عقیدہ ختم نبوت پہ تحقیق کیلئے مستند کتب سرچ و کاپی کی سہولت کے ساتھ دستیاب ہیں
تعارفِ کتاب
شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد کا پیغام
تحریک ختم نبوت جو ۱۹۵۳ء میں شروع ہوئی، اس کے خاص عوامل تھے۔ پاکستان بننے سے پہلے انگریز حکمرانوں نے اپنے خاص منصوبہ کے تحت مسلمان ملازمین کو خواہ وہ کسی محکمہ کے ہوں، ترقی مرزائیوں کے بڑوں کی سفارش پر دیتے تھے۔ جب پاکستان بنا اور انگریز نے سر ظفراللہ خان قادیانی کوزبردستی وزیر خارجہ بنوایا تو وزیرخارجہ کی حیثیت سے اس نے قادیانیت کو پروان چڑھایا اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ پاکستان کہیں قادیانی ریاست نہ بن جائے۔ اس خطرہ کو احرار اسلام کے مرکزی حضرات نے بھانپا اور اس کے لئے کام کرنا شروع کیا۔ پھر ۱۹۵۳ء میں تحریک کی صورت اختیار ہوئی۔ اس میں جو کچھ ہوا مسلمانوں نے جس قدر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس وقت کی حکومت نے جو جو مظالم کئے اس کی تفصیل مولانا اللہ وسایا صاحب کی اس کتاب میں قارئین حضرات ملاحظہ کریں گے۔ اکثر حضرات اس تحریک کو ناکام کہتے ہیں۔ یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ اس تحریک کی وجہ سے عام مسلمانوں میں قادیانیوں سے جو نفرت پیدا ہوئی، یہ نفرت اس تحریک کی کامیابی کی دلیل ہے۔ اس کی وجہ سے ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکیں کامیاب ہوئیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا اللہ وسایا صاحب کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔ آمین! والسلام!