عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
حرف آغاز
نابغہ روزگار، نامور عالم ربانی، استاذ الاساتذہ، شیخ الشیوخ، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ یکم؍فروری ۲۰۱۵ء بروز اتوار سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ ۲؍فروری کو کہروڑپکا میں آپ کا مثالی جنازہ ہوا۔ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے۔ اس لئے ہمارا فرض منصبی بنتا تھا کہ آپ کی گرانقدر، سنہری خدمات کو مرتب کر کے آنے والی نسلوں کو منتقل کریں، تاکہ وہ بھی حضرت مرحوم کی تعلیمات، نظریات اور خدمات سے اپنے قلوب کو منور کر سکیں اور مزید یہ کہ ان سے رہنمائی حاصل کر کے اپنی منزل کو پاسکیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ کی اجازت سے جنازے کے موقعہ پر اعلان کر دیا گیا تھا کہ شیخ الحدث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کی ذات گرامی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان کا ضخیم نمبر ’’حکیم العصر‘‘ شائع کیا جائے گا۔ چنانچہ بعد میں اس کے مضامین کو بھجوانے کے لئے مولانا عزیزالرحمن ثانی (لاہور)، مولانا عبد اللہ معتصم (ملتان)، مولانا حافظ محمد انس (ملتان)، مولانا محمد اعجاز مصطفی (کراچی) کے رابطہ نمبر اور پتے دئیے گئے کہ یہاں مضمون جمع کرائے جائیں۔ اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ فرمایا۔ دوستوں نے مضامین بھجوائے اور بہت ہی آسانی کے ساتھ وسط مئی ۲۰۱۵ء میں ہی گویا حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کے وصال کے بعد ساڑھے تین ماہ کے قلیل عرصہ میں بڑے سائز کا ایک ہزار آٹھ صفحات پر مشتمل نمبر شائع ہوگیا۔ جس کا ملک بھر میں بھرپور خیرمقدم کیاگیا اور بہت مناسب مدت میں دوستوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس نمبر میں اعلان کیا تھا:
’’امید ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ پر بھی بہت سارے دوست قلم اٹھائیں گے۔ ان کی سوانح پر کتابیں مارکیٹ میں آئیں گی۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو ان شاء اللہ العزیز! بہت جلد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی اپنے حضرت الامیرc کی جامع اور شایان شان، سوانح حیات پر مشتمل کتاب مرتب کرنے کی سعادت حاصل کرے گی۔ اس لئے کہ مضامین جمع کر کے کتابیں بنانے کی بجائے بھرپور محنت سے شاندار کتاب مرتب کرنے کی شاندار روایات کو زندہ رکھنا تاریخی تسلسل برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔‘‘ (ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان، حضرت حکیم العصر نمبر ص۱۶) چنانچہ اس اعلان کے مطابق نمبر شائع ہوتے ہی ازخود حضرت مولانا عزیزالرحمن رحیمی (شیخ الحدیث جامعہ دارالقرآن فیصل آباد) نے پیشکش فرمائی کہ یہ کتاب میں لکھوں گا۔ فقیر راقم نے عرض کیا کہ آپ صاحب صلاحیت ہیں۔ حضرت مرحوم کے منظور نظر شاگرد ہیں۔ آپ کا حق فائق ہے۔ اگر آپ کتاب لکھیں تو عالمی مجلس اسے شائع کرے گی۔ اس پر انہوں نے بھرپور خوشی کا اظہار فرمایا۔ سوانح مرتب کرنے کے لئے مشاورت اور کچھ ابتدائی خطوط طے ہوئے۔ ماہنامہ لولاک نمبر اور پھر مولانا منیر احمد ریحان، مولانا محمد عمیر شاہین کی حضرت مرحوم پر کتابیں، حضرت مولانا منیر احمد منور اور خود مولانا عزیزالرحمن صاحب کا اپنا مضمون اگر ان کوسامنے رکھ کرکام کا آغاز کیا جاتا تو کتاب کی واضح شکل بن سکتی تھی۔
لیکن مولانا عزیزالرحمن رحیمی کا عمرہ کا سفر، شوال سے افتتاح بخاری کے اسفار، پھرسفر حج، اس کے بعد بخاری شریف اور دیگر امہات الکتب کی سال بھر کی بھرپور تدریسی مصروفیات، وہ ایسے پھنسے کہ چھ ماہ گزر گئے۔ ایک ملاقات کے دوران فرمایا کہ کام کے آغاز کا خاکہ تو مرتب ہے، اب کام آگے بڑھانا ہے۔ امید ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز تک کتاب آجائے گی۔ اس پر خوشی ہوئی۔ پھر کچھ عرصہ بعد حضرت الاستاذ مولانا قاری محمد یٰسین مدظلہ کی مزاج پرسی کے لئے فقیر کا فیصل آباد جانا ہوا تو حضرت مولانا عزیزالرحمن رحیمی نے فرمایا کہ اختتام بخاری کی تقاریب، مدرسہ کا سالانہ جلسہ، وفاق المدارس کا لاہور کا مجوزہ جلسہ عام اور اس کی مصروفیات نے ایسے گھیرے رکھا کہ کام کو ہاتھ بھی نہ لگا سکا۔ اب سالانہ امتحانات پھر رمضان المبارک پھر وہی تدریسی مصروفیات۔ لگتا یہ ہے کہ یہ کام شدید خواہش کے باوجود مجھ سے نہ ہو پائے گا۔ آپ کسی اور دوست سے فرمادیں۔ مجھ سے جو تعاون ہوگا میں حاضر ہوں۔ اس پر ایک بار تو چکرا گیا۔ اس لئے کہ مولانا عزیزالرحمن رحیمی کے بعد میرے سامنے اس کام کے لئے موزوں دوسرے شخص مولانا عبد اللہ معتصم ہوسکتے تھے۔ ان کو فقیر نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء سے آگے کے کام کا عرض کیا ہوا ہے۔ وہ اس پر خاصہ کام کر بھی چکے ہیں۔ نئے کام کے لئے عرض کرنا غیرموزوں سمجھا۔ فقیر خود ’’چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ‘‘ کے کام میں پھنسا ہوا تھا۔ عزیز مکرم مولانا حافظ محمد انس نے اس صورتحال میں اصرار کیا کہ ہمارے استاذ مرحوم پر آپ ہی کتاب مرتب کریں۔ خیال ہوا کہ حضرت ’’حکیم العصر‘‘ پر فقیر تو مضمون بھی نہیں لکھ سکا۔ چلو کتاب کے کام کو شروع کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو اس طرح حضرت مولانا مرحوم سے ایک نسبت قائم ہو جائے گی۔ ایک فرض وقرض کی ادائیگی سے بھی سبکدوش ہو جائیں گے۔
لیجئے! ۱۳؍مئی ۲۰۱۶ء، مطابق ۵؍شعبان ۱۴۳۷ھ بروز جمعہ ساڑھے ۹بجے صبح کو آغاز کیا۔ شعبان المبارک کی ۲۵تاریخ تک سالانہ ردقادیانیت کورس چناب نگر میں تدریسی وتنظیمی مصروفیات، پھر قرب وجوار کے جلسے۔ خطبات جمعہ، سے جو وقت ملتا اس کام کو آگے بڑھاتے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد وسیم اسلم میرے ساتھ شانہ بشانہ رہے۔ انہوں نے بھرپور محنت کی۔ کورس کے بعد ہم دونوں کو گھر جانا تھا۔ ایک ہفتہ کام رکا رہا۔ آغاز رمضان المبارک سے ایک آدھ دن پہلے پھر کام شروع کیا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ آج ۱۶؍رمضان المبارک ۱۴۳۷ھ، مطابق ۲۲؍جون ۲۰۱۶ء کو اس کام سے فارغ ہو گئے۔ اللہ رب العزت بہت جزائے خیر دیں۔ محمد عدنان کو وہ ساتھ ساتھ کمپوز کرتے رہے۔ آج ان سطور کی تحریر کے وقت کتاب کی مکمل ترتیب، کمپوزنگ، پروف ریڈنگ سے فارغ ہوگئے ہیں۔ اب حرف آغاز اور پھر سیٹنگ کا کام باقی رہ جائے گا۔ وہ بھی چند دنوں کی بات ہے۔ گویا یوں کتاب کامل ومکمل ہوگئی اور قریباً ایک سال جو پہلے وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا ہے۔ کتاب کی ترتیب میں پہلے جن مآخذ کا ذکر کیا ہے ان کو سامنے رکھا ہے۔ عنوان قائم کرکے لولاک کے نمبر یا مذکورہ دو کتب سے جو واقعہ جس عنوان کے متعلق تھا اسے وہاں جمع کر دیا اور کوشش کی کہ جنہوں نے واقعہ تحریر کیا ان کے الفاظ اور ان کے نام کے ساتھ ہی واقعات کو جمع کیا جائے۔ گویا یہ تالیف نہیں بلکہ جمع وترتیب ہے۔
ہاں! البتہ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کے ابتدائی حالات، مجلس تحفظ ختم نبوت اور حضرت مرحوم کا کردار اور سفر آخرت یہ حرفاً حرفاً فقیر کے مرتب کردہ ہیں۔ کوشش کی ہے کہ کوئی چیز رہنے بھی نہ پائے اور تکرار بھی نہ ہو۔ اس کا کہیں کہیں خلاف ناگزیر تھا۔ قارئین بھی نظرانداز کریں۔ مجھے اپنے رفیق کار مولانا محمد وسیم اسلم کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ وہ بہت ہی قابل رشک محنت کی حد تک اس کتاب کی تکمیل میں شامل عمل رہے۔ لولاک نمبر سے بہت زیادہ مواد جمع ہوا۔ مولانا منیر احمد منور مدظلہ اور مولانا عزیزالرحمن رحیمی مدظلہ کے مضامین سے بھرپور استفادہ کیاگیا۔ بہت ساری چیزیں جمع ہوگئی ہیں۔ بہت حد تک اطمینان ہے کہ ایک جامع چیز تیار ہوگئی ہے اور ساری چیزیں جو پہلے کسی کتاب یا نمبر میں نہ تھیں وہ اس کتاب میں جمع ہوگئیں ہیں۔ یہ محض اللہ رب العزت کا فضل واحسان ہے یا حضرت مرحوم کی کرامت کہ اتنی جلدی یہ کتاب تیار ہوگئی۔ راقم کی عادت کا دوستوں کو معلوم ہے کہ میں اپنی کتابوں کا کسی سے انتساب نہیں کرتا۔ بہت کم اس کا کہیں خلاف ہوا ہو تو وہ استثنائیات پر محمول کی جائیں۔ اگر انتساب کرنا ہوتا تو اس کتاب کو:۱… حضرت مولانا منیر احمد منور مدظلہ:۲… حضرت مولانا مفتی محمد ظفر اقبال مدظلہ: ۳…حضرت حافظ عبدالرشیدکراچی مدظلہ میں سے کسی کے نام منسوب کرتا۔ اس لئے کہ اوّل الذکر درس وتدریس کی مسند سے میرے حضرت مرحوم کے علوم کو عام کر رہے ہیں اور ثانی الذکر نے خطبات حکیم العصر اور تفسیر تبیان القرآن کے منصوبوں کا آغاز کر کے حضرت مرحوم کے علوم کو آنے والی نسلوں کے لئے بھی محفوظ کر دیا ہے اور تفسیر کو شائع کرنے کا بیڑا مؤخرالذکر نے اٹھایا ہے۔ اس کتاب میں واقعات تو سب کے لئے، حضرت کی سوانح پر مضمون کسی کا بھی من وعن شامل نہیں کیا۔ البتہ حضرت مولانا ظفر احمدقاسم مدظلہ کا مضمون ’’یادیاراں‘‘ چونکہ لولاک نمبرمیں خلط ملط ہوگیا تھا۔ اسے اب بالکل آخر میں شائع کر کے صاحب مضمون کے سامنے سرخرو ہونے کا اللہ رب العزت نے موقعہ نصیب فرمادیا ہے۔ مجھے یہاں پہنچ کر خوشی ہورہی ہے کہ عزیزاز جان حافظ محمد انس طول عمرہ کے حکم کی تعمیل اور خواہش کی تکمیل ہوگئی ہے۔ بہت ہی شکریہ ہر دوست کا جس نے اس سلسلہ میں تھوڑے یا زیادہ تعاون سے ممنون فرمایا۔ بہت ہی شکریہ حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہم العالی کا کہ تمام کاموںسے فارغ کر کے اس کام کی تکمیل کا موقعہ مرحمت فرمایا۔ حق تعالیٰ تمام حضرات کو بہت ہی جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ اب مولانا عزیزالرحمن ثانی جانیں جنہوں نے چھپوانی ہے یا یوسف ہارون جانیں جنہوں نے پریس بھجوانی ہے۔ ہم تو کل پرسوں چلے مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کی تربت پر ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کے لئے ۔ چلو اجازت ہوگئی۔والسلام!