ہ… ’’ان پر واضح ہوکہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور
کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل ہیں اور آنحضرتﷺ کی ختم نبوت پر ایمان
رکھتے ہیں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۶ ص۲،۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷)
تکفیر مسلمین:
۱… ’’یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے
والے کوکافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے، جو خداتعالیٰ کی طرف سے
شریعت اوراحکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعۃ کے ماسواء جس
قدرملہم اورمحدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے
ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر
نہیں بن جاتا۔‘‘
(تریاق القلوب حاشیہ ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲)
پہلے قول کا متعارض
۱… ’’اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے جس کو کم فہم لوگ
مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
۱… ’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی
دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پرختم ہوگیا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن
ہے کہ آئندہ مثیل میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔‘‘
(ازالہ ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)
۲… ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتاہے۔ اس کا حدیثوں
سے یہ نشان دیاگیاکہ وہ نبی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)
۲… ’’حضرت عیسیٰ کو امتی قراردینا ایک کفرہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)
الف… ’’میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد
فاطمۃ وعترتی وغیرہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۱۸۵، گواہ نمبر۲ ص۱۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۶)
نوٹ:
مرزا نے یہ تفنن اس لئے کیا کہ کم فہم لوگ ابتداً مرید ہوجائیں اور
ہندوستان کی ذہنیت پیر کے متعلق یہ ہے کہ کم پیر من خس است الخ۔
اعتقاد من بس است پھر جو چاہا سنوایا۔
۱… ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ رسول ونبی ہیں۔‘‘
(اخبار بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)
۲… ’’نبی کانام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیاہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
۳… ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)
نوٹ: باقی حوالوں کے لئے شیخ الجامعہ گواہ مدعیہ نمبرالف کا بیان
ملاحظہ ہوں۔
۴… ’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ
ہے… ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہورہی ہے… اس لئے ہم نبی ہیں۔‘‘
(بدر۵؍مارچ۱۹۰۸، حقیقۃ النبوۃ ص۲۷۲، انوار العلوم ج۲ ص۵۸۳، ملفوظات
ج۱۰ ص۱۲۸)
مگر باوجود اس شدومد کے خصوصاً ۱۹۰۷ء کے بعد کھلا ہوا دعویٰ نبوت ہے۔
تکفیر مسلمین
۱… ’’خدا نے میرے اوپر ایمان لانے کے واسطے تاکید کی، میرا دشمن
جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)