی کنجیوں والی پیش گوئی آنحضرت کے خلفاء کے ذریعہ ظہور میں آئی۔

259

حضرت عیسیٰؑ

گواہان مدعیہ نے جوالزامات حضرت مسیح موعود پر حضرت عیسیٰ کی توہین ثابت کرنے کے لئے لگائے تھے ان کا مفصل جواب گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں دے دیاہے۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲،۳۔ لیکن اب میں ان نئی باتوں کا جواب دیتا ہوں جومختارمدعیہ نے بحث میں پیش کی ہیں۔

(۱) مسیحؑ کی پیش گوئیاں

۱۲؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے حضرت عیسیٰؑ کی توہین ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود پریہ الزام لگایاہے کہ مرزا صاحب نے (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶) میں لکھاہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیش گوئیاں جس قدر جھوٹی نکلیں اس قدر سچی نہیں نکلیں اور(کشتی نوح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۵) میں لکھاہے کہ قرآن شریف بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں بھی یہ موجودہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح نے بھی انجیل میں خبردی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جاویں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے نزدیک حضرت عیسیٰ نبی نہیں اور صریح توہین ہے۔

جواب: مختارمدعیہ کاازالہ کی عبارت میں سے ایک فقرہ لے کر اعتراض کردینا۔ اس کے لئے یہ قطعاً مناسب نہ تھا کہ وہ ایک فقرہ کو لے کر اعتراض کرے اور اس کے ساتھ کی عبارت کو جس سے یہ اعتراض بالکل باطل ہوجاتاہے ترک کردے۔ چنانچہ اب میں اس کے بعد کی عبارت لکھتاہوں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں۔ کیونکہ اموراخباریہ کشفیہ میں اجہتادی غلطی انبیاء سے بھی ہوجاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی بعض پیش گوئیاں ہی اسی صورت پرظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پرحضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی۔ غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔ مگر یہ غلطی نفس الہام میں نہیں۔ بلکہ سمجھ اوراجتہاد کی غلطی ہے۔ چونکہ انسان تھے اور انسان کی رائے خطاء اورصواب دونوں کی طرف جاسکتی ہے۔ اس لئے اجتہادی طور پر یہ لغزشیں پیش آگئیں۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۸،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۶)

اوراجتہادی غلطی کاانبیاء سے ہونا تمام علماء امت کومسلم ہے۔ چنانچہ انبیاء کو اجتہادی غلطی لگ جانے کے متعلق پہلے حوالے پیش کئے جاچکے ہیں۔

دوم: مختارمدعیہ نے علاوہ حوالہ مذکورہ کے ایک حوالہ اعجاز احمدی کا بھی پیش کیاہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیش گوئیاں صاف طو پر جھوٹی نکلیں۔ حالانکہ یہ بھی مختارمدعیہ کا مغالطہ ہے۔ کیونکہ (اعجاز احمدی ص۴، خزائن ج۱۹ ص۱۱۰) پرحضرت مسیح موعود نے لکھاہے: ’’حال میں ایک یہودی کی تالیف شائع ہوئی ہے جو میرے پاس اس وقت موجود ہے۔ گویا وہ محمد بن ثناء اللہ کی تالیف ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ اس شخص یعنی عیسیٰ سے ایک معجزہ بھی ظہور میں نہیںآیا اورنہ کوئی پیش گوئی اس کی سچی نکلی۔ وہ کہتا تھا کہ دائود کا تخت مجھے ملے گا کہاں ملا۔ (اس کے آگے بہت سے مثالیں ذکر کی ہیں)‘‘

ہاں! حضرت مسیح موعود نے ان کو بھی اجتہادی غلطی ٹھہرایاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’اوربعض کا یہ خیال ہے کہ اگر کسی الہام کے سمجھنے میں غلطی ہوجائے تو امان اٹھ جاتاہے اور شک پڑجاتاہے کہ شاید اس نبی یا رسول یا محدث نے اپنے دعویٰ میں دھوکہ کھایاہے۔ یہ خیال سراسر مغالطہ ہے اورجو لوگ نیم سودائی ہوتے ہیں، وہ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں اور اگران کا یہی اعتقاد ہے تو تمام نبیوں کی نبوت

260

سے ان کو ہاتھ دھوبیٹھنا چاہئے۔ کیونکہ کوئی نبی نہیں۔ جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجہتاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔ مثلاً حضرت مسیح جوخدابنائے گئے ان کی اکثرپیش گوئیاں غلطی سے پر ہیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲۴، خزائن ج۱۹ ص۱۳۲،۱۳۳)

اور (اعجاز احمدی ص۲۵،خزائن ج۱۶ ص۱۳۴) پرفرماتے ہیں: ’’ایک شریر یہودی اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ ایک مرتبہ ایک بیگانہ عورت پر آپ عاشق ہوگئے تھے۔ لیکن جوبات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔ آپ خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جوآپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔ ہاں! آپ نے اجتہادی غلطی سے دائود کے تخت کی تمنا کی تھی مگر وہ تمنا پوری نہ ہوئی اورمطابق مثل مشہور کہ بن مانگے موتی ملیں، مانگے ملے نہ بھیک۔ آپ تو دائود کے تخت سے محروم رہے۔ مگر وہ برگزیدہ خدا سید الرسل جس نے دنیا کی بادشاہت سے منہ پھیر کر کہاتھا۔ الفقر فخری یعنی فقرپر میرا فخرہے۔ اس کو خدانے بادشاہت دے دی۔‘‘

اور اسی صفحہ پر فرماتے ہیں: ’’غرض حضرت مسیح کااجتہاد غلط نکلا۔ اصل وحی صحیح ہوگی مگر سمجھنے میں غلطی کھائی۔ افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔ شاید خدا ئی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی۔ مگر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان غلط اجتہادوں اوران غلط پیش گوئیوں کی وجہ سے ان کی پیغمبری مشتبہ ہوگئی ہے۔ ہرگز نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جس یقین کو نبی کے دل میں اس کی نبوت کے بارہ میں بٹھایاجاتاہے۔ وہ آفتاب کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور اس قدر تواتر سے جمع ہوتے ہیں کہ وہ امر بدیہی ہوجاتاہے اورپھر بعض دوسری جزئیات میں اگر اجتہاد کی غلطی ہوبھی تو وہ اس یقین کو مضر نہیں ہوتی۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۵،۲۶،خزائن ج۱۹،ص۱۳۵)

پس اعجاز احمدی میں جوکلام مسیح کی پیش گوئیوں کے متعلق کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو اسی جگہ ایک تو ان لوگوں کو جواب دینا مقصود ہے۔ جو کہتے ہیں کہ انبیاء اجتہادی غلطی نہیں کھاتے۔ دوسرے عیسائی جوان کو خدا بناتے ہیں۔ ان کی بھی تردید کئے جاتے ہیں۔ مختارمدعیہ تو اعجاز احمدی کی عبارت سے یہ ثابت کرناچاہتاہے کہ حضرت مسیح موعود، حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کو باطل ثابت کرتے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود ان کی نبوت ثابت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان سے جواجتہادی غلطیاں صادر ہوئیں۔ اس وجہ سے ان کی نبوت مشتبہ نہیں ہوسکتی اور (اعجاز احمدی ص۸، خزائن ج۱۹ ص۱۱۵) میں اصولی طور پر فرماتے ہیں: ’’انبیاء اورملہمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اپنے اجتہاد کے کذب اورخلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ کہ خدا کاکلام۔‘‘

پس حضرت مسیح کی جوپیش گوئیاں غلط نکلیں وہ درحقیقت ان کے اجتہادات تھے۔ اس لئے ان کو پورانہ ہونے سے ان کی نبوت مشتبہ نہیں ہوتی اورنہ مختارمدعیہ کا اعتراض درست ہوسکتاہے۔

(۲) صداقت حضرت عیسیٰؑ

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پر ایک یہ بھی الزام لگایاہے کہ آپ نے حضرت عیسیٰؑ کی اس وجہ سے بھی توہین کی آپ نے اپنی کتاب (اعجاز احمدی ص۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱) پرلکھاہے کہ ہم نے انہیں قرآن مجید کے سہارے مان لیاہے۔ اگر ایک شخص حضرت مسیح یادیگر انبیاء کو قرآن مجید کے اقوال کی بناپرصادق تسلیم کرتاہے تو نہ معلوم اس میں ان انبیاء کی توہین کیسے لازم آسکتی ہے۔ یہ مختارمدعیہ کاانوکھی طرز کا استدلال ہے۔ حضرت مسیح موعود یہود کے ان اعتراض کومدنظر رکھ کرجوانجیل کی بناپرانہوں نے کہے فرماتے ہیں: ’’اوریہود توحضرت عیسیٰ کے معاملہ میں اوران کی پیش گوئیوں کے بارہ میں ایسے قوی اعترض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰؑ نبی ہیں۔ کیونکہ قرآن نے ان کو نبی قراردیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پرقائم نہیں ہوسکتی، بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پرہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہم ان پر ایمان لائے کہ وہ سچے نبی ہیں

261

اور برگزیدہ ہیں اوران تہمتوں سے معصوم ہیں جو ان پر اوراس کی ماں پرلگائی گئی ہیں۔‘‘ (اعجازاحمدی ص۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰)

مختارمدعیہ کو یہ نہایت گراں گزراہے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ قرآن کااحسان مسیح پرکیوں جتایا۔ حالانکہ حقیقت یہی تھی کہ قرآن مجید کے نزول کے وقت حضرت عیسیٰؑ سے تعلق رکھنے والی دو قومیں تھیں۔ ایک یہود اور دوسرے نصاریٰ۔ یہود تو نعوذباللہ! انہیں ملعون اورشیطان وغیرہ القاب سے یاد کرتے تھے اوردوسرے عیسائی ان کے ماننے والے، وہ ان کو خدااورخدا کا بیٹا قراردیتے تھے۔ پس اگر ان کی نبوت کسی چیز نے منوائی تو وہ قران مجید ہی تھا اورکوئی چیز نہ تھی اوریہی حقیقت ہے جس کو ہرعاقل وفرزانہ تسلیم کرتاہے۔ چنانچہ مولوی آل حسن صاحب جن کو گواہ مدعیہ نمبر۱،۱۲؍اگست کو مسلمان تسلیم کرچکاہے اور گواہ مدعیہ نمبر۳، ۲۹؍اگست کوان کی کتاب استفتاء کی تصدیق کرچکاہے۔ لکھتے ہیں: ’’ازانجملہ اگلے سب انبیاء نے بنی اسرائیل پرایمان لانے کی بسبب فقدان اسناد اورثبوت، تحریف کی کوئی سبیل باقی نہیں رہی۔ بجز تصدیق حضرت خاتم النّبیین کے۔‘‘(بازالۃ الاوہام باستفسارص۳۷۹)

مولوی آل حسن نے تو صرف حضرت عیسیٰ کی نبوت میں نہیں، بلکہ تمام انبیائے بنی اسرائیل کی نبوت کے ثبوت کا دارومدار آنحضرتﷺ کی تصدیق کوقراردیا۔ پس کیا مختارمدعیہ ان کے متعلق بھی یہی فتویٰ دے گا کہ انہوں نے تمام انبیائے بنی اسرائیل کی توہین کی ہے۔ اس لئے وہ کافر ومرتدہیں۔

(۳) حضرت مسیحؑ اور شراب کااستعمال

گواہان مدعیہ نے (کشتی نوح حاشیہ ص۶۵، خزائن ج۱۹ ص۷۱) کی عبارت سے یہ استدلال کیاتھا کہ مرزاصاحب نے اس میں یہ اقرارکیا ہے کہ مسیح شراب پیاکرتے تھے اوراس سے صریح توہین حضرت عیسیٰؑ کی لازم آتی ہے۔ گواہان مدعاعلیہ نے جو اس کا تفصیلی جواب دیاتھا۔ مختارمدعیہ نے اس کی طرف توجہ کئے بغیرپھروہی اعتراض کردیاہے۔ بات بالکل صاف تھی۔ (کشتی نوح ص۱۶،خزائن ج۱۹،ص۱۷،۱۸) میں آپ نے صریح طور پر لکھاہے کہ: ’’میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتاہوں کیونکہ میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفا ہوں۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔ موسیٰؑ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اورمحمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں۔ سو میں اس کی عزت کرتاہوں۔ جس کاہم نام ہوںاورمردود اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتاہے کہ مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔‘‘ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ جس کتاب میں یہ عبارت موجود ہے۔ اس میں کوئی بات ان کی ہتک اورتوہین کی نہیں ہوسکتی اورجس عبارت پراعتراض ہے وہ انجیل اورقرآنی تعلیم کامقابلہ کرتے ہوئے لکھی گئی ہے اور ظاہرہے کہ انجیل کے پیرو عیسائی لوگ ہیں نہ کہ مسلمان۔ پس فی الحقیقت یہ کلام عیسائی مسلمات پرکہاگیاہے۔ جیسا کہ چشمۂ معرفت کی عبارت ذیل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

’’کیاقرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ شراب پی لیا کرو یایہ حکم ہے کہ بجز اپنی قوم کے دوسروں سے سود لے لیاکرو اور کیا عیسائیوں کے عقیدہ کی طرح قرآن شریف بھی حضرت عیسیٰؑ کوخداتعالیٰ کا بیٹا قراردیتاہے یاشراب پینے کا فتویٰ دیتاہے یایہ تعلیم دیتاہے کہ بہرحال بدی کا مقابلہ نہ کرو۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۵۸، خزائن ج۲۳ ص۲۷۰)

اورعیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح کا شراب پینابالکل ثابت ہے۔ چنانچہ دیوبندیوں کے مسلم مقتداء مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی بھی فرماتے ہیں: ’’جناب مسیح اقرارمے فرمایند کہ یحییٰm نہ نان مے خورند ونہ شراب مے آشامیدند وآنجناب شراب بہم مے نوشیدند۔‘‘ (ازالۃ الاوہام ص۳۷۰)

پس یہ کلام جوکہ عیسائیوں کے مسلمات پرہے۔ اس لئے اس پرکوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا اورصرف یہی نہیں بلکہ اس پرتوگواہان ومختاران مدعیہ کے مسلمات کی بناء پربھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ (شرح فقہ اکبر علامہ ملّا علی قاری ص۱۷۰) میں لکھاہے کہ پہلے انبیاء کی

262

شریعتوں میں شراب حرام نہ تھی۔ صرف امت محمدیہ کے لئے حرام کی گئی اور (صحیح مسلم ج۲ ص۲۱۶) میں لکھا ہے: ’’کان رسول اللہﷺ یحب موافقۃ اھل الکتاب فیمالم یؤمربہ‘‘ (نیزدیکھو بخاری ج۲ص۲۲۷)

یعنی آنحضرتﷺ جس امر کے بارے میں کوئی حکم نازل نہ ہواہو، اس میں اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اورصحیح بخاری میں ہے کہ تحریم خمرسے پہلے صحابہ شراب پیاکرتے تھے اور چنانچہ حضرت انسq سے روایت ہے: ’’قال کنت اسقی اباعبیدۃ واباطلحۃ وابی بن کعب من فضیخ زھروتمرفجاء ھم آیت فقال ان الخمر قدحرمت فقال ابوطلحۃ قم یاانس فاھرقھا‘‘ (بخاری ج۳ص۲۱۴)

یعنی انسq نے کہا کہ میں ابوعبیدہ اورابوطلحہ اورابی بن کعب کو شراب پلارہاتھا توایک شخص آیا اور اس نے کہ شراب حرام ہوگئی ہے تو ابوطلحہ نے کہا کہ اے انس! اٹھو اور اس کوزمین پر ڈھلکادو، تو میں نے اسے زمین پرپھینک دیا۔ پس جب کہ گواہان مدعیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت شراب حرام ہی نہیں کی گئی تھی توپھرحضرت مسیح موعود کے قول پر اعتراض کیسا اور اس سے توہین مسیح کا الزام دینا کیسا۔ مختاران مدعیہ کوچاہئے تھا کہ پہلے وہ گواہان مدعاعلیہ کے جواب کو توڑتے اورپھر نئے اعتراض کرتے۔ مگر ان اعتراضات سے معلوم ہوتاہے کہ گویاانہوں نے گواہان مدعاعلیہ کے جوابات کو سمجھاہی نہیں ہے اورباقی جواب ملاحظہ ہو۔ بیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔

(۴) دافع البلاء کا حوالہ

دافع البلاء کے حوالہ کا جو مدلل جواب گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں دیاتھا۔ مختار مدعیہ نے اسے بالکل نظرانداز کرتے ہوئے پھروہی اعتراض کردیاہے جوکہ گواہان مدعیہ نے کیاتھا اورضمنی طور پر ایک دونئے اعتراض بھی کئے ہیں۔ اس لئے پہلے میں نئے اعتراض کا جواب دیتاہوں۔

پہلااعتراض

مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں۔ (دافع البلاء ٹائٹل۲، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹) گویا کہ وہ آپ کے نزدیک نبی نہیں ہیں۔ صرف راست باز ہیں اور راست باز توکافروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

جواب: یہ مختارمدعیہ کی خوش فہمی ہے کہ وہ راست باز کے لفظ سے یہ شبہ نکالیں کہ گویا حضرت مسیح موعود کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ نبی نہیں ہیں۔ لیکن کوئی عقل مند شخص اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالے گا۔ جب کہ اس عبارت پرجوحاشیہ لکھاگیاہے۔ اس میں یہ صاف طور پرلکھاہے: ’’ظاہرہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اور قوموںسے ان کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جولم نقصص میں داخل ہیں وہ ان سے بہتر اورافضل ہوںگے۔‘‘ (دافع البلاء ٹائٹل۲حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹)

حضرت اقدس نے حضرت مسیحؑ کا انبیاء کے ساتھ مقابلہ کرکے بتادیاکہ وہ بھی نبی تھے۔ ورنہ نبی تو غیرنبی سے بہرصورت افضل ہوتاہے اورحضرت مسیح موعود کی دوسری تحریرات میں کثرت سے حضرت مسیح کونبی اور رسول کہاگیاہے۔ پس کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتاہے کہ مختارمدعیہ کا اعتراض دیانت وامانت اورراست گوئی پرمبنی ہے۔ استغفراللہ اور اگر راست باز کہنے سے نبوت کی نفی ہوجاتی ہے تو اللہتعالیٰ نے قرآن شریف میں ان کے حق میںجوایک جگہ’’وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ ومن المقربین‘‘ بیان فرمایاہے۔ یعنی وہ خداتعالیٰ کے مقربوں میں سے ایک مقرب ہیں تو اس سے مختار مدعیہ کے طرز پرلازم آئے گا کہ حضرت مسیح صرف خدا کے مقرب تھے نا کہ نبی بھی اوراس آیت میں ان کو نبی نہیں بلکہ مقرب کہاہے اور ہرمقرب کے لئے نبی ہوناضروری نہیں۔ خدا کے ایسے بے شمار بندے ہوتے ہیں جو

263

مقرب الٰہی تو سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن نبی نہیں سمجھے جاتے۔ غرض مختارمدعیہ کے استدلال کی بناء پرتو یہ آیت پڑھ کربھی کوئی کہہ دے گا کہ دیکھو اس آیت میں اللہتعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کی عدم نبوت کا اثبات کیاہے۔

اورپھر دوسری آیت میں کہا: ’’یکلم الناس فی المہد وکہلا ومن الصالحین‘‘ یعنی وہ من جملہ دیگر صالحوں کے ایک صالح تھے توکیا مختارمدعیہ یہ تسلیم کرے گا۔ چونکہ اس آیت میں صرف صالح کہاگیاہے۔ اس لئے خدانے حضرت مسیح کے نبی ہونے سے انکار کردیاہے اورکیا مختارمدعیہ اس موقع پربھی کہے گا کہ صالح توکفار میں سے بھی ہوتے ہیں۔ پس اس آیت میں حضرت مسیح کی نبوت ورسالت کاانکار کیاگیاہے۔

دوسرااعتراض

مرزا صاحب نے لکھاہے کہ ہم مسیح ابن مریم کوبے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانے کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھاتھا۔ واللہ اعلم! (دافع البلاء ٹائٹل۲، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹)

واللہ اعلم کہنے کے یہ معنی ہیں کہ بے شک کالفظ بھی جھوٹ کہا اور ’’اچھاتھا‘‘ بھی جھوٹ کہا۔

جواب: ان شاء اللہ کہنے کی طرح مختارمدعیہ نے اپنے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود کی کلام میں ’’واللہاعلم‘‘ کہنے سے یہ مراد لی ہے کہ جوکلام پہلے کہاگیاہے وہ جھوٹ ہے۔ حالانکہ واللہاعلم کے قول سے پہلے کلام کو جھوٹا قراردینا ہرگز مقصود نہیں ہوتا۔ بلکہ اس سے پہلے کلام کے متعلق یہ جتانا مقصود ہوتاہے کہ زیادہ سے زیادہ جوہم سمجھ سکتے ہیں وہ یہ ہے۔ آگے اس سے زیادہ کوئی اوربات ہو یااس کے خلاف ہو تو وہ خدا ہی بہترجانتاہے۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والاہے۔ اس بیان سے اچھی طرح ظاہرہے اورہرشخص آسانی سے سمجھ سکتاہے۔ واللہاعلم کہنے کا بھی وہ مطلب نہیں جو مختارمدعیہ نے ظاہر کیاہے۔ بلکہ واللہ اعلم کہنے کا وہ مطلب ہے جو ہم نے بیان کیاہے۔ لیکن مختارمدعیہ کو مطمئن کردینے کی نیت سے اتنا اور کہہ دینا بھی بے محل نہ ہوگا کہ اگر مختارمدعیہ کا مسلک درست ہے۔ پھر تمام وہ فتوے جن کے آخر میں واللہاعلم لکھاہوتاہے۔ جھوٹے قرارپائیں گے اور ماننا پڑے گا کہ ان مفتیوں نے جنہوں نے اپنے فتوے کے آخر میں واللہ اعلم بالصواب لکھاہے (اوریہ علی العموم لکھاجاتاہے) دیدہ ودانستہ جھوٹا فتویٰ دیاہے اور اس لحاظ سے توگویا واللہ اعلم بالصواب کا جملہ جھوٹے فتوئوں کی شناخت کا ایک آلہ بن جائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ اس طرح نہ تومولوی اشرف علی صاحب تھانوی کا کوئی فتویٰ درست رہے گا اور نہ مولوی خلیل احمدصاحب کانہ مفتی عزیز الرحمن صاحب کااور نہ مفتی حبیب الرحمن صاحب کا اورنہ ہی ان سب کے پیرومرشد مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کا۔ کیونکہ کسی فتویٰ کے آخر میں لکھاہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم اور کسی کے آخر میں واللہ اعلم بالصواب، واللہ مرجع المآب!

تیسرااعتراض

مرزا صاحب حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: ’’یاد رہے کہ یہ جوہم نے کہاہے کہ حضرت عیسیٰ اپنے زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے۔ ورنہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں خداتعالیٰ کی زمین پربعض راست باز اپنی راست بازی اورتعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ سے بھی افضل اوراعلیٰ ہوں۔‘‘ (دافع البلاء ٹائٹل ۲حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹)

فقط ’’ورنہ‘‘ پہلے کلام کے خلاف آتاہے۔ ماقبل اور مابعد دونوں نقیض ہونے چاہئیں یہ اعجازی کلام ہے چاہئے تھا کہ اس میں پہلے کی تردید ہوتی۔ لیکن یہاں بات ایک ہی ہے۔ کیونکہ پہلی عبارت میں زمانہ کے بہت لوگوں کی نسبت اچھاکیا اور ’’ورنہ‘‘ کے بعد بھی بعض کی

264

راست بازی کوزیادہ ثابت کیاہے۔ اس لئے دونوں کلاموں میں کوئی فرق نہیں۔ پس ادبی لحاظ سے یہاں ’’ورنہ‘‘ کااستعمال بالکل غلط ہے۔

جواب: مختارمدعیہ نے یہ اعتراض ایسے طورپرکیاکہ گویا یہ بھی آنجناب کے نزدیک حضرت مسیح موعود کے کفر کی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ انہوں نے ’’ورنہ ‘‘ کا غلط استعمال کیا۔ جس سے اردو زبان کی توہین ہوگئی اور اردوزبان چونکہ علمائے دیوبند کی زبان ہے۔لہٰذا ان کی توہین ہوئی اور علماء کی توہین سے۔ چونکہ نعوذباللہ! آنحضرتﷺ کی توہین ہوئی۔ لہٰذا مرزاصاحب کاکفر ثابت اورمرزا صاحب کافر۔ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان اپنی آنکھوں پر تعصب کی عینک لگا کر کسی کے کلام کر پڑھے تواس کی حقیقت نظر نہیں آیاکرتی۔بلکہ وہ ایک سچی اورواقعی بات کو بھی قابل اعتراض سمجھا کرتاہے۔ جیسا کہ مختارمدعیہ کے حال سے ظاہرہوا۔ ورنہ لفظ ’’ورنہ‘‘ جوحضرت مسیح موعود کے کلام میں استعمال ہواہے۔ بجائے خود بالکل درست استعمال ہواہے اور اس کو بے محل بتانا بے علمی کانشان ہے۔ کیونکہ ’’ورنہ‘‘ کاماسبق اورمالحق مفہوم کے لحاظ سے ایک نہیں بلکہ ان دونوں میں فرق ہے۔ ماسبق سے تو یہ مفہوم نکلتاہے کہ جب حضرت مسیحؑ بہت سے لوگوں کی نسبت اچھے تھے تو باقی بعض سے درجہ میں برابر ہوں گے اور وہ باقی بعض حضرت مسیح سے افضل نہ ہوں گے اورچونکہ ظاہریہ کرنا تھا کہ بعض کاان سے بہتر ہونا بھی ممکن ہے اور یہ مفہوم پہلے مفہوم کے خلاف تھا۔ اس لئے لفظ ’’ورنہ‘‘ لاکرعبارت مالحق میں یہ مفہوم ظاہرکرنے کے لئے لکھاگیاہے کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں خداتعالیٰ کی زمین پربعض راست باز اپنی راست بازی اورتعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ سے بھی افضل اوراعلیٰ ہوں۔

مختارمدعیہ سے توتوقع نہیں۔ لیکن ہرغیرمتعصب اورفہیم انسان دیکھ سکتاہے کہ ’’ورنہ‘‘ کے ماسبق اورمالحق کا مفہوم ایک ہی ہے یادونوں کے مفہوم میں عظیم الشان فرق موجودہے اور اس امر کا ثبوت کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں بعض راست بازوں کاتعلق باللہ میں افضل ہوناممکن ہے۔ حضرت اقدس نے اسی موقع پر پیش کردیااور وہ یہ ہے: ’’کیونکہ اللہتعالیٰ نے فرمایاہے: ’’وجیہا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ اس زمانہ کے مقربوں میں سے یہ بھی ایک تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ سب سے بڑھ کرتھے، بلکہ اس بات کا امکان نکلتاہے کہ بعض مقرب ان کے زمانہ کے ان سے بہتر تھے۔ ظاہرہے کہ وہ صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آئے تھے اور دوسرے ملکوں اورقوموں سے ان کو کچھ تعلق نہ تھا۔ پس ممکن بلکہ قریب قیاس ہے کہ بعض انبیاء جو لم نقصص میں داخل ہیں وہ ان سے بہتر اورافضل ہوںگے۔‘‘ (دافع البلاء ٹائٹل۲حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹)

چوتھا اعتراض

مختارمدعیہ نے چوتھا اعتراض یہ کیاہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے گواہان مدعیہ کے اعتراض کے جواب میں جویہ کہاہے کہ مرزا صاحب نے حضرت یحییٰ کی فضیلت پر ’’حصور‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے جویہ کہاہے: ’’کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘ (دافع البلاء ٹائٹل۲حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

یہ عیسائیوں کوجواب دیاہے یاان مسلمانوں کوجومسیح کو تمام نبیوں سے افضل مانتے ہیں یہ غلط ہے۔ کیونکہ نہ تو مسلمان حضرت مسیح کو تمام نبیوں سے افضل مانتے ہیں اورنہ عیسائی قرآن مجید کو صحیح مانتے ہیں جو ان پر قرآن مجید سے استدلال کرنا درست ہو۔ اس لئے یہ مرزا صاحب کی اپنی تحقیق ہے اور وہ ان قصوں کو جومسیح کی طرف منسوب کئے گئے، صحیح خیال کرتے ہیں اور یہ صریح حضرت عیسیٰ کی توہین ہے۔

جواب: کتاب دافع البلاء جس سے یہ حوالہ پیش کیاگیاہے اس میں جابجا عیسائیوں کو خطاب کیاگیاہے۔ چنانچہ (ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) پرلکھا ہے: ’’اوربالآخر یاد رہے کہ اگر تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اورآریوں کے پنڈت اورعیسائیوں کے پادری داخل ہیں چپ رہے توثابت ہوجائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں۔‘‘اور (ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۴) پر لکھتے ہیں: ’’اورعیسائیوں کے خیالات کے اظہار کے لئے ابھی ایک پادری وائٹ بریخٹ صاحب اور ان کی انجمن کی طرف سے اشتہار نکلاہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دور کرنے

265

کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدامان لیں اور ان کے کفارہ پر ایمان لے آئیں۔‘‘

اورجن آخری دواوراق میں سے اعتراض پیش کیاگیاہے اس کے شروع میں لکھاہے: ’’سردست ہماری ہمدردی کا قدریہی ہوگا کہ پھر دوبارہ اسلام کے مولویوں اور عیسائی مذہب کے پادریوں اور ہندو مذہب کے پنڈتوں سے گالیاں سنیں۔‘‘

اس سے بھی ظاہر ہے کہ عیسائیوں کو اس میں خطاب کیاگیاہے پھر جس حاشیہ کی عبارت بطور اعتراض پیش کی گئی ہے۔ وہ جس عبارت کی توضیح کے لئے لکھاگیاہے وہ یہ ہے ’’بہرحال اس مقابلہ کے وقت معلوم ہوگا کہ ان تمام مذاہب میں کون سا ایسا مذہب ہے جس کا شفاعت کرنا اورمنجی کے بزرگ لفظ کا مصداق ہونا ثابت ہوسکتاہے۔ سچے منجی کو ہرایک چاہتاہے اور اس سے محبت کرتاہے پس بلا شبہ اب دن آگئے ہیں کہ ثابت ہوکہ سچا منجی کون ہے ہم مسیح ابن مریم کو بے شک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں اوراپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھاتھا۔ واللہاعلم! مگر وہ حقیقی منجی نہیں تھا۔ یہ اس پر تہمت ہے کہ وہ حقیقی منجی تھا۔ حقیقی منجی ہمیشہ سے اور قیامت تک نجات کاپھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہواتھا اور تمام دنیا اورتمام زمانوں کی نجات کے لئے آیاتھا۔ (دافع البلاء ٹائٹل، خزائن ج۱۸ ص۲۱۸،۲۲۰)

اب بتائو کہ کیا اس عبارت سے ظاہرنہیں کہ آخری کلام کے مخاطب عیسائی لوگ ہیں اور ان کے اس عقیدہ کی کہ حقیقی منجی مسیح ہے۔ تردید کی جارہی ہے اور لفظ ’’اکثر‘‘ پر اس حاشیہ کی نشانی ہے جس کی عبارت پر مختار مدعیہ اور گواہان مدعیہ نے اعتراض کیا۔ پھر یہیں تک قصہ ختم نہیں ہو جاتا۔ بلکہ اس عبارت کے مالحق میں بھی عیسائیوں کا ذکرہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’جن لوگوں نے اس کو خدابنایا ہے جیسے عیسائی یاوہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات اس کو دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اورخدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کواوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھادیں یا عرش پربٹھادیں یاخدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قراردیں ان کو اختیارہے۔‘‘(دافع البلاء ٹائٹل۲حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۱۹)

اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ عبارت عیسائیوں سے متعلق ہے جومسیح کو خدامانتے ہیں اوران کے ساتھ مسلمان بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں جو حضرت عیسیٰ کوآسمان پرزندہ اٹھائے جانے کے قائل ہیں اور ان کو خداکی صفات دیتے ہیں اور ظاہرہے کہ مسلمانوں نے انہیں بغیراکل وشرب زندہ آسمان پر ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید سے استدلال کیاہے اورعیسائی مسلمانوں پر حجت قائم کرنے اور مسیح کی خدائی اوراس کی فضیلت وبرتری اوراس کاشفیع ہونا ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے مسیح موعود نے ان کے اس عقیدہ کو کہ مسیح حقیقی منجی ہے اور وہی سب راست بازوں کا سردارہے بلکہ خداہے غلط ثابت کرنے کے لئے ان کی مسلمہ باتوں کا ذکرکیاہے اور فرمایاہے: ’’انسان جب حیااورانصاف کوچھوڑدے توجوچاہے کہے اور جوچاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پرفضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتاتھا اور کبھی نہیں سناگیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملاہویاہاتھوں اوراپنے سرکے بالوں سے اس کے بدن کو چھواتھا یاکوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خداتعالیٰ نے قرآن میں یحییٰ کانام ’’حصور‘‘ رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کو رکھنے سے مانع تھے اورپھر یہ کہ حضرت عیسیٰ نے یحییٰ کے ہاتھ پرجس کوعیسائی یوحناکہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایاگیا۔ اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اوران کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو بالبداہت ثابت کرتی ہے۔ کیونکہ بالمقابل اس کے یہ ثابت نہیںکیاگیا کہ یحییٰ نے بھی کسی کے ہاتھ پرتوبہ کی تھی پس اس کامعصوم ہونابدیہی امرہے۔‘‘(دافع البلاء ٹائٹل۳،حاشیہ خزائن ج۱۸،ص۲۲۰)

266

یعنی حقیقت تویہی ہے کہ مسیحؑ کی راست بازی ان کے زمانہ کے دوسرے راست بازوں سے بڑھ کرثابت نہیں ہوتی۔ لیکن باوجود اس کے اگر تم اسے خدابناتے ہو یا اسے خدائی صفات دیتے ہو تویہ تمہاری خوش فہمی ہے اور تمہارے مسلمہ امور کے بھی مخالف ہے۔

’’بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتاتھا اور کبھی نہیں سناگیاکہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملاتھا۔ الٰی آخرہ!‘‘

سوچو کہ حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ ’’نہیں سناگیا‘‘ جس کا مفہوم پہلی عبارت کے ساتھ یہ ہے کہ مسیح کے متعلق تویہ بات سنی گئی اور’’یحییٰ کے متعلق نہیں سناگیا‘‘ کے الفاظ سے ظاہرہے کہ اسلامی تعلیم میںان امور کانشان نہیں پایاجاتا۔ کیونکہ اگر اسلامی تعلیم میں یہ باتیں ہوتیں تو ان کے لئے ’’سناگیا‘‘ اور’’بعد میں بنایاگیا‘‘ کے الفاظ ہی استعمال میں نہ آتے۔ کیونکہ وہ اپنے عقیدہ میں مذہبی ہوتیں اور تاریخ سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ امر یہود اور نصاریٰ دونوں سے سنا گیا۔ اگرچہ دونوں کا نقطہ نظر مختلف تھا۔ عیسائیوں نے توان امور کو معیوب نہ جان کر نقل کیا۔ لیکن یہود نے ان کو بطور اعتراض کے نقل کیااور شراب پینے کا ذکر اوریحییٰ کے ہاتھ پر مسیح کے توبہ کرنے کا ذکرانجیل میں پایاجاتاہے۔ پس عیسائیوں پر حجت تمام کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ جس کو تم خدابنارہے ہو، اس کے متعلق یہ امور تمہاری انجیلوں میں پائے جاتے ہیں۔ پھر وہ دنیا کے تمام راست بازوں سے بڑھ کر اورخداکیوں کر ہوسکتے ہیں اورچونکہ فاحشہ عورت کے عطر ملنے اوردیگر واقعات کویہود نے بطوراعتراض پیش کیاتھا اورقسم قسم کے الزامات مسیح اور ان کی والدہ پر لگائے تھے۔ اس لئے آنحضرت نے ایک حدیث میں ان کے الزامات سے تطہیر فرمائی۔ لیکن بعض مسلمانوں نے اس سے یہ سمجھا کہ مس شیطان سے محفوظ ہوناصرف عیسیٰ اورا ن کی والدہ کی خصوصیت ہے۔ اس لئے پھر عیسائیوں نے جیسے ان کے دوسرے عقائد کو مسیح کوالوہیت کی دلیل اورتمام انبیاء پرفضیلت کاسبب ماناتھا۔ اس حدیث کو بھی مسیح کی فضیلت کاموجب گردانا۔ سوعیسائیوں کی اس دلیل کوکہ حدیث سے مسیح کی فضیلت دوسرے راست بازوں پرثابت ہوتی ہے۔ رد کرنے کے لئے حضور نے آخر میں فرمایاکہ: ’’مسلمانوں میں یہ جومشہور ہے کہ عیسیٰ اوراس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں۔ اس کے معنی نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ (مسلمانوں سے ہوں یاعیسائیوں سے۔ شمس) اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسیٰ اوران کی ماں پر سخت ناپاک الزامات لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذباللہ! شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اس افتراء کا رد ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں کہ یہ الزام جوحضرت عیسیٰ اوران کی ماں پرلگائے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں ہیں۔ بلکہ ان معنوں میں وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو پیش نہیں آیا۔‘‘(دافع البلاء ٹائٹل۳ حاشیہ، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

اب میں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اس عبارت میں جن الزامات سے مسیح کو بری قراردیاہے وہ وہی الزامات ہیں۔ جو اس سے پہلے ذکر ہوئے ہیں اور وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں میں موجود ہیں اور یہ امر خود حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں بالتصریح بیان فرمایاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

۱… حضرت مسیح کواللہتعالیٰ نے ایک ایسا طریق تعلیم عطاکیاتھا جس سے بدبخت یہودی خیال کرتے تھے کہ وہ توریت کوچھوڑتاہے اور الحاد کی راہ سے اس کے معنی کرتاہے اور نیز کہتے تھے کہ اس شخص میں تقویٰ اور پرہیزگاری نہیں۔ کھائو پیو ہے اور برائیوں اوربدچلنوں کے ساتھ کھاتاپیتااوران سے اختلاط کرتاہے اوراجنبی عورتوں سے باتیں کرتاہے۔ چنانچہ نادان یہودیوں کے یہ اعتراضات آج تک ہیں کہ یسوع نے جس کو عیسائی اپنا خداقراردیتے ہیں۔ ناپاک عورتوں سے اپنے تئیں دورنہیں رکھا۔ بلکہ جب ایک زنا کار عورت عطر لے کر اس کے پاس آئی تواس کو دانستہ یہ موقع دیا کہ وہ حرام کی کمائی کا عطر اس کے سر کو ملے اور اس کے پیروں پر اپنے زینت کردہ بال رکھے اورایسا کرنا

267

اس کو روانہ تھا… یہ وہ اعتراض ہیں جویہودیوں کی کتابوں میں لکھے ہیں… ایسا ہی عیسائیوں نے بھی حضرت مسیح پر جھوٹے الزام لگائے تھے کہ گویا انہوں نے نعوذباللہ خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو اطلاع دی تھی کہ ایسے ایسے ناپاک الزام تیرے پرلگائے جائیں گے اور ساتھ ہی وعدہ دیا تھا کہ میں تیرے بعد ایک نبی آخر زمان بھیجوں گا اور اس کے ذریعہ یہ تمام اعتراضات تیری ذات پر سے دفع کروں گا اوروہ تیری سچائی کی گواہی دے گا اورلوگوں پرظاہر کرے گا توسچا رسول ہے۔ سو ایساہی وقوع میں آیا۔ یعنی جب ہمارے نبیa دنیا میں آئے اور خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے توآپ نے حضرت مسیح کا دامن ہرایک الزام سے پاک کرکے دکھلایا۔‘‘(تریاق القلوب حاشیہ درحاشیہ ص۱۴۲،۱۴۳، خزائن ج۱۵ص۴۵۳،۴۵۵)

عیسائی بھی ان باتوں کو مانتے ہیں کہ مسیح نے شراب پی، خزینۃ الاسرار اور تفسیر انجیل متی ص۱۸۷ اور یوحنا یعنی یحییٰ ایسا نہ تھا(متی) ایک فاحشہ عورت نے یسوع کے پائوں پر اپنے بال پونچھے(لوقا ۳۹/۷) اور بعض ایسی عورتوںجن کا مسیح سے کوئی جسمانی تعلق نہ تھا۔ آپ کی خدمت کرتی تھی(متی ۵۵/۲۷، لوقا۳۲/۸) اوریوحنا سے مسیح کے بپتسمہ لینے کا ذکردیکھو(لوقا باب نمبر۱ ویوحنا باب نمبر۱)

جب یہ معلوم ہوگیا کہ دافع البلاء کی عبارت میں جن قصوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ وہ عیسائیوں کے مسلّمات میں سے ہیں تالازماً ہمیں ماننا پڑا کہ یہاں عیسائیوں کو ان کے مسلمان کی بناء پرجواب دیاجارہاہے کہ مسیح خداتوکجا اپنے زمانہ کے اورراست بازوں سے بھی راست بازی میں بڑھ کر ثابت نہیں ہوئے اوراگر کہو کہ قرآن مجید کی رو سے ان کی تمام راست بازوں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ جس طریق پر تم فضیلت ثابت کرتے ہو۔ اس طریق پر یحییٰ کی مسیح پر فضیلت ثابت ہوئی ہے اور یہاں لفظ ’’حصور‘‘ کوخصوصیت سے اس لئے پیش کیا۔ کیوںکہ عیسائیوں نے اس لفظ سے یہ استدلال کیا تھا کہ حضرت یحییٰ آنحضرتﷺ سے قرآن مجید کی رو سے افضل ہیں۔ چنانچہ ایک پادری نے اپنے رسالہ موسومہ ’’دلائل اثبات رسالت عیسیٰ مسیح‘‘ (دیکھئے ازالۃ الاوہام) میں یہ لکھا کہ: ’’اگر محمدکی طرح کوئی شخص اس زمانہ میں ہوتا توکوئی اس کو اپنے پاس بیٹھنے کی بھی اجازت نہ دیتا۔ آیا وہ نہیں سمجھتا تھا کہ تجرد اچھا کام ہے۔ حالانکہ یحییٰ کی صفت میں قرآن شریف میں لکھاہے کہ وہ سردار تھا اور عورت کے پاس نہیں جاتاتھا اور نبی تھا نیکوکاروں میںسے۔ پس محمد کو اقرارتھا اس امر کا کہ یحییٰ اس سے پاک اوربزرگ تھا اور درحقیقت محمد کویحییٰ سے کیا مناسبت تھی۔‘‘

حضرت یحییٰ کی جو تعریف اس عبارت میں کی گئی ہے وہ آیت شریفہ سیداً وحصوراً ونبیاً من الصالحین کا ترجمہ ہے۔ اب مختاران مدعیہ سوچیں کہ عیسائی توقرآن کونہیں مانتالیکن ان کو قرآن مجید میں سے حضرت یحییٰ کے متعلق جولفظ حصور آیاتھا۔ اس کو لے کر کبھی آنحضرتﷺپر سخت توہین آمیز طعن کی ہے اور یہاں تک کہہ دیاہے کہ اس زمانے میں اگرکوئی شخص آپ کی طرح ہوتاتواس کوکوئی اپنے پاس بیٹھنے کی بھی اجازت نہ دیتا اور حضرت یحییٰ ان سے افضل ہیں۔ کیونکہ وہ عورتوں سے بالکل ہی دور رہتے تھے اور آنحضرت عورتوں کے معاملہ میں اس کے بالکل ہی خلاف تھے۔ اسی وجہ سے یحییٰ کانام توقرآن مجید میں حصور رکھاگیا اور آنحضرت کویہ نام نہ دیاگیا۔ پس اس طعن کو حضرت مسیح موعود نے عیسائیوں پرلوٹادیاہے کہ اے عیسائیوں اگر تمہارا یہ اعتراض درست ہے کہ آنحضرت کانام حصور نہ رکھاجانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عورتوں سے تعلق رکھتے تھے اوریحییٰ کانام حصور اس لئے رکھاگیاکہ وہ عورتوں سے دور رہتے تھے اور اس سے ان کی آنحضرتﷺ پر افضیلت ثابت ہوتی ہے توتمہیں یہ امرتسلیم کرناچاہئے کہ حضرت یحییٰ حضرت مسیح سے بدرجہا افضل ہیں۔ کیونکہ آنحضرتﷺ جن عورتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ توان کی عفیفہ اورصالحہ بیویاں تھیں۔ لیکن جن عورتوں کا حضرت مسیح کے ساتھ رہنا اور خلاملاکرنا تم مانتے ہو وہ ان کی بیویاں نہ تھیں، بلکہ بعض ان میں سے بدچلن اوربدکار عورتیں تھیں اور تم جانتے ہو کہ حضرت یحییٰ آبادی سے دور بیابان میں رہتے تھے۔ جہاں عورتوں کاگزرنہیں ہوتاتھا۔ لیکن حضرت مسیح آبادی میں رہتے تھے اور عورتیں ان کے پاس آتی جاتی تھیں۔

268

پس تم کو مانناچاہئے کہ اس وجہ سے خدانے قرآن شریف میں یحییٰ کانام حصور رکھا۔ مگرمسیح کایہ نام نہیں رکھا کہ اس قسم کے قصے جن سے تم کو بھی انکار نہیں ہے۔ اس نام کے رکھے جانے سے مانع تھے۔ پس حضرت مسیح موعود نے اس جگہ عیسائیوں کے طرز استدلال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر حجت قائم کی ہے اور انہوں نے جو اعتراض آنحضرتﷺ پرکیاتھا وہی ان پر لوٹادیاہے۔

طعن دوم’’ نبوت راپاکیزگی لازم است محمد پابند شہوات نفسانیہ بود کہ نہ۹ زوجہ نمود‘‘ اس کے بعد اس طعن کا جواب دیتے ہوئے ص۳۶۸ میں فرماتے ہیں: ’’دریں طعن علمائے ایں فرقہ مسیحیہ چہ زباں درازیں است کہ بہ نسبت خیر البشر نکردہ اند اگرچہ دل مے سوز د دمے خواہد کہ آں ہمہ رانقل کردہ الزاماً معکوس سازم مگر خوف طوالت مانع ازیں جہت ہمہ راگزشتہ فقط قول صاحب دلائل اثبات رسالت مسیح راکہ او موافق زعم خود تمسک بایں قرینہ نمودہ طعن مے نماید اکتفا مے کنم۔‘‘

اس عبارت کا ماحاصل یہ ہے کہ دل تو یہ چاہتا کہ علماء مسیحیہ کی ان زبان درازیوں کو جو اس طعن میں انہوں نے کی، نقل کر کے الزاماً ان پر لوٹ دوں۔ مگر خوف طوالت مانع ہے۔ اس لئے مصنف دلائل اثبات رسالت مسیح کے ایک طعن پر جواس نے اپنے زعم میں آیت قرآنی سے تمسک کیاہے۔ اکتفاکرتاہوں۔ پھر آپ مؤلف مذکورہ کے متعلق لکھتے ہیں:’’درآخررسالہ خود بزبان ارد دمے نگارد کہ ترجمۂ اوایں اگر شخصے مثل محمددریں زماں مے بود کسے نزد خود اجازت نشستن اورانہ دا دے وآیا اونمے فہمد کہ تجرد کارنیک است وحالانکہ درصفت یحییٰ درقرآن مے نویسد کہ اوسرور خواہد بود ونزد زن رفت ونبی خواہد بود ازیں گاں۔ بس خود اقرار دارد بریں کہ یحییٰ از وپاک بود بزرگ محمد رابا یحییٰ چہ مناسبت است۔‘‘

اس عبارت کا اردو ترجمہ یعنی دلائل اثباۃ رسالت مسیح سے اوپرگزرچکاہے۔ اس کے بعد مولوی رحمت اللہ صاحب ان کے اس طعن کو ان پر اس طرح لوٹاناچاہتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’آیا مسیح وحواریاں از توریت وکتاب القضات واقف نبودند کہ دانستند مے کہ شراب آں قدر نجس وبداست۔ آیا(مسیح وحواریاں) نمے دانستند کہ ریاضت وروزہ محمودہ است۔ چنانچہ یحییٰ و شاگردان اوبعمل مے آرند۔ پس چرادوام ایام خود رابے ریاضتی بسرمے بردند ودائم حریص اکل وشرب شراب بودند۔ آیا مسیح ایں قدرخیال نمے کردند کہ اجتناب اززناں اجنبیہ خصوصاً فاحشہ ضروریست ومحبت داشتن بازناں نامحرم نباید۔ پس باقرارمسیح فضیلت یحییٰ بردرفضیلت شاگردان یحییٰ برشاگردان اوثابت شد۔ وفی الحقیقت مسیح وشاگردان اورابایحییٰ وشاگردان اوچہ مناسبت۔‘‘ (ازالۃ الاوہام ص۳۷۱)

اس کلام کاماحصل یہ ہے کہ آیامسیح اورحواری شراب کا نجس وبد اورعبادت روزے کا اچھا ہونا نہیں جانتے تھے۔ یحییٰ اوراس کے شاگرد تو روزہ رکھتے اورعبادت کرتے تھے۔ لیکن مسیح اور اس کے حواری کسی طرح بغیر عبادت کے بسر کرتے تھے اور نشہ کھانے اورشراب پینے کے حریص رہتے تھے۔ آیا مسیح اس قدرخیال نہیں کرتے تھے کہ اجنبی عورتوں خصوصاً حرام کاروں سے پرہیز ضروری ہے اور نامحرم عورتوں سے محبت نہیں کرنی چاہیے۔ پس باقرارمسیح اور ان کے شاگردوں کو یحییٰ اوران کے شاگردوں سے کیا مناسبت۔

اب دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ عبارت دافع البلاء کی عبارت کی طرح نہیں ہے اور کیا اس میں وہی طریق اختیار نہیں کیاگیا جو حضرت اقدس مسیح موعود نے استعمال کیاہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں عبارتیں ایک ہی ایک رنگ کی ہیں اور ایک ہی آیت کے متعلق ہیں اور جس طرح

269

حضرت اقدس کی عبارت ’’یہی وجہ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ اسی طرح مولانارحمت اللہ مہاجر بیت اللہ کی عبارت میں فی الحقیقت کے الفاظ ہیں اور جس طرح مولانا کے الفاظ کایہ مطلب نہیں ہے کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں الزامی طور پر جوکچھ انہوں نے لکھاہے۔ وہ اپنے عقیدے کی رو سے لکھاکر اسی طرح حضرت اقدس کی عبارت میں ’’یہی وجہ‘‘ کے الفاظ سے یہ ثابت نہیںہوتا کہ آپ نے عیسائیوں کے معاملہ میں جوکچھ لکھاہے وہ اپنے مقصد کی رو سے لکھاہے۔

ضمیمہ انجام آتھم کاحوالہ

مختارمدعیہ نے ضمیمہ انجام آتھم کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولوی رحمت اللہ صاحب اور مولوی آل حسن صاحب اور مولوی محمدقاسم صاحب کی جو عبارت پیش کی گئی ہے، وہ قابل اعتراض نہیں ہے اور ان سے توہین لازم نہیں آتی۔ کیونکہ انہوں نے تو لکھ دیاہے کہ یہ بطور الزام کے ہم لکھ رہے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے تو یہ کہا ہے کہ میں یسوع کے متعلق یہ باتیں کہتاہوں اورگواہان مدعیہ نے یہ ثابت کردیاہے کہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہی شخص کے دونام ہیں۔ لہٰذامرزا صاحب کی عبارتوں سے مسیح کی توہین لازم آتی ہے۔ اس کا جواب اگرچہ گواہان مدعاعلیہ کے بیانوں میں تفصیل سے آچکاہے۔ لیکن یہاں بھی اختصار سے ایک دوباتیں کہہ دینی مناسب معلوم ہوتی ہیں۔ اگرمولوی رحمت اللہمہاجر مکی اورمولوی آل حسن صاحب اوردیگر اشخاص کے خاص حضرت عیسیٰ کانام لیتے اورعیسائیت وغیرہ ان کے معجزات جوقرآن مجیدسے ثابت ہیں۔ انہیں بھان متی کاتماشا کرنے والوں کے ہتھکنڈوں سے تشبیہ دینے میں حضرت مسیح کی اس وجہ سے توہین لازم نہیں آتی کہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ لکھ دیاہے کہ ہم الزامی طور پر یہ جواب دے رہے ہیں تو حضرت مسیح موعود نے یسوع کانام لے کرجولکھااوریہ تصریح کردی یہ کہ یہاں حضرت عیسیٰ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ باعث توہین ہوسکتی ہے اور اس سے حضرت عیسیٰ کی توہین کیونکر لازم آئے گی۔ ضمیمہ انجام آتھم سے جوحوالہ پیش کیاگیاہے اس میں مندرجہ ذیل عبارتیں قابل غور ہیں:

۱… ’’ایک مردہ پرست فتح مسیح نام نے فتح گڑھ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور سے اپنی پہلی بے حیائی کودکھلاکر ایک گندہ اوربدزبانی سے بھراہواخط لکھاہے۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم ص۳ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۸۷)

۲… ’’یسوع کی تمام پیش گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خداہے۔‘‘(حاشیہ ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸)

۳… ’’ان دلوں پرخدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیش گوئیاں اس کی خدائی پردلیل ٹھہرائیں اور ایک مردہ کو اپنا خدابنالیا۔‘‘(حاشیہ ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸)

۴… ’’متی کی انجیل سے معلوم ہوتاہے۔‘‘(حاشیہ ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹)

۵… ’’ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہواتھا۔‘‘(حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

۶… ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔‘‘(حاشیہ ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)

۷… ’’آپ کا یہ کہنا کہ میرے پیروزہرکھائیں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔‘‘(حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

۸… ’’افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کوخدابنارہے ہیں۔‘‘(حاشیہ ص۷، خزائن ج۱۱ ،ص۲۹۱)

۹… ’’آپ وہی حضرت ہیں جنہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ابھی تمام لوگ زندہ ہوں گے کہ میں پھر واپس آجائوں گا۔‘‘(حاشیہ ص۸، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲)

ان تمام عبارات سے ظاہر ہے کہ یہاں مخاطب عیسائی ہیں اور انہوں نے آنحضرتﷺ کے متعلق جو گندہ دہانی کی ہے تو الزاماً

270

ان کے رسول یسوع کے متعلق جسے وہ خدابنارہے ہیں یہ جوابات دئیے گئے ہیں اور حضرت مسیح موعود کاایک جگہ ’’مگرحق بات یہ ہے‘‘ کہنا بالکل ویسا ہی ہے جیسے مولوی رحمت اللہ صاحب نے اس حوالہ میں جو اوپرگزرچکاہے۔ فی الحقیقت کہاہے اورگواہان مدعیہ نے باوجود اچھی طرح یہ جاننے کے کہ ان کے اکابر نے عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰؑ کانام لے کر اس قدرسخت کلمات استعمال کئے ہیں جن کے مقابلہ میں حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود کے ان الفاظ کی سختی جوآپ نے پادریوں کے فرضی یسوع کے متعلق لکھے ہیں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی اورباوجود اچھی طرح سے سمجھنے کے کہ جس طرح ان کے اکابر نے الزامی طورپر سخت الفاظ لکھے ہیں۔ اس طرح حضرت اقدس نے بھی الزامی طور پر لکھے ہیں۔ لیکن پھربھی حضرت مسیح موعود پرتوہین حضرت عیسیٰ کاالزام لگادیا۔ چنانچہ اس میںسے چند کلمات کا ذکر انہوں نے اپنے بیان میں کیاہے۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔

اورحضرت مسیح موعود نے اسی حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم کے آخر میں جس کے کلمات پرگواہان مدعیہ نے اعتراض کیا ہے یہ تحریرفرمایاہے: ’’بالاخرہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اوراس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی انہوں نے ناحق ہمارے نبی کریمa کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہرکریں۔ چنانچہ اس پلید، نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجاہے۔ آنحضرتﷺ کوزانی لکھاہے۔ اس کے علاوہ اوربہت گالیاں دی ہیں پس اس طرح اس مردود اورخبیث فرقہ نے جومردہ پرست ہے ہمیں اس بات پر مجبور کردیاہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خداتعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبرنہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کادعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کانام ڈاکو اوربٹ مار لکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکارکیااورکہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔‘‘(ضمیمہ انجام آتھم،ص۹،۸ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۲،۲۹۳)

اور(انجام آتھم ص۱۳، خزائن ج۱۱ ص۱۳) پربھی فرمادیاہے: ’’اوریاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹ مار کہا اور خاتم الانبیاءa کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعدجھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔‘‘

پس آپ نے تصریح فرمادی کہ یہ جوکچھ لکھاگیاہے مسیح کے لئے نہیں جو خداتعالیٰ کے ایک راست باز بندہ اور نبی تھا۔ بلکہ عیسائیوںکے اس فرضی اور موہوم یسوع کی نسبت ہے جس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں۔ وہ خداتھا اورخدائی صفات اپنے اندررکھتاتھا اور یہ بھی فرض محال کے طور پر ہے۔ ورنہ ایسے یسوع کابھی کوئی وجود نہیں ہے جیسے کہ مولوی محمدقاسم صاحب بھی فرماتے ہیں: ’’مفرط فی المحبت اس کا محب نہیں جس کا محبت کا مدعی ہوتاہے۔ بلکہ اپنی خیالی تصویر کامحب ہوتاہے۔‘‘(ہدیۃ الشیعہ ص۲۴۵)

اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں: ’’نصاریٰ جودعویٰ محبت عیسیٰؑ کرتے ہیں تو حقیقت میں ان سے محبت نہیں کرتے۔ کیونکہ دارومدار ان کی محبت کا خدا کابیٹا ہونے پرہے۔ سو یہ بات حضرت عیسیٰ میں تومعلوم البتہ ان کے خیال میں تھی۔ سو وہ اپنی تصویر خیالی کو پوجتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کوخداوندکریم نے ان کی واسطہ داری سے برطرف رکھاہے۔‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۲۴۵)

کیا مولوی محمدقاسم صاحب کی عبارت محولہ بالاسے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود نے حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم یا کسی اورکتاب میں جوکچھ عیسائیوں کے مفروضہ خدا کے متعلق لکھاہے وہ ان کی ایک خیالی تصویر کے متعلق ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ کے متعلق جوخداتعالیٰ کے ایک نبی تھے۔ پس یہاں یہ سوال نہیں پیدا ہوسکتا کہ مسیح کانام تو یسوع بھی تھا… ہواکرے۔ لیکن آپ نے دویسوع کی صفات بیان کر کے تخصیص کردی ہے کہ وہ یسوع مراد نہیں بلکہ وہ مراد ہے جوخداہونے کا مدعی تھا اور ایسے فرضی طور پر کلام کرنے کاثبوت

271

گواہان مدعاعیہ نے اپنے بیانوں میں مثالوں کے ساتھ دیاہے۔ ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱،۲۔

پس جس طریق پر حضرت مسیح موعود نے یسوع کے متعلق کلام کیاہے۔ ایسے کلام کا ثبوت قرآن مجید سے بھی ملتاہے۔ چنانچہ اللہتعالیٰ انبیاء کا ذکر کے فرماتاہے: ’’وقالوا اتخذ اللہ ولداً… نجزی الظالمین (الانبیاء )‘‘ (اصل عبارت یہ ہے:’’وقالوا اتخذو الرحمٰن ولدًا سبحٰنہ… کذلک نجذی الظلمین (الانبیاء:۲۶تا۲۹)‘‘)

ان آیات میں اللہتعالیٰ نے ان لوگوں کاذکرکرکے جنہوں نے خدا کے لئے ولد بنایاہے فرمایاہے کہ خداتو’’اتخاذ ولد‘‘ سے پاک ہے اوروہ لوگ جنہوں نے ان کو خدا کا بیٹا بنایاہے وہ خدا کے معزز اورمقرب بندے تھے اور پھر آخر میں فرمایاہے کہ جوان میں سے یہ کہے کہ میں اللہتعالیٰ کے سوا معبود ہوں تو اس کو اس کے اس بدلے میں جہنم کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح یہ سزا دیاکرتے ہیں۔

اب آخری کلام کہ جوشخص یہ کہے کہ میں خدا کے سوا معبود ہوں۔ ان لوگوں کے اعتقاد کی بناء پر کی گئی ہے کہ جنہوں نے خداکے لئے ولد تجویز کیاتھا۔ ورنہ حقیقت میں خداتعالیٰ کے لئے کوئی ولد نہیں اورنہ کسی نبی نے یہ کہا کہ میں خدا کا حقیقی ولد ہوں اور نہ ہی کسی نبی سے یہ ممکن ہے کہ وہ کہے میں خداکے سوا معبود ہوں۔ جیسا کہ آیت:’’ما کان لبشران یوتیہ اللہ الکتاب والحکم والنّبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی (آل عمران:۷۹)‘‘ سے ظاہرہے۔ کیونکہ اس آیت میں ظاہر فرمایاگیاہے کہ جس شخص کو خداتعالیٰ کتاب حکم اور نبوت دیتاہے۔ اس سے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ نبی بھی ہو اوروہ لوگوں سے کہے کہ تم مجھے خداکے سواء معبود بنائو اور تم میرے بندے بنو۔

پس جیسا کہ کسی نبی سے یہ متصور نہیں تھا کہ وہ لوگوں سے کہے کہ مجھے خدا کے سوا معبود بنائو توپھر خداتعالیٰ کا یہ فرمانا کہ جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ میں خداتعالیٰ کے سوا معبود ہوں تو اس کوہم جہنم کی سزادیں گے۔ یہ صرف فرضی طور پر ہے اور صرف ان لوگوں کے عقیدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے جنہوں نے بعض انبیاء کو خدا کے سوا معبود ماناتھا اور اگر جیسا کہ بعض مفسرین نے لکھاہے اس آیت میں ملائکہ بھی مراد لئے جائیں تو پھر بھی یہ کلام فرضی طور پر ہی ماننا پڑے گا اوریہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنہوں نے ملائکہ کوخدا کے سوا معبود بنایاہے ان کے عقیدہ کے مطابق یہ کلام کیاگیاہے ورنہ ملائکہ کی تو یہ صفت ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ اللہتعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی کام کیاکرتے ہیں۔ اسی طرح اللہتعالیٰ ایک دوسری آیت میں عیسائیوں کے اس عقیدہ کاکہ مسیح خداہے ذکرکے فرماتاہے: ’’قل فمن یملک من اللہ شیأً … جمیعا (مائدہ ۱۳)‘‘ کہہ تو ان لوگوں کو جنہوں نے مسیح کوخدابنایاہے کہہ دے کہ کون روک سکتاہے۔ اللہتعالیٰ کو اپنی طاقت کے ذریعہ سے اگر اللہتعالیٰ یہ چاہے کہ مسیح اوراس کی والدہ اورتمام ان لوگوں کاجوزمین پرہیں عذاب دے کر استیصال کردے۔

تویہاں بھی مسیح کے حق میں جوکلام کیاگیاہے وہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ کو مدنظر رکھ کرکیاگیاہے۔ ورنہ ایک خدا کا نبی خدا کے عذاب میں کس طرح گرفتار ہوسکتاہے اور کیونکر خداتعالیٰ اس کا استیصال کرے گا۔

پس حضرت مسیح موعود نے جہاں یسوع یا مسیح کے متعلق کلام کیا ہے تو وہ اسی فرضی یسوع اور مسیح کے متعلق ہے جو عیسائیوں نے خدا کے سوا معبود بنایا۔

حضرت مسیح موعود کے بعض حوالہ جات کہ فرضی یسوع مراد ہے حضرت عیسیٰ نہیں

۱… حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’ہم ناظرین پرظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح پرنہایت نیک عقیدہ ہے۔ ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اورہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبردیتاہے۔ اپنی نجات کے لئے ہمارے سید ومولا محمدمصطفی پر دل وجان سے ایمان لائے تھے اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صدہاخادموں میں سے ایک

272

مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہرطرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جوخدائی کا دعویٰ کرتاتھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اوّلین وآخرین کو لعنتی سمجھتاتھا۔ یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتاتھا جن کی سزا لعنت ہے اور ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الٰہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔ قرآن نے ہمیں اس گستاخ اوربدزبان یسوع کی خبر نہیں دی۔ اس شخص کے چال چلن پرہمیں نہایت حیرت ہے جس نے خداپرمرناجائز رکھا اور آپ خدائی کا دعویٰ کیا اور ایسے پاکوں کو جوہزارہادرجہ اس سے بہترتھے۔ گالیاں دیں۔ سوہم نے اپنے کلام میں ہرجگہ عیسائیوں کا فرضی مسیح مراد لیاہے اورخدا کا عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جونبی تھا۔ جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس ۴۰برس تک پادری صاحبوں کی گالیوں کوسن کر اختیار کیاہے۔‘‘ (تبلیغ رسالت ج۴ ص۶۵،۶۶)

۲… ’’ہمیں حضرت مسیح کی شان مقدس کا بہرحال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکرکیاگیاہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرتﷺکو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایاہے۔‘‘ (نورالقرآن نمبر۲ ص۱، خزائن ج۹ ص۳۷۶)

۳… اس رسالہ کے (ص۱۳) پر پادریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یقینا جوکچھ تم مقدس نبی کی نسبت برا کہو گے وہی تمہارے فرضی مسیح کوکہاجائے گا۔ مگر اس سچے مسیح کو مقدس اوربزرگ اورپاک جانتے اورمانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا نہ بیٹا ہونے کا اور جناب محمدمصطفی احمدمجتبیٰa کے آنے کی خبردی اوران پرایمان لایا۔‘‘

۴… اورفرماتے ہیں: ’’پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ ہمارے کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔‘‘ (تبلیغ رسالت ج پنجم ص۸۰)

۵… اورفرماتے ہیں: ’’ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ کو خداتعالیٰ کا سچانبی اورنیک اورراست باز مانتے ہیں توپھر کیونکر ہماری قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔‘‘ (کتاب البریہ ص۹۳، خزائن ج۱۳ ص۱۱۹)

۶… اورفرماتے ہیں: ’’ہم اس بات کے لئے بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو خداتعالیٰ کا سچا اور اور پا ک اورراست باز نبی مانیں اوران کی نبوت پر ایمان لائیں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکاکھانے والاہے اور جھوٹاہے۔‘‘ (ایام الصلح ٹائٹل ص۲، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸)

۷… اورفرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلتا۔ یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ ہاں! چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قراردیا اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو۔ اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضروربیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں۔ راست باز نہیں ٹھہرسکتا۔ لیکن ہمار امسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتاہے اور خاتم الانبیاء کامصدق ہے۔ اس پر ہم ایمان لاتے ہیں۔‘‘(تریاق القلوب حاشیہ ص۷۷، خزائن ج۱۵ ص۳۰۵)

۸… اورفرماتے ہیں: ’’میں (مسیح ابن مریم کی) عزت کرتاہوں جس کا ہم نام ہوں اور مفتر اور مفتری ہے وہ شخص جوکہتاہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔‘‘ (کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۷)

۹… اورفرماتے ہیں: ’’اوریاد رہے کہ ہم عیسیٰ کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خداتعالیٰ کانبی سمجھتے ہیں اور ان یہودیوں کے ان اعتراضات کے مخالف ہیں جو آج کل شائع ہوتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ دکھلانا منظورہے کہ جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسیٰ اوران کی

273

انجیل پرحملے کرتے تھے۔ اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن اورآنحضرت پرکرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس طریق میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔‘‘(چشمہ مسیح مقدمہ ص ج، خزائن ج۲۰ ص۳۳۶،۳۳۷)

۱۰… اورفرماتے ہیں: ’’ہماراجھگڑا اس یسوع کے ساتھ ہے جوخدائی کا دعویٰ کرتاہے نہ اس برگزیدہ نبی کے ساتھ جس کاذکر قرآن کی وحی میں معہ تمام لوازم کے کیاہے۔‘‘(تبلیغ رسالت ج ششم ص۳۲، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۳۲، اشتہار ۲۸؍فروری۱۸۹۷ء)

۱۱… اورفرماتے ہیں: ’’ھٰذا ماکتبنا من الاناجیل علٰی سبیل الالزام… کرام‘‘ (البلاغ حاشیہ ص۷۹، خزائن ج۱۳ ص۴۵۱)

(ترجمہ) یعنی جوکچھ ہم نے لکھا ہے وہ اناجیل سے بطور الزامی جواب کے لکھاہے ورنہ ہم خود حضرت مسیح کی عزت کرتے ہیں اوریقین رکھتے ہیں کہ آپ متقی اورمعزز انبیاء میں سے تھے۔

حضرت مسیح نبی اللہ ہیں

۱… ’’اس بات میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح سچے نبی ہیں۔‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۳۷۲)

۲… اورفرماتے ہیں: ’’اس لئے ظاہر پرستی کی شامت سے یہودیوں کو دوسچے نبیوں کی نبوۃ سے منکر رہنا پڑا یعنی مسیح اور یحییٰ سے۔‘‘(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۷۱، خزائن ج۳ ص۲۳۷)

۳… اورفرماتے ہیں: ’’اوراللہجل شانہ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور اللہجل شانہ نے فرمادیاہے کہ حضرت مسیح بلا تفاوت ایسا ہی انسان تھا جیسا کہ اورانسان۔ مگر خداتعالیٰ کا سچا نبی اوراس کا مرسل اوربرگزیدہ ہے۔‘‘ (حجت الاسلام ص۹، خزائن ج۶ ص۴۹)

۴… اورفرماتے ہیں: ’’اورہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ (یعنی مسیح) سچے نبی ضرورتھے۔ رسول تھے، خداتعالیٰ کے پیارے تھے مگر خدانہیں تھے۔‘‘ (حجت الاسلام ص۳۱، خزائن ج۶ ص۶۶)

۵… اورفرماتے ہیں: ’’اس وجہ سے ہم ان پرایمان لائے کہ وہ سچے نبی تھے اوربرگزیدہ ہیں اوران تہمتوں سے پاک ہیں جوان پراوران کی ماں پر لگائیں گئیں۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰)

۶… اورفرماتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ بے شک خدا کاپیارا نبی تھا نہایت اعلیٰ درجہ کے اوصاف اپنے اندر رکھتاتھا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات مرتبہ مفتی محمدصادق ص۱۵۳)

۷… اورفرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح اپنے اقوال کے ذریعہ اوراپنے افعال کے ذریعہ اپنے تئیں عاجز ہی ٹھہراتے ہیں۔ خدا کی کوئی بھی صفت ان میں نہیں۔ ایک عاجز انسان ہیں۔ ہاں! نبی اللہ بے شک ہیں خداتعالیٰ کے سچے رسول ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘(جنگ مقدس ص۵۰، خزائن ج۶ ص۱۳۷)

۸… اورفرماتے ہیں: ’’ایک شریر یہودی اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ ایک مرتبہ ایک بے گانہ عورت پر آپ عاشق ہوئے تھے لیکن جوبات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔ آپ خدا کے رسول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر تہمت لگاتے ہیں۔‘‘(اعجاز احمدی ص۲۵، خزائن ج۱۹ ص۱۳۴)

۹… اورفرماتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ خدا نہیں وہ صرف ایک نبی ہے۔ ایک ذرہ اس سے زیادہ نہیں اور بخدا میں سچی محبت اس سے رکھتاہوں جو تمہیں ہرگز نہیں اورجس نور کے ساتھ میں اسے شناخت کرتاہوں۔ تم ہرگز اسے شناخت نہیں کرسکتے۔ اس میں کچھ فضیلت نہیں کہ وہ ایک خدا کا پیارا اوربرگزیدہ نبی تھا اوران میں سے تھا جن پر خدا کا ایک خاص فضل ہوتاہے اورجوخدا کے ہاتھ سے پاک کئے جاتے ہیں۔‘‘ (دعوت حق تتمہ حقیقت الوحی ص۵، خزائن ج۲۲ ص۶۱۷)

274

۱۰… اورفرماتے ہیں: ’’یادر ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خداتعالیٰ کا نبی سمجھتے ہیں اور ہم ان یہودیوں کے ان اعتراضات کے مخالف ہیں جو آج کل شائع ہوتے ہیں۔‘‘ (چشمہ مسیحی ص ج، خزائن ج۲۰ ص۳۳۶،۳۳۷)

ان تمام حوالہ جات سے بصراحت ووضاحت ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود حضرت عیسیٰ کوخداتعالیٰ کا نبی اور راست باز اورمقربان بارہ گاہ الٰہی سے سمجھتے تھے اوران کی نبوت پر ایمان لاتے تھے اور ان کے متعلق آپ نے کسی قسم کا توہین آمیز لفظ استعمال نہیں کیا۔

ان تصریحات کے ہوتے ہوئے کسی شخص کا حق نہیں ہے کہ وہ آپ کو توہین حضرت عیسیٰ کا مرتکب قراردے دے اور مختارمدعیہ کا باوجود مذکورہ بالا واضح عبارتوں کے یہ اعتراض کرنا کہ حضرت مسیح موعود نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی ہے نہ صرف دیانت اورامانت ہی کے خلاف ہے۔ بلکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ کے بیان کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ اس نے ۲۰؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ کسی شخص کا عقیدہ معلوم کرنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ اس کی کسی کتاب کا ایک جملہ پیش کردیاجائے بلکہ ضروری ہے کہ اس کی دیگر تصانیف کو دیکھ کر اس کا صحیح عقیدہ معلوم کیاجائے۔

پس اسی اصل کی رو سے بھی دیکھا جائے تو مختارمدعیہ کا یہ اعتراض کہ حضرت مسیح موعود نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی ہے، بالکل لغو اورباطل ہے اور جو اعتراض مختارمدعیہ نے معجزات مسیح کے متعلق کیاہے اس کا مفصل جواب گواہان مدعاعلیہ کے بیان میں موجود ہے۔

لازم مذہب،مذہب نہیں ہوتا

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پربہت سے الزامات آپ کی عبارتوںسے غلط استنباط کرکے لگائے ہیں۔ چنانچہ ۹؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے:

۱… مرزا صاحب نے لکھاہے کہ ابن مریم نہیں آسکتے۔ کیونکہ وہ نبی ہیں اور اگر نازل ہوںتو وہ امتی ہوں گے اور براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ رحمانی دین کے لئے ضروری ہے کہ اس میں امتی نبی آئیں اور نبی امتی بن نہیں سکتا۔ لازم آیا کہ اسلام اورباقی سب ادیان شیطانی اور لعنتی ہوں۔ جب مرزا صاحب کے اقرار سے اسلام لعنتی دین ہوا تو اپنے اقرار سے آپ کافر ہوئے۔ لہٰذا نکاح فسخ ہوا۔ حالانکہ مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کی عبارت سے جو نتیجہ نکالاہے وہ سراسرغلط ہے۔ کیونکہ آپ کی تحریرات کا یہ منشاء ہے کہ اگر ایک مستقل نبی کا دوبارہ آنا مانا جائے تو یہ ماننا اس کے سواء اورکوئی معنی نہیں رکھتا کہ اس کے امتی نبی ہونے کا یقین کیاجائے اور اس کا امتی نبی ہونامحال ہے۔ کیونکہ امتی کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اس نے تمام کمالات ومراتب دوسرے کی اتباع سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن حضرت عیسیٰ پر یہ تعریف صادق نہیں آسکتی۔ البتہ ایک امتی شخص نبی ہوسکتاہے کہ وہ آنحضرتﷺ کی اتباع اورپیروی کی برکت سے اس مقام پر پہنچ جائے کہ خداتعالیٰ اسے عندالضرورت نبوت کے مقام پر سرفراز فرمائے اوردین کی اصلی غرض خداتعالیٰ سے ملانا اوراس کے قرب کی راہیں بتاکر منزل مقصود تک پہنچانا ہوتی ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ جس دین کی متابعت سے انسان اپنے محبوب ازلی سے ہم کلام نہیں ہوسکتا وہ دین دین ہی نہیں ہے اور نیز آپ نے اپنی کتب میں یہ ثابت کیاہے کہ اس وقت اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے کہ حقیقی طور پرجس کی پیروی کرنے والاانسان اپنے خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرسکتاہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’آپ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت آپ پرختم ہیں اور دوسرے ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔ بلکہ ہرایک کوجوشرف مکالمہ الٰہیہ ملتاہے وہ انہی کے فیض اورانہی کی وساطت سے ملتاہے اوروہ امتی کہلاتاہے نہ کوئی مستقل نبی۔‘‘(ضمیمہ چشمہ معرفت ص۹، خزائن ج۲۳ ص۳۸۰)

اسی طرح مختار مدعیہ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ لکھاہے کہ حضرت عیسیٰ کاتشریف لانا آنحضرتﷺ کی ہتک ہے اور

275

اسلام کی بربادی توان سے زیادہ درجہ رکھنے والے کاآناکیوں اسلام کی بربادی اور آنحضرتﷺ کی ہتک نہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ جیسے گھٹیل نبی کے آنے سے آنحضرتﷺ کی ہتک اور اسلام کی بربادی ہوجاتی ہے توان سے افضل نبی کے آنے سے تو بہت ہتک اوربہت زیادہ بربادی ہونی چاہئے۔

۲… مختارمدعیہ کا یہ استنباط بھی صریح طور پر غلط ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے یہ لکھاہے کہ حضرت عیسیٰ جو مستقل نبی ہیں ان کے آنے سے تو آنحضرتﷺ کی ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور یہ بھی ماننا پڑتاہے کہ آنحضرتﷺ کی اولاد روحانی اتنی ناقص ہے کہ اس میں کوئی ایساشخص نہیں ہوسکتا جو امت محمدیہ کی اصلاح کرسکے۔ بلکہ اس امت کو دینی اصلاح کے لئے ایک ایسے نبی کا محتاج ماننا پڑتاہے جو مستقل نبی ہے اور اس کی نبوت آنحضرتﷺ کی اتباع کے نتیجہ میں بطور انعام نہیں ملی۔ اس لئے آنحضرتﷺ کے بعد مستقل نبوت کو ماننے سے بہت سی خرابیاں لازم آتی ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود جس نبوت کو اپنے لئے ثابت کرتے ہیں وہ آنحضرتﷺ کی اتباع اورفیضان کا نتیجہ ہے اور آپ حضور کے روحانی بیٹے ہیں اور آپ کو جوکمالات حاصل ہوئے ہیں وہ آنحضرتﷺ ہی کی اتباع اورپیروی کی برکت سے ظلی طور پر حاصل ہوئے ہیں۔

۳… مختارمدعیہ نے (آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۳، خزائن ج۵ ص۳۴۳) کا حوالہ پیش کرکے کہاہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ مسیحؑ کی روح تین دفعہ جوش مارے گی۔ اس عبارت میں مرزا صاحب یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اصل عیسیٰؑ ہیں اور رسول مقبول آپ کے ظل ہیں اورنیز لازم آیا کہ عیسیٰؑ اورآنحضرتﷺ ایک ہوئے اورحضرت مسیح کے متعلق مرزا صاحب نے لکھاہے کہ میں اس سے ہرشان میں بڑھ کر ہوں تو مرزا صاحب رسول مقبول سے ہرشان میں بڑھ کر اورافضل ہوئے اور یہ صریح کفرہے۔ مختارمدعیہ نے جونتائج مذکورہ بالا عبارت سے نکالے ہیں وہ بالکل غلط اورباطل ہیں اور حضرت مسیح موعود کے وہ عقائد نہیں ہیں۔ آئینہ کمالات اسلام میں نہ ایک جگہ بلکہ متعدد مقامات پرآنحضرتﷺ کے سردار انبیاء اور افضل الانبیاء ہونے کا ذکرموجودہے اور اس سے حضرت عیسیٰ کا اصل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ پس کسی کی قوم کاگمراہ ہونا اور اس کے لئے اس کی روح کا جوش مارنا تاکوئی اس کی قوم کی اصلاح کرے۔ اس کی فضیلت کی دلیل نہیں بن سکتا۔

۴… اسی طرح مختارمدعیہ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے (آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۶، خزائن ج۵ ص۳۴۶) پرلکھاہے: ’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرتﷺ کی روح بہت دفعہ امت محمدیہ میں ظاہرہوئی اور اس نے حلول کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہزاروں نبی ہوئے۔‘‘ اورمرزا صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ’’اس امت میں میں ہی نبی قراردیاگیاہوں۔ کوئی نبی بھی نہ ہوا۔ یہ بھی جھوٹ ہے تو یہ صریح کفر اور ارتداد ہے اس لئے نکاح فسخ ہوا۔‘‘

آئینہ کمالات اسلام کی مذکورہ بالا عبارات میں نبوت کا کوئی ذکرنہیں ہے لیکن باوجود اس کے مختارمدعیہ نے اپنے پاس سے اس عبارت کا ایک مفہوم وضع کرکے کفر وارتداد کا فتویٰ دے دیاہے۔

۵… مختارمدعیہ نے ۱۲؍اکتوبر کی بحث میں دافع البلاء کا حوالہ پیش کر کے مندرجہ ذیل نتائج نکالے ہیں:

(۱)خداخدائی کے قابل نہیں۔ (۲)عیسیٰ نبوت کے قابل نہیں۔ (۳)نبوت ایک ایسا مرتبہ ہے کہ معاذاللہ بدمعاش اوررنڈی بازوں کو بھی مل جاتاہے۔ اس سے تمام شریعت اورتمام انبیاءؑ اور مرتبہ نبوت کی کھلی توہین ہے۔ اس سے مرزا صاحب کا فر ومرتد ہوئے اور اسی طرح کیاہے اورچونکہ بعث من القبور بھی ضروریات دین سے ہے اور قبروں سے اٹھنے والے کروڑوں کیا اربوں ہیں اور مرزا صاحب نے ہرایک کے قبر سے اٹھنے کاانکار کیاہے۔ لہٰذا بے شمار وجہوں سے کافر اورمرتد ہوئے۔ پھر جب قیامت کاہی انکار ہے تو حوض کوثر’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ کابھی انکار ہوا اوروہ بھی کفرہے۔ جب قیامت ہی نہیں تو شفاعت کبریٰ جوآنحضرتﷺ کی خصوصیات

276

سے ہے وہ بھی گئی۔ جب جنتی جنت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں توپل صراط بھی ندارد ہے۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جو مختارمدعیہ نے از راہ افتراء حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب کردی ہیں اور ایسی باتیں جوکسی شخص کے کلا م سے اس کی منشاء اورتصریحات کے خلاف نکالی جائیں لازم مذہب کہتے ہیں اور اس طرح لازم مذہب پرتکفیر کرنے والوں کے متعلق ائمہ سلف صالحین نے تحریر فرمایاہے کہ لازم مذہب مذہب نہیں ہواکرتا۔ چنانچہ (الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۲۸)میں ہے:’’والصحیح ان لازم المذہب لیس بمذہب وانہ لاکفر بمجرد اللزوم‘‘ کہ صحیح بات یہ ہے کہ لازم مذہب مذہب نہیں ہوتا اور مجرد لزوم سے کفر لازم نہیں آتا۔

اور اسی طرح امام ابن حزم لکھتے ہیں:’’واما من کفرالناس بما تؤول الیہ اقوالھم فخطاء لانہ کذب علٰی الخصم وتقیل لہ مالم یقل بہ من الکفر‘‘ (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج۳ ص۲۵۰)

اس عبارت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے لوگوں کی ان کے اقوال سے نتائج اورلوازم نکال کر تکفیر کی ہے۔ اس نے بڑی غلطی کی کیونکہ وہ مد مقابل پرجھوٹ باندھتاہے اوراس کی طرف ایسی بات منسوب کرتاہے جو اس نے نہیں کی اوراگر اس سے وہ بات لازم بھی آئے تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ تناقض ثابت ہوگا اورتناقض کفر نہیں ہے بلکہ یہ تو اچھی بات ہے کہ وہ کفرسے دوربھاگ گیا۔

اورخود مختارمدعیہ نے بھی اپنے مکفرین کوجواب دیتے ہوئے لکھاہے: ’’تکفیر صراحت کی بناپرہے، لزوم میں تکفیر خان صاحب (بریلوی) کے نزدیک بھی نہیں ہوسکتی۔‘‘(الطین اللازب ص۳، مصنفہ مولوی مرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ نمبر۲)

اور اس کتاب کے ص نمبر۱۳ پرلکھتے ہیں کہ: ’’اگر تسلیم بھی کرلیاجائے اور بفرض محال مان بھی لیں کہ وہ کفریات بطریق کنایہ یالزوم ان عبارات سے ثابت بھی ہوتے ہیں تو گفتگو اس میں ہے کہ خان صاحب کا لزوم اورکنایہ پربھی کفر کا فتوی ہوتاہے۔‘‘

اورلکھتے ہیں: ’’اوراگر وہ عبارات جن کی صراحت کا دعویٰ کیاہے نہ دکھاسکیں تو اس مضمون ہی کو دوسری عبارت صحیحہ میں دکھادیں۔ یہ بھی نہ ہوسکے توان مضامین کوبطریق لزوم ہی ثابت کردیں گے گولزوم مثبت تکفیر نہیں۔‘‘ (تزکیۃ الخواطر ص۱۴، مصنفہ مولوی مرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ نمبر۲)

اور (ص۱۵) پر لکھتے ہیں: ’’تکفیر توان امور کی تصریح اور صراحت پرموقوف ہے اور صراحت بھی ایسی جس میں جانب مخالف ضعیف سااحتمال بھی نہ ہو۔ حالانکہ جن عبارات کو کتب مذکورہ سے خان صاحب نے نقل فرمایاہے۔ ان عبارات میں ان معانی کاضعیف سے ضعیف بھی احتمال نہیں اور اگر مصنّفین کے حالات اورسیاق وسباق کلام کے مقدم و مؤخر کودیکھاجائے توان معانی کفریہ کی بوبھی نہیں۔ بلکہ خلاف کی تصریح، پھر یہ تکفیر بے جا اورگناہ کبیرہ اورجہل وناواقفیت ہوائے نفس، حب جاہ، عداوت اسلام وغیرہ وغیرہ نہیں تو اورکیاہے۔‘‘

اور (ص۱۷) پرلکھتے ہیں: ’’اگرمضامین کفریہ صراحتاً تونہ ہوں۔ مگر احتمال اورلزوم کے طور پرہوں تب ایسی صورت میں قاضی ومفتی کوتکفیر حرام وناجائز ہے۔ جب تک کہ قائل کی مراد معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے معنی کفریہ ہی مراد لئے ہیں۔‘‘

پس مختارمدعیہ کا یہ کہہ کر کہ ان اقوال سے یہ امور لازم آتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کی تکفیر کرناجب کہ ان اقوال میں معانی کفریہ کی بو بھی نہیں پائی جاتی۔ بلکہ مصنف کے حالات اوران کتب کے مطالعہ اوران عبارات کے سیاق وسباق سے اس کے خلاف صراحت سے ثابت ہوتاہے۔ (۱)تکفیر بے جا۔ (۲)گناہ کبیرہ اور (۳)جہل وناواقفیت۔ (۴)ہوائے نفس۔ (۵)حب جاہ۔ (۶)عداوت اسلام وغیرہ وغیرہ! نہیں تو اور کیا ہیں۔ مختارمدعیہ حضور مسیح موعود کی کسی کتاب سے قیامت تک یہ نہیں دکھاسکتے کہ آپ نے قیامت سے انکار کیاہے یاپل صراط یابعث بعد الموت یادیگر امور آخرت سے انکار کیاہے یا اپنے آپ کو آنحضرتﷺ پرفضیلت دی ہو یاقرآن کی کسی آیت کا انکار کیا ہو۔ پس قائل کی منشاء کے خلاف اس کے قول کامفہوم لے کر تکفیر کرنا سوائے ان لوگوں کے جو تکفیر کے عادی ہیں اور اسلام کے دشمن ہیں کسی ایماندار شخص کاکام نہیں۔

277

توہین صحابہؓ کا الزام اوراس کا جواب

مختارمدعیہ نے صحابہ کے توہین کی ایک وجہ یہ بھی قراردی ہے کہ آپ نے خطبہ الہامیہ میں فرمایاہے کہ جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا۔ وہ درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہؓ میں داخل ہوا یعنی غیر صحابہ کوصحابہ کے ساتھ شریک کردینا یہ صحابہ کی سخت توہین ہے۔ لیکن اکابر بزرگان اسلام نے امام مہدی کو نبی کریمa کا بروز ماناہے اور لکھاہے کہ آنحضرتﷺ ہی کی روحانیت تھی جو آدمm میں جلوہ گر ہوئی تھی اورآنحضرتﷺ ہی کی روحانیت بصورت حضرت مہدی ظاہر ہوگی۔ پس اسی روحانیت اوربروزیت کے لحاظ سے مہدی کے اصحاب کوآنحضرتﷺ کے صحابہ میں داخل ہونے والاکہنا صحابہ کی توہین کاموجب کیوں ہونے لگا۔ صحابہ میںد اخل ہونے کا تویہی مطلب ہے کہ انہیں بعض امور میں صحابہ سے مشابہت حاصل ہوگئی تھی اس سے توہین کا کیا تعلق، نبی کریمa نے ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ فرماکر علماء امت کو انبیاء بنی اسرائیل کا شبیہ ومثیل قراردیاہے۔ کیا اس سے انبیاء بنی اسرائیل کی توہین ہوگی۔ اگر نہیں توکسی کے مثیل وشبیہ صحابہ ہونے سے صحابہ کی توہین کیامعنی۔ آنحضرتﷺ نے تو اپنی امت کے دوگروہوں کے لئے کہ ایک ان میں وہ ہے جس میں خود حضوربنفس نفیس تشریف فرماتھے اورایک وہ جو آخری زمانہ میں ہونے والاتھا۔ یہ فرمایا کہ میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے۔’لایدری اولہ خیر ام آخرہ‘‘ (مشکوۃ ص۵۸۳) جس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کا پہلا حصہ بہتر ہے یاآخری توکیا مختارمدعیہ یہ فتویٰ لگائے گا کہ نبی کریمa نے اپنی امت کے آخری گروہ کو صحابہ کے ساتھ اتنا ہم رنگ قراردے کر کہ کوگویا ایک ہی ٹھہرا کر یہاں تک فرمادیا کہ نہیں کہاجاسکتا کہ کون بہترہے اور کون نہیں ہے۔ یعنی دونوں ہی بہتر ہیں۔ اپنے اصحاب کی توہین کی ہے اور غیر صحابہ کوصحابہ سے ملادیاہے جو مختارمدعیہ کے نزدیک کفر وارتداد ہے۔ ’’استغفراللہ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ‘‘ امیدہے کہ اب مختارمدعیہ نے جس امر پر اعتراض کی ہے وہ صحابہ کی توہین سے تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن اگر اب بھی کچھ کسر باقی رہ گئی ہوتو پھر اس کو دیوبندیوں کے شیخ الہند مولوی محمود حسن صاحب خلیفہ مولوی رشید احمدصاحب کے مرثیہ کا یہ شعردیکھ لینا چاہئے جوانہوں نے اپنے پیرومرشد مولوی رشید احمد صاحب کی وفات پر لکھاہے:

  1. زبان پراہل اہوا کی ہے کیوں اعل ہبل شاید

    اٹھا عالم سے کوئی بانیٔ اسلام کا ثانی

پس جب مولوی رشید احمدکوسید الاوّلین والآخرین افضل المرسلین حضرت احمد مجتبیٰ محمدمصطفیﷺ کا ثانی کہنے سے مختارمدعیہ کے نزدیک آنحضرتﷺ کی ہتک نہیں ہوتی توامت محمدیہ میں سے کسی کے مثیل صحابہ ہونے سے ہتک کے کیا معنی۔

اہل بیت کی توہین

مختارمدعیہ نے ایک الزام حضرت مسیح موعود پر توہین اہل بیت کا لگایاہے اور کہا ہے کہ رسول کریمa نے توفرمایا ہے۔ میرے اہل بیت کی کشتی نوح کی مثال ہے۔ لیکن چونکہ مرزا صاحب نے اپنے تعلیم کو کشتی نوح قراردیاہے۔ لہٰذا اہل بیت کی توہین ہوگئی۔ یہ ایسی بات ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم جس کو آپ نے کشتی نوح قراردیاہے وہ یہی تعلیم ہے کہ: ’’نوع انسان کے لئے اب روئے زمین پرکوئی کتاب نہیں مگر قرآن اورتمام آدم زادوں کے لئے کوئی رسول اورشفیع نہیں مگر محمدمصطفیﷺ۔ سوتم کوشش کرو کہ تم سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی برائی مت دو تاکہ تم آسمان پر نجات یافتہ لکھے جائو۔‘‘ (کشتی نوح ص ۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۳)

اگر اس تعلیم کو بحکم خداوندی کشتی نوح قراردینے سے اہل بیت کی توہین لازم آتی ہے تو اہل بیت کوکشتی نوح قرار دینے سے اصل

278

کشتی نوح کی ضرور توہین لازم آئے گی۔ پس مختارمدعیہ کے طرز استدلال سے معلوم ہوسکتاہے کہ اس کا یہ فتویٰ کہاں جاکر لگتاہے۔

امام حسین کی توہین

ایک اعتراض مختارمدعیہ نے یہ کیاہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتاب اعجاز احمدی میں امام حسین کی توہین کی ہے اور ان پر اپنے آپ کو فضیلت دی ہے اور یہ امر امام حسین کی توہین کا موجب ہے۔ یاد رہے کہ اعجاز احمدی میں ان غالی شیعوں سے خطاب ہے جو مشرکوں کی طرح امام حسین سے مرادیں مانگتے اور ان کو تمام مخلوق کا سردار تمام انبیاء سے افضل اورسب کا شفیع اورمنجی ٹھہراتے ہیں۔ یہاں تک کہ آنحضرتﷺ کو بھی ان کی شفاعت کا محتاج بتاتے ہیں اور شیعوں کے مقابلہ میں جوکچھ لکھاگیاہو، اس کو موجب توہین قراردینا درست نہیں۔ کیونکہ کہ ایسے موقعوں پر جوکچھ لکھا جاتاہے وہ بغرض توہین نہیں ہوتا۔ بلکہ بغرض اصلاح عقائد مخاطب ہوتاہے۔ جیسا کہ حضرت مولانامحمدقاسم صاحب بانیٔ مدرسۃ العلوم دیوبند (ہدیۃ الشیعہ ص۱۴۰) میں فرماتے ہیں: ’’اہل ہند جوتمام ولائتوں کے لوگوں کے نامردہ پن میں امام ہیں۔ ان میں کوئی بھنگی اورچمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا۔ جیسا کہ حضرت امیر(حضرت علیq) نے اپنی بیٹی کو حضرت عمرq کے حوالے کردیا۔ آپ بھی دیکھتے رہے اورصاحبزادے بھی، پھرصاحبزادوں میں بھی ایک وہ تھے جنہوں نے تیس ہزار فوج جرار کا مقابلہ کیا۔‘‘ پس اگر حضرت اقدس کا غالی شیعوں کے مقابلہ میں کچھ لکھنا حضرت امام حسین کی توہین کاموجب ہے تو محمدقاسم بانی مدرسۃ العلوم دیوبند کا وہ لکھنا جو ابھی نقل کیاگیاہے نہ صرف حضرت امام حسینq بلکہ ان کی ہمشیرہt اور بڑے بھائی حضرت امام حسنq پھروالد ماجد امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بھی ہتک اورتوہین کاموجب ہوگا اور یہ توہین اس توہین سے جس پرمختارمدعیہ معترض ہے پنج گونہ زیادہ ہوگی اور اگر مولانا محمدقاسم کا لکھنا موجب توہین نہیں تو حضرت اقدس کالکھنا موجب توہین کیوں۔ رہا فضیلت کا اعتراض توایک کی فضیلت سے دوسرے کی توہین کا نتیجہ نکالنا کسی طرح درست نہیں۔ بعض انبیاء کی بعض دوسرے انبیاء پرفضیلت مسلمہ فریقین ہے۔ لیکن ان دوسرے انبیاء کی اس سے کوئی توہین اور ہتک نہیں ہونی چاہئے۔ نبی اکرمa کاتمام انبیاءؑ سے عموماً اورحضرت موسیٰؑ وعیسیٰؑ سے خصوصاً افضل ہونا مسلم ہے۔ لیکن کیا اس سے تمام انبیاءؑ اورحضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کی ہتک ہوجاتی ہے۔ امت محمدیہ تمام امتوں سے بہتر ہے تو کیا اس سے تمام امتوں کی توہین ہوگئی ہرگز نہیں۔

اوراما م مہدی کے متعلق توتمام اکابر علماء، صلحا ء واولیائے امت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ صحابہ بلکہ بعض انبیاء بھی افضل ہے۔ جیسا کہ نواب صدیق حسن خان نے (حجج الکرامہ ص۳۸۶) میں امام محمدبن سیرین کا قول نقل کیاہے اور شرح فصوص الحکم میں تویہاں تک لکھاہے کہ مہدی جوآخر زمانہ میں آئیں گے وہ احکام شرعیہ میں آنحضرتﷺ کے تابع ہوں گے اورمعارف اورعلوم اورحقیقت کے علم میں تمام انبیاء واولیاء اس کے تابع ہیں۔ کیونکہ اس کا باطن محمدرسول اللہﷺ کا باطن ہوگا۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوبیان گواہ مدعاعلیہ نمبر۱۔ پس اگر کلام ہوسکتاہے تو اس امر میں ہے کہ وہ مہدی کون ہے نہ اس میں کہ اس کا امت محمدیہ کے بزرگوں میں دوسروں سے افضل ہونا۔ ان دوسروں کی ہتک کا موجب ہے کیونکہ اس کے افضل ہونے کو تواکابر صلحاء واولیائے امت نے تسلیم کیاہے اور اس کے دوسروں سے افضل ہونے سے دوسروں کی ہتک کا خیال باطل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اعجاز احمدی میں جو کچھ لکھاہے وہ بغرض توہین ہرگز نہیں۔ بلکہ بلحاظ حمایت حق اورتائید توحید ہے اسی وجہ سے حضور نے (اعجاز احمدی ص۳۸، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹) میں فرمایاہے جس کو مختارمدعیہ نے پیش کیاہے کہ: ’’میں نے اس قصیدہ میں جوامام حسین کے متعلق لکھاہے یا حضرت عیسیٰؑ کی نسبت بیان کیا ہے یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اورراست بازوں پرزبان دراز کرتاہے۔ میں یقین رکھتاہوں کہ کوئی انسان حسینq جیسے یا حضرت عیسیٰؑ، جیسے راست بازوں پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اوروعید ’’من عاد ولیا لی‘‘ دست بدست اس کو پکڑ

279

لیتاہے۔ پس مبارک وہ جو آسمان کے مصالح کو سمجھتاہے اور خدائی حکمت عملیوں پر غور کرتاہے۔‘‘

پس حضرت مسیح موعود کا یہ کلام توبتائید توحید اور بتائید امر حق لکھاگیاہے۔قابل اعترض نہیں ہے۔ جیسا کہ مولوی محمدقاسم صاحب (ہدیۃ الشیعہ ص۳۴۶) میں لکھتے ہیں: حضرت ہارونm کا بچھڑے کوپوجنے کے مقدمے میں بے قصور ہونا کلام اللہ سے ثابت ہے اور پھربایں ہمہ حضرت موسیٰؑ کا ان پر غصے ہونا یہاں تک حضرت ہارونm کی داڑھی اور سر کے بال کھینچنے تک نوبت آئی۔ خود کلام اللہ میںہی موجود ہے۔ سو جب حضرت ہارونm تو ہوں بے قصور کہ وہ بے قصورتھے ہی اورحضرت موسیٰؑ کویوں کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ اپنے عندیہ میں بے جا غصے نہیں ہوئے تھے بلکہ بایں نظر کہ ان کے بڑے بھائی پرغصے ہونے کا کوئی منصب نہیں دیا۔ مگر خداواسطہ کی بات نہ ہوتی تو حضرت ہارونm ان کا خون بھی کردیتے تو دم نہ مارتے۔(ہدیۃ الشیعہ ص۳۴۶)

پس اسی طرح حضرت مسیح موعود کا مقصود ان لوگوں کے مقابلہ میں جوحضرت امام حسین کو منجی اورشفیع قراردیتے ہیں کہ شرک تک نوبت پہنچاتے ہیں اور انہیں تمام انبیاءؑ سے افضل ٹھہراتے ہیں۔ بتائید توحید اور بتائید حق ہے نہ بغرض توہین ورنہ حضرت اقدس حضور مسیح موعود فرماتے ہیں :

  1. جان دولم فدائے جمال محمداست

    خاکم نثار کوچہ آل محمداست

(درثمین فارسی ص۶۹)

اوراسی طرح (اعجاز احمدی ص۳۸، خزائن ج۱۹ ص۱۴۹) میں ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر آچکاہے آپ حضرت امام حسین کے متعلق ’’راست باز‘‘ اور ’’رضی اللہعنہ‘‘ کے الفاظ تحریر فرمائے ہیں اور اسی طرح (آئینہ کمالات اسلام ص۳۴، خزائن ج۵ ص ایضاً) پرآپ فرماتے ہیں: ’’اوراسی طرح علماء کی عادت رہی اورایسے سعید ان میں سے بہت ہی کم نکلے جنہوں نے مقبولان بارگاہ الٰہی کو وقت پرقبول کرلیا۔ امام کامل حسینq سے لے کر ہمارے اس زمانہ تک یہی سیرت اورخصلت ان ظاہر پرست مدعیان علم کی چلی آئی کہ انہوں نے وقت پر کسی مردخداکو قبول نہیں کیا۔‘‘

پس اعجاز احمدی میں حضرت اقدس نے جوکلام کیاہے وہ ان شیعوں کے مقابلہ میں ہے جو امام حسین کو انبیاء سے بڑھ کر اورتمام مخلوقات سے افضل بتاتے ہیں اور ایسے رنگ میں ہے جس رنگ میں کہ مولوی محمدقاسم صاحب اور دیگر علماء نے بھی ان کے متعلق کلام کی ہے۔ اسی طرح ’’صدحسین است درگریبانم‘‘ (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) سے امام حسین کی کوئی توہین لازم نہیں آتی بلکہ ان میں دشمنوں کی ایذاء رسانی کااظہار مقصود ہے کہ جس طرح کربلا میں یزید کے لشکروں نے حضرت امام حسین پرظلم کیاتھاا ور سخت ایذاء پہنچائی تھی اسی طرح آج میں اپنے آپ کو ہرآن کربلا میں پاتاہوں۔ یعنی میرے دشمن میرے لئے مصائب کانت نیا شاخسانہ کھڑاکرتے رہتے ہیں۔ پس ان دشمنوں کو ہرروز نئی ایذاء رساں تدبیروں کے مقابلہ میں گویا میں ان کے لئے ہرروز ایک نیاحسین ہوتاہوں اوراس شعر کے ایک یہ معنی بھی ہیں کہ میری جماعت کے بہت سے افراد مصائب وآلام کانشانہ بنائے جائیں اور حضرت امام حسینq کی طرح مظلومانہ حالت میں قتل کئے جائیں گے۔ پس اس شعر میں توہین کیسی۔ اس میں تو امام حسینq کی عظمت کااظہارہے۔ کیونکہ اگر حضرت اقدس کی نظرمیں حضرت امام حسین اورآپ کے واقعہ شہادت کی عظمت نہ ہوتی تو آپ اپنی اس مصیبت اورشدت کے ظاہر فرمانے کے لئے جوقوم کی طرف سے آپ کو پہنچی۔ حضرت امام حسینq کی مثال کیوں دیتے۔ صد حسین است درگریبانم کاایک یہ بھی مطلب ہے کہ قوم کی مخالفت اور یورش نے ایسی شدت اختیار کرلی ہے کہ میں صد حسین است درگریبانم کا مصداق ہورہاہوں اور یزیدی الطبع مخلوق نے مجھ پر اس طرح حملہ کیاہے کہ جس طرح میرے گریبان میں سوحسین ہیں جن کے ایذاء دینے اور قتل کرنے کے لئے وہ آمادہ ہیں اورواقعہ شہادت امام حسینq کی

280

عظمت ظاہر کرنے کے لئے (ازالہ اوہام حاشیہ ص۶۹، خزائن ج۳ ص۱۳۶) میں تحریر فرماتے ہیں: ’’حضورامام مظلوم حسینq کامظلومانہ واقعہ اللہتعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت ووقعت رکھتاہے۔‘‘ اور فرماتے ہیں: ’’حضور امام مظلوم حسینq کا درد ناک واقعہ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطورپیش گوئی اشارہ کی طرز میں حدیث نبوی میں خبردی گئی ہے اس کی عظمت ووقعت دلوں میں بیٹھ جائے۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۱۷۰، خزائن ج۳ ص۱۳۷) اور پھر آپ امام موصوف کے لئے فرماتے ہیں: ’’بلاشبہ وہ سردران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا۔ اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کے تقویٰ اورمحبت الٰہی اورصبر واستقامت اورزہد وعبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کوملی تھی۔‘‘

(اشتہارتبلیغ الحق، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۵) ’’کیاجس کی تحقیر وتذلیل وہتک وتوہین منظورہو، اس کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ اس کے حالات ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں۔‘‘

اولیاء کی توہین

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل شعر:

  1. تکدر ماء السابقین وعیننا

    الٰی آخرہ الایام لاتنکدرہ

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۵۸، خزائن ج۱۹ ص۱۷۰) سے تمام اولیا ئے کے متعلق کہاہے کہ حضرت ابوبکر وحضرت عمروغیرہ کے چشمے خشک ہوگئے اوراس میں اجمالی طور سے تمام اولیاء کی توہین کی ہے۔

اس سے تو یہ لازم آتاہے کہ مختارمدعیہ کے نزدیک پہلے ادیان جیسے دین موسوی اوردین ابراہیمی وغیرہ دین اسلامی سے منسوب ہوگئے توگویا دین اسلام نے آکر ان سب کی توہین کی ہے اوررسول اللہﷺ چونکہ تمام رسولوں سے افضل ہیں۔ اس لئے گویا آپ نے تمام انبیاء کی توہین کی ہے۔ اگرمختارمدعیہ کی طرزاستدلال اختیار کی جائے تو دنیا کانہ کوئی ولی ایسا ہوسکتاہے نہ نبی اوررسول۔جسے دوسروں کی توہین کامرتکب نہ ماننا پڑے۔

کیونکہ اگر حضرت اقدس کے مندرجہ بالا شعر سے حضرت ابوبکر اورحضرت عمر اوردوسرے اولیاء کی توہین لازم آتی ہے تو حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے شعر:

  1. افلت شموس الاوّلین وشمسنا

    ابداً علٰی افق العلٰی لاتغرب

سے اولیاء ماسبق کی توہین لازم آئے گی کیونکہ اس شعر کے معنی یہ ہیں کہ پہلوں کے تو سورج غروب ہوگئے۔ لیکن ہمارا سورج بلندی کے افق پرچمکتا رہے گا اورکبھی غروب نہیں ہوگا۔ اب اس شعر میں اوّلین کا لفظ ہے جوان تمام لوگوں پر اطلاق پاتاہے جو پہلے گزرچکے ہیں۔ جن میں حضرت ابوبکر حضرت عمر اور دوسرے اولیاء بلکہ پہلے انبیاء بھی شامل ہوجاتے ہیں توکیا مختار مدعیہ اس شعر کی عمومیت کومدنظر رکھتے ہوئے حضرت سید عبدالقادرجیلانی کوحضرت ابوبکر، حضرت عمر اور دیگر اولیاء کی توہین کامرتکب مان کر کافر ومرتد قراردے گا۔ اسی طرح حضرت سید عبدالقادرجیلانی کا یہ قول کہ:’’قدمی ھٰذا علی رقبۃ کل ولی‘‘ (مقامات امام ربانی)

کہ میرا قدم ہرایک ولی کی گردن پرہے۔ لفظ کل میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور دیگر تمام اولیاء شامل ہیں۔ کیا مختارمدعیہ یہاں بھی عمومیت کو لے کرحضرت سید عبدالقادرجیلانی کو کافر ومرتد قراردے گا۔ اگر نہیں اوریقینا انہیں کافر و مرتدقرارنہیں دے گا توکیا وجہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود کے شعر میں اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں تو انہیں موجب توہین گردان کر کفر وارتداد کا فتویٰ دیاجاتاہے۔ حضرت مسیح موعود کے شعر کا صرف یہ مطلب ہے کہ پہلے اولیاء وغیرہ نے جوطرق نکالے تھے وہ سب طرق اب بند کئے گئے ہیں۔ ان کوئی شخص ان

281

طرق کے ذریعہ سے خداتعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب تک کہ میرا طریق اختیار نہ کرے جوطریقہ مرے سید ومولیٰ محمدa کاتھا۔

پھرمختارمدعیہ نے حضرت اقدس کے اس قول پربھی اعترا ض کیا ہے کہ: ’’غرض اس حصہ کثیر وحی اور امورغیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اورجس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اورابدال اوراقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) اور اس قول کو بھی موجب توہین قراردیاہے۔ حالانکہ دنیا میں کوئی صحیح الدماغ اورصحیح العقل انسان اس کو موجب توہین نہیں کہہ سکتا۔ اس عبارت میں کوئی ایسا لفظ نہیں پایاجاتا جس سے پہلے ابدال، اقطاب اوراولیاء کی توہین ہوتی ہو۔ اس قسم کے بے سروپااعتراضوں سے یہ ظاہر ہونے کے سوا کہ معترض صاحب اعتراض کردینا جانتے ہیں اور ان کو اعتراض کرنے کا بہت شوق ہے اورکوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ بہت بڑانقصان ہے۔ کیونکہ مختارمدعیہ کے اس مسلک کو غلطی سے کوئی درست سمجھ لے توپھر بڑی مشکل پیش آئے گی اور بڑوں بڑوں تک نوبت پہنچے گی اور ان کو مقدسین سابقین کا اہانت کرنے والا ماننا پڑے گا۔ مثلاً امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی جوتمام دیوبندی علماء کے مسلمہ مقتداء پیشواء ہیں اورجن کے سامنے حضرات دیوبند کودم مارنے کی بھی جرأت نہیں ہوسکتی فرماتے ہیں کہ: ’’ہرصدی کے سرپرایک مجددآتارہا۔ لیکن اس صدی کامجدد اورہے اور ایک ہزار کامجدد اور ہے جیسے ایک سو اورہزار میں فرق ہے۔ ایسے ہی پہلی صدی کے مجدد میں اور ایک ہزار کے مجدد میں۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘‘(مکتوبات امام ربانی ج نمبر۲ ص۱۴)

اب جو مختارمدعیہ کے مسلک کو صحیح سمجھ لیں انہیں امام ربانی مجدد الف ثانی کو بھی اپنے سے پہلے تمام مجددین کی ہتک کرنے والاماننا پڑے گا۔ سبحان اللہ! یہ خوب مسلک ہے جس کی بناء پرحضرت مجدد الف ثانی جیسے بزرگ واربھی توہین بزرگاں کرنے والے ٹھہرتے ہیں۔

اے بدذات فرقہ مولویاں

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے اس فقرہ کوکہ ’’اے بدذات فرقہ مولویاں‘‘ تمام اولیاء کی توہین کاموجب قراردیاہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود نے کسی جگہ بھی شریف علماء کوجودشنام دہی اورسب وشتم وغیرہ یہود یانہ خصلتوں کے ظاہر کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ کبھی ایسے الفاظ کامصداق نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ آپ نے اپنی متعدد کتب میں اس امر کا اظہار فرمایاہے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کے مصداق محض وہی مولوی ہیں، جنہوں نے شرارت اورخیانت کواپنا شیوہ بنارکھاہے اور وہ وہی مولوی ہیں جن کے متعلق رسول کریمa نے بھی فرمایاہے کہ میری امت پرایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب اسلام کا نام ہی نام رہ جائے گا اور قرآن شریف ان میں صرف رسمی طور پر ہوگا۔ مسجدیں توبہت بڑی بڑی ہوں گی مگرہدایت سے خالی اوران نام کے مسلمانوں کے جومولوی ہوں گے۔ وہ بدترین مخلوقات ہوں گے اوروہی تمام فتنوں کی جڑہوں گے۔ انہیں میں سے فتنہ نکلے گا اوراس کانقصان انہیں پر لوٹے گا اور یہ وہی علماء ہیں جن کے متعلق شاہ ولی اللہصاحب بھی فرماچکے ہیں کہ اگر یہود کانمونہ دیکھناچاہے تواس زمانہ کے مولویوں کو دیکھ۔‘‘(الفوز الکبیرص۱۳)

پس ایسے یہودی سیرت مولوی جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی سخت مخالفت کی اور آپ کے حق میں زبان درازی انتہاء تک پہنچادی اور فحش مضمون کے اشتہارات نکالے جو کسی شریف انسان کی زبان اورقلم سے صادر نہیں ہوسکتے تھے اور یہ مولوی لوگ درحقیقت رسول اللہﷺ کی اس پیش گوئی کے مصداق ہوگئے تھے جس میں آپ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ یہود کے قدم بقدم چلیں گے۔ پس جس طرح مسیح موسوی نے اپنے زمانہ کے مولویوں اور فقیہوں کے دل آزار رویہ کو دیکھ کر انہیں سانپ بلکہ سانپوں کے بچے اورمنافق اورریاکار اورحرام کار اورشریر اوربدکار وغیرہ القاب سے ملقب کیا اوران پر لعنتیں بھیجیں، جس کا ذکر قرآن شریف ان الفاظ میں فرماتاہے:’’لعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل علٰی لسان داؤدوعیسٰی ابن مریم‘‘ اسی طرح حضرت مسیح محمدی نے اسی قسم کے خبیث

282

فطرت ممسوح القلب اورسیاہ باطن مولویوں کے حق میں نہ کہ شریف الطبع مولویوں کے حق میں یہ الفاظ استعمال فرمائے: ’’اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق کو چھپائوگے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کوچھوڑ دوگے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کاپیالا پیاوہی عوام کالانعام کوبھی پلایا۔‘‘(انجام آتھم حاشیہ ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۲۱)

اوریہ بھی یادر ہے کہ یہاں خطاب مولوی محمدحسین بٹالوی اور اس کے ہم مشرب مولویوں کو ہے جنہوں نے اس جیسی خصلتوں کا اظہار کیا۔ نہ کہ ان لوگوں سے جنہوں نے مذکورہ لوگوں کی حرکات سے کوئی حصہ نہیں لیا۔ پس اعتراض کرنے سے پہلے یہ دیکھ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ الفاظ انہیں مذکورۃ الصدر اصحاب سے مخصوص ہیں سب کے لئے نہیں۔ اگرکوئی ان حرکات شیطانیہ کا مرتکب نہیں تو اس کو ان الفاظ کامخاطب سمجھنایاقراردیناغلط ہے اوراگرکوئی اس کا مرتکب ہے تو جوکچھ حضرت اقدس نے فرمایاہے وہ اس کا مستحق ہے۔ پس اعتراض فضول ہے اور اگر مولویوں کی بدزبانی کانمونہ دیکھنا ہوتو میں عدالت کے سامنے (کشف الغطاء ص۱۹، خزائن ج۱۴ ص۲۰۱) دکھاتاہوں اور نیز (کتاب البریہ) میں ان کی بدزبانیوں کا کچھ نمونہ دیاگیاہے۔

پھرمختارمدعیہ نے حضرت اقدس کے کفروارتداد کی ایک وجہ یہ بھی قراردی ہے کہ آپ نے امت کو گالیاں دی ہیں اور اس نے اپنے زعم باطل کو ثابت کرنے کے لئے (نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳) کا ایک شعر پیش کیاہے اور (آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۸، خزائن ج۵ ص ۵۴۸) میں سے ذریۃ البغایا کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ شعر کے الفاظ یہ ہیں:

  1. ان العدا صاروا خنازیرالفلا

    ونساء ہم من دونہم الاکلب

یعنی دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔

مختارمدعیہ نے ا س سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ آپ نے تمام امت کے لوگوں کو جنگلی خنزیرکہاہے لیکن یہ مختارمدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ جس کا پہلے کئی مرتبہ ذکرکیاجاچکاہے کہ حضرت مسیح موعود کی ایسی تحریریں صرف انہی لوگوں کے حق میں ہیں جنہوں نے ازراہ شرارت آپ کے حق میں طعن وتشنیع اوردشنام دہی کی ہے اور کتوں اورخنزیروں کی صفات دکھائی ہیں نہ کہ ہرایک شریف اورقوم کے خواص لوگوں کے لئے۔ چنانچہ اس شعر میں لفظ عداخود بتاتاہے کہ مراد آپ کے وہ دشمن لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے حق میں بدزبانی کی اور وہ عورتیں ہیں جنہوں نے مختلف بلاد میں آپ کے سیاپے کئے اورقسم قسم کی گالیاں دیں۔ اگرمختارمدعیہ کامقصد عدالت کو مغالطہ دینانہیں یالفظ عدا سے وہ اس مفہوم کو سمجھ نہیں سکاتھا توا س کے بعد کا شعر اس مفہوم کی بالکل وضاحت کررہاتھا اوروہ یہ ہے:

  1. سبوا وما ادری لای جریمۃ

    سبوا الغصی الحب اونتجنب

(نجم الہدی ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۴)

یعنی انہوں نے گالیاں دیں اور میں نہیں جانتا کہ کیوں دیں۔ کیا ہم اس دوست کی مخالفت کریں یاکناراکریں۔ اس سے صاف ظاہرتھا کہ یہاں پردشمنوں سے مراد بھی وہ دشمن تھے جنہوں نے آپ کے حق میں اور آپ کے مخالف نہایت گندے اورمکروہ الفاظ استعمال کئے تھے اورانہی لوگوں کے حق میں رسول اللہﷺ کی پیش گوئی موجود تھی جس میں آپ نے فرمایا: ’’تکون فی امتی فزعۃ فیصیر الناس الی علماء ہم فاذاہم قردۃ وخنازیر‘‘ (کنزالعمال ج۷ ص۱۹۰)

یعنی میری امت میں ایک ایساحادثہ ہوگا جس سے امت میں گھبراہٹ پیداہوگی تو لوگ اپنے مولویوں کے پاس جائیں گے۔ مولویوں کے پاس جانے سے صاف ظاہر ہے کہ وہ حادثہ ایسا ہوگا جودین سے تعلق رکھتاہے۔ یعنی اسلام پر قسم قسم کے اعتراض پیداہوں گے۔ لوگ ان اعتراضوں کا جواب معلوم کرنے کے لئے اپنے مولویوں کے پاس جائیں گے تو انہیں بندر اور سور پائیں گے۔ بندر تو اس

283

لئے کہ وہ دوسروں کی نقل کا عادی ہوتاہے۔ اسی طرح اس وقت کے مولوی لکیر کے فقیر ہوں گے اور بغیر سوچے سمجھے پہلی نقلوں پر چلنے والے ہوں گے اوران نقلوں پرجواعتراض پیداہوں گے توان کے جواب میں صرف اتنا کہیں گے کہ جوکچھ پہلے لکھاجاچکاہے وہی صحیح ہے۔ ہم کچھ نہیں سنتے اوران کے پاس آنے والے لوگ کہیں گے کہ پھر آپ کی ان روایات پرجومذاہب کی طرف سے اعتراض کیاجاتاہے۔ اس کاہم کیا جواب دیں تو آگے سے کافر قراردینا اورگالیاں دیناشروع کردیں گے۔ یعنی خنزیری صفت کااظہار کریںگے۔ پس جن مولویوں کے متعلق اس حدیث میں بندر اور سور کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔ انہی کے متعلق حضرت مرزا صاب نے خنزیر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اگر اظہار حقیقت گالی ہوسکتاہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم نے بھی سب کافروں کوگالیاں دی ہیں۔ چنانچہ اللہتعالیٰ قرآن کریم میں ایک کافر کی کتے سے مثال دے کر فرماتاہے: ’’ذالک مثل الذین کذبوا بایات اللہ‘‘ کہ یہ مثال سب ان لوگوں کی ہے جنہوں نے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور اسی طرح یہودیوں کے مولویوں کی گدھے سے مثال دی کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے گدھا کتابیں اٹھائے ہوئے ہوتاہے۔ اسی طرح ایک جگہ کفار کے متعلق فرمایا کہ ہم شرالبریہ کے وہ بدترین مخلوقات ہیں اور پھر صم بکم عمی کہہ کر انہیں بہرے گونگے اندھے فرمایا۔ پس جیسے یہ الفاظ اپنے اپنے محل پرچسپاں ہیں ویسے ہی حضرت مسیح موعود کے الفاظ انہیں مولویوں کے متعلق ہیں جنہوں نے خنزیری صفات کااظہار کیا اوران کی انہیں عورتوں کے متعلق ہیں کہ جنہوں نے حیاء و شرم کو بالائے طاق رکھ کر گالیاں وغیرہ کے دینے میں کتوں کی سی صفات کا اظہار کیاہے۔

ذریۃ البغایا

ذریۃ البغایا کے متعلق گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں مفصل جواب دیاتھا اورلغت کی رو سے یہ ثابت کیاتھا کہ اس کے معنی ’’ان لوگوں کے ہیں جو رشد اورہدایت سے محروم ہیں‘‘ اور یہ بھی بتایاتھا کہ عربی زبان میں مفسد وشریر کویاحاسدوں کی کمینگی ظاہر کرنے کے لئے بھی ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ’’ابن فاعلہ زانیہ‘‘ کے بیٹے ’’یابن الفاحشہ یاولدالزنا یا ابن اللقیط‘‘ وغیرہ کہہ دیتے ہیں۔ جس سے مراد محض ان کی بدخصلتی کا اظہارہوتاہے۔ چنانچہ متنبی کا شعرہے:

  1. اتنکرموتھم وانا سہیل

    طلعت بموت اولاد الزناء

یعنی اے علی بن اسحاق آپ ان حاسدوںاورچغل خوروں کی موت پرتعجب کرتے ہیں۔ حالانکہ میں سہیل ستارہ ہوں جوان حیوان سرشت بدباطنوں کی موت کے لئے طلوع ہواہوں۔

پس مختارمدعیہ نے ذریۃ البغایا کے جو معنی کئے ہیں یہ ضروری نہیں ہیں۔ ذریۃ کا لفظ صرف حقیقی اولاد کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ جو کسی قسم کا کام کرے تواس سے پہلے جو اس قسم کاکام کرنے والے ہوں گے اسے ان کی ذریت قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں آتاہے: ’’افتتخذونہٗ وذریۃٗ اولیآء من دونی (الکہف:۵۰)‘‘ کیا تم شیطان اوراس کی ذریت کو میرے سوا دوست پکڑتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے متعلق کہاجاتاہے کہ یہ تو ذریت شیطان ہے تو اس کا صرف یہ مطلب ہوتاہے کہ وہ شیطان والے کام کرتاہے۔ نہ کہ شیطان کے نطفہ سے پیداہواہے اورجب یہ کہاجاتاہے کہ وہ گدھے کا بچہ ہے تو اس سے مراد اس کی بے وقوفی کااظہار ہوتاہے اورجب یہ کہاجاتاہے کہ وہ سور کا بچہ ہے تو مقصود اس کی بدیوں کا اعلان ہوتاہے۔ پس یہاں بھی ذریۃ البغایا سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جوبغایا والا کام کرتے ہیں۔ جس طرح ایک بدکار عورت اپنے اصلی خاوند کوچھوڑ کر غیر کی طرف رجوع کرتی ہے۔ اسی طرح وہ شخص جواسلام کی تائید میں لکھی ہوئی کتابوں سے منہ پھیر لیتاہے اور دشمنوں کی تائید کرتاہے اور اس شخص کو کہ جس نے آنحضرتﷺ کی صداقت دنیا پر ثابت کی اوراسلام کی ایک نمایاں خدمت انجام دی اس کو کافر اوردشمن اسلام قراردیتاہے اور اس کی ان کتابوں کو جن میں اسلام کی ایک

284

نمایاں خدمت انجام دی اس کو کافر اوردشمن اسلام قراردیتاہے اور اس کی ان کتابوں کوجن میں اسلام کی صداقت ظاہر کی گئی ہے۔ بنظر حقارت دیکھتاہے اور اس کے مقابلہ میں عیسائیوں کی اور دیگر دشمنان اسلام کی تائید کرتاہے اورآنحضرتﷺ جوامت کے حقیقی روحانی باپ ہیں۔ انہیں چھوڑ کرحضرت عیسیٰؑ کو حضور پرفضیلت دیتا ہے اور حضورکوچھوڑ کر اپنا باپ تسلیم کرتاہے تووہ بھی اس بدکار عورت کے مشابہ ہے۔ پس ایسے لوگوں کو استعارۃً ذریۃ البغایا قراردیاجانابالکل درست ہے۔

حضرت مسیح موعود نے جوکتابیں لکھی ہیں اورجن کتابوں کا ذریۃ البغایا کے الفاظ سے پہلے ذکرہے۔ وہ براہین احمدیہ، سرمہ چشم آریہ، آئینہ کمالات اسلام وغیرہ ہیں جن میں قرآن مجید کی حقانیت اورآنحضرتﷺ کی فضیلت کا اظہارکیاگیاہے۔ ان کے متعلق آپ کے فرماتے ہیں کہ ہر ایک مسلمان ان کو بہ نظر استحسان دیکھتاہے۔

اوریاد رہے کہ ذریۃ البغایا کااستعمال تمام مولویوں کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ اس سے خاص طور پر وہی مولوی مراد ہیں جومخالفت میں بیش از بیش ہیں۔ جنہوں نے آپ کو ہرقسم کی گالیاں دی ہیں اور جنہوں نے تمام ان غیر احمدی شریف زادیوں کوجواحمدیوں کے گھروں میں تھیں۔ زانیہ اوران کی اولادوں کے زنا کی اولاد ہونے کا فتویٰ دیاہے اور امام ابوحنیفہ بھی فرماتے ہیں: ’’من شہدعلیھا بالزنا فہوولد الزناء‘‘ (کتاب الوصیہ ص۳۱ مطبوعہ حیدرآباد)

یعنی جوحضرت عائشہ پرزنا کی تہمت لگاتاہے وہ خود ولدالزنا ہے۔ پس جب حضرت عائشہ پرزنا کی تہمت لگانے والے کو امام ابوحنیفہ کے نزدیک ولد الزناء کہنا جائز ہواتوان مولویوں کوجنہوں نے ہزارہاپاک باز صالحہ عورتوں کو اپنے فتویٰ کی رو سے زنا کی تہمت دی اوران کے نکاحوں کو فسخ قراردیتے ہوئے ان کی اولاد کوزنا کی اولاد قراردیا کیوں ذریۃ البغایانہ کہاجائے۔

پس اگر ذریۃ البغایا کے استعمال کوان معنوں میں کیا جاوے۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ نے لیاہے توا س سے مراد صرف وہ فتویٰ دینے والے مولوی ہیں جوشریف زادیوں کو زانیہ قراردیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ اس کے مصداق تمام لوگ نہیں ہیں۔ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام ہی میں فرمایاہے: ’’غرض ایسے لوگ جومولوی کہلاتے ہیں انصاردین کے دشمن اوریہودیوں کے قدم پر چل رہے ہیں۔ مگر ہمارا یہ قول کلی نہیں ہے۔ راست باز علماء اس سے باہر ہیں صرف خاص مولویوں کی نسبت یہ لکھاگیاہے ہرایک مسلمان کودعاکرنا چاہئے کہ اللہتعالیٰ جلد اسلام کو ان خائن مولویوں سے رہائی بخشے۔ کیونکہ اب اسلام پر ایک نازک وقت ہے اور یہ نادان دوست اسلام پرہنسی اورٹھٹھا کراناچاہتے ہیں اورایسی باتیں کرتے ہیں جوصریح ہرایک کے نور قلب کوخلاف صداقت نظرآتی ہیں۔‘‘(اشتہارملحقہ آئینہ کمالات اسلام ص۹، خزائن ج۵ ص۶۱۰)

اسی طرح (ایام الصلح ٹائٹل ص۲، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸) میں آپ فرماتے ہیں: ’’سوہماری اس کتاب اوردوسری کتابوں میں کوئی لفظ یااشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جوبدزبانی اورکمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔‘‘

اور (لجنۃ النور ص۶۷، خزائن ج۱۶ ص۴۰۹) میں فرماتے ہیں۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ نیک علماء کی ہتک سے اورشرفاء اور مہذب لوگوں پراعتراض کرنے سے خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا عیسائیوں یا آریوں میں سے بلکہ ہم ان تینوں اقوام کے لئے بے وقوفوں میں سے بھی صرف ان لوگوں کاذکرکرتے ہیں جو اپنی بدزبانی میں اوربرائی کے ظاہر کرنے میں لوگوں میں مشہور ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ جو اس قسم کی برائی سے بری ہو اور اپنی زبان کو روکتاہے اسے ہم بھلائی سے یاد کرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں اور بھائیوں کی طرح اس سے محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔‘‘

285

اوراسی طرح (الہدی ص۶۸، خزائن ج۱۸ ص۳۱۴حاشیہ) میں فرماتے ہیں: ’’ولیس کلامنا ہذا فی اخیارہم بل فی اشرارہم‘‘ یعنی ہمارا ایسا کلام نیک علماء کے حق میں نہیں ہے۔ بلکہ صرف شریروں کے حق میں ہے۔ پس ان تمام حوالہ جات سے ظاہرہے کہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں میں اگر کوئی سخت لفظ آیاہے تووہ مولویوں کے ایک خاص گروہ کے لئے ہے۔ اس سے عمومیت مراد صرف اس قماش کے مولویوں کاکام ہے جس کے متعلق وہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

بعض آیات قرآن مجید میں بھی ایسی ہیں جن کے الفاظ اپنے اندر عمومیت رکھتے ہیں۔ مگرمفسرین نے ان سے خاص افراد مراد لئے ہیں۔ جیسا کہ آیت: ’’ان الذین کفروا سوآء علیہم أانذرتہم ام لم تنذرہم لایومنون ختم اللہ علی قلوبہم وعلٰی سمعہم…‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے انکارکیا… برابرہے ان پرکہ ڈرایاتونے ان کو یا نہ ڈرایا تونے ان کو، ایمان نہیں لائیںگے۔ سو (تفسیرجلالین ص۲) میں اس سے ابوجہل اورابولہب اوران کے امثال مراد لئے گئے ہیں۔ یعنی ابوجہل اورابولہب اورجوان کی طرح ہیں۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

پس اسی طرح ذریۃ البغایا سے مراد وہ خاص مولوی لوگ ہیں جومخالفت میں ابوجہل اورابولہب کی طرح حصہ لیتے تھے۔ ان کے متعلق آپ نے فرمایاکہ وہ ذریۃ البغایا ہیں اوروہ ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے ان کے دلوں پرمہرلگادی ہے۔ تمام مولویوں کے لئے جواختلاف کی حدتک رکھتے ہیں۔ کمینگی اوردرندگی نہیں دکھاتے ہیں۔ شریف الطبع اوراپنے طور پر نیک مزاج ہیں۔ حضرت اقدس نے یہ الفاظ ہرگز نہیں لکھے۔ جیسا کہ خود آپ کے ارشادسے ثابت ہے۔ اسی طرح مسیح ناصری نے بھی انجیل میں یہودی مولویوں کے متعلق فرمایا کہ نہ اپنے باپ ابراہیم کی اولاد پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ کیاہماراباپ ابراہیم نہیں انہوں نے جواب دیا کہ اگرتم ابراہیم کی اولاد ہوتے توتم ابراہیم کے کام کرتے، تمہارا باپ ابلیس ہے۔(یوحناباب۲)

ازواج مطہرات کی توہین

مختارمدعیہ نے ازواج مطہرات کی توہین کی یہ وجہ قراردی ہے کہ احمدی حضرت مسیح موعود کی زوجہ محترمہ کو ام المومنین کہتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں صرف آنحضرتﷺ کی بیبیاں ہی مومنوں کی مائیں قراردی گئی ہیں اورکسی نبی کی بیوی ام المومنین قرارنہیں دی گئی۔

اگرقرآن مجید میں دوسرے انبیاء کی بیبیاںمومنوں کی مائیںنہیں قراردی گئی ہیں توقرآن مجید میں دوسرے نبی مومنوں کے باپ بھی قرارنہیں دئیے گئے ہیں اور قرآن میں ایسا ذکرکہیں نہیں ہے۔ لیکن کیا اس عدم ذکرسے یہ ثابت ہوتاہے کہ انبیاء اپنی اپنی امتوں کے باپ نہ تھے۔ یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ عقائد کی کتب میں لکھاہوا موجودہے۔ ’’وکل رسول اب لامتہ (شرح عقائد نسفی)‘‘ یعنی ہرایک رسول اپنی امت کا روحانی باپ ہوتاہے تویقینا اس رشتہ کے لحاظ سے ان کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہوں گی اوران کی بیویوں کا مومنوں کی مائیں کہلانا۔ اسی طرح آنحضرتﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے موجب توہین نہیں ہے جس طرح دوسرے نبیوں کا ابوالمومنین یعنی مومنوں کاباپ کہلانا آنحضرتﷺ کے لئے موجب توہین نہیں۔ پس مختارمدعیہ کااعتراض غلط ہے۔

حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی توہین

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پرایک یہ الزام لگایاہے کہ آپ نے حضرت فاطمہt کی توہین کی ہے اور توہین کی بناء یہ قراردی ہے کہ آپ نے ایک کشف میں دیکھا کہ آپ کاسرحضرت فاطمہ کی ران پررکھاہواہے۔ مختارمدعیہ کی غرض صرف حضرت مسیح موعود

286

پرجاوبے جااعتراض کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اپنی اس ہوانفس کو پوراکرنے کے لئے وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اگر کسی کے خواب یاکشف میں ایسا دیکھنے سے دوسرے کی توہین لازم آجایاکرتی ہے توپھر امت کے دوسرے بزرگوں کی بھی توہین کامرتکب ماننا پڑے گا۔ چنانچہ قطب ربانی حضرت سید عبدالقادرجیلانی نے بالکل ایسا ہی دیکھاہے کہ آپ فرماتے ہیں: ’’رایت فی المنام کان فی حجرعائشہ ام المومنین وانا ارضع ثدیہا الایمن ثم اخرجت ثدیہا الایسرفرضعتہ فدخل رسول اللہﷺ فقال یاعائشۃ ہٰذا ولد ناحقا‘‘ (قلائد الجواہر فی مناقب شیخ عبدالقادرص۸۲)

یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں حضرت عائشہ ام المومنین کی گود میں ہوں اور میں ان کی دائیں پستان چوس رہاہوں۔ پھر انہوں نے اپنی بائیں پستان نکالی تو میں نے وہ بھی چوسی پھر رسول اللہﷺ اندرتشریف لے آئے توفرمایا کہ اے عائشہ یہ ہماراہی بچہ ہے۔

پس کیا مختارمدعیہ حضرت سید عبدالقادرجیلانی پربھی یہ الزام لگاکر کہ انہوں نے حضرت عائشہt کی توہین کی ہے کفر وارتداد کا فتویٰ دے گا۔ شاید مختارمدعیہ کہے کہ یہ واقعہ توحضرت عائشہ کے متعلق ہے اور ہم حضرت فاطمہt کاذکرکررہے ہیں تو اگرچہ یہ کہنا قابل التفات سمجھے جانے کے لائق نہ ہوگا۔ تاہم اسی طبیعت کی رعایت سے ہم ایک مثال حضرت فاطمہt کے متعلق بھی پیش کئے دیتے ہیں اوروہ مثال بھی مولوی محمدعلی کانپوری کے پیرومرشد کے کشف کی ہے جن کانام نامی مولوی محمدعلی صاحب نے جودیوبندیوں کے مسلم مقتداء اوررہنما ہیں۔ اپنی کتاب ارشاد رحمانی وفضل رحمانی میں اس طرح لکھاہے: ’’حضرت قدوۃ الکملاء واسوۃ الفضلاء ہادیٔ مراحل شریعت وطریقت واقف اسرار حقیقت ومعرفت سبط رجال کرام ومرجع خواص وعوام وقطب دوراں وغوث زماں مرشدناومولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم وظلت فیوضاتہ۔‘‘

اورمولوی مرتضیٰ حسن صاحب یہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ علیq فرمانے لگے کہ: ’’ہمارے گھر میں جائو مجھے جاتے ہوئے شرم آئی۔ اس لئے تأمل کیا۔حضرت نے مکرر فرمایاجائو ہم کہتے ہیں۔ میںگیا اور حضرت فاطمہt تشریف رکھتی تھیں۔ آپ نے سینہ مبارک بالکل کھول کرمجھے سینے سے لگالیا۔‘‘(ارشادرحمانی ص۵۸)

مختارمدعیہ کے ان اعتراضوں سے تو یہ معلوم ہوتاہے کہ یاتواس کوبزرگان اسلام کے حالات سے قطعاً ناواقفی اورتعلیم اسلام سے بالکل بے گانگی ہے اور اس کا جوکچھ کہنا ہے وہ اسی ناواقفی کی وجہ سے ہے اور یا وہ بزرگان اسلام سے بھی صاف نہیں ہے جوحالت حضرت اقدس نے بیان کیاہے۔ وہ حالت کشف کی ہے اور کشف کی حالت سے کسی کی توہین نہیں ہواکرتی۔ پھر حضرت مسیح موعود نے تو یہ لکھاہے کہ حضرت فاطمہt نے مادرمہربان کی طرح میرا سر اپنے رانوں پررکھ لیا اور مجھے معلوم ہوا کہ میں بجائے ان کے فرزند کے ہوں اور مجھے مناسبت ہے حضرات حسنینr سے۔ لیکن مختارمدعیہ اس کو حضرت فاطمہt کی توہین بتلاتاہے۔ اگراس کا یہ کہنا صحیح ہے تو حضرت مولانا فضل الرحمن کی بابت وہ کیا کہے گا۔ کیا یہی کہ انہوں نے حضرت مرزا صاحب سے بدرجہا زیادہ توہین اورہتک اورتذلیل اورتحقیر کی ہے۔ کیونکہ حضرت اقدس نے مادرمہربان کی طرح جیسا کہ وہ بچوں کا سراپنے رانوں پررکھ لیاکرتی ہیں۔ حضرت فاطمہ کا آپ کے سر کو اپنے رانوں پر رکھ لینا لکھاہے۔ لیکن حضرت مولانافضل الرحمن کے کشف میں تو یہ بات نہیں ہے۔ پس مختارمدعیہ حضرت مولانافضل الرحمن کو بھی حضرت فاطمہt کی ہتک کاسب سے بڑا مرتکب قراردے کر کہ انہوں نے اپنے سینہ کو فاطمہ کے سینے سے ملایا۔ کافر ومرتد قراردے گا۔ یہ نتیجہ ہے حق کی مخالفت کاکہ جواعتراض حضرت اقدس مسیح موعود پرکیاجاتاہے۔ اسی قسم کا یا بالکل وہی اعتراض دوسرے مقدسوں پر بھی عائد ہوتاہے۔

287

بیت اللہ کی توہین

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے شعر:

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردوص۵۶)

سے بیت اللہ کی توہین نکالی ہے اور کہا ہے کہ قرآن مجید میں بیت اللہ کو حرم قراردیاگیاہے اور رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ کوبھی حرم قراردیاہے۔ اگرہم کسی کوحرم قراردیں گے تو یہ بیت اللہ کی توہین ہوگی اورمختارمدعیہ نے یہ بھی کہاہے کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بجواب جرح یہ کہاہے کہ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ مختارمدعیہ کے دیگر مغالطوں کی طرح یہ بھی ایک مغالطہ ہے۔ ورنہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے جرح کے جواب میں ہرگز یہ نہیں کہا یہ ہماراعقیدہ ہے۔ بلکہ گواہ مدعاعلیہ نے یہ تسلیم کیاتھا کہ شعر مذکورہ حضرت اقدس کا شعرہے۔ مختارمدعیہ گواہان مدعاعلیہ کے بیانوں کوباربار بگاڑ کربیان کرتاہے۔ حضرت اقدس نے زمین قادیان کوہجوم خلق کی وجہ سے ارض حرم کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ یعنی جس طرح لوگ محض دین کی خاطر حج کے لئے ارض حرم پرہجوم کرتے ہیں۔ یہاں بھی ہجوم کرنادین ہی کے لئے ہے۔ کیونکہ اعلائے دین حق اسلام کی تجویزیں سوچی جاتی ہیں۔ اسلام کی خوبیاں اورنبی کریم کے فضائل بیان ہوتے ہیں اور کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دینے سے مشبہ بہ کی توہین نہیں ہوا کرتی۔ بلکہ مشبہ سے اس کی فضیلت اوربرتری ثابت ہواکرتی ہے۔ مختارمدعیہ کوہربات میں توہین ہی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک امر بھی ایسابھی ہے جس کو اس نے موجب توہین قراردیاہو اور وہی یااسی کی طرح کوئی اورامر اکابراسلام یااکابر دیوبند کی تحریروں میں نہ نکل آیاہو۔ چنانچہ یہ امربھی اس کلیہ سے باہر نہیں رہا۔ مختارمدعیہ نے زمین قادیان کے ارض حرم سے تشبیہ دینے کوحرم کعبہ کی توہین قراردیاہے لیکن ایک مشہور شعر میں بزرگان اسلام نے دل کو کعبہ سوہزار کعبوں سے بہتربتایاہے:

  1. دل بدست آورد کہ حج اکبراست

    از ہزاراں کعبہ یک دل بہترست

اوربعض نے فرمایاہے کہ حقیقی بیت اللہ تودل ہی ہے۔ چنانچہ کتاب علم الکتاب میں لکھاہے۔دل متصف بارگاہ حق برسبیل دوام بیت اللہ دیگراست وقبلہ توجۂ سالکان بلکہ بیت اللہ حقیقی ہمیں است۔ چنانچہ ایں حدیث قدسی مشعرازیں است لایسعنی ارضی ولاسمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن (علم الکتاب ص۱۱۴)

پس کیامختارمدعیہ ان تمام اہل اللہ کو بھی یہی کہے گاکہ انہوں نے بیت اللہ کی توہین کی ہے اور اس وجہ سے یہ کافر ومرتد ہے اورنیز جب اس کے نزدیک قرآن مجید میں صرف بیت اللہ کوحرم قراردیاگیاتھا توکیا رسول اللہﷺ کے مدینہ منورہ کوحرم قراردینے سے بھی بیت اللہ کی توہین نکالے گا اور کیا مختارمدعیہ مولوی عبدالمالک مشیر مال ریاست بہاولپور والد ماجد مولوی اخترعلی صاحب منتظم آبادی کوبھی کافرومرتدقراد دے گا۔ جنہوں نے جامع مسجد بہاول پور کے قریب ایک چھوٹی سے مسجد اقصیٰ کی مثال اورکعبہ قراردیاہے۔ چنانچہ ان کے دوشعر جو مسجد میں کندہ ہیں یہ ہیں:

  1. ہزار شکر کہ دست جواد ہرمومن

    برائے زینت ایں کعبہ گوہرافشاں شد

  2. فرشتہ گفت بہ عبدالملک سن تعمیر

    مثال مسجد اقصیٰ بلندایوان شد

اورکیامختارمدعیہ ان لوگون کوبھی جنہوں نے یہ مسجد تعمیرکی اور اس کام کو پسندکیا۔ اسلام کی صف سے نکال کر کفارمرتدین کی صفت میں کھڑاکرے گا۔ یہ توتھا حضرت اقدس سیدنامسیح موعود کازمین قادیان کاہجوم خلق کی وجہ سے ارض حرم کے ساتھ تشبیہ دینا جس سے حضرت اقدس کے قلب مبارک میں ارض حرم کی وقعت وعظمت کی حالت بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ مشبہ سے مشبہ بہ افضل وبرتر ہونا مسلمہ فریقین

288

ہے۔ حضرت اقدس کے بلحاظ ہجوم خلق زمین قادیان کوارض حرم سے تشبیہ دینے سے ارض حرم کی فوقیت وبرتری ظاہرہوئی۔ لیکن تمام دیوبندیوں کے مسلم مقتداء وپیشواء اور شیخ الہندمولوی محمودحسن صاحب نے یہی کچھ فرمایاہے اور وہ نہ تو عمومیت کے ساتھ ارض حرم کے لئے فرمایاہے اور نہ اس کو کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ بلکہ خصوصیت کے ساتھ خاص بیت اللہ کے لئے فرمایاہے اورجوکچھ فرمایا ہے اوربیت اللہ کا جودرجہ قراردیاہے وہ اس شعر سے ظاہرہے:

  1. پھرتے تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ

    جورکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق وشوق عرفانی

یعنی کعبہ میں فقدان عرفان کایہ عالم ہوگیاہے کہ وہاں جانے والوںمیں سے جوذوق وشوق عرفان رکھنے والے تھے۔ ’’لایسعنی ارضی ولاسمائی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن‘‘ ان کو گنگوہ کا رستہ پوچھناپڑتاتھا جوعرفان کعبہ میں پہنچ کربھی حاصل نہ ہوسکاتھا۔ وہ گنگوہ پہنچ کرحاصل کریں۔ کیونکہ کعبہ اگر آنحضرت کا مولد ہے تو گنگوہ مولوی رشید احمد کا مولد ومسکن یہ ہے۔ نقطہ نظردیوبندیوں کے شیخ الہند کاخاص بیت اللہ کے متعلق اوربیت اللہ کے شہر یعنی مکہ معظمہ کے متعلق۔ جوکچھ ہوگا وہ محتاج بیان نہیں۔ اسی پرقیاس کرلیناچاہئے۔

اب رہی مدینہ منورہ کی حالت۔ اس کے متعلق بھی یہی شیخ الہند صاحب فرماتے ہیں:

  1. تمہاری تربت انور کو بھی دے کر طور سے تشبیہ

    کہوں ہوں باربار ارنی مری دیکھی بھی نادانی

یعنی مولوی رشیداحمدگنگوہی کی قبر کو طور سے تشبیہ دے کر آپ ارنی کہتے ہیں اور جب قبرکو طور سے تشبیہ دے کرارنی کہا جوحضرت موسیٰؑ نے طورپراللہتعالیٰ کے دیدار کی آرزو میں کہاتھا تو تشبیہ دینے والے صاحب نے اس پیرایہ میں اپنے آپ کو کس سے تشبیہ دی اورصاحب قبر کوکسی سے نہایت صفائی سے ظاہر ہے کہ کسی کی قبر کو طور سے تشبیہ دے کر ارنی کہنے والا اپنے آپ کو موسیٰؑ سے اور صاحب قبر کو اللہجل شانہ سے تشبیہ دے رہاہے اور یہ مختارمدعیہ کے نزدیک سب کچھ جائز ہے نہ اس سے طور کی توہین لازم آتی ہے۔ نہ ہی حضرت موسیٰ کی نہ کعبہ کی نہ مدینہ منورہ کی، نہ رسول اللہﷺ کی اور نہ اللہتعالیٰ عزاسمہ کی۔ لیکن حضرت اقدس نے ارض قادیان کو ارض حرم سے تشبیہ دی اور اس کو عزت والی فرمادیا۔ کیونکہ حرم عزت والی جگہ کو ہی کہتے ہیں تواس سے بیت اللہ کی توہین لازم آگئی۔ سبحان اللہ! یہ خوب لازم آتاہے اور حضرت اقدس کے ا لہام ’’من دخلہ کان آمنا‘‘ سے جو مسجد مبارک قادیان کے متعلق ہے۔ حرم بیت اللہ کی خصوصیات میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ اس کے متعلق حضرت اقدس نے صاف فرمادیاہے کہ جو شخص بیت الذکر یعنی مسجد مبارک قادیان میں باخلاص وقصدتعبد وصحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا۔ وہ سوء خاتمہ سے امن میں آجاوے گا اور یہ وہ بات ہے کہ اس سے خصوصیات بیت اللہ میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی خصوصیات اس کے ساتھ ہیں اور مسجد مبارک کے متعلق بھی یہ فضل ظلی طور پر ہے مستقل طور پر نہیں۔ یعنی جب اسی قسم کی عبادت کے قصد سے جوبیت اللہ میں ہوتی ہے۔ کوئی شخص بشرائط مذکورہ مسجد مبارک میں داخل ہوگا تو وہ سوء خاتمہ سے امن میں آجاوے گا۔ کیا مختارمدعیہ یہ کہہ سکتاہے کہ مذکورہ بالاشرائط کے ساتھ داخل ہونے پر سوء خاتمہ سے امن میں آجانا بیت اللہ کے ساتھ ہی خصوصیت رکھتاہے۔ مختارمدعیہ یہ کبھی نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ سوء خاتمہ سے امن میں آنا بیت اللہ میں داخلہ کے ساتھ ہرگز مشروط نہیں۔ کروڑ درکروڑ بلکہ بے گنتی بے شمار ایسے لوگ ہوں گے جن کو بیت اللہ میں داخلہ کاموقع نہ ملاہوگا۔ مگروہ اللہتعالیٰ کے فضل سے سوء خاتمہ سے مامون اورمحفوظ رہیںگے اورجب یہ ہے تویہ امربیت اللہ سے مخصوص نہ رہا۔بلکہ عام ہوگیا اورجب عام ہوگیا تو یہ اعتراض کہ جو امر بیت اللہ کے ساتھ خاص تھا۔ وہ دوسرے مقام کے لئے تسلیم کرکے اس کو بیت اللہ کی خصوصیت میں شریک کردیاہے۔ خود بخود باطل ہوگیا۔

289

حج کی توہین

پھرمختارمدعیہ نے ایک الزام احمدیوں پر یہ لگایا ہے کہ انہوں نے حج کی بھی توہین کی۔ کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہتعالیٰ نے برکات خلافت میں لکھاہے کہ ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ لہٰذا حج کی توہین ہوئی۔ مختارمدعیہ نے جوطرز استدلال کی ایجاد کی ہے۔ اس کی روسے اگرکوئی اپنے بیٹے کانام محمد رکھ لے تو اس میں اسم محمد کی توہین لازم آجائے گی۔ اگر کوئی کہہ دے کہ فلاں شخص حضرت ابوبکر وعمرکی طرح تواس سے حضرت ابوبکراورحضرت عمر کی توہین لازم آجائے گی۔ چنانچہ تیرہویں صدی کے مجددسید احمدصاحب بریلوی کی مہر کے متعلق لکھاہے۔

سید احمدصاحب کی مہر جس پر ’’اسمہ احمد‘‘ کھداہواتھا… ہرنامہ اورمراسلہ کے خاتمہ پرسید صاحب کی مہرثبت ہواکرتی تھی۔(سوانح احمدی ص۱۷۰)

۲… اورمولوی محمداسماعیل صاحب کی مہر جس پر’’اذکر فی الکتاب اسماعیل‘‘ کندہ تھا۔(سوانح احمدی ص۱۱۷)

۳… آپ کے بڑے خلیفوں میں مولوی عبدالحئی اورمولوی محمداسماعیل صاحب شہید ہیں۔ یہ دونوں بزرگ بمنزلہ حضرت ابوبکرq وحضرت عمرq کی طرح ہیں۔ آپ کے خلفائے راشدین میں سے تھے۔(سوانح احمدی ص۱۴۲)

۴… سیداحمدصاحب بریلوی فرماتے ہیں: ’’اورجن لوگوں نے مجھے زہردیاوہ بھی حکمت سے خالی نہ تھا۔ اللہتعالیٰ نے اسی ذریعہ سے میرے جدامجد حضرت رسول اللہﷺ کی سنت کو مجھ پر جاری کردیا۔‘‘ (سوانح احمدی ص۱۰۴)

اب مختارمدعیہ کے طرز استدلال اختیارکرتے ہوئے مذکورہ بالا اقوال سے ماننا پڑتاہے کہ سیداحمدصاحب بریلوی نے آنحضرتﷺ کی توہین کی ہے۔ جب کہ اپنی زہرخورانی کے واقعہ کوآنحضرتﷺ کے زہرخورانی کے واقعہ سے تشبیہ دی اوراپنی مہر پراسمہ احمدکندہ کرواکر آیت اسمہ احمد کی توہین کے علاوہ آنحضرتﷺ کی توہین کی اور مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید نے آیت:’’اذکر فی الکتاب اسمعیل‘‘ کی توہین کے علاوہ حضرت اسماعیلm کی توہین کی اورمولوی عبدالحئی اورمولوی اسماعیل صاحب شہید کوبمنزلہ حضرت ابوبکر وحضرت عمر قراردے کر حضرت ابوبکروحضرت عمر کی توہین کی اورمولوی فضل الرحمن صاحب دیوبندی نے مولوی محمدقاسم صاحب کی تاریخ وفات یہ نکالی ہے۔

وفات سرورعالم کا یہ نمونہ ہے۔(حالات طیب مولوی محمدقاسم صاحب مطبوعہ صادق الانواربہاولپورص۳۳)

مختارمدعیہ کے طرز استدلال پرتواس قول سے آنحضرتﷺ کی سخت توہین لازم آئی۔ کیونکہ جب مولوی محمدقاسم صاحب کی وفات سرورعالم آنحضرتﷺ کی وفات کانمونہ قراردی گئی تومولوی محمدقاسم صاحب آنحضرت کانمونہ ٹھہرے۔ پس کیامختارمدعیہ ان مذکورہ بالابزرگوں کوبھی کافر اورمرتدقراردے گا۔

مقبرہ بہشتی

مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پرایک الزام یہ بھی لگایاہے کہ آپ نے آنحضرتﷺ کے قبرستان کی بھی توہین کی۔ کیونکہ آپ نے اپنے قبرستان کے متعلق کہا کہ جواس میں دفن کیا جائے گا وہ بہشتی ہوگا۔ لہٰذا آنحضرتﷺ کے قبرستان کی اس سے توہین ہوئی۔

اگر ایک قبرستان کے متعلق حضرت مسیح موعود نے بوحی الٰہی یہ فرمادیا کہ اس جگہ وہی دفن کیاجائے گا جواللہتعالیٰ کے علم میں بہشتی ہوگا تو اس سے آنحضرتﷺ کے قبرستان کی توہین نکالنا اہل عقل کی سمجھ سے بالکل بالاہے۔ دیکھو مجددالف ثانی صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’جیسے

290

زمین روضۂ منورہ خاتم الرسلa زمین جنت سے ہے۔ چنانچہ حدیث میں’’مابین بیتی ومنبری روضۃ من ریاض الجنۃ‘‘ اس پردال ہے۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے بکمال فضل بباعث عنایت اتباع حضرت محمدa مرے روضہ کی زمین کوبھی جنت کہاہے۔ چنانچہ اگرکوئی میری قبرسے ایک مشت خاک لے کر اپنی قبر میں ڈالے تواس کی نجات کے واسطے امید عظیم ہے۔ فکیف من دفن فیہ‘‘ (مقامات امام ربانی ص۱۰۷)

اوراسی طرح آپ کے متعلق لکھاہے: ’’ایک روز ایک قبرستان میں تشریف لے گئے۔ دل میں گزرا کہ حدیث شریف میں آیاہے کہ اگرعالم کسی مقبرہ پرگزرے توچالیس دن تک اس قبر کاعذاب موقوف ہوجاتاہے۔ بمجرد اس خطرہ کے الہام ہوا کہ تیرے گزرنے کی وجہ سے ان اہل قبور کاتاقیامت عذاب موقوف کیا۔‘‘(مقامات امام ربانی ص۹۰)

عبارت بالا میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی نے اپنے روضہ کوآنحضرتﷺ کے روضہ مبارک کے مانندقراردیاہے اور مختارمدعیہ کے نقطہ نظر کے لحاظ سے یہ بہت ہی بڑی ہتک ہوئی، تو کیا۔ مختارمدعیہ امام ربانی مجددالف ثانی کوبھی روضہ نبیa کی اہانت کا مرتکب قراردے کر کافر اورمرتد ٹھہرائے گا اور فتویٰ کفرلگائے گا۔

یہ تھے جوابات مختارمدعیہ کے الزامات بلکہ اتہامات توہین کے اور ان سے ظاہرہے کہ ان کے یہ اتہامات کیسے لغواورباطل ہیں۔

کیاتکفیر وجہ ارتداد وفسخ نکاح ہوسکتی ہے؟

گواہان مدعیہ نے ایک وجہ احمدیوں کے ارتداد کی یہ قراردی تھی کہ چونکہ احمدی غیراحمدیوں کی تکفیر کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی تکفیر کرنے کی وجہ سے خود کافر اورمرتد ہیں۔ اس لئے ان کا نکاح کسی مسلمان مرد وعورت سے درست نہیں ہوسکتا۔ اس کے جواب میں گواہان مدعاعلیہ نے یہ ثابت کیاتھا کہ اگرتکفیر وجہ ارتداد اور فسخ نکاح ہوسکتی ہے تومسلمانوں کے تمام فرقے ایک دوسرے کی تکفیر کرکے مرتد ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ان کے نکاح فسخ ہونے چاہئیں اور ان کی اولاد کواولازنا قراردینا چاہئے۔ نیز منہاج السنۃ ابن تیمیہ کے حوالہ سے ثابت کیاتھا کہ خوارج حضرت علیq کو بالاتفاق کافرکہتے تھے۔ مگر یہ ثابت نہیں کہ حضرت علیq نے ان کی تکفیر کی وجہ سے ان کو مرتد اوردین سے خارج خیال کرکے ان کے نکاح وغیرہ فسخ کئے ہوں۔ بلکہ انہیں مسلمان قراردیا اور مسلمانوں والے ان سے معاملات کئے۔

نیزگواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح یہ کہاہے۔ جن ائمہ نے اس حدیث یعنی’’من ترک الصلٰوۃ متعمداً فقد کفر‘‘ کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر کہاہے۔ ان لوگوں کوکافر نہیں کہاجاسکتا۔ نیز احمدرضاخان بریلوی جس نے دیوبندیوں پر کفروارتداد کا فتویٰ لگایا۔ ان کے متعلق گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بجواب جرح کہا: ’’ہم احمدرضاخان بریلوی کے فرقہ کو کافرنہیں کہتے۔ احمدرضاخان کوبھی ہم کافر نہیں سمجھتے۔‘‘ پس ا س سے ظاہرہے کہ محض کسی کو کافرکہنا وجہ کفروارتداد نہیں ہوسکتی۔

پس اوّل تویہاں یہ بحث نہیں کہ احمدی، غیر احمدیوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ بلکہ صرف بحث یہ ہے کہ احمدی مسلمان ہیں یا نہیں۔ پس اگر احمدی دیگر مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوں اوردائرہ اسلام سے خارج جانتے ہوں توپھربھی محض تکفیران کے کفر اوراردتداد کی وجہ نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اوپر ثابت کیاجاچکاہے اوردائرہ اسلام سے خارج ہونے سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے ایک فرستادہ کے منکر ہیں۔ مختارمدعیہ نے (آئینہ صداقت ص۳۵) کا حوالہ دیاتھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ان مسلمانوں کوبھی جنہیں دعوت نہیں پہنچی۔ خارج از دائرہ اسلام قراردیاہے۔ سو میں اس کتاب سے اس کی تشریح بیان کرتاہوں آپ فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک کفر کی یہ تعریف ہے کہ ایسے اصول میں سے کسی اصل کانہ ماننا جن کے نہ ماننے سے نہ ماننے والاخداتعالیٰ کاباغی قرارپاوے اورجن کے نہ ماننے سے روحانیت مرجائے۔ یہ نہیں کہ ایسا شخص ہمیشہ کے لئے غیرمحدود عذاب میں مبتلاکیاجاوے اورچونکہ اسلام کے احکام کی بناء ظاہریہ ہے۔ اس لئے جو لوگ کسی نبی کو نہیں

291

مانتے خواہ اس وجہ سے نہ مانتے ہوں کہ انہوں نے اس کانام نہیں سنا کافر کہلائیں گے۔ گوخداتعالیٰ کے نزدیک وہ مستحق عذاب نہ ہوں گے۔ کیونکہ ان کا نہ ماننا ان کے کسی قصور کی وجہ سے نہ تھا۔ چنانچہ سب مسلمان باتفاق ان لوگوں کوجومسلم نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے رسول کریمa کانام سناہے یانہ سنا ہو کافر ہی کہتے چلے آئے ہیں اورآج تک ایک شخص نے بھی آئیس لینڈ کے اسکیموز یاامریکہ کے ریڈانڈنیز یاافریقہ کے پانٹٹاس یاآسٹریلیا کے وحشیوں کے مسلمان ہونے کا فتویٰ نہیں دیا اورنہ ان ہزاروں لاکھوں عیسائیوں کی نسبت فتویٰ اسلام دیاہے جوپہاڑوں یااندرون یورپ کے رہنے والے ہیں اور جنہیں رسول کریم کی تعلیم کاکوئی علم نہیں۔‘‘(آئینہ صداقت ص۳۷، ۳۸)

اورص۸۵ میں آپ نے فرمادیاہے: ’’بے شک ہم ان کو کافرباللہ یعنی دہریہ نہیں کہتے۔ مگر ان کے کافر بالمامور ہونے میں کیا شبہ ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو راست باز مانتے ہیں۔ پھر ہمیں کیوں کافر کہاجائے۔ وہ سوچیں کیا راست باز جھوٹ بھی بولتے ہیں۔ اگر مرزا صاحب راست باز تھے توپھر ان کے دعوئوں کے قبول کرنے میں کیا عذرہوسکتاہے۔‘‘ اورہمارا یہ عقیدہ بعینہٖ مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ جووہ مسیح موعود کی نسبت رکھتے ہیں۔

چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۴ نے بھی بجواب جرح ۳۱؍اگست کوتسلیم کیاہے کہ عیسیٰ ابن مریمn کے نزول کے وقت جوشخص ان کو نہ مانے گا مسلمان نہیں ہوگا۔

گواہان مدعیہ اور مختارمدعیہ نے یہ بھی اعتراض کیاہے کہ مرزا صاحب نے انجام آتھم میں لکھاہے کہ میرا دشمن جہمنی ہے۔ حالانکہ یہ امرقابل اعتراض نہ تھا۔ کیونکہ مولانامحمداسماعیل صاحب شہید نے اپنی کتاب منصب امامت میں بڑی وضاحت سے اس کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ازاں جملہ توقف نجات اخرویست براطاعت اور(یعنی امام وقت) یعنی چونکہ اگر کسے بہزار وجہ درمعرفت الٰہیہ وتہذیب نفس جدوجہد تمام وسعی مالاکلام بجاآورد اما وقتیکہ ایمان بالرسل ندارد ہرگز نجات اخروی بدست نخو اہد آورد۔ وخلاص از غضب جبار ودرکات نار نخواہدیاہم چنیں ہرچند عبادات شرعیہ وطاعات دینیہ بجاآورد وجدوجہد تمام درامتثال احکام اسلام برروی کار آرد اما تا وقتیکہ درطاعت امام وقت گردن نہدو اقرار بامامت اونکند ہرگز عبادت مذکورہ درآخرت کارآمدنی نیست واز داروگیررب قدیرخلاص یافتنی نہ من لم یعرف امام زمانہ قدمات میتۃ جاہلیۃ‘‘ (منصب امامت ص۶۳،۶۴)

پھرگواہان مدعاعلیہ نے اور اماموں کے اقوال بھی پیش کئے تھے کہ جوشخص اسلام کااقرارکرتاہے وہ تمام معاملات میں ائمہ اورحکام کے نزدیک بھی مسلمان ہی سمجھاجائے گا۔ اگرچہ وہ درحقیقت کافر اورمستوجب جہنم ہو۔ ان اقوال میں سے ایک قول منصب امامت مصنفہ مولوی محمداسماعیل صاحب شہید کاپیش کیاتھا جس کے متعلق مختارمدعیہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جودعویٰ اسلام کاکرتے ہیں اوران کاایمان واسلام ظاہر ہے اور کفرچھپاہواہے اور دعویٰ کی تصدیق شعار اسلامی سے کرتے ہیں۔ شریعت سے دستبردار نہیں۔

اب میں منصب امامت کی اصل عبارت پیش کرتاہوں اوروہ یہ ہے: ’’ہرچند امثال ایں سلاطین فی الحقیقت ازقبیل کفاراشرار اندواز جنس اہل نار اماازبسکہ بزبان خود دعویٰ اسلام میکنند پس کفرایشاں مستوراست وایمان ایشاں ظاہروشاہد تصدیق ہمیں دعویٰ ظاہری ازرسوم اسلام مثل عقد نکاح وختان واظہار تحمل بروز عید الفطر والضحیٰ وتجہیز وتکفین ونماز جنازہ ودفن درمقابر مسلمین درمیان خود جاری مے دارند واز شرع ربانی بالکل دست بردارنمے شوند… اسلام ظاہری مقتضی ہمیں معنی است کہ بایشاں دراحکام دینویہ معاملہ مسلمین بعمل آرند وایشاں راہم درباب معاملات از جنس مسلمین شمارند گوکہ درآخرت باکفاراشرار دردرکات نار مخلد باشند۔‘‘ (منصب امامت ص۹۴)

پس جب کہ ایسے نام کے مسلمانوں سے جودرحقیقت کفار اشرار اوراز جنس اہل نار ہیں۔ مولانا اسماعیل شہید صاحب کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کے زبانی اسلام کادعویٰ کرنے کی وجہ سے معاملات نکاح وشادی وغیرہ میں مسلمانوں کاسامعاملہ کرناچاہئے توپھر ان حوالوں کے ہوتے

292

کسی شخص کاحق نہیں کہ وہ احمدی مردوں سے جوکہ مسلمان ہونے کے مدعی اورشریعت اسلامیہ سے دست بردار نہیں اور اپنے دعویٰ کی تصدیق تمام اسلامی شعائر کوبجالانے سے کرتے ہیں۔ حکام وقت سے استدعاکرے کہ ان سے نکاح وغیرہ معاملات حرام قراردئیے جاویں۔

کیا غیراحمدی اہل کتاب نہیں

مختارمدعیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں کہاتھا کہ گواہان مدعاعلیہ نے کہا ہے کہ مدعیہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے نکاح میں رہ سکتی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ ’’الاالذین اوتواالکتاب من قبلکم‘‘ کے الفاظ مدعیہ کا استثناء کرتے ہیں۔ یہ آیت پہلے اہل کتاب کے متعلق ہے۔ گویا کہ مختارمدعیہ کے نزدیک قرآن کتاب ہی نہیں ہے۔ غور کرناچاہئے کہ کتابی عورتوں سے نکاح کے جواز کی علت اورسبب کیاہے وہ یہی ہے کہ انہیں خداتعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب دی گئی تھی۔ باوجودیکہ وہ کتابیں جو انہیں دی گئیں تھیں محرف ومبدل ہوگئیں۔ لیکن پھر بھی ان اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز رکھاگیاتوپھر وہ لوگ کہ جن کوقرآن مجید جیسی کامل کتاب دی گئی جوتحریف وتبدیل سے محفوظ ہے اور جس کواللہتعالیٰ باربار کتاب کے لفظ سے پکارتاہے۔ کیوں اہل کتاب نہ ہوں اور اسی وجہ سے بعض علماء نے شیعہ کواہل کتاب قراردیاہے۔ چنانچہ مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی ایک استفتاء کاجواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’رافضی کے کفر میں اختلاف ہے۔ جوعلماء کافر کہتے ہیں بعض نے اہل کتاب کاحکم دیاہے۔ بعض نے مرتد کاپس درصورت اہل کتاب ہونے کے عورت رافضیہ سے مرد سنی کا نکاح درست ہے اور عکس اس کے ناجائز اوربصورت ارتداد ہرطرح ناجائز ہوگا۔‘‘(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۱۷)

پس مسلمان بھی اہل کتاب ہیں۔ اس لئے احمدیوں کے نزدیک ایک احمدی مرد کاسنی عورت سے نکاح قرآن وحدیث کی روسے جائز ہے۔ اس لئے مدعیہ کا دعویٰ خارج ہوناچاہئے اور نکاح کو بحال رکھتے ہوئے فیصلہ بحق مدعاعلیہ ہوناچاہئے۔

کیامدعیہ مشرکہ ہے؟

مختارمدیہ نے ۱۸؍اکتوبر کی بحث میں احمدی سے سنی عورت کا نکاح جائز نہ رکھنے کی ایک وجہ اختلاف عقائد کے علاوہ یہ قراردی ہے کہ احمدی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس کے بچوں کی بھی نماز جنازہ نہیں پڑھتے۔ نیز حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ایک خطبہ مندرجہ الفضل ۲۵؍اپریل۱۹۳۰ء میں لکھاہے کہ ساری دنیا ہی دشمن ہے اور آپ کی تقریر (تقدیرالٰہی ص۲۹) میں لکھاہے کہ: ’’پہلے مسیح کو اس کے دشمنوں نے سولی پرچڑھایا۔ اب یہ مسیح آیا تو دشمنوں کو سولی پرلٹکائے۔‘‘ اس لئے ڈرہے کہ جب وہ کسی سنی عورت سے شادی کریں تو اسے سولی پر نہ لٹکادیں۔

مختارمدعیہ نے جس سادگی سے اس شبہ کااظہار کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ گویااحمدیوں کے گھروں میں سولیاں کھڑی ہوئی ہیں۔ جہاں کوئی سنی عورت کسی احمدی کے گھر گئی اور انہوں نے اسے سولی پر لٹکایا۔ جس دشمنی کا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ذکرفرمایا ہے وہ وہی ہے جومولوی لوگوں کی طرف سے ہورہی ہے اوراحمدیوں کے خلاف افتراء پردازی سے کام لے کرعوام الناس کے خیالات کومسموم کرتے ہیں۔

مختارمدعیہ کو مسلم ہے کہ ایک مسلمان کے لئے بہ نص قرآن ایک یہودی عورت کے ساتھ شادی کرناجائز ہے۔ لیکن اس جواز کے ساتھ ہی یہود کو مومنوں کاسخت دشمن قراردیاہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا الیہود والذین اشرکوا (مائدہ ع۱۱)‘‘ کہ اے مخاطب تویہودیوں اورمشرکوں کومومنوں کا بہ نسبت دوسرے لوگوں کے سخت دشمن پائے گا۔ پس باوجود یہود کے تلخ ترین دشمن ہونے کے مسلمانوں کے لئے ایک یہودی عورت سے نکاح کرناجائز قراردیاگیاہے۔ نظربرآں اگرغیراحمدی ہمارے دشمن بھی ہوں تو بھی ایک احمدی کا اپنے دشمن قوم کی عورت سے نکاح جائز ہے۔ جیسا کہ ایک مسلمان کا اپنے سخت ترین دشمن قوم یہود

293

کی عورت سے نکاح جائز ہے۔

رہاغیراحمدی امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کاسوال تو وہ ایک عورت سے نکاح کرنے کے وقت اٹھ ہی نہیں سکتا اور اس کی جواولاد ہوگی وہ احمدی ہوگی۔ اس لئے ان کی نماز جنازہ کا بھی سوال پیش نہیں آتا اور اگر اس قسم کے امور شادی کے جواز میں مانع ہوسکتے ہیں تو مسلمانوں کی شادی یہودی یانصرانی عورت سے بھی ناجائز ہونی چاہئے۔ کیونکہ وہ مسلم نہ تو اس کے پیچھے نماز پڑھتاہے نہ اس کی نماز جنازہ اورنہ ان سے رشتہ ناطہ وغیرہ کرناجائز سمجھتاہے۔

پس بیان مذکورہ سے نہایت صفائی کے ساتھ ثابت ہے کہ مختارمدعیہ کی بیان کردہ وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی از روئے قرآن مجید جس میں صریح طورپر یہودی اورنصرانی عورت سے شادی جائز قراردی گئی ہے۔ ایک احمدی کی فرقہائے اسلام میں سے کسی فرقہ کی عورت سے شادی کے جواز میں روک نہیں ہوسکتی۔

اگرچہ مختارمدعیہ کے متعلق سولی پرلٹکادئیے جانے کا جوخدشہ پیش کیاہے۔ میں اس کے متعلق کافی وجوہ تسکین پیش کرکے اطمینان دلاچکاہوں۔ لیکن چونکہ مختارمدعیہ سولی سے بہت ہی خائف نظرآتاہے۔ اس لئے میں زیادہ سے زیادہ تسکین وتسلی کی غرض سے وہ تعلیم بھی پیش کئے دیتاہوں جوحضرت اقدس مسیح موعود نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق دی ہے آپ فرماتے ہیں: ’’جوشخص اپنی اہلیہ اوراس کے اقارب سے نرمی اوراحسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے… ہرایک مرد جو بیوی سے یابیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے۔ وہ میری جماعت سے نہیں ہے۔‘‘ (کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۹)

احمدی شریعت اسلامیہ کے پابند

۱۰؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے کہاہے کہ کسی اہل کتاب مرد سے لڑکی نکاح نہیں کرسکتی۔ البتہ اہل کتاب کی لڑکی سے مرد نکاح کرسکتاہے۔ فریق ثانی کی طرف سے کہاگیاہے کہ اگر کوئی احمدی لڑکی غیراحمدی مرد سے نکاح کرے تووہ نکاح فسخ نہیں ہوجاتا۔ پس شریعت اسلامیہ کا مسئلہ تو یہ ہے کہ کوئی مسلمان لڑکی اہل کتاب کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ لیکن شریعت احمدیہ میں ہے کہ مسلمان لڑکی اہل کتاب کے ہاں جاسکتی ہے۔ یہ شرعی حکم ہوا جوپہلے شریعت اسلام میں جوموجود نہیں۔ لیکن یہ بھی منجملہ اور مغالطات کے مختارمدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ گواہان مدعاعلیہ نے یہ بالکل نہیں کہا کہ احمدی لڑکی کا غیراحمدی مرد سے نکاح جائز ہے۔ بلکہ گواہ مدعاعلیہ نے یکم ؍مارچ کوبجواب جرح اس امر کی تصریح کی ہے کہ احمدی اپنی لڑکی کارشتہ غیراحمدی سے کرناجائز نہیں سمجھتے اور پھر یہ کہا ہے کہ: ’’احمدی میاں بیوی سے اگرکوئی مرتد ہوجاوے یعنی غیراحمدیوں میں شامل ہوجاوے تو اس کا نکاح جیسا کہ تعامل ہے باقی رہے گا اور۱۲؍مارچ کو بجواب جرح اس کی توضیح بھی کردی تھی۔

’’اگرکوئی احمدی اس وقت غیراحمدی سے اپنی لڑکی کانکاح کردے توہم اس نکاح کو باطل قرارنہیں دیتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی اولاد زنا کی اولاد سمجھی جاوے گی۔ البتہ ہمارے نزدیک نکاح جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر کردے تو نکاح فسخ نہیں ہوگا اورنکاح فسخ نہ ہونے کی وجہ بھی بیان کردی تھی۔‘‘

کہ جب کوئی حکومت اسلامیہ شرعیہ قائم ہوتو اس میں چونکہ قاضی اورمفتی اورحد لگانے والے سب محکمہ موجود ہوں گے۔ اس لئے مرتد کے فسخ نکاح کے لئے بھی قضاء قاضی کی ضرورت ہوگی اور جہاں حکومت اسلامیہ قائم نہ ہوتو جوقانون رائج ہے۔ اس کے مطابق فیصلہ ہوگا اورشریعت اس کے فیصلوں کے متعلق یہ حکم نہیں لگائے گی کہ یہ نکاح باطل ہے اور ان کی اولاد حرام کی اولاد ہے اور اگرکوئی اسلامی ریاست ہوگی تو اس کا جوقانون رائج ہے، وہ جاری ہوگا۔ یعنی اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

294

یہ صاف اورواضح بیان تھا کہ جس کے بعد مذکورہ بالا اعتراض کی قطعاً گنجائش نہ تھی۔ کیونکہ اس میں صاف طورسے یہ ذکرکردیاگیاتھا کہ احمدی لڑکی کاغیراحمدی مرد سے نکاح تو جائز نہیں۔ لیکن اگرکوئی کردے تو وہ نکاح شریعت کے رائج اس وقت قانون کی وجہ سے فسخ اورباطل نہیںہوگا اورجومعاملات نکاح وغیرہ کے کسی قانون کے ماتحت کئے جائیں۔ انہیں شریعت باطل نہیں ٹھہراتی۔ فرض کرو ایک مسلمان مرد مرتدہوگیا اور فقہ حنفیہ کی روسے مرتد ہونے کی حالت میں اس کا کسی سے بھی نکاح جائز نہیں۔ جیسا کہ ۳۰؍اگست کوگواہ نمبر۴نے کہاہے: ’’مرتدکے ساتھ کسی سابقہ منکوحہ کانکاح قائم نہیں رہتااورنہ آئندہ حرہ یا لونڈی کا اختیارہے۔‘‘ اوریہی بات کتب فقہ ہدایہ وغیرہ میں لکھی ہے۔ لیکن موجودہ وقت میں اگرکوئی مرد نکاح کرلے جوقانوناً جائز ہے اورپھراس کے بعدوہ اسلام میں داخل ہوجائے تو اس کے پہلے نکاح کوباطل قرار دے کر اس کی پہلی اولاد کو اولاد حرام قرارنہیں دیاجائے گا۔ پس معلوم ہواکہ جب کسی قانون کے ماتحت نکاح کیا جاوے تو اگرچہ وہ شریعت کی رو سے جائز نہ بھی ہوتوبھی اس کے متعلق شریعت فسخ اورباطل ہونے کا فتویٰ دے کر اس سے پیدا شدہ اولاد کو حرام کی اولاد قرارنہیں دیتی۔

اس امر میں احمدیوں سے گواہان مدعاعلیہ کا ضرور اختلاف ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک توان مسلمان فرقوں کے نکاح جنہیں وہ اپنے زعم میں کافر اورمرتد خیال کرتے ہیں۔ باطل اوران کی اولاد حرام کی اولاد ہے۔ جیسا کہ مولوی مرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ نمبر۲اپنی کتاب الکوکب الیمانی علی اولاد الزدانی کے ٹائٹل پیج پر لکھتے ہیں: ’’مولوی احمدرضاخان صاحب بریلوی اوراس کے جملہ معتقدین مردوں عورتوں کانکاح دنیا میں کسی سے صحیح نہیں۔ باطل محض وزنائے صرف ہے جس کی بناء پر اولاد کا بھی حرامی اورمحروم الارث ہونالازم آتاہے۔‘‘

اور(ص ۷) پر لکھتے ہیں: ’’اوران کی عورتوں مردوں کا مسلمان عورت ومرد سے نکاح جائز نہیں۔بلکہ آپس میں اگر نکاح کریں تووہ بھی زنائے محض ہے۔‘‘

اورمولوی احمدرضاخان صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’مدعیان اسلام میں جوعقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتدہے… اور مرد مرتدخواہ عورت کانکاح تمام عالم میں کسی عورت ومردمسلم یاکافر مرتد یا اصلی کسی سے نہیں ہوسکتا… اوراگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتامگرکبیرائے وہابیہ۔ (یعنی مولوی اسماعیل صاحب شہید وغیرہ شمس)

اورمولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی فرماتے ہیں: ’’جس کے نزدیک رافضی کافرہے۔ وہ فتویٰ اوّل ہی سے بطلان نکاح کا دیتاہے۔ اس میں اختیار زوج کا کیا اعتبارہے۔ پس جب چاہے علیحدہ ہوکر عدت کرکے نکاح دوسرے سے کرسکتی ہے اور جوفاسق کہتے ہیں اس کے نزدیک یہ امر ہرگز ہرگز درست نہیں کہ نکاح اوّل صحیح ہوچکا ہے اوربندہ اوّل مذہب رکھتاہے۔ فقط: واللہ تعالٰی اعلم۔علی ہذا رافضی اولاد سنی کو ترکہ سنی سے نہ ملے گا۔‘‘(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۳۲)

پس گواہان مدعیہ اوراس کے ہم خیالوں کے نزدیک توروافض اوردیوبندیوں کے نزدیک رضاخانیوں اوررضاخانیوں کے نزدیک دیوبندیوں اوراس طرح مقلدوں کے نزدیک غیرمقلدوں اورغیرمقلدوں کے نزدیک مقلدوں کے نکاح باطل اورزناء محض ہیں اورآج کل مسلمان فرقوں کا گزارہ ان کے نزدیک زناپرہی چل رہاہے اوران کی اولادیں بھی حرام کی اولادیں ہیں۔ کیونکہ ہرایک فرقہ ایک دوسرے کوکافر اورمرتد قراردے کران کے نکاح فسخ اورباطل قراردے چکاہے۔ لیکن ہمارے نزدیک ان کے نکاح درست ہیں اور فسخ اورباطل نہیں کہ ان کی اولادوں کی ا ولاد زنا قراردینا پڑے۔ کیونکہ وہ ایک رائج الوقت شرعی قانون کے ماتحت کئے گئے ہیں اوراس قانون کی رو سے تمام مدعیان اسلام مسلمان قراردئیے گئے ہیں۔ ہاں! اگرکوئی ریاست مولویوں کی اس خاص شریعت کوجس کے بعض فتاویٰ

295

کااوپرذکرکیاگیاہے جاری کرناچاہتی ہے تواسے اختیار ہے۔ لیکن کسی مقدمہ پراس قانون خاص کو جاری کرنے سے پہلے شرعاً قانوناً اور عقلاً یہ ضروری ہے کہ وہ اس قانون کوا پنی ریاست میں شائع کرے۔

مذکورہ بالا تمام تقریر سے ظاہرہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے یکم اور۲؍مارچ کو جوبیان کیاہے وہ بالکل درست اورشریعت اسلامیہ کے قطعاً مخالف نہیں ہے اور مختارمدعیہ کا آخربحث میں یہ کہنا کہ گواہان مدعاعلیہ نے تسلیم کیاہے کہ جب کوئی مسئلہ قرآن وحدیث میں مصرح نہ ہوتو وہاں فقہ حنفیہ پرعمل ہوگا۔ ایک مغالطہ ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے یکم ؍مارچ کو بجواب جرح کہ کیا آپ فقہ حنفیہ کے پابند ہیں؟ یہ کہاتھا کہ فقہ حنفیہ سے اگر یہ مراد ہو کہ جوکچھ فقہ کی کتابوں میں لکھاہواہے ان سب باتوں کے ہم پابند ہیں تو نہیں۔ لیکن قرآن مجید اوراحادیث کے بعد ان میں جوبات قرآن وحدیث کے اقرب ہواس کو لیں گے۔

پھرمختارمدعیہ نے (نہج المصلی ص۱۲) کی عبارت پیش کی تھی جس میں حضرت مسیح موعود نے فقہ حنفیہ پرعمل کرنے کے متعلق ارشاد فرمایاہے۔ لیکن مختارمدعیہ نے وہ پوری عبارت نہیں لکھوائی تھی۔ بلکہ اس کے ساتھ کے فقرہ کوچھوڑ دیاتھا۔ پوری عبارت یہ ہے: ’’ہماری جماعت کا یہ فرض ہوناچاہئے کہ اگرکوئی حدیث معارض اورمخالف قرآن اور سنت نہ ہوتوخواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہو۔ اس پروہ عمل کریں اورانسان کی بنائی ہوئی فقہ پراس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اورنہ قرآن میں اور نہ سنت میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کرلیں۔ کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خداکے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اوراگربعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میںعلماء اس سلسلہ کے اپنے خداداد اجتہاد سے کام لیں۔‘‘

اس لئے مقدمہ ہذا میں مدعاعلیہ کے عقیدہ کودیکھا جائے گا اور وہ یہ ہے کہ احمدی مرد غیراحمدی سنی عورت سے شرعاً نکاح کرسکتاہے اورچونکہ رائج الوقت شرعی قانون کی روسے غیراحمدیوں اوراحمدیوں کومسلمان تسلیم کیاگیاہے۔ اس لئے اگرکوئی احمدی عورت کاغیراحمدی سے یاغیراحمدی عورت کا احمدی مرد سے نکاح کردیا۔تاہم وہ نکاح باطل اورفسخ سمجھ کر اس کی اولاد کوزنا کی اولاد نہیں سمجھا جائے گا۔ جماعت احمدیہ کا فقہ حنفیہ سے بعض موجودہ تغیرات کی بناء پر مرتد کے احکام کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔

اورجوحوالے فقہ حنفیہ کی کتب سے ختم نبوت کے بارے میں پیش کئے گئے ہیں۔ اگر(لیکن جیسا کہ گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں وضاحت سے بتادیاہے کہ انہوں نے ختم نبوت سے اس قسم کی نبوت کا بند ہونا مراد نہیں لیا جس کا دعویٰ حضرت مسیح موعود کوہے) ان سے مراد اس قسم کی نبوت ہے جس کا دعویٰ حضرت مسیح موعود نے کیاہے۔ تاہم حضرت مسیح موعودنے جہاں مذکورہ بالا تحریرجس میں فقہ حنفی پر عمل کرنے کے لئے لکھاہے۔ اسی جگہ ختم نبوت کے معنی بھی تحریر کردئیے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی چاہئے کہ نہ توختم نبوت آنحضرتﷺ کا انکارکریں اور نہ ختم نبوت کے یہ معنی سمجھ لے ویں کہ جس سے امت پرمکالمات اورمخاطبات الٰہیہ کا دروازہ بندہوجاوے اوریادرہے کہ ہمارایہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اورآخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں جو صاحب شریعت ہویا بلاواسطہ متابعت آنحضرتﷺ وحی پاسکتاہو۔ بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بندہے اورمتابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔ وہ وحی حق جواتباع کانتیجہ ہے، کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ مگر نبوت شریعت یانبوت مستقلہ منقطع ہوچکی ہے۔ ولاسبیل الیہا الٰی یوم القیامۃ ومن قال انی لست من انہ محمدa وادعی انہ نبی صاحب الشریعۃ اومن دون الشریعۃ ولیس من الامۃ فمثلہ کمثل رجل غمرہ السیل المنہمرفالقاہ وراء ہ ولم یغادر حتی مات‘‘ (نہج المصلی ص۱۴،۱۵ بحوالہ ریویوبرمباحثہ محمدحسین بٹالوی وچکڑالوی)

296

اصولی اختلاف

مختارمدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے جواب کہ احمدیوں اورغیراحمدیوں میں ایک لحاظ سے فروعی اورایک لحاظ سے اصولی اختلاف ہے… کے متعلق کہا ہے کہ جب گواہ کو مسلم ہے کہ فروعی بھی اختلاف ہے اور اصولی بھی اس لئے نماز، روزہ، وحدانیت وغیرہ دونوں ایک نہیں ہوسکتے اوریہ مختارمدعیہ کا صریح مغالطہ ہے۔ کیونکہ مدعاعلیہ نے اپنے بیان میں وضاحت کے ساتھ اپنے عقائد لکھ کر یہ بتادیاہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا کوئی عقیدہ خدا اور رسول کے فرمودہ کے خلاف نہیں ہے۔

اورخلیفہ اوّل کا یہ فرمانا کہ احمدیوں اورغیراحمدیوں میں اصولی اختلاف ہے۔ اس سے قطعاً یہ مراد نہیں کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ مختارمدعیہ نے عدالت کو دیدہ ودانستہ مغالطہ دینے کے لئے کہاہے۔ کیونکہ جوحوالہ خلیفہ اوّل کا نہج المصلی سے دیاگیاہے اس میں یہ صاف لکھاہے: ’’جس طرح پروہ نماز پڑھتے ہیں ہم بھی اسی طرح پڑھتے ہیں اورزکوٰۃ اورحج اورروزوں کے متعلق ہمارے اوران کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘ (نہج المصلی ص۲۷۴)

اس تصریح کے ہوتے ہوئے کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتاہے کہ اصولی اختلاف سے مراد نماز وروزہ وغیرہ میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ مختارمدعیہ نے کہا ہے اور اصولی فرق کی بھی حضرت خلیفہ اوّل نے تشریح کردی ہے۔ فرماتے ہیں: ’’میری سمجھ میں ہمارے اوران کے درمیان اصولی فرق ہے اوروہ یہ ہے کہ ایمان کے لئے ضروری ہے کہ اللہتعالیٰ پرایمان ہو۔ اس کے ملائکہ پرکتب سماویہ پر اوراس کے رسل پر، خیروشر کے اندازہ پر اوربعث بعد الموت پر۔ اب غور طلب امر یہ ہے ہمارے مخالف بھی یہ امر مانتے ہیں اوراس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی ہمارا اوران کا اختلاف شروع ہوجاتاہے۔ ایمان بالرسل اگر نہ ہوتوکوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہوسکتا اورایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے ہوں یابعد میں ہندوستان میں ہوں یا کسی اورملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہوجاتاہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتائو کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھاہے: ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتاہے۔ رہی یہ بات کہ آنحضرتﷺ کو قرآن مجید میں خاتم النّبیین فرمایاہے۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگرکوئی شخص آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق کافرہے۔ یہ جداامر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔‘‘ (نہج المصلی ص۲۷۴،۲۷۵)

پس اصولی اختلاف مسیح موعود کی ماموریت کے لحاظ سے ہے نہ کہ نماز وروزہ وغیرہ احکام کے لحاظ سے اورگواہ مدعاعلیہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فروعی اختلاف بھی ہے اور اصولی بھی بلکہ اس نے یہ کہاتھا کہ ایک لحاظ سے فروعی اختلاف بھی ہوسکتاہے اور ایک لحاظ سے اصولی اوراس کا منشاء یہ تھا کہ قرآن مجید کوخداتعالیٰ کاکلام مانتے ہیں اور نماز وروزہ وزکوٰۃ وغیرہ کی فرضیت میں کچھ اختلاف نہیں۔ آنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین یقین کرتے ہیں تو اسی لحاظ سے دوسرے معمولی اختلافات فروعی کہلائیں گے اوراصولی اختلاف اس لحاظ سے کہ قرآن مجید میں ایک اصل ایمان کاایمان بالرسل ذکرکیاگیاہے۔ مسیح موعود چونکہ خدا کے مامورہیں اورقرآن مجید واحادیث کی روسے ان پر ایمان لانافرض ہے۔ اس لحاظ سے اصولی فرق ہے۔ پس گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کا یہ قطعاً منشاء نہیں تھا کہ فروعی اختلاف سے مراد نماز روزہ وزکوٰۃ وحج وغیرہ میں اختلاف ہے۔

297

کیا مدعاعلیہ اورمدعیہ کاعلیحدہ علیحدہ مذہب ہے

مختارمدعیہ نے فریقین مقدمہ کے علیحدہ علیحدہ مذہب ہونے کے ثبوت میں ۸؍اکتوبر کی بحث میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ مدعیہ اپنے استدلال اورمذہب کامعیار یہ مقررکرتی ہے کہ جوقرآن سے ثابت ہے اور جوحدیث اورائمہ سے ثابت ہے اور مدعاعلیہ کہتاہے کہ جس کی تصدیق مرزا صاحب یاان کے خلفاء کردیں وہ ہمیں مسلم ہے۔

یہ بھی مختارمدعیہ کا ایک صریح مغالطہ ہے۔ مدعاعلیہ اوراس کے گواہوں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ جوقرآن مجید وحدیث سے ثابت ہووہ اس کو نہیں مانتے۔ بلکہ وہ حصرت مسیح موعود کی تعلیم کے مطابق وہ قرآن مجید کوہرچیز پرمقدم کرتے ہیں اور اس کے بعد حدیث کواوراس کے بعد ائمہ کے اقوال کو بشرطیکہ کوئی ان میں سے قرآن کے صریح طور پر معارض نہ ہو۔ مختارمدعیہ کا سوال گواہان مدعاعلیہ سے صرف حدیث کے متعلق تھا کہ اس کا قرآن مجید کے مطابق ہوناکون ثابت کرے گا۔ جس کے جواب میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے کہا کہ ہرایک شخص جوثابت کردے گا کہ فلاں روایت قرآن مجید کے خلاف ہے۔ وہ اس کے نزدیک قرآن مجید کے خلاف ہوگی اور گواہ نمبر۱نے کہاہے کہ جس کی تصدیق مرزا صاحب یاان کے خلفاء کردیں وہ ہمیں مسلم ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہم سے علم میں زیادہ ہیں اوران کا ہرفیصلہ بعدتحقیق ہوتاہے۔ اس لئے ان کا فیصلہ ہمارے لئے درست اورقابل تسلیم ہوگا۔ آخرہرشخص جوکسی کی اقتداء کرتاہے اوراس کواپنا امام تسلیم کرتاہوتو یہی سمجھ کر کرتاہے کہ وہ اس سے علم میں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے وہ اس کے اقوال کو صحیح تسلیم کرتاہے۔

مختارمدعیہ کو شاید معلوم نہ ہوکر علامہ محمدقاسم صاحب نانوتوی بانیٔ مدرسہ دیوبند کااحادیث کے قبول کرنے کے بارہ میں یہی مذہب ہے جوگواہان مدعاعلیہ نے بیان کیاہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ: ’’اہل سنت کلام اللہ کے سامنے کسی کی نہیں سنتے۔ یہاں تک کہ احادیث کوبھی اس پرمطابق کرکے دیکھتے ہیں۔ اگر موافق نکلے تو فبہا ورنہ موافق مثل مشہور کالاء زبوں بریش خاوند اس کو راویوں کے سرمارتے ہیں اورجان لیتے ہیں کہ کچھ راویوں کاقصورہے۔ القصہ عقل ونقل کی کسوٹی اوردین ودنیا میں امام سمجھتے ہیں۔‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۱۰)

مختارمدعیہ بتائے کہ احادیث کے موافق قرآن یامخالف ہونے کا فیصلہ کون کرے گا۔ آخروہی کرے گا جو اس کی اہلیت رکھتاہواورچونکہ گواہان مدعاعلیہ کے نزدیک حضرت مسیح موعود اورآپ کے خلفاء اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ ان کا فیصلہ ہی تسلیم کرتے ہیں اوروہ احادیث جوقرآن کے معارض نہیں ہیں۔ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کایہ فرض ہوناچاہئے کہ اگرکوئی حدیث معارض اورمخالف قرآن اورسنت نہ ہوتوخواہ کیسے ہی کوئی درجہ کی حدیث ہو۔اس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پراس کو ترجیح دیں۔‘‘ (ریویو برمباحثہ چکڑالوی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۲۱۲)

مرتد اسے کہتے ہیں جومسلمان ہو اس کے بعد اسلام سے پھرجائے۔ جیسا کہ مختارمدعیہ نے ۱۷؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے۔ لیکن مدعاعلیہ کواقرارہے کہ وہ مسلمان ہے اورمذہب اسلام پر قائم ہے اوراس کے سوا کسی اورمذہب کواختیار کرنا موجب لعنت خیال کرتاہے اور قرآن شریف یااحادیث میں کوئی ایسی نص نہیں ہے کہ ایک مدعی اسلام ہو اوروہ کہے کہ میں مذہب اسلام پر بھی قائم ہوں اوراس کے سوا میں نے کسی دین کواختیار نہیں کیاتووہ مرتد قراردیاجائے۔

مختارمدعیہ کے نزدیک فسخ نکاح کی ایک وجہ

مختارمدعیہ نے فسخ نکاح کے متعلق ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ مدعاعلیہ نے اپنا مذہب تبدیل کرلیاہے اوراس امر کا اس نے اپنے جواب دعویٰ میں اقرارکیاہے اورگواہ نمبر۲ بھی تسلیم کیاہے کہ غیراحمدی سے احمدی اوراحمدی سے غیراحمدی ہوجانے کومذہب اختیار

298

کرناکہاجاسکتاہے اور مذہب بدلنا اورمذہب اختیار کرنامیرے نزدیک ایک ہی معنی رکھتاہے اورمذہب تبدیل کئے جانے کی حالت میں نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے بھی چشمہ معرفت میں لکھاہے پس نکاح فسخ ہوجاناچاہئے۔ میں کہتاہوں کہ مختارمدعیہ کی یہ تینوں ہی باتیں غلط ہیں۔

پہلی اس لئے کہ مدعاعلیہ نے ان معنوں میں ہرگز مذہب تبدیل نہیں کیا۔ جن معنوں میں مختارمدعیہ نے عدالت کویقین دلانا چاہا ہے۔ اس امرکے ثبوت میں اس نے جس بیان کافقرہ مدعاعلیہ کی طرف سے منسوب کیا ہے وہ مدعاعلیہ کانہیں بلکہ منصف احمدپورشرقیہ نے مدعاعلیہ کے بیان سے بطور نتیجہ اخذ کرکے خود لکھاتھا اورچونکہ اس بیان سے وہ مغالطہ پیداہوسکتاتھا جومختارمدعیہ نے پیدا کرناچاہے۔ اس لئے مدعاعلیہ نے اسی وقت درخواست دے کرظاہر کردیاتھا کہ جوخلاصہ میرے اعتقاد کااخذفرمایاگیاہے وہ میرے اصل اعتقاد مذہبی سے مغائر ہے۔ ’’میں خدا کووحدہ لاشریک اورحضرت محمدمصطفیﷺ کوخاتم النّبیین تسلیم کرتاہوں۔ قرآن کریم کوالہامی کتاب مانتاہوں۔ کلمہ طیبہ پرایمان رکھتاہوں اورحضرت محمدa کی برکت اورتوسط اورآپ کی شریعت مقدسہ کی اطاعت سے حضرت مرزا صاحب کو امتی نبی تسلیم کرتاہوں۔ حضرت مرزا صاحب کوئی نئی شریعت نہیں لائے بلکہ شریعت محمدیہ کے تابع اوراشاعت کرنے والے تھے ان پر وحی والہام بہ برکت حضرت نبی کریمa وارد ہوتے تھے۔‘‘

یہ ہے خلاصہ اس درخواست کاجومدعاعلیہ نے ۱۹؍فروری۱۹۲۷ء کو دی ہے اور مسل میں موجود ہے۔

مگرکیسی عجیب جسارت ہے کہ باوجود اسی درخواست کی موجودگی کے مختارمدعیہ نے عدالت کویہ یقین دلاناچاہاہے کہ چونکہ مدعاعلیہ نے اپنامذہب بدل لیاہے اور مذہب بدل لینے سے نکاح قائم نہیں رہتا۔ لہٰذا عدالت کونکاح فسخ کردیناچاہئے۔ حالانکہ جن معنی میں مذہب کی تبدیلی سے نکاح فسخ ہوجاتاہے وہ اس موقعہ پر ہرگز نہیں پائے جاتے۔ مذہب کالفظ اسلامی فرقوں پر بھی بولاجاتاہے۔ جیسے کہ حنفی مذہب، شافعی مذہب، مالکی مذہب، حنبلی مذہب اور اس لحاظ سے ان فرقوں کے لئے مذاہب اربعہ الفاظ بولے جاتے ہیں اورمذہب کا لفظ دین کے معنی میں بھی آتاہے۔ جیسا کہ دین موسوی، دین عیسوی، دین اسلام وغیرہ۔ اگر پہلے معنی کے لحاظ سے تبدیلی ہو یعنی کوئی حنفی المذہب انسان شافعی المذہب ہوجائے یابالعکس تواس کو دین کی تبدیلی نہیں کہتے اورتبدیلی سے نکاح فسخ نہیں ہوتااوراگر مذہب دوسرے معنی کے لحاظ سے تبدیلی ہویعنی کوئی شخص مذہب اسلام میں سے نکل کرمذہب موسوی یاعیسوی میں داخل ہوجائے توا اس کو دین کی تبدیلی کہتے ہیں اورظاہر ہے کہ کسی غیراحمدی کااحمدی ہوجانا دوسری قسم کی تبدیلی نہیں ہے نہ جس سے نکاح کا فسخ ہوجانالازم آوے۔

جیسا کہ خود مدعاعلیہ کے اس بیان سے ظاہر ہے جوا س نے درخواست مذکورہ بالا میں لکھاہے کہ میں خدا کو وحدہٗ لاشریک لہ اورآنحضرتﷺ کوخاتم النّبیین تسلیم کرتاہوں اورقرآن کریم کو الہام کتاب مانتاہوں کلمہ طیبہ پر ایمان ہے۔ الخ!

پس مختار مدعیہ کایہ کہناکہ مدعاعلیہ نے مذہب بدل لیا ہے اور مذہب بدل لینے کو اس موقع پردین بدل لینے یعنی اسلام ترک کردینے کے معنوں میں لینا قطعاً باطل ہے اور چونکہ مدعاعلیہ بفضلہ تعالیٰ اسلام پرقائم ہے اس لئے اس مقدمہ کوخارج ہوناچاہئے۔

دوسری بات مختارمدعیہ کی اس لئے غلط ہے کہ گواہ مدعاعلیہ نے مذہب بدل لینے کو ان معنوں میں نہیں لیاہے جن معنوں میں مختارمدعیہ نے ظاہر کرناچاہاہے۔ یعنی دین اسلام کوچھوڑ دینے کے معنوں میں بلکہ فرقے کو بدل لینے کے معنی میں لیاہے۔ جیسا کہ گواہ مذکور کی اس عبارت سے ظاہرہے کہ مذہب کے معنی روشن اورطریقے کے ہیں جن پر ایک انسان چلتاہے اس لئے غیراحمدی سے احمدی ہوجانایااحمدی سے غیراحمدی ہوجانے کومذہب اختیار کرناکہاجاسکتاہے۔ ملاحظہ ہوجرح برگواہ مدعاعلیہ نمبر۲ بتاریخ۲۳؍مارچ غرض چونکہ گواہ نے مذہب بدل لینے کودین بدل لینے کے معنوں میں نہیں لیاجن میں کہ مختارمدعیہ لیناچاہتاہے۔ بلکہ طریقہ بدل لینے کے معنوں میں

299

لیاہے اور طریقہ بدل لینے سے نکاح فسخ نہیں ہوسکتا۔اس لئے مقدمہ کاخارج کردیاجاناضروری ہے۔

تیسری بات مختارمدعیہ کی اس لئے غلط ہے کہ حضرت اقدس نے چشمہ معرفت میں جولکھاہے کہ کسی کے مذہب تبدیل کرنے کی حالت میں اس عورت حاکم وقت کے سامنے خلع کی درخواست کرکے اس سے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے تواس موقع پرآپ کی مراد تبدیلی مذہب سے دین کی تبدیلی ہے۔ جیسے کوئی اسلام کوچھوڑ کرکوئی دوسرا دین یعنی دین عیسوی یادین موسوی وغیرہ اختیار کرے۔ چنانچہ جس مضمون میں آپ نے یہ لکھاہے وہ غیرمسلموں یعنی آریوں کے مقابلہ میں ہے جو آریہ مذہب پراسلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لکھاگیاہے۔

غرض چونکہ چشمہ معرفت کے مضمون میں مذہب کی تبدیلی سے دین کی تبدیلی مراد ہے اور مدعاعلیہ نے دین کی تبدیلی نہیں کی۔ اس لئے چشمہ معرفت کے مضمون کی رو سے مدعاعلیہ کی منکوحہ یعنی مدعیہ کوعلیحدگی کی درخواست کرنے کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا۔ پس اس مقدمہ کوخارج ہوناچاہئے۔

فسخ نکاح کی ایک اور وجہ

مختارمدعیہ نے نکاح فسخ کردئیے جانے کی ایک وجہ کے متعلق یہ بیان کیاہے کہ اب تک فسخ نکاح کی راہ میں دوروکیں واقع تھیں۔ پہلی یہ کہ اس معاملہ کے متعلق علماء ممالک غیرکاکوئی فتویٰ موجود نہیںتھا۔ دوسری یہ کہ عدالت ہائے ہائی کورٹ کے فیصلہ جات موجود تھے کہ احمدی مسلمان ہیں اوراب یہ دونوں روکیں دورہوچکی ہیں اس لئے نکاح فسخ ہوجاناچاہئے۔ پہلی روک تواس طرح دور ہوگئی کہ ملک شام سے احمدیوں کے خلاف فتویٰ آگیاہے اوردوسری روک دربارمعلی نے یہ کہہ کردور کردی کہ حج صاحبان ہائی کورٹ مدراس نے اپنے فیصلہ میں یہ تسلیم کرلیاہے کہ علماء اسلام ہی اس امر کے متعلق بہترین فیصلہ کرسکتے ہیں کہ احمدی عقائد مطابق اسلام ہیں یانہیں۔ لیکن مختارمدعیہ کایہ بیان بھی اس طرح غلط ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلا بیان کیونکہ جس چیز کانام وہ شام کافتویٰ رکھتاہے وہ درحقیقت کوئی فتویٰ نہیں بلکہ میرے ٹریکٹ ’’شیٔ عن عقائد الجامعۃ الاحمدیۃ‘‘ کے جواب میں رشیدہاشم کی ایک تحریر ہے جو علماء میں سے نہیں بلکہ ایک ایک تاجرآدمی ہے اور اس کی قابلیت اوردماغی حالت معلوم کرنے کے لئے اس کی یہی تحریر دیکھ لینی کافی ہے۔ چنانچہ گواہ مدعیہ نے میرے متعلق جواس کی یہ عبارت دکھائی ہے۔ وہ یہ ہے: ’’جوعبارت میں نے تیرے رسالہ ص۲،۳،۴ سے نقل کی ہے یہ تیرے کفر پردلالت کرتی ہے۔‘‘

وہ اس عبارت سے پہلے انہیں صفحات کی یہی عبارت نقل کرکے اس کے متعلق یہ بھی لکھ چکاہے کہ تیری یہ عبارت دلالت کرتی ہے کہ تومسلمان ہے اور ایک ہی عبارت کے متعلق اس کی یہ دومتضاد رائیں اس کی دماغی حالت کااچھا مظاہر ہیں اور اس کی شہرت کی یہ حالت ہے کہ جب جرح میں گواہ مدعیہ نمبر۳ سے دریافت کیاگیا کہ رشیدہاشم کوجانتے ہوتو انہوں نے انکارکردیا اور اس سے اپنی لاعلمی کااظہارکیا۔ ملاحظہ ہو جواب جرح ۲۹؍اگست ۱۹۳۲ء۔

پس چونکہ جس چیز کا نام فتویٰ رکھاجاتاہے وہ کوئی فتویٰ نہیں بلکہ ایک شخص کی جوابی تحریرہے۔ اس لئے قابل التفات نہیں اوراس کے رو سے کسی کے کفر واسلام کا فیصلہ کسی طرح نہیں کیاجاسکتا۔ اس لئے نکاح قائم رکھنا اورمقدمہ خارج کردیاجاناچاہئے۔

مختارمدعیہ نے حسام الحرمین کے متعلق جو علمائے دیوبند پرعلماء حرمین کا فتویٰ کفر کہا ہے کہ اس کی صف اوّل میں مرزا غلام احمد کانام ہے۔ میں کہتاہوں کہ اس میں کسی کانام صف اوّل میں ہویا صف آخر میں۔ مگر اس سے اس فتویٰ کے علماء دیوبند کے حق میں ہونے کی نفی نہیں ہوسکتی۔ البتہ احمدیوں نے اس فتویٰ کواپنے حق میں بھی تسلیم نہیں کیا۔

300

مختارمدعیہ کا صریح مغالطہ

مختارمدعیہ کایہ کہنا کہ یہ فتویٰ اصل میں احمدیوں پرہے۔ دیوبندی اس کے ضمن میں داخل کر لئے گئے ہیںبالکل غلط اورسراسر مغالطہ ہے۔ دیوبندیوں کواحمدیوں کے ذیل میں قراردے کر ضمنی طور پر کفر کافتویٰ ہرگز نہیں دیاگیا،بلکہ مستقل طور پر دیاگیاہے اوران کا ان سب فرقوں سے جن پر فتویٰ دیاگیاہے۔ کفر میں سخت ہونا ظاہرکیاگیاہے۔ چنانچہ (ص۴۳)میں یہ لکھاہے: ’’توان میں سے کسی کواصل دین کا انکار کرتے پائے گا اوراس میں کوئی ختم نبوت کامنکر ہوکر نبوت کا مدعی ہے اور کوئی اپنے آپ کو عیسیٰ بناتاہے اورکوئی مہدی اورظاہر میں ان سب میں ہلکے اورحقیقت میں ان سب سے سخت وہابیہ ہیں۔ خداان پرلعنت کرے اوران کو رسوا کرے اوران کا ٹھکانہ اوران کامسکن جہنم کرے۔ بے پڑھے جاہلوں کوجاچوپائوں کی طرح ہیں دھوکے دیتے ہیں کہ وہ پیراوان سنت ہیں۔‘‘

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ دیوبندیوں کوان تمام فرقوں سے جن پر کفر کا فتویٰ دیاگیاہے سخت ترکافر کہاگیاہے۔ کیونکہ وہابیوںسے دوگروہ مراد ہیں۔ ایک وہ جومولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی اورمولوی اشرف علی صاحب تھانوی وغیرہ دیوبندی خیال والوں سے تعلق رکھتاہے اوردوسرا وہ جومولوی نذیرحسین دہلوی سے تعلق رکھتاہے۔ جیسا کہ (حسام الحرمین ص۱۳،۱۴)پروہابیوں کی قسمیں لکھ کرظاہر کردیا۔مثلاً: وہابیہ امثالیہ خواتمیہ وہابیہ امیریہ،وہابیہ قاسمیہ، وہابیہ کذابیہ، وہابیہ شیطانیہ، وہابیہ نذیریہ اور ان کو مولوی امیر حسن وامیراحمد سہسوانی ومولوی محمدقاسم صاحب نانوتوی اورمولوی رشیداحمدگنگوہی اور مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی نذیرحسین دہلوی کی طرف منسوب کیاگیاہے۔

مختارمدعیہ نے ان فتوئوں کی طرف سے جوعلماء اہل سنت والجماعت ہند وحرمین شریفین نے دیوبندیوں کے حق میں دئیے ہیں۔ عدالت کی توجہ ہٹا دینے کی غرض سے کہا ہے۔ یہاں دیوبندیوں کے کفر واسلام کی کوئی بحث نہیں ہے۔ مگر یہ کہنا بالکل غلط اوردانستہ حقیقت الامر کوپوشیدہ کرناہے کہ کیا مختارمدعیہ کواپنا وہ ٹکڑایاد نہیں رہا جو اس نے فیصلہ دربار معلی کے حوالہ سے چنا اور پیش کیاہے کہ ’’علماء اسلام ہی اس کے متعلق بہترین فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا احمدی عقائد مطابق اسلام ہیں یانہیں اور کیا اس نے یہ امربھی فراموش کردیاہے کہ دربار معلی نے یہ مقدمہ شرع شریف کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے اس عدالت میں واپس کیاہے یہ امر کسی طرح نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں کہ جوعلماء اس امر کا فیصلہ کرنے والے قراردئیے جائیں کہ فلاں شخص یافلاں گروہ کے عقائد مطابق اسلام ہیں یانہیںتوقبل اس کے کہ اس نہایت ہی نازک اورمہتم بالشان امرکافیصلہ کرنے کے لئے ان کا تقررعمل میں آئے خود ان کے متعلق بھی یہ باور کئے جانے کے کہ یہ دنیائے اسلام میں کیا سمجھے جاتے ہیں اوران کے عقائد بھی مطابق اسلام ہیں یا نہیں قطعی اور یقینی وجوہ موجود ہونا اشد ضروری ہے۔ ورنہ کفرواسلام جیسے مسئلہ میں ان کی رائے قابل توجہ توکیا لائق التفات بھی نہیں ہوسکتی۔ بہت صاف بات ہے کہ اگر وہ خود عقائد اسلامیہ نہ رکھتے ہوں اوراگر ان کے عقائد کی وجہ سے دنیائے اسلام کے مشرق سے لے کر مغرب اورشمال سے لے کر جنوب تک کے تمام علماء نے کفر کے فتوے دئیے ہوں۔ حتی کہ علماء حرمین شریفین نے بھی توپھر وہ دوسروں کے کفرو اسلام کا فیصلہ کرنے کے کس طرح اہل سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ کیا اس معاملہ میں علماء دیوبند کے کفر کا کوئی سوال نہیں ہے یا علمائے دیوبند کے کفرواسلام کا سوال ایک بڑاہی ضروری سوال ہے۔ کیااتنی اہم بات ایسی آسانی سے نظر انداز کی جاسکتی ہے۔

اورکیا ایک ایسا معاملہ جواپنے نتائج کے لحاظ سے نہایت وسیع الاثر اوربغایت مہتم بالشان ہے۔ بعض غیرذمہ دار آوازوں کے پیچ وخم اورنشیب وفراز کی بھول بھلیوں میں گم کردئیے جانے کے لائق ہے۔ دیوبندی علماء دوسروں کوکافر ٹھہرانے کے لئے فتوے لکھیں، شہادتیں دیں، بحثیں کریں اور کوئی امکانی کوشش نہ اٹھارکھیں۔ لیکن جب یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جوخود مرتد اور کافر اوردائرہ اسلام سے خارج

301

قراردئیے گئے ہوں جن کا کفر تمام روئے زمین کے کفار سے اشداوراعظم بتایاگیاہووہ کسی کے کفرواسلام کافیصلہ کس طرح کر سکتے ہیں۔ اس فیصلہ کے لئے تو فیصلہ کرنے والے کاخود مسلمان بلکہ اعلیٰ درجہ کا مسلمان ہونا شرط ہے تو مختارمدعیہ کا یہ کہہ کرٹال دینا چاہئے کہ یہاں دیوبندی علماء کے کفر واسلام کاسوال نہیں ہے۔ اگر یہاں دیوبندی علماء کے کفر واسلام کاسوال نہیں ہے تو پھر جوٹکڑامختارمدعیہ نے دربارمعلی کے فیصلہ سے چن کرپیش کیا ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں اوراس مقدمہ کا شرع شریف کے مطابق فیصلہ کیاجانا کیا مطلب رکھتاہے۔

حاصل کلام یہ کہ چونکہ اپنے عقائد کے لحاظ سے دیوبندی علماء خود مرتد اورکافر قرارپاچکے ہیںنہ ایک بار بلکہ باربار اورنہ صرف سنی حنفی علماء ہندی نے انہیں کافر ودائرہ اسلام سے خارج ٹھہرایاہے بلکہ علماء حرمین شریفین نے بھی، اس لئے وہ کسی کے کفرواسلام کا ہرگز فیصلہ نہیں کرسکتے اورچونکہ ان کو احمدیوں کے ساتھ پہلے سے بغض وعناد چلا آتاہے اور وہ اس مقدمہ میں شہادت دینے سے قبل احمدیوں کے ساتھ اپنے بغض وعناد کاپورا پورا اظہارکرچکے ہیں جوطبع ہوکرشائع ہوچکاہے۔ چنانچہ مولوی محمدشفیع گواہ نمبر۱ نے کتاب ’’ختم نبوت‘‘ لکھی ہے اور مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی گواہ نمبر۲ نے ’’اشد العذاب‘‘ شائع کی ہے۔ جس کا دوسرانام ’’دین مرزا کفر خالص‘‘ رکھاہے اور جس کے صفحہ صفحہ سے احمدیوں کے ساتھ بغض وعناد ظاہر ہوتاہے اور اس کے بہت سے غلط الزامات واتہامات وبہتانات اس نے عدالت میں بھی سنائے ہیں اور مولوی انور شاہ گواہ نمبر۳ نے بھی اپنی ایک مخالفانہ تحریر عدالت میں دکھائی تھی جس کانام ’’اکفارالملحدین‘‘ تھا۔ اس لئے احمدیوں کے متعلق ان کابیان قطعاً قابل التفات نہیں ہے اور چونکہ ان کی حالت مدعیانہ حالت سے بھی بدرجہابڑھی ہوئی ہے۔ لہٰذا ان کی شہادت اوریہ مقدمہ خارج ہوناچاہئے۔

مختارمدعیہ نے کہنے کو تویہ کہہ دیا کہ دوسرے ممالک کی نسبت حرمین کا فتویٰ بہت اونچا ہے۔ لیکن باوجود اس اقرارکے دیوبندیوں کا اس اونچے فتوے کے نیچے آنا اسے گوارانہیں ہے۔ بلکہ اس کے اونچے ہونے کا اقراربھی اسی وقت تک ہے جب تک کہ دیوبندیوںکانام درمیان میں نہ ہو۔

اگر دیوبندیوں کانام درمیان میں آجائے توپھرحرمین کافتویٰ کیا؟ خود علماء حرمین بھی اونچے نہیں رہتے وہ بھی نیچے ٹھہرائے جاتے اورباعتبار علم وفضل اورتقویٰ اللہ وخشیۃ اللہ دیوبندی علماء کے مقابل میں ہیچ۔ حتیٰ کہ ناقابل فتویٰ بتائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ فتویٰ حسام الحرمین کو علماء دیوبند کے حق میں قبول نہ کرنے اور نہایت صریح وصاف اور کھلے کھلے الفاظ میں علماء حرمین کی ہجو کر کے علماء دیوبند کے مقابلہ میں انہیں خلاف شرع وبے احتیاط اورروپیہ لے کر غلط فتویٰ لکھ دینے والے قراردینے سے ظاہر ہے۔ چنانچہ مولوی خلیل احمد ومولوی رشیداحمد کی طرف منسوبہ کتاب (البراہین القاطعہ ص۱۸،۱۹) سے اس بیان کی کما حقہ تصدیق ہوتی ہے۔ ان میں لکھاہے کہ علماء دیوبند کا حال جوکچھ ہے وہ سب پر روشن ہے اورکچھ دور نہیں۔ جس مسلمان کا دل چاہے بچشم خود دیکھ لے کہ ظاہر لباس وہیت موافق شرع کے رکھتے ہیں اور نماز کوباجماعت بخوبی ادا کرتے ہیں اور امر بالمعروف میں بشرط قدرت کوتاہی نہیں کرتے اورتحریر فتویٰ پررعایت غنی فقیر کی نہیں، حق جواب دیتے ہیں اور جوان کو کوئی متنبہ کسی خطاء پر کرے تو بشرط صحت قبول سے کبھی دریغ نہیں۔ بسروچشم معترف ہوتے ہیں۔ یہ سب اوصاف واضح ہیں۔ جس کا دل چاہے دیکھ لے امتحان کر لے اور یہی قبولیت عنداللہ کانشان ہے (البراہین القاطعہ ص۱۸ شروع سطرسے) یہ تو دیوبندی علماء کی مدح جوبلااستثناء تمام علماء کے لئے اوراس سے ظاہر ہے کہ دیوبندی علماء میں سے ایک بھی ان صفات سے خالی نہیں ہے۔ اب ملاحظہ ہوعلماء حرمین کی ہجو جوانہیں حضرات اکابر دیوبند نے اسی کتاب میں، اسی صفحہ، اسی مقام پر عبارت منقولہ سے بالکل متصل تحریر کی ہے۔

’’اورعلماء مکہ کا حال جس نے عقل وعلم کے ساتھ دیکھا وہ خوب جانتاہے کہ جونہیں گیا وہ ثقات کے بیان سے مثل مشاہدہ جانتاہے اوراکثروہاں کے علماء نہ کہ سب۔ کیونکہ اکثر وہاں متقی بھی ہیں۔ اس حالت میں کہ لباس ان کا خلاف شرع،اسبال آستین اوردامن کاچغہ

302

اورقمیص میں کرتے ہیں، ریش اکثروں کی قبضہ سے کم،نماز میں بے احتیاطی، امربالمعروف کاباوصف قدرت کے نام ونشان نہیں، اکثرانگوٹھی چھلے غیر مشروع ہاتھوں میں پہنے ہوئے،قطع صفوف شائع ہے۔ فتویٰ نویسی میں کچھ دے کرجوچاہو لکھوا لو ان کے عصیان سے کوئی مطلع کرے تو مارنے کو موجود ہوجاویں اورخود شیخ العلماء نے جومعاملہ ہمارے شیخ الہند مولوی رحمت اللہ کے ساتھ کیا وہ کسی پرمخفی نہیں اوربغدادی رافضی سے کچھ روپیہ لے کر ابوطالب کومومن لکھ دیا، خلاف روایات صحاح احادیث کے۔‘‘

اب ہرشخص سمجھ سکتاہے کہ بمقابلہ دیوبندی علماء کے یہ علماء حرمین کی تحقیر وتذلیل اورمذمت وہجوہے یانہیں اوراگر کسی کو اس کی کھلی کھلی ہجو ہونے میں ذرابھی تامل ہوتو خود ہجو کرنے والوں کا یہ اقرارکہ درحقیقت یہ ہجو ہے اس کی تسلی کے لئے موجود ہے۔ چنانچہ صاحب عبارت نے منقولہ بالا عبارت کے آگے ہی لکھا ہے: ’’اورعلیٰ ہذا کہاں تک لکھوں کہ طول اور شرم بھی آتی ہے کہ ہجو علماء حرمین کی لکھوں مگر، بناچاری لکھنا پڑا۔ پس اگر کسی نے ایسی حالت میں علماء دیوبند کوعلماء حرمین پرترجیح بوجہ اعتماد کے دے دی تو کون ساغضب کیا۔ اہل فہم انصاف کریں کہ ایسی حالت میں علماء دیوبند کا فتویٰ قابل اعتماد ہوگا یا علماء حرمین کا یہ ہے دیوبندی صاحبوں کی نظر میں دیوبندی مولویوں کے مقابلہ میں علماء حرمین کی وقعت اوران کے فتویٰ کے مقابلہ ان کے فتویٰ کی عظمت اور بات یہاں تک پہنچ کر بھی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ موافق مقولہ مشہورہ اگر پدرنتواندپسر تمام کند بلکہ جوکمی جناب مولوی رشیداحمد صاحب گنگوہی سے رہ جاتی ہے۔ وہ ان کے روحانی فرزند وخلیفہ اوردیوبندیوں کے شیخ الہند جناب مولوی محمود حسن صاحب اپنے مصنفہ مرثیہ میں پوری کردیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں:

  1. پھریں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ

    جورکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق وشوق عرفانی

جب کعبہ میں دیوبندیوں کے شیخ الہند کے نزدیک فقدان عرفانی کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ وہاں جانے والوں میں سے جوذوق وشوق عرفانی رکھنے والے ہیں ان کو گنگوہ کا رستہ پوچھنے کے لئے مارامارا پھرنا پڑتاہے تا جو عرفانی کعبہ میں پہنچ کر بھی حاصل نہ ہوسکاتھا اورجس کانام ونشان نظر نہ آیاتھا وہ گنگوہ پہنچ کر حاصل کریں کہ کعبہ اگرآنحضرتﷺ کامولد ہے توگنگوہ مولوی رشیداحمد صاحب کا یہ ہے کہ کعبہ شریف کے متعلق جوبیت اللہ سمجھاجاتاہے کہ موجود دور کے سب سے بڑے دیوبندی اورتمام دیوبندیوں کے مسلمہ شیخ الہند اورامام کانقطۂ نظر۔ جب بیت اللہ کے متعلق نقطۂ نظر یہ ہے توبیت اللہ کے شہر یعنی مکہ معظمہ کے متعلق جو کچھ ہوگا وہ محتاج بیان نہیں۔ اب رہی مدینہ منورہ کی حالت تواس کے متعلق موصوف الصد ر دیوبندی شیخ الہند صاحب کا ارشاد قابل ملاحظہ ہے فرماتے ہیں:

  1. تمہاری تربت انور کودے کر طورسے تشبیہ

    کہوں ہوں باربارارنی میری دیکھی بھی نادانی

مختارمدعیہ نے دیوبندیوں کوعلماء حرمین کے فتویٰ کی زد سے بچانے کے لئے مذکورہ بالاعذر کے بعد دوسراعذریہ پیش کیاہے کہ علماء حرمین نے وہ فتوے واپس لے لئے۔ اس عذر سے اتنا تو معلوم ہوگیا کہ ان فتوئوں کے دیوبندیوں کی بابت ہونے سے تو مختارمدعیہ کو بھی انکار کی گنجائش نہیں مل سکتی ہے اور اتنا تو اسے بھی ماننا پڑا ہے کہ وہ فتوے دئیے تو دیوبندیوں ہی کے لئے گئے تھے۔ لیکن وہ کہتاہے کہ اب ان کا کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ کیونکہ علماء حرمین نے وہ فتوے واپس لے لئے۔ بہت خوب؟ اب میں اس امر کی تحقیق شروع کرتاہوں کہ اس کی اصلیت کیا ہے اور وہ فتوے درحقیقت علماء حرمین نے واپس لے لئے تھے یایہ بھی منجملہ اورمغالطوں کے مختارمدعیہ کایک مغالطہ ہے۔ مذکورہ فتوئوں کے واپسی کے ثبوت میں رسالہ ’’المہند‘‘ پیش کرکے یہ ظاہر کیاگیاہے کہ علماء حرمین نے ۲۶ سوالات دیوبندیوں کے عقائد کی بابت دیوبند بھیجے تھے جن کے جوابات دیوبند سے لکھے گئے اورعلماء حرمین نے ان جوابات کے صحیح اورمطابق عقائد اہل سنت ہونے کی تصدیق کردی اور اس طرح وہ کفرکے فتوے جوعلماء حرمین کی طرف سے دیوبندیوں پردئیے گئے اورحسام الحرمین میں چھپے تھے۔ واپس ہوگئے لیکن یہ بالکل غلط ہے اور وہ فتوے ہرگز واپس نہیں کئے گئے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جن سوالات کی بابت یہ کہاگیاہے کہ وہ علماء حرمین

303

شریفین نے اہل دیوبند کے عقائد کی تحقیقات کے لئے دیوبند بھیجے تھے وہ علماء حرمین نے نہیں، بلکہ بعض دیوبندی مولویوں نے جواس زمانے میں وہاں گئے ہوئے تھے۔ اس غرض سے بھیجے تھے کہ ان کے جواب اپنے دیوبندی عقائد کے خلاف اوراہل سنت والجماعۃ کے عقائد کے مطابق لکھ دئیے جائیں تاعلماء حرمین شریفین ان کو اپنے عقائد کے مطابق پاکر ان کی تصدیق میں اپنے اپنے دستخط اورمہریں ثبت کردیں اور پھر وہ جوابات مع تصدیقات علماء حرمین ہندوستان میں شائع کئے جائیں اور یہ مشہور کیاجائے کہ علماء حرمین نے دیوبندیوں پرجوکفر کا فتویٰ دیاتھا وہ دھوکے سے دیاتھا۔ کیونکہ دیوبندیوں کے مخالفوں نے غلط عقائد پیش کرکے ان سے یہ کہہ دیاتھا کہ یہ دیوبندیوں کے عقائد ہیں، لیکن جب علماء حرمین کو یہ شبہ پیدا ہوا کہ ہم کو دھوکا دے کر فتویٰ لیاگیاہے توانہوں نے دیوبندیوں کے عقائد کی بابت سوالات لکھ کر دیوبند سے جواب طلب کئے اورجب جواب دیکھے تو انہوںنے تصدیق کر دی کہ دیوبندیوں کے عقائد صحیح ہیں اور اس پر دستخط اورمہریں کردیں پس ثابت ہوگیا کہ جوفتوے حسام الحرمین میں چھپے تھے وہ غلط تھے اوران کا اب کوئی اثر نہیں ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیاگیا اورسوالات بھیجے گئے اورپھران کے ایسے جوابات دئیے گئے جو دیوبندیوں کے خلاف اوراہل سنت والجماعۃ کے عقائد کے مطابق تھے اور کئی موقعوں پردیوبندیوں کی کتابوں میں جوعبارتیں تھیں اورجن کی بناء پر پہلے علماء حرمین ان پرکفر کا فتویٰ دے چکے تھے وہ تبدیل کرکے پیش کردیں۔ یعنی جوعبارتیں کتابوں میں تھیں وہ تو پیش نہیں کیں۔ بلکہ ان کی جگہ اورعبارتیں اہل سنت والجماعۃ کے عقائد کے مطابق اپنی طرف سے وضع کرکے پیش کردیں پھران مغالطہ انگیز جوابوں پر ہندوستان کے دیوبندی مولویوں سے تصدیقیں کرائیں کہ یہی ہمارے اورہمارے اکابر کے عقائد ہیں۔ علاوہ اس کے ایک رسالہ وہابیوں کے عقائد کے ردمیں یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ جب ہم وہابیوں کا رد کرتے ہیں توپھر ہم خود کہاں وہابی ہوسکتے ہیں لکھاگیا اورپھر علماء حرمین کے سامنے حسب موقعہ کہیں مذکورہ سوالات اور کہیں وہ رسالہ رد وہابیہ پیش کرکے دستخط ومواہر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور کچھ دستخط ومواہیر اس طریقہ سے حاصل کئے گئے اورپھر وہ سب المہند میں نقل کئے گئے اور۳۰ مہریں علامہ برزنجی کے رسالہ سے المہند میں اتار لی گئیں۔ جودیوبندیوں کے جواب پرنہیں تھیں بلکہ علامہ برزنجی کے ایک رسالہ پرتھیں اور (المنہد ص۶۰) پردرج ہیں اور یہ سب باتیں المہند سے ثابت ہیں۔

پہلی بات کا کہ سوالات مذکورہ علمائے حرمین میں سے کسی نے نہیں کیے بلکہ دیوبندی مولویوں میں سے جو اس وقت وہاں موجود تھے کسی نے بھیج دئیے تھے۔ ثبوت یہ ہے کہ ۲۳ویں سوال میں مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کے لئے علامہ زماں کے الفاظ لکھے گئے ہیں یعنی سوال ان الفاظ میں کیاگیا کہ کیا علامہ زماں مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی نے کہا ہے کہ: ’’حق تعالیٰ نعوذباللہ جھوٹ بولتاہے۔‘‘ اورظاہرہے کہ وہ علماء حرمین جومولوی رشیداحمدصاحب پرکچھ ہی مدت پہلے کفر کا فتویٰ دے چکے تھے وہ از سر نو تحقیقات سے پہلے ان کو علامہ زماں نہیں لکھ سکتے تھے۔ پھر اکیسویں سوال کے جواب میں کرنے والوں کو مخاطب کرکے یہ لکھاگیاہے کہ ہندوستان کی مولود کی مجلسوں میں آپ نے خود دیکھا ہے کہ واہیات وموضوع روایات بیان ہوتی ہیں اوراس سے ثابت ہے کہ سوال کرنے والے وہ لوگ تھے جوہندوستان کی مولود کی مجلسیں خوب دیکھے ہوئے تھے اورجوابھی اچھی طرح سن چکے تھے کہ ان مجلسوں میں واہیات اورموضوع روایات بیان ہواکرتی ہیں اور ایسے لوگ جوہندوستان کی مولود کی مجلسوں میں شریک ہوں اور اردوزبان کی تقریروں میں واہیات اورموضوع روایات کابیان ہونا معلوم کرلیں ہندوستانی مولوی ہی ہوسکتے نہ کہ علماء حرم۔

پھر (المہند ص۵۶) پرعلامہ سیداحمدصاحب برزنجی کی تحریر میں ان سوالات کے متعلق یہ لکھاہے کہ کسی عالم کی طرف سے بھیجے گئے تھے اوراس عالم کا نام ظاہر نہیں کیاگیا۔ حالانکہ اگر علماء حرمین نے وہ سوالات دیوبند کو بھیجے ہوتے تو برزنجی صاحب کوعلم ہوتا۔ مگر اس تحریر سے معلوم ہوتاہے کہ نہ توان کابھیجا جانا علامہ برزنجی صاحب کے علم میں تھا اورنہ مولوی خلیل احمدصاحب نے وہ رسالہ پیش کرتے وقت جن

304

میںوہ سوالات اوران کے جوابات تھے ان پر ظاہر کیا کہ سوالات کس کے بھیجے ہوئے ہیں۔ پس صرف اتنا ہی ظاہر کیا کہ کسی عالم کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ علاوہ اس کے سوالات کے آخر میں بھی یہ امر ظاہر نہیں کیاگیا کہ سوالات بھیجنے والے کون حضرات ہیں اور یہ سب امور ثابت کررہے ہیں کہ سوالات بھیجنے والے علمائے حرمین نہیں بلکہ دیوبندی مولوی صاحبان ہی تھے۔

دوسری بات یہ کہ سوالات کے جوجوابات دئیے گئے ہیں وہ دیوبندی عقائد کے مطابق نہیں بلکہ عقائد اہل سنت کے موافق ہیں۔ یہ ثبوت ہے کہ المہند موجودہے دیکھ لی جائے۔ بلااستثناء ہرسوال کے جواب کی یہی حالت ملے گی۔

نمونہ کے طور پرچند جوابوں کے متعلق میں عرض بھی کرتاہوں۔ بارھواں سوال یہ تھا کہ محمدبن عبدالوہاب نجدی حلال سمجھتاتھا مسلمانوں کے خون… مال اورآبرو کواورتمام لوگوں کومنسوب کرتاتھا شرک کی جانب اورسلف کی شان میں گستاخی کرتاتھا۔ اس بارے میںتمہاری کیا رائے ہے۔ اس سوال کا یہ جواب دیاگیاہے کہ ہمارے نزدیک ان کا حکم وہی ہے جوصاحب درمختار نے فرمایاہے کہ خوارج ایک جماعت ہے شرکت والی جس نے امام پرچڑھائی کی تھی۔ اس سے آگے چل کر ردالمختار علامہ شامی سے نقل کیا۔جیسا کہ ہمارے زمانہ میںعبدالوہاب کے تابعین سے سرزد ہوا کہ نجد سے نکلا۔حرمین شریفین پرمتغلب ہوئے اپنے کوحنبلی مذہب بتاتے تھے۔ مگرعقیدہ ان کا یہ تھا کہ بس وہی مسلمان ہیں اورجوان کے عقیدہ کے خلاف ہے وہ مشرک ہے۔ پھرلکھاہے کہ عبدالوہاب اوراس کا تابع کوئی شخص بھی ہمارے کسی سلسلہ مشائخ میں نہیں ہے۔

اس جواب سے یہ ظاہر ہے کہ دیوبندیوں کومحمدبن عبدالوہاب اوران کے پیروئوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ وہابیوں کے عقیدوں سے سخت بیزار ہیں۔ حتیٰ کہ ان کو خارجیوں کی طرح سمجھتے اورتمام مسلمانوں کومشرک قراردینے والا جانتے ہیں۔ حالانکہ یہ جواب حقیقت کے بالکل ہی خلاف ہے اور عبدالوہاب کے متعلق دیوبندیوں کاہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے اور یہ عقیدہ توسنی حنفی حضرات کاہے جودیوبندیوں نے علماء حرمین کومغالطہ دے کران سے اپنے موافق فتویٰ حاصل کرنے کے لئے اپنے عقیدے کی جگہ پیش کردیاہے۔ ورنہ خود ان کا عقیدہ تویہ ہے کہ محمدبن عبدالوہاب اوران کے پیروئوں کا عقیدہ نہایت عمدہ ہے اور عقائد میں دیوبندی اوروہابی سب متحد ہیں۔ ہاں! اعمال میں کچھ فرق ہے۔ وہ بھی ایسا ہی جیسا کہ حنفی، شافعی اور مالکی وحنبلی میں ہے۔

چنانچہ تمام دیوبندیوں کے مسلم مقتداء اورامام جناب مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی اپنے (فتاویٰ ج اوّل ص۱۱۹ مطبوعہ جید برقی پریس) میں فرماتے ہیں: ’’محمدبن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں۔ ان کے عقائد عمدہ تھے اورمذہب ان کا حنبلی تھا۔ البتہ ان کے مزاج میں شدت تھی مگر وہ اوران کے مقتدی اچھے ہیں مگرہاں جوحد سے بڑھ گئے ان میں فساد آگیاہے اور عقائد سب کے متحد ہیں۔ اعمال میں فرق، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی کاہے۔‘‘

یہ وہ وہابیوں اوران کے عقائد کے متعلق دیوبندیوں کا عقیدہ اوراسی وجہ سے کہ وہ وہابیوں کے عقیدوں کوعمدہ بتاتے اوران کے ساتھ عقائد میں متحد ہیں۔ وہابیہ دیوبندیہ کہلاتے ہیں۔ لیکن علمائے حرمین کے سامنے اس کے بالکل برخلاف پیش کردیا کہ ہم محمدبن عبدالوہاب اوران کے پیرو وہابیوں کو خارجیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔

اوراسی پر علمائے حرمین نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح اوراہل سنت کے عقیدہ کے مطابق ہے تواس فتویٰ سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ علمائے حرمین نے دیوبندیوں کے عقیدہ اہل سنت کے مطابق قراردیا اوروہابیانہ عقائد کی وجہ سے جوکفر کا فتویٰ حسام الحرمین میں ان پردیاتھا وہ اٹھالیاہے۔

انیسواں سوال یہ تھا کہ کیاتمہاری رائے کہ ملعون شیطان کاعلم سید الکائنات کے علم سے زیادہ اور مطلقاً وسیع ترہے اورکیا یہ مضمون

305

تم نے اپنی کسی تصنیف میں لکھاہے اورجس کا یہ عقیدہ ہواس کا کیا حکم ہے۔ اس کا جواب یہ دیاگیا ہے کہ ہمارایقین ہے کہ جوشخص یہ کہے کہ فلاں شخص نبی کریمa سے اعلم ہے وہ کافرہے اور ہمارے حضرات اس شخص کے کافر ہونے کا فتویٰ دے چکے ہیں پھرہماری کسی تصنیف میں یہ مسئلہ کہاں پایاجاسکتاہے۔

لیکن جن میاں خلیل احمدصاحب انبیٹھی نے یہ جواب دیاہے۔ وہی نہایت جسارت سے اپنی کتاب (براہین قاطعہ ص۵۱) میں یہ لکھ چکے ہیں کہ: ’’شیطان وملک الموت کاحال دیکھ کر علم محیط زمین کافخرعالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرناشرک نہیں توکون سے ایمان کا حصہ ہے۔ شیطان وملک الموت کی یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی۔ فخر عالم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتاہے۔‘‘

اس عبارت میں شیطان وملک الموت کو علم محیط زمین کاحاصل ہونا اوران کی یہ وسعت علم آیت سے ثابت مانی ہے اور آنحضرتﷺ کے علم محیط زمین اورآپ کی وسعت علم کے متعلق کسی آیت کی موجودگی سے انکار کیاہے اور اہل سنت وجماعت سے پوچھا ہے کہ فخرعالم کی وسعت علم کی کون سی نص قطعی ہے یعنی کوئی بھی نہیں ہے۔ شیطان وملک الموت کے لئے توعلم محیط زمین کا تسلیم کیاہے اور آنحضرتﷺ کے لئے علم محیط زمین کے تسلیم کرنے کوشرک قراردیاہے اور یہی وہ عقیدہ تھا جس کی وجہ سے علمائے حرمین نے دیوبندیوں پر کفر کا فتویٰ دیاتھا۔ اب علمائے حرمین کے سامنے براہین قاطعہ کی یہ عبارت توپیش نہیں کی گئی۔ بلکہ اس کے خلاف یہ لکھ دیاگیا کہ جوشخص نبی کریمa کے علم سے کسی کے علم کوزیادہ بتاوے وہ ہمارے نزدیک کافر ہے اوراس کے ساتھ ایک ایسی عبارت بڑھادی گئی جس کا براہین قاطعہ میں کہیں نام ونشان بھی نہیں پایاجاتا اور ظاہرہے کہ اگر اس جواب کوعلمائے حرمین نے صحیح اوردرست کہا اور عقائد اہل سنت کے موافق بتایاتو اس سے دیوبندیوں کے عقیدے کو صحیح اوردرست بتاناکہاں ثابت ہوا اور جو فتویٰ کفر کاان پرحسام الحرمین میںدیاتھا، اس کا واپس لے لینے کس طرح لازم آیا۔ کیونکہ المہند میں توعلمائے حرمین نے اہل سنت کے اس عقیدے کی تصویب وتصدیق کی ہے نہ کہ دیوبندیوں کے عقیدے کی جو(براہین قاطعہ ص۵۱) کی عبارت سے ثابت ہے۔

بیسواں سوال یہ تھا کہ کیاتمہاراعقیدہ یہ ہے کہ نبی کریمa کاعلم زیدبکر اور چوپائوں کے علم کے برابرہے یااس قسم کے خرافات سے تم بری ہو اور مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنے رسالہ حفظ الایمان میںیہ مضمون لکھاہے یا نہیں اورجو یہ عقیدہ رکھے اس کا کیا حکم ہے۔

اس کا جواب یہ دیاگیا ہے کہ یہ ایک افتراء اور جھوٹ ہے کہ کلام کے معنی بدلے اورمولانا کی مراد کے خلاف ظاہر کیاہے۔ اس کے بعد ایک لمبی عبارت اپنی طرف سے لکھ کر اس کو مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کی عبارت کاحاصل بتادیا ہے اورپھرمولوی اشرف علی تھانوی صاحب کے نام سے یہ عبارت پیش کی ہے: ’’پھر یہ کہ حضرت کی ذات مقدسہ پرعلم غیب کا اطلاق اگربقول زید صحیح ہوتوہم اس سے دریافت کرتے ہیں کہ اس غیب سے مراد کیاہے۔ یعنی غیب کاہرہر فرد یابعض غیب، کوئی غیب کیوںنہ ہو۔ پس اگر بعض غیب مراد ہے تو رسالت مآبa کی تخصیص نہ رہی۔ کیونکہ بعض غیب کاعلم اگرچہ تھوڑا ساہے۔ زید وعمربلکہ ہربچہ اوردیوانے بلکہ جملہ حیوانات اورچوپائوں کوبھی حاصل ہے۔ کیونکہ ہرشخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کاعلم ہے کہ دوسرے کو نہیں ہے تواگر سائل کسی پر لفظ عالم الغیب کااطلاق بعض غیب کے جاننے کی وجہ سے جائز رکھتاہے تولازم آتاہے کہ اس اطلاق کومذکورہ بالا تمام حیوانات پرجائز سمجھے اور اگرسائل نے اس کو مان لیا تویہ اطلاق کمالات نبوت میں سے نہیں رہا۔ کیونکہ سب شریک ہوگئے اوراگر اس کو نہ مانے تو وجہ فرق پوچھی جائے گی اور وہ ہرگز بیان نہ ہوسکے گی۔ مولانا تھانوی کاکلام ختم ہوا۔

بڑی دلیری سے یہ عبارت مولوی اشرف علی تھانوی کی حفظ الایمان کی عبارت بتائی گئی ہے اور خاتمہ پرنہایت جسارت سے

306

لکھاگیا ہے کہ مولانا تھانوی کا کلام ختم ہوا۔ پھر علمائے حرمین سے کہا کہ خداتم پررحم فرمائے ذرا مولانا کاکلام ملاحظہ فرمائو۔

بدعتیوں کے جھوٹ کا کہیں پتہ بھی نہ پائوگے اور اس قول میں نہایت صفائی کے ساتھ ظاہر کیاہے کہ جوعبارت پیش کی گئی ہے۔ وبلفظہاحفظ الایمان میں موجود ہے۔ حالانکہ یہ بالکل دروغ بے فروغ ہے اور حفظ الایمان میں عبارت مندرجہ بالا ہرگز موجود نہیں بلکہ اس کے خلاف اس میں یہ عبارت ہے۔ ’’آپ کی ذات مقدسہ پرعلم غیب کا حکم کیا جانا اگربقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یاکل اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید وعمر بلکہ ہرصبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہام کے لئے بھی حاصل ہے۔

اورحد یہ حفظ الایمان کے اسی مضمون کی عبارت ہے جس کے متعلق تمام سنی علماء نے بالاتفاق تسلیم کیاہے کہ اس میں مولوی اشرف علی صاحب تھانوی دیوبندی نے علم غیب کی دوقسمیں کی ہیں علم کل اور علم بعض۔ پہلی قسم یعنی غیب کے علم کل کی تو آنحضرتﷺ کی ذات مبارک سے نفی کردی ہے۔ رہی دوسری قسم یعنی علم بعض غیب تو یہ حضور کے لئے ثابت ماناہے۔ مگر اسی علم بعض غیب کے متعلق جوآنحضرت کے واسطے ماناہے یہ بھی لکھ دیاہے کہ اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب توزید وعمر بلکہ ہرصبی ومجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہام کے لئے بھی حاصل ہے۔

اس میں کیا شک ہے کہ یہ صریح طوپر آنحضرتﷺ کے علم کو بچوں،دیوانوں اورجانوروں کے علم کے برابر بتاناہے علمائے حرمین کے فتویٰ کے بموجب جواشد درجہ کا کفرہے اورعلماء ہندوعرب بالخصوص علمائے حرمین نے اسی وجہ سے بھی دیوبندیوں پرکفر کا فتویٰ دیاہے۔ مولوی خلیل احمدصاحب انبیٹھی دیوبندی نے اپنے جواب میں حفظ الایمان کی یہ عبارت توپیش نہیں کی جومیں نے نقل کی ہے اور جس پر علمائے حرمین وغیرہ نے کفر کا فتویٰ دیاتھا۔ بلکہ اپنی طرف سے ایک عبارت گھڑ کر پیش کردی کہ حفظ الایمان میں یہ عبارت لکھی ہے۔ پس مولوی خلیل احمد کی گھڑی ہوئی عبارت پرعلمائے حرمین نے جورائے ظاہر کی وہ مولوی اشرف علی صاحب کی حفظ الایمان کے کفر یہ مضمون کی بابت نہیں ہوسکتی اوراس سے کسی طرح یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ حفظ الایمان کے مضمون کی بناء پر علمائے حرمین نے حسام الحرمین میں دیوبندیوں پرجوکفر کا فتویٰ دیاتھا وہ واپس لے لیاہے۔ کیونکہ علمائے حرمین کا فتویٰ کفر توحفظ الایمان کی عبارت کے متعلق تھا نہ کہ اس عبارت کے متعلق جو مولوی خلیل احمد نے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کی ہے۔

اکیسواں سوال : مجلس مولود شریف یعنی ذکر ولادت آنحضرتﷺ کے متعلق تھا کہ تم اس کو شرعاً قبیح اور بدعت سیّئہ اورحرام سمجھتے ہویاکچھ اور۔

اس کا جواب یہ دیاگیا ہے کہ حاشاہم تو کیا کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ آنحضرتﷺ کی ولادت شریفہ کاذکر بلکہ آپ کی جوتیوں کے غبار اورآپ کی سواری کے گدھے کے پیشاب کاتذکرہ بھی قبیح وبدعت سیّئہ یاحرام کہے وہ جملہ حالات جن کو رسول اللہﷺ سے ذراسابھی علاقہ ہے۔ ان کا ذکرہمارے نزدیک نہایت پسندیدہ اوراعلیٰ درجہ کامستحب ہے۔ خواہ ذکرولادت شریفہ ہویاآپ کے بول وبراز اورنشست وبرخاست اوربیداری وخواب کاتذکرہ ہو۔ جیسا کہ ہمارے رسالہ براہین قاطعہ میں متعدد جگہ بصراحت مذکور اورہمارے مشائخ کے فتاویٰ میں مسطورہے۔

پھر اس کی تائید میں مولوی احمدعلی صاحب سہارنپوری کے فتوی کی عبارت اس ذکر کے ساتھ درج کی ہے کہ مولانا سے کسی نے سوال کیاتھا کہ مجلس شریف کس طریقہ سے جائز ہے اور کس طریقہ سے ناجائز تومولانا نے اس کا یہ جواب لکھاکہ سیدنارسول اللہﷺ کی ولادت شریف یا ذکر صحیح روایات سے ان اوقات میں جوعبادات واجبہ سے خالی ہوں۔ ان کیفیات سے جوصحابہ کرام اور اہل قرون ثلاثہ

307

کے طریقہ کے خلاف نہ ہوں جن کے خیر ہونے کی شہادت حضرت نے دی ہے۔ ان عقیدوں سے شرک وبدعت کے موہم نہ ہوں اور ان آداب کے ساتھ جوصحابہ کی اس سیرۃ کے مخالف نہ ہوں جو حضرت کے ارشاد مااناعلیہ واصحابی کی مصداق ہے۔ ان مجالس میں جومنکرات شرعیہ سے خالی ہوں سبب خیروبرکت ہے۔ بشرطیکہ صدق نیت اوراخلاص اوراس عقیدے سے کیا جائے کہ یہ بھی منجملہ دیگر افکار حسنہ کے ذکرحسن ہے۔ کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ پس جب ایسا ہوگا توہمارے علم میں کوئی مسلمان بھی اس کے ناجائز یابدعت ہونے کا حکم نہ دے گا۔الخ!

مولوی احمدعلی صاحب کا یہ فتویٰ نقل کرنے کے بعد مولوی خلیل احمد دیوبندی انبیٹھی لکھتے ہیں: اس سے معلوم گیا کہ ہم ذکرولادت شریفہ کے منکر نہیں بلکہ ان ناجائز امور کے منکرہیں جواس کے ساتھ مل گئے ہیں۔ جیسا کہ ہندوستان کی مولود کی مجلسوں میں آپ نے خود دیکھاہے کہ واہیات وموضوع روایات بیان ہوتی ہیں۔ مردوں عورتوں کا اختلاط ہوتاہے۔ چراغوں کے روشن کرنے اور دوسری آرائشوں میں فضول خرچی ہوتی ہے اوراس مجلس کو واجب سمجھ کر جوشامل نہ ہو پرطعن وتکفیر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اورمنکرات شریعہ ہیں جس سے شاہد ہی کوئی مجلس میلاد خالی ہے۔ پس اگر مجلس مولود منکرات سے خالی ہے تو حاشا کہ ہم یوں کہیں کہ ذکرولادت شریفہ ناجائز اور بدعت ہے اور ایسے قول شنیع کا کسی مسلمان کی طرف کیونکرگمان ہوسکتاہے۔ پس ہم پر یہ بہتان جھوٹے ملحد دجالوں کا افتراء ہے۔(المہند ص۲۴،۲۵)

اس جواب میں یہ ظاہر کیاگیاہے کہ آنحضرتﷺ کی ولادت کے ذکر کامخالف ہونا اور اس کو قبیح وبدعت یاحرام کہنا توکیا معنی، دیوبندی توآپ کی سواری کے گدھے کے پیشاب کے تذکرے کوبھی قبیح وبدعت یاحرام نہیں کہتے اور جن حالات کو آنحضرتﷺ سے ذراسابھی تعلق ہو۔ وہ دیوبندیوں کے نزدیک نہایت پسندیدہ اوراعلیٰ درجہ کا مستحب ہے۔ خواہ ذکر ولادت شریفہ ہویا آپ کے بول وبراز وغیرہ کا تذکرہ اوراپنے اس خیال کی تصدیق کے لئے دو تحریریں پیش کی ہیں ایک وہ فتویٰ جو اس سوال کے جواب میںکہ مجلس میلاد شریف کس طریقہ سے ہونی چاہئے۔ مولوی احمدی علی صاحب سہارنپوری نے دیاہے اور دوسری براہین قاطعہ جس میں متعدد جگہ اپنے عقیدۂ مذکورہ کے مسطور ہونے کا ذکر کیاہے۔ اب میں یہ دکھانے کے لئے کہ اس معاملہ میں درحقیقت دیوبندیوں کا عقیدہ کیاہے۔ ان کی مسلم کتب کی طرف متوجہ ہوتاہوں اور سب سے پہلے براہین قاطعہ ہی کو لیتاہوں۔

اس کے (ص۱۴۸) میں مجلس میلاد شریف اوراس میں آنحضرتﷺ کی ولادت شریف کاذکرآنے کے وقت قیام کرنے یعنی کھڑے ہوجانے کے متعلق مولوی رشیداحمدصاحب کا فتویٰ درج کیاگیاہے اور اس قیام کے متعلق تو یہ بتایا ہے کہ اگر وہ اس لئے ہے کہ آنحضرتﷺ کی روح دنیا میں آئی ہے توقیام معاذاللہ کنہیا کے سوانگ کی طرح ہے۔ جوہنود ہرسال بناتے ہیں اورایک فرضی خرافات ہے اور حرکت قبیحہ قابل لوم وحرام وفسق ہے اور ایسا کرنے والے کنہیا کا سوانگ بنانے والوں سے بھی بڑھ کرہیں اور پھرقیام کے متعلق کئی صورتیں قائم کرکے لکھاہے: ’’الحاصل یہ قیام صورت اولیٰ میں بدعت ومنکر اور دوسری صورت میں حرام وفسق اورتیسری صورت میں کفروشرک اور چوتھی صورت میں اتباع ہوا اور کبیرہ ہوتاہے۔ یہ فتویٰ توقیام کے متعلق تھا اور مجلس مولود شریف کو مجلس پراشرار ومعاصی وغیرمشروعات مجمع فساق وفجار اور محضر بدعات وشرور لکھاہے اور مجلس میلاد شریف منعقد کرنے والوں کو مبتدع فاسق وفاجر ومرتکب حرام وکفر وشرک قراردے کر آخر میں یہ لکھ دیا ہے کہ خود یہ مجلس میلاد ہمارے زمانے کی بدعت ومنکرہے اورشرعاً کوئی صورت جواز اس کے نہیںہوسکتی۔ الراجی رحمۃ ربہ رشیداحمدگنگوہی۔

علماء حرمین کے سامنے جوجواب پیش کیاگیاہے اس میں توآنحضرتﷺ کے گدھے کے پیشاب کے ذکر کوبھی قبیح وبدعت سیّئہ یا حرام کہنے سے نفرت وبیزاری اوراس سے اپنی بریت ظاہر کی گئی ہے اور اس کی تصدیق وتائید کے لئے براہین قاطعہ کا حوالہ دیاگیاہے اور

308

براہین قاطعہ میں حضورa کے گدھے کے پیشاب کے ذکر کو نہیں بلکہ جس مجلس میں خود حضور کا ذکر ولادت شریف کیا جائے۔ اس مجلس کو بحیثیت مجموعی معاذ اللہ! کنہیا کا سوانگ اورحرکت قبیحہ قابل لوم وحرام وفسق قراردیاہے اوراس کے منعقد کرنے اورشریک ہونے والوں کومجمع فساق و فجار کہااورکفار سے بدتر ٹھہرایاہے اور قیام کوحرام وفسق اورکفر شرک تک پہنچایا ہے اور بالآخر مجلس ذکر میلاد شریف کے متعلق صاف لکھ دیا ہے کہ اس کے جواز کی شرعاً کوئی صورت نہیں ہوسکتی اور دیوبندی صاحبوں کے اس جواب میں جو علمائے حرمین شریفین کے سامنے پیش کیاہے اور اس بیان میں جوبراہین سے میں نے نقل کردیاہے جوفرق ہے وہ ہرشخص بہ آسانی سمجھ سکتاہے۔

لیکن اس کے متعلق ایک عذر ناواقفوں کومغالطہ دینے کے لئے کیاجاتاہے کہ مجلس ذکرنبی کریمa کی مخالفت نہیں کی گئی ہے۔ اس کوحرکت قبیحہ قابل لوم اورکنہیا کاسوانگ نہیں کہاہے۔ اس کی ممانعت نہیں کی ہے اور وہ شرعاً ناجائز نہیں بتائی گئی ہے۔ بلکہ اس میں جو غیرمشروع باتیں شامل ہوجاتی ہیں۔ یہ سب ان کے متعلق اوران کی وجہ سے کہاگیاہے۔ یہ عذر بڑی کثرت سے پیش کیا جاچکاہے اوربرابرپیش کیاجاتاہے۔ مگر فی الحقیقت اس کی بھی اصلیت نہیں ہے اور یہ بڑا مغالطہ ہے۔ کیونکہ اگر مجلس ذکرمیلاد شریف میں کوئی بات بھی غیرمشروع نہ ہو اور وہ بالکل اس طریقہ سے کی جائے، جس طریقہ سے دیوبندی صاحبوں کے مسلم مقتداء مولوی حاجی شاہ امداداللہ صاحب یااوربزرگان دین کرتے رہے ہیں توبھی ان حضرات کے نزدیک جائز نہیںہے اوراس کے لئے میں مسلم مقتداء وپیشوائے دیوبندی جناب مولوی رشیداحمد صاحب گنگوہی کا فتویٰ پیش کرتاہوں۔

سوال کیاگیاکہ مولود شریف اورعرس کہ جس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو۔ جیسے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کیاکرتے تھے آپ کے نزدیک جائز ہے یانہیں اور شاہ صاحب واقعی مولود وعرس کیا کرتے تھے یا نہیں۔ اس سوال کا جواب پوری توجہ کے بعد جواب ملاحظہ ہو۔ مولوی رشیداحمدصاحب فرماتے ہیں۔

جواب:

۱… ’’عقد مجلس مولود اگرچہ اس میں کوئی امرغیرمشروع نہ ہو۔ مگر اہتمام وتداعی اس میں بھی ہے۔ لہٰذا اس زمانے میں درست نہیں۔ وعلیٰ ہٰذا عرس کا جواب ہے۔ بہت اشیاء کہ اوّل مباح تھیں پھر کسی وقت میں منع ہوگئیں۔ مجلس عرس ومولود بھی ایسا ہی ہے۔‘‘ فقط رشیداحمدگنگوہی عفی عنہ۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل ص۹۲)

۲… پھر سوال کیاگیا کہ انعقاد مجلس میلاد بدوں قیام بروایات صحیحہ بھی درست ہے یا نہیں تو اس کے جواب میں مولوی رشیداحمدصاحب فرماتے ہیں: ’’انعقاد مجلس مولود ہرحال ناجائز ہے۔ تداعی امر مندوب کے واسطے منع ہے۔‘‘ فقط(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۸۳)

۳… پھر سوال کیاگیا ہے محفل میلاد میں جس میںروایات صحیحہ پڑھی جائیں اورلاف وگزاف اورروایات موضوعہ اورکاذبہ نہ ہوں شریک ہوناکیساہے۔

اس کا جواب مولوی صاحب نے صاف یہ دیاہے کہ ’’ناجائز ہے بسبب اوروجوہ کے۔‘‘(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۱۸۸)

اب ان تمام فتاویٰ سے ظاہر ہے کہ مولود دیوبندیوں کے نزدیک ہرحال میں ناجائز ہے۔ لیکن المہند میں صریح اس کے خلاف لکھاگیاہے۔ پس علماء حرمین کا جو فتویٰ دیوبندیوں پرتھا وہ اپنی صورت پرباقی رہا اور جوعذر مختارمدعیہ نے پیش کیاتھا کہ ہم پر فتویٰ تولگایاگیا۔ لیکن وہ علماء حرمین نے واپس لے لیاتھا۔ مذکورہ بالابیان سے بالکل غلط ثابت ہوا اور علماء حرمین کے نزدیک وہ ان عقائد کی بناء پر جو ان کے مقتدائوں کی کتابوں میں موجود ہیں، کافر ہوئے اور کافر بھی ایسے کہ جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔

لہٰذا ان کی شہادتیں مقدمہ ہٰذا میں قابل اعتبار نہیں ہوسکتیں بلکہ رد کرنے کے لائق ہیں۔ کیونکہ وہ علماء اسلام سے نہیں ہیں۔

309

۵؍مارچ ۱۹۳۴ء گواہان مدعاعلیہ پرتنقید کاجواب

مختارمدعیہ نے گواہان مدعاعلیہ پرتنقید کرتے ہوئے گواہ نمبرا کے متعلق کہاہے کہ اس نے یکم؍مارچ کو مختارمدعیہ کے سوال جرح کے جواب میں کہا کہ سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر میری نظر سے نہیں گزرا جو اس وقت تک شائع ہواہے اورچونکہ گواہان مدعاعلیہ کو مسلم ہے کہ حکم کسی پر اس وقت لگایاجائے گا۔ جب کہ اس کی تصنیفات سے آگاہی حاصل ہو۔ لہٰذا مرزا صاحب کے مسلمان ہونے کے بارے میں ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کااسلام ثابت کرنے کے لئے سب باتوں کا علم ہوناچاہئے اور چونکہ کسی کاکفر ثابت کرنے کے لئے ایسا ضروری نہیںہے۔ اس لئے سلسلہ احمدیہ کی تمام کتابوں سے ناواقفیت کااعتراض گواہان مدعیہ پر عائد نہیںہوسکتا۔

جواب: مختارمدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کی عبارت محرف کرکے پیش کی ہے اور اس سے یہ مطلب نکالاناچاہاہے کہ گویاگواہ مذکور کو حضرت مسیح موعود کی کتب سے واقفیت کاانکارہے۔ لیکن یہ مختارمدعیہ کا صریح مغالطہ ہے جواس نے عدالت کو دیناچاہاہے مدعاعلیہ کے گواہ نمبرنے جوکہاہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’سلسلہ احمدیہ کی طرف سے اس وقت تک جس قدرلٹریچر شائع ہوچکے ہیں وہ سب کا سب میری نظر سے نہیں گزرا۔‘‘

اورظاہر ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تمام لٹریچرمیں حضرت مسیح موعود کی کتب کے علاوہ دوسرے بہت سے احمدی مصنّفین کی کثیر التعداد کتب اورجرائد اورمجلدات سب شامل ہیں، جن کاپڑھنا حضرت مسیح موعود اورآپ کے پیروئوں کا اسلام ثابت کرنے کے لئے ہرگز ضروری نہیں۔ بلکہ صرف حضرت مسیح موعود کی کتب کا پڑھ لیناکافی ہے۔ پس حضرت مسیح موعوداور مدعاعلیہ کے اسلام ثابت ہونے کا دارومدار حضرت مسیح موعود کی کتب پرہے اور مدعاعلیہ انہیں معتقدات کاپابند ہے جوحضرت مسیح موعود کے تھے اورجوقرآن مجید واحادیث صحیحہ کے بالکل مطابق ہیں۔

اورمختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ کسی کے عقیدے کو کفریہ عقیدہ ثابت کرنے کے لئے اس کی تمام تصانیف کا دیکھا جاناضروری نہیں قطعاً باطل ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ہوسکتاہے کہ کوئی مبہم یاذوالوجوہ عبارت غلط فہمی کاموجب ہو اور خلاف منشاء متکلم معنی لینے کی وجہ سے موجب کفر سمجھ لی جائے۔ حالانکہ درحقیقت وہ موجب کفر نہ ہو۔ پس کسی کے کلام کو موجب کفر قراردینے کے لئے بہت بڑی ضرورت ہے کہ اس کے ماسبق ومالحق پربھی خوب غور سے نظر کی جائے اورصرف اسی پراکتفاء نہ کر کے اس کی دوسری تصانیف بھی اچھی طرح دیکھ لی جائیں تااس امر کے متعلق کہ درحقیقت اس کے کلام کا مطلب اوراس کا عقیدہ کیاہے۔ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے اور کسی کے متعلق کفر جیسے نازک اورخطرناک امر کی بابت رائے دینے میں غلطی نہ ہوجائے۔ مختارمدعیہ کااس کے خلاف بیان کرنا اورجس کے خلاف کفر کا فتویٰ دیناہو۔ اس کے اسی کلام کی بابت جوموجب کفر معلوم ہوتاہو۔ یہ تحقیق کرنے کے لئے کہ درحقیقت وہ موجب کفرہے بھی یانہیں۔ اس کی اور تصانیف کے دیکھنے کو غیر ضروری بتانا عقل وانصاف کے خلاف ہونے کے علاوہ گواہ مدعیہ نمبر۱ کے بیان پربھی پانی پھیردینے والاہے۔ کیونکہ اس نے ۲۰؍اگست کوبجواب جرح یہ اصل بیان کیاہے: ’’ایک مصنف کے قول کاماقبل ومابعد جب تک معلوم نہ ہو اور اس کی دوسری تصانیف سے اس کاصحیح عقیدہ معلوم نہ کرایاجائے۔ اس وقت تک کوئی ایک جملہ کسی کتاب کا پیش کردینا عقیدہ ثابت کردینے کے لئے کافی نہیںہے۔‘‘

اورواضح رہے کہ فتویٰ دینے کے بارے میں گواہ مدعیہ نمبر۱ کا قول بہ نسبت مختارمدعیہ کے قول کے زیادہ معتبر اور ماننے کے قابل ہے۔ کیونکہ گواہ مدعیہ نمبر۱ بقول اس کے دارالعلوم دیوبند کے مفتی ہیں اور مختارمدعیہ ایک معمولی آدمی ہے جوکسی یونیورسٹی کا سند یافتہ نہیں ہے۔ پس کسی کے عقیدے کوکفریہ عقیدہ ثابت کرنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ اس کی کسی کتاب کاایک جملہ پیش کردیاجائے۔ بلکہ اس کا ماسبق ومالحق اور اس کی دوسری تصانیف کادیکھنا بھی ضروری ہے۔ لیکن گواہان مدعاعلیہ نمبر۳ نے بجواب جرح اقرارکیاہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی کتب کاسوائے ان عبارات کے جن پر اعتراض کئے اسے مطالعہ نہیں کیا اور یہ صورت ایسی ہے کہ ان کی شہادت کوقابل التفات نہیں رہنے دیتی۔

310

(۲) دربارمعلی کی توہین

مختارمدعیہ نے کہا ہے کہ مدعاعلیہ کے گواہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں یہ ذکرکیاہے کہ گواہان مدعیہ نے فتویٰ تکفیر کی بنیاد بعض علماء کے اقوال پررکھی ہے اور اس میں دربار معلی کی صریح توہین ہے۔ ’’مولوی صاحب موصوف نے بطوردلائل کئی ایک آیات قرآن شریف پیش کیں جن میں اچھی طرح واضح کردیاگیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘

اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ الجامعہ کی شہادت کے متعلق دربار معلی کی مذکورہ بالارائے یک طرفہ ہے جوقانوناً کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ دربار معلی میں مدعاعلیہ کی طرف سے یہ مطالبہ کیاگیاہے کہ اسے اس پر جرح کا موقعہ دیناچاہئے۔ یہاں تک کہ مدعاعلیہ کی طرف سے ایک عالم جرح کے لئے پیش بھی ہوئے۔ مگر دربارمعلی نے اسے جرح کرنے سے روک دیا۔ ان حالات میں دربارمعلی کی مذکورہ بالارائے قطعاً قابل اعتناء نہیں ہے۔ علاوہ اس کے مختارمدعیہ نمبر۱ کے مذکورہ بالا قول کو دربار معلی کی توہین کا موجب بتانااپنے آپ کو ’’مدعی سست گواہ چست‘‘ کی مثل کواصلی کردکھاناہے۔ کیونکہ دربار معلی خود بھی اپنی رائے کو یک طرفہ سمجھتے ہوئے قطعی نہیں قراردیتا۔ چنانچہ نقلی تجویز اجلاس خاص منعقدہ ۲۱؍دسمبر۱۹۳۱ء منظورشدہ۲۵؍جنوری۱۹۳۲ء میں لکھاہے: ’’مگرہم اس مقدمہ کو فیصلہ کرنے کے لئے شیخ الجامعہ صاحب کی رائے کو کافی نہیں سمجھتے۔ جب تک کہ دیگر ہندوستان کے بڑے بڑے علماء دین اس رائے سے اتفاق نہ رکھتے ہوں۔ اس لئے ہمارے خیال میں یہ مقدمہ مزید تحقیقات کامحتاج ہے اور مدعاعلیہ کوبھی موقعہ دیناچاہئے کہ شیخ الجامعہ صاحب کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے۔‘‘

اورجب مدعاعلیہ کی طرف سے ان تمام دلائل کوجوگواہان مدعیہ اورشیخ الجامعہ نے اس امر کے اثبات میں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ غلط ثابت کردیااور بتادیا گیا کہ قرآن مجید میں کوئی آیت اورصحاح میں کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس سے یہ نکلتاہوں کہ جس قسم کی نبوت کا مدعاعلیہ قائل ہے۔ وہ آنحضرتﷺ کے بعد بندہے اور گواہان مدعیہ کوئی آیت یا حدیث ایسی پیش نہیں کرسکے جس میں مدعاعلیہ کے موافق عقیدہ رکھنے والوں کو کافر کہاگیاہے۔ بلکہ اس کو کافر ثابت کرنے کے لئے علماء کے قول پیش کئے گئے تو گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کا یہ کہنا کہ فتویٰ تکفیر کی بنیادعلماء کے اقوال پررکھی گئی ہے۔ بجائے خود بالکل صحیح اور درست ہے اور گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں ثابت کردیاہے کہ مدعاعلیہ کا یہ عقیدہ: ’’کہ میں خداتعالیٰ کووحدہ لاشریک مانتاہوں۔ حضرت محمدaکوخاتم النّبیین تسلیم کرتاہوں۔ قرآن کریم کو الہامی مانتاہوں۔ کلمہ طیبہ پر میرا ایمان ہے اور حضرت محمدa کی برکت اورتوسط اورآپ کی شریعت مقدسہ کی اطاعت سے حضرت مرزا صاحب کوامتی نبی تسلیم کرتاہوں۔ حضرت مرزا صاحب کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ بلکہ شریعت محمدی کے تابع اور اشاعت کرنے والے ہیں۔ ان پر وحی الہام بابرکت حضرت نبی کریمa وارد ہوتے تھے۔ ۱۹؍فروری ۱۹۲۷ء۔‘‘

قرآن مجید اورحدیث کی روسے بالکل درست ہے اور ائمہ سلف صالحین نے یاتو ایسی نبوت کے متعلق جو آنحضرتﷺ کی شریعت کی ناسخ نہ ہوبلکہ آپ کے اتباع میں ملے سکوت اختیار کیاہے یااس کے ملنے کوممکن اورجائز قراردیاہے۔

پس مختارمدعیہ کا گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ پرمذکورہ بالااعتراض بالکل باطل ہے۔

عدالت میں شیخ الجامعہ اورمولوی محمدحسین کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن چونکہ ان دونوں کی شہادتوں میں وہی باتیں بیان کی گئی ہیں جودوسرے گواہان مدعیہ نے بیان کی ہیں اورانہوں نے جوباتیں بیان کی ہیں گواہان مدعاعلیہ نے ان کا مسکت جواب دے دیاہے۔ اس لئے شیخ الجامعہ اورمولوی محمدحسین کی گواہیاں باطل اورناقابل التفات ہوگئیں اوران کے متعلق علیحدہ جرح کی ضرورت نہ رہی۔

311

(۳) گواہ مدعاعلیہ نمبر کی معلومات پربحث کاجواب

مختارمدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ اس کی معلومات ناقص ہیں۔ کیونکہ :

۱… گواہ مدعاعلیہ نمبر نے البحرالرائق سے بہت سی عبارتیں نقل کی ہیں۔ ۷؍مارچ کو جب البحرالرائق کا اصول تکفیر دریافت کیاگیا۔ تولاعلمی ظاہر کی اور۔

۲… فتوحات مکیہ کے متعلق یکم ؍مارچ کو بجواب جرح کہا کہ میں نے بالاستیعاب یعنی پوری کی پوری نہیں پڑھی ہے اور اس طرح منصب امامت اوراشارات فریدی کے متعلق یہی کہاہے۔

۳… اورہدیہ مجددیہ اورجامع الشواہد اوربھونچال برلشکردجال کے مصنّفین کے نام نہ بتائے اور ہدیہ مجددیہ کے مصنف نے جو علماء کی شہادت کے قبول نہ کرنے کے متعلق مبسوط کاحوالہ دیاتھا۔ اس کی بابت کہاکہ میں نے مبسوط نہیں دیکھی۔

مختارمدعیہ کی یہ تینوں باتیں ایسی ہیں جوگواہ نمبر۱ کی شہادت پرایک سرموبھی اثرانداز نہیں ہوسکتیں۔ پہلی اس لئے کہ وہ خلاف واقعہ ہے کیونکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے۷؍مارچ کو بجواب جرح اس کا جوجواب دیاہے اس کے یہ الفاظ ہیں: ’’لیکن بحرالرائق میں یہ لکھاہے کہ ان میں سے اکثرکے متعلق میںفتویٰ نہیںدیتا اوراگر کسی کے کلام کا محمل حسن نکل سکے، تواس کے مطابق فتوی دیاجائے گا اوریہ بھی فقہ کی کتابوں میں آیاہے کہ اگر کسی کلام میں نناوے(۹۹) احتمال کفر کے نکل سکیں اور ایک احتمال ایمان کا تواس کوکفر کافتویٰ نہیں دیناچاہئے لیکن باوجود اس کے مولویوں نے اس کے خلاف فتوے دئیے ہیں۔‘‘

دوسری اس لئے کہ فتوحات مکیہ اتنی ضخیم کتاب ہے کہ جس غرض سے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اس کا مطالبہ کیاتھا اس غرض کے لئے اسے بالاستیعاب پڑھناضروری نہیںتھا۔

دوسری کتابوں کے متعلق یہ جواب ہے کہ ان سے جوعبارات پیش کی گئی ہیں ان کے خلاف ان کتب میں کوئی عبارت نہیں ہے جس سے پیش کردہ عبارت کے مفہوم میں فرق آسکے۔ اس لئے ان کتابوں کا بالاستیعاب پڑھناضروری نہیں ہے۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ہدیہ مجددیہ کے متعلق جوسوال تھا اس کا یہ جواب دیاتھا کہ ان کا مذہب مجھے اس لحاظ سے معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنے آپ کو کس فرقہ کی طرف منسوب کیاہے اور ہدیہ مجددیہ کے مصنف نے کتاب کی غرض خود بیان کردی ہے اورہدیہ مجددیہ کے مصنف کانام کتاب پرلکھاہواہے اس وقت مجھے یاد نہیں۔

اورمختارمدعیہ نے جامع الشواہد کے مصنف کے متعلق جوجواب گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کی طرف منسوب کیا ہے وہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس کا جواب جو۱۲؍مارچ کی جرح میں درج ہے یہ ہے کہ: ’’جامع الشواہد اوربھونچال برلشکردجال کے مصنّفین کے متعلق ان کی کتابوں سے معلوم ہوسکے گا کہ وہ مقلدین تھے یا غیر مقلدین۔‘‘

علاوہ ازیں بیسیوں کتابوں میں سے جن کاشہادت میں ذکرآیاہے کسی کتاب کے مصنف کانام بھول جانے سے گواہ کی معلومات پرتوکئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن گواہ مدعیہ نمبر۱ کاجوبقول دارالعلوم دیوبند کے مفتی بھی ہیں۔ مندرجہ ذیل امور سے عدم علم کا اظہار کرنا ان کے معلومات کو ضرورناقص ثابت کرتاہے۔

۱… ۲۱؍اگست کوبجواب جرح کہا۔ مجھے یاد نہیں کہ دیوبندیوں نے بھی کسی کواحمدی کے سوا کافر کہاہے یا نہیں۔

۲… مسیلمہ کذاب نبوت مستقلہ کامدعی نہیں اس نے اسلامی شریعت کے خلاف کوئی شریعت قائم نہیں کی اورمجھے علم نہیں کہ قرآن شریف کے مقابلہ میں کوئی آیت قائم کی تھیں، یانہیں۔

312

۳… امام شافعی اور امام احمدبن حنبل،امام بخاری، امام نسائی، سید عبدالقادرجیلانی، شیخ محی الدین ابن عربی پرعلماء کے فتوے لگانے کا مجھے علم نہیں۔

اسی طرح گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کوبجواب جرح کہا مسلم کے دونوں شارحین کو میں نہیں جانتا اور اسی طرح گواہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح کہا۔ مجھے معلوم نہیں کہ مولوی محمدحسین بٹالوی نے کس سن میں فتویٰ دیا اور مجھے معلوم نہیں کہ خاتم النّبیین میں خاتم کے معنی مہر کے کس نے کئے ہیں اورمجھے معلوم نہیں کہ خاتم الاولیاء مرزا صاحب نے لکھاہے یانہیں۔ پس مختارمدعیہ کا یہ اعتراض خود اس کے گواہوں پرپڑتاہے۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کے جوابات میں تعارض کا رد

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ پر ایک یہ بھی اعتراض کیاہے کہ وہ اپنے بیان میں ٹکرایاہے اوراس کے جوابات میں تعارض پایاجاتاہے۔

۱… مختارمدعیہ نے پہلاتعارض یہ بیان کیاہے کہ۹؍مارچ کو بجواب جرح اس نے اجماع کے متعلق کہاہے کہ کسی منصوص مسئلہ پر تمام امت بلا استثناء اجماع کرے اور پھر یہ جواب دیا کہ امت مسلمہ کے اکابر اور بزرگ اسے مانتے چلے آتے ہوں۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’اگر کسی منصوص مسئلہ پرتمام امت بغیراستثناء کے اجماع کرلے تو اس کامانناضروری ہے۔ ہمارے نزدیک اجماع امت سے مراد یہ ہے کہ امت کے تمام بزرگ اورمسلم اکابر اس کو مانتے چلے آئے ہوں۔‘‘ دیکھوجواب جرح ۹؍مارچ۱۹۳۳ء۔

ظاہر ہے کہ اس عبارت میں کوئی تناقض اورتعارض نہیں ہے۔ پہلے قول میں ’’تمام امت بلااستثناء‘‘ کے الفاظ تھے اور دوسرے میں اس کی تفسیر کردی کہ ’’تمام امت بلااستثناء‘‘ اجماع کرنے سے امت کے اکابرتمام بزرگ کامان لینا مرادہے۔ اس میں تعارض بتانا مختارمدعیہ ہی کاکام ہے۔

۲… گواہ نمبر۱نے ۹؍مارچ کو بجواب جرح کہا کہ اشارات فریدی ج سوم خواجہ محمدبخش صاحب نے مولوی رکن الدین سے سبقاً سبقاً سنی اور۱۲؍مارچ کو بجواب جرح کہا کہ خواجہ فرید الدین صاحب نے سبقاً سبقاً سنی پس دونوں بیان میں تعارض ہے۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’میں نے جو پہلے لکھوایاہے کہ اشارات فریدی ج سوم جس سے حضرت مرزاصاحب کے مسلمان ہونے پرشہادت پیش کی گئی ہے۔ خواجہ محمدبخش صاحب نے سبقاً سبقاً سنی اوراس کی تصحیح فرمائی یہ صحیح نہیں۔ بلکہ خواجہ غلام فرید صاحب نے سبقاً سبقاً سنی اور اس کی تصحیح کی ہے۔‘‘

کیااس جواب کو پڑھ کر کوئی عقل مند کہہ سکتاہے کہ گواہ کے بیان میں تعارض ہے۔ ہرگز نہیں! کیونکہ گواہ نے خود ہی غلطی دور کردی اور پہلے جواب کی تصحیح کردی ہے۔

۳… گواہ مدعاعلیہ نے ۱۱؍مارچ کو بجواب جرح کہا کہ چندہ ادانہ کرنے والا بیعت سے خارج ہونے کے بعد احمدی مسلمان ہے اور گواہ نمبر۱ کایہ جواب مرزا محمود صاحب کے اس قول سے کہ جو بیعت میں داخل نہ ہو وہ احمدی نہیں ہے مناقض ہے۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جوشخص تین مہینے تک چندہ نہ دے وہ نظام جماعت سے خارج سمجھاجاتاہے۔ اگر وہ احمدیت سے انکار نہیں کرتا تو وہ احمدی کہلائے گا۔ لیکن نظام جماعت سے خارج سمجھاجائے گا۔‘‘ (ملاحظہ ہوجواب جرح ۱۱؍مارچ ۱۹۳۳ء)(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۹)

اوراس میں برائے نام بھی تناقض نہیں تھا۔ کیونکہ نظام جماعت سے خارج کردیا جانا اور بات ہے اور احمدیت سے خارج

313

کردیاجانا اوربات ہے۔ لیکن مختارمدعیہ کواس میں تناقض نظر آتاہے۔ حالانکہ اس میں کوئی تناقض نہیں ہے۔

۴… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۲؍مارچ کو اقرارکیا ہے کہ مسیح موعود نبی ہیں اور نبی کسی مشرکانہ عقیدہ پرنہیں ہوسکتا۔ لیکن براہین میں آپ کو مسیح کہاگیااورآپ(حیات مسیح) مشرکانہ عقیدہ پرقائم رہے۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جس وقت مرزا صاحب مسلمانوں کے عام عقیدہ کے مطابق حیات مسیح مانتے تھے۔ اس وقت تک آپ نے دعویٰ نبوت نہیں کیاتھا۔ مسیح موعود نبی ہیں۔ لیکن اس وقت تک (یعنی براہین کے زمانے تک) آپ پر حقیقت نہ کھلی تھی۔‘‘(اعجاز احمدی ص۶، خزائن ج۱۹ ص۱۱۲،۱۱۳ مفہوم)

اورحیات مسیح کے عقیدہ کے مشرکانہ عقیدہ ہونے سے جو یہ مراد ہے اس کی بحث ہوچکی ہے۔ پس یہاں بھی گواہ کے جواب میں کوئی تناقض نہیں ہے۔

۵… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ بجواب جرح کہا۔ بخاری کی حدیثیں بھی بشرط موافقت قرآن معتبرہیں۔ حالانکہ گواہان اور مرزا صاحب نے تسلیم کیاہے کہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ سب حدیثوں سے صحیح بخاری کی حدیثیں ہیں۔

جواب: ان دونوں باتوں میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے۔ قرآن مجید بطریق تواتر یقینی ہم تک پہنچاہے جس میں قطعاً شبہ کی گنجائش نہیں۔ لیکن بخاری کی احادیث اس طریق سے نہیں پہنچیں۔ پس اس کا اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہونا انہی کتب کی نسبت سے ہے جو بطریق روایت ہم تک پہنچی ہیںاوراس کے یہ معنی قطعاً نہیں کہ اس میں جوکچھ بھی آیاہے وہ سب صحیح ہے۔ کیونکہ اس کی بعض احادیث میں شدید اختلاف پایاجاتاہے۔

مثلاً شریک کی روایت میں جو کتاب التوحید میں آئی ہے معراج کا ذکرکرنے سے پہلے قبل ان یوحٰی الیہ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی یہ واقعہ آنحضرتﷺ پر نزول وحی کے شروع ہونے سے پہلے ہواہے اور دوسری احادیث میں آیاہے کہ معراج میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ پس واقعہ معراج وحی کے شروع ہونے سے پہلے کا واقعہ کیونکر ہوسکتاہے۔ اسی طرح ان احادیث کے اختلاف کاحال ہے۔ جن میں انبیاءؑ کے آسمانوں پرہونے کی ترتیب بیان ہوئی ہے اگر بخاری کی احادیث کے باہم متعارض ہونے میں مختارمدعیہ کو شک یاتردد ہوتودیوبندیوں کے مقتداء مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کا یہ قول ملاحظہ کرکے اپنا شک دورکرسکتے ہیں کہ: ’’قول غیرمقلدین کا کہ فقہ میں بہت اختلاف ہے اوراحادیث میں یہ نہیں بالکل غلط ہے… احادیث میں اس قدرتعارض ہے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔ یہ کلام محض دھوکا دہی ہے جس کادل چاہے دیکھ لیوے کہ احادیث بخاری کی خود باہم متعارض ہیں اور یہ ہی سبب اختلاف فقہاء مجتہدین کاہواہے۔ اللہاکبر! کیساغلط قول ہے کہ آفتاب پرخاک ڈالنا اسی کو کہتے ہیں۔‘‘(سبیل الرشاد مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۴)

اورحضرت مسیح موعود نے بخاری کی احادیث قبول کرنے کے لئے بھی وہی شرط لگائی ہے جودوسری کتب احادیث کے لئے لگائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’الغرض میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اورمسلم کی حدیثیں ظنی طورپرصحیح ہیں۔ مگرجوحدیث صریح طور پران میں سے مباین ومخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہوجائے گی۔ آخر بخاری اورمسلم پروحی تونازل نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیاہے۔ اس طریق پرنظرڈالنے سے ہی معلوم ہوتاہے کہ بلاشبہ وہ طریق ظنی ہے اوران کی نسبت یقین کاادّعاء کرناادّعاء باطل ہے۔‘‘(الحق لدھیانہ ص۱۳،خزائن ج۴ ص۱۵)

۶… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے۷؍مارچ کوبجواب جرح کہاکہ اگر کوئی حکم بذریعہ جبرئیل بھی نازل ہوتوکوئی حرج نہیںاورگواہ کا یہ قول (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱)کی اس عبارت کے خلاف ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ بذریعہ جبرئیل وحی نازل ہو تو یہ امربھی ختم نبوت کے منافی ہے۔

314

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جبرئیل کے ذریعہ سے نئے احکام اورنئی شرعی وحی بندہے۔ اگر ایسے نبی پرجو رسول اللہﷺ کی اتباع سے ہوکوئی حکم شریعت محمدیہ کا بذریعہ جبرئیل بھی نازل ہوتواس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

اورحضرت مسیح موعود کہ کتاب ازالہ اوہام میں ایسے نبی پرجس کاگواہ نمبر۱ کے جواب میں ذکرہے وحی بذریعہ جبرئیل کے نزول سے انکار نہیں کیاگیا۔بلکہ وہاں مستقل نبوت کا ذکرہے جوحضرت عیسیٰؑ کے نزول کوماننے سے لازم آتی ہے۔ پس حضرت مسیح موعود اورمدعاعلیہ نمبر۱ کے بیان میں کوئی تناقض نہیں۔

۷… گواہ مدعا علیہ نے ۷؍مارچ کو بجواب جرح کہا ہے کہ اولیاء اور انبیاء دونوں پر ایک قسم کی وحی ہوسکتی ہے۔ اوّل تو یہ بداہتہً باطل ہے۔ لیکن گواہ نے بحوالہ علم الکتاب تسلیم کیا ہے کہ وحی کا لفظ ولی کے الہام پر اطلاق نہیں پا سکتا۔

جواب: اگرمختارمدعیہ کامقصود عدالت کومغالطہ نہ دینا ہوتا۔ توگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے الفاظ اس کو اس اعتراض سے باز رکھنے کے لئے کافی تھے۔ چنانچہ گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’میرے نزدیک جووحی انبیاء کوہوتی ہے۔ وہی وحی اولیاء کو بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن فرق کمیت اورکیفیت میں ہے اور صوفیہ نے نبیوں کی وحی کووحی کہاہے اوردوسرے اولیاء کی وحی کووحی الہام اور(کبریت احمرص۱۰حاشیہ الیواقیت والجواہر) کے حوالہ سے بتایاگیا کہ وہ فرشتہ کی زبان پربھی ہوسکتی ہے۔‘‘ ملاحظہ ہوجواب جرح ۷؍مارچ۔

اورگواہ مدعاعلیہ۲۱؍اگست کوبجواب جرح بحوالہ فتوحات تسلیم کرچکاہے کہ اولیاء امت کوانبیاء کی طرح ہوتی ہے اور فرق تشریع اورغیرتشریع کاہے۔

گواہ مدعاعلیہ نمبرا کے ان الفاظ کی موجودگی میں اورگواہ مدعیہ نمبر۱ کے اقرارکے ہوتے ہوئے مختارمدعیہ کے مذکوربالااعتراض کی جہاں تک گنجائش ہے وہ ظاہرہے۔ لیکن وہ ان الفاظ کی موجودگی میں بھی اعتراض سے باز نہ رہ سکا کہ علم الکتاب میں بھی اسی اصطلاح کے مطابق اولیاء کی وحی کوالہام کہاگیاہے۔

۸… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے کہاہے کہ نعمت اللہولی پرکثرت سے امورغیبیہ کااظہار نہیں ہوا۔ اس کے لئے وہ نبی نہیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کیسی چیز ہے۔ حالانکہ گواہ مانتے ہیں کہ نبوت وہبی ہے۔

جواب: نبوت کے لئے کثرت اظہار امور غیبیہ کی شرط کاہونا اس کے وہبی ہونے کے منافی نہیں ہے اور اس سے مراد یہ ہے خداتعالیٰ جب کسی کواز راہ موہبیت نبی بناتاہے تو اسے کثرت اظہار امورغیبیہ کی نعمت سے مشرف کرتاہے۔

۹… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے ۷؍مارچ کوبجواب جرح اہل کتاب کی تعریف یہ کی کہ جن کوکتاب ملی ہے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے ۲۱؍مارچ کوبجواب جرح کہا کہ اہل کتاب وہ ہیں جنہیں مسلمانوں سے پہلے کتاب مل چکی ہے۔ پس گواہ نمبر۱ کی تعریف اور گواہ نمبر۲ کی تعریف سے متعارض ہے۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کے الفاظ یہ ہیں: ’’اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں مسلمانوں سے پہلے کتاب مل چکی ہے۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کالفظ یہود ونصاریٰ پربھی استعمال ہواہے اور یہود نصاریٰ کے علاوہ مسلمانوں کے لئے بظاہر لفظ اہل کتاب استعمال نہیں ہوا۔ ورنہ وہ بھی اہل کتاب ہیں اورگواہ نمبر۲نے مکرربیان میں کہاہے کہ مسلمان اہل کتاب ہیں۔ پس گواہان مدعاعلیہ کے بیانوں میں کوئی تناقض نہیں ہے۔‘‘

۱۰… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے عبداللہ بن مسعود کے متعلق کہاہے کہ وہ بڑے جلیل القدرصحابی ہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھاہے کہ وہ ایک معمولی آدمی تھا۔

315

جواب: حضرت مسیح موعود کاابن مسعود کومعمولی انسان لکھنا گواہ کے جواب کے منافی اورمعارض نہیںہے۔ کیونکہ آپ نے نبی اور رسول کے مقابلہ میں انہیں معمولی انسان لکھاہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔ نبی اوررسول تونہیںتھا۔ اس جوش میں اگر غلطی کھائی توکیا اس کی بات کو ’’ان ھوالاوحی یوحٰی‘‘ میں داخل کیاجائے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص۲۴۶، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

پس نبی اوررسول کے مقابلہ میں ابن مسعودq کو معمولی انسان لکھنا ان کے جلیل القدر صحابی ہونے کے مباین نہیں ہے۔ علامہ محمدقاسم صاحب نانوتوی فرماتے ہیں: ’’اورسنیوں کے نزدیک گوحضرت زید اکابر اولیاء میں سے ہوں۔ لیکن تاہم آدمی ہیں جب تک سند نہ ہو۔ کیونکر معلوم ہوکہ انہوں نے جس سے یہ بات سنی وہ معتبر ہے کہ نہیں۔‘‘ (ہدیۃ الشیعہ ص۲۳۱)

کیا مولوی قاسم صاحب کا حضرت زید کو آدمی کہہ دینا ان کے اکابر اولیاء میں سے ہونے کے منافی ہے؟ ہرگزنہیں۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱کے علم کے متعلق اعتراضات کاجواب

گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں ملائکہ کی تعریف ہے تواس نے جواب دیا کہ نہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں ان کی تعریف’’بل عباد مکرمون‘‘ موجودہے۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’مجھے کوئی تعریف ملائکہ کی جس طرح مختارمدعیہ چاہتاہے معلوم نہیں۔ البتہ ملائکہ کے کاموں کاذکرقرآن مجید میں ہے۔‘‘

اورمختارمدعیہ کا’’بل عبادمکرمون‘‘ کو ملائکہ کی تعریف دینا بالکل غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں ملائکہ کی تعریف نہیں بلکہ ان کے اوصاف کاذکرزیادہ موزوں معلوم دیتاہے۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے گزشتہ رسولوں کا ذکرہے۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتاہے:’’وما ارسلنا من قبلک من رجال الانوحی الیہ انہ لآالہ انا فاعبدون وقالوا اتخذ اللہ ولداً سبحانہ بل عباد مکرمون (الایۃ)‘‘

اصل آیت: ’’وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی… الخ! (الانبیاء:۲۵)‘‘

یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کسی مرد کو رسول نہیں بنایا۔ مگرہم اس کی طرف وحی کرتے رہے کہ خداکے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری عبادت کرو اورلوگوں نے کہا کہ رحمان خدانے اپنے ولد بنایا ہے۔ خدااس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی بیٹا نہیں بلکہ وہ توخداتعالیٰ کے مقرب اورمعزز بندے ہیں۔ وہ اس سے قول میں سبقت نہیں کرتے اوروہ اس کے حکم پرعامل ہوتے ہیں اورخداتعالیٰ جانتاہے اس چیز کوجوان کے سامنے ہے اور ان کے پیچھے ہے اوروہ کسی کے حق میں شفاعت نہیں کرتے مگرجس کے لئے خداتعالیٰ پسندکرے اوروہ اس کی خشیت سے ڈرتے رہتے ہیں اورجوان میں سے کہے کہ میں اللہتعالیٰ کے سواء معبود ہوں توہم اس کو بدلے میں جہنم دیں گے۔ اسی طرح ہم ظالموں کوجزا دیاکرتے ہیں۔

اب ظاہر ہے کہ کسی فرشتہ کی طرف ایسے طور پر خدائی کا دعویٰ منسوب نہیں کیاگیا کہ کسی فرشتہ نے آکرلوگوں کو یہ تعلیم دی ہو کہ وہ اسے خداکے ساتھ شریک بنائیں۔ لیکن دنیا میں ایسی اقوام موجود ہیں جو اپنے انبیاء کے حق میں یہ کہتی ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کے بیٹے تھے اورانہوں نے اپنے آپ کوخداکہا۔ اس لئے ہم پران کی پرستش اورعبادت لازم ہے۔ جیسے کہ عیسائی اورہندو وغیرہ اوریہ آیت عصمت انبیاء کی زبردست دلیل ہے۔

۲… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے ۷؍مارچ کوبجواب جرح کہاکہ اہل سنت والجماعت وہ ہے جواپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کے کہے

316

حالانکہ یہ تعریف صحیح نہیں۔ غنیۃ الطالبین میں اہل سنت کی تعریف رسول مقبول کا طریقہ اورصحابہ کامتفقہ طریقہ لکھی ہے اور یہ اصل تعریف ہے۔

جواب: مختارمدعیہ نے غنیۃ الطالبین کی عبارت پیش کردی۔ مگر یہ نہ سمجھ سکا کہ غنیۃ الطالبین میں جوتعریف بیان کی گئی ہے وہ اہل سنت والجماعت کی تعریف نہیں، بلکہ سنت اورجماعت کی تعریف ہے اورگواہ مدعاعلیہ سے جوسوال کیاگیاہے وہ سنت اورجماعت کے متعلق نہیں، بلکہ اہل سنت وجماعت کے متعلق تھا۔ جس کے جواب میں گواہ مدعاعلیہ کے الفاظ یہ ہیں: ’’عام طورپراہل سنت سے حنفی،شافعی، مالکی، حنبلی مراد لئے جاتے ہیں۔ لیکن ہرایک وہ شخص بھی جوکہے کہ میں سنت کا تابع ہوں اس سے مراد لیاجاسکتاہے۔‘‘ ملاحظہ ہوجواب جرح ۷؍مارچ۱۹۳۳ء۔

۳… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بجواب جرح ۷؍مارچ کوکہا۔ جوکسی حدیث کا واقعی طور پر قرآن کے موافق ہوناثابت کردے۔ اس کا قول مسلم ہے۔ پس اگر یہی اصول ہے تو یہ دین بازیچہ طفلاں ہوجائے گا۔

جواب: گواہ مدعاعلیہ نے یہ نہیں کہابلکہ اس نے جوکچھ کہاہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’جوشخص کسی حدیث یاقول کوواقعی طورپرقرآن کریم کے خلاف ثابت کردے تواس کاقول معتبرہوگا۔‘‘

اورگواہ کے اس قول پرازروئے عقل وانصاف کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا اور یہ وہ بات ہے جس کے خلاف اہل علم میں سے کسی کو ذرا بھی گنجائش چون وچرا نہیں ہے اوراس کی صحت ودرستی کے ثبوت کے لئے اس سے زیادہ اورکون سیی دلیل کی ضرورت ہے کہ تمام دیوبندیوں کے مسلمہ مقتداء وامام جناب مولوی محمدقاسم صاحب نانوتوی نے سکوت سے گواہ کے اس قول پران الفاظ میں اپنی مہرتصدیق ثبت فرمائی کہ: ’’اہل سنت کلام اللہ کے سامنے کسی کی بھی نہیں سنتے۔ یہاں تک کہ احادیث کوبھی اس پرمطابق کرکے دیکھتے ہیں۔ اگرموافق نکلے تو فبہاورنہ موافق مشہور کالائے زبوںبریش خاوند اس کا راویوں کے سرمارتے ہیں اورجان لیتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ راوی کاقصورہے۔‘‘(ہدیۃ الشیعہ ص۱۰)

اب تمام دیوبندیوں کے مقتداء مولوی محمدقاسم صاحب اہل سنت کا یہ عظیم الشان کارنامہ بیان فرمارہے ہیں کہ وہ قرآن شریف کے سامنے کسی کی بھی نہیں سنتے۔ حتی کہ احادیث کوبھی قرآن شریف سے مطابق کرکے دیکھ لیتے ہیں۔ اگر مطابق ہوتوقبول کرتے ہیں اورمطابق نہ ہوتوردی کی ٹوکری میں بھی نہیں ڈالتے بلکہ کالائے زبوں سمجھ کر نہایت حقارت سے راویوں کے سرمارتے ہیں اوراس کے خلاف مختارمدعیہ یہ کہتاہے کہ اگر یہی اصل ہے تو یہ دین بازیچہ طفلاں بن جائے گا اوراسی طرح وہ گواہ مدعاعلیہ پرہی بے جااعتراض نہیں کرتا۔بلکہ مولوی محمدقاسم صاحب کو بھی بازیچہ طفلاں بنادینے والاٹھہراتاہے۔

۴… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے ۱۲؍مارچ کوبجواب جرح کہاکہ جن احادیث کے متعلق مرزا صاحب نے ردی میں پھینکنے کے متعلق کہاہے اس سے مراد وہ احادیث ہیں جوقرآن کے معارض ہیں اورصحیح احادیث کے متعلق جووحی غیرمتلو ہیں تسلیم کیاہے کہ وہ قرآن کے معارض ہوسکتی ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کی وحی کے متعلق کہا کہ آپ کی کوئی وحی قرآن کی معارض نہیں ہے۔

جواب: یہ اعتراض محض قلت تدبر سے پیداہواہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جوحدیث قرآن کے مخالف ثابت ہوگی وہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہی نہیں ہوگی بلکہ ماننا پڑے گا کہ وہ غلط طورپرآپ کی طرف منسوب کی گئی اور وہ آپ پرافتراء ہے۔ خواہ ناواقفان حقیقت اسے کیسی ہی صحیح سمجھتے اورخیال کرتے ہوں۔ جب کہ توضیح تلویح علی التنقیح ص۲۶۳ مطبوعہ مصری فاعرضوہ علی کتاب اللہ ذکرکرکے لکھاہے:’’فدل ھٰذا الحدیث علی ان کل حدیث یخالف کتاب اللہ فانہ لیس بحدیث الرسولa وانما ھومفتری‘‘

یعنی اس حدیث کامدلول اورماحصل یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جوکتاب اللہ کے مخالف ہو وہ رسول اللہﷺ کی حدیث نہیں بلکہ محض

317

افتراء اور وضعی قول ہوگا اوردیوبندیوں کے مقتداء وامام مولوی محمدقاسم صاحب نے بھی ایسی حدیث کو راویوں کے سرمار دینے کا اظہار کیا ہے۔ پس ایک قول جوآنحضرتﷺ پرافتراء کیاگیاہے اس کاقرآن شریف کے خلاف ہونا ذرا بھی محل تأمل نہیں۔ لیکن آنحضرتﷺ کے امتیوں میں سے ایک کامل فرد پرجومسیح موعود مہدی معہود کے درجہ پرممتاز کیاگیا۔ اللہتعالیٰ جووحی فرمائے تووہ کسی طرح قرآن شریف کے خلاف نہیں ہوسکتی اورجوخلاف قرآن شریف ہو وہ وحی نہیں شیطانی وسوسہ ہوگا۔

۵… گواہ مدعاعلیہ نمبر۱نے بجواب جرح یہ کہاہے کہ:’’وان من امۃ الاخلافیھانذیر‘‘ کے عموم لحاظ سے کرشن ہونے کا دعویٰ خلاف قرآن نہیںہے۔ پس اس اصل کی روسے توآیت:’’ما اٰتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا (الحشر:۷)‘‘ کوئی حدیث بھی قرآن کے خلاف نہیں ہوسکتی۔

جواب: سوال تویہی ہے کہ کسی روایت کاآنحضرتﷺ سے ہوناکیسے ثابت کیاجائے۔ اسی کے لئے تویہ اصول باندھاگیاہے۔ چونکہ آنحضرتﷺ کاارشاد قرآن شریف کے مخالف نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اگر کوئی روایت ایسی ہو جوقرآن کی نصوص کے مخالف ہو تووہ رسول اللہﷺ کی حدیث نہیں ہوگی۔ زیرحکم آیت:’’ما اٰتاکم الرسول فخذوہ‘‘ داخل نہیں ہوسکے گی اورگواہ نمبر۱ کے اصل الفاظ سے کرشن ہونے کے دعویٰ کی قرآن شریف سے مطابقت بالکل ظاہرہے۔ چنانچہ وہ الفاظ یہ ہیں: ’’کرشن ہونے کا دعویٰ آپ نے وحی الٰہی کی بناء پر کیاہے اورآپ کی وحی قرآن مجید کے معیاروں کی روسے جو وحی من اللہ ہونے کے لئے قرآن مجید میں بیان ہوتے ہیں، سچی ہے۔ لہٰذا آپ کے کرشن ہونے کا دعویٰ کرنا قرآن مجید کے مخالف ہیں ہے۔ قرآن مجید میں خداتعالیٰ نے فرمایاہے: ’’ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ‘‘ کہ ہم نے ہرامت میں رسول بھیجے اوراسی طرح فرمایا: ’’وان من امۃ الاخلافیھا نذیر‘‘ کہ ہرامت میں خداتعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والے آئے۔ اس لئے ہندو قوم کی اصلاح کے لئے اگرکرشن کوخداتعالیٰ کانبی سمجھ لیاجائے تو قرآن کریم کی تعلیم کے ذرابھی مخالف نہیں۔ چنانچہ علماء نے اس امر کوتسلیم کیاہے اورخواجہ غلام فرید صاحب نے بھی کرشن کونبی ماناہے۔ جیسا کہ پہلے مفصل بیان کیاجاچکاہے۔‘‘

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲پرتبصرہ

۱… گواہ نمبر۲ نے ۲۳؍مارچ کو بجواب جرح کہ جوقرآن شریف کوپڑھتاہے، وہ قرآن وحدیث میں تطابق کرسکتاہے اور میرے نزدیک میرے واجب الاطاعت اماموں اورمیری اپنی مطابقت مسلم ہے اور۲۱؍مارچ کوبجواب جرح کہا میرے نزدیک خلیفہ اوّل وثانی کے اقوال سند ہیں اوراس کے سواء میرے نزدیک اورکوئی سند نہیں۔ لہٰذا دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔

جواب: احادیث کوقران شریف کے مطابق کرنے کے متعلق پہلے ذکرآچکاہے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’میرے نزدیک قرآن شریف کے سواء اورکوئی چیز مسلم نہیں۔ سوائے اس کے جوقرآن شریف کے ساتھ تطابق رکھتی ہو جوقرآن شریف پڑھتاہے وہ خود تطابق کرسکتاہے اور میرے نزدیک میرے واجب الاطاعت اماموں اور میری اپنی مطابقت مسلم ہے۔‘‘

ظاہرہے کہ ہرایک شخص اپنی مطابقت کوجب اسے اس کی صحت پریقین ہوا اور اپنے واجب الاطاعت اماموں کی مطابقت کوصحیح تسلیم کرتاہے اور۲۱؍مارچ کو گواہ مدعاعلیہ نمبر۲نے وہ جواب نہیں دیاجومختارمدعیہ نے بیان کیا ہے بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’میرے نزدیک حضرت مرزا صاحب اوران کے دونوں خلفاء کی تحریرات ان کی اپنی کتابوں سے حجت اورمعتبرہیں اوراگرکوئی ایسا قول ہوجس کی ان کتب میں تصریح نہ ہوتووہ قول حجت نہ ہوگا۔‘‘

پس مختارمدعیہ نے گواہ نمبر۲ کے جواب کومنحرف مبدل کرکے اعتراض کیاہے۔

318

۲… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے ضروریات دین کے معنی اپنے بیان میں دئیے ہیں لیکن کوئی حوالہ نہیں دیا۔ پس گواہ نمبر۲ ضروریات دین کی تعریف بھی نہیں جانتااوربالکل ناواقف ہے۔

جواب: گواہ نمبر۲ نے ضروریات دین کی تشریح اپنے بیان میں وضاحت سے کردی ہے۔ نیز۲۳؍مارچ کو بجواب جرح ضرورت دین کی یہ تعریف بھی کی ہے: ’’ضرورت دین وہ چیز ہے جس کاماننا اس دین کے اندرداخل ہونے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ قرآن شریف کی رو سے اوران احادیث کی رو سے جن کو قرآن کریم کی بناء پرقطعیت کادرجہ حاصل ہے۔‘‘

پھرباوجود اس کے مختارمدعیہ کایہ کہنا کہ گواہ نمبر۲ نے ضروریات دین کی تعریف نہیں کی صریح مغالطہ ہے۔ اگر یہ تعریف غلط تھی تواس پراعتراض کرنے سے پہلے لازم تھا کہ وہ اسے غلط ثابت کرلیتا۔

۳… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے کہا ہے کہ نبوت کے لغوی معنی ہیں، خبردینا یعنی خدا کی طرف سے غیب کی خبرپاکر اطلاع دینا، یہ تعریف لغت میں نہیں لکھا۔

جواب: نبوت کے مذکورہ بالا معنی لغت کی بڑی کتابوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کتابوں میں بھی لکھے ہیں۔ چنانچہ منجد میں لکھاہے: ’’النّبوۃ والنّبوۃ الاخبار عن الغیب اوالمستقبل بالعام من اللہ الاخبار من اللہ وما یتعلق بہ تعالٰی والنّبی المخبر من الغیب اوالمستقبل بالعام من اللہ‘‘

یعنی نبوت خداتعالیٰ سے بذریعہ الہام غیب یا مستقبل کے متعلق خبردینے کوکہتے ہیں یااللہتعالیٰ اورجواموراس کے متعلق ہیں، ان سے خبردینے کو اورنبی غیب یامستقبل کے متعلق بذریعہ الہام الٰہی خبردینے والوں کو کہتے ہیں۔ لیکن اصطلاح میں جس پرکثرت سے امورغیبیہ کا اظہار ہو۔ پس گواہ نمبر۲ نے لغوی لحاظ سے نبوت کے جو معنی بیان کئے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں اورمختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے نبوت کے جو لغوی معنی بیان کئے ہیں وہ لغت میں نہیںہیں قطعاً باطل ہیں۔

۴… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ بعض کتاب کے مضمون کانام نہ بتاسکا اور بعض کتب کے بالاستیعاب نہ پڑھنے کااقرار کیا۔ چونکہ اس سوال کا جواب پہلے گزر چکاہے۔ اس لئے دوبارہ جواب دینے کی ضرورت نہیں۔

۵… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے خواجہ غلام فرید صاحب کے متعلق ابتدائی تعارف میں توبہت کچھ پیش کیا۔ لیکن جرح کے جواب میں کہاکہ خواجہ صاحب میرے واجب التعظیم بزرگ نہیں بلکہ احمدی ہونے کے بعد دوسروں کی طرح ہیں۔

جواب: یہ بھی مختارمدعیہ کا ایک خلاف واقعہ قول ہے گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’واجب الاطاعت ہونے کے لحاظ سے مسلم بزرگ نہیں ہیں۔ ویسے مسلم بزرگ ہیں جیسے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اور سابقین احمدی حضرات میرے بزرگ ہیں۔‘‘

اوراس قول اورمختارمدعیہ کے قول میں جو فرق ہے۔ وہ معمولی اردوخواں بھی آسانی سے سمجھ سکتاہے۔

۶… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے ۲۱؍مارچ کوبجواب جرح کہا۔ احمدیت سے ارتداد اسلام سے ارتداد نہیں اورسوالات مکررکے جواب میں کہا کہ اسلام سے ارتداد اوراحمدیت سے ارتدادایک ہی چیز ہے۔

جواب: اصل الفاظ گواہ کے یہ ہیں: ’’حضرت مرزا صاحب کا انکار کرنے والا اورآپ کو مسلمان سمجھ کر کافر کہنے والا مرتد نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ مرتد کے معنی مان کرانکار کرنے والے کے ہیں۔‘‘ دیکھو جواب جرح ۲۱؍مارچ۱۹۳۳ء اورمکرربیان میں اس نے کہاہے: ’’اسلام سے ارتداد اوراحمدیت سے ارتداد بلحاظ مرتد ہونے کے توایک ہی ہے۔ قطعاً کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ احمدیت عین اسلام ہے۔ لیکن اس لحاظ سے فرق ہے کہ مسلمان کہلانے والاشخص مرتدہوکرکسی غیراز اسلام مذہب یعنی ہندومذہب یاعیسائی مذہب وغیرہ میں شامل ہوتاہے۔ لیکن

319

احمدیت سے مرتد ہونے والا اسلام کے مخالف مذہبوں میں شامل ہونا اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتابلکہ عام مسلمانوں میں شامل ہوجاتاہے۔‘‘

چونکہ ان اصل جوابات پرمختارمدعیہ کا اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اس لئے اس نے اعتراض کرنے کی غرض سے گواہ کے جوابات محرف ومبدل کرکے پیش کئے ہیں۔

۷… گواہ نمبر۲ نے ۲۰؍مارچ کوبجواب جرح کہا، ہندوستان میں احمدی کہتے ہیں جو مرزا صاحب کو مانتے ہیں اور سوالات مکرر کے جواب میں کہا مولوی رشیداحمدگنگوہی کو ماننے والے احمدی کہلاتے ہیں۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’میرے خیال میں جب کوئی شخص احمدی کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لکھتایابولتاہے یااپنے آپ کو احمدی کہتاہے تواس سے یہی مراد ہوتی کہ وہ جماعت احمدیہ کا فرد ہے اور جماعت احمدیہ وہ ہے جو حضرت مرزا صاحب کو مانے۔‘‘ ملاحظہ ہوجواب جرح ۲۰؍مارچ ۱۹۳۳۔

اورمکرربیان کے الفاظ یہ ہیں: ’’فوائد فریدیہ میں جس فرقہ کا ذکرہے۔ اس فرقہ احمدیہ سے مراد رشیداحمدگنگوہی کے ماننے والے ہوں گے۔‘‘

پس مختارمدعیہ گواہوں کے بیانوں کے خلاف متناقض بیانات اپنی طرف سے ان کی طرف منسوب کرتاہے اور پھرتناقض دکھاناشروع کردیتاہے۔ ان دونوں قولوں میں کہ ہندوستان میں احمدی سے مراد جماعت احمدیہ کے افراد لئے جاتے اور فوائد فریدیہ میں جماعت احمدیہ کے سواء کسی اورفرقہ احمدیہ کا ذکرہے کوئی تعارض نہیں۔

۸… گواہ مدعاعلیہ نمبر۲نے ۲۳؍مارچ کو بجواب جرح کہا کہ خواجہ غلام فرید صاحب کی وفات سے قبل تریاق القلوب اوربیسیوں کتابیں شائع ہوچکی تھیں اور مکرربیان میں یہ کہا کہ تریاق القلوب خواجہ صاحب کی وفات کے بعد شائع ہوئی دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔

جواب: گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’تریاق القلوب جس کے ملحقہ اشتہار میں گورنمنٹ کو مسلمان فرقہ احمدیہ لکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے لکھی جاچکی اور چھاپ دی گئی تھیں۔ بیسیوں کتابیں اس سے پہلے بھی شائع ہوئی ہیں جن میں جماعت کے نام احکام تھے۔‘‘ اور مکرربیان میں اس کے یہ الفاظ ہیں: ’’اشتہار ۴؍نومبر۱۹۰۰ء جس میں احمدیوں کانام مسلمان فرقہ احمدیہ رکھاہے۔ وہ تریاق القلوب کے ساتھ بھی شامل کیاگیاتھا۔ تریاق القلوب ۱۸۹۹ء میں تصنیف ہوکرچھپ چکی تھی۔ لیکن شائع نہیں کی گئی تھی۔ صرف ایک دوصفحہ اس وقت لکھے گئے اورایک دواشتہار جوپہلے لکھے گئے تھے ساتھ لگادئیے گئے۔‘‘

پس گواہ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ تریاق القلوب خواجہ صاحب کی وفات سے پہلے چھپ توچکی تھی۔ لیکن اس وقت شائع نہیں ہوئی تھی اوراس کی اشاعت ۱۹۰۲ء میں خواجہ صاحب کی وفات کے بعد ہوئی اور ظاہرہے کہ ان دونوں بیانوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ لیکن مختارمدعیہ کو اس میں تعارض نظر آتاہے۔

مختاران مدعیہ کی صریح غلط بیانیاں

گواہان مدعاعلیہ کی پوزیشن ان تمام الزامات اوربہتانات سے جومختارمدعیہ نے ان کی طرف منسوب کئے ہیں۔ بالکل مبّراہے اوران کے بیانوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ان کی شہادت کوذرابھی کمزور ثابت کرسکے۔ اب میں عدالت کی توجہ ان صریح غلط بیانیوں کی طرف پھیرناچاہتاہوں جومختاران مدعیہ نے اپنی بحث میں کی ہیں۔

۱… ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق کہا کہ اس نے بحرالرائق سے بہت سی عبارتیں نقل کیں۔ لیکن جب اس سے بحرالرائق کا اصول دریافت کیاگیاتولاعلمی ظاہرکی اوریہ مختارمدعیہ کی صریح غلط بیانی ہے۔ کیونکہ گواہ نمبر۱ نے ۷؍مارچ

320

کوبجواب جرح یہ جواب دیاہے: ’’لیکن البحرالرائق میں یہ لکھاہے کہ ان میں سے اکثر کے متعلق میں فتویٰ نہیں دیتا اوراگرکسی کے کلام کا محمل حسن نکل سکے تو اس کے مطابق فتویٰ دیاجائے گا اوریہ بھی فقہ کی کتابوں میں آیاہے کہ اگرکسی کلام میںننانوے(۹۹) احتمال کفر کے نکل سکیں اور ایک احتمال ایمان کا تواس کوکفر کا فتویٰ نہیںدیناچاہئے۔‘‘

۲… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق کہا کہ اس نے بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ چندہ ادانہ کرنے والا بیعت سے خارج ہونے کے بعداحمدی مسلمان ہے۔ حالانکہ گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جوشخص تین ماہ تک چندہ نہ دے وہ نظام جماعت سے خارج سمجھاجاتاہے۔ اگروہ احمدیت سے انکارنہیں کرتاتووہ احمدی کہلائے گالیکن نظام جماعت سے خارج سمجھاجائے گا۔‘‘(مجموعہ اشتہارات ج۳ص۴۶۹)

اب دیکھناچاہئے کہ مختارمدعیہ نے گواہ کی عبارت محرف ومبدل کرکے پیش کی ہے۔

۳… مختارمدعیہ نے ۱۱؍کتوبرکی بحث میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق یہ کہا کہ اس نے ۸؍مارچ کوبجواب جرح یہ تسلیم کیا کہ کفر جس جگہ داخل ہوتاہے۔ وقوع نہیں ہوتا اور یہ مختارمدعیہ کی نہایت ہی صریح غلط بیانی ہے گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’جس چیز پر فقط کفر داخل ہوتاہے اس میں اکثر وقوع نہیں ہوتا۔‘‘ ملاحظہ ہو۸؍مارچ ۱۹۳۳ء۔

’’اکثر‘‘ کے لفظ کومختارمدعیہ نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے ترک کردیا اور گواہ کے جواب کومحرف کرکے پیش کیا۔

۴… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں کہاکہ تفاسیر میں انبیاء کی عصمت کے خلاف جوباتیں درج ہیں وہ تردید کے لئے ہیں نہ کہ تائید کے لئے یعنی مفسرین نے ان باتوں کو درج کرکے ان کی تردید کی ہے اور یہ ایک نہایت عظیم الشان غلط بیانی ہے جس کا ذکر معہ تفاسیر کے عنوان کے ماتحت آگے کیاجائے گا۔

۵… مختارمدعیہ نے۱۰؍اکتوبر کی بحث میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق کہا کہ اس نے ۹؍مارچ کوبجواب جرح تسلیم کیاکہ خواجہ صاحب کے سامنے نبوت کا ذکر نہیں آیا۔ محدثیت کاذکرآیاہے۔ حالانکہ کہ گواہ کے یہ الفاظ نہیں بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت مرزا صاحب نے اپنے غیرتشریعی نبی ہونے کا دعویٰ توتوضیح المرام میں بھی کیاہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بتاچکاہوں آپ محدث کا لفظ بھی استعمال کرتے تھے۔ لیکن بعدمیں نبی کالفظ استعمال کرتے رہے اورآپ کے الہامات میں نبی اور رسول کے الفاظ تھے اور وہ الہامات خواجہ صاحب کے سامنے پیش ہوئے اور آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ یہ مرزا صاحب کے کمال پردال ہے۔

۶… مختارمدعیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں ایک یہ بھی غلط بیانی کی ہے کہ مرزا صاحب (نعوذباللہ) مسیلمہ کذاب سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے علیحدہ کلمہ جاری کیاجویہ ہے: ’’لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ‘‘

حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی نیا کلمہ جاری نہیں کیا۔ بلکہ آپ کاکلمہ:’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہی تھا۔ چنانچہ آپ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ۱۳۷، خزائن ج۳ ص۱۶۹) میں فرماتے ہیں: ’’ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ: ’’لا الہ اللہ محمد رسول اللہ‘‘

اور (انوارالاسلام ص۳۴، خزائن ج۹ ص۳۵) میں فرماتے ہیں: ’’ہماراکلمہ لاالہ الااللہمحمدرسول اللہہ ہے۔‘‘

اوراپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ اس کلمہ طیبہ پرایمان رکھیں کہلا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور آپ اس کلمہ کوبدلنے اور نیا کلمہ بنانے والے کو ملحد اور بے دین اورمسیلمہ کذاب کا بھائی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’جوشخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرتﷺ کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اوراس پاک سرچشمہ سے جدا

321

ہوکرآپ ہی براہ راست نبی اللہ بنتاہے تو وہ ملحد وبے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیداکرے گا اور احکام میں کچھ تبدل وتغیر کردے گا۔ پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے۔‘‘ (انجام آتھم ص۲۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۷،۲۸)

اورمضمون چشمہ معرفت میں ہندوئوں کومخاطب کرتے ہوئے فرمایاہیں: ’’ایسا ہی آپ لوگ بھی صدق دل سے اس کلمہ پر ایمان لے آئیں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ (مضمون ملحقہ چشمہ معرفت ص۱۳، خزائن ج۲۳ ص۳۸۴)

۷… ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے ایک یہ غلط بیانی بھی کی ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے عقائد کے متعلق جو حوالے دئیے ہیں وہ ۱۹۰۱ء سے قبل کے ہیں۔

حالانکہ گواہان مدعاعلیہ نے دیگر کتابوں کے علاوہ مواہب الرحمن اورکشتی نوح سے عقائد کے متعلق حوالے پیش کئے ہیں اورمواہب الرحمن ۱۹۰۳ء اور کشتی نوح ۱۹۰۲ء کی تصنیف شدہ ہیں۔ پس ان حوالوں کی موجودگی میں مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہان مدعاعلیہ نے جو حوالے عقائد کے متعلق دئیے ہیں وہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے ہیں۔ صریح غلط بیانی ہے۔

۸… مختارمدعیہ نے گزشتہ ائمہ اوراکابر پرتکفیر کے فتویٰ کا ذکرکرتے ہوئے۔ ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں کہا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۷؍مارچ کو بجواب جرح یہ تسلیم کیا ہے کہ جس وجہ سے ان کی تکفیر کی گئی وہ ان وجوہات سے برأت کا اظہار کرتے رہے۔ حالانکہ گواہ کے اصل الفاظ یہ نہیں بلکہ یہ ہیں: ’’باوجودیکہ ان کی طرف جو غلط باتیں منسوب کی گئی تھیں وہ ان سے برأت کااظہار کرتے رہے اورنیز ان باتوں کو لے کر جنہیں وہ صحیح سمجھتے تھے مولویوں نے انہیں کفر سمجھ کر انہیں کافرقراردیا۔‘‘

گواہ کا جواب تو یہ ہے کہ گزشتہ اماموں اوربزرگوں کی جن امور کی بناء پرمولویوں نے تکفیر کی ان میں سے بعض امور سے تو وہ برأت کااظہار کرتے رہے اور بعض کو صحیح تسلیم کرتے تھے۔ لیکن مختارمدعیہ نے گواہ کی طرف یہ منسوب کیا کہ وہ ان وجوہات سے جن کہ وجہ سے ان کی تکفیر کی گئی برأت کا اظہارکرتے رہے۔

۹… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے متعلق یہ کہا کہ اس نے ۹؍مارچ کو بجواب جرح بیان کیا کہ مرید کا قول مطلقاً پیر کے حق میں معتبر نہیں۔ حالانکہ یہ مختارمدعیہ کی صریح غلط بیانی ہے کیونکہ گواہ نے یہ کہاتھا کہ: ’’ہرمرید کا بیان معتبر نہیں بلکہ اس کی حیثیت اور مرتبہ دیکھاجائے گا۔‘‘

۱۰… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبرکی بحث میں ایک یہ غلط بیانی بھی کی ہے کہ گواہ نے کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جس سے ثابت ہو کہ ضروریات دین میں تاویل کرنے والوں کوکافر نہیں کہاگیاہے۔ حالانکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں یہ لکھوایا تھا کہ گواہ مدعیہ نمبر۳ نے اپنے بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ خوارج سے جب بعض ضروریات دین کا انکار ثابت ہواتوان کا نماز روزہ ان کو حکم کفر سے رہا نہ کرسکا۔ لیکن جب کہ امام ابن تیمیہ نے (منہاج السنۃ ج۳ ص۶۱،۶۲) میں لکھاہے اور گواہ نمبر۳ نے بجواب جرح اس کو تسلیم کرچکاہے کہ حضرت علیq نے اس بات کی تصریح کی ہے:’’بانہم مومنون لیسوا کفاراً‘‘ کہ وہ مؤمن ہیں کافر نہیں اور لکھا کہ صحابہ اورتابعین نے نہ ان کی تکفیر کی اورنہ ان کو مرتد قراردیا۔

اور اسی طرح (البحرالرائق ج۵ ص۱۵۱) میں لکھاہے:’’وانما لانکفرالخوارج باستحلال الدماء والاموال لتاویلھم وان کان باطلا بخلاف المستحل بلاتاویل‘‘

یعنی ہم خوارج کو باوجودیکہ انہوں نے مسلمانوں کے خون اوراموال کو حلال سمجھا۔ ان کے تاویل کرنے کی وجہ سے کافرنہیں کہتے۔ بخلاف اس کے جوتاویل کے ان کو جائز سمجھے۔

322

بیان مندرجہ بالا سے ثابت ہے کہ گواہ مدعیہ نمبر۳ کے بیان کے مطابق خوارج نے ضروریات دین کا انکار کیاتھا اور گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیان میں ثابت کردیاہے کہ انہیں تاویل کرنے کی وجہ سے کافرنہیں کہاگیا۔ پس گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے بیان میں اس امر کے موجود ہوتے ہوئے مختارمدعیہ کا مذکورہ بالاقول کیونکر درست ہوسکتاہے۔

۱۱… مختارمدعیہ نے ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں کہا کہ اولیاء اللہ نے یہ نہیں کہا کہ ہم پر آیات نازل ہوئیں، صرف علم الکتاب کاحوالہ پیش کیاتھا کہ آیات اتریں، یہ بھی مختارمدعیہ کی صریح غلط بیانی ہے۔ کیونکہ گواہان مدعاعلیہ کے بیانات میں کتاب اثبات الہام والبیعۃ اورفتوح الغیب اور مقامات امام ربانی کے حوالے اسی غرض کے لئے پیش کئے گئے تھے اوران میں آیات کے الہام ہونے کا ہی ذکرہے۔

الزام خیانت کا رد

۱۲… ۹؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے ایک یہ غلط بیانی کی ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے حوالہ جات میں دل کھول کرخیانت کی ہے اوراگلی اورپچھلی عبارت کو ترک کردیاہے اور اس امر کے اثبات کے لئے اس نے تین حوالے پیش کئے ہیں ان میں سے ایک حوالہ تحذیرالناس کا ہے۔ دوسرا حجج الکرامہ کا، تیسراالبحرالرائق کاہے۔

تحذیرالناس کاحوالہ

تحذیر الناس سے جو عبارت گواہان مدعاعلیہ نے پیش کی ہے وہ یہ ہے: ’’بلکہ اگربالفرض بعد زمانہ نبویa بھی کوئی نبی پیداہو تو پھربھی خاتمیت محمدی میںکچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یافرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اورنبی تجویز کیاجائے۔‘‘ (تحذیرالناس ص۲۸)

اس عبارت سے جو نتیجہ گواہان مدعاعلیہ نے اخذکیاہے۔ اس عبارت کاماسبق بھی اس کی تائید کرتاہے جو یہ ہے: ’’ہاں اگرخاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف لیجئے! جیسا کہ اس ہیچ مدان نے عرض کیاہے توپھر سوائے رسول اللہﷺ اورکسی کوافراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبویa نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط افراد کے انبیاء خارجی ہی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہوگی۔ افراد مقدرہ پربھی آپ کی فضیلت ثابت ہوجائے گی بلکہ اگربالفرض الخ!‘‘

اب ظاہرہے کہ مولوی محمدقاسم صاحب خاتمیت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے یہ لازم آتاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی کسی نبی کاآنا تجویز کرناخاتمیت کے منافی نہیں ہے۔ یہ عبارت ص۲۸ کی ہے اور مختارمدعیہ کہتاہے کہ اس کی تشریح ص۱۰ میں موجود ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ص۲۸ کی عبارت تشریح ص۱۰میں کیسے ہوسکتی ہے۔ پس چونکہ عبارت بالکل واضح اورغیرمبہم ہے۔ اس لئے ص۱۰ کی عبارت میں خاتمیت زمانی کے معنی ایسے نہیں لئے جاسکتے جو اس عبارت کے خلاف ہوں۔

حجج الکرامہ کاحوالہ

مختارمدعیہ نے (حجج الکرامہ ص۲۳۲) کے حوالہ ’’درحدیث ابن عمرسی است کذاب‘‘ کے متعلق یہ کہا ہے کہ گواہ مدعاعلیہ نے اس میں خیانت سے کام لیاہے۔ کیونکہ ’’یازیادہ‘‘ کے الفاظ کو ترک کردیاہے کہ اس کے متعلق میں صرف اتنا کہہ دینا چاہتاہوں کہ مختارمدعیہ اغلباً اپنی لاعلمی کی وجہ سے یہ نہیں سمجھ سکا کہ جس عبارت کے آگے نقطے ڈالے جاتے ہیں۔ ان سے اسی امر کا اظہارمقصود ہوتاہے کہ وہاں سے عبارت چھوڑی گئی ہے۔ چنانچہ گواہ مدعاعلیہ نے بھی الفاظ ’’سی است کذاب‘‘ کے بعد نقطے دے کر یہ ظاہرکردیاہے کہ یہاں سے عبارت چھوڑی گئی ہے اورمثل میں بھی نقطے موجود ہیں۔ پس اس کوخیانت سے تعبیر کرنا اپنی لاعلمی کا مظاہرہ کرناہے۔

323

نیز گواہ مدعاعلیہ اس حوالے سے جو امر ثابت کرناچاہتاہے۔ ’’یازیادہ‘‘ اس کو باطل نہیں کرسکتے۔ جیسا کہ ان کا عدم ذکر اس کو ثابت کرسکتاہے۔ کیونکہ ابن عمر کی اس روایت اوردوسری روایت جوطبرانی نے روایت کی ہے۔ جس میں کذابوں کی تعداد ستربتائی گئی ہے۔ ان دونوں کے متعلق حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ ان دونوں حدیثوں کی سند ضعیف ہے اورنیز ان میں دعویٰ نبوت کا بھی ذکرہیں ہے۔ پس جب کہ ’’یازیادہ‘‘ کے الفاظ گواہ کے مدعاعلیہ کے خلاف نہیں ہیں تو ان پر نقطے ڈال کرچھوڑ دینے سے گواہ پرخیانت کاالزام لگانا سراسر بے انصافی اورصریح غلط بیانی ہے۔

۲… اور (حجج الکرامہ ص۲۳۴)کے حوالہ کے متعلق مختارمدعیہ نے یہ کہا ہے کہ گواہان مدعاعلیہ نے جو یہ بیان کیاہے کہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرتﷺ کے بالمقابل تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔ بالمقابل کالفظ حجج الکرامہ میں نہیں ہے۔ اپنی طرف سے ملا کرجھوٹ بولاہے۔ حالانکہ وہ بالمقابل لفظ حجج الکرامہ میں تلاش کرنا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حجج الکرامہ کی عبارت کا یہ ترجمہ بطورخلاصہ اورمفہوم کے ہے اور بالمقابل سے یہی مرادہے کہ اس نے شراب وزنا کو حلال قراردیااور فریضہ ونماز کو ساقط کرادیا اورقرآن مجید کے مقابل میں سورتیں لکھیں۔ ایسی نبوت کا دعویٰ اگر آنحضرتﷺ کی نبوت کے بالمقابل نہیں تو اورکیا ہے اورگواہ مدعیہ نمبر۳نے۲۹؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ مسیلمہ نے نبی کریم کے بعد احکام میں تغیر وتبدل کیاتھا۔

البحرالرائق کاحوالہ

مختارمدعیہ نے ان کلمات کفریہ کے متعلق جوگواہان مدعیہ نے البحرالرائق سے نقل کئے تھے کہا ہے کہ ان کے نقل کرنے میں گواہان مدعاعلیہ نے یہ خیانت کی ہے کہ انہوں نے (البحرالرائق ج۵ ص۱۳۰ تا ص۱۳۶) کے حوالہ جات پیش کئے۔ لیکن درمیان میں ص۱۳۴ کی عبارت چھوڑ دی ہے کہ: ’’کفر کا فتویٰ اس وقت دیاجاتاہے۔ جب اس پر اتفاق ہو متفق علیہ ہو۔ کلام میں کوئی تاویل نہ ہو۔‘‘

حالانکہ گواہان مدعاعلیہ نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جن علماء کے اقوال کی بنا پر گواہان مدعیہ نے مدعاعلیہ کو کافر قراردیاہے۔ ان کی طرز افتاء کے متعلق بعض فتاویٰ کا ذکرکیاتھا اور ساتھ ہی البحرالرائق کی عبارت پیش کردی تھی کہ فتاویٰ میں جوتکفیر کے معروف الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ وہ حقیقتاً اسلام سے ارتداد کا موجب ہیں اور بزازیہ میں لکھاہے کہ جوان کلمات کو صرف تخویف وتہویل پرمحمول کرتاہے اور کفر موجب نہیں سمجھتا۔ اس کا قول لغو اور باطل ہے اور جن کلمات کے موجب کفر اورباعث ارتداد ہونے میں علماء کا اختلاف تھا۔ اس کا بھی مؤلف البحرالرائق نے ساتھ ساتھ ذکرکردیاہے۔ جسے پیش کرتے ہوئے گواہان مدعاعلیہ نے صاف ظاہر کردیاہے کہ یہ کلمہ بعض کے نزدیک موجب کفر وارتدادہے۔ چنانچہ انہی کلمات میں یہ بھی لکھاہے کہ جوشخص تمام انبیاء پر ایمان لانے کا اظہار کرے اور آنحضرتﷺ کے آخر الانبیاء ہونے کی عدم معرفت کا تو وہ بعض کے نزدیک کافر ہوگا۔ یعنی آنحضرت کا آخرالانبیاء ہونا ان ضروریات دین سے نہیں جن کے نہ جاننے کی وجہ سے انسان کافر ہوجائے اورپھر مولٔف البحرالرائق نے ص۱۳۴ پرجامع الصغیر سے یہ عبارت پیش کی ہے۔

اگرکوئی شخص بغیراعتقادرکھے عمداً کلمہ کفر کہے تو ہمارے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوگا۔ کیونکہ کفر ضمیر سے متعلق ہے اور اس نے کفر کی دل میں نیت نہیں کی اوربعض نے کہا ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔ وھو الصحیح عندی اور یہ بعض کا قول کہ وہ کافر ہوجاوے گا۔ میرے نزدیک صحیح ہے۔ پس بعض علماء کے نزدیک اتفاق کاہونا ضروری ہوا۔ پس جب اس بات پرہی علماء کا اتفاق ثابت نہ ہوا کہ کس وقت کفر کا فتویٰ دیاجانا چاہئے اور مختارمدعیہ نے یہ کہاہے کہ مؤلف البحرالرائق کے نزدیک جب تک وہ مسئلہ متفق علیہ نہ ہوکفر کافتویٰ دیا جائے گا تو اس اصول کی رو سے کسی پربھی فتویٰ کفر نہیں لگاناچاہئے۔ کیونکہ علماء کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کب کسی پر فتویٰ کفر لگاناچاہئے۔

324

بہرحال جوکلمات گواہ مدعاعلیہ نے پیش کئے تھے۔ ان کے متعلق مختارمدعیہ کو چاہئے تھا کہ وہ ثابت کرتاکہ ان کے موجب کفر ہونے پرعلماء کا اتفاق نہیںہے جب کہ مصنف نے خود مختلف فیہ اقوال کو نقل کرتے ہوئے اختلاف کاذکرکردیاتھا اورعلاوہ ازیں گواہان مدعاعلیہ نے شرح فقہ اکبراورالاشباہ والنظائر کے جو حوالے پیش کئے تھے ان کے متعلق مختارمدعیہ نے بالکل سکوت اختیار کیاہے اور نیز یاد رہے کہ جوحوالے گواہان مدعیہ نے آنحضرتﷺ کے بعد نبی ماننے والوں کو کافر ہونے کے متعلق الاشباہ والنظائر اورشرح فقہ اکبر اور البحرالرائق پیش کئے ہیں وہ بھی منجملہ انہی کلمات کے ہیں۔ جنہیں گواہا ن مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں پیش کیا اورجن کے متعلق مختارمدعیہ نے گواہان مدعاعلیہ پریہ الزام لگایاہے کہ ان کے بیان کرنے میں انہوں نے خیانت سے کام لیاہے۔ گواہان مدعاعلیہ نے تو خیانت کوئی نہیں کی تھی۔ البتہ مختارمدعیہ کو یہ خوف دامن گیر ہوا کہ اگر ہم پہلے علماء کے فتوئوں کو اب جاری کریں تو موجودہ زمانہ کے تمام مسلمانوں کے نکاح فسخ اوران کی اولادوں کو حرام کی اولاد ماننا پڑے گا۔ پس اس ڈر سے مختارمدعیہ نے یہ کہہ کر کہ گواہان مدعاعلیہ نے حوالے بیان کرنے میں خیانت کی ہے، اپنا پیچھا چھوڑانا چاہاہے۔ لیکن دنیا میں کون سا عقل مند ایسا ہے جوان اقوال میں سے ایک قول کو توموجب کفر وارتداد ٹھہرادے اوراس کے ساتھ جودوسرے اقوال کفریہ قراردئیے گئے ہوں تو ان کو باطل اورلغوسمجھ لے۔

تفسیروں کے متعلق

۱۳… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں گواہان مدعاعلیہ پرایک یہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے تمام تفسیریں مطلقاً غلط قراردی ہیں اوران کے حوالے قطع وبرید کرکے پیش کئے ہیں اورگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے مقدمہ ابن خلدون کا حوالہ محرف کرکے پیش کیا اورگواہ نمبر۲ نے ابن حزم کا قول بلا دلیل پیش کیا اورتفاسیر میں انبیاء کی عصمت کے خلاف جوباتیں ہیں وہ تردید کے لئے درج کی گئی ہیں، نہ تائید کے لئے اورگواہ نمبر۲ نے تفسیراتقان سے جو حوالہ ہٰذہ التفاسیر التطوال کا پیش کیا ہے وہ تردیدی طور پر نقل کیاگیاہے۔ چنانچہ اس کے آخر میں وفیہ نظر لکھاہے۔ یہ سب مختارمدعیہ کی مغالطہ سازیاں ہیں۔ گواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں یہ کہیں نہیں لکھوایا کہ تفسیریں مطلقاً غلط ہیں۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ کتب تفاسیر میں صحیح باتیں بھی ہیں اور غلط بھی اس لئے ہمیں مفسرین کے اقوال کو بلا تحقیق نہیں مان لینا چاہئے اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے مقدمہ ابن خلدون سے جوحوالہ پیش کیاتھا وہ بطورمفہوم کے ذکرکیاتھا اور نقل کی تعریف یہ کی گئی ہے۔

ہوالاتیان بقول الغیرعلی ماہوعلیہ بحسب المعنی مظہراً انہ قول الغیر (رشیدیہ) کہ نقل کسی دوسرے کے قول کو اس کے معنی کے لحاظ سے بیان کرناہے۔ یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ غیر کا قول ہے اورگواہ مدعاعلیہ نے مقدمہ ابن خلدون کے اصل الفاظ پیش کئے ہیں۔ لیکن مختارمدعیہ نے اس کی طرف بھی وہی الفاظ منسوب کردئیے جوگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے لکھے تھے اور معنوی لحاظ سے اصل عبارت اور گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے جوبطور مفہوم پیش کیاہے کوئی فرق نہیں ہے۔

چنانچہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے تو یہ کہا کہ ابن خلدون نے لکھاہے کہ متقدمین کی تفسیریں عمدہ اور ردی دونوں باتوںسے پرہیں اور مقدمہ ابن خلدون کی اصل عبارت کا ترجمہ جسے گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے اپنے بیان میں پیش کیاہے اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’کچھ متقدمین نے تفسیر میں باتیں جمع کیں اور ان کا خوب احاطہ کیا۔ مگر ان کی کتب میں اور درج شدہ باتوں(یعنی منقولات) میں اعلیٰ وناقص مقبول ومردود… قسم پائی جاتی ہیں۔‘‘

اورابن خلدون نے جن باتوں کے متعلق حکم لگایاہے کہ وہ تین ہیں۔ ناسخ ومنسوخ کی شناخت، اسباب نزول آیات کے معانی ومقاصد اورص۲۶۱ میں لکھاہے:’’وملئوالکتب بہذہ المنقولات‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص۲۶۰) اورانہوں نے کتب تفسیر ان منقولات سے بھردی ہیں۔ پھرمختارمدعیہ نے کہا ہے کہ یہ بات احکام سے تعلق نہیں رکھتی۔ لیکن مقدمہ متنازعہ فیہا میں احکام کے متعلق جھگڑا نہیں ہے۔

325

بلکہ آیات کی تفاسیر اوران عقائد میں ہے جو ان آیات سے مستنبط ہوتے ہیں اورمختارمدعیہ نے یہ کہہ کر کہ تفاسیر میں انبیاء کی عصمت کے خلاف جوباتیں بیان کی گئی ہیں۔ وہ تردیدی طور پر ہیں۔ غلط بیانی کے علاوہ اپنی لاعلمی کاثبوت دیاہے۔

گواہان مدعاعلیہ نے بہت سی مثالیں پیش کی تھیں۔ مگر مختارمدعیہ نے سب کو نظرانداز کرکے صرف ایک حوالہ خازن کالے کر یہ کلی حکم لگادیا کہ تفاسیر میںانبیاء کی عصمت کے خلاف جوبیان کیاگیا ہے، وہ تردیدی طورپرہے۔ حالانکہ اگر وہ گواہان مدعاعلیہ کے بیانوں کا بغورمطالعہ کرتا تو اسے بہ آسانی معلوم ہوسکتاتھا کہ گواہان مدعاعلیہ کاایک مقصد توان حوالہ جات کے ذکرکرنے سے مفسرین کاآپس میں آیات کی تفاسیر میں اختلاف دکھاناہے نہ دوسری کتب تفاسیر سے بعض آیات کی ایسی تفاسیر دکھانا مدنظرہے جو عقل ونقل کے بالکل مخالف بلکہ قرآن مجید کی دوسری آیات کے بھی مخالف ہیں۔

پس مختارمدعیہ کا تفسیر خازن سے آیت: ’’ہمّ بہ وہمّ بہا‘‘ کی تفسیر میں متقدمین کی تفسیروں کی تردید میں قول پیش کرنا ہی مدعاعلیہ کے دعویٰ کوثابت کرتاہے کہ مفسرین نے آیات کی تفاسیر میں اختلاف کیاہے اورخود خازن میں یہ لکھاہے کہ امام بغوی اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ حضرت یوسف نے اپنا پائجامہ کھول دیا اور اپنے کپڑے درست کرنے لگے۔ انہی میں سے سعید بن جبیر مشہور تابعی اورامام حسن بصری اورمجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ پس خازن کابحوالہ تفسیرکبیر ان معنوں کو رد کرنا ہی مدعاعلیہ کے مدعاکوثابت کرتاہے کہ مفسرین کے اقوال بلا تحقیق قبول کرنانہیں چاہئیں۔ نیز گواہان مدعاعلیہ نے اس کے لئے ابن جریر کابھی حوالہ دیاتھا۔ مگرمختارمدعیہ نے اس کی طرف منہ نہیں کیا۔ اگرمختارمدعیہ کا مذکورہ بالا ادّعاء غلط بیانی اوردھوکہ دہی پر مبنی نہیں ہے تواسے چاہئے کہ وہ ابن جریر سے ان معنی کی تردید ثابت کرے جوگواہان مدعاعلیہ نے اپنے بیانوں میں اس طرف منسوب کئے ہیں۔ اسی طرح آیت:’’وجعلہٗ دکا‘‘ اور’’خرموسٰی صعقا‘‘ اورآیت: ’’مادلہم علی موتہ الادابۃ الارض‘‘ وغیرہ آیات کے متعلق گواہان مدعاعلیہ نے جو اقوال تفاسیر سے نقل کئے تھے وہ بھی تردید کے لئے نہیں ہیں۔ پس مختارمدعیہ کی یہ ایک غلط بیانی ہے کہ تفاسیر میں جواقوال عصمت انبیاء کے خلاف پائے جاتے ہیں وہ تردیدکے لئے ذکرکئے گئے ہیں۔ پھرجلالین میں جو یہ لکھاہے کہ شیطان نے آنحضرتﷺ کی زبان پرتلک الغرانیق العلٰی وان شفاعتہن لترتجی کے کلمات جاری کردئیے۔ مختارمدعیہ یہ بتائے تو سہی کہ کس جلالین میں اس کی تردید کی گئی ہے۔

گواہ مدعاعلیہ نمبر۲ نے جلالین میں بین السطور سے امام ابن حزم کا قول لکھاتھا کہ انہوں نے آیت: ’’متوفیک‘‘ کے ظاہر معنی لے کر مسیح کی موت کو تسلیم کیاہے لیکن مختارمدعیہ کہتاہے۔ یہ کہ قول بلا دلیل پیش کیاگیاہے۔ حالانکہ گواہ کا توصرف اتناہی فرض تھا کہ وہ تفسیر سے امام ابن حزم کا قول لکھاہوادیتا سو وہ اس نے دکھادیاتھا۔

اورمختارمدعیہ کاگواہ مدعاعلیہ نمبر۲ کے اتقان سے پیش کردہ حوالے کے متعلق یہ کہنا کہ اس کی تردید اسی جگہ وفیہ نظر سے کردی گئی ہے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ وفیہ نظر اس قول سے کہ ابن عباس کی طرف جو لمبی لمبی تفاسیر منسوب کی گئی ہیں وہ ناپسندیدہ ہیں اوران کے راوی مجہول ہیں، متعلق نہیں ہے بلکہ اس کے بعد کے قول سے جوابن جریح کے متعلق ہے اور ابن عباسq کے متعلق جو قول ہے وہ مقدمہ فتح البیان میں بھی مذکورہے اور اس کی تائید (اتقان ج۲ ص۲۳۵) سے بھی ہوتی ہے کہ امام شافعی نے فرمایا: ’’لم یثبت عن ابن عباس فی التفسیر الاشبیۃ بمائۃ حدیث یعنی ابن عباسq سے تفسیر میں تقریباً ایک سو حدیث کے سوا کچھ ثابت نہیں ہے۔‘‘

اورنیز اس کی تائید فوائد المجموعہ للشوکانی ص۱۱۱ کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے:’’ومن جملۃ التفاسیرالتی لایوثق بہا تفسیرابن عباس فانہ مروی من طریق الکذابین کاالکلبی والسدی ومقاتل ذکرمعنی ذالک السیوطی وقد سبقہ الی معناہ ابن تیمیہ‘‘

326

اوران تفسیروں میں سے جوغیرمعتبرہیں۔ ابن عباس کی تفسیربھی ہے۔ کیونکہ وہ کلبی اورسدی اورمقاتل جیسے کذابوں سے مروی ہے۔ اسی کے مطابق سیوطی نے لکھاہے اور اس سے پہلے ابن تیمیہ نے بھی یہی کہاہے۔

پس مختارمدعیہ کا گواہان مدعاعلیہ کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے تفسیروں کے حوالہ جات پیش کرنے میں قطع وبرید سے کام لیا ہے۔ بالکل غلط ہے اور مفسرین کی تفسیروں کو بلا تحقیق قبول کرلینا خود مفسرین کے اصول کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تفسیر کوغلط ٹھہراتے آئے ہیں۔ جیسا کہ کتب تفاسیر کامطالعہ کرنے والے سے مخفی نہیں ہے۔

آیت قرآنیہ کے ترجمہ میں خیانت کاالزام

پھرمختارمدعیہ نے گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ پرایک یہ الزام دیاہے کہ اس نے آیت: ’’فلما جآء تھم رسلھم بالبینات (فرحوا) بما عندہم من العلم‘‘ کے ترجمہ میں خیانت کی ہے کہ اس میں انبیاء کے پیرومراد لے لئے ہیں۔ حالانکہ اس سے مراد یہود اور کفار تھے اور یہ کہ نبی وہی ہوتاہے جس کو جھٹلایاجائے۔

سو یہ بھی مختارمدعیہ کی ایک غلط بیانی ہے۔ گواہا ن مدعاعلیہ نے یہ قطعاً نہیں کہا کہ نبی وہی ہوتاہے جس کوجھٹلایاجائے۔ بلکہ مذکورہ بالا آیت سے یہ استدلال کیاتھا کہ یہ آیت صاف بتلارہی ہے کہ علماء ہمیشہ خداتعالیٰ کے فرستادوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اوران کے لئے علم حجاب اکبر بن گیا اور اپنے خشک علم کی بناپرخیال کرنے لگے کہ ہم جیسا کوئی عالم نہیں۔ اس لئے ہم غالب رہیں گے۔ لیکن اللہتعالیٰ نے اپنے فرستادہ کی تائید کی اور دنیا کو معلوم ہوگیا کہ درحقیقت وہ علم حقیقی سے جاہل وبے خبرتھے۔

اورمختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ اس آیت میں یہود اورکفار کے عالم مراد ہیں نہ کہ انبیاء کے پیرو بالکل بے معنی اورلغوہے۔ کیونکہ نہ تو آیت میں یہود کا لفظ ہے اور نہ کفار کا ذکر، نیز کیا یہود انبیاء کے پیرونہ تھے؟ اوران کی طرف انبیاء مبعوث نہیں ہوئے تھے۔ پس اس آیت کا وہی ترجمہ صحیح ہے۔ جوگواہان مدعاعلیہ نے کیاہے اور ’’جآء تہم‘‘ میں ’’ہم‘‘ کی ضمیر تمام ان لوگوں کی طرف پھرتی ہے جن کی ہدایت کے لئے خداتعالیٰ کی طرف سے رسول بھیجے گئے تھے چاہے وہ یہودہوں یا کوئی اور۔ بہرحال اس آیت سے ثابت ہے کہ مولوی انبیاء اورخداتعالیٰ کے فرستادوں کی مخالف کرتے رہے۔

۱۴… مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں یہ غلط بیانی کی ہے کہ مندرجہ ذیل کتب فریقین کے نزدیک غیر مسلم ہیں حجج الکرامہ، اقترب الساعۃ، فتح البیان، جامع الشواہد، بھونچال برلشکردجال، انواراحمدیہ، حیات جاوید اور۱۱؍مارچ کی بحث میں شہاب علی البیضاوی اورروح المعانی کے متعلق یہی بات کہی ہے۔

اوریہ مختارمدعیہ نے غلط بیانی ہی نہیںکی بلکہ عمداً عدالت کودھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ فریق مدعاعلیہ نے اسے کب اپنامختاربنایاتھا۔ جواس نے یہ کہا کہ حجج الکرامہ وغیرہ فریقین کے نزدیک غیرمسلم ہیں، فریقین کے معنی دوفریق کے ہیں نہ کہ صرف ایک فریق کے۔ فریق مدعاعلیہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ کتابیں غیرمسلم ہیں بلکہ اس کے گواہوں نے بجواب جرح ایک جامع اصول بیان کردیاتھا کہ جو روایت قرآن مجید کے مخالف ہوگی۔ وہ قابل قبول نہیں اسی طرح اگر کسی کتاب سے کوئی حوالہ پیش کیاجائے اور وہ قرآن مجید اوراحادیث صحیحہ یاواقعات ثابتہ کے خلاف نہ ہوتووہ صحیح ہوگا اور ۱۱؍مارچ کوگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بجواب جرح یہ تصریح کی ہے: ’’اگرکسی کتاب سے کوئی نقل پیش کی گئی ہے اوروہ اس اصول کی رو سے جومیں پہلے بیان کرچکاہوں درست ہے تو وہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔‘‘

پھریہی نہیں کہ اس نے فریق مدعاعلیہ کی طرف سے بے جا وکالت شروع کی۔ بلکہ گواہان مدعیہ کے اقوال کے بھی خلاف کہاہے۔

چنانچہ تفسیر روح المعانی اس نے غیر مسلم قراردی ہے۔ حالانکہ گواہ مدعیہ نمبر۱،۲،۳ نے اپنی تائید میں روح المعانی کا حوالہ پیش

327

کیاہے۔ اسی طرح شہاب علی البیضاوی کا مصنف نہایت اعلیٰ پایہ کا امام شمارکیاگیاہے اوراس نے بہت سی کتب بھی تالیف کی ہیں اور وہ قاضی القضاۃ بھی رہاتھا۔ چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں لکھوایاہے۔ علامہ خفاجی شفاقاضی عیاض کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’اوریہ علامہ خفاجی شیخ احمدبن محمد بن عمر الملقب الخفاجی تووہی شہاب الدین ہیں۔ جنہوں نے تفسیر البیضاوی کی شرح کی ہے۔ پس ایسی حالت میں کہ گواہان مدعیہ نے جو عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں شہاب کے مصنف کو قابل اعتبار مانا۔ یہاں تک کہ اس کی تصنیف سے حوالہ بھی دئیے ہیں۔ مختارمدعیہ کے کہہ دینے سے شہاب کے غیر مسلم قراردیئے جانے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔‘‘

مختارمدعیہ نے حجج الکرامہ اوراقتراب الساعۃ اورفتح البیان کے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے صرف یہ بیان کی کہ وہ غیرمقلد تھے اورمقلدین کو مشرک کہتے تھے۔ لیکن مختارمدعیہ کا یہ کہنا بھی ان کتب کے فریق مدعیہ کے نزدیک غیرمسلم ہونے کے لئے کافی وجہ نہیں ہوسکتی۔ اگران کتب سے وحی نبوت کے متعلق جوباتیں ذکرکی گئی ہیں۔ موجب کفر ہیں تووہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ بلکہ انہیں کافر کہنا چاہئے۔ لیکن گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کوبجواب جرح یہ کہا ہے کہ نواب صدیق حسن خان کو میں مسلمان سمجھتاہوں اوران کی کتاب میں مظاہرآنست سے عبارت ہے اور گواہ مدعیہ نمبر۳ نے۲۹؍اگست کو بجواب جرح کہا۔

(حجج الکرامہ ص۳۳۴) میں جوواقعات مسیلمہ کے ساتھ نسبت کئے گئے ہیں وہ وقوع میں آئے ہوئے ہیں۔ پس گواہان مدعیہ نمبر۱،۳ کے روبرو جب حجج الکرامہ کاذکرآتاہے تووہ اس میں جوواقعات ذکرہوئے ہیں ان کی تصدیق کرتے ہیں اوراس کے مؤلف نواب صدیق حسن خان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ لیکن مختارمدعیہ انہیں متعصب اورمقلدوں کو مشرک کہنے والا سمجھ کران کی کتب کو غیرمسلم قراردے رہاہے۔ پس یہ گواہان مدعیہ کی شہادتوں کونظرانداز کرکے خود گواہ بننا چاہتاہے اوران کے گواہوں کواپنے حق میں مفید نہ پاکربعد از وقت ان کے فرائض کوخود اداکرنے کے لئے ہے۔

پھرجوحوالہ حجج الکرامہ سے مسئلہ وحی کے متعلق ذکرکیاگیاہے۔ بعینہٖ کتاب الاشاعۃ لاشراط الساعۃ مصنفہ سید شریف محمدبن رسول الحسینی البرزنجی ثم المدنی مطبوعہ مصر کے ص۲۲۷ میں موجود ہے اور جوحوالہ اقتراب الساعۃ سے گواہان مدعاعلیہ نے لانبی بعدی کے متعلق بیان کرنے کے لئے پیش کیاہے وہ بعینہٖ کتاب (الاشاعۃ لا شراط الساعۃ ص۲۲۱) میں امام ملا علی قاری سے منقول ہے۔ پس نواب صدیق حسن خان کا گناہ صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اس کا اردو میں ترجمہ کردیاہے۔ اس طرح جوحوالہ فتح البیان سے ذکرکیاگیاوہ دوسری تفاسیر میں بھی موجودہے اورمولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی نے اپنی تائید میں نواب صاحب کی تفسیر کاحوالہ پہلے ائمہ کی تفاسیر کے ساتھ ملا کر پیش کیاہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’صدیق حسن خان مرحوم رئیس عاملین بالحدیث اپنی تفسیر میں قاضی شوکانی اورابن کثیراوربیضاوی اورمدارک وغیرہ تفاسیر میں یہ معنی اولی الامر کے قبول کرتے ہیں۔‘‘(سبیل الرشاد ص۳۶)

اورنواب صدیق حسن خان کوجوپوزیشن علماء دیوبند کے نزدیک ہے وہ مندرجہ ذیل حوالوں سے معلوم ہوسکتی ہے۔

۱… (حاشیہ فتاویٰ رشیدیہ ج دوم ص۱۰۵) میں لکھا ہے: ’’مولانانواب سیدصدیق حسن صاحب قنوجی رحمت اللہعلی روضۃ الندیہ فی شرح الدرۃ البہیہ میں فرماتے ہیں۔‘‘

۲… چنانچہ نواب مولانا سید صدیق حسن خان صاحب نے تکریم المومنین میں لکھاہے کہ اس حدیث کی صحت میں تکلم ہے۔(فتاوی رشیدیہ حصہ سوم ص۵۵)

۳… نواب مولوی صدیق حسن خان صاحب رئیس بھوپال اپنے رسالہ تعلیم الصلوٰۃ میں ارقام فرماتے ہیں۔خطبہ منجملہ شعائر دین کے ہے۔ یہ خطبہ عربی زبان میں ہے نہ عجمی اورنثر ہونہ نظم۔ سلف سے یہی طریقہ چلاآیاہے۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل حاشیہ ص۱۰۳)

328

ان حوالہ جات سے ظاہرہے کہ اکابردیوبند اوران کے خاتم المحدثین تونواب صدیق حسن خان کے اقوال سے سند پکڑتے ہیں اور مختارمدعیہ ان کے اور گواہان مدعیہ کے خلاف ان کی کتب کوان حوالوں کی بناپر جودوسری کتاب سے بھی ثابت ہیں غیرمسلّم قراردیتاہے اور اسی سے اس امر کی حقیقت آئینہ ہوجاتی ہے جس کے اثبات کی غرض سے یہ سب کچھ کہاجارہاہے اور جامع الشواہد اوربھونچال برلشکردجال اورحیات جاوید کے مسلم اورغیر مسلم ہونے کا توسوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔ کیونکہ گواہان مدعاعلیہ نے یہ دکھانے کے لئے کہ مسلمانوں کے فرقوں نے ایک دوسرے کوکافر قراردیاہے۔ ان میں سے فتاویٰ پیش کئے ہیں اور اگر مولویوں کی تکفیر کی بناء پر کسی کوکافر اورمرتد قراردے کر نکاح فسخ قراردئیے جاسکتے ہیں تو پھر مسلمانوںکے تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر ومرتد قراردے کر کافرومرتد ہوگئے۔ اس لئے ان سب کے نکاح باطل اورفسخ قراردے کر سب کی اولاد ولدالزنا قراردے دینی چاہئے۔ غرض چونکہ مذکورہ کتابوں سے اس امر کی تائید میں چند فتاویٰ تکفیریہ پیش کئے گئے ہیں۔ پس ان کے مسلم اورغیر مسلم ہونے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔

اورہدیہ مجددیہ اورانواراحمدیہ کے غیر مسلم ہونے کی مختارمدعیہ نے کوئی وجہ بیان نہیں کی کہ وہ کیوں غیر مسلم ہے۔ ان دونوں کتابوں میں ان اعتراضات کے جواب دئیے گئے ہیں۔ جو مخالف مولویوں نے امام ربانی مجددالف ثانی پرکئے تھے اوران کے مصنف مولاناحکیم وکیل احمد صاحب سکندرپوری نے جابجا مجدد صاحب کی تحریریں اپنے جواب میں پیش کی ہیں۔

مسلم اورمسلمان ہونے میں فرق

مختارمدعیہ نے ایک یہ نظر یہ بھی قائم کیاہے کہ کسی کومحض مسلمان مان لینے سے اس کا مسلم ہونا ثابت نہیں ہوجاتا۔ سواس کا جواب یہ ہے کہ اس مقدمہ میں بحث چونکہ کفرواسلام پرتھی۔ اس لئے صرف ان کے مسلمان ہونے کے متعلق سوال کیاگیا۔ ورنہ وہ لوگ جن کے متعلق دریافت کیاگیاہے۔ وہ مسلمہ امام ہے۔ چنانچہ اس امر کی تائید میں اکابردیوبند کے چندحوالہ جات پیش کرتاہوں۔

۱… ملّا علی قاری کے متعلق۔ ملّا علی قاری شرح مناسک میں فرماتے ہیں۔ (فتاویٰ رشیدیہ حصہ سوم ص۲۷،۲۸ اور ص۳۶) میں ہے۔ ملّا علی قاری نے موضوعات کبیر میں تحریر فرمایاہے۔

۲… حضرت شیخ ملّا علی قاری نے موضوعات کبیر میں واضعین حدیث کے دل چسپ واقعات نقل کئے ہیں۔(القاسم ج۵نمبر۱۱بابت ماہ جمادی الثانیہ ۱۹۲۳ء ص۲۸)

۳… علامہ علی قاری الباری مرقات میں فرماتے ہیں: سبیل السداد ص۴۰ مصنفہ مولوی مرتضیٰ حسن گواہ مدعیہ نمبر۲ بحوالہ برکات الامداد ص۹،۱۰،۱۱۔

۴… بعض علمائے حنفیہ اوّل کھول کرہاتھ رکھتے ہیں اور وقت اشارہ کے عقد کرنے میں اس کا پتہ بھی حدیث میں ملتاہے اور ملّا علی قاری نے لکھاہے کہ اوّل سے ہی عقد کرکے ہاتھ رکھے۔ یہ بھی درست معلوم ہوتاہے۔ دونوں طرح پرعلم درست ہے۔ فقط رشیداحمدعفی عنہ۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل ص۲۶)

شیخ محی الدین ابن عربی

۱… شیخ الصوفیہ حضرت محی الدین ابن عربی نے امام فخرالدین کوایک خط لکھاہے۔(القاسم نمبر۱ج۵ ص۳۳)

۲… حفظ الایمان مؤلفہ اشرف علی تھا نوی کے ص۷ میں حضرت موصوف کو شیخ اکبر لکھاہے۔

329

۳… تفسیر غایۃ البرہان کے مقدمہ ص۱۶ میں حضرت موصوف کوامام ہمام شیخ اکبرمحی الدین لکھاہے

امام عبدالوہاب شعرانی

۱… عارف صمدانی امام ربانی مجدد الطریقۃ السویۃ علامہ عبدالوہاب شعرانی کی کتاب الیواقیت اٹھاکر دیکھو کتاب المنن والاخلاق میں پڑھو کہ ابناء عصر کی ان مظالم ہائے ملحدانہ کے فسانے کن دردناک لفظوں میں ارقام فرماتے ہیں۔ (القاسم نمبر۵ ص۱۵)

۲… فتاویٰ رشیدیہ حصہ اوّل ص۳۸ میں بھی حضرت ممدوح الصدر کوامام ربانی عبدالوہاب شعرانی لکھاہے۔

امام ربانی مجددالف ثانی

مولوی محمودحسن دیوبندی شیخ الہند خلیفہ مولوی رشیداحمد گنگوہی سابق صدرالمدرسین مدرسۃ العلوم دیوبند اپنی کتاب (الجہد المقل ص۲۸) میں فرماتے ہیں:

۱… ’’حضرت امام العارفین وقدوۃ الواصلین سمی رسول اللہ صفی عباداللہ منبع فیض نا محدودسرآمد ائمہ کشف وشہود سر دفتر راسخین امت سرحلقہ بگوشان اتباع سنت سلطان المحققین رئیس المتکلمین ماحی شرک وبدعت حامی شریعت وطریقت قیوم ربانی ومقبول سبحانی امامنا ومجتبنا حضرت شیخ مجددالف ثانی حشر اللہتعالیٰ مع الانبیاء والصدیقین وجعلنا فی اتباعہ یوم الدین آمین!‘‘ اپنے مکتوبات میں ارشاد فرماتے ہیں۔

۲… (فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۷۹) میں حضرت ممدوح الصدر کو مولوی محمدمسعودصاحب نقشبندی خلیفہ مولوی رشیداحمددیوبندی نے حضرت امام ربانی مجددالف ثانی قدس سرہ لکھ کر اپنی تائید میں آپ کی عبارت نقل کی ہے۔

۳… گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کوبجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ : ’’شیخ مجدد میرے نزدیک مسلم صاحب کشف ہیں۔‘‘

مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی

۱… ’’مولوی رحمت اللہ صاحب تمام علمائے مکہ پرفائق ہیں اور باقرارعلماء مکہ اعلم ہیں۔‘‘ (البراہین القاطعہ مؤلفہ مولوی خلیل احمد صاحب مصدقہ مولوی رشیداحمدگنگوہی ص۲۶۳)

۲… اسی کتاب کے (ص۱۹) میں لکھاہے: ’’اورخود شیخ العلماء جومعاملہ ہمارے شیخ الہندمولوی رحمت اللہعلیہ کے ساتھ کیا وہ کسی پر مخفی نہیں۔‘‘

علامہ ابن تیمیہ

۱… مولوی حبیب احمدکیرانوی نے اپنے خط میں جومولوی اشرف علی صاحب کوارسال کیاہے۔ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھاہے۔(القاسم نمبر۷ج۷ ص۵)

۲… مولوی شبیراحمدعثمانی نے بھی علامہ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام اور ان کی کتاب کو بیش بہالکھاہے۔(القاسم نمبر۹ ج۵ ص۱۱)

۳… شیخ الاسلام ابن تیمیہ اقتضاء الصراط المستقیم میں فرماتے ہیں۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ سوم حاشیہ ص۹۱)

مولوی محمداسماعیل صاحب شہید

مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی لکھتے ہیں:

۱… مولوی محمداسماعیل صاحب عالم متقی اور بدعت کے اکھاڑنے والے اور سنت کے جاری کرنے والے اور قرآن اورحدیث پرپوراعمل کرنے والے اور خلق اللہ کوہدایت کرنے والے تھے اور تمام عمر اسی حالت میں رہے۔ آخرکار فی سبیل اللہ جہاد میں کفار کے ہاتھ

330

سے شہید ہوئے۔ حق تعالیٰ فرماتاہے:’’ان اولیاء ہٗ الاالمتقون‘‘ اور کتاب تقویۃ الایمان نہایت عمدہ کتاب ہے اور رد شرکت وبدعت میں لاجواب ہے۔ استدلال اس کے بالکل کتاب اللہ اور احادیث سے ہیں۔ اس کا رکھنا اورپڑھنا اورعمل کرناعین اسلام ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ اول ص۲۱)

۲… حجۃ اللہ البالغہ حضرت مولاناشاہ ولی اللہ کی تالیف ہے اور صراط مستقیم وتقویۃ الایمان جناب مولانا محمداسماعیل صاحب شہید کی ہے۔(فتاویٰ رشیدیہ حصہ دوم ص۱۴۷)

اورص۴۹میں عالم متقی ولی اللہاورقطعی جنتی لکھ کر لکھاہے کہ ایسے شخص کو مردود کہنا خود مردود ہوناہے اور ایسے مقبول کوکافر کہنا خود کافر ہوناہے۔ اسی طرح سبیل الرشاد ص۴۶ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے متعلق فرماتے ہیں: ’’حجۃ اللہالبالغہ میں شیخ شیوخنا شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں۔‘‘

اب مختارمدعیہ کا یہ کہنا بھی عدالت کے سامنے کہ کسی کو مسلمان ماننا اورچیز ہے اور اس کو معلم ماننا شئے دیگر، بزرگان موصوف الصدرکواکابردیوبند کا امام ہمام اورشیخ للشیوخ اور عارف باللہ اور ولی اورشہید اورشیخ الاسلام وشیخ الصوفیہ اورعلامہ شیخ اکبرعارف امام ربانی مجدد الطریقہ امام الصادقین وقدوۃ الواصلین وغیرہ تسلیم کرنا بھی عدالت کے سامنے ہے۔

مختارمدعیہ نے ۱۹؍اکتوبر کی بحث میںایک غلط بیانی کی کہ مرزا صاحب کی عبارتیں آپس میں متعارض ہیں۔ اس لئے ہماری پیش کردہ عبارتوں کاجواب نہیں ہوسکتیں۔ جتنی عبارتیں موافق اسلام ہیں قابل اعتبار نہیں۔ لیکن مخالف اسلام عبارتیں قابل اعتبارہیں۔ کیونکہ ایک مسلمان کے لئے کفریہ کلمات کہنے کی کیاضرورت اور ۸؍اکتوبر کی بحث میں اس نے یہ کہا ہے کہ مرزا صاحب کی عادت تھی کہ وہ ایک وقت میں کچھ کہتے اوردوسرے وقت میں کچھ اور آہستہ آہستہ جس قدر لوگ برداشت کرتے چلے گئے وہ بیان کرتے گئے۔ چنانچہ اس نے اپنی تائید میں (حقیقۃ النبوۃ ص۱۴۴) کا حوالہ بھی دیاہے کہ: ’’اللہتعالیٰ بعض باتوں کورفتہ رفتہ ظاہر کرتاہے۔‘‘

جواب: مختارمدعیہ ان اکابراسلام کوجن میں حضرت شیخ اکبراورحضرت امام ربانی مجددالف ثانی جیسے بزرگ بھی شامل ہیں۔ مسلمان توکہہ سکتاہے مگر مسلّم ہونا اور بات ہے۔ وہ ان کو مسلم ماننے کوتیار نہیں۔ شیخ محی الدین ابن عربی عارف ربانی امام عبدالوہاب شعرانی قیوم صمدانی حضرت مجدد الف ثانی کو اس کے نزدیک مسلمان کہہ دینا توہوسکتاہے مگر مسلّم ہونا اور بات اس کے نزدیک نہیں کیوں مسلم نہیں صرف اس لئے کہ ان حضرات کے اقوال سے حضرت اقدس مرزا صاحب کی تائید ہوتی ہے۔ ان مقدسوں کے متعلق جواسلام کی روح ہیں یہ کہنا کہ ان کو مسلمان مان لینا اوربات ہے اور مسلم سمجھنا اوربات تمام مسلمانوں کے لئے عموماً اورعدالت کے لئے خصوصاً قابل توجہ ہے۔

حضرت مسیح موعود کے کلام میں کوئی تعارض نہیںہے اور مختارمدعیہ نے ۸؍اکتوبر کی بحث میں جومثالیں بیان کی ہیں۔ ان میں قطعاً کوئی تعارض نہیں پایاجاتا۔ ان کے بیان کرنے میں مختارمدعیہ نے ویسے ہی مغالطہ سازی سے کام لیاہے۔ جیسا کہ عیسائی قرآن مجید اور آنحضرتﷺ کے کلام میں تعارض ثابت کرنے کے لئے کہاکرتے ہیں۔ میں بطورنمونہ ایک دومثالوں کاجواب دے دینا مناسب خیال کرتاہوں۔

مختارمدعیہ نے کہاہے کہ مرزا صاحب نے (تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵) میں تو یہ لکھا کہ: ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں۔ جس کے متعلق نبیوں کی پیش گوئیاں ہیں۔‘‘ لیکن (ازالہ اوہام ص۱۹۰،خزائن ج۳ ص۱۹۲)میں یہ لکھا کہ اس عاجز نے جومثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے جس سے کم فہم لوگوں نے مسیح موعود سمجھ لیاہے۔ یعنی ازالہ اوہام میں تو آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیاتھا۔ بلکہ صرف مثیل مسیح ہونے کا لیکن زمانہ گزرگیاتوتحفہ گولڑویہ میں مسیح موعودہونے کا دعویٰ کردیا۔

اوریہ مختارمدعیہ کانرا مغالطہ ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعودنے ازالہ اوہام میں بھی مسیح موعود ہونے کا ویسا ہی دعویٰ کیاہے۔ جیسا

331

کہ تحفہ گولڑویہ کی عبارت سے ظاہر ہوتاہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا انجیل اوراحادیث صحیحہ کی رو سے ضروری طورپر قرارپاچکاتھا تو وہ اپنے وقت پراپنے نشانوں کے ساتھ آگیا اور آج وہ وعدہ پوراہو گیا جو خداتعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے کیاگیاتھا۔‘‘(ازالہ اوہام ص۴۱۴، خزائن ج۳ ص۳۱۵)

۲… اوریہ مثیل موسیٰ آنحضرتﷺ کا مسیح اپنی سوانح میں اوردوسرے تمام نتائج میں جوقوم میں ان کی طاقت میں ان کی سرکشی کی حالت میں مؤثرہوں گے۔ اس مسیح سے مشابہ ہوگاجوموسیٰ کو دیاگیاتھا۔ اب جو امر کہ خدائے تعالیٰ نے میرے پرمنکشف کیاہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔

۳… لیکن یہ ایک خاص پیش گوئی کے مطابق جوخداتعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ مسیح موعودکے نام پرآیاہے۔(ازالہ اوہام ص۱۵۶، خزائن ج۳ ص۱۸۰)

۴… اورمن جملہ ان علامات کے جو اس عاجز کے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں پائی جاتی ہیں۔ (ص۲۸۲) ان عبارات کی موجودگی میں حضرت اقدس کی عبارت کے قول میں ’’اس عاجز نے جومثل موعود ہونے کا دعویٰ کیاہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کربیٹھے ہیں۔‘‘ کا یہ مطلب لینا جومختارمدعیہ نے لیاہے متکلم کی منشاء کے صریح مخالف ہے۔ اصلی بات یہ ہے کہ اس جگہ آپ نے اپنے مخالف علماء کے عقیدہ کومدنظررکھتے ہوئے کہ مسیح موعودحضرت عیسیٰؑ ہیں۔ یہ لکھا ہے کہ عیسیٰؑ مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ مسیح موعود ہونے یعنی یہ کہ میں نے وہی مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ چنانچہ آپ اسی فقرہ کے آگے فرماتے ہیں: ’’میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں جوشخص یہ الزام میرے پرلگاوے وہ سراسر مفتری اورکذاب ہے۔ جب کہ میری طرف سے عرصہ سات یاآٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہاہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ کے بعض روحانی خواص طبع اورعادات اوراخلاق وغیرہ کے خداتعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھی ہیں اور دوسرے کئی امور میں جن کی تصریح انہیں رسالوں میں کرچکاہوں۔ میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مناسبت ہے اور میں وہی مثیل مسیح موعود ہوں، جس کے آنے کی خبرروحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہوچکی ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۱۹۰،۱۹۱، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

مثیل مسیح اورمسیح موعود

البتہ آپ نے تحریرفرمایا ہے کہ اوربھی بہت سے مثیل مسیح ہوں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ نے تصریح فرمادی ہے کہ جو مثیل مسیح ہوں گے وہ مسیح موعود نہیں ہوں گے۔ بلکہ مسیح موعود ایک ہی ہے۔ ہاں! وہ موعود ہیں۔ اس لحاظ سے کہ وہ مسیح موعود کے کام کی تکمیل کرنے والے ہوں گے وہ بھی موعود ہیں داخل ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ’’لیکن اگر کسی کے دل میں یہ خلجان پیدا ہو کہ بعض احادیث کی اس آنے والے مسیح کی حالت سے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی۔ جیسی مسلم کی دمشقی حدیث تواول تواس کا یہی جواب ہے کہ درحقیقت یہ سب استعارات ہیں اور مکاشفات میں استعارات غالب ہوتے ہیں۔ بیان کچھ کیاجاتاہے اور مراد اس سے کچھ لیاجاتاہے۔ سویہ ایک بڑا دھوکہ اور غلطی ہے۔ جوان کوظاہری طور مطابق کرنے کے لئے کوشش کی جائے اوریااس تردد اور فکر اورحیرت میں اپنے تئیں ڈال دیاجائے کہ کیوںیہ نشانیاں ظاہری طور پر مطابق نہیں آتیں۔ لیکن یہ سچ نہیں کہ ان حدیثوں کی تشریح کے وقت فریق مخالف کو بھی اکثرمقامات میں تاویلوں کی حاجت پڑی ہے اور بڑے تکلف کے ساتھ تاویلیں کی ہیں… پھربعد اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ظاہرپربھی ان بعض مختلف حدیثوں کو جوہنوز ہماری حالت موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیاجائے۔ تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ خداتعالیٰ ان پیش گوئیوں کواس عاجز کے ایک ایسے کامل شیخ کے ذریعہ کسی زمانہ میں پورا کردیوے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا

332

مرتبہ رکھتاہو اورہرایک آدمی سمجھ سکتاہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پوراہونا درحقیقت ایسا ہی ہے کہ گویاہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔ بالخصوص جب بعض متبعین فنا فی الشیخ کی حالت اختیار کرکے ہمارا ہی روپ لے لیں اور خداتعالیٰ کا فضل انہیں وہ رتبہ ظلی طور پر بخش دیوے جو ہمیں بخشا تو اس صورت میں بلاشک ان کا ساختہ پرداختہ، ہمارا ساختہ پرداختہ ہے۔ کیونکہ جو ہماری راہ چلتاہے۔ وہ ہم سے جدانہیں اور جوہمارے مقاصد کوہم میں سے ہوکرپوراکرتاہے۔ وہ درحقیقت ہمارے وجود میں داخل ہے۔ اس لئے وہ جزو اورشاخ ہونے کی وجہ سے مسیح موعود کی پیش گوئی میں بھی شریک ہے۔ کیونکہ وہ کوئی جداشخص نہیں۔ پس اگر ظلی طور پر وہ بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مثیل مسیح کانام پائے اورموعود میں بھی داخل ہوتوکچھ حرج نہیں۔ کیونکہ گومسیح موعود ایک ہی ہے۔ مگراس ایک میں ہوکرسب موعود ہی ہیں۔ کیونکہ وہ ایک ہی درخت کی شاخیںاورایک ہی مقصد موعود کے روحانی یگانگت کی راہ سے متمم ومکمل ہیں اوران کو ان کے پھلوں سے شناخت کروگے۔ یاد رکھناچاہئے کہ خداتعالیٰ کے وعدے جواس کے رسولوں اورنبیوں اورمحدثوں کی نسبت ہوتے ہیں۔ کبھی توبلاواسطہ اورکبھی بالواسطہ اس کی تکمیل ہوتی ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۴۱۴تا۴۱۶، خزائن ج۳ ص۳۱۵تا۳۱۷)

پس جو دعویٰ مسیح موعود ہونے کا آپ نے تحفہ گولڑویہ میں کیاہے وہی ازالہ اوہام میں بھی موجودہے۔

۲… ازالہ اوہام میں تو یہ لکھاہے کہ مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں آگئے اورضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں لکھاہے: ’’حضرت عیسیٰ کوامتی قراردینا کفرہے۔‘‘(براہین احمدیہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)

جواب: حضرت مسیح موعود نے ازالہ اوہام میں حضرت عیسیٰؑ کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ اس معنی کے لحاظ سے امتی ہیں۔ جن معنی کے رو سے آپ نے ضمیمہ براہین پنجم میں حضرت عیسیٰ کو امتی قراردینا کفر لکھاہے، بلکہ ازالہ اوہام میں بھی آپ نے بالتصریح بیان فرمادیاہے کہ وہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہوسکتا اورجوشخص کامل طورپر رسول اللہ کہلاتاہے۔ اس کاکامل طورپردوسرے نبی کا مطیع اورامتی ہوجانا منصوص قرآنیہ اورحدیثیہ کی روسے بکلی ممتنع ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷)

پس جس خیال کااظہار آپ نے ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں کیا ہے، وہی ازالہ اوہام سے ثابت ہے۔

۳… ازالہ اوہام میں مرزا صاحب نے کہا ہے کہ وہ ابن مریم جو آنے والاہے۔ نبی نہیں ہوگا۔ لیکن حقیقت الوحی میں لکھاہے: ’’جس آنے والے مسیح کا پتہ چلتاہے۔ اس کا یہ نشان دیاگیاہے کہ وہ نبی ہوگا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)

جواب: یہ بھی مختارمدعیہ کا ایک مغالطہ ہے۔ کیونکہ جیسے حقیقت الوحی میں آپ نے آنے والے مسیح کانشان اس کا نبی ہونا قراردیاہے۔ ایسے ہی ازالہ اوہام میں آپ نے فرمایا: ’’ازانجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح موعود جوآنے والاہے۔ اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا، یعنی خداتعالیٰ سے وحی پانے والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہرلگ چکی ہے، بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدودہے جومشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نورحاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پراس عاجز کودی گئی ہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)

اورفرماتے ہیں: ’’اورمسلم میں اس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگرمثالی طور پر مسیح یاابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص مرادہو جو محدثیت کامرتبہ رکھتاہو توکوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی۔ کیونکہ محدث من وجہ نبی ہوتاہے۔ مگر وہ ایسا نبی ہے۔ جو نبوت محمدیہ کے چراغ سے روشنی حاصل کرتاہے اور اپنی طرف سے براہ راست نہیں، بلکہ اپنے نبی کے طفیل سے علم پاتاہے۔‘‘(ازالہ اوہام ص۵۸۶،۵۸۷، خزائن ج۳ ص۴۱۶،۴۱۷)

333

۴… (ازالہ اوہام ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰) میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔‘‘ اوربدر۵؍مارچ میں لکھتے ہیں: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اورنبی ہیں۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

جواب: بدر۵؍مارچ میں جو یہ لکھاہے کہ: ’’ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘ توساتھ ہی نبی کی تشریح بھی کردی ہے کہ: ’’ہم نبی ہیں۔ ہاں! یہ نبوت تشریعی نہیں جوکتاب اللہ کومنسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کوہم کفر سمجھتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

اور (ازالہ اوہام ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰) میں جو آپ نے فرمایاکہ: ’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے۔‘‘ تواس میں نبوت سے مراد نبوت مستقلہ ہے اورجس قسم کی نبوت کے دعویٰ کااظہاربدرمیں کیاہے۔ اس سے آپ نے کبھی انکارنہیںکیا۔ پھرجیسے ازالہ کے حوالوں سے اوپر ثابت کیاجاچکاہے۔ نیز ایک غلطی کے ازالہ میں آپ نے بالتصریح ذکرفرمادیاہے کہ آپ نے جہاں کہیں نبوت سے انکار کیاہے تواس سے مراد نبوت مستقل اورشریعت والی نبوت ہے۔ البتہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تحاریر میں آپ نے اس قسم کی نبوت کو محدثیت سے بھی تعبیر کیاہے۔ لیکن جب کثرت سے خداتعالیٰ کے الہامات میں نبی اور رسول کالفظ آپ کے حق میں استعمال ہوا اورآپ پریہ حقیقت کھلی کہ اس قسم کی نبوت رسالت پربھی نبی اوررسول کااطلاق کرنا درست ہے اوریہ کہ نبی اور رسول کا نام پانے کے لئے ضروری نہیں کہ شریعت لائے یا شریعت کے بعض احکام کومنسوخ کرے۔ جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے تواس وقت آپ نے نبی اوررسول کے الفاظ کوبتاویل محدث لینے کی بجائے اپنے حق میں نبی اور رسول کا استعمال شروع کردیا۔ پس آپ کاا یک جگہ نبی ہونے سے انکارکرنا اوردوسری جگہ نبی ہونے کا اقرارکرنا مختلف معانی کے لحاظ سے ہے اور اگرمعانی اورنسبتوں کا لحاظ نہ رکھا جائے توپھر قرآن مجید اور احادیث میں بھی بکثرت اختلاف پیداہوجائے گا اور یہی وجہ ہے کہ مختارمدعیہ کی طرح عیسائیوں نے بھی مختارمدعیہ کے اصول کے مطابق قرآن مجید میں اختلاف اورتعارضات نکالے ہیں۔ میں ان آیات اوراحادیث میں سے جنہیں عیسائیوں نے مختارمدعیہ کی طرز پر آپس میں متعارض قراردیاہے۔ چند بطور نمونہ پیش کرتاہوں۔

۱… اللہتعالیٰ فرماتاہے:’’ان امّہاتہم الاالّٰیٔ ولدنہم وانہم لیقولون منکراً من القول وزورا (مجادلہ:۲)‘‘ یعنی جو لوگ اپنی بیویوں کوماں کہہ کرپکارتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں اور براقول کہتے ہیں۔ ان کی مائیں توصرف وہی ہیں جنہوں نے انہیں جناہے۔

لیکن سورہ احزاب آیت نمبر۶ میں اللہتعالیٰ فرماتاہے:’’وازواجہ امہاتہم‘‘ کہ آنحضرتﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔

ایک جگہ تو کہا کہ کسی کی ماں صرف وہی ہوتی ہے جو اسے جنے۔ لیکن سورہ احزاب میں نبی کی بیویوں کوجنہوں نے مومنوں کوجنانہیں ان کی ماں قراردیا۔

۲… سورہ نجم آیت نمبر۲ میں فرمایا: ’’ماضل صاحبکم وماغویٰ‘‘ آنحضرتﷺ گمراہ نہیں ہوئے۔ لیکن سورہ والضحیٰ آیت نمبر۷ میں فرمایا:’’وجدک ضآلا فہدیٰ‘‘ کہ تجھے گمراہ پایا تو ہدایت دی۔

۳… سورہ طہٰ آیت نمبر۱۲۵ میں فرمایا:’’ونحشرہٗ یوم القیامۃ اعمٰی‘‘ کہ ہم اس شخص کو جوخداکے فکر سے اعراض کرے گا قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے اور سورہ ق آیت نمبر۲۲ میں فرمایا: ’’فبصرک الیوم حدید‘‘ اس دن نظر یں تیز ہوں گی اورہرایک چیز کی حقیقت کا وہ بجشم خود مشاہد ہ کریں گے۔

۴… ’’یوم تأتی کل نفس تجادل عن نفسہا (النحل:۱۱۱)‘‘ یعنی جس دن ہرنفس اپنے نفس سے دفاع کے لئے جھگڑے گی اور دوسری جگہ فرمایا: ’’ہذا یوم لاینطقون ولایؤذن لھم فیعتذرون (المرسلٰت: ۳۵، ۳۶)‘‘ یعنی یہ وہ دن ہوگا جس میں نہ وہ بولیں گے اور نہ انہیں عذر خواہی کی اجازت ہی دی جاوے گی۔

334

۵… اسی طرح ایک جگہ فرمایا: ’’فلا انساب بینہم یومئذولایتسآء لون (المؤمنون:۱۰۱)‘‘ یعنی وہ اس دن ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے اوردوسری جگہ فرمایا: ’’واقبل بعضہم علی بعض یتسآء لون (الطور:۲۵)‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔

۶… اسی طرح ایک مقام پر فرمایا: ’’وقفوہم انہم مسئولون (الصافات:۲۳)‘‘ کہ انہیں ٹھہرائو۔ ان سے پوچھا جائے گا اور دوسری جگہ فرمایا: ’’فیومئذ الایسئال عن ذنبہ انس ولاجآن (الرحمٰن:۳۹)‘‘ یعنی اس دن جن وانس سے اپنے گناہوں کے بارہ میں پوچھا ہی نہیں جائے گا۔

رہامختارمدعیہ کا یہ اعتراض کہ حضرت مسیح موعود اپنے دعویٰ میں لوگوں کی برداشت مدنظر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ ترقی کرتے گئے۔ سو یہ بھی کوئی نیا اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ پہلے انبیاء پر بھی کیاگیاہے۔ عیسائیوں کی کتاب میں بھی سید الانبیاء حضرت محمدمصطفیﷺ پربھی یہی اعتراض کیاگیاہے کہ اللہتعالیٰ ایک دفعہ انبیاء پرتمام امور کی حقیقت کیوں نہیں کھول دیتا۔ اللہتعالیٰ کا منشا انبیاء کی بعثت سے لوگوں پراتمام حجت کرناہوتاہے۔ تاکہ وہ لوگ جن میں رشد وہدایت پائی جاتی ہے۔ اس نبی کوقبول کرکے اللہتعالیٰ کے انعامات کے وارث ہوں اور دوسرے لوگ اتمام حجت ہوکر خداکے عذاب اورسزائوں کے مورد بنیں اور اسی طرح خداتعالیٰ کے مامور جونہایت رحیم وکریم ہوتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ لوگ ہلاگ ہوں اس لئے جب تک کہ خداتعالیٰ کی طرف سے بذریعہ الہام صراحت کے ساتھ ان پر کسی چیز کی حقیقت نہ کھول دی جائے۔ وہ اسی پرقائم رہتے ہیں۔ جولوگوں کے خیالات کے قریب ہو، تاوہ جلدی میں آکر انکار نہ کربیٹھیں۔ لیکن دنیا دار لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ ان کا مکرہوتاہے اورایسے لوگ اگر خود لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایسا طریق اختیار کریں تو وہ اسے حکمت قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگرخداتعالیٰ بندوں پر رحم کرنے کے لئے اپنے مامور پر آہستہ آہستہ حقائق ظاہر کرے تووہ اسے مکر وفریب سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ خداتعالیٰ سب سے حکیم ہے۔ پھرکیونکر وہ حکمت کواختیار نہ کرے اورچونکہ انبیاء کو اپنی بڑائی کا کچھ خیال نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ ان خطابات کوجوخداتعالیٰ کی طرف سے انہیں ملتے ہیں۔ اپنے لئے استعمال کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لیتے ہیں اور ہرپہلو پر غورکرتے ہیں اور ابتداء میں ڈرتے ہی ہیں کہ مبادا یہ آپ کے متعلق کاہی دھوکاہو اوراگر ان کی ایسی تاویل ہوسکتی ہو۔ جولوگوں کے خیالات کے اقرب ہوتووہ اس کی تاویل کرلیتے ہیں اور اسی پرقائم رہتے ہیں۔ جب تک کہ خداتعالیٰ اس کثرت الہام کے ذریعہ سے یہ واضح نہیں کردیتا کہ اس کی تاویل کی ضرورت نہیں ہے اورجب یہ وضاحت وصراحت ہوجائے توپھرکوئی پروانہیں کرتے اور بلاخوف لومۃ لائم وہ خطابات بھی نئے استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ تدریجی دعویٰ کی مثال خود آنحضرتﷺ کی ذات مبارک میں بھی ہمیں ملتی ہے۔

سب سے پہلے جب آپ پر غارحرا میں فرشتہ کاظہور ہوااور اس نے آپ کو خوب بھینچا اور تین بار پڑھنے کے لئے کہا اور ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ کی وحی آپ پرنازل ہوئی تو آپ کانپتے ہوئے دل کے ساتھ خدیجہt کے پاس آئے اور کپڑا اوڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا اورجب کچھ تسلی ہوئی تو فرمایا کہ: ’’ولقد خشیت علی نفسی (بخاری ج۱ ص۳)‘‘ یعنی میں ڈرا مبادا میرے نفس کا ہی یہ دھوکاہو یا اپنی جان کا صرف ہو۔ پھرحضرت خدیجہ آپ کولے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔

جس نے آپ کا حال سن کر بتایا کہ یہ تووہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ پراتراتھا۔ اب ظاہرہے کہ آپ کے پاس فرشتہ آتاہے۔ آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے آپ کو اس معاملہ کی حقیقت ورقہ بن نوفل سے معلوم ہوتی ہے اور ولقد خشیت علی نفسی کے معنی امام ملّا علی قاری نے یہ کئے ہیں کہ میں ڈرا کہ مجھے جنون نہ ہوجائے یا میں ہلاک نہ ہوجائوں۔ پھراس کے بعد کچھ دیرکے لئے وحی کاآنابندہوگیا تو آپ کی جوحالت ہوئی وہ امام بخاری کے نزدیک مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہرہے۔

335

وزاد البخاری حتی حزن النبیa فیما بلغنا حزنا غدامنہ مراراً کیٔ یتروی من رؤس شراہق الجبل فکلما اوفی بذورۃ جبل لکیٔ یلقی نفسہ منہ تبدی لہ جبرئیل فقال یامحمد انک رسول اللہ حقاً فلیکن لذلک جاشہ وتقرنفسہ (مشکوٰۃ ص۵۲۲)‘‘ یعنی وحی کے بند ہونے کے بعد آپ ایسے سخت غمگین ہوئے کہ آپ نے بارہا پہاڑ کی چوٹیوں پرسے گرنے کی خواہش کی۔ پس جب کبھی کسی پہاڑ کی بلندچوٹی پر چڑھتے کہ اپنے آپ کو گرادیں تو حضرت جبرئیلm ظاہر ہوکر آپ سے کہتے کہ اے محمدتودرحقیقت خداکا رسول ہے تواس سے آپ کوتسکین حاصل ہوتی تھی۔ سوجبرئیلm کاباربار ظاہر ہوکر آپ سے یہ کہنا کہ توسچ مچ خدا کا رسول ہے۔ بتاتاہے کہ ابتداء میں خداتعالیٰ کے مامور بن کر اپنے دعویٰ کی شناخت میں کیسی مشکلات ہوتی ہیں۔ پس وہ اس وقت تک اس کو ظاہر نہیں کرتے جب تک کہ بارش کی طرح وحی کے ذریعہ انہیں اس کی صحت کاعلم نہیں دیاجاتا۔

دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد خداتعالیٰ نے کس حکمت سے آہستہ آہستہ آپ کو تبلیغ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے۔ پہلے آپ پوشیدہ طور پر تین سال تک اللہتعالیٰ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہے۔ اس کے بعد جب اللہتعالیٰ نے ’’فاصدع بماتؤمرواعرض عن المشرکین‘‘ کاارشاد فرمایا تو آپ نے علانیہ طورپر اپنی دعوت کااظہارکیا۔ (زاد المعاد ج اوّل ص۲۰) آپ کی ترتیب دعوت کا ذکرامام ابن قیم نے اسی طرح کیاہے: ’’پہلے تو آپ کو یہ حکم ہوا: ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق وذالک اول نبوۃ‘‘ یہ آپ کی نبوت کی ابتدا ہے۔ اس وقت آپ کو اپنے آپ پڑھنے کا ہی حکم دیاگیا۔ تبلیغ کا حکم نہیں دیاگیا۔ پھر آپ پر آیات: ’’یٰآیہا المدثر قم فانذر‘‘ نازل ہوئیں۔ اس میں آپ کودوسروں کے ڈارنے کابھی حکم دیاگیا۔ ’’ثم امران ینذرعشیرتہ الاقربین‘‘ پھر آپ کو اپنے قریبی خاندان والوں کے ڈرانے کا حکم دیاگیا۔ (جیسا کہ آیت: ’’وانذر عشیرتک الاقربین‘‘ سے ظاہر ہے) ’’ثم انذرقومہ ثم انذر من حولہم من العرب ثم انذر العرب قاطبۃ ثم انذر العالمین‘‘ پھر آپ نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ پھر اس کو جواس کے ارد گرد عرب میں رہتے تھے۔ پھر تمام عربوں کو(جیسا کہ آیت: ’’لتنذرقوماً مااتاہم من نذیر من قبلک‘‘ سے ظاہرہے) پھر اس کے بعد تمام جہانوں کو (جیسا کہ آیت: ’’لتکون للعالمین نذیراً‘‘ میں ظاہر ہے) ’’فاقام بضع عشرۃ سنۃ بعد نبوتہ بالدعوۃ بغیر قتال ولاخیریۃ ویؤمر بالکف والصبر والصفح ثم اذن لہ فی الہجرۃ واذن لہ فی القتال المشرکین حتی یکون الدین کلہ ﷲالی آخرہ‘‘ (زادالمعاد ج۱ ص۳۳۲)

پھر اپنی نبوت کے تیرہ سال بغیر قتال کے لوگوں کواپنا دعویٰ سنا کر ڈراتے رہے اور آپ کو جنگ سے رکے رہنے اورصبر اوردرگزر کرنے کاحکم دیاجاتارہا۔ پھر آپ کو ہجرت کی اجازت ہوئی اور اس کے بعد قتال کی پھر آپ کوحکم ہوا کہ جو آپ سے لڑے اس سے قتال کیاجاوے اورجو نہ لڑے اس سے قتال نہ کیاجاوے۔

پھر آپ کو مشرکین سے قتال کرنے کاارشاد ہوا۔یہاں تک کہ تمام دین اللہ کے لئے ہو۔ مذکورہ بالاترتیب سے ظاہرہے کہ اللہتعالیٰ نے کیسے تدریجی طور پر اپنے رسول سے اپنا دعویٰ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ آنحضرتﷺ کے تبلیغ دعوت میں مذکورہ بالا طریق اختیار کرنے کی وجہ سے آپ پرعیسائیوں نے وہی اعتراض کیاہے جو مختارمدعیہ نے حضرت مسیح موعود پرکیاہے۔

اسی طرح پہلے تو آپ نے اپنی نبوت اپنی ذات تک محدود رکھی پھر آپ نے کئی بار اپنے آپ کو پہاڑ سے گرانے کی خواہش کی۔ یہاں تک کہ ہربارحضرت جبرائیل نے آپ سے کہہ دیا کہ آپ واقعی خدا کے رسول ہیں۔ (یعنی کسی تردد کی اس میں ضرورت نہیں) پھر جیسا کہ اوپرذکرکیاگیا۔ آپ نے اپنے دعویٰ کی تبلیغ کی۔ مدینہ میں پہنچ کر جہاں یہود کثرت سے آباد تھے۔ فرمایا: ’’لا تخیرونی علی موسٰی فان الناس یصعقون یوم القیامۃ فاصعق معہم فأکون اول من یفیق فاذاموسٰی باطش جانب العرش

336

(بخاری ج۴ ص۸۸)‘‘ کہ تم مجھے موسیٰ m پرفضیلت مت دو۔ کیونکہ لوگ قیامت کے روز جب بے ہوش ہوں گے توسب سے پہلے میں ہوش میں آئوں گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش کے ایک پہلو کوپکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ لیکن اس کے بعد وہ وقت آیا کہ آپ نے خاتم النّبیین ہونے کا دعویٰ کیا اور فرمایا: ’’والذی نفسی محمد بیدہ لوبدا لکم موسٰی فاتبعتموہ وترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا وادرک نبوتی لاتبعنی (مشکوٰۃ ص۳۲)‘‘ یعنی اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر تمہارے لئے موسیٰ ظاہر ہوں اورتم اس کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو توتم سیدھے راستہ سے گمراہ ہوجائو۔ اگروہ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو ضرور میری پیروی کرتے ایک اورحدیث میں ہے۔’’لوکان موسٰی حیاً لماوسعہٗ الااتباعی‘‘ اگر موسیٰ زندہ ہوتے توانہیں میری پیروی کے سواچارہ نہ ہوتا۔ ایک وقت میں تویہ فرمایا:’’لا تفضلوا بین انبیاء اللہ (مشکوٰۃ ص۵۰۷)‘‘

یعنی تم خدا کے نبیوں کوایک دوسرے پرفضیلت مت دو۔ لیکن پھر دوسرا زمانہ وہ آیا جب کہ آپ نے فرمایا: ’’فضلت علی الانبیاء بست (مشکوٰۃ ص۵۱۲بحوالہ مسلم)‘‘ یعنی مجھے تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ اسی طرح ایک وہ زمانہ تھا کہ آپ نے علی الاعلان فرمایا: ’’من قال انا خیر من یونس بن متی فقد کذب (بخاری ج ۳ ص۸۳)‘‘ یعنی جو کہے کہ میں یونس بن متی سے اچھاہوں تواس نے جھو ٹ کہا۔ لیکن آپ نے اپنے متعلق فرمایا: ’’انا اکرم الاوّلین والاخرین علی اللہ ولافخر (مشکوٰۃ ص۵۱۴، بحوالہ ترمذی ودارمی)‘‘ یعنی میں پہلوں اورپچھلوں سے اللہتعالیٰ کے نزدیک زیادہ اشرف اورمکرم ہوں اوراس میں کوئی فخر نہیں۔

نیزفرمایا: ’’انا سید ولد اٰدم یوم القیامۃ ولافخر وبیدی لواء الحمد ولافخرومامن نبی یومئذ اٰدم فمن سواء ہ تحت لوائی (مشکوٰۃ ص۵۱۳ بحوالہ ترمذی)‘‘ یعنی میں قیامت کے روز تمام بنی آدم کا سردار ہوں اورمیرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اوراس میں فخر نہیں اورآدمm اوران کے سوا جس قدرانبیاء ہیں تمام میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔

نیزفرمایا: ’’انا قائد المرسلین ولافخرواناخاتم النّبیین ولافخرواناشافع ومشفع ولافخر (مشکوٰۃ ص۵۱۴، بحوالہ دارمی)‘‘ یعنی میں بغیر کسی فخر کے رسولوں کا قائد ہوں اور خاتم النّبیین اورشافع ہوں اور ایسا شافع ہوں جس کی شفاعت قبول کی جاوے گی۔

حضرت مسیح موعود کا براہین احمدیہ میں آپ کو مثیل مسیح ہونے کا الہام ہوچکاتھا۔ حضرت عیسیٰ کو مسلمانوں کے عام عقیدہ کے مطابق اس وجہ سے کہ آپ پروفات مسیح کی فضیلت منکشف نہ ہوئی تھی زندہ لکھ دینا اور اسی طرح باوجودیکہ الہامات میں آپ کے حق میں نبی ورسول کے الفاظ استعمال ہوئے تھے۔ لیکن چونکہ نبی اور رسول کے معنی یہ سمجھے جاتے تھے کہ جونئی شریعت لائے یاپہلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے اور یہ تعریف آپ پرصادق نہ آئی تھی۔ اس لئے آپ کالفظ نبی اور رسول بتاویل بمعنی محدث لینا جائے اعتراض نہیں ہے لیکن جب آپ پراللہتعالیٰ نے باربار کے الہام سے یہ حقیقت منکشف کردی کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں اورجب آپ نے یہ سمجھا کہ وہ جس پرکثرت امورغیبیہ کااظہارہو وہ بھی نبی ہوتاہے۔ چاہے وہ نبی شریعت نہ لائے اور نہ ہی پہلی شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے اورنہ ہی مستقل ہوبلکہ پہلے نبی کا پیروہو تو آپ نے وفات مسیح کااعلان کردیا اور لفظ نبی اوررسول کوبتاویل محدث لینے کی بجائے اپنے آپ کو امتی نبی اور رسول کہنا شروع کردیا کہ میں نبی ہوں یعنی خداسے بکثرت غیب کی خبریں پانے والااوررسول یعنی خداتعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیاہوں۔ لیکن ساتھ ہی آپ نے تصریح فرمادی کہ: ’’ہاں! یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خداکی طرف سے اطلاع دیاگیاہوں کہ یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پرنہیں ہیں۔ بلکہ آسمان پرایک پاک وجود ہے۔ جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمدمصطفیﷺ۔‘‘(ایک غلطی کاازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱)

337

حضرت مسیح موعود کا دعویٰ

۹؍اکتوبر کی بحث میں مختارمدعیہ نے ایک یہ اعتراض کیا کہ آج تک یہ پتہ نہیں کہ مرزا صاحب کیاچیز لے کرآئے اورنہ مرزا صاحب کے صحابہ ہی ثابت کرسکے اور دعویٰ کی تعین نہیں۔ متعدد دعاوی کئے ہیں۔ مبلغ اسلام، مجدد مصلح وغیرذالک! حضرت مسیح موعود کادعویٰ اظہر من الشمس ہے کہ آپ خداتعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کئے گئے۔ باقی جس قدر آپ کواللہتعالیٰ کی طرف سے القاب دئیے گئے ہیں وہ اسی کے ذیل میں آجاتے ہیں۔ آپ مجددتھے اورمصلح تھے اورہرنبی مجدد اورمصلح ہوتاہے۔ آپ مبلغ اسلام بھی ہیں۔ جیسے کہ آنحضرتﷺ بھی مبلغ اسلام بھی ہیں اورآپ کو ہی سب سے اوّل ’’یٰآیہا الرسول بلغ ما انزل الیک‘‘ تبلیغ کاحکم ہوا۔ آپ محدث بھی ہیں کیونکہ خدتعالیٰ نے آپ سے کلام کی آپ نبی بھی ہیں کہ خداتعالیٰ نے کثرت سے امور غیبیہ پرآپ کواطلاع دی۔ آپ رسول بھی ہیں۔ ان معنوں میں کہ آپ خدا کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے۔ آپ ان پیش گوئیوں کے بھی مصداق ہیں جو انبیاء کی کتابوں اوراحادیث میں پائی جاتی ہیں اور مسلمانوں کی اصلاح کے لئے مبعوث ہونے کی وجہ سے آپ مہدی اورعیسائیوں کے لئے مسیح اورہندوئوں کے لئے کرشن ہیں۔ پس آپ کو مختلف القاب اوراسماء دئیے جانے آپ کے دعاوی متعدد نہیں ہوگئے۔ ورنہ اس طرح تویہی اعتراض آنحضرتﷺ پر بھی آئے گا کہ آپ کے دعووں کا پتہ نہیں چلتا۔ کیونکہ آپ کے دعاوی متعدد ہیں۔ نبی، رسول، خاتم النّبیین، حامی، حاشر،عاقب وغیرہ۔

پس حضرت مسیح موعود کادعویٰ آپ کی کتب سے روز روشن کی طرح ثابت ہے۔

گواہان مدعیہ کی شہادتیں

بوجوہات ذیل حضرت مسیح موعودومہدی معہود اورآپ کی جماعت کے متعلق قابل قبول نہیں ہیں:

وجہ اوّل: حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ مسیح موعود اورمہدی معہود ہونے کا ہے اورگواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں بحوالہ (حجج لکرامہ ص۳۶۳)اور(مکتوبات امام ربانی مجددالف ثانی مکتوب۵۵ ج۲ ص۱۰۷) یہ ثابت کردیاہے کہ مولوی لوگ جوتقلید اوراپنے بزرگوں کی اقتداء کے خوگراورکفر کا فتویٰ دینے کے عادی ہوں گے۔ مہدی موعود کوکافر اور گمراہ اوردین کو تباہ کرنے والاقراردیں گے اور علماء ظواہر مسیح موعود کے باریک اجتہادات کاانکارکریں گے اور اپنی مخالف کتاب وسنت جان لیں گے اور قرآن مجید بھی یہی شہادت دیتاہے کہ جولوگ خداتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں مدعیان علم ان کی تکذیب کیاکرتے ہیں۔ جیسا کہ آیت:’’فلما جآء تہم رسلھم بالبینات فرحوا بماعندہم من العلم (المؤمن:۸۳)‘‘ سے ظاہرہے اس لئے حضرت مسیح موعود ومہدی معہود کے کفراوراسلام کے متعلق مولویوں کی شہادت قرآن وحدیث کی رو سے قابل قبول نہیں ہے۔

وجہ دوئم: گواہان مدعیہ حضرت مرزا صاحب اورآپ کی جماعت سے اپنے حسد وبغض اورتعصب وعداوت کااظہار کسی نہ کسی رنگ میںکرچکے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان کیاجاچکاہے اوراگرگواہان کی شہادتوں کودیکھا جائے تو اس میں احمدیوں اوران کے امام کے خلاف جن جذبات کااظہارکیاگیاہے اور باوجودیکہ اس امر کا فیصلہ کہ آیااحمدی ہونا اسلام سے ارتدادہے یانہیں۔ عدالت کا حق تھا نہ کہ گواہوں کا گواہوںنے باربارحضرت مسیح موعوداوراحمدیوں کے حق میں کافراورمرتد اورملحد وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں جس سے ان کی جماعت احمدیہ اور مدعاعلیہ سے عداوت وبغض بالکل واضح ہے اور ایسے شخص کی گواہی جس کی عداوت مدعاعلیہ سے روز روشن کی طرح آشکارہوچکی ہے۔ کوئی عدالت چھوٹی ہویابڑئی قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ امام مالک کا بھی یہی مذہب ہے جیسا کہ (ہدیہ مجددیہ ص۱۰۲) میں لکھاہے: ’’ذکرفی

338

المبسوط فی مذہب مالک انہ لایجوز شہادۃ القاری یعنی العلماء لانہم اشدالناس تحاسداوتباغضاً‘‘ یعنی مبسوط میں امام مالک کا یہ مذہب لکھاہے کہ مخالف علماء کی شہادت قبول کرناجائز نہیں۔ کیونکہ وہ اوّل درجہ حاسد اور بغض رکھنے والے ہوتے ہیں اوراسی وجہ سے فاضل ججان مدراس ہائیکورٹ نے بھی مقدمہ زیرعنوان میں مولویوں کی شہادت

Narantahath avullah vs parahuhial mammur and others.

کواحمدیوں کے خلاف اسی وجہ سے ردکیاہے چنانچہ ان کے اصل الفاظ یہ ہیں۔

But we can not accept their opinion as settling the question,as argued for the accused, partacularly as they are anterested ad orthodox Mohamadans in dinouncing the members of the new sect as unbelievers indian...........

اس لئے گواہان مدعیہ کی شہادتیں حضرت مسیح موعود اورآپ کی جماعت کے متعلق قابل قبول نہیں ہیں۔

وجہ دوم: گواہان مدعیہ کے بیانات اصولی مسائل ہیں ایک دوسرے کے متناقض ہیں چنانچہ:

۱… گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح کہا: ’’عیسی کو ہم پہلے نبی مانتے ہیں اس کے سوا جووحی ہے وہ وحی نبوت نہیں ہے۔ لفظ وحی کا اس پر اطلاق ہوگا۔ لیکن اس کے برخلاف گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ وحی نبوت نہیں آئے گی نہ کسی نئے نبی پرنہ پرانے نبی پر۔

پس گواہ مدعیہ نمبر۳ توحضرت عیسیٰ پروحی نبوت کے نزول کو تسلیم کرتاہے۔ لیکن گواہ مدعیہ نمبر۴کہتاہے کہ وحی نبوت پرانے نبی پربھی نہیں ہوسکتی۔

۲… گواہ مدعیہ نمبر۱ نے بجواب جرح ۲۱؍اگست کو یہ تسلیم کیاہے۔ ’’مسیحؑ پراگرکوئی جبرائیلm کے نازل ہونے کا قائل ہے تواس کوکافر نہیں کہاجاسکتا اورپھرحجج الکرامہ کی عبارت ’’ظاہراست کہ آرندہ وحی سوئے(یعنی مسیح۔ شمس) جبرائیلm باشد بلکہ بہ ہمیں یقین داریم ودران تردد نمی کنیم‘‘ کی تردید نہیں کرتا اورآنحضرتﷺ کے بعد نزول جبرائیلm کوجائز قراردیتاہے لیکن برخلاف اس کے گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ کہاہے کہ جبرائیلm وحی لے کر رسول اللہکے بعداب کسی شخص پرنازل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰؑ کے نزول کے وقت بھی ان پر جبرائیل نہیں آئیں گے۔‘‘

۳… گواہ مدعیہ نمبرب نے اپنے بیان میں لکھوایا ہے کہ کتب لغت میں سے کوئی حوالہ ایسا نہیں ملتا کہ جس سے قطعاً یقینا یہ ثابت ہو کہ خاتم النّبیین کے معنی آخر النّبیین کے ہی ہوتے ہیں اوراس کے خلاف گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ: ’’لغت والوں نے تصریح کی ہے کہ خاتم بفتح التاء مہر کے معنوں میں بھی ہے۔‘‘

پس گواہ نمبر۳ کے اس قول کے مطابق لغت کی رو سے برخلاف گواہ نمبرب نبیوں کی مہر کے معنی ہوسکتے ہیں۔

۴… گواہ مدعیہ نمبرالف وگواہ مدعیہ نمبرب اپنے بیانوں میں کہتے ہیں کہ وحی نہیں ہوسکتی اس لئے کہ نبوت نہیں۔ کیونکہ وحی لازمی چیز ہے۔ لیکن اس کے برخلاف گواہ مدعیہ نمبر۲ نے بجواب جرح ۱۴؍اگست کو یہ تسلیم کیاہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد مطلق وحی کے دعویٰ کو کفر نہیں کہاگیا اورگواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کوبجواب جرح یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ مسیحؑ پروحی نبوت ہوگی اور اس کے سوا جووحی ہے وہ وحی نبوت نہیں۔ پس گواہان مدعیہ الف،ب تویہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ وحی لازمہ نبوت ہے۔ لیکن گواہ مدعیہ نمبر۱ مؤرخہ ۲۱؍اگست کو بجواب جرح بحوالہ فتوحات اورگواہ مدعیہ نمبر۲ اورگواہ مدعیہ نمبر۳کہتے ہیں کہ حضرتa کے بعد وحی ہوسکتی ہے

339

اور نیز گواہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ مسیحؑ پرغیرتبلیغی وحی ہوگی۔

۵… گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ حضرت عیسیٰ رسول الی بنی اسرائیل تھے اور ہیں نہ پہلے وہ ہماری طرف مبعوث ہوئے تھے اور نہ اب اورجب آئیں گے تووہ منصب نبوت پرنہ ہوں گے۔ لیکن برخلاف اس کے گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جب نازل ہوں گے تووہ رسول ہوں گے اوران کے نزول کے وقت جو شخص ان کو نہ مانے گاوہ مسلمان نہ ہوگا۔

۶… گواہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ آیت: ’’وماکان لبشر‘‘ میں جوطرق وحی کے بیان کئے گئے ہیں وہ امت محمدیہ پربندہیں۔ مگرگواہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست بجواب جرح یہ تسلیم کیا کہ ام موسیٰ اورمریم پرجووحی ہوئی قر آن کے بیان کردہ تین طرق میں داخل ہے اور گواہ نمبر۲ اور مختارمدعیہ کے نزدیک وہ وحی جو وحی نبوت نہ ہو وہ امت محمدیہ کے افراد کوہوسکتی ہے۔ جیسے کہ حضرت مریم اورام موسیٰ کو ہوئی۔ کیونکہ وہ نبی نہ تھیں اور وہ وحی گواہ نمبر۳ کے نزدیک آیت: ’’وماکان لبشر‘‘ میں مذکورہ طرق میں داخل ہے جو گواہ مدعیہ نمبر۱ کے قول کے بالکل مخالف ہے۔

گواہان مدعیہ کے بیانات میں ایسے تناقضات اوربھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن انہیں پر اکتفاء کرتے ہوئے میں ان تناقضات کی طرف بھی اشارہ کردیتاہوں جو ہرگواہ کے اپنے بیان میں پائے گئے ہیں۔ مثلاً گواہ مدعیہ نمبر۱نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح حدیث: ’’من ترک الصلوٰۃ متعمداً فقدکفر‘‘ کے متعلق کہا کہ امت اس کے یہ معنی سمجھتی ہے کہ کفر کاسافعل کیا۔ یعنی عمداً نماز کاتارک امت کے نزدیک کافرنہیں ہوگا۔ لیکن پھراس کے بعد یہ اقرارکیا کہ بعض ائمہ برحق نے عمداً نماز کے تارک کوکافر قراردے کر ان سے نکاح وغیرہ معاملات کوحرام قراردیاہے اور ان دونوں قولوں میں تخالف پایاجاتاہے اوراسی طرح گواہ نمبر۳ نے اپنے بیان مؤرخہ ۲۵؍اگست کو کہا کہ مسخ نسخ بروز وغیرہ یہ پانچوں اصطلاحیں آسمانی دینوں میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ لیکن اس نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح یہ تسلیم کیا کہ آیت: ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ کے متعلق میرا عقیدہ ہے کہ وہ مسخ ہوگئے تھے۔ پس ان دونوں قسم کے تناقضات کی موجودگی میں گواہان مدعیہ کی شہادتیں قابل قبول نہیں ہیں۔

وجہ سوم: حضرت مسیح موعود کی تمام کتب کاسوائے ان عبارات کے جن پرانہوں نے اعتراض کیاہے مطالعہ نہیں کیا۔

گواہان مدعیہ نے جیسا کہ شاہد مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح تسلیم کیاہے کہ: ’’میںنے مرزا صاحب کی تمام کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ جس قدر کہ مجھے حکم دینے کے لئے ضرورت ہوئی اس قدر میں نے مطالعہ کیا۔‘‘

اورگواہ مدعیہ نمبر۴نے ۳۱؍اگست کو بجوا ب جرح کہا: ’’میں نے تمام کتابیں مرزا صاحب کی مطالعہ نہیں کیں۔‘‘ اور مختارمدعیہ نے بھی۷؍اکتوبر کی بحث میں گواہان مدعیہ کے اس نقص کوچھپانے کے لئے یہ کہا کہ کسی کاکفر ثابت کرنے کے لئے اس کی دوسری کتابوں کا دیکھا ضروری نہیں ہے۔ اس لئے دوسری کتابوں کے دیکھنے کااعتراض گواہان مدعیہ پرنہیں ہوسکتا۔ لیکن گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۰؍اگست کو بجواب جرح یہ اصل تسلیم کیاہے کہ: ’’ایک مصنف کے قول کاماقبل ومابعد جب تک معلوم نہ ہو اوراس کی دوسری تصانیف سے اس کا صحیح عقیدہ معلوم نہ کر لیاجائے۔ اس وقت تک کوئی ایک جملہ کسی کتاب کا پیش کردینا عقیدہ ثابت کردینے کے لئے کافی نہیں ہے اوراس طرح گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح کہا کہ: ’’متکلم کے مبہم کلام کو اس کے مصرح کلام پرحمل کیاجائے گا۔‘‘

پس اس اصل کے مطابق کسی کا عقیدہ معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی دوسری کتابوں کو دیکھاجائے اور اس کے تمام اقوال کویکجائی نظر سے دیکھ کر پھراس پرحکم لگایاجائے۔ لیکن گواہان مدعیہ جن کااوپرذکرآچکاہے معترف ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی کتابوں

340

کاکماحقہ مطالعہ نہیں کیا۔ اس لئے ان کی شہادت حضرت مسیح موعود کے کفرواسلام کے متعلق کوئی وزن نہیں رکھتی اور رد کرنے کے لائق ہے۔

وجہ چہارم: دربارمعلی نے اپنے فیصلہ میں علماء اسلام کی آراء حاصل کرنے کے متعلق لکھاتھا اور علماء اسلام کہلانے کے وہی مستحق ہوسکتے ہیں جنہیں مسلمانوں کے تمام فرقے عالم اسلام سمجھتے ہوں۔ مگر گواہان مدعیہ عالم اسلام توکجا رہے۔ علماء حرمین اوعلماء ہند کے نزدیک مسلمان بھی نہیں ہیں۔ بلکہ مرتد اور خارج از دائرہ اسلام ہیں جیسا کہ پہلے ثابت کیاجاچکاہے۔ اس لئے ان کی شہادتیں رد کرنے کے لائق ہیں۔

گواہان مدعیہ کے صریح کذب

وجہ پنجم: چونکہ گواہان مدعیہ اپنے اکابرعلماء وائمہ کی تعلیم کے مطابق ایسے معاملات میں کذب صریح کوجائز خیال کرتے ہوئے اپنے بیانوں میں جابجاکذب صریح کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کی شہادت ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتی اوران کے صریح کذبات سے چندبطور نمونہ پیش کئے جاتے ہیں:

(۱) پہلا کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبرالف نے اپنے بیان میں یہ کذب صریح استعمال کیاہے کہ مرزا صاحب نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا اوراپنے آپ کو خالق جانا اورحوالہ آئینہ کمالات اسلام کا دیاہے۔ حالانکہ وہیں حضرت مسیح موعود کے یہ الفاظ موجود ہیں کہ یہ واقعہ میں نے خواب میں دیکھا اور وہیں اس کی تعبیر بھی حضور نے بیان فرمادی ہے۔

(۲) دوسرا کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبرالف نے اپنے بیان میں حضرت مسیح موعود کی طرف بحوالہ (البشری ج۲ ص۷۹) یہ بھی منسوب کیاہے کہ خداتعالیٰ نے ان سے کہا: ’’جس طرح میں قدیم اورازلی ہوں، اس طرح تیرے لئے میں نے ازلیت کے انوار کردئیے ہیں اورتوبھی ازلی ہے۔‘‘

اوریہ گواہ مذکورہ کانہایت ہی صریح کذب ہے۔ کیونکہ عبارت البشری میں قطعاً موجود نہیں ہے۔

(۳) تیسراکذب

گواہ مدعیہ نمبرب نے اپنے بیان میں بحوالہ (توضیح مرام ص۳۳۰، خزائن ج۳ ص۶۸ حاشیہ) حضرت مسیح موعود کے متعلق ذکرکیاہے کہ آپ ملائکہ کوسیاروں کی ارواح مانتے ہیں۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ملائکہ کی بحث میں ذکرآچکاہے۔ پس گواہ نمبرب کا آپ کی طرف یہ عیدہ منسوب کرنا اس کا ایک کذب صریح ہے۔

(۴) چوتھاکذب صریح

گواہ مدعیہ نمبرب نے اپنے بیان میں حضرت مسیح موعود کا بحوالہ (توضیح مرام ص۴۰، خزائن ج۳ ص۷۱) یہ عقیدہ ظاہر کیاہے کہ دنیا میں جوکچھ ہورہاہے نجوم کی تاثیر سے ہورہاہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کاعقیدہ یہ ہے کہ مؤثرحقیقی اللہتعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ بحث ملائکہ میں ذکرآچکا۔ پس گواہ مذکورہ کایہ ایک جھوٹ ہے۔

(۵) پانچواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۱نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح یہ صریح جھوٹ بولاکہ مسیلمہ کذاب نبوت مستقلہ کا مدعی نہیں تھا۔ اس نے اسلامی

341

شریعت کے خلاف کوئی شریعت قائم نہیں کی۔ قرآن شریف کے مقابلہ میں اس نے کوئی آیات قائم کی تھیں یانہ مجھے علم نہیں، وہ شریعت قرآن شریف کا متبع تھا یانہ مجھے معلوم نہیں۔

حالانکہ نہایت قلیل علم رکھنے والا ہے وہ بھی جانتاہے کہ مسیلمہ کذاب نے نماز وروزہ وغیرہ کوترک اورشراب وزنا وغیرہ کوجائز کردیاتھا۔ چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست کوبجواب جرح تسلیم کیاہے کہ مسیلمہ نے نبی کریم کے بعداحکام میں تغیروتبدل کیاتھا اور (حجج الکرامہ ص۳۳۴) میں جوواقعات(تحلیل خمر اور تنسیخ نماز وروزہ اورقرآن کے مقابلہ میں سورتیں بنانے کے) مسیلمہ کی طرف نسبت کئے گئے ہیں یہ وقوع میں آئے ہیں۔

(۶) چھٹاکذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجوب جرح کہا’’ہم احمدرضاخان بریلوی کے فرقہ کوکافر نہیں کہتے۔ احمدرضاخان کو بھی ہم کافر نہیںکہتے اس کے اقوال کی تاویل کرتے ہیں۔‘‘ حالانکہ یہ سراسر غلط اور قطعاً کذب صریح ہے۔

(۷) ساتواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۱ نے ۲۱؍اگست کو بجواب جرح حدیث:’’من ترک الصلوٰۃ متعمداً فقد کفر‘‘ یہ کہا کہ امت اس کے معنی یہ سمجھتی ہے کہ کفر کا سا فعل کیا۔ یعنی عمداً نماز کاتارک کافر نہیں ہوگا۔ لیکن جب اورزیادہ جرح کی گئی تو حق بات بیان کرنی پڑی کہ بعض ائمہ برحق نے عمداً نماز کے تارک کو کافر کہاہے اوراس اقرارسے اس نے یہ تسلیم کرلیاہے کہ اس کا پہلا جواب کہ امت اس کے معنی یہ سمجھتی ہے کہ عمداً نماز کا تارک کافر نہیں ہوگا، جھوٹ تھا۔

(۸) آٹھواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کو بجواب جرح کہا: ’’مرزا صاحب نے اپنی کسی ایک کتاب میں وحی کوجمع نہیں کیا اورنہ انہوں نے کسی خاص کتاب کو شریعت قراردیا۔ لیکن ان کی جو وحی جس جس کتاب میں درج ہے وہ شریعت جدیدہ ہے۔‘‘

حالانکہ جس نے حضرت مسیح موعود کی بعض تصانیف کا بھی مطالعہ کیاہے وہ بھی اچھی طرح جانتاہے کہ آپ کی وحی کو وحی شریعت جدیدہ قراردینا ایک کذب صریح کے سواء اورکچھ نہیں ہے۔

(۹) نواب کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۴؍اگست کو بجواب جرح یہ صریح کذب استعمال کیاکہ حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام کے بعد قرآن کو آخرالکتب نہیں مانا اور اس قول کے صریح کذب ہونے میں حضرت مسیح موعود کی کتب سے ذرابھی مس رکھنے والے شخص کو بھی شک نہیں ہوسکتا۔

(۱۰) دسواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۲ نے ۲۹؍اگست کو بجواب جرح کہا: ’’مکتوبات امام ربانی ج۲ص۹۹ مکتوب نمبر۵۱ میں جوکچھ لکھا ہے وہ کشفی ہے یاالہامی۔‘‘

لیکن جوشخص اس مکتوب کی عبارت پڑھے گا۔ اسے گواہ مدعیہ کو مذکورہ جواب دینے کی وجہ سے کاذب کہنے کے سواء کوئی چارہ نہ ہوگا۔ کیونکہ اس مکتوب سے قطعاً یہ معلوم نہیں ہوتا۔ بلکہ اس بات کا وہم بھی نہیں گزرتاہے کہ یہ کلام کشفی یاالہامی ہے۔ امام صاحب اس مکتوب

342

کوان الفاظ سے شروع کرتے:’’اعلم ایہا الاخ الصدیق ان کلامہٗ سبحانہ وتعالٰی مع البشر قدیکون شفاہا وذالک لافراد من الانبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات وقدیکون ذالک لبعض الکمل من متابعیہم بالتبعیۃ والوراثۃ ایضاً واذاکثرہذا القسم من الکلام مع واحد منہم سمی محدثاً کماکان امیرالمومنین عمروہذا غیرالالہام وغیرالالقاء فی الروع وغیرالکلام الذی مع الملک انما یخاطب بہذا الکلام الانسان الکامل‘‘

’’یعنی اے برادر صادق جان لے کر خداتعالیٰ کاانسان سے مکالمہ کبھی توبالمشافہ ہوتاہے اور وہ انبیاء کرام کے ساتھ ہوتاہے اور کبھی ایسا کلام انبیاءؑ کے کامل فرمانبرداروں کے ساتھ ہوتاہے جوانبیاء کی پیروی کی برکت سے بطریق وراثت ہوتاہے۔ پس جب ایسے کلام بکثرت ان کاملوں میں سے کسی کے ساتھ ہوں تواس کانام محدث ہوتاہے۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمرq تھے اور یہ کلام الہام سے القاء فی الروع کے علاوہ ہوتاہے اوراس کلام سے بھی علاوہ ہوتاہے جو فرشتہ کے ذریعہ ہوایسے کلام سے صرف انسان کامل ہی مخاطب ہوتاہے۔‘‘

اب بتائو کیا اس مکتوب کی عبارت کو کشفی یاالہامی کہنا صریح کذب نہیں ہے؟

(۱۱) گیارہواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۳نے ۱۸؍اگست بجواب جرح مسلم الثبوت ج۲ص۱۹۵ کی عبارت:’’واما فی مستقبلات کاشراط الساعۃ وامور الاخرۃ فلا عندالحنفیۃ لان الغیب لامدخل فیہ للاجتہاد‘‘ کا یہ مفہوم لکھوایاکہ: ’’مسلم الثبوت کی مراد یہ ہے واقعہ پیش آگیاہے اور اس کا حکم دینا ہے مجتہدین کوتواتفاق اوراجماع کرلیں وہ حجت ہے اور آئندہ چیزیں جوہیں۔ ان میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ عقیدہ کافی ہے۔‘‘

اورکہاکہ نزول مسیح علامات قیامت میں سے ہے جو چیزیں اخبار مستقل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان پر اجماع ہوسکتاہے اورہواہے۔‘‘

گواہ مدعیہ کے ان دونوں قولوں کو ملحوظ رکھ کر جومفہوم مسلم الثبوت کی مذکورہ بالاعبارت کا گواہ مدعیہ نے بیان کیا ہے وہ صریح کذب ہے۔ کیونکہ اس عبارت کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ جوباتیں آئندہ زمانہ میں ظہورپذیرہونے والی ہیں۔ جیسے علامات قیامت(جن میں سے مسیح کانزول بھی ہے) اورامورآخرت ان میں حنفیہ کے نزدیک کوئی اجماع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ باتیں غیب سے متعلق ہیں اجہتاد کوکوئی دخل نہیں۔

(۱۲) بارہواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۸؍اگست کو بجواب جرح شرح فقہ اکبر ص۱۴۷کی عبارت:’’ولوا نکر احد خلافۃ الشیخین یکفر… لانہا ثبت بالاجماع‘‘ کا یہ مفہوم لکھوایاہے کہ: ’’روافض جوخلافت خلفائے ثلاثہ کے منکرہیں اس بنا پر کہ وہ خلافت کے مستحق نہ تھے وہ کافر ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی گواہ نے یہ کہاتھا اور کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ نبی نہیںہوئے وہ کافر ہیں۔ حالانکہ مفہوم بالکل غلط ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ گواہ ان الفاظ کا صحیح ترجمہ نہ کرسکتے تھے۔ ضرور کرسکتے تھے۔ لیکن وہ پہلے خلافت راشدہ کے متعلق کہہ چکے تھے کہ اس کاماننا ضروریات دین سے نہیں ہے اوراس لئے شرح فقہ اکبر کے فتویٰ کے مطابق انہیں عام شیعوں کوکافر مانناپڑتاتھا۔ اس لئے اس نے اپنے استاد کے استاد مولوی رشیداحمدصاحب گنگوہی کے فتویٰ پر عمل کرکے اوراس عبارت کاایسا مفہوم پیش کردیاجس کے الفاظ متحمل نہ تھے اور صریح کذب کے

343

مترادف تھا۔ مطلب صرف اتنا تھا کہ جوشخص حضرت ابوبکر اور حضرت عمرr کی خلافت کاانکار کرے وہ کافر ہوگا۔ کیونکہ وہ صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے۔

(۱۳) تیرہواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح حدیث: ’’علماء ہم شرمن تحت ادیم السماء‘‘ کے مفہوم میں یہ لکھوایا کہ عیسیٰ بن مریمn کے نزول کے وقت علماء یہود ان کے مخالف ہوں گے۔ احادیث کی کتابوں میں یہودیوں کا ذکرہے۔ وہ مخالف ہوں گے نہ کہ رسول اللہ کی امت یہود بن جائے گی اور یہ گواہ مدعیہ کا صریح جھوٹ ہے، کیونکہ احادیث کا یہ مفہوم قطعاً نہیں ہے۔ حدیث:’’علماء ہم‘‘ میں علماء سے مراد مسلمانوں کے ہی علماء ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے اسلا م کا ذکرہے کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اورقرآن کے بھی صر ف حرف ونقوش باقی رہ جائیں گے اورمسجدیں بہت ہوں گی۔ مگر ہدایت سے خالی اوران کے علماء بدترین مخلوق ہوں گے۔ ظاہرہے کہ مراد مسلمانوں کے مولوی ہیں۔ یہود کا اس حدیث میں کہیں ذکرنہیں ہے اوراس طرح دوسری حدیث میں بھی صاف واردہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’لیاتین علٰی امتی ما اتی علی بنی اسرائیل حد النعل بالنعل (مشکوٰۃ ص۳۰)‘‘ کہ میری امت پربھی وہ تمام حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پرآئے اور فرمایا کہ: ’’لتتبعن سنن من قبلکم (الحدیث)‘‘ (بخاری ج۲ص۱۷۱) کہ تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بالشت پیروی کروگے۔ صحابہ نے عرض کیا یہود اور نصاریٰ کی تو آپ نے فرمایا کہ اورکون یعنی یہود اورنصاریٰ کی پیروی کروگے اور تمام علماء اورائمہ ان احادیث سے یہی مراد لیتے رہے ہیں کہ مسلمانوں کے علماء کی حالت بگڑجائے گی۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی بھی فرماتے ہیں:’’اگرنمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء کہ طالب دنیا باشند‘‘ (الفوز الکبیر ص۱۳) گواہ مدعیہ نمبر۴ نے کذب صریح کو استعمال میں لاکر احادیث کاایسا مفہوم بیان کیا ہے جو بالکل ہی غلط ہے۔

(۱۴) چودہواں کذب صریح

گواہ مدعیہ نمبر۴ نے ۳۱؍اگست کو بجواب جرح یہ کہاکہ: ’’(مکتوبات امام ربانی ج۲ص۱۰۷) میں علماء ظواہر کے متعلق جولکھاہے کہ وہ مکاشفہ ہے۔‘‘ اوریہ بالکل ایسا ہی کذب صریح ہے۔ جیسا کہ نمبر۱۰ میں بیان ہوچکاہے۔ اس میں بھی کوئی لفظ کشف یاالہام کانہیں ہے۔

مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے ۹؍مارچ کوبجواب جرح یہ تسلیم کیا ہے کہ خواجہ صاحب کے سامنے نبوت کا ذکر نہیں، بلکہ صرف محدثیت کا آیاہے، غلط ہے گواہ کے اصل الفاظ یہ ہیں: ’’حضرت مرزا صاحب نے اپنے غیرتشریعی نبی ہونے کا دعویٰ توتوضیح مرا م میں بھی کیاہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بتاچکاہوں۔ پہلے آپ محدث کا بھی لفظ استعمال کرتے تھے۔ لیکن بعد میں نبی کا لفظ استعمال کرتے رہے اور اپنے الہاما ت میں نبی اوررسول کے الفاظ تھے اور جب وہ الہامات خواجہ صاحب کے سامنے پیش ہوئے خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ مرزا صاحب کے کمال پردال ہیں۔

اوراگر بالفرض تسلیم بھی کرلیاجاوے کہ حضرت مرزا صاحب نے خواجہ صاحب کی وفات کے بعد دعویٰ نبوت کیا ہے تو بھی یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خواجہ صاحب آپ کے مصدق تھے۔ کیونکہ آپ کی زندگی تک جو دعاوی حضرت مرزا صاحب کے آپ کے سامنے پیش ہوئے آپ نے ان کی تصدیق کی۔ سو اگر آپ مسیح موعود کے دعویٰ نبوت کرنے کے وقت بھی زندہ ہوتے توآپ ضروراس کی تصدیق کرتے۔ جیسا کہ وہ صحابہؓ جوآنحضرتﷺ کے دعویٰ ختم نبوت سے پہلے وفات پاچکے تھے اور صرف دعویٰ نبوت کوہی انہوں نے پایاتھا۔ اگرآنحضرتﷺ کے دعویٰ ختم نبوت کے وقت بھی موجود ہوتے تووہ اس کی تصدیق ہی کرتے اوراس پرایسا ہی ایمان لاتے۔ جیسا

344

کہ آپ کے دعویٰ نبوت پرایمان لائے تھے۔ لیکن یہ بات ہی سرے سے غلط ہے کہ خواجہ صاحب کے پاس مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کاذکر نہیں آیا۔ کیونکہ آپ کے الہامات میںجابجا رسول اور نبی کے الفاظ موجود ہیں اور یہ الہامات خواجہ صاحب کی زندگی میں ہی حضرت مسیح موعود کی کتب میں شائع ہوچکے تھے اورخواجہ صاحب کوان سے اطلاع تھی۔

اعتراض: مولوی رکن الدین نے مولوی غلام احمداختر کو اخویم لکھاہے جس سے ان کی آپس میں دوستی کااظہارہوتاہے۔

جواب:

۱… اگراخویم کہنے سے دوستی کااظہارہوتاہے توخواجہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کے حق میں جوالقاب تحریرفرمائے ہیں۔ ان سے لازماً ماننا پڑتاہے کہ حضرت مسیح موعودو خواجہ صاحب کے نزدیک ایک برگزیدہ اورخدارسیدہ انسان تھے۔

۲… چونکہ وہ دونوں خواجہ صاحب کے مرید تھے اوردینی بھائی تھے۔ اس لئے مولوی رکن الدین صاحب نے انہیں اخویم لکھا۔ جس کے معنی میرے بھائی کے ہیں۔

۳… دوستی اس لئے تھی کہ خواجہ صاحب کے نزدیک مولوی غلام احمدصاحب اختر کا ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ (اشارات فریدی ج۳ ص۱۷۳) میں لکھاہے: ’’بعداز آں برادرم مولوی غلام احمد اختر رافرمودند کہ توہم بنویس وے نوشتن نشست وحضور انور از شفقت وعنایت فرمودند کہ ایں میان وجہاماست ازیں شب برادرم مولوی غلام احمداختر از پیشگاہ حضور خواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ بلقب اوجہا سرفراز وممتاز گردید۔ باید دانست کہ اوجہا درلغت ہندی اہل ہنود معلم واستاد راگویند۔‘‘

اعتراض: مولوی غلام احمد صاحب اختر کے سواان کسی مرید اورخلیفہ نے مرزا صاحب کونہیں مانا۔

جواب: مولوی غلام احمد صاحب اختر کے سواء اور مریدوں نے بھی حضرت مسیح موعود کو برحق مانااوراگر یہ تسلیم بھی کیا جاوے کہ اختر کے سواء اور کسی نے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کی تصدیق اورتائید نہیں کی توکیا اس سے یہ لازم آجائے گا کہ خواجہ صاحب نے بھی آپ کی تصدیق نہیں کی تھی۔ کیا یہود کے انبیاء اوراولیاء اس امر کی خبر دینے نہیں آئے تھے کہ ایک نبی عرب میں مبعوث ہوگا۔ پھر کیا یہود نے باوجود آنحضرتﷺکی شناخت کے کہ یہ وہی نبی ہے تسلیم کرلیاتھا؟ نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ انبیاء نے آپ کی تصدیق کی ہے انکارکردیاتھا اورعبداللہ بن سلام نے جو یہود کے ایک بہت بڑے عالم تھے۔ چنانچہ آنحضرتﷺ کے دریافت کرنے پر یہود نے کہا: ’’خیرنا وابن خیرنا وافضلنا وابن افضلنا‘‘ کہ وہ ہم میں نہایت ہی اعلیٰ درجہ رکھتاہے اچھا اوراچھوں کی اولاد اورہم میں سے صاحب فضیلت اورہم سے افضل کی اولاد ہے۔ لیکن جب انہوں نے اسلام کا اظہارکیا توان کی بات تسلیم کرنے کی بجائے ان کویہودیوں میں سب سے براقراردیا اورخیرنا وابن خیرنا کی بجائے شرنا وابن شرنا کہنا شروع کردیا۔(بخاری ج۲ ص۲۲۶، مطبوعہ مصر)

اورآنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’لواٰمن بی عشرۃ من الیہود لامن بی الیہود (بخاری ج۲ ص۲۲۷، مطبوعہ مصر)‘‘ یعنی اگر مجھ پر دس یہود بھی ایمان لے آتے توپھرسب یہود مجھے مان لیتے۔ اس سے معلوم ہواکہ دس یہود نے بھی آپ کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کی تھی۔ پس خواجہ صاحب کے خلفاء کاحضرت مسیح موعود کے دعویٰ کوصحیح تسلیم نہ کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ خواجہ صاحب نے بھی آپ کے دعویٰ کی تصدیق نہ کی تھی اور جب کہ اس شہادت ثقہ کا چرچاہواہے۔ ہم خداتعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ حضر ت خواجہ صاحب کے ساتھ تعلق رکھنے والے اورآپ کی پیروی کے شائقوں میں سے بہت سے نیک لوگ حضرت مسیح موعود کی تصدیق کریںگے اور جماعت احمدیہ میں داخل ہوجاویں گے۔

345

اعتراض: خواجہ محمدبخش صاحب کے مولوی رکن الدین صاحب کو برادر دینی کہنے سے ان کی توثیق نہیں ہوتی۔

جواب:

۱… کوئی عقل مند انسان یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر مولوی رکن الدین صاحب کے مولوی غلام احمدصاحب اختر کو اخویم کہنے سے دوستی ثابت ہوتی ہے توخواجہ محمدبخش صاحب کے مولوی رکن الدین کوبرادردینی کہنے سے بھی ضرور دوستی ثابت ہوتی ہے اورجوخواجہ صاحب اوران کے خلفاء کا دوست ہواس کولامحالہ ثقہ شخص ماننا پڑے گا۔

۲… مؤلف مناقب فریدی جوحضرت خواجہ صاحب مغفور کے مرید اور خلفائے مقربین میں ہے۔ یعنی مولوی احمداخترصاحب انہوںنے مولوی رکن الدین صاحب کومولانا سلمہ ربہ عزیز القدر مولانا کے القاب سے یاد کیاہے۔(سوانح عمری فرید ثانی ص۱۰)

۳… اورلکھاہے کہ پھربارگاہ فریدی سے ۱۳۱۸ء کوانہیں خرقہ خلافت عطاء ہوا۔(سوانح عمری فرید ثانی ص۲۸)

۴… پھر مولانارکن الدین صاحب کی کتاب کی توثیق مولوی محمداختر صاحب کے قول سے بھی ہوتی ہے۔ جوخواجہ صاحب کے خلفاء دین میں سے تھے۔ بلکہ وہی مثال خلافت تیار کراکر لے جاکرحضور کے دستخط خاص سے مزین کراکر خدمت خلیفہ صاحب میں سپرد کرتے تھے۔(سوانح عمری فرید ثانی ص۳۰)

وہ لکھتے ہیں: آپ کے ملفوظ شریف(یعنی خواجہ غلام فرید صاحب کے) مقابیس المجالس المسمی باشارات فریدی سے ظاہر ہے جو عزیز القدر مولانارکن الدین صاحب نے آٹھ برس حاضر رہ کر جمع کیاہے۔(سوانح عمری فرید ثانی ص۱۰)

اسی طرح خواجہ محمدبخش صاحب نے کتاب اشارات فریدی ج سوم کے آخر میں جوتقریظ لکھی ہے اس میں یہ ظاہر کرکے کہ اشارات فریدی میرے والد ماجد خواجہ غلام فرید صاحب کے ملفوظات ہیں فرمایاہے کہ: ’’آنرا برادرم دینی مولانارکن الدین پرہارسونکی سلمہ ربہ درمدت نہ سال ہمہ تن گوش گردیدہ جمع کرہ است یک نسخہ بود وہمہ مریدان معتقدان وجملہ طالبان طریقت وسالکان حقیقت بہرطرف پویان وجویان ایں خزینۂ معارف بودند پس بصرف زرکثیر باہتمام خان صاحب والاشان محمدعبدالعلیم خان صاحب بہادر سکنہ ریاست ٹونک طبع کنانیدم قادراطراف واکناف عالم شائع گردد وہرکسے بمطالعہ آں نسخہ منبر کہ ہمت برگمارد وجواہر معارف بدست آرد فقط فقیر محمدبخش بقلم خود۔‘‘

حضرت خواجہ صاحب جیسے بزرگ وبرگزیدۂ خداکے ملفوظات طبع کئے جاتے ہیں۔ مریدوں کی طرف سے بہت سااصرار ہونے پران کے فرزندوخلیفہ خواجہ محمدبخش صاحب اس پر تقریظ لکھتے ہیں اورچھپنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ٹونک کے ایک رئیس اعظم اس کی طباعت پررقم صرف فرماتے ہیں۔ معتقدین خواجہ صاحب اس کو خریدتے ہیں اور پڑھتے ہیں اورخواجہ محمدبخش صاحب کی تقریظ بھی دیکھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک بھی یہ نہیں کہتا۔ یہ ملفوظات یاان سے کوئی حصہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کانہیںہے۔

346

کیا یہ سمجھ میں آنے کی بات ہے کہ اگرحضرت خواجہ صاحب کے مریدوں اورمعتقدوں میں سے اشارات فریدی کے متعلق کسی کوذراسابھی شبہ ہوتاکہ اس کاکوئی حصہ خواجہ صاحب کی طرف نہیں ہے تووہ خاموش بیٹھارہتا۔ نہیں نہیں یہ بات کسی طرح سمجھ میں آنے کے لائق نہیں ہے اورحضرت خواجہ صاحب کی یہ شہادت ایک ایسی شہادت ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ نہیں سکتی اورنہ اس کو کوئی مشتبہ کرسکتاہے اورخداتعالیٰ نے اس میں کچھ خلل ڈالنا یا غلط ثابت کرنا اب انسانی طاقتوں سے بالکل باہرکردیاہے۔ شہادت دینے والے اس کوقلم بند کرنے والے، ان کی تصدیق کرنے والے اور طبع کرنے والے سب فوت ہوچکے ہیں اور اب اس کے خلاف نہ کسی کا عذر قبول ہوسکتاہے نہ کسی کی شہادت جو ہوناتھا وہ ہوچکاہے اوراب اس کو بدل دینے والاکوئی نہیں۔

پھر اسی کتاب یعنی (اشارات فریدی ج۳) میں جس سے حضرت مسیح موعود کے مسلمان ہونے پرشہادت پیش کی گئی ہے۔ اس کے (ص۱۸۷) میں لکھاہے:’’وایں جلدسوم از اوّل تاآخربجناب اقدس حضورخواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ببقائہٖ سبق بہ سبق خواندہ ام وحضور خواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ بکمال عنایت وتوجہ سماع فرمودند وتصحیح واصلاح معہ تحقیق تام نمودہ اند۔‘‘

اس عبارت سے ظاہرہے کہ خواجہ صاحب نے یہ کتاب بغورسبقاً سبقاً سنی ہے اوراس کی بعض جگہ تصحیح بھی فرمائی ہے۔ پس اس میں جوملفوظات ہیں وہ یقینا خواجہ صاحب کے ملفوظات ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے ایک جگہ اشارات فریدی خواجہ صاحب غلام فرید صاحب کی طرف منسوب کی ہے اوردوسری جگہ اسی صفحہ پر اس سے قبل یہ لکھ کر تشریح کردی ہے کہ اشارات فریدی خواجہ غلام فریدصاحب کے ملفوظات ہیں۔ لیکن گواہان مدعاعلیہ نے اسے مولوی رکن الدین صاحب کی کتاب اس لئے قراردیاکہ وہ اس کے مرتب اورجمع کنندہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعود اور گواہان مدعاعلیہ کے اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے، جیساکہ مختارمدعیہ نے خیال کیاہے۔ لیکن مختارمدعیہ کوجب اس کا کچھ جواب نہ بن پڑاتو یہ کہہ دیا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے بجواب جرح یہ کہاکہ خواجہ محمد بخش صاحب نے اسے سبقاً سبقاً سنا اور اشارات خواجہ صاحب کے وصال کے بعد مرتب اورشائع ہوئی۔ حالانکہ گواہ نمبر۱ نے مکرر جرح کے جواب میں یہ بات صاف کردی تھی کہ خواجہ محمدبخش صاحب نے نہیں سنی بلکہ خود حضرت خواجہ غلام فرید صاحب نے سبقاً سبقاً سنی ہے اورخواجہ صاحب کی وفات کے ایک سال بعد یہ کتاب شائع ہوئی۔

اورنیز مختارمدعیہ کا یہ کہنا کہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ نے اپنے بیان میں یہ تسلیم کیاہے کہ مرید کا قول مطلقاً پیرکے حق میں معتبرنہیں۔ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ گواہ مدعاعلیہ نمبر۱ کے اصل الفاظ یہ تھے کہ مرید کا بیان معتبرنہیں بلکہ اس کی حیثیت اورمرتبہ دیکھاجاوے گا اور مولوی رکن الدین جس کے متعلق یہاں بحث ہے وہ معمولی انسان نہیں بلکہ حضرت خواجہ صاحب کے خلفاء میں سے ہیں۔

اعتراض: اس خط میںیہ نقل کیاگیاہے کہ مرزا صاحب کی عربی کلام کی طاقت بشری سے خارج ہے پس یہ خواجہ صاحب کا قول نہیںہوسکتا۔

جواب: قول نہیںہوسکتا کوئی دلیل نہیں ہے۔ جب کہ شواہدیقینیہ اوردلائل قویہ سے یہ ثابت کیاجاچکاہے کہ یہ قول حضرت خواجہ صاحب کاہے اور اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ عربی کلام قرآن مجید کی طرح ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ اگر تائید الٰہی نہ ہوتی تومحض انسانی طاقت کا یہ کام نہیں تھا کہ اتنی جلدی ایسا فصیح اوربلیغ اورپراز معارف عربی کلام لکھ سکے۔ پس اس میں خواجہ صاحب نے اس امر کااظہار کیاہے کہ چونکہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ تائید الٰہی تھی۔ اس لئے آپ کا عربی کلام طاقت بشری سے خارج تھا۔

اعتراض : اس وقت بعض علماء نے تکفیر کی تھی، کل نے نہیں کی تھی۔

جواب: کل نے تواب بھی نہیں کی، بہت سے نیک اور راست باز علماء نے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کی تصدیق کی اورخوددیوبند کے

347

تعلیم یافتہ عالم جلیل ومحدث کبیرحضرت سیدمولوی سرور شاہ صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ اور مولاناعبدالقادر صاحب لدھیانوی جوبانیٔ مدرسۃ العلوم دیوبند کے شاگرد تھے اور مولانا انوارحسین شاہ صاحب رئیس شاہ آباد وغیرہ علماء نے جودیوبند کے تعلیم یافتہ تھے اور مولوی احمدعلی صاحب محدث سہارنپوری کے شاگرد رشید غلام قاضی امیرحسین صاحب مرحوم جوکہ علم حدیث وفقہ میںعظیم الشان دسترس رکھتے تھے اوردیگر ایسے علماء نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کی اور سلسلہ میں داخل ہوئے اور نہایت عظیم الشان قربانیاں کیں۔

۱۸۹۹ء یا۱۹۰۱ء کے بعد تکفیر کا نیا فتنہ کوئی نہیں اٹھا،بلکہ سب سے زیادہ یہ فتنہ اوائل میں ہی اٹھا۔ جب کہ مولوی محمدحسین بٹالوی ۱۸۹۰ء میں ہندوستان کے تمام علماء کے پاس فتویٰ کفر حاصل کرنے کے لئے گئے۔ لیکن ان سب سے فتویٰ حاصل نہیں کرسکے۔ بعض ایسے علماء بھی تھے۔ جنہوں نے فتویٰ نہیں دیا اور ایسے بھی تھے جنہوں نے فتویٰ دیاتولیکن بعد کو اپنے فتویٰ سے رجوع کرکے حضرت اقدس کے غلاموںمیں داخل ہوگئے۔

اگرمختارمدعیہ کا یہ قول درست ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات سے پہلے تو بعض علماء نے تکفیر کی تھی لیکن ان کی وفات کے بعد کل نے کی۔ تووہ دس ایسے مشہور علماء کے نام پیش کرکے جنہوں نے ۱۸۹۹ء تک توحضرت مسیح موعود کو کافر نہیں کہاتھا۔ لیکن بعد میں کافر کہامیں مختارمدعیہ کے اس وہم کو غلط اورباطل ثابت کرنے کے لئے بتادینا چاہتاہوں کہ جووجوہ گواہان مدعیہ نے تکفیر کی پیش کی ہیں وہ اس وقت بھی موجودتھیں۔ چنانچہ نفخ صور اور قیامت کے انکار کے متعلق جو گواہان مدعیہ نے حوالے پیش کئے ہیں۔ وہ شہادت القرآن اورازالہ اوہام کے ہیں اورازالہ اوہام ۱۸۹۱ء کی شہادت القرآن ۱۸۹۳ء کی ہے اور توہین انبیاء کے متعلق جو حوالے پیش کئے ہیں۔وہ زیادہ تر ضمیمہ انجام آتھم کے ہیں اوروہ ۱۸۹۷ء کی تصنیف ہے اور آپ کے دعویٰ مسیحیت اورمہدویت کی بنا بھی وحی پر ہے۔

رہا نبوت کا مسئلہ تو اس کے لئے میں مولوی محمدحسین بٹالوی کی شہادت پیش کرتاہوں کہ حضرت مسیح موعود کی تحریروں سے انہوں نے یہ سمجھا کہ آپ نے دعویٰ نبوت کیاہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ’’فتح اسلام میں تواس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیاتھا۔ توضیح مرام میں اپنے نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیاہے اورعلاوہ برآں بہت سے عقائد کفریہ کا اظہارکیا اور ازالہ اوہام میں ان سے دعویٰ مسیحیت اورنبوت کے ساتھ رسالت کا بھی دعویٰ کیاہے۔‘‘ (فتویٰ علمائے پنجاب وہندوستان بحق مرزا غلام احمدساکن قادیان ۱۸۹۰ء ٹائٹل پیج ص۲ اور اشاعۃ السنۃ نمبر۱جلد۱۳،۱۸۹۰ء کے ص۲۸، ۲۹ میں مولوی محمدحسین بٹالوی نے حضرت خلیفہ اوّل حکیم مولوی نورالدین صاحب سے اپنی گفتگو لکھی ہے جس میں بطورسوال وجواب لکھتے ہیں:

خاکسار: نبوت ختم ہوچکی ہے یا نہیں؟

حکیم صاحب: نبوت تشریعی ختم ہوچکی ہے۔ کوئی شخص شرع جدید نہیں لاسکتا۔

خاکسار: کوئی جدید نبی ہوسکتاہے جو تشریع جدید نہ کرے، شرع محمدی کے تابع ہو اور نبی کہلائے۔ جیسے انبیابنی اسرائیل تورات کا اتباع کرتے تھے اورنبی کہلاتے تھے۔

حکیم صاحب: کوئی بعید نہیں۔

خاکسار: آیت خاتم النّبیین نبوت کو ختم کرتی ہے۔ آپ نبی جدید کی تجویز پر کیا دلیل رکھتے ہیں۔

حکیم صاحب: خاتم النّبیین کی آیت تشریعی انبیاء کے ختم کی دلیل ہے۔ نبی بلاتشریع کے وجود کی مانع نہیں ہے۔

حضرت مسیح موعود پہلے جس قسم کے دعویٰ نبوت سے انکارکرتے رہے تووہ ایسے دعویٰ نبوت سے ہی انکار تھا۔ جس کے متعلق آپ

348

نے (ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، ۲۱۱) میں فرمادیاہے کہ: ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یارسالت سے انکار کیا ہے، صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کرکے اوراپنے لئے ان کانام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایاہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے، اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اوررسول پکاراہے۔ سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اورمیرا یہ قول کہ’’من نسیتم رسول دنیا وردہ ام کتاب‘‘ اس کے معنی صرف اس قدرہیں کہ میںصاحب شریعت نہیں ہوں۔

یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود کے قول ’’ہرنبوت رابروشد اختتام‘‘ سے مرادبھی یہ ہے کہ ہرقسم کی نبوت شرعی ہویاغیرشرعی۔ آنحضرتﷺ کے بعد بندہے۔ چنانچہ (ایک غلطی کاازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷،۲۰۸) میں آپ فرماتے ہیں: ’’نبوت کی تمام کھڑکیاں بندکی گئی مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی یعنی فناء فی الرسول کی باقی ہے۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتاہے اس پر ظلی طورپر وہی نبوت کی چادرپہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں۔ بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتاہے اورنہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے، اس لئے اس کا نام آسمان پر محمدواحمد ہے۔‘‘ اوریہی بات حضرت مسیح موعود نے اس نظم میں جو خواجہ صاحب کے نام مرسلہ خط میں درج ہے، تحریرفرمائی ہے۔ جس کاایک مصرعہ ہرنبوت رابروشد اختتام مختارمدعاعلیہ نے پیش کیاہے۔

آپ فرماتے ہیں:

  1. بسکہ من عشق اوہستم نہاں

    من ہمانم من ہمانم من ہماں

  2. جان من ازجان اویا بدغذا

    ازگریبانم عیاں شد آں ذکا

  3. احمد اندر جان احمد شدپدید

    اسم من گردید اسم آں وحید

(اشارات فریدی ج۳ ص۹۸)

اور وہ اقوال جن کے متعلق مختارمدعیہ نے ۱۰؍اکتوبر کی بحث میں یہ کہا ہے کہ وہ کفریات حقیقت الوحی سے میں نے پیش کی ہیں۔ اگر اس وقت موجودنہیں تو یہ شہادت صحیح ہے ان کے متعلق میں پہلے ثابت کرچکاہوں کہ وہ اقوال جن کو مختارمدعیہ کفریات کہتاہے آپ کی کتاب براہین احمدیہ اوراربعین اورازالہ اوہام اور انجام آتھم وغیرہ میں تھے اورانجام آتھم میں مندرجہ الہامات کے متعلق خواجہ صاحب کی شہادت ہے کہ وہ آپ کے کمال پر دال ہیں۔ حالانکہ ان میں وہ الہامات بھی ہیں جنہیں مختارمدعیہ نے کفریات میں شمار کیاہے۔ چنانچہ چندان میں سے ذیل میں درج کرتاہوں:

’’انت منی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۶۵ حاشیہ۴، خزائن ج۱ ص۶۶۸)
’’انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۸۹حاشیہ۳، خزائن ج۱ ص۵۸۱)
’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹ حاشیہ۱، خزائن ج۱ ص۲۶۵)
’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۷ حاشیہ۱، خزائن ج۱ ص۲۶۶)
349
’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۰۴ حاشیہ۳، خزائن ج۱۸ ص۶۰۰)
’’انااعطیناک الکوثر‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۷ حاشیہ۳، خزائن ج۱ ص۶۱۷)
’’انا فتحنا لک فتحاً مبینا‘‘(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۱ حاشیہ۱، خزائن ج۱ ص۲۶۷)

پھر ان الہامات میں آپ کو دائود، ابراہیم، مسیح ابن مریم وغیرہ ناموں کے ساتھ بھی خطاب کیاگیاہے۔

پس جب کہ وہ امور جومختارمدعیہ کے نزدیک کفریات ہیں۔ خواجہ صاحب کے علم میں تھے اورآپ نے ان میں موجب تکفیر سمجھنے کی بجائے مرزا صاحب کے کمال کی دلیل ٹھہرائی تو مختارمدعیہ کے مذکورہ بالا اعتراف کی رو سے یہ ماننا چاہئے کہ آپ کی یہ شہادت کہ حضرت مرزا صاحب پکے مسلمان صراط مستقیم پر قائم ہیں۔ بالکل صحیح ودرست ہے۔

اعتراض : فوائد فریدیہ کے ص۲۹،۳۰ میں خواجہ صاحب نے فرقہ احمدیہ کو ناری فرقوں میں سے شمار کیاہے۔

جواب: حضرت خواجہ صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود اورآپ کے متبعین کوناری ہرگز نہیں کہا اور حضرت خواجہ صاحب کی مراد فرقہ احمدیہ سے ’’فوائد فریدیہ‘‘ میں جماعت احمدیہ ہرگز نہیں ہے۔ اوّل اس لئے کہ فوائد فریدیہ۱۲۸۴ھ کی تصنیف ہے۔(فوائد فریدیہ ص۶۰، مرقومہ ومصنفہ۱۲۸۴ھ)

اور۱۲۸۴ھ میں حضرت مرزا صاحب کاکوئی دعویٰ نہ تھا اور نہ ہی آپ کوالہامات کا سلسلہ فوائد فریدیہ میں جس فرقہ احمدیہ کا ذکرہے اس سے کسی طرح حضرت مسیح موعود کی جماعت مراد نہیں ہوسکتی۔

دوم: فوائد فریدیہ کے متعلق (ص۳) میں لکھاہے: ’’وبعد از تالیف شریف درکتب خانہ عالیہ موجود بود‘‘ اورپھرکتب خانہ سے لے کر۱۸۹۵ء میں چھاپی گئی اور حضرت مسیح موعود کے سامنے والوں کونام فرقہ احمدیہ۴؍نومبر۱۹۰۰ء کو تجویز کیاگیا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنے (اشتہارمؤرخہ ۴؍نومبر۱۹۰۰ء ملحقہ تریاق القلوب ص۴، خزائن ج۱۵ ص۵۲۶) میں فرماتے ہیں: ’’اوروہ نام جواس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کوہم اپنے لئے اوراپنی جماعت کے لئے پسندکرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے۔‘‘

آگے چل کر فرماتے ہیں: ’’اوراس فرقہ کانام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھاگیا کہ ہمارے نبیa کے دونام تھے۔ ایک محمدa، دوسرااحمدa اوراسم محمدجلالی نام تھا اوراس میں یہ مخفی پیش گوئی تھی کہ آنحضرتﷺ ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزادیں گے۔ جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پرحملہ کیا اور صدہامسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا۔ جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرتﷺ دنیا میں آشتی اورصلح پھیلائیں گے۔ سوخدانے ان دونوں ناموں کی اس طرح پرتقسیم کی کہ اوّل آنحضرتﷺ کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کاظہورتھا اور ہرطرح سے صبراورشکیبائی کی تعلیم تھی اورپھرمدینہ کی زندگی میں اسم محمدکا ظہورہوا اورمخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اورمصلحت نے ضروری سمجھی۔ لیکن یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھراسم احمدظہورکرے گا اورایساشخص ظاہرہوگا، جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اورتمام لڑائیوں کاخاتمہ ہوجاوے گا۔ پس اس وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمدیہ رکھاجاوے۔ تااس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اورصلح پھیلانے آیاہے۔‘‘(اشتہار ملحقہ تریاق القلوب ص۴، خزائن ج۱۵ ص۵۲۷)

۱… پس چونکہ حضرت مسیح موعود کے ماننے والوں کا نام فرقہ احمدیہ فوائد فریدیہ کی تالیف کے وقت توکہاں اس کے سن طباعت کے بھی بعد کاہے۔ اس لئے یہ کہنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ فوائد فریدیہ میں فرقہ احمدیہ سے جماعت احمدیہ مرادہے۔

350

۲… فوائد فریدیہ کی طباعت کے بعد کی شہادتیں جواشارات فریدی میں حضرت مسیح موعود اورآپ کے دعویٰ کے متعلق درج ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱… عربی خط جس میںآپ نے تحریر فرمایاہے کہ میں ابتداء سے آپ کی تعظیم کرتاہوں اور یہ کہ آپ اللہتعالیٰ کے فضل کے مورد ہیں۔ آپ میری حسن عاقبت کے لئے دعافرمادیں اورمیں یقین رکھتاہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے صالح بندوں میں سے ہیں اوریہ خط آپ نے رجب ۱۳۱۴ھ کولکھاہے اور ضمیمہ انجام آتھم اوراشارات فریدی جزو سوم کے ص۴۱میں درج ہے۔

۲… ۲۸؍ رجب۱۳۱۴ھ کوآپ نے فرمایا:’’مرزا صاحب مردے نیک وصالح است ونزد من کتابے از ملہمات خود فرستادہ است کمال اوزاں کتاب ظاہر است… وے مرد صادق مفتری وکاذب نیست۔ (اشارات فریدی ج۳ ص۴۳)

۳… ۲۵؍شعبان ۱۳۱۴ھ کو حضرت مسیح موعود کی طرف سے خواجہ صاحب کوایک خط عربی میں ضمیمہ انجام آتھم جس میں خواجہ صاحب کا عربی خط درج ہے۔ پہنچا اور وہ خط بجنسہٖ اشارات میں درج ہے۔(اشارات فریدی ج۳ ص۶۵،۶۶)

۴… ۲۹شعبان ۱۳۱۴ھ کو بھی عشاء کے وقت حضرت مسیح موعود کے متعلق آپ کی مجلس میں گفتگو ہوئی۔چنانچہ لکھاہے: ’’سخن درذکر مرزا غلام احمدقادیانی ودربیان ردوقدح وذم منکرین افتادہ بود۔ دانشمندے حاضربودے صفت وثناء مرزا صاحب کرد حضور خواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ببقائہٖ بدرجہ غائیت خوش ومسرور شدند بعدازآں فرمودند کہ ہمہ اوقات مرزا صاحب بعبادت خداعزوجل میگزارند… وتمام کلام اومملواز معارف وحقائق وہدایت است واز عقائد اہل سنت وجماعت وضروریات دین ہرگزمنکرنیست۔

بعدازآں فرمودند کہ مرزا صاحب برمہدویت خود بسیارعلامات بیان کردہ مگرازانیاں دوعلامات کہ درکتاب خود درج ساختہ بیان محمودہ است برتر بدرجہ غایت بردعویٰ مہدویت اوگواہ اند۔

آگے وہ علامات لکھے ہیں جن سے ایک کسوف اورخسوف کی علامت تھی جو اپریل ۱۸۹۴ء میں پوری ہوئی ہے۔ اس کے متعلق فرماتے ہیں: ’’پس مرزا صاحب برائے اتمام حجت خود دراطراف واکناف عالم اشتہارات بایں معنی ارسال کردہ کہ ایں پیش گوئی کہ حضرت رسول اللہﷺ برائے ظہور مہدی موعود فرمودہ بودند اکنوں تمام شدہ است برہمہ واجب کہ مہدویت من اعتراف کنید واقرار نمائید پس مولویان وقت طفلانہ سوال کردند کہ از حدیث شریف ایں معنی برمے آید کہ از اول شب رمضان خسوف قمرشود درنیمہ رمضان کسوف شمس گردد۔‘‘

مولویوں کے اس سوال کو طفلانہ قراردے کرپھر آپ نے حضرت مرزا صاحب نے جواس حدیث کے معنی بتائے تھے ذکرکرکے فرمایا: ’’بیشک معنی حدیث شریف ایں چنیں است کہ مرزا صاحب بیان کردہ چہ خسوف قمرہمیشہ بتاریخ سیزدہم یاچہاردہم یاپانزدہم ماہ واقع مے شود وکسوف شمس ہمیشہ درتاریخ بست وہفتم یابست وہشتم یابست ونہم ماہ بوقوع مے آید۔ پس خسوف قمر کہ بتاریخ ششم ازماہ اپریل۱۸۹۴ء واقع شدہ است قرآن تاریخ سیزدہم کہ اول شب از شب ہائے خسوف است بوقوع آمدہ وکسوف درمیانہ روزاز روز ہاکسوف شمس واقع گشتہ است۔‘‘

(اشارات فریدی ص۶۹تا۷۶)میں خواجہ غلام فرید صاحب کی اس عبارت سے صاف ظاہرہے کہ خواجہ صاحب کواس حدیث کے مطابق مہدی موعود کو دعویٰ میں صادق اورراست باز جانتے تھے۔

۵… ۵؍رمضان المبارک ۱۳۱۴ھ کو بھی حضرت مرزا صاحب کے بارہ میں ذکرآیا۔ ’’سخن درحال مرزا صاحب قادیان افتادہ بود وشخصے گفت کہ مرزا صاحب عزم کسر عقیدہ تثلیث نصاریٰ داشتہ است وعلمائے زماں اوشان رامخالف شدہ بروے حکم تکفیر دادہ ومقصد جدال دارند حضورخواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ببقائہٖ۔ ونفعنا وایاکم بلقائہٖ فرمودند کہ حق غالب است طرف حق غالب است۔‘‘ (اشارات ج۳ ص۷۵)

351

حضرت خواجہ صاحب نے جب یہ فرمایا کہ حق غالب یعنی حق غالب ہی کوہوگا اس وقت حضرت مسیح موعود کے ماننے والے نہایت ہی قلیل تعداد میں تھے۔ ہندوستان کے چندہی صوبوں میں پائے جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد اللہتعالیٰ نے ایسی نصرت فرمائی کہ باوجود مولویوں کی پوری پوری کوشش اورسخت سے سخت مخالفت کے سارے ہندوستان میں احمدی پھیل گئے اور کوئی صوبہ یا ریاست خالی نہ رہی۔ جہاں کچھ نہ کچھ احمدی موجود نہ ہوں اورپھرحدود ہندوستان سے گزرکرممالک غیر میں پہنچ گئے اور اب تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں حضرت اقدس کے متبعین کی جماعتیں اورافراد پائے جاتے ہیں۔

۶… ۱۴؍رمضان شریف۱۳۱۴ھ کو خواجہ صاحب ظہر کے وقت مع دیگر احباب کے تشریف فرماتھے کہ ’’اندریں اثنا از طرف مرزا غلام احمدقادیانی یک خط معہ چند اوراق درمضامین فتح واسلام جلسہ اعظم مذاہب لاہور بجناب اقدس حضورخواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ببقائہٖ واردگردہد اند کے ازاں خود بدولت ہم دیدند آنگاہ خواجہ صاحب مولوی غلام احمدراباز دادند فرمودند کہ بخواں وے اول مضامین فتح اسلام جلسہ رانجواند ند دروے عجب اسرار از معانی قرآن شریف درج بودند کہ عقل حیران میشد وحضور خواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ بکمال توجہ آنراسماع مے فرمودندوسوئے حضرت قطب الموحدین صاحب زادہ صاحب ادام اللہتعالیٰ بدوامہٖ نظر فیض اثر کردہ تبسم مے نمودند۔ گاہ گاہ بطرف آں دانشمند کہ نسبت بمرزا صاحب گونہ انکارداشت تیز تیز نظرفرمودہ نیز تبسم میکرند۔ گویا اشارے مے نموند کہ بشنو چگونہ کلامے ست پرتاثیر وچگونہ فصاحت وبلاغت است واز اسرار معانی قرآن شریف چہ قدردرسفتہ است۔ بعدازاں فرمودند خط رابخواں پس مولوی صاحب آں خط رابخواند حضور بدرجہ غایت مسرور خورسند شدند وبہ چہرہ مبارک حضورخواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ازحدزاید آثار بشاشت ومسرت نمایاں بودند آں خط بعینہٖ ایں جا نقل کردہ شدوآں خط ایں ست۔‘‘

اوریہ خط جس کے سننے سے خواجہ صاحب از حد مسرور ہوئے۔ اس میں آپ فرماتے ہیں: ’’اے مخدوم مکرم ایں سلسلہ سلسلہ خداست وبنائے است ازدست قادرے کہ ہمیشہ کارہائے عجائب مے نماید… ومراد درالہام خودآدم نام نہاد وگفت اردت ان استخلف فخلقت آدم چرا کہ میدانست کہ من نیزمورد اعتراض اتجعل فیہا من یفسدفیہا خواہم گردید۔ پس ہر کہ مرامے پذیرد فرشتہ است نہ انسان وہر کہ مرامے پیچد ابلیس است نہ آدمی ایں قول خداگرفتہ نہ من۔‘‘

اوراس خط میں جو اشعار درج ہیں ان میں آپ فرماتے ہیں:

  1. احمد اندر جان احمد شد پدید

    اسم من گردیداسم آں وحید

(ص۹۸)

اور فرماتے ہیں:

  1. بسکہ جانم شد نہاں دریار من

    بوئے یار آمد ازیں گلزار من

  2. نور حق داریم زیر چادرے

    از گریبانم برآمد دلبرے

  3. احمد آخر زماں نام من است

    آخری جامے ہمیں جام من است

(اشارات فریدی ج۳ ص۹۱تا۱۰۴)

ماہ رمضان المبارک ۱۳۱۴ھ کوجب کہ آپ تشریف فرماتھے۔

’’حافظ مگوں سکنہ حدود گھڑی اختیارخان بہ نسبت مرزا غلام احمدصاحب قادیانی سقط وناسزا گفن آغاز کرد ہمیکہ چہرہ انور حضورخواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ ببقائہٖ متغیرگردید وبرآں حافظ بانگ زدندوزجر نمودے عرض کرد کہ قبلہ چوں حالات وصفات حضرت عیسیٰ بن مریمn واوصاف مہدی موعود ومرزا صاحب یافتہ نمے شوند چگونہ اعتبارکنیم کہ اوست عیسیٰ ومہدی۔

352

حضور خواجہ ابقاہ اللہتعالیٰ فرمودند…… درحدیثے وارد شدہ است کہ عیسیٰ ومہدی یکے است بعدازاں فرمودند کہ شرط نیست کہ ہمہ علامات مہدی موافق خیال وفہم مردم کہ در دلہائے خود پنداشتہ اند ظاہر شوند بلکہ حافظاامر دیگر گون است اگرچنین بودے کہ مردم خیال می کنند پس اوراہمہ خلق مہدی برحق دانستہ بادایمان آوردے۔ چنانچہ پیغمبران کہ امت ہرنبی چندگرددشدے بربعضے کسان کہ حال آں پیغمبرمشتبہ مے شد وبربعضے کساں ہرگزحال آں پیغمبرمکشوف نہ مے گشت ازیں سبب ہمیں گروہ انکار آوردد مکافر شد اگر برتمام امت وپیغمبرحال آں پیغمبرے مکشوف شدے ہمہ مسلماناں بودندے چنانچہ آنحضرتﷺ ظاہر شدند ومبعوث گردیدند۔ بعض علامات رامطابق پندار وفہم وہم خود ہانیافتند پس برآں کساں کہ آنحضرت مکشوف شد اوشاں ایمان آوردند وبرآں گردہ کہ مکشوف نشدانکار کردند ہم چنیں حال مہدی پس اگر مرزا صاحب مہدی باشد کدام امر مانع است۔ (اشارات فریدی ج۳ ص۱۲۳، ۱۲۴)

کہنے کو توجس کا جی چاہے کہہ سکتاہے کسی کامنہ بند نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا حضرت خواجہ صاحب قدس سرہ کے مذکورہ بالا ملفوظات مبارکہ کی موجودگی میں کسی عقل وانصاف سے حصہ رکھنے والے کو بھی یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ فوائد فریدیہ میں آپ نے جماعت احمدیہ کو فرقہ ناریہ میں سے شمار کیاہوگا۔ یہ حقیقت ہے اور حقیقت مخفی نہیں کی جاسکتی کہ حضرت خواجہ صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود کے دعویٰ مہدویت ومسیحیت کی نہایت صراحت ووضاحت سے تصدیق وتائید کی ہے اورمصدق ہونے کی حالت ہی میں آپ نے وفات پائی ہے۔ جیسا کہ حضرت اقدس نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۲۰۷، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵،۲۱۶) میں اس کا اظہار کیاہے۔

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: مرزا صاحب! اس بناء پر کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں، جابجا خواجہ صاحب موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں… پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحب العلم کی طرح پاک باطن تھے۔ اس لئے خدا نے ان پر میری سچائی کی حقیقت کھول دی… اورخداتعالیٰ کے فضل سے آپ کاخاتمہ مصدق ہونے کی حالت میں ہوا۔ چنانچہ وہ خطوط جو آپ نے میری طرف لکھے ان سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر میری محبت ان کے دل میں ڈال دی تھی۔

اور(حقیقت الوحی ص۲۰۹۹، خزائن ج۲۲ ص۲۱۸) میں فرماتے ہیں: ’’غرض خواجہ غلام فرید صاحب کو خداتعالیٰ نے یہ نورباطن عطاء کیا تھا کہ وہ ایک ہی نظر میں صادق اورکاذب میں فرق کرلیتے تھے۔ خدان کو غریق رحمت کرے اوراپنے قرب میں جگہ دے۔‘‘

پس ہزہائی نس فرنروائے بہاولپور دام اقبالہم کے پیرومرشد برگزیدہ خدائے وحید حضرت خواجہ غلام فرید قدس سرہ نوراللہ مرقدہ کی حضرت مسیح موعود کے اسلام پر شہادت ایک ایسی قطعی ویقینی شہادت ہے جس کی صحت میں ذرابھی شک نہیں کیاجاسکتا۔ مختامدعیہ نے اس شہادت کی صحت وعدم صحت پرجو جرح کی ہے۔ اس میں کبھی تواس نے یہ کہا کہ مولوی رکن الدین ثقہ آدمی نہیں۔ کبھی یہ کہا کہ مرزا صاحب نے اپنے آدمی بھیج کر جوچاہا خواجہ صاحب سے لکھوالیا اورکبھی یہ کہا کہ چونکہ یہ شہادت خواجہ صاحب نے بغیر تحقیق کے دی۔ اس لئے قابل قبول نہیں اوراس کا یہ تخالف اوراضطراب بھی اس کے بیان کی حقیقت کا آئینہ ہے اوراس سے اچھی طرح ثابت ہے کہ یہ شہادت ایسی صاف قوی موثق ہے۔ جس کی تردید وتغلیط ہرگز ممکن نہیں۔ پس اس شہادت کے موجود ہوتے ہوئے گواہان مدعیہ کی شہادتوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی اوروہ اس قابل ہیں کہ انہیں رد کیاجائے اورہزہائی نس نواب والئے ریاست بہاولپور کے پیر کی اس شہادت کو قبول کیاجاوے۔ جس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود کو صراط مستقیم پرقائم اورپکا مومن اورمسلمان تسلیم کیاہے۔ پس جس کے مطابق ہزہائی نس نواب صاحب کی محترمہ پھوپھی صاحبہ کی شادی ایک معزز مخلص احمدی سے ہوئی۔

خلاصہ بحث

گواہان مدعیہ نے اپنے بیانوں میں اورمختارمدعیہ نے اپنی بحث میں کتب فقہ کے حوالے سے یہ امرتسلیم کیاہے کہ اگرکسی مسلمان

353

کے قول میں نناوے وجوہ کفر کے اورایک وجہ اسلام کی ہوتومفتی کوکفر کا فتوی دینے سے پرہیز کرناچاہئے۔ کیونکہ ’’اسلام یعلوا ولایعلی‘‘

اورگواہان مدعیہ اورمختارمدعیہ نے اس امر کے متعلق شرح فقہ اکبرملّا علی قاری اور البحرالرائق ج۵ کا حوالہ دیاتھا۔ لیکن میں اس کی اصل عبارت اور اس کا ترجمہ لکھ دیتاہوں تاکہ عدالت کو اس کا مفہوم سمجھنے میں سہولت ہو۔

’’وقد ذکروا ان المسئلۃ المتعلقۃ بالکفر اذاکان لہا تسع وتسعون احتمالاللکفر واحتمال واحدفی نفیہ فالاولٰی للمفتی والقاضی ان یعمل بالاحتمال النافی‘‘

اورپھر لکھتے ہیں: ’’وفی المسئلۃ المذکورۃ تصریح بانہ یقبل من صاحبہا التأویل خلافالما ذکرہ بعضہم علی خلاف ہذہ القیل ہذا کلہ اذا صدر عنہ تعمداً‘‘ (شرح فقہ اکبر ص۱۴۶)

اس عبارت کاترجمہ یہ ہوا اور علماء نے ذکرکیاہے کہ اگرکوئی مسئلہ ایسا ہو جو کفر سے متعلق ہے اوراس میں ننانوے احتمال کفر کے ہیں اور ایک احتمال نفی کفرکا ہے تو مفتی اورقاضی کو چاہئے کہ وہ اس احتمال پرعمل کرے جس سے کفر کی نفی ہوتی ہو اوراس مسئلہ مذکورہ میں اس امر کی بخلاف بعض لوگوں کے تصریح ہے کہ ایسے کفریہ قول کے قائل کی تاویل قبول کی جائے گی۔

اورمختارمدعیہ نے ۹؍اکتوبر کی بحث میں الرائق کے حوالہ سے کہاہے۔ ’’کفر کا فتویٰ جب دیاجاتاہے جب اس پر اتفاق ہو۔ متفق علیہ ہو کلام میں کوئی تاویل نہ ہو۔‘‘

اورمؤلف البحرالرائق نے لکھاہے: ’’والذی تحررانہ لایفتی بتکفیر مسلم أمکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ اختلاف ولوروایۃ ضعیفۃ‘‘ (البحرالرائق ج۵ ص۱۳۵)

یعنی کسی مسلمان کی تکفیر کا فتویٰ نہیں دیاجائے گا۔ جب کہ اس کلام کا محمل حسن نکل سکے یااس کے کفر میں اختلاف ہو۔ اگرچہ کوئی ضعیف روایت ہی ہو۔

اوریہ ایک ایسا اصل ہے جسے خود مختارمدعیہ اورگواہان مدعیہ نے اپنے مخالفوں کے سامنے بطورحجت پیش کیاہے۔ چنانچہ گواہ مدعیہ نمبر۲ جومختارمدعیہ بھی ہے، لکھاہے: ’’اگرکسی مسلم ولی کی طرف سے ایسا قول منسوب کیا جائے جو خلاف شرع ہوتوہم پر لازم ہے کہ اس قول کی نفی کریں اور اگر وہ فعل یا قول معتبرذریعہ سے ثابت ہوجائے تو اس کی کوئی ایسی تاویل کرنے چاہئے۔ جو ان کی شان کے مناسب ہو اورشرع شریف کے خلاف نہ ہو۔‘‘ (سبیل السدادص۵)

اوربحوالہ (برکات الامداد ص۲۷،۲۸) گواہ مدعیہ نمبر۲ اپنی کتاب تزکیۃ الخواطر کے ص۷ میں لکھتے ہیں: ’’علماء کرام فرماتے ہیں، کلمہ گو کے کلام میں ننانوے معنی کفر کے نکلیں اورایک تاویل اسلام کی پیدا ہو، توواجب ہے کہ اس تاویل کو اختیار کریں اور اسے مسلمان ٹھہراویں اور یہ کہ حدیث میں آیاہے۔ الاسلام یعلوا ولایعلٰی اسلام غالب رہتاہے اورمغلوب نہیں کیاجاتا۔ رواہ الردیانی والدارقطنی والبیہقی وایضاً التخلیل عن عائذبن عمروالمزنی نہ کہ بلاوجہ محض منہ زوری سے صاف ظاہر واضح معلوم معروف معنی کو انکار کر کے اپنی طرف سے ایک ملعون مردود مصنوع مطرود احتمال گھڑے اور اپنے لئے علم غیب واطلاع حال قلب کا دعویٰ کرکے زبردستی وہی ناپاک مراد مسلمانوں کے سرباندھے۔ (بحوالہ برکات الامداد وتزکیۃ الخواطر ص۷)

اورحضرت مسیح موعود کاایک بزرگ مسلمان ہونا دعویٰ سے پہلے مسلم تھا۔ چنانچہ مولوی محمدحسین بٹالوی نے ریویو براہین احمدیہ میں لکھاہے: ’’مؤلف براہین احمدیہ مخالف وموافق کے تجربے اورمشاہدے کی رو سے شریعت محمدیہ پر قائم اورپرہیز گار اورصداقت شعار ہیں۔‘‘ (اشاعۃ السنۃ ج۷ نمبر۹ ص۲۸۴)

354

اور(اشاعۃ السنۃ ج ۷ نمبر۶ ص۱۶۹) میں لکھتے ہیں: ’’اوراس (براہین احمدیہ) کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلاہے۔ جس کی نظیرپہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔‘‘

اورگواہ مدعیہ نمبر۲ نے بسؤال عدالت ۲۴؍اگست کو تسلیم کیا کہ مرزا صاحب نے (ازالہ اوہام ص۱۳۷، خزائن ج۳ ص۱۶۹) میں ہمارے مذہب کے عنوان کے ذیل میں جوعبارت لکھی تھی وہ مسلمان ہونے کی حالت میں لکھی تھی۔ اس وقت تک مرزا صاحب مسلمان تھے۔

پس جب حضرت مسیح موعود ایک مسلم مسلمان تھے توہرشخص کو جو آپ کے تمام اقوال کا اسی مذکورہ بالااصل کی روسے دیکھنا اورایک مسلمان پرجو حسن ظنی کی شریعت اسلامیہ نے تعلیم دی ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونا تکفیر کرنے سے محترز رہنا لازم ہے۔

گواہان مدعیہ نے جو وجوہ تکفیر پیش کی تھیں۔ انہیں سے ایک وجہ یہ تھی کہ آنحضرتﷺ کے بعد وحی کا دعویٰ کیاگیاہے۔ حالانکہ آنحضرتﷺ کے بعد باب وحی بندہے اور مختارمدعیہ نے اس کے متعلق ۱۱؍اکتوبر کی بحث میں کہاہے کہ گواہان مدعیہ نے چھ آیات اور۲۵احادیث انسداد وحی پر اورسات آیتیں اور سترہ حدیثیں خاتم النّبیین کی تفسیر میں اوراسی امر یعنی خاتم النّبیین کے متعلق ابن جریر سے ۶۴صحابہ کے اقوال پیش کئے ہیں۔ حالانکہ گواہان مدعیہ نے نہ توپچیس حدیثیں انسداد پرپیش کی ہیں۔ نہ اورچھ اورسات تیرہ آیتیں انسداد وحی اور خاتم النّبیین کی تفسیر میں ان اقوال کانام ونشان ہے۔ چونکہ مختارمدعیہ کے بیان کردہ تعداد بالکل غلط ہے۔ اس لئے میں ان کو نظرانداز کرتے ہوئے کہتاہوں کہ گواہان مدعاعلیہ نے آنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی باقی رہنے کے سلسلہ میں سات آیات قرآن شریف سے یہ ثابت کرنے کے لئے پیش کیں کہ وحی انبیاءؑ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اورآنحضرتﷺ کے بعد وحی غیرتشریعی بندہے اوردس آیات اورتین احادیث اورسات بڑے بڑے ائمہ کے اقوال پیش کئے تھے اوراس کے خلاف جوباتیں گواہان مدعیہ نے بیان کیں۔ ان کا مفصل جواب دینے کے علاوہ حضرت مسیح موعود کے متعدد اقوال سے یہ ثابت کیاہے کہ آپ کو شریعت جدیدہ والی وحی کا دعویٰ نہیں ہے۔بلکہ آپ کوجومرتبہ ملاہے۔ وہ آنحضرتﷺ کی اتباع کے نتیجہ میں ملاہے۔

اورگواہ مدعیہ نمبر۳ نے ۲۹؍اگست بجواب جرح یہ تسلیم کیاہے کہ عیسیٰ پر وحی نبوت آئے گی۔ لیکن اس کے سواء جو ہو،اس پر لفظ وحی کااطلاق ہوگا اورگواہان مدعاعلیہ نے حضرت موعود کی کتب سے متعدد حوالہ جات بتائے،جن میں آنحضرتﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا اقرارموجودہے۔ پھر احادیث اور اقوال صحابہ اورسلف صالحین کے متعدد اقوال سے یہ ثابت کیا کہ خاتم النّبیین کے جو معنی حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں۔ وہ سلف صالحین کے معنی کے موافق ہیں اور مخالف نہیں ہیں۔ پھر آپ نے خاتم النّبیین کے سیاق وسباق کے لحاظ سے بحوالہ تفاسیر واحادیث اورلغت اورمحاورات عرب کی رو سے یہ ثابت کیا کہ خاتم النّبیین میں خاتم کے معنی مہر کے ینا مجازی نہیں بلکہ آخر کے معنی لینا مجازی ہے اور پھر اقوال ائمہ سے یہ ثابت کیا کہ تاویل کی وجہ سے کسی کو کافر نہیں کہاجاسکتا اور جو آیات اوراحادیث گواہان مدعیہ نے اپنی تائید میں پیش کی تھیں۔ ان کا مدلل جواب اقوال سلف صالحین سے دیاہے کہ جو معنی انہوں نے کئے ہیں،وہ ہمارے معنی کے مطابق ہیں اور مخالف نہیں اوربحوالہ کتب اصول فقہ اجماع کی حقیقت بتاکر یہ ثابت کیاہے کہ صحابہؓ کا خاتم النّبیین کے ا ن معنی پر کہ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ قطعاً اجماع نہیں ہے اوربحوالہ کتب تواریخ بتایا کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ سے قتال کی اصل وجہ نبوت کا دعویٰ نہ تھی اورجن مدعیان نبوت کوگواہان مدعیہ نے پیش کیاتھا۔ ان کے متعلق گواہان مدعاعلیہ نے تاریخ اور کتب علماء سے ثابت کیاہے کہ ان کا دعویٰ نبوت مستقلہ کادعویٰ تھا اورگواہان مدعیہ نے جو اقوال فقہ اورتفاسیر سے اپنی تائید میں پیش کئے تھے۔ ان کے متعلق بھی گواہان مدعاعلیہ نے مدلل طور پر ثابت کردیاہے کہ انہوں نے ایسے نبی کے آنے کا ہی انکارکیاہے، جومستقل ہویاصاحب شریعت ہو اور اسلامی شریعت کومنسوخ کرے اور ثابت کیاہے کہ خود گواہان مدعیہ نے حضرت مسیح موعود کے ان حوالہ جات کو جن میں نبی اور رسول کالفظ تھا۔ اس عنوان کے ذیل میں کہ اپنے

355

شرعی نبی ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ پیش کرکے اقرارکیا کہ ان کے نزدیک رسول اسے کہتے ہیں۔ جو شریعت لائے، جو شریعت کے بعض احکام منسوخ کرے لیکن حضرت مسیح موعود نے چونکہ اس قسم کی رسالت ونبوت کا دعویٰ ہرگزنہیں کیاتھا۔ اس لئے علماء سلف صالحین کے اقوال جوگواہان مدعیہ نے پیش کئے تھے وہ حضرت مسیح موعود کے دعویٰ نبوت کے خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ امام ملّا علی قاری وغیرہ کے اقوال سے ثابت کردیاہے کہ ایسا نبی ہوسکتاہے۔ جو امتی اورآنحضرتﷺ کی شریعت کو منسوخ نہ کرے اور آنحضرتﷺ کے بعد اس قسم کی نبوت کا بقا ثابت کرنے کے لئے گواہان مدعاعلیہ نے آٹھ آیات اورپانچ احادیث پیش کیں اورحضرت مسیح موعود کی جن عبارات سے گواہان مدعیہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان سے آپ کا نئی شریعت لانے کا دعویٰ ثابت ہوتاہے۔ بدلائل قویہ ظاہرکردیاہے کہ ان سے ایسا استدلال کرنا قطعاً صحیح نہیں ہے۔ بلکہ آپ نے فیصلہ کی ایک نہایت آسان راہ بتادی کہ: ’’میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذباللہ آنحضرتﷺ کے مقابل میں کھڑاہوکر نبوت کا دعویٰ کرتاہوں یا کوئی نئی شریعت لایاہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سومکالمہ اورمخاطبہ الٰہیہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی، یعنی آپ لوگ جس امر کانام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اس کی کثرت کانام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتاہوں۔ولکل ان یصطلح‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)

گواہان مدعیہ نے ایک وجہ تکفیر کی قیامت اورنفخ صور کاانکار پیش کی تھی جس کے جواب میں گواہان مدعاعلیہ نے حضرت مسیح موعود کی کتب سے یہ ثابت کردیا کہ آپ قیامت اورنفخ صور وغیرہ کے ہرگز منکرنہیں ہیں۔

اورایک وجہ تکفیر کی گواہان مدعیہ نے توہین انبیاء بھی پیش کی تھی اورجس طرز پرانہوں نے حضرت مسیح موعودکی عبارت کوبگاڑ کرباوجود تصریحات حضرت مسیح موعود کہ میں نے یہ باتیں بطورالزام اورفرض محال کے طور پر فرضی یسوع کے متعلق بیان کی ہیں۔ توہین مسیحؑ ودیگر انبیاءؑ نکالی ہے۔ اس سے ان کی دشمنی اورتعصب بالکل عیاں ہے۔ جس وجہ سے ان کی شہادتیں ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتیں اورجن جن عبارات کوانہوں نے مثبت توہین خیال کیاتھا۔ ان کے متعلق گواہان مدعاعلیہ نے مدلل طور پر ثابت کردیا کہ وہ عبارات الزامی طور پر ہیں یاان سے توہین نہیں نکلتی اور اپنے ہرقول کی تائید میں حضرت مسیح موعود کے متعدد اقوال اور پہلے علماء کے اقوال پیش کئے۔

غرضیکہ جوامور گواہان مدعیہ یامختارمدعیہ نے باعث تکفیر وارتداد قراردیئے تھے۔ ان میں سے ہرایک کامفصل ومدلل جواب دے دیاگیا اورثابت کردیاہے کہ ایک وجہ بھی ایسی نہیں ہے جس سے احمدیوں کومرتد قراردیاجاسکے۔ اس لئے گواہان مدعیہ کی یہ رائے اورشہادت کہ: ’’جوشخص ان کے عقائد باطلہ اوردعویٰ نبوت ووحی پرمطلع ہونے کے باوجود ان کو کافر نہ سمجھے ان کی نبوت کو تسلیم کرے یا مسیح موعود مانے وہ بھی اس کے حکم میں ہے اورحکم یہ ہے کہ ان کا نکاح کسی مسلمان مرد وعورت کے ساتھ جائز نہیں۔‘‘(شہادت گواہ مدعیہ نمبر۳)

۲… ’’مرزا صاحب کافر ومرتد ہے اوران کے عقائد معلوم ہونے کے بعد جومرزا صاحب کے کافر ہونے میں شک کرے وہ کافر، کسی مسلمان مرد وعورت کا کسی مرزائی مردوعورت کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اگرنکاح ہوگا توفوراً فسخ ہوجائے گا۔(گواہ مدعیہ نمبر۲)

۳… مرتد کے ساتھ کسی سابقہ منکوحہ کا نکاح قائم نہیں رہتا اور نہ آئندہ اس کو حرہ یا لونڈی کے نکاح کااختیارہے۔ (گواہ مدعیہ نمبر۴)

بالکل باطل اورناقابل التفات ہے۔ کیونکہ احمدی خداتعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں اور خداتعالیٰ اوراس کے رسول کے فرمودہ پرصمیم قلب سے اعتقاد رکھتے ہیں اوران کے مطابق تمام اعمال بجا لاتے ہیں اور اسی میں اپنی نجات سمجھتے ہیں اورعلی الاعلان کہتے ہیں:

  1. ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دین

    دل سے ہیں خدام ختم المرسلین

356